بھوت ایرانی نظام کے تعاقب میں !



آیت اللہ علی خامنہ ای کی سخت گیر شخصیت کی موجودگی، صدر محمود احمدی نژاد کی بلند بانگ غوغا آرائی کے ہوتے ہوئے ایرانی انتظامیہ پاسداران انقلاب کور کے وزراء سے بھری پڑی تھی۔اُس وقت ایرانی نظام جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے کوشاں تھا۔ وہ اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی گیدڑ بھبکیاں دے رہا تھا۔دنیا بھر میں دہشت پھیلانے کے لیے دہشت گرد گماشتوں کو استعمال کررہا تھا،مشرقِ وسطیٰ اور پھر دنیا کو فتح کرنا اس کا خواب ٹھہرا تھا اور احمدی نژاد یہ یقین کرتے تھے کہ اس سب سے مغرب اور ایران کے درمیان ٹائی ٹینک جھڑپ کی رہ ہموار ہوگی جو آرمیگاڈان پر منتج ہوگی۔ یہ سب اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ آیت اللہ روح اللہ خمینی کا تشکیل کردہ نظام اپنے آغاز ہی سے ایک دہشت گردانہ ذہنیت کا حامل ہے اور اس کو ایک اعتدال پسند صدر کی مختصر وقت کے لیے نموداری کے دوران میں دبایا نہیں جا سکتا ہے۔

ایران میں اصلاحات نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔خمینی کے نظریے کے مقابلے میں یہ مردہ ہے لیکن اب اور اس کے بعد بھی جب اس نظام کو سانس لینے کی جگہ درکار ہوتی ہے تو وہ ''تقیّہ'' اختیار کر لیتا ہے۔اگر اس لفظ کا ترجمہ کیا جائے تو وہ ''چیزوں کو چھپانا'' ہے یا اگر مغرب کی اصطلاح میں بات کی جائے تو ایرانی نظام سیدھے سبھاؤ جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔
ہنستے مسکراتے حسن روحانی کے ظہور کے ساتھ دنیا کو یہ شائبہ ہوا تھا کہ اب شعلہ بیان احمدی نژاد کی جگہ ایک اعتدال پسند اصلاح پسند نے لے لی ہے۔ایران اب ''جوہری معاہدے'' کے ذریعے اپنے برے طور طریقوں کو تبدیل کرلے گا اور اپنے جوہری پروگرام کو منجمد کردے گا لیکن اگر ایران میں صدر بننے والے آدمی کا ایک ماؤس بھی ہو تو جہاں تک سیاسی اور سماجی تغیّر کا تعلق ہے تو کچھ بھی تبدیل ہونے کا نہیں۔خواہ اس کی توسیع پسندانہ فوجی پالیسیاں ہوں تو ان میں کوئی تبدیلی رونما ہونے کی نہیں۔ان پالیسیوں کے ذریعے، دہشت گرد گماشتوں کو اسلحے سے لیس کرنے،انھیں مالی رقوم مہیا کرنے اور دنیا بھر میں شیعیت کی انتہاپسند شکل کو پھیلانے کے ذریعے یہ نظام دنیا بھر کو تباہی سے دوچار کررہا ہے۔
ایران میں چونکہ حقیقی رہبر سپریم لیڈر ہی ہوتا ہے۔وہ سخت گیر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شکل میں ہوتا ہے۔وہ دھواں دار بیانات کے ذریعے مغرب کے ساتھ محاذ آرا رہتا ہے اور جیسے ہی ایران میں ایک مرتبہ پھر سیاسی منظر تبدیل ہونا شروع ہوا تو حسن روحانی کی مقبولیت ماند پڑنا شروع ہوچکی ہے اور محمود احمدی نژاد 2017ء میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کررہے ہیں۔ خامنہ ای کے حقیقی رنگوں کی ایک مرتبہ پھر نمائش شروع ہوجائے گی کیونکہ ایران کی بالادستی کی پالیسی پر ایک مرتبہ پھر عمل درآمد کا آغاز ہوجائے گا۔
جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو خمینی نے کوئی بہت جلد اقتدار حاصل نہیں کیا تھا۔انھوں نے گماشتہ قوتوں کے ذریعے دہشت گردی برآمد کر کے بالادستی کی کوشش کی تھی۔ گذشتہ برسوں کے دوران میں نظریے کی اسی شکل پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔خامنہ ای اس کے بڑے پرجوش وکیل رہے ہیں۔ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ طے پاجانے کے باوجود ،اس ناکام سمجھوتے سے مغرب کو ایک موقع مل گیا ہے کہ وہ مستقبل میں ہونے والی دہشت گردی کا کیسے مقابلہ کرسکتا ہے۔
فوج سمیت ایرانی نظام کے سرکردہ ارکان اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ خمینی کا نظریہ پتھر کے دور میں وضع کیا گیا ہے، مگر اس کے باوجود ایران کی دہشت گرد مشین بہت جلد ایک مرتبہ پھر چلنا شروع ہوجائے گی اور اس مرتبہ اس کے لیڈر ایک طاقتور فوج ،جوہری ہتھیاروں ،طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے مالک ہوں گے لیکن ایران ڈیل کی مہربانی (سے یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوا)۔
لیکن جہاں تک ایران کی جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے مہم کا تعلق ہے تو وہ (ایرانی) درحقیقت جنگ کے تھیٹر کے عادی نہیں ہیں کیونکہ ایرانی نظام ڈرانے دھمکانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے میں کافی مہارت کا حامل ہے اور اس میں بھی کوئی شبُہ نہیں کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو ''بڑی چھڑی'' کے طور پر ہی استعمال کرے گا تاکہ وہ اس طرح پاس پڑوس میں واقع ریاستوں میں خوف وہراس پیدا کرسکے۔وہ عراق ،افغانستان اور پاکستان میں یہی کچھ کررہا ہے تاکہ وہ مغرب کے خلاف ایک اتحاد کی صفوں میں شامل ہوسکے۔
کوئی حقیقی تبدیلی نہیں
جب تک انقلابی ملّاؤں کا ایران پر کنٹرول برقرار رہتا ہے،تو آپ ایران میں کوئی حقیقی سیاسی یا سماجی تبدیلی رونما ہوتی نہیں دیکھیں گے کیونکہ فوجی اخراجات ہی قیادت کی اولین ترجیح رہیں گے۔جہاں تک اصلاح پسند صدور کا تعلق ہے،تو آپ محمد خاتمی سے آگے بڑھتا ہوا کوئی نہیں دیکھیں گے۔وہ اگست 1997ء سے اگست 2005ء تک ایران کے صدر رہے تھے۔
خاتمی نے ایک اصلاح پسند پروگرام پر مبنی انتخابی مہم چلائی تھی۔انھیں یہ امید تھی کہ اس سے ایک جمہوری اور زیادہ روا دار معاشرے کی تشکیل کی راہ ہموار ہوگی،قانون کی حکمرانی ہوگی اور سماجی حقوق میں بہتری آئے گی لیکن سخت گیر ان تمام اصولوں کو پسند نہیں کرتے تھے۔
محمد خاتمی کو اس حقیقت کا ادراک کرنے میں کوئی زیادہ دیر نہیں لگی تھی کہ اصلاح (ریفارم) سخت گیروں کے لیے ایک گندا لفظ ہے۔اگرچہ حکمراں خاتمی ہی تھے لیکن شورائے نگہبان ،عدلیہ ،پولیس،مسلح افواج ،جیلیں ،سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن ان کے خلاف کام کررہے تھے کیونکہ ان اداروں پر سخت گیروں کا مضبوط کنٹرول برقرار تھا۔
پھر ان قدامت پسند اداروں کے ساتھ شدید محاذ آرائی کے بعد خاتمی کے سنجیدہ اصلاحات سے متعلق آئیڈیاز بہت جلد پگھل کر رہ گئے تھے۔ اسی طرح ان کے حامی بھی تتر بتر ہوگئے تھے۔
خاتمی کی نظروں کے سامنے سیاسی مخالفین کا سلسلہ وار قتل ہوتا رہا تھا۔یہ سب سراغرسانی کی وزارت کے بھوت عناصر کررہے تھے۔اس وقت ان کے ایک وزیر پر حملہ کیا گیا اور انھیں بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا،دوسرے وزراء کا مواخذہ کیا گیا اور بعض کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔
خاتمی نے اپنی صدارت کے اختتام پر جو بل پارلیمان میں پیش کیے تھے،وہ سب شورائے نگہبان نے مسترد کردیے تھے اور انھیں مجبور کیا گیا کہ وہ ان سے دستبردار ہوجائیں۔ اس لیے اگر آپ اصلاح کے چکر میں ایران کی صدارت پر فائز ہوں تو آپ کو بہت جلد پتا چل جائے گا کہ پورا نظام ہی آپ کے خلاف کام کررہا ہے اور خمینی کا بھوت ہمیشہ کے لیے آپ کا تعاقب کررہا ہے۔ان کے فرمودات حکمراں انقلابی ملّاؤں نے حِرزجاں بنائے ہوئے ہیں،اس لیے ایران میں کسی بھی شکل میں سماجی یا سیاسی تبدیلی ناممکن ہے۔
اردو العربیہ ڈاٹ نیٹ کے شکریہ کے ساتھ 

مذہب کے نام پر ووٹ کا سوال!

ہندوستان میں مذہب ،ذات ،زبان یا علاقہ کی بنیاد پر ووٹ کی اپیل کرنا غیر قانونی ہے ۔لیکن یہ غیر قانونی کام دہائیوں سے جاری ہے ۔کبھی کبھی الیکن کمیشن نے کسی ردعمل کا اظہار کیا تو کیا، ورنہ اس طرح کی شکایتی فائل دوسری شکایتی فائلوں میں کہیں گم ہو جاتی ہے ۔ٹی این شیشن سے پہلے تو کبھی یہاں محسوس ہی نہیں ہوا کہ یہاں ایسا کوئی ادارہ ہے جو انتخابی بدعنوانیوں پر قابو پانے کا دستوری حق رکھتا ہے ۔شیشن نے اپنے عہدہ کی برتری کا استعمال کیا اور سیاسی پارٹیوں اور بدعنوان سیاست دانوں پر شکنجہ کسنے کی کوشش کی ۔لیکن سیاست داں کب ماننے والے ہیں ۔بعد میں چیف الیکشن کمشنر کی قوت کو کمزور کرتے ہوئے اس کے ساتھ دو اور کمشنر بھی لگادیئے ۔شیشن کے بعد جی ایم لنگدوہ نے کچھ حد تک بدعنوانیوں کے خلاف سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے خلاف ایکشن لینے کی کوشش کی ۔مذہب کے نام پر ووٹ حاصل کرنے کو سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دیاہے۔جبکہ بی جے پی اپنے وجود کے دنوں سے ہی مذہب کے نام پر دوسرے فرقہ یعنی مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلاکرہی آج پارلیمنٹ پر قابض ہے۔اس سلسلے میں بابری مسجد کی شہادت اور اس کی تحریک سب سے بڑی مثال ہے۔بابری مسجد کے خلاف بی جے پی کی شر انگیز تحریک جو کہ اڈوانی کی قیادت میں چلی تھی ہندوستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ خونی تحریک تھی ۔اس تحریک سے جو تشدد کی لہر چلی وہ اب تک قائم ہے ۔اس نے ہزاروں لوگوں کی جان لی ۔جس کے ذریعہ بی جے پی نے مذہب کا سہارا لے کر ناخواندہ اور سادہ لوح عوام کا استحصال کیا۔لیکن سیاسی پارٹیوں میں سب سے زیادہ ڈھٹائی اگر کسی کو آتی ہے تو وہ بی جے پی ہی ہے ۔بقیہ سیاسی پارٹیاں اسی کے نقش قدم پر چلتی ہیں۔اگر یہاں قانون اپنا کام چابکدستی اور آزادانہ کررہا ہوتا تو جو لوگ آج اقتدار کے مزے لے رہے ہیں وہ یا تو جیلوں میں قید ہوتے یا ان کا سیاسی کیریئر ختم ہو چکا ہوتا ۔لیکن بد قسمتی ہے اس ملک کی کہ یہاں خونہ خرابہ کرکے ہی لوگ اقتدار تک پہنچ رہے ہیں ۔پھر بھی انہیں یہ زعم ہے کہ وہ اس ملک کے اصلی حق دار اور وطن پرست ہیں ۔جبکہ ان کی شرانگیزیوں کے سبب جو فسادات رونما ہوتے ہیں اور اس سے جو کاروبار اور معیشت کا نقصان ہوتا ہے وہ اربوں کھربوں میں ہے ۔سمجھ میں نہیں آتا کہ ملک کا اتنا نقصان کرکے بھی کوئی اس ملک کا وفا دار کیوں کر کہلاتا ہے ۔ اسدالدین اویسی کے ممبئی دورے میں تقریر کو لے کر بی جے پی نے الیکشن کمیشن کے سامنے اس بات پر سخت اعتراض جتایا ہے کہ اسد الدین نے مذہب کا نام لے کر فرقہ وارانہ تقسیم کو گہرا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ جبکہ اسدالدین کی تقریر میں عدلیہ کے فیصلہ کے خلاف کوئی بات نہیں تھی ۔انہوں نے مسلم محلوں کی پسماندگی اوربنیادی انسانی ضرورت کی عدم دستیابی دیکھ کر کہا کہ اگر آپ لوگ مجھے 25 کارپوریٹر دیدیں تو ہم مسلم محلوں کی تصویر بدل دیں گے ۔ یہ کوئی جرم نہیں ہے کہ کسی ایسے خاص محلوں کی نشاندہی کی جائے جسے تعصب کی بنیاد پر نظر انداز کیا گیا ہو۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی کی مذکورہ شکایت جو الیکشن کمیشن کے پاس کی گئی ہے ۔جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اویسی کے خلاف اس سلسلے میں کارروائی کی جائے ۔کسی کی شہہ پر کی گئی ہے۔اسد الدین اویسی کے ناگپاڑہ اجلاس میں جس طرح عوامی سیلاب امڈ آیا تھااسے دیکھ کر ان سیاست دانوں کے ہوش ارے ہوئے ہیں اور وہ بدحواس ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے نام پر سیاست تو کی لیکن ان کی الیکشن میں کامیابی کا اثر مسلم محلوں میں ترقی ،صفائی ،بجلی اور پانی کی سپلائی میں بہتری کی صورت میں کہیں نظر نہیںآتا ۔اس لئے وہ اس طرح کی غیر معیاری حرکت کرہے ہیں ۔لیکن جو لوگ اس طرح کی سطحی حرکت کررہے ہیں انہیں اس بار منھ کی کھانی پڑے گی ۔کیوں کہ اسد الدین کبھی جوش میں ہوش نہیں کھوتے وہ نپا تلا جملہ استعمال کرتے ہیں ۔یہ شکایت غالباً مجلس کے پرجوش نوجوانوں کے عزم کو متزلزل کرنے کی نیت سے کی گئی ہے ۔بہر حال سپریم کورٹ کے فیصلہ کے اثرسے اگر اس کو ایمانداری سے نافذ کیا گیا تو یقینی طور پر سب سے زیادہ بی جے پی ہی متاثر ہو گی ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ پارٹی ہے جس کی خمیر میں مسلم دشمنی کا زہر بھرا ہوا ہے اور لاکھ منافقت کا لبادہ اوڑھنے کے بعد بھی وہ اپنی فطرت سے جان نہیں چھڑا پاتی ۔ان کے لیڈران اپنی اصلیت دکھا ہی دیتے ہیں ۔اس لئے سبرامنیم سوامی کا یہ کہنا کہ سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلہ کا اثر اویسی اور مسلم لیگ کو ہی ہوگا ۔اندر کی کچھ کہانیاں بیان کررہا ہے ۔ جو فی الحال ہندوستان میں سکہ رائج الوقت ہے ۔یعنی کہیں پر نگاہیں کہیں پر نشانہ ۔

کچھ اردو اخبارات کی سچائی کی جھلکیاں :جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے



اردواخبار جو قوم کی ترجمانی کا دم بھرتے نہیں تھکتے ان کے کردار پر ایک نظر ڈالیں اور غور کریں تو گھن آنے لگے گی ۔اگر ہمیں شکایت ہے کہ میڈیا نے مسلمانوں کی شبیہ خراب کی ہے تو ہمیں یہ بھی ماننا ہی پڑے گا کہ ہماری ترجمانی کے دعویدار اردو اخبارات نے بھی مسلمانوں سے کوئی وفا داری نہیں نبھائی ہے ۔ان سچ بولنے اور سچ لکھنے کا دعویٰ اتنا ہی جھوٹا اور بے بنیاد ہے جتنا کہ کوئی بھری دو پہر میں یہ کہے کہ رات ہو چکی ہے ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا ہے ۔اردو اخبارات نے بھی اندھیر مچا رکھی ہے ۔ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان میں اردو اخبارات کے مدیر ہی سب سے زیادہ قابل، پر اعتماد اور باوقار ہیں ۔یہ وہی لوگ ہیں جو صحافت کے مشن کو سنبھالے ہوئے ہیں۔لیکن آج آپ کو ہفتہ روزہ سیرت کے مالک و مدیر کے خلاف ان کی معاندانہ روش کی کچھ جھلکیاں دکھائیں گے تو دانتوں تلے انگلیاں دبا لیں گے ۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اگر ان اردو اخبارات کو کسی مصلحت کی بنا پر سچ بولنے یا لکھنے میں کوئی تکلیف تھی تو یہ اس اخبار کے پیچھے کھڑے ہوتے اس کی حمایت میں صف بستہ ہوتے جو اول روز سے ہی سچ کا دعویدار ہے اور وہ اس اس نے یعنی ’’ہفتہ روزہ سیرت ‘‘نے آج تک یہ بھرم قائم رکھا ہے ۔اس کے برعکس کچھ اردو کے اخبارات نے سیرت کے مالک و مدیر کے خلاف محاذ کھول دیا۔پتہ نہیں انہیں کس بات کی خلش اور بے چینی تھی یا ہے کہ وہ سیرت اور اس کے مالک و مدیر کے خلاف کوئی خبر آتی ہے تو بغیر اس کی رائے لئے شائع کردیتے ہیں ۔انہوں نے ایک ایسے شخص کو جس کے کردار کے بارے میں سادہ لوح عوام کے علاوہ سبھی جانتے ہیں ان اہل بیت اطہار سے ملا دیا جن کی پاکیزگی کی گواہی قرآن نے دی ہے۔ذیل میں ہم ان تین اخبارات میں شائع شدہ خبروں کی سرخیاں پیش کرتے ہیں جسے پڑھ کرآپ خود فیصلہ کریں کہ ان اخبارات نے اپنی صحافتی دیانت داری کو کس طاق پر رکھ دیا حالانکہ یہی مدیران گرامی جب ملک کے دیگر میڈیا پر قلم اٹھاتے ہیں تو ان کی صحافتی دیانت داری پر سوال ضرور کرتے ہیں ۔ایک اخبار کے مدیر نے اتنا ضرور کیا کہ سرخی میں معمولی تبدیلی کی لیکن متن کو جوں کا توں ہی رہنے دیا ۔یہ خبر یک طرفہ تھی جھوٹ کا پلندہ تھا ۔یہی نہیں اگر مسلمانوں میں شعور ہوتا تو یہ خبر سیرت کے بجائے ان اخبارات پر اہل بیت اطہار سے گستاخی کا مقدمہ قائم 
ہوتا ۔لیجئے ہمارے اردو اخبارات کی اس خبر کی سرخی دیکھیں ۔

لکھنو سے شائع ہونے والے اخبار اودھ نامہ جو کہ کچھ عرصہ تک ممبئی سے بھی جاری ہوا تھا نے سرخی لگائی ’’ہفت روزہ کے مدیر کی گرفتاری و ضمانت پر رہائی‘‘اودھ نامہ کے ممبئی اڈیشن کے اس وقت کے مدیر خلیل زاہد تھے ۔

ہندوستان کے سب سے پرانے اخبار روزنامہ ہندوستان جس کے مالک و مدیر سرفراز آرزو تھے اور اب بھی ہیں نے اس خبر پر اپنا طومار کچھ اس طرح باندھا اس اخبار کی سرخی تھی’’اہل بیت و علماء کے گستاخ ہفت روزہ سیرت کے مدیر معین الدین برے پھنسے ۔آئی پی سی کی دفعہ 153 اے اور 295 اے کے تحت معاملہ درج ۔ہائی کورٹ میں مشروط ضمانت کے بعد بھوئیواڑہ کورٹ میں بھی ضمات‘‘۔
روزنامہ سہارا جو کہ آٹھ نو شہروں سے شائع ہوتا ہے ۔اس وقت اس کے ممبئی کے ایڈیٹوریل ہیڈ جاوید جماالدین تھے۔انہوں نے سرخی لگائی ’’اہل بیت کی شان میں گستاخ آمیز تحریر لکھنے والا گرفتار ۔ضمانت ملنے سے 
ناراض شکایت کنندہ نے عدالت جانے کا فیصلہ کیا‘‘۔

مذکورہ بالا تینوں اخبارات میں یہ جھوٹی من گھڑت اور بیہودہ خبریں 4 ؍جنوری 2014 کو شائع ہوئی تھی۔ان اردو کے اخبارات کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ انہوں نے یک طرفہ کہانی شائع کی گویا کسی نے اس کو اسپانسر کرکے اس کے پیسے ادا کئے ہوں ۔یہ دوسروں کو صحافت سکھاتے ہیں انہیں تمیز نہیں کہ اس طرح کے کسی بھی معاملے میں دوسری پارٹی سے بھی اس بابت معلوم کرنا چاہئے کہ معاملہ کیا ہے ۔لیکن کسی کے چشم و ابرو یا ان کی مردہ ضمیری یا پھر ہوس زر نے انہیں ایسا کرنے سے باز رکھا ۔حالانکہ سیرت کے مدیر و مالک کو جان سے مارنے کی دھمکی ہی نہیں دی گئی بلکہ اس پر عمل بھی کیا گیا یہ اور بات ہے کہ موت و حیات کا فیصلہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے وہی اس کا فیصلہ کرتا ہے کہ کسے موت آنی ہے اور کس کو زندگی کے کچھ لمحات مستعار کئے جائیں ۔جب یہ سیرت کے مدیر کو اس طرح ڈرا دھمکا کر اس کے سچائی والے راستوں سے ہٹانے میں ناکام رہے تو انہیں جھوٹے مقدموں میں پھنسایا گیا ۔لیکن یہ پہلے ہی عرض کیا جاچکا کہ اللہ کے ہی قبضہ قدرت میں سب کچھ ہے وہی دلوں کے حالات کو جانتا ہے اور وہی دلوں کو پھیرنے 
والا بھی ہے سو ان کا جھوٹا مقدمہ بھی چل نہ سکا ۔

سیرت نے طے کیا ہے کہ وہ جس طرح کسی خوف و دہشت کو خاطر میں نہیں لاتا اسی طرح وہ اپنے معاملات سے عوام کو آگاہ کرتا رہے گا ۔قارئین ایک بات اور جان لیں کہ مدیر و مالک ہفت روزہ سیرت کے تعلق سے یہ افواہ پھیلائی جارہی ہے کہ وہ بد عقیدہ اہل بیت کی ناقدری کرنے والا اوربزرگوں کی توہین کرتا ہے ۔یہ سراسر اتہام ہے اور یہ الفاظ ویسے ہی جھوٹے ہیں جیسے آر ایس ایس والے مسلمانوں پر غدار وطن ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔الحمد اللہ ہفت روزہ سیرت کے مالک و مدیر اس پیر مجاہد ملت ؒ کا مرید ہے جو اڑیسہ کے رؤفیہ اسٹیٹ کے مالک تھے۔وہ کوئی چندہ خور یا زکوٰۃ خور مولوی نہیں تھے اور نا ہی آج کے دنیا پرست مولویوں کی طرح سیاست کا سہارا لے کر دنیا بنانے والوں میں سے تھے۔میدان حشر میں تو ناانصافیوں اور ظلم اور حرام خوری کا فیصلہ ہونا ہی ہے لیکن ہم اب ہر معاملہ عوام کی عدالت میں بھی لاتے رہیں گے ۔ہم ٹوپی والے بابا کے پروردہ نعمت ہیں آئندہ شماروں میں انشاء اللہ تعالیٰ ٹوپی والے بابا ؒ کے مزار شریف اور اس تعلق سے بننے والے ٹرسٹ کے ٹرسٹیوں کے بارے میں ایسی باتیں جس کو ہم نے چوبیس سال سے صبر کے ساتھ برداشت کیا اب عوام کے سامنے ثبوت کے ساتھ پیش کریں گے جو آپ نے کبھی سوچی اور نہ سنی ہوگی۔ قوم کے ان چہروں سے بھی نقاب اترتا رہے جو ان کے سامنے جعلی لیڈر شپ کو پیش کرتے رہتے ہیں ۔جنہیں قرآن کی چھوٹی چھوٹی سورہ تک صحیح سے پڑھنا نہیں آتا اور جو ڈھنگ سے دو بات نہیں کہہ سکتے قوم اور قوموں کی تقدیر کیاہے، وہ تو ان کے سروں کے اوپر سے گزر جاتا ہے ۔ایسے لوگوں کو قوم کا رہبر بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔یہ جرم اردو کے اخبارات کررہے ہیں ۔یہ جرم سب جرموں سے بڑھ کر ہے کیوں کہ کسی بھی عام جرم میں ایک دو لوگ یا چند لوگ متاثر ہوتے ہیں لیکن یہ جرم ایسا ہے کہ اس سے پوری قوم تباہ ہوتی ہے ۔اب عوام اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھیں اپنے چہیتے اردو اخبارات کی کرتوت اور خود فیصلہ کریں۔


ہفت روزہ سیرت ممبئی کے شکریہ کے ساتھ 

پاؤں تو رگڑئیے، چشمہ ضرور پھوٹے گا


قاسم سید
  
سیاست میں کچھ جملے ایسے ہیں جوہرقسم کے سیاستداں کی زبان پر رہتے ہیں اور ضرورت کے مطابق ان کااستعمال ہوتاہے
مثلاً سیاست میں دوستی اور دشمنی مستقل نہیں ہوتی۔ ’قومی تقاضوں‘ کوذہن میں رکھ کر ان کی تشریح کی جاتی رہی ہے جیسے ’قومی تقاضوں‘ کی مانگ پر ملائم سنگھ نےساکشی مہاراج کو ممبر پارلیمنٹ بنایااور بابری مسجد شہادت کے بعدسپریم کورٹ کے فیصلے کی بےحرمتی میںایک دن جیل کی سزابھگت چکے کلیان سنگھ کی پارٹی سے اتحاد کیااور ان کے بیٹے کو کابینہ میں لیا۔ کانگریس نے نظریاتی حریف لیفٹ سے عوام کی خواہش کےاحترام میں دوستی کی اور مغربی بنگال میںایک ساتھ الیکشن لڑا۔ وی پی سنگھ کی قیادت میں کانگریس کے خلاف بی جے پی اور لیفٹ مل گئے دونوں نے بیک وقت وی پی سنگھ سرکار کی حمایت کی جنتادل نے بی جے پی کو انتخابی اتحادی بنایا۔ قومی مفاد سے مجبور ہوکر ملائم سنگھ اور مایاوتی نے یوپی اے سرکار کو کاندھا لگایا۔ اور اب قومی تقاضوں کےآگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے بابری مسجد گرانے کی سازش کرنے والے اور بابری مسجد تحفظ کی خاطر سرکار قربان کرنے کا دعویٰ کرنے والے باہم شیروشکر ہونے کے امکانات تلاش کر رہے ہیں ۔ کانگریس کوزندگی بھر منھ بھر کر گالیاں دینے والے اور گالیاں کھانے والے دوستی اور دشمنی مستقل نہیں ہوتی کاثبوت دینے کی خاطر کڑواہٹ کوبھلاکر ایک دوسرے کے گلے میںباہیں ڈالنے کے لیے بےقرار ہیں یعنی ہندوستانی سیاست کی چمڑی بہت موٹی ہے۔ اصول ،قانون ، روایت ،شرم وحیا،غیرت وخودداری، نظریات جیسے شریفانہ عناصر کہیں اس کے خمیر میں شامل نہیں ہیں۔ اس لیے دلتوں کے سابق مسیحاپاسوان سیکولرزم کی دہائی کے ساتھ واجپئی سرکار چھوڑدیتے ہیں اور ’قومی مفاد‘ میں مودی کادامن تھام لیتے ہیں۔ نتیش کمار سرکار چلانے کے لئے 17سال تک بی جے پی کا ہم پیالہ ہم نوالہ بن جاتے ہیں اور مودی سے ذاتی ٹکرائو کوسیکولرزم کاجامہ پہنا کر اپنے کٹرترین سیاسی حریف لالو کی لالٹین پکڑنے میں ذراسی بھی دیرنہیں کرتے پھراچانک ان پر انکشاف ہوتا ہےکہ بی جے پی توفرقہ پرست ہے اور جب لالو اپنا رنگ دکھاتے ہیں توپھر بی جے پی کے ساتھ گل بہیاں شروع ہوجاتی ہیں یعنی سیاسی ملائی کھانے اور اس ہانڈی پر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے کوئی بھی چولاپہننے سے گریزنہیں ۔ ہر قیمت ادا کرنے کےلئےتیاراورنظریاتی ڈھکوسلوں کوالوداع کہنے کے لئے بے شرمی کی سرحد سے گزرنے کا حوصلہ ۔ایک اورلفظ ہے جس نے ہندوستانی سیاست کو بے توقیر اور مسخر ابنایا وہ ہے سیکولرزم سیاستداں، درزیوں کی طرح ہر ناپ کالباس رکھتے ہیں اور کسی کوبھی پہنادیاجاتا ہے لالو کے برادر نسبتی سادھویادو نے ایک بار کہاتھا کہ ہندوستان میں سیکولرزم نام کی کوئی چڑیا نہیں ہے ۔ یہ دراصل سیاسی ضرورتوں کےنقد لین دین کے کام آتا ہے کل جو شخص فرقہ پرست تھا ضرورت ہوئی تو اس میںسیکولر ہونے کا ہر جوہر ڈھونڈلیاجاتاہے اس لفظ کا جتنامذاق اڑایا گیا ہے اور استحصال کیاہے اس نے اپنی شناخت کھودی ہے یہ صرف آئین کی کتاب میں محفوظ ہے لیکن عملی سیاست میںاس کی کوئی لکشمن ریکھانہیں اسی لیے کانگریس اور بی جے پی نظریاتی حریف ہونے کے باوجود اپنے لیڈروں کو ادھرسے ادھر بھیجتی رہتی ہیں تاکہ پارٹی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایاجاسکے ۔سنجے نروپم کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ ہوتے ہیں اور جگدمبیکاپال بی جے پی کے ٹکٹ سے الیکشن لڑکر لوک سبھا پہنچتے ہیں ایسی سیکڑوں مثالیں ہیں ورنہ نرسمہارائواس بات کو یقینی کیسے بناتے کہ گیارہ بجے سے پانچ بجے تک بابری مسجد کی اینٹیں نکالی جاتی رہیں اور انتظامیہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہے۔ ملائی کھانے والوں میںاس بات پر غیر تحریر شدہ مفاہمت ہے کہ مظلوم طبقات اور اقلیتوں کو پیروں کی جوتی بناکر رکھا جائے۔ انہیں اقتدار میںشراکت دارانہ بنایا جائے البتہ وقتاً فوقتاً خیرات ومراعات کے ٹکڑے ضرور ڈالے جاتے ہیں تاکہ بے اطمینانی کی چنگاری انقلاب کی آگ میں تبدیل نہ ہوجائے لیکن ان کی گردنوں میں وفاداری پر استوار غلامی کا خود ضرورڈال کر رکھاجائے۔ جس طرح انتخابی پارٹیوں میں پاسوان، اٹھاولے، ادت راج ،پونیا میراکمار اورپرجاپتی وغیرہ جیسی علامتوںکو جگہ دے کر یہ ثابت کیاجاتا ہے کہ مظلوم طبقات کے نگہبان ہیں اسی طرح نمائشی مسلم چہروں کو آگے رکھ کر اس بات کامظاہرہ ہوتاہے کہ آپ کا پورا خیال رکھاجارہا ہے ان کانام لکھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ علامتی چہرے پیادوں کی طرح بدلتے رہتے ہیں۔ ہندوستان کی ہرپارٹی کی قیادت اعلیٰ طبقات کے ہاتھ میں ہے اور علاقائی جماعتوں کی زمام کارذات پات کی سیاست کے فنکاروں نے سنبھال رکھی ہے۔ مظلوم طبقات کو ان کی حیثیت یاد دلانے کےلئے مظفرنگر، دادری اور اوناجیسے واقعات کااعادہ کیاجاتاہے۔پناہ گزیںکیمپوںمیں رہنے پر مجبور کر کےاحساس دلایاجاتا ہے کہ اگر سراٹھایاتو اس سے بھی براانجام ہوگا۔ نچلی سطح پر بھی ایسی قیادت فریم کی جاتی ہے جو ان کےباڑے میںہنکاکرلے جاتی ہے اور گلہ نگہبانی کا مقدس فریضہ انجام دینے والے اس کا محنتانہ وصول کرتے ہیں۔
اس بے درد، خود غرض ،بے اصول، بے رحم سیاست کاسب سے زیادہ اثر مسلمانوں پر پڑا سچرکمیٹی کی رپورٹ اس کی شاہد ہے اورآگے بھی یہ سلسلہ چلتا رہے گا اگر اپنی دنیا آپ پیدا کرنے اور اپنی ضرورتوں کے مطابق سیاسی حکمت عملی نہیں بناتے ، فی الحال دور دور تک ایسے آثارنظر نہیں آتے کہ مسلمانوں یا ان کی بزرگ قابل احترام قیادت کو بے وزنی ،بے وقعتی اور رسیاسی طورپر صفر ہوجانے کااحساس ہو اور وہ اس کے لیے جرأت مندانہ قدم اٹھانے کے بارے میں سوچتے ہوں وہ صرف جائے پناہ ڈھونڈتے ہیں وحشی ہرن کی طرح ادھر سے ادھرقلانچیں بھرتے ہیں مگر جاں بخشی پھر بھی نہیںہوتی۔ ہندوستانی سیاست نے ہمیں ناانصافی کے اتنے الیکٹرک شاک دیے ہیںکہ اب کچھ کرگزرنے اوراقتدار میںباعزت شراکت کے تصور سے بھی خوف کھاتے ہیں اور معاملہ صرف جاں بخشی تک آگیا ہے۔ یعنی جو جاں بخشی کاوعدہ کرے اسی کے ساتھ ہولیے جس نے نظرالتفات ڈالی جان ودل ہاربیٹھے جس نے مسکراکردیکھا اس کی انگلی پکڑلی جس نے سبز خواب دکھائے اس کادامن تھام لیا۔ اب پانچ ریاستوں میںانتخابات کا اعلان ہوگیا ہے ان میںاترپردیش سب سےاہم ہے کیونکہ یہاں مسلمانوں کی قابل ذکرآبادی ہے۔ مگر اس کی اکثریت اس الیکشن کی تاریخی اہمیت سے واقف نہیں ۔ البتہ خیرخواہان ملت نےفیلڈنگ سجانی شروع کردی ہے اور انہیں سماجوادی پارٹی میں باپ بیٹے کی لڑائی کابڑادکھ ہے ۔ ان کا بس چلے تو دونوں کو ایک جگہ بٹھاکرصلح کرادیں ایسا لگتا ہے کہ اگر ان میںاتحاد نہیں ہوا تو ملک وملت کاعظیم نقصان ہوگا۔ مسلمانوں کی لٹیا ڈوب جائے گی۔ ایک لیڈر اس حد تک آگے بڑھ گئے کہ دھرنے پر بیٹھنے کاارادہ ظاہر کرتے ہوئےکہاجب تک دونوں کاملن نہیںہوگا وہ اٹھیں گے نہیں، یہ جذبہ قابل قدرہے اور اس وقت اور قابل قدر ہوتا جب مسلم مذہبی جماعتوںکے دھڑوں کو ایک کرنے کے لیے یہ عزم ظاہر کیاجاتا یہ جھگڑا اصولوں کا نہیں یا اقتدار کی بندر بانٹ کاہے۔سماجوادی پارٹی بھی کیا کانگریس کلچر کی اسیرنہیں ہوگئی اور مسلمانوں کے تعلق سے صرف زبانی جمع خرچ سے کام چلاتی ہے۔ کئی مسلم تنظیموں نے مظفرنگر فساد کے موقع پر بھی اس کاساتھ نہیںچھوڑا تھا مگراب وہ بھی کھل کر حمایت سے گریزکررہی ہیں۔ لیکن یہ مقام عبرت ہےکہ یادو کم وبیش آٹھ فیصد اور سب کچھ ان کے پاس اورمسلمان 20فیصد ہے پھر بھی وہ حاشیہ پر ہے ۔ سماجوادی پارٹی کی سیاست نے یادو طبقہ کواترپردیش کے طاقتور ترین سیاسی گروہ میں تبدیل کردیاہے اور یہ کوئی بری بات نہیں مگر یہ مسلمانوں کی قیمت پر ہوا ہمارے لیے دووعدے زندگی وموت کا سوال تھے۔ دہشت گردی کے الزام میں فرضی طریقہ سے گرفتار کئےگئے نوجوانوں کی باعزت رہائی کےاقدامات کے دوسرے تعلیم وملازمت میں پسماندگی کی بنیادپر مسلمانوں کو ریزرویشن ،آج سماجوادی پارٹی دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے یہ تمام وعدے پورے کردیے کیاحامیان سماجوادی پارٹی میںاتنی جرأت ہے کہ وہ ان دونوں سوالوں کا جواب لیں۔ یقین جانیے اب بھی یہی پیغام آئے گا کہ بی جے پی کو ہرانے کے لئے سیکولر فورسز کو ووٹ دیجئے ہمارے اندر یہ طاقت نہیں کہ بی جے پی کو ہراسکیں ایسا ہوتا تو وہ مرکزمیں نہیں ہوتی ان سے یہ سوال کیوں نہیں کیاجاتاکہ اگر آپ واقعی بی جے پی کو ہراناچاہتے ہیں تو باپ بیٹے ایک کیوں نہیں ہوجاتے ۔ سماجوادی پارٹی ، بی ایس پی اور کانگریس ایک پلیٹ فارم پر کیوںنہیں آجاتیں۔ یہ متحدہ امیدوار کیوں نہیں اتارتیں ۔ اس کامطلب یہ ہے کہ بی جے پی کو ہرانے کا نعرہ صرف ایک ڈھکوسلہ ہے اور کیاآپ میںاتنا دم ہے کہ ان تینوں کو ایک جگہ آنے کی وارننگ دیں۔ توبی جے پی کے لیے کارپٹ تو یہی پارٹیاں بچھاتی ہیں جو سیکولرزم کی مالاہاتھ میں لیے رہتی ہیں ۔ہم ان کے منافقانہ جال میں پھنس کر گوانتاناموبے کی تصویر بن جاتے ہیں۔ کبھی اپنے بارے میں بھی سوچیئے اور دل ٹٹول کر دیکھئےکہ اترپردیش کی اتنی بڑی آبادی کاایک نمائندہ بھی لوک سبھاکیوں نہیں پہنچ سکا۔ ہم دینے والے کیسے بن سکتے ہیں۔ خود کو ہروقت مظلوم سمجھنے اور سمجھانے کی روش کوچھوڑ کر پراعتماد بنناہوگا اورپھر جہاں پیررگڑدیں گے چشمہ وہیں سے پھوٹے گا ۔
qasimsyed2008@gmail.com

سوشل میڈیا اور غافل مسلمان


نہال صغیر

ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں اسی طرح ان سہولیات کے بھی ہیں ۔سوشل میڈیا نے جہاں عام انسانوں کو با اختیار بنا کر معلومات کا حق اس کے ہاتھوں میں تھما دیا ہے وہیں کم ظرف لوگوں کیلئے یہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کا بھی آلہ بن گیا ہے ۔پچھلے ہفتے ہی بی جے پی سے جڑی رہنے والی سادھوی کھوسلہ نے اس پر الزام عائد کیا کہ بی جے پی سوشل میڈیا کے ذریعہ نفرت پھیلانے کا کام کرتی ہے ۔انہوں نے عامر خان کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ بی جے پی نے عامر خان کے خلاف ان کے عدم برداشت والے ماحول پر دیئے گئے بیان کے ردعمل میں مہم چلائی ۔ سادھوی کے مطابق ان کا ضمیر انہیں ملامت کرنے لگا اور انہوں نے بی جے پی سوشل میڈیا ونگ سے خود کو علیحدہ کرلیا ۔ایسی سیکڑوں مثالیں مل جائیں گی جب نفرت پھیلا کر کسی شخص یا گروہ کے خلاف دیگر افراد کو اکسا یا گیا جس کے نتائج انتہائی بھیانک بر آمد ہوئے ۔ زیادہ وقت نہیں گزرا جب مظفر نگر ،فساد کی آگ میں صرف سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں اور اشتعال انگیز ویڈیو کے سبب جلا ۔ جبکہ اسی تنظیم کے افراد یا ان کی ذیلی تنظیموں کے لوگ کسی کو اتنی بھی سہولت نہیں دینا چاہتے کہ وہ ان کی کسی بات پر بہتر ڈھنگ سے تنقید ہی کرسکے ۔ بال ٹھاکرے کی موت کے بعد ممبئی کا مہاراشٹر بند کے سلسلے میں پال گھر کی دو لڑکیوں کا واقعہ تو ابھی تک ذہن میں محفوظ ہی ہے ۔ان دو لڑکیوں میں ایک مسلمان اور دوسری اس کی سہیلی تھی ۔ اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر شاہین نام کی لڑکی نے بند کی مخالفت کی تھی ۔شاہین کی پوسٹ کو اس ایک سہیلی نے لائیک کیا ان دونوں لڑکیوں کوآناًفاناً گرفتار کرلیا گیا ۔اس کے بعد ایسی کئی گرفتاریاں ہو چکی ہیں۔چدمبرم کے بیٹے کے خلاف تنقید کرنے پر ایک پینتالیس سالہ شخص کو گرفتار کیا گیا ۔ اسیم تریویدی کو ہندوستان کے موجودہ حالت پر کارٹون بنانے پر ملک کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا گیا ۔یہ سب کچھ صرف اس لئے کیا جارہا ہے تاکہ سوشل میڈیا کا عام استعمال بند ہو ۔نیز اس پر بھی قدغن لگا کر بیباکانہ اپنی رائے کا اظہار کرنے کا یہ راستہ بھی مسدود کردیاجائے تاکہ کوئی باشعور شخص اس کو استعمال کرکے معاشرے کو موجودہ خرابی کی جانب توجہ دلانے میں کامیاب نہ ہو پائے جو کسی بھی عظیم انقلاب کا سبب نہ بن سکتا ہے ۔ یہ با ت واضح ہو جانی چاہئے کہ سوشل میڈیا کا استعمال گروہی حیثیت سے آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں خوب کرتی ہیں ۔ انہوں نے تنخواہ دار ہزاروں کارکنان اس کام کے لئے مقرر کر رکھے ہیں ۔جب سوشل میڈیا یا انٹر نیٹ کا دور نہیں تھا تب آر ایس ایس کا پتر لیکھک سنگھ ہوا کرتا تھا جو اب بھی برقرار ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ اب اس کی فعالیت پہلے سے کم ہے ۔ کیوں کہ اب اطلاعاتی انقلاب نے پرنٹ میڈیا کی حیثیت کو ثانوی بنا دیا ہے ۔ مسلمانوں اور ان کی تنظیموں کی جانب سے کوئی خاص پیش رفت نہیں ہے۔ہم صر ف ہائے توبہ اللہ سے دعا کرکے کسی کی ہلاکت اور بربادی کی دعا مانگنے کیلئے ہی رہ گئے ہیں ۔
موجودہ اطلاعاتی تکنیکی انقلاب نے افراد کو با اختیار بنایا ہے ۔عام انسانوں کو بااختیار بنانے کا سہرا یقیناًسماجی رابطے کی سائٹوں کو جاتا ہے ۔یہ سماجی رابطے کی سائٹیں فیس بک ،ٹوئٹر،واٹس ایپ اور انسٹا گرام وغیرہ ہیں ۔ ہم آئے دن کسی نہ کسی معاملے میں میڈیا کے تعصب کا رونا روتے ہیں ۔یہ رونا حقیقی بھی ہے کہ میڈیا مسلمانوں یا پسماندہ اقوام کے تئیں تعصب برتتا ہے ۔تعصب کے سلسلے میں صرف یہ کہنا کہ صرف مسلمان ہی اس کا نشانہ ہیں ،ٹھیک نہیں ہے ۔ چونکہ میڈیا صرف کچھ خاص فرقہ کے ہاتھوں میں ہی نہیں بلکہ وہ سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں بھی ہے اس لئے وہ صرف اپنے مفاد کی خبریں نشر کرتے یا جھوٹی خبروں پر مبنی افواہ پھیلاتے ہیں ۔ ایسے دور میں سماجی رابطے کی سائٹ ایسی ہی ہے جیسے صحارا کے ریگستان میں کوئی نخلستان ہو ۔ آپ کی باتیں جو مین اسٹریم میڈیا میں جگہ نہیں پاسکتی تھیں اسے بڑی آسانی سے فیس بک،ٹوئٹر یا انسٹا گرام کے ذریعے دنیا کے کروڑوں لوگوں تک پہنچاسکتے ہیں۔اس کی ایک مثال پچھلے سال میڈیا میں گفتگو کا سبب بننے والی مغربی اتر پردیش کے کچھ علاقوں میں ہندوشدت پسندوں کی تنظیموں کی جانب سے اسلحہ کی ٹریننگ کیمپ کی خبر ہے ۔ یہ خبراور اس کی ویڈیو کم از کم دو ماہ سے گردش کر رہے تھے ۔ دو ماہ بعد کہیں جاکر مین اسٹریم میڈیا کی آنکھیں کھلیں اور انہوں نے اس جانب توجہ دلا کر حکومت و انتظامیہ کو جھنجھوڑ نے کا کام کیا ۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ یہاں بھی پوری طرح آزاد ی ہے ۔ یہاں بھی کئی بہانوں سے آپ کو پریشان کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اگر آپ کی پوسٹ پر مسلسل شکایت ہوئی تو یہاں بھی آپ کی پوسٹ سینسر ہوسکتی ہے ۔اس میں ایسے مواد جو مذکورہ سائٹوں کے ذمہ داروں کو پسند نہیں انہیں بلاک کیا جاتا ہے ۔لیکن جب تک وہ اس کی جانچ کرکے بلاک کریں گے تب تک آ پ کی بات لاکھوں افراد تک پہنچ جاتی ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سماجی رابطے کی سائٹس بڑی سرعت سے کام کرتی ہے اور کسی پوسٹ کے آتے ہی اس کو پسند اور منسلک کرنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔ سینسر کرنے اور اسے بلاک کرنے کا اثر ابھی واٹس ایپ پر نہیں ہے یا اگر ہوا بھی تو فیس بک ٹوئٹر یا انسٹا گرام کے مقابلے بڑی سست روی سے ہو گا ۔اتنی دیر میں تو آ پ کی باتیں بے شمار افراد تک پہنچ جائیں گی۔یہ یقیناًاکسیویں صدی کا حیرت انگیز انقلاب ہے ۔جس نے عام انسانوں کو اطلاعات کی نشر و اشاعت میں با اختیار بنایا ہے ۔
ایسے وقت میں جب میڈیا کے ذریعہ مسلمانوں کی شبیہ مسخ کرنے کی مہم چل رہی ہے سماجی رابطے کی یہ سائٹیں ہمارے لئے انعام سے کم نہیں ہیں ۔ لیکن ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم کو صرف رونا ہی آتا ہے ۔ جو مواقع قدرتی طور پر ہمیں حاصل ہیں اس کا استعمال بھی ہم مثبت طور پر نہیں کر پارہے ہیں ۔جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ آر ایس ایس یا دیگر تنظیمیں اپنے مفاد کے لئے با ضابطہ اس کا استعمال کررہی ہیں ۔ لیکن ہماری تنظیمیں اس سلسلے میں ان کے مقابلے ایک فیصد بھی استعمال نہیں کر رہے ہیں ۔جماعت اسلامی ہند نے اس کے شعبے ضرور بنا رکھے ہیں لیکن جس بجٹ کی ضرورت ہے اور جتنے افراد اس کے لئے چاہئے وہ اسے بھی میسر نہیں ۔جماعت اسلامی ہند کے پاس شاید نہ تو بجٹ ہے اور نا ہی افرادی قوت اس کے پاس ہے ۔ویسے قوم میں جو لوگ موجود ہیں یا جو اس کام کے لئے دستیاب ہیں ان سے بھی ہماری تنظیمیں فائدہ نہیں اٹھا پارہی ہیں ۔ہمارا اور ہماری تنظیموں کا رویہ ایسا ہو گیا ہے کہ وہ کسی تنظیم کے ساتھ زیادہ دن مل کر کام نہیں کرسکتے ۔تنظیم ان کے ساتھ کسی غلام کی طرح سلوک کرتی ہے جس سے بددل ہو کر ایسے افراد نکل جاتے ہیں یا تنظیمی نخوت کی وجہ سے وہ نکال دیئے جاتے ہیں یہ لوگ قوم کے لئے تنظیم کے ساتھ مل کر زیادہ سود مند ہو سکتے تھے یا وہ سود مند ہیں ۔ تنظیموں کو چاہئے کہ وہ کارپوریٹ اسٹائل اپنانے کے بجائے نبی ﷺ کے اخلاق حسنہ کی روشنی میں اپنے کارکنوں کے ساتھ سلوک کریں تاکہ وہ بددل ہونے کے بجائے اپنی قابلیت کو قوم کی فلاح و بہبود اور دین کی تبلیغ و ترویج میں لگائیں۔جمعیتہ العلماء ملک کی سب سے پرانی اور مضبوط تنظیم ہے ۔ اس کے پاس افرادی قوت بھی وافر مقدار میں ہے ۔ وہ چاہیں تو سوشل میڈیا کا ونگ بنا کر اس میں اپنے افراد کی تربیت کروا کر آر ایس ایس سے زیادہ اثر انداز ہو سکتے ہیں ۔لیکن یہ سب کچھ کام کرنے سے ہوگا صرف بد دعا ئیں کرنے اور بیٹھ کر ابابیل کا انتظار کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔مسلمانوں کی دیگر تنظیمیں تو بس آسمان سے کسی فرشتے کے اترنے کے ہی منتظر ہیں کہ ان کی لڑائی فرشتے ہی لڑیں گے وہ کچھ نہیں کریں گے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کا باشعور طبقہ اور ان کی تنظیمیں اس جانب ضرورت کے حساب سے متوجہ ہوں ۔ جس تیزی کے ساتھ دشمن ہماری یا اسلام کی شبیہ کو دھندلانے میں مصروف ہے اس سے بھی زیادہ تیزی سے ہمیں متحرک ہونے کی ضرورت ہے ۔لیکن یہاں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے ۔ہم لمبی تان کر سو رہے ہیں اور دشمن ہمارے گرد واہموں کا مضبوط احاطہ تیار کرتا جارہا ہے ۔ جسے مخالف قوتیں ہی نہیں ہم بھی حقیقی سمجھنے لگے ہیں ۔ یہاں تھوڑی سی راحت کی بات یہ ہے کہ ہمارا تعلیم یافتہ اور باشعور نوجوانوں کا طبقہ جو ملت کی پریشانیوں سے واقف ہے ،جس کی حمیت اور غیرت مری نہیں ہے، وہ کسی تنظیم کی مدد کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے کے بجائے اپنی بساط بھر سوشل میڈیا پر ان دشمنوں سے نبرد آزما نظر آتا ہے ۔ ہماری تنظیموں کو ایسے نوجوانوں کی مدد کرنی بھی چاہئے اور ان سے اس جانب قدم بڑھانے کے لئے مدد لینی بھی چاہئے ۔ 

جمہوریت اور دجال کا رشتہ .....

عمر فراہی . ای میل : umarfarrahi@gmail.com
یوں تو جدید مغربی تہذیب کا ہر سال آگ اور خون کے لباس میں ہی لپٹا ہوا  آیا ہے اس لیںُے  2017  کی شروعات بھی اسی رنگ میں غرق ہو تو ہمیں حیرت میں نہیں مبتلا ہونا چاہئے - ویسے اب ہماری زندگی کا کوئی بھی سال اچھابھی کیسے ہو سکتا ہے جبکہ بیسویں صدی کے ہر سال نو کی شروعات کا جشن ہی فحاشی عریانیت شراب موسیقی اور لہو لعب میں غرق ہوکر منایا جاتا ہو - دنیا کی اب تک کی تاریخ میں آج سے پہلے انسانوں پر اگر کبھی اتنا ظلم اور قتل عام ہوا بھی تو وہ تاتاریوں کا دور تھا جب انہوں نے بغداد کی گلیوں میں خون کی ندیاں بہا دیں اور جگہ جگہ میدانوں میں لاشوں کے پہاڑ کھڑے نظر آئے - تاریخ میں آج بھی چنگیز اور ہلاکو کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور لوگوں میں یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ یہ لوگ اپنے وقت کے ظالم اور جابر حکمراں تھے - اسی طرح یزید کو آج بھی مسلمانوں کی تاریخ میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا - لیکن ماضی کی بنسبت بیسویں صدی کا کمال یہ رہا ہے کہ پچھلے ایک ہزار سالوں میں انسانوں کا جتنا قتل عام نہیں ہوا جتنا صرف تیس سال کے اندر دو عالمی جنگوں میں پانچ کروڑ انسان ہلاک کر دیئے گئے  بارودوی اور آتشیں  اسلحوں سے لاکھوں انسانوں کی لاشیں بھی اس طرح جل کر راکھ ہو گئیں کہ ان کے وارثین کو آخری دیدار کرنابھی نصیب نہیں ہو سکا -مگر افسوس کہ سیکڑوں ہزاروں کلو میٹر کی اونچائی سے قتل عام کرنے والے قاتل پائلٹ کو بھی یہ احساس نہیں رہا کہ اس کے آتشیں اسلحوں سے جل کر راکھ ہونے والوں میں وہ بچے بھی شامل ہیں جنھوں نے ابھی تک دنیا کی حقیقت کو بھی نہیں سمجھا تھا یا جو بوڑھے ہیں جو خود آسان موت کی دعا میں مصروف ہیں - جی ہاں 8اگست 1944 کو جب امریکی قاتل جہاز کا پائلٹ ایٹمی ہتھیار لے کر جاپان کے شہر ناگا ساکی کے پرواز پر روانہ ہوا تو اس وقت صبح کے چار بج رہے تھے اور گہری نیند کی آغوش میں سونے والے لوگوں کو یہ بھی نہیں پتہ تھاکہ اگلی صبح وہ اٹھ نہیں پائیں گے یا ان میں سے بیشتر بچے اور جوان جن کے دلوں میں نہ جانے آنے والی زندگی کے  کتنے ارمان اور کتنی امنگیں رہی ہونگی وہ سب ایک ہی پل میں خاک ہو چکی تھی - کتنے لوگوں کو یہ پتہ ہے کہ اس وقت کے قاتل امریکی صدر اور پائلٹ کا نام کیا تھا - یہ کمال بھی بیسویں صدی کے ظالم و جابر  جمہوری حکمرانوں کو حاصل ہے کہ ان طاقتوں نے مظلوموں کو یہ احساس بھی نہیں ہونے دیا کہ وہ ظالم ہیں اور قتل ہونے والے مظلوم ! اس کے باوجود کیا یہ عوام کی بھی بے حسی نہیں ہے کہ وہ سب کچھ بھول کر اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ دوسرے لوگ بھی وہی عمل اختیار کریں گے ایک دوسری سیاسی پارٹی اور اس کے صدر اور وزیراعظم کو منتخب کرنے کی تیاری میں مصروف ہوجاتے ہیں - شاید یہی تو دجالیت ہے اور اسی کا نام جمہوریت ہے - یعنی بیسویں صدی کی خوشنما دیوی ؟ کروڑوں انسانوں کا خون پی کر بھی قابل تعظیم ہے ! یہی سب کچھ پوری دنیا اور خود ملک عزیز میں بھی ہو رہا ہے اور نبوی تحریک کے ذریعے اٹھنے والا حقیقی انقلاب ایک بار پھر تاریخ کی بھول بھلیوں میں کہیں گم ہو چکا ہے -اسے کہاں تلاش کریں اور اسے کون تلاش کرے گا ؟ شاید کوئی نہیں - شاید ابھی تو ہماری جمہوریت کی تلاش ختم نہیں ہوئی ہے - ابھی ہم تھکے بھی نہی ہیں - ابھی تو ہم  میں جان باقی ہے -ابھی تو ہمیں  اسی جمہوریت کے راستے سے دجال کی خوشنما جنت کا دیدار بھی تو کرنا ہے - مگر پھر ! مگر پھر کیا ؟ہمیں  ماضی اور مستقبل سے کیا مطلب ؟ ہمیں  تو ہمارا حال خوبصورت چاہئے - اور پھر لوگ بھی تو اکثر حال پوچھتے ہیں اور یہی تو سکہ رائج الوقت بھی ہےجسے لوگ دنیا کہتے ہیں اور جسے خوبصورت اور پرکشش بنانے کیلئے سب دوڑ رہے ہیں - لیکن ٹھہرو قرآن تو کہتا ہے دوڑو اس رب کی طرف جس کی جنت اتنی وسیع وعریض ہے کہ انسان اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا - ارے لیکن کیا یہ جنت ووٹ دینے سے مل سکتی ہے ؟ دجال تو اپنی جنت اسی انگوٹھے اور انگلی کے نشان سے دینے کا وعدہ کرتا ہے - اس کے برعکس حضرت مہدی کا بھی تو کردار ہے  - روایت میں آتا ہے کہ ان کا ظہور شام کی سرزمین پر ہوگا - سوال یہ ہے کہ  کیا شام کے میدان میں بھی اسی جمہوریت کے  راستے سے انقلاب آئے گا - حالات تو ایسے نظر نہیں آرہے ہیں - ہاں لیکن دجال کے دور کی پیشن گوئیوں میں ایک پیشن گوئی کا ذکر آتا ہے کہ دنیا کا پورا معاشی نظام  cashless  ہوگا - ابھی یاد آیا کہ ہمارے ملک کے وزیر اعظم بھی اسی نظام کی بات کر رہے ہیں - اس کا مطلب دجال کا معاشی اور سیاسی نظام دونوں انگلیوں کے اشارے پر ہوگا - اس طرح دجال اور جمہوریت میں تو کسی حد تک مماثلت ظاہر ہورہی ہے لیکن ہمیں  مماثلت سے کیا ؟ ہمیں  تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عیسیٰ کا سبق پڑھایا گیا ہے - ہمیں  تو یہ سبق انگلیوں اور انگوٹھے پر نہیں قلب میں اتارنا ہے - اب سمجھ میں آیا جس تحریک کا تعلق قلب اور روح سے ہو اسے ہی انقلاب کہتے ہیں - انگلیوں سے آنے والی تبدیلی کو جمہوریت کہتے ہیں اور یہ صرف تبدیلی ہے انقلاب نہیں اور اسی کو مادیت کہتے ہیں - مادیت کے بغیر جمہوریت نہیں اور جمہوریت سے ہی مادیت ہے - اب آپ فیصلہ کریں کہ آخرت کا فیصلہ قلب سے ہونا ہے انٹرنٹ سے نہیں - آپ پوچھیں گے کہ کیوں کیا جدید ٹکنالوجی کے بغیر جدید ڈرون کا مقابلہ ممکن ہے ؟ بات سچ ہے مگر ڈرون بھی تو خون پیتا ہے - کیوں کہ ڈرون کو بھی خون سے ڈر لگتا ہے - پتہ ہے کیوں کیونکہ قلب اکیلے پورے بدن کا بیس فیصد خون پہلے آپ رکھ لیتا ہے اس کے بعد باقی پورے بدن کو سپلائی کرتا ہے - قلب اور خون کا بہت ہی گہرا رشتہ ہے یہ بات دجال بھی جانتا ہے کہ وہ سرور کو جام کرکے انٹرنٹ کا مقابلہ انٹرنٹ اور سیٹلائٹ سے تو کرسکتا ہے لیکن انٹرنٹ سے قلب اور خون کا مقابلہ ممکن نہیں - شاید اسی لئے پوری دنیا میں قلب والوں کا خون ہورہا ہے تاکہ..............دجالیت غالب آ سکے -

لاپتہ مسلم نوجوانوں کے داعش سے تعلقات کا جھوٹ بے نقاب

ندیم عبدالقدیر

جھوٹ کے پرنہیں ہوتے اور سازشیں بے نقاب ہو کررہتی ہیں۔ مسلمانوں کو بدنام کرنے کی غرض سے مسلم نوجوانوں کے داعش سے تعلقات کا الزام بھی ایسا ہی جھوٹ ہے ۔ ناندیڑ رینج کے انسپکٹر جنرل آف پولس چرنجیو پرساد نے ایک ایماندار اور انصاف پسند پولس افسر ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے لاپتہ مسلم نوجوانوں کے داعش میں شامل ہونے کی تمام خبروں کو مسترد کردیا۔ ظلم سہتے اور الزامات کے زخموں سے چور مراٹھواڑہ اور مہاراشٹر بھر کے مسلمانوں کیلئے آئی جی پرساد کی وضاحت کسی اکسیر سے کم نہیں ہے ۔ آئی جی پرسادنے کہا کہ لاپتہ مسلم نوجوانوں کے داعش میں شامل ہونے کے معاملات کی تفتیش کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ یہ سارے الزامات جھوٹےتھے۔ اس کے ساتھ ہی ان سارے قصے کہانیوں کی بھی موت ہوگئی جو داعش کے مہاراشٹر میں پیر جمانے کے تعلق سے بیان ہوتے تھے۔  دراصل مسلم قوم کے اندر اور مسلم قوم کے باہر دونوں جگہ کچھ طاقتیں  مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے پر ہمہ وقت تُلی رہتی ہیں، اس کیلئے جھوٹی اور من گھڑت کہانیوں کا سہارا لیا جاتا ہے ۔ اس میں میڈیا سب سے اہم کردار نبھاتا ہے۔ پولس اور اے ٹی ایس کے غیر رسمی ترجمان کی حیثیت سے میڈیا کے افراد جھوٹ کو پھیلانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ۔ یہ طبقہ ایجنسیوں کی کہانی پر آنکھ موند کے نہ صرف یقین کرتا ہے بلکہ اس میں مرچ مسالہ لگا کر ان کہانیوں کو سچی واردات بنا کر پیش کرنے کا کام انجام دیتا ہے ۔پہلے یہ کام انڈین مجاہدین اور سیمی کے نام پر ہوتا تھا لیکن داعش کے بین الاقوامی منظر نامہ میں ابھرنے کے بعد سے ’داعش‘ مسلم مخالف میڈیا کا سب سے چہیتا موضوع بن گیا۔ حالات اتنے خراب ہو گئےکہ کوئی مسلم نوجوان اگر لاپتہ ہو جاتا تو اس پر سیدھا داعش میں شامل ہوجانے کی کہانیاں بننی شروع ہوجاتی ہیں، غیر ممالک میں روزگار کیلئے گئے مسلم نوجوان کا جیسے ہی اپنے اہل خانہ کے ساتھ رابطہ ٹوٹتا ہے ویسے ہی میڈیا اس گمشدہ نوجوان کے داعش میں شامل ہوجانے کی کہانیاں شروع کردیتا ہے۔ میڈیا کی کہانیوں پر ایجنسیاں بھی حرکت آجاتیں اور میڈیا اور ایجنسیاں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے ایسی ایسی کہانیاں تراش لیتے کہ سیدھے سادے عوام کو ان کہانیوں پر بھروسہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا ۔ یہ ساری خبریں اور ان خبروں پر ہونے والی بحثیں دھیرے دھیرے اور غیر شعوری طور پر ہمارے ذہنوں کے اردگرد تانے بانے بنالیتی ہیں جو خود بخود ایک فکر میں بدل جاتی ہے ۔  مسلمان بےچارہ پہلے سے ہی سہما ہوا رہتا ہے او ر دہشت گردی کے الزامات لگ جانے کے بعد تو اس کے پورے خاندان پر مانو قیامت ٹوٹ پڑتی ہے ۔ عدالتوں کا چکر کاٹتے کاٹتے دہائیاں بیت جاتی ہیں۔ دہائیوں بعد عدالتیں انہیں با عزت رہا کردیتی ہیں لیکن تب تک عمر نکل جاتی ہے ۔ ہمیں شکر گزار ہونا چاہئے آئی جی پرساد کا کہ انہوں نے ایک انصاف پسند پولس اہلکار کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔

یہ معذرت خواہی کب تک؟



ملک میں ایک گروہ آزادی کے بعد سے ہی مسلمانوں کو یہاں سے نکالنے کے لئے منافرت اور فرقہ واریت کا زہر پھیلا کر فضا کو خراب کرنے میں مصروف رہا ہے ۔بیگم انیس قدوائی اپنی کتاب ’آزادی کی چھاؤں میں ‘ لکھا ہے کہ آزادی کے سال سے گاندھی جی کے قتل تک سنگھی گروہ ٹرک میں مائیک لگا کر کھلے عام دہلی کی سڑکوں پر کہتا تھا کہ مسلمانوں کو یہاں سے نکال دو لیکن کوئی کانگریسی انہیں روکنے کی کوشش نہیں کرتا تھا بلکہ انکی تحریروں سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ کانگریسی خود ہی اس ساری تباہی بربادی اور قتل عام میں مصروف تھے ۔اس دور میں آر ایس ایس کے ایک پروگرام میں راجندر پرساد اور سردار پٹیل بھی شامل ہوئے تھے ۔یہ دونوں کانگریس کے صف اول کے قائدین میں سے تھے۔تمہید کی ضرورت اس لئے پڑی کہ ملک میں مسلمانوں کے خلاف تعصب کا پس منظر بھی سامنے آجائے ۔یہ بار بار لکھا جاچکا ہے کہ کس طرح سے مسلمانوں کو برباد کیا گیا اور اب کس طرح انہیں تنگ کیا جارہا ہے ۔اب حال یہ ہوگیا ہے کہ فرضی بم دھماکے اور دہشت گردانہ حملے کئے جاتے ہیں اور اس میں مسلم نوجوانوں کو ماخوذ کیا جاتا ہے ۔اس سے دشمنوں کے دو مقاصد ہو سکتے ہیں۔اول مسلم نوجوانوں کی حوصلہ شکنی کرکے ان کی ترقی اور نئے زمانے سے قدم سے قدم ملا کر چلنے کے عزم کو مجروح کیا جاسکے ۔دوسرے پوری قوم کو مجرم ضمیری میں مبتلا کردیا جائے ۔دشمن، قوم کو مجرم ضمیری میں مبتلا کرنے میں کامیاب تو ہو گیا ہے لیکن وہ نوجوانوں کے حوصلے توڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے ۔قوم کو مجرم ضمیری میں مبتلا کردیا گیا اور یہ مبتلا کیا ہے قوم کے ٹھیکیداروں نے جوکسی حادثہ یا واقعہ پر ایک عدد مذمتی بیان دینا اپنی سب سے بڑی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔اس کے بعد ان کی کوئی ذمہ داری نہیں رہتی۔قوم کی کیا حالت ہے ۔اس کا مستقبل کس طرح محفوظ ہو ۔اس کی انہیں کوئی فکر نہیں ۔انہیں تو صرف اس کی فکر ہے کہ کسی طرح قوم کے بہانے اپنے مستقبل کو محفوظ کیا جاسکے۔وہ قوم کی لاشوں پر اپنا مستقبل محفوظ کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
کسی دہشت گردی یا ظلم کی مذمت کرنا برا نہیں ہے۔لیکن اس واقعہ جس کا تعلق دہشت گردی یا ظلم سے ہو سکتا ہے ۔اس کے پس منظر کو جاننا بھی ضروری ہے ۔لیکن یہ جاننے کی یہ ضرورت محسوس نہیں کرتے ۔بس ادھر کوئی واقعہ ہوا نہیں انٹیلی جنس یا پولس محکمہ سے کوئی نام جاری ہوا کہ ان کی مذمت کا پٹارا کھل جاتا ہے ۔مذکورہ دہشت گردانہ کارروائی اور دیگر واقعات جس میں سے اکثرفرضی ہوتے ہیں اس کا سہارا لے کر فرقہ پرست سنگھی اور نام نہاد ترقی پسندوں کا گروہ مسلمانوں کو لعن و طعن کرتا ہے ۔ہمیں کوئی کہتا ہے کہ پاکستان بھیج دیا جائے گا ۔کوئی خلیج بنگال اور بحر عرب میں پھینک دینے کی بات کرتا ہے ۔لیکن یہ ہمارے قائدین اور علمائے کرام (جنہیں کبھی کتابت کی غلطی سے علمائے کرائم لکھ دیا گیاتھا)کارویہ ان کے سامنے معذرت خواہانہ ہی ہوا کرتا ہے کہ نہیں صاحب ہم تو بہت امن پسند لوگ ہیں ۔ہم تو دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں۔اسلام دہشت گردی نہیں سکھاتا ہے ۔اسلام کے معنی ہی امن و سلامتی کے ہیں ۔ آخر یہ معذرت خواہی کب تک ہم کرتے رہیں گے ؟ہمیں کیوں پاکستان نوازی کا طعنہ دیا جاتا ہے ؟ آخر یہ لوگ جو ملک کی فضا کو پراگندہ کرنے میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں ان کو کس نے حق دے دیا کہ وہ ہمیں پاکستان بھیجنے کی بات کریں اور یہ علما اور قائدین ان کے سامنے دو زانو ہو کر معذرت پیش کرتے رہیں ۔اب وقت آگیا ہے کہ جو لوگ ہمیں پاکستان بھیجنے کی بات کرتے ہیں اور جو اس پر معذرت پیش کرتے ہیں ان دونوں گروہوں کو ہی کالا پانی کیوں نہ بھیج دیا جائے ؟
یہ ملک ہمارا ہے اور مولانا آزاد نے کہا تھا کہ اس کی تقدید کے ہر فیصلے ہمارے بغیر ادھورے رہیں گے ۔آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ملک میں مسلمانوں کو حاشیہ پر رکھ کر دنیا کی ترقی میں بھی ملک کوحاشیہ پر پہنچادیا گیا۔کیوں کہ اس ملک کو ترقی کی بلندی پر پہنچانے والے مسلمان سلاطین ہی تھے ۔انہوں نے ہی ہندوستان کو سونے کی چڑیا بنایا تھا ۔آزادی کے ہولناک دنوں کی کہانی بیان کرتی ہوئی بیگم انیس قدوائی اپنی کتاب ’آزادی کی چھاؤں میں ‘ مسلمانوں کی فن کاری اور کاریگری پر لکھتی ہیں کہ ’’دہلی کے بیوپاری پریشان تھے ۔زردوزی والے،کامدانی ساز بھی رخصت ہورہے تھے ۔بیوپاریوں نے گورنمنٹ تک معاملہ پہنچایا کہ اگر یہ سب چلے گئے تو دلی کی مشہور صنعت اور کاروبار ختم ہو جائے گا ‘‘ اس کے بعد وہ اپنا تاثر بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ ’’یوں دیکھنے میں تو عام طور سے مسلمان بدھو سے نظر آتے ہیں مگر اسی زمانے میں( تقسیم کے ہنگامے میں ) ان کے جو ہر کھلے ‘‘۔ ہم اس ملک کے حقیقی معمار ہیں ۔ہم نے ہی اس کو سونے کی چڑیا بنایا تھا ۔اس لئے معذرت خواہی ختم کریں ۔اور اقدامی حالت میں آئیں ۔اگر آپ کو خوف آتا ہے تو کس نے کہا ہے کہ آپ ہماری قیادت کا دم بھریں ۔آپ خاموش رہیں ۔دنیا کو پتہ ہے کہ ہم اور ہمارا مذہب دونوں دہشت اور ظلم کے خلاف ہیں ۔اس کے لئے ہمیں کسی قسم کی صفائی پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

اسد الدین اویسی کی تقریر سننے ممبئی میں عوامی سیلاب امڈ آیا



مجلس اتحاد المسلمین ممبئی صدر شاکر پٹنی کی سرپرستی میں مجلس کے ارکان 
و کارکنان کی کاوشوں سے ناگپاڑہ اجلاس کامیابی سے ہمکنار 
ممبئی: ممبئی مجلس اتحاد المسلمین کے صدر شاکر پٹنی کی سرپرستی اور مجلس
 کے پر جوش کارکنان اور ارکان کی کوششوں سے اسدالدین اویسی کا ناگپاڑہ کا اجلاس کامیابی کے ساتھ ہمکنار ہوا ۔ شاکر پٹنی نے اجلاس کی کامیابی کیلئے مجلس کے سبھی کارکنان اور ارکان کا شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے کہا کہ اسد صاحب کے ممبئی دورہ اور اجلاس کی کامیابی میں مجلس کے کارکنان کی سخت محنت اور ان کی کاوش شامل ہے ۔ممبئی کے مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کو اسد الدین اویسی کی آمد کا برسوں سے انتظار تھا ۔اس کا ثبوت انہوں نے ہزاروں کی تعداد میں اجلاس میں ان کی تقریر سننے کیلئے حاضر ہو کر دیا ۔ناگپاڑہ سے مدنپورہ کی جانب حد نگاہ تک جہاں نظر جاتی انسانی سر ہی نظر آتا تھا ۔جنوبی ممبئی کے ناگپاڑہ میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ حکومت کی پالیسی اور اس کے مضمرات پر سخت تنقید کی ۔وہیں انہوں نے کانگریس ،راشٹر وادی اور سماج وادی کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ممبئی میں آئندہ منعقد ہونے والے الیکشن کے تعلق سے انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ آپ ہمیں کارپوریشن میں 25 کارپوریٹر دیدیں ہم مسلم محلوں کی خستہ حالی کو دور کردیں گے ۔ انہوں نے شیواجی کے مجسمہ میں خطیر رقم خرچ کرنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شیواجی کے نام پر سیاست کرنے والو یہ جان لو کہ شیواجی غریب عوام کا پیسہ اس طرح برباد کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دیتے ۔ آج حالت یہ ہے کہ ممبئی میں بارش کے موسم میں گھروں میں پانی گھس جاتا ہے ۔گٹر کا پانی سڑکوں پر بہتا ہے ۔پتہ نہیں 37000 ہزار کروڑ روپئے کی خطیر رقم کس موڑھی میں بہہ جاتی ہے کہ عوام کو بنیادی سہولیات مہیا نہیں کرائی گئی ۔اویسی نے کہا کہ اگر آپ کے اتحاد اور بیداری کے سبب مجلس کے کارپوریٹر کارپوریشن میں آجاتے ہیں تو آپ کے علاقوں میں ترقی یقینی ہے ۔انہوں نے شیواجی کی مذہبی رواداری کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شیواجی مسلمانوں پر بھروسہ کرتے تھے اور ان کے نام پر سیاست کرنے والے لوگ اور پارٹی مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا کام کرتے ہیں ۔
میں یہاں اس لئے نہیں آیا ہوں کہ میں اپنی لیڈر شپ کو مضبوط کروں ۔میں اس لئے ممبئی آیا ہوں کہ ممبئی کے ہر علاقے میں آ پ کا اپنا لیڈر ہو ۔اس لئے متحد ہو کر اپنی لیڈر شپ اور اپنی پارٹی کو مضبوط کرو۔نوجوانوں تمہیں اپنی آواز اپنی پارٹی کو لے کر آگے بڑھنا ہے ۔اسدالدین اویسی نے کہا کہ 37000ہزار کروڑ کے بجٹ میں مسلمانوں کی آبادی کے حساب سے ہم لڑ کر اپنا حصہ لیں گے ۔اب تک جو مسلم محلوں کے ساتھ تفریق برتی گئی ہے اسے مجلس کے کارپوریٹر ختم کریں گے ۔ہم 
پسماندہ محلوں کی صورت بدلیں گے ۔


انہوں نے مجلس پر فرقہ پرستی اور سیکولر ووٹوں کی تقسیم کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر میں 2009 اور 2014 کے پارلیمانی الیکشن میں کوئی مسلم ایم پی کامیاب نہیں ہوا ۔کیا وہاں اس وقت مجلس تھی۔حالیہ پارلیمانی الیکشن میں یوپی سے بھی کوئی مسلمان منتخب نہیں ہو سکا ۔اس وقت بھی مجلس نے یوپی الیکشن میں حصہ نہیں لیا تھا ۔انہوں نے مسلمانوں سے بے خوف ہو کر رہنے اور اپنا دستوری حق لینے کے لئے زور ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ کب تک ہمیں ڈراتے رہیں گے ۔ہم اب نہیں ڈریں گے ۔اگر شیو سینا اور بی جے پی جیت جاتی ہے تو اس میں ہمارا کیا قصور ۔ مجلس اتحادلمسلمین کو ممبئی کارپوریشن میں پہنچائیں۔ ہم آپ کے علاقوں میں ترقی کرکے دکھائیں گے ۔مسلم علاقوں میں نہ راستے درست ہیں نہ ڈرینیج سسٹم ٹھیک ہے ۔پانی کی سپلائی بھی اچھی طرح نہیں ہوتی ۔
انہوں نے سیکولر پارٹیوں اور سکولرزم کے نمائندوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ سیکولر ہیں اور نہ ہی حق و انصاف کا ساتھ دینے والے ۔انہوں نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ وارث پٹھان کو جب بھارت ماتا کا نعرہ نہیں لگانے کی وجہ سے اسمبلی کے رواں اس پورے سیشن میں شمولیت پر پابندی عائد کردی گئی تو کانگریس اور دیگر نام نہاد سیکولر پارٹیاں شیو سینا اور بی جے پی کے ہی خیمے میں تھے ۔
اسدالدین اویسی نے نریندر مودی کی کل کی تقریر میں حاملہ خواتین کیلئے چھ ہزار روپئے دینے کے اعلان کو مضحکہ خیز قرار دیا کیوں کہ یہ تو فوڈ سیکورٹی ایکٹ میں یہ نکات موجود ہے لیکن وزیر اعظم نے اسے دینے سے انکار کیا اب اسی قانون کو اپنے کھاتے میں ڈالنے کیلئے وہ یہ اعلان کررہے ہیں ۔انہوں نے وزیر اعظم کے دیگر اعلانات اور نوٹ بندی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔وزیر اعظم نے کہا تھا چھ ملین گھر بنا کر دیں گے ۔لیکن ابھی تک صرف چھ ہزار ہی گھر بن پائے ہیں ۔وزیر اعظم کے نوٹ بندی کے فیصلہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 220 ملین افراد بے روزگار ہو گئے جبکہ وہ اس وعدہ کے ساتھ آئے تھے کہ سالانہ دو کروڑ روزگار پیدا کریں گے۔انہوں نے اس فیصلہ کو صرف وزیر اعظم کی اپنی شہرت کی ہوس قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہندوستان کے کروڑوں غریب عوام کو تباہ کردیا ہے۔ان کے چھوٹے موٹے کاروبار کو ان کی نوٹ بندی نے شدید نقصان پہنچایا ہے۔