منزل یہی کٹھن ہے



قاسم سید
علامہ اقبال کہہ گئے کہ غلامی میں قوموں کاضمیری نہیں بدلتا‘ان کے طور طریق ‘اندازفکر‘اہداف سب کچھ بدل جاتے ہیں۔ماضی کی شاندار تاریخ کی افیم میں مدہوش‘ حالات کے چیلنجوں سے بے خبر اور مستقبل سے لاپرواہ۔ اسے طارق بن زیادکے سمندر میں گھوڑے دوڑادینے ‘کشتیاں جلانے‘ جلال الدین خوارزم کے پہاڑ کی چوٹی سے گھوڑے سمیت دریا میں چھلانگ لگادینے‘اسپین میں سینکڑوں سال کی حکمرانی‘ دنیا کے بیشتر خطوں تک خلافت کی وسعت ہندوستان میں صدیوں اقتدار کرنے اور مٹھی بھرہونے کے باوجود اکثریت پرتسلط تاج محل‘ لال قلعہ اور قطب مینارجیسی تعمیرات کا ورد کرکے اپنی ماضی کی شان وشوکت کے قصیدے بیان کرنے میں خوب لطف آتا ہے مگراس کے پیچھے کی جدوجہد قربانیاں یاد نہیں رہتیں۔ سقوط بغداد کی عبرتناک تاریخ پر غورکرنا نہیں چاہتا۔
صرف ہندوستان کے پس منظر میں بات کی جائے تو یہ سوال جواب چاہتا ہے کہ سیکڑوں سال کی بادشاہت کا ریکارڈ رکھنے والوں کے ساتھ ایساکیا ہوا کہ وہ صرف 70سال میں ہی کسی بوسیدہ عمارت کی طرح زمیں بوس ہوگئے ۔ کیا جاہ وحشمت کی بنیادیں اتنی کمزور تھیں کہ وہ جمہوری دور حکومت کے چند جھٹکے برداشت نہیں کرسکے۔ اس کی تہدیبی‘ ثقافتی‘تعلیمی اور سماجی اقدارشدید خطرات سے دوچار ہیں اور سیاسی طور پر اتنے مختصر عرصہ میں صفر بنادیاگیا۔ اس کا ووٹ نوٹ بندی کے بعد چلن میں موجود کرنسی کے کاغذ کے ٹکڑوں کی طرح بنادیاگیا ۔ دوسری طرف ہزار سالہ ’غلامی‘ کےباوجود اکثریتی فرقہ اپنی تہذیبی ولسانی شناخت کےساتھ اٹھ کھڑاہوا۔ ہندی سرکاری سرپرستی سے محروم ہونے کے باوجود سرکاری زبان بنادی گئی اور اب تہذیبی جارحیت تکلفات کے تمام پردے ہٹاکر اقلیتی تہذیبی شناخت کو اپنے میں ضم کرناچاہتی ہے۔ آخر وہ بغیر سرکاری سرپرستی اورتحفظ کے خود کو کس طرح زندہ رکھنے میں کامیاب ہوئی اور کیوں۔ صرف 70سال میں ہماری ریڑھ کا ساراپانی نکال لیاگیا اور زمین پر رینگنے والے کیڑے سے بھی زیادہ بے حیثیت بنادئیے گئے۔ گذشتہ چند سالوں میں مزاحمت کی قوت میں کمی آئی اور مصالحت کی ہوا کچھ زیادہ ہی تیز چلنے لگی۔ابھی قربانی کے موقع پر علما کے ایک طبقہ کی طرف سے فدویانہ رویہ اختیار کیاگیا ۔ وہ یہ اندازہ لگانے کے لئے کافی ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید’’قربانی‘‘ کے لئے تیار رہناچاہئے۔ پولرائزیشن کی آندھی سیاست میں بڑا چیلنج بن کر ابھری ہے۔ ہر معاملہ کو ہندومسلم کی حیثیت سے دیکھنے کی سیاست اثر دار ہونے لگی اور سیکولر پارٹیاں بھی حساس مسائل پر پوزیشن لینے سے گریز کرنے لگی ہیں۔ وہ پارٹیاں جن کے لئے ہم نے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔ گائے کی طرح ان کے کھونٹے سے بندھے رہے‘ کبھی اس یکطرفہ غیر حقیقی پالیسی کے منفی اثرات اور مضمرات پر توجہ نہیں دی اوروہ بڑے پیار سے ہماری جڑیں کاٹتے رہے۔ سروں کی فصل بوتے رہے۔ معاشیات کو فسادات کی آڑ میں تباہ کرتے رہے جب یہ حکمت عملی بے نقاب ہوئی اور دہشت گردی کے مسئلہ نے عالمی سطح پر سراٹھایاتو انہیں اس میں بھی وار کرنے اور نوجوانوں کے حوصلے توڑنے کا راستہ نظرآیا اور تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو ٹارگٹ بناکر ان کی حب الوطنی اور شرافت کو مشتبہ بنایا۔اس کا آغاز بھی خیر سے سیکولر دوستوں کی طرف سے ہوا ۔ وہ آج ٹی وی ڈبیٹ میں فخر سے کہتے ہیں کہ اس ملک کو ٹاڈا‘ پوٹا ‘مکوکا اور یو اے پی اے جیسے ظالمانہ اور غیرانسانی قانون ہم نے دئیے۔ یعنی بہت ہی عیاری کے ساتھ ہر سطح پر مظلوم کو ظالم‘ مشتبہ شہری بنانے کی منافقانہ مہم کے سرخیل سیکولر دوست ہی رہےبعض لوگوں نے ان سے غیر مشروط وفاداری کا کلمہ پڑھ لیا ہے کیونکہ اسلاف یہ وصیت کرگئے تھے کہ بیٹا کچھ بھی ہوجائے ان کا پایہ مت چھوڑنا بھلے تمہارا مثلہ کیوں نہ بنادیں اور کسی بھی حالت میں الگ راہ مت اپنانا۔ اپنامقدر ان سے تاحیات وابستہ کر لو اور طارق بن زیادہ کی طرح تمام کشتیاں جلادو۔ پیچھے پلٹ کر دیکھنے کی غلطی کروگے تو پتھر کے ہوجائو گے۔ جبکہ جمہوریت میں پل پل رویے بدلتے ہیں۔ ایشوز کی ترجیحات بدلتی ہیں۔ دوست اور دشمن بدلتے ہیں۔ ہرکمیونٹی اپنے مفادات کےتحت فیصلے لیتی ہے۔ ہر الیکشن میں محاذ بنتے اور بگڑتے ہیں۔ جمودیت پر مبنی پالیسی کا جو حشر ہوتا ہے اس کے اثرات نظرآرہے ہیں تو اس کی تعبیرات وتشریحات کی جاتی ہیں۔ ہمارے تہذیبی لسانی تعلیمی قاتلوں کا دفاع کیاجاتا ہے اور ان سے یہ سوال کرنابھی توہین کے دائرے میں آتا ہے کہ حضور آپ کے اقتدار میں ایسے عناصر شوریدہ سرکیو ںہوگئے جو بہت کمزور تھے۔ انہیں کس نے دودھ پلایا۔ رہی سہی کسر علما کے اس طبقہ نے پوری کردی جو دوسروں کو جزا وسزا کے ساتھ ایمان یافتہ ہونے کی تصدیق ‘تردید اور تنسیخ کرتاہے۔ مسلک کی بنیاد پر تفریق وانتشار اس کا محبوب مشغلہ ہے ۔ دائرہ اسلام میں رہنے یا باہر کرنے کے جملہ حقوق محفوظ ہیں جوغیروں کو گلے لگانے اس کے دسترخوان کا شریک اور سماجی روابط‘قومی یک جہتی کے نام پر بڑھ چڑھ کر حصہ دار بنتا ہے لیکن دینی بھائی اتفاق سے دوسرے مسلک کا ہوتو بھنویں تن جاتی ہیں۔ منہ سے جھاگ نکلنے لگتے ہیں۔ انہوں نے اپنی الگ کا ئنات بنائی ہے۔ جنت دوزخ کے فیصلے کئے جاتے ہیں۔ انگشت نمائی کرنے پر اسلام سے نکال باہر کرنے کی دھمکیاں ملتی ہیں۔ بقیہ علما نے ان کے لئے میدان کھلا چھوڑدیا ہے۔ مسلکی انتشار کو ہوا دینے والے نہ اسلام کے خیر خواہ ہیں نہ مسلمانوں کے وہ جانے انجانے میں ان طاقتوں کے ہاتھ مضبوط کررہے ہیں جنہوں نے تہیہ کررکھا ہے کہ اقلیتی طبقہ کو اتنے خانوں میں بانٹ دو کہ شیرازہ بکھر جائے۔ مسجدوں پر جھگڑے جماعتوں میں انتشار‘گروہ بازی‘علمائے کرام کی ایک دوسرے کے خلاف صف آرائی ‘خودکو بہتر اور دوسرے کو مجموعہ خباثت بتانے کی کوشش اس کی علامتیں ہیں جن علما کرام پر سواداعظم بھروسہ کرتا ہے ۔ گوشہ عافیت میں رہناپسند کرتے ہیں ۔ خانقاہوں سے باہر نکلنا نہیں چاہتے۔ چنانچہ اس وقت امت پر اس طرح یلغار ہے جیسے کوئی بھوکا دسترخوان پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ حیرت وافسوس ہے کہ شدائد کے پہاڑ بھی ایک جگہ بیٹھنے پر مجبور کرنے میں ناکام ہیں شاید مزید اذیتوں کا انتظارہے۔ حد تو یہ ہےکہ ایسے مناظر بھی گناہ گار آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ روہنگیائی باشندوں سے اظہار یک جہتی کے لئےبھی مسالک کی دیوار نہیں گرسکی۔ ایک ہی شہر میں الگ الگ مسلک کے علما ایک ساتھ نہیں آسکے اور الگ مظاہرے کئے۔ گھر گھر میں جھگڑے ہیں ۔ ایک ہی گھر میں دوجماعتیں اور 20کروڑ مسلمانوں کو متحد ہونے کی اپیلیں اس سے بڑا مذاق شاید ہی کوئی ہو اب توسوشل میڈیا پر سرگرم نوخیز نسل نے وہاں بھی کڑواہٹ گھول دی ہے ۔سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم جا کہاں رہے ہیں۔ چاہتے کیا ہیں۔ منزل کیا ہے۔ اہداف کیا ہیں۔ کولہو کا بیل بنے آنکھوں پر پٹی باندھے گول گول گھمائے جارہے ہیں اور ہم گھوم رہے ہیں۔
موجودہ سیاست نے ہرمحاذ پر جکڑ رکھا ہے۔ مگر جینے کے طریقہ تبدیل کرنے کو تیار نہیں۔ داخلی کمزوریاں جیتی ہوئی جنگیں ہرادیتی ہیں اور شکست کی وجہ بن جاتی ہیں ۔ یہ باتیں سب جانتے ہیں پھر بھی سمجھنے کو تیار نہیں پتہ نہیں کس کی ڈور کہا ں سے ہلائی جارہی ہے کہ ہمیں دشمنوں کی ضرورت ہی نہیں۔ابھی وقت ہاتھ سے نکلا نہیں ہے۔ سنبھلنے اور سنبھالنے میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کے بارے میں سوچیں۔ اختلاف برقرار رکھ کر اس میں اتحاد نہیں تومفاہمت کی راہیں تلاش کریں۔ قوت برداشت کو جارحانہ رویوں میں جگہ دیں۔ نامرادی کے صحرائوں سے ہی کامیابی کا پانی نکلے گا ۔ انشاء اللہ۔
qasimsyed2008@gmail.com

یہاں بے گناہ کون ہے قاتل کے سوا؟




نہال صغیر

بھوپال جیل میں مقید جبر کے ہاتھوں ممنوعہ قرار دی گئی تنظیم سیمی کے آٹھ ارکان کو جیل سے نکال کر دو رایک پہاڑی پر لے جاکر قتل کردیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ وہ لوگ جیل سے فرار ہوئے تھے جو پولس کے ساتھ تصادم میں مارے گئے ہیں ۔جیل سے فرار ہونے کی عجیب و غریب داستانیں سنائی گئیں۔یا تو ہماری پولس ، تفتیشی ایجنسی اور خفیہ محکمہ بہت اچھے اسکرپٹ رائٹر ہیں یا پھر ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کے بہترین فکشن نگاروں سے انہوں نے خدمات مستعار لی ہیں ۔ لیکن فکشن تو بہر حال فکشن ہی ہوتا ہے ۔اس طرح کی کہانی میں کئی خامیاں رہتی ہیں وہ سیمی کے ان آٹھ مظلومین اور مقتولین کے لئے گھڑے گئے قصہ کہانیوں اور افسانوں میں بھی خامیاں تھیں ۔ مسلمانوں سمیت انصاف اور آزادی میں یقین رکھنے والے ہر فرد نے اس پر کئی سوالات اٹھائے ۔ ان سوالوں میں ایک سوال تویہ ہے کہ عین واقعہ کے وقت ہی سی سی ٹی وی کیمرے بند کیوں ہو جاتے ہیں ۔ کیا انہیں حیا آتی ہے کہ وہ یہ سب دیکھنا اوراسے ریکارڈ رکھنا نہیں چاہتے ۔اگر ایسا ہے تو ہماری پولس خفیہ ایجنسی اور دیگر تفتیشی اہلکاروں کے لئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ بے جان کیمرے بھی ظلم کی داستانوں کو دیکھنا گوارا نہیں کرتے اور ایک یہ گوشت پوست کا چلتا پھرتا انسان ہے جو کسی بے گناہ کو مارنے میں کوئی شرم محسوس نہ کرتا ۔شاید ان سے بہتر تو جنگل درندے ہیں ۔ بحالت مجبوری اس پر ایک یک رکنی تفتیشی کمیٹی مقرر کردی گئی جس نے قاتلوں کے گروہ یعنی اے ٹی ایس اور پولس کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے ان اٹھ مظلوموں کو مجرم قرار دیدیا اور یہ بھی کہہ دیا گیا کہ ان کا قتل عین قانون کے مطابق ہے ۔ بھوپال جیل کے باہر لے جاکر مسلم نوجوانوں کے قتل کی یہ نا ہی پہلی واردات ہے اور اگر مسلمانوں نے ہوش کے ناخن نہیں لئے اور مسلم تنظیموں نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ تعمیر کرنے کی ذہنیت سے نکل کر امت کیلئے کام نہیں کیا تو یہ آخری بھی نہیں ہوگا ۔اس کے بعد ایک کے بعد ایک ایک سلسلہ دیکھیں گے جس میں زیر سماعت مسلم نوجوانوں کو اسی طرح قتل ہوتا دیکھیں گے اور گاندھی کے دیش میں امن کے راگ الاپتے رہیں گے ۔ ہر طرح سے یہ ثابت ہوتا جارہا ہے کہ یہاں کی عدالتوں اور یہاں کی انتظامیہ سے مسلمانوں کو انصاف نہیں ملنے والا پھر پتہ نہیں کیوں بین الاقوامی عدالت کے دروزاے نہیں کھٹکھٹائے جاتے ؟ کیوں اقوام متحدہ سے یہ مطالبہ نہیں کیا جاتا کہ یہاں کی حکومت ،یہاں کی انتظامیہ اور یہاں کی عدلیہ سے ہمیں تحفظ نہیں مل سکتا ۔تقریباًدو سال قبل ابو عاصم اعظمی نے ایک پریس کانفرنس میں یہاں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی کو اقوام متحدہ میں رکھنے کی بات کی تھی لیکن اس کے بعد ان کی جانب سے اس پر کسی پیش رفت کی کوئی اطلاع نہیں ملی ۔حالیہ دنوں میں اعظم خان نے بھی اقوام متحدہ جانے کی بات کہی تھی ۔ آخر کس قیامت کا انتظار ہے ؟

اسی طرح کچھ روز قبل پہلو خان کے قاتلوں کو بھی پولس کے ذریعہ کلین چٹ دے دی گئی ۔پہلو خان شاید یہ نام ابھی تک قارئین کی سماعت میں محفوظ ہوگا ۔ ایسا اس لئے کہہ رہا ہوں کیوں کہ یہاں ہر روز فرضی مسائل اس تندہی کے ساتھ اٹھائے جاتے ہیں کہ اصل مسائل عوام کے ذہنوں سے دور ہو جاتے ہیں ۔وہی پہلو خان جسے رام راجیہ میں بہادر گؤ رکشکوں نے پیٹ پیٹ کر قتل کردیا تھا ۔اب پولس نے ان قاتلوں کو پاک دامن ہونے کا سرٹیفیکٹ دے دیا ہے ۔ ہمارے یہاں کی عدلیہ میں مقتول و مظلوم افراد کے آخری وقت کے بیان کو کافی اہمیت دی جاتی ہے ، ماننا یہ ہے کہ مرتے وقت کوئی انسان جھوٹ نہیں بولتا ۔ لیکن اب ملک میں ہر گواہی اور ہر جرم کیلئے اس کی ذات اور مذہب دیکھ کر اس کے مطابق الزامات طے کئے جاتے ہیں ۔ یہاں بھی پہلو خان کے آخری وقت کے بیان پر اس لئے کوئی دھیان نہیں دیا گیا کیونکہ وہ ایک مسلمان تھا اور اسے مارنے والے بہادر گؤ رکشک اور دیش بھکت ہیں ۔ پہلو خان نے بھی مرتے وقت ان چھ قاتلوں کا نام لیا تھا۔لیکن ہمارے یہاں کی پولس انتظامیہ کا حال جاننا ہو تو فسادات کے بعد کی ساری کمیشنوں کی رپورٹ دیکھ لیں ہر جگہ یہی رو سیاہ محکمہ ہی ملزم گردانا گیا جسے اپنی اس رو سیاہی پر بڑا ناز ہے ۔ یہی اب ہماری پولس فورس کی پہچان اور اس کا طرہ امتیاز ہے ۔ شاید انہوں نے بھی وہ بات سن لی ہے کہ بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا ۔ اسی بدنامی کے سہارے ہماری پولس کا پوری دنیا میں نام روشن ہے ۔ امید رکھیں کہ فی الحال جو نظام ہم پر مسلط ہے اس میں تو اس محکمہ کے سیاہ کارناموں پر شاباشی دینے والوں کی اکثریت ہی ہے ۔ ایسے میں پہلو خان کے قاتلوں کو کلین چٹ دینے سے حیرت زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔جب اخلاق کے گھر سے برآمد گوشت کو بدل کر دوسرا سرٹیفیکٹ حاصل کیا جاسکتا ہے تو محکمہ پولس کی جانب سے قاتلوں کو بے گناہ قرار دینا کوئی حیرت کا باعث نہیں ہو نا چاہئے ۔ اب تو عدالتوں سے بھی زیادہ امیدیں وابستہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ہمیں تو کافی پہلے سے نہیں ہے جنہیں امیدیں ہیں وہ آنے والے وقت میں اپنی خوش فہمیوں کے نتائج دیکھ لیں گے ۔ آئے دن عدلیہ کے فیصلے انصاف و قانون کا مذاق اڑاتے ہوئے ہماری نظروں کے سامنے رقص کرتے نظر آتے ہیں ۔زیادہ دور مت جائیے کیرالا کی اس بالغ لڑکی ہادیہ کا مسئلہ دیکھ لیجئے جس میں سپریم کورٹ نے اپنے سامنے اس کا بیان لینے کی بجائے این آئی آے کو تفتیش کی ذمہ داری سپرد کردی ۔
پاکستان کے خلاف پوری دنیا میں دہشت گردوں کی پشت پناہی پر واویلا مچانے والے ہمارے دیسی رہنما کیا یہ بتانے کی زحمت کریں گے کہ جب یہی کام پاکستان کرتا ہے تو آپ دہشت گردی اور انسانیت کی دہائی دیتے نہیں تھکتے ۔ ہر محفل اور ہر فورم پر آپ کا پسندیدہ مشغلہ پاکستان کی مذمت کرنا اس کے سیاہ کارناموں کو طشت از بام کرنا ہوتا ہے تو آپ کے ان کارناموں پر کیا دنیا غور نہیں کرے گی ؟فسادات میں مسلمانوں کی جان و مال کو دانستہ نقصان پہنچانے کے بعد اب فرضی گرفتاریوں کو کیا دنیا نہیں دیکھ رہی ہے ؟یقیناًدیکھ رہی ہے اور گاہے بگاہے اس تعلق سے رپورٹیں میڈیا میں آرہی ہیں ۔موجودہ مودی حکومت کے تین سال سے زائد کے میقات میں امریکہ سے حکومتی پیمانے پر کم از کم دو بار ہندوستان میں مسلمانوں پر حملہ کیخلاف تشویش کا اظہار کیا گیا ۔فی الحال روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ عالمی پیمانے پر انسانوں کے ضمیر پر دستک دے رہا ہے ۔ جس میں اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ایک ہزار سے زائد روہنگیائی مسلمانوں کو تہہ تیغ کردیاگیااور لاکھوں کو نقل مکانی پر مجبور کردیا گیا ۔لیکن کیا ہندوستان میں مسلمانوں کی صورتحال اس سے کوئی زیادہ مختلف ہے ؟ یہاں بھی ایسے واقعات بار بار دہرائے جاتے رہے ہیں ۔ اس کے باوجود ہندوستان کو پر امن خطہ ہونے کا فخر حاصل ہے ۔ یہاں نمازیوں پر گولیاں چلائی گئیں ۔ ممبئی اور گجرات جیسے علاقوں میں ہزاروں مسلمانوں کو اسی طرح اجاڑ دیا جاتا ہے ۔ آسام کے نیلی میں اسی طرح شہریت کا مسئلہ معلق اور متنازعہ ہے ۔ وہاں فروری 1983 میں محض چھ گھنٹے میں غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دس ہزار مسلمانوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا تھا ۔یہ الگ بات ہے کہ ہماری حکومتوں کو ایسے مسلمان میسر آجاتے ہیں جو اندرون اور بیرون ملک سب خیریت ہے کا مزدہ سناتے رہتے ہیں ۔ایک شو بوائے کی خدمات انہیں حاصل رہتی ہے ۔ موجودہ حکومت جس کی سربراہی پردھان سیوک کے ہاتھوں میں ہے اور جن کی خاموش تائید و حمایت ایسے لوگوں کو حاصل ہیں جو کبھی اخلاق اور کبھی پہلو خان جیسے بے گناہ مسلمانوں کو اپنی درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف اس لئے موت کی نیند سلادیتے ہیں کہ کسی طور مسلم نوجوانوں کے جذبات بھڑک جائیں اور انہیں نیلی ، گجرات ، مرادآباد ، مظفر نگر دہرانے کا بہانہ مل جائے ۔ اگر کسی کو میری باتوں سے اختلاف ہے تو اسے چاہئے کہ وہ مجھے جھوٹا ثابت کرنے کیلئے کوئی عملی ثبوت پیش کرے ۔ ایسے حالات میں کسی شاعر نے کہا تھا ؂ تیغ منصف ہوجہاں ،دار ورسن ہوں شاہد/ بے گناہ کون ہے اس شہر میں قاتل کے سوا

نہیں اقبالؔ مایوس...........



قاسم سید

کیا حالات کے شدید دبائو نے ہندوستانی مسلمانوں میں مزاحمت ‘مدافعت اور احتجاج کی قوت کو ہوادی ہے۔ کیا ڈر اور خوف کی انتہا نے ری ایکشن کے طور پر ان کےاندر پھر سے آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے اور سڑکوں پر نکل کر جمہوری ذرائع کے استعمال مافی الضمیر ادا کرنے کا حوصلہ پیدا کررہا ہے‘ کیا وہ مختلف بہانوں سے پیدا کئے جانے والے ڈر سے آزاد ہو رہے ہیں۔ کیامرغیوں کی سی بے بسی اور کڑکڑانے کی حدوں سے آگے نکل رہے ہیں۔ کیا ان کے سیل جذبات کو کہیں کنارہ ملنے والا ہے۔ کیا حکمرانوں تک ان کے بدلتے تیوروں کی کھنک پہنچ رہی ہے اور کیا ہماری معزز قیادت اسے کوئی مشتعل رخ دینے اور اس تبدیلی کو جائز راستے پر لگانے کے لئے کوئی روڈ میپ تیار کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔
دراصل روہنگیا میں دوسری جنگ عظیم کے بعد بدترین نسل کشی کے واقعات مناظر نے جہاں عالم انسانیت کاضمیر جھنجھوڑ دیا۔ ہندوستانی مسلمان خصوصاً نوجوانوں میں بیداری کی نئی لہر محسوس کی جارہی ہے ۔ اب تک حالات کے یک رخا پن نے ان کے مزاج میں جھنجھلاہٹ‘غصہ اور تلملاہٹ پید ا کردی تھی وہ اس سے آزاد ہوناچاہتے تھے۔ سیاسی جماعتوں کو ان کی پروانہ پہلے تھی نہ اب ہے۔ مذہبی جماعتیں اپنے اپنے حلقہ ارادت میں مست ہیں۔ حالانکہ وہاں بھی اضطراب بدرجہ اتم موجود ہے لیکن مصلحتوں اور عافیت کی زنجیروں نےباندھ رکھا ہے ۔ روہنگیا نے ان باندھوں کو توڑدیا۔نوجوانوں کوغم وغصہ باہر نکالنے کی راہ مل گئی جو ملک کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں اس میں فیصد کے اعتبار سے مسلم نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہےان کے لئے کسی کے پاس کوئی ایجنڈہ نہیں۔ انہیں مصروف رکھنے‘ ہدف کے حصول کے لئے سرگرم رکھنے کی روایتیں بہت کم پائی جاتی ہیں۔ شاید مسئلہ فلسطینیوں کے ساتھ جو جذباتی وابستگی اور لگائو دیکھاگیا تھا دہائیوں کے بعد ایسے مناظر پھر دیکھنے میں آئے ہیں۔ پورے ملک میں جس طرح کا جوش وجذبہ اورموجوں کا تلاطم ہے وہ امیدیں جگاتا ہے۔ مایوسی کے اندھیروں میں حوصلوں کے چراغ جلاتا ہے۔اقبال کو اپنی کشت ویراں سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ مٹی میں نمی ہوتو اس کی زرخیزی اپنے جلوے بکھیرتی ہے بس کوئی صحیح طریقہ سے ہل چلانے اور بیج ڈالنے والا چاہئے۔
گرچہ یاران مکتب نے اس معاملہ میں بھی اختلافات کی راہیں نکال لیں اور ایک دوسرے کو کوسنے لعنت ملامت کرنے کا جواز فراہم کرلیاکسی کو یہ شکوہ ہے کہ مشرق وسطی کیوں خاموش ہے ہم تو اس کے لئے جان ودل کا نذرانہ ہتھیلی پر لئے رہتے ہیں۔ آخر ایسی کونسی مجبوریاں ہیں کہ ایک کلمہ احتجاج تک زبان سے نہیں نکلا۔ اپنے بھائیوںاور پڑوسیوں پر راشن پانی لے کر چڑھ جانے میں لمحہ بھر تاخیر نہ کرنے والے ایسی انسانیت سوز حرکتوں اور المیہ پر کیوں خاموش ہیں۔جبکہ ان کے امیر نے بھی برما کو کھری کھوٹی سنادیںتو جواب کے طور پر کہاجاتا ہے کہ جو ملک اپنے پڑوسی شام کے لئے فوج نہ بھیج سکگا وہ برما کے لئےکیسے بھیج سکتاہے۔نئے اور پرانے خلیفۃ المسلمین کے وفادار ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے ہیں کوئی کسر چھوڑ نے کے لئے تیار نہیں۔ سوشل میڈیا کے مجاہدین اورفیس بکی دانشوروں کی طرف سے آگ میں خوب گھی ڈالا جارہا ہے۔ ذہنی عیاشی کے عادی اوراپنے علاوہ ہر کسی پر طعن وتشنیع کرنے والے اس کا رخیر میں لگے ہیں لیکن عام انسان کو ایسی لاف زنی سے کوئی سروکار نہیں۔ اسے روہنگیا کے خانماں برباد‘لہو لہو انسانوں کے ساتھ بری فوج کے وحشیانہ سلوک اور امن نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کے بے رحمانہ رویہ نے بے چین کردیا ہے۔ وہ نہ سوپارہا ہے نہ ٹھیک سے کوئی کام کر پارہا ہے۔ حقیقی اورفرضی ویڈیو ز اس کی روح پر ہتھوڑے چلا رہے ہیں اور جو اس کے بس میں ہے وہ کر گزررہاہے وہ اپنےغصہ کا اظہار سڑکوں پر اتر کرکر رہا ہے۔ شایداپنے رہنمائوں تک یہ پیغام پہنچاناچاہتا ہے کہ ڈر کا راستہ موت تک لے جاتا ہے۔ ہندوستان میں گئو رکشوں کے ہاتھوں پیٹ پیٹ کر ہلاک کردینے‘بے گناہوں کو گئو رکشا کے بہانے پکڑ کر گوبرکھلانے اور پیشاب پلانے کے غیرانسانی مناظر کا جب وہ روہنگیائی مسلمانوں کے ساتھ نسل کشی کا موازنہ کرتا ہے تواسے یہ واقعات روہنگیا کا ریہرسل معلوم ہوتے ہیں۔ جن لوگوں کے ہاتھوں میں زمام قیادت ہے ان کی پراسرار خاموشی اور گھروں میں دبک کر قنوت نازلہ پڑھنے سے بھی گریز کے مشورہ نے بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔ قومی یک جہتی اورامن وایکتاکانفرنسوں نے بھی اس کے درد کو کم نہیں کیا۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ مشرق وسطی کے مال غنیمت سے بھلے ہی ہماری خوشحالی میں اضافہ ہوا۔ مساجد ومدارس کاجال پھیل گیا۔ تبلیغ واشاعت کے مواقع بڑھے لیکن روحیں مردہ ہوگئیں۔ زبانوں پر تالے پڑ گئے۔ قد آور بونے ہوگئے اور بقول اقبال قہاری‘غفاری‘قدسی وجبروت جیسے عناصر اربعہ سے مسلمان کا خمیر بنتا ہے وہ کہیں گم ہوگیا اور یہ بہت بڑا خسارہ ہے۔ اس نے انتشار پھیلانے اور گروہ بندی کو تقویت دینے میں بھی کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ ہمیں اس جال سے نکلنے اور اپنے ہاتھ پیروں پر بھروسہ کرنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ اس موقع پر جولوگ مسلم ممالک کی بے حسی کا شکوہ کرتے ہیں ان کو اپنی خوش فہمیاں دور کرلینی چاہئیں کوئی ایسی مثال دی جائے کہ مسلم ممالک الا ماشاءاللہ نے مسلمانوں کے سنگین مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی لی ہو‘کبھی وہ ایران عراق جنگ کے نام پر بٹ گئے‘ کبھی شام نے دو خیموں میں تقسیم کردیا اور اب ایک چھوٹے سے ملک کے خلاف جس طرح کی گھیرابندی ٹرمپ کے حکم نامہ پر ہوئی ہے۔اس سے کون واقف نہیں ہے۔ قارئین کے حافظہ میں ہوگا کہ جب آسام میں نیلی قتل عام ہوا جس میں معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا تھا ۔ ایک عرب ملک کا سربراہ دورہ ہند پر تھا اورایشین گیمس کے لئے اس نے خطیر رقم حکومت ہند کودی تھی۔ ہم انہیں برا بھلا کہہ کراپنا نامہ اعمال  خراب کرتے ہیں۔ان پر تو ترس کھاناچاہئے کہ مشرق وسطیٰ کے حصے بخرے کا نیا پلان زیر عمل ہے اور یہ ایک دوسرے کی نسیں کاٹنے میں توانائی جھونک رہے ہیں۔ ان کی دنیا الگ ہے۔ ان کے مقاصد جدا ہیں۔ ان کی دلچسپیاں مختلف ہیں۔ پناہ گزینوں کوسمندر میں دھکیل دینے والے بنگلہ دیش کی حمیت وغیرت تو جاگی وہ انہیں پناہ دینے کے لئے تیار ہوگیا ورنہ اس نے بھی کوئی کمی نہیں کی تھی۔ یہ عالمی رائے عامہ کے دبائو کا ہی نتیجہ تھا۔
ہندوستانی مسلم نوجوان انگڑائی لے رہا ہے۔ وہ اس دبائو کے کمبل کو اتار پھینکناچاہتا ہے جو گذشتہ تین سال سے اوڑھادیاگیا ہے۔ اسے مددچاہئے۔کوئی اس کی انگلی پکڑے اور اجتماعی قوت کو اسٹور کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے بہکنانہیں چاہئے جذبات کی آندھی کہیں سمت نہ بدل دے اور بدخواہ ان کا استحصال نہ کرنے لگیں۔ ہمارے زعما کے کاندھوں پر بہت بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ اس طوفان کو سنبھال کر رکھیں۔ اسے راہ نجات پرلائیں۔ یہ بہت بڑا سرمایہ ہے۔ بیداری کی اس کیفیت کی دبی ہوئی چنگاریوں کو سلیقہ عطا کرنا ہوگا ۔ یہ اس لئے بھی ہواکہ انہیں اپنے درد میں بھی روہنگیاکی بازگشت سنائی دی۔ ماضی میں جینے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ دنیا حال کی طاقت اور کیفیت دیکھ کر عزت کے بارے میں فیصلہ کرتی ہے۔ ہمارا حال کتنا روشن اور خوبصورت ہے۔ ماضی سے موازنہ نہیں کیاجاتا۔ ہندوستانی مسلمانوں کو ماضی کی روشنی سے حال کااندھیرا دورکرنا ہوگا اوریہ ناممکن نہیں ہے۔

آہ ! وہ تیرِنیم کش ...!



عمر فراہی  ۔  ای میل  :  umarfarrahi@gmail.com

میر سپاہ نا سزا ، لشکریاں شکستہ صف/آہ ! وہ تیر نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف۔اقبال کہتے ہیں کہ جس لشکر کا امیر نااہل اور نالائق ہو اس کی مثال اس بدبخت بے حس اور شکستہ صف فوج کی طرح ہےجس کی ساری تگ دو ایسی ہی ہے جیسے کوئی بددلی سےہوا میں تیر چلائے ،نہ کمان ہی زور سے کھینچی گئی ہو نہ ہی تیر ہی کسی نشانے پر پھینکا گیا ہو ۔
اقبال نے تقریباً اسی نوے سال پہلے جب یہ بات کہی تھی تو اس وقت مسلمانوں میں ہزاروں علمائے دین اور ذہین افراد بھی موجود تھے۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ ملت اپنے فکر و عمل کے فنا ہونے کا سبب اور اپنی شان وشوکت کے زوال کا حل ڈھونڈھتی لیکن ہوا یہ کہ ملت اسلامیہ اپنے درمیان سے اجتماعی دانشمندی اور دانشمند علماء اور اقبال سے بھی محروم ہوگئی۔یہ بھی سچ ہے کہ کل کی بنسبت آج مسلمان ہزاروں مدارس کالج اور یونیورسٹیوں کی تعلیم سے مستفید ہورہے ہیں پھر بھی نرگس اور بھی شدت کے ساتھ اپنی بےنوری پہ نوحہ خواں ہےاورکسی دیدہ ور کے انتظار میں ہے ۔پچھلی دہائیوں میں علماء کا ایک بہت بڑا دور مسلکی مناظرے بازی میں گذر گیا ۔یہ وہ دور تھا جب مسلمانوں کے علماء اور دانشوروں کی اپنی ساری جدوجہد اپنے فکری زوال کو عروج میں بدلنے کی جستجو اور تحقیقی تصنیفات میں گذرنا چاہئے تھا لیکن ایک مسلک نے دوسرے مسلک پر کیچڑ اچھالنے میں گذار دیا ۔دنیا کہاں سے کہاں چلی گئی کچھ مسلمانوں کو ہر سال رمضان کے مہینے میں اس بحث میں الجھا ہوا پایا جاتا ہے کہ تراویح نفل ہے یا سنت ۔تراویح آٹھ رکعت ہے یا بیس ۔ہونا تو یہ چاہئے کہ جس کو جو سمجھ میں آتا ہے اس پر عمل کرے اور اپنے مسلک کی دیگر فلاح بہبود کی مصروفیات کیلئے منصوبے تجویز کرے تاکہ اس کے اس فلاح و بہبود کے کام سے دیگر مسلک اور مذہب کے لوگ بھی مستفید ہوں ۔جیسا کہ ارشاد ربانی بھی ہے کہ’’اب دنیا  میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے دنیا میں ہدایت و اصلاح کیلئے میدان میں لایا گیا ہے ۔تم نیکی کا حکم دیتے ہو بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو ‘‘۔
لیکن ابھی بھی ہو وہی رہا ہے جو اسلام اور انسانی فطرت دونوں کے خلاف ہے۔اپنی ذات اور فرقے سے وابستگی اور دوسرے مسلک کے خلاف جھوٹ اور بہتان کے لامتناہی بحث اور عنوان سے بچوں کے ذہن میں نفرت اور تصادم کا جو ماحول پیدا ہو رہا ہے مسلمانوں کے اپنے درمیان یہ صورتحال بذات خود بھی برما فلسطین کشمیر اور چچنیا کی شورش سے کم نہیں ہے ۔یہ تو اچھا ہے کہ ہمارے ذہنوں کا یہ فساد ہند و شدت پسندوں کے خوف سے قابو میں ہے ورنہ ہندوستان کے بیس کروڑ مسلمانوں کی حالت پاکستان افغانستان ایران عراق شام اور مصر سے مختلف نہ ہوتی جہاں پچھلی ایک صدی سے مسلمان آپس میں ہی متصادم ہیں۔ اس کی وجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ مسلمانوں کی اکثریت نہ صرف اپنی اسلامی غیرت اور حمیت سے محروم ہے بلکہ انسانی فطرت میں جو تعمیری سوچ اور رحم کے جذبات پائے جاتے ہیں اس کا بھی فقدان ہے ۔ جس طرح ہندوستانی سیاستدانوں نے اپنی کمزوری کو چھپانے کیلئے یہاں کے باشندوں کو لسانی ، علاقائی اور مذہبی عصبیت میں الجھا رکھا ہے ہماری اپنی مسلکی عصبیت کی شدت بھی عروج پر ہے ۔ایک بار کا واقعہ ہے جب آٹھویں کلاس میں پڑھ رہی ہماری بچی سے اس کے ساتھ پڑھ رہی ایک دوسری بچی نے پوچھا کہ تم لوگ وہابی ہو ؟ بچی نے کہا کہ یہ کیا ہوتا ہے دوسری بچی نے کہا ارے پاگل چوبیس نمبر ! ہماری بچی  نے پھر کہا مجھے یہ سب سمجھ میں نہیں آتا میرے پاپا نے بتایا ہے کہ ہم لوگ مسلمان ہیں ۔دوسری بچی نے پھر کہا کہ میں جب اپنے گھر کے پاس بس سے اتری تو دیکھی تیرے پاپا غیر مقلدوں کی مسجد سے نماز پڑھ کر نکل رہے ہیں۔بچی نے کہا کہ یہ غیر مقلد کیا ہوتا ہے دوسری بچی نے کہا تم کو نہیں معلوم یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ہیں ۔میری بچی نے کہا اچھا چھوڑ یہ سب بات میں اپنے پاپا سے پوچھونگی کہ یہ سب کیا ہے۔بچی نے گھر آکر جب یہ بات بتائی تو مجھے بالکل تعجب نہیں ہوا کہ ہمارے مسلم معاشرے میں کتنے بچپن سے بچوں کے ذہن میں مسلکی عصبیت کا زہر گھول دیا جاتا ہے ۔سوال یہ ہے کہ کیا یہی اسلام ہے؟۔ ٹھیک ہے آپ دوسروں سے اختلاف رکھیں جو انسان کی فطرت میں بھی ہے لیکن کیا یہ ضروری ہے کہ اختلاف صرف نفرت اور بغض پیدا کرنے کیلئے ہی ہو۔اختلاف امن اور انصاف کے حصول اور نافذ کرنے میں بھی ہوسکتا ہے۔ ہمارے سامنے حضرت معاویہ ؓ اور حضرت علیؓ اور عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کا اختلاف ایک نمونہ ہے کہ کس طرح حضرت علی ؓاور عائشہ ؓ نے اور بعد میں حضرت حسنؓ اور معاویہؓنے امت کے درمیان فساد کو رفع دفع کرنے کیلئے آپس میں مصالحت اختیار کر لی۔ کیا کبھی ہم نے اپنے بچوں سے یہ پوچھا کہ اسلام کیا ہے اور آپ مسلمان کیوں ہیں؟ کیا ہم نے اپنے بچوں کو کبھی یہ بتایا کہ اسلام ایک تحریک اور دین کا نام ہے اور دین کے معنی اس نظام کے ہوتا ہے جہاں انصاف ہو ۔جیسا کہ قرآن کی یہ آیت ہم ہر نماز میں دہراتے ہیں کہ’مالک یوم الدین یعنی دین کے دن کا مالک مطلب انصاف کے دن کا مالک‘۔قرآن کی ایک دوسری آیت ہے کہ ان الدین عند اللہ الاسلام ’اللہ کے نزدیک بہترین دین اسلام ہے‘۔
قرآن میں اللہ نے یہ بات اس لئے کہی کیونکہ کہ اللہ جانتا تھا کہ انسانوں کی دنیا میں دوسرے دین اور حکمراں بھی ہونگے اور مسلمانوں کے گروہ اس نظام سیاست کی طرف بھی مائل ہوسکتے ہیں اس لیئےاللہ نے پہلے ہی آگاہ کردیا کہ اصل دین یعنی نظام سیاست اور انصاف تو اسلام اور قرآن ہی ہے۔اس پوری بحث کا مدعا یہ ہے کہ اسلام صرف یہ نہیں ہے کہ لوگوں کی عبادت کا طریقہ کیا ہے اسلام یہ ہے کہ انسان ظالم اور مظلوم کے درمیان تمیز کرنا سیکھے اور دنیا میں مسلمان اللہ کے خلیفہ کی حیثیت سے لوگوں کے درمیان انصاف کے علمبردار ہونے کا حق ادا کرے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب قونو بالقسط کے علمبردار نظام سیاست پر غالب ہوں ۔
دوسروں کو اس کی تمیز رہے یا نہ رہے لیکن ایک مسلمان کو  دنیا کے حالات پر تبصرہ کرتے وقت یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کا مذہب اور عقیدہ کیا ہے ؟بہت افسوس ہوا اس وقت جب سوشل میڈیا پر برما کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت اور ہمدردی کو لیکر بھی کچھ مسلم نوجوانوں نے کبڈی کبڈی کھیلا۔ کسی نے سعودی عرب کی فراخ دلی کے قصیدے گائے اور انہیں عالم اسلام کا قائد اور مسیحا قرار دیا تو کہیں ترکی کے اسلام پسند رہنما طیب اردگان کی پزیرائی میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے ۔اس بیچ میرجعفروں نے مسلکی تنازعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ افواہ بھی اڑائی کہ ترکی فوجوں نے برما پر حملہ کردیا ہے ۔اگر یہ بحث غیروں میں پڑھی اور سنی جائے تو کیا ان کے حلقوں میں مسلمانوں کی جہالت کا مذاق نھیں اڑایا جائے گا ۔ یا مسلم تنظیمیں جو ہر روز غیر مسلموں میں اسلام کی دعوت اور حالات کے تعلق سے بیداری کی جدوجہد میں مصروف ہیں ان کے اوپر اس کے اثرات کیا ہونگے۔کوئی آپ کو بھلے ہی جواب نہ دے کہ پہلے آپ خود اسلام سے واقف اور بیدار ہوجائیں پھر ہمیں درس دینا لیکن دل ہی دل میں وہ آپ کی بیوقوفی پر اسی طرح ہنسے بغیر نہیں رہ سکتا جیسے کہ اکثر کالج وغیرہ میں جب کوئی پروفیسر اپنے سبجیکٹ پر ہوم ورک کیے بغیر کسی عنوان کی تشریح کرتے ہوئے بھٹک جائے تو بچے دل ہی دل میں یا پروفیسر کی غیر حاضری میں مذاق اڑانا شروع کردیتےہیں اور پھر ایسا بھی ہوتا ہےکہ بچے ایسے پروفیسروں کے لیکچر کو بہت اہمیت نہیں دیتے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ قومی میڈیا ہمارے اداروں اور مسلم دانشوروں کی طرف سے قومی مسائل پر ہونے والے بہت اہم اجلاس اور سمپوزیم وغیرہ کو زیادہ توجہ نہیں دیتا۔
افسوس مدارس کے موجودہ نظام اورفضلا کی سوچ پر بھی ہوتا ہے کہ انہیں آج بھی نہ جانے کیسی تعلیم دی جارہی ہے کہ وہ ظلم اور ناانصافی پر مبنی عام تبصرے کو بھی مسلک مذہب اورفرقہ وارانہ نظریے سے دیکھتے ہیں جبکہ اسی ملک ہندوستان میں سگاریکا گھوش ،برکھا دت ،تیستاسیتلواد، ارون دھتی رائے ،کنہیا کمار ، ہرش مندر ،رام پنیانی ، امریکی دانشور نوم چومسکی، اپوروا نند، مہیش بھٹ اورسنجیو بھٹ جیسے بہت سارے ہندو صحافی اور دانشور بھی جب اپنا قلم اور زبان کو جنبش دیتے ہیں تو یہ نہیں دیکھتے کہ ان کا مذہب مسلک اور ملک کیا ہے اور وہ مسلمانوں کے کس مسلک کی حمایت کرتے ہیں ۔کلبرگی ،پنسارے ،نریندر دابھولکر اور کرکرے کو شاید اپنی اسی انصاف پسندی کی سزا ملی ہے ۔گور ی لنکیش نے وہ کام کیا جو مسلمانوں کیلئے خاص تھا اور باالآخر شہید کر دی گئی ۔ وہ تو ہمارے خلاف ہونے والی ناانصافی کی وجہ سے ہمیں مسلمان سمجھ رہے ہیں لیکن ہم ؟ شاید اب ہمیں دوسری قوموں سے سیکھنا ہوگا کہ اسلام دنیا سے ظلم اور ناانصافی کے خاتمے کا نام ہے نہ کہ قوم اور مسلک کے نام پر اندھی تقلید کا ۔ اقبال بالکل درست کہتے ہیں کہ  ؎
آہ !وہ تیرے نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف

گوری لنکیش :رام راج کی شکار



نہال صغیر

بنگلور میں گوری لنکیش کو بھی برہمنزم یا ہندوتوا کے سیاہ چہروں کو عوام کے سامنے لانے کی سزا ددے دی گئی ۔ انہیں قتل کردیاگیا۔ان کے قتل پر پورے ملک کی صحافی برادری نے بھرپور احتجاج درج کیا ۔ لیکن کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کے بیان میں وہ سختی نہیں ملی جو کہ ایسے بزدلانہ اور دہشت گردانہ کارروائی کے بعد ہونی چاہئے ۔ انہوں نے رپورٹ منگوائی ہے اور شاید تفتیش کے بھی احکام دیئے جاچکے ہیں ۔کرناٹک میں ایسے کئی قتل کے واردات انجام دیئے جاچکے لیکن اس کی تفتیش کرکے قاتل کو یا اس گروہ کو جو اس میں ملوث ہے کو عبرتناک سزا نہیں دی گئی نتیجہ ایک اور قتل کی صورت میں ہمارے سامنے ہے ۔ گوری کے قتل بعد ہر اس صحافی کی پیٹھ میں ٹھنڈی لہر کا دوڑ جانا یقینی ہے جو ظلم کو بے نقاب کرنے اور سفید پوش بھیڑیوں کو عوام کے سامنے لانے میں مصروف کار ہیں ۔ لیکن جن لوگوں نے صحافت کو ایک مشن کے طور پر اپنایا ہے وہ کب اس کی پرواہ کرتے ہیں کہ ان کی کس تحریر کا کا بہانہ بنا کر ان کی زندگی کا چراغ گل کردیا جائے ۔ مجھے تو محسوس ہوتا ہے کہ ایسے بزدلانہ قتل سے بھلے ہی کچھ دیر کیلئے سنسنی کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہو لیکن ہم پھر اگلے ہی لمحے اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ سچائی کو عام کرنے اور جھوٹوں کی مکاری کو سب کے سامنے لانے کے مشن سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ جسے جو کچھ کرنا ہے کرلے ۔خواہ ایسے صحافیوں کو سرکاری مشنری کے ذریعہ پریشان کیا جائے یا گوری لنکیش کی طرح خاموش کردیا جائے ،مشن تو جاری رہے گا۔
آزاد ہندوستان ،جس کے بارے میں ہمارے اکابرین سے لے کر آج کے جدید دیش بھکت تک کا یہ کہنا ہے کہ اس جیسا پرامن ملک دنیا میں کہیں نہیں ہے نیز ہم جتنا یہاں محفوظ ہیں کہیں اور نہیں ۔ممکن ہے کہ وہ لوگ ایسا کہنے میں حق بجانب ہوں ۔یا ان کے محدود تصور اور وطن پرستی کے نشے نے ان سے اس طرح کی جذباتی باتیں کہلوائی ہوں ۔لیکن یہ کوئی ایک دن کی یا ایک بار کی کہی ہوئی بات نہیں ہے ۔یہ مسلسل کہی جاتی ہے ۔لیکن یہ ان لوگوں کے ذریعہ کہی جاتی ہیں جو ایک خاص نظریہ رکھتے ہیں ۔ہم جب غور کرتے ہیں تو کئی بار ہمیں یہ سوچنا پڑتا ہے کہ یہ ملک کس نوعیت سے دنیا کا سب سے پرامن خطہ ہے ۔اس ملک میں بھی کئی ریاستوں میں مزاحمت اور پرتشدد تحریک جاری ہے ۔اس کے علاوہ یہاں زنا بالجبر اور قتل عام کی وارداتیں عام ہیں ۔میں نے دو سال قبل کی اقوام متحدہ کی رپورٹ دیکھی ہے جو کہ دنیا کے مختلف خطوں میں صحافیوں کی جان کو ہونے والے خطرات اور ان کی اموات کے تعلق سے تھی ۔عراق اور شام میں بھی پندرہ کے آس پاس صحافیوں نے اپنی جانیں قربان کیں کیوں کہ وہ ممالک جنگ زدہ خطہ میں شمار ہوتی ہیں اس لئے ان میں سے اکثر جنگوں کے راست رپورٹنگ کے دوران ہلاک ہوئے ۔جبکہ ہمارا ملک ہندوستان پرامن ہے لیکن یہاں اس پرامن ملک میں پندرہ صحافیوں کا قتل ہوا ۔میں نے ابھی تک یہ چیک نہیں کیا ہے کہ ان برسوں میں ہندوستان میں کتنے صحافیوں کو اپنی پیشہ وارانہ مصروفیت کے دوران ان کے مخالفین نے قتل کیا ۔نہ ہی پارلیمنٹ میں کسی رکن نے اس تعلق سے کوئی سوال کیا کہ کتنے صحافیوں کو قتل کیا گیا ۔ہم آئے دن خبروں میں پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں کسی مافیا یا کسی سیاست داں کے سیاہ کارناموں کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی پاداش میں فلاں صحافی کو اپنی جان سے دھونا پڑا مطلب اسے قتل کردیا گیا ۔ دھمکیاں توروز کا معمول ہیں ۔ہمارے ایک ساتھی ہفت روزہ شودھن کے سابق مدیر نوشاد عثمان کو بھی برہمنی گروہ کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکی دی جاچکی ہے ۔لیکن صحافیوں کے تحفظ اور ان کی سلامتی کے تعلق سے اب تک کسی بھی حکومت نے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ۔گوری لنکیش کے بزدلانہ قتل پر ایک گروپ ایک صحافی نے لکھا کہ ’’کوئی غنڈہ کسی کو تنگ کررہا ہے تو صحافی آواز بلند کرے ،نیتا عوام کی نہیں سن رہے تو صحافی آگے آئے ،کسی محکمہ میں مافیا کی گھس پیٹھ زیادہ ہو گئی تو صحافی کا قلم حرکت میں آئے ،کسی لیڈر کو عوام میں تعارف چاہئے تو صحافی کی خدمات لی جائے ،لیکن جب صحافی پر کوئی بات آتی ہے اس کو دھمکی دی جاتی یا اس کو قتل کردیا جاتا ہے تو صرف صحافی ہی میدان میں آئے وہی آواز اٹھائے ،اس کی حمایت میں سماج کے دیگر طبقات کیوں نہیں آگے آتے ‘‘۔ اس بیچارے غریب صحافی کو شاید پتہ نہیں کہ یہاں گوری لنکیش جیسی بہادر صحافیہ کو قرل کردیئے جانے پر جو یہ کہتا ہے کہ کتیا مر گئی وہ نریندر مودی کو فالو کرتا ہے ۔اس پر معذرت پیش کرنے کی بجائے ان کے ہمنوا کہتے ہیں کہ یہ کسی کیلئے کیریکٹر کی سند نہیں ہے کہ وہ نریندر مودی کو فالو کرتا ہے ۔لیکن یہی لوگ اگر ذاکر نائک کوئی ایسا نوجوان فالو کرتا ہے جو کسی معاملہ میں ماخوذ کیا جاتا ہے تو طوفان سر پر اٹھا لیتے ہیں ۔ملک میں جب تک یہ جانب داری اور حزب اقتدار کے سایہ میں غنڈہ گردی جاری رہے گی یہاں کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکتا خواہ دنیا میں ہم اپنے پرامن ہونے کا کتنا ہی ڈھول کیوں نہ پیٹیں ۔

قومی مفاد میں سخت فیصلے : دل کے بہلانے کو غالب خیال اچھا ہے


نہال صغیر

موجودہ حکومت کی تین سال سے زائد کے عرصہ میں اس کی کارکردگی کا احوال یہ ہے کہ اس نے کوئی ایسا قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دیا ہے جس کو قومی مفاد میں قوی ترین مانا جائے بھلے ہی اس کے نتائج فی الفور بہتر نہ دکھیں لیکن جس کے مستقبل قریب میں بہتر نتائج کی امید ہو ۔انتخاب جیتنے سے قبل ان کی باتوں کا حال یہ تھا کہ بس وہ آگئے تو ملک کی ترقی ،بقا اور اس کی سلامتی کو چار چاند لگ جائیں گے ۔ ملک دنیا میں سر اٹھا کر اپنا قائدانہ رول ادا کرسکے گا۔لیکن الیکشن جیتنے اور وزیر اعظم بننے کے بعد تو ایک ایک دن کرکے ساڑھے تین سال بیتنے کو ہیں لیکن دور تک نا امیدی مایوسی ، بے روزگاری اور معیشت کی تباہی کے مناظر ہمارا منہ چڑا رہے ہیں ۔ملک کی سلامتی اور دشمن ملک خاص طور سے پاکستان کو سبق سکھانے کی بات بھی محض ہوا ہوائی ہی ثابت ہوئی ۔ چین سے حالیہ تنازعہ میں تو یہ محسوس ہوا کہ عدم تشدد پر گاندھی جی کا مذاق اڑانے والے لوگ اتنے بے بس تھے کہ گاندھی جی سے کہیں آگے انہوں نے اس کا مظاہرہ کیا اور چین کی ہر جارحیت اور ہر دشنام طرازی کا جواب انتہائی تحمل اور برد باری سے دیا گیا ۔دونوں ممالک کے درمیان کچھ سمجھوتے ہوئے ہیں اور اس کو کچھ دیسی میڈیا ہماری سفارتی جیت قرار دے رہا ہے ۔ لیکن چین کی میڈیا کو دیکھیں تو وہاں معاملہ الٹا ہی نظر آرہا ہے ۔ ابھی تک یہ صاف نہیں ہے کہ ڈوکلام پر ہم نے جو رخ اپنایا تھا اس کا انجام کیا ہوا ۔ سمجھوتہ میں کیا کیا خاص باتیں ہیں جو ہندوستان کے وقار میں اضافہ کرتی ہیں ۔ نریندر مودی کی خوبی یہ ہے کہ وہ پوری یکسوئی سے جھوٹ بولتے ہیں ۔ اس معاملے میں ان کی شخصیت منفرد ہے ۔ ان کا کسی سے کوئی مقابلہ نہیں ہے ۔بڑے نوٹوں کی منسوخی سمیت اپنے کسی بھی فیصلے پر تنقید کا جواب ان کے پاس بس اتنا ہے کہ ملکی مفاد میں سخت فیصلے لینے پڑتے ہیں ۔ اس سے آگے ان کی زبان سے کوئی دوسرے الفاظ نہیں نکلتے ۔ لیکن ان سخت فیصلوں سے قوم کو کیا فائدہ ہوا اس کی تفصیلات ان کے پاس نہیں ہے ۔حالیہ دنوں میں میانمار سے لوٹتے ہوئے ایک بار پھر انہوں نے وہی گردان کیا کہ ’’میری حکومت قومی مفاد کو سیاست سے بالا تر سمجھتی ہے ‘‘۔ پردھان سیوک صاحب کرنسی کی منسوخی کے سلسلے میں تنقید کا جواب دے رہے تھے ۔ حالانکہ نومبر 2016 کی اس تاریخی حماقت پر ان کے جتنے ہمالیائی دعوے تھے سب ایک ایک کرکے زمین بوس ہو چکے ہیں ۔ انہیں یہاں کے عوام کی کمزوری اور ان کی نفسیات کا پتہ معلوم ہو گیا ہے ۔ یہ نفسیات یا کمزوری ہے حب الوطنی کے زبانی دعوے اور ہندوتوا کے نام پر شور و ہنگامہ ۔ اس کمزوری کا وہ پورا فائدہ اٹھارہے ہیں ۔ کرنسی کی منسوخی کا فائدہ انہوں نے اور ان کے ہمنواؤں نے یہ بتایا تھا کہ اس سے کالی کمائی پر قابو پانے میں کامیابی ملے گی اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو تباہ کرنے میں مدد ملے گی ۔ کالی کمائی کا معاملہ تو یہ ہے کہ ریزروبینک کوبا دل ناخواستہ بہر حال یہ اعلان کرناہی پڑا کہ اس کے پاس ننانوے فیصد نوٹ آچکے ہیں ۔ اب یہ کالا دھن کیا ہے اور کہاں ہے اس کا پتہ بتانے یا اپنی ناکامی یا حماقت کا اعتراف کرنے کی بجائے مسٹر پردھان سیوک اور ان کی ٹیم صرف یہ کہنے پر اکتفا کررہے ہیں کہ ملک کے مفاد میں سخت فیصلے لینے پڑتے ہیں ۔ اچانک نوٹ کی منسوخی سے کسی کی کمر اگر ٹوٹی ہے تو وہ اس ملک کو سب سے زیادہ روزگار فراہم کرنے والے چھوٹے کاروباری ہیں ۔ ان میں سے اکثریت کے کاروبار مفلوج ہو چکے ہیں ۔جی ڈی پی میں ترقی کی بجائے اس میں گراوٹ آگئی ہے ۔ملک کی صنعتی پیداوار میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔ اس کا لازمی انجام روزگار میں کمی کا حال یہ ہے کہ لاکھوں لوگ روزگار سے محروم ہو چکے ہیں ۔ غریب اور درمیانہ طبقہ بری طرح متاثر ہوا ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آزادی کے بعد سے ابتک کی حکومتوں کا رویہ مل کی ترقی ،بقا اور اس کی سلامتی سمیت بدعنوانی سے پاک ہندوستان کی تعمیر کے معاملہ میں محض زبانی دعووں تک محدود رہا ہے ۔بی جے پی کی حکومت جس کے سربراہ مودی جی ہیں وہ دعووں کے معاملے میں حکومتوں کو بھی پیچھے چھوڑ چکے ہیں ۔جھوٹ اور چرب زبانی کے سوا نہیں کچھ نہیں آتا ۔سپریم کورٹ نے بھی انتخابات میں حصہ لیے والے امیدواروں سے متعلق ایک مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے بدعنوانی اور ایدواروں کے اثاثوں کے تعلق سے پوری معلومات فراہم نہیں کررہی ہے ۔ ظاہر سی بات یہ ہے کہ اگر موجودہ حکومت نے اس سلسلے میں قدم آگے بڑھائے تو ان کی پارٹی کے نصف سے زائد مبران اس کی زد میں آجائیں گے ۔خود ان کی وزارت اور پارلیمانی ممبروں کی فہرست میں تقریبا پینتیس فیصد ارکان بدعنوان یا مجرمانہ معاملات میں ملوث ہیں ۔ایسی حکومت صرف یہ کرسکتی ہے اپنی حکومت کی شبیہ بہتر بتانے کیلئے قومی خزانے کا منہ کھول کر تشہیری کام میں جُٹی رہے گی،جیسا کہ موجودہ حکومت کررہی ہے ۔ وہ عدالت یا کسی عوامی تحریک کا سامنا کرنے کی حالت میں نہیں ہے ۔ یعنی موجودہ حکومت اور نریندر مودی کے دعوے بس وعدے ہیں وعدوں کا کیا،والی بات ہے ۔ چین کے دوروں کے درمیان پریس کیلئے جاری بیان میں یہ بات آئی کہ ہندوستان اور چین دونوں مل کر کام کریں گے ۔ چین ہندوستان کے ساتھ مل کر کام کرے یا نہیں لیکن ہندوستان تو ضرور ہی چین کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے ۔اسی لئے آر ایس ایس کی ذیلی تنظیمیں دیش بھکتی کے نام پر سادہ لوح عوام سے چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کی بات کرتی ہیں تو نریندر مودی یا ان کی ریاستی حکومتیں چینی کمپنیوں سے لاکھوں کروڑ کے پرجیکٹ کا معاہدہ کررہی ہیں ۔ لوگوں سے کہا جارہا ہے کہ وہ پچیس پچاس روپئے والی چینی مصنوعات نہ خریدیں لیکن ناگپور میٹرو چین کو دیا جارہا ہے ۔شیواجی اور پٹیل کے لاکھوں کروڑ کے مجسمے چینی کمپنیوں سے بنوائے جارہے ہیں ۔ اتنی کھلی دوغلی پالیسی کے بعد بھی اگر یہاں کے لوگ بی جے پی کو ووٹ دے رہے ہیں اور انہیں ہر ریاست اور شہر میں قوی کررہے ہیں تو ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہم اکیسویں صدی میں ہونے کی بجائے اٹھارہویں یا سترہویں صدی میں تو نہیں جی رہے ہیں ؟

’راج رشی شاہو چھتر پتی ‘سماجی انقلاب کا بادشاہ



نہال صغیر


مہاراشٹر میں کولہا پور کو ایک خاص مقام اس لئے حاصل ہے جہاں کے راجا جن کا نام شاہو ہے نے آج سے سو سوا سو سال قبل سماجی آزادی کی جنگ لڑی اور اس میں بہت حد تک جیت حاصل کی ۔زیر نظر کتاب انہی کی زندگی کی کہانی پر مبنی ہے ۔یعنی یہ ایک سچے انقلابی کی روداد زندگی ہے ۔یہ روداد زندگی اسی مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے مراٹھی ادیب ڈاکٹر جئے سنگ راؤ بھاؤ صاحب پوار نے مراٹھی میں قلم بند کیا ہے ۔اس کے لکھنے کا مقصد اس عظیم مراٹھی مصلح کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے عدل اجتماعی اور انصاف کیلئے کئے گئے کارناموں سے عوام الناس کو با خبر کرنا ہے۔کتاب کے مصنف ،اس کو اردو کے قالب میں ڈھالنے والے اس کے مترجم سید افتخار سمیت پبلشر سے معذرت کے ساتھ کتاب کے نام کے دوسرے حصہ پرتھوڑا سا تحفظ کا اظہار کرنا چاہوں گا ۔انہیں ’سماجی انقلاب کا بادشاہ ‘لکھا گیا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ عظیم مصلح تھے اور نہ صرف مہاراشٹر بلکہ پورے ملک کی اس اکثریتی آبادی کے محسن تھے جنہیں ایک اقلیتی لیکن چالاک گروہ نے ہزاروں سال سے اپنا غلام بنا رکھا تھا ۔اس کے باوجود انہیں سماجی انقلاب کا بادشاہ نہیں کہا جاسکتا ۔کیوں کہ انقلاب لفظی اعتبار سے کامل ترین تبدیلی کے زمرے میں شمار ہوتا ہے اور شاہو مہاراج باوجود اپنے اصلاحی نظریات میں مخلص ہونے کہ وہ اس سماج کو تبدیل نہیں کرسکے ۔وہ تبدیلی آ بھی نہیں سکتی تھی ۔کیوں کہ کوئی معاشرہ ہزاروں سال سے غلامی میں پلا بڑھا ہو تو اس میں یوں دس بیس سال میں تبدیلی نہیں آسکتی ۔اس کا اظہار خود شاہو مہاراج نے اپنی تقریروں اورتحریروں میں جابجا کیا ہے جس کو آپ اس کتاب میں پڑھ سکتے ہیں ۔ہاں شاہو مہاراج کو سماجی آزادی اور مساوات کا بادشاہ کہہ سکتے ہیں جس کے ثبوت میں اس پوری کتاب میں حوالوں کے ساتھ ان کی کوششوں کی حقیقی داستان موجود ہے ۔
مذکورہ کتاب کا اردو میں دستیاب ہونا بڑی اہمیت رکھتا ہے ۔ کتاب میں کل 33 عنوانات میں مصنف نے شاہو کی زندگی کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو تقریبا ساڑھے تین سو صفحات پر مشتمل ہے ۔ پوری کتاب گرچہ شاہو مہاراج کی زندگی اور ان کے کارناموں پر مبنی ہے لیکن شاہو سے پہلے کا ہندوستان نامی باب میں مصنف نے مسلم بادشاہوں کے تعلق سے انہی جذبوں کا اظہار کیا ہے جو متعصب تاریخ دانوں نے پھیلائے ہیں ۔ لیکن یہ بات بہت ہی مختصر پورے دو صفحات بھی نہیں ہیں اور اس کتاب کے مقصد تحریر اور ہماری گفتگو کا وہ موضوع بھی نہیں ہے ۔ جو حالات شاہو مہاراج نے اپنے دور میں دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے دیکھے تھے اور جس کے لئے بحیثیت ایک انسان کے ان کے دل میں تڑپ اٹھتی تھی آج تقریبا انہی حالات کا سامنا آزادہندوستان میں مسلمانوں کو درپیش ہے ۔ ممکن ہے کہ میری اس بات سے اختلاف کیا جائے جس کا حق بہر صورت قاری کو ہے ۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ صورتحال جیسی ہے اسے اس خوبی سے میں بیان نہیں کر پارہا ہوں ۔لیکن جب آپ کتاب کا مطالعہ کریں گے اور آپ کو اس وقت جبکہ ہندوستان میں تحریک آزادی چھڑی تھی اور اس میں آگے آگے علم اٹھائے چل رہے تھے لیکن اس دور میں کولہا پور کا یہ راجا اپنے مخالفین جس میں یقینی طور پر برہمن تھے کی الزام تراشی کے جواب میں کہتا تھا کہ ہم سیاسی آزادی سے پہلے سماجی آزادی چاہتے ہیں ۔اس کیلئے اس کتاب میں مصنف نے سوامی وویکانند کے خطوط عنوان میں ایک خط پیش کیا ہے جس میں وویکانند لکھتے ہیں ’’انگریزی عملداری سے مزید آزادی کے حصول کے لئے ہمارے کچھ احمق نوجوان جلسوں کا اہتمام کرتے ہیں ،ان کی کوششوں کا انگریز مضحکہ اڑاتے ہیں ،جو دوسروں کو آزادی نہیں دینا چاہتے ،وہ خود بھی آزادی کے اہل نہیں ہوتے ،ذرا سوچئے کہ انگریزوں نے سارا اقتدار آپ کے حوالے کیا تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا ،جو صاحب اقتدار ہوں گے وہ باقی لوگوں کو دبا کر رکھنے کی کوشش کریں گے ،ان تک وہ آزادی کو پہنچنے نہیں دیں گے ۔ ایسے لوگ فی الواقع دوسرے لوگوں کو غلام بنانے کیلئے اقتدار کے طالب ہوتے ہیں ‘‘۔ اسی طرح کی بات شاہو نے بھی تحریک آزادی میں عدم شمولیت کے جواز میں کہی’’جس انداز میں سوراجیہ کا مفہوم لیا جاتا ہے اس کے مطابق گویا اقتدار چند افراد کے ہاتھوں منتقل ہوگا۔میں پھر ایک بار یہ دہرا تا ہوں کہ ہمیں سوراج چاہئے مگر برطانوی عہدیداروں کے ہاتھوں سے سیاسی اقتدارچھین کر اسے تعلیم یافتہ اقلیتی برہمنی طبقہ کو منتقل کرنا مجھے پسند نہیں ‘‘۔ وویکانند اور شاہو کے آزادی کی تحریکوں کے تعلق سے یکساں احساس رکھنے کے باجود شاہو مہاراج کو جس طرح برہمنوں نے نشانہ بنایا اس پر مصنف ڈاکٹر جئے سنگ بھاؤ راؤ پوار کا احساس قابل غور ہے ۔ وہ لکھتے ہیں ’’ان دونوں بیانات اور اس کا معنی اور حقیقی مفہوم ایک ہی ہے ،فرق اگر ہے تو بس اتنا کہ اس طرح کی بات کرنے والے شاہو چھتر پتی بدقسمتی سے سوراجیہ کے مخالف ، عوام مخالف ٹھہرائے گئے ۔ سوامی وویکانند اس دل آزاری سے بچ گئے ‘‘۔
مصنف نے اپنی بیباکانہ رائے کے اظہار میں کہیں بھی تامل سے کام نہیں لیا آزادی کے تعلق سے لکھتے ہیں ’’15؍اگست 1947 کو ملک آزاد ہو ا،قومی تحریک آزادی حصول آزادی میں تبدیل ہوئی ،مگر اس آزادی نے بہوجنوں کو کوئی راحت بہم نہیں پہنچائی ۔ اس آزادی نے بڑے بڑے لوگوں کو مایوس کیا ‘‘۔ آخر ایسا کیوں ہوا ؟آزادی کی جنگ کی سرخیل کانگریس تھی اور کانگریس پر نسلی برتری کے غرور میں مبتلا برہمنوں اور اس کے زیر اثر طبقات کا قبضہ تھا ۔ یہی سبب ہے کے چھوا چھوت کے خلاف سماجی مصلح مہرشی وٹھل رام جی شندے کانگریس کی اسٹیج سے قرارداد منظور نہ کراسکے ۔ دس سال کے بعد 1917 کے کلکتہ اجلاس میں یہ قرارداد جب کانگریس کی صدر اینی بیسنٹ بنی تب جا کر منظور ہوا ۔ مصنف اس کی توضیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’قیام کانگریس سے لے کر 1930 کی سول نافرمانی کی تحریک کے اس دور میں قومی آزادی کی تحریک کی باگ ڈور اعلیٰ ذات یعنی برہمنوں کے ہاتھ میں تھی ۔ مہاراشٹر کی حد تک بات کی جائے تو 1930 تک کانگریس کی قیادت پر برہمنوں کا ہی قبضہ تھا ۔ برہمن کا یہ طبقہ اسٹیج پر کھڑے ہو کر برطانیہ کی سامراجی حکومت کو للکارکر اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کررہا تھا،مگر اپنے ہی برادران وطن پر صدیوں سے جو غلامی لادی ہوئی تھی اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا‘‘۔ 
کتاب کے مترجم سید افتخار جو لمبے عرصہ تک ممبئی سے پچھلے چالیس برسوں سے شائع ہونے والا مراٹھی ہفتہ روزہ ’’شودھن ‘‘ کے مدیر رہ چکے ہیں ، عرض مترجم کے تحت شاہو مہاراج کی عوامی شخصیت پر لکھتے ہیں ’’کسی بھی بادشاہ کے متعلق یہ دیکھنے میں نہیں آیا کہ خود اس نے اپنے عہد کی سماجی اور تہذیبی اقدار کے خلاف بغاوت کرکے عوامی انقلاب برپا کیا ہو ‘‘۔ یہاں بھی مجھے عوامی انقلاب سے اختلاف ہے ۔ جیسا کہ اوپر کہا گیا کہ انقلاب مکمل تبدیلی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ اتنا ضرور ہے کہ شاہو مہاراج نے منفرد حیثیت میں اپنی ذات کو چھوڑ کر عوامی مفاد میں ایسے کارہائے نمایاں انجام دیئے جس سے ہندوستان کی حد تک مستقبل کے انقلاب کی راہیں متعین ہو گئیں ۔ آگے خود مترجم اس کو قبول بھی کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’شاہو مہاراج نے بہوجنوں کو سوراج کے ذریعہ ایوان اقتدار تک پہنچایا ۔ مگر ان کے بعد انہی بہوجنوں کے عہد میں قدیم بیورو کریسی جوں کی توں باقی ہے جو سارے فساد کی جڑ ہے ۔ اس کی وجوہات تلاش کرنا انہی بہوجنوں کا کا م ہے ‘‘۔ پوری کتاب جہاں ایک عوامی راجا کی زندگی کے کئی حقائق سے قاری کو روشناس کرائے گی وہیں یہ بھی نظر آئے گا کہ کس طرح اس راجا نے روایتی جنگ آزادی سے خود کو بچا کر حقیقی سواراج یا حقیقی آزادی کی جنگ کی قیادت کی اور اس میں بہت حد تک اسے کامیابی بھی ملی ۔ آج ریزرویشن کے سہارے پسماندہ طبقات حکومتی اداروں میں پائے جا تے ہیں جہاں برہمنوں کی طوطی بولا کرتی تھی ۔ جہاں برہمن قبضہ جمائے بیٹھے دیگر اقوام کے خلاف سازشیں کرکے انہیں تعلیم ،معیشت اور اقتدار سے باہر کئے ہوئے تھے اس کی مضبوط بنیاد شاہو نے رکھی اور صرف بنیاد رکھ کر ہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ اس پر ایک مضبوط عمارت بھی کھڑی کردی ۔ یعنی انہوں نے 1902 میں ہی سرکاری محکموں میں پسماندہ طبقات کیلئے پچاس فیصد ملازمت محفوظ کرنے کا حکم نامہ جاری کیا اور اسے عملاً نافذ بھی کیا ۔ مذکورہ کتاب قاری کے سامنے جنگ آزادی کے کئی ایسے نکات سے پردہ اٹھائے گی جن کا علم موجودہ حالات میں ضروری ہے ۔ کتاب حاصل کرنے کیلئے مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ ابراہیم رحمت اللہ روڈ بھنڈی بازار میں تشریف لے جائیں یا موبائل نمبر 8108307322 پر رابطہ کریں ۔

ہندوستان میں انسانی جان کے تئیں سیاست دانوں اور مقتدر طبقہ کی بے حسی


نہال صغیر

انسانی جان کی قدر و قیمت اپنی جگہ سب سے زیادہ اہم ہونے کی وجہ سے معمولی خطرہ سے بھی احتیاط برتنی کی کوشش کی جاتی ہے ۔دنیا کے بیشتر ملکوں نے اس کے لئے اپنے اپنے قوانین وضع کر رکھے ہیں ۔ ایک دوست کا ہائی فیشن جیولری کا کاروبار ہے جو کہ ایکسپورٹ ہوتا ہے ۔ وہ بتاتا ہے کہ اس کے بنائے ہوئے جیولری میں معمولی سا بھی کہیں کوئی تار نکلا ہوا ہو جس سے صارف کو معمولی سی بھی خراش آسکتی ہو تو وہ کوالٹی کنٹرول میں پاس نہیں ہو پاتا ۔اس نے بتایا تھا کہ اگر ایسا کوئی مال چلا گیا اور صارف کے ساتھ ایسا ہو گیا جس سے اس کے جسم میں معمولی خراش آگئی تو اسے ہزاروں ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے ۔یہ بات امریکہ اور یوروپ کی ہے ۔گجرات فسادات کے وقت بھی ایک بات کہیں رپورٹ میں پڑھی تھی کہ مذکورہ فسادات کو بین الاقوامی پیمانے پر شہرت کی وجہ یہ تھی کہ گجرات میں آئے دو برطانوی شہری بھی مارے گئے تھے ۔ لہٰذا برطانیہ نے اپنے شہریوں کی موت پر سخت ردعمل کا اظہار کیا اور اسے اتنی شہرت دی کہ نریندر مودی کو تاوقتیکہ وزیر اعظم نہ بن گئے ویزا نہیں ملا ۔یہ ان ممالک کا انسانی جان یا یہ کہہ لیں اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے تئیں حساسیت کا معیار ہے کہ ان کی تکالیف کو معاف نہیں کرتے ۔دوسری جانب ہمارا ملک ہے جہاں انسانی جانوں کی کوئی قدر قیمت نہیں ہے۔یہاں گائے کیلئے انسانوں کا خون بہایا جاتا ہے ۔ پوری دنیا کی سیر کرلیجئے اس کا مطالعہ کرلیجئے لیکن ہندوستان کے علاوہ اور کوئی دوسرا ملک نہیں پائیں گے جہاں انسانوں پر جانوروں کو مقدم رکھا جاتا ہو ۔پھر بھی ہمارے وزیر اعظم دنیا بھر میں ہندوستانی روایت اور اس کی انسان دوستی اور بھائی چارگی کا ڈھنڈورہ پیٹتے پھر رہے ہیں ۔دنیا ہماری احمقانہ حرکتوں پر ہنس رہی ہے لیکن ہم ہیں کہ آنکھیں بند کرکے اپنی پیٹھ تھپتھپا نے میں مصروف ہیں ۔روز کوئی نہ کوئی حادثہ ہمارا منتظر رہتا ہے ۔ ان سانحوں اور حادثوں میں سینکڑوں اور ہزاروں لوگ مرجاتے ہیں لیکن ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ بلکہ الٹا ہمارے سیاست داں جس میں سی ایم اور پی ایم بھی شامل ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ کیا اب ہم آپ کے بچوں کو بھی پالیں گے ؟ یا اخلاق کے دادری میں بے رحمانہ قتل پر پی ایم کہتے ہیں کہ اس میں ہمارا کیا قصور ؟ یہ ہے ہماری حساسیت اور انسانی جانوں کے تئیں ہماری سوچ ۔
ابھی دو روز قبل ہی بھینڈی بازار میں ایک مخدوش بلڈنگ گرگئی ۔جس میں دو درجن سے زائد افراد کی موت واقع ہو گئی ۔ یوں تو وزیر اعلیٰ نے مرنے والوں کے رشتہ داروں سے ہمدردی جتائی اور فوری طور پر پانچ پانچ لاکھ روپئے معاوضہ دینے کا وعدہ کیا ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے شہریوں کی زندگی کو اتنا بے وزن کیوں کردیا ہے کہ آئے دن کے حادثات سے بھی ہم بیدار نہیں ہو تے ۔بھینڈی بازار کی بلڈنگ مخدوش تھی جیسا کہ خبروں میں بتایا جارہا ہے کہ اس کے مکینوں کو خالی کرنے کا نوٹس دیدیا گیا تھا ۔ ہمیں اس بحث میں نہیں الجھنا ہے کہ اس بلڈنگ کے مالکانہ حق رکھنے والے کتنے ذمہ دار ہیں اور حکومت کا محکمہ کتنا ؟ ہمارا سوال صرف یہ ہے کہ عمارت کو مخدوش قرار دیئے جانے کے باوجود لوگ باگ موت کے سائے میں اس میں کیوں رہنا پسند کرتے ہیں ؟ کیا وہ شوق سے ایسا کرتے ہیں ؟ جہاں تک ہمارا مشاہدہ ہے کہ انسان کو اپنی جان سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہے تقریبا یہی مشاہدے لوگوں کے بھی ہوں گے ۔ اگر عمارت کو خطرناک قرار دیئے جانے کے باوجود کوئی وہاں رہتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کی کوئی ایسی مجبوری ہے جس کی وجہ سے وہ کہیں دوسری جگہ نہیں جاسکتا ۔ان مجبوریوں میں سب سے اہم مجبوری ہے پیسے کی کمی ۔آج کے دور میں گھر بنانا یا چھوٹا سا کمرہ یا ایک فلیٹ لینا انتہائی مشکل کام ہو چکا ہے ۔ممبئی جیسے شہروں میں تو اور بھی مشکل ہے کہ جہاں ایک دو کمروں کا ایک فلیٹ اتنی رقم میں آتا ہے جتنے میں بہار و یوپی میں ایک بہترین بنگلہ تعمیر ہو جائے ۔یہ حکومت جو پانچ یا دس لاکھ مرنے کے بعد دینے کا اعلان کرتی ہے ۔یہی رقم وہ ان کے زندہ رہتے ہوئے خرچ کرکے ان کے مکان کی مرمت کرادے یا ان کے کیلئے متبادل رہائشی انتظامات کرادے تو انسانی جانوں کا ضیاع نہ ہو اور عوامی ذرائع اور وسائل کی جو کھپت حادثات کی صورت میں ہوتی ہے وہ بھی بچے ۔ حکومت کے ڈھلمل رویے سے جانے کیوں کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے شاید فیملی پلاننگ کا یہ نیا فارمولہ ڈھونڈ نکالا ہے ۔ کیوں کہ مسلمان اور پسماندہ طبقات خاندانی منصوبہ بندی پر عمل نہیں کرتے ۔ اس لئے کہیں مخدوش بلڈنگوں میں دب کر،کہیں سیلاب میں سینکڑوں افراد کے بہہ جانے سے ، کہیں کسی بابا کے سماگم میں بھگدڑ میں درجنوں بھکتوں کو مار کر اور کہیں آکسیجن کی کمی سے بچوں کو ماردیا جاتا ہے تاکہ خاندانی منصوبہ بندی کو اس طرح پورا کیا جاسکے ۔ ہو سکتا ہے کہ میرا قیاس غلط ہو اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اسے غلط ہی رہنے دے لیکن حکومت بتائے کہ اس کی تساہلی عدم دلچسپی اور انسانی جانوں کے تئیں حساسیت کی کمی کیا ہمیں ایسا سوچنے پر مجبور نہیں کررہی ہے؟
آخر ایسا کیوں ہے کہ ہمارے ساتھ ہمارے سیاست داں ایسا سلوک کرتے ہیں ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جذباتی باتوں اور جذباتوں ایشو میں بہہ جانے والے لوگ ہیں ۔ ہمیں بنیادی سہولیات کی ضرورت ہوتے ہوئے بھی ہم صرف انہی ایشو پر متوجہ ہوتے ہیں ۔ اسی لئے سیاست داں ہمارا استحصال کرتے ہیں ۔ ہمارے یہاں تعلیم ، روزگار، صحت اور معیشت کو گفتگو کا موضوع نہیں بنایا جاتا ۔ پورے ملک کو گائے ، گوبر اور گؤ موتر میں آلودہ کردیا گیا ہے ۔کسی دل جلے نے یوگی کے اس بیان کہ ’کیا اب حکومت تمہارے بچے بھی پالے گی ‘ پر کہا کہ نہیں ہم جانتے ہیں کہ تم گائے کو پالنے کیلئے آئے ہو ۔ اس طرح کے اندوہناک واقعات پر یوگی کا غیر ذمہ دارانہ بیان کوئی پہلا یا آخری بیان نہیں ہے ۔ اس سے قبل بھی اس طرح کے بیانات آتے رہے ہیں اور آپ یقین رکھیں کہ جس طرح سے ہم خود کو جذباتی مسائل میں الجھا لیتے ہیں آئندہ بھی اسی طرح کے غیر سنجیدہ بیانات کی توقع رکھیں ۔ واجپئی کی وزارت عظمیٰ کے دور میں اڑیشہ میں بھوک سے آدیباسیوں کی موت پر جب سوالات کھڑے ہوئے تو اٹل بہاری واجپئی نے کہا تھا کہ ’بھوک سے نہیں بلکہ زہریلی جڑی بوٹی کھانے سے ان کی موت ہوئی ہے ‘۔ لیکن واجپئی سے کوئی پوچھنے والا نہیں تھا کہ آخر انہوں نے یہ زہریلی جڑی بوٹی کیوں کھائی ؟ ظاہر سی بات ہے کہ انہیں کھانے کو جب اناج کا دانہ نہیں ملا تو انہوں نے اپنی بھوک مٹانے کے لئے جنگلی جڑی بوٹیوں کا سہارا لیا ۔ ہماری نظر میں بھی اور میں سمجھتا ہوں دیگر افراد کی نظر میں بھی واجپئی کی قدر بڑھ جاتی اگر وہ اس کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے کہ ’ہمیں افسوس ہے کہ میرے دور حکومت میں کئی انسان محض بھوک کی وجہ سے مر گئے ‘۔ لیکن یہ خوبی جن کے بزرگوں میں پائی جاتی ہے اس کو تو عرصہ سے بدنام کیا جارہا ہے ۔ جس قوم نے اس ملک کو سونے کی چڑیا بنایا ۔ دنیا میں عزت اور مقام عطا کیا ۔ ایک ذلیل اور احسان فراموش طبقہ ان کی احسان مندی کے بجائے بڑی ڈھٹائی سے جھوٹ بول کر اس کے بزرگوں کی شخصیت کو داغدار کرنے کی کوشش میں ہے ۔ اب ایسے لوگوں سے اس کے سوا اور کیا توقع کی جائے ۔ بجائے اس کے کہ جس کے بچے آکسیجن کے بغیر مر گئے ان کے زخموں پر ہمدردی و شفقت کا مرہم رکھنے کہ دلوں کو توڑنے اور اس کی غربت اور مجبوری کا مذاق اڑانے والا بیان دے ۔ اس وزیر اعلیٰ کو یہ بھی نہیں پتہ شاید کہ حکومتوں کے محکموں میں ایک محکمہ اطفال و خاندانی بہود کا بھی ہوتا ہے اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ وہ کسی ملک یا قوم کی مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں ۔یہ بہبودگی کے کام کوئی سی ایم یا پی ایم اپنی دولت سے نہیں کرتا بلکہ وہ عوام کے محنت کی کمائی سے نکالے گئے ٹیکس سے پورا کیا جاتا ہے ۔ جس پر یہ پی ایم ، سی ایم اور سیاست داں پر تعیش زندگی گزارتے ہیں ۔ عوام نے ایسے جاہلوں اور نکموں کو منتخب کیا ہے تو اس کا خمیازہ بھی وہی بھگتیں گے ۔ کوئی دوسرا نہیں آئے گا ۔ اگر غلطی کا احساس ہو جائے تو اگلے انتخاب میں ایسے جاہل ، مغرور اور نکموں سے ملک کو بچالیجئے ۔ تاکہ وہ سونے کی چڑیا والی حالت پر واپس آسکے ۔

سکھائے کس نے اسمٰعیل کو آداب فرزندی



نہال صغیر


آج عید قرباں ہے ۔ یعنی ابراہیم علیہ السلام کی یاد میں قربانی کی عظیم روایت کو دہرانے اور یہ عزم کرنے کا دن کہ ہم صرف اللہ کیلئے ہیں ۔ اسی کے حکم پر سر تسلیم خم کرتے ہیں ۔ ہمارا جینا مرنا اور ہماری تمام مراسم عبودیت اسی اللہ رب العالمین کیلئے ہے جو زبردست ہے ۔ جو واحد ہے ۔جس کا کوئی شریک نہیں ۔جو فائدہ پہنچانا چاہے تو دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچاسکتی ۔ اور اگر اس زبردست قدرت والے نے ہی کسی کو نقصان پہنچانے اور نیست نابود کرنے کا ارادہ کرلیا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت نہیں جو اس سے بچا لے ۔ طوفان نوح کے موقعہ پر نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو غوطہ کھاتے دیکھا تو اسے بچانے کیلئے کہا کہ آجاؤ اس کشتی میں سوار ہو جاؤ لیکن وہ نافرمان تھا اس نے کہا کہ ہم پہاڑ پر جا کر محفوظ ہو جائیں گے ۔ لیکن نوح علیہ السلام نے کہا کہ آج اس کشتی کے علاوہ کوئی محفوظ جگہ نہیں ۔ اللہ سے التجا کی کہ وہ میرا بیٹا !لیکن اللہ نے بھی کہا کہ وہ ظالم اور نافرمان ہے ۔ سنت ابراہیمی ادا کرتے ہوئے ہمیں بجائے اپنی قربانی میں ریا کاری کرنے کہ ابراہیم علیہ السلام کی ان قربانیوں کو ضرور یاد کرنا چاہئے جو خالص اللہ کیلئے تھی اور جس کے عوض میں اللہ نے اتنا بڑا رتبہ دیا کہ اپنا خلیل کہا اور رہتی دنیا تک کیلئے ان کے نام کو زندہ و جاوید کردیا ۔ خواہ حج ہو یا جانوروں کی قربانی دو نوں ہی جگہوں پر ابراہیم علیہ السلام کی وہی خلوص و للٰہیت دکھتی ہے ۔
قربانی سے ہمیں درس ملتا ہے کہ ہم بھی اسوہ ابراہیمی کو اپنائیں ۔ اللہ نے قرآن میں ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ کو تمام انسانوں کیلئے قابل عمل بتایا ۔ یہاں نمونہ کیلئے کئی باتیں ہیں ، جس میں سب سے اول اور سب سے مضبوط یہ ہے کہ اللہ پر کامل یقین اور اسی کی ذات پر بھروسہ ۔ یہ اس ذات یکتا پر ایمان کا ہی تو معاملہ ہے کہ بڑھاپے کے سہارا اپنے شیر خوار بچہ اور عزیز بیوی کو اللہ کے حکم پر ایک ایسی جگہ چھوڑ آنا جہاں کوئی سایہ ہے اور نہ پانی اور پھر قرآن کے مطابق وہی لاڈلا بیٹا جب ان کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوتا ہے تو اسے اللہ کیلئے ہی قربان کردینے کے خواب کو سچ کردکھانا ۔ کیا ہم قربانی کرتے ہوئے اس وقت کا تصور کرتے ہیں ؟ اس جذبہ اور اس اخلاص کا اپنی قربانی سے تجزیہ کرتے ہیں ؟ اسمٰعیل علیہ السلام کی اطاعت و فرمانبرداری پر غور کرتے ہیں کہ آخر انہوں نے کون سے مدرسہ کون سے اسکول سے یہ سیکھا تھا ۔ ان کے اس طرز عمل پر غور کرنے سے ہمارے جسم پر لرزہ طاری ہوتا ہے ؟ آخر وہ کون سے مکتب کی کرامت تھی جس نے اسمٰعیل علیہ السلام سے کہلوائے کہ انشاء اللہ مجھے فرمانبرداروں میں سے پائیں گے ۔ علامہ اقبال نے بھی ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ؂ یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی / سکھائے کس نے اسمٰعیل کو آداب فرزندی
اگر ہم آج اسوہ ابراہیمی اور اسوہ اسمٰعیل کو اپنا شعار بنا لیں تو ہمارے سارے گلے شکوے ختم ہو جائیں گے کیوں کہ وہاں صبر ہے ،شکر ہے اور قناعت ہے ۔یہ چیزیں زندگی میں آجائیں تو پھر کس کا خوف اورکس کی فکر ؟ اس سے ہمیں یہ بھی پیغام ملتا ہے کہ وقت کی باطل قوتوں کے سامنے کس طرح سینہ سپر ہوا جاتا ہے ۔ کس طرح بت پرستی سے خود کو علیحدہ کیا جاتا ہے ۔ آج ہمارے درمیان کئی بت نام اور مقام بدل کر خوشنما لباس ملبوس ہیں اور ہم ان بتوں کی بلا چوں چرا پرستش کرتے ہیں لیکن ہمیں احساس نہیں ہوتا !ابراہیم علیہ السلام کی زندگی جو اللہ کی کامل اطاعت پر تھی اس سے یہ بھی سبق لینا چاہئے کہ کس طرح اس آگ کی پرواہ بھی نہیں کی جاتی جس کے اوپر سے بھی کوئی گزر جائے تو جل کر بھسم ہو جائے ۔ لیکن وہ اس میں ڈالے بھی گئے اور اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اسے گلزار بنادیا ۔ ابراہیم علیہ السلام کی کس کس اد ا کا تذکرہ کیا جائے سب کی اپنی دلربائی ہے ۔سب کی اپنی چاشنی ہے ۔یہ بس محسوس کرنے اور اس پر عمل کرنے سے ہی حاصل ہو سکتا ہے ۔قرآن نے انسانوں کو غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے ۔ لہٰذا ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ سے کائنات پر غور کرکے اللہ کو پہچاننے کا بھی سبق ہے ۔پہلے ستارے پھر چاند اور پھر سورج لیکن اس کے غروب ہوجانے کے بعد اللہ کی ذات اس کی قدرت اور اس کے نظام کائنات سے اس کی ذات کو پہچاننے کا درس جس کا ذکر قرآن بار بار کرتا ہے اور اس پر غور کرنے اور اپنے مالک حقیقی اور رب کائنات کو پہچاننے کی دعوت دیتا ہے ۔ یونہی کسی کے کہنے پر یا باپ دادا کی رسم کو نبھانے کا نام اسلام یا توحید پرستی نہیں ہے ۔ قرآن یہاں بھی باپ دادا کی رسموں کی مذمت کرتا ہے اور راہ راست کی طرف بلاتا ہے ۔ کیا ہم قرآن کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ؟