CBSE آن اسکرین مارکنگ اسکینڈل 2026 ایک تعلیمی بحران
شیخ سلیم
مئی 2026 کے اواخر میں جب بھارت بھر کے سترہ لاکھ سے زیادہ طلبہ اور اُن کے گھر والے CBSE بارہویں کے نتائج کا انتظار کر رہے تھے تو اُنہیں کیا معلوم تھا کہ یہ انتظار اُن کی زندگی کے تکلیف دہ ترین لمحوں میں سے ایک بن جائے گا۔ سال بھر کی محنت، رات رات جاگ کر پڑھائی، امتحانی ہال میں پسینہ بہانا، اور پھر نتائج دیکھ کر یہ احساس کہ جو نمبر آئے ہیں وہ اُن کے کام کے نہیں بلکہ کسی اور کے کام کے ہیں۔ کہیں آنسر شیٹ (جوابی پرچہ) کسی اور کی تھی، کہیں صفحات غائب تھے، کہیں اسکین اتنا دھندلا تھا کہ پڑھنا ممکن نہ تھا، اور کہیں ممتحن نے اندھا نمبر دے کر فرض ادا کر لیا۔ یہ ہمارے ملک کی تعلیمی تاریخ کے سب سے سنگین امتحانی اسکینڈلوں میں سے ایک ہے۔ پاس ہونے والے طلبہ کا فیصد سات برسوں کی کم ترین سطح یعنی 85.20 فیصد تک گر گیا تھا۔ اس تباہی کا ذمہ دار ایک سافٹ ویئر کمپنی ہے جسے CBSE نے خود منتخب کیا تھا اور جو اس سے پہلے بھی دو بار اسی طرح کا کارنامہ انجام دے چکی تھی۔ فروری 2026 میں CBSE نے اپنے تمام ملحق اسکولوں کو باقاعدہ اطلاع دی کہ اس سال سے کلاس بارہویں کی آنسر شیٹوں کی جانچ آن اسکرین مارکنگ یعنی OSM کے ذریعے ہوگی۔ یعنی پرچے اسکین Scan ہوں گے، ڈیجیٹل Digital ہوں گے اور اساتذہ انہیں اپنی اسکرین پر دیکھ کر نمبر دیں گے۔ یہ ڈیجیٹل انڈیا کی طرف بڑھنے والا ایک قدم قرار دیا گیا۔ بورڈ نے اس کے فوائد بڑے شان و شوکت سے گنوائے۔ کہا گیا کہ جمع کرنے کی غلطیاں ختم ہو جائیں گی، جانچ تیز ہوگی، اساتذہ گھر بیٹھ کر یا اپنے اسکول سے جانچ کر سکیں گے، اور سب سے بڑی بات یہ کہ نتائج اتنے درست ہوں گے کہ نتائج کے بعد نمبروں کی تصدیق کا عمل ہی ختم کر دیا جائے گا کیونکہ ڈیجیٹل نظام میں غلطی کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ یعنی طلبہ کا وہ واحد حق بھی پہلے ہی چھین لیا گیا جس کے ذریعے وہ غلط نمبر پر اعتراض کر سکتے تھے۔
جب نتائج آئے تو طلبہ پریشان ہو گئے۔ طلبہ نے جب اپنی
جانچی ہوئی آنسر شیٹیں طلب کیں تو کسی کو کسی اور کی آنسر شیٹ مل گئی، کسی کے پرچے
کے صفحات غائب تھے، کسی کے اسکین میں تحریر اتنی دھندلی تھی کہ ممتحن نے کچھ پڑھے
بغیر ہی نمبر دے دیے تھے۔ پورٹل کریش ہو گئے اور جو طلبہ اپنی آنسر شیٹ حاصل کرنے
کے لیے فیس ادا کرنا چاہتے تھے، اُن کا ادائیگی کا گیٹ وے ہی کام نہیں کر رہا تھا۔
غرض ہر طرف افرا تفری تھی اور CBSE کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اس پورے معاملے کے مرکز میں ایک کمپنی
ہے جس کا نام Coempt Edu Tech
ہے۔ پتہ نہیں مالک کون ہے مگر یہ نام نیا ہے، چہرہ پرانا ہے۔ کارپوریٹ ریکارڈ
دیکھیں تو یہ کمپنی پہلے Globarena Technologies
Private Limited اور Globarena
iTeknowledge Private Limited کے نام سے کام کرتی تھی۔ ان تینوں کا
کارپوریٹ نسب ایک ہی ہے، یعنی نام بدلا، کمپنی وہی رہی۔ اور یہ کمپنی CBSE سے پہلے کیا کر چکی تھی؟ 2019 میں تلنگانہ میں انٹرمیڈیٹ کے نتائج
میں اسی کمپنی کی وجہ سے ہزاروں طلبہ کے نمبر غلط آئے، اسکور غائب ہوئے، حاضر ہونے
کے باوجود غیر حاضری درج ہوئی اور تقریباً تین لاکھ طلبہ نے دوبارہ جانچ کے لیے
درخواستیں دیں۔ اس ہنگامے میں کم از کم بیس طلبہ نے خودکشی کی۔ حکومتِ تلنگانہ نے
تحقیقاتی پینل بٹھایا جس نے بورڈ اور اس کمپنی دونوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ پھر 2023
میں یہی کمپنی دوبارہ تلنگانہ کے ایک اور امتحانی نظام سے جڑی اور دوبارہ تنازع
اٹھا۔ یعنی یہ کمپنی نہ کوئی نئی تھی، نہ اس کا ریکارڈ پوشیدہ تھا۔ سب کچھ عوامی
ریکارڈ میں موجود تھا۔ پھر بھی CBSE نے اسے قومی سطح کا سب سے بڑا ٹھیکہ دے دیا۔ یہ معاملہ اور بھی
گہرا ہو جاتا ہے جب ٹینڈر کی تاریخ دیکھی جائے۔ مئی 2025 میں CBSE نے جو ٹینڈر جاری کیا، اُس میں واضح شرائط تھیں کہ آنسر شیٹیں
آٹومیٹک روبوٹک اسکینرز سے اسکین ہوں گی، ریڑھ کی ہڈی یعنی بائنڈنگ محفوظ رکھی
جائے گی اور اسکیننگ کا معیار کم از کم 300 DPI ہوگا۔ مگر اگست 2025 میں اسی ٹینڈر کو دوبارہ جاری کیا گیا اور اس
بار خاموشی سے تمام یہ شرائط نکال دی گئیں۔ روبوٹک اسکینرز کی لازمی شرط ہٹا دی
گئی، اسکینر کی تعریف عام کر دی گئی اور معیار 300 DPI سے گھٹا کر 200 DPI
کر دیا گیا۔ یعنی دھندلا دھندلا نظر آئے گا۔ الزام لگایا گیا کہ آنسر شیٹیں موبائل
فون سے اسکین کی گئیں۔ CBSE
نے اپنے دفاع میں کہا کہ تمام مالیاتی قوانین کی پیروی کی گئی اور ٹینڈر سرکاری
خریداری پورٹل پر جاری کرکے اہل کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ شرائط
بدلنے کی وجہ کیا تھی اور کس کے اشارے پر بدلی گئیں؟
اس پورے معاملے میں ایک اور کردار ہے جو ایک نوجوان کی ذہانت اور نظام کی نااہلی دونوں کو بیک وقت سامنے لاتا ہے۔ بنگلور میں رہنے والے انیس سالہ طالب علم نسرگا ادھیکاری، جو ابھی خود بارہویں کا امتحان دے کر فارغ ہوئے تھے، انہوں نے CBSE کے OSM پورٹل میں سنگین سیکیورٹی خامیاں دریافت کیں۔ انہوں نے پایا کہ پرانا پاس ورڈ داخل کیے بغیر نیا پاس ورڈ رکھا جا سکتا ہے، براؤزر کی اسٹوریج ویلیوز بدل کر کسی بھی ممتحن کی شناخت اختیار کی جا سکتی ہے اور ممکنہ طور پر نمبر تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ نسرگا نے فوری طور پر یہ تمام معلومات بھارتی سائبر سیکیورٹی ایجنسی CERT-In کو بھیجیں اور ایک کے بعد ایک کئی رپورٹیں ارسال کیں۔ جواب کیا آیا؟ ایک خانہ پُری ای میل کہ آپ کی رپورٹ موصول ہوگئی۔ اس کے بعد خاموشی۔ ایک انیس سالہ طالب علم نے وہ کام تیس سیکنڈ میں کر لیا جو کروڑوں روپے لینے والی سرکاری ایجنسی نہ کر سکی۔ جب معاملہ ابھرا تو قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی اور براہِ راست سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ COEMPT کمپنی اصل میں Globarena ہے، اس نے تلنگانہ میں 2019 اور 2023 میں یہی کارنامہ کیا تھا، اس کے بعد 23 نوجوان موت کے منہ میں جا چکے ہیں اور یہ سب کچھ عوامی ریکارڈ میں موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کمپنی کو پہچاننے میں ہمیں صرف تیس سیکنڈ لگے، پھر CBSE اور حکومتِ ہند کو کیوں نہ لگے؟ انہوں نے آزاد عدالتی تحقیقات اور SIT تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔
اس واقعے کو انتظامی ناکامی کہہ کر نہیں ٹالا جا سکتا۔ سترہ لاکھ طلبہ کا مطلب ہے سترہ لاکھ خاندان۔ ہر طالب علم کے پیچھے ایک ماں اور ایک باپ ہے جنہوں نے بچے کی فیس کے لیے اپنی نیند اور آرام قربان کیا، دونوں نے رات کو جاگ کر بچے کو چائے بنا کر دی، ایک بہن یا بھائی ہے جس نے گھر کے کام اٹھا لیے تاکہ امتحان دینے والا بچہ پڑھ سکے۔ یہ سب اس لیے نہیں ہوا کہ ایک بدنام کمپنی قومی بورڈ کے ٹھیکے پر قبضہ کرے اور کسی کو کوئی جواب دہی نہ ہو۔ اس اسکینڈل نے کئی ایسے سوال کھڑے کیے ہیں جن کا جواب آنا ابھی باقی ہے۔ پہلا یہ کہ ایک ایسی کمپنی کو قومی سطح کا اتنا بڑا ٹھیکہ کیسے ملا جو دو بار ایک ہی جرم یا غلطی کر چکی تھی اور جس کا خراب ریکارڈ سب کو معلوم تھا؟ دوسرا یہ کہ ٹینڈر کی شرائط مئی سے اگست کے درمیان کس کے اشارے پر بدلی گئیں؟ تیسرا یہ کہ CERT-In نے سائبر خامیوں کی رپورٹ ملنے کے بعد بھی کارروائی کیوں نہ کی؟ چوتھا یہ کہ نتائج سے پہلے ہی نمبروں کی تصدیق کا حق کیوں ختم کیا گیا؟ اور پانچواں اور سب سے اہم یہ کہ کیا اس میں مالی مفادات یا لین دین کا کوئی کردار ہے اور اگر ہے تو کون کون ملوث ہے؟ NEET اسکینڈل کے بعد CBSE کا یہ دوسرا بڑا امتحانی بحران ہے۔ دونوں مل کر ایک ہی کہانی سناتے ہیں کہ ہمارا تعلیمی نظام اندر سے کھوکھلا ہو رہا ہے، احتساب ناپید ہے اور طلبہ کا مستقبل اُن لوگوں کے رحم و کرم پر ہے جو نہ اہل ہیں اور نہ ذمہ دار۔ ٹیکنالوجی بری نہیں ہوتی، بری ہوتی ہے وہ نیت جو ٹیکنالوجی کے پردے میں مفاد پرستی کو چھپاتی ہے اور جوابدہی سے بچنے کے لیے نظام کو پیچیدہ بناتی ہے۔ جب تک حکومت آزادانہ تحقیقات نہیں کرواتی، ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہوتی اور متاثر طلبہ کو انصاف نہیں ملتا، یہ سوال فضا میں معلق رہے گا کہ کروڑوں غریب اور متوسط گھرانوں کے بچوں کا مستقبل آخر کس کے ہاتھوں میں ہے اور وہ ہاتھ کس کے تابع ہیں؟
اپوزیشن جماعتوں نے اس پورے معاملے میں کئی اہم مطالبات سامنے رکھے ہیں۔ قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی سمیت مختلف اپوزیشن رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ CBSE آن اسکرین مارکنگ اسکینڈل کی آزادانہ عدالتی تحقیقات کرائی جائیں اور اس کے لیے سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی جائے۔ اپوزیشن نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ Coempt Edu Tech اور اس سے جڑی سابقہ کمپنیوں کے تمام سرکاری معاہدوں کی مکمل جانچ کی جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ ماضی میں متنازع ریکارڈ رکھنے کے باوجود اسے قومی سطح کا ٹھیکہ کیسے دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ طلبہ کی آنسر شیٹوں کی دوبارہ جانچ، نتائج کی از سرِ نو تصدیق، اور جن طلبہ کو غلط نمبروں کی وجہ سے نقصان پہنچا اُنہیں فوری انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے CERT-In اور CBSE حکام کے کردار کی تحقیقات، ٹینڈر کے عمل میں ممکنہ مالی بے ضابطگیوں کی جانچ، اور مستقبل میں ایسے اسکینڈل روکنے کے لیے امتحانی نظام میں شفافیت اور جوابدہی بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ فلحال غیر یقینی صورتحال ہے ۔
مضمون نگار ویلفیئر پارٹی آف انڈیا سے وابستہ ہیں

0 comments: