یا بتا کیا ہے خطا یاپھر ہدف تبدیل کر
چند روز قبل NDTV پر جو یہ خبر آئی تھی کہ NIA نے مالیگاؤں کے جیل میں بند نو نوجوانوں کو بے قصور بتایا ہے ۔ان کا اس بم دھماکہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ساتھ ہی انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ ملزمین کے وکلاء اگر انکی ضمانت کی عرضی لگائیں گے تو ہم انکی مخالفت نہیں کریں گے۔ملک کی سب بڑی تفتیشی ایجنسی نے بھی انہیں بے گناہ مان ہی لیا ۔پھر بھی ہماری جمہوری حکومت کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی ہے۔ ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی ہے۔اس کے باوجود ہم سینہ پھلاکر کہتے ہیں کہ ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں ۔حکومت کے اس اندیکھی سے دل میں شکوک وشبہات جنم لے رہے ہیں کہ کہیں یہ بھی اسیما نند کے اعتراف جرم کی طرح تو نہیں کہ اسیمانند کے مجسٹریٹ کے سامنے اقبالیہ بیان دینے کے باوجود جب ان بے گناہوں کی طرف سے وکلاء نے ضمانت کی عرضی داخل کی تو سی بی آئی نے عدالت میں اس جواز کے ساتھ مخالفت کی کہ ابھی مقدمہ تفتیش کے مرحلہ میں ہے اس لئے انہیں ضمانت نہیں دی جانی چاہئے۔
جہاں حاکموں اور حکمرانوں کا وطیرہ ہی ناانصافی اور ظلم والا ہو تو کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔اوپر سے نیچے تک تعصب کا زہر بھرا پڑا ہے ۔ حالات پر معمولی نظر رکھنے والے بھی ذرا سا غور کریں گے تو انہیں یہ بات سمجھ میں آجائے گی۔جب مسجد ،درگاہ اور قبرستان کے دھماکوں میں بھی مسلم نوجوانوں کو ہی گھسیٹ لیا جائے اور ان سے انکے آزادانہ جینے کا حق صرف اس بناء پر چھین لیا جائے کہ یہ نوجوان اس بے حیائی ،بے شرمی اور اسلام بیزاری کے دور میں بھی اس سے دور اور انسانیت سے نزدیک کیوں ہیں ؟وہ کیوں خود بھی برائی سے بچے اور معاشرے کو بھی اس دلدل سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں ؟وہ بھی کیوں نہیں اسی سڑے گلے نظام کا حصہ بنتے؟کیا یہی سب وجہ نہیں ہے ان کے بے قصور گرفتار کیئے جا نے کا؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر مجھے کوئی یہ بتائے کہ انکی بے گناہی کا یقین ہوجانے کے باوجود بھی ہماری حکومت کہاں ہے۔ اسکی انصاف پسندی اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا فخر کہاں سو رہا ہے؟کیا اسی کا نام جمہوریت ہے کہ ملک کی بیس فیصد سے زیادہ کی آبادی کو ذہنی طور پر احساس جرم میں مبتلاء کردیا جائے؟ کیا یہی جمہوریت ہے کہ ظلم کی تحقیق ہونے کے باوجود حکومت یا متعلقہ محکمہ اس سلسلے میں ہلکا سا افسوس کا اظہار بھی نہ کرے ۔مجھے آج بھی یاد آتا ہے کہ کناڈا میں ایک پاکستان نزاد کنیڈیائی شہری کو عدالت نے جب باعزت بری کیا تو وہاں کے وزیر اعظم نے اس شخص سے پوری قوم کی جانب سے انتہائی لجاجت سے معافی مانگی اور کروڑوں ڈالر کا ہر جانہ بغیر کورٹ کے آرڈر کے ادا کیا اور ا سکے بارے میں بھی انکا یہ کہنا تھا کہ یہ حقیر رقم قبول کریں۔اس کے بعد بنگلور کے ڈاکٹرحنیف کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ آسٹریلیائی حکومت اور پولس نے علی الاعلان اپنی غلطی کا اعتراف کیا ۔ڈاکٹر حنیف کے وکیل نے جب ہرجانہ کا مقدمہ کورٹ میں ڈالا تو بغیر کسی حیل حجت کے عدالت نے ڈاکٹر حنیف کو معاوضہ دلوایا۔اسکے برعکس ہمارے حکمرانوں کا رویہ دیکھیں مسلم اقلیت کے تئیں انکا رویہ انتہائی سرد ہے اب تک کسی نے بھی جو احساس ندامت کیا ہو۔ہاں الیکشن کا وقت آجائے تب دیکھئے یہ کیسے مگر مچھی آنسو بہاتے ہیں۔ مسلمان بھی شاید پکے مومن نہیں رہے جب ہی تو ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسے جاتے ہیں اور اب بھی اسی سوراخ سے ڈسنے کو تیار بیٹھے ہیں۔
مالیگاؤں کے بے گناہوں کو تو اسی وقت رہا کیا جانا چاہیئے جب کہ ایک سرکاری گواہ اپنے بیان سے پھر گیا تھا ۔یہ پھرنا اس کے ضمیر کی آواز کی وجہ سے تھاچونکہ پولس نے اسے ڈرا دھمکا کر اور بلیک میل کرکے ملزمین کے خلاف گواہی دینے پر مجبور کیا تھا تو جلد یا بدیر اسے تو ضمیر کی آواز پر لبیک کہنا ہی تھا۔لیکن ساری شہادتیں اور گواہیاں بھی ان کی رہائی میں معاون نہیں بن رہی ہیں ۔اس کی وجہ ہے ہمارے نظام میں فرقہ پرست متعصب لوگوں کا دخول اور یہ اور کوئی نہیں وہی قوم ہے جس کا دعویٰ ہے کہ وہ برہما کے مستشک سے پیدا ہوئے ہیں اس لئے وہ سارے گناہوں اور پاپ کے باوجود سارے انسانوں سے افضل ہیں ۔دنیا میں اس طرح کی دو ہی قومیں جو ایسا تصور رکھتی ہیں ۔دوسری قوم کا بھی تصور ہے کہ وہ اللہ کی محبوب قوم ہے ۔جبکہ عرصہ ہوا کہ اللہ کے نزدیک اب وہ ایک مغضوب قوم ہے۔کیوں کہ اللہ کے یہاں بڑائی اور بزرگی کا بس ایک ہی پیمانہ ہے اور وہ ہے کون کتنا زیادہ اللہ سے ڈرتا ہے۔
وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کچھ روز قبل قومی یکجہتی کاؤنسل کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اقلیتیں یہ سمجھتی ہیں کہانہیں نشانہ بنایا جارہا ہے‘‘ اس میں سمجھنے کی کیا بات ہے ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں جو سورج کی روشنی کی طرح واضح کرتی ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ نہ صرف یہ کہ تعصب برتا جاتا ہے بلکہ انہیں کھلے عام ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔لیکن انہیں کہیں سے اور کبھی بھی انصاف نہیں ملا آزادی کے بعد سے ابتک یہی پوزیشن ہے۔ہمارے سامنے تازہ مثالیں موجود ہیں ۔ممبئی بم دھماکہ 93 کے ملزمین کو مجرم ٹھہرادیا گیا ان میں سے کئی کو پھانسی کی سزا سنائی جاچکی کئی عمر قید کی سزاکے موجب قرار دئے گئے لیکن یہ بم دھماکے جن گھناؤنی حرکتوں کا رد عمل تھے یعنی بابری مسجد کی شہادت اور اس کے بعد ممبئی کا 92-93 کا مسلم کش فسادات اس کے مجرمین نہ صرف یہ کہ آزادانہ گھوم رہے ہیں بلکہ انہوں نے کھلے عام عدلیہ اور مقننہ دونوں کو دھمکایا کہ ہمیں سزاتو دیکر دیکھو۔ ان کی اس دھمکی نے واقعی کام کیا کہ انکے مقدمے ایک ایک کرکے ثبوتوں کی عدم موجود گی کاجواز بنتے ہوئے خارج ہوتے گئے۔بابری مسجد کی ملکیت کا فیصلہ جس طرح عدالت نے کیا وہ سب کے سامنے ہے ۔ نریندرمودی کے خلاف پچھلے آٹھ نو سالوں میں کیا فیصلہ ہوا ؟جس کے خلاف وافر ثبوت موجود تھے جو اب شاید موجود نہیں جب پوری مشنری پر انصاف کا خون کرنے والے حاوی ہوں تو انصاف کیسے ہوگا۔استثناء کو چھوڑ دیں وہ تو ہر جگہ ہے۔لیکن اجمالی معاملہ یہ ہے کہ ملک عزیز میں مسلمانوں پر انصاف کے دروازے بند ہیں ۔
اگر ہمارے ارباب اقتدار واقعی جمہوریت اور انصاف کی حکمرانی چاہتے ہیں تو انصاف کی طرف بلا حیل و حجت قدم بڑھائیں صرف تقریریں کرنے سے انصاف کا عمل شروع نہیں کیا جاسکتا ۔اس کے لئے ایمانداری سے عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔اس کے لئے اس بات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انصاف کو قایم کئے بنا ایک صالح معاشرے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔اور نہ عظیم ہندوستان کی یکجہتی برقرار رہ سکتی ہے۔ ڈنڈے کے زور پرکسی کو مین اسٹریم میں نہیں لایا جاسکتا۔جیسا کہ کئی مرتبہ سرکاری مشنری کی طرف سے اس بات کا اشارہ کیا جاچکا ہے کہ سیمی پر پابندی اس لئے لگائی جارہی ہے تاکہ مسلم نوجوانوں کو ملک کی مین اسٹریم میں شامل کیا جاسکے۔اس سے آگے کہنے کی گنجائش نہیں بچتی چدمبرم بھی انہیں خطوط پر چل رہے ہیں ۔ابھی حال ہی میں انہوں نے ایک انکشاف کیا کہ سیمی کے نوجوانوں کا بابری مسجد کی ملکیت کا فیصلہ کرنے والے ججوں کا قتل کرنے کا پلان تھا لیکن اسے ناکام کردیا گیا ۔کہنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ انہوں نے کس کی رپورٹ کو عوامی طور پر پریس کے حوالے کیا ۔اسی آئی بی کے رپورٹ کو جس پر ملک کی بیس فیصد اقلیت سمیت بیشتر انصاف پسندوں نے پہلے ہی سوالیہ نشان لگادیا ہے ۔یہ وہی آئی بی ہے جو ہر روز افواہ پھیلانے میں اپنا جواب نہیں رکھتی۔جس کو یوم جمہوریہ ،یوم آزادی اور ہندو مسلم تہواروں کے موقعے پر دہشت گردوں کے آمد کی اطلاع مل جاتی ہے اس کا ہلیہ تک اسے پتہ چل جاتا ہے لیکن وہ کبھی پکڑ میں نہیں آئے۔بعض مبصرین کی رائے صحیح لگتی ہے کہ آئندہ گمراہ کن جالی انکاؤنٹر کے لئے بنیاد بنایا جاتا ہے۔تعجب ہے اتنے بڑے ملک کا وزیر داخلہ انہیں افواہوں کو سچ کا درجہ دینے کی کوشش کرتا ہے۔اسے آپ اس ملک کی بدنصیبی نہیں تو اور کیا کہیں گے۔
حکومت کی نیت انصاف کرنے کی ہو تو انصاف مشکل نہیں ہے لیکن سب کچھ نیتوں پر موقوف ہے۔اگر حکومت کی نیت ٹھیک ہے تو وہ ان افسران کو تعزیر کے تحت لائے جنہوں نے انصاف کو رسوا کیا ہے۔ انہیں گرفتا رکیا جائے ۔ان پرمقدمات چلائے جائیں اور ایسی کوشش ہو کہ انہیں اپنے گناہوں کی قرار واقعی سزا ملے۔جن لوگوں کی زندگی برباد ہوئی ہے۔ ان کو بھاری معاوضہ دیا جائے ۔اس معاوضہ کو سرکاری خزانہ پر بوجھ نہیں بنایا جائے بلکہ انہی افسران کی تنخواہوں سے انکی گریجویٹی سے لیا جائے اگر ایسا کیا جائے تو کوئی بھی اس طرح کی غلیظ حرکت کرتے ہوئے سو بار سوچے گا۔پر بات یہ ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کی جان ومال عزت وآبرو کو افسران کے علاوہ حکومتوں نے بھی اپنے لئے حلال کرلیا ہے ۔ ہم حکومت پر شک کرنے میں غلطی پر ہیں تو اس کی نشاندہی یقیناًکی جانی چاہئے لیکن ہمیں امید ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا ہاں چند ڈپلومیٹک الفاظ کے ذریعہ حکومت کا دفاع ضرور کیا جاسکتا ہے ۔
ہم پھر سیمی کی طرف آتے ہیں 27 ؍ستمبر 2001 کو سیمی پر پابندی لگی تھی پورے دس سال ہوگئے اس ظلم اور ناانصافی کو اس دوران صرف 2008 جسٹس گیتا متل نے پابندی لگانے سے انکار کردیا کیوں کہ کوئی بھی با ضمیر ناجائز کو جائز نہیں کہہ سکتا یہی کچھ گیتا متل نے کیا لیکن مرکزی حکومت کی چابکدستی دیکھئے کہ اس نے محض چند گھنٹوں میں سپریم کورٹ پہونچ کر اس فیصلہ پر حکم امتنائی لے لیا اور سپریم کورٹ کی بھی فعالی ملاحظہ فرمائیں کہ اس نے سالوں سے دھول چاٹ رہی سیمی کی درخواست کو قابل توجہ نہ سمجھا لیکن اسی سلسلہ میں مرکزی حکومت کی درخواست منظور کرلی۔یہاں ہمیں یہ سوچنا پڑتا ہے کہ ہماری جمہوری حکومت میں عدالتیں کس حد تک آزاد ہیں ۔کلدیپ نیر ایک کہنہ مشق صحافی ہیں انہوں اپنے مضمون میں ایک بات لکھی تھی کہ پاکستان کی ہم چاہیں جتنی برائیاں بیان کریں لیکن ایک بات مسلم ہے کہ پاکستان میں عدلیہ اور پریس آزاد ہے۔انہوں نے ملک عزیز میں ان دونوں کی کیفیت نہیں بتائی لیکن اپنی آنکھوں اور ذہنوں کو کشادہ رکھنے والوں سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ۔
نہال صغیر

اسلام کو بھی موقع دیجئے

وہ پوری نسل جس نے غلامی کو غروب ہوتے اور آزادی کو طلوع ہوتے با ہوش و حواس دیکھا تھا وہ آزادی کی آغوش میں چند سال گذارنے کے بعد ہی آزادی کے تعلق سے شکوک و شبہات میں مبتلا ہو گئی تھی ۔اور چند دہائیوں کے بعد تو وہ آزادی کو، کالے حکمرانوں کو بآواز بلند کوسنے اور گالیاں دینے لگ گئے تھے ۔عجیب بات ہے کہ گورے حکمرانوں کو تو اپنی کالی رعایا کے دکھ درد کی کچھ نہ کچھ فکر تھی ۔وہ یقیناً غلام ممالک کے وسائل کو لوٹنے یہاں آئے تھے مگر کوشش کرتے تھے کہ رعایا کے آنسو آنکھوں میں رکے رہیں۔کیوں ؟کیوں کہ انھیں ڈر تھا کہ عوام بغاوت پر آمادہ ہو گئی تو انھیں بھاگنا پڑیگا۔جبکہ دیسی حکمرانوں کو ایسا کوئی ڈر نہیں۔عوام انھیں ووٹ نہ دیگی تو جائیگی کہاں؟حالانکہ آزادی کے بعد مملکت ہند کو بطور ویلفیئر اسٹیٹ وجود میں لایا گیا ہے ۔۔مگر کیا ہماری کوئی حکومت اب تک فلاحی مملکت کا نمونہ بن سکی ہے۔ آج تو یہ صرف چند فی صد لوگوں کی فلاح کی ذمہ دار ہے باقی لوگوں کو ان چند لوگوں کی فلاح کی خاطر عملاًبھوکا مارا جا رہا ہے ۔ایسا نہ ہوتا تو اشیاء خوردنی یوں مہنگی نہ ہوتی ۔مہنگائی روز بروز بڑھ رہی ہے ۔کھانے پینے کی چیزیں ہر نئے سورج کے ساتھ غریبوں کے ہاتھوں سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔اور حکومت۔۔۔حکومت صرف غریبوں کے غصے کو ٹھنڈا رکھنے کا کام کر رہی ہے ۔چلئے !یہ بھی کیا غلط کر رہی ہے ورنہ وطن عزیز اگر تیونس یا مصر بن گیا تو دیش واسیوں کو کتنی تکلیف ہوگی ؟ کتنا خون خرابہ ہوگا؟کھانے کی چیزوں کا کیا ہے بازار میں نہ سہی گھورے پر تو مل جاتی ہیں ۔اور یہ چند لوگوں کی ترقی نے ،امبانی اور ٹاٹا و برلا کی فلاح و بہبود نے بین الاقوامی سطح پر دیش کے نام کو جو چار چاند لگا رکھے ہیں وہ بھی تو دیکھا جانا چاہیے ۔
آج ملک کی جو حالت ہے وہ اس کے باوجود ہے کہ ملک کو ہمارے سیاستداں ویلفیئر اسٹیٹ کہتے ہیں۔یہ نتائج ہیں۶۳ سالہ سیکولر جمہوریت کے ۔ہم بلا خوف تردید یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تجربہ تو ناکام ہو چکا ہے ۔یہ صرف ہم کہہ رہے ہیں ایسا نہیں ہے بلکہ ملک کی ایک بڑی اکثریت یہ کہہ رہی ہے اور سمجھ بھی رہی ہے ۔خود حکمرانوں کا ہر ہر قدم عوام سے یہی کہتا ہے کہ موجودہ طرز حکومت ناکام ہو چکا ہے ۔ورنہ لاکھوں لاکھ کروڑ کے گھپلے ہوتے اور حکومت بے بس تماشائی نہ ہوتی۔ابھی چند دنوں پہلے کسی رسالے میں پڑھنے کو ملا کہ ۲۸۰ لاکھ کروڑ روپیہ ہندوستانیوں کا ملک سے باہر بینکوں میں جمع ہے ۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ کالا دھن اور گھپلوں کا پیسہ ملک کے خزانے میں جمع ہوتا تو ہمارے ماہانہ اخراجات صرف ایک تہائی رہ جاتے ۔یعنی اگر کسی کا ماہانہ گھر خرچ ۹ ہزار روپیہ ہے تو وہ صرف ۳ہزار ہوتا۔مگر ہمارے چور حکمرانوں نے چوریاں کر کر کے ہمیں مہنگائی کے سمندر میں غرق کر رکھا ہے ۔ہمارے ماہر معاشیات وزیر اعظم یہ بات ہم سے بہتر جانتے اور سمجھتے ہیں۔مگر مخلوط حکومت کو قائم رکھنے پر مجبور ہیں۔ہائے رے یہ مجبوری۔اور سیکولر جمہوریت ایسی ہی مجبوریوں کا نام ہے۔
اب ۲۰۰۸ سے یہ بات سننے کو مل رہی ہے کہ ہندتو والے بھی اس ملک کی حکومت کے امید وار ہیں۔اور ان کی یہ کوششیں کوئی نئی نہیں ہیں
وہ تو روز اول سے اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں ملک کی تقسیم کے پیچھے بھی یہی ذہنیت تھی۔ مگر اب وہ تیر و تلوار سے لیس کھل کر سامنے آرہے ہیں اور چونکہ حکومت نے ہندتو کے داعی حکومت کے امیدوار ہونے کی بنیاد پر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ ہندتو کو بھی بطور ایک طرز حکومت مانیتا دیدی گئی ہے ۔اس کے باوجود کے ہندتو والوں نے حکومت ملنے سے پہلے ہی یہ بتا دیا ہے کہ وہ حکومت ملنے کے بعد کیا کریں گے۔۔بابری مسجد کی شہادت ،گراہم اسٹینس کا قتل،گرجوں پر حملے ،دلتوں پر ظلم یہ خاص نشانیاں ہیں جو ہندتو حکومت کی روپ ریکھائیں سنوارتی ہیں۔اور ہماری سیکولر جمہوری حکو مت موقع ملنے پر اس طرز حکومت کو برداشت بھی کرنے کو تیار ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہندتو وادیوں میں سیمی والوں کی طرح اب تک بھگدڑ مچ جانا چاہیئے تھا۔۔مگر ۲۰۰۸ میں ثبوت ملنے کے بعد سے اب تک ایسا کچھ نہیں ہوا۔وہ صرف ان الزامات کا دفاع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کا تعلق دہشت گردی یا بم دھماکوں سے ہے ۔نظام ہندتو بزور بازو قائم کرنے کا ذکر کہیں نہیں ہے۔تو کیا ہماری حکومت کوئی نظام پر امن نہیں بزریعہء تشدد قائم کرنے کی اجازت دیتی ہے؟پھر نیپال کے ماوؤادیوں سے نفرت کیوں؟ارے۔۔۔نیپال کے ماوؤادی بھی تو ہندو ہی ہیں۔یہ ہمارا دوغلہ پن ہی ہے جس کی وجہ سے ماوؤادی ہوں کے کانگریسی بحیثیت مجموعی نیپالی ہم پر اعتبار نہیں کرتے۔حالانکہ ہم ان کی پرجا کو تعلیم و روزگار فراہم کرتے ہیں۔
اب آئیے کچھ نظر کمیونزم پر بھی ڈال لیں۔ہمارے یہاں کمیونزم کو بھی بطور ایک نظام حیات تسلیم کیا گیا ہے بلکہ ابتدائی وزرائے اعظم تو اسکی زلف گرہ گیر کے اسیر بھی رہ چکے ہیں۔ہر چند کے کمیونزم کو مرحوم ہوئے دو دہائیاں گزر چکی ہیں مگر ہمارے ہندوستانی کمیونسٹ آج بھی اس سے دست بردارہونے کو تیار نہیں ۔اور ان میں بھی مسلمانوں کا حال تو بہت ہی خراب ہے وہ سمجھتے ہیں کہ کمیونزم سے بھی طلاق لے لیں تو پھر جائیں کہاں؟کہیں دھوبی کے کتے نہ بن جائیں۔اور کمیونزم کی حالت تو سچ مچ ایسی ہی ہو چکی ہے ۔اب دنیا میں جو بھی کمیونسٹ باقی بچے ہیں وہ نام تو کمیونزم کا لیتے ہیں مگر کام سرمایہ داری کا کرتے ہیں۔اور انکے پاس جو بہاریں ہیں وہ سرمایہ داری کے دم سے ہے۔ مگر خود سرمایہ داری کا کیا حال ہے۔سرمایہ داری کے سرخیل امریکہ کے کیا حال ہیں۔پچھلے چند سالوں سے دنیا اسے چشم سر سے ڈوبتا دیکھ رہی ہے۔پوری سرمایہ دار دنیا امریکی جہاز کو بچانے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہے ۔اور یہ سب دیکھنے کے باوجود ہم بھی سرمایہ دارانہ نظام کے اسیر ہیں۔یہ اسی کے نتائج تو ہیں ہر روز لاکھوں کروڑ کے گھپلے سامنے آتے ہیں سونے پہ سہاگہ ہم لکشمی دیوی کے پجاری بھی تو ہیں۔بیرونی ملکوں میں جمع شدہ رقوم کے ہولناک اعداد و شمار پڑھنے کو ملتے ہیں مگر ہم بحیثیت قوم کچھ بھی ہوں ہم ان خوفناک اعداد وشمار کے عاشق ہو چکے ہیں فاقہ مستی میں یہ فخر کیا کم ہے کہ ہم بھی اتنی بڑی بڑی رقوم کے مالک ہیں۔
کچھ بھی ہو ہمارے لئے تو یہ بات باعث خوشی ہے کہ کمیونزم اور سرمایہ داری کے زوال سے یہ خیر برآمد ہوئی ہے کہ اب دنیا کی نیک نفوس نظام اسلامی کے بارے میں بھی سوچ رہی ہیں غیر ارادی ہی سہی ان کے منہ سے اسلامک بینکنگ یا بلا سودی نظام کی باتیں نکل رہی ہیں کچھ عرصے بعد یقین ہے کہ یہ پورے اسلامی نظام معیشت کو اپنائیں گے پھر یہ بھی یقیناً ہوگا کہ پورے نظام شریعت پر بات جاکے رکے گی ۔ خیر فی ا لوقت تو یہ بات بڑی خوش آئند ہے کہ کیرالہ ہائی کورٹ نے اسلامک بینکنگ کی اجازت دیدی ہے۔بحیثیت ملک بھی بلا سودی نظام پر غور کیا جا رہا ہے۔اور بات اتنی ہی نہیں ہے۔آزادی کے بعد سے ہندوپرسنل لاء میں جتنی بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں وہ سب کے سب مسلم پرسنل لاء سے مستعار ہیں۔مسلم پرسنل لاء کو شاید مطعون ہی اسلئے کیا جاتا ہے کہ عوام کہیں ہندو کوڈ کی حقیقت کو نہ سمجھ لیں۔یہ تو تھی مسلم پرسنل لاء اور نظام معیشت کی باتیں،اب اسلام کے نظام انصاف کی بھی کچھ سن لیں۔
۲۰۰۸ میں انگلینڈ کے چیف لارڈ جسٹس فلپس نے کہا تھاکہ شریعت کورٹس کو بھی انگلینڈ کے نظام انصاف میں جگہ دی جانی چاہئے اور انھیں ازدواجی اور اقتصادی مسائل کے حل کیلئے استعمال کیا جانا چاہئے۔لارڈ فلپس کے بیان پر جو غبار اٹھا وہ ابھی بیٹھنے بھی نہ پایا تھاکہ بالکل ایسا ہی بیان Archbishop of Canturburry جنابRowan Williamsنے بھی دے دیا۔انھوں نے بھی قانون شریعت کے کچھ حصوں کو لاگو کرنے کی بات کہی۔اس پر جو ہنگامہ مچا ہے اس نے انگلینڈکے معاشرے کو ایک بحث میں مبتلا کر دیا۔مگر انگلینڈ کی پارلیمنٹ نے تمام ہنگاموں کے علی ا لرغم خاموشی سے شریعت کورٹس کو قانونی حیثیت دیدی۔اب حال یہ ہے کہ ان شرعی عدالتوں سے مسلمان ہی نہیں غیر مسلم بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔غیر مسلم بھی اپنے قضیے انہیں عؑ دالتوں سے فیصل کرا رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ نظام اسلامی کے کچھ حصوں کو اپنا کرچند ٹکڑوں میں عوامی فلاح و بہبود کشیدکرنے کا فائدہ کیا ہے؟کیوں نہ پورے نظام کو اپنا کر پوراپورا فائدہ حاصل کرنے کا تجربہ کیا جائے۔ہم تو یہ چاہتے ہیں کے نظام اسلامی کا دعویٰ کرنے والوں کو بھی ۵
سال موقع دیکر دیکھا جائے۔ہندتو اور کمیونزم کی طرح انہےٰں بھی اپنی بات پیش کرنے کا اپنی کارکردگی دکھانے کا پورا پورا موقع دیاجائے ۔

ممتاز میر

عورت اسلام کی نظر میں

اسلام دین فطرت ہے ۔اس کے تمام قوانین انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے بنائے گئے ہیں ۔اسلام گھر کو سماج کی اکائی قرار دیتا ہے جس کی بنیاد پر معاشرہ پروان چڑھتا ہے اور اسی گھر کے بنیادی ستون شوہر و بیوی ہوتے ہیں ،اور انہی پر سماج کے بناؤ و بگاڑ کا انحصار ہوتا ہے ۔ظاہر ہے کہ جب گھر ٹوٹے گے تو معاشرہ بھی ٹوٹے گا۔اسی لیے معاشرے میں عورت کی حیثیت و اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مذہب اسلام نے عورت کو ایسا با عزت و بلند مقام عطا کیا جس کی مثال دوسرے کسی مذاہب میں نہیں ملتی۔رسول ﷺ کی بعثت سے پہلے عورت کی کوئی حیثیت نہ تھی ۔اسے مصائب و برائی کی جڑ سمجھا جا تا تھا۔کہیں اسے فروخت و خریدا جاتا تو کہیں زندہ درگور کیا جاتا اور کہیں اسے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ۔غرض عورت کا مقام جانور سے بھی بد تر تھا۔
اللہ کی رحمت جو ش میں آئی اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو معبوث فرمایا تاکہ جہالت کے اندھروں کو مٹا کر حق کی روشنی کو پھیلایا جائے جہاں ظلم و ستم کا نام و نشان بھی باقی نہ رہے ۔معاشرہ میں عورت و مرد سب کے لیے یکساں حقوق ہوں۔اللہ فرماتا ہے ’ ولھنَّ یثلُ الذی علیھن بالمعروف ( البقرہ
۲۲۸)۔اور ان عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر وہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر۔
سچ بات یہ ہے کہ اسلام پوری انسانیت کی فکر کرتا ہے اس لیے قرآن نے عورتوں کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ جہاں مردوں سے مخاطب ہوا وہاں عورتوں کو بھی خطاب کیا ہے جیسے اللہ کا ارشاد ہے کہ ’اور مومن مرد اورمومن عورتیں ایکدوسرے کے دوست ہیں اور اچھے کام کرنے کو کہتے اور بُری باتوں سے منع کر تے ہیں،نماز پڑھتے ہیں ،ذکوٰت دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں ،یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرے گا بے شک اللہ غالب اور حکمت والاہے(توبہ
۷۱
)
اسلام نے عورت کو تعلیم کا حق دیا ۔درس و تدریس ،تقریر و تحریر کی آزادی دی ۔اپنی پسند کی شادی کی اجازت دی ،نباہ نہ ہونے کی صورت میں خلع کا اختیار دیا ۔بیوہ کی دوسری شادی کی اجا زت دی اور اس کام کو اچھا کام کہا۔وِراثت ،مال و جائداد کے حقوق دئے ۔اسلامی حدود میں رہ کر بوقت ضرورت معاشی جدوجہد کی آزادی بھی عنایت کی گئی۔حتیٰ کہ جہاد میں شرکت سے بھی نہیں روکا ۔لہٰذہ جہاد میں زخمیوں کی تیمار داری کی مثالیں اسلامی تاریخ میں ملتی ہیں اس طرح جہاد میں شرکت کر کہ اپنے ثواب و مرتبہ کو بلندکر سکتی ہیں۔ساتھ ہی عورت کی عظمت کو اسلام نے ماں کے روپ میں ایک عظیم مقام عطا کیا۔لہٰذہ رسول ﷺ کا ارشا د ہے کہ ’ ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے‘۔
ایک عورت کے لیے اس سے بڑھ کر کیا اعزاز ہوگا ۔اسی طرح ایک اور ارشاد ہے کہ بیٹی یا بہن کی اچھی پرورش اور اچھی جگہ نکاح کیا تو اس پر جنت کی بشارت دی گئی۔نیک سیرت بیوی کو دنیا کی بہترین متاع کہاگیا۔بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے سلسلے میں آپ ﷺ نے فرمایا ’ مومنوں میں مکمل ایمان اس شخص کا ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں اور تم میں سب سے اچھا وہ شخص ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھا ہو۔(ترمذی)
مگر افسوس! صد افسوس آج عورت ہی نے اپنے اس مقام کو بھُلا کر مغربی تہذیب کی دمک چمک کو اختیار کرنا اپنا مقام بنا لیا ہے۔آزادی کے نام پر وہ ایک چیز (پروڈکٹ ) بن کر رہ گئی ہے۔کہیں ہوٹلوں ،کلبوں دفتروں کی زینت ہے تو کہیں چلتا پھرتا اشتہار ہے تو کہیں مردوں کی ہوس کا شکار ہورہی ہے اور کہیں ضرورت سے زیادہ کام کا بوجھ اُٹھانے پر راضی ہے ۔ان مسائل کا حل کسی کے پاس نہیں ہے ۔کیونکہ کوئی بھی ان باتوں کو مسئلہ نہیں سمجھ رہا ہے بلکہ عین ترقی سمجھ رہا ہے۔عورت پر اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے وہ بیک وقت ماں بننے کے فطری عمل سے گزر رہی ہے تو دوسری طرف دولت کی چاہ میں بازاروں میں اپنی خدمات فراہم کر رہی ہیں ۔اگر کوئی بہن انہیں مسائل سمجھ رہی ہے اور وہ ان سے چھُٹکارہ پانا چاہتی ہے تو اسے ایک ہی راہ ہے اور وہ راہ ہے اسلام کی۔خواتین عہد کرے ہم قرآن و سنت سے اپنا تعلق مضبوط کریں اور اس کی روشنی میں اپنی زندگی گزارے اور اسلامی سماج کے قیام کے لیے جدوجہد کے۔تاکہ دنیا و آخرت کی فلاح و کامرانی کی سعادت حاصل ہو۔

عرشیہ شکیل