شاہان عرب کے جدید لٹھ مار !‎


ہندوستان میں جن بھائیوں نے قطر اور سعودی عربیہ کی حمایت میں فیس بک پر اپنے خون جلائے ہیں ان کے لیئے سعودی عربیہ اور قطر کے امور سیاست میں وزارت عظمیٰ کے عہدے کا یقیناً حق بنتا ہے ۔ پتہ نہیں عرب شہنشاہوں کو اس کا احساس بھی ہے یا نہیں کہ ہندوستانی مسلمان ان کیلئے سوشل میڈیا کی جنگ میں آپس میں لاٹھی اور ڈنڈا بھی اٹھانے کی سوچ رہے ہیں ۔مجھے تو امید بالکل نہیں ہے کہ ان کی آپس کی لڑائی کے فائدے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہوگا سوائے اس کے کہ ہم ان کیلئے لٹھ مار کا کردار نبھاتے ہوئے زمیندار بابو کے چند ٹکڑوں پر قناعت کرلیں ۔ جنھوں نے انگریزوں کے دور میں زمینداری کا دور دیکھا ہے یا زمینداری کے دور کی کہانیاں پڑھی ہیں اورفلمیں دیکھی ہیں انہیں یاد ہونا چاہئے کہ زمیندار اپنی لگان وصولنے کیلئے لٹھ مار رکھتے تھے جو کاشتکاروں سے دھونس اور دھمکی سے لگان وصول کر زمیندار کو خوش کرتے اور بدلے میں زمیندار ان کے راشن وغیرہ کا انتظام کروا دیتا یا کاشتکاری کیلئے کچھ زمین کے ٹکڑے وغیرہ بھی دے دیتے تھے ۔اس وقت کی بھوجپوری زبان میں انہیں ڈھیل پھورا بھی کہا جاتا تھا -ڈھیل پھورے اکثر اوقات زمیندار بابو کیلئے لڑائی جھگڑے کے وقت میں اپنا سر بھی پھڑواتے تھے لیکن زمیندار کسی لڑائی میں کبھی سامنے نہیں آتے۔لٹھ ماروں کے علاوہ زمینداروں نے بھانٹوں کی ایک برادری بھی بسا رکھی تھی جو ان کی خوشی کے موقع پر خوش ہونے کا ڈرامہ اور دکھ کے موقع پر گریہ و زاری کرتے لیکن لٹھ ماروں اور بھانٹوں کی اوقات صرف محل کے باہر تک ہی محدود ہوتی تھی ۔باقی ان کے سیاسی ،معاشرتی اور ثقافتی معاملے میں انہیں نیچ اور کمتر کے درجے میں شمار کرکے نظر انداز کردیا جاتا تھا ۔ہم ہندوستانی مسلمانوں کے تئیں عربوں کی سوچ بھی تقریباً وہی ہے۔ عام طور پر عرب ہم ہندوستانیوں کو عجمی کہہ کر ذلیل کرتے ہیں ۔اگر عجمی کہیں تو بھی کوئی کراہیت کی بات نہیں، آخر بے غیرتوں کو بے غیرت نہیں تو کیا غیرت مند کہا جائے گا ۔ میں نے تو لوگوں سے سنا ہے کہ اکثر جاہل عرب ہندوستان کے مسلمانوں کو کافر بھی کہتے ہیں۔تحقیق کیا تو معلوم ہوا کہ پاکستانیوں نے عربوں کے ذہن میں بدگمانی پیدا کردی تھی، اب عرب ہوشیار ہوچکے ہیں۔ پاکستانیوں نے عربوں کو ورغلایا ہوگا اس کا ثبوت پاکستان کے ایک معروف سابق بیوروکریٹ اور صحافی اوریا مقبول جان کے ایک حالیہ بیان سے بھی ہوتا ہےجس میں انہوں نے بٹوارے کے موقع پر غیر مسلموں کا ساتھ دینے کی وجہ سے ہندوستانی مسلمانوں پر کفر کا الزام لگایا ہے ۔کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ جس پاکستانی ٹیم کے جیتنے پر ہم نے پٹاخے چھوڑنے، جن عربوں کیلئے ہم اپنا سر پھوڑنے کیلئے تیار ہیں یہ لوگ اپنی پارلیمنٹ میں وزارت کا عہدہ تو دور کی بات فوج میں مرنے کیلئے بھی شاید نہ بھرتی کریں ۔صدام حسین کا حشر ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جو خود عرب تھاجسے عرب کے شیخوں نے ایران سے جنگ پر آمادہ کیا ان کی بھر پور مدد کی تاکہ خمینی کے انقلاب کی یہ تحریک عرب میں نہ داخل ہونے پائے ۔ مگر جب صدام حسین معاشی بدحالی کا شکار ہوئے اور شیخوں سے مدد مانگی تو سب نے ہاتھ اٹھا دیا ۔ مرتا کیا نہ کرتا جس نے عربوں کو بچانے کیلئے اپنے ایک لاکھ عراقی جانبازوں کو شہید کروا دیا تھا جذبات میں آکر کویت پر حملہ کردیا ۔کویت میں عراقی فوج کے داخلے کا مطلب سعودی عربیہ جس نے کہ کبھی اپنے خالص سعودی باشندوں پر مشتمل پچاس ہزار فوج بھی اس لیئے نہی بنائی کہ کہیں دیگر عرب ممالک کی طرح ان کی حکومت کے خلاف بھی فوجی بغاوت نہ ہو اس کیلئے بھی خطرہ پیدا ہوگیا کہ کہیں عراقی فوجیں ریاض میں نہ داخل ہوجائیں فوری طور پر امریکہ سے فوجی امداد کا طلبگار ہوگیا۔ اس کے بعد سب نے مل کر صدام حسین کو پھانسی پر چڑھوا کر ہی دم لیا ۔ کہتے ہیں کہ محبت اور جنگ میں عاشق اور حکمراں اپنے اصول بھی توڑ دیتے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ جب صدام حسین کی شہادت کے بعد شاہان عرب نے عراق کے سنی عوام کوجو خود بھی عرب ہیں انہیں ایرانی اور عراقی شیعوں کے رحم وکرم پر قتل ہونے کیلئےچھوڑ دیا ہے تو ہم عجمی مسلمان کس درجے میں آتے ہیں ۔ہمیں یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہم مسلمان اپنے ملک میں بڑے کا گوشت کھانے کی وجہ سے دوڑا دوڑا کر مارے جارہے ہیں لیکن شاہان عرب میں سے کسی حکمراں نے بھی کوئی آواز اٹھانے کی جرات نہیں کی ۔اب ہم اپنی اوقات کے بارے میں خود فیصلہ کریں کہ جو ہم ان کے بارے میں آپس میں ایک دوسرے پر طنز و تشنیع کر رہے ہیں کیاان کیلئے ہماری شبیہ لٹھ ماروں اور بھانٹوں کے علاوہ بھی کچھ  ہے؟اس کے برعکس یوم جمہوریہ کے موقع پر امریکی صدر باراک اوبامہ نے ہندوستان میں اقلیتوں کی حق تلفی پر مودی سرکار کو گاندھی کے اصولوں پر عمل کرنے کی تلقین کی تھی۔امریکہ جانے کے بعد خواجہ معین الدین چشتی کے مزار کیلئے چادر بھیجی ۔امسال یوم جمہوریہ کے موقع پر متحدہ عرب امارات کے امیر کا بھی دورہ ہوا لیکن وہ اس طرح سے خاموشی کے ساتھ واپس چلے گئے جیسے کہ انہیں ہندوستان کے مسلمانوں سے کوئی سروکار نہیں۔ہمیں کوئی شکایت نہیں کہ متحدہ عرب کے اس حکمراں نے ہندوستان کے مسلمانوں کے تئیں یہاں کے حکمرانوں سے شکایت کیوں نہیں کی ۔مگر ہندوستان میں مسلمانوں کی مسلکی جماعتوں سے شکایت ہے کہ کیا ملک میں بحث کرنے اور سلجھانے کیلئے ہم مسلمانوں کے اپنے مسائل کم ہیں کہ ہم شاہان عرب کیلئے لٹھ مار اور بھانٹ کا کردار ادا کریں۔
عمر فراہی ۔ ای میل  :  umarfarrahi@gmail.com

غیروں پہ کرم اپنوں پہ ستم



ممتاز میر

بالآخر۳۴ رکنی ’’اسلامی ‘‘فوج بنانے والے احمقوں نے قطر کو نکال باہر کر دیا ۔ قطر بہت دنوں سے سعودی عرب اور اس کے چمچوں کی نظروں میں کھٹک رہا تھا ۔بڑا ننھا سا ملک ہے (ننھا سا ملک تو سرائیل بھی ہے )۔مگرعلاقائی اور عالمی مسائل پر اس کے مواقف بڑے اور نپے تلے ہواکرتے ہیں۔ایسے جو امریکی چمچوں کے منہ پر طمانچوں کی طرح لگتے ہیں۔بار بار لگنے والے ان طمانچوں کا علاج یہی تھا کہ اسے غیر بنا دیا جائے۔اور اسے حتی الامکان ستا کر اپنی طرح بزدلانہ موقف اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے۔اسلئے سات اسلامی نہیں مسلم ممالک نے (فی الوقت دنیا کوئی اسلامی ملک نہیں ہے) قطر سے ہر قسم کے روابط ختم کر نے کا اعلان کردیا ہے ۔اب ان سات ممالک اور قطر کے درمیان بری بحری اور فضائی سفر ممکن نہیں ۔یہاں تک کہ سفراء کو بھی واپس بلا لیا گیا ہے۔یہ انتہا پسندانہ اقدام کرتے ہوئے یہ بھی نہیں سوچا گیا گیا کہ اس سے عام لوگوں کو سیاحوں کو کس قدر تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔خبروں کے مطابق سب سے زیادہ مصیبت میں عمرے کو جانے والے لوگ ہی پڑے ہیں اور ان سات ممالک کا سرغنہ سعودی عرب ہی ہے۔سعودی عرب کے علاوہ ان ۷ ممالک میں مصر،یمن لیبیا ،بحرین،یو اے ای اور حیرت انگیز طور پر مالدیپ شامل ہے۔ہمیں پہلی بار یہ پتہ چلا ہے کہ مالدیپ سعودی عرب کا تنا بڑا چمچہ ہے ۔اب سعودی عرب کی دنیا وہ حیثیت نہیں رہی ہے جو کبھی تھی اب ان کی اگر کوئی حیثیت ہے تو بس اتنی کہ مسلمانوں کے حرمین شریفین سعودی عرب میں واقع ہیں۔اور یہ ان کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ہے ۔ہم برسوں سے دیکھ رہے ہیں کہ ان میں self respect نام کی کوئی چیز باقی نہیں بچی ہے ۔ابھی سال دو سال پہلے یمن مین سعودی سرحد کے قریب ایرانی یلغار سے گھبرا کرانھوں نے پاکستان کے سامنے مدد کے لئے ہاتھ پھیلائے تھے مگر نواز شریف نے جو برسوں جلا وطنی میں سعودی شاہی میزبانی سے لطف اندوزہو چکے ہیں انھیں’’معاف کرو بابا‘‘ کہہ دیا تھا۔اور کیوں نہ کہتے ۔امریکی اسلحے کا دنیا کا سب سے بڑا خریدار سعودی عرب ہے ۔پھر دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت کیا ہے ۔ یہ اسلحے بھی اس شرط پر ملتے ہیں کہ وہ اسرائیل کے خلاف استعمال نہیں ہونگے۔۱۹۸۹ میں ایران عراق سے۸ سالہ جنگ کے بعد فقیر ہو چکا تھا ۔جبکہ سعودی عرب مسلم ممالک کے درمیان مالدار ترین ملک تھا ۔یہ ۸ سالہ جنگ بھی ایران پر اسی غرض سے تھوپی گئی تھی جس غرض سے مرسی کے تخت کو تختہ بنا دیا گیا ہے ۔اس کے باوجود ایران آج اس قابل ہے کہ تمام عرب ممالک کو اکیلے نپٹ سکتا ہے ۔اس کے باوجود کہ امریکہ سے اربوں کھربوں ڈالر سالانہ کے اسلحے نہیں لیتا۔کبھی کبھی ہمیں شک ہوتا ہے کہ یہ حضور ﷺاور صحابہ کرامؓ کی اولاد نہیں ہیں ۔یہ اسلام کے دشمنوں کی ذریت ہیں۔
یہ زمانہ تلبیس حق وباطل کا ہے ۔کسی بھی معاملے کی حقیقت تک پہونچنا بڑا مشکل بنا دیا گیا ہے۔اس کے باوجود جس طرح یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ شام میں ایران کی بشارالاسد کی حمایت نہ قوم کے لئے ہے نہ دین کے لئے بلکہ اپنے مسلکی مفادات کے لئے ہے(حالانکہ ایرانی علما نصیریوں کو کافر کہتے ہیں)اور ۲۰۱۱ تک ایران تقیہ کئے ہوئے تھا ۔ بالکل اسی طرح مصر میں سعودی عرب کی جنرل عبدالفتاح السیسی کی حمایت اور مرسی کی مخالفت میں ڈالروں کے دریا بہانا نہ قوم کی خاطر ہے نہ دین بلکہ خاندانی اقتدار کی حفاظت کے لئے ہے۔اور اب تو وہ اتنے گر چکے ہیں کہ امریکی غنڈوں کو پالنے کے ہر سال حاجیوں پر نت نئے بوجھ بڑھا رہے ہیں ۔کاش کہ قوم کو عقل آئے اور ترکوں کی طرح وہ بھی فیصلہ کر لے کہ جب تک شاہوں کی حکومت ہے وہ نفلی حج و عمرہ سے دور رہیں گے۔ ہم قطر کے حکمراں کے حامی ہیں ۔وہ پہلے مسلم حکمراں ہیں جنھوں نے میڈیا کی اہمیت کو سمجھااور نومبر ۹۶ میں الجزیرہ کے نام سے ایک بین الاقوامی ٹی وی چینل شروع کیاجس کے اب دنیا بھر میں ۸۰ بیوریوز کام کر رہے ہیں اور کئی زبانوں میں کر رہے ہیں ۔امریکہ کے جتنے بڑے دشمن اخوان اور حماس ہیں اتنا ہی بڑا دشمن امریکہ الجزیرہ چینل کو بھی سمجھتا ہے۔یہ شاید دنیا کا وہ واحد چینل ہے جس پر امریکہ دشمن کی طرح حملے بھی کرتا ہے ۔امریکہ کا ایک فوجی اڈہ قطر میں بھی ہے اسلئے امریکہ نے ہر طرح کا دباؤ ڈال کریہ کوشش کی کہ اس کے دانت نکال دیئے جائیں مگر حیرت انگیز بات ہے کہ سعودی عرب جیسے مہارتھیوں کے ،جن کے پیسوں کے بل پر امریکہ کی لنگڑی لولی معیشت ٹکی ہوئی ہے ،امریکہ کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے بعد بھی قطر کے حکمران کم سے کم الجزیرہ کے معاملے میں تو جھکے نہیں۔پھر،پھر یہ کہ امریکہ کو جب بھی جہاں بھی موقع ملتا ہے الجزیرہ کے انفر اسٹرکچر حملہ کر دیتا ہے ۔صحافیوں کو مار؍مروا دیتا ہے ۔یا پھر متعلقہ ممالک امریکہ کے حکم پر انھیں قید کر لیتے ہیں۔ان کی نشریات بند کر دی جاتی ہیں ۔اب تک دنیا میں مرنے والے سب سے زیادہ صحافی الجزیرہ کے ہی ہیں۔
خیر جا رہا ہے کہ مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ نے الیکشن جیتنے کے بعد پہلے غیر ملکی دورے کے لئے سعودی عرب کا انتخاب ہی اسلئے کیا تھا کہ غلاموں8 کی وفاداری کی حد جانچ سکیں۔مبصرین کہہ رہے ہیں کہ قطر کے تعلق سے مسلم ممالک کا یہ فیصلہ ٹرمپ کے دورے کا نتیجہ ہے ۔اس دورے سے ایک بات اور واضح ہوئی ہے کہ سعودی عرب کی موجودہ حکومت بہت کمزور ہاتھوں میں ہے ۔امریکہ آج تو بہت کمزور ہو چکا ہے بلکہ اب دنیا یونی پولر نہیں رہ گئی ہے ۔مگر جب دنیا یونی پولر تھی تب بھی کسی امریکی حکمراں کو یہ ہمت نہیں ہوئی کہ اس کی خواتین سر پر اسکارف رکھے بغیر سعودی عرب کی سرزمین پر قدم رکھے ۔اور یہ نتیجہ ہے اسلام پسندوں کی دشمنی کا۔حضرت عمرؓ نے کہا تھا ہماری عزت دنیا میں کپڑوں کی وجہ سے نہیں اسلام کی وجہ سے ہے ۔کیا موجودہ حکمراں ان کی اولاد ہو سکتے ہیں؟قطر کا حکمراں بھی ڈپلومیسی کا مظاہرہ تو کرتاہے غلامی کا نہیں کرتا۔اور سچ پوچھو تو یہی بات ان عرب مہارتھیوں کو کھٹکتی ہے۔اسی لئے قطر کی یہ بات سچ لگتی ہے کہ ’’وہ ہمیں Dictate کرنا چاہتے ہیں‘‘۔
جو الزامات ان ۷ ممالک نے قطر کے خلاف لگائے ہیں وہ تمام الزامات تو پاکستان،ترکی ،سوڈان اور بہت سارے دیگر اسلامی ممالک کے خلاف بھی لگائے جاسکتے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ پھر ان کے خلاف بھی وہی کاروائی کیوں نہیں کی گئی؟جبکہ ترکی تو کھلم کھلا قطر کی حمایت کر رہا ہے ۔اور السیسی کا سب سے بڑا دشمن بنا ہوا ہے۔ترکی اعلان کر رہا ہے کہ وہ اس معاملے میں ثالث کا رول ادا کرے گا ۔دراصل ظالم بزدل ہوتا ہے اور وہ کمزوروں کو نشانہ بناتا ہے اور شہزوروں سے دب کر رہتا ہے۔قطر پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ ایران کی حمایت کرتا ہے ۔مگر دوسری طرف الجزیرہ Anti Shia رپورٹنگ کے لئے مشہور ہے ۔اور یہ اسلئے ہے کہ الجزیرہ ایک آزاد چینل ہے ۔یہ ضروری نہیں کہ وہ ہر معاملے میں اپنے مالکین سے اتفاق کرے ۔دوسری طرف قطر کا ایران کے تعلق سے موقف یہ ہے کہ وہ ایران کے تعلق سے سخت موقف اپنا کر شیعہ سنی خلیج کو بڑھانا نہیں چاہتے بلکہ ان کا مقصد تو خلیج کو ختم کرکے ہم آواز ہونا ہے ۔مگر قطر ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ ایران کی توسیع پسندی ہی ایران کے خلاف مسلم ممالک میں بے چینی پیدا کر رہی ہے ۔ہم خود ۲۰۱۱ کے بعد سے یہ لکھ رہے ہیں کہ کل تک جو احمدی نژاداور حسن نصراللہ مسلم دنیا کے عوام کے ہیرو تھے وہ ایران کے مسلکی اقدامات کی بنا پر آج زیرو بن گئے ہیں ۔یہ سوچ کر بڑا دکھ بڑا افسوس ہوتا ہے کہ عالم اسلام میں سب سے زیادہ دانشور شیعہ برادری کے پاس ہیں۔ایران میں بھی اور ایران کے باہر بھی ۔آج ایران جو کچھ کر رہا ہے وہ اس پر خوش بھی ہیں۔کسی کو عوام میں ایران کی اخلاقی ساکھ کھو جانے کا دکھ نہیں ۔وہ اس کے باوجود اپنے آپ کو اسلام پسند سمجھتے ہیں۔قطر کو اس سانحے کا احساس ہے ۔وہ چاہتا ہے کہ مسلکی رنجش سے عالم اسلام کو جو نقصان ہو رہا ہے اس تعلق سے ایران کو سمجھایا جائے۔بس یہ بات چھوٹے دل والے بڑے حکمرانوں کو ناگوار گزر رہی ہے ۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر آپ کو ایران سے اتنی ہی نفرت ہے تو اس کا اظہار اس وقت بھی ہونا چاہئے تھا جب فائیو پلس ون نے ایران سے نیو کلئرمعاہدہ کیا تھا ۔ان سے قطر کی طرح تعلقات کیوں منقطع نہیں کئے گئے؟
سچ یہ ہے کہ ۱۵ بلین کیوبک میٹر تیل اور نیچرل گیس کے بڑے ذخیروں میں سے ایک رکھنے والے قطر کو سعودی حکمراں صرف اور صرف خادم الحرمین شریفین ہونے کی بنا پر اپنا بغل بچہ سمجھتے ہیں ۔بچہ کوئی ایسا کام کر جائے جو خود اسکے بزرگوں کی اوقات سے بڑھ کر ہو تو دو باتیں ہوتی ہیں (۱)بزرگ اس کے کارنامے پر فخر کرتے ہیں ،اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔اس کے کارنامے کو اس طرح بیان کرتے ہیں جیسے یہ خود ان کا کارنامہ ہو (۲)وہ اس سے جل جاتے ہیں اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں،اس کے نتائج و عواقب سے ڈراتے ہیں۔زندگی کے ہر معاملے میں اپنے موقف سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس سب کے باوجود کوئی نتیجہ نہیں نکلتا تو اسے سزا دے ڈالتے ہیں۔ ہم قطر سے یہی کہیں گے کہ ان گیدڑوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔بہادر روز روز نہیں مرتے ۔انھیں بس ایک ہی بار موت آتی ہے۔ 
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔07697376137

کشتہء قانون


ممتاز میر

  جون ؍جولائی۱۹۹۴ میں ہندوستانی جیلوں کے تعلق سے ایک سروے رپورٹ ٹائمس آف انڈیا میں شائع ہوئی تھی جس میں ہندوستانی جیلوں کی حالت اور اس میں بند قیدیوں کے حالات کی تفصیلات بیان کی گئی تھی۔اب ہمیں اور تو کچھ یاد نہیںبس اتنا یاد ہے کہ مغربی بنگال کی کسی جیل میں اس وقت ایک قیدی ایسا بھی تھا جسے جیل میں ۳۱ سال ہو چکے تھے اورکورٹ میں اس کے کیس کی ابتدا بھی نہیں ہوئی تھی اس وقت ہندوستان پر تاریخ کے بدنام ترین حکمراں نرسمہا راؤ کی حکومت تھی ۔ہم حکمراں ہوتے تو خود جیل جا کر اس قیدی کو جیل سے باہر لاتے  حتی الامکان دلجوئی کرتے۔قانون کے ظلم کا معاوضہ دیتے ۔مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔یہ ہمارے عدالتی سسٹم کی کرامات ہے کہ اس میں ہزار گنہگارچھوٹ سکتے ہیں مگر ایک بے گناہ نہیں چھوٹ سکتا۔مذکورہ قیدی کی سزا کتنی بھی ہو سکتی ہے مگر ۳۱ سال تو ہرگز نہیں ہو سکتی۔یہ کیسا عدالتی نظام ہے جودستور ہند میں تحریر سزاؤں سے زائد تو بلا تکلف بھگتوا سکتا ہے مگرسزا بھگتے شخص کو جیل سے نہیں نکال سکتا۔ کم و بیش ایسا ہی ایک کیس پھر ہمارے علم میں آیا ہے بس فرق اتنا ہے کہ اس کیس میں ملزمین جسمانی اعتبار سے جیل کے باہر ہیں ۔ ضمانت پر ہیں مگر ذہنی اعتبار سے گذشتہ ۲۳ سالوں سے خوف و دہشت کی صلیب پر لٹکے ہوئے ہیں ۔مگر کون ہے جو ہمارے عدالتی نظام کو ’’آتنک وادی‘‘ کہہ دے ۔
  بابری مسجد کی شہادت اور مارچ۹۳ کے ممبئی سیریل بم بلاسٹ کے بعد پورے ملک میں مسلمانوں کی ٹاڈا جیسے بدنام زمانہ قانون کے تحت گرفتاری کی ریوڑیاں بنٹ رہی تھی۔اس بہتی گنگا میں ہاتھ سب سے زیادہ مہاراشٹر پولس نے دھوئے۔ہر ایرے غیرے نے ایک آدھ ’’آتنک وادی ‘‘ کو گرفتارکیا ہی،اور حکومت سے پرموشن بھی پایا ۔بلکہ زیادہ تر گرفتاریاں پرموشن پانے کے لئے ہی ہوئیں۔اور عقل اندھی ہماری حکومتوںنے مسلمانوں کو بے قصورہی گرفتار کرنے پر  دل کھول کرایوارڈ اور پرموشن دیئے۔حالانکہ مسلمانوں میں قصورواروں کی کمی نہیں مگر دل میں ٹھنڈک تو مسلمان بے قصوروں کو گرفتار کرکے ہی پڑ سکتی ہے۔ایسا ہی ایک کیس بھوساول ضلع جلگاؤں کا بھی ہے ۔
بھوساول پولس نے ۲۸ مئی ۹۴ کو ٹاڈا کے تحت ایک کیس رجسٹر کیا اور چند دنوں میںبھوساول اور ممبئی سے ۱۱۔افراد کو گرفتار کیا ۔الزامات یہ لگائے گئے کہ یہ لوگ ملک سے بغاوت کرتے ہوئے بھوساول میں دہشت گردانہ کاروایئیاں انجام دینے کی (صرف)پلاننگ کر رہے تھے تا دم گرفتاری یا تحریر کہہ لو انھوں نے با قائدہ کوئی کاروائی انجام نہ دی ۔وہ پولس جو نجیب کو اب تک نہ ڈھونڈ سکی ،جسے ۲۶؍۱۱ جیسے بڑے اور پیچیدہ آپریشن کچھ علم نہ تھا مگر اس معاملے میں بھوساول جیسی چھوٹی جگہ کی پولس کی ناک کتنی تیز تھی ۔خیر قریب ایک ماہ کی روایتی تفتیش کے بعد جس میں خود ساختہ confessional statement پر دستخط کروالینا آسان ہوتا ہے ان ۱۱ ۔افراد کو حوالہء زنداں کر دیا گیا ۔
اگست ۹۴ مین ناسک ٹاڈا کورٹ میں ان کی ضمانت کی درخواست دائیر کی گئی جس کی سنوائی ستمبر کے آخر میں ہوئی اور ٹاڈا کے اسپیشل جج نے تمام کے تمام ۱۱ افراد کو بلا دریغ ضمانت دیدی ۔تب سے اب تک یہ تمام افراد جیل کے باہر تو ہیںمگر ذہنی اعتبار سے مصلوب ہی ہیں۔ ستمبر ۹۴ سے چند ماہ تک انھیں ہر ہفتے بھوساول پولس اسٹیشن میں حاضری بھی دینی پڑتی تھی اور ہر تاریخ پر ناسک کورٹ میں حاضر بھی ہونا پڑتا تھا ۔ممبئی سے گرفتار افراد کے لئے یہ دوہری مصیبت تھی ۔بہرحال چند ماہ بعد انھوں نے بذریعہء کورٹ بھوساول میں حاضری کی مصیبت ختم کر والی مگر ہر تاریخ پر ناسک کورٹ میں حاضر ہونے کی مصیبت برقرار رہی جہاں عملاً کچھ بھی نہیں ہو رہا تھا ۔بس سب کی Attendance لگتی اور تاریخ مل جاتی ۔آخر تنگ آ کر ان ملزمین نے دسمبر ۹۸ میں  ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ میں یہ رٹ پیٹیشن داخل کی کہ یا تو ہمیں بری کر دیا جائے یا فوراً چارج شیٹ داخل کر کے کیس چلایا جائے۔ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ نے اس پٹیشن کو قبول کرتے ہوئے آرڈر دیا کہ یا تو ملزمین کو بری کیا جائے یا فوراً چارج شیٹ داخل کی جائے ۔اس آرڈر کے بعد پولس نے ایک چارج شیٹ 120(B) کے تحت بھوساول کورٹ میں اور ایک چارج شیٹ ٹاڈا کی دفعات کے تحت ناسک کورٹ میں داخل کیا۔
بھوساول میں 120(B) کے تحت داخل ہونے والے کیس کو جج نے فوراً خارج کر دیا کیونکہ اس دفعہ کے تحت کیس چلانے کے لئے ریاستی حکومت کی ضروری اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی۔  ۱۹۹۹ سے ۲۰۰۳ تک یہ معاملہ حسب روایت لٹکتا رہا۔ملزمین ہر تاریخ پر کورٹ کے چکر لگاتے رہے ۔حکومت اور عدالت سوتی رہی ۔پھر۲۰۰۳ میں حکومت مہاراشٹر نے ٹاڈا جو کہ ۱۹۹۵ میں دفن کیا جا چکا تھا کہ کیسیس کے لئے ایک ریویو کمیٹی تشکیل دی جس نے ان ۱۱ ملزمین کے کیس کے لئے سفارش کی کہ ان پر سے ٹاڈا کی دفعات ہٹا دی جائے۔مگر اس وقت کے ٹاڈا جج نے ریویو کمیٹی کی اس سفارش کو ماننے سے انکار کر دیا ۔ہمارے نزدیک محترم جج نے بڑی جرا ء ت کا کام کیا ۔ہم مزید خوش ہوتے اگر وہ اسی جراء ت سے کام لے کر حکومت کو مجبور کرتے کہ وہ اس کیس کے لئے جلد سے جلد سرکاری وکیل کو نامزد کرے کیس چلائے اور اسے ختم کرے۔مگر افسوس کے اس سے آگے ان
 کی بھی کچھ کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔پھر سبھی سوگئے۔مگر آخر کب تک سوتے ۔کیونکہ پریشانی تو ملزمین کو ہو رہی تھی۔تنگ آکر ۲۰۱۲میںہمت کرکے جمع جوڑ کرکے ملزمین سپریم کورٹ پہونچ گئے اس امید پر کہ یہ ملک عزیز کی سب سے بڑی کورٹ ہے ۔اس کا بڑا نام ہے آر یا پار کچھ نہ کچھ تو ہو جائیگا ۔اس ہر ماہ کے مرنے سے تو نجات ملے گی ۔بڑی امیدیں لے کر انصاف کے یہ بھکاری سپریم کورٹ پہونچے۔پہلی امید تو یہی تھی کہ بس چند ماہ میں کچھ نہ کچھ رزلٹ سامنے آ جائے گا ۔ایسی خوش فہمیاں ہر اس شخص کے دل میں ہوتی ہیں جو پہلی بار ہندوستانی عدالتی نظام کے چکر میںپڑتا ہے ۔مگر،اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔دیکھتے دیکھتے ساڑھے چار سال کا عرصہ گزر گیا ۔ملزمین کی وکیل محترمہ کامنی جیسوال تو ہر تاریخ پر حاضر عدالت ہوتی رہیں مگر حکومت مہاراشٹر نے ۴ سالوں تک اس کیس کے لئے کوئی وکیل نامزد نہ کیا ۔بہرحال کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے ۔نومبر ۲۰۱۶ مین حکومت مہاراشٹر کے وکیل آئے اور کیس کی شنوائی ہوئی۔سپریم کورٹ نے شنوائی کے بعد یہ آرڈرپاس کیا کہ ناسک اسپیشل کورٹ میں اس کیس کو چلا کر ایک سال کی مدت میں ختم کرے ۔اس آرڈر کو دیکھنے کے بعد ملزمین کا تو جانے دیجئے خود ہمارے فرسٹریشن کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا ۔ہم اب تک مختلف عدالتوں کے اس طرح کے پچاسوں آرڈر دیکھ چکے ہیں مگر عمل ہوتے ایسا کوئی آرڈر نہیں دیکھا ۔عدالتی نظام سے منسلک ہر شخص کے پاس تاخیر کے ہزاروں بہانے ہیں ۔اور کیوں نہ ہوں ؟
متاثرہ عوام بے زبان ہے ۔اس کیس میں بھی نومبر ۲۰۱۶ سے آج تک کچھ نہیں ہوا۔کیونکہ حکومت مہاراشٹرٹاڈا(جسے مرے ہوئے ۲۲ سال کا عرصہ گزر چکا ہے)کے اس اسپیشل کیس کے لئے اب تک کوئی سرکاری وکیل نامزد نہیں کیا ہے ۔ملزمین ہر۰ ۲؍۲۵ دن بعدتاریخ پر ناسک کے چکر کاٹ رہے ہیں۔اب ۲۳ سال بعد کچھ ملزمین تو رہنے کے لئے کافی دور جا چکے ہیں۔۵؍۱۰ منٹ کی ایک تاریخ کے لئے کسی کا پورا دن توکسی کے ۲؍۳ دن ضائع ہو جاتے ہیں۔
  ہم جب بھی اپنے ملک کے عدالتی نظام کے بارے میں سوچتے ہیں تو سوچتے سوچتے ہمارا سر پھٹنے لگتا ہے ۔ہمارا نظام گنہگاروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے کیونکہ وہ مالدار ہوتے ہیں اور بے گناہوں کو تڑپا تڑپا کر غیر اعلان شدہ سزا دیتا ہے۔اس گناہ کی جو انھوں نے کئے ہی نہیں ہوتے ہیں۔چلئے قانون تو اندھا ہوتا ہے مگر ہمارے Learned Judges ؟کیا نہیں جانتے کہ یہاں غریب کورٹ کچہری کے چکر سے حتی الامکان دور بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں ،کیوں؟ان حالات میں ان ۱۱ ملزمین کو ۲۳ سالوں سے ہر ماہ عدالت کے چکر لگوانابیرحمی یا کہنا چاہئے دہشت گردی نہیں ہے ؟ساری دنیا اسلامی سزاؤں کی مخالفت کرتی ہے برا بھلا کہتی ہے مگر اسلامی عدالتی نظام پر آج تک کسی نے انگلی نہیں اٹھائی ہے ۔ہم اسلامی سزائیں نہ سہی اسلامی عدالتی نظام تو اپنا سکتے ہیں۔آپ ۲۳ سال گزرنے پربھی اگر اپنے شہریوں کو انصاف فراہم نہیں کر سکتے تو انھیں سزا تو دے سکتے ہیں ۔کم سے کم وہ ایسی معلق زندگی سے تو نجات پا جائیں گے ۔  دوسری بات۔ٹاڈا ۱۹۹۵ میں وفات پا چکا ہے ۔بلکہ صحیح یہ ہے کہ اسے مار دیا گیا  ۔کیوں؟اسلئے کہ بین الاقوامی ماہرین قانون اسے
سیاہ قانون قرار دے رہے تھے۔کوئی اسےDraconian Law  کہہ رہا تھا ۔کیوں؟ اسلئے نا کہ اس سے ہول سیل پیمانے پر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی تھی ۔ماہرین قانون ان آراء تک اس قانون کی گہری اسٹڈی کرنے کے بعد ،اس قانون کے متاثرین کے حالات کا مشاہدہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہونچے تھے ۔ہمارے ماہرین کیسے انسان ہیں ،جن کو دیکھکر وہ اس نتیجے تک پہونچے تھے ،انہی کو اس سیاہ قانون سے کوئی ریلیف نہ دے سکے ۔یہ سادہ لوحی ہے یا نیت کی خرابی۔
   تیسری اور آخری بات جو اس کیس ہی پر نہیں ہر کیس پر فٹ بیٹھتی ہے اور وہ یہ ہے کہ فرض کیجئے ایک کیس دس سال چلتا ہے ۔ہر ماہ تاریخ پڑتی ہے جس میں کم سے کم ۵ منٹ یا اس سے زائد ضائع ہوتے ہیں ۔اس طرح ایک سال میں ۶۰ منٹ اور ۱۰ سال میں ۶۰۰ منٹ یعنی ۱۰ گھنٹے ضائع ہوتے ہیں ۔ہمارا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اگر کوئی جج نیک نیتی سے سنجیدگی سے ۱۰ گھنٹے کیس کی سنوائی کرلے تو وہ ایک نہیں ۲ کیس کی سماعت مکمل کرکے فیصلہ سنا سکتا ہے ۔قابل صد احترام منصفین کرام !اب اس ملک میں حکمرانوں سے کوئی توقع نہیں ۔بس آخری امید آپ ہو ۔خدارا اپنا اعتبار نہ کھوئیے۔پاکستان ہمارا کیسا ہی دشمن سہی ،مگر وہاں سے کبھی یہ خبر بھی آجاتی ہے کہ عدلیہ کبھی کبھی حکمرانوں کو نکیل ڈالنے کا کام بھی کرتی ہے ۔ہمارے حالات بھی شدت سے اس بات کے متقاضی ہیں۔     
    

ہمیں تو شرم آتی ہے




قاسم سید 
بے بسی کا کوئی چہرہ نہیں علامات ہوتی ہیں، جب حد سے گزرجائے تو قہردرویش برجان درویش بن کر سر کے بال نوچنے لگتی ہے۔ دانتوں سے انگلیاں چبانے لگتی ہے۔ زندگی سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تدابیر بتاتی ہے ۔ بندہ مومن آنکھوں میں لہو بھرکر اپنا مقدمہ رب کے حضور رکھ دیتا ہے۔ عمل سے جی چرانے ولے اسے تقدیر کا حصہ بتاکر خود سے مطمئن اور اپنی ذمہ داریوں سے آزاد ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بے بسی تنہا ذات میں سمٹی ہوتی ہے۔ کبھی اداروںوجماعتوں پر محیط ہوتی ہے۔ کہیںضرورت ہے کہیں مصلحت۔ کہیں حکمت عملی کہیں مفاد کی ترجمان۔ کہیں سیاست کہیں منافقت کہیں اداکاری تو کہیں ریاکاری ،بے بسی حد سے بڑھتی ہے تو ذہنی غلامی کے ساتھ نظریاتی غلامی میں قید کردیتی ہے۔
کوئی سوچ بھی نہیں سکتاتھا کہ 70سال کی سیاست تین سال کی سیاست کے مقابلہ میں گھٹنے ٹیک دے گی ۔مظلوم طبقات کی حمایت اس خوف سے نہیںکی جائے گی کہ منہ بھرائی کا الزام لگ جائے۔ سیکولرازم ایک گالی بن جائے گا اور جمہوریت کے مقابلہ میں جمہوری فاشزم کی باتیں کی جانے لگیں گی۔ نان ایشوز قومی سیاست کا محوربن جائیں گے اور ایشوز کوڑے دان میں ڈال دئیے جائیں گے۔ آئینی اداروں کی بنیادیں کھوکھلی کردی جائیں گی اور 70سال کی توانا جمہوریت وسیکولرازم کے شیر میمنہ بن جائیں گے ۔ اختلاف رائے کی آزادی کو ملک سے بغاوت اور غداری سے جوڑ دیاجائے گا۔ جارج بش کی پالیسی جو ہمارے ساتھ نہیںہمارادشمن ہے۔ کو قومی پالیسی کے طور پر متعارف کرایاجائے گا۔ فوج کا سربراہ شہریوں کو آگاہ کرے گا کہ ان کا فوج سے ڈرنا ضروری ہے اور یہ ڈر پیدا کیاجاناچاہئے فوج کو گائے کی طرح مقدس بنادیاجائے گا۔ اس کے طرز عمل پر تنقید کو دیش سے غداری سمجھاجائے گا ۔سول سوسائٹی کو دیوار سے لگانے کی سفاکانہ حکمت عملی کوسرکاروں کی ہمدردی حاصل ہوگی ۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والے سنگسار ہوں گے۔ مبینہ پتھرباز کو جیپ میں باندھ کر انسانی ڈھال بنانے کی نئی روایت کو فوج اور سرکار کی حمایت حاصل ہوگی۔ انسانی بنیادی حقوق پر سوال اٹھنے لگیں گے۔ گئو ماتا کی عصمت وعزت کو انسانی جان پر ترجیح دی جانے لگے گی۔ اس کی اسمگلنگ پر قومی سلامتی ایکٹ اور گینگیسٹر ایکٹ لگایاجائے گا۔ گائے کے نام پر اخلاق، نوشاد،پہلو خان سڑکوں پر مارے جائیں گے اور ان کو ہی ملزم بنایاجائے گا۔ پورے ملک میں خوف ودہشت کا ایسا ماحول بن جائے گا کہ لوگ ایک دوسرے پر شبہ کرنے لگیں اور اپنے سایہ سے بھی دہشت محسوس کریں۔ گائے ،کشمیرفوج،طلاق ثلاثہ اور پاکستان میں الجھی سیاست ہماری بے بسی کی داستان ہے۔ آپ گائے کے ساتھ ہیں یا نہیں ۔ فوج کو مقدس مانتے ہیں یا نہیں۔ کشمیری پتھر بازوں پر گولیاں چلانے کے حق میں ہیں یا نہیں۔ پاکستان کو نیست ونابود کردیناچاہئے یا نہیں جیسے سوالات ہر وقت پیچھا کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں کوئی دلیل نہیں۔ صرف سرکا اشارہ درکارہے اگر جواب ہاں ہے تو آپ حب الوطنی سے سرشار اور دیش بھکت ہیں بصورت دیگر غدار اور دیش دروہی،پھر آپ کا فیصلہ بھیڑتنتر کرے گا کسی بھی چوراہے پر یامصروف سڑک پر گھیر کر پٹائی کی جاسکتی ہے ،کلبرگی کی طرح جان سے ہاتھ دھونا پڑسکتے ہیں۔ مارنے والے قاتل نہیں بھگت سنگھ کہلائیں گے وہ گوڈسے نہیں مہاتماگاندھی کے اوتار ہوں گے۔ کیونکہ دیش دروہیوں کو جینے کا کوئی حق نہیں۔ سماجی درندگی پر سکوت ہماری بے بسی کو ظاہر کرتا ہے ورنہ افضل گینگ اور برہانی گینگ کا حصہ بنادیاجائے گا۔ مودی بھکتی کو راشٹر بھکتی سے جوڑنے کی خاموش کوشش،گائے کے بہانے ہندوستانی معاشرہ پر جبری ثقافت تھوپنے پرخاموشی، گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ ہماری بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مذہب کے نام پر غنڈہ گردی کا دفاع بے حد خطرناک اورلا قانونیت اور سماجی انتشار کی طرف لے جارہا ہے جو آگے چل کر خانہ جنگی میں بدل سکتا ہے۔ ظالم کے عمل پر سکوت اور مظلوم کی حمایت میں تذبذب خوف وبے بسی کا ہی عکاس ہے ۔ بھیڑ کا خوف اعصاب پر مسلط ہوگیا ہے اور بھیڑ تنتر کا دائرہ لگاتار بڑھتا جارہا ہے۔ اس سے ملک کا کوئی حصہ محفوظ نہیں۔ پاگل بھیڑجسے دیش بھکتی کا انجکشن دیاگیا ہے ہر جگہ موجود ہے سڑکوں پر، تھانے کے باہر،عدالت کے باہر جو لوگ اس کی پشت پر ہیں وہ خوف ودہشت کو پال پوس رہے ہیں۔ تین سال میں ایسا وقت آگیا کہ آدمی سے زیادہ مقدس جانور سے ڈرلگنے لگا۔کیا ہم انہیں کریڈٹ نہیں دیناچاہیں گے۔ صرف تین سال کی مختصر مدت اقتدار کی ہے لیکن اس کے پیچھے دہائیوں کی محنت،ذہن سازی کی مشقت ہدف کے لئے سب کچھ قربان کردینے کا جذبہ ہے اور انہی قربانیوں کے فواکہات وثمرات ہیں، اسے نظرانداز نہیں کرناچاہئے۔ انہوںنے اپنے ارادوں کو کبھی چھپایانہیں۔ ان کے یہاں مزاحمت اور مخالفت توکجا اختلاف تک کی گنجائش نہیں ہے۔ چنانچہ مزاحمتی آوازیں جو کنہیا اور ہاردک کی شکل میں ابھریں غداری کے مقدمات سے گذر گئے چندر شیکھر آزاد جودلت نوجوانوں کی نئی آواز ہے اسے بھی نکسلی تحریک سے جوڑدیاگیا۔ اس سے قبل ذاکر نائک کو دہشت گردی کی علامت بناکر بدنام ذلیل ورسوا کردیاگیا اور جرم ثابت ہونے سے قبل ہی مجرم سمجھ لیاگیا۔ یہ ان کی کامیابی اور ہمارے مہذب سماج رسوائی وشکست ہے۔ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ان دعوئوں اور الزامات پر بھروسہ کریں اور حب الوطنی کی صف میں کھڑے ہوکر اپنی جاں بخشی کرالیں۔
ملی سطح پر بھی اس مجبوری وبےبسی کے دور سے گذررہے ہیں۔ اپنی ذات اپنی تنظیم کو محفوظ رکھنے کی بے بسی،اپنے اداروں کو بچاکر رکھنے کی مجبوری اسے کوئی نام دیں مگرڈر ہمارے عمل سے ظاہر ہوتا ہے جب خادم حرمین شریفین وزیراعظم ہند کو اپنے ملک کا اعلی ترین سول اعزاز دیتے ہیں تو مودی جی کو منہ بھرکوسنے والے اس پر خاموش رہتے ہیں۔ ان کی بے بسی قابل فہم ہوتی ہے اسی طرح جب شاہ سلمان اسلام اور مسلمانوںکے خلاف دشمنی کی مہم چلاکر اقتدار میں آنے والے ڈونالڈٹرمپ کو یہی اعزاز بخشتے ہیںتو ٹرمپ کی پالیسیوں کے کٹر مخالف ان کے اسلام دشمنی پر مبنی اقدامات پر سخت نکتہ چینی کرنے والوں کے پاس قوت گویائی ختم ہوجاتی ہے۔ جب اسلامی وعرب ممالک کی کانفرنس میں ٹرمپ کی شاہانہ پذیرائی اورانعام واکرام کی بارش کی جاتی ہے توزبانیں کچھ بولتی نہیں۔ اس کی وجوہات پر روشنی ڈالنے کی ضرورت نہیں۔ بے بسی کے تالے صاف نظرآجاتے ہیں۔ حال ہی میں ایک چھوٹے سے کمزور ملک قطر کے خلاف بعض عرب حکمرانوں نے ناکہ بندی کا اعلان کیا اس پر حیرت انگیز طور پر دہشت گردی کا الزام لگایا محض اس لئے کہ وہ حماس اوراخوان کا دفاع کرتا ہے۔ میڈیاپر جبری پابندیاں نہیں لگاتا۔ اس سے سارے رشتے منقطع کرلیتے ہیں۔ آمدورفت کے تمام ذرائع بند کردیئے جاتے ہیں ۔ ٹرمپ اس کاکریڈیٹ لیتے ہیں۔ اور یہ کام رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں کیاجاتا ہے۔ قطر کا گناہ اتنا بڑا تھا کہ عالم اسلام کے ’نئے قائد ‘کے حکم پر فوری تعمیل ضروری تھی۔ اس کے منظر پس منظر کو سمجھنے کے باوجود اگر ہمارے ادارے تنظیمیں اور قائدین باتمکین خاموش ہیںاورکوئی ردعمل ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہیں تو اس کے پیچھے ان کی بے بسی کے اسباب طشت ازبام ہیں۔
کوئی عالم دین مودی کے ساتھ یوگا کی خواہش ظاہر کرتا ہے اور دعوت کا منتظر ہے تو اس کے پیچھے مجبوری وبے بسی کا عنصر سمجھ میں آسکتاہے۔ اگر کوئی مسلم رہنما یوگی کی طرف سے افطار پارٹی نہ کرنے کے فیصلے کو سیکولرازم کمزور ہونے سے جوڑتا ہے تواس کی جھنجھلاہٹ اور بے قراری میں پوشیدہ بےبسی ومجبوری کو سمجھاجاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کی کوئی حدطے کرلی گئی ہے۔ اس ملک میں کوئی طوفان آنے والا ہے جس کے آثارہیں تو کیا ہم خود کو بچا پائیں گے جبکہ طوفان کی زد میں ہمارا ہی ٹھکانہ ہے۔ بے بسی کی اس چادر کو اتارپھینکنے کا وقت اور حد طے کرناضروری ہے۔ ہم خیرامت ہیں۔ ہم پر سماج اور ملک بچانے کی مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ ورنہ بے بسی کے مظاہرے خوارکرنےکے ساتھ تاریخ کا حصہ بھی بنادیں گے۔ کیا ہمیں اپنی بے بسی پر شرم آتی ہے ہمیں توآتی ہے۔
qasimsyed2008@gmail.com

ہندوراشٹر کی بھٹی میں جلتا اتر پردیش



نہال صغیر

عام طور پر ہندو راشٹر کا جب معاملہ اٹھایا جاتا ہے تو اس کے مد مقابل مسلمانوں کو پیش کیا جاتا ہے کہ ہندوراشٹر میں مسلمانوں کی حالت دوسرے درجہ کے شہریوں کی ہوگی ۔لیکن سہارنپور سمیت ملک کے طول و ارض میں ہورہے دلتوں کے خلاف حملوں سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہندو راشٹر کا اصل نشانہ دلت ہی بنیں گے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ برہمنوں نے دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کو جو یہاں کے اصل باشندے ہیں، کو تقریبا تین ہزار سال سے اپنا غلام بنا رکھا ہے ۔لیکن انگریزوں کے آنے کے بعد کئی قوانین ایسے بنے جس سے انہیں زندگی کے کئی شعبوں میں آگے بڑھنے کے مواقع ملے ۔اس سے قبل مسلمانوں کی آمد سے دلتوں کو یہ بھی معلوم ہوا کہ دنیا میں ایک ایسے مذہب کا ظہور بھی ہوا ہے جس کے نزدیک دنیا کے سارے انسان ایک جیسے ہیں ۔وہاں کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہے ۔مسجد میں ایک ہی صف میں محمود و ایاز کھڑے ہوجاتے ہیں آقا و غلام کا فرق معدوم ہو جاتا ہے۔اس سے وہ مسلمانوں کی طرف جھکےآج ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی انہی دلتوں رہین منت ۔لیکن مسلمانوں نے بھی کوئی خاص کارنامہ انجام نہیں دیا ۔اگر مسلمان پوری تندہی کے ساتھ اسلام کے مساوات کے سبق کو اپنی زندگی میں اپناتے تو یقینا آج مادر وطن میں ساڑھے تین فیصد سے زیادہ ہندوئوں کی آبادی نہیں ہوتی ۔یہاں جتنے اہل توحید پائے جاتے ہیں وہ سب ازخود اسلام کے مساوات سے واقف ہو کر مسلمان ہوئے ۔یہ کارنامہ تھا شروعاتی دور میں عرب مسلمان تاجروں کے عملی مسلمان ہونے کا اس کے بعد کچھ حد تک بزرگان دین کی کاوشیں ہیں ۔لیکن اس کے باجود مسلمان پوری طرح مسلمان نظر آنے کے بجائے یہاں کی تہذیب میں پوری طرح رنگ گئے ۔انہوں نے بھی یہاں کے پسماندہ طبقات کیساتھ وہی سلوک کیا جو برہمن کرتے تھے ۔آج بھی بعض مسلمان اس غرور سے نہیں نکل پائے ہیں ۔انہیں آج بھی اسلام سمجھ میں نہیں آیا کہ اب بھی اس بری حالت میں اسلام کے مساوات کی تعلیم پر عمل پیرا ہوتے اور یہاں کی آبادی کو اپنے کردار و عمل سے متاثر کرتے تاکہ ان کے خلاف اٹھنے والی آواز ختم ہو جاتی یا کمزور ہو جاتی ۔
بہر حال سہارنپور سمیت پورے ملک کے حالات میں گرچہ گرمی مسلمانوں کے خلاف محسوس کی جارہی ہے اور ایک قلیل سا طبقہ ہے جو اسے ہوا دینے میں مصروف ہے ۔لیکن اس کا اصل ہدف دلت و پسماندہ طبقہ ہی ہے ۔آج بھی اگر آپ غور سے دلتوں کے خلاف جرائم پر غور کریں گے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ مسلمانوں سے زیادہ دلتوں پر سورن ہندوئوں کی جانب سے مظالم ڈھائے جاتے ہیں۔ دلتوں کو آج بھی وہ تذلیل سہنا پڑتی ہے جو مسلمانوں کے ساتھ رویہ اپنانے پر کسی کے بھی پسینے چھوٹ جائیں ۔ آج بھی یہ خبریں آتی ہیں کہ دلت دولہے کو گھوڑی سے اتار کر مارا پیٹا گیا ۔اس قسم کے واقعات راجستھان اور مدھیہ پردیش میں عام طور پر ہوتے ہیں ۔سہارنپور میں بھی دلتوں کی بستیوں کے ساتھ ٹھاکروں نے وہی کیا جو وہ برسوں سے کرتے آئے ہیں ۔معمولی سے ہنگامے کے بعد ان کی بستیاں جلادی گئی اور ان کے بچوں اور خواتین کو مارا پیٹا گیا ۔اس مظالم کے خلاف ان کی تنظیم بھیم آرمی نے احتجاجاًایک میٹنگ بلائی تو اسے بالجبر روکا گیا ۔پوری انتظامیہ اس کوشش میں رہی کہ کسی بھی طرح دلتوں کو اکٹھا نہیں ہونے دیا جائے اور ان کو اسقدر ہراساں کیا جائے کہ وہ اپنے خلاف ہونے والے مظالم کے خلاف احتجاج بھی نہ کرسکیں ۔بھیم آرمی جس کا وجود ہی اس وجہ سے ہوا کہ وہ دلتوں اور پسماندہ طبقات پر ہورہے مظالم کے خلاف آواز بلند کرے اور اونچے طبقہ کے ہندوئوں کو ان کی ہی زبان میں جواب دے ۔ویسے بھی ہمارے ملک میں آج کل اسی کی زبان میں جواب دینے کا سلوگن زبان زد خاص و عام ہو چکا ہے ۔یہ ہے سلوگن مودی جی کی مہربانی سے ہے ۔سہارنپور کے اس گائوں میں جہاں فساد پھیلا اور جس نے دلتوں کے درجنوں گھروں کو آگ کی نظر کردیا ۔اب سنگھی اور یوگی کی حکومت بھیم آرمی کے نام پر دلت بچوں کو ہراساں کررہی ہے ۔ٹھیک اسی طرح جس طرح مسلمانوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے ۔فسادات میں نقصان بھی مسلمانوں کو اور جیلوں میں ٹھونسا بھی انہی کو جاتا ہے ۔یہ ہے مودی اور یوگی کی رام راجیہ کی اصل حقیقت جو اب اہل یوپی جاگتی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔اگر یہ مان لیا جائے کہ مرکز میں مودی اور یوپی میں یوگی کی کامیابی ای وی ایم مشین کی نہیں بلکہ عوامی ووٹ کا کمال ہے تو بھگتنا بھی انہی کو ہوگا جنہوں نے تبدیلی کی چاہ میں انہیں اعلیٰ عہدہ تک پہنچایا ۔جنکے شخصی خاکوں میں سوائے مجرمانہ سرگرمیوں کے اور کچھ بھی نہیں ہے ۔جنہیں محض اس لئے نوازا گیا کیوں انہوں نے مسلمانوں کو سبق سکھایا تھا۔
آر ایس ایس اور بی جے پی کے لئے سہارنپور گلے کی ہڈی بن گیا ہے ۔انہیں نہ نگلتے بنتا ہے نہ ہی اگلتے ۔جائیں تو بیچارے کہاں جائیں ۔ان کی بہت کوشش ہے کہ کسی بھی طرح سہارنپور فساد کا ٹھیکرا مسلمانوں کے سر پھوڑ دیا جائے ۔پر ان کی کامیابی کے آثار کم ہی دکھائی دے رہے ہیں ۔ہائی وے پر مسلم خواتین کی آبرو ریزی بھی اسی کا ایک حصہ تھا ۔اب وہ کہیں سے ایک نام لیکر آئے ہیں کہ بھیم آرمی کو فنڈنگ کسی حاجی اقبال نے کی ہے جو کان کنی کے مافیا سے تعلق رکھتے ہیں ۔یہ انکشاف بھی صرف سدرشن ٹی وی ہی کررہاہے۔کچھ آر ایس ایس والے اور مودی بھکت اس کوشش میں بھی ہیں کہ کسی طرح دلتوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا دیں اس کیلئے وہ سہارنپور میں کسی چوراہے پر امبیڈکر کی مورتی کے خلاف مسلمانوں کے احتجاج کی خبر زور شور سے اٹھارہے ہیں ۔یہ ساری کوششیں ان کی ناکام ہو گئیں ۔کیوں کہ بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد کے دست راست ونئے رتن نے اس کو خارج کیا کہ یہ سب کچھ صرف آر ایس ایس کو ہی نظر آتا ہے ۔یہ سب کچھ صرف اس لئے پھیلایا جارہا ہے تاکہ مسلمانوں اور دلتوں کو آپس میں لڑایا جائے ۔یعنی آر ایس ایس اور بی جے پی کا مسلمانوں کو دلتوں سے لڑانے کا منصوبہ ناکام ہوتا نظر آرہا ہے ۔ان کی یہی کوشش رہتی ہے کہ یہ مسلمانوں کے خلاف ماحول بنا کر ملک میں فرقہ وارانہ حالات کشیدہ کئے رہیں اور اس کی آڑ میں اپنے برہمنی ایجنڈے کو نافذ کرتے جائیں جس میں ساڑھے تین فیصد کی آبادی ساڑھے چھیانوے فیصد آبادی کو غلام بنا کر رکھے ۔ جیسا کہ مسلمانوں کی آمد سے قبل تھا اور جس کا خاتمہ انگریزوں کی آ مد کے بعد ہو گیا ۔یہی سبب ہے کہ دلتوں کے حقوق کیلئے لڑنے والے شاہو مہاراج نے جنگ آزادی ہند میں حصہ نہیں لیا۔بال گنگا دھرتلک کی تنقید پر انہوں نے کئی بار اس بات کا اعادہ کیا کہ ہمارے سامنے سماج کے اس طبقہ کیلئے سب سے پہلے سماجی آزادی اور عزت و احترام حاصل کرنا ترجیحی ہے جس کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا ، اس کے بعد ہم انگریزوں سے ملک کی آزادی کی بات کریں گے ۔ہمارے لئے سبق یہ ہے کہ ہم سہارنپور میں جو نئی دلت سیاست کا میدان بننے جارہا ہے اس کیلئے کیا کرسکتے ہیں ۔ان کی مدد کس طرح کرسکتے ہیں ۔اسلام نے جو مساوات کا درس دیا ہے اس کو ہم یہاں کس طرح نافذ کرسکتے ہیں اور نبی ﷺ نے مدینہ آنے کے بعد جو مختلف اقوام سے سمجھوتے کئے اس کی روشنی میں موجودہ حالات میں ہمارے سامنے کیا راستہ نکلتا ہے ۔

کچھ درد سوا ہوتا ہے


قاسم سید
  
رمضان المبارک کی خوبصورت ساعتوں میں یہ سوال چپکے سے سراٹھاتاہے کہ ہماری دعائوں میں کیا اثر نہیں رہا  سجدے کرنے والے بڑھ گئے اوارادوظائف کرتے نہیں تھکتے ، صدقہ وخیرات کرنے والے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ صاحب استطاعت زکوٰۃ بھی نکالتے ہیں ،قطب الاقطاب بھی کہیں نہ کہیں موجود ہیں،چلہ کشی ہورہی ہے ۔ اللہ کی راہ میں تبلیغ کے لیے وقت دیتے ہیں ۔ ماہ رمضان میں روزے رکھنے والوں میں اضافہ ہورہا ہے مسجد یں نمازیوں سے بھری رہتی ہیں ،حج بھی کرتے ہیں عمرہ کاشمار کیا،وعظوں ،خطبوں میںسوزوگداز کی کیفیات بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں اللہ ہو کی ضربیں آسمان تک جاتی ہوں گی۔ اللہ سے اپنے گناہوں کی گڑگڑاکرآنسو ئوں سے بھیگے چہرے لیے معافی مانگتے ہیں۔ شب قدر میں اپنی نجات تلاش کرتے ہیں ،مسائل کے حل کے لیے جھولی پھیلاتے ہیںبھیگی سسکیوں کانذرانہ پیش کرتے ہیں روروکر حال دل سناتے ہیں ۔ ہم تو اللہ اور اس کے رسول کے سچے دل سے ماننے والے ہیںپھر بھی آزمائشوں کی دلدل میں کیوں دھنستے جارہے ہیں ،کیادعائیں بھی روح سے خالی ہیں کیا ہم بدترین قسم کی منافقت میں تو مبتلانہیں ہیں کیا صرف دعائوں کے چپوسے طوفان میں پھنسی کشتی پار لگاناچاہتے ہیں دعائیں خودغرضی ومفاد پرستی کی کیچڑمیں لتھڑی ہوئی تونہیں ،کیا یہ بات سچ ہے کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں لیکن اللہ کی نہیں مانتے ۔ رسولؐکو مانتے ہیں رسول ؐ کی نہیں مانتے ہیں،قرآن کو مانتے ہیں قرآن کی نہیں مانتے ہیں ،صحابہ کرامؓکو مانتے ہیںصحابہ کرام ؓکی نہیں مانتے،استاد کو مانتے ہیں استاد کی نہیں مانتے، والدین کو مانتےوالدین کی نہیں مانتے،دعائیں کرتے ہیں مگر دعا کی قبولیت کے وسائل ساتھ نہیں ہوتے ہیں ۔ اللہ کے حضور مناجات کرتےہیں مناجات سے قبل کئے جانے والے کام نہیں کرتے،  صرف دعائوں کے سہارے زندگی کو کامیاب دیکھناچاہتے ہیں ،اللہ ورسولﷺ کے احکامات کامذاق اڑانے سے گریز نہیں ،قدم قدم پر نافرمانیاں ،حکم عدولیاں ،سرتابیاں ،سرکشیاں بداعمالیاں بے ادبیاں اورپھر جملہ حقوق اپنے نام رکھنے کی خواہش ۔تاریخ نے انہیں لوگوں کو ماتھے کا جھومر بنایاہے جو اس کو زیر کرنے کے لیے پہلے بھرپور وسائل مہیا کرتے ہیں اور اس کے بعد معاملہ رب کے حوالہ کرتے ہیں۔فرانسیسی کمانڈر ژواین ویل نے 13ویں صدی میں ہلال وصلیب کے ایک معرکہ کی سرگزشت بیان کی ہے جو آنکھیں کھولنے والی ہے یہ وہ وقت تھا جب مسیحی دعائوں سے اور مسلمان جدید وسائل سےلیس ہواکرتے تھے ایک لڑائی کے دوران جب مصری فوج نے منجنیقوںسےآگ برسانی شروع کی توفرانسیسی حیران وپریشان تھے کہ کیا کریں اور بچنے کا کونسا طریقہ اپنائیںژاوین کے مطابق لارڈوالٹرایک اچھانائٹ تھا اس نے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں زندگی کا سب سے بڑا خطرہ درپیش ہے اگران بر جیوں کو نہ چھوڑا اور مسلمانوں نے ان میں آگ لگادی تو ہم جل کر مرجائیں گے ان برجیوں کو چھوڑتے ہیں تو اس سے ہماری بڑی بے عزتی ہوگی ایسی حالت سے صرف خداہی بچا سکتا ہے۔ میرامشورہ ہے کہ جیسے ہی مسلمان فوجی آگ کے گولہ پھینکیں آپ سب گھٹنوں کے بل جھک جائیں اپنے نجات دہندہ خداوندسے دعامانگیں کہ وہ اس مصیبت میں ہماری مدد کرے۔اس نے فرانسیسی بادشا ہ لوئس کے بارے میں بھی لکھا ہے کہ جب منجنیق سے آگ کے گولے پھینکے جانے کے بعد سپاہیوں کی چیخ وپکار سنائی دیتی تو ہماراولی صفت بادشاہ روتے ہوئے دست دعا بلند کرتا کہ خدائے مہربان میرے آدمیوں کی حفاظت فرما،اس جنگ کا نتیجہ کیاہوا،خدانے کس کی مدد کی کون جیتا یہ کھلارازہے۔اس کے بعدزمانہ نے کروٹ لی،یوروپ نے سبق سیکھا جہالت سے باہرآیا ۔ ضعیف الاعتقادی ترک کرکے معقولیت وحقیقت پسندی کا راستہ پکڑا جبکہ طائوس ورہاب کی مستیوں میں ڈوبے مسلمان ایام زوال میں دواکی بجائے صرف دعا پربھروسہ کرنے لگے۔ ظاہر ہے کہ ڈاکٹر کتنا بھی اچھا ہوا اگروہ مریض کی سنگین کیفیت دیکھ کر دعا کرنے کا مشورہ دے اور دوا دینے کی ضرورت نہ سمجھے تو مریض کا کیا حشر ہوگا ۔ اٹھارہویں صدی میں جب نپولین  نے مصر پر یلغار کی تو مسلمانوں کے فرمانروا مراد بک نے تمام علمائے کرام کو جامع ازہر میںجمع کیا اور ان سے مشورہ کیا کہ دشمن کے حملہ سے بچنے کے لیے کیادفاعی حکمت عملی اختیار کی جائے ۔ تمام جیدعلمائے کرام نے متفقہ رائے دی کہ صحیح بخاری کاختم کراناچاہئے چنانچہ خوش الحان صحیح بخاری کا ورد کررہے تھے۔ ختم پاک کی تقریب مسعود ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ نپولین کی فوجیں شہرمیںداخل ہوگئیں۔ شیخ عبدالرحمٰن الجبرتی کے مطابق اہرا م کی لڑائی کے بعد انیسویں صدی کے اوائل میں جب روسیوں نے بخارا کا محاصرہ کررکھا تھا توامیر بخارا نے رعایا کو دشمن کامقابلہ کرنے کے لیے باہر نکلنے کی بجائے شاہی فرمان جاری کیا کہ مدارس ومساجد میں ختم خواجگان کااہتمام کیاجائے تاکہ ملک پر حملہ آور بلائیں دفع ہوجائیں جیسے جیسے روسیوں کی قلعہ شکن توپوں کی گھن گرج میںاضافہ ہوا ختم خواجگان کے لیے جمع ہونے والوں کی آوازیں بلند ہوتی گئیں لیکن مشینوں کی اس جنگ میں کون ہارا اور فتح کس کا مقدر بنی بتانے کی ضرورت نہیں۔بغداد میں بھی یہی ہوا جب چنگیزخان کی افواج بغداد کے دروازے پر دستک دے رہی تھیں علمائے کرام لایعنی فقہی موشگافیوں سے ایک دوسرے کا سرپھوڑ ے رہتے تھے۔ خلیفہ کوخان کے حضور ہتھکڑیوں میں پیش کیاگیاتو اس نے سونے واشرفی کی تھالوں کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ اگر تو نے یہ دنیا جمع نہ کی ہوتی تو ہم آج یہاں نہیں ہوتے پھر اسے ہاتھیوں سے کچلنے کاحکم دیا۔ ایسے بہت سارے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے جنگیں صرف دعائوں کے سہارے نہیں جیتی جاتیں اور نہ ہی بدعائوں اور کوسنوں سے توپوں میں کیڑے پڑتے ہیں۔ دعائیں ڈھال بنتی ہیں پہلے مریض کو مطلوبہ دوادی جاتی ہے اسے بیماری سے نجات دلانے کی تراکیب آزمائی جاتی ہیں اورپھر دعائوں کا سہارالیاجاتا ہے ۔ حضور اکرم ؐ نے میدان بدرمیں ساری حربی وافرادی قوت جمع کرکے اللہ تعالیٰ کے حضوردعافرمائی ۔اللہ تعالیٰ نے غیب سے مدد فرمائی اور فتح مسلمانوں کو ملی۔ موجودہ حالات سے ہر شخص تشویش میں مبتلا ہے صرف ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا میں اسلام اور مسلمان نشانے پر ہیں اور دفاعی پوزیشن میں ہیں ایسا لگتا ہے کہ دسترخوان بچھاہے اور بھوکوں کی یلغارہے سب بری طرح ٹوٹ پڑے ہیں ۔ مال غنیمت ہے کہ لوٹ مار مچی ہے جو جتنا چاہے ماردیتا ہے اور بعد میں اظہارمعذرت بھی کردیتا ہے کہیں القاعدہ کے نام سے تو کہیں آئی ایس کے حوالہ سے مارنےاورمرنے والے دونوں کلمہ گوکہے جاتے ہیں ایک بحث ختم نہیں ہوتی کہ دوسری شروع ہوجاتی ہے ۔ مظلومین کی فہرست طویل ہوتی جارہی ہے ۔ مذہبی ومسلکی تعصب کسی بہتر سوچ کے لائق نہیں چھوڑتا ،بے یقینی ،بے ثباتی ،تشکیک ابہاما ت ،تضاوات ہرمعاملہ میں وہم وظن ،التباس اور اختلاف کی صورتیں تلاش کرلی جاتی ہیں ۔ مثلاً ایک نشست میں تین طلاق کی بحث سے نجات ملی تو تراویح 8ہوتی ہیں یا بیس پرمعرکہ آرائی شروع ہوگئی دونوں حق پر ہیں اور دونوں کے پاس بھاری بھرکم دلائل ، دونوں کا قرآن وحدیث سے استدلال یعنی دین فروعات میں الجھ گیا اور اصل دین پس پشت چلاگیا جنگ وجدال نہ ہوتو اس کے بہانے تلاش کرلیے جاتے ہیں جب کسی کے پاس مثبت مشعلہ نہ ہو تو ایسے مشاغل ڈھونڈلیتا ہے ،اقتدار کاخمار، مقبولیت کی انتہا،ناموری کا جنون اور چاہے جانے کی خواہش نے ذاتی پرخاش کینہ وبغض مفاد ات اورجماعتی تعصبات جیسے اوصاف نے امت کونیم جاں کردیا ہے۔ قرآن نے کامیابی کا واضح تصور پیش کردیا ہے اس میں کوئی قیل قال نہیں ۔ انتم الاعلون ان کنتم مومنین ’’تم ہی سر بلند رہوگے اگر تم مومن ہو یعنی سربلندی اور اقتدار کے لیے مومن ہونا ضروری ہے ۔کبوتر کو بازکے گھونسلہ میں رکھ کر اس میں با ز کی صفات پیدا نہیں ہوسکتیں اس لیے جب بھی اللہ کے حکم سے بغاوت کریں گے ذلیل ورسوا ہوں گے ۔ ناکامی ونامردای مقدر ہوگی ۔ صرف اس کا نام لینا اس کی وفاداری کادم بھرناکافی نہیں ۔ اللہ اور اس کے رسول ؐ کو ماننے کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی ماننی ہوگی اور صرف زبان سے ورد کرنا اور دعویٰ کرناہی کافی نہیں ہے عملی زندگی سے ثابت کرناہوگا ورنہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا ہے وہ اپنے دین کے غلبہ کے لیے دوسری قوم وگروہ تلاش کرلے گا ۔ کاش ماہ رمضان بھولے سبق کو یاد کرادے۔

qasimsyed2008@gmail.com

قیام امن کی کوشش :مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی !



نہال صغیر
امن و امان کسی بھی قوم ملک یا فرقہ کی ترقی کیلئے بنیادی ضرورت ہے ۔اس کے بغیر ترقی ناممکن ہے ۔پوری مشنری بد امنی کا شکار رہے گی تو ترقی کی جانب کون دھیان دے گا ۔میرے خیال میں وہ دیوانہ ہی ہوگا جو امن کی کسی بھی مساعی کو اہمیت نہ دے یا اس کی سرے سے ضرورت ہی محسوس نہ کرے ۔ فی الحال جس صدی سے ہم گزر رہے ہیں وہ اکیسویں صدی کی اطلاعاتی تکنیک کے انقلاب کی صدی بھی ہے ۔لیکن اس صدی نے انسانوں کو جتنی بد امنی کا شکار بنایا ہے ۔شاید دنیا کی تاریخ میں اتنی امن سے خالی صدی کوئی نہیں رہی ہوگی ۔اسلام کی آمد سے قبل کے عرب بد امنی اور قانون شکنی کے لئے مشہور ہیں ۔جبکہ اس زمانہ میں تو سرے سے کسی قانون کا وجود ہی نہیں تھا نہ ہی کوئی آزاد حکومت تھی جس کے سایہ میں کوئی باضابطہ نظام ہوتا ۔موجودہ دور میں تو دو سو سالہ جمہوریت اور سیکولرزم کا دور دورہ ہے ہر چہار جانب اسی کے چرچے ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ یہ قانون کی حکمرانی کا زمانہ ہے اور اس کی محافظ جمہوری نظام حکومت ہے ۔جہاں ہر طرح کا شعبہ اپنا کام آزادانہ طور پر کام کررہا ہے ۔یہ باتیں ہم بڑے بڑے لیڈروں اور دانشور ٹائپ کے طبقہ اشرافیہ سے روز سنتے پڑھتے ہیں ۔لیکن فی الواقع کیا ایسا ہی ہے ؟اگر ایسا ہے تو پھر ہر جانب بد امن اور قتل و غارتگری کا ماحول کیوں ہے؟کیوں قتل ہونے والے کو پتہ نہیں ہے کہ وہ کیوں قتل کیا جارہا ہے اور نا ہی قاتل کو اس بات کا خیال ہے کہ وہ کیوں خون بہائے چلا جارہا ہے ؟ہم نے انہی دانشوروں اور اشرافیہ کے زبانی یہ بھی سنا تھا کہ قیام امن کیلئے انصاف بنیادی شرط ہے ۔یعنی بد امنی کی وجہ سیدھے طور سے یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ در اصل دنیا سے انصاف اٹھ گیا ہے ۔یہاں اب جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون نافذ ہے ۔لہٰذا جس کے ساتھ نا انصافی ہوتی ہے ۔وہ کچھ دنوں تو صبر کرتا ہے کہ شاید یہ ماحول بدل جائے ۔مقتدر لوگوں کے رجحان میں تبدیلی آجائے ۔لیکن شب غم ہے کہ کٹتی ہی نہیں ۔تشد داور ظلم و ناانصافی کا سایہ دراز ہوتا جارہا ہے ۔تب وہ فرد یا قوم علم بغاوت بلند کرتی ہے ۔یوں اب ہر طرف خونریزی اور افراتفری کا ماحول ہے اور دنیا امن کی ٹھنڈی چھاؤں کیلئے ترس رہی ہے ۔
ایسے ماحول میں بیس مئی 2017 کو ممبئی کے گورے گاؤں میں امن عالم کی خواہش اور اس کیلئے مساعی کے دعوے کے ساتھ ایک کانفرنس منعقد ہوئی ۔جس میں مصر و عراق سے بھی نمائندوں نے شرکت کی تھی ۔ اس سے ایک دن قبل پریس کے لئے جاری ایک دعوت نامہ میں مضمون کچھ اس طرح تھا ’’آئیسس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ اور ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے سبب’ عالمی قیام امن ‘ آپ سبھی کو ایک عظیم تقریب مدعو کرتی ہے ،جہاں وہ خطہ مشرق وسطیٰ میں امن و شانتی اور چین کیلئے گفتگو کریں گے ‘‘۔اس پروگرام کا دعوت نامہ تھا جس میں دہشت گردی مخالف فرنٹ کے ایم ایس بِٹاکے علاوہ سہیل خمانی (حاجی علی درگاہ کے ٹرسٹی)،مہاراشٹر اے ٹی ایس کے چیف اتل چندر کلکرنی اور بغداد سے تشریف لائے مولانا نصرت حسن نعیمی بھی موجود تھے ۔ امن کیلئے کوشش بہت ہی مبارک کام ہے اس کیلئے انسان کو جتنا ممکن ہو سکے اپنی زندگی کو کھپا دینا چاہئے ۔آج بھی بہت سارے لوگ اس کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں ۔مقامی ،قومی اور بین الاقوامی پیمانے پر افراد سے لے کر تنظیم اور حکومتی سطح پر اس کیلئے بھرپور کوشش کی جارہی ہے ۔لیکن امن کیلئے کوشش جتنی تیز ہو رہی ہے دنیا میں بد امنی اسی قدر تیزی سے پھیل رہی ہے ۔جیسا کہاوپر بتایا گیا اس بدامنی کی بنیادی وجہ ناانصافی اور ظلم ہے ۔اسے ختم کئے بغیر اور ہر کسی کو جینے دینے کے حق کو تسلیم کئے بغیر امن کا قیام دیوانے کے خواب ہی جیسا ہے ۔صرف امن کانفرنس اور اس کے لئے قراردادیں اور کسی خاص فرقہ یا قوم کو مورود الزام ٹھہرانے سے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔اب دنیا میں قیام امن کیلئے ایک ہی راستہ بچا ہے کہ اخلاص کے ساتھ ظلم و نا انصافی کا خاتمہ کیا جائے ۔پسماندہ اور محروم اقوام کے درد کا مداوا کیا اجائے ۔جب سب لوگ خوش ہوں گے کسی کو کسی سے کوئی شکایت ہی نہیں ہو گی ۔ایسے ماحول میں کیوں کوئی کسی کے خلاف نفرت کو دل میں لئے بھرے گا اور موقع ملتے ہی موت کا فرشتہ بن جائے گا ۔
دنیا کے ماحول کو خراب کرنے والے عناصر میں اول نمبر پر حکومت ہوتی ہے اور دوسرے نمبر پر وہ مقتدر اشخاص یا اقوام جو اپنے علاوہ کسی کو انسان تسلیم کرنے کے لئے راضی ہی نہیں ہیں ۔انہی کی ایسی انسانیت سوز سوچ کی وجہ سے ظلم کو بڑھاوا ملتا ہے ۔اس ظلم سے پسماندہ اور محروم اقوام و شخصیتیں ہر طرف سے مایوس ہو کر خود سے ہی انصاف پانے کی کوشش میں نہیں دیکھتے کہ کون سامنے ہے ۔وہ ظالم ہے یا عام انسان اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کچھ دیر قبل تک جو مظلوم تھا وہ ظالم بن جاتا ہے ۔اس ظالم بنے شخص یا قوم کا جرم جسقدر ہے اس سے زیادہ مجرم وہ معاشرہ ،نظام یا سوسائٹی ذمہ دار ہے جس نے اسے مجبور کیا کہ وہ بھی ظالم بن جائے ۔کیوں کہ اس کے بغیر اسے انصاف ملنے والا نہیں ہے ۔ تہلکہ کے سابق ایڈیٹر اجیت ساہی کہتے ہیں کہ حکومت اور داؤد ابراہیم کی دہشت گردی وہی فرق ہے جو کسی ٹھلے والے اور امبانی کے کاروبار میں فرق ہے ۔لیکن ہو یہ رہا ہے کہ حکومت کی دہشت گردی کی جانب سے چشم پوشی کی جاتی ہے جبکہ معمولی دھماکہ کرنے والے افراد کو بھی انتہائی خطرناک اور گھناؤنا بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔مطلب ایک دو لوگوں کو مارنے والے کو بڑا مجرم اور ہزاروں لوگوں کو مارنے والوں کو عہدے پیش کئے جاتے ہیں ۔مشرق وسطیٰ میں بڑھ رہی بے چینی اور جنگ کے ماحول کیلئے پہلے القاعدہ اور اب داعش کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے ۔اس پر بحث کرنے کا فی الحال وقت نہیں ہے کہ فی الحقیقت اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ہاں اتنا تو کہا ہی جاسکتا ہے کہ یہ افراتفری کیوں ہے ؟اگر بڑی طاقتیں کسی ملک میں بیجا مداخلت نہ کریں اور زبردستی کسی پر اپنی فکر تھوپنے کی کوشش نہ کریں تو کوئی اس کے خلاف احتجاج کو بھی کیوں کھڑا ہو گا ۔مشرق وسطیٰ میں بھی موجودہ افراتفری کی تاریخ کافی پرانی ہے ۔ استعماری قوتوں کو برائے نام قائم نظام خلافت بھی برداشت نہیں تھا کیوں مسلمان ان کے استعماری عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے ۔ان قوتوں نے خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے مسلم ملکوں کے حصے اپنے اپنے نام کرلئے ۔ اس کے جواب میں اخوان المسلمین نام کی جماعت ان سے مزاحم ہونے کیلئے سامنے آئی ۔اسے بھی پرامن طریقے ان قوتوں نے کام نہیں کرنے دیا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس میں سے کچھ لوگ الگ ہو کر بیس سالوں سے القاعدہ نام کی تنظیم سے دنیا میں مسلح جد جہد کیلئے نکل پڑے ۔امریکی دعووں کے مطابق ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے قتل کے بعد القاعدہ کے خاتمہ کیبعد داعش کو دنیا کے سامنے دہشت کی علامت کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ۔
داعش کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ اب اس کا وجود بھی خاتمہ کے قریب ہے ۔ویسے کبھی کبھی یہ بھی خبر دنیا میں پھیلائی جاتی ہے کہ داعش نے فلاں فلاں خطہ میں اپنی پکڑ مضبوط کرلی ہے ۔ہر لمحہ متضاد خبریں آتی ہیں ۔اس سے دنیا میں عوام میں شکوک و شبہات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے کہ یہ معاملہ کیا ہے ۔ایک طرف پچھلے چھ ماہ سے سے زائد سے حلب اور موصل کو داعش سے آزاد کرالینے کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو دوسرے ہی لمحے یہ خبر آتی ہے کہ ابھی موصل یا حلب کے ایک حصہ پر داعش سے جنگ جاری ہے ۔دنیا میں جس طرح پرپگنڈہ کیا جارہا ہے کہ داعش کو ختم کردیا گیا ہے تو پھر یہ پریشانی کیوں ہے کہ اس کے خلاف جگہ بجگہ کانفرنسیں کرکے امن کی اہمیت و ضرورت اور داعش کے چیلنج پر لمبی لمبی تقریریں اور دعوے پیش کئے جارہے ہیں کہ وہ امن کیلئے ایک خطرہ ہے ۔یہاں ہم صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ کسی خفیہ اور زیر زمین تنظیم کے بارے میں وثوق سے کوئی بات نہیں کہی جاسکتی ۔عام طور پر انہی خفیہ اور زیر زمین تنظیموں کی مدد سے مختلف ممالک اپنے خفیہ اداروں کے اشتراک سے اپنے مفادات کی تکمیل کرتے ہیں ۔یہاں بھی داعش کے معاملہ میں ایسا سب کچھ نظر آجائے گا ۔آخر صرف داعش کا ہی تذکرہ کیوں کیا جاتا ہے ؟ ملیشیا تو اور بھی ہیں ان میں نمایاں نام حزب اللہ کا ہے اس پر کوئی گفتگو کیوں نہیں ہوتی ؟بات یہ ہے کہ جس طرح وطن عزیز میں ایک مسئلہ چھیڑ کر عوام کو کسی اہم مسئلہ کیا جانب سے دوسری جانب موڑ دیا جاتا ہے ۔ٹھیک یہی معاملہ مشرق وسطیٰ کا بھی ہے کہ ایران اپنے توسیع پسندانی عزائم کی تکمیل کیلئے حزب اللہ کو استعمال کررہا ہے لیکن داعش کا پروپگنڈہ زور شور سے کرکے دنیا کی توجہ اس جانب موڑ کر خود کو امن کا حقیقی نمائندہ بننے کی کوشش کررہاہے ۔ہمیں کسی کی لے پر رقص کرنے سے پہلے حالات پر غور ضرور کرنا چاہئے ۔اور جیسا کہ معاملہ ہندوستان میں مسلم نوجوانوں کے داعش میں شمولیت کی بات تو یہ بھی محض مفروضہ ہے اور یہ بات تو دگ وجئے سنگھ بھی کہہ چکے ہیں کہ خفیہ ایجنسیاں فرضی اکاؤنٹ بنا کر نوجوانوں کو پھنسا رہی ہیں ۔اس کے علاوہ بری ہونے والے نوجوانوں کی آپ بیتی سے بھی پولس اور خفیہ محکمہ کی بد کاری ظاہر ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ ملکی یا بین الاقوامی سطح پر امن کیلئے کوئی مخلصانہ کوشش نہیں کی جارہی ہے ۔جو کچھ ہمیں نظر آرہا ہے وہ محض ڈرامہ ہے ۔ دنیا کے کسی بھی خطہ میں امن کی ایک شرط ہے قیام انصاف ،انصاف قائم کیجئے بدلے میں خود بخود امن کا قیام ہوگا۔لیکن ہر طرف ناانصافی اور ظلم کا دور دورہ اس لئے دنیا میں امن قائم ہونے کی بجائے مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی والا معاملہ ہے

عظمیٰ کا موت کے کنوے سے گھر واپسی کا راز!



عمر فراہی 
۔ ای میل: umarfarrahi@gmail.com

عظمیٰ موت کے کنوے سے گھر واپس آچکی ہے ۔ایسا عظمیٰ نے پاکستان سے واپسی کے بعد میڈیا کے سامنے بیان دیتے ہوئےکہا ہے ۔اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان جانا تو آسان ہے واپس لوٹنا بہت مشکل ۔ویسے یہ بات تو ہمیں 1947 سے ہی پڑھائی جارہی ہے کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے اور یہ ریاست بہت جلد ٹکڑوں میں بٹ جائے گی ۔پاکستان کے وجود میں آتے ہی کچھ بائیس سالوں کے بعد ایسا ہوا بھی اور پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوگیا لیکن اس کے باوجود وہ ہمارے لیئے خطرہ بنا رہا ۔اسی کی دہائی میں کشمیر اور افغانستان کی شورش کے بعد پاکستان میں ہونے والے دھماکوں کی وجہ سے اسے موت کا کنواں بھی کہا جانے لگا ۔کیا یہ بات عظمیٰ کو پتہ نہیںتھی ۔ یقیناٌ پتہ رہی ہوگی کیونکہ جس طرح پاکستانی بچوں کو ہندوستان سے نفرت کا درس دیا جاتا ہے ہمارے یہاں بھی اسکولوں میں پاکستان سے محبت کرنے کا کوئی سبق نہیں ہے اور یہاں جتنی بھی سیاسی پارٹیاں اقتدار میں آئی ہیں انہوں نے اپنی ناکامی کو چھپانے کیلئے ہمیں پاکستان سے ڈرا کر رکھا ہے ۔ ہوسکتا ہے ایسا ہی پاکستانی سیاستداں بھی کرتے ہوں کیونکہ دونوں نے سیاست کا سبق ایک ہی مکتب ،مکتب برطانیہ سے سیکھا ہے ۔لیکن کبھی کبھی دونوں ملکوں کے درمیان ایسے حالات اور واقعات بھی ہوجاتے ہیں کہ عوام جو فطری طور پر امن کی متلاشی ہے وہ ایک دوسرے کے قریب آکر ایک دوسرے کوسمجھنا چاہتی ہے۔بہت دور جانے کی ضرورت نہیں ہے ابھی ایک سال پہلے پاکستان کے ایک فلاحی ادارے ایدھی ٹرسٹ نے آٹھ سال تک گیتا کی پرورش کرکے اسے اس کے ہندو عقیدے کے ساتھ بھارت کو واپس کردیا۔اگر پاکستانی چاہتے تو ایک معصوم بچی کی ذہن سازی کرکے اس کامذہب تبدیل کروا سکتے تھے اور پاکستان میں ہی اس کی شادی ہوجاتی لیکن انہوں نے سرحد سے بھٹک کر آئی ہوئی سیتا کو رام کے دیش میں واپس بھیج دیا -مئی کے مہینے کی شروعات سے ہی اخبارات میں یہ خبر پڑھنے کو مل رہی تھی کہ بائیس سالہ دوشیزہ جس کا نام عظمیٰ ہے وہ پاکستان اپنے کسی رشتہ دار سے ملنے گئی تھی اور بندوق کی نوک پر کسی شادی شدہ چار بچے کے باپ طاہر علی سے اس کی جبراًشادی کروا دی گئی ۔اب جب وہ ہندوستانی سفارتخانے اور وہاں کی عدالت کی مدد سے وطن واپس ہوئی ہے تو اس کے بارے میں طرح طرح کی کہانیاں سامنے آرہی ہیں ۔لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب وہ اپنے رشتہ دار سے ملنے گئی تھی تو ساتھ میں اپنی بچی کو بھی کیوں نہیں لیکر گئی۔ وہ اپنے رشتہ دار کے یہاں ہی کیوں نہیں ٹھہری اور اس کے رشتہ داروں نے طاہر سے اس کی جبراً شادی کیوں ہونے دی ۔ہم نے بھی پہلے یہی سوچا تھا کہ شاید طاہر ہی اس کا رشتہ دار رہا ہوگا اور رشتہ داروں نے اس کی شادی کروا دی ہوگی لیکن ایسا کچھ نہیں تھا عظمیٰ نے خود راون کی لنکا اور موت کے کنوے سے محبت کی تھی ۔ فیس بک پر کسی نے انڈیا ٹوڈے میں شائع عدالتی کارروائی کے دوران اس کے شوہر اور نکاح پڑھانے والے مولوی کی گواہی کے حوالے سے لکھا ہے کہ عظمیٰ اور اس کے شوہر طاہر علی کی ملاقات دو سال پہلے ملیشیا میں کسی کمپنی کیلئے کام کرنے کے دوران ہوئی تھی اور یہ دونوں پہلے سے ہی ایک دوسرے سے آشنا تھے یا یوں کہہ لیں کہ دونوں میں اسی دوران سے آشنائی چل رہی تھی ۔عظمیٰ کو پتہ تھا کہ طاہر علی شادی شدہ اور چار بچے کا باپ بھی ہے ۔اس کے باوجود وہ اس کے ساتھ شادی کیلئے رضامند ہوگئی ۔عدالت میں طاہر علی نے اپنے وہاٹس پر ہونے والی گفتگو کا ریکارڈ بھی پیش کیا کہ عظمیٰ نے خود اس سے کہا تھا کہ اگر کبھی تمہارے پاس میرے بھائی کا فون آئے تو یہ مت کہنا کہ تم شادی شدہ ہو اور تعلیم کے بارے میں پوچھے تو کہنا کہ تم نے گریجویشن کیا ہے ۔عظمیٰ نے جس طرح ہندوستانی سفارتخانے میں پناہ لینے کے بعد ڈرامے بازی کی اس سے یہ اندازہ ہوتا تھا کہ پاکستان کے لوگ کتنے اجڈ ہیں جو زبردستی بندوق کی نوک پر ہندوستانی لڑکیوں کو بھی اغوا کرنے لگے ہیں ۔لیکن عظمیٰ کے ماضی کی زندگی سے ایسا لگتا ہے کہ وہ خود بہت ہی شاطرانہ دماغ رکھتی ہے ورنہ وہ تنہا طاہر علی سے ملنے کیلئے پاکستان نہ جاتی۔تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ اس کے بھائی اور بھابھی نے ایک دشمن ملک میں ایک انجان مرد کی اسپانسرشپ پر اسے پاکستان جانے دیا ۔جیسا کہ اخباری رپورٹ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس کی پہلی شادی کانگریس کے کسی ایم ایل اے کے لڑکے سے ہو چکی تھی اور اس کے بعد بھی اس کی پانچ شادیاں ہوئیں اور طلاق ہوچکا ہے ۔اس کے دو طلاق شدہ شوہر نیدر لینڈ میں ہیں جن سے اس کے چار  بچے بھی ہیں ۔اس کا مطلب طاہر علی اس کا چھٹا شوہر تھا مگر طاہر علی سے صرف دو دن میں ہی ایسا کیا ہوا کہ اس نے دلی میں مقیم اپنے بھائی سے رابطہ کیا ۔بھائی نےہندوستانی سفارت خانے میں کسی عدنان نام کے شخص سے رابطہ کرنے کو کہا ۔عظمیٰ نے بہت ہی چالاکی سے اپنے شوہر طاہر علی کو یہ کہہ کر ہندوستانی سفارتخانہ چلنے کو کہا کہ ہمیں ہندوستان میں ہنی مون منانے کیلئے ہندوستانی سفارت خانہ سے ویزے کیلئے رابطہ کرنا ہوگا جہاں عدنان نامی شخص ہماری مدد کرے گا ۔سفارتخانہ پہنچنے کے بعد عدنان نے طاہر علی کو باہر انتظار کرنے کو کہا اور عظمیٰ کو اندر لے لیا ۔جب کافی دیر تک عظمیٰ باہر نہیں آئی تو طاہر علی نے عظمیٰ کے بارے میں رسپشن پر دریافت کیا تو اسے بتایا گیا کہ اندر اس نام کی کوئی لڑکی نہیں ہے۔طاہر نے عظمیٰ کو حاصل کرنے کیلئے مقامی پولس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تو مذکورہ بالا کہانی کا کلائمیکس ابھر کرسامنے آیا ۔یعنی عظمیٰ نے ہندوستانی سفارت خانہ میں اپنے اثر ورسوخ کا استعمال کرکے کہانی کو نیا موڑ دے دیا اور پاکستانی عدلیہ کی ہمدردی بھی جیت لی ۔عظمیٰ خوش قسمت تھی کہ ہندوستانی سفارت خانہ نے اس کے مسئلے میں دلچسپی دکھائی ورنہ عام طور پرسفارت خانہ اتنی مستعدی نہیں دکھاتے ۔شکر ہے کہ پاکستانی عدالت نے بھی اس لڑکی سے نہیں پوچھا کہ اسلام میں محرم کے بغیر کسی بالغ عورت کو حج کی اجازت نہیں ہے اور وہ کس رشتے سے ایک ملک میں ایک انجان شخص کے گھر آنے کی جرات کر بیٹھی۔پھر بھی جس ملک کو اس نے موت کا کنواں کہا ہے اسی ملک کی عدالت نے اس لڑکی کی نادانی پر رحم کھاتے ہوئے اسے فوری اپنے وطن جانے کی اجازت دےدی ۔پاکستان ہمارا لاکھ دشمن ملک سہی لیکن جس طرح اس نے سشما سوراج اور ہندوستانی سفارتخانہ کا شکریہ ادا کیا پاکستانی عدلیہ کا بھی شکرگذار ہونا چاہئے تھا۔عظمیٰ کو شاید پتہ نہیں کہ وہ اپنے ذاتی مفاد کیلئے کسی کو وقتی دھوکہ دے سکتی ہے لیکن جدید پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے اس دور میں حقیقت کو زیادہ دیر تک چھپانا بہت مشکل ہے- کچھ آٹھ یا نو سال پہلے بھی عظمیٰ کی طرز کا ایک حادثہ ایک ہندو مہاراشٹرین لڑکی کے ساتھ جس کا نام غالباً سنیتا پاٹل تھا پیش آچکا ہے۔ سنیتا ایک پاکستانی لڑکے سے پیار کرکے عائشہ پاٹل ہوچکی تھی اور پھر سرحد پار جاکر اس سے نکاح کرلیا ۔اس لڑکے سے اسے ایک اولاد بھی ہوئی لیکن کچھ چار سال بعد اس کا شوہر کسی حادثے کا شکار ہوکرفوت ہوگیا ۔اس کی موت کے بعد اس کے گھر والے اس پر ظلم کرنے لگے -لڑکی نے ہندوستانی سفارت خانے اور اس وقت کے مہاراشٹر کے ہوم منسٹر آرآر پاٹل سے مدد مانگی کہ وہ اس کا حق دلانے کیلئے اس کی مدد کریں مگر اسے اپنے ملک سے کوئی مدد نہیں ملی ۔بالآخر اس نے پڑوسیوں کی مدد سےاپنے گھر والوں کے خلاف پاکستانی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ۔عدلیہ سے انصاف حاصل کرنے کے بعد جب وہ ہندوستان میں اپنے والدین سے ملنے آئی تو میڈیا والوں نے سوال کیا کہ کیا اب وہ واپس پاکستان جانا چاہیں گی ۔اس نے کہا ہاں میں اپنے شوہر کے بچے کی پرورش وہیں کرنا چاہوں گی کیونکہ جب میرے اپنے وطن کے لوگوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا تو میری مدد پاکستان میں میرے شوہر کے دوستوں اور پڑوسیوں نے کی اور پاکستانی عدالت نے بھی مجھے انصاف دیا ۔عظمیٰ کے ساتھ طاہر علی کا کیا معاملہ تھا پتہ نہیں لیکن عظمیٰ کو پاکستان کی عدلیہ کا شکر گذار ہونا چاہئے کہ اسے انصاف ملا اور ہندوستانی سفارت خانہ نے بھی ایک مسلم لڑکی کے ساتھ اتنی مستعدی کیوں دکھائی چلئے اسے بھی راز میں رہنے دیتے ہیں ہوسکتا ہے اس میں بھی کوئی راز ہو۔

چین، امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگی اور ہندوستان کی صورتحال



نہال صغیر

دنیا اس وقت تیسری جنگ عظیم کے دہانے پر ہے ۔کسی بھی وقت کسی بھی ملک کی ذرا سی انانیت کی وجہ سے جنگ کا مہیب دیو عالم انسانیت کیلئے بھیانک تباہی لاسکتا ہے ۔جن لوگوں کے دماغوں میں پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی تباہی کے مناظر محفوظ ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ موجودہ جنگ کیا تباہی لاسکتی ہے ۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم جس نے لاکھوں نہیں کروڑوں انسانوں کو نگل لیا تھا ۔دوسری جنگ عظیم جس میں امریکہ نے اپنی درندگی تاریخ میں رقم کروالی اس نے جاپان کے دو شہروں کو موت کی وادی میں بدل دیا تھا ۔جبکہ آج اس سے بھی کئی گنا زیادہ طاقتور ایٹم بم تیار ہو چکے ہیں۔چین اور شمالی کوریا کا تنازعہ جس میں امریکہ کے غروراور توسیع پسندانہ عزائم کو بڑا دخل ہے ،علاقے میں کشیدگی کا سب سے بڑا سبب ہے ۔دوسرا چین امریکہ کے درمیان نئے سوپر پاور بننے کی دوڑ نے بھی جنگ کے امکانات میں اضافہ کیا ہے ۔اس کے علاوہ چین پاکستان کے ساتھ مل کر ہندوستان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا رہتا ہے ۔ہندوستان کے کئی حصوں پر چین کی نیت خراب ہے وہ آئے دن ہندوستانی علاقوں میں دخل اندازی و در اندازی کرتا رہتا ہے ۔لیکن ہمارے سیاست داں ہیں کہ بس پاکستان میں الجھے ہوئے ہیں جس کا ہندوستان کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں ہے ۔ بین الاقوامی طور پر اس ہفتے کچھ اہم واقعات ہوئے ہیں جس سے تیسری جنگ عظیم کے نقارے بجتے دکھائی دیتے ہیں۔ہندوستان اور پاکستان کے بیچ خدا واسطے کا بیر ہے ۔اس دشمنی میں جہاں سرحدی اور سیاسی کشیدگی کو دخل ہے وہیں کہیں نہ کہیں اس میں مذہبی و تہذیبی تفاخر کا بھی کچھ نہ کچھ اثر ہے ۔دونوں ملکوں کے درمیان کوئی معمولی سا واقعہ بھی بڑے تنازعے کا سبب بن جاتا ہے ۔دونوں ملکوں میں جاسوس پکڑے جاتے ہیں اور انہیں سزائیں بھی سنائی جاتی ہیں یا پھر ان کے معاملات کو التوا میں رکھا جاتا ہے ۔کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے جب عام اور بے گناہ شہری انجانے میں کسی قانون شکنی کا مرتکب ہوجاتا ہے تو اسے سخت مشکلات اور زندگی و موت کے مسائل سے گزرنا پڑتا ہے ۔ایسے ایک معاملہ میں ہندوستانی شہری کلبھوشن یادو کو پاکستانی فوجی عدالت کے ذریعہ پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد ہندوستان نے اسے عالمی عدالت انصاف میں چیلنج کیا جہاں سے کلبھوشن کی پھانسی پر چالیس دن کے امتناع کا حکم آیا ہے ۔اب یہ معاملہ دونوں ملکوں میں نزاع کا نیا سبب بن کر سامنے آیا ہے ۔ہندوستان کا کہنا ہے کہ وہ ایک عام شہری ہے جسے ایران سے پاکستانی ایجنسیوں نے اغوا کیا ہے جبکہ پاکستان کہتا ہے عام شہری کے دو پاسپورٹ دو مختلف ناموں سے نہیں ہوتے ۔ہندوستان کا الزام ہے کہ سارے الزامات فرضی اور من گھڑت ہیں ۔ویسے اتنی جلدی میں عالمی عدالت برائے انصاف میں جانا سمجھ سے بالاتر ہے ۔کیوں کہ کلبھوشن کو اپیل کے لئے دو ماہ کا وقت تھا ۔ہندوستان نے شاید اس لئے جلد بازی میں عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا کہ اس کو خدشہ تھا کہ پاکستان کبھی بھی اچانک اسے پھانسی دے سکتا ہے ۔تو کیا پاکستان اتنا جری اور وعدہ فراموش اور ناقابل اعتبار ہے کہ ہمیں یہ خدشہ ہو کہ وہ اپنی ہی قانون کی دھجیاں محض اس لئے اڑائے گا کیوں کہ اسے ہمیں تکلیف پہنچا کر سکون ملتا ہے ؟بہر حال اس لفظی جنگ کے درمیان کلبھوشن کی سزا پر وزیر خارجہ سشما سوراج کا یہ قول بھی سامنے آیا کہ کلبھوش کی پھانسی کو جنگی جرائم میں شمار کیا جائے گا ۔شاید یہ بھی تاریخ میں پہلی بار ہوگا کہ محض ایک شخص کی پھانسی کو جنگی جرم سمجھا جائے گا ،اگر کلبھوش کو پاکستان پھانسی دے دیتا ہے ۔حالانکہ نہیں لگتا کہ پاکستان بغیر کسی قانونی پیش بندیوں کے کلبھوشن کی پھانسی کی سزا پر عمل در آمد کرنے کی جرات کرے ۔اب تو یہ پاکستان کیلئے اور بھی مشکل ہو گیا ہے جبکہ معاملہ بین الاقوامی عدالت میں پہنچ گیا ہے ۔
ہند و پاک میں کشیدگی میں اضافہ پچھلے دو برسوں سے کچھ زیادہ ہی ہے ۔گرچہ وزیر اعظم نریندر مودی غیر روایتی طور پر نواز شریف سے ملنے اچانک لاہور جاچکے ہیں اور دوستی کے ہاتھ بڑھا چکے ہیں ۔کشمیر وہ واحد سبب نزاع ہے جو حل ہو کر ہی نہیں دیتا ۔اس سے سیاست دانوں کو عملی سیاست کیلئے خوراک ملتی ہے ۔دو برسوں سے کشمیر میں عوامی تحریک میں اضافہ ہو گیا ہے ۔روایتی جنگجو ؤں ،مزاحمت پسند تنظیموں اور نام نہاد دہشت گردوں کے بجائے احتجاج کرتے کشمیری نوجوان اور ہتھیار بند ہندوستانی سلامتی دستوں کے سامنے چھوٹے بچے اور خواتین کا آنا ایک نئے سوال کھڑے کررہا ہے ۔وہ سوال یہ ہے کہ کیا علیحدگی پسندوں نے آزادی کشمیر کی حکمت عملی تبدیل کردی ہے ۔اس پر دو طرح کی رائے ہے ۔ہندوستانی موقف کی حمایت کرنے والے کا الزام ہے کہ حزب المجاہدین جیسی تنظیموں نے نوجوانوں کو پیسے دے کر ان سے سلامتی دستوں پر سنگ باری کا کام لے رہے ہیں ۔جبکہ صحافیوں کا ایک دوسرا گروہ یہ کہتا ہے کہ اب جن نوجوانوں کے ہاتھوں میں پتھر ہے وہ نسل مزاحمت ،تشد داور جبر کے سائے میں پروان چڑھی ہے ۔اس نے سب کچھ دیکھا ہے ۔اس نے ناانصافی اور ظلم کی سیاہی کو سمجھا ہے ۔یہ سنگ باری کا فیصلہ اس کا خود کا ہے ۔اس میں کسی تنظیم یا کسی غیر ملکی ہاتھ کا کوئی دخل نہیں ہے۔ لیکن اتنا طے ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر کو انسانی بنیادوں پر حل نہیں کیا گیا تو یہ دو نوں ملکوں کی کشیدگی کو کسی دن تباہ کن جنگ میں تبدیل کردے گا۔
ہندوستان کے شمال مشرق میں شمالی کوریا اور امریکہ کی بڑھتی کشیدگی ہمارے لئے اچھی خبر نہیں ہے ۔امریکہ نے شمالی کوریا کی جانب اپنا دوسرا بحری بیڑہ یو ایس ایس رونالڈ ریگن روانہ کیا ہے ۔اس سے علاقے میں کشیدگی میں اضافہ ہونا منطقی ہے ۔ امریکہ کے پاس بہانہ ہے کہ شمالی کوریا کو عالمی برادری کی تشویش سے آگاہ کرنے کے باوجود وہ اپنے ایٹمی تجربات کو نہیں روک رہا حال ہی میں اس نے ایک نئے میزائل کا تجربہ کیا ۔امریکہ کے نئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی شمالی کوریا کو سبق سکھانے کی دھمکی دی تھی ۔شمالی کوریا کئی بار یہ بات کہہ چکا ہے کہ اگر امریکہ نے اسے اکسانے کی کوشش کی تو وہ امریکہ پر ایٹم بم سے حملہ کردے گا ۔اگر شمالی کوریا کی یہ بات محض پروپگنڈہ نہیں کہ وہ امریکہ تک میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو تاریخ میں پہلی بار امریکہ کو اس کی خود کی ہی زمین تنگ نظر آنا یقینی ہے ۔اب تک امریکہ دوسروں کے لئے ان کی زمین تنگ کرتا آیا ہے ۔اس سے قبل ٹوئن ٹاور اور دیگر جگہوں پر خودکش طیارہ حملوں سے امریکہ کو عدم تحفظ کا احساس ہوا تھا ۔چین بھی امریکہ کو مسلسل اس کی اوقات یاد لاتا رہتا ہے ۔چھوٹی چھوٹی ضروریات کی اشیاء سے چین نے پورری دنیا میں اپنی معاشی برتری حاصل کرلی ہے ۔پچھلے ہفتہ یہ خبر بھی آئی تھی کہ چین نے مسافر بردار طیارہ بھی بنالیا ہے جس نے کامیابی سے اڑان بھر کر طیارہ تیار کرنے والے ممالک فرانس اور امریکہ کیلئے چیلنج کھڑا کردیا ہے ۔چین نے اب ایک اور بڑی جرات کا کام کیا ہے کہ اس نے مشرقی چینی سمندر کے اوپر پرواز کرنے والے امریکی طیاروں کو گھیر کر اسے راستہ بدلنے پر مجبور کیا جس پر امریکہ نے اسے غیر ذمہ دارانہ اور غیر عملی قدم قرار دیا ہے ۔امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کا طیارہ بین الاقوامی ہوائی پٹی سے پرواز کررہا تھا۔اس سے قبل بھی امریکی طیاروں کو جنوبی چین کے سمندر کے اوپر اس کے راستوں میں رخنہ اندازی کی گئی تھی ۔اب تک یہ ہوتا رہا ہے کہ امریکہ نے جہاں چاہا وہاں بمباری کی خواہ اس میں عام شہری ،معصوم بچے اور خواتین ہی ماری جائیں اور وہ جہاں چاہے پرواز کرے جس کے فضائی حدود کی چاہئے خلاف ورزی کرتا رہے کوئی اسے روکنے والا نہیں تھا لیکن چین نے اس کو یہ یاد دلادیا کہ اب اس کی سوپر پاور کی قوت محض قصے کہانیاں ہیں ۔ اگر ڈونالڈ ٹرمپ نے جیسا کہ شمالی کوریا کو دھمکی دی ہے کہ اسے سبق سکھایا جائے گا اور مسلم ملکوں اور امریکہ کو ہجرت کرنے والوں کے خلاف جس نفرت کا اظہار کیا تھا اگر انہوں نے ویسا عملی اقدام کیا تو پھر یقیناًقدرت امریکہ کو چین اور شمالی کوریا کے ذریعہ سبق سکھا نے کا پختہ ارادہ کرچکی ہے !
اس دوران ہندوستان کو امریکہ سے ہووتزر توپیں دستیاب ہو گئی ہیں جس کاپوکھرن میں تجربہ کیا جائے گا اس کے بعد اسے چینی سرحد پر تعینات کئے جانے کی امید ہے ۔یعنی پہلی مرتبہ پاکستان کے بجائے ہندوستان نے جنگی نکتہ نظر اور اپنی سلامتی کے تئیں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زیادہ ہلکے اور کارآمد توپوں کو ہند چین سرحد پر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔یعنی بین الاقوامی ہی نہیں قومی سطح پر بھی تبدیلی کا احساس ہو رہا ہے ۔یہ تبدیلی اچھی بھی ہے اور خطرناک بھی ۔جہاں کسی ملک کی آزادی و وقار کیلئے یہ ایک اچھی علامت ہے تو وہیں بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تبدیلی اور اس سے پیدا ہونے والے جنگ کے خدشات سے عالم انسانیت کا وجود خطروں میں گھرا ہو محسوس ہوتا ہے ۔ہرلمحہ تباہ کن جنگ کی جانب بڑھتی دنیا کو اگر کوئی چیز بچا سکتی ہے تو وہ ہے نفرت کی فضا کو بدلا جائے ۔ دوسرے کی آزادی اور وقار کا خیال رکھا جائے ۔کسی اقلیتی گروہ خواہ وہ مذہبی ،لسانی یا علاقائی ہو اس کے ساتھ انصاف اور برابری والا رویہ برتا جائے تاکہ اس گروہ کے اندر اپنی سلامتی کے تئیں خدشات گہرے نہ ہوں۔ یہ عدم تحفظ کا احساس ہی انسانوں اور ان کے گروہوں کو اقدامات کی طرف لے جاتے ہیں ۔باہری جنگ سے ملکوں کا نکلنا تو پھر بھی آسان ہے لیکن خانہ جنگی سے کسی ملک کا نکلنا اور پھر ترقی کی شاہراہوں پر دوسری قوموں سے ہمقدم ہونا کار محال ہے ۔ہم دنیا میں ایسے کئی ممالک کے شاہد ہیں ۔بد قسمتی سے ہندوستان میں ایک گروہ کی تنگ دلی ،کوتاہ نظری اور دہشت  پسندانہ عزائم سے خانہ جنگی جیسے حالات پیدا ہو نے کا خطرہ بڑھ گیا ہے!