تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ

عمر فراہی
کسی ملک اورمعاشرے میں جب غالب اورمغلوب دونوں ہی قومیں اپنی قدیم تہذیب اورسیاسی نظریے اورعزائم سے بھی آراستہ ہوں تو ان کے لیے ایک دوسرے کی حکمرانی یا سیاست کوبرداشت کرپانا بہت مشکل ہو جاتا ہے- اوروہ ایک دوسرے کے خلاف ایک طرح کے تہذیبی تصادم میں مبتلا ہو جاتے ہیں - حکمراں جماعت جہاں اپنی حکمرانی کو مزید مضبوط اورمستحکم بنانے کیلئے مخالف گروہ کے تہذیب وتمدن اورثقافت کوطاقت کے ذریعے کچلنا چاہتی ہے محکوم قومیں بھی وعظ و نصیحت اور قلم و کتاب کے ذریعے اپنی تہذیبی وراثت کا دفاع کرتی ہیں اوراکثر انہیں اس کی سزا بھی بھگتنی پڑتی ہے - دراصل دنیا کی تمام ناحق اور باطل قومیں اپنے کمزورعقائد اورنظریات کی بنا پر حق کے علمبرداروں سے خوفزدہ رہی ہیں-اسی لیے جب یہ اقتدارپر قابض ہوتی ہیں تو سب سے پہلے مخالف قوم کی قیادت اور تہذیبی وراثت کو ختم کرنا شروع کر دیتی ہیں- شاید اسی نظریے کے تحت دنیا کےتمام انبیاء کرام کو باطل قوموں نے شہید کرنے کی کوشس کی - ہلاکو  نے جب بغداد پر حملہ کیا تو سب پہلے مسلمانوں کے علماء کا قتل کروایا-ایک ایسے دور میں جبکہ کوئی یونیورسٹی اورسیاست کے عنوان پر کوئ کتاب اورریسرچ اسکالربھی نہیں تھے ان قبائلیوں کو بھی اتنا علم اور  شعور تھا کہ مسلمانوں کے علماء اور ان کے کتب خانوں کو بھی مٹا دیا جانا چاہیے ورنہ یہ پھر سے غالب آجائیں گے- اور یہی کام اندلس اورغرناطہ میں بھی ہوا - کمیونزم کے عروج کے بعد روس میں لینن اور اسٹالن نے بھی یہی کیا- برما میں سب سے پہلے مدارس پر پابندی لگائی گئ ان کے علما اور سیاسی قیادت کو وہاں کی فوجی حکومت نے مفلوج بنایا اوراب ان کا نسلی صفایا بھی آخری مرحلے میں ہے-
اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ یہی کررہا ہے مگر فلسطینیوں نے اپنے عرب پڑوسیوں کی مدد سے اپنی جرات اور لامتناہی قیادت کا سلسلہ قائم رکھتے ہوئے اسرائیل کی سازش کو ناکام بنا دیا ہے- اب جس طرح ایران میں شہرام احمدی اور کچھ سنی مسلمانوں کی سیاسی قیادت کو سزائے موت  سنائے جانے کی خبرہے کہا جانا چاہیے کہ ایران بھی انہیں باطل قوموں کے نقش قدم پراپنے ملک کے سنی مسلمانوں کی قیادت کو کچل دینا چاہتا ہے -اس کے برعکس مسلمانوں نے دنیا کے جس خطے پر بھی حکومت کی نہ تو مغلوب قوموں کے مقدس مقامات کو نقصان پہنچایا اور نہ ہی مغلوب قوموں کی مذہبی اور سیاسی قیادت کو کبھی ختم کرنے کی کوشس کی بلکہ مغلوں نے یہاں کے معزز ہندو خاندانوں کے افراد  کو اپنے دربار میں شامل کر کے راجہ کا درجہ دیا اورمیسور کے حکمراں ٹیپو سلطان کا وزیر اعظم پورنیا ایک ہندو برہمن تھا - اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کواقتدارتھالی میں سجا کر نہیں پیش کیا گیا بلکہ انہوں نے باقاعدہ جنگ کرکے موجودہ حکمرانوں پر فتح حاصل کی - لیکن اگروہ مسلسل ایک ہزارسال تک غالب رہے تواس لیے کہ ان کے پاس انصاف مساوات اوراخلاق پرمبنی ایک مضبوط سیاسی نظریہ تھا جبکہ جو قومیں حکومت اوراقتدار پرقابض رہی ہیں وہ اپنے عوام کو انسانیت کی فلاح وبہبود اوردنیا میں جدوجہد  کا کوئی ٹھوس مقصد اور نصب العین نہیں دے سکے تھے - اسی لیے مغلوب ہونے کے بعد بھی یہاں کی عام آبادی نےمسلمانوں کے خلاف  کوئی خاص بغاوت اور مزاحمت نہیں کی  بلک دیگر عوام  نے بھی  ایک حد تک مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت اور اخلاق کو اسی طرح اپنا لیا جیسے کہ بیسویں صدی کے بعد عام لوگوں نے مغربیت کوسکہ رائج الوقت کے طورپر تسلیم کر لیا ہے - انگریزوں نےمسلمانوں کی عسکری قوت کے کمزورپڑجانے کے سبب اپنے نوزائدہ سیاسی نظام کے ساتھ ہندوستان پرقبضہ تو کرلیا مگر وہ خود بھی ایک صدی سے زیادہ اس لیے حکومت نہیں کر سکے کیونکہ ہندوستان میں ان کی مخالفت کیلئے ایک مضبوط سیاسی نظریے پر مبنی مسلمانوں کی جماعت موجود تھی اور خودایک عرصے سے مسلمانوں اورانگریزوں کی تربیت میں  ہندوؤں کی نئی نسل بھی کسی حد تک متمدن اورسیاسی شعورکی حامل ہوچکی تھی اورپھران دونوں قوموں نے مل کرانگریزی حکومت ک خلاف جو مزاحمت کی اس کی شکل آج ہمارے سامنے ہے اور اب اقتدار پر جو لوگ قابض ہیں یہ لوگ بھی  سیاسی طورپر کتنا بالغ ہیں وہ تصویر بھی دکھانے کی ضرورت نہیں ہے اور آذادی کے بعد سے لیکر ابھی تک  مسلمانوں کی سیاسی قیادت اورحیثیت کو جس مقام پرلا کرکھڑا کیا جاچکا ہے وہ نقشہ بھی ہمارے سامنے ہے- یعنی اقتدارکی منتقلی کیلئے مسلح جدوجہد اورطاقت کا استعمال تو بہرحال ضروری ہوتا ہے جس کا استعمال مسلمانوں نے بھی کیا جو کہ ایک فطری عمل ہے اوراسلام نے بھی اس فطری طریقے کو جائزرکھا ہے بلکہ دنیا کی سیاست کو انصاف کے ماتحت لانے کیلئے اسلام نے جہاد کا حکم دیا ہے -اور جیسا کہ حدیث بھی ہے کہ ایمان کا افضل طریقہ یہ ہے کہ فحاشی اورظلم کو طاقت کے ذریعے ختم کیا جائے - یہ بات انفرادی طریقے سے اپنے گھر اور خاندان کیلئے  تو ممکن ہے کی کوئی شخص اپنی طاقت کا صحیح استعمال کر سکے مگر ایک معاشرے اورملک سے برائیوں کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ ایک باقاعدہ جماعت اورفوج کی تشکیل دی جائے اور تمام افراد ایک خلیفہ کے ماتحت  نظم اور قانون کے پابند ہوں اورلوگوں کے درمیان فساد کی صورت میں اسی طاقتور جماعت کے ذریعے انصاف قائم کیا جاسکے - دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ بغیر حکومت اورقانون کے ایمان کے افضل طریقے پرعمل کرنا ناممکن ہے اور اگر کوئی شخص یا مخالف قوم اس پر عمل کرنے کیلئے آمادہ بھی ہوتی ہے تو اس کا وہی حشر ہونا ہے جو مصرمیں اخوان کے ساتھ ہوا جو فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے, شام اسی معرکہ ایمان اورمادیت کی جنگ میں مبتلا ہے اورانفرادی سطح پر دنیا کے بہت سارے مسلم اورغیرمسلم ممالک میں مسلسل ہو رہا ہے - مسئلہ یہ ہے کہ اگر باشعورافراد اس جدوجہد میں شامل نہ ہوں تو خود مسلم ممالک کےمادہ پرست حکمراں پورے معاشرے کو فساد اور بدامنی سے بھردیں - ہمارے جمہوری دور کی  طرز سیاست کا  بھی یہ المیہ ہے کہ معاشرے کا جو بدمعاش اور بدعنوان طبقہ ہے سیاست پروہی غالب ہے اور گویا ایمان و اخلاق کے اول درجے پر عمل کرنے کا علمبردار بھی ہے - مگر جو حالات کو بدلنا چاہتے ہیں وہ ان کی نظر میں معتوب ہیں -ایک بہت بڑی سچائی اور حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں جاہل اور بدمعاش تو سیاست کی طاقت کو سمجھتا ہے مگر شریفوں کو آج بھی یہ بات کم ہی سمجھ میں آتی ہے کہ سیاست انسانوں کےمکمل نظام حیات کو  بدل کر رکھ دیتی ہے جسکے اندر نہ صرف انسانوں کی معیشت طرز معاشرت اور تہذیب و ثقافت شامل ہے انسانوں کی تعلیم و تربیت اور سوچ بھی مادیت اور دجالیت کے ڈھانچے اور پیکر میں ڈھل جاتی ہے اورافسوس کا مقام یہ کہ ایک وقت کے بعد انسانوں کے اندر اچھے اور برے کی تمیز کا احساس اورشعوربھی ختم ہو جاتا ہے اور لوگوں کو یہی معاشرہ خوشنمااورمتمدن دکھائی دینے لگتا ہے اور پوری کی پوری قوم اپنے اس کارنامے اورکامیابی پر جشن بھی مناتی ہے- یہ ہے جدید اور ماڈرن سیاست اور سیاست کے ماتحت سیکولر طرز تعلیم کا فتنہ جس میں بر صغیر کا نوے فیصد مسلمان بھی غرق ہے اورجس کی وجہ سے ہم اپنی آنکھوں سے تباہ ہوتے ہوئے معاشرے کو دیکھ سکتے ہیں -حالانکہ مختلف رسم ورواج اوراسراف کی  شکل میں اخلاقی قدروں کا زوال بھی ہمارے سامنے ہے پھر بھی معاشی ترقی کے دھوکے میں جو انسان  معاشرتی تنزلی کی طرف مائل ہے اس کا حل بھی وہ اسی دین بیزار جدید تعلیم اور سیاست میں ہی ڈھونڈھ رہا ہے- اس بات کو آج  بھی  صرف چند لوگ ہی سمجھتے ہیں کہ کس طرح غالب قومیں ایک قوم کی صالح فکر اور سوچ کو پوری طرح تباہ کرنے کیلئے ان کے علماء اور قیادت کو خریدنے کی کوشس کرتی ہیں مگر جو حوصلہ مند قیادت بکنے کو تیار نہیں ہوتی انہیں طاقت کے ذریعے کچلنے کی بھی کوشس کی جاتی ہے- پاکستان میں جنرل ایوب خان کے دور میں مولانا مودودی کو صرف اس لیے سزائے موت سنائی گئ تھی کہ انہوں نے قادیانیت کے خلاف صرف ایک پمفلٹ لکھا تھا - جبکہ اس دور میں بھی پاکستان کے اخبارات میں بہت کچھ لکھا اور پڑھا جاتا رہا ہے- کیا مولانا مودودی کے ایک مضمون سے کوئی قیامت آجانے والی تھی -دراصل مولانا مودودی جس عالم گیر نظریے کی وکالت کر رہے تھے ان کے دلائل نہ صرف قادیانی عقیدے پر ضرب لگا رہے تھے بلکہ ان کے نظریات پاکستانی سیاست میں غالب ترقی پسندوں اور لبرلسٹوں کے مفاد پر بھی اثر انداز ہو رہے تھے اور وہ قطعی یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی اس تحریک کو حوصلہ ملے اور  پاکستان ایک متمدن اسلامی ریاست میں تبدیل ہو- مسلمانوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہ سب کچھ اس ملک میں ہو رہا تھا جسے اسلام اور مسلمان کے نام پر بنایا گیا تھا - یہ تو بہرحال ایک مسلم ملک کی مثال ہے - چین نے تبت کے اندر بدھشٹوں پر یہ پابندی لگائی ہے کہ دلائی لامہ کے بعد تبتیوں کا روحانی پیشوا وہی شخص بن سکے گا جسے چین کی حکومت منظوری دے گی - مسلمانوں کی صالح اور حوصلہ مند قیادت کو آج بھی اسی طرح کچلنے کی کوشس کی جارہی ہے جیسا ماضی قریب اور قدیم زمانے میں ہوتا رہا ہے   - مغرب نے نوے کی دہائی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام سے مہم شروع کر کے  پوری دنیا کی لبرل جمہوری حکومتوں کو سند فراہم کر دی ہے کہ وہ تعلیم یافتہ دیندار مسلم نوجوانوں کی سیاسی قیادت کو پوری طرح  کچل دیں- پاکستان سے لیکر افغانستان ایران عراق مصر اور شام میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس تصادم کے پس پشت وہی شیطانی ذہنیت کارفرما ہے جو  فرعونوں اور نمرودوں کی ایجاد کردہ ہے-اور اب جس طرح اس نظریے نے عالم گیر تحریک اختیار کر لی ہے ایسا لگتا ہے یہ حالات بالآخر دجال اکبر کے ساتھ تصادم پر ہی اختتام پزیر ہونگے  -واللہ علم با الثواب -
عمر فراہی     umarfarrahi@gmail.com

مسلم خواتین کے غم میں گھلتے رہنے کا سوانگ


جلال الدین اسلم، نئی دہلی
موبائل نمبر: 09868360472 

ایک بار پھر مسلم مطلقہ خواتین کا ’جن‘ بوتل سے باہر نکل آیا ہے جسے کچھ لوگ پھر بوتل میں بند کرنے کے عمل میں مصروف ہوگئے ہیں، تو کچھ لوگ اسے کھلی فضا میں آزاد رکھ کر لوگوں میں خوف و ہراس اور انتشار و افتراق جیسے حالات بنائے رکھنے میں ہی اپنی بھلائی اور بقا مان رہے ہیں۔ 
ایک بار میں تین طلاق دے دینے سے طلاق ہوجاتی ہے یا پھر تین طہر میں۔ اس مسئلے کا حل مسلم علما کے پاس ہے یا ان لوگوں کے پاس جو اپنے دھرم کے بارے میں بھی کچھ نہیں جانتے، سیاہ بوتل میں مسلم مطلقہ خواتین ’جن‘ کو بند رکھنے یا اسے باہر نکالنے والے عموماً ایسے سیاہ چشموں کا استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں صرف مسلم مطلقہ خواتین کی زندگیوں میں اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے۔ انہیں اپنی بیویاں اور زندگی بھر بیوہ رہنے والی وہ عورتیں جن کی سماج میں کوئی عزت نہیں ہوتی، نظر نہیں آتیں۔ ان کے خیال میں مسلم شوہر طلاق کا پستول ہمیشہ ساتھ میں رکھتا ہے اور جب چاہتا ہے طلاق طلاق طلاق کی گولی داغ دیتا ہے۔ اس طرح گویا مسلم خواتین بے یار و مددگار در بدر پھر رہی ہیں اس لیے انہیں ان کے غم میں رہ رہ کر درد اٹھتا رہتا ہے۔ 
کچھ زیادہ دنوں کی بات نہیں ہے غالباً 1995 میں ریاست کیرالا کی ایک مسلم اکثریتی بستی میں طلاق کی شرح معلوم کرنے کی غرض سے سروے کرایا گیا تھا جس کے نتائج مسلم مطلقہ خواتین کے نام نہاد بہی خواہان کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں لیکن سچائی تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جن کے سینوں میں دل ہوتا ہے۔ سروے حسب ذیل ہے: 
ریاست کیرالا کی 68 فیصد مسلم آبادی والے ضلع ملاپورم کی 30 بستیوں کے ایک خصوصی سروے کے نتیجے میں یہ خوش کن حقیقت سامنے آئی کہ مسلمانوں میں طلاق کی شرح بہت تیزی کے ساتھ گر رہی ہے۔ علاوہ ازیں بہت ہی محدود پیمانے پر کیے جانے والے اس سروے سے اس بات کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ مسلمان عام طور پر، طلاق جیسا ناپسندیدہ قدم شاذ و نادر ہی اٹھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر عدالتی ریکارڈوں، خطیبوں، قاضیوں، خاتون سماجی کارکنوں اور وکیلوں کے ساتھ تفصیلی بات چیت پر مبنی اس سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’ان 30 بستیوں سے 10 بستیوں میں گزشتہ ڈیڑھ برسوں کے دوران طلاق کے محض دو یا تین واقعات ہوئے ہیں۔‘‘ 
اسی طرح منجیری کے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت اور منصف کورٹوں کے ریکارڈ بھی اس بات کی طرف بہت ہی واضح طور پر اشارہ کرتے ہیں کہ نان و نفقہ کے مقدمات کی تعداد میں بھی غیر معمولی کمی آئی ہے۔ مثال کے طور پر چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ منجیری کی عدالت میں 1988 میں نان و نفقہ کے 120 مقدمات دائر کیے گئے تھے جب کہ 1993 میں ان کی مجموعی تعداد گھٹ کر صرف 63 رہ گئی۔ 
ایک خاتون وکیل محترمہ جینسی واسو کا کہنا تھا کہ 1991 میں ان کے پاس 21 جوڑے آئے اور ان سب نے طلاق حاصل کی۔ جبکہ 1994 میں طلاق حاصل کرنے والے جوڑوں کی کل تعداد محض 10 رہی۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ گزشتہ برسوں کے دوران 26 مسلم 25 ہندو اور دو عیسائی جوڑوں نے ان کی صلاح پر عمل کرتے ہوئے طلاق یا علاحدگی کا ارادہ ترک کردیا۔ ان کی ازدواجی زندگی کی ہموار سطح دوبارہ بحال ہوگئی۔ 
اگرچہ اس سروے کا دائرہ بہت ہی محدود ہے اور اسے ہندوستان کے مسلم معاشرہ کی عائلی زندگی کا حقیقی آئینہ قرار نہیں دیا جاسکتا، تاہم یہ تو کہا ہی جاسکتا ہے کہ مسلم خواتین کی زبوں حالی، طلاق کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ اور مطلقہ خواتین کی کسمپرسی کی جو لرزہ خیز داستانیں مسلسل تصنیف کی جارہی ہیں، ان میں صداقت کا عنصر برائے نام ہی پایا جاتا ہے۔ مسلم خواتین کے غم میں مسلسل گھلتے رہنے کا سوانگ رچانے والے گلابی اور زرد دانشوروں، سیاست دانوں، سماجی کارکنوں اور صحافیوں نے یہ دلچسپ مشغلہ محض اس لیے اختیار کر رکھا ہے کہ اس کی آڑ میں وہ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس بھی آسانی کے ساتھ نکال سکتے ہیں اور کچھ ضرورت سے زیادہ پُرجوش مگر زمینی حقائق اور معاشرتی پیچیدگیوں سے بڑی حد تک ناواقف خواتین کو ورغلاکر مسلم معاشرے میں انتشار و خلفشار کے بیج بھی بوسکتے ہیں۔ 
یہ سلسلہ ایک عرصہ سے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ جاری ہے۔ تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ ہر مسلمان طلاق نامہ ہمیشہ اپنی جیب میں رکھتا ہے، اس کے مزاج کے خلاف کوئی بات ہوئی نہیں کہ اس نے طلاق کی بندوق داغ دی۔ اس تاثر کو بے سر پیر کی کہانیوں سے تقویت پہنچائی جارہی ہے اور ہم ہیں کہ تماشائی بنے رہتے ہیں۔ ان مسائل پر نظر رکھنے کے لیے مسلم پرسنل لا بورڈ تو ہے لیکن اس سے یہ تک نہیں ہوسکا کہ محدود پیمانے پر ہی سہی کوئی سروے کراکر، اعداد و شمار کی بنیاد پر اس غلط پروپیگنڈے کی قلعی کھولنے کی کوشش کرتا۔ یہ ادارہ مسلمانوں کا نمائندہ ادارہ ہے اسے مسلم علما، دانشوروں اور باصلاحیت لوگوں کی خدمات بھی حاصل ہیں لیکن بہ وجوہ یہ کوئی ایسا کام کرنے سے قاصر ہے جو مسلم دشمنوں کے لیے سد راہ بن سکے۔ یہ طلاق کے بارے میں ہی کیا ہر روز مسلمانوں کی بڑھتی آبادی پر بھی اٹھتے طوفانوں کا سروے کراکر ان کا منہ موڑ سکتا ہے لیکن اس ادارہ اور اس سے جڑے لوگوں سے یہ توقع ہی نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس راہ پر چلنے کی جسارت کریں گے جسے روشن رکھنے والے چراغوں میں جگر کا خون، نسوں کی چربی اور ہڈیوں کا روغن استعمال کیا جاتا ہے۔ 
مسلم خواتین کے غم میں سوانگ رچانے والوں کے سامنے صرف طلاق ہی نہیں بلکہ تعدد ازدواج بھی ہے، انہیں اسلام میں چار شادیوں کی اجازت بھی بے چین کیے ہوئے ہے۔ کچھ جغادری قسم کے لوگ لنگر لنگوٹ کس کر اکھاڑے میں اتر آئے ہیں۔ ٹی وی پر طرح طرح کے بیانات اور اخباری مضامین کا سیلاب سا امنڈ آیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں کی سننے کی کبھی کوشش نہیں کرتے اور نہ ہی مسئلے کو سمجھنے کی بلکہ ہٹ دھرمی پر آمادہ رہتے ہیں۔ انہیں اگر آئینہ دکھایا جائے تو منہ بسور کر طوطوں کی طرح پھر وہی رٹی ہوئی رٹ رٹنے لگتے ہیں۔ 
اس وقت ہمیں 20-25 برس پرانی بات یاد آرہی ہے۔ بی جے پی کے چند ممبران پارلیمنٹ جو اس وقت اپنے بیانات و کردار کے تعلق سے اخبارات کی سرخیوں میں رہے ہیں، باگن بہرائی کا نام آپ نے بھی سنا ہوگا۔ چار بار لوک سبھا کے ممبر رہ چکے ہیں جو تین بار پارٹیاں اور 57 بیویاں تبدیل کرچکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ’وہ جنسی تسکین کے لیے نہیں بلکہ شادیاں اس لیے کرتے تھے کہ وہ خوبصورت لڑکیوں کی پرستش کرتے ہیں۔‘ ہمیں نہیں معلوم کہ موصوف اب بھی باحیات ہیں یا نہیں لیکن ان کا عمل ان کے اپنوں کے لیے ضرور زندہ و پائندہ ہے۔ خوبصورت عورتوں کے ’پرستار‘ باگن بہرائی کا شمار بھارتیہ جنتا پارٹی کے آدی باسی یا سنگھ پریوار کی اصطلاح میں بن باسی لیڈروں میں ہوتا رہا ہے۔ موصوف نے 1991 میں بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا جو بقول ان کے ’بھگوانوں کی پارٹی ہے۔‘ 
صرف باگن جی ہی کیوں ’بھگوانوں کی پارٹی‘ کے ایک اور معروف لیڈر سابق مرکزی وزیر حکم دیونارائن یادو بھی ایک سے زائد شادی کرنے والوں کی صف میں نہ صرف یہ کہ براجمان نظر آتے رہے بلکہ وہ تو اسی بات کی پُر زور وکالت بھی کرتے رہے کہ ہندو میرج ایکٹ میں ترمیم کرکے ایک سے زائد شادیوں کی باقاعدہ گنجائش کی جانی چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ آئین کس کام کا جو ’مردوں کو درجنوں داشتائیں رکھنے کی تو اجازت دیتا ہے مگر ایک سے زائد شادی کی اجازت نہیں دیتا۔‘ یوں تو ایسے کئی ہندو لیڈر ہیں جن کی مثال دی جاسکتی ہے لیکن طوالت کے ڈر سے صرف دو کو ہی کافی سمجھا گیا۔ 
’بھگوانوں کی پارٹی‘ اپنے ان لیڈروں کے طرز عمل کو کس نگاہ سے دیکھتی ہے یہ تو ہمیں نہیں معلوم، لیکن اس کے چھوٹے بڑے لیڈر، اس کے اپنے قلم گھسیٹ جب مسلمانوں پر تعدد ازدواج کے حوالہ سے حملہ کرتے ہیں اور اسلام پر بہتان تراشی کرتے ہیں تو ہنسی ضرور آتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اسلام نے چار شادیوں کی جو مشروط اجازت دی ہے اس کا مقصد فطرت انسانی کے تقاضوں کی تکمیل اور سماج کو ’داشتاؤں‘ کی لعنت سے بچانا ہی ہے۔ کچھ غیر معمولی حالات انسان کو مجبور کردیتے ہیں کہ وہ یک زوجگی کے حصار کو توڑ دے، ان حالات میں اس کے سامنے دو ہی راستے کھلے ہوتے ہیں، ایک تو یہ کہ وہ جنسی بے راہ روی کو اپنا شعار بنالے اور دوسرا یہ کہ دوسری شادی کرکے پرسکون زندگی گزارے اور اپنی اور دوسروں کی زندگی اجیرن نہ بنائے۔ 
بہرکیف آخر میں ہم مسلمانوں کو چار چار شادیاں کرنے کا طعنہ دینے والے اگر بی جے پی کے ماگن اور حکم دیو نارائن (اگر یہ لوگ موجود ہوں تو) ان سے ضرور ملیں۔ ان کے علاوہ رام ولاس پاسوان، مادھو سنگھ، سوریہ نارائن یادو ایم پی، سابق گورنر بھیشم نارائن سنگھ بالخصوص دگ وجے سنگھ وغیرہ جیسے لوگوں سے بھی ملیں، جنہوں نے ایک سے زائد شادیاں کر رکھی ہیں، تو شاید ان کی یہ غلط فہمی کسی حد تک دور ہوجائے کہ تعدد از دواج گناہ نہیں بلکہ گناہ کی دلدل سے بچے رہنے کا ایک معقول ذریعہ ہے۔ 
کاش کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والے قلم گھسیٹوں اور ٹی وی پر بے سر پیر کی بک بک کرنے والوں کو ہماری باتیں سمجھ میں آجاتیں کہ اب بہت ہوچکا۔ انہی لوگوں کی وجہ سے پورے ملک میں بدامنی جیسی صورت حال بنتی جارہی ہے جسے کسی بھی حال میں ملک و قوم کے لیے بہتر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ 

مودی میں مفتی کو فرقہ پرستی نظر نہیں آتی! ’’خراب کر گئی شاہیں بچے کو صحبتِ زاغ‘‘


عبدالعزیز
  9831439068 azizabdul03@gmail.com
مفتی محمد سعید اس وقت نریندر مودی کی فرقہ پرست پارٹی بی جے پی کی حمایت کے بل بوتے پر جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ مفتی صاحب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نریندر مودی فرقہ پرست نہیں ہیں۔ ان کا اس وقت کوئی بدل نہیں ہے۔ مفتی محمد سعید کو سیکولر پارٹیوں کی طرف سے بھی حمایت کی پیشکش کی گئی تھی۔ نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے غیر مشروط حمایت کی پیش کش کی تھی مگر مفتی کو مودی کی پارٹی کی فرقہ پرستی ہی راس آئی۔ مودی سے ہی مفتی نے حکمرانی کیلئے سمجھوتہ کرلیا۔ مفتی صاحب اپنی مجبوری اور لاچاری کی وجہ سے آنکھ بند کرنے ہی میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔ ہندی زبان و ادب کے ممتاز اور مشہور شاعر اشوک واجپئی نے قلمکاروں اور دانشوروں کے اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے گزشتہ روز کہا کہ ’’صدر جمہوریہ ہند، گورنر ریزرو بینک، مشہور صنعت کار نرائن مورتی ’’گھڑی ہوئی سیاست‘‘ (Manufactured Politics) میں شامل ہوگئے۔ ہم میں سے کچھ لوگوں نے ایوارڈ واپس کر دیا ہے۔ اب یہ تعداد چالیس کو پہنچ چکی ہے۔ اسے مسٹر جیٹلی گھڑی ہوئی سیاست سے تعبیر فرما رہے ہیں۔ مسٹر جیٹلی! نفرت، تشدد، قتل اور جہالت کی سیاست کو آپ نے اپنے سیاسی کارخانے میں مینو فیکچر کیا ہے‘‘۔
یہ بیان 2نومبر کے اخباروں میں شائع ہوا ہے۔ مفتی صاحب! آپ اسے ملاحظہ فرما لیجئے اور آپ کے اسمبلی میں کشمیر کے ایک ایم ایل اے انجینئر رشید کے چہرہ پر دہلی میں سیاہی پوتی گئی۔ اگر یہی سیاہی آپ کے چہرہ یا آپ کی پیاری بیٹی کے چہرہ پر پوتی گئی ہوتی تو شاید فرقہ پرست مودی کی فرقہ پرست پارٹی کے فرقہ پرست ایم ایل اے جس نے ایسی گھناؤنی حرکت کی اسے آپ ہر گز غیر فرقہ پرست نہیں کہتے اور ان کے گرو نریندر مودی کو فرقہ پرست کہتے۔
مفتی محمد سعید اور محبوبہ مفتی کو انہی کی پارٹی کے ایک ایم پی نے گائے کے گوشت کے واقعہ کے فوراً بعد مفتی صاحب سے بی جے پی کے ساتھ اتحاد پر نظر ثانی کیلئے کہا اور اتحاد کو ختم کرنے کا مشورہ دیا مگر مفتی صاحب نشۂ اقتدار میں ہیں وہ کیسے اس پر توجہ فرماتے۔ باپ سے زیادہ سمجھ دار تو بیٹی نظر آتی ہے جس نے کہا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے رویہ کے خلاف مسلمان نہیں ہندو دانشور اور رائٹرس اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ مفتی کشمیر کا حال تو اتنا برا ہے کہ اپنی بیٹی کی آواز کو بھی سننے سے قاصر ہیں۔ ابھی تک فرقہ پرستوں نے ان پر پریشر بنائے رکھا ہے اور ایک وقت آئے گا کہ ان کو ہر کام کیلئے استعمال کریں گے۔ اسی کی ایک کڑی ہے کہ یہ مودی فرقہ پرست نہیں ہیں۔
مفتی صاحب! بہار کے الیکشن میں آپ کے دوست اور بھائی نریندر مودی نے اعلان کیا ہے کہ اگر دلتوں کے کوٹے سے مسلمانوں کو ریزرویشن دیا گیا تو وہ جان دے دیں گے مگر ایسا ہونے نہیں دیں گے۔ مودی کی اس آواز میں مفتی صاحب آپ کو مسلمانوں سے بھائی چارہ اور محبت کا سُر سنائی دے رہا ہے۔ آپ کی ڈکشنری میں نفرت کو محبت اور عدم رواداری اور تشدد کو روا داری اور دلبری کہتے ہیں کیا؟ کیا نریندر مودی سری نگر آکر ایسی بات کہیں جب ہی مفتی محمد سعید کے کان کھڑے ہوں گے۔ پٹنہ کی آواز سری نگر تک نہیں پہنچ رہی ہے۔ کشمیری مسلمانوں کی رائے کیا یہی تھی کہ ’’ہم تمہیں کامیاب کریں گے اور تم فرقہ پرستوں سے ہاتھ ملاؤگے اور فرقہ پرستوں کو ہم پر مسلط کروگے‘‘؟ کشمیری عوام خاص طور سے مسلمانوں کی مینڈیٹ یہ کھلی توہین نہیں ہے۔ ایک نہ ایک دن مفتی سعید اور محبوبہ مفتی دونوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ کوے کی صحبت شاہین کو کوا ہی بناتی ہے، کوا شاہین نہیں بن پاتا ؂
ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازی
خراب کر گئی شاہیں بچے کو صحبتِ زاغ

قرآن میں گائے کا ذکر


عبدالعزیز
موبائل: 9831439068    azizabdul03@gmail.com
    ’’یاد کرو، جب ہم نے موسیٰ کو چالیس شبانہ روز کی قرار داد پر بلایا، تو اس کے پیچھے تم بچھڑے (گائے) کو اپنا معبود بنا بیٹھے۔ اس وقت تم نے بڑی زیادتی کی تھی مگر اس پر بھی ہم نے تمہیں معاف کر دیا کہ شاید اب تم شکر گزار بنو‘‘ (سورہ بقرہ: آیت52)۔
     سورہ بقرہ قرآن مجید کی دوسری سورہ ہے اور سب سے بڑی سورہ ہے جو ڈھائی پارے پر مشتمل ہے۔ اس سورہ کا نام بقرہ ہے اس لئے کہ ایک آیت 52 میں بقرہ یعنی گائے کا ذکر آیا ہے۔ ’لغات القرآن‘ میں ’بقر ‘ کے معنی بیل، گائے ہے۔ یہ اسم جنس ہے، مذکر اور مونث دونوں کیلئے استعمال ہوتا ہے۔
    آیت 52 میں ’’اس وعدے کی طرف اشارہ ہے جو مصر سے نکلنے اور دریا پار کرچکنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام و ہدایات دینے کیلئے فرمایا اور اس مقصد کیلئے ان کو کوہِ طور پر پر بلایا۔ یہ چالیس دن کی مدت اس قلبی و روحانی تیاری کیلئے تھی جو کتاب الٰہی کے بارِ عظیم کے متحمل ہونے کیلئے ضروری تھی۔ ابتدا میں یہ وعدہ تیس دنوں کا تھا لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام مقررہ وقت سے پہلے پہنچ گئے۔ ان کی اس جلدی کے سبب اللہ تعالیٰ کی حکمتِ تربیت مقتضی ہوئی کہ یہ مدت 30 دنوں سے بڑھاکر چالیس دن کر دی جائے۔ مذکورہ آیت میں یہ پوری مدت جمع کر دی گئی ہے۔ ’’اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور اس کو پورا کیا دس راتیں بڑھاکر۔ اس طرح اس کے رب کی مقررہ مدت چالیس راتوں میں پوری ہوئی‘‘۔  ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِہٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ ْ یعنی موسیٰ کے پہاڑ پر چلے جانے کے بعد تم دھات کا ایک بچھڑا بناکر اس کی پرستش میں لگ گئے۔ کتاب خروج باب 32 میں اس واقعہ کی تفصیلات موجود ہیں لیکن یہود نے اپنی عادت کے مطابق اس میں حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی ملوث کر دیا ہے جس کی قرآن نے دوسرے مقام پر تردید فرمائی ہے۔
    ’’وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ‘‘یعنی اس گئو سالہ پرستی کا ارتکاب کرکے تم نے خود اپنی جانوں پر بہت بڑا ظلم کیا ہے، چنانچہ دو ہی آیتوں کے بعد قرآن نے خود اس کی وضاحت کر دی ہے ’’اے میری قوم کے لوگو؛ تم نے بچھڑے (گائے) کو معبود بناکر اپنی جانوں پر ظلم کیا‘‘۔ ظلم کی اصل حقیقت حق تلفی کرنا ہے۔ شرک کا ارتکاب کرکے انسان اپنے نفس کی سخت تحقیر کرتا ہے کیونکہ وہ خدا کا خلیفہ اور تمام مخلوقات سے اشرف ہونے کے باوجود اپنے ہی جیسی یا اپنے سے بھی کسی گھٹیا مخلوق کو اپنا خدا بنا بیٹھتا ہے۔ اپنے نفس کی اس سے بڑی حق تلفی اور کیا ہوسکتی ہے؟‘‘
    گئو سالہ پرستی کا واقعہ: صاحب ’روح القرآن ’گئو پرستی‘ یا ’گوسالہ پرستی‘ کے واقعہ کے متعلق رقم طراز ہیں: بنی اسرائیل جب فرعونیوں کی غلامی سے نجات پاکر بحر قلزم عبور کرکے جزیرہ نمائے سینا میں پہنچ گئے۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد انھوں نے خود موسیٰ علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ اب ہمیں زندگی گزارنے کیلئے کوئی رہنما اصول دیئے جائیں، جس کی روشنی میں ہم ایسی زندگی گزاریں جس سے ہمارے اللہ راضی ہو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی تو پروردگار نے احکام و ہدایات دینے کیلئے انھیں کوہِ طور پر طلب فرمایا، لیکن یہ ہدایت فرمائی کہ کوہ طور پر آکر تیس شب و روز، روزے اور اعتکاف کی حالت میں رہو تاکہ تم میں وہ قلبی اور روحانی استعداد پیدا ہوجائے جو کتابِ الٰہی کے بارِ عظیم کو اٹھانے کیلئے ضروری ہے۔ کتب الٰہیہ کے نزول کی تاریخ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ہر نبی کو کتاب اتارنے سے پہلے ایک خاص مدت تک ایک ایسے ماحول میں رہنے کا حکم دیا جس میں اس کے گرد وپیش فضائے ملکوتی اور انوارِ الٰہی کے سوا کچھ نہ تھا۔ مسلسل روزہ رکھنے اور اللہ سے لو لگائے رہنے سے دل و دماغ میں ایک ایسی پاکیزگی پیدا ہوجاتی ہے جس سے انسانی کثافتیں کم اور ملکوتی صفات غالب آجاتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں کلام الٰہی کا تحمل اور انوارِ الٰہی کی برداشت نسبتاً آسان ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو بھی ایسی ہی کیفیت میں ایک خاص عرصے تک رکھا گیا اور تب انھوں نے وہ پہاڑی وعظ کہا جو کتاب الٰہی کا پیش خیمہ ہے۔ ہمارے رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم چالیسویں سال میں پہنچ کر ایسے خلوت پسند بنا دیئے گئے کہ آپ نے آبادی چھوڑ کر غارِ حرا کو اپنا مسکن بنایا۔ آپ وہاں مسلسل روزے اور اعتکاف کی حالت میں تھے کہ آپ پر انوارِ الٰہی کی تجلی پڑی اور کلامِ الٰہی نے آپ کے قلب مبارک کو اپنا مورد بنایا۔
    معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی خاص حکمت کے تحت جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مزید دس دن کوہ طور پر ٹھہرنے کا حکم دیا تو آپ چونکہ بنی اسرائیل کو تیس شب و روز کا کہہ کر گئے تھے اس دس روزہ تاخیر کے باعث مفسدین کو اپنا کام کرنے کا موقع مل گیا ان میں سامری نام کا ایک شعبدہ باز منافق تھا جو بنی اسرائیل میں جانا پہچانا جاتا تھا اس نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بنی اسرائیل کے زیورات جو مصر سے نکلتے ہوئے شاید اس کے پاس جمع کرا دیئے گئے تھے، سے ایک بچھڑا بنایا اور وہ چونکہ پیشہ کے اعتبار سے ایک سنار تھا اور سونے سے مختلف شکلیں تیار کرنے کا ماہر تھا۔ اس نے اپنے فن کا ذہانت سے استعمال کرتے ہوئے بچھڑے کو اس شکل میں ڈھالا کہ اس کے اندر ہوا گزرنے سے بولنے کی آواز آتی تھی جس طرح ہارن ہوا ہی کے گزرنے سے بجتا ہے، اسی طرح کی اس نے کوئی تکنیک استعمال کی تھی، لیکن سادہ لوح عوام کو ان کی قدیمی گو سالہ پرستی کی عادت کے باعث بہکانے میں کامیاب ہوگیا کہ اصل میں یہی گو سالہ تمہارا خدا ہے اور یہی مصر سے تمہیں نجات دے کر لایا ہے۔ موسیٰ نے نہ جانے کہاں بھول گئے انھیں واپس آنا ہوتا تو آگئے ہوتے، چنانچہ گو سالہ پرستی کے اسیر لوگ جو اب تک اپنے آپ کو اس سے نجات نہ دے سکے تھے، اس فریب میں آگئے اور انھوں نے اس بچھڑے کے سامنے سر جھکا دیا۔ اس پر چڑھاوے چڑھائے اور اس کی پوجا کرنا شروع کر دی۔ موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور پر ہی اللہ تعالیٰ نے اس حادثے کی اطلاع دی، آپ نہایت پریشان ہوئے کہ میں اللہ تعالیٰ سے کتاب ہدایت لینے کیلئے آیا ہوں لیکن میری قوم کا حال یہ ہے کہ میری چالیس شب و روز کی غیر حاضری میں جب کہ حضرت ہارون علیہ السلام جیسے پیغمبران میں موجود تھے، شرک جیسی عظیم گمراہی میں مبتلا ہوگئے۔ تورات میں بھی باب 32 اور آیات 1 تا 7 میں اس واقعہ کو ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں اس واقعہ کو ذکر کرنے کے بعد پروردگار فرماتا ہے: وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ ’’اے بنی اسرائیل! تم موسیٰ علیہ السلام کی غیر حاضری میں گوسالہ پرستی کا ارتکاب کرکے ظلم کر رہے تھے‘‘۔ ’’ظلم‘‘ حق تلفی کو کہتے ہیں اور ایسی حرکت کا نام بھی ظلم ہے جو سراسر خلافِ عقل اور خلافِ فطرت ہو۔ ان دونوں حیثیتوں سے اگر ہم غور کریں تو ظلم کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے۔ انسان کی ذات و صفات کا خالق صرف اللہ ہے۔ اسی نے اسے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ اس کے عمل تخلیق اور احسانات کو دیکھتے ہوئے سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ اس کے سوا کسی اور کی بندگی کی جاسکتی ہے یا کسی اور کے سامنے سر جھکایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح انسانی فطرت جو ہمیشہ ٹھیک راستے پر چلتی ہے اس کا بھی تقاضا یہ ہے کہ مخلوق خالق کے سوا اور کسی کے سامنے نہ جھکے اور احسان سے گراں بار شخص اپنے محسن کے سوا کسی اور کی بندگی کیلئے تیار نہ ہو، لیکن بنی اسرائیل نے گوسالہ پرستی کا ارتکاب کرکے اگر ایک طرف عقل اور فطرت کے تقاضوں کو پامال کیا تو دوسری طرف انھوں نے خود اپنے نفس کی سخت تحقیر کی۔ انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات اور اپنا خلیفہ بنایا ہے۔ کیا خلیفۃ اللہ کیلئے یہ بات مناسب ہے کہ وہ ان چیزوں اور ان مخلوقات کے سامنے جھکے جو اس کی خدمت کیلئے پیدا کی گئی ہیں؟ جب وہ اپنے سے فروتر مخلوق کے سامنے جھکتا ہے تو وہ حقیقت میں اپنے نفس اور اپنی حیثیت کی حق تلفی کرتا ہے۔
    بنی اسرائیل کا یہ جرم اس قدر مکروہ اور اپنے نتائج بد میں اس قدر خطرناک تھا کہ اس پر اگر اللہ کا غضب بھڑکتا تو کوئی تعجب کی بات نہ ہوتی، لیکن اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنے احسان کے طور پر اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تم نے تو ہر طرح سے اپنی تباہی کا سامان کیا، لیکن اللہ تعالیٰ کا کرم دیکھو کہ اس نے اتنا بڑا جرم بھی معاف کر دیا او ریہ معافی صرف اس لئے تھی تاکہ اللہ کا شکر ادا کرو۔ اس کی نعمتوں کی قدر پہچانو، اپنی حیثیت کو سمجھو اس کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے میں کوتاہی نہ کرو‘‘۔
    گائے کے متعلق ہندوؤں کے خیالات: ہندو بھائیوں میں جو لوگ گائے کی پوجا اور پرستش کے قائل نہیں ہیں وہ تو گائے کو محض ایک جانور سمجھتے ہیں۔ گئو پرستوں کی طرح نہ اسے گائے ماتا کہتے ہیں اور نہ معبود سمجھتے ہیں مگر جو لوگ ہندوؤں میں پرانے خیال کے ہیں وہ گائے کے بارے میں طرح طرح کے خیال رکھتے رہیں۔ پہلے کے ہندوؤں کا خیال تھا پانی کے اوپر ایک بڑی مچھلی ہے۔ اور اس کی پشت پر ایک گائے کھڑی ہے اور گائے کی ایک سینک پر زمین قائم ہے۔ وہ گائے تھک جاتی ہے تو ایک سینک سے دوسرے سینک پر لے لیتی ہے اور یہی حرکت بھونچال (زلزلہ) کا باعث ہوتی ہے مگر ایسے خیالات کی غلطی ثابت ہوگئی۔ شاید اب ہندوؤں میں جو گاؤپرست ہیں وہ بھی سائنس کے اس دور میں یا گائے کے بارے میں اس طرح کی رجعت پسندی کی جرأت نہ کرسکیں مگر ابھی گائے کے متعلق جو بہتوں کے خیالات تھے کہ وہ ماں اور معبود ہے۔ اسے مرکز کی برسر اقتدار پارٹی اور حکمراں پارٹی نے سیاسی رنگ دے دیا ہے جس کی وجہ سے گائے کی سیاست یا گوشت خوری کی سیاست زوروں پر ہے۔ ایسے لوگ جو گئو پرست ہیں وہ گائے کے کو کھانے والوں کو قتل کر دینا جائز سمجھتے ہیں اور اپنی مذہبی کتابوں کے حوالے سے اس طرح کی فاسد اور لغوقسم کے بیانات دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہریانہ کے ایک وزیر نے بھی اسی طرح کی بات کی تھی۔ وزیر اعلیٰ ہریانہ نے بھی ایک بیان میں کہہ دیا کہ مسلمانوں کو ہندستان میں رہنا ہے تو گائے کا گوشت چھوڑنا ہوگا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہندستان ان کے باپ دادا کی بنائی ہوئی زمین ہے، حالانکہ ’’بادشاہوں کی نہیں اللہ کی ہے یہ زمین‘‘۔

ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل ۔ بابری سے دادری تک اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

پروفیسر محسن عثمانی ندوی


پندرہ سولہ کروڑ کی مسلم آبادی اس ملک میں رہتی ہے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق مسلمانوں کی آبادی ۱۳۸ ملین ہے، یعنی ۱۴ کروڑ سے کم ۔غیر سرکاری اندازہ کے مطابق مسلمان ۱۷ کروڑ کے قریب ہیں ۔دنیا میں انڈونیشیا کے بعدیہ سب سے بڑی مسلم آبادی ہے قابل لحاظ عددی قوت کے باوجود یہاں مسلمان تعلیم اور اقتصادیات اور ملازمتوں میں اور سکیوریٹی اور تحفظ کے شعبوں میں حاشیہ پر ہیں ، گوپال سنکھ کمیشن رپورٹ ۱۹۸۰ کے مطابق سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کی نمائندگی بہت کم ہے پرائیویٹ سکٹر میں بھی ان کا کوئی پرسان حال نہیں ،اس سکٹر میں حکومت کی سفارش پر کچھ مراعات ملی ہیں تو صرف ایس سی / اس ٹی والوں کو ملی ہیں ،سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق معیشت اور تعلیم میں مسلمانوں کا حصہ صفر کے قریب ہے ۔وہ ترقی کے تمام شعبوں میں بے حد پسماندہ ہیں ، ان کی حالت شیڈولڈ کاسٹ اور شیڈولڈ ٹرائب سے زیادہ گئی گذری ہے۔کبھی کبھی ان کے لئے مراعات کا اعلان کیا جاتا ہے ، لیکن یہ سہولیات اور مراعات انہیں نہیں دی جاتی ہیں ،پھر اسی کے ساتھ ان کے ساتھ زیادتیاں ہوتی ہیں، جھوٹا الزام لگاکر انہیں قتل بھی کردیا جاتا ہے جیسا کہ دادری میں ہوا ، فسادات میں ان کا قتل عام ہوتا ہے، ان کو تحفظ فراہم کرنے میں حکومت کا رکردگی مایوس کن ہے ، سکیوریٹی فورسز میں مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کے برابر ہے ، انہیں ہر طرح کی زیاتیوں کا شکار بنایا جاتا ہے ، نسل کشی اور نسلی تطہیر کے عذاب سے انہیں گذرنا ہوتا ہے ، جھوٹے الزمات میں انہیں پوٹا اور ٹاڈا کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے ان کا انکاونٹر کیا جاتا ہے یاکئی کئی سال کے لئے انہیں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیاجاتا ہے مدرسوں کو شبہات کے دائرہ میں لانے کی کوشش ہوتی ہے ۔ دینی جماعتوں کے کا موں میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے، مسلمانوں کو غیر ملکی اور حملہ آور اور غدار قرار دے کی ان کی شبیہ خراب کی جاتی ہے ،گھر واپسی کے نام پر ان کا مذہب بدلنے کی کوشش ہوتی ہے اسکولوں میں سوریہ نمسکار اور یوگا اور گیتا کا پاٹھ وغیرہ کے ذریعہ مسلم بچوں پر ہندو تہذیب کو مسلط کرنے کی کوشش ہور ہی ہے ۔بابری مسجد کی جگہ پر مورتیاں رکھ دی گئی ہیں جن کی پوجا ہوتی ہے اور وہاں رام مندر بنانے کا منصوبہ ہے، مسلمانوں کی اکثریت کی زبان اردو کو دیس سے نکالاجارہا ہے بڑی کمپنیوں کے ڈائرکٹر اور اعلی عہدہداروں اور سینیر اگزیکیوٹیو کی فہرست اٹھاکر دیکھ لیجئے مسلمان ایک فی صدی بھی نہیں ملیں گے اس سکٹر میں پسماندہ طبقات کے لئے حکومت نے خصوصی رعایت برتنے کی سفارش کی تھی لیکن اس کا فائدہ مسلمانوں کونہیں بلکہ دلتوں کو ملا ، تجارت تعلیم اور ملازمت ہر جگہ مسلمانوں کی نمائندگی بیحد کم ہے ،ان کی حالت قابل رحم ہے تعلیمی اداروں میں ایس سی ایس ٹی کے لئے رزرویشن ہے اس کا فائدہ ان کو پہونچا ہے وہ ملازمتوں میں بھی نظر آتے ہیں لیکن مسلمانوں کے لئے نہ تعلیمی اداروں میں رزرویشن ہے اور نہ نوکریوں میں ان کے لئے کوٹا ہے۔ نہ جاب مارکٹ میں ان کی کوئی جگہ ہے ، اس لئے وہ اچھی ملازمتوں میں اعلیٰ منصب پر آسانی کے ساتھ نظر نہیں آتے ہیں ان کا وجو د غیر موجود اور معشوق کی موہوم کمر کی مانند معدوم ہوتا جارہا ہے ’’ ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے ‘‘ آئی ایف ایس اور آئی پی ایس، ریلوے اور محکمہ صحت ،او ر دیگر محکموں میں ان کا فی صد ۱۴ اور ۱۵ فی صد ہونا چاہئے تھا لیکن دو تین فی صد ہے ، جارحانہ قوم پرستی کی یہ’’ نامہربانیاں‘‘اس قوم کے ساتھ روا رکھی گئی ہیں جس نے کئی سو سال تک اس ملک میں عزت کے ساتھ حکومت کی ہے اور غیر مسلموں کے ساتھ بحیثیت مجموعی فراخ دلی اور رواداری کا معاملہ کیا ہے اور اس ملک کو سنوارا اور سجایا ہے ، آج اس ملک کا ضمیر اس صورت حال پر گریہ کناں ہے 
رورہی ہے آج اک ٹوٹی ہوئی مینا اسے 
کل تلک گردش میں جس ساقی کے پیمانے رہے 
ہندوستان کی جنگ آزادی میں بھی مسلمانوں کا حصہ کسی سے کم نہیں ہے ۔انہوں نے اس چمن کو اپنے خون سے سینچا ہے۔ اہل قلم نے اس موضوع پر کتابیں تصنیف کی ہیں لیکن یہاں پھولوں کے ساتھ کانٹوں کا معاملہ کیا جارہا ہے اس سے آگے بڑھ کر ہندتوا کے لیڈرمستقبل میں ’’ مسلم مکت بھارت‘‘ بنانے کا اعلان کر چکے ہیں۔پہلے ساورکر،گولوالکر اور ہیڈگیوار کے مسلم دشمنی پر مبنی نظریات انفرادی نظریات تھے زیادہ سے زیادہ ایک بہت چھوٹے فرقہ سے اس کی نمائندگی ہوتی تھی لیکن اب یہی باد سموم ہے جو وطن کے چمن میں چل رہی ہے اور پھولوں کو مرجھا دے رہی ہے۔ نئی حکومت کا نعرہ ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ ایساخواب ہے جو شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا ہے ۔اور نہ اس پر عمل کر نے کا پر خلوص ارادہ ہے ۔
یہاں مسائل کی شناخت کے طور پر ان باتوں کا ذکر کیا گیا ہے بحری سفر میں سمت سفر تلاش کرنے سے پہلے پوزیشن فکسنگ ضروری ہوتی ہے ، یعنی یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔ اس طرح آگے کا لائحہ عمل طے کرنے سے پہلے موجودہ حالت کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے ۔ اس وقت یہ سنگین صورت حال ہے جس سے نکلنے کا راستہ ہمیں ڈھونڈھنا ہے ،آج مسلمانوں کے مسائل پر غور کرنے والوں کو کسی متعین سوچ تک پہونچنے کی ضرورت ہے اور پھر اس سوچ کو لائحہ عمل میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ پھر لائحہ عمل کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے ۔ بہت قابل قدر ہیں وہ لوگ جنہوں نے ملت کے غم کو اپنا غم بنایا ہے وہ رات دن اس کیلئے سرگرم عمل رہتے ہیں ،ہم یہاں مسلم قیادت کو مطعون کرنا نہیں چاہتے مسلم قیادت پر لاف زنی خطرناک رجحان ہے ،آزادی کے بعد اور تقسیم وطن کے بعد کے جانگسل حالات میں مسلم قیادت نے بہت سے قابل تعریف کام کئے ہیں ۔اس کا اعتراف نہ کرنا احسان ناشناسی ہے ناشکری ہے ،اورمسلم قیادت کو طنزتشنیع کا نشانہ بنانا زبان درازی ہے ، مسلمانوں کی زوال پذیر معیشت اور افتصادی بدحالی کے باوجود یہی مسلم قیادت تھی جس نے برادران وطن تک حق کا پیغا م پہنچانے کے لئے ملک کی تمام علاقائی زبانوں میں قرآن مجید کے ترجموں کا اہتمام کیا ، ہندی اور مقامی زبانوں میں سیرت اور اسلام کے تعارف کی کتابیں شائع کیں ، قریہ بہ قریہ کو بہ کو دینی تعلیم کے ادارے قائم کئے ، ایک بڑی ریاست میں گاؤں گاؤں بچوں کو دینی تعلیم دینے اور اردو زبان سکھانے کے لئے مکتب کا جال بچھا دیاگیا۔ مسلمانوں کو اچھا مسلمان بنانے اور ان کے اندر ایمانی روح پھونکنے کیلئے اور ان کا رشتہ نماز سے اور مسجدوں سے جوڑنے کے لئے شہر بہ شہر اور گاؤں گاؤں تبلیغ کی جماعتیں پہونچیں، جن کی کوششوں سے لاکھوں لوگ نمازی اور ہزاروں تہجد گذار ہوئے ، ایسے تھنک ٹینک سامنے آئے جنہوں نے مسلم ایشوزپر مسلمانوں کے جدید اور قدیم تعلیمیافتہ لوگوں کو اور صاف دل برادران وطن کو بھی جمع کیا اور مسلمانوں کے امپاورمنٹ پر تحقیقی کتابیں بھی پیش کیں اورمسلم ایشوز پر سمینار بھی کئے ۔آزاد ہندوستان میں فرقہ ورانہ فسادات کے بعد مسلم قیادت کے لوگ ایک پلیٹ فارم پر جمع بھی ہوئے اور انہوں نے ملک کے دورے بھی کئے ، غیر مسلموں کے انسانی ضمیر کو خطاب کرنے کے لئے انسانیت کے نام پر بھی کچھ دردمند علماء کھڑے ہوئے اور انہوں نے برادران وطن کو خطاب کیا۔مسلم پرسنل لا پر خطرات کے باد ل منڈ لائے تو مسلم قیادت نے زبردست اتحاد کا ثبوت دیا ،مقابلہ کے امتحانات میں مسلم نوجوانوں کی تربیت کے لئے بھی ادارے قائم ہوئے، جنوبی ہندوستان میں میڈیکل کالج اور انجینرنگ کالج بھی مسلمانوں نے قائم کئے الغرض یہ کہنا درست نہیں کہ ہندوستان میں مسلم قیادت نے کوئی کام نہیں کیا ، اس طرح کا الزام غلط ہے اوریہ الزام لگانے کے لئے بے خبری عقل کے ساتھ بے مہری دل کی بہت بڑی مقدار درکار ہے۔ لیکن آزادی کے بعد سے بتدریج حالات اتنے سخت اور سنگین ہو گئے ہیں کہ گذشتہ پچاس ساٹھ سال پہلے سے جو کوششیں کی گئیں ہیں اور کی جارہی ہیں وہ اب ناکافی ثابت ہورہی ہیں اب نئے حالات میں نئی تدبیریں اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ 
’’ ہے جنوں تیرا نیا پیدا نیا ویرانہ کر ‘‘ 
ہمیں پھر سے اپنے کاموں کا جائزہ لیناہے اور نئے عزم اور نئی قوت کے ساتھ عمل کی شاہ راہ ڈھونڈنی ہے اور اس شاہراہ پر صبر واستقامت کے ساتھ چلنا ہے ’’وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر‘‘مسلمانوں کے تمام مسائل کو مختصر لفظوں میں Nut shell میں بیان کیا جائے تو ہم اسطرح کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کو اکثریت کا ایک طبقہ ان کا جائز دستوری اور جمہوری حق دینے کیلئے تیار نہیں ہے یہ طبقہ پہلے مختصر تھا اب بتدریج بڑا ہوگیا ہے اوروہ سیاہ وسفید کامالک بھی بنتا جارہا ہے اور اب اقتدار کی کنجی بھی اس کے ہاتھ میں آگئی ہے ۔ اب ہم مسائل کے حل کے بارے میں سوچیں اور قرآن سے رہنمائی حاصل کریں تو درج ذیل باتوں پر ہمیں غور کرنا ہوگا۔ 
۱۔ ہمیں اس آیت پر غور کرنا ہوگا لاتستوی الحسنہ ولا السیءۃ ادفع بالتی ہی أحسن فاذا الذی بینک وبینہ عداوۃ کأنہ ولی حمیم وما یلقاہا الذین صبروا مایلقاہا الا ذو حظ عظیم ( نیکی اور بدی برابر نہیں ہوسکتی ، بدی کو نیکی کی بہترین شکل سے دور کرو پھر تم دیکھو گے کہ تمہارے اور جس شخص کے درمیان تمہاری دشمنی ہے وہ تمہارا گہرا دوست بن گیا لیکن یہ خوبی نہیں ملتی ہے مگر انہیں جو صبر اختیار کرتے ہیں اور انہیں جو بڑی قسمت والے ہیں ) قرآن نے حل یہ بتایا ہے کہ برائی کو اعلیٰ درجہ کی نیکی سے ہٹاؤ یعنی نیکی بھی معمولی درجہ کی نہیں بلکہ بلندترین اور بہترین ہونی چاہئے یعنی دشمن کے ساتھ ایسا سلوک ہونا چاہئے جو دل کو جیت لے ، اگر ایسا سلوک کیا جائے گا تو جو تمہارا دشمن تھا وہ تمہارا دوست بن جائے گا ، قرآن کہتا ہے کہ اس کے لئے اعلی درجہ کا صبرو تحمل درکار ہے اور یہ بڑی بخت آوری کی بات ہے ۔ مسلمانوں کو اعلیٰ درجہ کی ایمانی اور اخلاقی قوت درکار ہے، اللہ سے تعلق کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ، دشمن کے ساتھ حسن سلوک کے لئے اس کے ساتھ تعلقات استوار کرنا ضروری ہے ۔ مسلمان جہاں کہیں بھی رہتے ہوں غیر مسلم پڑوسیوں سے ،برادران وطن سے ان کے روابط استوار ہونے چاہئیں اور ان کے حسن اخلاق کا اچھا نقش غیر مسلموں کے دلوں پر قائم ہونا چاہیے،غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک کا مطلب مداہنت نہیں ہے یعنی ہمیں دین وایمان کے کسی جز سے دستبردار ہونے کی ضرورت نہیں۔ لیکن ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ ظلم وستم کی دلدوز تاریخ کے باوجود ملک کے خمیر میں شرافت اور روحانیت کا جز بھی موجود ہے خاکستر میں دبی ہوئی اس چنگاری کو شرارہ بنانے کی ضرورت ہے ۔اس کے لئے ہمیں متصوفانہ نرمی فراخ دلی وسعت نظری اور توسع اختیار کرنے کی ضرورت ہوگی خدمت خلق اور خدمت انسانیت کو اپنا شعار بنا نا ہوگا اور ضرورت پیش آجائے تو عارضی طور پرمستقبل کے بڑے فائدہ کے لئے اور حقوق کی بازیابی کے لئے اپنے کسی جائز حق سے بھی دست بردار ی اختیار کی جاسکتی ہے ۔ یہ حلال کو حرام کرنا نہیں ہے بلکہ حکمت عملی ہے ، اور اعتماد کی بحالی اور خلیج کو پاٹنے کی ایک کوشش ہے ،اس کی مثال ہمیںیہاں مسلمانوں کے دور حکومت میں بھی ملتی ہے ، بابر نے اپنے بیٹے ہمایوں کو جو نصیحت کی تھی وہ رکارڈ میں ہے، اس نے کہا تھا کہ ’’بیٹے یہ ملک ہندوستان مختلف مذہبوں کا گہوارہ ہے ۔یہ اللہ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں یہاں کی بادشاہت عطا کی ہے ،ہمیں اپنے دل سے تمام امتیازات کو نکال دینا چاہئے ،اور ہر فرقہ کے ساتھ اس کی روایات کے مطابق انصاف کرنا چاہئے ، انتظامی معاملات میں لوگوں کا دل جیتنے کے لئے گائے کی قربانی سے اجتناب کرو ، اپنی حکومت کی سرحدوں میں عبادت گاہوں اور مندروں کو نقصان نہیں پہونچانا ، حکومت کا ایسا ڈھنگ نکالو کہ مملکت میں رہنے والے تمام لوگ بادشاہ سے خوش ہوں اور بادشاہ اپنی عوام سے خوش ہو ، اسلام عمدہ اعمال سے فروغ پاسکتا ہے خوف سے نہیں ( خوف دلا کر نہیں)‘‘ یہ نصیحت جو بابر نے کی تھی ، توسع رواداری اور حکمت عملی ہے جس کی جھلک ہمیں صلح حدیبہ میں نظر آسکتی ہے یعنی مستقبل کے بڑے فائدہ کے لئے بعض حقوق میں تنازل اختیار کرنا ،ملک میں امن وامان کے لئے اور اعتماد اور اتحاد کی فضا پیدا کرنے کے لئے جائز حق سے تنازل اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔کیونکہ اس ملک میں مسلسل کشمکش کی فضا مسلمانوں کے مفاد میں نہیں ہے اور دعوت کے کام کے لئے تو یہ فضا سم قاتل ہے ۔مسائل کاحل ڈھونڈنے میں ہمارے پیش نظر یہ حقیقت بھی ہونی چاہئے کہ اس ملک میں پرامن بقائے باہم اور مذاہب کے یکساں احترام کی مضبوط روایت بھی موجود رہی ہے اس مدفون یا کمزور روایت کو سہارا دے کر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ہمیں غور کرنا ہوگا ہم اس روایت کو کیسے مضبوط کریں۔ 
۲۔ ہمیں اس حقیت کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ ظلم اور نا انصافی اور استحصال کا شکار یہاں دوسری اقلیتیں بھی ہیں اور دلت گروپ ، اوبی سی ، ایس سی ، ایس ٹی یعنی پسماندہ طبقے بھی یہاں انصاف سے محروم ہیں اور وہ اعلیٰ ذات کے مقابلہ میں بہت بڑی اکثریت میں ہیں۔ ہمیں اس پر بھی غور کرنا ہوگا۔ ہم ان سے تعلقات کیسے استوار کریں اور کیسے ان کی مدد کریں اور کیسے اپنے لئے ان کی مددحاصل کریں اور ہمیں اگر خو دکو مستحکم کرنا ہے تو آگے بڑھ کر ہمیں پیشقدمی کرنی ہوگی اور سماج کے محروم طبقہ کو گلے سے لگانا ہوگا ہمیں ان کی مدد کرنی ہوگی کچھ لوگوں کو اس کام کے لئے فارغ ہوناہو گا ۔
۳۔ غیر مسلموں سے اور خاص طور پر پسماندہ طبقات سے قریبی تعلقات اس لئے بھی ضروری ہے کہ مسلمان امت دعوت ہیں اور دعوت کے لئے کامیابی کے امکانات سماج کے محروم طبقہ میں زیادہ ہیں ۔ہمیں پوری سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کرنا ہوگا کہ مسلمانوں اور دلتوں کے درمیان قربت کیسے ہو تعلقات کیسے استوار ہوں میل جول کیسے بڑھے ۔اور ان کو اسلام سے کیسے قریب کیا جائے۔ہمارے سامنے اسپین کی تاریخ ہے جہاں مسلمانوں نے سات سو اسی (۷۸۰) سال حکومت کی تھی جہاں مسلمانوں نے مسجد قرطبہ جیسی عالی شان مسجد تعمیر کی تھی جہاں مسلمانوں نے مدینۃ الزہراء جیسا شہر آباد کیا تھا جس کو دیکھ کر سیاح آج بھی دنگ رہ جاتے ہیں جہاں بڑے بڑے علماء ، فن طب کے ماہرین اور سائنس داں پیدا ہوئے جہاں بڑ ے بڑے مصنفین اور ادباء نے اپنے اپنے میدان میں پیشوائی کی، وہاں اولیاء بھی پیدا ہوئے ، لیکن علوم وفنون میں پیشوائی کام نہیں آئی ،زہدوتصوف بھی کام نہیں آیا ۔ مسلمان وہاں اکثریت میں کبھی نہیں رہے ،مسلمانوں نے وہاں اکثریت کو یعنی عیسائیوں کو اسلام کی دعوت نہیں دی اس لئے مسلمانوں کو ایک دن ملک کو چھوڑدینا پڑا ۔ اللہ تعالی کو نہ اسپین کی مسجد قرطبہ کی پرواہ ہے نہ دہلی کی جامع مسجدکی پرواہ ہے ۔ نہ خانقاہوں کی پرواہ ہے ، اللہ کے بندوں کو ایمان کی دعوت دینا اصل کام ہے ۔ پہلے خانقاہوں کے ذریعہ ہندوستان میں دعوت اور تبلیغ کا کام ہوتا تھا اب خانقاہیں درگاہیں بن گئی ہیں ۔ اس ملک کو اسپین جیسے انجام سے بچانا ہے توغیر مسلموں سے تعلقات اور دعوت کے کام کو اولیت دینی ہوگی ہندو ازم کے مطالعہ کا شعبہ مدارس اور دوسرے اداروں میں قائم کرنا ہوگا اور ایسے علماء تیار کرنے ہوں گے جو ہندوؤں سے بھی زیادہ ان کے مذہب کو جانتے ہوں اور ہندوؤں کی زبان میں ڈائلاگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔
۴۔ ہندوستان میں اور اس جدید عہد میں مسلمانوں کو اپنی جگہ بنانے کے لئے ایک ہمہ گیر تعلیمی انقلاب کی ضرورت ہے،یہ وہ زینہ ہے جس کے ذریعہ مسلمان ترقی کی بلندی تک پہونچ سکتے ہیں ،ہندوستان میں تعلیم اور معیشت میں مسلمانوں کی حصہ داری تین فی صد سے بھی کم ہے جب کہ آبادی سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ۱۴ فی صد کے قریب ہے ، شمالی ہند کی تین ریاستوں اترپردیش بہار اور مغربی بنگال میں مسلمان ملک کی پور ی مسلم آبادی کا نصف ہیں لیکن معیشت اور تعلیم میں ان کا حصہ صفر کے قریب ہے ، محرومیوں کا بنیادی سبب تعلیم اور معیشت میں پسماندگی ہے جسے دور کرنے کی اشد ضرورت ہے ، دستور میں یہ ضمانت دی گئی ہے کہ اقلیتیں اپنے تعلیمی ادارے قائم کرسکتی ہیں اور انہیں چلا سکتی ہیں ، دستور میں دفعہ ۴۶ کے رہنما اصول میں کہا گیا ہے کہ حکومت عوام کے کمزور طبقات کے تعلیمی اور معاشی مفادات کو فروغ دے گی ۔ عیسائیوں نے بے شمار تعلیمی ادارے قائم کئے ۔ مسلمانوں کو رکاوٹ کے باوجودصبر واستقلال کے ساتھ اس میدان میں کام کرنا ہے۔ مسلم قیادتوں کو اندھیرے کا شکوہ کرنے کی بجائے اپنے حصہ کی شمع جلانے کی کوشش کرنے چاہئے ، مسلمانوں کی جتنی مرکزی اور ریاستی قیادتیں ہیں انہیں اچھے معیار کے ایسے اسکول قائم کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے جن میں مذہبی اخلاقی اور اردوکی تعلیم کا نظم ہو۔اس وقت اچھے معیار کے عصری اسکولوں کے قائم کرنے کی شدید ملی ضرورت ہے اور یہ بھی کار ثواب ہے ۔اور اگر اسکول قائم کرنا بالکل ممکن نہ ہو تو غریب طلبہ کی عصری علو م کی تعلیم کے لئے وظائف کا انتظام کریں اور نظام زکات سے بھی فائدہ اٹھائیں ۔
۴۔ اس ملک میں ہماری ایک اہم ضرورت باہمی اتحاد و اتفاق ہے ۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی تنظیم ایک سے زیادہ تنظیموں میں بٹ جاتی ہے اور باہمی الزام اور دشنام اور اتہام کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ بعض دردمند دل اتحاد کو قائم کرنے کے لئے سنجیدگی کے ساتھ متوجہ ہوئے ہیں اور اس کے لئے انہوں نے اقرار نامہ اور عہد نامہ بھی تیار کیا ہے ۔ یہ بات کبھی ذہن سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے کہ اتحاد کا حکم قرآن کا منصوص حکم ہے اور نص قطعی سے ثابت ہے ، لیکن یہ بات سمجھ لینے کی ہے کہ اتحاد لفظ اتحاد کو دہراتے رہنے سے نہیں پیدا ہوتا ہے ۔ جس طرح پانی آکسیجن اور ہائیڈروجن سے مرکب ہوتا ہے اسی طرح سے اتحاد بھی کچھ مرکب صفات کا نام ہے اتحاد کچھ اخلاقی خصوصیات کا حاصل ضرب ہے ۔ اگر قوم میں یہ صفات پیدا ہوجائیں گے تو اتحاد خود بخود پیدا ہوجائے گا ۔ اور یہ صفات ہیں دوسروں کا احترام ،دوسروں کے مفاد کو اپنے مفاد پر ترجیح دینا عیوب کی پردہ پوشی اور غیبت سے مکمل پرہیز ، نرمی اور خوش اخلاقی ، دوسروں کے ساتھ تعاون ۔ امت میں ان صفات کو عام کرنیکی ضرورت ہے ۔ اگر یہ صفات نہیں پیدا ہوں گی تو اتحاد نہیں پیدا ہوگا اور اگر یہ صفات پیدا ہوجائیں گی تو مسلم معاشرہ گلستان محبت میں بدل جائے گا اور خیرخواہی اور باہمی تعاون کی فضا پیدا ہوجائے گی ۔ان اخلاقی صفات کو پیدا کرنے کیلئے جمعہ کے اردو خطبات کو وسیلہ بنانا چاہئے۔
۵۔مسلمانوں کے بہت سے ضروری کاموں میں ایک ضروری کام انتخابی اسٹریٹجی تیار کرنا بھی ہے تاکہ مسلمانوں کے ووٹ تقسیم نہ ہوں اور مسلم دشمن فرقہ پرست عناصر غالب نہ آسکیں۔اس کے لئے بھی مختلف قیادتوں کا باہمی اعتماد اور اتحاد ضروری ہے ، مسلمانوں کے بہت سے ضروری کاموں میں تعلیمی اور اقتصادی ترقی کے لائحہ عمل تیار کرنے پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ 
اس ملک میں مسلمانوں کے کام ’’ملٹی لائین ہائی وے ‘‘کی حیثیت رکھتے ہیں ہمیں بیک وقت کئی محاذوں پر کام کرنا ہے اس کے لئے الگ الگ صلاحیتوں الگ جماعتوں تنظیموں اور ان جی اوز کی ضرورت ہے یہ ساری تنظیمیں ایک دوسرے کا تکملہ ہوں گی اور ان کے درمیان افتراق اور اختلاف نقصان دہ ہوگا ۔ہمیں کبھی آپس میں باہمی مشاورت بھی کرنی ہوگی خود احتسابی سے کا م لینا ہوگا اور مل کرکے بیٹھنا بھی ہوگا ، ہر کام کے لئے اس میدان کے ماہرین کی مشاورت اور خود احتسابی اور منصوبہ بندی ضروری ہے ۔باہمی مشاورت سے اور خود احتسابی سے بہت سے کاموں کا نیا میدان سامنے آئے گا ،ہمیں اپنے تمام منصوبوں کو پوراکرنا ہوگا سیرت کی کتابوں میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے لکل حال عندہ عتادیعنی ہر کام اور ہر موقعہ کے لئے آپ کے پاس تیاری ہوتی تھی ، سیرت طیبہ کا مسلسل مطالعہ نہ کرنے کی وجہ سے ہمارے یہاں دین داری کا مفہوم بدل گیا ہے ذکر وفکر صبح گاہی اور مزاج خانقاہی کو ہم نے سب کچھ سمجھ لیاہے اور اس پر اکتفا کرلیا ہے بلکہ سچ یہ ہے ہم نے اس کا بھی حق ادا نہیں کیا ہے ۔ ہم ہر اعتبار سے کھوکھلے اور ناقص ہیں ۔ نہ مادی تیاری نہ معنوی تیاری ۔ نہ حالات کا شعور اور نہ اندیشہ فردا ۔ اقبال نے جو دعا مانگی تھی اس پر آمین کہنے کی ضرورت ہے 
احساس عنایت کر آثار مصیبت کا 
امروز کی شورش میں اندیشہ فردا دے
اور اس دعا پر بھی آمین کہنے کی ضر ورت ہے 
مشکلیں امت مرحوم کی آساں کردے 
مور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کردے
قابل مبارکباد ہیں وہ لوگ جو ملت کے غم کو اپناغم بناتے ہیں اور ملت کے مسائل پر غور کرنے کے لئے جمع ہوتے ہیں۔
پروفیسر محسن عثمانی ندوی

Mohsin Usmani <profmohsinusmani@gmail.com>

سونے کی چڑیا اور کولمبس! باشعورقومیں اپنے زمانے اورعلاقے خود ڈھونڈھ لیتی ہیں

عمرفراہی
umar shaikh <umarfarrahi@gmail.com>

ایک زمانے میں ہندوستان کو سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا- کولمبس نے پندرہویںصدی عیسوی میں اسی چڑیا کی تلاش میں اپنی کشتی کے رخ کو ہندوستان کی طرف موڑ دیا  اور بھٹکتے ہوےُ امریکہ کے ساحل پر جا پہنچا - تاریخ میں آتا ہے کہ جب کولمبس اور اس کے ساتھی اس ملک میں داخل ہوےُ تو وہاں کے لوگ سونے کے ٹکڑوں سے کھیل رہے تھے- کولمبس نے انہیں بہت سارا کھانے کا سامان دیا اور بدلے میں کںُی ٹن سونا لے کر واپس لوٹا-اس کا مطلب ہندوستانی تہذیب امریکہ سے کںُی سو گناہ زیادہ قدیم اور ترقی یافتہ ہے - اس کے باوجود ہم امریکہ سے ایک ہزار سال پیچھے ہیں اور آذادی کے بعد سے مسلسل زوال پذیر ہیں تو کیوں ؟ اس کا بھی جواب آپ کو اسی مضمون میں مل جائے گا کہ ہندوستان  جس وقت سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا اس وقت  یہاں پر مغلوں کی حکومت تھی اور انہوں نے نہ صرف انفرادی اور قبائلی زندگی بسر کرنے والی منتشر قوموں کو متحد اور منضبط کیا بلکہ اس پورےخطے میں عدل و انصاف اور مذہبی رواداری کی فضا قاںُم کرتے ہوئے مختلف فلاح وبہبود کے کام کے ساتھ  ہندوستانی معاشرے کو تہذیب و اخلاق کے ایک نئے رنگ میں ڈھال دیا -ان کی تعمیر کی ہوئی خوبصورت عمارتیں آج بھی پوری دنیا میں تعمیراتی علوم اور امور پر تجربہ کرنے والے آرکیٹیکٹ اور سول انجینئرنگ کے طالب علموں کیلئے یونیورسٹی اور تجربہ گاہ کا درجہ رکھتی ہیں اور دنیا یہ دیکھ کر حیران ہے کہ آخر ایک ایسے دور میں  جبکہ نہ تو اس وقت جدید ٹکنالوجی تھی اور نہ ہی مسلمانوں میں جدید تعلیم کے میر کارواں سرسید احمد  اورعلی گڈھ تحریک کا وجود ہی تھا، تاج محل اور لال قلعہ جیسی خوبصورت عمارتوں کی  تعمیر کیسے ممکن ہو سکیں-

انگریز حکمرانوں کی اخلاقی غیرت اور فراخ دلی کو سلام کیا جانا چاہیے کہ جس طرح سے انہوں نے مسلمانوں سے حکومت چھینی تھی اگر وہ چاہتے تو مسلمانوں کی دشمنی میں  ان عمارتوں کو بھی اسی طرح بارود کا ڈھیر لگا کر نیست و نابود کر  دیتے جیسا کہ 6 دسمبر 1992 میں ہندو دہشت گردوں کے ہاتھوں پانچ سو سالہ پرانی عمارت  بابری مسجد  شہید ہو گئی - مگر انہوں نے  ان تاریخی عمارتوں کو آثارقدیمہ کے طور پررجسٹرڈ کر کے  ہمیشہ کیلئے  محفوظ کردیا -بعد میں  انگریزوں نے پورے ملک میں خود بھی اہم سرکاری عمارتیں تعمیر کیں اور ہر طرف جدید ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ریلوے لائنوں کا جال بچھا دیا اور سونے کی چڑیا ہندوستان کی شان و شوکت جوں کا توں برقرار رہی - اب یہ الگ بات ہے کہ ہم اس پورے دور کو غلامی کا دور کہتے ہیں اور ہر سال جشن آذادی بھی  مناتے ہیں- ہم یہ جشن  کیوں مناتے ہیں اور اس آذادی سے ہمیں کیا حاصل ہوا اس کا بھی جواب ہمارے پاس اس کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا کہ یہ ہماری آستھا ہے اور ہم اپنی اس خوبصورت دیوی آستھا  کے آگے ہرروز کسی نہ کسی پنسارے ، دابھولکر اور اخلاق کے خون کا بلیدان پیش کرتے رہتے  ہیں - جبکہ سچائی یہ ہے کہ ہندوستان آذادی سے پہلے جتنا آذاد , خودمختار , خودکفیل اور ترقی یافتہ تھا  آذادی کے بعد کبھی نہیں رہا بلکہ آذادی کے بعد ہمارے نااہل اور بدعنوان سیاستدانوں نے سونے کی اس چڑیا کو ورلڈ  بینک میں گروی رکھ دیا ہے اور یہ چڑیا ایک بار پھر کسی کولمبس کے انتظار میں ہے-
ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی ابھی تک دنیا کے چوبیس ملکوں کا سفر کر چکے ہیں اور سرمایہ داروں کو دعوت بھی دی ہے کہ وہ ہندوستان میں اپنی تجارت کو فروغ دیں مگر ابھی تک دنیا کے کسی کولمبس نے اپنے جہاز کا رخ ہندوستان کی طرف نہیں موڑا ہے - محترم مودی جی کو کون سمجھائے کہ جو قومیں باشعور بیدار اور مہذب ہوتی ہیں وہ اپنے زمانے اور علاقے خود ڈھونڈھ لیتی ہیں- دراصل اگر ہمارے اندر مغلوں اورانگریزوں کی طرح حکمرانی اور سیاست کا سلیقہ اور شعور ہوتا تو کولمبس خود ہماری تلاش میں ہوتے اور ہم خود ایک امریکہ دریافت کر لیتے - اسی تناظر میں  ہندوستان کی آذادی کے دوران برطانیہ کے وزیراعظم ونسٹن چرچل نے ایک بہت ہی دلچسپ بات کہی تھی کہ ہم جن لوگوں کو آذادی سونپ رہے ہیں یہ بدمعاش اور بے غیرت قسم کے لوگ ہیں جو حکومت میں آتے ہی  قدرت کی طرف سے مفت فراہم ہونے والی نعمت ہوا اور پانی پر بھی ٹیکس لگا دیں گے -اب تقریباً 68 سال بعد ملک میں بھکمری فاقہ کشی قتل وغارت گری اور افراتفری کا جو ماحول ہے ہمیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ عام آدمی کا سانس لینا کتنا دوبھر ہوچکا ہے - آذادی کے 68 سالہ تجربے اور اور چرچل کی پیشنگوئی سے یہ اندازہ لگانا بہت مشکل نہیں رہا کہ آج ہم تہذیب واخلاق اور ترقی کے کس مقام پر ہیں اور آذادی کے بعد سے ہی جو حرکتیں ہمارے سیاستداں کر رہے ہیں دنیا کے سامنے ہماری شبیہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ ہمیں گوالوں اور  سپیروں کی نظر سے دیکھا جاتا ہے-اس بات کی تصدیق ہمارے اس  کردار سے بھی ہوتی ہے کہ آذادی کے بعد آج تک ہم نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کی وجہ سے دنیا کے سامنے ہماری کوئی جدید انفرادی شناخت قائم ہو سکے- اس کے برعکس  یورپ کے سفید فام باشندوں نے صرف تین سو سالوں میں امریکہ کو دنیا کے تیسرے سپر پاور ملک میں تبدیل کر دیا - اور صرف یورپ ہی نہیں ناسا میں کام کرنے والے تمام سائنسدانوں میں ایک تہائی تعداد  ہندوستانی سائنسدانوں کی   بھی ہے- سوال یہ ہے کہ اگر ہمارے سائنسداں اور دانشور جس میں کہ ایک نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات امرتیہ سین بھی شامل ہیں اتنے باصلاحیت اور ہنرمند ہیں تو خود اپنے ہی ملک کو سپر پاور کیوں نہیں بنا سکے اور دیگر ممالک میں نوکری اور مزدوری کیوں کر رہے ہیں-  غور کرنے کا مقام یہ بھی ہے کہ  1917 میں  جس ملک کی معیشت امریکہ سے سترہ گنا زیادہ تھی 1947میں گھٹ کر تین گنے پر کیسے آگئی-اوراب آذادی کے بعد تو ترسٹھ گنا کم ہو چکی ہے - اس کا مطلب چرچل کی بات درست تھی اور آذادی کے بعد جن لوگوں کے ہاتھ میں اقتدار آیا یہ لوگ حقیقتاً نالائق اور نا اہل تھے اوران کے اندرسیاسی شعور کی کمی تھی مگر سوال یہ ہے کہ ہندوستان میں اس وقت ان سے اعلٰی اور افضل کوئی جماعت بھی تو نہیں تھی - یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ چرچل ہی پاگل تھا جس نے ہمارے قابل احترام مجاہدین آذادی کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے - لیکن پچھلے 68 سالوں سے جس طرح  ہمارا ملک  پستی اور زوال کی طرف مائل ہے کچھ تو ایسی بات ضرور ہے کہ تین ہزارسال پرانی ہندوستانی تہذیب تین سو سالہ امریکی تہذیب سے کئ گنا پیچھے کی سمت چلی گئ اور امریکہ جسے غنڈوں موالیوں اور اسمگلروں کا ملک کہا جاتا تھا اس کا صدر رشیوں اور منیوں اور ویویکا نند کے دیش جہاں  پروشوتم رام نے ایک مثالی حکومت کی بنیاد رکھی تھی اسے اپدیش دے کر چلا جاتا ہے- شاید اس کی ایک وجہ تو یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک کے لوگوں میں سے رام کی مریادہ ختم ہو چکی ہے - یعنی دوسروں کی عزت و آبرو کا احترام اور قوت برداشت کی جو خاصیت اور صلاحیت رام میں تھی اور جنھوں نے اپنی چہیتی بیوی  سیتا پر لگائے گئے ایک عام آدمی کے الزام کو پرکھنے کیلئے اگنی پریکشا سے گذار دیا تھا  آریوں کی موجوہ نسل جو کبھی اپنی اسی خصوصیت کی وجہ سے حکمراں رہی ہے جب اونچ نیچ ذات پات اور شرک و بدعات جیسی برائیوں میں مبتلا ہوئی تو دوبارہ مسلمانوں سے مغلوب ہو گئ-یورپ میں اہل  کلیسا بھی اپنی اسی بد عقیدگی کی وجہ سے مسلمان سپہ سالاروں کے مقابلے میں شکست کھاتے چلے گیُے تھے مگر جب اسی یورپ نے اپنے آپ کو حقیقت کے سانچے میں ڈھالا تو خود ان مسلمانوں پر بھی غالب آگئے جنھوں نے عمل کی بجائے نصیب کو اپنا نصب العین بنا لیا تھا - اقبال نے اسی تناظر میں برہمنوں اور مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوےُ کہا کہ 
بت خانے کے دروازے پہ سوتا ہے برہمن 
تقدیر کو روتا ہے مسلماں تہ مہراب  
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مملکتیں قوموں کو نہیں پیدا کرتی ہیں قومیں مملکتوں اور سلطنتوں کو پروان چڑھاتی ہیں اور قوموں کی سب سے بڑی طاقت ان کا اخلاق ہوتا ہے اور اخلاق یہ ہے کہ اس کے اندر دوسروں کو برداشت کرنے کی طاقت ہو - شاید یہی وہ اخلاق کی طاقت ہے جسے جب کوئی قوم یا جماعت کھو دیتی ہے تو اس کے اندر سے قیادت اور حکومت کی صلاحیت بھی ختم ہو جاتی ہے - پھر بھی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آریوں سے لیکر مسلمانوں اور انگریزوں کی حکومت تک ہندوستان میں اخلاقی زوال کی صورتحال اتنی خستہ نہیں تھی جو ہم آج دیکھ رہے ہیں کہ فسادات میں ایک قوم اور مذہب کے نہتے لوگوں کو حکومت کی پولس خود  گاڑی میں بھر کر لے جاتی ہے اور انہیں ایک سنسان علاقے میں گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے اور قاتل کچھ دنوں کے بعد با عزت بری بھی ہو جاتے ہیں- بدقسمتی سے یہ سارا کھیل حکومت اور اقتدار پر بیٹھے ہوئے سیاست دانوں کی مرضی اور ملی بھگت سے ہوتا ہے -اور ابھی حال ہی میں اخلاق کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا اور باقاعدہ مندر کے لاوُڈ اسپیکر سے اعلان کرواکر جس طرح قتل کیا گیا دنیا کے کسی مہذب سماج میں ایسی مثال کہیں نہیں ملتی- حد تو یہ ہے کہ ملک کا وزیر اعظم مقتول کے وارثین کی دلجوئی میں ایک لفظ بھی نہیں ادا کرسکا- سوال یہ ہے کہ کیا اسی دن کیلئے ہم نے آذادی حاصل کی تھی- اور کیا اس طرح ہم ایک مہذب اور ترقی یافتہ ملک کے طورپر دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لائق بھی ہیں؟ اور کیا کبھی ہم فرصت میں بیٹھ کرغوربھی کرتے ہیں کہ دنیا کی سب سے قدیم تہذیب اور سماج  کی نمائندگی کرنےوالے ملک کی شبیہ اس قدرزوال کی طرف کیوں مائل ہے اور محض تین سو سالوں پر محیط امریکی تہذیب وتمدن اور ٹکنالوجی کو عروج کا درجہ کیسے  حاصل ہوا؟ اگر ہم حقیقت میں یہ جاننے کیلئے سنجیدہ ہیں تو حال کے ایک معمولی واقعے کو ہی دیکھ لیں کہ کس طرح امریکہ کی پولس ایک احمد نام کے مسلمان بچے کو دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں گرفتار کر لیتی ہے اوراس کے بچائو میں امریکہ کا صدر بھی حرکت میں آجاتا ہے بلکہ آنے والے الیکشن میں امریکی صدارت کی  امیدوار ہلری کلنٹن نے بھی یہ سوچے بغیر کہ گوروں کی اکثریت میں اس کا منفی پیغام جاسکتا ہے احمد کے حق میں بیان دینے کی جرات کی - مگر آذادی کے بعد سے لیکر آج تک ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ جو قیامت گذری کیا کبھی کسی سیاسی پارٹی کے سربراہ, ملک کے وزیر اعظم یا صدر نے مسلمانوں کے سر پر ہاتھ رکھنے کی جرات کی؟ دراصل  جب کوئی قوم تنگ نظری اور بخیلی کا شکار ہوتی ہے تو اس کا نقصان سب سے پہلے خود اسی کو بھگتنا پڑتا ہے - یہ بخیلی اور تنگ نظری چاہے کسی دوسری قوم کے ساتھ عصبیت اورناانصافی کی شکل میں ہو یا اپنے علم اور فن کو چھپا کر دیگر قوموں کی ترقی میں اڑچن پیدا کرنے کی غرض سے ہی کی جائے- خاص طور سے اقتدار پر قابض جب کوئی قوم اپنے ہی ملک میں دیگر مذہب اور گروہ کے ساتھ عصبیت او ناانصافی کا مظاہرہ کرے تو وہ ملک دنیا کے نقشے پر کبھی بھی اپنا مقام نہیں بنا سکتا-

عمرفراہی
umar shaikh <umarfarrahi@gmail.com>

یکساں سول کوڈ عدلیہ کے دائرہ سے باہر (قسط ۲)

جلال الدین اسلم، نئی دہلی
موبائل نمبر: 09868360472 

فاضل بنچ نے اپنے اس فیصلے میں سرلا مدگل اور تین دیگر عذرداریوں کی سماعت کے بعد جسٹس کلدیپ سنگھ اور مسٹر آرایم سہائے کے متفقہ فیصلے کے علاوہ جسٹس چندر چوڑ اور جسٹس ایم سی چھاگلہ کے فیصلوں کے حوالے بھی دیئے ہیں اور اس بات کی طرف اشارہ بھی کیا ہے کہ مسٹر جسٹس کلدیپ سنگھ نے اپنے فیصلے میں یونیفارم سول کوڈ کی تشکیل کے تعلق سے جو باتیں کہی تھیں ان کا تعلق نفس مسئلہ سے نہیں تھا بلکہ یہ محض اتفاق تھا کہ انہوں نے ایسا کچھ کہہ دیا۔ اگر فاضل بنچ اپنے فیصلے میں مسٹر جسٹس کلدیپ سنگھ کے فیصلے کا ذکر اس انداز میں نہ کرتی تو بھی اس کی روشنی میں یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہہ سکنے کی گنجائش پیدا ہوگئی ہے کہ اب مسٹر جسٹس کلدیپ سنگھ اور مسٹر جسٹس آرایم سہائے کا متفقہ فیصلہ عملاً بے معنی بن کر رہ گیا ہے۔ اس ضمن میں مناسب ہوگا کہ ہم مسٹر جسٹس کلدیپ سنگھ کے فیصلے کے ان حصوں پر ایک نظر ڈال لیں جن میں انہوں نے یکساں سول کوڈ کی حمایت کی تھی یا مسلم پرسنل لا کو ہدف تنقید بنایا تھا۔ یہ حصے درج ذیل ہیں: 
(۱) آئین ہند کی دفعہ 44 کے تحت یہ غیر مبہم انداز میں طے کیا جاچکا ہے کہ ریاست ، ہندوستان کے تمام شہریوں کے لیے یکساں سول کوڈ بنانے کی کوشش کرے گی۔ اس دفعہ کا مقصد یونیفارم پرسنل لا کو رائج کرنا ہے جو کہ قومی استحکام کی طرف ایک فیصلہ کن قدم ہوگا۔ 
(۲) جب ملک کے 80 فیصد سے زائد شہریوں کو ایک مدون پرسنل لا کے دائرے میں لایا جاچکا ہے تو اس کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا کہ پورے ہندوستان کے تمام شہریوں کے لیے ’’یکساں سول کوڈ‘‘ وضع کرنے کے کام کو مزید التوا میں رکھا جائے۔ 
جب تک ہم ہندوستان کے تمام شہریوں کے لیے یکساں سول کوڈ کی تشکیل کا مقصد حاصل نہ کرلیں تب تک کسی ایسے ہندو شوہر کے لیے جو پہلی بیوی کے موجود ہونے کے باوجود دوسری شادی کا خواہش مند ہو، مسلمان بن جانے کی ترغیب برقرار رہے گی۔ 
(۳) چونکہ ہندوستان میں ہندوؤں کے لیے یک زوجگی (صرف ایک بیوی) کا قانون ہے اور مسلم لا چار بیویوں کی اجازت دیتا ہے اس لیے ہندو قانون کی دفعہ اور سزا سے بچنے کے لیے ہندو شوہر اسلام قبول کرلیتا ہے۔ 
(۴) پورے ملک کے تمام شہریوں کے لیے یکساں سول کوڈ بنانا حکومت (ریاست) کا فرض ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ریاست کو قانون سازی کی یہ اہلیت حاصل ہے۔ اس کیس میں ایک وکیل نے قابل سماعت سرگوشی کرتے ہوئے کہا تھا کہ قانون سازی کی اہلیت الگ چیز ہے لیکن اس اہلیت کو بروئے کار لانے کی سیاسی جرأت پر اس سے بالکل اگل ایک دوسری چیز ہے۔ یہ بات ہماری سمجھ میں بھی آتی ہے کہ مختلف عقائد کے لوگوں کو مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے میں طرح طرح کی دشواریاں موجود ہیں لیکن اگر آئین کو واقعتا بامعنی بنانا ہے تو اس سلسلے میں کوئی پہل تو کرنی ہی ہوگی۔ ناگزیر طور سے مصلح کا کردار عدالتوں کو ہی ادا کرنا ہوگا کیوں کہ حساس ذہن کے لوگ اس طرح ناانصافی کا سلسلہ جاری نہیں دیکھ سکتے۔ لیکن مختلف نجی قوانین کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو پاٹنے کے لیے عدالتوں کو جستہ جستہ کوششیں یکساں سول کوڈ کا مقام نہیں حاصل کرسکتیں۔ 
الگ الگ مختلف مقدمات میں انصاف دلانے سے کہیں زیادہ اطمینان بخش بات یہ ہے کہ تمام لوگوں کو انصاف دلانے کا بندوبست کیا جائے گا۔ (بحوالہ جسٹس چندرچور) 
ہندوؤں کا رایتی قانو ن یعنی ہندوؤں کا وہ نجی قانون جس کے تحت وراثت، جانشینی اور شادی وغیرہ کے امور طے پاتے تھے اسے باضابطہ ہندو قانون کی تدوین کے ساتھ ختم کردیا گیا ہے اور اب ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے میں غیر معینہ مدت کی تاخیر کا کوئی جواز باقی نہیں رہ گیا ہے۔ 
(۵) دفعہ 44 کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ کسی مہذب سماج میں مذہب اور پرسنل لا میں کوئی لازمی تعلق نہیں پایا جاتا۔ دفعہ 25 مذہبی آزادی کی ضمانت دیتی ہے جب کہ دفعہ 44 مذہب کو سماجی تعلقات اور پرسنل لا سے الگ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ شادی، وراثت اور اس طرح کے مذہبی کردار والے دوسرے امور کو دفعہ 25، 26 اور 27 کے ذریعہ دی گئی ضمانتوں کے دائرے میں نہیں لایا جاسکتا۔ شادی، جانشینی اور اسی نوع کے دوسرے معاملات سے متعلق ہندوؤں کے پرسنل لا کی بنیاد بھی مسلمانوں یا عیسائیوں کی طرح مذہب پر ہی ہے۔ ہندوؤں اور ان کے ساتھ ساتھ سکھوں، بودھوں اور جینوں نے قومی اتحاد اور یک جہتی کے مفاد میں اپنے جذبات کو خیرباد کہہ دیا لیکن دوسرے فرقوں نے ایسا نہیں کیا حالانکہ آئین پورے ہندوستان کے لیے ’’یکساں سول کوڈ‘‘ کی تشکیل کی وکالت کرتا ہے۔ 
(۶) ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں یہ بات عدلیہ کی جانب سے کہی گئی ہے کہ تعدد ازدواج (ایک سے زائد شادی) عوامی اخلاقیات کے لیے تباہ کن ہے خواہ کوئی مذہب اپنے پیروؤں کے لیے اسے لازمی یا پسندیدہ کیوں نہ قرار دیتا ہو۔ ریاست کو اسے اسی طرح ختم کردینا چاہیے جس طرح اس نے مفاد عامہ میں انسانی قربانی یاستی کو ختم کیا ہے۔ 
(۷) چنانچہ ہم ملک کے وزیر اعظم کے توسط سے حکومت ہند سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ دستور ہند کی دفعہ 44 پر ازسرنو غور کرے اور پورے خطہ ہند کے شہریوں کے لیے ایک مشترک سول کوڈ وضع کرنے کی کوشش کرے۔ 
فاضل بنچ نے مسٹر جسٹس کلدیپ سنگھ کے سابقہ فیصلے میں یکساں سول کوڈ کی پرزور وکالت اور ان کے بعض تکلیف دہ مشاہدات کو ’’محض اتفاق‘‘ قرار دے کر عملاً یہ مان لیا ہے کہ مذکورہ بالا اقتباسات جن کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے بے محل بھی تھے اور غیر ضروری بھی۔ اسی طرح فاضل بنچ کے اس فیصلے سے یہ آس بھی بندھتی ہے کہ اب عدالتیں یکساں سول کوڈ اور مسلم پرسنل لا سے متعلق ایشوز سے کوئی سروکار نہیں رکھیں گی۔ یہ صورت حال کا انتہائی خوش آئند پہلو ہے اور اس کی بہرحال تحسین کی جانی چاہیے۔ لیکن جسٹس کلدیپ سنگھ کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے اسی معاملے میں جسٹس ایم آر سہائے نے جو الگ فیصلہ دیا تھا، فاضل بنچ نے اپنے تازہ فیصلے میں اس کا حوالہ دے کر یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کی ہے کہ مسٹر جسٹس سہائے نے یکساں سول کوڈ کے تعلق سے جو مشورے دیئے ہیں وہ قابل عمل بھی ہیں اور پسندیدہ بھی۔ جبکہ واقعہ یہ ہے کہ اس میں پسندیدگی کا کوئی پہلو اس صورت میں ہی تلاش کیا جاسکتا ہے جب یہ مان کر چلا جائے کہ یکساں سول کوڈ بہر صورت ضروری ہے۔ 
جسٹس سہائے نے اپنے فیصلے میں درج ذیل دو باتیں کہی تھیں: 
(۱) یکساں سول کوڈ ایک پسندیدہ چیز ہے، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہ بیل اس صورت میں ہی منڈھے چڑھ سکتی ہے جب سماج کے سربر آوردہ لوگ اور قائدین کی صف سے تعلق رکھنے والے مدبر اس کے لیے سماجی فضا تیار کریں اور ذاتی مفادات سے بلند تر ہوکر عوام الناس کو اس تبدیلی کو قبول کرنے کے لیے تیار و بیدار کریں۔ 
(۲) مذہب کی آزادی ہمارے کلچر کی اصلی بنیاد ہے۔ اس سے ہلکا سا انحراف بھی ہمارے سماجی تانے بانے کو ہلاکر رکھ دیتا ہے۔ لیکن انسانی حقوق اور انسانی وقار کو پامال کرنے والے مذہبی عمل اور بنیادی نوعیت کی شہری آزادیوں کا دم گھونٹ دینے والی متبرک روایتوں کو خود مختاری نہیں بلکہ استحصال ہی کہا جاسکتا ہے۔ چنانچہ یکساں سول کوڈ جبر و استحصال کے شکار لوگوں کے تحفظ اور قومی اتحاد و یک جہتی کے فروغ، دونوں ہی کے تعلق سے ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ لیکن اس سلسلہ میں اولین قدم اقلیتوں کے پرسنل لا کو معقول بنانے کی صورت میں ہی اٹھایا جانا چاہیے تاکہ مذہبی اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دیا جاسکے۔ بہتر ہوگا کہ حکومت یہ ذمہ داری قانونی کمیشن کو سونپ دے جو اقلیتی کمیشن کے صلاح و مشورہ سے اس معاملہ کی چھان بین کرے اور ایک ایسا جامع مسودہ قانون تیار کرے جو عورتوں کے انسانی حقوق کے عصری تصور سے پوری طرح ہم آہنگ ہو۔ 
جسٹس ایم آر سہائے نے جو مشورے دیئے ہیں، انہوں نے جو تجاویز پیش کی ہیں وہ قابل عمل ہیں بھی یا نہیں، اس سے قطع نظر یہ بات بجائے خود کم از کم مسلمانوں کے سواد اعظم کے نزدیک ناپسندیدہ اور ناقابل قبول ہے کہ مسلم پرسنل لا اور دوسرے نجی قوانین کو منسوخ کرکے ان کی جگہ ملک کے تمام لوگوں کے لیے یکساں سول کوڈ تشکیل دیا جائے۔ مسلم پرسنل لا کو وہ اپنے مذہب کا لازمی جز تصور کرتے ہیں اور بجا طور پر یہ مان کر چلتے ہیں کہ ان کے پرسنل لا میں مداخلت کا مطلب براہ راست یا بالواسطہ طور پر ان کے مذہب میں مداخلت ہی ہوگا اور یہ موقف صرف مسلمانوں کا ہی نہیں بلکہ مسٹر جسٹس آر ایم سہائے نے اپنے جس فیصلے میں یکساں سول کوڈ کو پسندیدہ قرار دے کر اس کی صورت گری کے راستے سجھائے ہیں خود اسی میں انہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ شادی، وراثت اور تبدیلی مذہب جیسے امور جن کا تعلق مسلم پرسنل لا سے ہے، عملاً مذہبی عقیدہ کی ہی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: 
’’جب آئین کی تشکیل عمل میں آئی اور سیکولرزم کو اس کا آدرش اور مقصد قرار دیا گیا تو سماجی اعتبار سے اتفاق رائے اور ایقان کا اظہار اس کی دفعہ 44 میں ہوا۔ لیکن مذہبی آزادی جو سیکولرزم کی اصل بنیاد ہے اس کی ضمانت آئین کی دفعہ 25 سے لے کر 28 تک کی دفعات کے تحت دی گئی۔‘‘ 
دفعہ 25 کافی جامع ہے۔ اس کے تحت تمام لوگوں کو صرف عقیدہ کی آزادی ہی نہیں بلکہ مذہب کی تبلیغ، اس پر عمل اور ترک و اختیار کے حق کی ضمانت بھی دی گئی ہے۔ مذہب کیا ہے؟ مذہب کا مطلب ہے عقیدہ، ایقان۔ آئین میں مذہبی آزادی کی مختلف شکلوں میں جو ضمانت دی گئی ہے، عدالت نے اسے مزید وسیع کیا ہے اور اس کے دائرے میں مذہبی اعمال یہاں تک کہ فرد کے خارجی اعمال تک کو شامل کردیا ہے۔ مذہب، صرف عقیدہ نہیں ہے، یہ اس سے بھی کچھ زیادہ ہے۔ آئین میں ضمیر کی آزادی کی ضمانت دے کر مذہبی عقیدہ کے داخلی پہلو کی ضمانت مہیا کی گئی ہے جب کہ اس کے خارجی مظہر کو، مذہب پر آزادانہ طور پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کی آزادی کے حق کی ضمانت دے کر تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ 
مذہبی کتابیں مثلاً رامائن یا قرآن یا بائبل یا گروگرنتھ صاحب کا پڑھنا یا جاپ کرنا مذہب کا ٹھیک اسی طرح سے ایک حصہ ہے جس طرح ہندوؤں کا دیوی دیوتاؤں کو بھوگ لگانا یا کسی مورتی کو غسل دینا یا اسے کپڑے پہنانا اور مندر، مسجد، چرچ یا گرو دوارہ جانا مذہب کا حصہ مانا جاتا ہے۔ 
’’شادی، وراثت اور تبدیلی مذہب اپنی نوعیت اور اپنے مواد کے اعتبار سے ٹھیک عقیدہ کی ہی طرح مذہبی حیثیت کی حامل ہیں۔ آگ کے گرد سات پھیرے لگانا یا قاضی کے سامنے ایجاب و قبول کے مرحلہ سے گزرنا عبادت ہی کی طرح ضمیر و عقیدہ کا معاملہ ہے۔ جب کوئی ہندو کلمہ پڑھ کر مذہب تبدیل کرلیتا ہے یا کوئی مسلمان کچھ خاص منتروں کا جاپ کرکے ہندو بن جاتا ہے تو یہ ضمیر اور عقیدہ کا معاملہ ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے کسی مذہب کے ماننے والوں کے بعض عمل بظاہر انتہا پسندانہ حتیٰ کہ کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کے انسانی حقوق کو پامال کرتے نظر آئیں، لیکن ان کی حیثیت بہرحال عقیدے پر مبنی عمل کی ہی ہوگی۔‘‘ 
اس اعتراف حقیقت کے باوجود اگر مسٹر جسٹس سہائے یہ سمجھتے ہیں کہ یکساں سول کوڈ ضروری ہے اور قانون کمیشن اقلیتی کمیشن کے ساتھ صلاح و مشورہ کے ذریعہ یکساں سول کوڈ کی صورت گری کے راستے تلاش کرے تو اس پر ایک عام آدمی اظہار حیرت کے سوا اور کیا کرسکتا ہے۔ امر واقعہ تو یہ ہے کہ کچھ مفروضات کو بنیاد بناکر ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی خاصی بڑی تعداد خواہ اس کا تعلق عدلیہ سے ہو یا کسی اور شعبے سے یہ وکالت کرتے کبھی نہیں تھکتی، کہ چاہے کوئی بھی قیمت کیوں نہ ادا کرنی پڑے اور اس کے نتیجے میں خواہ انتشار و خلفشار کے کتنے ہی دروازے کیوں نہ اپنے آپ کھلتے چلے جائیں یکساں سول کوڈ نہ صرف یہ کہ ضرور بنایا جائے بلکہ نجی قوانین کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن بھی کردیا جائے۔ ظاہر ہے اس طرح کی سوچ کو کسی بھی اعتبار سے نہ تو صحت مند کہا جاسکتا ہے نہ ہندوستان جیسے کثیر قومی ملک کی تعمیر و ترقی کے تقاضوں سے ہم آہنگ قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ آئین میں ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں کے باب میں دفعہ 44 جب تک موجود رہے گی، یکساں سول کوڈ کا مطالبہ کسی نہ کسی شکل میں سر اٹھاتا رہے گا۔ اس سے نجات کی واحد شکل یہی ہے کہ اس دفعہ کو آئین سے نکال دیا جائے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کو چاہیے کہ بہت سے دوسرے معاملات میں ٹانگ اڑانے اور اپنی توانائی ضائع کرنے کے بجائے اپنی توجہ اسی ایک مسئلے پر مرکوز کردے۔ 

یکساں سول کوڈ عدلیہ کے دائرہ سے باہر قسط اول

جلال الدین اسلم، نئی دہلی
موبائل نمبر: 09868360472 
اس وقت ملک عزیز کی اقلیتیں بالخصوص مسلمان جس سنگین اور نہ گفتہ بہ صورتِ حال سے دوچار ہیں وہ اس ملک کے ہر دردمند اور باشعور شہری کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ خصوصاً انصاف پسند، بنیادی اور انسانی حقوق کے علمبرداروں اور مثبت سوچ رکھنے والے جمہوری اقدار کے پاسدار عناصر کے لیے موجودہ صورت حال ایک زبردست چیلنج ہے، جو صرف یہاں کی اقلیتوں ہی کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک اور سماج کے لیے تباہ کن ہے۔ مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو پر جس طرح منظم حملے ہو رہے ہیں اور ان کے عقائد و اقدار پر ضرب لگائی جارہی ہے، کاروباری طور پر جس طرح تباہ کیا جارہا ہے اور جس منصوبہ بند انداز میں ان کا نسلی صفایا کیا جارہا ہے اس سے مسلم زعما، دانشوروں، علما اور مدبروں کا فکرمند اور بے چین ہونا ایک فطری امر ہے۔ حالیہ دنوں گائے کے حوالے سے جو ہوا اور اب بھی کسی نہ کسی مشکل میں ہو ہی رہا ہے وہ نہ صرف ہمارے سیکولر اور جمہوری ملک کے ماتھے پر بدنما داغ ہے بلکہ پوری نوع انسانی کے لیے شرمناک ہے۔ 
یہ سیاست کا انتہائی گھناؤنا کھیل ہے جس کو دھرم اور سنسکرتی کے نام پر کھیلا جارہا ہے اور اس وقت تک کھیلا جاتا رہے گا جب تک ہندو راشٹر کا خواب پورا نہیں ہوجاتا۔ کچھ ہندوتوا عناصر کے خیال میں تو موجودہ مودی حکومت غیر اعلانیہ ہندوراشٹر ہے اور جب تک ہندوراشٹر کا باضابطہ اعلان نہیں ہوجاتا اس وقت تک ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے، اس کے لیے چاہے ہمیں کچھ بھی کرنا پڑے۔ 
ملک کی فرقہ وارانہ فضا کو ایک بار پھر شراروں سے بھر دینے کی پوری پوری کوششیں جاری ہیں۔ 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کو بھاری اکثریت حاصل ہوجانے کے بعد ملک کی فاشسٹ قوتیں پورے ملک کو یرغمال بنالینے میں پیش پیش ہیں۔ ریڈیو، ٹی وی اور اخبارات میں جن حساس موضوعات پر بحث جاری ہے، ان میں مسلمان کا پرسنل لا خصوصاً ہندوتوا کے نشانے پر ہے جسے وہ اپنے عزائم و منصوبوں کو روبہ عمل لانے میں روڑا سمجھ رہے ہیں۔ مباحثے کے دوران بعض تو اسے متوازی قانون قرار دے رہے ہیں، جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارا قومی میڈیا کتنا اور کس حد تک غیر جانبدار ہے۔ مسلم خواتین سے ہمدردی، چار چار شادیاں اور تین طلاق پر واویلا آج نیا نہیں ہے اور نہ ہی یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا مطالبہ ہی کوئی نیا ہے۔ یہ معاملہ تو ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔ عدالت نے مفاد عامہ کی تین عذر داریوں کی یکجا سماعت کے بعد جو فیصلہ یکم مارچ 1997 کو سنایا تھا اسے ہم ہفت روزہ ’’بادبان‘‘ کے شکریہ کے ساتھ ہدیۂ قارئین کر رہے ہیں۔ یہ فیصلہ یکساں سول کوڈ کے نام پر آئے دن شور و ہنگامہ کرنے والوں کے لیے درس عبرت بھی ہے اور درس عمل بھی۔ 
مسلم پرسنل لا کے بارے میں ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ نے یکم مارچ کو ایک ایسا فیصلہ سنایا ہے جو حقیقت پسندی کی میزان پر بھی پورا اترتا ہے اور آئین کی روح سے پوری طرح ہم آہنگ بھی ہے۔ چیف جسٹس مسٹر اے ایم احمدی، محترمہ جسٹس سجاتادی منوہر اور مسٹر جسٹس کے وینکٹ سوامی پر مشتمل ایک تین رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں بہت ہی دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ پرسنل لا کا تعلق ’’ریاست کی پالیسی سے ہے اور عدالت کو عام طور پر اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہونی چاہئے۔‘‘ فاضل بنچ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ ’’کئی دیگر مواقع پر بھی جب پرسنل لا سے متعلق مسائل اس عدالت کے سامنے لائے گئے تو کورٹ کا فیصلہ یہی رہا کہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بجائے ان کا حل کہیں اور تلاش کیا جانا چاہیے۔ 
فاضل بنچ نے یہ تاریخ ساز فیصلہ مفاد عامہ کی تین عذر داریوں کی یکجائی سماعت کے بعد سنایا ہے جن میں مسلم ہندو اور کرسچین خواتین کے ساتھ مختلف قوانین کے ذریعہ برتے جانے والے امتیاز کو ختم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ 
مسلم خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمہ سے متعلق عذرداری احمد آباد ویمن ایکشن گروپ (AWAG) کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔ اس میں عدالت سے درج ذیل ریلیف چاہی گئی تھی: 
* مسلم پرسنل لا کو جو کہ ایک سے زائد شادی کی اجازت دیتا ہے، غیر قانونی قرار دے دیا جائے کیونکہ یہ آئین کی دفعہ 14 اور 15 سے متصادم ہے۔ 
* مسلم پرسنل لا کو جو کہ مسلم شوہر کو اپنی بیوی کی اجازت اور عدالتی کارروائی کے بغیر یکطرفہ طور پر طلاق کی اجازت دیتا ہے، غیر قانونی قرار دیا جائے کیونکہ اس سے آئین کی دفعہ 13، 14 اور 15 پر ضرب پڑتی ہے۔ 
* اعلان کیا جائے کہ کسی مسلم شوہر کے ذریعہ ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کا عمل اپنے آپ میں انفساخ نکاح قانون 1939 کے کلاز 8 (ایف) یا سیکشن 2 میں بیان کردہ ظالمانہ سلوک کے ذیل میں آتا ہے۔ 
* مسلم خواتین (تحفظ حقوق بعد از طلاق) قانون 1986 کو غیر قانونی قرار دیا جائے کیونکہ یہ آئین کی دفعہ 14 اور 15 کو پامال کرتا ہے۔ علاوہ ازیں شیعہ اور سنی قوانین وراثت کو بھی جو کہ یکساں حیثیت والے مردوں اور عورتوں کے درمیان ترکہ کے معاملے میں امتیاز برتتے ہیں، غیر قانونی آئین دیا جائے کیونکہ ان میں عورتوں کے ساتھ محض جنس کی بنیاد امتیاز برتا گیا ہے۔ 
دوسری عذر داری لوک سیوک سنگھ وغیرہ کی طرف سے دائر کی گئی تھی جس میں ہندو سیکشن ایکٹ 1956 کے سیکشن (II) 5 (2) اور 6 III نیز سیکشن 30 کی وضاحت کو غیر قانونی قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا کیونکہ اس سے آئین کی دفعہ 13، 14 اور 15 پر ضرب پڑتی ہے۔ علاوہ ازیں ہندو میرج ایکٹ 1955 کے سیکشن 2 کو بھی اس بنیاد پر غیر قانونی قرار دینے کی درخواست کی گئی تھی کہ یہ آئین کی دفعہ 14 اور 15 کو پامال کرتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس عذر داری میں ہندو مائنارٹی اینڈ گارجین شپ ایکٹ کے سیکشن 6 (2) 3 اور 9 کے تعلق سے بھی عدالت عظمیٰ سے درخواست کی گئی تھی کہ اسے آئین کے مغائر قرار دیا جائے۔ 
تیسری عذرداری ینگ وومن کرسچین ایسوسی ایشن کی طرف سے داخل کی گئی تھی اس میں انڈین ڈرائیورس ایکٹ (قانون طلاق) کی دفعہ 10 اور 34 اور انڈین سیکشن ایکٹ کی دفعہ 43، 44، 45 اور 46 کو آئین کے مغائر قرار دینے کی درخواست کی گئی تھی۔ 
عدالت عظمیٰ کی تین رکنی فاضل بنچ نے ان تینوں عذر داریوں کی یکجائی سماعت کے بعد جو فیصلہ سنایا ہے اس کا سب سے اہم اور بنیادی نکتہ یہی ہے کہ پرسنل لا خواہ اس کا تعلق کسی بھی فرقے سے کیوں نہ ہو، عدالت کے بجائے قانون ساز ادارے یعنی پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ پرسنل لا سے جڑے بنیادی سوالات سے عدلیہ کو کوئی سروکار نہیں رکھنا چاہیے۔ اس بنیادی اصول کو ہی سامنے رکھتے ہوئے فاضل بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ان تینوں عذرداریوں کے حوالے سے جو دلائل پیش کیے گئے انہیں سننے کے بعد ہمیں اس بات پر کلی اطمینان ہوگیا کہ متعلقہ ایشوز سے ہماری اپنی رائے میں مقننہ کو ہی نمٹنا چاہیے۔ 

روس کے لئےایک انتباہ ! شام یوکرین یا کریمیا نہیں ہے

عمر فراہی
کیا شام مشرق وسطی کا افغانستان بنےگا... سرد جنگ کا دوسرا چہرہ .....جزیرۃ العرب کی غیر یقینی صورتحال ..... کیا ملا محمد عمراورابوبکر البغدادی امریکی انٹلیجنس کے رابطے میں ہیں .... کیا السیسی روس اور اسرائیل کا ایجنٹ ہے-
مذکورہ بالا تمام مضامین میں ہم عرب انقلاب کی کامیابی اور ناکامی کے بعد سے ہی مسلسل یہ لکھتے آرہے ہیں کہ دنیا کا عالمی منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے- روس جو افغانستان میں سردجنگ کے ذریعے امریکہ سے شکست کھا چکا تھا حالیہ دنوں میں امریکہ کے کمزور پڑ جانے کے سبب ایک بار پھر اپنے کھوئے ہوئے وقار کو حاصل کرنے کی تیاری میں ہے- اس کے اس حوصلے کو اس وقت اور بھی تقویت حاصل ہوئی جب اس نے  یوکرین کے ایک صوبہ کریمیا  میں بغاوت پیدا کر کے اسے بزور قوت روس میں شامل کر لیا اور امریکہ سمیت یوروپ کے کسی ملک میں جرات نہیں ہوئی کہ وہ روس کو اس کی اس حرکت سے باز رکھ سکے - اسی طرح  شام میں بھی روس ایران اور حزب اللہ کے ساتھ مل کر وحشی بشارالاسد کی فوجی  مدد کرتا رہا ہے - مگر شروع کے دور میں جس طرح  ایران اور حزب اللہ بھی کھل کر سامنے نہیں آرہے تھے رفتہ رفتہ نہ صرف ان کا مکروہ چہرہ بھی سامنے آگیا-اب جس طرح  روس  بھی کھل کر شام کی جنگ میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرنے کیلئے  قدم رکھ چکا ہے یہ کہا جاسکتا ہے کہ روس اگر امریکہ کے خلاف افغانستان میں اپنی شکست خوردگی کے احساس کو بھلا نہیں سکا ہے تو ایران کو خود بھی صدام حسین کے خلاف  خلیج کی ہاری ہوئی جنگ منھ چڑھا رہی ہے اور وہ کسی بھی صورت یہ برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے کہ جزیرۃ العرب کے نوجوان ایک بار پھرسلطنت عثمانیہ کے خطوط پر نکل پڑیں اور یہ خطہ  ایک مضبوط اوروسیع اسلامی ریاست میں تبدیل ہو جاےُ اور ایرانی حکمراں جو خود بھی ایک زمانے سے عظیم تر ایران اور کسرویت کے جنون میں مبتلا ہیں ان کی بالا دستی کے تمام راستے بند ہو جائیں - 
روس اور ایران جتنی بھی تدبیر کر لیں اقبال کی یہ پیشنگوئی بہرحال پوری ہونے جارہی ہے کہ .....
نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا 
کہا ہے مجھ سے یہ قبطیوں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا 
اس بات کو صحرائے عرب کے نوجوان بھی سمجھ رہے ہیں اور انہوں نے خود بھی جنگی حکمت عملی کے تحت دیگر ملکوں اور اتحادیوں سے تعلقات رکھتے ہوئے بھی اپنے تعلقات کو مخفی رکھا ہے اورکون کس کے مفاد میں کس کی مدد کر رہا ہے اور کون کس کے ساتھ ہے اور کچھ ایسے خفیہ چہرے  جو ابھی بھی سامنے نہیں آئے ہیں ان کے بھی اپنے عزائم کیا ہیں-ان خفیہ چہروں میں اسرائیل اور مصر کا کردار ابھی تک مشتبہ اور مخفی ہے اور جیسا کہ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ اگرمصرکے صدر ڈاکٹرمرسی کے خلاف بغاوت اورالسیسی کو اقتدار تک پہنچانے میں اسرائیل کے ساتھ  امریکہ کا بھی کردار تھا تو پھر روایت کے مطابق ایک بار تو السیسی کو اسی طرح اوبامہ کا پیر چھونے کیلئے امریکہ جانا چاہیے تھا جیسے کہ شام میں روس کی بمباری کے فوراً بعد بشارالاسد ماسکو میں جاکر پوتین کو سجدہ کر آئے ہیں - اس کے برعکس مصرمیں بغاوت سے لیکرابھی تک السیسی کا دو بار روس کا دورہ کرنا کیا معنی رکھتا ہے... اور شام کے مسئلے میں جس طرح اس خطے کے تمام سنی ممالک اپنی بے چینی کا اظہار کر چکے ہیں روس ایران اور شام کے اس اتحاد پر السیسی کا خاموشی اختیار کیے رہنا یہ ثابت کرتا ہے کہ مصر کا یہ ڈکٹیٹر ایران روس اور اسرائیل کے اتحاد کا حصہ ہے اور بے چارے عرب کے شیخ جو بہادرشاہ ظفرکی طرح آرام سے تخت پر بیٹھ کر دونوں طرف سے لڈو کھانا چاہتے ہیں ان دونوں اتحادیوں کے درمیان بے موت مارے جائیں گے-انہیں کون سمجھائے کہ 
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید 
کہ آرہی ہے دمادم صداء کن فیکون 
  امریکہ بھی اب وہ پہلے جیسا امریکہ نہیں رہا اسے بھی مستقبل کے سپر پاور چین اور روس کو قابو میں کرنے کیلئے طالبان اور داعش کے مضبوط بازو چاہیے نہ کہ شیخوں کی عیاشی...! اوراسرائیل کوساتھ رکھ کر بھی اسے جو ترقی کرنا تھا وہ کر چکا اس لیے اب اسرائیل  کے ساتھ اس کے تعلقات بھی پہلے جیسے خوشگوارنہیں رہے - جس کی جھلک عرب بہار کے دوران اسی وقت نظر آگئی تھی  جب اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے اوبامہ سے کہا کہ وہ مصر کے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کو بچانے کیلئے کچھ کرے ورنہ اقتدار پراسلام پسند قوتیں غالب آجائیں گی مگر اوبامہ نے نتن یاہو کو یہ کہہ کر خاموش کر دیا کہ عرب کے عوام ایک جمہوری عمل کی طرف بڑھ رہے ہیں اور یہ اسرائیل کے بھی اپنے حق میں ہے- بظاہر ایران اور اسرائیل بھی ایک دوسرے کے شدید دشمن نظر آتے ہیں لیکن ان کا اپنا کردار یہ ہے کہ یہ دونوں ملک  اپنی نسلی عصبیت اور افضلیت کی انتہا کو پہنچنے کیلئے کبھی بھی ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملا سکتے ہیں .... کسی کے ساتھ ہو سکتے ہیں اور کسی کے دوست نہیں ہو سکتے - جہاں تک روس اور اسرائیل کے تعلقات کی بات ہے اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے سی این این کے نامہ نگار  فرید زکریا کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ اعتراف کیا ہے کہ اب اسرائیل اور روس ایک خوشگوار تعلقات کے  دور میں داخل ہو چکے ہیں اور شام میں ان کے فوجی ایک دوسرے سے تعاون بھی کر سکتے ہیں - دنیا کا یہ وہ تبدیل ہوتا ہوا منظر نامہ ہے جس کا صحیح اندازہ عرب کے شیخ اورعام تبصرہ نگار محلوں اور دفتروں  میں بیٹھ کر چند اخبارات کی سرخیوں یا  الیکٹرانک میڈیا  کے جھوٹے پروپگنڈوں  سے کبھی نہیں لگا سکتے مگر جو لوگ جنگ کے میدان میں ہیں اور خطرات کا سامنا کر رہے ہیں ان کی اپنی حکمت عملی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے شطرنج کے چال کی طرح اکثر تبدیل ہوتی رہتی ہے- شاید اسی لیے پچھلے سال جب شامی فوجوں کے ذریعے کیمیاوی گیس کے استعمال کا انکشاف ہوا اور ممکن تھا کہ ناٹو کی فوجیں لیبیا کی طرح شامی حکومت کی بھی اینٹ سے اینٹ  بجا دیتیں امریکہ نے روس کی ممکنہ  مداخلت اور اس علاقے میں روس کے خفیہ اتحادیوں  کے درمیان پک رہی کھچڑی کے  دباؤ میں اپنا قدم واپس ہٹا لیا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ  شام کی اس جنگ سے باہر آگیا - امریکہ نے اس کے بعد فری سیرین آرمی کی مدد کا سلسلہ تیز کر دیا- یا یوں کہہ لیجئے کہ  فری سیرین آرمی صرف ایک دکھانے کے دانت  ہیں تاکہ اس خطے میں جائز طریقے سے امریکی جہازوں سے ہتھیار اتارا جاسکے اور دیگر یورپ اور تمام عرب  مالک کو حریت پسندوں کی مدد کیلئے آمادہ کیا جاےُ -  جیسا کہ رائٹر کے ایک نامہ نگار ڈان ویلیم نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ شام کے میں بشارالاسد کے خلاف سرگرم  وہ تمام گروہ جسے دنیا فری سیرین آرمی... النصرہ فرنٹ...یرموک شہید برگیڈیریا دیگر ناموں سے جانتی ہے سب اسلامک اسٹیٹ سے ہی منسلک ہیں یا ان کے  سپاہی ہیں - انڈین ایکسپریس تاریخ 26/10/015
اسی طرح دیگر اخباری رپورٹوں کے مطابق اسلامک اسٹیٹ کے یہ فوجی تقریباً سات سوکی ٹکڑیوں میں مختلف نام سے الگ الگ  محاذوں سے لڑ رہے ہیں- مشرق وسطیٰ کی اس جنگ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ  جس طرح افغانستان کی جنگ میں پاکستان نے امریکہ اور افغان مجاہدین کے درمیان معاون کا کردار ادا کیا تھا شام میں وہی کردار ترکی نبھا رہا ہے- دوسری مماثلت یہ ہے کہ  جس طرح اس وقت پاکستان میں جنرل ضیاء الحق اپنی اسلامی ذہنیت کی وجہ سے مشہور تھے ترکی کے صدرطیب اردگان کی اسلام پسند ذہنیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا - اتفاق سے جو غلطی ٹونی بلیئراوربش نے کی تھی اور جن کے پاس بعد کا کوئی منصوبہ بھی نہیں تھا عرب نوجوانوں نے اوبامہ اور طیب اردگان کی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے  مشرق وسطی کی تشکیل نو کا آغاذ کر دیا ہے - عرب کے عوام خاص طورسے  نوجوان طبقہ جو ایک زمانے سے عرب ڈکٹیٹروں اور آمروں کی آمریت سے بدظن تھے اس نے اس پوری صورتحال کا فائدہ اٹھایا ہے جس کا اعتراف ٹونی بلیئر نے بھی کیا ہے کہ عراق کی جنگ کی وجہ سے داعش کا وجود عمل میں آیا ہے -بلکہ یوں کہا جائے کہ عرب نوجوانوں نے ہی ٹونی بلیئر اور بش کو غلطی پر آمادہ کیا کہ وہ افغانستان اور عراق پر حملہ آور ہوں اور ان کے اندر یہ بیداری 80 کی دہائی کے بعد اس وقت سے ہی پیدا ہونا شروع ہو چکی تھی جب انہوں نے دیکھا کہ اس خطے میں مسلسل لبرل اور اسلام مخالف اشتراکی ذہنیت کے دین بیزار  فوجی جنرل کسی نہ کسی بہانے اقتدار پر قابض ہو کر صہیونی مفاد کیلئے بکے جارہے ہیں اور  بااثر تنظیم اخوان المسلمون بھی اپنی تمام تر پرامن جمہوری اور عوامی جدوجہد کے باوجود ناکام ہے  نوجوانوں کی ایک قلیل جماعت کے ساتھ  مسلح جدوجہد کی طرف راغب ہو گئے - یہ بات بھی اب کسی سے مخفی نہیں رہی کہ اوسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری نے تنظیم القاعدہ کے پرچم کے نیچے ہزاروں عرب نوجوانوں کو تربیت فراہم کی اور افغانستان میں روس کے خلاف لڑتے ہوئے جو سب سے بڑا تجربہ حاصل کیا وہ جنگی حکمت عملی تھی اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ افغان مجاہدین کے ساتھ لڑتے ہوئے جو علم اور تجربہ انہوں نے حاصل کیایہ چیز انہیں دنیا کے کسی کالج  یونیورسٹی یا سر سید کی سرپرستی میں کبھی حاصل نہیں ہو سکتی تھی- افغانستان کی سردجنگ کے بعد امریکہ اگر تنہا سپر پاور کے طورپر سامنے آیا  تو یہ عرب اور افغان مجاہدین کی بدولت ہی  ہو سکا-اور انہوں نے اس کے بعد تقریباً پانچ سالوں تک اسلامی نظام کا کامیاب تجربہ بھی کیا -سب سے اہم بات یہ ہے کہ سردجنگ سے پہلے  تک جو لوگ کمیونزم کو ایک مذہب اور خدا کے طورپر قبول کرتے ہوےُ یہ تصور کر بیٹھے تھے کہ اب اشتراکیت ناقابل تسخیر ہے اور اسلام کا خاتمہ ہو چکا ہے سوویت یونین کے بکھر جانے کے بعد ان کی اس فکر اور عقیدے کا بت پارہ پارہ ہو گیا اور اکثر ترقی پسند مسلمان بھی جو اشتراکیت کے طوفان میں بہہ چکے تھے دوبارہ اسلام کی طرف رجوع ہو گئے- مگر جو ابھی تک امریکی نیو ورلڈ آرڈر  کے معتقد تھے جیسا کہ فرانسس فوکوہامہ نے اپنی کتاب تاریخ کا خاتمہ میں اس نظریے پر بحث کی ہے کہ آنے والی صدی پر مغربیت پوری طرح غالب آجائے گی مگرخود ایک مغربی مصنف پروفیسرسموئیل ہٹنگٹن نے اپنی کتاب تہذیبوں کا تصادم  میں اس کی نفی اور تردید بھی کر دی اور  9/11 کے بعد ان کا بھی بھرم ٹوٹ  گیا - عربوں کی یہ وہ دوسری اور تیسری نسل ہے  جس نے اپنے سامنے کمیونزم, شوشلزم, امپیریلزم اورسرمایہ دارانہ نظام کے عروج وزوال کے ساتھ ایران کے نقلی اسلامی انقلاب کو بھی فاشسٹ ریاست میں تبدیل ہوتے ہوئے  دیکھ لیا ہے- اب اسے پختہ یقین ہو چکا ہے کہ اسلامی نظام ہی واحد نجات کا راستہ ہے-  عراق, شام اور مصر میں اس وقت جو کچھ بھی ہو رہا ہے یہ کوئی اچانک پیدا ہونے والی تبدیلی نہیں ہے جیسا کہ اکثر ملت کے کچھ جہاندیدہ تبصرہ نگار باطل میڈیا کے پروپگنڈے کا شکارہوکرعرب حریت پسندوں کو اسلام دشمن اور  یہود و نصاریٰ کا ایجنٹ قرار دے رہے  ہیں - ہاں داعش کا منظر عام پر آنا ایک معمہ ضرور ہو سکتا ہے - مگر جو مسلم تبصرہ نگار اسے اچانک ردعمل اورسازش کا حصہ قرار دے رہے ہیں انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عراق سے صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد عراق کی نوری المالکی حکومت  نے القاعدہ کے نام پر عراق کے سنی مسلمانوں کی نسل کشی کرنا شروع کردی اور خاص طور سے صدام حسین کے وہ فوجی جو انڈر گرائونڈ ہو چکے تھے وہ عراقی خفیہ ایجنسیوں کے عتاب کا شکار ہونے لگے - ایسے میں عراق کے اندر سرگرم القاعدہ کا وہ گروہ جس کی قیادت مصعب الزرقاوی کے ہاتھ میں تھی ان کے ساتھ صدام حسین کے فوجی بھی شامل ہو گئے اور انہوں نے پوری طرح منظم ہوکر  عراق اور شام  کو مالکیوں اورنصیریوں سے آذادی کیمسلح جدوجہد شروع کر دی - اب جو لوگ یہ شک کر رہے ہیں کہ امریکہ داعش کو خفیہ طریقے سے مدد کر رہا ہے تو اس کا سبب بھی عراقی حکومت ہے جسے صدام کے شکنجے سے آذاد تو امریکہ نے کروایا مگر نوری المالکی حکومت نے  امریکی بالادستی سے آذاد ہو کر ایران اور روس کے ساتھ خفیہ معاہدے کرنا شروع کردیا اور وہ خود  ابو جان کی بکری کی طرح بھیڑیے کے منھ میں چلے گئے -امریکہ نے اسی لیے داعش کے ذریعے اس پورے خطے کا  نقشہ بدل دیا جس کی وجہ سے ایک طرف اگر ایران شام اور خود روس کی اپنی معیشت پر زبردست گراوٹ آئی ہے توامریکی معیشت جو 2008 میں زوال پزیر ہو چکی تھی اس میں استحکام آیا ہے -اب یہ الگ بات ہے کہ 2016 میں اوبامہ کے جانے کے بعد امریکی قیادت کہاں تک عقل و شعور کا استعمال کرتی ہےاور جس طرح روس نے کھل کر شام میں مداخلت کی ہے اونٹ تو کروٹ ضرور بدلے گا - مگر روس کو شام میں یہ تو ضرور احساس ہو جا ئےگا کہ شام یوکرین اور کریمیا نہیں ہے .......!