featured

طلبہ پر طاقت کےاستعمال کا سوال اور امیت شاہ کا پارلیمنٹ سے فرار

4:22 PM nehal sagheer 0 Comments

ندیم عبدالقدیر
جنتر منتر احتجاج ختم ہوچکاہےلیکن اس احتجاج نے ملک میں ایک ایسی نئی فضا کو جنم دے دیا جس کے بارے میں احتجاج سے قبل سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا ۔  اس نئی فضا اور نئی صورتحال نے سماج وسیاست میں خوف کی اُن بیڑیوں کو توڑ  دیا جو، اب تک بھارتیہ جنتا پارٹی کی سب سے بڑی طاقت ہوا کرتی تھی۔  عالم یہ ہے کہ امیت شاہ جنہیں ہر تنقید سے بالاتر، ملک کا سب سے طاقتوراورحکومت کا چانکیہ قرار دیا جاتاتھاان کے استعفے کی مانگ کی جانے لگی ہے  اور امیت شاہ کا حال یہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں حاضر ہونے سےبھی کترا رہےہیں۔کچھ یہی حال وزیراعظم نریندر مودی کا بھی ہے ۔
جنتر  منتر احتجاج ، طلبہ پر لاٹھی چارج اور دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد سے وزیراعظم پارلیمنٹ سےغائب ہیں۔ وہ انسٹا گرام پر ویڈیو بناکر اَپ  لوڈ کررہےہیں لیکن پارلیمنٹ نہیں آ ٓرہے ہیں۔ امیت شاہ کا حال یہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ پہنچتےہیں ، لیکن ایوان تک نہیں پہنچ پاتےبلکہ صرف اپنے چیمبر  میں ہی قید رہتےہیں۔کیا امیت شاہ اِس سوال سے بھاگ رہےہیں کہ’’ جنتر منتر پر طاقت کااستعمال  کرنے کا حکم کس نے دیاتھا ؟‘‘طلبہ پر لاٹھی  چارج کرنے، آنسو گیس کے گولے داغنے اور پیلیٹ گن  چلانے کا فیصلہ کس کا تھا ؟کسی بھی جمہوری حکومت میں حتیٰ کہ تاناشاہ حکومت میں بھی  طلبہ پر طاقت کااستعمال کرنا حکومتوں کی بہت ہی بڑی غلطی ہوتی ہے ۔ اس کی کئی مثالیں ہیں،  ہمارے پڑوسی بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ نے اپنے تانا شاہی  دورِ  وزارت عظمیٰ میں طلبہ پر بےتحاشا طاقت کااستعمال کروایا تھاحتیٰ کہ گولیاں  بھی چلاوادی تھیں جس میں تقریباً
۲۸؍طلبہ ہلاک ہوگئے۔ اس کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ چند دنوں میں ہی شیخ حسینہ کو ملک کی وزیراعظم ہونےکے باوجود  بنگلہ دیش چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔
ایک عام سی سمجھ رکھنے والے شخص کو بھی پتہ ہے کہ دلّی کی پولس مرکزی وزارت داخلہ کے ماتحت ہوتی ہے اور مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ ہیں۔ جنتر  منتر احتجاج کوئی معمولی احتجاج نہیں تھا ۔یہ ملک کا انتہائی حساس مظاہرہ تھا جس میں طلبہ حصہ لے رہےتھے۔ اس کی گونج پورے ملک میں سنائی دے  رہی تھی ۔پولس اور نیم فوجی دستوں کو جتنی تعداد میں جنتر منتر پر تعینات کیاتھا اس سے یہ گمان ہورہاتھا کہ یہ کوئی فوجی چھاؤنی ہے ۔ اتنے اہم اور  حساس موقع پرطاقت کا استعمال کرنے کا فیصلہ بڑے سے بڑے پولس افسر کے بھی ہاتھ میں نہیں ہوتا ہے ۔ یہ فیصلے حکومت کی طرف سے کئے جاتےہیں اوریہاں یہ کام امیت شاہ کے سوا کسی کا نہیں ہوسکتا، کیونکہ جیسا کہ اوپر ذکر کیاجاچکاہے ،دہلی پولس امیت شاہ کے  ماتحت ہے۔یقینا جنتر منتر  پر طاقت کے استعمال کاحکم بھی امیت شاہ کا ہی تھا۔ اب بی جےپی یہی بات ماننے کو تیار نہیں ہے اور اس سوال سے بھاگ رہی ہے کہ جنتر منتر پر طاقت کے استعمال کاحکم کس نے دیاتھا ؟

راہل گاندھی نے جب پارلیمنٹ میں امیت شاہ کو ’نام نہاد‘ وزیرداخلہ کہا تو بی جےپی کے اراکین پارلیمنٹ امیت شاہ سے اپنی وفاداری ثابت کرنے کیلئے  شورمچانے لگے، لیکن راہل گاندھی کی بات ٹھیک ہی تھی ، جووزیرداخلہ اپنی ذمہ داری سے بھاگے، جواب دینے کیلئے ایوان میں موجود نہ ہو، اسے نام  نہاد وزیرداخلہ نہ کہاجائے تو کیا کہا جائے۔وزیرداخلہ کو پارلیمنٹ میں آکر اس سوال کا جواب دینے کی بجائے کہ جنتر منتر پر طاقت کے استعمال کا حکم کس نے دیا، بھارتیہ جنتا پارٹی اس کا جواب پریس کانفرنس کے ذریعے دے رہی ہے جس میں سمبت پاترا کا استعمال کیاجارہاہے۔
ملک کے اہم موضوعات اور معاملات پر حکومت کو اپنی بات رکھنے ، وضاحت کرنے کی اصل جگہ پارلیمنٹ ہے نہ کہ پریس کانفرنس ۔ سوال پارلیمنٹ میں اٹھائے جارہےہیں جواب وہیں دینا چاہئےتھا ۔  دراصل امیت شاہ اب سوال سے راہِ فرار اختیار کررہےہیں۔ پچھلے تقریباً
۷؍سال سے امیت شاہ وزیرداخلہ ہیں اور ان  ۷؍برسوں میں انہوں نے ہر مدمقابل کو سرکار کے مختلف اداروں کے ذریعے ہی کچلا ہے ۔ ہر جگہ طاقت کا استعمال کرنے کی عادت شاید ان کی فطرت کا حصہ بن گئی اور جنتر منتر پر ان کی اسی فطرت نے طاقت کا بے دریغ استعمال کرکے احتجاج کو کچل دینے کی حکمت عملی اپنائی ،لیکن اس بار ان کا سامنا کسی سیاسی جماعت، کسی ایک برادری، کسی ایک طبقہ یا کسی این جی او سے نہیں بلکہ ملک کے طلبہ سے تھا ۔ طلبہ طاقت کے سامنے نہیں جھکے۔

سونم وانگ چک کو عین احتجاج کی جگہ سے زبردستی اٹھالینا حکومت کے طاقت کے استعمال کا مظاہرہ تھا لیکن طلبہ کااحتجاج اس کے بعد کم ہونے کی بجائے کئی گُنا   زیادہ بھڑک اٹھا۔ شاید امیت شاہ کا یہ خیال تھاکہ سونم وانگ چک کے جانے کے بعد احتجاج اپنی موت آپ مرجائے گالیکن یہاں امیت شاہ سے غلطی ہوگئ  ۔امیت شاہ نےاس کے بعد بھی اپنی غلطی سدھارنے کی بجائے پھر طاقت کا استعمال کیا  ۔طاقت کے گھمنڈ میں امیت شاہ نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ سامنے طلبہ ہیں ۔ امیت شاہ کی پولس نے طلبہ پرلاٹھی چارج کیا ، آنسو گیس کے گولے داغے حتیٰ کہ پیلیٹ گن بھی چلائی،جس کےکئی طلبہ شکار ہوگئے۔حکومت کے اس طاقت کےاستعمال کےہی سبب انسٹا گرام پر حکومت کے خلاف غصہ کی سونامی آگئی اورجنترمنتر پر پورے ملک سےطلبہ جمع ہوناشروع ہوگئے۔یہ مودی حکومت کیلئے پوری طرح غیر متوقع تھا۔

یہ سب دیکھ کر حکومت سکتے میں آگئی اور تب کہیں جاکر حکومت نے اپنے قدم پیچھے لئے۔ وزیراعظم مودی کو بہ نفس نفیس انسٹا گرام پر ایک واہیات ویڈیو پوسٹ کرنا پڑااورپھر دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا۔یہ سب کچھ طلبہ پر طاقت کے بے جااستعمال کی وجہ سے ہوا۔  اب حکومت کو یہ ڈر ہے کہ اگر ملک میں یہ بات واضح ہوگئی کہ لاٹھی چارج کرنے آنسو گیس داغنے اور پیلیٹ گن چلانے کا حکم امیت شاہ نے دیاتھا تو نہ جانے کیا ہوجائے گا۔  امیت شاہ اسی لئے پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے ان ہی سوالوں کا سامنا کرنے سے بھاگ رہےہیں۔جہاں پہلے عوام میں خوف تھا وہیں  اب مودی اور شاہ سہمےہوئےہیں۔عالم یہ ہےکہ جنتر منتر احتجاج کےبعد سے پارلیمنٹ میں ۲؍انتہائی اہم بِل پیش ہوئے ،ایک پیپرلیک کے تعلق سے اور دوسرا بندے ماترم کے حوالےسے ۔ یہ دونوں ہی موضوعات بی جےپی کیلئے اہم تھے ۔

 وزیراعظم مودی تو پیپرلیک معاملےپر رات کے ساڑھے ۱۲؍بجے اٹھ کرانسٹا گرام پرویڈیو پوسٹ کررہےہیں بتارہےہیں کہ ہم بہت جلداس پر قانون لانے جارہےہیں لیکن جب وہی قانون پارلیمنٹ میں وضع کرنے کا وقت آیا تو وزیراعظم غائب تھے۔ عوام نے انہیں انسٹا گرام پر ویڈیو بنانے کیلئے منتخب کیا ہے یا پارلیمنٹ میں پہنچ کر جوابدہی کیلئے ۔ دوسرا بِل یعنی ’بندے ماترم‘ بھارتیہ جنتا پارٹی کا انتہائی اہم سیاسی موضوع رہاہے اور اتنے اہم موضوع پر وضع کئے جانے والے قانون کے وقت بھی وزیراعظم مودی اور امیت شاہ دونوں ایوان سے غائب رہے۔ یہ فرار بتاتا ہے کہ ملک کے یہ ۲؍سب سے طاقتور ترین لوگ اس سوال سے کس قدر سہمے ہوئےہیں،اوریہی صورتحال اپوزیشن کو عموماً اور کانگریس کو خصوصاً مزید طاقت فراہم کررہی ہے۔

 امیت شاہ جتنا اس سوال سے دور بھاگیں گے ،اتنی ہی طاقت کےساتھ اپوزیشن اس سوال کو اٹھائے گی۔ یہ تو بتانا ہی پڑے گا کہ طلبہ پر طاقت استعمال کرنے کا حکم کس نے دیاتھا۔ خواہ اس کیلئے کتنے ہی جواز، کتنے ہی حیلے بہانے اور کتنے ہی جھوٹ یا کتنی ہی واہیات باتوں کا سہارا لیا جائے، لیکن وضاحت کرنی پڑے گی۔ یہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ وضاحت  مودی شاہ جوڑی کیلئے کہیں مسائل کاکوئی اور دروازہ نہ کھول دے۔

(مضمون نگار روزنامہ اردو ٹائمز ،ممبئی کے فیچر ایڈیٹر ہیں)

 

0 comments: