International,

بالفور اعلامیہ : ایک اعلامیہ جس نے مشرق وسطیٰ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بدل دیا

 


شیخ سلیم


2 نومبر 1917 کو برطانوی حکومت نے ایک یک طرفہ طور پر ایسی دستاویز یا شاہی فرمان جاری کیا جو بیسویں صدی کی اُمت مسلمہ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والی دستاویز یا فیصلہ مانی جاتی ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ آرتھر جیمز بالفور کے قلم سے لکھی گئی تھی اس دستاویز میں برطانیہ نے فلسطین میں یہودی قوم کے لیے ایک قومی وطن کے قیام کی حمایت کا اظہار کیا۔ یہ کوئی عام سفارتی بیان نہیں تھا بلکہ اس دور کی استعماری ذہنیت اور انگریزوں کی اسلام دشمنی کی عکاسی کرتا تھا، اپنے عروج کے دور میں سامراجی یورپی سلطنتیں یہ سمجھتی تھیں کہ انہیں دور دراز خطوں کے مستقبل کا اُنکے عوام  سمیت فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے، چاہے وہاں رہنے والے لوگوں کی خواہش اور رضامندی حاصل ہو یا نہ ہو۔

سلسلہ  بالفور اعلامیے سے پہلے شروع ہو چکا تھا پہلی عالمی جنگ کے دوران برطانیہ نے عرب باشندوں کی حمایت سلطنت عثمانیہ کے خلاف حاصل کرنے کی کوشش کی، جس کا مقصد خلافت عثمانیہ کو کمزور کرنا اور ختم کرنا تھا جو سامراجی طاقتوں کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا جو ملت اسلامیہ کے اتحاد کی علامت تھی اور جس نے مشرق وسطیٰ اور یورپ کے ایک بڑے حصے پر تقریباً چار صدیوں تک حکومت کی تھی۔

مکموہن حسین خط و کتابت (1915-1916) کے ذریعے برطانیہ نے مکہ کے شریف حسین بن علی کو عرب بغاوت شروع کرنے کے لیے آمادہ کیا اور جنگ کے بعد ایک آزاد عرب وطن کی حمایت کا جھوٹا وعدہ کیا۔ ان یقین دہانیوں پر اعتماد کرتے ہوئے جون 1916 میں عرب بغاوت کا آغاز ہوا۔ ہزاروں عرب جنگجوؤں نے، جن کی مدد برطانوی افسران بشمول ٹی ای لارنس (لارنس آف عربیہ) کر رہے تھے، عثمانی فوجی مقامات پر حملے کیے، اہم حجاز ریلوے کو تباہ کیا، کلیدی شہروں پر قبضہ کیا اور اکتوبر 1918 میں اتحادی افواج کو دمشق میں داخل ہونے میں مدد دی۔ انہی افواج نے بیت المقدس پر قبضہ کیا



عربوں کی اس کاوش نے عرب صوبوں پر عثمانی کنٹرول کو کمزور کرنے اور مشرق وسطیٰ میں اتحادیوں کی فتح کو طاقت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

مگر عربوں کو بغاوت کے لیے آمادہ کرتے ہوئے بھی برطانیہ اور فرانس نے خفیہ طور پر سائکس پیکو معاہدہ (1916) پر مذاکرات کیے تھے، جس کے تحت عرب دنیا کے بڑے حصے کو اپنے اپنے دائرہ اثر میں تقسیم کیا گیا یعنی بانٹ لیا گیا جنگ کے بعد جرمنی کی شکست ہوئی برطانیہ اور فرانس فاتح قرار پائے فاتح ممالک نے لیگ آف نیشنز قائم کی اور اس کے مینڈیٹ نظام نے اس انتظام کو باقاعدہ شکل دے دی۔ برطانیہ نے فلسطین، ٹرانس جورڈن (موجودہ اردن) اور عراق کا اقتدار سنبھالا، جبکہ فرانس نے شام اور لبنان کا اقتدار حاصل کیا۔ عرب آزادی کا جھوٹا وعدہ ایک سراب ثابت ہوا وعدہ کبھی مکمل طور پر پورا نہ ہوا۔ بلکہ حالات نے ثابت کیا عثمانی حکومت کو برطانوی اور فرانسیسی استعماری حکومت سے بدل لیا ہے، اور اسے جنگ کے دوران کیے گئے وعدوں کو انگریز اور فرانسیسی بھول گئے ۔

یہی وہ پس منظر تھا جس میں برطانیہ نے بالفور اعلامیہ جاری کیا، جس میں فلسطین میں یعنی اُمت مسلمہ کے قلب میں ایک یہودی وطن کی حمایت کا اظہار کیا گیا۔ اس وقت فلسطین کے باشندوں کی بھاری اکثریت عرب مسلمانوں اور عیسائیوں پر مشتمل تھی۔ ان سے کبھی مشورہ نہیں کیا گیا تھا یہ اس اعلامیے پر کی جانے والی بنیادی تنقیدوں میں سے ایک ہے اور اسے استعماری فیصلہ سازی کی بھیانک مثال کے طور پر بڑے پیمانے پر پیش کیا جا سکتا ہے، جس میں مقامی آبادی کی خواہشات کوخود غرض سامراجی مفادات کے تابع کر دیا گیا۔برطانیہ کے محرکات جنگی حکمت عملی اور سامراجی عزائم سے تشکیل پائے تھے۔ فلسطین نہر سویز کے قریب ایک اہم ترین مقام پر واقع ہے، جو برطانیہ کو ہندوستان اور اس کی عالمی سلطنت کے بڑے حصے سے جوڑنے والا اہم راستہ تھا۔ برطانوی رہنماؤں کا یہ بھی خیال تھا کہ صیہونی تحریک کی حمایت سے جنگ کے دوران برطانیہ کی سفارتی پوزیشن مضبوط ہوگی اور مشرق وسطیٰ میں اس کا طویل مدتی اثر و رسوخ بڑھے گا۔اس کے نتائج گہرے اور دیرپا تھے۔ برطانوی مینڈیٹ کے دور میں فلسطین کی طرف یہودی نقل مکانی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، جبکہ یہودی اور مقامی فلسطینی عربوں کے درمیان کشیدگی بھی بڑھتی گئی۔ 1948 میں برطانوی مینڈیٹ کے خاتمے نے اسرائیل کی ریاست کے قیام اور پہلی عرب اسرائیل جنگ کا راستہ ہموار کیا، اس وقت تک برطانیہ نے یہودیوں کو مضبوط اور فلسطینیوں کو انتہائی کمزور کر دیا تھا اور اس طرح سے دنیا کے سب سے طویل اور پیچیدہ تنازعات میں سے ایک کا آغاز ہوا۔

فلسطینیوں کے لیے بالفور اعلامیہ بے گھری، بے دخلی اور بے وطنی کی طویل تاریخ کا اعلان تھا ساٹھ لاکھ سے زیادہ فلسطینی اپنے گھروں سے باہر نکال دیئے گئے ہیں اکثر اردن لبنان اور شام میں پناہ گزینوں کے طور پر آباد ہیں جبکہ صیہونیت کے حامیوں کے لیے یہ اعلامیہ صدیوں کے ظلم و ستم کے بعد یہودی قوم کی قومی امنگوں کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم اور ان کے وطن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوا اور 1948 میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا ۔

ایک صدی سے زیادہ گزرنے کے بعد بھی بالفور اعلامیے کے اثرات مشرق وسطیٰ کو متاثر کرتے چلے آ رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ لندن میں کیا گیا ایک استعماری فیصلہ، جو فلسطین کی مقامی آبادی کی رضامندی کے بغیر لیا گیا، نے ایک ایسے تنازعے کو جنم دیا جس نے اس خطے کو پوری طرح بدل دیا جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا 1967 سے اسرائیل نے مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کو لگاتار وسعت دی ہے، یہودی آباد کاروں کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے مقامی فلسطینی عربوں کو روز روز تشدد اور قتل و غارتگری کا سامنا ہے فلسطینیوں کی زمین کو بتدریج ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا ان پر قبضہ کیا گیا ہے اور ان کی نقل و حرکت کی آزادی کو شدید طور پر محدود کر دیا گیا ہے۔



 غزہ کی پٹی برسوں سے محاصرے میں ہے، جس کی وجہ سے بہت سے مشاہدین، بشمول انسانی حقوق کی تنظیمیں، اسے "کھلی جیل" کہتے ہیں۔ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ کا بڑا حصہ فوجی کارروائیوں سے تباہ ہو چکا ہے۔ غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق ہزاروں ستر ہزار سے زیادہ فلسطینی، جن میں بہت سی خواتین اور بچے شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ انسانی بحران تباہ کن سطح پر پہنچ چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل ہمسایہ ممالک کے ساتھ بار بار فوجی تصادم میں بھی مصروف رہا ہے اور حال ہی میں ایران کے ساتھ براہ راست جنگ میں بھی شامل ہوا ہے۔ یہ استعماری ناانصافی، بالفور اعلامیہ جدید دور کی سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی سیاسی دستاویزات میں سے ایک ہے، جس کے اثرات اب بھی ایک صدی سے زیادہ گزرنے کے بعد مشرق وسطیٰ کی سیاست، تنازعات اور انسانی مصائب کو شکل دے رہے ہیں۔

متعدد تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ برطانیہ 1900 سے 1945 کے دوران قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا اور اسی وجہ سے یہودیوں کا طرفدار تھا کیونکہ اس نے ان سے قرض لیا تھا  برطانیہ اس عرصے میں بہت بھاری قرضوں تلے تھا، خاص طور پر پہلی عالمی جنگ کے بعد کے جنگی قرضے، اور یہودی بینکار، خاص طور پر روتھشلڈ خاندان، انیسویں صدی سے یورپی حکومتوں بشمول برطانیہ کو بڑے پیمانے پر قرض دیتے رہے تھے، اور والٹر روتھشلڈ ہی وہ شخص تھے جنہیں بالفور اعلامیے کا خط براہ راست بھیجا گیا تھا۔ لیکن یہ دعویٰ کہ برطانیہ نے یہ اعلامیہ یہودی سرمایہ کاروں کے قرضوں کے بدلے میں جاری کیا، کئی مؤرخین کا خیال ہے کہ یہودیوں کے سرمائے نے برطانیہ کی مدد کی اور برطانیہ نے یہودیوں کی۔بعض مؤرخین کے نزدیک اس کی وجوہات جنگی حکمت عملی، امریکی اور روسی یہودیوں کی حمایت اتحادیوں کے حق میں حاصل کرنے کی خواہش، مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بعد کے اثر و رسوخ پر فرانس کے ساتھ مسابقت، اور بعض برطانوی عہدیداروں کی صیہونیت کے ساتھ حقیقی نظریاتی ہمدردی بھی تھی، جس کی تصدیق 1917 کی کابینہ کی دستاویزی گفتگو سے بھی ہوتی ہے۔ "برطانوی پالیسی پر یہودی مالیاتی کنٹرول" کا یہ بیانیہ  کئی تاریخ دانوں میں رائج رہا ہے، اور اس سے انکار کیا جائے تو ایسی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔

 

تري دوا نہ جنيوا ميں ہے ، نہ لندن ميں

فرنگ کي رگ جاں پنجہ يہود ميں ہے علامہ اقبال

 

0 comments:

Education

CBSE آن اسکرین مارکنگ اسکینڈل 2026 ایک تعلیمی بحران


شیخ سلیم

مئی 2026 کے اواخر میں جب بھارت بھر کے سترہ لاکھ سے زیادہ طلبہ اور اُن کے گھر والے CBSE بارہویں کے نتائج کا انتظار کر رہے تھے تو اُنہیں کیا معلوم تھا کہ یہ انتظار اُن کی زندگی کے تکلیف دہ ترین لمحوں میں سے ایک بن جائے گا۔ سال بھر کی محنت، رات رات جاگ کر پڑھائی، امتحانی ہال میں پسینہ بہانا، اور پھر نتائج دیکھ کر یہ احساس کہ جو نمبر آئے ہیں وہ اُن کے کام کے نہیں بلکہ کسی اور کے کام کے ہیں۔ کہیں آنسر شیٹ (جوابی پرچہ) کسی اور کی تھی، کہیں صفحات غائب تھے، کہیں اسکین اتنا دھندلا تھا کہ پڑھنا ممکن نہ تھا، اور کہیں ممتحن نے اندھا نمبر دے کر فرض ادا کر لیا۔ یہ ہمارے ملک کی تعلیمی تاریخ کے سب سے سنگین امتحانی اسکینڈلوں میں سے ایک ہے۔ پاس ہونے والے طلبہ کا فیصد سات برسوں کی کم ترین سطح یعنی 85.20 فیصد تک گر گیا تھا۔ اس تباہی کا ذمہ دار ایک سافٹ ویئر کمپنی ہے جسے CBSE نے خود منتخب کیا تھا اور جو اس سے پہلے بھی دو بار اسی طرح کا کارنامہ انجام دے چکی تھی۔ فروری 2026 میں CBSE نے اپنے تمام ملحق اسکولوں کو باقاعدہ اطلاع دی کہ اس سال سے کلاس بارہویں کی آنسر شیٹوں کی جانچ آن اسکرین مارکنگ یعنی OSM کے ذریعے ہوگی۔ یعنی پرچے اسکین Scan ہوں گے، ڈیجیٹل Digital ہوں گے اور اساتذہ انہیں اپنی اسکرین پر دیکھ کر نمبر دیں گے۔ یہ ڈیجیٹل انڈیا کی طرف بڑھنے والا ایک قدم قرار دیا گیا۔ بورڈ نے اس کے فوائد بڑے شان و شوکت سے گنوائے۔ کہا گیا کہ جمع کرنے کی غلطیاں ختم ہو جائیں گی، جانچ تیز ہوگی، اساتذہ گھر بیٹھ کر یا اپنے اسکول سے جانچ کر سکیں گے، اور سب سے بڑی بات یہ کہ نتائج اتنے درست ہوں گے کہ نتائج کے بعد نمبروں کی تصدیق کا عمل ہی ختم کر دیا جائے گا کیونکہ ڈیجیٹل نظام میں غلطی کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ یعنی طلبہ کا وہ واحد حق بھی پہلے ہی چھین لیا گیا جس کے ذریعے وہ غلط نمبر پر اعتراض کر سکتے تھے۔

جب نتائج آئے تو طلبہ پریشان ہو گئے۔ طلبہ نے جب اپنی جانچی ہوئی آنسر شیٹیں طلب کیں تو کسی کو کسی اور کی آنسر شیٹ مل گئی، کسی کے پرچے کے صفحات غائب تھے، کسی کے اسکین میں تحریر اتنی دھندلی تھی کہ ممتحن نے کچھ پڑھے بغیر ہی نمبر دے دیے تھے۔ پورٹل کریش ہو گئے اور جو طلبہ اپنی آنسر شیٹ حاصل کرنے کے لیے فیس ادا کرنا چاہتے تھے، اُن کا ادائیگی کا گیٹ وے ہی کام نہیں کر رہا تھا۔ غرض ہر طرف افرا تفری تھی اور CBSE کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اس پورے معاملے کے مرکز میں ایک کمپنی ہے جس کا نام Coempt Edu Tech ہے۔ پتہ نہیں مالک کون ہے مگر یہ نام نیا ہے، چہرہ پرانا ہے۔ کارپوریٹ ریکارڈ دیکھیں تو یہ کمپنی پہلے Globarena Technologies Private Limited اور Globarena iTeknowledge Private Limited کے نام سے کام کرتی تھی۔ ان تینوں کا کارپوریٹ نسب ایک ہی ہے، یعنی نام بدلا، کمپنی وہی رہی۔ اور یہ کمپنی CBSE سے پہلے کیا کر چکی تھی؟ 2019 میں تلنگانہ میں انٹرمیڈیٹ کے نتائج میں اسی کمپنی کی وجہ سے ہزاروں طلبہ کے نمبر غلط آئے، اسکور غائب ہوئے، حاضر ہونے کے باوجود غیر حاضری درج ہوئی اور تقریباً تین لاکھ طلبہ نے دوبارہ جانچ کے لیے درخواستیں دیں۔ اس ہنگامے میں کم از کم بیس طلبہ نے خودکشی کی۔ حکومتِ تلنگانہ نے تحقیقاتی پینل بٹھایا جس نے بورڈ اور اس کمپنی دونوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ پھر 2023 میں یہی کمپنی دوبارہ تلنگانہ کے ایک اور امتحانی نظام سے جڑی اور دوبارہ تنازع اٹھا۔ یعنی یہ کمپنی نہ کوئی نئی تھی، نہ اس کا ریکارڈ پوشیدہ تھا۔ سب کچھ عوامی ریکارڈ میں موجود تھا۔ پھر بھی CBSE نے اسے قومی سطح کا سب سے بڑا ٹھیکہ دے دیا۔ یہ معاملہ اور بھی گہرا ہو جاتا ہے جب ٹینڈر کی تاریخ دیکھی جائے۔ مئی 2025 میں CBSE نے جو ٹینڈر جاری کیا، اُس میں واضح شرائط تھیں کہ آنسر شیٹیں آٹومیٹک روبوٹک اسکینرز سے اسکین ہوں گی، ریڑھ کی ہڈی یعنی بائنڈنگ محفوظ رکھی جائے گی اور اسکیننگ کا معیار کم از کم 300 DPI ہوگا۔ مگر اگست 2025 میں اسی ٹینڈر کو دوبارہ جاری کیا گیا اور اس بار خاموشی سے تمام یہ شرائط نکال دی گئیں۔ روبوٹک اسکینرز کی لازمی شرط ہٹا دی گئی، اسکینر کی تعریف عام کر دی گئی اور معیار 300 DPI سے گھٹا کر 200 DPI کر دیا گیا۔ یعنی دھندلا دھندلا نظر آئے گا۔ الزام لگایا گیا کہ آنسر شیٹیں موبائل فون سے اسکین کی گئیں۔ CBSE نے اپنے دفاع میں کہا کہ تمام مالیاتی قوانین کی پیروی کی گئی اور ٹینڈر سرکاری خریداری پورٹل پر جاری کرکے اہل کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ شرائط بدلنے کی وجہ کیا تھی اور کس کے اشارے پر بدلی گئیں؟

اس پورے معاملے میں ایک اور کردار ہے جو ایک نوجوان کی ذہانت اور نظام کی نااہلی دونوں کو بیک وقت سامنے لاتا ہے۔ بنگلور میں رہنے والے انیس سالہ طالب علم نسرگا ادھیکاری، جو ابھی خود بارہویں کا امتحان دے کر فارغ ہوئے تھے، انہوں نے CBSE کے OSM پورٹل میں سنگین سیکیورٹی خامیاں دریافت کیں۔ انہوں نے پایا کہ پرانا پاس ورڈ داخل کیے بغیر نیا پاس ورڈ رکھا جا سکتا ہے، براؤزر کی اسٹوریج ویلیوز بدل کر کسی بھی ممتحن کی شناخت اختیار کی جا سکتی ہے اور ممکنہ طور پر نمبر تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ نسرگا نے فوری طور پر یہ تمام معلومات بھارتی سائبر سیکیورٹی ایجنسی CERT-In کو بھیجیں اور ایک کے بعد ایک کئی رپورٹیں ارسال کیں۔ جواب کیا آیا؟ ایک خانہ پُری ای میل کہ آپ کی رپورٹ موصول ہوگئی۔ اس کے بعد خاموشی۔ ایک انیس سالہ طالب علم نے وہ کام تیس سیکنڈ میں کر لیا جو کروڑوں روپے لینے والی سرکاری ایجنسی نہ کر سکی۔ جب معاملہ ابھرا تو قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی اور براہِ راست سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ COEMPT کمپنی اصل میں Globarena ہے، اس نے تلنگانہ میں 2019 اور 2023 میں یہی کارنامہ کیا تھا، اس کے بعد 23 نوجوان موت کے منہ میں جا چکے ہیں اور یہ سب کچھ عوامی ریکارڈ میں موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کمپنی کو پہچاننے میں ہمیں صرف تیس سیکنڈ لگے، پھر CBSE اور حکومتِ ہند کو کیوں نہ لگے؟ انہوں نے آزاد عدالتی تحقیقات اور SIT تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔

اس واقعے کو انتظامی ناکامی کہہ کر نہیں ٹالا جا سکتا۔ سترہ لاکھ طلبہ کا مطلب ہے سترہ لاکھ خاندان۔ ہر طالب علم کے پیچھے ایک ماں اور ایک باپ ہے جنہوں نے بچے کی فیس کے لیے اپنی نیند اور آرام قربان کیا، دونوں نے رات کو جاگ کر بچے کو چائے بنا کر دی، ایک بہن یا بھائی ہے جس نے گھر کے کام اٹھا لیے تاکہ امتحان دینے والا بچہ پڑھ سکے۔ یہ سب اس لیے نہیں ہوا کہ ایک بدنام کمپنی قومی بورڈ کے ٹھیکے پر قبضہ کرے اور کسی کو کوئی جواب دہی نہ ہو۔ اس اسکینڈل نے کئی ایسے سوال کھڑے کیے ہیں جن کا جواب آنا ابھی باقی ہے۔ پہلا یہ کہ ایک ایسی کمپنی کو قومی سطح کا اتنا بڑا ٹھیکہ کیسے ملا جو دو بار ایک ہی جرم یا غلطی کر چکی تھی اور جس کا خراب ریکارڈ سب کو معلوم تھا؟ دوسرا یہ کہ ٹینڈر کی شرائط مئی سے اگست کے درمیان کس کے اشارے پر بدلی گئیں؟ تیسرا یہ کہ CERT-In نے سائبر خامیوں کی رپورٹ ملنے کے بعد بھی کارروائی کیوں نہ کی؟ چوتھا یہ کہ نتائج سے پہلے ہی نمبروں کی تصدیق کا حق کیوں ختم کیا گیا؟ اور پانچواں اور سب سے اہم یہ کہ کیا اس میں مالی مفادات یا لین دین کا کوئی کردار ہے اور اگر ہے تو کون کون ملوث ہے؟ NEET اسکینڈل کے بعد CBSE کا یہ دوسرا بڑا امتحانی بحران ہے۔ دونوں مل کر ایک ہی کہانی سناتے ہیں کہ ہمارا تعلیمی نظام اندر سے کھوکھلا ہو رہا ہے، احتساب ناپید ہے اور طلبہ کا مستقبل اُن لوگوں کے رحم و کرم پر ہے جو نہ اہل ہیں اور نہ ذمہ دار۔ ٹیکنالوجی بری نہیں ہوتی، بری ہوتی ہے وہ نیت جو ٹیکنالوجی کے پردے میں مفاد پرستی کو چھپاتی ہے اور جوابدہی سے بچنے کے لیے نظام کو پیچیدہ بناتی ہے۔ جب تک حکومت آزادانہ تحقیقات نہیں کرواتی، ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہوتی اور متاثر طلبہ کو انصاف نہیں ملتا، یہ سوال فضا میں معلق رہے گا کہ کروڑوں غریب اور متوسط گھرانوں کے بچوں کا مستقبل آخر کس کے ہاتھوں میں ہے اور وہ ہاتھ کس کے تابع ہیں؟

اپوزیشن جماعتوں نے اس پورے معاملے میں کئی اہم مطالبات سامنے رکھے ہیں۔ قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی سمیت مختلف اپوزیشن رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ CBSE آن اسکرین مارکنگ اسکینڈل کی آزادانہ عدالتی تحقیقات کرائی جائیں اور اس کے لیے سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی جائے۔ اپوزیشن نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ Coempt Edu Tech اور اس سے جڑی سابقہ کمپنیوں کے تمام سرکاری معاہدوں کی مکمل جانچ کی جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ ماضی میں متنازع ریکارڈ رکھنے کے باوجود اسے قومی سطح کا ٹھیکہ کیسے دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ طلبہ کی آنسر شیٹوں کی دوبارہ جانچ، نتائج کی از سرِ نو تصدیق، اور جن طلبہ کو غلط نمبروں کی وجہ سے نقصان پہنچا اُنہیں فوری انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے CERT-In اور CBSE حکام کے کردار کی تحقیقات، ٹینڈر کے عمل میں ممکنہ مالی بے ضابطگیوں کی جانچ، اور مستقبل میں ایسے اسکینڈل روکنے کے     لیے امتحانی نظام میں شفافیت اور جوابدہی بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ فلحال غیر یقینی صورتحال ہے ۔


مضمون نگار ویلفیئر پارٹی آف انڈیا سے وابستہ ہیں  

0 comments: