Showing posts with label Politics. Show all posts

ذہنیت میں تبدیلی کے بغیر ذات پات کا خاتمہ ممکن نہیں : ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

 

 


            نئی دہلی، 4 نومبر: انسٹی ٹیوٹ آف اسٹڈی اینڈ ریسرچ دہلی (ISRD) نے ابوالفضل انکلیو، اوکھلا کے اسکالر اسکول ہال میں لیکچر سیریز کے تحت ”ہندوستان میں ذات پات کے نظام کی تاریخی، ثقافتی اور موجودہ صورتحال: دلت کمیونٹی کے حوالے سے“ ایک پروگرام منعقد کیا، جس میں ماہرینِ سماجیات نے ہندوستانی سماج میں ذات پات کے نظام پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ قانون سازی اور تعلیم نے اس کے اثرات کسی حد تک کم کیے ہیں، تاہم ذات پات کی جڑیں آج بھی سماجی ذہنیت میں گہرائی سے پیوست ہیں۔

            جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے صدارتی خطاب میں زور دیا کہ جب تک ذہنیت (mindset) تبدیل نہیں ہوگی، ذات پات کا نظام ختم نہیں ہوگا۔ انھوں نے واضح کیا کہ ہندوستانی مسلمانوں میں جو ذات پات کا تصور پایا جاتا ہے، وہ اسلامی تعلیمات کا حصہ نہیں بلکہ ہندوستانی سماج کے اثرات کا نتیجہ ہے۔" انھوں نے کہا کہ ہندومت میں ذات پات مذہبی بنیاد رکھتا ہے، لیکن اسلام میں اس کا کوئی تعلق مذہب سے نہیں۔ مسلمانوں میں یہ تصور صرف سماجی اثرات کے ذریعے آیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام میں تمام انسان برابر ہیں، اور رسول اللہ نے اعلان فرمادیا کہ کسی عربی کو عجمی پر، کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں۔ برتری صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔ انہوں نے حضرت بلال? کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب مکہ فتح ہوا تو ایک حبشی غلام کو خانہ کعبہ کی چھت پر اذان دینے کا حکم دیا گیا۔ یہ اسلام کی حقیقی مساوات کا عملی مظہر تھا۔

            انھوں نے کہا کہ صرف قوانین بنانے یا بدلنے سے سماجی رویے نہیں بدلتے۔ جیسے کینسر کے مریض کو صرف درد کم کرنے کی دوا دی جائے، تو مرض ختم نہیں ہوتا۔ اسی طرح ذات پات کے مسئلے کا بھی سطحی علاج کافی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی بھی کافی نہیں جب تک دلوں سے تعصب نہ مٹے۔ بہت سے دلت لوگ اعلیٰ عہدوں پر پہنچنے کے باوجود سماجی قبولیت اور عزت نہیں مل پاتی ، کیونکہ لوگوں کی ذہنیت وہی رہتی ہے۔

            مولانا ندوی نے قرآن کی آیات اور نبی کریم کے ارشادات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا اللہ نے انسانوں کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا۔ جب سب کا خالق ایک ہے تو کسی کو اشرف اور کسی کو ارزل نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام جہاں پہنچا، اس نے برابری اور عدل کا کرشمہ دکھایا۔ لاکھوں لوگ اسی تعلیم سے متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہوئے۔ مگر افسوس کہ آج خود مسلمان اپنی اصل تعلیمات سے دور ہو گئے ہیں۔

            انھوں نے ختلاف کیا کہ کاسٹ سسٹم انگریزوں کی پیداوار ہے۔انہوں نے وضاحت کی سچ بات یہ ہے کہ انگریزوں نے اس نظام کو قائم نہیں کیا بلکہ باقی رکھا۔ یہ ہزاروں سال پرانا ہندوستانی سماجی ڈھانچہ ہے جسے ختم کرنا آسان نہیں۔ انہوں نے مقرر پروفیسر ششی شیکھر کے اس قول سے اتفاق کیا کہ ذات پات ہندوستانی سماج ایک حقیقت ہے۔ ڈاکٹر رضی الاسلام نے مزید کہا شہری زندگی اور تعلیم کے باوجود ذات پات کا اثر کم نہیں ہوا۔ آج بھی تعلیم یافتہ اور شہری طبقے میں یہ تقسیم کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ ڈاکٹر ندوی نے اس خیال کی تردید کی کہ مختلف مذاہب کے درمیان شادیوں سے ذات پات کا نظام ختم ہو جائے گا۔ اسلام تو واضح طور پر دوسرے مذاہب میں شادی کو حرام قرار دیتا ہے۔

            تقریب کے افتتاحی کلمات میں جماعت اسلامی ہند، دہلی کے امیر سلیم اللہ خان نے کہا قرآن پڑھنے والا سب سے پہلے یہ مانتا ہے کہ انسان کا احترام اس لیے ہے کہ وہ انسان ہے.۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں باہمی احترام کے لیے دوطرفہ ذمہ داری ضروری ہے۔"اگر ہم اپنا احترام چاہتے ہیں تو دوسروں کا احترام کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم ایک دوسرے کو جانیں، کیونکہ لا علمی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔"

ISRD کے سیکریٹری آصف اقبال نے افتتاحی کلمات میں کہا کہ اس سیریز کا مقصد محض علمی بحث نہیں بلکہ "سماج کو سمجھنا اور سماج کے ساتھ جڑنا" ہے۔انہوں نے کہا "ہم چاہتے ہیں کہ دہلی جیسے متنوع شہر کے سماجی تانے بانے کو علمی بنیادوں پر سمجھا جائے تاکہ ہم ایک مثبت اور بامقصد کردار ادا کر سکیں۔"

            جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر پردیپ کمار شندے نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ"کاسٹ اس ملک سے ختم ہونا بہت مشکل ہے۔ میں یہ پوری ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ ذات پات انگریزوں سے پہلے بھی ہمارے ملک میں موجود تھی۔ ہاں، انگریزوں کی مردم شماری نے اسے مستقل حیثیت ضرور دے دی۔"انہوں نے وضاحت کی کہ برطانوی دور میں مردم شماری کے ذریعے ہر شخص کی ذات کی درجہ بندی نے اس تصور کو ادارہ جاتی شکل دی، جس کے بعد یہ نظام مستقل صورت اختیار کر گیاا۔ ان کے مطابق:"انگریزوں سے پہلے ذات پات کا اثر مقامی سطح پر تھا، لیکن مردم شماری نے اس کو باقاعدہ شناخت دے دی۔ سماج میں کسی کی ذات پیدائش سے طے ہوتی ہے، اس کے بعد یہ طے ہوتا ہے کہ وہ کیا کھائے گا، کس سے شادی کرے گا، اور کس کے ساتھ میل جول رکھے گا۔"

ڈاکٹر شنڈے نے تاریخی حوالوں سے بتایا کہ ڈاکٹر بھیم راو  امبیڈکر نے 1930 کی دہائی میں اپنے لیکچر "Relations of Caste" میں یہ واضح کیا تھا کہ:"ذات پات کا نظام ہندو مذہبی صحیفوں سے آیا ہے۔ یہ مسئلہ اسلام یا عیسائیت میں نہیں پایا جاتا۔"

            انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ کچھ سماجی علوم کے ماہرین کا خیال ہے کہ چھوت چھات اور امتیاز میں کمی آئی ہے، لیکن زمینی سطح پر حقیقت اس کے برعکس ہے۔

"آج بھی ہم سنتے ہیں کہ کسی دلت کو مندر میں داخل ہونے نہیں دیا گیا، یا شادی میں گھوڑے پر بیٹھنے پر تشدد کیا گیا۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ذات پات کا اثر کم نہیں ہوا، بلکہ یہ نئے روپ میں ابھرا ہے۔"

            انہوں نے راجستھان، دہلی اور اتر پردیش کے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اور عدلیہ جیسے ادارے، جو بظاہر ذات سے ماورا ہیں، اکثر امتیازی رویہ اختیار کرتے ہیں۔"ہاتھرس (Hathras) کیس میں دلت طبقے کو صرف ایف آئی آر درج کرانے کے لیے طویل جدوجہد کرنی پڑی۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ بیوروکریسی اور عدلیہ پر بھی ذات پات کا اثر قائم ہے۔"

ڈاکٹر شندے نے زور دیا کہ:"ڈاکٹر امبیڈکر نے کہا تھا کہ ذات پات کے خاتمے کے لیے سیاسی طاقت ضروری ہے۔ مگر آج سیاست خود ذات پات کی بنیاد پر تقسیم ہے۔ ذات پات اب ہر ادارے اور طبقے میں سرایت کر چکی ہے۔"

انہوں نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ ذات پات کا مسئلہ صرف ہندوستان تک محدود نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے"برطانیہ میں دلتوں نے ’اینٹی کاسٹ بل‘ پیش کیا، اگرچہ وہ مسترد ہوگیا، لیکن اس سے واضح ہوا کہ ہندوستانی ذات پات کا مسئلہ اب عالمی سطح پر بحث کا موضوع ہے۔ امریکہ میں بھی ایک دلت انجینئر خاتون نے کاسٹ ڈسکریمنیشن کی شکایت درج کرائی۔"

انہوں نے مزید کہاکہ یہ کہنا کہ سب ہندو ہیں، اس لیے ذات پات کا مسئلہ ختم ہو جائے گا — ایک سیاسی فریب ہے۔ یہ سوچ اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔

            پروفیسر ششی شیکھر، دہلی یونیورسٹی ، نے اپنے خطاب میں زور دیتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ذات پات ہندوستانی معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان میں آپ اپنا مذہب بدل سکتے ہیں، لیکن ذات نہیں بدل سکتے، کیونکہ ذات پیدائش سے وابستہ ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی اعلیٰ ذات کا مرد نچلی ذات کی عورت سے شادی کر لیتا ہے، تو عورت کو اپنی ذات کے مطابق سرکاری کوٹا ملتا، مگر ان کے بچے کو یہ حق نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ قوانین اور اصلاحی اقدامات کے باوجود ذات پات پر مبنی امتیاز آج بھی ایک زندہ حقیقت ہے۔

            پروفیسر شیکھر نے مزید کہا کہ ذات کے اندر بھی ذاتیں موجود ہیں۔ برہمنوں میں بھی اونچی اور نیچی ذاتیں دیکھی جا سکتی ہیں، جیسے آر ایس ایس کے سربراہ ایک چت پون برہمن ہیں، جنہیں سب سے اعلیٰ برہمن مانا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ذات کا نظام اس لیے مضبوط ہے کیونکہ یہ انسان کے سوچنے اور سمجھنے کے طریقے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جب تک ذہنیت نہیں بدلے گی، ذات پات کا خاتمہ ممکن نہیں۔

            انہوں نے وضاحت کی کہ تعلیم اور شہری زندگی (Urbanisation) نے ذات پات کے نظام کو کمزور ضرور کیا ہے، مگر یہ آج بھی دیہاتوں میں بہت مضبوطی سے قائم ہے۔ شہروں میں اگرچہ اس کی شکل مختلف ہے، لیکن وہاں بھی ذات کی بنیاد پر شناخت اور سیاسی وابستگی برقرار ہے۔ پروفیسر نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پڑھاتے وقت یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کون کس ذات سے ہے — حالانکہ تدریس میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہونی چاہیے۔ مگر جب الیکشن کا وقت آتا ہے، تو وہی ذات پات کی سیاست دوبارہ زندہ ہو جاتی ہے۔“

 

کیا واقعی 2024 میں بی جے پی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا؟

 نہال صغیر



۲۰۱۴ سے ایک جملہ بار بار دہرایا جاتا ہے کہ کچھ بھی کرلو آئے گا تو مودی ہی اور بھارتی ووٹروں کی اکثریت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہ بالکل درست ہے ۔ بار بار سوشل میڈیا پر ایسے انٹر ویوز سامنے آئے ہیں جس میں کوئی شخص کہتا ہے کہ ہم ہزار روپئے پیٹرول خرید یں گے مگر ووٹ تو مودی کو ہی دیں گے ۔ اسی طرح کسی سے پوچھا جاتا ہے کہ آخر آپ مودی کو کیوں ووٹ دیں گے ؟ اس سوال کے جواب میں مفلوک الحال نظر آنے والا بے روزگار نوجوان کہتا ہے کہ مودی نے مسلمانوں کو سبق سکھایا ہے ہندوئوں کی حفاظت کی ہے ۔حالانکہ کے اس شخص سے جب کوئی صحافی کائونٹر سوال کرتا ہے تو وہ دائیں بائیں جھانکتا نظر آتا ہے ؟ آپ ہجومی تشدد کے مناظر یا رام نومی کے موقع پر ہونے والے تشدد کے مناظر دیکھیں اور مشاہدہ کریں کہ جن ہندو نوجوانوں نے اس میں حصہ لیا ان کی شکل اور ان کے لباس سے ان کی مفلوک الحالی عیاں تھی ۔یعنی غربت ، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟ اس کی سب سے اہم وجہ حکومت کا سارے میڈیا اداروں پر قبضہ اور ان کے ذریعہ اپنے حق میں رائے عامہ کو ہموار کرنا ہوسکتی ہے ۔ ویسے بھی اوپر کی دو مثالوں اور پانچ سال کی ناکام حکمرانی کے باوجود ۲۰۱۹ میں بی جے پی کو دوبارہ حکومت سونپنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں کے عوام پورے کے پورے نہیں تو کم از کم پچاس فیصد کی سوچ بالغ نہیں ہوئی ہے وہ اندھی دشمنی میں اپنا سب کچھ تباہ کرنے کو تیار رہتے ہیں ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پلوامہ کے بعد پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیک نے مودی حکومت کی نائو پار لگائی ورنہ وہ ۲۰۱۹ میں کسی بھی طور حکومت میں نہیں آپاتی ۔لیکن یہ بھی یہاں کے عوام کی بچکانہ سوچ کو ہی ظاہر کرتی ہے ۔ جہاں کے عوام بچوں کی طرح محض معمولی ٹافی جیسے جملوں سے بہل جائیں اور مہنگائی سمیت دیگر کسی بھی عوامی مسائل ان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے وہاں نکمی اور ناکارہ حکومت کو کسی طرح کا کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا ۔ہم مان لیتے ہیں کہ مین اسٹریم میڈیا پر مودی اور ان کی نام نہاد جادوئی شخصیت کا اشتہار چلتا رہتا ہے ، کسی بھی ایسی خبر کو وہاں جگہ نہیں ملتی جس میں حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہو ۔لیکن یوٹیوب سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کے ذریعہ تو عوام کے سامنے حقائق پہنچ رہے ہیں نا ، اس کا اثر کیوں نہیں ہورہا ہے ؟ وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے کان سچائی سننے اور آنکھیں سچ دیکھنے کیلئے بند کررکھے ہیں ۔کہا جاتا ہے سوتے ہوئے کو جگانا آسان ہے لیکن جو سونے کی اداکاری کررہا ہو اسے نہیں جگایا جاسکتا۔
اب بعض آزاد صحافی اور یو ٹیوب پر اپنی بھڑاس نکالنے والے زور شور سے یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ۲۰۲۴ میں مودی حکومت کیلئے راہیں بہت مشکل ہوں گی ، بعض کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ وہ سو سیٹیں بھی نہیں حاصل کرسکے گی ۔ لیکن ۲۰۲۴ کو ابھی ایک سال ہے اور یہاں کے عوام جیسے احمق ضعیف الاعتقادی میں اپنی مثال آپ ہیں وہ کسی بھی قسم کی اداکاری یا مسلم دشمنی کے ایشو پر وہ ووٹ تو مودی کو ہی دے سکتے ہیں ۔ اگر کسی کو اس میں شک ہے کہ یہاں کے عوام احمق نہیں ہیں تو وہ ثابت کریں کہ جس حکومت کو اپنی ناکامیوں اور طرز حکمرانی سے بے بہرہ ہونے کی پاداش میں پہلے ہی ٹرم میں درمیان میں گر جانا چاہئے تھا اس نے دوسرے ٹرم کیلئے بھی ووٹ کیسے حاصل کرلیا ۔ ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم سب سے بڑے جمہوری ملک ہیں ،معتبر یا نظریاتی طور سے پختہ نہیں ہوجاتے ۔کچھ لوگوں کا خیال یہ بھی ہے کہ ای وی ایم کی وجہ سے بی جے پی جیت کا جھنڈا بلند کررہی ہے ۔ لیکن اس پر بھی یقین اس لئے نہیں کیا جاسکتا کہ سب سے زیادہ زور و شور سے ای وی ایم مشین کیخلاف میدان میں آنے والے کیجریوال کی ٹیم کی جانب سے بھی آواز آنا بند ہوگئی ہے اور کانگریس کی جانب سےجسے اب بھی سب بڑی پارٹی ہونے کا زعم ہے کی جانب سے کبھی ای وی ایم کیخلاف کوئی مضبوط آواز نہیں اٹھی ۔بہتر ہوتا کہ مشینوں اور دیگر ذرائع کو الزامات دینے کی بجائے ہم یہ تسلیم کرلیتے کہ یہاں کا ووٹر اب بھی ذہنی طور بالغ نہیں ہوا ہے ۔ اسے صحیح فیصلہ کرنے میں اب بھی صدیاں درکار ہیں ۔لطیفہ سنئے ، جب این آر سی کیخلاف احتجاج شباب پر تھا اس وقت ملک کے طول و ارض سے یہ خبریں آئیں کہ دلت اور دیگر پسماندہ طبقات لوگ مسلمانوں کے گھروں پر نظر گڑائے ہوئے تھے کہ ’’جب یہ میاں پاکستان بھاگے گا تو اس میں ہم رہیں گے‘‘۔اسی طرح کشمیر سے دفعہ ۳۷۰ ہٹانے کے بعد بھی شیخ چلی کے خوابوں کی طرح یہ باتیں سامنے آئیں کہ وہ کشمیر میں زمینیں خریدیں گے ۔
اب ۲۰۲۴ میں بی جے پی کے زوال کی پیش گوئی جو لوگ کررہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جس پلوامہ حملہ (جس میں چالیس نیم فوجی جوانوں کی موت ہوگئی تھی) کی وجہ سے بی جے پی کو ۲۰۱۹ کا الیکشن سر کرنے میں آسانی ہوئی تھی اب اسی کی وجہ سے اسے ۲۰۲۴ میں اسے اقتدار سے بے دخل ہونا پڑسکتا ہے ،کیونکہ اس وقت مودی اور ڈوول نے ستیہ پال ملک کو خاموش رہنے کیلئے کہا تھا ۔ اب ستیہ پال ملک نے اس راز پر سے پردہ ہٹا دیا ہے کہ چالیس جوانوں کی موت کی ذمہ دار مودی حکومت تھی ، ان کی وزارت نیم فوجہ دستوں کی نقل مکانی کیلئے ہوائی جہاز مہیا کرانے سے انکار کردیا تھا ۔ اس کےعلاوہ بھی کئی باتیں تھیں جو منظر عام پر آئی ہیں ۔ بات تو پہلے بھی سامنے آئی تھی مگر وہ آزاد صحافیوں کی جانب سے تھی جس میں خفیہ ایجنسی کی ناکامی اور اتنے بڑے نیم فوجہ دستہ کے قافلہ کا بذریعہ روڈ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا ۔مین اسٹریم میڈیا کل بھی خاموش تھا آج بھی اسے سانپ سونگھ گیا ہے ۔ لیکن اس بار تھوڑی سی تبدیلی یہ ہے کہ اس وقت جموں کشمیر کے جو گورنر تھے انہوں نے خود سے حکومت کے نکمے پن پر برسر عام آواز اٹھائی ہے ۔ جو کچھ ستیہ پال ملک نے کہی ہے اگر یہاں کے عوام بیدار مغز ہوتے تو وہ سڑکوں پر آجاتے اور ایسی حکومت کو ایک ساعت کیلئے برقرار رہنے پر راضی نہیں ہوتے ۔ مگر یہاں کے عوام تو جب کرنسی نوٹ کی منسوخی اور کووڈ کے وقت غیر منصوبہ بند لاک ڈائون کے سبب مصائب بھی بنام مسلم دشمنی برداشت کرگئے توستیہ پال ملک کا انکشاف بھی انہیں کسی اہم پیش قدمی سے روکے گا ۔واضح ہوکہ جب یہاں پانچ سو اور ہزار کے نوٹ بن کئے گئے تھے تو اس کے دو چار روز بعد کسی ملک نے ایسا ہی فیصلہ لیا تھا لیکن وہاں کے عوام کے شدید احتجاج کے سبب حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے ۔آپ اندازہ لگائیں یہاں نوٹ بندی میں ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد بینکوں کی لائن میں اور لاکھوں افراد کووڈ میں حکومت کی نااہلی کے سبب لقمہ اجل بن گئے مگر ایک پتہ تک نہیں ہلا۔
کچھ روز سے دہلی کے جنتر منتر پر کچھ پہلوان دھرنے پر بیٹھے ہیں جس میں خواتین کی اکثریت ہے ، ان میں سے اکثر نے عالمی پیمانے پر ملک کا نام روشن کرنے کا کام کیا ہے ۔ ان کا الزام ہے کہ ان کی کمیٹی کا سربراہ جنسی استحصال کا گھنائونا کھیل کھیلتا رہا ہے ۔ ان لوگوں نے کئی ماہ قبل بھی دھرنا دیا تھا تب انہوں نے احتجاج اس وقت ختم کیا تھا جب ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ملزمین کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا مگر جب ان کے ملزم کو تمام الزامات سے بری کردیا گیا تو انہوں نے دوبارہ شدت کے ساتھ دھرنے پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا اور اب سپریم کورٹ کے دبائو کے بعد دہلی پولس نے ریسلنگ فیڈریشن کے صدر اور بی جے پی کے ایم پی برج بھوشن کیخلاف ایف آئی آر درج کرلیا ہے ۔ گرفتاری اب بھی نہیں ہوئی ہے ، اپوزیشن اس کی گرفتاری کا مطالبہ کررہا ہے لیکن اپوزیشن کی کیا اوقات رہ گئی یہ کسی سے مخفی نہیں ہے ۔ بولتا ہندوستان نے ۲۵؍ اپریل کو اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے ونیش پھوگاٹ کے حوالہ سے ٹوئٹ کرکے بتایا کہ برج بھوشن پر سو دو سو نہیں ایک ہزار سے زائد خواتین کے جنسی استحصال کا الزام ہے ۔ اتنے کریہہ اور گھنائونے الزامات کے بعد بھی کسی شخص کا عہدہ اور پارلیمنٹ میں برقرار رہنا صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جبکہ وہ بی جے پی کا پکا نمک خوار ہو ۔آپ کو یہ جان کر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ جن مہاشے پر پہلوان لڑکیوں جنسی زیادتی کے الزامات عائد کئے ہیں اس پر چالیس مجرمانہ معاملات درج ہیں ۔ آپ کو یہ جان کر بھی یقینا حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے ارکان پارلیمان یا اسمبلی میں بی جے پی کاحصہ سب سے زیادہ ہے کیوں کہ یہ ہزاروں سال پرانی سنسکرتی کے علمبرداروںکی پارٹی ہے ۔کیا کیا گنایا جائے اور کیا چھپایا جائے ، سو کروڑ کی جعل سازی میں ملوث فرد پی ایم کا قریبی ہوتا ہے اور پی ایم او کا افسر بتاکر کوئی ٹھگ کشمیر جیسے حساس علاقوں سے گھوم آتا ہے اور اسے ہر جگہ وی آئی پی ٹریٹمنٹ ملتا ہے ۔ کوئی ہوتا جو جعل سازی ،جھوٹ ، زنا بالجبر ، ڈکیتی ،چوری اور قتل وغیرہ میں ملوث بی جے پی سے متعلق افراد کی مکمل فہرست کو کتابی شکل میں ہم جیسوں کیلئے تیار کرتا ۔
ہمارے ایک بزرگ مضمون نگار نے۲۰۲۱ میں کسانوں کے دھرنوں اور احتجاج کے درمیان کہا تھا کہ مغربی اتر پردیش سے بی جے پی کا صفایا ہوجائے گا لیکن معمولی نقصان سے زیادہ کچھ نہیں ہوا جبکہ یہ پورا علاقہ کسانوںکا ہے ۔ میرے لکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگ (چند لکھنے والے یا آزاد صحافی) خواہ کچھ بھی کہیں مگر جن لوگوں کا نعرہ ہے کہ’’ آئے گاتو مودی ہی‘‘ کچھ سوچ کر ہی انہوں نے یہ نعرہ دیا ہے ۔ بی جے پی کو جن لوگوں کا ووٹ مل رہا ہے ان کے ذہنوںپر کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ انہیں صرف ایک بات ہی یاد رہتی ہے کہ مسلمانوں کو ان کی اوقات میں رکھنے کیلئے مودی سے بہتر کوئی نہیں ہے ۔ برج بھوشن کے سیاہ کارنامے سے بھی ان کے ذہنوں میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی ۔ جو قوم زنا بالجبر اور قتل کے مجرمین کا خیر مقدم پھولوں کی مالا اور مٹھائیاں کھلا کراور ترنگا یاترا کے ذریعہ کرتی ہو اس میں تبدیلی ممکن نظر نہیں آتی ۔ اس لئے زیادہ خوش فہمی کی ضرورت نہیں کہ ۲۰۲۴ میں جبر کی اس حکومت کوزوال کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ مجھے تو محسوس ہوتا ہے کہ ابھی مزید کئی ٹرم یہی لوگ آئیں گے اور ملک کو تباہی کے ایسے دلدل میں لے جائیں گے جہاں سے اس کا نکلنا آسان نہیں ہوگا ۔ ان کا یہ کام یہاں کے بے حس اور ناپختہ ذہن کے عوام کررہے ہیں ۔اب کوئی شخصیت یا پارٹی انہیں جب حساس اور فکری طور پر پختہ کرنے کا کام کرے گی تب ہی کسی تبدیلی کی امید کی جاسکتی ہے ۔ یہ امریکہ نہیں ہے کہ جہاں ٹرمپ کو دوبارہ حکومت میں آنے سے عوام روک دیتے ہیں اور وہاں کا عدالتی نظام دیکھئے کہ عارضی طور سے ہی سہی لیکن سابق صدر کو گرفتار کرلیا جاتا ہے ۔ سوچئے یہاں ایسا ممکن ہے ؟

گاندھی اور گوڈسے

 


ممتاز میر  

   چند دنوں پہلے ممبئی سے ایک دوست کا فو ن آیا۔وہ ڈاکٹر ہیںممبئی قیام کے دوران ہفتے میں ۴؍۵ دن ان سے ملاقات رہتی تھی۔انتہا درجے کے دوٹوک اور خوش مزاج ہیں ۔جسمانی روگوں کا علاج دواؤں سے تو کرتے ہی ہیںمگر ان کی باتیں بھی کسی ٹانک سے کم نہیں ہوتیں۔ہم اکثر اپنا موڈ درست کرنے کے لئے ان سے باتیں کرتے ہیں جو اکسیر بھی ثابت ہوتی ہیں۔کہنے لگے چھ ماہ ہورہے ہیں آپ ممبئی نہیں آئے۔ ہم نے کہا ،پہلے تو اس انتظار میں رہے کہ سی ایس ٹی والی گاڑیاں شروع ہو تو ریزرویشن کرائیں ۔اس سے مایوس ہوئے تو کر لا ٹرمنس کا ریزرویشن ڈھونڈنے لگے۔اب ملا ہے تو یکم اکتوبر کو یہاں سے نکلیں گے ۔ پوچھا، کہ دو،اکتوبر کی صبح پہونچ جائیں گے ، ہم نے کہا ، انشا ء اللہ ،کہنے لگے ۔یعنی آپ گاندھی جینتی ہمارے ساتھ منائیں گے ،دیش بھکتی کے گیت گائیں گے۔ہم نے کہا ۔یہ تو ٹھیک ہے کہ ہم دو اکتوبرکو ممبئی میں ہوں گے مگر باقی سب کرتے ہوئے اب ڈر لگتا ہے ۔ پوچھا،کیوں؟ہم نے کہا کہ بھائی NSA سے ڈر لگتا ہے ۔پوچھاNSA اور گاندھی جینتی کا کیا تعلق۔ ہم نے کہا ،اب گاندھی جی دیش بھکت کہاں رہے ۔ اب تو دیش کا ہیرو اور دیش بھکت ناتھو رام گوڈسے ہے ۔اب جگہ جگہ گاندھی کے بازو میں ناتھو رام گوڈسے کی تصاویر لگائی جا رہی ہے ۔کہیں ایسا بھی ہوا ہوگا کہ گاندھی کی تصاویر نکال کر ناتھورام کی لگائی گئی ہوں۔ انشاء اللہ وہ وقت بھی آئے گا جب گاندھی جی کو راشٹر پتا کے’’عہدے‘‘ سے ہٹا کر ’’ناتھو رام جی‘‘ کو راشٹر پتا بنا دیا جائے۔اوراگر یہ ممکن نہ ہوا تو راشٹر دادا بنا دیا جائے۔ ویسے بھی ناتھو رام جی کا تعلق جن لوگوں سے تھا وہ دادا گیری میں ہی یقین رکھتے ہیں۔یہ سب بھی ممکن نہ ہوا تو بھارت رتن تو کبھی بھی دیا جا سکتا ہے۔اور یہ سب اس لئے ہوگا کہ ہماری سول سوسائٹی یا تو بے حس ہے یا منافق۔

   کچھ مسلمان دانشوروں کا خیال ہے کہ گاندھی جی سنگھیوں کے ہی فرنٹ مین تھے ۔جس طرح یہودی چت اور پٹ دونوں پر داؤں کھیلتے ہیں بالکل اسی طرح ہمارے یہاں سنگھی ہر جگہ اپنے آدمی بٹھا کر رکھتے ہیں ۔ جیسے حالیہ تاریخ میں نرسمہا راؤ۔وہ کانگریس میں سلیپر سیل کی طرح تھے ،قسمت نے یاوری کی وزیر اعظم بن گئے۔دکھا دیا اپنی اصلی چہرہ ،گروادی بابری مسجد۔اسی طرح ان دانشوروں کا خیال ہے کہ گاندھی جی جو کچھ بھی کرتے رہے اس میں ہندو مہا سبھا کی مرضی شامل تھی ۔بلکہ وہ سبھائیوں کی بتائی ہوئی چالیں چلتے تھے۔مگر فرنٹ مین بہرحال ہوتا تو ایک جاندار انسان ہی ہے ۔بے جان مشین کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی کوئی عقل اور جذبات نہیں ہوتے ۔انسان کبھی کبھی خود بھی سوچ لیتا ہے ۔کبھی کبھی اس کی عقل متاثر بھی ہوجاتی ہے ۔شقی القلب انسانوں کے بھی جذبات کبھی متاثر ہوجاتے ہیں۔پھر گاندھی برہمن تو تھے نہیں،وہ وطن عزیز کی تقسیم کے مخالف تھے۔مگر جب تقسیم نوشتہء دیوار بن گئی تو انھوں نے پاکستان کے لئے کچھ ہمدردی دکھائی۔ان کا موقف تھا کہ پاکستان کو اس کے حصے کے ۵۵ کروڑ کی رقم ادا کی جائے جب کہ سنگھ چاہتا تھا کہ پاکستان بھوکا مر جائے ۔

  آجکل ہم الجمیعتہ دہلی کے ۱۹۲۵ سے ۱۹۲۸تک کے اداریے و مضامین پڑھ رہے ہیں ۔ان تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ ہندو مہا سبھا کسی حال میں وطن عزیز میں نہ امن قائم ہونے دینا چاہتی تھی نہ اتحاد ۔ جہاں ذرا بھی امن و امان کی اور ہندو مسلم اتحاد کی صورت بنتی نظر آتی تووہاں زہریلی تقریریں کی جاتیں ہندؤں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا جاتا اور فساد برپا کرادیا جاتا۔اور پھر برسوں کے لئے ہندو مسلم اتحاد خواب بن کر رہ جاتا جو انگریزوں سے چھٹکارے کے لئے ضروری تھا۔آج جو ہورہا ہے وہی سو سال پہلے بھی ہوا ۔ہندوؤں کے جن بڑوں کو اس وقت ایکشن لینا چاہئے تھا وہ سب اپنے اپنے گوشہء عافیت میں پڑے رہے اور میدان شر پسندوں کے لئے خالی چھوڑدیا ۔جب میدان میں مقابل کوئی ہے ہی نہیںتو کمزور سے کمزور ٹیم ہو جیتے گی تو وہی۔آج بھی تاریخ کے دھارے کو موڑنے یا روکنے کی کوئی کوشش کہیں نظر نہیں آتی۔بہرحال گاندھی جی کی پاکستان نوازی سنگھ کے روڈ میپ کے خلاف تھی ۔فرنٹ مین باغی ہو گیا تھا ۔ایسی حالت میں ناتھو رام جو پرانا سنگھی تھا سنگھ کی مدد کو آیا۔ آج ناتھو رام کے ساتھ جو ہورہا ہے وہ اسی احسان کا بدلہ ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔7697376137 


مسلمانوں کا مسئلہ اورامر بالمعروف کےفریضہ کی ادائیگی



ممتاز میر 
  
 دنیا کے کسی ملک میںاگر کوئی شخص فوج میں بھرتی ہونے کی تمنا کرے ،منتخب بھی ہوجائے،ڈرل نشانے کی مشق اور دیگر مشقیں بھی مکمل کرلے مگر جب جنگ کا موقع آئے تو انکار کردے تو کیا اسے فوجی کہا جائے گا؟کیا یہ سال دو سال کی مشقیں اسے ،بغیر جنگ لڑے فوجی بنے رہنے میں کام آسکیں گی؟کیا فوجی ڈسپلن کا ادارہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دے گا؟یقیناٍ ایسا نہیں ہوگا ،بلکہ اسے جزا نہیں سزا ملے گی۔مگر، مسلمانوں کا معاملہ دنیا سے الگ ہے ۔انھوں نے بھی اسلام کی چند ابتدائی چیزوں کو پکڑ کر مسلم حنیف ہونے کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ان کے علماء ان کی کھوپڑیوں میں صدیوں سے یہ بات اتار رہے ہیںکہ نماز روزہ حج زکوٰۃ ہی بس دین ہے۔اور اس پر زیادہ سے زیادہ عمل جنت کی ضمانت ہے۔ باقی جو کچھ بھی ہے یہ دنیا داری کی باتیں ہیں۔جس کا ان جیسے ’’با عمل ‘‘مسلمانوں کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے۔اگر ہم مسلمان ہونے کے بعد ابتدائی مشقوں کو ہی دین تصور کرلیںتب بھی جنت نشین ہونے کی کوئی ضمانت کم از کم ہمیں ملتی نظر نہیں آتی۔کیونکہ نمازیں تو خوب ہو رہی ہیں مگر حال یہ کہ ’’رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی‘‘۔ جب موبائل نہیں تھا تب بھی مسلمانوں کی نمازوں میں خشوع و خضوع نظر نہ آتا تھا ۔آج یہ حال ہے کہ موبائل آن رکھ کر نمازیں پڑھی جا رہی ہیںتاکہ حالت نماز میں ہی پتہ چل جائے کہ کسی کا فون آیا تھا۔اوقات نماز میں اگر فون آجائے تو دیگر نمازیوں کا خیال اب کسی کو نہیں رہتا۔عام لوگوں کی بات کیابڑے بڑے مفتی اور علماء کو یہ حدیث یاد نہیںجس میں حضور ﷺ نے کہا تھا ہماری مسجد میں کوئی پیاز اور لہسن کھا کر نہ آئے۔جب کم و بیش سارے نمازی نو سو چوہے کھا کر مسجد کا در پکڑ رہے ہوں تو اتنی چھوٹی سی حدیث کون یاد رکھے گا۔کچھ لوگ فرض ہی نہیں نفل روزے بھی رکھتے ہیں۔بلکہ کچھ لوگ تو باقاعدہ ہر ماہ ایام بیض کے روزے رکھتے ہیںمگر اللہ نے انسانوں پر روزے کیوں فرض کئے یہ شعور ان کی زندگی میں کبھی کہیں ظاہر نہیں ہوتا۔زکوٰۃ کے تعلق سے کہا نہیں جا سکتا کہ کون دیتا ہے کون نہیں دیتا۔مگر یہ تو ہے کہ پہلے کے مقابلے اب زیادہ نکالی جا رہی ہے مگر اس میںبھی قربانی کی طرح نمائش کا پہلو غالب ہو گیا ہے۔اب یہ بھی دماغ میں چڑھ گیا ہے کہ ہم زکوٰۃ لینے والے پر احسان کر رہے ہیں۔دو دہائی پہلے تک حج کے لئے بھی خال خال لوگ ہی جاتے تھے ۔مگر حج تو چھوڑئیے عمرہ بھی اسٹیٹس سمبل بن گیا ہے تو دوسری پکنک۔اب تو لوگ حج کا احرام باندھتے ہی واٹس ایپ پر سیلفیاں پوسٹ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔اور واپس آکر جاہل ہوا تو حاجی اور تعلیم یافتہ ہوا تو خود کو الحاج کہلوانا شروع کر دیتا ہے ۔
  مذکورہ بالا تمام مشقوں کی وجہ سے مسلمانوںکے دل و دماغ سے یہ بات ہی نکل گئی ہے کہ وہ اس دنیا میں کیوں بھیجے گئے ہیں۔ان کا دنیا میں مقصد بعثت کیا ہے؟ہمارے نزدیک ان کا مقصد بعثت ابلیس سے مقابلہ کرنا اور اسے شکست دینا ہے ۔اور وہ صرف نماز روزہ حج زکوٰۃکی ابتدائی ٹریننگ سے ممکن نہیں ۔اگر ایسا ہوتا تو قرآن اتنا ضخیم نہ ہوتا۔صبر کا ذکر نہ ہوتا۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی تلقین نہ ہوتی ۔جہادکی تیاری کا حکم نہ ہوتا ۔عورتوں کو پردے میں چھپانے کی ضرورت نہ ہوتی۔ضرورت پڑ نے پر اصحاب کہف کی روش اختیار کرنے کو نہ کہا جاتا ۔قرآن میں ان باتوں کے علاوہ بھی بہت سارے احکامات ہیںمگر صرف قرآن میں ہی ہمارے لئے ہدایات نہیں ہیںبلکہ احادیث اورسنت رسول اللہ بھی ہمارے لئے سر چشمہء ہدایات ہیں۔وراثت کا حکم ہے ،مسلمانوں کے لئے وصیت کی گنجائش ہے تو مگر محدود ہے۔مگر ہمارے یہاں وراثت کے جھگڑے عام ہیںجبکہ وراثت کے احکامات کے ہوتے ہوئے وراثت کے جھگڑے ہونا ہی نہیں چاہئے۔خاص طور پر بہنوں کو وراثت میں حصہ دینے کا تصور تو ختم ہی ہو چکا ہے۔اور وہی احساس جرم ہمیں دھڑا دھڑ حج و عمرے کی ترغیب دیتا ہے ۔اسلام کہتا ہے وہ مومن نہیں جس کے ہاتھوں دوسرا مسلمان اور پڑوسی محفوظ نہ ہوں۔سوچئے کا ہمارا رویہ ان ہدایات سے میل کھاتا ہے۔ہمارا حال یہ کہ ہم ایک دوسرے سے اس لئے رنجش رکھتے ہیںہمارا دوست یا پڑوسی ہم سے زیادہ بڑی قربانی کر رہا ہے یا اس کاگھر ہم سے زیادہ شاندار ہے۔ ایک حدیث کہتی ہے کہ مومن زانی ہو سکتا ہے ،قاتل ہو سکتا ہے مگر جھوٹا نہیں ہو سکتا ہے اس حدیث پر عمل تو دور اسکی اہمیت کا اندازہ اس پر عمل کے فوائدہماری عوام تو کجا ہمارے بڑے بڑے علماء کو بھی نہیں ہے ۔ اور ہم یہ بات یونہی ہوامیں نہیں کہہ رہے ہیں ۔ہمیں اس کا ذاتی تجربہ ہے۔اور دور کیوں جائیے ۔ابھی ابھی ایک بڑے مولانا نے پہلے شاہین باغ کے خلاف بولا پھر تھو تھو ہونے پر اپنے بیان سے مکر گئے جبکہ دنیا انھیں ویڈیو پر شاہین باغ کے خلاف بیان دیتے دیکھ اور سن رہی ہے۔اور یہ ان کا حال ہے جو قبروں میں پیر لٹکائے بیٹھے ہیںکیا موت کا نہیں صرف نقصان کا خوف ،خوف خدا سے بڑھ نہیں گیا ہے ۔اس اقرار میں حرج کیا تھاکہ پولس میری چھاتی پر کھڑی تھی اس لئے ڈر کر میں نے شاہین باغ کے خلاف بیان دیا ۔اس اخلاقی جرأت سے عوام بھی سمجھ جاتی خدا کی سزا سے بھی بچ جاتے۔اسی لئے ہمارے علمائےکرام نے دین کو نماز روزے حج و زکوٰۃ میں قید کر کے رکھ دیا ہے ۔ایسا کیوں کیا گیا؟اسلئے کیا گیا کہ اگر لوگ نماز روزے اور حج و زکوٰۃ سے آگے بڑھ کر عمل کرنے لگے تو پھر وہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر بھی لازماً عمل کریں گے اور ہمارے رہنمایان کو عوام کے سامنے جوابدہAccountable ہونا پڑے گا ۔
  ہم بڑے شوق سے خوشی سے فخر سے پڑھتے اور پڑھاتے ہیں کہ ہمارے خلفائے راشدین نے خلیفہ بننے کے بعد جو پہلا خطبہ دیا تو کہا کہ لوگو ! میری اطاعت تم پر اس وقت تک فرض ہے جب تک  میں تمھیں معروف کا حکم دوں اور جب میں راہ راست سے بھٹک جاؤں تو،لوگوں نے یا صحابہ نے تلوار پر ہاتھ رک کر کہا ہم تمھیں اس سے سیدھا کر دیں گے ۔ ہم یہ کیوں نہیں کرتے ؟ ہم یہ بات بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ اس دنیا میں حضرت عمر فاروقؓ سے بہتر دورحکمرانی آج تک کسی کا نہیں ہوا ہے۔اور یہ مسلمان ہی نہیں صاحب مطالعہ غیر مسلم بھی مانتے ہیں ۔یہ وہ دور حکومت تھا جس میں ایک عورت بھی بر سر منبر خلیفہء وقت کی غلطی کی نشاندہی کر دیتی تھی اور خلیفہء وقت بر سر منبر بآواز بلند اپنی غلطی تسلیم بھی کر لیتا تھا ۔ عام آدمی بھی سر راہ خلیفہ کو روک کر اسے باتیں سنا سکتاتھااور اسے کوئی روکنے کی کوشش کرتا تھا تو خلیفہ کہتا تھا ۔ایسے ایک شخص کا وجود ہمارے تمام مفتوحہ علاقوں سے زیادہ مفید ہے۔اس لئے ہم دہائیوںسے لکھ رہےہیں کہ نماز روزہ حج زکوٰۃ سے بڑا فریضہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے۔کوئی اس سے منہ موڑ کر نماز روزے حج و زکوٰۃ میں اگر پناہ ڈھونڈتا ہے تو کم سے کم ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ ایسے روزہ نماز حج زکوٰۃ اس کے منہ پر مار دئے جائیں گے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن میں متعدد جگہ اس فریضے کے تعلق سے آگاہ فرماتے ہوئے کہتا ہے ۔سورہء آل عمران ۱۱۰ کا ترجمہ ہے ۔تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے برپا کی گئی ہے۔کیوں کہ تم لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہو ۔برائیوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو ۔کم وبیش اسی مفہوم کے احکامات ہمیں قرآن میں سورہء توبہ۷۱،۱۱۲۔سورہء اعراف ۱۵۷،سورہء الحج۴۱اور سورہء لقمان ۱۷ میں بھی ملے۔ممکن ہے اور مقامات پر بھی ہوں اور ہم تلاش نہ کر پائیں ہوں۔سورہء اعراف میں تو اسے نبی کی دعوت کا حصہ بتایا گیا ہے۔تمام مقامات کے احکامات پڑھنے کے بعد جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر ہم امر بالمعروف کا فریضہ انجام دیں تو ہمارا معاشرہ بھی قریب قریب اسی طرح مثالی بن جائے گا جیسے کہ صحابہء کرام کا تھا ۔جبکہ آج ہمارا معاشرہ مثالی نہیں گالی ہے۔
  نماز کس لئے ضروری ہے۔نماز ایک مکمل ورزش ہے جسمانی بھی دماغی بھی اور روحانی بھی ۔مگر آج ۹۹ فی صد لوگ جو نماز پڑھتے ہیں وہ ریاکاری کے سوا کچھ نہیں۔اس لئے جو فوائد حاصل ہونے چاہئیں وہ نہیں ہوتے ۔اسی طرح روزہ بھی ہے۔آپ کے جسم کے تمام فاسد مادوں کو ختم کر دیتا ہے ۔جسم کو صحتمند رکھتا ہے ، آپ کو بتاتا ہے کہ بھوک کیا چیز ہے ۔پھر کچھ اوقات ایسے بھی ہوتے ہیں جس میں آپ کو بھوک برداشت کرنے کی عادت ہونی چاہئے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ قرب الٰہی کا ذریعہ ہے۔زکوٰۃ آپ کو مالی قربانی پر مائل کرتی ہے۔لالچ کو ختم کرتی ہے۔آپ کے اقربا و احباب میں محبت پیدا کرتی ہے۔حج اپنے مالک کے غلام بن کر مکمل سپردگی اختیار کرنے کا نام ہے۔اس کے لئے ہر قسم کی قربانی بخوشی دینے کا نام ہے ۔یہ چند فوائد جو ہم نے یہاں گنائے ہیں ان چاروں عبادتوں سے حاصل ہونے والے فوائد کا عشر عشیر بھی نہیں ہے ۔ان عبادتوں کو ان کی روح کے ساتھ ادا کرنے کے بعد ہی ہم اس دنیا میں ابلیس کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔اب اس کسوٹی پر عوام ہی نہیں علما کو بھی اپنے آپ کو پرکھنا چاہئے کہ کیا ہم واقعی ان عبادتوں کو ان کے صحیح تناظر میں ادا کرنے کی یا برتنے کی خواہش رکھتے ہیں؟کیا ہم ان عبادتوں کے ذریعے انسانوں کے دشمن سے اللہ کے مغضوب سے لڑ سکیں گے؟ 
  ہم برسوں سے لکھ رہے ہیں کہ اب مشرق میں ایک دوہی چھوٹے ٹاپو بچے ہیں جہاںامت مسلمہ باقی بچی ہے۔ہمارے نزدیک اب امت مسلمہ مغرب میں تیار ہو رہی ہے جو اسلام قبول کرنے کے بعد چند ماہ اسلام کا مطالعہ کرکے ابلیس سے مقابلہ اور اللہ کی نصرت تلاش کرنے نکل پڑتے ہیں۔
   7697376137       


ضمنی انتخابی نتائج سے زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں !

نہال صغیر
ہمارا عوام کے ساتھ آخری سانس تک کا اٹوٹ معاہدہ ہے اور نتیش جی کا بی جے پی کے ساتھ موقعہ پرستی کا لٹھ بندھن ہے ‘ یہ تیجسوی یادو کے ایک ٹوئٹ کے چند الفاظ ہیں ۔بہار کے ضمنی الیکشن میں ان کی پارٹی کی شاندار کامیابی پر ایک پرجوش ردعمل ہے ۔ان کے لئے یہ صحیح بھی ہے کہ پارٹی سپریمو لالو پرساد اس وقت برہمنوں کی مخالفت کی پاداش میں بدعنوانی کے ایک مقدمہ میں پابند سلاسل ہیں ۔اس حالت میں برہمنی ٹولہ ان کی پارٹی کے خاتمہ کی پیش گوئی کررہا تھا لیکن اس کے برعکس اسے مزید تقویت مل رہی ہے اور آئندہ بھی امید ہے کہ لالو پرساد کی پارٹی دیگر کسی بھی علاقائی سیاسی جماعت سے کہیں زیادہ بہتر مظاہرہ کرے گی ۔اسی طرح گورکھپور اور پھول پور میں بھی بی جے پی کو شدید صدمہ والی ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔گورکھپور کی سیٹ پر ہارنا بی جے پی کیلئے زوردار جھٹکہ تو ہے ہی کہ وہاں سے کئی دہائی تک ہندو توا کا جھنڈا گاڑے رہنے کے بعد اچانک ان کا بے زمین ہو جانا یوگی کے لئے دس ڈگری کے زلزلہ سے زیادہ خطرناک ہے ۔بہار میں نتیش کمار کو بی جے پی سے ہاتھ ملانے کی قیمت چکانی پڑرہی ہے اور یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی کو گورکھپور میں آکسیجن سے مرنے والے بچوں کی روحوں نے انتقام لے لیا ہے ۔گورکھپور میں یوگی کے زمین کھونے سے ان معصوم بچوں کے لاچار والدین کے دلوں کو بھی راحت ملی ہوگی جنہیں یوگی کے اس بیان سے شدید صدمہ پہنچا تھا کہ کیا سرکار لوگوں کے بچے بھی پالے گی ۔اب انہیں اپنے اس احمقانہ بیان کی شدت کا اندازہ ہو رہا ہوگا۔ایک تو غیر ذمہ دارانہ بیان اور دوئم بچوں کی زندگی بچانے کیلئے جد و جہد کرنے والے مسلم ڈاکٹر پر الزام عائد کر انہیں جیل بھیج دیا ۔امید تو نہیں ہے کہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور یوپی کے یوگی اس سے سبق لیں گے ۔یوگی نے تو ایس پی بی ایس پی اتحاد پر ہی تنقید کرڈالی بجائے اس کے کہ وہ اپنے گریبانوں میں جھانکتے ۔
بی جے پی نے حسب سابق اپنی نفرت انگیزی کی سیاست کو ان ضمنی انتخابات میں بھی استعمال کیا چنانچہ بہار بی جے پی کے سربراہ نتیانند رائے نے اپنے ایک نفرت انگیز بیان میں کہا تھا کہ ’’اگر آر جے ڈی کے امیدوار سرفراز عالم جیت جاتے ہیں تو ارریہ آئی ایس آئی کا اڈہ بن جائے گا ‘‘۔لیکن عوام نے ان کی نفرت کی سیاست کو رد کردیا اور سرفراز عالم فاتح قرار دیئے گئے ۔ بی جے پی کے لوگوں نے ہندوتوا کا ایسا کارڈ کھیلا کہ پسماندہ طبقات کو بھی اپنی پسماندگی سے زیادہ ہندوتو ہی نظر آتا ہے ۔
یہی سبب ہے کہ بہار بی جے پی کا چیف بھی ایسی گھٹیا اور نفرت انگیز بیان بازی سے کام لیا ۔ملک کی پوری سیاست دو محوروں پر گھومتی ہے اول مسلم مخالفت اور دوئم پاکستان کی دہشت ۔حالانکہ ہندوستان جیسے عظیم ملک کیلئے پاکستان کبھی کوئی حقیقی مسئلہ نہیں رہا لیکن کیا کیا جائے کہ اس کی مخالفت سے ارتکاز ووٹ کا فائدہ میسر آجاتا ہے ۔ اس لئے پاکستان اور آئی ایس آئی کی سیاست کی جاتی ہے ۔یہ بی جے پی کا ہی کمال ہے کہ بہار میں بھی اس طرح کی سیاست کی جانے لگی ہے ورنہ اب سے پہلے بہار میں اس طرح کی گھٹیا سیاست نہیں کی جاتی تھی اور بہار و اتر پردیس کے لیڈروں کے اس طرح کے بیان آتے تھے ۔مودی حکومت جس نے 2014 کا الیکشن ترقی اور سب کا ساتھ کے نعرہ کے ساتھ لڑا تھا اس نے کھلی فرقہ پرستی اور مسلمانوں اور دلتوں کیخلاف بدزبانی کا رنگ اختیار کرلیا ہے ۔بے چارے کریں بھی تو کیا چار سال کا عرصہ انہوں نے نئے نئے نعروں اور منصوبہ بندی میں نکال دیا اور ملکی معیشت کا بیڑا غرق کردیا جس سے عام آدمی کو میسر دو وقت کی روزی روٹی کا سہارا بھی جاتا ہے جبکہ جناب دو کروڑ سالانہ روزگار کے وعدہ پر آئے اور نتیجہ ہوا کہ حواس باختہ ہو کر پکوڑے کی دکان لگانے کا مشورہ دینے لگے جس میں چوکیدار اور تڑی پار دونوں شامل ہیں۔حالیہ ضمنی نتائج سے عوام کے اس طبقہ کے دلوں کو تھوڑی ٹھنڈک تو ملی ہوگی جو ان کے احمقانہ پالیسیوں کے سبب بے روزگار ہو گیا اور جن کے بچوں کے بھوکوں مرنے کی نوبت آگئی ہے لیکن بہر حال حالیہ ضمنی الیکشنی نتائج سے زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ایسی خوشی ہمیں دہلی اور بہار میں ان کی شرمناک ہار سے بھی ہوئی تھی اور لوگوں نے شادیانے بجانے شروع کردیئے تھے کہ بھائی بس بہت ہو گیا اب ان کے زوال کی شروعات ہو گئی ہے پر کیا ہوا ہم نے دیکھا کہ ریاست پر ریاست ان کے پرچم تلے آتی گئی ۔کہیں انہوں نے واقعی انتخابی جیت حاصل کی اور کہیں جوڑ توڑ اور خرید و فروخت سے کام لے کر بدترین سیاسی بدیانتی کا مظاہرہ کیا ۔ہر چند کہ سنگھ اور بی جے پی بہت قوت حاصل کرچکے ہیں اور ان کے منصوبہ سازوں کے پاس ترکش کی کمی نہیں ہے ۔2019 کا الیکشن جیتنے کیلئے وہ نئے پینترے استعمال کریں گے ۔لیکن اپوزیشن متحد رہا بی جے پی کو ناکوں چنے چبانے پڑ سکتے ہیں ۔اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کو اپنی سیاسی قوت کیلئے بھی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔دوسروں کے کاندھوں پر کب تک سفر کرتے رہیں گے ۔

سب کے وکاس سے مجسموں کے ویناش تک کی کہانی!


نہال صغیر
مسٹر مودی جو اب پچھلے چار سال سے ہمارے وزیر اعظم ہیں اور انہوں نے خود کو پردھان
 سیوک اور چوکیدار کہلانا پسند کیا ۔پھر ایک موقعہ ایسا آیا جب اپوزیشن کی تنقیدوں سے تنگ آکر کہا کہ فقیر ہوں جھولا اٹھا کر چلا جائوں گا لیکن ان کی بد نصیبی یہ رہی کہ اپوزیشن نے ان کی اس بات کو بھی یوں اڑایا کہ یہ فقیر ایسا ہے جو لاکھوں کے سوٹ زیب تن کرتا ہے ۔صاحب تو اس وعدے کے ساتھ آئے تھے کہ وہ سب کا وکاس کریں گے اس کیلئے انہوں نے سب کے ساتھ کی اپیل کی عوام نے بھی خوب نوازا اور مکمل اور ریکارڈ توڑ اکثریت دے کر خوب موقعہ فراہم کیا کہ لیجئے جناب کردیجئے ہمارا وکاس !لیکن ابتداء سے ہی ان کی حکومت وکاس کی پٹری سے اتر کر تفرقہ اور فسادات کی پٹری پر دوڑنے لگی ۔اس پر طرہ یہ ہے کہ ایک بعد ایک ریاست میں جوڑ توڑ سے حکومت ہتھیانے کی کامیابی نے ان کے بھکتوں کا دماغ توازن بگاڑ دیا اور حالیہ شمال مشرق ریاست میں کامیابی کے بعد مجسمہ شکنی کی نئی تحریک میں اول جلول حرکتیں کرنے میں جٹ گئے ۔شروعات تو انہوں نے لینن کے مجسمہ سے کی جس کے بارے میں ملکی طور پر کوئی خاص رد عمل نہیں ہو سکتا تھا اور ہوا بھی نہیں ۔ہاں بین الاقوامی طور پر ملک کی جو شبیہ بنی ہے وہ کسی بھی طور وطن عزیز کیلئے نیک شگون نہیں ہے۔ بہت جلد ان کے دل کے اندرون کی جھلک سامنے آنے لگی اور پیریار اور ڈاکٹر امبیڈکر کی مورتیوں کو توڑنے میں بھی باک نہیں کیا ۔وہ تو خیر ہے کہ دلتوں نے اپنے اس رد عمل کا اظہار نہیں کیا جو ان کی شناخت ہے ۔ممکن ہے کہ اس کے پیچھے حکومت کی وہ پالیسی ہو جس کے تحت دلت لیڈروں کو پابند سلاسل کرنے کی مہم بھی زوروں پر ہے ۔ہر چند کہ موجودہ حکومت نے دلتوں کے چند لیڈروں جیسے رام ولاس پاسوان ،رام داس اٹھاولے اور ادت راج کو اپنے خیمہ میں کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے اور شاید اسی وجہ سے موجودہ حکومت کیخلاف دلتوں کی تحریک میں کوئی خاصشدت نظر نہیں آتی ۔لیکن دلتوں کی یہ خاموشی وقتی بھی ہوسکتی ہے ۔وہ چند ماہ قبل بھیما کورے گائوں معاملہ میں اپنی ناراضگی اور قوت کا مظاہرہ بھی کرچکے ہیں ۔اس وقت ویویندر فرنویس نے وعدہ بھی کیا تھا کہ بھیما کوریگائوں کے ملزمین کو قانون کے دائرے میں لایا جائے گا اور اس سلسلے میں عدالتی کمیشن کے ذریعہ اس کی تحقیقات کرکے حقیقی مجرمین تک رسائی حاصل کی جائے گی ۔وہ وعدہ ہنوز عمل سے کوسوں دور ہے ۔کچھ دلت لیڈروں سے میری بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس سیکڑوں ویڈیو فوٹیج ہیں جنکی مدد سے مجرمین کی شناخت آسانی سے کی جاسکتی ہے ۔انہوں نے اس سلسلے میں آزاد میدان میں دھرنا بھی دیا تھا اور وہ خاموش بھی نہیں ہیں ۔وہ بار بار وزیر اعلیٰ مہاراشٹر کو ان کے وعدے یاد دلاتے رہتے ہیں اور بالآخر وہ گرفتاری سے کم پر راضی نہیں ہوں گے ۔گرچہ دلت تنظیمیں مسلم تنظیموں کی طرح کمزور اور خوفزدہ نہیں ہیں لیکن چونکہ برہمنی نیٹ ورک زیادہ متحرک ہے اور اسے حکومت کی درپردہ حمایت بھی حاصل ہے اس لئے ان کے دبائو کے اثرات فی الحال ظاہر نہیں ہو رہے ہیں ۔ہماری تنظیمیں قانونی طور پر ردعمل کا کوئی باقاعدہ اظہار نہیں کرتیں سوائے بے گناہوں کے مقدمے لڑنے کے ۔جب تک ہم خاطیوں کو گھیرنے کی کوشش میں سرگرداں نہیں ہوں گے تب تک حالات کے بدلنے کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی ۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ سنگھ اور بے جے پی کے پاس ساری قوتیں مہیا ہونے کے باوجود وہ بھی قانونی چارہ جوئی کرنے اور عدالتی کارروائیوں کے ذریعہ اپنے خلاف بولنے والوں کو ہراساں کرنے میں پیش پیش ہیں۔
بہر حال بات چل رہی تھی موجودہ حکومت کے زیر سایہ مجسموں کی مسماری کے واقعات کی ۔جب انسان کو غیر متوقع کامیابی مل جاتی ہے تو وہ ایسی ایسی حرکتیں کرتا ہے جس سے اس کے زوال کی شروعات جلد ہی ہو جاتی ہے ۔یہی سب کچھ بی جے پی کے ساتھ بھی ہوگا ۔موجودہ مجسمہ شکنی اسی کی علامت ہے۔وطن عزیز میں پیریار اور امبیڈکر پسماندہ اور محروم طبقات کے لیڈر کے طور پر ہوتی ہے ۔ان کے خلاف کسی توہین کا گہرا رد عمل ہوتا ہے ۔مصلحتاً اور وقت کی مناسبت سے ابھی کوئی شدید ردعمل نہیں ہوا ہو پر دلتوں میں یہ پیغام تو چلا ہی گیا کہ موجودہ حکومت کے درپردہ عزائم کیا ہیں ؟یہی باتیں مسلم تنظیموں کو عوام کے سامنے لانے کی ضرورت ہے کہ ہندو اسٹیٹ بننے کے بعد دلتوں پسماندہ اور محروم طبقات کی حالت کیا رہے گی بجائے اس کے کہ کانگریس اور کانگریسی مسلمانوں کے اشاروں پر اس پر واویلا مچایا جائے کہ اس حکومت سے مسلمانوں کو یہ نقصان ہوگا اور وہ ہوگا ۔ ہمیں سب طرف سے رخ پھیر کر موجودہ حکومت سے غریبوں اور محروم طبقات سمیت دلتوں کو ہونے والے نقصانات کی جانب عوام کو متوجہ کرنا چاہئے ۔یہ محض خدشات ہی نہیں ہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اس ملک کے مقتدر طبقہ یعنی برہمنوں اور ان کے ہمنوائوں نے کمزوروں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا ۔اس کا تذکرہ وہ لیڈر کرتے بھی ہیں جو کہ آزاد ہیں اور کسی سیاسی پارٹی سے وابستہ نہیں ہیں ۔ادھر موجودہ حکومت میں ظلم و جبر کے نئے باب کی شروعات نے بھی کئی نئےدلت لیڈروں کو عوام کے سامنے پیش کیا ہے جس میں جگنیش میوانی ،ہاردک پٹیل اور چندر شیکھر راون وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔یہی لوگ موجودہ سنگھی حکومت کی قبر کھود دیں گے ۔شرط صرف یہ ہے کہ مسلمان ہر معاملہ کو خود سے جوڑنے کی بجائے اس کو وسیع ترتناظر میں دیکھیں اور اس کیلئے لائحہ عمل ترتیب دے کر ہر تنظیم اور ہر لیڈر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنانے کی بجائے متحد ہو کر کچھ کرے ۔ موجودہ فرقہ پرست جوش میں ہوش کھوکر ایسے کارنامے انجام دینے میں مصروف ہیں جو ان کے تابوت میں گزرتے وقت کے ساتھ نئے کیل میں اضافہ کررہا ہے ۔حالات ملک کیخلاف جارہے ہیں اس میں صرف مسلمانوں کا ہی نقصان نہیں ہے بلکہ یہاں کی کل آبادی کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی تو پھر مسلمان ہی کیوں حواس باختہ ہو رہے ہیں اور اس حالت میں قوم میں مایوسی پھیلا رہے ہیں ۔2019 میں گرچہ بی جے پی اور مودی کے دوبارہ آنے کی امیدیں جتائی جارہی ہیں تو اس سے ہم کیوں مایوس اور پریشان ہیں کیا پچھلے ستر برسوں میں کانگریس نے ہمیں کسی جنت ارضی میں پہنچا دیا تھا جو آج ہم پریشان ہیں کہ یہ جنت ہم سے چھن جائے گی؟ضرورت اس بات کی ہے کہ حواس کو مجتمع کرکے مستقبل کی منصوبہ بندی کی جائے ۔اس کیلئے ضروری ہے کہ مسلم لیڈر اور مسلم تنظیمیں بہر صورت متحد اور بیدار ہوں ،عوام کو بیدار کرنے سے زیادہ ضروری قائدین اور تنظیموں کےمتحد اور بیدار ہونے کی 
ہے ۔

مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے نیک نیتی کی ضرورت



نہال صغیر

مسئلہ کشمیر پر ایک بار حکومت ہند نے اپنا خاص نمائندہ وادی میں بھیجا ہے تاکہ وہ مسائل کے حل کے نکات پر غور کرسکے اور حکومت کو اس سے آگاہ کرے ۔ ابھی غالبا پچھلے سال جبکہ برہان وانی کی موت کے بعد بھڑکی عوامی احتجاجی تحریک کو دبانے کیلئے حکومت نے طاقت کا بیجا استعمال کرتے ہوئے احتجاجیوں پر پیلیٹ گن کی برسات کرکے ہزاروں کو زخمی اور درجنوں افراد کو زندگی بھر کے لئے نابینا بنادیا تھا تب تین رکنی وفد وادی کے حالات کی جانکاری کے لئے وہاں گیا تھا ۔ ان لوگوں نے واپس آکر جو رپورٹ سونپی تھی جو کہ میڈیا میں بھی آئی تھی اس کا خلاصہ یہ تھا کہ کشمیریوں کے اعتماد کا خون کیا گیاہے اب وہ ہم پر اعتماد نہیں کرتے ہماری باتوں بھروسہ نہیں کرتے ۔ جو بھی وفد جاتا ہے اس کا جو ایک نکاتی مشورہ ہوتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ اعتماد کی بحالی پر توجہ مرکوز کی جائے ۔ لیکن ہماری حکومت نے کبھی اس جانب توجہ نہیں دی ۔ اس نے ہمیشہ کشمیر کے تعلق سے ایک ایسے گروہ کے دباؤ میں کام کیا جس کا کہنا ہے کہ اینٹ کا جواب گولی سے دیا جائے ۔ موجودہ حکومت نے بھی اس دباؤ کے تحت ہی اینٹ پتھروں کا جواب پیلیٹ گن سے دے کر ہزاروں لوگوں کو زخمی تو کردیا اور درجنوں بینائی سے محروم تو ہوگئے لیکن کشمیر کا مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے ۔بلکہ مسئلہ پہلے سے زیادہ سنگین ہو گیا ۔ کسی بھی مسئلہ کا حل اس کی نوعیت اور سنگینی کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے ۔ لیکن ہماری حکومتوں کے ڈھنگ نرالے ہیں ۔اس کے سامنے جب کو ئی تحریک اور احتجاج کرنے والے کی صورت مسلمانوں جیسی ہوتی ہے یا اس کا تعلق مسلمانوں سے ہوتا ہے تو اس کے سوچنے سمجھنے اور برتاؤ کا طریقہ یکسر بدل جاتا ہے ۔ اس کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں ۔ اسی زعم میں موجودہ حکومت نے بھی عوامی احتجاج کو حریت کی جانب سے برپا کئے جانے والی تحریک سے جوڑ کر یہ پروپگنڈہ کیا کہ پتھر پھینکنے والوں کو پانچ سو روپیہ دے کر یہ کام کروایا جاتا ہے ۔ جبکہ جن لوگوں نے بھی کشمیر ی نوجوانوں کی پتھر پھینکتی ہوئی تصویر یا ویڈیو دیکھی ہوگی اس کو بخوبی اندازہ ہے کہ یہ عوامی غصہ تھا کسی تحریک یا تنظیم سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا ۔ لیکن حکومت جب کسی طرح کا الزام کسی پر عائد کردیتی ہے تو اسے ثابت کرنے کی احمقانہ ضد سے صورتحال کو اور بگاڑ دیتی ہے ۔ کشمیر کی صورتحال پرپیار محبت اور اعتماد سازی کے سبب قابو پایا جاسکتا تھا لیکن ایسا نہ پہلے ہوا اور نہ اب ہو رہا ہے ۔
مودی حکومت نے آئی بی کے سابق ڈائریکٹر دنیشور شرما کو کشمیر مسئلہ کا خصوصی ایلچی بنا کر وادی میں بھیجا ہے ۔ دنیشور شرما نے بہت ہی محتاط اور پرجوش بیان میڈیا میں دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کشمیر میں تشدد کی وارداتوں سے بہت دکھی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مجھے ایسے حالات سے بہت دکھ پہنچتا ہے ۔ لیکن کیا محض دکھ کا اظہار کردینا ہے کشمیری نوجوانوں کی تکلیف کو دور کرنے کیلئے کافی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک ہم میں اخلاص نہ ہو کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا اور تشدد کا جواب تشدد اور ایک کے بدلے دس کی دلیل اور اینٹ کا جواب گولی سے تو بالکل بھی نہیں ہو سکتا ۔ وادی میں موجودہ تحریک علیحدگی کی تحریک ہے جسے حکومت کی غلط اور مخاصمانہ پالیسی نے عوامی تحریک میں بدل دیا ہے یا یوں کہہ لیں کہ ہماری طاقت کے بیجا استعمال نے عوام کی اکثریت کو علیحدگی کی تحریک میں شامل ہونے پر مجبور کردیا ہے ۔ دنیشور شرما نے آئی اے این ایس کو دیئے انٹرویو میں کہا کہ ’’ میں درد محسوس کرتا ہوں اور کئی بار جذباتی بھی ہو جاتا ہوں ۔ میں چاہتا ہوں کہ سبھی طرف سے جتنی جلد ممکن ہو تشدد ختم کی جائے ‘‘ آگے انہوں نے کہا کہ خلافت قائم کرنے کی بات کرنے کے سبب کشمیر میں القاعدہ کے سربراہ ذاکر موسیٰ اور حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کو زیادہ توجہ ملی ہے ۔ حالانکہ دنیشور شرما کی ان باتوں میں اگر کچھ سچائی ہے بھی تو یہ آج کی بات ہے ۔ کشمیر پچھلے تین دہائیوں سے سلگ رہا ہے ۔ اس آگ میں پہلے جس نے پیٹرول ڈالنے کا کام کیا تھا وہ گورنر جگموہن تھے جنہوں نے سلامتی دستوں کو بڑے پیمانے پر گولیوں سے جواب دینے کی چھوٹ دی اس کا انجام یہ ہوا کہ اس وقت تک کشمیر کی تحریک جو صرف ہڑتال اور دھرنوں تک محدود تھی اس نے پر تشدد مزاحمت کی صورت اختیار کرلی ۔ گرچہ دنیشور شرما کی کاوشوں اور ان کی وادی میں آمد پر حریت لیڈروں کی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا ہے لیکن شرما کے بیان سے تو یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ صرف کشمیری عوامی مزاحمت کاروں کو ہی الزام دے رہے ہیں ۔ اب تک انہوں نے سلامتی دستوں کی طاقت کے غلط استعمال اور جنسی تشدد وغیرہ پر کوئی بیان نہیں دیا جس سے عوام میں کو ئی مثبت پیغام جائے کہ موجودہ حکومت اور ان کے نمائندے وادی میں امن کے خواہاں ہیں ۔ شرما کہتے ہیں کہ اگر یہی حال رہا تویمن ، شام و لیبیا جیسے حالات ہو جائیں گے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایسا کیوں کر سمجھ رہے ہیں ۔ہم تو یہ سمجھ رہے ہیں اور دیکھ بھی رہے ہیں کہ وادی پر حکومت ہند کی پکڑ مضبوط ہے اور وہاں لاکھوں کی تعداد میں چپے چپے پر انڈین آرمی تعینات ہے پھر کیسے وہاں کے حالات یمن ، شام و لیبیا جیسے ہو جائیں گے ۔ دنیشور شرما کے اس خدشہ پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
دنیشور شرما کا یک رکنی مشن بھی ناکامی سے ہی ہمکنار ہونے والا ہے ۔ایسا اس لئے کہہ رہا ہوں کہ انہیں اگر کشمیر کے مسائل کے حل کیلئے بھیجا گیا تھا تو اسی پر توجہ مرکوز کرنا چاہئے ۔ انہیں کشمیری نوجوانوں سے آزادانہ طور پر ملنا چاہیے تھا ۔ ان کی شکایت سننا ان کی ترجیحات میں سے ہونا چاہئے تھا ۔وہ وہاں کہ علیحدگی پسند لیڈروں سے ملتے ۔ان کے موقف جاننے کی کوشش کرتے اپنی باتیں رکھتے ۔محض میڈیا کی خبروں پر کسی کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا ٹھیک نہیں ۔لیکن وہ ایک جانب جہاں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں ان کے دکھوں پر افسوس کا اظہار کررہے ہیں تو دوسری جانب بجائے مسئلہ کی جڑ تک پہنچنے کے انہیں وادی میں خلافت ، اسلام ، القاعدہ اور حزب المجاہدین ہی نظر آرہے ہیں ۔ یہ وہی نظریہ ہے جس پر یہ حکومت آئی ہے اور اسی کے سہارے عوام میں انتشار کے بیج بو کر اپنی حکومت کو آئندہ الیکشن کے بعد بھی وسعت دینے کی کوشش میں ہے ۔دنیشور شرما کی باتوں سے یہ محسوس ہوتا ہے وہ کشمیریوں میں اعتماد سازی کے بجائے انہیں درپردہ دھمکانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ قومی سلامتی اور یکجہتی کسی ملک کی اہم ضرورت ہے لیکن یہ سب کچھ اس طرح انجام پانا چاہئے کہ اس کی زد عوام پر نہ پڑے لیکن ہمارے یہاں ایسا نہیں ہو رہا ہے ۔ قومی سلا متی کے نام پر مسلمانوں کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا جاتا ہے ۔کشمیری بھی چونکہ مسلمان ہیں اس لئے یہ رٹ تو لگائی جاتی ہے کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ حصہ ہے ( یہ اٹوٹ حصہ ہندوستان کے ساتھ آزادی کے ایک سال بعد شامل ہوا ) لیکن اس میں کشمیریوں کو شامل نہیں کیا جاتا ۔کشمیر مسئلہ کے حل کی پہلی سیڑھی اعتماد سازی اور خوف سے آزاد ماحول ہے ۔ جب تک اس جانب پیش قدمی نہیں کی جائے گی تب تک ساری کارروائی اور کاوشیں محض خانہ پری ہیں جو عوام کو اس بھرم میں مبتلا کرنے کیلئے ہے کہ حکومت خاموش تماشائی نہیں ہے ۔ اس لئے دنیشور شرما جی اگر مرکزی حکومت نے آپ کو کچھ اختیارات دیئے ہیں تو اس کا استعما کرتے ہوئے نوجوانوں کو ہمدردی ، ایثار ، خلوص اور محبت سے قریب کرنے کی کوشش کریں ۔ دھمکی ، خوف ، لالچ اور تحقیر اعتماد کی بحالی میں ہمیشہ رکاوٹ رہے ہیں اور آج بھی ہیں ۔

آئین ہند پر منڈلاتے خطرات


جلال الدین اسلم، نئی دہلی
موبائل نمبر: 09868360472

سولہویں پارلیمانی انتخابات کے نتائج آتے ہی ملک کے لوگوں نے ایک نئے انقلاب کی دستک محسوس کی۔ کچھ نے اگر اس نئی فضا میں خوشی اور جشن منایا تو کچھ نے تشویش اور تشکیک بھی ظاہر کی اور پھر چند مہینوں میں ہی ملک کا جو سیاسی منظرنامہ بنا اس نے ملک کے مستقبل کے حوالے سے خصوصاً مسلمانوں کو اندیشوں اور تشویش میں مبتلا کردیا تھا۔ انتخابی عمل کے دوران اور پھر اس کے نتائج کے آجانے کے بعد مسلمانوں کے ذہنی اور جذباتی کیفیت کا ایک اندازہ روزمرہ کے اخباری مضامین اور قا ئدین کے بیانات، جلسے اور پرو گراموں کی خبروں سے بھی ہوتا رہا ہے۔
پارلیمانی انتخابات میں بھاری کامیابی کے بعد تابڑ توڑ اسمبلی انتخابات میں بھی بی جے پی کو ناقابل یقین کامیابیوں نے فرش سے اٹھاکر عرش پر پہنچادیا۔ صدر جمہوریۂ ہند کا عہدہ ملک کا سب سے بلند و بالا اور باوقار عہدہ ہے۔ اس منصب پر بھی بی جے پی کو ہی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور سیکولر پارٹیوں کی مسلسل ہزیمت سے یہ اندازہ لگانا اب کوئی مشکل نہیں رہا کہ ملک کے عوام سیاسی تبدیلی چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اترپردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی غیر متوقع کامیابی کے بعد صدارتی انتخاب کے لیے جو حکمت عملی اختیار کی گئی وہ تمام سیکولر جماعتوں کے لیے باعث عبرت ہے۔
ملک بھر میں اقتدار کی تبدیلی کے لیے زیرزمین جس طرح کی لہر چلائی گئی یہ کوئی اچانک رونما ہونے والی لہر نہیں تھی بلکہ یہ منصوبہ بند اور دور رس حکمت عملی تھی۔ اس لہر نے تقریباً نصف صدی تک حکومت کرنے والی کانگریس کے ساتھ ساتھ دیگر سیکولر پارٹیوں کے بھی پایۂ سلطنت کو اکھاڑ ڈالا۔ اس تباہ کن لہر یا اس انقلابی آندھی کے اثرات سے تو ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ ملک ایک ایسے انقلاب کی طرف بڑھ رہا ہے جو ملک کے اتحاد و یک جہتی کے لیے سم قاتل ہے۔
کتنی شرم ناک بات ہے کہ مرکزی اقتدار سے محرومی کے بعد ملک کی سب سے اہم ریاست اترپردیش اسمبلی الیکشن میں شکست فاش اور پھر صدارتی الیکشن میں بھی ایسی منہ کی کھانی پڑی کہ جس نے ان نام نہاد سیکولر پارٹیوں کو کہیں بھی منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ اس کے باوجود ان میں بے فکری اور بے حسی ہی ہر طرف چھائی دکھائی دے رہی ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ اقتدار کی تبدیلی میں ان کی بھی مرضی شامل ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ موجودہ حکمراں طبقہ ازدہے کی مانند سیکولر قوتوں کو چن چن کر نگلتا جارہا ہے اور سب کے سب تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اگر ہماری سیکولر جماعتوں کا یہی حال رہا تو عین ممکن ہے ملک کا سیکولر آئین تباہ ہوجائے اور اس کی جگہ ایک ایسے آئین کا نفاذ عمل میں آجائے جو ملک کی سیکولر اور جمہوری قدروں کے لیے زہرہلاہل بن جائے اور اب تو بی جے پی کے سامنے صرف ہمارا سیکولر آئین ہی ہے جو اس کے لیے رکاوٹ ہے۔ 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے بعد اس کا پہلا کام یہی ہوگا کہ وہ آئین میں تبدیلی لے آئے کیونکہ بی جے پی کی ماں آرایس ایس نے اسے اول وقت سے ہی تسلیم نہیں کیا ہے۔ تو ظاہر ہے جب سارے ملک کی باگ ڈور اس کے ہاتھوں میں آجائے گی تو سب سے پہلے اپنے خوابوں کی تکمیل ہندو راشٹر کے قیام کے طور پر ہی کرے گی اور آرایس ایس کی کارگاہ میں فکر و نظر کے جو سانچے ڈھالے جاتے ہیں ان کی نظروں میں ملک کی اقلیتوں خاص کر مسلمانوں اور عیسائیوں کے تعلق سے ان کے کیا کیا عزائم ہیں، اس کا اندازہ ان کی ملک بھر میں پھیلی ذیلی تنظیموں کی سرگرمیوں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
یاد رکھیے! جس دن بھی دنیا کے سب سے بڑے و عظیم جمہوری ملک کے سیکولر آئین میں کوئی تبدیلی لائی گئی اسی دن سمجھئے کہ جمہوریت کی پوری عمارت زمین بوس ہوگئی اور اس کی اصل ذمہ دار ہماری سیکولر پارٹیاں ہی ہوں گی کیونکہ ان کے نااہل سربراہوں اور خود غرض و مفاد پرست نیتائوں کی نااہلی کی وجہ سے ہی پورا ملک آج انتہائی خطرناک حالات سے دوچار ہے۔
مسائل ہر ملک میں ہوتے ہیں، ہر حکومت کے خلاف عوام میں ناراضی پائی جاتی ہے۔ مسائل کے حل اور تبدیلی کے لیے بہت سے ملکوں میں عوامی تحریکیں بھی چلیں اور حکومت کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے ہیں مگر وہ سب کے سب وقتی اور عارضی ہوتے ہیں۔ تاہم ہمارے ملک میں جو تبدیلی کی تحریک چلائی گئی یا چلائی جارہی ہے اس کے پیچھے ایک نئے نظام (منواسمرتی) کا نفاذ ہے اور یہ وہ نظام ہے جو ملک کی اقلیتوں، دلتوں اور کمزور طبقوں کو دوسرے طبقوں سے کم تر قرار دیتا ہے اور بعض حالات میں ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک بھی کیا جاتا ہے۔
اس وقت ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس میں اگر کسی نے گہری دلچسپی لی ہے اور پل پل بدلتے حالات اور لمحہ لمحہ بدلتی صورت حال پر نظر رکھی ہے تو وہ ہے ہمارا عالمی میڈیا۔ اس لیے کہ موجودہ حکمرانوں کے نظریات جو کہ مسلمانوں سے تعلق رکھتے ہیں نظریاتی طور پر دونوں میں بڑی ہم آ ہنگی پائی جاتی ہے۔ دونوں ہی مسلمانوں کے دشمن ہیں، جہاں بھی اور جب بھی کوئی ایسا موقع ملا جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہو، فوراً ان کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیتے ہیں۔ یا وہ رویہ اپناتے ہیں جس سے مسلمانوں کو ٹھیس پہنچے۔
جیسا کہ مذہب اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے یا جوڑے رکھنے کی ایک بین الاقوامی سازش جاری ہے اور مغربی میڈیا اس میں قائدانہ رول ادا کر رہا ہے اور مغرب کے زیراثر ہندوستان میں بھی مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور ہمارے ملک کا میڈیا بھی اس ضمن میں اہم ر ول ادا کر رہا ہے۔ جھوٹی اور من گھڑت رپورٹیں تیار کرکے مسلمانوں کو اس سے جوڑ دیتے ہیں جس سے برادران وطن میں غلط فہمی پیدا ہوتی ہے اور لوگ شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں۔
بہرحال اس وقت ہندوستانی مسلمانوں کے حالات سنگین رخ اختیار کرتے جارہے ہیں۔ اس کے پس پردہ جو طاقتیں سرگرم عمل ہیں وہ وہی ہیں جن کے روابط اسلام اور مسلمانوں کے عالمی دشمنوں سے ہیں۔ حالات اب اس مقام پر پہنچ رہے ہیں کہ اگر ملک کے سیکولر اور انصاف پسند اور مخلص لوگ ان کے خلاف فوری طور پر صف بستہ نہیں ہوئے تو عین ممکن ہے کہ ملک ایک بار پھر تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے۔ قوم دشمن طاقتیں عوام میں نفرت کے بیج بو رہی ہیں اور اپنی اگائی ہوئی فصل اقتدار کے گلیاروں میں کاٹ رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہماری سب سے بڑی لائق احترام عدلیہ بھی متاثر ہوتی جارہی ہے۔
یہ کتنی شرمناک بات ہے کہ کشمیر سے کنیاکماری تک جو دہشت اور یورش کی لہر چل رہی ہے اور اس کے بہانے جن لوگوں کی پکڑ دھکڑ ہوتی ہے اور جن لوگوں کو دہشت گرد اور ملک دشمن قرار دے کر پولیس انکائونٹر میں ہلاک کردیا جاتا ہے ان میں بیشتر وہ مسلم نوجوان ہوتے ہیں جن کے چہروں پر داڑھیاں ہوتی ہیں یا وہ کرتہ پاجامہ کے ساتھ ٹوپی بھی اوڑھے ہوتے ہیں یا پھر ان کا کوئی بھی عمل ایسا ہوتا ہے جس سے اسلامی شناخت کا اظہار ہوتا ہے۔ لہٰذا اسلامی نام یا شناخت کا باجا ہمارا قومی میڈیا خصوصاً بے ضمیر الکٹرانک میڈیا بڑی مہارت و پورے زور و شور سے بلکہ پورے جوش خروش سے بجانا شروع کردیتا ہے تاکہ حقیقت پر دبیز پردہ بھی پڑا رہے اور ان کا مقصد بھی پورا ہوجائے۔
دیکھا تو یہی جارہا ہے کہ جب سے مرکز پر اور دوسری ریاستوں خصوصاً اترپردیش پر بی جے پی کا قبضہ ہوا ہے، فسطائیت کے علمبرداروں نے مختلف عنوانوں سے پورے ملک کے مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن بنادینے کی ٹھان لی ہے۔ ملک کے مختلف صوبوں میں مختلف بہانوں سے جس طرح مسلمانوں کو ہراساں کیا جارہا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ آنے والے دن مسلمانوں کے لیے اور بھی کٹھن ہوں گے۔
ان حالات میں ملک کے سیکولر اور جمہوریت پسند عوام اور قائدین ملت پر یہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ ملک و ملت او راپنے سیکولر آئین کو بچانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ بصورت دیگر ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں جمہوری اور سیکولر جماعتوں پر زیادہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں اور کمزور طبقوں کی تائید و حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں تاکہ پوری قو ت کے ساتھ فاشزم کا مقابلہ کرسکیں۔ اسی میں ملک کا بھی بھلا ہے اور ہندوستانی سماج کا وسیع تر مفاد بھی اسی بات کا متقاضی ہے۔

کیا نریندر مودی ملک کو جنگ کی طرف لے جارہے ہیں ؟


نہال صغیر

یہ کسی مجذوب کی بڑ نہیں ہے۔ملک جانے انجانے میں جنگ کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ ہر بیتے ہوئے لمحے کے ساتھ جنگ کے مہیب سائے گہرے ہوتے جارہے ہیں ۔ لیکن ملک کو اس دوران اندرونی خلفشار سے بھی جوجھنا پڑرہا ہے ۔ بد نصیبی سے ملک پر ایسی طاقتیں حکومت کررہی ہیں جو اس کے اندرون کو نقصان پہنچا رہی ہیں ۔کسی بھی ملک یا قوم کو باہر کے دشمن سے زیادہ اندرونی خلفشار سے خطرات لاحق ہوتے ہیں ۔ ٹھیک یہی معاملہ آج یہاں ہے کہ چین یا پاکستان سے زیادہ اندرونی فرقہ وارانہ جھگڑے اس کے اتحاد و سا لمیت کیلئے خطرناک ثابت ہوں گے ۔چینی میڈیا کا موجودہ حالات میں پیش قیاسی کی کوشش ہے کہ نریندر مودی ہندوستان کو جنگ میں دھکیل رہے ہیں اس اخبار نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس کے نتائج سے دنیا واقف ہے ۔ دو روز قبل سشما سوراج نے پارلیمنٹ میں ایک کانگریسی رکن کے سوالات کے جواب میں بھی یہ کہا کہ ہماری فوجی قوت کسی سے کم نہیں لیکن جنگ کی بجائے سفارتی کوششوں سے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ چینی اخبار نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت ملک کو صحیح صورتحال نہیں بتا رہی ہے ۔یہ تو چینی اخبار کی جانب سے چھیڑی گئی جنگ سے قبل ایک نفسیاتی حملہ ہے ۔ اس جانب سے ہندوستان کو مرعوب کرنے کیلئے بار بار چینی میڈیا میں یہ پھیلایا جارہا ہے کہ اس کی اور ہندوستانی فوجی قوت کا توازن کیا ہے ۔ہمارے یہاں بھی کچھ ایسا ہی میڈیا وار جاری ہے ۔ اس میڈیا وار میں بار بار وزیر اعظم کو ایک عجیب کرشماتی مخلوق بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ انہوں نے کہاں کہاں اور کس طرح چین کو زک پہنچائی ہے ۔یہ بھی بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہی وہ وزیر اعظم ہیں جنہوں نے ملک کا وقار پوری دنیا میں بلند کیا ہے ۔چین کے معاملہ میں ہی انہوں نے سفارتی کوششوں کو کچھ ایسا کارآمد بنایا ہے کہ پوری دنیا فی الحال ہندوستان کے ساتھ ہے اور چین کی شرارت سے پوری دنیا واقف ہو چکی ہے ۔ اب تو آر جے نوید نے بھی اپنے مخصوص انداز میں ایک آڈیو پیغام وائرل کیا ہے جس میں کسی شخص سے کہا گیا ہے کہ وہ کیوں ہندوستانی فوج کو چینی فوجیوں سے کم آنکتا ہے اس سے ہمارے فوجیوں کا حوصلہ کمزور پڑے گا ۔ ہم یہ بالکل بھی نہیں کہیں گے کہ ہندوستان چین سے یہ جنگ ہار جائے گا اور نا ہی ایسا کہنا ہمیں زیب دیتا ہے ۔لیکن ہمیں یہ حق تو ہے ہی کہ ہم اپنی حکومت سے سوال کریں کہ اس نے ملک کی دفاعی پوزیشن کس حد تک مضبوط کی ہے اور اس کی فوجی تیاریاں کہاں تک ہیں؟اس طرح کے سوال پر ملک مخالف ہونے کا نظریہ چسپاں نہیں کرنا چاہئے ۔موجودہ جنگی حالت میں ایک ہندی روزنامہ نے برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈس کے رکن میگھ ناتھ دیسائی کے حوالے سے بتایا ہے کہ چین کے ساتھ جنگ میں امریکہ ہندوستان کے ساتھ ہوگا ۔ لیکن یہ جنوبی چین کے سمندر کے حالات پر منحصر ہے ۔یہاں امریکہ کا ہندوستان کے ساتھ آنا بعید از قیاس اس لئے نہیں ہے کہ اس پورے علاقے میں چین کی بڑھتی قوت اور اس کے اثرات سے امریکی مفاد کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔ لیکن جو بات یہاں سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ بڑی طاقتیں عام طور پر سیدھے ٹکراؤ سے بچنے کی کوشش کرتی ہیں ۔لہٰذا امریکہ بھی چین کے ساتھ راست ٹکراؤ سے بچنے کی ہی کوشش کرے گا ۔ میگھ ناتھ دیسائی کا یہ خدشہ بھی اخبار نے نوٹ کیا ہے کہ اگر جنگ چھڑ گئی تو وہ صرف ڈوکلام تک ہی محدود نہیں رہے گی کئی محاذوں پر لڑی جائے گی اس کی وسعت اور ہولناکی جنوبی چین کے سمندر میں چینی اور امریکی مفاد پر منحصر ہے اس محاذ پر بھی جنگ ہو گی نیز یہ جنگ مختصر مدت کیلئے نہیں ہوگی بلکہ یہ ایک لمبے عرصہ تک لڑی جانے والی جنگ بھی بن سکتی ہے ۔ دوسری رائے میری ہے کہ اگر اس جنگ میں امریکہ ہندوستان کے ساتھ آتا ہے تو پھر یہیں سے تیسری جنگ عظیم کی بھی داغ بیل پڑ جائے گی اور دنیا ایک بھیانک تباہی سے دو چار ہو گی ۔
ممکن ہے کہ 1962کی ہند چین جنگ میں بھی یہی حالت رہی ہو کہ مہینوں سے میڈیا کے ذریعہ پروپگنڈہ کیا جاتا رہا ہو ۔ ممکن ہے ایسا نہیں بھی ہوا ہو کیوں کہ ہندوستان نے چین سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا اور ہندی چینی بھائی بھائی کا نعرہ بلند ہوا تھا لیکن چین نے دھوکہ دیا اور جنگ ہوئی اور ہمیں بھاری ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا ۔ لیکن اکیسویں صدی چونکہ میڈیا کا زمانہ ہے تو اس میں پروپگنڈہ جنگ کا ہی ایک حصہ ہے ۔ یہ بات دنیا کی کئی اہم شخصیات مان چکی ہیں کہ اب جنگ دو محاذوں پر لڑی جاتی ہے ایک فوجی لڑتے ہیں اور دوسری جنگ صحافیوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے ۔ اندرون ملک ہمارا میڈیا جس کی اکثریت موجودہ حکمرانوں کے سامنے سجدہ ریز ہے اس نے ہمیں گمراہ کرنے کا سلسلہ کافی عرصہ سے جاری رکھا ہوا ہے ۔ لیکن ایک بات تو سامنے آرہی ہے کہ ہم بہر حال بہت ساری حیل و حجت کے بعد یہ مان لینے کی جانب بڑھ رہے ہیں کہ پاکستان نہیں چین ہے ہمارا اصلی دشمن ۔لیکن ہم نے یہ ماننے میں ستر سال لگا دیئے ۔اگر ستر سال پہلے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہوتا کہ چین سے ہمارا مقابلہ ہے تو آج ہماری معاشی اور فوجی قوتیں چین سے آگے نہیں تو اس سے کم بھی نہیں ہوتیں۔ہم نے ہمیشہ سرحد پر ہونے والی چینی گھس پیٹھ سے نظریں چرائیں اور صرف نظریں نہیں چرائیں بلکہ اپنے عوام کو بھی اس سے بے خبر ہی رکھا ۔پچھلے تین برسوں سے خبروں پر نظر رکھنے پر یہ معلوم ہوا کہ چین سرحد پر گھس پیٹھ کرتا رہا لیکن ہم نے اس کو خبر کا حصہ بھی نہیں بننے دیا ۔ بس آن لائن کسی ویب سائٹ سے زیادہ اس خبر کو کہیں جگہ دینے کو راضی نہیں ہوئے ۔ ہمارے ارکان پارلیمان و اسمبلی میں سے کوئی چین پر لب کشائی کرنے کو راضی نہیں ہوتا تھا سب کی زبان پر بس ایک ہی مشترکہ دشمن پاکستان کا نام ہوا کرتا تھا ۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ پاکستان کو دشمن کے طور پر پیش کرکے ملک میں فرقہ وارانہ ماحول گرم کیا جاسکتاہے اور اس کی وجہ سے ووٹوں کا ارتکاز بھی ممکن ہو سکتا ہے ۔ لیکن چین کے بارے میں حقیقت بیان کرکے بھی کوئی ووٹوں کی سیاست ممکن نہیں تھی ۔یعنی ہماری دیش بھکتی کا سارا کھیل ووٹوں کی حصولیابی تک ہی سمٹا ہوا ہے ۔ہمارا یہ رویہ ایسا ہی تھا جیسے شتر مرغ نے ریت میں منھ چھپا کر سوچ لیا ہو خطرہ ٹل گیا ۔ اب اگر ہم ماننے لگے ہیں کہ چین ہی ہمارا اصل دشمن ہے تو پھر اس جانب پیش قدمی کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہماری تیاری بھی اسی طرح کی ہو ۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ یہ ملک کے ماحول میں کشیدگی پائی جاتی ہے اسے دور کیا جائے ۔ یاد رکھنا چاہئے اندرونی جھگڑوں میں پھنسی قوم کبھی بیرونی خطروں کا سامنا نہیں کرسکتی ۔یہ جو کچھ لوگوں کو مذہبی جنون کا دورہ چڑھا ہے اسے ٹھنڈا کیا جائے ۔ امن و امان کی صورتحال بحال کی جائے ۔ یہ سب کچھ حالت امن میں تو آسانی سے ممکن ہے لیکن جب جنگ مسلط ہوجائے گی تو پھر اس اندرونی حالت کو سدھارنا ناممکن ہو جائے گا ۔
بہرحال چینی میڈیا کے اس الزام میں سچائی نظر نہیں آتی کہ مودی حکومت ملک کو جنگ میں دھکیل رہی ہے ۔ کم از کم چین کی حد تک تو نہیں ۔ بلکہ ہم تو کہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ بھی جنگ کے معاملہ میں ہندوستان بڑا محتاط قدم اٹھانے والا ملک ہے ۔اس کا سبب جو بھی ہو لیکن اسے معلوم ہے کہ جنگ مسائل کو جنم دیتی ہے مسئلہ ختم نہیں ہوتا ۔ یہ محض چین کا پرپگنڈہ ہے ۔محاذ جنگ پر فوجیوں کے درمیان لڑی جانے والی جنگ سے قبل ہندوستان کی سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے ۔ممکن ہے کہ وہ اس میں کامیاب بھی ہو جائے کیوں کہ ہمیں فی الحال ہماری سفارتی کوششوں کے بارے میں مکمل جانکاری ہی نہیں ہے اور نا ہی اس کے اثرات کے بارے میں معلومات ہے ۔ ویسے بھی دنیا ہمیشہ طاقتور کے ساتھ ہوتی ہے جس سے اس کے مفاد وابستہ ہوتے ہیں ۔ یہاں کی میڈیا میں جو کچھ باتیں دیکھ رہا ہوں وہ محض جوش و خروش ہے اور اس میں کسی عظیم ملک کی کوئی جھلک دکھائی نہیں دیتی ۔ اس وقت پوری دنیا میں ہمارے یہاں حکومتی سرپرستی میں جاری عوامی اور ہجومی تشدد کی باز گشت پوری دنیا میں سنائی دے رہی ۔

وزارت عظمیٰ کی کرسی سے نواز شریف کی وداعی : پاکستانی عدلیہ نے تاریخ رقم کردی


نہال صغیر

پاکستانی عدلیہ نے تاریخ رقم کردی ۔ اس معاملہ پر گفتگو شروع کرنے سے قبل ہی اگر پاکستانی عوام کو اس بات کیلئے مبارکباد پیش کی جائے تو کوئی برائی نہیں کہ وہ ایک ایسے خطے میں ہیں جہاں عدلیہ کافی حوصلہ مندی کے ساتھ ملک کے سب باوقار اور طاقتور عہدہ پر بیٹھے شخص کے خلاف فیصلہ سناتی ہے کہ وہ بدعنوان ہے اور اس عہدہ کے قابل نہیں ہے یعنی وہ نا اہل ہے ۔ یقیناًیہ پاکستانیوں کیلئے ایک خوشگواریت کے کئی پہلو رکھتا ہے ۔ یہ تو عدلیہ کی آزادی اور اس کی جرات مندی کی ایک تازہ مثال ہے ۔ ہمارے سامنے پاکستان پریس بھی بہت حد تک آزاد ہے اور اس نے کسی دباؤ کو کبھی خاطر میں لانے کے بارے میں نہیں سوچابقول سدارتھ ورداراجن پاکستانی صحافی کافی حوصلے والے ہیں ۔ ’پاکستان پریس فاؤنڈیشن ‘ذرائع ابلاغ اور اس کے کام کاج کے ساتھ ہی اس سے تعلق رکھنے والے افراد کی سلامتی کو درپیش مسائل و مشکلات پر نظر رکھنے والا ایک غیر سرکاری ادارہ ہے ۔ اس نے اپنی تازہ رپورٹ کے شروع میں ہی لکھا ہے ’گزشتہ دہائی میں پاکستان کے ذرائع ابلاغ کے کردار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور خاصی تبدیلی بھی رونما ہوئی ہے ۔گوکہ پچھلے چند سالوں میں کافی مخالفت ہوئی ہے لیکن پاکستان ایک زندہ دل ، آزاد اور بڑی حد تک شفاف ذرائع ابلاغ کا لطف اٹھا رہا ہے ‘۔ یعنی پاکستان میں میڈیا آزاد ہی نہیں بلکہ شفافیت کا مظہر بھی ہے ۔ کم و بیش یہی حالت یا اس سے بہتر پوزیشن میں وہاں کی عدلیہ ہے ۔ جہاں کی عدالت عظمیٰ نے ابھی پناما لیکس معاملہ میں نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا اور انہیں اپنی وزارت عظمیٰ کی کرسی چھوڑنی پڑی ۔
پناما لیکس وکی لیکس کے بعد دنیا کے کئی ممالک کے بدعنوان سیاست دانوں اور بیوروکریٹ کا کچا چٹھا ہے ۔ پناما پیپر میں صرف پاکستانی سیاست دانوں کے ہی نہیں کئی ہندوستانیوں کے نام بھی ہیں لیکن اس تعلق سے اب تک یہاں کسی سراغ کسی ہلچل کی کوئی خبر نہیں ۔ سدھارتھ ورداراجن کہتے ہیں اس معاملے میں تو کم از کم پاکستان سے ہمیں سبق لینے کی ضرورت ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں کے لوگ حالانکہ پاکستان میں کچھ بہتر ہے یہ سننا پسند نہیں کرتے لیکن یہ کہنا پڑے گا کہ انہوں نے ایک مثال قائم کی ہے ۔ وہ ایک درجہ ہم سے اوپر چڑھ گئے ہیں ۔ حالانکہ بدعنوانی کے معاملات میں یہاں کافی شور غل مچا ہوا ہے ۔ ہنگامہ اتنا تیز ہے کہ وہ محاورہ بولنا پڑتا ہے کہ کانوں پڑی آواز سننے کو نہیں ملتی ۔ لیکن یہ سب محض دکھاوا ہے ۔ شاید عوام بھی اس کے لئے زیادہ بیدار نہیں ہے ۔ پاکستانی عوام نے سپریم کورٹ تک جاکر اپنی بیداری کا ثبوت فراہم کیا ۔ لیکن ہمارے یہاں تو سپریم کورٹ نے ہی پناما پیپر معاملہ میں انکوائری کی بھی اجازت نہیں دی ۔ عوام کو بھی شاید اس کی ضرورت نہیں یا انہیں اس کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کیلئے فرصت ہی نہیں ہے کیوں کہ وہ فی الحال گائے اور بیف یا پھر مندر مسجد کے جھگڑوں اور لو جہاد جیسے اہم معاملات میں الجھے ہوئے ہیں ۔ ان کے سامنے نریندر مودی ایک کرشماتی شخصیت ہیں جو ہندوستان کو ثریا کی بلندی پر لیجانے کی قوت رکھتے ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ ساڑھے تین سال میں سوائے اعلانات اور سلوگن کے کوئی اور کام ہوتا نظر نہیں آیا ۔ اگر کچھ ہوا ہے تو عوام کا بھرکس نکالنے والے کرنسی منسوخی اور جی ایس ٹی جیسے فیصلے ۔ جس کی قیمت ملک ادا کررہا ہے اور نا جانے کب تک ادا کرتا رہے گا ۔
بدعنوانی کیخلاف مرن برت کا ڈرامہ رچنے والے انا ہزارے بھی نہ جانے کہاں کھوئے ہوئے ہیں ۔ وہ تو بدعنوانی کے خلاف جنگ کے وہ سپاہی مانے جاتے تھے جو کہ ساری دنیا میں اکیلا ہے ۔ لیکن وہ بولے اور بہت بولے لیکن پناما پیپر جیسے معاملات میں ان کی کوئی آواز نہیں آئی ۔ پتہ نہیں انہیں اس بلا کے بارے میں جانکاری بھی ہے کہ نہیں یا ان کی بدعنوانی کیخلاف اسی حد تک پہنچ ہے کہ ایک ایک قانون بن جائے جس پر کبھی عمل نہ ہو اور ایک عدد اس کا ذمہ دار چن لیا جائے جو کبھی کام نہ کرے ۔ ایسالگتا ہے مرکز میں یو پی اے کی حکومت ختم کرواکر اور این ڈی اے کی حکومت بنوا نے تک ہی ان کی دلچسپی تھی ۔ گویا وہ ایک خاص گروہ کی جانب سے بدعنوانی کے خلاف جنگ کے نام پر پلانٹ کئے گئے تھے اور اب ان کا کام ختم یاشاید وہ یہ سوچ رہے ہوں کہ اب بدعنوانی کا یہاں گزر ممکن نہیں جیسا کہ ان دنوں مودی صاحب پیش کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ بہار میں نتیش کمار کا عظیم اتحاد سے ناطہ توڑ کر وزیر اعلیٰ کی کرسی سے استعفیٰ دینے پر مودی جی نے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’’بدعنوانی کی جنگ میں شامل ہونے پر مبارکباد ‘‘۔ ہمیں کسی ایک شخصیت یا کسی ایک پارٹی کو نشانہ بنانے کا شوق نہیں اور نہ ہی ہم اس کے قائل ہیں کہ کسی کی بیجا حمایت یا مخالفت کی جائے لیکن جب خامی ہی خامی نظر آئے بہتری کی کوئی سبیل نہ نکلے تو تنقید کرنا ہی پڑتی ہے ۔ موجودہ حکومت بدعنوانی کے خلاف جنگ کا ڈھول تو پیٹتی ہے لیکن اس میں یا تو وہ سنجیدہ نہیں ہے یا عوام کو گمراہ کرنے میں زیادہ سنجیدہ ہے ۔ موجودہ حکومت اور اس کی پارٹی کی ریاستی حکومتوں میں کئی بدعنوانی کے معاملات ہوئے ہیں ۔ جس میں مدھیہ پردیش کی تعلیمی بدعنوانی سب سے اوپر ہے ۔ کوئی ریاست ایسی نہیں ہے جہاں ان کی حکومت پر بدعنوانی کے داغ نہیں لگے ہوں لیکن جب یہ کوئی انکوائری اور کوئی کارروائی ہی نہ کریں تو گرفتاری کس کی ہوگی ۔
ہمیں عددی ، قوت ، دفاعی اور مالی برتری کے احساس تفاخر سے باہر نکل کر قدرے کمزور ، ناکام اور دہشت گرد ریاست پاکستان سے آنے والی خبر جو کہ پہلی ہے اور نہ ہی آخری ، پر دھیان دینا ہی ہوگا کہ ایک کمزور ، ناکام اور دہشت گرد ریاست کی عدلیہ اسقدر جرات مندانہ قدم اٹھا سکتی ہے تو ہماری عدلیہ کیوں نہیں ۔ ہم اپنی عدلیہ کو اتنا آزاد کیوں نہیں بنا سکتے کہ اسے کسی معاملہ کو اس لئے التوا میں ڈالنے کی ضرورت نہ پڑے کہ اس کا یہ فیصلہ ان لوگوں کے خلاف جائے گا جو کہ بہت طاقتور اور اقتدار میں ہیں ۔ ہاں ہم بدعنوانی کے معاملہ میں صرف اس وقت قدم اٹھائیں گے جب اس سے ہمیں حزب اختلاف کو نشانہ بنانا ہو یا اپنا مفاد عزیز ہو ۔ ملک کا مفاد تو شاید ہم نے کہیں دور رکھ چھوڑا ہے ۔ اس سے ہمیں کیا مطلب ۔ حالیہ بہار کا معاملہ ہی لے لیا جائے تو اس میں سیاسی انتقام کے علاوہ اور کیا ہے ۔ ورنہ مبارکباد دینے والے کا وزیر اعلیٰ کئی فسادات اور اقدام قتل کے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے اور اس کے خلاف کئی تھانوں میں ایف آئی آر درج ہیں ۔ لالو پرشاد کے خاندان پر جو الزامات ہیں اس سے سنگین الزمات نتیش اور ان کے نئے دوست سشیل مودی پر ہیں لیکن نتیش کی نوٹنکی دیکھئے کہ انہوں برسوں قبل درج ایف آئی آر کو دیکھ کر انجان بننے کا ڈرامہ اور دو دن قبل کے ایف آئی آر پر ہنگامہ آرائی اور اپنی ایمانداری کا پرشور اعلان ۔ پچھلی یو پی اے حکومت میں تو اتنی اخلاقی جرات تھی کہ اس نے اپنے ہی ساتھیوں کے خلاف انکوائری کروائی اور انہیں جیل جانا پڑا لیکن موجودہ حکومت تو باتوں اور میڈیا منیجمنٹ کی اتنی ماہر ہے کہ چوری بھی اور سینہ زوری بھی اس کا وطیرہ بنتا جارہا ہے ۔ کاش ہم بھی پاکستانی عدلیہ کی طرح کوئی مثال پیش کرسکتے ! ایسے بہترین مثال کیلئے بابری مسجد کا مقدمہ ہی بہت ہے ۔

جے شری ۔۔۔۔ اور اللہ اکبر


نہال صغیر
جدید سیکولر جمہوری طرز حکومت کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس میں حکومت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔ وہ کسی مذہب کو سپورٹ نہیں کرسکتا ۔ہاں اپنی ذاتی زندگی میں وہ مذہبی رسومات کی ادائیگی کیلئے آزاد ہے ۔ ہندوستانی سیکولر جموہری حکومت میں بھی یہی سب کچھ کہا گیا ہے ۔لیکن یہ صرف دستور کی حد تک ٹھیک ہے ۔ عملا ً آزادی کے بعد سے ہی یہاں ہندوازم کا نفاذ ہوتا رہا ہے ۔ اس کے لئے سب سے پہلے آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کو ان کی اوقات بتانے کیلئے بابری مسجد میں مورتیاں رکھ کر اس کے دروازے مسلمانوں پر ہمیشہ  کیلئے بند کردیئے گئے ۔ اس وقت ہمارے ہمالہ جیسے بلند قامت قائد اور سیاست داں موجود تھے لیکن وہ یا تو خاموش رہے یا محض چند الفاظ کی ادائیگی کے فرائض سے سبکدوش ہو کر گوشہ نشیں ہوگئے ۔دو قومی نظریہ کے مقابلے ایک قومی نظریہ کے علمبردار بھی کافی تعداد میں موجود تھے ۔ گویا آزاد ہندوستان میں ان کے’ ایک قومی نظریہ‘ کی دھجیاں ان کی آنکھوں کے سامنے بکھیر دی گئیں اور وہ دیکھتے ہی رہے۔بہر حال بات ہندوراشٹر کی سمت بڑھتے قدم کی چل رہی ہے ۔ کانگریس نے بھی وہی سب کچھ کیا جو آج آر ایس ایس کی حمایت سے بی جے پی کررہی ہے ۔بس فرق ذرا یہ ہے کہ یہ لوگ کچھ زیادہ ہی پرجوش ہیں اور جوش میں انسان احتیاط کا دامن چھوڑ دیتا ہے ۔ کانگریس کے لیڈر اور اس کے کیڈر بڑے منجھے ہوئے گھاگ لوگ تھے انہیں پتہ تھا کہ ملک میں ہندوتوا یا برہمنیت کو کس طرح نافذ کرنا ہے ۔
۱۴ ؍مئی ۲۰۱۴ کو پارلیمنٹ میں جب مودی جی پردھان سیوک کی حیثیت سے داخل ہوئے تو وہاں جے شری ۔۔۔۔کا نعرہ بلند کیا گیا ۔اب صدر جمہوریت منتخب ہونے پر رام ناتھ کووند کی تقریب حلف برداری پر بھاجپائی ممبران پارلیمان نے جئے شری ۔۔۔کا نعرہ بلند کیا ۔اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے گجرات کے آئی پی ایس سنجیو بھٹ نے سوال کیا ہے کہ جب پارلیمنٹ میں اللہ اکبر کا نعرہ بلند ہوگا تب آپ کا ردعمل کیا ہوگا ۔ سنجیو بھٹ نے بالکل صحیح سوال اٹھایا ہے ۔یہ لوگ محض تھوڑی سی قوت پانے کے بعد اپنی سطحی سوچ کا ثبوت دیتے ہوئے وہ حرکتیں کررہے ہیں جس کا ردعمل بھی آج یا کل آنا ہی ہے ۔ ویسے اللہ اکبر کا نعرہ تو بہت بڑی چیز ہے ، انہیں تو صرف اردو میں کسی مسلم ممبر پارلیمنٹ کا حلف لینا تک گوارا نہیں ہے ۔ اگر کبھی ایسا کوئی غیرت مند مسلمان منتخب ہو کر پارلیمنٹ میں پہنچ گیا تو ضرور وہ اس ردعمل کا اظہار کرے گا اور تب ان کا چرغ پا ہونا قابل دید ہوگا ۔ حالیہ برہمنیت کے علمبرداروں کا جوش و خروش کچھ ایسا سطحی انداز کا ہوتا جارہا ہے کہ وہ کہیں بھی کچھ بھی بولنے لگے ہیں ۔ اسی طرح یوپی کے موجودہ  برہمنی وزیر اعلیٰ  یوگی آدتیہ ناتھ نے ایودھیا میں کہا کہ انڈونیشیا سب سے بڑی مسلم آبادی والا ملک ہے  لیکن وہاں کا قومی تہوار رام لیلا ہے ۔ اس پر ڈاکٹرمنموہن سنگھ کے نام سے ٹوئٹر اکائونٹر ہولڈر نے جواب دیا آپ کیا بتانا چاہ رہے ہیں ۔ ہندوستان سب بڑی ہندو آبادی والا ملک ہے تو ہم رمضان کو قومی تہوار قرار دے دیں ۔ یہ بالکل صحیح جواب ہے ۔ اس طرح سے یہ لوگ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جب مسلم ملکوں میں منادر اور ہندو تہواروں کو یہ اہمیت دی جاتی ہے تو ہندوستان میں مسلمان اتنی سختی سے پابندی کیوں کرتے ہیں کہ ’’ہمیں رام مندر نہیں بنانے دے رہے ہیں ‘‘۔ حالانکہ انہیں منادر بنانے اور ان کے پوجا پاٹھ سے کس نے روکا ہے ۔ بابری مسجد مسلمانوں کی ہے اور خالص مسلمانوں کی ہے وہ کسی کی زمین پر غاصبانہ قبضہ کرکے نہیں بنائی گئی ہے ۔ اس معاملہ اب عدالت عظمیٰ میں ہے ۔لیکن چار سال سے وہاں بھی اس کی سماعت نہیں ہوئی ہے ۔اگر ہمارے ملک میں عدالتیں آزاد اور خود مختار ہوتیں تو الہٰ آباد ہائی کورٹ کا بابری مسجد کی ملکیت والے مقدمہ میں بندر بانٹ والا فیصلہ نہیں ہوتا اور چار سال سے سپریم کورٹ میں بابری مسجد کا مقدمہ زیر التو انہیں ہوتا ۔ عدالت کی لاچاری دیکھئے کہ اس نے فریقوں کو آپس میں معاملہ حل کرنے کا مشورہ دیا ۔اگر آپس میں معاملہ حل ہو سکتا تھا تو پھر اس کے پاس ہی مقدمہ کیوں جاتا ۔دوسری بات یہ کہ یہ دو لوگوں کا جھگڑا نہیں ہے ۔یہ دو قوموں کا معاملہ ہے جسے ہندو شدت پسندوں نے پیچیدہ بنادیا ہے ۔مسلمان تو کہہ رہے ہیں کہ عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی وہ قبول ہوگا ۔لیکن عدالت خوب سمجھ رہی ہے کہ حق کس کے ساتھ ہے انصاف کے معاملہ میں پلڑا کس کا بھاری ہے لیکن فیصلہ کو کون فریق نہیں مانے گا اور ملک کو انارکی میں دھکیل دے گا ۔
بہتر ہوتا کہ ملک کو جے شری ۔۔۔ اور اللہ اکبر کے نعروں میں الجھانے کی بجائے اس کی ترقی کو فوقیت دی جاتی ۔ ملک ترقی کی دوڑ میں آگے کی بجائے پیچھے کو جارہا ہے ۔ ہر طرف افراتفری کا ماحول ہے ۔ زبردستی ملک پر برہمنیت تھوپنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اگر بالجبر جے شری ۔۔۔ کے نعروں کو تھوپا گیا ۔ ملک میں ایک خاص نظریہ چلانے کی کوشش کی گئی تودوسرے فرقہ اور عقیدوں کے لوگ بھی ردعمل میں اپنے نعروں اور عقیدوں کے نفاذ کیلئے جد و جہد کی کوشش کریں گے ۔ نتیجہ کے طور پر ملک لا متناہی انتشار کا شکار ہو جائے گا اور اس کی ذمہ داری موجودہ حکومت کر سر ہوگی ۔