Latest

CBSE آن اسکرین مارکنگ اسکینڈل 2026 ایک تعلیمی بحران


شیخ سلیم

مئی 2026 کے اواخر میں جب بھارت بھر کے سترہ لاکھ سے زیادہ طلبہ اور اُن کے گھر والے CBSE بارہویں کے نتائج کا انتظار کر رہے تھے تو اُنہیں کیا معلوم تھا کہ یہ انتظار اُن کی زندگی کے تکلیف دہ ترین لمحوں میں سے ایک بن جائے گا۔ سال بھر کی محنت، رات رات جاگ کر پڑھائی، امتحانی ہال میں پسینہ بہانا، اور پھر نتائج دیکھ کر یہ احساس کہ جو نمبر آئے ہیں وہ اُن کے کام کے نہیں بلکہ کسی اور کے کام کے ہیں۔ کہیں آنسر شیٹ (جوابی پرچہ) کسی اور کی تھی، کہیں صفحات غائب تھے، کہیں اسکین اتنا دھندلا تھا کہ پڑھنا ممکن نہ تھا، اور کہیں ممتحن نے اندھا نمبر دے کر فرض ادا کر لیا۔ یہ ہمارے ملک کی تعلیمی تاریخ کے سب سے سنگین امتحانی اسکینڈلوں میں سے ایک ہے۔ پاس ہونے والے طلبہ کا فیصد سات برسوں کی کم ترین سطح یعنی 85.20 فیصد تک گر گیا تھا۔ اس تباہی کا ذمہ دار ایک سافٹ ویئر کمپنی ہے جسے CBSE نے خود منتخب کیا تھا اور جو اس سے پہلے بھی دو بار اسی طرح کا کارنامہ انجام دے چکی تھی۔ فروری 2026 میں CBSE نے اپنے تمام ملحق اسکولوں کو باقاعدہ اطلاع دی کہ اس سال سے کلاس بارہویں کی آنسر شیٹوں کی جانچ آن اسکرین مارکنگ یعنی OSM کے ذریعے ہوگی۔ یعنی پرچے اسکین Scan ہوں گے، ڈیجیٹل Digital ہوں گے اور اساتذہ انہیں اپنی اسکرین پر دیکھ کر نمبر دیں گے۔ یہ ڈیجیٹل انڈیا کی طرف بڑھنے والا ایک قدم قرار دیا گیا۔ بورڈ نے اس کے فوائد بڑے شان و شوکت سے گنوائے۔ کہا گیا کہ جمع کرنے کی غلطیاں ختم ہو جائیں گی، جانچ تیز ہوگی، اساتذہ گھر بیٹھ کر یا اپنے اسکول سے جانچ کر سکیں گے، اور سب سے بڑی بات یہ کہ نتائج اتنے درست ہوں گے کہ نتائج کے بعد نمبروں کی تصدیق کا عمل ہی ختم کر دیا جائے گا کیونکہ ڈیجیٹل نظام میں غلطی کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ یعنی طلبہ کا وہ واحد حق بھی پہلے ہی چھین لیا گیا جس کے ذریعے وہ غلط نمبر پر اعتراض کر سکتے تھے۔

جب نتائج آئے تو طلبہ پریشان ہو گئے۔ طلبہ نے جب اپنی جانچی ہوئی آنسر شیٹیں طلب کیں تو کسی کو کسی اور کی آنسر شیٹ مل گئی، کسی کے پرچے کے صفحات غائب تھے، کسی کے اسکین میں تحریر اتنی دھندلی تھی کہ ممتحن نے کچھ پڑھے بغیر ہی نمبر دے دیے تھے۔ پورٹل کریش ہو گئے اور جو طلبہ اپنی آنسر شیٹ حاصل کرنے کے لیے فیس ادا کرنا چاہتے تھے، اُن کا ادائیگی کا گیٹ وے ہی کام نہیں کر رہا تھا۔ غرض ہر طرف افرا تفری تھی اور CBSE کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اس پورے معاملے کے مرکز میں ایک کمپنی ہے جس کا نام Coempt Edu Tech ہے۔ پتہ نہیں مالک کون ہے مگر یہ نام نیا ہے، چہرہ پرانا ہے۔ کارپوریٹ ریکارڈ دیکھیں تو یہ کمپنی پہلے Globarena Technologies Private Limited اور Globarena iTeknowledge Private Limited کے نام سے کام کرتی تھی۔ ان تینوں کا کارپوریٹ نسب ایک ہی ہے، یعنی نام بدلا، کمپنی وہی رہی۔ اور یہ کمپنی CBSE سے پہلے کیا کر چکی تھی؟ 2019 میں تلنگانہ میں انٹرمیڈیٹ کے نتائج میں اسی کمپنی کی وجہ سے ہزاروں طلبہ کے نمبر غلط آئے، اسکور غائب ہوئے، حاضر ہونے کے باوجود غیر حاضری درج ہوئی اور تقریباً تین لاکھ طلبہ نے دوبارہ جانچ کے لیے درخواستیں دیں۔ اس ہنگامے میں کم از کم بیس طلبہ نے خودکشی کی۔ حکومتِ تلنگانہ نے تحقیقاتی پینل بٹھایا جس نے بورڈ اور اس کمپنی دونوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ پھر 2023 میں یہی کمپنی دوبارہ تلنگانہ کے ایک اور امتحانی نظام سے جڑی اور دوبارہ تنازع اٹھا۔ یعنی یہ کمپنی نہ کوئی نئی تھی، نہ اس کا ریکارڈ پوشیدہ تھا۔ سب کچھ عوامی ریکارڈ میں موجود تھا۔ پھر بھی CBSE نے اسے قومی سطح کا سب سے بڑا ٹھیکہ دے دیا۔ یہ معاملہ اور بھی گہرا ہو جاتا ہے جب ٹینڈر کی تاریخ دیکھی جائے۔ مئی 2025 میں CBSE نے جو ٹینڈر جاری کیا، اُس میں واضح شرائط تھیں کہ آنسر شیٹیں آٹومیٹک روبوٹک اسکینرز سے اسکین ہوں گی، ریڑھ کی ہڈی یعنی بائنڈنگ محفوظ رکھی جائے گی اور اسکیننگ کا معیار کم از کم 300 DPI ہوگا۔ مگر اگست 2025 میں اسی ٹینڈر کو دوبارہ جاری کیا گیا اور اس بار خاموشی سے تمام یہ شرائط نکال دی گئیں۔ روبوٹک اسکینرز کی لازمی شرط ہٹا دی گئی، اسکینر کی تعریف عام کر دی گئی اور معیار 300 DPI سے گھٹا کر 200 DPI کر دیا گیا۔ یعنی دھندلا دھندلا نظر آئے گا۔ الزام لگایا گیا کہ آنسر شیٹیں موبائل فون سے اسکین کی گئیں۔ CBSE نے اپنے دفاع میں کہا کہ تمام مالیاتی قوانین کی پیروی کی گئی اور ٹینڈر سرکاری خریداری پورٹل پر جاری کرکے اہل کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ شرائط بدلنے کی وجہ کیا تھی اور کس کے اشارے پر بدلی گئیں؟

اس پورے معاملے میں ایک اور کردار ہے جو ایک نوجوان کی ذہانت اور نظام کی نااہلی دونوں کو بیک وقت سامنے لاتا ہے۔ بنگلور میں رہنے والے انیس سالہ طالب علم نسرگا ادھیکاری، جو ابھی خود بارہویں کا امتحان دے کر فارغ ہوئے تھے، انہوں نے CBSE کے OSM پورٹل میں سنگین سیکیورٹی خامیاں دریافت کیں۔ انہوں نے پایا کہ پرانا پاس ورڈ داخل کیے بغیر نیا پاس ورڈ رکھا جا سکتا ہے، براؤزر کی اسٹوریج ویلیوز بدل کر کسی بھی ممتحن کی شناخت اختیار کی جا سکتی ہے اور ممکنہ طور پر نمبر تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ نسرگا نے فوری طور پر یہ تمام معلومات بھارتی سائبر سیکیورٹی ایجنسی CERT-In کو بھیجیں اور ایک کے بعد ایک کئی رپورٹیں ارسال کیں۔ جواب کیا آیا؟ ایک خانہ پُری ای میل کہ آپ کی رپورٹ موصول ہوگئی۔ اس کے بعد خاموشی۔ ایک انیس سالہ طالب علم نے وہ کام تیس سیکنڈ میں کر لیا جو کروڑوں روپے لینے والی سرکاری ایجنسی نہ کر سکی۔ جب معاملہ ابھرا تو قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی اور براہِ راست سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ COEMPT کمپنی اصل میں Globarena ہے، اس نے تلنگانہ میں 2019 اور 2023 میں یہی کارنامہ کیا تھا، اس کے بعد 23 نوجوان موت کے منہ میں جا چکے ہیں اور یہ سب کچھ عوامی ریکارڈ میں موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کمپنی کو پہچاننے میں ہمیں صرف تیس سیکنڈ لگے، پھر CBSE اور حکومتِ ہند کو کیوں نہ لگے؟ انہوں نے آزاد عدالتی تحقیقات اور SIT تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔

اس واقعے کو انتظامی ناکامی کہہ کر نہیں ٹالا جا سکتا۔ سترہ لاکھ طلبہ کا مطلب ہے سترہ لاکھ خاندان۔ ہر طالب علم کے پیچھے ایک ماں اور ایک باپ ہے جنہوں نے بچے کی فیس کے لیے اپنی نیند اور آرام قربان کیا، دونوں نے رات کو جاگ کر بچے کو چائے بنا کر دی، ایک بہن یا بھائی ہے جس نے گھر کے کام اٹھا لیے تاکہ امتحان دینے والا بچہ پڑھ سکے۔ یہ سب اس لیے نہیں ہوا کہ ایک بدنام کمپنی قومی بورڈ کے ٹھیکے پر قبضہ کرے اور کسی کو کوئی جواب دہی نہ ہو۔ اس اسکینڈل نے کئی ایسے سوال کھڑے کیے ہیں جن کا جواب آنا ابھی باقی ہے۔ پہلا یہ کہ ایک ایسی کمپنی کو قومی سطح کا اتنا بڑا ٹھیکہ کیسے ملا جو دو بار ایک ہی جرم یا غلطی کر چکی تھی اور جس کا خراب ریکارڈ سب کو معلوم تھا؟ دوسرا یہ کہ ٹینڈر کی شرائط مئی سے اگست کے درمیان کس کے اشارے پر بدلی گئیں؟ تیسرا یہ کہ CERT-In نے سائبر خامیوں کی رپورٹ ملنے کے بعد بھی کارروائی کیوں نہ کی؟ چوتھا یہ کہ نتائج سے پہلے ہی نمبروں کی تصدیق کا حق کیوں ختم کیا گیا؟ اور پانچواں اور سب سے اہم یہ کہ کیا اس میں مالی مفادات یا لین دین کا کوئی کردار ہے اور اگر ہے تو کون کون ملوث ہے؟ NEET اسکینڈل کے بعد CBSE کا یہ دوسرا بڑا امتحانی بحران ہے۔ دونوں مل کر ایک ہی کہانی سناتے ہیں کہ ہمارا تعلیمی نظام اندر سے کھوکھلا ہو رہا ہے، احتساب ناپید ہے اور طلبہ کا مستقبل اُن لوگوں کے رحم و کرم پر ہے جو نہ اہل ہیں اور نہ ذمہ دار۔ ٹیکنالوجی بری نہیں ہوتی، بری ہوتی ہے وہ نیت جو ٹیکنالوجی کے پردے میں مفاد پرستی کو چھپاتی ہے اور جوابدہی سے بچنے کے لیے نظام کو پیچیدہ بناتی ہے۔ جب تک حکومت آزادانہ تحقیقات نہیں کرواتی، ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہوتی اور متاثر طلبہ کو انصاف نہیں ملتا، یہ سوال فضا میں معلق رہے گا کہ کروڑوں غریب اور متوسط گھرانوں کے بچوں کا مستقبل آخر کس کے ہاتھوں میں ہے اور وہ ہاتھ کس کے تابع ہیں؟

اپوزیشن جماعتوں نے اس پورے معاملے میں کئی اہم مطالبات سامنے رکھے ہیں۔ قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی سمیت مختلف اپوزیشن رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ CBSE آن اسکرین مارکنگ اسکینڈل کی آزادانہ عدالتی تحقیقات کرائی جائیں اور اس کے لیے سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی جائے۔ اپوزیشن نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ Coempt Edu Tech اور اس سے جڑی سابقہ کمپنیوں کے تمام سرکاری معاہدوں کی مکمل جانچ کی جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ ماضی میں متنازع ریکارڈ رکھنے کے باوجود اسے قومی سطح کا ٹھیکہ کیسے دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ طلبہ کی آنسر شیٹوں کی دوبارہ جانچ، نتائج کی از سرِ نو تصدیق، اور جن طلبہ کو غلط نمبروں کی وجہ سے نقصان پہنچا اُنہیں فوری انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے CERT-In اور CBSE حکام کے کردار کی تحقیقات، ٹینڈر کے عمل میں ممکنہ مالی بے ضابطگیوں کی جانچ، اور مستقبل میں ایسے اسکینڈل روکنے کے     لیے امتحانی نظام میں شفافیت اور جوابدہی بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ فلحال غیر یقینی صورتحال ہے ۔


مضمون نگار ویلفیئر پارٹی آف انڈیا سے وابستہ ہیں  

نسیم عارفی ’اردو میڈیا ایوارڈز‘ کے دوسرے ایڈیشن کے لیے نامزدگیاں طلب، آخری تاریخ 25 اپریل



حیدرآباد: سی ای ٹی آئی فاؤنڈیشن نے نسیم عارفی ’اردو میڈیا ایوارڈز‘ کے دوسرے ایڈیشن کے لیے ملک بھر کے اردو صحافیوں سے نامزدگیاں طلب کی ہیں۔

سی ای ٹی آئی فاؤنڈیشن کے چیئرمین اور  بانی منیجنگ ٹرسٹی پروفیسر سید بشارت علی کے مطابق اس سال بھی ملک بھر سے اردو صحافیوں کو مجموعی طور پر 5 ایوارڈز دیے جائیں گے۔ ان میں سے 2 ایوارڈز تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے لیے مختص ہیں، جبکہ 2 ایوارڈز ملک کے دیگر حصوں کے صحافیوں کو دیے جائیں گے۔ ہر ایوارڈ کے ساتھ 15,000 روپے نقد انعام اور ایک سند پیش کی جائے گی۔ منتخب امیدواروں کو تقریب میں شرکت کے لیے حیدرآباد آنے اور واپس جانے کا ہوائی سفر کا کرایہ اور قیام کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔

اس کے علاوہ ایک خصوصی ایوارڈ کسی سینئر صحافی یا ممتاز میڈیا شخصیت کو اردو صحافت میں تاحیات خدمات کے اعتراف میں پیش کیا جائے گا۔

پروفیسر بشارت علی نے کہا کہ ان ایوارڈز کا مقصد اردو صحافت سے وابستہ ایسے پیشہ ور صحافیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، جو سچائی، دیانتداری اور تنوع کے اصولوں پر کاربند ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بامعنی اور معیاری کام کو سراہتے ہوئے اس اقدام کے ذریعے ایک ایسے جامع میڈیا ماحول کو فروغ دینا مقصود ہے جو معاشرے کے متنوع حقائق کی عکاسی کرے۔

کون درخواست دے سکتا ہے:

یہ ایوارڈز اردو میڈیا سے وابستہ یا اس میں مثبت کردار ادا کرنے والے افراد کے لیے کھلے ہیں، جن میں شامل ہیں:

• وہ صحافی اور میڈیا پروفیشنلز جو اردو صحافت کے ذریعے رائے عامہ پر اثر انداز ہوتے ہیں

• سوشل میڈیا پر سرگرم افراد جو شعور بیدار کرنے، غلط معلومات کی نشاندہی اور جعلی خبروں کے پھیلاؤ کو روکنے میں کردار ادا کرتے ہیں

• وہ صحافی جو تحقیقاتی رپورٹنگ، ڈیٹا پر مبنی صحافت، فیچر نگاری، ٹی وی دستاویزی پروگراموں اور آڈیو/بصری کہانی سنانے کے مختلف انداز اختیار کرتے ہیں

• وہ افراد جو ویب سائٹس، یوٹیوب چینلز یا دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے نظرانداز شدہ مسائل کو مسلسل اجاگر کرتے ہیں

• وہ بلاگرز اور محققین جو مین اسٹریم میڈیا سے باہر رہتے ہوئے اردو صحافت میں مثبت حصہ ڈالتے ہیں اور اردو بولنے والی برادریوں کے مسائل کو سامنے لاتے ہیں

درخواست دہندہ کا ہندوستانی شہری ہونا ضروری ہے۔

پروفیسر بشارت علی نے کہا کہ ان ایوارڈز کا مقصد نہ صرف مرکزی دھارے کے صحافیوں بلکہ ابھرتی ہوئی آوازوں اور آزادانہ طور پر کام کرنے والے مواد تخلیق کرنے والوں کو بھی سراہنا ہے، جو مختلف ذرائع کے ذریعے اردو میڈیا میں بامعنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

درخواست کا طریقہ کار:

درخواست دہندگان کو 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل ایک ذاتی بیان جمع کرانا ہوگا، جس میں میڈیا میں تنوع سے متعلق ان کی سوچ اور وژن واضح کیا گیا ہو۔ اس کے ساتھ ایک تازہ ریزومے اور 2025 میں شائع ہونے والے کم از کم 3 کاموں کے نمونے بھی شامل کرنا ضروری ہیں۔ یہ نمونے تحریری مواد، رپورٹس یا ملٹی میڈیا پروجیکٹس کی صورت میں ہو سکتے ہیں، جو درخواست دہندہ کی صحافتی مہارت اور تخلیقی صلاحیتوں کو ظاہر کریں۔

نامزدگیاں درج ذیل ای میل پتوں پر بھیجی جا سکتی ہیں:

admin@cetigroup.org

cetifoundations@gmail.com

درخواست جمع کرنے کی آخری تاریخ 25 اپریل 2026 ہے۔

مزید معلومات کے لیے 9948008817  پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

سال 2025 میں منعقدہ ان ایوارڈز کے پہلے ایڈیشن میں ملک بھر کے پانچ باصلاحیت اور ممتاز صحافیوں کو اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سینئر کثیر لسانی صحافی قربان علی کو دیا گیا، جبکہ تلنگانہ سے سید سجادالحسنین اور محمد ارشد، اور دیگر ریاستوں سے ایم ڈی زکریہ (بہار) اور رشدہ شاہین (دہلی) کو ایوارڈز سے نوازا گیا۔

اردو اخبارات اور میڈیا اداروں کے مدیران سے بھی اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنی ٹیموں میں سے دو یا تین اہل اور باصلاحیت افراد کو نامزد کریں۔ مدیران اپنی جانب سے سفارشات مقررہ فارم کے ذریعے ارسال کر سکتے ہیں یا اپنے عملے کے ارکان کو براہِ راست درخواست دینے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔

ایوارڈز کے لیے انتخاب کا عمل ممتاز صحافیوں، اساتذۂ صحافت اور ماہرین پر مشتمل ایک خودمختار پینل کے ذریعے انجام دیا جائے گا، جو طے شدہ معیارات کی بنیاد پر امیدواروں کا انتخاب کرے گا۔

یہ ایوارڈز مرحوم نسیم عارفی کے نام سے منسوب ہیں، جو اردو صحافت کے ایک ممتاز صحافی تھے اور جنہوں نے پانچ دہائیوں سے زائد عرصہ اس شعبے کی خدمت میں صرف کیا۔ انہوں نے 1960 کی دہائی میں حیدرآباد کے روزنامہ سیاست سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا، روزنامہ منصف کی دوبارہ اشاعت میں اہم کردار ادا کیا اور بعد ازاں روزنامہ اعتماد کے اجرا کی قیادت کی۔ ان  کی خدمات اردو صحافت میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

سی ای ٹی آئی فاؤنڈیشن، جو ان ایوارڈز کا انعقاد کرتی ہے، حیدرآباد کی ایک رضاکارانہ تنظیم ہے جو تعلیم اور سماجی بااختیاری کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے۔ 1980 میں قائم ہونے والی اس تنظیم کا مقصد طلبہ کو بااثر پیشوں، سرکاری اداروں اور پالیسی سازی کے میدانوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرنا ہے۔

گزشتہ برسوں کے دوران فاؤنڈیشن نے رہنمائی اور معاونت کا ایک مضبوط نظام قائم کیا ہے، جس کی رہنمائی ممتاز شخصیات، ماہرینِ تعلیم اور ایک فعال سابق طلبہ نیٹ ورک کر رہا ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ مالی رکاوٹیں صلاحیت کی راہ میں حائل نہیں ہونی چاہئیں، اسی لیے اس کے تمام پروگرام مکمل طور پر کفالت شدہ ہوتے ہیں۔ اس طرح یہ تنظیم افراد میں سرمایہ کاری کے ذریعے معاشرے کی مجموعی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

دریں اثنا، سی ای ٹی آئی فاؤنڈیشن کے ایک ترجمان نے بتایا کہ 11 اپریل 2026 کو حیدرآباد میں ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں نسیم عارفی اردو میڈیا ایوارڈز کے دوسرے ایڈیشن کے شیڈول کو حتمی شکل دینے اور نامزدگیوں کے عمل کا جائزہ لینے پر غور و خوض کیا گیا۔

اجلاس میں متعدد ممتاز شخصیات نے شرکت کی، جن میں ڈاکٹر اوصاف سعید، سابق سفیر سعودی عرب؛ مسٹر اے۔ کے۔ خان، آئی پی ایس (ریٹائرڈ)، سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس، تلنگانہ؛ مسٹر قربان علی، ممتاز صحافی، نئی دہلی؛ مسٹر عامر اللہ خان، ماہرِ تعلیم اور مصنف؛ محترمہ سیمی پاشا، سینئر صحافی؛ مسٹر ایوب علی خان، سینئر صحافی؛ پروفیسر سید بشارت علی، چیئرمین، سی ای ٹی آئی فاؤنڈیشن؛ محترمہ فردوس فاطمہ، سی ای او، سی ای ٹی آئی فاؤنڈیشن؛ مسٹر احتشام احمد خان، ڈین و سربراہ، شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت، مانو؛ مسٹر سید امین جعفری، ممتاز صحافی و کالم نگار؛ مسٹر ضیاء الدین، انجینئر اِن چیف (ریٹائرڈ)، جی ایچ ایم سی، حکومتِ تلنگانہ؛ مسٹر ایم۔ اے۔ مجید، سینئر صحافی؛ مسٹر سجاد احمد، آئی ٹی ماہر؛ اور مسٹر معتسم نجیب، امریکہ میں مقیم آئی ٹی ماہر شامل تھے۔

ترجمان کے مطابق اجلاس میں ایوارڈز کے کامیاب انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ زیادہ سے زیادہ اہل امیدواروں تک رسائی کے لیے ایوارڈز کی بھرپور تشہیر کی جائے۔ اجلاس میں متفقہ طور پر یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ایوارڈز کی تقریب مئی 2026 کے پہلے ہفتے میں منعقد کی جائے گی۔

زکوٰۃ سے مستحق کو غنی بنائیے!

 

ایچ عبد الرقیب

اسلام کا تیسرا بنیادی ستون زکوٰۃ ہے۔ قرآن مجید کی بہت سی آیات میں ایمان کے بعد صرف دو اعمالِ صالحہ کا تذکرہ آیا ہے: ایک نماز، دوسرا زکوٰۃ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نماز اور زکوٰۃ کے درمیان گہرا ربط ہے اور ایک مسلمان کے اسلام کی تکمیل ان دونوں سے ہوتی ہے۔ لیکن آج ہمارے معاشرے میں اقامتِ صلوٰۃ کے لیے جتنی محنت ہو رہی ہے، ایتائے زکوٰۃ، کی طرف اتنی توجہ نہیں ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ زکوٰۃ کے اجتماعی نظام اور اس کے حقیقی مقصد کے بارے میں پایا جانے والا عام تصور ہے:

۱- لوگ زکوٰۃ کو ٹھیک سے نہیں سمجھتے: زکوٰۃ کے معاملے میں عام لوگ اکثر الجھن اور عدم واقفیت کا شکار ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے، یا تو وہ زکوٰۃ غلط طریقے سے ادا کرتے ہیں، یا اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ وہ اس فرض کو سرے سے ادا ہی نہیں کرتے۔

۲-زکٰوۃ صرف صدقہ نہیں، ایک اجتماعی نظام    ہے: اکثر لوگ زکوٰۃ کو عام صدقے یا خیرات کی طرح سمجھتے ہیں کہ بس کسی غریب کو کچھ پیسے دے دیے اور فرض پورا ہو گیا۔ درحقیقت زکوٰۃ صرف ایک خیرات نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل اجتماعی نظام ہے۔ اس کا مقصد صرف وقتی مدد کرنا نہیں، بلکہ دینے والے کے ایمان کو مضبوط کرنا اور لینے والے کی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی لانا ہے۔

۳- غلط تقسیم کا نتیجہ: قرآن نے واضح طور پر بتایا ہے کہ زکوٰۃ کے اصل حقدار کون ہیں (اس کی آٹھ قسمیں ہیں)۔ لیکن اکثر لوگ تحقیق نہیں کرتے اور کسی بھی ضرورت مند کو تھوڑا سا اناج، چند جوڑے کپڑے یا معمولی رقم دے کر سمجھتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری پوری ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ غریب آدمی وہ تھوڑی سی چیز استعمال تو کر لیتا ہے، لیکن اس کی غربت ختم نہیں ہوتی۔ وہ غریب کا غریب ہی رہتا ہے کیونکہ اسے اتنی مدد نہیں ملتی کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکے۔

خلاصہ یہ کہ زکوٰۃ کا اصل مقصد غربت کو جڑ سے ختم کرنا ہے، نہ کہ صرف وقتی طور پر بھوک مٹانا۔ اگر اسے صحیح طریقے سے ایک نظام کے تحت جمع اور تقسیم کیا جائے تو معاشرے سے غربت کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور ’’زکوٰۃ لینے والے بھی ایک دن زکوٰۃ دینے والے بن سکتے ہیں‘‘۔

زکوٰۃ کے حقیقی مقاصد

مولانا صدر الدین اصلاحی ؒ فرماتے ہیں کہ کتاب و سنت کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کے تین مقاصد ہیں:

۱-تزکیۂ نفس:زکوٰۃ کا حقیقی اور بنیادی مقصد، جس کا تعلق بالکلیہ شخص کی اپنی ذات سے ہوتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ زکوٰۃ دینے والے کا دل دنیا کی حرص سے پاک ہو رہے، اور پاک ہوکر نیکی اور تقویٰ کے کاموں کے لیے تیار ہو جائے۔ قرآن مجید میں ہے:

وَسَيُجَنَّبُہَا الْاَتْقَى۝۱۷ۙ  الَّذِيْ يُؤْتِيْ مَالَہٗ يَتَزَكّٰى۝۱۸ۚ  (اللیل۹۲:۱۷-۱۸)اور اسے جہنم سے دُور رکھا جائے گا جو اللہ سے بہت ڈرنے والا ہے جو اپنا مال دوسروں کو دیتا ہے (محض) پاک ہونے کے لیے۔

ایک اور جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے:

خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَـۃً تُطَہِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْہِمْ بِہَا (التوبۃ۹: ۱۰۳)ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لو، جس کے ذریعے انھیں پاک کرو گے اور ان کا تزکیہ کرو گے۔

۲-غریبوں کی کفالت:اب زکوٰۃ کے ثانوی مقاصد کو لیجیے۔ ان میں سے ایک مقصد تو یہ ہے کہ ملت کے نادار افراد کی مدد کی جائے، اور ان کی بنیادی ضرورتیں پوری ہوتی رہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: إِنَّ اللہَ افْتَرَضَ عَلَیْہِمْ صَدَقَۃً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِیَائِہِمْ فَتُرَدُّ   عَلَی فُقَرَائِہِمْ (بخاری، حدیث: ۷۳۷۲) ’’بے شک اللہ نے لوگوں پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے مال داروں سے لی جائے گی اور اُن کے حاجت مندوں کو دے دی جائے گی‘‘۔ (مسلم ، جلداوّل، کتاب الایمان، ص۱۹)

۳-دین کی نصرت:زکوٰۃ کے ثانوی مقاصد میں سے دوسرا مقصد دین کی حفاظت اور نصرت ہے۔ قرآن مجید یہ بتاتے ہوئے کہ زکوٰۃ کی رقم کن لوگوں پر اور کہاں کہاں خرچ کی جانی چاہیے؟ ارشاد فرماتا ہے:اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝۰ۭ (التوبۃ۹:۶۰)’’یہ صدقات تو صرف حاجت مندوں، مسکینوں، محکمۂ صدقات کے ملازموں، اور ان لوگوں کے لیے ہیں جن کی تالیفِ قلب مطلوب ہو، نیز گردنیں چھڑانے میں، قرض داروں کی مدد کرنے میں، اللہ کی راہ میں، اور مسافروں کی خبر گیری میں صرف ہونے کے لیے ہیں‘‘۔ (اسلام: ایک نظر میں، ص ۲۷-۲۸)

اجتماعی نظمِ زکوٰۃ: فراموش شدہ حقیقت

قرآن وسنت میں زکوٰۃ کا تصور انفرادی خیرات کا نہیں بلکہ ایک اجتماعی اور ریاستی نظام کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومن کی صفات میں فرمایا:

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ۝۰ۚ (البقرۃ۲: ۲۷۷) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنھوں نے صالح اعمال کیے، نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی، ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہو گا۔

کلام اللہ کی صراحتیں بتاتی ہیں کہ کسی غیر مسلم کا مسلمان قرار پانا کلمۂ شہادت ادا کرنے کے بعد بھی دو باتوں پر موقوف ہے: ایک یہ کہ وہ نماز قائم کرے، دوسرے یہ کہ وہ زکوٰۃ ادا کرے۔

فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ۝۰ۭ (التوبۃ۹: ۱۱) سواگر یہ لوگ توبہ کر لیں، نماز قائم کرنے لگیں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو اب وہ تمھارے دینی بھائی ہوں گے۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:’’ہمیں نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اس کی نماز ہی نہیں ہوتی‘‘۔ (المعجم الکبیر طبرانی، ۱۰۰۹۵، مجمع الزوائد ۴۳۲۹)

اسی لیے جب حضرت ابو بکر صدیقؓ کے زمانۂ خلافت میں کچھ لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا، تو آپؓ نے ان کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اور فرمایا:وَ اللہِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ (مسلم، جلد اول، کتاب الایمان، ص ۲۰، بخاری، حدیث: ۱۳۹۹) ’’بخدا! میں ان لوگوں سے ضرور لڑوں گا، جو نماز اور زکوٰۃ میں تفریق کرتے ہیں‘‘۔

علامہ یوسف القرضاویؒ لکھتے ہیں:’’حضرت ابوبکرؓ کا مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کرنا غالباً اس لحاظ سے بہت اہمیت رکھتا ہے کہ انسانی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی حکومت و ریاست معاشرے کے کمزور افراد اور فقراء ومساکین کے حقوق انھیں دلانے کے لیے آمادۂ جنگ ہوئی‘‘۔ (علامہ یوسف القرضاوی، فقہ الزکوٰۃ، ص ۱۱۵)

دورِ نبویؐ میں زکوٰۃ کا نظام

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کی وصولی کے لیے باقاعدہ ایک اجتماعی نظم قائم کیا، جس کے چند اہم شعبے یہ تھے:

۱- عمال الصدقات: زکوٰۃ وصول کرنے والے افسران، جن میں حضرت عمرؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور حضرت عمرو بن عاصؓ جیسے جلیل القدر صحابہ شامل تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’حق و انصاف کے ساتھ زکوٰۃ کا وصول کرنے والا اللہ کے راستے میں جنگ کرنے والے کے مانند ہے یہاں تک کہ وہ عامل اپنے گھر کو لوٹ جائے‘‘۔ (ابن ابی شیبہ، حدیث: ۱۰۸۱۸)

۲- کاتبین صدقات: حساب کتاب کے انچارج، جیسے حضرت زبیر بن عوامؓ۔

۳- خارصین: باغات میں پھلوں کی پیداوار کا تخمینہ لگانے والے، جیسے حضرت عبداللہ بن رواحہؓ۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک ماہر خراص تھے۔ غزوۂ تبوک کے سفر میں آپ نے ایک مسلمان خاتون کے باغ کی پیداوار کا تخمینہ لگایا جو بالکل درست ثابت ہوا۔ (بخاری)

۴- عمال علی الحمی: مویشیوں کی چراگاہ سے محصول وصول کرنے والے۔

خلفائے راشدین کا سنہرا دور

حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت کا یہ واقعہ نظامِ زکوٰۃ کی افادیت کو ظاہر کرتا ہے کہ جب حضرت معاذ بن جبلؓ نے یمن سے زکوٰۃ کا ایک تہائی حصہ بھیجا تو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میں نے تمھیں زکوٰۃ وصول کرنے نہیں بھیجا تھا، بلکہ اغنیاء سے لے کر وہیں کے فقراء میں تقسیم کرنے بھیجا تھا۔ حضرت معاذؓ نے جواب دیا کہ وہاں کوئی زکوٰۃ لینے والا نہیں ملا۔ تیسرے سال حضرت معاذؓ نے زکوٰۃ کا سارا مال بھیج دیا اور فرمایا: ’’یہاں کوئی زکوٰۃ لینے والا ہی نہیں ہے‘‘۔

یہی صورت حال حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے دور میں پیدا ہوگئی کہ معاشرے میں تمام لوگ مال دار ہو گئے اور غربت و افلاس کا کوئی نام و نشان نہیں رہا۔ (ابو عبید: کتاب الاموال)

غریب اور ضرورت مند افراد کا خیال رکھنا مسلم معاشرے کی ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ معاشی ترقی کی طرف عدم توجہ ہے۔ ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی لکھتے ہیں: ’’تعجب کی بات یہ ہے کہ کوئی ایسی تحریک نہیں چلی، جس نے عام مسلمانوں کو للکارا ہو کہ محنت کرو، دولت پیدا کرو، کماؤ اور اپنی کمائی کا ایک حصہ بچا کر نفع آور سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی آمدنی اور دولت میں اضافہ کرنے کی کوشش کرو۔ پورے ملک کی سطح پر مسلمانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے، ان کی معاشی قوت میں اضافہ کرنے کے لیے کوئی تحریک نہیں چلی‘‘۔ (معاش، اسلام اور مسلمان، ص ۳۶)

اجتماعی نظم کا فقدان

ہمارے ملک میں زکوٰۃ کا اجتماعی نظم نہ ہونے کے برابر ہے۔ چند تنظیمیں اس سلسلے میں کام کر رہی ہیں، لیکن وسیع پیمانے پر ملت اس پر عمل پیرا نہیں ہے۔ عموماً دینی مدارس کے سفیر اور مختلف اداروں کے ذمہ دار ماہِ رمضان میں اسے وصول کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ غرباء کا ایک جم غفیر اہل ثروت کے مکانات پر آکر چند سو روپے، اناج یا کپڑے لے جاتا ہے۔ اس سے زکوٰۃ کا اصل مقصد پورا نہیں ہوتا، یعنی زکوٰۃ دینے والے کا تزکیۂ نفس، غربت کا خاتمہ اور مستحق کو خود کفیل بنانا، اور دین کی نصرت وحفاظت۔

جب اجتماعی نظام کی بات آتی ہے تو عموماً یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا بیت المال قائم کرنے کے لیے اسلامی حکومت کا ہونا ضروری نہیں ہے؟

زکوٰۃ ایک ایسا رکن ہے جس کے اصول تو سلف سے ملتے ہیں لیکن جدید مسائل کی تطبیق میں رہنمائی کم ملتی ہے۔ جیسا کہ مولانا حافظ سید عبدالکبیر عمری فرماتے ہیں:’’دین کے جو دیگر ارکان ہیں ان سے متعلق مسائل کے لیے علمائے سلف نے اصول وضوابط وضع کیے ہیں۔ مگر زکوٰۃ ایک ایسا رکن ہے کہ اس سلسلے میں علمائے سلف کے بیان کردہ اصول تو ملیں گے مگر تطبیق میں ان سے رہنمائی بہت کم مل سکے گی، کیوں کہ دورِ جدید کے مسائل کا تصور عہدِسلف میں نہیں تھا۔ لہٰذا عصرِ جدید کے مسائل کا اسلامی حل پیش کرنا اور ان کا شرعی حکم معلوم کرنے کی کوشش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے‘‘۔ (ماہنامہ راہ اعتدال، زکوٰۃ نمبر، اکتوبر ۲۰۰۳ء، ص ۸)

حکومت کی شرط اور اس کا حل

غیر اسلامی ملک میں بیت المال کے قیام پر اعتراض کا جواب دیتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزادؒ لکھتے ہیں: ’’اگر کہا جائے کہ ہندوستان میں اسلامی حکومت موجود نہیں، اس لیے مسلمان مجبور ہوگئے اور انفرادی طور پر خرچ کرنے لگے تو شرعاً و عقلاً یہ عذر مسموع نہیں ہو سکتا۔ اگر اسلامی حکومت کے فقدان سے جمعہ ترک نہیں کر دیا گیا، جس کا قیام امام و سلطان کی موجودگی پر موقوف تھا، تو زکوٰۃ کا نظام ترک کر دیا جائے؟ کس نے مسلمانوں کے ہاتھ اس بات سے باندھ دیے تھے کہ اپنے اسلامی معاملات کے لیے ایک امیر منتخب کر لیں یا ایک مرکزی بیت المال پر متفق ہوجائیں یا اپنی ویسی ہی انجمنیں بنالیں، جیسی انجمنیں بے شمار غیرضروری باتوں کے لیے بلکہ بعض حالتوں میں بدع و محدثات کے لیے انھوں نے جابجا بنائی ہیں؟‘‘ (حقیقۃ الزکوٰۃ، الہلال بک ایجنسی، لاہور، ص ۲۹)

مولانا ابوالکلام آزادؒ آگے لکھتے ہیں: ’’اُٹھو اور ہر ہر قصبہ اور محلہ میں کم سے کم پانچ آدمیوں کی ایک جماعت بنالو، جو زکوٰۃ کی تحصیل و تنظیم کرے اور اُسے پوری ذمہ داری اور باقاعدگی کے ساتھ صرف کرے‘‘۔ (ایضاً، ص ۱۱)

مفتی کفایت اللہ صاحب نے ایک جگہ لکھا ہے: ’’زکوٰۃ و عشر فرائض مالیہ کا وجوب جن احکامِ شرعیہ اور مصالح بشریہ پر مبنی ہے، ان کا تقاضا یہ ہے کہ ادائے زکوٰۃ و عشر اور ان کی تقسیم میں تنظیم کا کامل لحاظ رکھا جائے اور ظاہر ہے کہ انفرادی تصرفات میں تنظیم مفقود ہوتی ہے۔ اس غلامی کے دور میں جو تفرق وتشتت کا دور ہے، امکانی صورت یہی نظر آتی ہے کہ اہل حل و عقد کی کوئی جماعت اس کام کو اپنے ہاتھ میں لے‘‘۔ (کفایت المفتی، ج ۴، ص ۲۷۹/ امین احسن اصلاحی، توضیحات، اسلامک پبلیکیشنز لمیٹڈ، لاہور، ۱۹۶۹ء، ص ۱۴۱)

مولانا صدرالدین اصلاحیؒ لکھتے ہیں: ’’مسلم بستیاں جس طرح اپنی نمازوں کے لیے مسجد کا، جماعت کا اور امامت کا انتظام کرتی ہیں، اسی طرح اپنی زکوٰۃ کے لیے بھی بیت المال قائم کریں، اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ اجتماعی غلط کاری ہوگی‘‘۔ (اسلام: ایک نظر میں، ص ۹۲)

اموالِ ظاہرہ و باطنہ کا مسئلہ

بعض علما اموالِ زکوٰۃ کو ظاہرہ (غلہ، مویشی) اور باطنہ (سونا، چاندی، تجارتی سامان) میں تقسیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اموالِ باطنہ کی تقسیم مالک کی صوابدید پر چھوڑ دینی چاہیے، جیساکہ حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے دور میں کیا تھا۔ حضرت عثمانؓ کے دور میں امت تین براعظموں میں پھیل گئی تھی اور دور دراز علاقوں سے زکوٰۃ وصول کرنے کا انتظامی خرچ (مصارف) آمدنی سے زیادہ ہو سکتا تھا، اس لیے انھیں خود تقسیم کرنے کی اجازت دی گئی۔ یہ بھی دراصل حکومت ہی کے ذریعے تقسیم کا ایک خاص انتظام تھا۔

مستحق کو غنی بنانے کا دس نکاتی منصوبہ

ملک میں غربت کے خاتمے اور زکوٰۃ کے نظام کو اس کی اصل روح کے ساتھ بحال کرنے کے لیے ایک جامع اور منصوبہ بند تحریک کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں درج ذیل دس نکات پر عمل درآمد ایک انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے:

۱- زکوٰۃ سے متعلق آ  گاہی اور ماہر افراد کی شراکت:سب سے پہلے عوام میں زکوٰۃ کی اہمیت اور عہدِ نبوی و خلافت راشدہ کے دور میں اس کے اجتماعی نظام کے بارے میں آگاہی پیدا کرنی ہوگی۔ اس نظام کے انتظام کے لیے صرف دیندار افراد ہی نہیں، بلکہ پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے مرد و خواتین کو بھی شامل کرنا ہوگا، مثلاً:

          جدید اُمور سے واقف علمائے کرام: اکاؤنٹنٹس اور آڈیٹرز (حسابات و جانچ پڑتال کے ماہرین)

          بہترین عوامی تعلقات رکھنے والے سماجی کارکن

          اس کی ابتدا ہر محلے میں مسجد کی سطح سے کی جا سکتی ہے۔

ایسوسی ایشن آف مسلم پروفیشنلز‘ نے زکوٰۃ کے متعلق ایک سروے کیا جس میں یہ اہم باتیں سامنے آئیں:

زکوٰۃ دینے والوں کی ایک بڑی تعداد (تیس فی صد) کو زکوٰۃ اور اُس کے فوائد کے بارے میں یا تو علم نہیں ہے یا وہ کچھ کہہ نہیں سکتے۔ ۴۰ فی صد سے زیادہ جواب دینے والے اپنی زکوٰۃ کا صحیح حساب لگانے کے بارے میں جانتے ہی نہیں تھے۔ جائزے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ۷۵ فی صد سے زیادہ لوگ اپنی زکوٰۃ انفرادی طور پر رشتہ داروں یا مقامی ضرورت مندوں کو دیتے ہیں، جب کہ صرف ۱۵ فی صد ہی اسے منظم اداروں جیسے بیت المال یا غیرسرکاری تنظیموں کو دیتے ہیں۔ تاہم، ۷۰ فی صد سے زیادہ لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ’اجتماعی نظامِ زکوٰۃ‘ ہی بہترین طریقہ ہے اور اسے تعلیم اور معاشی خود مختاری پر خرچ کیا جانا چاہیے۔

اسی طرح زکوٰۃ کے نصاب کے تعلق سے بھی صحیح آگاہی نہیں ہے جو دوسو درہم چاندی یا ۵۹۵ گرام ہے اور ۲۰ دینار سونا یا ۸۵ گرام ہے (حجۃ اللہ البالغہ، جلد۲، ص ۵۰۶)

اسلام کے نزدیک ہر وہ شخص غریب ہے جو صاحبِ نصاب نہیں ہے۔ شاہ ولیؒ اللہ نے نصاب کی حکمت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا ہے: ’’یہ وہ ضروری اثاثہ ہے جس کے ذریعے ایک چھوٹے خاندان کے سال بھر کے ضروری اخراجات کی تکمیل ہو سکتی ہے‘‘۔ (حجۃ اللہ البالغہ، جلد۲، ص ۶۶)

۲-مالیاتی علم اور دولت کی پیدائش:عوام میں مالیاتی خواندگی کی شدید کمی ہے۔ دولت پیدا کرنے، کاروبار میں حصہ لینے اور نفع بخش روزگار اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ بچت کرنے اور منافع بخش کاروبار میں سرمایہ کاری کی عادت کو فروغ دینا ہوگا، تاکہ ’دینے والوں‘ کی ایک مضبوط جماعت تشکیل دی جا سکے۔

جنت کی بشارت پانے والے دس جلیل القدر صحابہ (عشرہ مبشرہ) میں سے چار، یعنی حضرت عثمانؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ، حضرت زبیر بن عوامؓ اور حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ، آج کے دور کے حساب سے ارب پتی تھے۔

۳مدارس کے نصاب میں زکوٰۃ کے جدید کورس کی ضرورت:  علمائے کرام کو اس تحریک کی قیادت کرنی چاہیے۔ اس کے لیے زکوٰۃ کو ایک تفصیلی مضمون کے طور پر دینی مدارس کے نصاب میں شامل کرنا ہوگا اور سماجی و معاشی جائزے جیسے عملی میدانی کام بھی کرائے جانے چاہییں۔ زکوٰۃ کے نظام کے لیے نفسیات، تعلقاتِ عامہ، اکاؤنٹنگ، آڈٹ اور مالیاتی انتظام میں مہارت درکار ہے۔ اسلامک فقہ اکیڈمی جیسے اداروں کو ورلڈ زکوٰۃ کونسل سے تعاون حاصل کر کے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر عبید اللہ کا انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بزنس اینڈ فنانس (آئی آئی بی ایف) زکوٰۃ کے مینجمنٹ کورس کا اہتمام کرتا ہے جس سے استفادہ کیا جانا چاہیے۔

راقم کے مضمون ’مسلم فاضلین اور معاشی میدان‘ (ترجمان القرآن، لاہور ۲۰۲۱ء)  میں بھی مدارس سے فارغ ہونے والے علما کے لیے معاش کی نئی راہوں کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں سر فہرست زکوٰۃ کا اجتماعی نظام ہے۔

۴- مسجد بحیثیت مرکز عمل: ہر محلے کی مسجد میں ایک کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے، جس میں ایک جید عالم، ایک ماہر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور چند سماجی کارکن شامل ہوں۔ یہ کمیٹی اپنے علاقے کا سماجی و معاشی جائزہ لے کر کام کا آغاز کرے۔ اس کوشش میں خواتین کو بھی شامل کرنا ضروری ہے تاکہ وہ خاندانوں، خاص طور پر خواتین اور بچوں کی مالی حالت کا جائزہ لے سکیں۔

۵فائنانشیل ٹکنالوجی (فِن ٹیک) کا استعمال: مالیاتی ٹکنالوجی زکوٰۃ کو جمع کرنے اور تقسیم کرنے کے عمل میں کھلے پن اور بھروسے کو مستحکم بنا سکتی ہے۔ آج دنیا بھر کی فلاحی تنظیمیں اجتماعی مالیاتی امداد کے انٹرنیٹ نظام کے ذریعے یہ کام کر رہی ہیں۔ مثلاً کراؤڈ فنڈنگ (Crowdfunding)، انٹرنیٹ آف تھنگس (Internet of Things - ITO) یا اسی طرح بلاک چین (Blockchain) کا استعمال حسابات (جانچ پڑتال) کے مقاصد کے لیے تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اگر وطنِ عزیز میں بھی اس جدید طریقۂ کار کو زکوٰۃ کے انتظام و انصرام میں استعمال کیا جائے تو ایک نئے معاشی فروغ کا خواب پورا ہو سکتاہے۔ (ICIF Newsletter،مئی ۲۰۲۴ء، ص ۴، ۱۰، ۱۴، ۱۶)

۶زکوٰۃ اور چھوٹے قرضے(Microfinance) : زکوٰۃ کی رقم کا ایک مصرف ’الغارمین‘ (قرض دار) ہیں۔ ڈاکٹر حمید اللہ کے مطابق، حضرت عمرؓ کے زمانے میں غارمین سے ایک نئی بات کا حوالہ ہمیں ملتا ہے اور وہ سرکاری خزانے سے لوگوں کو امداد نہیں بلکہ قرضہ دینا ہے۔ اس طرح حضرت عمرؓ کے دور میں زکوٰۃ کی رقم سے غیر سودی قرض دینے کا ثبوت ملتا ہے۔

اگر زکوٰۃ کی رقم چھوٹے صنعت کاروں اور تاجروں کو ابتدائی سرمایہ فراہم کرنے کے لیے استعمال کی جائے تو اس سے غربت بتدریج ختم ہو سکتی ہے اور زکوٰۃ کے مستحق لوگ چند سالوں میں زکوٰۃ دینے والے بن سکتے ہیں۔

بعض ممالک، مثلاً ملائشیا میں، غریبوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:

غیر پیداواری غریب (Non-Productive Poor): وہ لوگ جو عمر رسیدہ، بیوہ، معذور یا دائم المریض ہیں اور کام کرنے کے قابل نہیں۔ ان کی مستقل اور مسلسل مدد کی جاتی ہے۔

پیداواری غریب (Productive Poor): وہ مرد و خواتین جو سرمایہ کی کمی کی وجہ سے اپنا کاروبار نہیں کر سکتے، یا جنھیں ہنر سکھا کر اپنے پیروں پر کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ ان کی مدد مسلسل نہیں کی جاتی، بلکہ انھیں کاروبار یا آلات کے لیے بڑی رقم یک مشت یا قسط وار دی جاتی ہے۔ اس طرح انٹر پرینرشپ کے فروغ کے ذریعے انھیں بہت جلد خود کفیل بنا کر ’مستحقِ زکوٰۃ‘ (زکوٰۃ لینے والا) سے ’مزکیِ زکوٰۃ‘ (زکوٰۃ دینے والا) بنانے کی سعی ہوتی ہے۔

Habib Ahmed, Role of Zakah and Awqaf in Poverty Alleviation (Occasional Paper No.8.Islamic Development Bank Group, IRTI, Jeddah, 2004, p.77-82.

۷زکوٰۃ اور غیرمسلم : قرآن نے مصارفِ زکوٰۃ میں ’فقراء‘ اور’مساکین‘ کا ذکر کیا ہے۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے مطابق، ان میں فرق یہ ہے کہ فقراء سے مراد غریب مسلمان اور مساکین سے مراد غریب غیر مسلم ہیں۔

پروفیسر عبد العظیم اصلاحی لکھتے ہیں: ’’ خلیفہ ثانی نے زکوٰۃ کے مصارف ثمانیہ میں سے فقراء سے مراد مسلمان اور مساکین سے مراد اہل کتاب لیا ہے‘‘۔ (علامہ شبلی نعمانی، الفاروق، ص۱۲۸)

ڈاکٹر محمد حمیداللہ امام ابو یوسف کی کتاب الخراج کا حوالہ دیتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے مدینہ کی گلیوں میں ایک یہودی کو بھیک مانگتے دیکھا تو اس کا جزیہ معاف کر دیا اور اس کا روزینہ مقرر کرتے ہوئے فرمایا: ہذا مسکین أہل الکتب (یہ اہل کتاب کے مساکین میں سے ہے)۔ (خطبات بہاولپور، صفحات ۳۴۱-۳۴۲)

ڈاکٹر فضل الرحمٰن فریدی لکھتے ہیں: ’’زکوٰۃ صرف مسلمانوں پر خرچ نہیں کی جائے گی بلکہ ان تمام لوگوں پر جو اس کے مستحق ہیں قطع نظر اس سے کہ وہ عقیدہ اور مسلک کے اعتبار سے کیا ہیں۔ قرآن کریم کی آیاتِ زکوٰۃ میں فقراء و مساکین اور دوسرے ضرورت مندوں کے ساتھ ایمان کی شرط نہیں لگائی گئی ہے‘‘۔ (عدل کی تلاش، ص ۴۹)

۸- دیگر ممالک کے کامیاب تجربات سے استفادہ:عالمی زکوٰۃ فورم (World Zakat Forum) میں تقریباً چالیس ممالک شامل ہیں۔ ہمیں ان کے تجربات سے سیکھنا چاہیے:

بیزناس (BAZNAS): انڈونیشیا کے زکوٰۃ کا یہ ادارہ سماجی، تعلیمی اور عوامی صحت کے منصوبوں میں زکوٰۃ کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

سینزف (SENZAF): جنوبی افریقہ کا یہ ادارہ ایک ایسے ملک میں قائم ہے جہاں مسلمان صرف دو سے تین فی صد ہیں، لیکن یہ دہائیوں سے کامیابی سے کام کر رہا ہے۔

سینٹر فار زکوٰۃ مینجمنٹ (Center for Zakat Management): اس تنظیم کی سربراہی دو خواتین- چیئرپرسن فیروز محمد اور سی ای او یاسمینہ فراٹنک ہیں اور اس ادارہ میں ۵۲ فی صد خواتین کام کرتی ہیں۔ اس کی سماجی صلاحیتوں کی تعمیر اور رفاہی کاموں کا اعتراف کرتے ہوئے کیمبرج (Cambridge) اور برطانیہ کی بین الاقوامی معاشی ایڈوائزری کی جانب سے اس کو 3G کا عالمی سطح کا بہترین انتظامیہ کا ایوارڈ دیا گیا۔

بنگلہ دیش: یہاں کے زکوٰۃ کا نظام دیہی ترقی اور بچوں کی تعلیم میں مؤثر نتائج فراہم کررہا ہے۔

۹- زکوٰۃ اور پائیدار ترقی کے اہداف (SDG): اقوامِ متحدہ نے (۲۰۱۵ء- ۲۰۳۰ء) پندرہ برسوں کے لیے ’پائیدار ترقی کے مقاصد‘ مقرر کیے ہیں، جن میں ناداری کا خاتمہ، بھوک کا خاتمہ، بہتر صحت، معیاری تعلیم اور معاشی عدم مساوات میں کمی وغیرہ شامل ہیں۔

یہ ایک دلچسپ امر ہے کہ زکوٰۃ کا اسلامی نظام چودہ سو سال پہلے ان تمام مقاصد کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے نے بھی انڈونیشیا کی زکوٰۃ کی تنظیم کے ساتھ مل کر تیار کردہ ایک منصوبے میں یہ تسلیم کیا ہے کہ اسلام کا فریضۂ زکوٰۃ دولت کو مالداروں سے ناداروں کی طرف منتقل کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے اور اس میں پائیدار ترقی کے مقاصد کی کامیابی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ (ایچ عبدالرقیب، ’اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف اور حلف الفضول‘، ماہنامہ راہ اعتدال، اپریل ۲۰۲۳ء، ص ۱۹)

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ زکوٰۃ محض ایک انفرادی عبادت نہیں بلکہ ایک اجتماعی، معاشی اور سماجی نظام ہے۔ اس کا مقصد صرف بھوک مٹانا نہیں، بلکہ غربت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور ایک ایسی سوسائٹی قائم کرنا ہے، جہاں دولت صرف امیروں میں گردش نہ کرے، بلکہ معاشرے کے تمام افراد معاشی طور پر خود کفیل ہوں۔

سید سعادت اللہ حسینی لکھتے ہیں:’’ضرورت اس بات کی ہے کہ اجتماعی نظام زکوٰۃ کے قیام کو باقاعدہ ایک تحریک کی شکل میں چلایا جائے۔ یہ نظام ابتداء میں گاؤں، قصبہ یا شہر کی سطح پر قائم کیا جاسکتا ہے۔ اجتماعی نظام زکوٰۃ کے یہ ادارے منصوبہ بند طریقے سے غریب طلبہ کو وظیفے اور تعلیمی امداد اور نوجوانوں کو فنی اور تجارتی ٹریننگ دے سکتے ہیں تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں‘‘۔ (نظامِ زکوٰۃاور ہندوستان میں سماجی ترقی، ۲۰۱۸ء،ص ۲۰)

مولانا ابوالکلام آزادؒ نے اس ضرورت کو یوں بیان کیا تھا:’’اگر مسلمان آج اور کچھ نہ کریں صرف زکوٰۃ کا معاملہ ہی احکام قرآنی کے مطابق درست کر لیں تو بغیر کسی تامل کے دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ ان کی تمام اجتماعی مشکلات و مصائب کا حل خود بخود پیدا ہو جائے گا۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ مسلمانوں نے یا تو احکام قرآنی کی تعمیل یک قلم ترک کر دی ہے یا پھر عمل بھی کر رہے ہیں تو اس طرح کہ فی الحقیقت عمل نہیں کر رہے ہیں‘‘۔ (حقیقۃ الزکوٰۃ، لاہور، ص۲۶)

یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ مسلم ملت کے مرد و خواتین، علمائے کرام، سماجی کارکنان اور دانش ور اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کے ساتھ اجتماعی نظمِ زکوٰۃ کے اس عظیم نظام کو قائم کرنے کے لیے خصوصی توجہ دیں، تاکہ چند برسوں میں ہم منصوبہ بندی کے ساتھ ایک متوازن اور متمول اسلامی معاشرہ تشکیل دے سکیں۔