یوگی حکومت میں اتر پردیش کی معاشی خوشحالی کا ڈھول!

1:02 PM nehal sagheer 0 Comments


 

ندیم عبدالقدیر

ہمارے ملک کا میڈیا مودی کے بعد اگر کسی کے آگے پوری طرح سربسجود ہے تو وہ یوگی آدتیہ ناتھ ہیں۔ اب یہی دیکھئے کہ ملک کے  نیشنل میڈیا   نے  یوگی حکومت کو اترپردیش کی اب تک کی سب سے بہترین حکومت بتانے میں پوری طاقت جھونک رکھیہے۔یوگی حکومت کی تعریف میں میڈیااعدادو شمار کو کس طرح پیش کرتا ہے، اسے سمجھئے۔ سرکار ہر سال تمام ریاستوں کی جی ڈی پی کی رپورٹ جاری کرتی ہے۔  حال ہی میںسال  ۲۰۲۵ء کی یہ رپورٹ جاری ہوئی۔ اس رپورٹ کو نیشنل میڈیا  نے اس طرح پیش کیا کہ’جی ڈی پی‘  کے معاملے میں اترپردیش نے کرناٹک کو پچھاڑ دیا۔  اب یہ بات ہے تو بالکل سچ کہ جی ڈی پی کے معاملے میں اترپردیش ۲۰۲۵ء میں کرناٹک سے آگے نکل گیا، لیکن یہ آدھا سچ ہے۔ پورا سچ ہم آپ کو بتاتےہیں، لیکن اس سے پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ نیشنل میڈیا کی  ایسی  ہی خبریں  ’آئی ٹی ‘ سیل کے ذریعے سوشل میڈیا پر آتیہیں ۔لوگ اسے سچ سمجھتےہیں کیونکہ اس میں سرکار کی رپورٹ کا حوالہ بھی ہوتا ہے ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ملک میں یہ تاثر تقریباً عام ہے کہ اس وقت ملک میں سب سے بڑی’ جی ڈی پی‘ اترپردیش کی ہے اور اس کا سہرا یوگی آدتیہ ناتھ کے سر ہے۔  
اب حقیقت جانئے!! اگرصرف ’ جی ڈی پی‘ کے ہی لحاظ سے دیکھا جائے تو اس وقت ملک میں سب سے بڑی ’ جی ڈی پی‘ اترپردیش کی نہیں بلکہ مہاراشٹر کی ہے ۔ دوسرے نمبر پر بھی اترپردیش نہیں ہے، بلکہ تمل ناڈو ہے ۔ ہاں!تیسرے نمبر پر اترپردیش ہے ، اور جیسا کہ اوپر بتایاجاچکا ہے کہ اس نے یہ مقام کرناٹک کو پچھاڑ کر حاصل کیاہے جو سچ ہے لیکن حقیقت یہ ہےکہ اکھلیش یادو کے دور میں بھی اترپردیش تیسرے ہی مقام پر تھا(کرناٹک سے اوپر)۔ یوگی حکومت  ہی میں ۲۰۱۹ ء میں اترپردیش تیسرے مقام سے لڑھک کرکرناٹک کے نیچے چوتھے مقام پر پہنچ  گیاتھا اور اب ۲۰۲۵ء میں وہ  بڑی مشکل سے کسی طرح  تیسرے مقام پر آگیا ہے،لیکن ہوسکتا ہے کہ اگلے سال یہ دوبارہ چوتھے مقام پر پہنچ جائے۔یعنی ٹوٹل ’جی ڈی پی‘ میں اترپردیش کا کرناٹک سے اوپر آجاناکوئی نئی بات نہیں ہے،ہاں البتہ ۲۰۱۹ء میں اُس کا یوگی کے دور میں  کرناٹک سے بھی پیچھے چلے جانایقینا نئی بات تھی،کیونکہ اس سے پہلے اترپردیش ٹوٹل ’جی ڈی پی‘ کے معاملے میں  کرناٹک سے پیچھے  کبھی نہیں گیاتھا۔
 
یہ تو ہوئی ٹوٹل ’جی ڈی پی ‘ کی بات۔اب آتےہیں اصل معیشت کی طرف ۔ دراصل معیشت صرف ٹوٹل ’جی ڈی پی ‘ سے نہیں دیکھی جاتی ہے ، کیونکہ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو قطر کی ’جی ڈی پی‘ پاکستان سے کم ہے، لیکن قطرمیں معیارِ زندگی اورپاکستان کے معیارِ زندگی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ’جی ڈی پی‘ کے لحاظ سے ہندوستان برطانیہ سے بہت آگے ہے لیکن ہندوستان اور برطانیہ میں معیارِ زندگی کاکوئی مقابلہ نہیں۔درحقیقت اصل معاملہ’ فی فرد آمدنی‘ کا ہوتا ہے۔ وہ کرناٹک  جس کی ٹوٹل ’جی ڈی پی ‘ کو اترپردیش کے ذریعےپچھاڑے جانے کو بہت شان سے بتایاجارہاہے اُس کرناٹک میں ۲۰۲۵ء میں فی فرد آمدنی ۴۴۰۰؍ڈالر سالانہ ہے اوراترپردیش میں فی فرد آمدنی محض ۱۳۰۰؍ڈالر سالانہ  ہے۔ ’فی فرد آمدنی‘ کے معاملے میں اترپردیش پورے ملک میں نیچے سے دوسرے نمبر ہے۔ جی ہاں! نیچے سے دوسرے نمبر پر۔ یہ بات ۲۰۲۵ء کی  رپورٹ میں بھی ہے ۔ اترپردیش سے زیادہ بدحال صرف اور صرف ریاست ِبہار ہے۔ ملک کی  تقریبا تمام ہی ریاستوں میں’ فی فرد آمدنی‘ اترپردیش اور بہار سے زیادہ ہے۔یہ حال تب ہے جب پچھلے تقریباً ۹؍سال سے یوگی آدتیہ ناتھ ریاست کے وزیراعلی ہیں۔اس کے باوجود میڈیا یہ بتارہاہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں اترپردیش ترقی کی راہ میں ملک کی تمام ریاستوںسے آگے ہے  ۔ مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اسے سچ بھی سمجھ رہےہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اترپردیش ملک کی سب سے بدحال ریاست ہے۔ اس کی حالت صرف بہار سے بہتر ہےباقی کسی بھی ریاست سے بہتر نہیں۔

(
مضمون نگار روزنامہ اردوٹائمز ،ممبئی میں فیچر ایڈیٹر ہیں)

0 comments: