بھارت ماتا کے فرزند مولوی صاحبان کے نزدیک یہ نعرہ اسلام مخالف نہیں ہے!

نور محمد خان ممبئی
nmkhan06@gmail.com

آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے بھارت ماتا کی جے کا شوشہ چھوڑ کر جہاں ہندوؤں کو متحد ہونے کا اشارہ کیا وہیں مشرکانہ بیان پر ردعمل ظاہر کرنے کے لئے علما کا تانتا لگ گیا ہے الیکٹرانک میڈیا سے لیکر اخبارات کے اول صفحہ پر اپنی تصویر اور بیان پڑھنے کے لئے متنازعہ نعرہ "بھارت ماتا کی جے " کو اسلام کے نزدیک مشرکانہ ثابت کرنے میں لگا ہے تو کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ اسلام کے نزدیک مشرکانہ نہیں ہے اس نعرے سے اسلام کا کوئی لینا دینا نہیں ہے؟ چنانچہ اس موضوع پر ایک مشہور چینل کے پروگرام میں ہونے والی بحث و مباحثہ سے شروع کرتے ہیں 
گزشتہ دنوں نیوز 24 کے چینل پر" سب سے بڑا سوال "کے پروگرام میں اینکر مانک گپتا نے سوال اٹھایا کہ کیا بھارت ماتا کی جے کہنا اسلام کے مخالف ہے یا اس کو مذہبی رنگ دیا جا رہا ہے؟ اس پر پاکستان کے اسلامی اسکالر طاہرَلقادری نے بیان دیا کہ''پوری دنیا میں وطن کو مدر لینڈ کہا جاتا ہے مدر لینڈ کی وضاحت کرتے ہوئے قادری صاحب نے کہا کہ مدر کے معنی ماں لینڈ کے معنی وطن جے کے معنی زندہ آباد تو یہ سو فی صد درست ہے_
اینکر مانک گپتا نے کہا کہ دیش و دنیا کے بڑے بڑے اسلامی اسکالر کا کہنا ہے کہ بھارت ماتا کی جے کہنا اسلام ورودھی نہیں ہے موہن بھاگوت نے کہا تھا کہ دیش میں یہ نعرہ سب کو سکھانا پڑے گا اس کے جواب میں اسدالدین اویسی نے کہا کہ میری گردن پر چھری رکھ دو میں نہیں کہوں نگا اویسی کو کرارا جواب دیتے ہوئے نام ور شاعر جاوید اختر نے نعرہ لگایا تو یہ اسلام ورودھی کیسے ہو گیا جبکہ پیغمبر محمد کہہ گئے کہ" اسلام سے پہلے وطن سے محبت کرنا چاہیے وہی سچا مسلمان ہے؟ تو عمیر الیاسی صاحب یہ بتائیں کہ یہ نعرہ اسلام ورودھی کیسے ہو سکتا ہے؟ 
آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے چیف مولانا عمیر احمد الیاسی نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ نعرہ اسلام ورودھی ہے ہی نہیں اور نہ ہوسکتا ہے کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ بھارت ماتا کی جے تو اس میں فرق کیا ہے دوسری بات وہ مذہبی آدمی ہے ہی نہیں وہ سیاسی ہیں میں نے پہلے ہی دن اسے خارج کر دیا تھا حب الوطنی ایمان کا حصہ ہے جو وطن سے محبت نہیں کرتا وہ ایمان سے خارج ہے 
اینکر مانک گپتا نے پرمود کرشنن آچاریہ سے مخاطب ہو کر سوال کیا کہ کیا اس بیان کو مذہبی رنگ دیا جارہا ہے؟آچاریہ پرمود کرشنن نے کہا کہ بھارت ماتا کی جے بولنا اسلام کے خلاف ہوتا تو پارلیمنٹ میں جاوید اختر کیوں کہتے اگر اسلام کے خلاف ہوتا تو اشفاق اللہ کیوں کہتے ملک کی آزادی کے لئے جتنے لوگ شہید ہوئے وہ کیوں کہتے اس کا مطلب ہے کہ اسلام اجازت دیتا ہے کہ بھارت ماتا کی جے کہا جائے کرشنن آچاریہ نے بنیادی باتوں پر غور کرتے ہوئے کہا کہ اویسی صاحب بھی نا سمجھ نہیں ہیں وہ اس کو اس طرح سے لیتے ہیں کہ اسلام ایک اللہ کی عبادت کے لئے کہتا ہے اس کے علاوہ کسی کو سجدہ جائز نہیں ہے اور بھارت ماتا کی جے بولینگے تو یہ اسلام کے خلاف ہوگا پیغمبر اسلام کی حدیث سے یہ بات صاف ہے کہ وطن سے محبت آپ کے ایمان کی علامت ہے ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے جو اسلام ماں کے قدموں کے نیچے جنت بتاتا ہے وہ قطعی یہ نہیں کہے گا کہ بھارت ماتا کی جے بولنا اسلام کے خلاف ہے لیکن وہ اس کا فائدہ لے کر مسلمانوں میں یہ میسج دینا چاہتے ہیں کہ ہم بھارت ماتا کو پیار تو کرتے ہیں لیکن بھارت ماتا کی جے بولنا اسلام کے خلاف ہے جبکہ یہ ایسے لوگ ہیں جو اپنا اسلام لانا چاہتے ہیں  
اینکر مانک گپتا بھارت ماتا (دیوی) کی تصویر بتاتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ بھارت ماتا کی جے نہ کہنا یہ بھی ایک وجہ ہو سکتا ہے کہ اسلام میں بت پرستی نہیں ہے؟
منہاج رسول کے رکن مولانا اطہر دہلوی نے کہا کہ میں مختصر باتیں کہونگا بھارت ماتا کی جے اور وندے ماترم میں فرق ہے اگر اویسی صاحب یا وہ لوگ اس پروگرام کو دیکھ رہے ہیں میں بحیثیت مسلمان میرے نزدیک دنیا میں پاک سرزمین ہے تو وہ ہے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ لیکن علامہ اقبال نے کہا کہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا، اینکر مانک گپتا نے پوچھا کہ بھارت ماتا کی جے اسلام مخالف ہے یا نہیں اس پر مولانا اطہر نے کہا یہ نعرہ کہیں اسلام مخالف نہیں ہے مولانا نے قرآن و حدیث کی دلیل نہ دیتے ہوئے ایک دلیل دی کی اے آر رحمان نے گانا گا کر سب سے کہلوا لیا ماں تجھے سلام امی تجھے سلام حالانکہ غریب نواز فائونڈیشن کے رکن مولانا انصار رضا نے بھی اعتراف کیا کہ بھارت ماتا کی جے اسلام مخالف نہیں ہے بلکہ آر ایس ایس اور اویسی دونوں نورا کشتی کر رہے ہیں اس مباحثہ میں تینوں علماء کرام نے اویسی صاحب کو نشانہ بنایا آچاریہ پرمود کرشنن نے علمائے کرام سے مخاطب ہو کر ایک سوال کیا کہ قرآن و حدیث میں بتائیں کہ کہاں لکھا ہے کہ بھارت ماتا کی جے نہیں کہنا چاہئے بحر حال علما نے آخر میں اعتراف کیا کہ اس نعرے کو اپنے الفاظ میں کہہ سکتے ہیں کسی کو اس پر تکلیف نہیں ہونی چاہیئے لیکن قابلِ غور بات یہ ہے کہ ہمارے علمائے کرام نے مانک گپتا اور آچاریہ کے ایک بات کا بھی جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں نہیں دیا جبکہ مانک گپتا نے کہا کہ پیغمبر حضرت محمد کہہ گئے کہ اسلام سے پہلے وطن سے محبت کرنے والا ہی سچا مسلمان ہوتا ہے! اور بھارت ماتا کے مورتی کی تصویر بھی دکھائی دوسری بات اچاریہ نے کہا کہ قرآن و حدیث میں کہاں لکھا ہے کہ بھارت ماتا کی جے کہنا اسلام کے خلاف ہے؟  چنانچہ ابھی حال ہی میں دارالعلوم دیوبند، جمیعت علماء ہند، جماعت اسلامی ہند اور امام بخاری بھی کود پڑے ہیں دارالعلوم دیوبند نے کہا کہ ہندو عقیدہ کے مطابق ایک دیوی ہے جس کی وہ پوجا کرتے ہیں بھارت ماتا دیوی کو لوگ ہندوستان کی مالک و مختار سمجھتے ہیں بلاشبہ یہ عقیدہ شرکیہ ہے اسلام کے ماننے والے مسلمان کبھی وحدانیت کے کے خلاف سمجھوتہ نہیں کرسکتے بھارت ماتا کی جے کہنے والوں کے نزدیک اس کے مفہوم میں وطن کی پرستش شامل ہے اس لئے کسی مسلمان کے لئے ایسا نعرہ لگانا جائز نہیں ہے جماعت اسلامی کے امیر مولانا سید جلاالدین عمری نے دیو بند کے فتوے کی تائید کی وہیں شاہی امام مولانا سید احمد بخاری ایک طرف کہہ رہے ہیں کہ جو لوگ مخصوص نعرہ لگانے کی وکالت کر رہے ہیں وہ شرک کے مرتکب ہو رہے ہیں مولانا بخاری نے کہا کہ مذہبی عقیدے کے تعلق سے کوئی بھی بحث ناقابل قبول ہے اور مخصوص نعرے پر حال ہی میں جاری فتوی غیر ضروری اورغیر مناسب ہے مولانا سید ارشد مدنی نے بھی کہہ دیا کہ ہندوستان زندہ باد اور بھارت ماتا کی جے میں کوئی فرق نہیں ہے اس بیان پر بخاری نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ خود کو زیادہ محب وطن اور سیکولر ثابت کرنے کے لئے الٹے سیدھے بیان دے رہے ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی مسلمان ایسی باتیں پسند کرتا ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ علماء کرام مقابلہ جاتی بیانات میں حصہ لے رہے ہیں یا اسلام کے تقدس اور ایمان کی حفاظت کرنے کے لئے بیانات دے رہے ہیں یہ تو ان کی نیت پر ہے بھارت ماتا کے فرزند مولاناوؤں نے دنیا کے سامنے بحیثیت مسلمان ہونے کا مظاہرہ نہیں کیا ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے کیونکہ جس عالم کے پاس علم ہے اور وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب نہ دے سکے اس پر لعنت بھیجنا ایمان والوں کا فریضہ ہے کیا آپ تیار ہیں؟ 

                                                                                                          9029516236
نور محمد خان ممبئی

nmkhan06@gmail.com

آرایس ایس کا بھارت

عمر فراہی
جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلبہ کی نعرے بازی, احتجاج اور گرفتاری کے تناظر میں آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے اپنے ایک خطاب میں کہا کہ ہمیں اپنی نئ نسل کو بھارت ماتا کی جںُے بولنا سکھانا چاہیُے تاکہ ان کے اندر دیش کے تںُیں وفاداری کا جذبہ پیدا ہو- اسی کے ساتھ انہوں نے غالباً یہ جملہ بھی ادا کیا کہ جو نہیں بولیں گے انہیں ہم سکھاںُیں گے- جیسا کہ دوبارہ اسی لہجے کا استعمال بابا رام دیو اور مہاراشٹرا کے وزیراعلیٰ فڈنویس نے بھی کیا ہے -اسدالدین اویسی نے موہن بھاگوت کا جواب دیتے ہوےُ کہا کہ ہم بھارت ماتا کی جںُے نہیں کہ سکتے چاہے ہماری گردن پر چھری ہی کیوں نہ رکھ دیا جاے ُ-موہن بھاگوت کے اپنے لہجے کے جواب میں یہ بھی اویسی صاحب کا اپنا مخصوص لہجہ تھا مگر الیکٹرانک میڈیا نے اسے  رائ کا پہاڑ بنا دیا-شکر ہے کہ جب پرنٹ میڈیا نے کسی حد تک موہن بھاگوت کے نظریے کو غیر منطقی قرار دینا شروع کیا تو انہوں نے بہت ہی چالاکی کے ساتھ اپنے سابقہ بیان کو بدل کر یہ کہا کہ ہم کسی کو بھارت ماتا کی جںُے کہنے کیلںُے مجبور نہیں کریں گے بلکہ ہمیں بھارت کو ترقی اور بلندی کے مقام پر لاکر کھڑا کرنا ہوگا تاکہ بھارت پوری دنیا کیلںُے آںُیڈیل بن جاےُ اور لوگ خود بھارت ماتا کی جںُے کہنے کیلںُے مجبور ہوں -آرایس ایس اپنے طور پر بھارت کو اس مقام پر لا پاتی ہے یا نہیں لیکن اس کا جو نصب العین تھا کہ وہ اقتدار پر قبضہ کر کے ملک کو مکلمل ہندو راشٹر میں تبدیل کردےگی 2014 کے الیکشن میں کامیابی کے بعد بھی وہ اپنے اس مقصد میں ناکام ہوتے ہوےُ نظر آرہی ہے - ایسا لگتا ہے کہ آرایس ایس مسلسل اپنے مقصد میں ناکامی کی وجہ سے بوکھلائ ہوئ ہے اور اور اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ آرایس ایس جس کے بارے میں لوگوں کا گمان تھا کہ اس تنظیم میں ملک کی قیادت کیلںُے باصلاحیت لوگ موجود ہیں 2014 کے الیکشن میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد حکومت سازی کیلںُے جو افراد سامنے آےُ عوام کی نظر میں آرایس ایس کے تعلق سے یہ بھرم بھی ٹوٹ چکا ہے -دیکھا یہ بھی جارہا ہے کہ ابھی تک بی جے پی کی مرکزی سرکار نے ملک کی ترقی اور فلاح وبہبود کے کاموں میں شروعاتی دور کے اقدامات بھی نہیں کیے ہیں تو اس لیںُے کہ موجودہ سرکار کا سر سے لیکر پیر تک پورا ڈھانچہ ہی نااہل اور غیر تجربہ کار افراد پر مشتمل ہے- بالخصوص انسانی وساںُل اور ترقی کا شعبہ جو کسی بھی ملک کی افرادی قوت اور صلاحیت کی ترقی کیلںُے اہم ہوتا ہے یہ وزارت ایک بارہویں فیل خاتون کے حوالے کر دی گںُی ہے- اسی طرح وزیر خارجہ جیسی اہم وزارت بھی جو کسی آئ ایف ایس کے طالب علم کو سونپی جانی چاہیُے تھی  محترمہ شثما سوراج کے سپرد تو ضرور ہے مگر سارا کام محترم وزیراعظم سمبھال رہے ہیں- سوال یہ ہے کہ اکیلے مودی جی جن کے بارے میں ان کے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ  میدان کے مجاہد ہیں ,ہم یہ کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے انہوں نے  کسی سبجکٹ پر غاںُبانہ پی ایچ ڈی ہی کیوں نہ کی ہو تو بھی ملک کی ہر وزارت کو وہ اکیلے کیسے سمبھال سکتے ہیں جبکہ بی جے پی مخالف ذہنیت کا خیال ہے کہ کیا آرایس ایس نے پچھلے ستر اسی سالوں میں ایسے ہی باصلاحیت افراد تیار کییے ہیں اور اسے ملک کی سب سے اعلیٰ قیادت کیلںُے مودی جی کے علاوہ کوئ دوسرا شخص نہیں مل سکا- یہ ایک سوال ہے جو آرایس ایس کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے کہ اس کے پاس ملک کی ترقی کیلںُے  سواےُ  فرقہ وارانہ سیاست اور مسلم دشمنی کے کوئ ٹھوس نظریہ اور منصوبہ نہیں ہے جو بھارت کو لوگوں کا آںُیڈیل بنا دے اور دنیا کے کولمبس خود بخود سونے کی اس چڑیا کا دیدار کرنے کیلںُے بے قرار ہوں -اس کا مطلب موہن بھاگوت یا تو بہت بھولے ہیں یا بہت ہی عیار یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مسلم دشمنی کے جنون میں آرایس ایس کے تمام سربراہ کسی مثبت نتیجے پر پہنچنے سے قاصر ہیں ورنہ وہ  ملک کی آبادی کو فرقہ وارانہ رنگ میں رنگنے کی بجاےُ ملک کے معاشی اور معاشرتی ڈھانچے کو سدھارنے کی کوشس اور تدبیر ضرور کرتے اور اگر وہ اپنے باصلاحیت افراد کے ذریعے ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو ہم یقین کے ساتھ کہ سکتے ہیں کہ آرایس ایس کو اس کے اپنے  ایجنڈے میں کامیاب ہونے سے کوئ نہیں روک سکتا تھا- آرایس ایس کو یہ بات بھی یقیناً پتہ ہے کہ سیاست سے لیکر تجارت اور معاشرت سب بدعنوانی اور فحاشی کے دلدل میں قید ہے اور بھارت اپنی سیاسی معاشرتی اور تہذیبی زوال کے ڈھلان پر تیزی کے ساتھ گامزن ہے, جسے واپس عروج تک پہچانہ تو دور کی بات ابھی تک ملک کی اس خستہ حال زوال پزیر صورتحال کو روکنے کی تدبیر بھی نہیں کی گںُی ہے -سیاسی بدعنوانی کے خلاف لوک پال کی تحریک چھیڑ کر انا ہزارے نے تو بہت کچھ بھارت کا چہرہ واضح کر دیا ہے کہ بیرونی بینکوں میں ہمارے سیاستدانوں نے کتنا مال چھپا رکھا ہے جسے واپس لانے کا وعدہ نریندر مودی جی بھی کرچکے ہیں -ملک کی معاشی بدعنوانی پر سے ماضی میں ہرشد مہتا , آئ ٹی انڈسٹری کے وجںُے متل , سہارا کے سبرت راؤ اور اب وجںُے مالیا نے پورا پردہ فاش کر دیا ہے اور اب میڈیا میں پنامہ پیپر کے نام سے ایک اور معاشی بدعنوانی کا اسکینڈل زیر بحث ہےجس کے اندر تقریباً پانچ سو صنعتکار اور فلم انڈسٹری کی مشہور شخصیات کا نام شامل ہونے کا چرچا پے -کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں نے بیرونی ممالک میں اپنے سرماےُ کو منتقل کرنے کیلںُے پنامہ پیپر کے نام سے جعلی کمپنی بنائ ہوئ تھی -اس کے علاوہ جاںُز طریقے سے امبانی برادران اور بہت ساری کارپوریٹ کمپنیوں کے مالکان جس طرح ملک کو لوٹ رہے ہیں یہ بات بھی آرایس ایس اور بی جے پی کے لوگوں سے مخفی نہیں ہے -اب آںُییے ہم آپ کو ملک کی دوسری تصویر کی طرف  توجہ مرکوز کراتے ہیں جسے آج تک کسی میڈیا یا غیر سرکاری تنظیم نے اس لیُے کبھی نہیں دکھایا کہ یہ ادارے خود بدعنوان ہیں اور اگر کبھی انہوں نے کسی بدعنوان تاجر اور سیاستداں کے خلاف انکشاف کیا بھی تو اس لیُے کہ انہیں خاموش رہنے کی بھی موٹی رقم ملنے کی لالچ ہوتی ہے -
> ایک بار کا واقعہ ہے ہمیں ایک کمپنی میں جس کی مثینوں کے پارٹس کا کام ہم پچھلے بیس سالوں سے کرتے ہیں اس کمپنی کے مینیجر کے کہنے پر مثین آپریٹر سے رابطہ کرنے کیلںُے کہا گیا تاکہ ہم اس کی شکایت کو دور کرسکیں -میں دو بجے پہنچا تو آپریٹر کہتا ہے عمر صاحب تھوڑا اور پہلے آنا چاہیُے تھا ابھی تو میرے جانے کا وقت ہو گیا ہے -میں نے کہا تمہاری شفٹ تو تین بجے ختم ہوتی ہے ابھی تو ایک گھنٹہ باقی ہے -اس نے کہا ہم لوگ ہاتھ منھ دھونے کیلںُے ایک گھنٹہ پہلے ہی مثین چھوڑ دیتے ہیں -میں نے کہاکبھی کمپنی کے کام سے دس منٹ زیادہ بھی ہوگیا تو کیا فرق پڑتا ہے آخر اسی کمپنی سے تمہیں روزگار حاصل ہوا ہے کیا اس کیلںُے تم دس منٹ قربان نہیں کر سکتے - اس نے کہا کمپنی گںُی بھاڑ میں, میں اپنے معمول سے زیادہ کمپنی کو وقت نہیں دے سکتا -میں نے مثین چالو کروانے کے ایک ہفتے بعد جب اسی آپریٹر سے پوچھا کہ مثین کیسی چل رہی ہے تو اس نے کہا ٹھیک ہے لیکن ابھی مجھے دو سال ریٹاںُر ہونے کو ہے اس سے پہلے مثین کی واٹ لگا دونگا تاکہ میرے جانے کے بعد کوئ اس مثین پر دوبارہ کام نہ کرسکے -میں یہ بات اس لیُے لکھ رہا ہوں کہ یہ ہے ہمارا ملک جہاں نوے فیصد سیاستدانوں سے لیکر صنعتکار مزدور اور کنٹریکٹروں کی ذہنیت ہی اپنے مالک اور ہمدرد کے تںُیں صاف نہیں ہے اور وہ صرف اپنے فاںُدے کے بارے میں سوچتا ہے -ایسے میں کیا اسے  بھارت ماتا کی جںُے سکھا دینے سے وہ بھارت کا وفادار ہو جاےُ گا ...? جبکہ بنسبت بھارت کے یورپ کا یہ تینوں طبقہ ہم سے کہیں زیادہ باصلاحیت ایماندار اور اصول کا پابند ہے - اور یہی اس کی ترقی کا راز بھی ہے - اس کے باوجود بھاگوت کو وہم ہے کہ ایک دن ساری دنیا بھارت ماتا کی جںُے بولنے کیلںُے مجبور ہوگی -ہماری بھی شبھ کامناںُیں بھارت اور موہن بھاگوت کے ساتھ ہے مگر بھاکوت جی کو کوئ بتاےُ کہ آذادی کے پینسٹھ سالوں میں آج تک ہم صرف ایک کوکن ریلوے کے سوا دوسری لاںُن نہیں بچھا سکے اور جہاں تک تعمیراتی شعبے میں کامیابی کی بات ہے کلکتہ کے پل گرنے کا حادثہ ہمارے سامنے ہے اور ایسے چھوٹے موٹے حادثے روز ہوتے ہیں جسے بحث میں بھی نہیں آنے دیا جاتا -سچ کہوں تو اگر مغلوں نے ہمیں تاج محل اور لال قلعے جیسی خوبصرت عمارتوں کا تحفہ نہ دیا ہوتا تو آج بھارت اور بھی ویران نظر آتا -آرایس ایس کے لوگوں  کو اصل میں شہنشاہ اورنگذیب کا بھی شکر گذار ہونا چاہیُے کہ آج انہیں جس بھارت ماتا پر فخر ہے وہ بہت ہی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا اسے اسدالدین اویسی کے آباواجداد نے ہی ایک متحدہ یندوستان یعنی اکھنڈ بھارت میں تبدیل کیا تھا -پھر بھی بابا رام دیو اور فڈنویس کے جارحانہ لہجے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ملک اویسی کا نہیں آریس ایس کا ہے....!!!!

اپنی ہی لگائی آگ میں جھلستی موجودہ حکومت

 
موجودہ حکومت کی کارکردگی پر ایک دوست صحافی کے یہ تاثرات کتنے صحیح ہیں کہ لوگ آر ایس ایس کو سب سے بڑی اور کامیاب تنظیم قرار دیتے تھے لیکن موجودہ تناظر میں یہ بات آشکار ہوئی ہے کہ آر ایس ایس نظر یاتی طور پر ایک منتشر تنظیم ہے ۔یہی سبب ہے کہ اسے یا اس کے لیڈروں کو یہ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ کیا بیان دیں اور کس مسئلہ کو کس حکمت عملی سے طے کیا جائے ۔اس لئے بی جے پی ہی نہیں سنگھ کے لیڈروں کے بھی الٹے سیدھے بیانات میڈیا میں بحث کا حصہ بن رہے ہیں ۔جس سے مودی حکومت کی ناکامی پر کھل کر بحث ہو رہی ہے ۔مودی حکومت کی ناکامی آر ایس ایس کی ناکامی ہے ۔حید ر آباد مرکزی یونیورسٹی کے اسکالر روہت ویمولا کی موت کے کئی دن کے بعد مودی جی نے وارانسی میں یونیورسٹی کنووکیشن اجلاس میں کہا کہ بھارت ماں نے اپنا لال کھویا ہے ۔لیکن ان کے منافقت بھری باتوں کی پول وہیں کھل گئی ان کے خلاف نعرے لگانے والے دلت طالبعلم کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا یعنی انہیں بھی روہت ویمولا کی طرح ہی مایوسی کے اندھیرے میں دھکیل کر مرنے کے مجبور کیا گیا ۔اس کے بعد یہ ایک معمول بن گیا کہ جہاں بھی طلبہ نے مودی حکومت کے خلاف احتجاج کیا وہاں ان کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی گئی ۔لیکن مرکزی حکومت کی ہر کارروائی اس کے خلاف ایک نئے طوفان کاپیش خیمہ بنتی گئی ۔اس سلسلے کی ایک کڑی کنہیا کی منصوبہ بند گرفتاری بھی تھی ۔لیکن وہاں بھی اس کے ہاتھ جھلس گئے ۔ 
جب آپ نے کوئی چیلنج کیا ہو ۔کسی کو بہتر زندگی دینے ،مثالی انتظامیہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہو، اور وہ آپ کے بس سے باہر ہو تو پھر آپ وہی سب کچھ کریں گے، جو آج کل بی جے پی کی حکومت میں ہو رہا ہے ۔جے این یو معاملہ پر کنہیا کی بیجا گرفتاری اور بی جے پی کے طلبہ ونگ کے فساد پر دانش گاہوں کا ماحول خرب کرنے کی کوشش پر نتیش کمار نے کہا تھاکہ معاشی استحکام کی کوشش ناکام ہونے کی صورت میں مرکزی حکومت اپنی ناکامی کو چھپانے اور عوام کا ذہن پھیرنے کے لئے حب الوطنی کی اپنی زبان ملک پر تھوپنا چاہتی ہے۔نتیش کمار نے کوئی نئی بات نہیں کہی ۔یہ وہی باتیں ہیں جو اکثر شہریوں کی زبان پر ہے ۔بلکہ اب تو یہ باتیں نام نہاد محب وطن اور اصول پسند پارٹی کے لوگ بھی کہہ رہے ہیں ۔ نتیش کمار مرکزی حکومت کو چیلنج کرتے ہیں کہ کنہیا کے ملک کے غدار ہونے کا کوئی ثبوت ان کے پاس ہے تو وہ ملک کے سامنے پیش کرے ۔لیکن بات یہ ہے کہ کوئی ثبوت ہو تب نہ پیش کیا جائے ۔ایک سینئر اردو صحافی کے مطابق یہ سب کچھ صرف اور صرف جے این یو پر قبضہ کرنے کے لئے اور اس پر بھگوا سوچ مسلط کرنے کی کارروائی ہے ۔جب ہی تو مودی بھکت اور ناگپور کے اشارے پر رقص کرنے والی میڈیا اور ان کے دلال ٹائپ کے اینکروں نے ویڈیو میں ایڈیٹنگ کرکے جے این یو میں پاکستان حامی نعرے لگانے والوں کو دکھایا جن میں چہرے نظر نہیں آتے ۔میڈیا اور بی جے پی سمیت آر ایس ایس کی حرکتوں سے ایسا لگتا ہے کہ اس کا ہر اسکرپٹ پہلے سے تیار رہتا ہے بس فلم بعد میں تیار ہوتی ہے ۔اور اس کے لئے ایکٹر بھی منتخب کئے جاچکے ہوتے ہیں ۔یہی سبب ہے کہ سدھیر جیسے اینکر کو بھی بہترین صحافت کا ایوارڈ دیا جاتا جو کہ دھوکہ دھری اور ایکسٹورشن کے سلسلے میں حوالات کی ہوا کھا چکے ہیں ۔ 
ہم ایسے صحافیوں اور لیڈروں کو بھی دیکھتے ہیں جنہیں عام طور پر سیکولر مانا جاتا رہا ہے اور وہ مسلمانوں کے پروگرام میں سیکولر شبیہ لے کر آتے رہے ہیں ۔انہی میں سے ممبئی میں مشہور انگریزی اخبار کے سابق سٹی ایڈیٹر بھی ہیں ۔ایک نیوز گروپ پر ان کا سارا زور سنگھی آئیڈیا لوجی کو پروموٹ کرنے پر رہتا ہے ۔کنہیا کی گرفتاری پر بھی وہ اسی لائن پر اپنے خیالات پیش کررہے ہیں۔ جسے ناگپور سے براستہ دلی ملک میں پیش کیا جارہا ہے ۔وہ حقائق کو جان کر اور اسے سمجھ کر بھی اس پر کوئی گفتگو نہیں کرتے بلکہ ان کا سارا زور اس پر رہتا ہے کہ راہل گاندھی ،کیجریوال اور نتیش کمار نے افضل گرو اور پاکستان کے حق میں نعرہ لگانے والوں کی حمایت کی ۔جبکہ وہ ویڈیو وائرل ہو چکا ہے جس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ پاکستان زندہ آباد کے نعرے خود سنگھ اور بی جے پی کے طلبہ ونگ کے لڑکوں نے لگائے تھے ۔لیکن دلال میڈیا اور دلال بھکت دونوں ہی اس پر کوئی گفتگو نہیں کرتے ۔روہت ویمولا پر ہی اروند کیجریوال نے کہا تھا کہ یہ حکومت نوجوانوں کے ساتھ حالت جنگ میں ہے ۔ کیجریوال کا بیان سوشل میڈیا پر آیا کہ کنہیا کی گرفتاری مودی حکومت کو بھاری پڑے گی۔راہل گاندھی نے بھی کہا کہ جو طلبہ کی آواز دبانے کی کوشش کرے وہی سب سے بڑا غدار وطن ہے ۔کنہیا کی رہائی پر بھی اسے مبارکباد دینے اور اس کی بارے میں پیش گوئی کرنے والوں کا تانتا لگ گیا ۔رہائی کے بعد کنہیا کی تقریر پر اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے مشہور صحافی نکھل واگھلے ٹوئٹر پر کہتے ہیں ’’کنہیا کی صورت میں نئے لیڈر کا عروج‘‘۔اب یہ نیا ابھرتا ہوا لیڈر پورے ملک میں گھوم گھوم کر کالج اور یونیورسٹی میں طلبہ سچائی سے آگاہ کررہا ہے ۔جس پر کسی کہنے والے نے ٹھیک ہی کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنی قبر خود ہی کھودنی شروع کردیا ۔
یہ مختلف تاثرات اور خیالات ہیں جو روہت ویمولا کی خود کشی کے بعد اور اس کے بعد کنہیا کی گرفتاری پر سامنے آئے ہیں ۔سیدھے الفاظ میں جو الفاظ اروند کیجریوال کے ہیں کہ ’’یہ حکومت نوجوانوں کے ساتھ حالت جنگ میں ہے‘‘۔وہ اپنی جگہ پر بالکل درست ہے ۔اس سے زیادہ سیدھا اور عام فہم جملہ فی الحال موجودہ حکومت کے لئے ہوہی نہیں سکتا ۔الیکشن سے قبل مشتہر ہونے کے لئے بی جے پی نے سارے چینلوں کے پرائم ٹائم اپنے نام کرلئے تھے ۔اگر اتر پردیش کے دور دراز گاؤں میں بھی مودی جی کوئی جلسہ سے خطاب کررہے ہیں تو سارے ہی چینل ان کی پوری تقریر کو راست نشر کررہے تھے ۔غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے اور حکومت کی پہلی سالگرہ تک چینلوں نے اس کاحق ادا کرنے کی پوری کوشش کی لیکن جب عوامی توقعات پوری کرنے میں حکومت پوری طرح ناکام رہی تو کچھ چینلوں نے اپنی عوامی مقبولیت بچانے کے لئے آنکھیں ٹیڑھی کرنی شروع کیں ۔اور اب دیکھ لیجئے کہ پہلے روہت ویمولا کی خود کشی اور اب کنہیا کی بے جا گرفتاری اور پھر اس کی رہائی نے بغیر کسی اخراجات کے چند ایک چینلوں کو چھوڑ کر سارے کے پرائم ٹائم پر قبضہ کرلیا ۔اس کو کہتے ہیں عوامی توقعات کو سمجھنا اور اس کے مطابق عمل کرنا ۔صرف زبانی جمع خرچ سے کچھ نہیں ہوتا ہے جناب وزیر اعظم !
اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی عوام کے پاس جانے کا اپنا اخلاقی حق کھوتی جارہی ہے ۔عوام نے تبدیلی اور انقلابی اقدام کے لئے بھاری اکثریت سے کامیاب کیا تھا لیکن ہوا اس کا الٹا نہ کوئی انقلابی تبدیلی آئی نہ مہنگائی کم ہوئی ۔بدعنوانی کے خلاف لمبی باتیں کرنے والے اب خاموش نظر آرہے ہیں ۔کسانوں کی خود کشی کی تعداد بھی سال 2015 میں پچھلے سارے ریکارڈ توڑ چکی ہے ۔ہر دن نئے نئے ایونٹ نئے نئے اعلانات کئے جارہے ہیں لیکن زمینی طور پر کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے ۔عوام کی قوت برداشت جواب دے رہی ہے ۔پورے ملک کے جوہری غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر ہیں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہیرے کی لالچ میں پتھر کا چناؤ کرلیا اب کیاکریں دو سال تو گذر ہی گیا ہے تین سال مزید اس تکلیف دہ دور میں جینا ہے ۔جوہریوں سناروں اور درمیانہ تاجر برادری نے کھل کر نریندر مودی حکومت کو سپورٹ کیا تھا اب ان کا نعرہ ہے ’’ہماری بھول ،کمل کا پھول‘‘۔کسی نے ایسے حالات سے پریشان ہو کر کہا تھا کہ ’جن لوگوں کو مندروں میں گھنٹی بجانے اور پوجا پاٹھ کرنے کا کام تھا وہ عوام کا جذباتی استحصال کرکے ملک کے اقتدار اعلیٰ پر قابض ہو گئے ۔اب عوام سوچتے ہیں کہ یہ مصیبت کب ٹلے گی ۔یہ تو جمہوری طرز حکومت کی دین ہے کہ عوام ہر پانچ سال کی تبدیلی کی وجہ سے صبر کرلیتے ہیں ۔ورنہ حالات اتنے زیادہ خراب ہو گئے ہیں کہ صبر کرنا محال ہے ۔ایک وقت تھا جب لال بہادر شاستری نے ریلوے حادثہ پر اپنی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا ۔عوام سوچتے ہیں کہ شاید موجودہ حکومت کا بھی ضمیر بیدار ہوجائے اور وہ تین سال مزید انتظار کی زحمت دیے بغیر ہمیں معاف کردے تو بہتر ہو تا ۔ورنہ تین سال کے بعد تو بی جے پی جیسی حکمرانی چلا رہی ہے کانگریس کو بنا کچھ کئے ہی آئندہ لوک سبھا میں بھاری اکثریت مل جائے گی ۔سنگھ کے ساتھیوں ان کی ذیلی تنظیموں اور سیاسی ونگ بی جے پی سے عوام کی فریاد ہے کہ آپ سنگھ اور اس کی تنظیمیں چلائیں اور جو کچھ آپ کو کرنا ہے کریں وہی آپ کے لئے ٹھیک ہے ۔اسی میں آپ کامیاب ہیں ۔عوام پر رحم کریں ۔حکومت کرنا آپ کے بس کی بات نہیں ہے ۔ویسے بھی آپ کی حکومت مسلسل آگ سے کھیلنے کا کام کررہی ہے ۔جس سے ہر دم نہ صرف یہ کہ آپ کے جھلسنے کا خطرہ ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی ملک کی سلامتی پر بھی خطرات منڈلارہے ہیں ۔ہم آپ کے جھلسنے کی فکر سے آزاد ہو بھی سکتے ہیں لیکن ملک کی سلامتی کے تعلق سے ہم آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔
نہال صغیر۔ بلاد آدم ۔ ضلع ویشالی ۔ بہار۔ موبائل :9987309013 ای میل:sagheernehal@gmail.com

اپنی آگ ؍پرائی آگ


 ممتاز میر

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے ۔اے عقل والو،قصاص کے قانون میں تمھارے لئے زندگی کا سامان ہے۔یعنی قاتل کو بھی سزائے موت نہ دی گئی تو وہ معاشرے کی موت کا سامان کریگا۔اسلام سے پہلے تو یہ ہوتا تھا کہ کوئی مرکزی اتھارٹی نہ ہونے کی بنا پر صرف ایک فرد کے قتل کی وجہ سے قبائل کے قبائل آپسی جنگوں میں الجھ جاتے تھے اور ان کی دشمنیاں نسلوں چلتی تھی۔آج گو کہ قانون بھی موجود ہے قانون نافذ کرنے والوں کا بھی وجود ہے مگر قانون طاقتوروں کے ہاتھوں میں موم کی ناک بنا ہوا ہے۔اسلئے جو ایک بار قتل کرکے بچ جاتا ہے پھر وہ بار بار قتل کرتا ہے ۔اور اس سے بھی آگے بڑھ کر وہ معاشرے میں بے چینی و بدامنی پیدا کرتا ہے مگر اس ترقی یافتہ زمانے میں بہت سارے ممالک اور دانشور ایسے ہیں جو سزائے موت کے خلاف ہیں۔ان کی آنکھوں میں سب سے زیادہ اسلامی سزائیں کھٹکتی ہیں مگر قدرت پر بس نہیں چلتا وہ کبھی کبھی اپنا جلوہ دکھاتی ہے تب اڈوانی اور ششما سوراج جیسے مستند سنگھی بھی اسلامی سزاؤں کے چاہنے والوں میں نظر آتے ہیں۔پچھلے دنوں دوران مطالعہ حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی مد ظلہ کی کتاب میں ایک واقعہ پڑھنے کو ملا ۔جی چاہتا ہے قارئین سے شیئر کیا جائے۔
کینیڈا کے علاقے برٹش کولمبیا میں ایک مجرم کلفرڈ اولسن کو قتل زنا بالجبر اور غیر فطری عمل کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔یہ شخص نو عمر لڑکوں اور لڑکیوں کو روزگار دلانے کے بہانے ساتھ لے جاتا ۔پھر نشہ آور اشیاء کھلا کر زبردستی جنسی عمل کرتا ۔اور پھر انھیں قتل کرکے دور دراز مقامات پردفن کر دیتا۔گرفتاری کے بعد اس نے یہ اعتراف کیا کہ اس نے ۱۱ نو عمر لرکوں اور لڑکیوں کے ساتھ جنسی عمل کرکے انھیں قتل کیا ہے اور ان کی لاشیں مختلف مقامات پر چھپادی ہیں۔اور قتل بھی اس درندگی کے ساتھ کیا کہ جب ایک بچے کی لاش برآمد ہوئی تو اس کے سر میں لوہے کی میخ ٹھکی ہوئی پائی گئی۔
اسلام پر تنقید کرنے والوں کی جدت کہئے یا کوئی نفسیاتی عارضہ کہ جب مجرم گرفتار ہوا تو پولس نے اس سے مطالبہ کیا کہ وہ گیارہ مقتول بچوں کی نشاندہی کرے تو اس ستم ظریف نے جو مطالبہ کیا وہ بھی مغرب کی فکرکی طرح بے نظیر تھا۔اس نے کہا میں پتہ اس شرط پر بتاؤں گا کہ حکومت مجھے فی لاش دس ہزار ڈالر معاوضہ ادا کرے ۔اور حسب توقع اس مطالبے کو شرف قبولیت بھی عطا کیا گیا۔مگر جب پولس نے اس کی خوشامد درآمد کی تو موجودہ دور کے تجارتی اصول کے مطابق ۱۰ پر ایک فر ی کردیا۔اور ایک لاکھ ڈالر لے کر ۱۱ بچوں کی لاشیں برآمد کروادیںیہ بچے ۱۲ سے۱۸ سال کی عمر تک کے تھے۔کنیڈا میں بھی برسوں8 پہلے سزائے موت ختم کر دی گئی تھی اسلئے عدالت مجرم کو زیادہ سے زیادہ جو سزا دے سکی وہ سزائے عمر قید تھی ۔ساتھ ہی عدالت نے یہ سفارش بھی کردی کہ مجرم کو کبھی پیرول پر رہا نہ کیا جاسکے گا ۔اس شرط سے یہ لگتا ہے کہ منصف محترم کو جرم کی سنگینی کا احساس تھا۔اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ مجرم کو سزائے موت دیتے۔مگران کے بس میں اس شرط پر لازمی عمل کروانا بھی نہ تھا۔اس لئے انھیں بس سفارش کر کے دل مسوس کر رہ جانا پڑا۔حیرت ہے کہ یہ دانشور اسلامی قوانین کو جامد کہتے ہیں۔اگر ایسا معاملہ کسی مسلم قاضی کو پیش آیا ہوتا تو کیا وہ مجرم کو قرار واقعی سزا دلائے بغیررہتا ؟مگر مغرب کی مزید ستم ظریفیاں ابھی باقی ہیں۔
ان گیارہ بچوں کے والدین کوجب پتہ چلاکہ جس درندے نے ان کے بچوں کو انتہائی درندگی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا تھا اسے ایک لاکھ ڈالر معاوضہ ادا کیا گیا ہے۔تو فطری طور پر ان میں اشتعال کی لہر دوڑ گئی۔اور انھوں نے اولسن پر ہرجانے کا مقدمہ دائر کردیا۔جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ کنیڈا کے ٹیکس دہندگان کے جو ایک لاکھ ڈالراس درندے کی جیب میں گئے ہیں وہ اس سے لے کر مرنے والے بچوں کے ورثاء کے حوالے کئے جائیں۔مگر مغرب کی مہذب اور عقلمند کورٹ نے فیصلہ ان کے خلاف دیا۔اپیل کورٹ نے بھی مقدمہ خارج کر دیااور سپریم کورٹ نے اس کی سماعت سے ہی انکار کردیا۔مگر جب اولسن نے بہتر رہائشی سہولیات کے لئے کورٹ میں درخواست دی تو یہ سماعت کے لئے منظور کرلی گئی۔آخری اطلاعات یہ تھیں کہ متاثرہ لوگوں نے ایک انجمن بنا لی تھی جس کا مطالبہ یہ تھا کہ کنیڈا میں سزائے موت کا قانون واپس لایا جائے۔
خدا بیزار معاشروں کا حال یہ ہے کہ کہیں اجتماعی ضمیر کے اطمینان کی خاطر بھی مجرموں کوسزا دینے کی بجائے سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اور کہیں ثبوت و گواہ کی عدم موجودگی میں بھی اجتماعی ضمیر کی تسکین کے لئے رات کے اندھیروں میں’’ملزموں‘‘ کو پھانسی پر چڑھا دیا جاتا ہے۔سونے پہ سہاگہ یہ ہے کہ ایسے ’’نکٹے‘‘ لوگ اسلامی سزاؤں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔
آخر میں ہم خود اپنا ایک تجربہ بیان کرتے ہیں۔یہ ۸۱ ؍۱۹۸۰ کی بات ہے ۔ہم بمبئی کی ایک بڑی ٹیکسٹائل مل میں کام کرتے تھے ۔جہاں ہمارے زیادہ تر کولیگ بنگالی تھے۔ بنگالی اپنے آپ کوبڑا دانشور سمجھتے ہیں۔یہ اکثرہم سے اسلام اور اسلای سزاؤں پر بحث کرتے۔ان میں ایک تھے مسٹر پال جو ہم سے دیگر بنگالیوں کے مقابلے زیادہ قریب تھے مگر انھیں بھی اسلامی سزاؤں سے شکایت تھی ۔ایک روز ہم ڈیوٹی پر زرا فرصت میں تھے مسٹر پال ہمیں بنگال کی قبائلی زندگی کی باتیں بتا رہے تھے۔باتوں باتوں میں انھوں نے بتایا کہ ایک بار ایک قبیلے نے دوسرے قبیلے پر حملہ کر دیا اور نہ صرف مردوں کو بلکہ بچوں بوڑھوں اور عورتوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ایک ایک کو چن چن کر قتل کر دیا۔یہ سب بتاتے بتاتے مسٹر پال اشتعال میں آگئے اور کہنے لگے کہ میرا بس چلے تو میں ظالم قبیلے کے ایک ایک فرد کو نہ صرف قتل کردوں بلکہ ان کی لاشوں کا مثلہ کردوں۔ہم نے ان سے پوچھا کہ کیوں؟کیا اسوقت وہاں آپ کے بھائی ،بہن یا دیگر قریبی رشتے دار تھے۔جواب دیا ،نہیں۔ہم نے پھر پوچھا۔کیا دوست و احباب تھے ۔پھر جواب ملا،نہیں،آخر میں انھوں نے بتایا کہ ان کا نسلی تعلق اسی مظلوم قبیلے سے ہے۔ہم نے کہا کہ نہ آپ کا کوئی دوست اس واقعے میں قتل ہوا ہے اور نہ کوئی قریبی عزیز۔صرف نسلی تعلق کی بنا پر آپ قاتلوں کو قتل ہی نہیں کرنا چاہتے بلکہ ان کی لاشوں کا مثلہ کرنا چاہتے ہیں پھر وہ جس کے قریبی عزیز کو کوئی قتل کردے اور وہ حکومت کے پاس اس کے قتل کا دعویٰ کرے توبتائیے مظلوم کو تسکین کس طرح حاصل ہوگی ؟اس دن کے بعد ہمارے ساتھیوں میں سے کسی نے ہم سے اسلامی سزاؤں پر بحث نہیں کی ۔
رحمدلی بڑی اچھی صفت ہے مگر صحیح وقت اور صحیح جگہ پر ہی مفید ثابت ہوتی ہے۔

 ممتاز میر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
07697376137 
Attachments 

عالم اسلام میں منافقین کا کردار

                                                                   جلال الدین اسلم، نئی دہلی
موبائل نمبر: 09868360472 

مشہور محاورہ ہے گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔ مسلمانوں میں یہی بھیدی منافق کہلاتے ہیں۔ کیوں کہ یہ لوگ بہ ظاہر مسلمان ہوتے ہیں مگر عملاً کافر۔ ابتدائے اسلام سے ہی یہ بھیدی یہود و نصاریٰ کے لیے بڑی اہمیت رکھتے رہے ہیں کیوں کہ یہی لوگ مسلمانوں کے اندرونی حالات اور سرگرمیوں سے اسلام کے کھلے دشمنوں کو آگاہ رکھنے میں پیش پیش رہے ہیں اور بسا اوقات شدید نقصان بھی پہنچایا ہے۔ چوں کہ یہود و نصاریٰ اسلام اور مسلمانوں کے ازلی دشمن ہیں اس لیے وہ منافقین کے ذریعے ہمیشہ ہی اپنے مقاصد اور عزائم کی تکمیل کرتے رہے ہیں۔ 
اسلامی تاریخ سے جو لوگ واقف ہیں وہ منافقین کے کرتوت کی گواہی دیں گے کہ کب کب اور کن کن حالات اور موقعوں پر گھر کے بھیدی کا رول ادا کیا ہے۔ فرانس کی سرزمین پر اکتوبر 732ء میں ہونے والی تاریخ ساز جنگ لڑی گئی تھی، جب مقابل فوجوں کے مابین رن پڑا تو اس وقت بھی انہیں منافقین کی بدولت اسلامی انقلاب کی پیش قدمی رک گئی تھی جس کے نتیجے میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ 
بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ مسلمان اگر یہ جنگ جیت جاتے تو پیرس اور لندن میں گرجا گھروں کی جگہ مسجدیں نظر آتیں اور وہاں کی عظیم دانش گاہوں میں بائبل کی جگہ قرآن مجید کی تفسیر پڑھائی جارہی ہوتی۔ سید امیر علی لکھتے ہیں ’’طورس کے میدانوں پر عربوں نے اس وقت عالمی سلطنت گنوادی جبکہ یہ ان کی مٹھی میں تھی۔ حکم عدولی اور باہمی انتشار و خلفشار جو مسلم معاشرے کا ابدی ناسور اور لعنت رہے ہیں، اس تباہی کے سبب بنے۔‘‘ اور منافقین کی بن آئی۔ 
دولت کی ہوس اور باہمی انتشار نے کام دکھایا، ان کوتاہیوں اور غلطیوں نے کہاں کہاں ملت اسلامیہ کا راستہ نہیں روکا، کیا کیا زخم نہ کھائے۔ ہم نے جہاں بھی شکست کھائی مڑکے دیکھا تو کمین گاہوں میں کچھ اپنے ہی نظر آئے۔ حرص وہ بلا ہے جو انہیں یہ سوچنے کی مہلت تک نہیں دیتی کہ بے حد و بے حساب دولت کس کام آئے گی۔ خاص طور پر جس کے انبار غیر ملکی بینکوں میں کھولے گئے چوری چھپے کھاتوں میں دھرے ہیں باہمی خلفشار بھی کہاں کم ہوا، کس نے کس کی پیٹھ میں چھرا گھونپا، اپنے پرائے جس کا جہاں داؤ لگا وہ موقع پاتے ہی اپنے کرم فرماؤں پر چڑھ دوڑا، اقتدار تو دولت سے بھی بری بلا ہے۔ ان تمام عوامل کے پیچھے کون لوگ ہیں یہ ہمیں بہرحال سوچنا چاہیے۔ 
جوں جوں ہماری مرکزی طاقت خواہ وہ خلافت کی شکل میں تھی یا بعض خطوں میں بادشاہت کے روپ میں براجمان تھی، کمزور پڑنے لگی تو ناچاقی اور انتشار نے سر اٹھایا اور ہر طرف یورشیں برپا ہونے لگیں، چھوٹے بڑے راجواڑے وجود میں آنے لگے، وسائل بکھرتے گئے اور مرکزی حکومت کا دائرہ اختیار سکڑتا گیا۔ آخری خلیفہ عباسی مستعصم ہوں یا آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر، دونوں ہی ہوا کا جھونکا آتے ہی تنکوں کی طرح بکھر گئے۔ ایک بے بسی کے عالم میں تاتاریوں کے گھوڑوں کے سموں تلے روندا گیا، دوسرا پابجولاں وطن سے سینکڑوں میل دور رنگون میں حوالہ زنداں ہوا۔ ظفر تو شاعر تھے، شکست و محرومی کا اظہار کرگئے، انہیں دفن کے لیے ’کوئے یار‘ میں دو گز زمین نہ ملنے کا نوحہ کہنے کی مہلت تو مل گئی۔ خلیفہ المستعصم بے چارگی میں دوقدم آگے ہی نکلا۔ کہتے ہیں اپنے مصاحبوں کے ہمراہ جب وہ اپنے آپ کو تاتاریوں کے حوالے کرچکا تو اسے ہلاکو خان کے حضور پیش کیا گیا۔ ہلاکو نے سونے کی کچھ ڈلیاں اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ’انہیں کھاؤ‘ مجبور قیدی نے پریشان ہوتے ہوئے عرض کیا۔ ’سونا کھایا نہیں جاتا‘ جواب ملا ’پھر ڈھیروں جمع کیوں کر رکھا تھا۔ اگر ہمیں بھجوا دیا ہوتا تو آج عیش و آرام سے جی رہے ہوتے، ایسا نہیں کرنا تھا تو اپنے دفاع کے لیے خرچ کیا ہوتا۔‘ مذکورہ بالا واقعات و حالات میں سمجھنے کے لیے بہت کچھ چھپا ہوا ہے۔ مال و دولت اور اقتدار کی ہوس کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے۔ اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی اس کے امرا اور حکمرانوں میں عیش و عشرت اور اقتدار کی ہوس نے جگہ بنائی ہے خود بھی رسوا ہوئے ہیں اور ملت کو بھی رسوا کیا ہے۔ ایسے ہی حالات میں منافقین اور گھر کے بھیدیوں نے بھی نہ معلوم کتنی بار لنکائیں ڈھائی ہیں۔ آج بھی عالم اسلام میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے پس پشت بھی یہی عوامل کارفرما ہیں۔ 
اہل سیاست میں آج کل ایک نئی سوچ ابھر رہی ہے کہ قارون کا خزانہ جب تک پاس نہ ہو تو اقتدار تک رسائی ممکن نہیں ہے۔ یہ مفروضہ انتہائی خطرناک کھیل کو جنم دے رہا ہے۔ ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ شروع ہوجاتی ہے جس میں حصول مقصد کے لیے سب کچھ روا ہے۔ بدعنوانی، رشوت، چور بازاری، رہزنی اور اسی قبیل کی دوسری بلائیں سیلاب کی صورت میں امڈ آتی ہیں جس سے ملک ہی نہیں پورا معاشرہ ہی غیر مستحکم ہوجاتا ہے۔ اقتدار میں آنے والے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس کار خیر میں ایک دوسرے کو مات دینے کی فکر میں رہتے ہیں۔ نجی محفلوں میں کھلے بندوں یہ تذکرہ کہ فلاں بازی مارگیا اور فلاں پیچھے رہ گیا۔ یہاں تک کہ قلم دانوں اور وزارتوں کی بھی قیمت لگنے لگتی ہے، ظاہر ہے جب ایسی صورت بنے گی تو وہی ہوگا جو آج کل آپ کے سامنے ہے۔ کہیں کسی کو سکون نہیں، نہ عوام کو نہ حکمرانوں کو، سبھی اپنی اپنی جگہ بے چارے ہیں۔ 
سیاست ایک بہتا دریا ہے جس کا پانی کبھی اتنا صاف و شفاف تھا کہ اس کے کناروں پر کھڑے درخت جھک جھک کر اس میں اپنا عکس دیکھتے تھے۔ صاف ستھرے وضع دار لوگ جنہیں اپنی عزت کا پاس تھا، ملک و قوم کی خدمت کے لیے اس میدان میں اترتے تھے، شرافت و متانت، عوام کی خیر خواہی اور کار ثواب کی تمنا ان کے لیے زادراہ ہوتی تھی۔ اپنی جیب سے خرچ کرتے تھے، دولت مند ہوں یا نہ ہوں دل کے غنی ہوتے تھے۔ ان کی غیرت گوارا نہیں کرتی تھی کہ وہ خدمت خلق کے عوض کوئی مالی فائدہ اٹھائیں۔ بڑے ہی غیور اور پاک طینت لوگ تھے۔ اللہ رحمت فرمائے ان عظیم ہستیوں پر جو ہمیں آزادی کی نعمت سے ہمکنار کرگئے۔ حرص و ہوس کی زنجیروں کو اگر وہ نہ توڑتے تو منزل مراد تک نہ پہنچتے۔ بہت پہلے بک گئے ہوتے۔ خریداروں کی نہ آج کمی ہے نہ اس وقت تھی۔ مال بکاؤ ہو تو خریدار بہت۔ ڈرانے والے اس دور میں بھی بہت ہیں، اس وقت بھی بہت تھے۔ 
عالم عرب میں آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کا اصل سبب یہی ہے کہ وہاں کے حکمرانوں میں خوف خدا سے کہیں زیادہ خوف امریکہ ہے۔ اسی کے اشاروں اور حکموں پر اپنے اپنے ملکوں میں حکمرانی کرتے ہیں۔ انہیں اس سے غرض نہیں کہ ملک و قوم کا کیا اور کتنا نقصان ہو رہا ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ امریکہ نے دنیا بھر میں اپنی مرضی چلانے کے لیے ایک ایسا عالمی نظام قائم کیا ہے جس کے ذریعے عالم اسلام پر جارحیت اور سفاکیت کا مظاہرہ کر رہا ہے جس سے افغانستان، عراق، لیبیا، شام و یمن وغیرہ تو بھگت ہی رہے ہیں اور بھی نہ معلوم کتنے اس کے نشانے پر ہیں۔ پھر بھی وہ اپنے رویے میں کوئی تبدیلی لانا نہیں چاہتے تو انہیں بھی ایک نہ ایک دن خلیفہ مستعصم اور بہادر شاہ ظفر جیسے حالات سے گزرنا ہی پڑے گا۔ 
منافقین اور گھر کے بھیدی سب کے سب اپنے اپنے فریضے انجام دے رہے ہیں لیکن اگر کوئی اپنا فریضہ انجام نہیں دے رہا ہے تو وہ ہے مسلمانوں کا حکمراں طبقہ۔ یا پھر خود امت مسلمہ۔ جب ہمیں معلوم ہے کہ ہماری صفوں میں وہ منافقین بھی شامل ہیں جو اپنی آستینوں میں بُت چھپائے ہمارے ساتھ اس لیے سربسجدہ ہیں کہ ہم انہیں اپنا مسلم بھائی سمجھیں اور وہ اپنے بھائیوں میں پہنچ کر ہمارا مذاق اڑائیں، تو ایسے میں ہم پر کیا فرض نہیں کہ ان سے نجات حاصل کرنے کے لیے ہم بھی رفع یدین شروع کردیں۔ 

ہیں رقص میں بلائیں مضافات و شہر میں (۲)


جلال الدین اسلم، نئی دہلی
موبائل نمبر: 09868360472 

مسلمانوں کی تاریخ پر جب بھی نظر جاتی ہے تو پوری تاریخ کرب و بلا نظر آتی ہے اور ہر طرف اپنوں کی سادگی اور غیروں کی عیاری کی داستان بساط عالم پر پڑی عبرتناک صورت حال بیان کر رہی ہوتی ہے۔ ماضی قریب میں بوسنیا کی درد بھری کہانی لوگ ابھی بھولے نہیں ہیں، جہاں مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے ہی مٹادینے کی ہر ممکن کوشش کی گئی تھی اور وہاں کے مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے امریکہ اور یوروپی ممالک نے یہ کہا تھا کہ ہم تو مسلمانوں کی مدد کر رہے ہیں، یہی نہیں بلکہ یوروپی دنیا تقریباً ۴ برس تک بوسنیا کی آگ پر اپنے ہاتھ تاپتی رہی اور جب اسے یہ یقین ہوگیا کہ بوسنیا کے مسلمان اب ادھ مرے ہوچکے ہیں اور نسل کشی سے ان کی مزاحمتی صلاحیت زائل ہوچکی ہے تو اس نے بوسنیا کے معاملات میں ’مداخلت‘ بھی ضروری سمجھی، اس کی وجہ بھی بہت واضح تھی کہ سرب عیسائی تھے اور وہ روس کے زیر اثر تھے۔ عظیم تر سربیا وجود میں آجاتا تو پوری وادئ بلقان پر روس کے اثرات گہرے ہوجاتے۔ 
بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کیسی تھی اس کا اندازہ کرنا نہ اس وقت ممکن تھا نہ اب۔ یوں کہیے کہ بوسنیا ایک بہت بڑے مذبح میں تبدیل ہوگیا تھا جس کی پوری اسلامی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ سرب جہاں اجتماعی قتل عام کرسکتے تھے وہاں انہوں نے کیا، جہاں وہ گولہ باری کرسکتے تھے کی، جس جگہ پانی بند کرسکتے تھے، بند کردیا۔ جہاں غذا کی قلت پیدا کی جاسکتی تھی کی، وہاں مسلمانوں کو بھوکا مارا گیا، جہاں جہاں وہ کیمپوں میں مسلمانوں کو سڑاکر مار سکتے تھے وہاں وہاں وہ مسلمانوں کے چلتے پھرتے ڈھانچے تخلیق کیے۔ ان کی پالیسی تھی کہ نوجوان مسلمانوں اور بچوں کو چن چن کر ماردو۔ برسوں کے شدید بحران کے دوران ہزاروں مسلم خواتین کی عزتیں لوٹی گئیں اور پھر یہ نعرہ بھی لگایا گیا کہ ہم مسلمانوں کے یہاں سرب بچے پیدا کریں گے۔ اس صورت حال کا سب سے ہولناک پہلو یہ تھا کہ قتل عام اور عصمت دری کے 80 فیصد واقعات میں وہ لوگ ملوث تھے جو چالیس پچاس سال سے مسلمانوں کے ’پڑوسی‘ تھے۔ 
بوسنیا مارشل ٹیٹو کے یوگو سلاویہ کا حصہ تھا جس نے مسلمانوں کی مذہبیت کو گہرا دفن کردیا تھا۔ بوسنیا مسلمانوں کی عظیم اکثریت نام کی تھی مسلمان نہیں تھی انہوں نے اپنے نام بھی مقامی انداز میں رکھ لیے تھے لیکن ان مسلمانوں کو بھی یہ کہہ کر مارا گیا کہ تم نہیں تو تمہارے آبا و اجداد تو مسلمان تھے، تمہارے جسموں میں انہیں کا خون ہے۔ آج عالم اسلام خصوصاً عالم عرب میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے قضیہ فلسطین اور یہودی مقاصد کے تناظر میں ہی دیکھا جانا چاہیے۔ صبح کے نام پر شام ہی شام بلکہ گھپ اندھیرا بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے اور یہ کہ مسلمانوں کی حقیقی صبح کب نمودار ہوگی؟ 
بوسنیا، چیچنیا، الجزائر، قبرص، سوڈان، صومالیہ گو کہ جہاں جہاں بھی مسلمانوں کی کچھ مسلمیت کی جھلک نظر آتی ہے انہیں زندہ درگور کرنے کی سازشوں میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ دیگر مسلم ملکوں کی طرح ہی صومالیہ میں بھی انتشار پیدا کیا گیا اور برسوں سازشوں کے جال میں پھانس کر ادھ مرا بنادیا گیا۔ اس بدقسمت ملک کی محرومیوں کا جائزہ لینے کی اگر کوشش کی جائے تو چاند کے بہانے چھت پر پہنچنے کی کوشش ہی کہی جائے گی یعنی 1976-77 میں صومالیہ کے چند فوجی اتفاقاً ایتھوپیا کے علاقے میں داخل ہوگئے تھے جہاں صومالی مسلمان بھی مقیم تھے، یہی وہ واقعہ ہے جو صومالی مسلمانوں کے لیے ناسور بن گیا اور مسلمانوں کے دشمنوں کے لیے صومالیہ مداخلت کا جواز بھی بن گیا۔ جس کے نتیجے میں امریکہ بہادر کو آگ برسانے کا موقع مل گیا، ہزاروں کی جانیں گئیں اور لاکھوں کی املاک جل کر خاک ہوگئیں۔ 
ایتھوپیا جہاں عیسائی اکثریت ہے اس کے اسرائیل کے ساتھ بہت ہی قریبی روابط ہیں اسے اسلامی دنیا کے دل میں خنجر گھونپنے کے لیے تیار کیا گیا۔ 1990 کی دہائی میں صومالیہ امریکہ کی ہزیمت کی علامت بن کر ابھرا تھا اور امریکہ اس تجربہ کو بھولا نہیں تھا مگر اس نے اپنی شاطرانہ ذہنیت کے مطابق صومالیہ میں خود آنے کے بجائے صومالیہ اور ایتھوپیا میں کرائے کے فوجی تلاش کرلیے اور انہیں اسلحے اور کروڑوں ڈالر بھی فراہم کیے تاکہ اس طرح صومالیہ مستقل طور پر میدان جنگ بنا رہے۔ اسی طرح جیسے اسلامی ممالک اس وقت دست و گریباں ہیں۔ مگر افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہمارے اسلامی ملکوں کے سربراہان و حکمراں سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی بھیگی بلّی بنے ہوئے ہیں۔ 
بہرحال دنیا کی سب سے سپرپاور سے تصادم مول لینا آج کے بے حس مسلم حکمرانوں اور بے سر و سامان کمزور مسلمانوں کے بس کی بات نہیں اور نہ ہی مٹھی بھر اسلامی فکر رکھنے والے ہی دشمنوں کے میزائلوں، ٹینکوں اور جنگ جو طیاروں کا مقابلہ اینٹ و پتھر سے کرسکتے ہیں۔ یہ جنگ اپنی طاقت کے نشے میں بدمست استعمار کے منصوبہ سازوں نے عالم اسلام پر مسلط کر رکھی ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ہر طرح کے حربی ساز و سامان سے لیس ہوجائیں۔ مادی لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو کسی طور بھی برابر کا جوڑ نہیں ہے لیکن واقعات و حالات پر نظر رکھنے والے یہ منظر بھی دیکھ چکے ہیں چند نفوس پر مشتمل سرفروشوں نے دنیا کی سب سے بڑی طاقت روس کو افغانستان میں دھول چاٹنے پر بھی مجبور کردیا ہے اور امریکہ بہادر کو بھی نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن جیسے حالات سے گزرنا پڑا ہے۔ 
9/11 کے بعد سے پوری دنیا میں مسلمانوں کے تعلق سے جو حالات رونما ہو رہے ہیں یا کیے جارہے ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔ ہرگزرتا لمحہ مسلم اُمہ کو دعوت فکر دے رہا ہے۔ خاص طور سے ان مسلم حکمرانوں کے لیے جو اس حد تک بے حس ہوچکے ہیں کہ انہیں مغربی ملکوں کی سوائے کاسہ گدائی کے قبلہ اول کی بازیابی اور اس کی حفاظت کا خیال بھی جاتا رہا اور آئے دن دین و ملت اور ناموس رسولؐ پر ہتک آمیز حملوں کا بھی کوئی اثر باقی نہیں رہا۔ ایسے حالات میں اب جبکہ اسلام کی روح غیر محسوس طریقہ سے عالم اسلام کی رگ و پے میں سرایت کر رہی ہے اور مسلمان اپنی اصل کی طرف لوٹ رہا ہے تو دوسری طرف امریکی استعمار اور ان کے صلیبی و صہیونی اتحادی اپنی تمام تر قہر سامانیوں کے ساتھ دنیا بھر میں پھیلے مسلمانوں کے شہروں اور بستیوں کو تاراج کرنے کے لیے پابہ رکاب ہیں۔ حال اور مستقبل کی جنگ کا نقشہ بالکل واضح ہے۔ ایسے میں ہمارے مسلم حکمراں کس جانب کھڑے ہیں تاریخ کا راوی خاموش مشاہدہ کر رہا ہے۔ 
معتبر تجزیہ کاروں، مبصروں اور دانشوروں کے خیال میں یہ بات بڑی حد تک سچ ثابت ہونے والی ہے کہ مسلم اُمہ کے خلاف مغربی طاقتوں کی جنگ اب بہت ہی خطرناک مرحلہ میں داخل ہونے والی ہے اور عنقریب ہی انتہائی خطرناک حالات پیدا ہوسکتے ہیں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو بڑے ہی خوفناک صورت حال سے گزرنا پڑسکتا ہے۔ داعش جیسی تنظیموں کا جنم اور ان کی سرگرمیوں سے مستقبل کے حالات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ کتنی سچی کہاوت ہے کہ بارود کی بو سے بھرے ماحول میں پرندوں کے چہچہے سنائی نہیں دیتے، امن کی فاختائیں ایسے حالات میں نہیں اترتیں۔ واضح رہے کہ دشمنوں کے ہاتھ اب ہمارے گریباں تک آپہنچے ہیں۔ افغانستان، عراق وغیرہ کا حشر آپ کے سامنے ہے اور اب کس کس کا حشر ان جیسا دیکھنا چاہتے ہیں؟ یاد رکھیے دریوزہ گری، کاسہ لیسی موت ہے۔ اقتدار کے حصول اور اس کے دوام کے لیے خوشنودیوں کے طلب گار بن کر دین و ملت کا جنازہ اپنے ہی کندھوں پر ہر روز نئے قبرستانوں تک کب تک پہنچاتے رہیں گے۔ کاش کہ کوئی عالم عرب کے ان عالی جاہوں کو دور خلافت کے آخری خلیفہ سلطان عبدالمجید کا ہی بیان پڑھ کر سنادیتا تو ان کے اندر کی سوئی ہوئی غیرت بیدار ہوجاتی۔ بصورت دیگر حالات کے تیور تاریخِ اندلس دہرانے کے لیے بے تاب نظر آرہے ہیں جو تاریخ اسلامی کا بڑا ہی ہولناک اور عبرت ناک باب ہے۔ 

ہیں رقص میں بلائیں مضافات و شہر میں (قسط اول)


جلال الدین اسلم، نئی دہلی
موبائل نمبر: 09868360472 

اسلام کے نزول سے ہی یہود و نصاریٰ اس کے ازلی دشمن رہے ہیں، دن رات وہ اسی ادھیڑ بن میں رہتے ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کو کس طرح اپنے جال میں پھانس کر ان کی زندگیاں اجیرن کردیں۔ جو لوگ حالات و واقعات پر نظر رکھتے ہیں وہ یقیناًاس بات کی گواہی دیں گے۔ گزشتہ چند دہائیوں قبل یوروپی ممالک کے وزرائے خارجہ اور ارباب فکر و دانش نے ایک کانفرنس منعقد کی تھی جس کے اختتام پر شرکاء نے یہ قرار داد پاس کی تھی کہ ’’ایک ایسی ریاست جو عرب اور مسلمانوں کے حوالے سے ازلی دشمن ہو، جو مغرب کی صحیح معنوں میں وفادار بھی ہو اور پروردہ بھی، اسے نہرسوئز کے مشرق میں قائم کیا جاناچاہیے تاکہ عربوں کو ہمیشہ کے لیے متفرق و پراگندہ رکھا جاسکے۔‘‘ لیکن اس وقت اس قرارداد پر عمل درآمد کی راہ میں جو سب سے بڑی رکاوٹ کا باعث بنا وہ مسلمانوں کا نظام خلافت تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے اسے زمین بوس کرنے کی کوشش کی گئی۔ 1922 میں جب سلطان عبدالمجید خلافت کے منصب پر فائز ہوئے تو قصر خلافت مخدوش ہوچکا تھا اور خلافت کے دشمنوں کی ریشہ دوانیاں عروج پر تھیں۔ اس دور میں جب سلطان عبدالمجید کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری آئی تو خلیفہ کولارڈ ہرڈرل نے یہ پیشکش کی کہ وہ کچھ مال و دولت کے عوض فلسطین کو فروخت کردیں، اس پر سلطان نے کہا کہ ’’فلسطین میری ذاتی ملکیت نہیں کہ میں اسے فروخت کرتا پھروں، میری لاش کے ٹکڑے ہونا اس سے بہتر ہوگا کہ میں اسلامی ریاست کے ٹکڑے ہوتے دیکھوں، ہاں خلافت ختم ہوگئی تو فلسطین تمہیں مفت ہی مل جائے گا۔‘‘ 
تاریخ گواہ ہے کہ 1924 میں خلافت کے خاتمہ کے چند برس بعد ہی اسرائیلی ریاست کا قیام عمل میں آگیا جس کا اولین مقصد مشرق وسطیٰ کے وسائل پر قبضہ کرنا تھا جو دنیا کے 60 فیصد وسائل کی مالک مسلم ریاستیں ہیں۔ اس ناجائز قبضہ کے باعث ہی عرب اسرائیل میں کئی جنگیں بھی ہوچکی ہیں۔ حتیٰ کہ مسجد اقصیٰ میں آگ لگانے اور اس کے نزدیک کھدائی کرانے جیسے مذموم اور شرمناک واقعات نے پوری مسلم دنیا کو سوچنے پر مجبور کردیا، جس کے باعث ہی مسلم ممالک کو مشترکہ پلیٹ فارم دینے کے لیے اسلامی کانفرنس تنظیم کا قیام عمل میں آیا۔ اور جس کے مقاصد و نصب العین میں یہ بات واضح طور پر درج کی گئی کہ فلسطین اپنے حقوق اور خطہ کی آزادی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، ان کی کوششوں میں بھرپور مدد و معاونت کی جائے گی۔ لیکن افسوس کہ فلسطینیوں کی صورت حال میں اب تک کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ یہ کہا جائے کہ پہلے کے بہ نسبت کہیں زیادہ ابتر و بدتر ہوگئی ہے تو یقیناًغلط نہ ہوگی۔ یہ کتنی افسوس ناک بات ہے کہ فلسطین کی وہ تنظیمیں بھی جو اس کے کاز اور جدوجہد آزادی کے لیے معرض وجود میں آئیں وہ بھی ناکام ہیں۔ فلسطین کی آزادی کی جنگ کرنے والی دو اہم تنظیمیں ہیں جن کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ الفتح کے سربراہ یاسر عرفات اور حماس کے روح رواں شیخ یٰسینؒ کی قربانیوں کو کون اور کیسے نظر انداز کرسکتا ہے۔ ان عظیم روحوں کے رخصت ہوجانے کے بعد یہ تنظیمیں کمزور پڑنے لگیں بلکہ انہیں بے اثر بنانے کے لیے ایک دوسرے کو ٹکرا دیا گیا، اس طرح کی مذموم سازشیں اور منصوبہ بند حکمت عملیاں انہیں سازشوں کا حصہ ہیں جو یہود و نصاریٰ نے اول وقت میں تیار کی تھیں۔ حیرت کی بات ہے کہ یہودی لابی دن بہ دن اپنے مقصد کے حصول میں آگے بڑھ رہی ہے اور فلسطینی عوام اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے سوا کچھ حاصل نہیں کرپا رہے ہیں اور صورت حال سنگین سے سنگین رُخ اختیار کرتی جارہی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ صورت حال مسلم دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے؟ اور پھر مسلم دنیا کا ہی کیا اس معاملے میں عالمی دنیا کا طرز عمل بھی تو کچھ مختلف نہیں۔ 
اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل کوفی عنان نے اپنے دور اقتدار کے آخری دنوں میں یہ ’جرأت مندانہ بیان‘ دے کر واضح کیا کہ جب تک فلسطین کا فیصلہ نہیں ہوگا، مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ یقیناًیہ ایک دہکتی اور چشم کشا حقیقت ہے لیکن اس سارے منظرنامہ میں اقوام متحدہ جیسے ادارے سے کسی بھی طور کی کوئی مثبت توقع فضول ہے۔ کیونکہ یہ ادارہ بھی دیگر اداروں کی طرح مسلمانوں کے تعلق سے بے فیض ہے اور یہ بات بھی کتنی دلچسپ ہے کہ ایسے اداروں اور سپرطاقتوں کے سربراہوں کے اقتدار کے دن جب پورے ہو رہے ہوتے ہیں تو انہیں اس وقت ہی سچائی نظر آتی ہے۔ بہرحال ان سے ہی کیا خود جب اپنے ہی اپنے نہیں تو دوسروں سے کیا شکایت؟ OIC جسے قائم ہی مسلم دنیا کے مسائل حل کرنے کے لیے کیا گیا تھا آخر اسے کیا ہوگیا ہے جو اسے کیوں سانپ سونگھ گیا ہے؟ 
OIC اس وقت تقریباً 103 ملین مسلمانوں کے حقوق کی ترجمان ہے۔ اس کے ممبروں میں مشرق وسطیٰ، شمالی، مغربی افریقہ، وسطی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور برصغیر کے ممالک شامل ہیں۔ اس کے قیام کو لگ بھگ چالیس پینتالیس سال کا عرصہ گزرگیا ہے اور ہر کانفرنس میں فلسطین پر مظالم کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور کی جاتی رہی ہیں لیکن یہ قراردادیں معصوم و مظلوم فلسطینیوں کے قتل عام کو نہ روک سکیں اور نہ ہی ان کے جمہوری حقوق انہیں دلواسکیں۔ کیا محض قراردادیں ہی امت مسلمہ کے سلگتے مسائل کا حل ہیں؟ آج پورا عالم اسلام یہود و نصاریٰ کے گھناؤنے عزائم اور منصوبوں کے جال میں پھنس کر تڑپ رہا ہے اور مسلم حکمراں عیش و عشرت کے محلوں میں تو محوِ خواب ہیں یا پھر اپنے اقتدار کے دوام کے لیے ان طاقتوں کے فریب میں ہیں جو عالم اسلام کے ازلی دشمن ہیں۔ ظاہر ہے جب ایسے حالات ہوں گے تو ایک نہ ایک دن ان محل نشینوں کو بھی انہی حالات سے گزرنا پڑے گا جن سے آج عالم اسلام کا بچہ بچہ دوچار ہے۔ 

مسلم دنیا میں یہ تلخ حقیقت وقت گزرنے کے ساتھ عیاں ہوتی گئی ہے کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ غیر ملکی طاقتیں نہیں بلکہ مسلمانوں پر مسلط وہ حکمراں ہیں جو غیر ملکی طاقتوں کے آلۂ کار کے طو رپر کام کر رہے ہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو اسلامی کانفرنس تنظیم اب تک عالم اسلام کا نقشہ ہی بدل چکی ہوتی۔ لیکن وہ کچھ اور کیا کرتی اپنے گھسے پٹے اعلامیوں پر بھی عمل نہیں کرسکی۔ آج سے چالیس پینتالیس برس قبل اسلامی چوٹی کانفرنس کے اعلان مکہ میں جن عزائم کا اظہار کیا گیا اس کا عملی اظہار آج تک کسی بھی مسلم ملک میں نظر نہیں آیا۔ جہاں بھی اور جس ملک میں بھی مسلمان ہونے کی وجہ سے ظلم و ستم کا پہاڑ توڑا گیا، یا توڑا جارہا ہے، وہاں وہاں کے نہتے معصوم عوام خود ظالموں سے نبرد آزما ہیں۔ مسلم حکمراں اگر حقیقی کردار ادا کرتے تو عام مسلمانوں کو کسی جدوجہد کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ کتنی حیرت و شرم کی بات ہے کہ سارے عرب ملکوں کی فوجیں مل کر بھی فلسطین کو آزاد نہ کراسکیں اور ہر روز فلسطینی مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا جارہا ہے جسے مسلم حکمراں ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر رہے ہیں۔ بوسنیا، ہرزیگونیا میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کردیا گیا اور بالآخر بوسنیا کے حصے بخرے بھی ہوگئے۔ سوال یہ ہے کہ ان مسلم حکمرانوں نے کیا کیا جو عالمی کانفرنسوں میں بہت کچھ کرنے کے عزائم اور اعلامیے جاری کرتے رہتے ہیں۔ 

ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق!



ملک عزیز میں ہر روز کوئی نہ کوئی نیا ہوتا ہی رہتا ہے ۔یہ الگ مسئلہ ہے کہ وہ نیا کیا ہو رہا ہے ۔زیادہ تفصیل بتانے کی ضرورت نہیں اب تو ملک کا بچہ بچہ ملک عزیز کی پالیسی اور مودی حکومت کی آئے دن کی ہنگامہ آرائیوں کو جان چکا ہے ۔افضل گرو کی پھانسی جس کے بارے میں ہمارے ارباب اقتدار بتاتے نہیں تھکتے کہ وہ قانون کی حکومت میں یقین رکھتے ہیں اور افضل گرو کو قانونی طور پر عدالت کی نگرانی میں ہی پھانسی دی گئی ہے ۔لیکن یہ پورا سچ نہیں ہے یہ صرف آدھا سچ ہے ۔افضل کی پھانسی پر سوالات اٹھتے ہی رہیں گے ،اس کی پھانسی حکومت ہند کے گلے کی پھانس بن چکا ہے ۔سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں جو کچھ لکھا ہے وہ ملک میں عدالتی نظام کو دنیا کے سامنے مشکوک بنا کر ہی پیش کریں گے ۔دعویٰ تو یہ ہے کہ یہاں قانون کی حکمرانی ہے ۔مودی جی پوری دنیا میں گھوم کر حکومت ہند کی رواداری ،عدم تشدد،مساوات اور جمہوری اداروں کی آزادی کی مثال پیش کرتے ہیں ۔انہیں شاید یہ غلط فہمی ہو گئی ہے کہ دنیا اندھی ہی نہیں بہری اور گونگی بھی ہے کہ اسے حقیقت حال کا علم نہیں ہوگا اور وہ ان سے کوئی سوال نہیں کریں گے ۔لیکن پونے کے نوجوان مسلم انجینئر محسن شیخ ،ایئر فورس کے ہندوستانی جوان کے باپ اخلاق ، حیدر آباد کا نوجوان دلت اسکالر روہت ویمولا اور اب جے این یو کے کنہیا کے ساتھ حکومت اور اس کے چیلے چانٹوں کی کارروائی نے دنیا کو یہ پیغام دے دیا ہے ۔اور غیر ملکی میڈیا میں اس پر سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں ۔اب بھی ان کی خوش فہمیاں دور نہیں ہوئیں تو صرف تین سال بچے ہیں جب ان کی خوش فہمیوں کا ہمالہ زمین بوس ہونے والا ہے ۔آخر روہت ویمولا کو خود کشی کے لئے مجبور کردینا ،کنہیا کو جھوٹے اور فرضی الزامات میں گرفتار کرنا اور عدالت کے احاطے میں کنہیا پر وکیل نما غنڈوں کا حملہ ،جے این یو کے پروفیسروں اور میڈیا کے لوگوں پر کمرہ عدالت میں جج کی موجودگی میں حملہ اور گالی گلوج کون سے قانون کے حکمرانی کے تحت آتا ہے ۔ان واقعات سے ایسا لگتا ہے کہ مودی حکومت نے یہ طے کرلیا ہے کہ وہ عوامی آواز کو ہر ممکن طریقے سے دبا دے گی یہی سبب ہے کہ وہ عوامی بے چینی کو جان بوجھکر نظر انداز کررہی ہے ۔یہ الزام محض نہیں ہے ۔مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت جن حسین خواب اور جھوٹے پروپگنڈے کے سہارے بر سر اقتدار آئی تھی،دو سال کاعرصہ پورا ہونے کو ہے لیکن ابھی تک ایک وعدہ بھی پورا ہوتا نظر نہیں آتا ۔اور حکومت کا رویہ یا اس کی جو پالیسی سمجھ میں آرہی ہے اس سے تو یہی ظاہر ہے کہ پانچ سال میں بھی کچھ ہونے کونہیں ہے ۔لیکن عوام تو حساب مانگ رہے ہیں ۔انہوں نے نریندر مودی میں زبردست اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے توقعات سے کہیں زیادہ سیٹ پارلیمنٹ میں انہیں دے کر سنہرے ہندوستان کے سپنے سجائے تھے ۔لیکن وہ سارے سپنے ایک ایک کرکے ٹوٹتے بکھرتے نظر آرہے ہیں ۔حکومت سنبھالتے ہی نریندر مودی نے غیر ملکی سفر کا لا متناہی سلسلہ شروع کیا تو مذاق کا سبب بن گیا ۔وہ کبھی اپنے غیر ملکی سفر کے جواز کے لئے جھارکھنڈ کی انتخابی ریلی میں یہ کہتے ہیں کہ وہ کیلا میں وٹامن کی مقدار بڑھانے کے سلسلے میں سائنسدانوں سے ملاقات کے لئے بیرون ملک گئے تھے ۔تو کبھی سائنس کانفرنس میں سخت گیر ہندوؤں کو یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہندوستان ہزاروں سال قبل ہی جنیٹک سائنس اور پلاسٹک سرجری نیز ٹیکنالوجی کو حاصل کرچکا تھا ۔اب بے چارے ان کے چاہنے والے سوشل میڈیا پر ان کے نقادکو مغلظات سے نوازتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔کیا کریں جب صحیح جواب یا کوئی دلیل نہ ہو تو پھر گالی گلوچ کے علاوہ اور بچتا ہی کیا ہے ۔لیکن یہ اس پارٹی کے لئے قابل غور تو ہے ہی کہ وہ پارٹی جو ساری دنیا کو اخلاقیات کا سبق پڑھایا کرتی تھی ذرا سی تنقید سے اس کے بھکت ساری اخلاقیات بھول کر بھونڈا اور انتہائی نازیبا کلمات ادا کرنے لگے ہیں ۔
جب ترقی کے وعدے سب کا وکاس سب کا ساتھ کا وعدہ پورا نہیں ہو رہا ہے تو عوام کا ذہن کہیں نہ کہیں مصروف تو رکھنا ہی پڑے گا ۔نتیش کمار کی رائے میں یہ حکومت عوام کے ذہن کو ملک کے اصل مسائل ہٹانے کے لئے اس طرح کے معاملات اٹھارہی ہے ۔اس لئے اس دوران جو کچھ ہوگا وہ یہ ہوگا کہ فساد پھیلانے ،اشتعال انگیز بیانات دینے اور اقلیتوں اور دلتوں کو روندنے کی حتی الامکان کوشش کی جائے گی ۔جس کی شروعات حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے ایک ماہ کے اندر ہی ہو گئی تھی۔دفعہ 370 ،یکساں سول کوڈ ،مسلم پرسنل لاء،مسلمانوں سے حق رائے دہی چھین لینے کی بات کے درمیان لو جہاد،گؤ بھکتی اور اس کی آڑ میں مسلمانوں کو نشانہ بنانا ۔اب جبکہ دو سال پورا ہونے کو ہے تو اس میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ۔ہر نیا دن نئے ہنگاموں کو لے کر حاضر ہو تا ہے ۔دلت اسکالر روہت ویمولا کا معاملہ ابھی ٹھنڈا بھی نہیں ہوا تھا اور اس واقعہ نے مودی حکومت کی ناک میں دم کر رکھا تھا کہ ایک دیگر معاملہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبہ لیڈر کی گرفتاری اور وہاں پولس کے کریک ڈاؤن نے نئے قضیہ کو مودی حکومت کے لئے نیا چیلنج بنا کرپیش کردیا ہے ۔اسی بات پر اروند کیجریوال نے اپنے ٹوئٹ پیغام میں کہا تھا کہ مرکزی حکومت ملک کے جوانوں سے حالات جنگ میں ہے۔مودی حکومت اور اس آئیڈیا لوجی والے لوگ ہر نئے ہنگاموں پر اپنی جعلی حب الوطنی کے سائے میں ہنگامہ کو فروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔لیکن فی الحال اس پر انہیں کوئی کامیابی نہیں مل رہی ہے ۔شاید عوام نے بھی ان کی حب الوطنی کی آڑ میں جعلسازی کو محسوس کرلیا ہے اسی لئے ایک خاص طبقہ کے علاوہ اور کوئی ان کی باتوں پر دھیان دینے کو راضی نہیں ہے ۔لیکن فی الحال کسی بھی طور ملک میں امن امان کی صورتحال سدھرتی نظر نہیں آتی کیوں کہ حکومت شاید خود ہی یہ فیصلہ کئے بیٹھی ہے کہ اگر ملک میں سکون ہوگا اور عوام پر سکون ماحول میں جینے لگیں گے تو ان کی کارستانیوں پر گرفت سخت ہونے لگے گی ۔اس لئے اس نے اپنے ان کارندوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ جو چاہیں کریں اور اگر کوئی اس پر احتجاج کرے تو اسے ملک مخالف بتاکر دیوا رسے لگانے کی جانب قدم اٹھایا جائے ۔ایسا ہی پچھلے دنوں ہوا تھا جب دہلی میں طلبہ تنظیموں نے آر ایس ایس دفتر کے باہر احتجاج کیا تو پولس نے انہیں بری طرح زدو کوب کرکے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی اور پولس نے اپنے ساتھ سادہ کپڑوں میں ایسے عناصر کو بھی اس گھناؤنے اور ظالمانہ کام میں لیا جن کے بارے میں اکثریت کی رائے یہ ہے کہ یہ لوگ سنگھ اور اس کی ذیلی تنظیموں کے کارندے تھے ۔اس واقعہ کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دہلی پولس کٹہرے میں آگئی تھی ۔اس پر ہر طرف سے حملے تیز ہو گئے تھے ۔شاید اسی سے نکلنے کے لئے دہلی پولس اور ان کے ہمنواؤں نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں کریک ڈاؤن کرکے اور طلبہ تنظیم کے لیڈر کو گرفتار کرکے یونیورسٹی کے وقار کو نقصان پہنچایا۔جس سے نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے اور روہت ویمولا جس پر وقت کی گرد پڑنے لگی تھی پھر سے تازہ ہونے کی امید ہے ۔کل ملا کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ مودی حکومت خود اپنے تابوت میں کیل ٹھونکنے کا کام کررہی ہے بس عوام کو آخری کیل کا انتظار ہے۔ملکی حالات کے موجودہ تناظر میں صدیوں پہلے مرزا غالب نے کہا تھا ’ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق ۔۔نوحہ غم ہی سہی نغمہ شادی نہ سہی ‘ جو آج بھی حالات و واقعات کے عین مطابق ہے ۔ 


نہال صغیر ،موبائل :9987309013

ہندوستان ایک بار پھر سونے کی چڑیا بن سکتا ہے اگر


umar shaikh <umarfarrahi@gmail.com>

عمر فراہی

ملک کے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کےبعد  نریندر مودی کا پہلا دورہ بھوٹان کا تھا -ہمیں  نہیں پتہ کہ انہوں نے سب سے پہلے ایک بہت ہی چھوٹے سے غیر ترقی یافتہ ملک کا دورہ  کرنے کا فیصلہ کیوں کیااور اس کے پیچھے کیا حکمت عملی رہی ہوگی لیکن اگر انہوں نے عرب کے ایک چھوٹے سے مسلم ملک متحدہ عرب امارات اور خاص طور سے دبئ کا دورہ کر لیا ہوتا تو شاید وہ اس نتیجے پر ضرور پہنچنے کی کوشس کرتے کہ اگر دبئ کے حکمراں ایک ریگستان کو سونے کی چڑیا بنا سکتے ہیں تو ہندوستان کے حکمراں کیوں نہیں-مگر ایک کٹر مسلم مخالف سیاسی پارٹی سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر یہ سوال بھی اٹھایا جاسکتا ہے کہ انہیں مسلم ممالک پر بہت اعتماد نہیں ہے اور یہ شک جائز بھی ہے کیوں کہ پاکستان جو کہ اپنی مذہبی ہم آہنگی کی بنیاد پر عربوں سے بہت ہی قریب ہے وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ ہندوستان اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہوں - ہندوستان کا شک جائز کہا جاسکتا ہے کیونکہ ہماری سرکار نے کئی بار دبئ کی حکومت سے داؤد ابراہیم کو حوالے کرنے کی مانگ کی مگر اس  حکومت نے داؤد کو ہمارے حوالے نہ کر کے  پاکستان کے حوالے کر دیا - خیر بالآخر دیر ہی سے نریندر مودی نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور شاید دنیا کے کسی ملک میں  انہیں اتنی پذیرائی نہیں ملی یا کسی ملک کے سربراہ نے ذاتی طور پر دنیا کی دوسری عظیم جمہوریت کے وزیراعظم پر اتنی توجہ نہیں دی جو متحدہ عرب امارات کے خلیفہ محمد بن زاید النہیان نے عزت بخشی اور اپنی کٹر اسلامی روایت کے برعکس ابوظہبی میں ہندو مندر کی تعمیر کا تحفہ بھی پیش کیا -ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حال ہی میں ابوظہبی کے بادشاہ کے دورے پر ہماری سرکار بھی بابری مسجد کی دوبارہ  تعمیر کا وعدہ کرکے اینٹ کا جواب پتھر سے دیتی مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا - شاید محمد زاید بن النہیان کو بھی دنیا اور ہندوستان کے  مسلمانوں کے مسائل سے اتنی بھی دلچسپی نہیں جتنا کہ امریکہ کے صدر اوبامہ کو ہے جو کہ صرف ایک مسلمان باپ کے بیٹے ہیں انہوں نے اپنی ذمہ داری کا ثبوت اور انسانی غیرت کا اظہار کرتے ہوئے یوم جمہوریہ کے ایک ایسے موقع پر جبکہ اسی دن ہمارے آئین کی تخلیق ہوئی تھی اپنے دوست نریندر مودی کو راج دھرم کے پالن کی تلقین کر ڈالی اور یہ کہنے کی جرات کی کہ ایک ملک جو گاندھی کے اہنسا کا علمبردار تھا اب اس روایت کا پاسدار نہیں رہا -اوبامہ کو یہ بیان دینےکی ضرورت نہیں تھی اور ابھی تک کے کسی امریکی صدر کی یہ روایت بھی نہیں رہی ہے- اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ان کا نقصان بھی نہیں تھا جبکہ اپنے ان الفاظ سے انہوں نے ایک طاقتور ملک کی جمہوری عوام اور میڈیا کو بھی ناراض کیا مگر واپس جانے کے بعد انہوں نے خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کی مزار کیلئے چادرروانہ کر کے یہ پیغام بھی دینے کی کوشس کی کہ وہ صرف ہندوستانی سرکار کے ہی مہمان نہیں تھے اور نہ ہی اس آمد اور دعوت میں خاص تجارتی مقاصد ہی شامل ہیں بلکہ وہ اپنی واپسی پر ہندوستان کی دبی کچلی اقلیتوں کا درد بھی ساتھ لیکر جارہے ہیں -بدقسمتی سے ابوظہبی کے خلیفہ محمد بن زاید نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا-مگر کچھ خاص تجارتی معاہدے کے علاوہ جو سب سے اہم بات کی گئی وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور اتحاد واتفاق کے معاملات پر سنجیدہ رخ اختیار کرنا ہے  -چونکہ عرب ممالک کے سربراہان 2010 کے عرب انقلاب کے بعد اپنے اقتدار کے چھن جانے کی دہشت میں مبتلا ہیں اس لئے اب 2013 میں عرب حریت پسندوں کی مسلح جدوجہد نے جو عالمگیر تحریک اختیار کر لی ہے اس تحریک سے تقریباً ہر وہ ممالک خوفزدہ ہیں جہاں سیاستدانوں کی بد نظمی اور بدعنوانی عروج پر ہے اور یہ نہیں چاہتے کہ ایسے کسی ملک میں عام آدمی کے انقلاب کو شہرت حاصل ہو اور انہیں کسی بھی عوامی انقلاب کی صورت میں اپنی ناجائز قبضہ کی ہوئی دولت کا حساب دینا پڑے -ابوظہبی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اسی عالمی حکمت عملی کے تحت پچھلے ایک سالوں میں عرب حریت پسندوں سے رابطے کے الزام میں کئی مسلمان لڑکوں کو ہندوستانی سرکار کو سونپا ہے - خودہمارے ملک میں بھی ہماری حکومت نے اپنے عرب مہمان کو خوش کرنے کیلئے ان  کے آنے سے پہلے ہی عرب حریت پسندوں  سے رابطے کے الزام میں  تقریباً بیس سے پچیس مسلم نوجوانوں کی  گرفتاری کی ویڈیو تیار کر لی تھی-اس کے علاوہ ان گرفتایوں کے پیچھے ایک مقصد یہ بھی ہے  کہ ملک کے دیگر پسماندہ طبقات میں جو بے چینی پائی جاتی ہے اور مختلف اوقات میں جو روہت ویمولا اور کنہیا کمار جیسے نڈر ہندو نوجوان سر اٹھا رہے ہیں وہ اس دہشت سے خاموش رہیں - ہماری سرکاریں کہاں تک اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوتی ہیں اور یقیناً زیادہ دن تک کامیاب بھی نہیں ہو سکتیں ہیں کیونکہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے اکیسویں صدی کو انیسوی صدی سے بالکل مختلف بنا دیا ہے اور ملک کے نوجوان اس میڈیا کے ذریعے بغیر مذہب ملت کی تفریق کے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں اور پوری دنیا میں کیسے  کیا ہورہا ہے انہیں پتہ ہے -سوال یہ ہے کہ ابو ظہبی کے حکمراں نے تو اپنے مفاد کیلئے  ہمییں کچھ دینے کی کوشس کی مگر مودی جی نے متحدہ عرب امارات کے دورےسے کیا سیکھا اور جو کچھ ہم نےان سے  حاصل کیا ہے کیا ہم اس کا فائدہ بھی اٹھا سکیں گے -میرا مطلب یہ ہے کہ اس ملک کو مسلم حکمرانوں اور خاص طور سے مغلوں نے اگر اکھنڈ بھارت اور سونے کی چڑیا بنایا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اس ملک کو اپنا ملک سمجھا اور جس طرح ایک شخص اپنے گھر اور کمرے کو خوبصرتی سے سجاتا ہے انہوں نے خوبصورت عمارت اور سڑکوں سے آراستہ کیا اور ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پورے ہندوستان میں ریاستوں اور شہروں کی منصوبہ بندی سے لیکر ان کے درمیان نظم وضبط عدلیہ کے ساتھ ساتھ  پل اور سڑک کی صورت میں آمدورفت کا نظام بھی انہیں کا بنایا ہوا ہے اور بعد میں انگریزوں نے جدید ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے جگہ جگہ ریلوے لائن کی شروعات کی جس کا فاںُدہ بھی ہم اٹھا رہے ہیں مگر آذادی کے تقریباً ستر سالوں میں ایک دو میٹرو لائن اور کوکن ریلوے کے علاوہ ملک کی ترقی میں اگر ہماری کوئی قربانی ہے تو وہ صرف ایک عدد پارلیمنٹ اور اربوں روپئے کے قرض کا بوجھ ہے -تعجب ہے کہ ہم جن عربوں کو جاہل اور عیاش کہتے ہیں انہوں نے کم سے کم اپنی عوام کی بنیادی ضروریات میں کوئی کمی نہیں کی-اس مضمون کے شروع میں ہم نے اپنے وزیراعظم کو اسی لئے مشورہ دیا ہے کہ انہیں پہلے دبئ جانا چاہیے تھا کیونکہ وہ بھی ایک پسماندہ ملک تھا ان کے پاس کوئی پٹرول کی دولت نہیں تھی- وہاں کے لوگ سمندروں سے مچھلیاں مارنے کا کام کرتے تھے مگر سمندروں میں کشتیوں کا کھیل کھیلنے والے عربوں نے سمندر سے موتیاں تلاش کرنا شروع کر دیں -اور پھر ایک زمانہ یہ بھی آیا کہ مچھلیوں اور موتیوں کا کاروبار کرنے والے ملاحوں نے دبئ کو دنیا کےمرکزی بازار میں تبدیل کردیا اور اب دنیا کی ہر کمپنی جسے  دیگرممالک میں اپنے مال کو بیچنا ہوتا ہے کوشس کرتی ہے کہ دبئ میں اس کا اپنا شو روم ہو -سوال یہ ہے کہ ایک ایسا ملک جس کے پاس مغلوں اور انگریزوں کا دیا ہوا سب کچھ موجود تھااس نے زرخیز زمین کو بھی بنجر بنا دیا اور عربوں نے اس کے باوجود کہ ان کے یہاں آئ اے ایس اور آئی ایف ایس کی ڈگری لئے ہوئے  تعلیم یافتہ نوجوان بھی نہیں ہیں وہاں کے حاکموں نے یوروپ سے  رابطہ بنا کر تیل کی ندی بہا دی اس کے علاوہ خوبصورت عمارات, آمدورفت کا نظام  ,تعلیم وتربیت ,ہاسپٹل اور سیرو تفریح کی سہولیات کے ساتھ ساتھ جو نظم و ضبط اور قانون اور قاعدے بنائے ہیں کم سے کم دنیا کے غیر مسلم امیر طبقات کا یہ خواب ہے کہ اگر انہیں امریکہ میں گرین کارڈ نہ مل پائے تو دبئ میں  رہائش کی اجازت تو مل ہی جائے-ایک زمانہ تھا کولمبس بھی یہی خواب لیکر ہندوستان کو ڈھونڈھنے نکلا تھا آج کا کولمبس دبئ کی تلاش میں ہے-اس وقت قدیم ہندوستان اگر سونے کی چڑیا بن سکا تو اس لئے کہ مغلوں نے ہندوستان کو دل سے اپنا ملک تسلیم کیا اور اسے اپنے گھر اور دروازے کی طرح اپنا کر سجایا- ہندوستان آج بھی سونے کی چڑیا بن سکتا ہے اگر ہمارے سیاستداں اسے دل سے اپنا بنا لیں اور دیش بھگتی کا جھوٹا ڈرامہ نہ کریں -