featured,

بسنت اور رجب نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی (مذہبی رواداری) کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا

3:58 PM nehal sagheer 0 Comments


  

دو دوستوں کی موت کی کہانی

جینت دیوان

1 ؍جولائی بسنت اور رجب کی برسی ہے۔ یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ تاریخ میں یہ واحد ایسا واقعہ ہے جہاں دو دوستوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے اپنی جانوں کی قربانی دی ۔ بسنت اور رجب کی موت 1946 میں ہوئی تھی، لیکن اس سے پہلے، گنیش شنکر ودیا رتھی نے 1931 میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے اپنی جان قربان کی تھی۔ یہ ہماری آزادی کی ایک انوکھی مثال ہے۔

مہاتما گاندھی نے اپنی قیادت میں غلامی کے خلاف جدوجہد کو ایک تعمیری سمت دی۔ انہوں نے سماج کو 18 تعمیری پروگرام دیے۔ تحریکِ آزادی میں حصہ لینے والا ہر کارکن ان 18 نکاتی پروگراموں کے تئیں وفادار تھا۔ ان میں سے ایک اہم نکتہ 'قومی یکجہتی' یعنی ہندو-مسلم اتحاد تھا۔ آزادی کی اس جنگ سے نکلے مجاہدین نے بہادری سے مقابلہ کیا اور وقت آنے پر ہندو-مسلم اتحاد کے لیے اپنی جان کی پروا کیے بغیر خود کو قربان کر دیا۔ انہی میں سے ایک نمایاں نام بسنت اور رجب نام کے دو دوستوں کا ہے۔

یہ کہانی سال 1946 کی ہے۔ گجرات کے احمد آباد میں رتھ یاترا چل رہی تھی۔ جیسے ہی رتھ یاترا جمال پور علاقے میں پہنچی، ہندو اور مسلمانوں کے درمیان تناؤ پیدا ہو گیا اور جلد ہی دنگے بھڑک اٹھے۔ دو دوستوں، بسنت اور رجب نے پرتشدد بھیڑ کو شانت (پرامن) کرنے کی کوشش کی۔ بار بار منتیں کرنے کے باوجود لوگ پرامن نہیں ہوئے۔ تب انہوں نے کہا، ’’اگر تمہیں انہیں مارنا ہی ہے، تو پہلے ہمیں مار ڈالو‘‘۔یہ سن کر پرتشدد بھیڑ پرامن ہونے کے بجائے اور زیادہ غصے میں آ گئی اور انہوں نے پتھروں، چاقوؤں اور خنجروں سے بسنت اور رجب کو بے رحمی سے قتل کر دیا۔

اپنی جان بچانے کے بجائے، انہوں نے دوسروں کی جان بچانے کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیے۔ بسنت ہندو تھے جبکہ رجب مسلمان تھے۔ اپنی موت کے وقت بسنت کی عمر 40 سال تھی، جبکہ رجب علی صرف 27 سال کے تھے۔

1946 ہماری آزادی کی جدوجہد کی تاریخ کا ایک سیاہ دور تھا۔ انگریزوں نے بھارت کی آزادی کا اعلان کر دیا تھا۔ مسلم لیگ مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا مطالبہ کر رہی تھی۔ کئی مقامات پر ہندو-مسلم عداوت عروج پر تھی اور دنگے ہو رہے تھے۔ گاندھی جی ملک کو اس کڑواہٹ سے نکالنے کی پوری کوشش کر رہے تھے۔ آزادی کے دیوانے گاندھی جی کے پیغام کے مطابق، اپنی جان کی پروا کیے بغیر ہندو-مسلم اتحاد کو بنائے رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے تھے۔

بسنت راؤ کون تھے؟

بسنت راؤ کا پورا نام بسنت راؤ ہیگشٹے تھا! وہ احمد آباد میں رہتے تھے۔ پندرہ سال کی عمر میں انہوں نے انگریزی اسکول چھوڑ دیا اور گجرات ودیاپیٹھ کے راشٹریہ ودھیالیہ (قومی اسکول) میں داخلہ لے لیا۔ ودیاپیٹھ نے ان کے اندر حب الوطنی کا جذبہ پیدا کیا۔ انہوں نے گاندھی جی کے ساتھ ڈانڈی مارچ میں حصہ لیا۔ 1930 کے نمک ستیہ گرہ میں انہیں جیل کی سزا ہوئی۔ وہ کانگریس سیوا دل سے جڑے تھے۔ انہوں نے 'ساشٹانگ نمسکار' (ڈنڈوت پرنام) کے مقابلے میں پہلا انعام جیتا تھا۔

ایک بار بسنت راؤ اور ان کے دوست گاندھی جینتی منانے کے لیے گھولکا گاؤں گئے تھے۔ وہاں سے لوٹتے وقت وہ ایک گاؤں سے گزرے۔ ایک دوست نے کہا، "چلو تھوڑی دیر اس گاؤں میں رکتے ہیں، آرام کرتے ہیں اور پانی پیتے ہیں۔’’بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ یہ چماروں (دلتوں) کا گاؤں ہے۔ دوست نے کہا‘‘ ، ہم یہاں پانی نہیں پیئیں گے۔’’ بسنت راؤ نے کہا، میں یہاں پانی پیوں گا‘‘اور ان کے اصرار پر باقی دوستوں نے بھی پانی پیا۔ آزادی کے ساتھ ساتھ ان نوجوانوں کے دلوں میں ذات پات کے بھید بھاؤ سے پاک سماج بنانے کی خواہش تھی۔

جب وہ ذاتی ستیہ گرہ کے لیے جیل میں تھے، تب احمد آباد میں دنگے ہوئے۔ جیل سے رہا ہونے کے بعد بسنت راؤ نے کہا تھا، ’’ان دنگوں میں احمد آباد سے ایک بھی کانگریسی کا نہ مرنا ہمارے مخالفین کو موقع دے رہا ہے۔ میں اس شخص کی موت چاہتا ہوں جو اپنے سر پر ہتھوڑا گرتے ہوئے بھی یہی کہتا رہے کہ مجھے مار ڈالو‘‘ اور آخر کار ان کی یہ خواہش پوری ہوئی۔ انہوں نے ایک بار ایک دوست سے کہا تھا، ’’میں نے اپنی زندگی میں ورزش اور قومی یکجہتی کو ہمیشہ ترجیح دی ہے‘‘۔

رجب علی کون تھے؟

رجب علی کا پورا نام رجب علی لکھانی تھا! ان کی پیدائش سال 1919 میں ہوئی تھی۔ وہ ایک کھوجا مسلم تھے۔ ان کی پیدائش اس وقت کے متحدہ ہندوستان کے کراچی شہر میں ہوئی تھی۔ ان کا خاندان بنیادی طور پر گجرات کے کاٹھیاواڑ ضلع کے لمبڑی گاؤں سے تھا۔ سال 1934 میں لکھانی خاندان کراچی چھوڑ کر اپنے آبائی گاؤں لمبڑی لوٹ آیا۔ اس وقت رجب علی کی عمر صرف سولہ سال تھی۔ سال 1936 میں انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور بھاو نگر کالج میں داخلہ لیا۔

ہاسٹل میں رہتے ہوئے ہی وہ تحریکِ آزادی سے جڑ گئے۔ وہ برطانوی تعلیمی نظام کے سخت خلاف تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے بی۔اے کے آخری سال کا امتحان دینے سے منع کر دیا اور آزادی کی لڑائی میں کل وقتی (فل ٹائم) کارکن بن گئے۔ انہیں سال 1938، 1941 اور 1942 میں جیل جانا پڑا۔ وہ مذہب کے نام پر کسی انسان کی شناخت کرنے کے سخت مخالف تھے۔ وہ خود کو صرف ’ہندوستانی‘بتاتے تھے۔ بسنت راؤ سے ملتے ہی ان کی گہری دوستی ہو گئی اور یہ دوستی آخری دم تک یعنی موت تک قائم رہی۔ چھ فٹ لمبے رجب علی کی شخصیت بے حد پرکشش تھی۔ وہ فطرتا بہادر تھے۔ سادگی اور انکساری ان کے مزاج میں شامل تھی۔ وہ نظریاتی طور پر ایک سماجوادی (سوشلسٹ) تھے۔ رجب علی کا ماننا تھا کہ ہندو-مسلم اتحاد کے لیے مسلم خاندانوں میں ہندو نام اور ہندو خاندانوں میں مسلم نام ہونا بے حد ضروری ہے۔

موت میں بھی ساتھ

زندگی بھر ایک دوسرے کا سہارا رہنے والے بسنت اور رجب نے موت میں بھی ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ بسنت راؤ کی بہن نے اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتایا، ’’جیسے ہی یہ حادثہ پیش آیا، ہم ہسپتال بھاگے۔ وہاں ہم نے بسنت راؤ کی لاش دیکھی۔ اسی وقت ہمیں احساس ہوا کہ رجب علی بھییں ہوں گے، کیونکہ وہ دونوں ہمیشہ ساتھ رہتے تھے‘‘ اور ایسا ہی ہوا۔ رجب علی کی لاش بھی اسی ہسپتال میں ملی۔

ہندوستان کی جنگِ آزادی میں بسنت اور رجب کی شہادت ہماری انمول وراثت ہے۔ آج کے نفرت بھرے ماحول میں یہ شہادت ہم سب کے لیے بے حد مشعلِ راہ اور رول ماڈل ہے۔

    موبائل نمبر    8355880185

 

 

0 comments: