نروپم کی واپسی


ممتاز میر،برہانپور

’’اب کانگریس ایودھیا میں رام مندر بنوائے گی ،سنجے نروپم کے ذریعے کانگریس میں نرم ہندتو کی پالیسی کی شروعات ۔سنت مہنت اکائی مندر بنوانے کے لئے سر گرم‘‘۔ یہ ۱۱؍ جولائی کے ایک اخبار کی خبر ہے ۔اس خبر کو پڑھ کر ہمیں وہ دن یاد آگئے جب سنجے نروپم جی شیو سینا چھوڑ کر آئے تھے ۔چند دنوں تک مسلمانوں کے درمیان کانگریس میں اس شیو سینک کے استقبال پر نا گواری کا اظہار کیا جاتا رہا ۔مگر پھروہ لیڈر اور علماء کرام جو کانگریس کو ان داتا اور نجات دہندہ سمجھتے ہیں دبک کر بیٹھ گئے۔ہمارا برسوں سے خیال ہے کہ اب مسلمان رہنماؤں کی حالت ان کتوں کی طرح ہو گئی ہے جنھیں چھیچھڑے دکھاؤتو بھونکنا بند کرکے لپک پڑتے ہیں۔
یہ ایک انتہائی غلط بات ہے کہ کانگریس نے نرم ہندتو کی پالیسی کی شروعات اب سنجے نروپم جی کے مقدس ہاتھوں سے کی ہے ۔ہمارا مطالعہ تو یہ بتاتا ہے کہ کانگریس ہمیشہ سے ہی نرم ہندتو کی پالیسی پر عمل پیرا رہی ہے اور یہ صرف ہم نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ کانگریس کے نرم ہندتو کے شاکی بلکہ اس کو غلط یا ایک ناکام پالیسی بتانے والے بیسیوں مضامین ہم انہی اخبارات میں پڑھ چکے ہیں ۔سچ یہ ہے کہ بی جے پی اور کانگریس کو الگ الگ فکر کی حامل سیاسی پارٹیاں سمجھنا ایک بڑا مغالطہ ہے ۔ہم برسوں سے دلت وائس کے ایڈیٹر اور دلتوں کے ایک بڑے دانشور وی ٹی راج شیکھر کی اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں کہ دونوں پارٹیاں آر ایس ایس میں ہی اپنی بنیاد رکھتی ہیں(کانگریس کے احمق چاہنے والے کہہ سکتے ہیں کہ کانگریس کی بنیاد ۱۸۸۵ میں اور آر ایس ایس کی بنیاد ۱۹۲۵ میں رکھی گئی۔یہ کیسے؟)کانگریس نے مسلمانوں کوبی جے پی کے مقابلے کہیں زیادہ نقصان پہونچایا ہے اور اسی لئے کانگریس آر ایس ایس کی پہلی پسند ہے ۔ مگر رونے کا مقام یہ ہے کہ یہ بصیرت ایک دلت کو تو حاصل ہے لیکن سیاسی لیڈروں کا ذکر کیا یہ بصیرت مسلمانوں کے علماء کرام کو بھی حاصل نہیں ۔وطن عزیز کی تاریخ میں کانگریس کی سب سے زیادہ چمچہ گیری ہمارے علماء کرام نے ہی کی ہے ۔کاش کے ہمارے علماء کرام صرف خدا اور رسول ﷺ سے ہی اپنی وفاداری استوار رکھتے۔
شریمان سنجے نروپم جی بہار کے رہنے والے ہیں۔۱۹۸۸ میں انڈین ایکسپریس کے ہندی ورژن جن ستہ میں نوکری کی غرض سے بمبئی وارد ہوئے۔۵ سال جن ستہ میں نوکری کے دوران شیوسینا چیف بال ٹھاکرے کی نظروں میں چڑھ گئے ۔ پھر شیوسینا کے ہندی آرگن’’دو پہر کا سامنا ‘‘ کے ایڈیٹر بن گئے۔چھگن بھجبل اور نارائن رانے کی طرح یہ بھی بال ٹھاکرے کی ناک کا بال بنے ۔انھیں بھی شیو سینا نے راجیہ سبھاکی رکنیت سے نوازا۔راجیہ سبھا کی رکنیت کے دوران انھوں نے راجیہ سبھا میں دلیپ کمار جیسے ٹھیٹ سیکولر اور وطن پرست شخص پر فرقہ وارانہ تبصرہ کرنے کا کارنامہ انجام دیا ۔(rediff.com-14 Dec.1998) جس کے نتیجے میں وہ ہنگامہ مچا کہ راجیہ سبھا کے سیشن کو دن بھر کے لئے ملتوی کرنا پڑا ۔اتنے بڑے کارنامے کے باوجود نا معلوم وجوہات کی بنا پر انھیں شیو سینا میں نظر انداز کیا جانے لگا (بقول نروپم جی)اور حضرت ۲۰۰۵ میں شیو سینا چھوڑ کر کانگریس میں آگئے۔ہمارے نزدیک کانگریس روز اول سے ایک فرقہ پرست پارٹی یا زیادہ بہتر الفاظ میں کہنا چاہئے نرم ہندتو کی حامی پارٹی رہی ہے۔مسلمانوں کو مارنا اس کا بھی مقصد رہا ہے مگر بڑی ڈپلومیسی کے ساتھ،بڑے فنکارانہ انداز میں ۔اور ۷۰ سال گزرنے کے بعد بھی ہمارے رہنماؤں کو اس کا اندازہ نہیں ہے۔جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے۔ہمارے نزدیک نرسمہا راؤ،چھگن بھجبل ،نروپم جی کی قبیل کے لوگ ایک ٹارگٹ لے کر سیاسی پارٹیوں میں شریک ہوتے ہیں۔
شریمان سنجے نروپم جی جب کانگریس میں شامل ہوئے تھے تو ان کی حالت بڑی خراب تھی ۔حالت یہ تھی کہ ’’پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں‘‘۔پھر انھوں نے ایک داؤں کھیلا ۔کچھ پیسے خرچ کئے۔اپنے ارد گرد کچھ تھرڈ ریٹ لیڈر اورعلماء حضرات کو جمع کیا ۔ان میں ایک تو ایسے تھے جو دو قدم بھی بمشکل چل پاتے ہیں۔ایسے لوگوں نے نروپم جی کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر دہلی جا کر سونیا گاندھی کی گودمیں بٹھا دیا ۔اور شیو سینا سے آئے ایک فرقہ پرست کو پکا سیکولر ثابت کر دیا۔(اسی لئے تو نروپم جی نے ان کی مدد حاصل کی ہوگی)اور سونیا گاندھی کے پیروں پر گر کر درخواست کی کہ نروپم جی کھوٹے سکے سہی مگر اب کانگریس میں اپنی کارکردگی کا جادو جگائیں گے ۔بس اس کے بعد نروپم جی کانگریس میں ترقی کرنے لگے ۔مسلمانوں کی طرف سے کلیرنس ملنے کے بعد اور کیا ہو سکتا تھا ۔نوبت یہاں تک پہونچی کہ انھیں کانگریس کے ’’دگج‘‘ نیتاؤں پر فوقیت دی جانے لگی۔ہمیں دشمنوں سے ڈر نہیں لگتا ۔ہمیں تو اپنوں سے ڈر لگتا ہے۔ہمیں اپنے علماء سے یہ پوچھتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ یہ نرم ہندتو کی پالیسی کیا ہے؟یہ تو مناظروں کے ماہر ہیں اگر نرم ہندتو کو عین سیکولرزم کا تقاضہ ثابت کر دیا تو۔۔۔تو ہم کیا کرلیں گے۔ہمارا مطالعہ کہتا ہے کہ مسلمانوں کا قافلہ دشمن کی بہادری یا اسلحے کی برتری سے کبھی نہیں لٹا،یہ ہمیشہ اپنوں کی غداری سے افتراق سے انتشار سے لٹا ہے۔ہم دعا کرتے رہتے ہیں کہ اللہ ہمارے رہنماؤں کو پچھتانے کا ،اپنی اصلاح کرنے کا موقع عنایت فرمائے۔آمین
                         ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔7697376137

علماء اور مفکرین کا سکوت مرگ :اللہ رے سنا ٹا آواز نہیں آتی

پروفیسر محسن عثمانی ندوی



عصر حاضر میں جن شخصیتوں نے اپنی علمی دینی اور فکری خدمات کا گہرا نقش عالم اسلام پر قائم کیا ہے ان میں علامہ اقبال مصر کے حسن البنا ، پاکستان کے مولانا مودودی ،ہندوستان کے مولانا ابو الحسن علی ندوی،تیونس کے راشد الغنوشی ایران کے امام خمینی کے نام لئے جاتے ہیں ۔موخر الذکر نے ایران میں جو انقلاب برپا کیا تھا جو اگرچہ ایک بے دین مغرب زدہ استبدادی حکومت کے خلاف بہتراسلامی انقلاب تھا لیکن اس پر شیعیت کی مسلکی چھاپ ناقابل قبول ہونے کی حد تک گہری تھی۔اس حقیقت کے لئے یہ ثبوت کافی ہے کہ جب مصر میں اخوان نے انقلاب برپا کیا تو ایرانیوں نے اسے اسلامی انقلاب قرار دیا اور اس کی پذیرائی کی اور جب یہی اخوانی شام میں انقلاب بردوش بن کر بشار کے مقابلہ میںآئے تو ایران کی ساری حمایت دامے درمے قدمے سخنے فوج اور ہتھیار کے ساتھ بشار الاسد کیساتھ ہوگئی کیونکہ بشار سے شیعیت کا رشتہ تھا اگر چہ کہ دور کا تھا یعنی بشار علوی شیعہ تھا اور علویوں کو ایرانی گمراہ سمجھتے ہیں تاہم وہ شیعہ تھا اس لئے اہل سنت اور اخوان کے مقابلہ میں وہ زیادہ قابل قبول تھا ۔ایران کی اس غلط پالیسی کی وجہ سے عالم اسلام کا ایران پر اعتماد باقی نہیں رہا ۔ ایرانی لابی کے ہندوستانی صحافی بھی افسوسناک حد تک ایران کے ہم سفر اور ہم صفیر رہے۔اور اس چیز نے اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان وہ خلیج پیدا کردی ہے جسے پاٹنا آسان نہیں ہے ۔
بر صغیر میں فکر اسلامی کے آسمان پرمولانا مودودی اورمولانا ابو الحسن علی ندوی دو روشن ستاروں کے نام ہیں ان دونوں کے درمیان فکری مماثلتیں ہیں ، دونوں عالم اسلام کی دینی تحریک الاخوان المسلمون کے مداح اور قدرشناس ہیں،دونوں اسلام کو ایک مکمل نظام حیات سمجھنے والے ہیں۔ اس فرق کے ساتھ کہ مولانا مودودی شریعت کی ظاہری شکل اور نظام پرزیادہ فوکس ڈالتے ہیں اور مولانا علی میاں ایمانی اور داخلی کیفیات پر زیادہ زور دیتے ہیں۔مولانا مودودی کے مقابلہ میں مولانا علی میاں کا قلم محتاط بہت ہے ان کی سیکڑوں اردو عربی تصنیفات میں ایک جملہ بھی کہیں ایسا نہیں ملتا جو علماء کے لئے وجہ اعتراض ہو، خاص طور پر تاریخ میں اختلافات کے خارزار سے ان کا قلم اس طرح گذرتا ہے جیسے کوئی پل صراط پر سے کامیاب گذرے مولانا علی میاں کا یہ کمال دیکھنا ہو تو اسے المرتضی پڑھنی چا ہئے جو مشاجرات صحابہ کا عہد ہے اور جس میں صحابہ کے اختلافات کا بیان ہے یا حیات عبد الحی پڑھنی چاہئے جس میں شبلی اور مولانا عبد الحی کے اختلافات پر پورا باب موجود ہے اور مولانا عبد الحی مولانا علی میاں کے والدہیں یہاں مولانا علی میاں کے قلم کی خصوصیت آشکار ہوتی ہے۔ اس وقت عالم عربی میں عرب بہاریہ کے زیر عنوان جو انقلابات آئے ان کے پس پردہ مولانا مودودی اور مولانا علی میاں کے فکر کے بھی سائے ہیں اور شیخ علامہ یوسف القرضاوی نے تو یہاں کہہ دیا ہے کہ جہاں جہاں الربیع العربی کے تحت جو انقلاب آیااس کے پس پردہ مولانا علی میاں کی مفکرانہ کتاب ماذا خسر العالم بانحطاط ا لمسلمین اور اس طرح کی کچھ اور کتابوں کاہاتھ ہے ۔ہر جگہ اسلامی ذہن وفکر کے لوگ تھے جنہوں نے عرب ملکوں میں اپوزیشن کا رول ادا کیا تھا اور وہ آگے آگے تھے۔یہ بہت بڑی حقیقت ہے جسے لوگ کم جانتے ہیں ۔ مغربی طاقتیں ابتداء میں جمہوریت کی دستک سے خوش بہت ہوئیں اور انہوں نے اسے بہار کی آمد قرار دیاانہیںیقین تھا کہ اب آمرانہ اور استبدادی نظام جس کے عرب عادی ہوگئے تھے ختم ہوگا ، لیکن جب جمہوریت سے اسلام برآمدہو تو ان کی خوشیاں کافور ہوگئیں،وہ غم سے نڈھال ہوگئے انہوں نے محسوس کیا کہ اگر مصر اور شام دونوں جگہ اخوانی برسراقتدار آگئے تو اسرائیل کے وجود کے لئے سنگین خطرہ بن جائیں گے۔اسلامی جمہوریت کے خلاف سازش ہوئی اور اس سازش میں ان تمام مملکتوں کو شریک کرلیا گیا جنہیں اسلام کے جمہوری سیاسی نظام سے زیادہ قیصر وکسری کا شہنشاہی نظام زیادہ عزیزتھا۔
عرب دنیا میںآج سیاسی سطح پر وہی اسلامیت اور غیر اسلامیت کی کشمکش ہے جو خلافت راشدہ کے بعد شروع ہوئی تھی۔خلافت راشدہ کے بعدحکومت کی گاڑی اسلام کی پٹری سے اتر گئی تھی ۔اس کو ٹھیک کرنے کی جو کوششیں ہوئیں وہ کامیاب نہ ہوسکیں اور مسلمانوں کا خون بہت بہ گیا تھا۔خلافت راشدہ کے بعدنظام حکومت میں فرق ضرور آگیا تھا، حکومت کا اسلامی شورائی جمہوری معیار باقی نہیں رہا، لیکن شریعت کے قانون نافذ تھے اور فتوحات کا دائرہ بڑھتا جارہا تھا اس مسلسل پھیلتے ہوئے عالم اسلام کے لئے قانون اور علوم اسلامیہ کی تدوین کی فوری ضرورت تھی علماء حکومت کی اصلاح سے مایوس ہوکر اس ضروری کام میں مشغول ہوگئے اور پھر وہ علمی دینی ترقیاں سامنے آئیں جو آج تک سند کا درجہ رکھتی ہیں۔اگرچہ زیر زمیں حکومت کے نظام کو درست کرنے اور بدلنے کی کوششیں بھی جاری تھیں اور اہل علم اہل دین اور فقہاء کی ہمدردی بھی انہیں حاصل تھی تاہم یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔
صدیاں گذر گئیں آخر میں ان مغربی طاقتوں کا آفتاب اقبال طلوع ہوا جن کے دلوں میں صلیبی جنگوں کا زخم ہرا تھا اور تمام عرب ملکوں میں جو ترکی کی خلافت سے آزاد ہوچکے تھے ان کے زیر نگیں آگئے تھے اس وقت مسلمانوں میں ایسے علماء اور اہل قلم سامنے آئے جنہوں نے اسلامی نظام حیات کا انکار کیا جامع ازہر کے ایک مشہور عالم تھے جن کا نام شیخ عبد الرازق تھا انہوں ایک کتاب لکھی ’’الاسلام ونظام الحکم‘‘ جس میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ اسلام بھی مسیحیت کی طرح عبادات کا دین ہے نہ کہ مکمل نظام حیات۔جامع ازہر نے جس کی حیثیت آج کے ’’ ہز ماسٹر وائس ‘‘ والے ازہرکی نہیں تھی ان کی سند ضبط کرلی۔اور جامع ازہر کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ تھا کہ کسی کی سند اور ڈگری منسوخ کردی گئی ہو ۔اس بربط فکر پر ساز چھیڑنے والے اور بھی اہل قلم مصرا ورشام میں پیدا ہوئے ان ملکوں میں زمام اقتدار جن لوگوں کے ہاتھ میں تھی وہ بھی اسی فکرکے حامل تھے ،مغرب کے پروردہ اور جدید تعلیم یافتہ ۔ اب بہت سے عرب ملکوں میں اسلام دفاعی پوزیشن میں تھا اور مسجدوں میں محصور، بے طاقت اور مجبور ۔ اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے بہت سے اہل قلم سامنے آئے اور بہت سی تنظیمیں وجود میں آئیں ۔جن میں سب سے طاقتور اور وسیع تر تنظیم الاخوان المسلمون کی تھی جس کے بانی حسن البناء تھے ۔اس کے بعد شرار بو لہبی سے چراغ مصطفوی کی کشمکش کی طویل داستا ن شروع ہوتی ہے جو ابھی تک جاری ہے ، فلسطین کو آزاد کرانے کا عزم رکھنے والی واحد تنظیم کو بھی دہشت گرد قرار دے دیا گیا ہے ۔ یہ امریکہ کا اقبال ہے کہ جو وہ چاہتا ہے عرب ملک وہی کرتے ہیں اور جو وہ بولتا ہے وہی زبان بولتے ہیں امریکہ کو اپنی بالا دستی کا زعم ہے۔ صدر ٹرمپ کے دست راست اور ایڈوائزر جنرل فلن اپنی کتاب دی فیلڈ آف رائٹ میں اسلام کے لئے کینسر کا لفظ استعمال کرچکے ہیں۔ افسوس کہ چراغ مصطفوی کی لو کترنے کے لئے اسلام اور حرم کا نام لینے والے ملک بھی سامنے آگئے ہیں ۔ سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ حسن البنا اور دیگر اخوانی قائدین اور مولانا مودودی، مولانا علی میاں ، عائض القرنی اور بہت سے اسلامی مفکرین کی تحریروں پر قدغن لگا دی گئی ہے۔ شہروں کے مکتبوں سے ان کی کتابیں ہٹادی گئی ہیں ،کیونکہ حکمرانوں کی مغرب سے متاثر قوت شامہ ان میں دہشت گردی کی بو محسوس کرتی ہے یا وہ اپنے مستقبل کے بارے میں اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، جل جلالہ خود سرطان میں مبتلا ہیں اور سلطانی خاک کا پیوند ہونے والی ہے ۔لیکن شیطان کے پھندے میں گرفتاراور فریب نفس کا شکار ہیں ۔ شیطان کا جال نہیں ہوتا تو ضرور ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوجاتا ۔اور اس سے بھی زیادہ غمناک اور شرمناک بات یہ ہے کہ مسلم حکمرانوں کی جانب سے اس کھلی ہوئی لامذہبیت کی حمایت اور مدد پر علماء دین کی، جو وارثین انبیاء کہلاتے ہیں، غیرت اور حمیت ذرا بھی نہیں جاگتی ہے ان کا ضمیر بیدار نہیں ہوتا ہے ۔ہندوستان ہی کے اخبارات اٹھا کر دیکھئے تو ختم بخاری اور ختم خواجگان اور میلاد النبی اور وعظ وتذکیر کے جلسے ہر طرف منعقد ہوتے نظر آئیں گے۔ لیکن پورے پورے علاقے اور پورے پورے ملک میں ایساکوئی ایک صاحب عزیمت عالم نظر نہیں آئے گا جو مسلم حکمرانوں کے منافقانہ رویہ اور ان عرب ملکوں کے بعض ضمیر فروش علماء اور مفتیوں کی بے ضمیری اوربے دانشی پر احتجاج کرے،اف یہ سکوت مرگ ۔اللہ رے سنا ٹا آواز نہیں آتی ۔ صحافیوں کے قلم بھی بک چکے ہیں ۔ امیرمعاویہ نے جب اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد بنایا تھا تو حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے سخت احتجاج کیا تھاآج اگر کوئی حکمراں اپنے بیٹے کو ولی عہد بنا تا ہے تو اہل قلم صحافی گلدستہ تہنیت پیش کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں ، لکھا جاتا ہے کہ ولی عہدی مبارک ہو، قلم سے بہاروں کوحکم دیا جاتا ہے کہ پھول برسائیں ، ستاروں کویہ حکم کہ چراغاں کریں ،ایسا نہیں ہے کہ علماء اور اہل قلم اور صحافیوں کا نقطہ نظر دوسرا ہے وہ گھر کی اور دوستوں کی خلوت کی نشستوں میں ان حکمرانوں کو برا کہیں گے اور ان کا مذاق اڑائیں گے ، لیکن سامنے آنے سے اور سچ بات کہنے سے اور کسی پلیٹ فارم سے حق کے اظہار سے گریز کریں گے۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر علماء کی پہلی ذمہ داری ہے ۔ اس دنیا کو قرآن میں متاع غرور کہا گیا ہے یہ متاع غرور ان کی عزیزتر متاع بن گئی ہے ، اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بھی وہ اس کا سودا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ایک نفاق اور بزدلی اور بے ہمتی کا عالم ہے جو چھایا ہوا ہے ، ہر ایک کے ہاتھ میں کشکول گدائی ہے،ہر دست دست سوالی ہے اور الید السفلی ہے ۔ اب نہ کوئی مفکر اسلام ہے نہ کوئی مجدد اسلام ہے ،نہ کوئی معمار حر م ہے نہ کسی کے ہاتھ میں علم ہے ،نہ کہیں داروئے الم ہے ۔زمانہ کو انتظار اس شخصیت کاہے جو معمار قوم ہو جو حق فروش اور حق فراموش مسلم علماء اور قائدین اور اہل قلم کا مزاج بدل دے اور ان میں حق شناسی اور حق نیوشی اور حق گوئی کا کردار پیدا کردے ۔
اے سوار اشہب دوراں بیا اے فروغ دیدہ امکاں بیا

بلیٹ ٹرین کی پٹری پر ہندوتوا کی ریس

نہال صغیر

ہندوستان بدترین معاشی بحران سے گزررہا ہے ۔ اس بحران کی سب سے اہم وجہ مودی حکومت کا کرنسی منسوخی کا غیر دانشمندانہ قدم ہے ۔ اس کے علاوہ بھی حکومتی پالیسی اس کے لئے ذمہ دار ہے ۔ دراصل کسی بھی ملک کو معاشی اور دفاعی طور پر مستحکم ہونے کیلئے ضروری ہے کہ امن و امان اور قانون و انتظام کی صورتحال بہتر ہو۔لوگ بلا خوف خطر اپنی روز مرہ کی ضرورتوں کو پورا کریں ۔انہیں کوئی کاروبار کرنا ہو تو اس کے لئے انہیں آسانیان فراہم ہوں ۔حکومت کے متعلقہ شعبے انہیں تعاون کریں ۔ یہ مسائل ملک میں پہلے سے ہی تھے اس پر موجودہ حکومت کے تین سال قبل ورود کرنے کے ساتھ ہی اس میں اضافہ ہوگیا ۔حزب اقتدار کے غنڈے اور بدمعاش ارکان کھلے سانڈ کی طرح کہیں بھی حملہ آور ہو جاتے ہیں ۔ ملک کی فضا اتنی مکدر ہوگئی ہے کہ اب ٹرینوں ،بسوں اور شاہراہوں پر ایک مخصوص شناخت کے ساتھ چلتے ہوئے جسم میں ٹھنڈی لہر دوڑ جاتی ہے ۔حالات کی یہ سنگینی ہی ملک کی معاشی تباہی کے لئے ہی کیا ناکافی تھی جو بڑے نوٹوں کو منسوخ کرنے کا اچانک فرمان جاری ہو گیا ۔اس سے پیدا شدہ مسائل چھ ماہ بیتنے کے بعد بھی ختم ہوتے نظر نہیں آتے ۔لیکن حکومتی کارندوں کی بے حسی اور جوابدہی کے احساس سے عاری اور بے ضمیری کا حال یہ ہے کہ وہ اب بھی اچھے دنوں کی آمد کے راگ الاپتے نہیں تھکتے۔یہ حکومت جس تنظیم سے تعلق رکھتی ہے اس نے ہر شعبہ کیلئے جھوٹ پھیلانے اور تنقید کرنے والے بیدار افراد کی زبان بند کرانے کیلئے اپنے کارندے ہر چہار جانب چھوڑ رکھے ہیں۔سڑکوں پر ان کے پالے ہوئے غنڈے انارکی پھیلارہے ہیں تو ٹی وی شو اور سوشل میڈیا پر اس سے توجہ ہٹانے کیلئے پہلے تو اس کا رخ موڑا جاتا ہے جب اس میں کامیابی نہیں ملتی تو ترقی کا سنہرا خواب دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
حکومت نے آتے ہیں اپنی مختلف ناکامیوں اور اپنے بے لگام غنڈوں کی حرکتوں سے توجہ ہٹانے کیلئے بلیٹ ٹرین کا شوشہ چھوڑ دیا تھا ۔اسے خوب خوب مشتہر کیا گیا ۔صرف بلیٹ ٹرین ہی کیا ترقی کے تعلق سے کئی اوینٹ اور اعلانات و پروگرام عوام کے سامنے پیش کئے گئے ۔ جو سب کے سب ہنوز عمل کی قطار میں ہیں کہ جانے کب ان کا نمبر آئے گا۔اب تو شاید عوام بھی بھول چکے ہوں کہ مودی جی نے کیا کیا اعلان کیا ، صرف اعلان جی ہاں صرف اعلان !ان کا کام صرف اتنا ہے کہ پچھلی حکومتوں کے شروع کئے گئے کاموں پر اپنا نام کندہ کروارہے ہیں ۔بلیٹ ٹرین کو ہی لے لیں ۔یہ کافی پہلے سے گفتگو کا موضوع ہے ۔ریلوے کی ویب سائٹ اور ویکی پیڈیا پر مودی جی کے عروج سے کافی قبل سے ہی ان کی تفصیلات درج ہیں ۔کئی وجوہات سے اسے شروع نہیں کیا جاسکا ۔ اس میں اول تو فنڈ کی کمی اور دوسرے بیورو کریسی کی تساہلی ۔یہ دونوں ہی مسائل آج بھی حل طلب ہیں ۔بلیٹ ٹرین کے بارے میں اب خبر آرہی ہے کہ 2021 میں شروع ہوگا اور 2031 میں اختتام پذیر ہوگا ۔کرایہ دوری کی بحث کو میں اس لئے نہیں لکھ رہا ہوں کہ یہ بحث فضول ہے کہ اس کا کیا کرایہ ہوگا اور کتنی دوری کتنے گھنٹوں میں طے کرے گی ۔جب چلے تب ہی یہ بحث ٹھیک ہوگا ۔چلنے سے پہلے اس کاکام شروع ہونا ضروری ہے ۔جس کے بارے میں خبر ہے کہ 2021 اس کی شروعات ہوگی ۔یعنی 2019 کا انتخاب اسی ایک اہم پرجیکٹ کے سہارے جیتنے کا منصوبہ ہے کہ کانگریس نے کچھ نہیں کیالیکن دیکھو مودی جی نے آتے ہی ملک کوبلیٹ ٹرین کا تحفہ دینے میں اپنی سرگرمی دکھارہے ہیں۔منصوبے اور بھی بہت سے ہوں گے بلکہ ہیں لیکن اس میں کئی منصوبے جسپال بھٹی کے فلاپ شو کی حیثیت رکھتے ہیں ۔صرف ایک ہی فارمولا ترقی ہے جو کو فی الحال دوام حاصل کرچکا ہے ۔ دیش بھکتی بھی ہے لیکن اس میں زیادہ قوت اس لئے نہیں ہے کہ اس کا راگ الاپنے کے نقصانات یہ ہیں کہ عوام کو بہر حال یہ جانکاری ہو رہی ہے کہ یہ محض ایک جذباتی نعرہ ہے ۔اس کیلئے کافی مشقت کرنے کی ضرورت ہے ۔پاکستان سے جنگ کرنی ہوگی ۔کچھ فوجیوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا ہوگا ۔پھر بھی کہیں سے کسی نے کوئی سوال اٹھادیا تو اس کے کئے کرائے پر پانی پھرنے کا خدشہ برقرار رہتا ہے ۔لیکن ترقی کا فارمولہ اچھا ہے ۔اس پر کسی نے کوئی سوال اٹھایا تو کہہ دیا جائے گا کہ دیکھو یہ ترقی کے دشمن ہیں ۔یہ ملک کو ترقی یافتہ دیکھنا ہی نہیں چاہتے ۔ایسا مودی جی اور ان ہمنوا کرتے بھی رہے ہیں اور اب بھی جب کبھی مذہبی جنونیت سے تھوڑی سی فرصت ملتی تو اس کا راگ ضرور الاپتے ہیں۔اس انتخاب میں ترقی کی بات ۔آئندہ اس پر عمل آوری کی شروعات کی نمائش ۔یعنی آئندہ کا الیکشن نمائش پر ہوگا ۔
ہندوتوا یعنی برہمنیت کے علمبرردار فی الحال اس کوشش میں ہیں کہ وہ ایک بار پھر بلیٹ ٹرین اور ترقی کے دیگر پروجیکٹ کے لئے چہل پہل کو تیز کریں اور عوام کو یہ باور کرائیں کہ مودی کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے جو ملک کو حقیقی ترقی سے ہمکنار کرسکے ۔ اس سے انہیں یہ بھی فائدہ ہوگا کہ اپنی برہمنیت جس کو یہ ہندوتوا کہتے ہیں ، کے لئے بھی زمین ہموار کرنے کا بھرپور موقعہ ملے گا ۔یعنی بلیٹ ٹرین کی پٹری پر اب ہندوتوا کی ریس ہونے والی ہے ۔اس میں کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔لیکن کچھ وقتوں کیلئے وہ اپنے اوپر لگنے والے داغ کو دھونے کی کوشش ضرور کریں گے کہ یہ لوگ ملک کو ترقی کی پٹری پر نہیں لے جاسکتے ۔کیوں کہ یہ لوگ افسانوی اور دیو مالائی کہانیوں کو سائنسی ترقی قرار دے رہے ہیں۔لیکن جیسا کہ کہا گیایہ انتخاب جیتنے کا محض ایک فارمولہ ہے اس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ ملک کی معاشی ترقی کو بغیر کسی فکر ی چشمہ لگائے اپنی ننگی آنکھوں سے دیکھیں اور خود ہی فیصلہ کریں کہ موجودہ صورتحال میں یہ کس طرح ممکن ہوسکے ۔ معاشی حالت مستحکم ہے ۔نہ ہی سرمایہ کاری کے دور دور تک کوئی آثار ہیں ۔ دنیا تیسری جنگ عظیم کے دہانے پر کھڑی ہے اور عین ممکن ہے کہ جو لوگ مشرق وسطیٰ کو اس کا میدان بنانا چاہتے تھے ان کے لئے یہ بات حیرت و استعجاب کا سبب بنے کے مشرق وسطیٰ کے بجائے مشرق بعید اور ہندوستان کے آس پاس ہی جنگ کے خطرے منڈلا رہے ہیں ۔ایسے میں کون آئے گا سرمایہ کاری کرنے ۔ہاں اگر ملک کی حالت ٹھیک ہوتی تو ضرور یہ کام ممکن ہو سکتا تھا ۔اب بھی اسی صورت میں یہ ممکن ہے کہ ملک میں امن و امان کی صوتحال کو بہتر بنایا جائے اور ایسے سارے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جائے جو امن کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں ۔اس کے بغیر تو بلیٹ ٹرین کی پٹری پر صرف ہندوتوا کی ریس ہی ہو سکتی ہے ۔اور جھوٹے ترقی کے اعداد و شمار مشتہر کئے جاتے رہیں گے ۔آخر تین سال میں گیارہ ارب روپئے اشتہاروں پر یوں ہی تھوڑے نا خرچ کئے گئے ہیں۔

انہیں سرحد پر تعینات کردیں ،دیش بھکتی کا سارا خمار اتر جائے گا


نہال صغیر


ملک اس وقت گئو رکشکوں کی دہشت کے سائے میں ہے ۔کوئی دن نہیں جاتا جب اس ناہنجار گروہ کی حرکتیں اخبار کی زینت نہیں بنتی ہوں ۔ان سر پھروں اور موجودہ مودی حکومت سے خاموش حمایت یافتہ بدمعاش قبیلہ نے ملک کی فضا کو زہر آلود کردیا ہے ۔پڑوسیوں کو اپنے پڑوسی سے مشکوک بنا کر رکھ دیا ہے ۔ہر طرف سنسنی خیزی اور خاموش دہشت کا سماں ہے ۔ہمارے وزیر اعظم صرف اتنا کہہ کر رہ جاتے ہیں کہ ہمارے دلت بھائیوں کو مت مارو مارنا ہے تو ہمیں مارو ،یا ان کا گئو رکشکوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔یعنی کارروائی کے نام پر صفر ۔بلکہ  ان دہشت گردوں کو شاباشی دینے کا غالبا یہ خفیہ الفاظ ہے ۔ ان کی ان باتوں  سے متاثرین  یہ سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم کو عام آدمی دلتوں اور مسلم اقلیت کا کتنا خیال ہے ۔لیکن درپردہ ملزمین اسے اپنے لئے حمایت سمجھتے ہیں ۔جب ہی تو ان کے ان بیانات کے بعد بھی گئو رکشکوں کی دہشت گردی جاری ہے ۔ان کی اس حرکت سے یہ گمان ہوتا ہے کہ جیسے ملک میں کوئی جمہوری نظام نہیں ہے جس کے تحت مقننہ،عدلیہ اور انتظامیہ اپنا کام کرتے ہیں ۔یہاں تو یہ خیال گزرتا ہے کہ یہاں جنگل راج ہے ۔ آج ہی ایک مراٹھی روزنامہ کے سیاسی مدیر کہہ رہے تھے کہ ایسا پہلی بار ہورہا ہے کہ جب اس طرح کا فسادی ٹولہ خود کو ہر طرح کے غیر قانونی حرکتوں کیلئے آزاد محسوس کررہا ہے ۔یہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے ۔حکومت کی خاموش حمایت سے اس  انارکی اور لاقانونیت میں اضافہ کا خدشہ ہے ۔جس سے ملک میں ہر طرف افراتفری کا ماحول بن جائے گا اور بالآخر یہ افراتفری خانہ جنگی تک لے جانے والا ثابت ہو سکتا ہے ۔ایسے حالات میں ممکن ہے حکومت  بھی خود کو بے یارو مدد گار تصور کرتی ہو ۔اسے بھی یہ سمجھ نہیں آرہا ہو کہ کس طرح ان اپنے پالوں کو قابو میں کیا جائے ۔تو اس کا بھی ایک آسان اور سیدھا راستہ ہے کہ انہیں راست طور پر دہشت گردوں سے مقابلہ کیلئے اندرون ملک بھِرا دیا جائے اور سرحد پر چین و پاکستان کی افواج سے نبرد آزما ہونے کیلئے اپنی فوج ہٹا کر انہیں تعینات کردیا جائے ۔ یہ کام اس لئے بھی ضروری ہے کہ جو لوگ یہ حرکتیں انجام دے رہے ہیں وہ ہندوتوا کے علمبردار ہی نہیں بلکہ خود کو سب سے بڑا محب وطن قرار دیتے ہیں ۔اب محب وطن ہونے کا ثبوت اس سے بہتر اور کیا ہوسکتا ہے کہ انہیں مسلح ملک دشمن عناصر سے راست لڑکر ان کو شکست سے دو چار کرانا چاہئے ۔اس طرح ان دیش بھکتوں کی آتما کو بھی شانتی ملے گی اورانہیں افسوس بھی نہیں رہے گا کہ ملک کیلئے انہیں کچھ کرنے کا موقعہ نہیں ملا ۔دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ ملک دشمن عناصر سے ملک محفوظ ہو جائے گا ۔لیکن اس طرح نہتھوں پر حملہ سے تو یہ گروہ بدنا م ہی ہو رہا ہے ۔تیسرا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ملک کے دفاع میں آنے والے بجٹ میں کافی کمی ہو جائے گی جس سے کافی قومی سرمایہ بچ کر دوسرے مدوں میں صرف ہو گا ۔غالبا گئو رکشکوں کی ان ہی حرکتوں سے نالاں ادھو ٹھاکرے نے کہا ہے کہ وہ دہشت گردوں سے لڑ کر دکھائیں ۔اب گئو رکشکوں اور فرضی راشٹر وادیوں کیلئے یہ امتحان کی گھڑی ہے کہ ان پر جو طعنہ زنی کی جاتی ہے کہ وہ دیش بھکتی کا ناٹک کرتے ہیں ۔ان الزامات سے انہیں پیچھا چھڑانے کا یہ اچھا موقعہ ہے کہ وہ پاکستانی اور چینی فوجیوں سے مقابلہ کریں اور ملک کو سوپر پاور بنائیں نیز دہشت گردوں سے ملک کو پاک کریں ۔اگر ان دیش بھکتوں اور گئو رکشکوں نے ایسا کارنامہ نجام دیدیا تو ہندوتوا کے علمبرداروں کو ملک کو ہندو راشٹر بنانے میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی ۔لیکن اگر انہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ملک کو ان خطرات سے پاک نہیں کیا تو پھر انہیں دیش بھکتی اور ہندوتوا کے نام پر نہتھوں کو پر حملہ بند کردینا چاہئے ۔لیکن  یہ نام نہاد دیش بھکت ایسا نہیں کرسکتے ہیں ۔انہیں صرف نہتھوں اور معصوم عوام پر حملہ کرنا ہی آتا ہے ۔اگر ان معصوموں میں سے ہی کسی نے کبھی لوہے کا راڈ اٹھاکر انہیں دوڑایا تو وہ بھاگتے نظر آئیں گے ۔ایسا ہو بھی چکا ہے ۔پنجاب میں کسی فرضی دیش بھکت نے سکھوں کیخلاف کوئی احتجاج اور پتلہ جلانے کا پروگرام کیا لیکن سکھ نوجوان خنجر لہراتا ہوا آیا تو وہ سارے دیش بھکت اپنی جان بچا کر بھاگتے نظر آئے ۔جبکہ وہ سکھ اکیلا تھا اور وہ فرضی دیش بھکتوں کی تعداد آٹھ دس کے قریب تھی یا اس سے بھی  زیادہ ۔ان دیش بھکتوں اور گئو رکشکوں سے نجات کے دو ہی علاج ہیں ۔اول تو انہیں سرحدوں پر تعینات کردیا جائے کہ بیٹا آئو دیش بھکتی کا جو کیڑا کاٹ رہا ہے اس سے یہاں آکر نجات پائو اور دوسرا مسلمانوں کا بھی کوئی ایک گروہ ہو جو ان سے نمٹے ۔یہ لوگ بڑے شوق سے ویڈیو بناتے ہیں نا بس چہرہ پہچانئے اور پھر ۔۔۔اس کے بعد آپ کہیں ان کا وجود نہیں پائیں گے ۔اگر کبھی بھول سے بھی آپ نے کسی گئو رکشک کو کہہ دیا کہ تم گئو رکشک ہو تو وہ کان پکڑ کر سو کیا ایک ہزار بار اٹھ بیٹھ کرلے گا لیکن قبول نہیں کرے گا کہ کبھی اس کا اس گروہ سے تعلق تھا یا مستقبل میں وہ کبھی ایسی سوچ پر عمل کرے گا۔

ہمارے معاشرے میں کئی سلیم شیخ ہیں



نہال صغیر

عام طور پر مسلمانوں پر الزامات کی برسات کرنے والے متعصب ذہنیت کے لوگ کسی دہشت گردانہ حملہ کے بعد پِل پڑتے ہیں اور زبانی حملہ شروع کردیتے ہیں ۔حالیہ امر ناتھ زائرین پر حملہ معاملہ میں بھی ایسا ہی ہوا ۔لیکن اس حملہ میں ہلاکت کی تعداد بڑھ سکتی تھی ۔مگرسلیم شیخ نام کے اس بس ڈرائیور کی جرات مندی اور حاضر دماغی کے طفیل کئی قیمتی جانیں محفوظ رہیں ۔ورنہ کئی خاندانوں کے مزید چراغ گل ہو سکتے تھے۔ کچھ اور بچے یتیم اور بے سہارا ہو جاتے ۔کئی اور خواتین بیوگی کے درد اور تنہائی کے صحرا میں بھٹکنے کو مجبور ہو جاتیں۔سلیم شیخ کی جرات مندی کو سلام جس کی حاضر دماغی کی وجہ سے بڑا سانحہ اور انسانیت کو شرمندہ کرنے والا وقعہ زیادہ خطرناکی سے بچ گیا ۔ اب ہر چہار جانب حملہ کے ذمہ داروں سے زیادہ سلیم شیخ کی جرات مندی کے تذکرے ہیں ۔حکومت گجرات نے بھی اس کے اس کارنامہ کو سراہتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ بہادردی ایوارڈ کے لئے سفارش کرے گی ۔مسلمانوں کو گالیاں دینے والے اور اسلام کو دہشت گردوں کا مذہب قرار دینے والے افراد یا تنظیموں کی واویلا مچانے والی عادت کے شور میں کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیم شیخ کے کارنامے کی گونج ماند پڑ جائے ۔ماضی میں ایسا ہو چکا ہے ۔آج صرف مسلمانوں کی دہشت گردی والے مفروضے کو ہی اچھالا جاتا ہے ۔لیکن ہمارے درمیان سلیم شیخ کوئی تنہا شخص نہیں ہے ۔اس سے قبل بھی ایسے نوجوان سامنے آتے رہے ہیں جنہوں نے انسانوں کی جانوں کو محفوظ کرنے میں اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کی ۔یوں تو بہادری کسی قوم یا مذہب ست وابستہ نہیں ہے لیکن ہم جب حالات کو دیکھتے ہیں تو انسانی جانوں کی قدر کرنے والوں میں مسلم نوجوانوں کی اکثریت نظر آتی ہے ۔زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔اسی رمضان میں اسی کشمیر سے یہ خبر آئی تھی کہ ایک مسلم پولس افسر نے سحری کے وقت دہشت گردانہ حملہ کو ناکام بنایا تھا ۔اس کے علاوہ کئی ایسے واقعات مل جائیں گے ۔اس وقت چونکہ ذہن میں زیادہ واقعات نہیں ہیں ۔ کئی سال قبل میرٹھ میں اسکول کے ایک پروگرام میں اچانک آگ لگ جانے کی وجہ سے کئی بچے موت کے منھ میں چلے گئے تھے ۔وہاں بھی بچوں کیلئے ایک مسلم نوجوان ہی مسیحا بن کر آیا اور اس نے کئی مرتبہ آگ میں چھلانگ لگا کر معصوم بچوں کی جانیں بچائیں اور یوں کئی گھروں کے پھول وقت سے قبل مرجھانے سے محفوظ رہے ۔لیکن وہ نوجوان اس کوشش میں خود کوجھلسانے سے نہیں بچا سکا ۔وہ جس نے کئی گھروں کے چراغ کو بجھنے سے بچایا تھا وہ خود اپنے گھر میں اندھیرا کرگیا ۔اس وقت بھی اس کی کافی تعریف ہوئی تھی ۔جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ ایسے کئی مسلم نوجوان ہیں جو ہماری ملت کیلئے فخر کا سبب ہیں ۔دو یا تین سال قبل کا ایک اور واقعہ یاد آیا جب جنوبی ہند  طوفان باد و باران کے سبب آئے بھیانک سیلاب کی زد میں آیا تھا ۔لوگ اپنے اپنے گھروں کے اطراف میں پانی کے بھرجانے قید ہو کر رہ گئے تھے ۔ایسے میں مسلم نوجوانوں کا گروہ در گروہ باہر آیا اور اس نے بلا لحاظ مذہب متاثرین کی خدمت کی اور ان کو پریشانیوں سے نکالا ،محفوظ جگہوں پر پہنچایا ۔جہاں سے کافی جذباتی باتیں سامنے آئی ۔ایک خاتون نے نامہ نگار سے کہا کہ ’’ہم انہیں دہشت گرد سمجھتے تھے لیکن وہ ہمارے لئے فرشتہ رحمت بن کر آئے ۔انہوں نے ہمیں محفوظ مقام پر پہنچایا ۔ہمارے لئے غذائی اشیا کے انتظامات کئے ‘‘۔انہی ہنگامی حالات میں ایک حاملہ خاتون جسے ہسپتال جانے کی ضرورت تھی ۔مسلم نوجوان نے اپنی جانوں کو جوکھم میں ڈال کر اسے ہسپتال پہنچایا ۔وہاں شاید اسی دن یا دوسرے دن زچگی ہو ئی اس خاتون اور اس کے شوہر نے اپنے اس بچہ کا نام اسی مسلم نوجوان کے نام پر رکھا غالبا اس نوجوان کا نام یوسف تھا۔کشمیر سے ایسے اور کئی واقعات بھی ہیں ۔جیسے دوسال قبل سیلاب کے موقعہ پر مسلم نوجوانوں نے جموں میں ہندوئوں کی جان بچائی اور انہیں غذائیں مہیا کرائیں ۔اسی سیلاب کے موقعہ پر کشمیر گھاٹی میں ایک بس حادثہ کا شکار ہوگئی تھی ۔مسافروں کے بیانات کے مطابق انہوں نے اپنی مدد کیلئے فوجیوں کوآواز دی لیکن کوئی انکی مدد کو نہیں آیا ۔نہ ہی کوئی سرکاری امداد پہنچی ۔آس پاس کے مسلم آبادی سے بس مسافروں کو امداد ملی ۔انہوں نے بس کو کاٹ کر مسافروں کی جان بچائی ۔سیلاب کے موقعہ پر فیض آباد کے ایک برہمن کی ویڈیو بھی ان دنوں کافی وائرل ہوئی تھی جب اس نے کہا کہ ڈیڑھ سو زائرین کو ایک مشہور علیحدگی پسند لیڈر نے مدد پہنچائی ۔اس کا بیان تھا کہ ہمارے علاقے کے ہندو کسی مسلمان کے گھر پانی تک نہیں پیتے لیکن کئی دن سے ایک مسلمان ہماری جان بچانے کیلئے ہمیں غذا فراہم کررہا ہے ۔ مسئلہ کشمیر کی جو بھی سیاست ہو لیکن ایک بات طے ہے کہ کشمیری سیاست نہیں جانتے ان کا ایک ہی مسلک ہے انسانیت جسے انہوں نے قائم رکھا ہے ۔کشمیری پنڈت وہاں سے کسی سازش کے تحت نکال دیئے گئے ۔لیکن وہ ان کے گھروں اور ان منادر کی حفاظت کرتے ہیں ۔یہ کوئی ایک دن کی بات نہیں ۔یہ کشمیریوں کی تہذیب ہے جسے سمجھنے اور ان کے جذبات کی قدر کرنے کی ضرورت ہے ۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے درمیان ایک سلیم شیخ نہیں سیکڑوں ہیں اور یہ صرف گجرات یا مہاراشٹر میں نہیں بلکہ دنیا کے ہر خطہ میں ہیں ۔یہ وہاں زیادہ ہیں جہاں مسلمانوں کو زیادہ مشق ستم بنایا جاتا ہے ۔

یہ سیلاب جنوں اور کیا لے جائے گا؟

قاسم سید 
کیا ہم بہت تیزی کے ساتھ ’نوبھارت نرمان‘ کی طرف پیش قدمی کررہے ہیں، کیا ملک کی نظریاتی بنیادوں کے پتھر تبدیل کئے جارہے ہیں، موب لنچنگ یا نام نہاد گئورکشکوں کے ذریعہ بے دریغ بے خوف و خطر قانون ہاتھ میں لے کر محض بیف کے شبہ کے بہانے انفرادی قتل کے واقعات کا تسلسل خدانخواستہ ہمیں کسی ممکنہ خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہا ہے یا خوف و دہشت کی فضا کے دباؤ میں ضرورت سے زیادہ سوچنا شروع کردیا ہے۔ کیا ساری امیدیں چھوڑ دی جائیں اور اب اصلاح احوال کی گنجائش نہیں بچی۔ مزید یہ کہ موجودہ حالات کا مقابلہ کرنے کی بہتر حکمت عملی کیا ہوسکتی ہے کہ بغیر ٹکرائو اور تصادم کے خود کو اس طوفان بلاخیز سے ثابت و سالم بچاکر لے جایا جائے۔ مسلم قیادت کے سواد اعظم کی خاموشی نے نئی نسل کو مضطرب و پریشان سا کردیا جائے، اس خلیج کو دور کیسے کیا جائے؟ وہیں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ انفرادی قتل کے واقعات جن کے متاثرین کا تعلق اقلیتی فرقہ سے ہے، ان کے صبر و برداشت اور ہمت و جرأت کا ٹسٹ تو نہیں ہے؟ کیا یہ آنے والے وقت میں اجتماعی قتل عام کی ریہرسل تو نہیں؟ کیا مارنے والے اور مرنے والوں کو ذہنی تربیت کے مرحلہ سے گزارا جارہا ہے؟ اخلاق سے لے کر جنید تک لامتناہی سیریز اگر ایسے خدمات اور واہمے پیدا کرتی ہے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پانی کہاں تک پہنچ گیا ہے۔ ان حالات میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اب تک صبر و ضبط کا مظاہرہ کرنے والے اقلیتی فرقہ کو اکسانے کی کوشش ہورہی ہے، اس کے ردّعمل کا انتظار کیا جارہا ہے اور کیا کم و بیش 20 کروڑ کی آبادی کو اس طرح دبایا جاسکتا یا ختم کیا جاسکتا ہے۔ امرناتھ یاتریوں پر دہشت گردانہ حملہ کے بعد اس بہانے دیدہ و نادیدہ قوتوں نے ملک کی فضا کو جس سمت میں لے جانے کی کوشش کی ہے، ہریانہ کے حصار کا واقعہ اس کا ایک ٹریلر ہے، جس میں مسجد کے سامنے اشتعال انگیز نعرے بازی، مسجد کے امام یا پھر تاجر کے ساتھ بدسلوکی، اسے تھپڑ مارنا، گلی گلوچ کرنا، بھارت ماتا کی جے بولنے کے لئے پرتشدد طریقہ سے مجبور کرنا، ہریانہ سے مسلمانوں کو نکال دینے اور مشتبہ مسلمانوں کو زندہ جلادینے کی دھمکی دینا اس بدلتی ذہنیت کا چیختا چنگھاڑتا نظارہ ہے، جو راشٹربھکتی کے خوبصورت کور میں لپٹی ہوئی ہے۔ یہ سفاکانہ ذہنیت ہر دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ کشمیر کے بگڑتے حالات اسے سنجیونی بخش رہے ہیں۔ فوج کو مقدس گائے کا اوتار بناکر اس پر انگلی اٹھانے والوں کی تکابوٹی کرنے کا پیغام عام کیا جارہا ہے۔ راجستھان کے وزیر سیاحت کے ایسے نادر مشورے اور ہریانوی وزیر کا حصار واقعہ کو فطری ردّعمل کہہ دینا محض بیان بازی یا سستی شہرت کی ہوس کا اظہار نہیں بلکہ اس کی ذہنیت کو غذا دیا جانا ہے کہ جو ہمارے ساتھ نہیں یا ہمارے موقف کے خلاف ہے وہ دیش دروہی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے توسط سے اس پیغام کو گھر گھر پہنچایا جارہا ہے۔ دیش دروہوں کو پاکستان بھیج دینے، ملک سے نکال دینے کی باتیں دراصل یہ سمجھانے کی کوشش ہے کہ ایسے عناصر ملک کے وفادار نہیں اور ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہئے جس کا پاکستان مستحق ہے۔ جب پاکستانی بولا جاتا ہے تو اس کا وہی مطلب ہوتا ہے جو ہر شخص کو معلوم ہے۔ آنے والے وقت میں یہ آگ اور بھڑکائی جائے گی۔ اس میں کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہئے۔ سیاسی پارٹیاں حواس باختہ ہیں، ان کی چولیں ہلادیں گئی ہیں۔ پے درپے شکستوں نے فکری دیوالیہ پن کی شکار ان پارٹیوں سے سوچنے سمجھنے کی قوت چھین لی ہے۔ لگتا یہی ہے کہ 2019 میں یہ مضبوط چیلنج پیش کرنے کی اہل نہیں ہوسکیں گی۔ صدارتی الیکشن اور جی ایس ٹی پر ان کا سرپھٹول سامنے ہے۔
یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ آزادی کے بعد جو پارٹیاں ملک پر قابض رہیں وہ خالص سیکولر اقدار اور آئین کی پاسداری کرنے والی تھیں، ان کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہیں تھا، انھوں نے ملک کی جڑوں کو مضبوط کرنے، سیکولر جمہوری قدروں کو پروان چڑھانے اور قومی یکجہتی کی روح کو طاقت دینے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائے ہوں گے تو کیا یہ باندھ اتنے کمزور ثابت ہورہے ہیں کہ تین سال کی بارش کا زور برداشت کرنے میں ناکام ہیں؟ کیا مودی کی تین سال کی محنت 67 سالوں پر بھاری پڑرہی ہے؟ آخر کیوں اتنی مختصر مدت میں سیکولرازم، جمہوریت، آئین، اظہار رائے کی آزادی سب کچھ خطرے میں نظر آنے لگا ہے۔ اس کا مطلب یہ کیوں نہ لیا جائے کہ صرف ہاتھ تبدیل ہوئے، مگر فکر اور ذہنیت یکساں تھی۔ طریقہ کار کا فرق تھا ورنہ تمام پارٹیاں بنیادی طور پر ہندوتو کی پرورش کرتی رہیں۔ کسی نے سافٹ ہندوتو کی حکمت عملی اپنائی تو کوئی ہارڈ ہندوتو کے راستے پر چلتا رہا۔ کانگریس ایسی ندی تھی جس میں سارے نظریاتی تالابوں کے لئے قبولیت کا مادہ تھا۔ اگر ان پارٹیوں میں واقعی نظریاتی فرق ہوتا تو بے شرمی کے ساتھ پارٹیاں بدلنے والے نظریاتی خلیج کو کیسے پاٹ لیتے۔ کانگریس کا لیڈر بی جے پی میں اور آر ایس ایس کا تربیت یافتہ کانگریس میں کیسے ایڈجسٹ ہوجاتا۔ شنکر سنگھ واگھیلا اور سنجے نروپم اچانک سیکولر ہوجاتے ہیں اور ریتا بہوگنا اور اترپردیش میں ایک دن کا وزیر اعلیٰ بننے کا شرف حاصل کرنے والے جگدمبیکا پال بی جے پی کا دامن تھام لیتے ہیں۔ جن کی زندگی سیکولرازم کی مالا جپنے میں گزر گئی، ساکشی مہاراج کو سماج وادی پارٹی راجیہ سبھا پہنچاتی ہے اور کلیان سنگھ کے ساتھ انتخابی سمجھوتہ کرلیتی ہے، جو بابری مسجد انہدام کے جرم میں سپریم کورٹ سے سزایافتہ ہیں۔ کسی حد تک لیفٹ کو چھوڑکر سب اس حمام میں ننگے ہیں۔ آج ملک کے جو بھی حالات ہیں، یہ سب ذمہ دار ہیں۔ انھوں نے ہندوتو فورسز کی نگہبانی کی، آر ایس ایس بھلے ہی ایک تنظیم ہے مگر یہ ایک ذہنیت اور فکر کا نام ہے، جس کے ترجمان ہر پارٹی میں موجود ہیں اور ماضی میں بھی رہے ہیں۔ آخر جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی نہرو کابینہ میں اہم وزیر تھے۔ نرسمہا رائو کا پورا کردار سامنے ہے۔ وی پی سنگھ نے بی جے پی کی حمایت سے سرکار چلائی۔ جنتا پارٹی کے تخم میں بی جے پی موجود تھی، اس وقت وہ کسی اور نام سے تھی۔
سیکولر پارٹیاں ہماری سیاسی مجبوری تھیں اور ہیں، کیونکہ ان کے بغیر چل نہیں سکتے۔ ہم ان کی مجبوری تھے، مگر ان کی طرف سے یہ مجبوری کسی حد تک ختم ہوگئی ہے۔ مسلم مسائل کو اٹھانے کے بارے میں وہ بہت حساس اور الرٹ ہوگئی ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ منھ بھرائی کے الزام نے انھیں کمزور کردیا ہے، جبکہ یہ سراسر جھوٹ فریب ہے۔ ایک ہزار سال حکمرانی کے نشہ میں گزارنے والا طبقہ ملک کی تقسیم اور 60 سال کی آزادی میں سب سے نچلی سطح پر پہنچادیا گیا، لیکن اب اس کے وجود، مذہبی تشخص کو چیلنج درپیش ہے۔ اس کی زندگی، جان و مال، عزت و آبرو کے تحفظ کا مسئلہ سنگین تر ہوتا جارہا ہے۔ آنے والے وقت میں سول سوسائٹی ہی واحد امید کا مرکز ہے، جو آج بھی بے خوف و خطر ’’ناٹ از مائی نام‘‘ سے باہر نکلتی ہے اور بڑھتے تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کی جرأت رکھتی ہے۔ جن آوازوں میں جان ہے، خواہ وہ بہار میں ہو یا مغربی بنگال میں ان کا گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ نتیش کمار جیسے لیڈر اپنی سودھا کے حساب سے سفر طے کرتے ہیں۔ وہ 17 سال بی جے پی کے ساتھ رہے، آگے بھی رہ سکتے ہیں۔ ہمارا دل بہت بڑا ہے، ہر کسی کو معاف کرنے اور اس کے گناہوں کو بھلانے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ مولانا آزاد ہمارا ’سیاسی شدھی کرن‘ کرگئے تھے۔ انھوں نے تاکید کی تھی کہ مسلمان الگ سے کوئی سیاسی پارٹی نہ بنائیں، بلکہ کانگریس کو ہی اپنا ملجا و ماویٰ سمجھیں۔ یہ تاکید ایسی پتھر کی لکیر بن گئی کہ مسلمانوں نے کوئی سیاسی پارٹی نہیں بنائی، اگر بنائی بھی تو کسی کی بی ٹیم بن گئی یا بارہویں کھلاڑی کی طرح ’تولیہ‘ اٹھانے کا کام ضرور کرتی رہی اور مسلمانوں نے بھی لائق اعتبار و توجہ نہیں سمجھا اور مولانا آزاد کی وصیت کو حرز جاں بنالیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر موجودہ حالات میں جبکہ گائوں گائوں کشیدگی کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے، ہندو افتخار کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ہماری توقعات کے برعکس مودی کی مقبولیت کم نہیں ہوئی ہے۔ ملک کے ہر اہم عہدہ پر بی جے پی قابض ہورہی ہے، زیادہ تر ریاستوں میں اقتدار ہے۔ فی الحال رخصتی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور مسلمانوں میں خوف و ہراسانی کے ساتھ اضطراب ہے۔
تو کیا اس کا علاج صرف کانفرنسیں اور بیانات ہیں؟ کیا کانفرنس سے کبھی کوئی علاج ہوا ہے؟ کبھی ان کا فالواپ بھی ہوا ہے؟ ہم آج بھی منھ ٹیڑھے کئے بیٹھے ہیں۔ ہر کوئی فرماتا ہے کہ وہ کسی کے ساتھ کہیں بھی بیٹھنے کو تیار ہے، مگر اس کے باوجود جب مل بیٹھنے کی باتیں ہوتی ہیں تو سب کی مصروفیات، شرعی عذرات نکل آتے ہیں۔ یہ آنکھیں ایسا منظر دیکھنے کو ترس گئی ہیں جب ملت کے سربراہان بے کس و بے بس ماحول کو جرأت و عظیمت میں بدلنے کے لئے ایک چھت کے نیچے نظر آئیں۔ کوئی جماعتی حصار سے نکلنے کو تیار نہیں تو کوئی مسلکی بندشیں توڑنے میں بے عزتی سمجھتا ہے۔ کسی کے پاس وسائل نہیں تو کوئی اپنے وسائل میں دوسرے کو شریک کرنا نہیں چاہتا۔ نفسانفسی اور تحفظات نے ملت کا بھرکس نکال دیا ہے۔ اب تو پانی ناک تک آگیا ہے، سیلاب جنوں اور نہ جانے کیا کیا بہا لے جائے گا۔ طوفان نوح نے کسی کو نہیں بخشا۔ جب آفت آتی ہے تو متقی عابد پرہیزگار بھی اس کی زد میں آتے ہیں۔ ہندو افتخار کی متعدی بیماری نے جو جنون، دیوانگی اور دہشت پیدا کی ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک چھت کے نیچے آنا ہوگا، ورنہ قصائی کی چھری دربہ میں موجود کسی مرغی کو نہیں بخشے گی۔ نہ مسلک، نہ جماعتیں، نہ ادارے، نہ ٹرسٹ، کچھ نہیں بچے گا۔ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے اور مشاورت میں ہی عافیت ہے۔ یہ قرآنی راستہ ہے۔ جب بھی اس سے روگردانی کی گئی عذاب مسلط کردیے گئے۔ یہ وقت نفس کی قربانی کا ہے، وسائل کو مجتمع کرنے کا ہے۔ ورنہ کرتے رہیے کانفرنسیں، کون سنتا ہے، دیتے رہیے اردو اخبارات میں بیانات، کون نوٹس لیتا ہے۔

qasimsyed2008@gmail.com

لارنس ابھی زندہ ہے


ممتاز میر ۔ برہانپور

کرنل ٹی ای لارنس جنگ عظیم اول کے وقت ایک برطانوی جاسوس تھا ۔پھر اسے عربی مسلمان بننے کی تربیت دے کر خلیج عرب میں پلانٹ کیا گیا۔جتنے خود غرض ،مفاد پرست اقتدار پرست آج کے عربی حکمراں ہیں اتنے ہی خود غرض ،مفاد پرست ،اقتدار پرست حکمراں عالم عرب میں آج سے سو سال پہلے بھی تھے۔کرنل لارنس جو کہ اس وقت عربی مسلمان کا بھیس اختیار کر چکا تھا عربوں اور خصوصاًشریف مکہ اور اس کے بیٹوں کو ساتھ لے کرعربوں میں وطن پرستی ،قوم پرستی پیدا کی۔تقریباً اسی زمانے میں اس مرض کے تعلق سے علامہ اقبال نے کہا تھا ۔ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے؍جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے۔۔۔اس نے عربوں کو قوم پرستی کا نشہ اتنا پلایا کہ وہ بد مست ہو گئے۔لارنس نے عربوں کو حجاز میں موجود ترکی اور اس کی فوجوں کے خلاف اتنا بھڑکایا کے نادان عربوں نے ترکی فوجوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا(کاش کے یہی کام وہ فی الوقت وہاں موجود امریکی فوجوں کے ساتھ بھی کریں) عربوں کو ترکی کی خلافت عثمانی کے اثرسے نکالنے کے کارنامے کی بناپر کرنل ٹی ای لارنس کولارنس آف عربیہ کے نام سے جانا جاتا ہے دوسری طرف حجاز میں ترکی کی فوجوں کے اس حشر کی بنا پر ترکی فوجی جرنیل مصطفیٰ کمال پاشا نے بغاوت کرکے خلیفہ کو معزول کردیا(کمال پاشا کے تعلق سے بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بھی منافق تھا)بات صرف یہاں تک رہتی تو غنیمت تھا مگر کمال پاشا نے اسلام کو بھی ترکی سے معزول کرنے کی کوشش کی ۔اسی لئے علامہ اقبال نے اس وقت کہا تھا۔چاک کردی ترک ناداں نے خلافت کی قبا؍سادگی اپنی بھی دیکھ،اوروں کی عیاری بھی دیکھ۔خلیج اور ترکی میں ان دو ایجنٹوں سے وہ کام لیا گیا جو یوروپ کی متحدہ فوجیں بھی انجام نہ دے سکتی تھیں۔اور اس اتھل پتھل کا آخری نشانہ تھا فلسطین میں مملکت اسرائیل کا قیام۔اب جن عربوں نے اسرائیل کے قیام میں تن من دھن سے حصہ لیا ہو وہ حماس یا اخوان جیسی ’’شریر‘‘طاقتوں کو کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔
۲۳ جون کو ۴ خلیجی مملکتوں نے جس کے سربراہ محترم خادم الحرمین شریفین ہیں قطر جیسے ننھے منے ملک کو ’’راہ راست‘‘ پر لانے کے لئے ۱۳ مطالبات کی ایک فہرست سونپی ہے اور مطالبات کو ماننے کے لئے ۱۰ دن کا الٹی میٹم دیا ہے ورنہ !فی الوقت معلوم نہیں کہ ورنہ کیا؟ہمارا اپنا خیال یہ کہ فی زمانہ تمام عرب ممالک چوسے ہوئے آم سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ان مطالبات کو پڑھ کر ایسا لگا کہ ’’لارنس آف عربیہ ‘‘نہ صرف یہ کہ زندہ ہے بلکہ حجاز کے حکمراں آج بھی کرنل ٹی ای لارنس کے زیر سایہ زندگی گزار رہے ہیں۔علامہ اقبال نے کہاتھا ؂آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرودہے ؍پھر کسی کو کسی کا امتحاں مقصود ہے؟۔مطالبات اور اس کے مندرجات پڑھ کر جو پہلا خیال دل میںآیا وہ یہی تھا کہ تاریخ پھر سو سال بعد اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔عالم عرب کے حکمراں سو سال بعد بھی بالکل بھی نہیں بدلے۔حیرت انگیز بات یہ کہ ترکی۱۰۰ سالوں میں پھر ’’خلافت ‘‘ کی طرف گامزن ہے اور اسی بات نے مسلمانوں کے دشمنوں کا دن کا چین اور رات کی نیند اڑا دی ہے ۔پہلے کی طرح اب پھر خلیج میں یہ ساری قواعدExercise ترکی کو گھیرنے یا اس کی ناکہ بندی کے لئے ہے اور اس بار پھر خلیجی حکمرانوں کے کاندھوں کو استعمال کیا جا رہا ہے ۔ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ خلیج کے حکمراں اتنے بے وقوف کیوں ہوتے ہیں؟یہ تواس عمر فاروقؓ کی اولاد ہیں جس سے شیطان بھی ڈرتا تھا ۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ خلیجی ممالک اپنی اپنی زمینوں سے امریکی فوجی اڈے ختم کرتے۔اور اس کی جگہ قطر کی طرح اپنے اپنے ملکوں میں ترکی کے فوجیوں کو خوش آمدید کہتے۔مگر!اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔مطالبات کی سب سے اہم(ہمارے نزدیک)شق ہی یہ ہے کہ قطر کی سرزمین سے ترکی فوجی اڈہ ختم کیا جائے۔ہم ذیل میں عربی حکمرانوں کے وہ۱۳ مطالبات مختصراًپیش کر رہے ہیں جو انھوں نے کویت کے ہاتھوں قطر کو بھجوائے ہیں ۔
(۱)ایران کے ریولیوشنری گارڈس کااخراج مشترکہ دفاعی تعاون کا خاتمہ(۲)اخوان المسلمون،حماس،داعش،القاعدہ اور حزب اللہ سے تعاون کا خاتمہ(۳)الجزیرہ نامی بین الاقوامی ٹی وی چینل کا خاتمہ(۴)عربی ۲۱،رسد، العربی الجدید،اور مڈل ایسٹ آئی جیسے نیوز آؤٹ لیٹسNews outlets کو مالی تعاون کی فراہمی بند کرنا(۵) سرزمین قطر سے ترکی کے فوجی وجود کا خاتمہ(۶)ایسے افراد یا گروہ یا تنظیمیں جنھیں ہم دہشت گرد کہہ دیں انھیں مالی تعاون کا خاتمہ(۷)سعودی عرب بحرین مصراور عرب امارات کے مطلوبہ افراد کو ان کے حوالے کرنا(۸)عرب مملکتوں کے مطلوبہ افراد کو قطری حقوق شہریت تفویض نہ کئے جائیں(۹)عرب ریاستوں کی اپوزیشن(وہاں اپوزیشن ہے کیا۔م م)سے کسی قسم کے تعلقات نہ رکھے جائیں(۱۰)قطری پالیسیوں کی بنا پر شکایت کنندہ ریاستوں کو حالیہ برسوں میں جو جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں اس کا معاوضہ ادا کیا جائے(۱۱)معاوضہ کی ادائیگی کو پہلے سال ماہانہ مانیٹر کیا جائے گا دوسرے سال ہر سہ ماہی کو اور اس کے بعد ۱۰ سالوں تک سالانہ نگاہ رکھی جائے گی (بشرطیکہ قطر ان کے ساتھ وہی رویہ اختیار کرے جو یہ اپنے آقاامریکہ کے ساتھ اختیار کرتے ہیں۔م م )(۱۲)فوجی، سیاسی،سماجی اور معاشی اعتبار سے عرب ممالک ہی کا ساتھ اختیار کیا جائے(واضح رہے کہ اب امریکہ کا شمار بھی عرب ممالک میں ہونے لگا ہے۔م م)(۱۳) ان تمام شرائط کو ۱۰دن کے اندر منظور کرنا لازمی ہے ورنہ یہ Invalidہوجائیں گے ۔اب یہاں اس لفظ سے کیا مراد ہے کم سے کم ہم تو سمجھ نہیں پائے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو چاہئے تھا کہ اپنے غلاموں کو ہدایت دیتے وقت وہ یہ بھی دیکھ لیتے کہ وہ دشمن کے سامنے کیا کیا اور کیسے کیسے مطالبات رکھ رہے ہیں ۔ان ۱۳ مطالبات میں ایک مطالبہ تو بہت ہی عجیب بلکہ احمقانہ ہے جسمیں عرب ریاستوں کی حزب اختلاف سے کسی طرح کے تعلقات نہ رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ویسے ٹرمپ جس طرح بر سر اقتدار آئے ہیں اور خود ان کا اپوزیشن کے ساتھ جو رویہ ہے شاید اسی سے تحریک پا کر ان کے یہ عربی چاکر ایسی جرا ء ت کر سکے ہیں ۔پھر پہلے مطالبے کو لیجئے ۔اگر بعض عربی ریاستیں اسلام دشمنوں کے ساتھ فوجی مشقیں کر سکتی ہیں فوجی تعاون چاہ سکتی ہیں تو قطرکو اسلام دوستوں کے ساتھ وہی تعلقات رکھنے کی آزادی کیوں نہیں؟کیا یہ بنیادی انسانی حقوق کے مغائر نہیں؟مگر ان کا آقا جو کہ انسانی حقوق کا دنیاکا سب سے بڑا ڈھنڈورچی ہے صر ف افراد کے انسانی حقوق کی بات کرتا ہے ریاستوں کے نہیں۔ایران مسلک دشمن تو ہو سکتا ہے اسلام دشمن نہیں ۔خود سعودی عرب نے جو ۳۴ رکنی (اب ۴۱ ہو گئے ہیں)اسلامی فوجی اتحاد بنایا ہے اس میں قطر اور ترکی تو شامل ہیں ہی مگر ایران نہ سہی ایران کے ذیلی ممالک تو شامل ہیں ۔سعودی سربراہی نے اس۴۱ ملکی اسلامی فوجی اتحاد کی تجہیز و تدفین کردی ہے ۔ممکن ہے کہ ٹرمپ کی تازہ مہربانی کی ایک وجہ یہ فوجی اتحاد بھی ہو۔ گذشتہ ہفتے عشرے میں خلیج میں جو کچھ بھی ہوا ہے اس پر نظر ڈالنے سے یہ لگتا ہے کہ اب انا،خودداری عالم عرب میں اب صرف قطر جیسے ملک کے پاس ہی باقی ہے۔بڑے عرب ممالک اس پر جو ظلم ڈھا رہے ہیں وہ اس کو انگیز کر رہا ہے اور اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔آج فلسطین جس صورتحال سے دوچار ہے اس میں سعودی حکمرنوں کا بھی بہت بڑا حصہ ہے (شاہ فیصل مرحوم کے استثناء کے ساتھ)ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ سو سال پرانے اپنے پاپوں کا پرائشچت کرتے مگر ہو یہ رہا ہے وہ یہودی قبضے کوزیادہ سے زیادہ مستحکم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔وجہ یہ ہے کہ جتنی جلدی فلسطین صفحہء ہستی سے مٹ جائے گااتنی جلدی کم سے کم دنیاوی اعتبار سے یہ اپنی ذمے داریوں سے سبکدو ش ہو جائیں گے۔دوسری طرف الجزیرہ ،جو کہ دنیا کا واحد مسلم بین الاقوامی چینل ہے،اور ترکی ان کے آقا کی آنکھوں میں کھٹک رہے ہیں ۔الجزیرہ دنیا میں ہر جگہ امریکی دادا گری کے آڑے آتا ہے اور رجب طیب اردگان ہمیشہ امریکی صدر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کرتے ہیں۔ان کی یہ بات امریکیوں کے لئے ناقابل برداشت نہیں ہے ۔ناقابل برداشت یہ ہے کہ اب ترکی کم و بیش ایک دہائی سے رجب طیب اردگان کے زیر سایہ اسرائیل کی سرپرستی سے باہر نکل چکا ہے ۔اردگان اسرائیلی مفادات پر ضرب لگانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔اسرائیل کی تاریخ میں پہلی بارایسا ہوا کہ اسرئیل کو معافی بھی مانگنی پڑی اور ماوی مرمرہ کے شہیدوں کا معاوضہ بھی دینا پڑا اور اس کا غلام کچھ نہیں کرپایا۔یہی نہیں خود امریکہ سے،جو کہ ممالک سے اپنے مجرم حاصل کر لیتاہے کسی کی ہمت نہیں کہ اپنا مجرم اس سے مانگ سکے ،اردگان تقریباً ایک سال سے اپنا مجرم امریکہ سے مانگ رہے ہیں اور سارا امریکہ آئیں بائیں شائیں کر رہا ہے۔کیا اردگان کے ’’جرائم ‘‘اسرائیل اور اس کے غلام امریکہ کے نزدیک قابل معافی ہو سکتے ہیں ۔امریکہ کا یہودی چاکری میں یہ حال ہے کہ جب۱۹۶۷میں مصری پانیوں میں اسرائیل نے امریکی بحری جاسوسی جہازیو ایس ایس لبرٹی کو ڈبویا تھا توزندہ بچ گیاعملہ تو کہتا تھا کہ اسرائیل نے خوب جان بوجھ کر ہم پر حملہ کیا تھا مگر امریکہ کا صدر کہتا تھا کہ یہ حملہ غلطی سے ہوا۔
مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ پدرم سلطان بود کے نشے میں غرق رہتے ہیں ۔بدلتے وقت پر ان کی نظر نہیں رہتی ۔خادم الحرمین شریفین کو چاہئے کہ وہ یہ سوچیں کہ وہ اس منصب کو بدنام کرنے کا سبب بن رہے ہیں ۔وہ مسلمان جو حالات کا شعور رکھتے ہیں وہ اب حرمین شریفین اور اس کے خادم کو الگ الگ دیکھنے لگے ہیں ۔وہ سمجھتے ہیں کہ حرمین کی تولیت غلط ہاتھوں میں ہے ۔سعودی شہنشاہوں کا جو کردار سامنے آرہا ہے وہ اس منصب کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔ٹھیک ہے کہ سعودی عرب کااربوں کھربوں ڈالر امریکہ میں اٹکا پڑا ہے یہ بھی درست کہ امریکی قانون جاسٹا اسی سعودی پیسے کو ہڑپنے کے لئے وجود میں لایاگیا ہے۔بہت صحیح کہ اسی مال کی بنیاد پر امریکی سعودیوں کو بلیک میل کرکے ایسے کالے کام لے رہے ہیں مگر یہ صحیح نہیں ہے کہ اس طرح بلیک میل ہو کر ،اپنی انا ،خودداری اور وقار کو طاق پر رکھ کر امریکہ سے اپنے پیسے واپس حاصل کئے جا سکیں گے۔برسوں پہلے محترم عالم نقوی نے لکھا تھا کہ امریکی معیشت تین ممالک چین جاپان اور سعودی عرب کے پیسوں پر چل رہی ہے ۔ان میں سے صرف چین میں اتنی طاقت ہے وہ اپنا پیسا وصول کر لے گا ۔باقی ممالک اپنا پیسہ ڈوبا ہوا سمجھیں ۔ہم محترم کے تجزیے سے صد فی صد اتفاق رکھتے ہیں سعودی کے لئے بہتر یہ ہے کہ جو ہو چکا اس پر مٹی ڈالے اور مطالبات کی جو فہرست قطر کو سونپی گئی ہے اس سے واپس لے کر امریکہ کو سونپ دے اربوں کھربوں ڈالر کے اسلحے کے سودے جو امریکہ کو دیئے جا رہے ہیں ترکی اور چین کو دیئے جائیں ۔خبروں کے مطابق ترکی بڑی تیزی اور بڑے عزم کے ساتھ اسلحہ سازی میں خود کفالت کی جانب بڑھ رہا ہے اس سلسلے میں وہ ہر سال ۴۰ فی صد تک بجٹ میں اضافہ کر رہا ہے ۔اگر عربوں کے اربوں کھربوں ڈالر اسے ملنے لگے تو کتنا اچھا ہوگا۔مگر اتنی ہمت کرے گا کون؟ہمیں تو موت سے بہت ڈر لگتا ہے۔خدا تو جب مارے گا تب مارے گا۔امریکہ تو ابھی ماردے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔7697376137

کشمکش اورکشیدگی عرب دنیا میں ۔تاریخی پس منظر

پروفیسر محسن عثمانی ندوی

لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ عالم اسلام میں اور خاص طور پر عرب دنیا میں ہمیشہ خلفشار کیوں رہتا ہے ، لوگ بغاوتیں کیوں کرتے ہیں، خون ریزی کیوں ہوتی ہے ، ہزاروں کو جیل میں کیوں بند کیا جاتا ہے ،احتجاجات کیوں ہوتے ہیں، آتش وآہن کا تماشہ ہر روزکیوں ہوتا ہے ، لوگوں کو تختہ دار پر کیوں چڑھایا جاتا ہے ۔وہاں تانا شاہی حکومت کیوں قائم ہوجاتی ہے۔جب کہ دنیا میں ہر جگہ جمہوریت ہے ، عرب دنیامیں ہر جگہ ڈکٹیٹرشب اور مطلق العنان حکومت نظر آتی ہے ۔دنیا میں عوام کی اکثریت صورت حال کی صحیح توجیہ نہیں کرپاتی ہے ، خواص بھی صحیح نتیجہ تک نہیں پہونچ پاتے ہیں ، بڑے بڑے سیاسی مبصراور عالمی صحافت کے محلل اور دیدہ ورصحیح نتیجہ تک پہونچنے سے قاصر رہتے ہیں ۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے دنیا کے ان دانش وروں کووہ فرق نہیں معلوم ہے جو اسلام اور دوسرے مذاہب میں پایا جاتاہے۔ دنیا کے دوسرے مذاہب میں کبھی کبھی عبادت خانوں میں جانا اور اتوار کے دن یا کسی خاص دن عبادت کرلیناکافی ہوتا ہٍے ۔ دوسرے مذاہب میں جامع نظام زندگی کا تصور ہی نہیں پایا جاتا ہے اور نہ ان مذاہب کے ماننے والوں کو اس کا کوئی دعویٰ ہے۔ان مذاہب کے ماننے والے اسلام کو بھی اپنے مذہب پر قیاس کرتے ہیں ۔ اسلام ایک مکمل نظام ہے ، وہ صرف عبادات کامجموعہ نہیں، اس کا اپناسیاسی نظام بھی ہے اقتصادی نظام بھی ہے ، اس کے اپنے بین الاقوامی قوانین ہیں ۔اب اگر مسلم حکومتوں میں اسلام کے جامع نظام پر عمل نہیں ہوگا شریعت نافذ نہیں ہوگی تو باشعوردینی جماعتوں میں اور اہل علم کے حلقوں میں بے چینی کا پیدا ہونا قابل قیاس ہے۔
اسلام کی تاریخ میں خلافت راشدہ کے بعد اسلامی نظام حکومت وسیاست کی گاڑی پٹری سے اتر گئی تھی ، جمہوریت کا وہ عنصر جس میں حکومت پر تنقید کی آزادی رہتی ہے حکومت سے غائب ہوگیا تھا، ملوکیت نے جمہوریت کی جگہ لے لی تھی ۔ امیر معاویہ کے دربار میں ایک صحابی رسول آتے ہیں اور کہتے ہیں ’’ بادشاہ سلامت کی خدمت میں سلام قبول ہو‘‘ امیر معاویہ نے کہاکہ’’ اچھا ہوتا کہ تم مجھے امیر المؤمنین کہہ کے مخاطب کرتے ۔‘‘اسلامی سیاست میں انحراف پیدا ہو گیا تھا ، اس کا احساس سب کو تھا لیکن زندگی کے دوسرے میدانوں میں اسلامی شریعت نافذ تھی ،اسلامی قانون پر عمل ہوتا تھا اسلامی قانون کی تدوین کا کام بھی بڑے پیمانہ پر جاری تھا اور بڑے بڑے فقہاء اس کام میں مشغول تھے۔ علم وہنر اور سائنس اور صنعت میں بھی مسلمانوں کی پیش رفت جاری تھی ، فتوحات نے دنیاکے کئی براعظم کو اسلام کے اقلیم میں داخل کردیاتھا ، مسلمانوں کے اہل علم اور اہل دین حکومت سے ناراض ضرور تھے کیونکہ سیاست وحکومت کے نظام میں انحراف داخل ہوگیا تھالیکن معاشرہ میں خیر کا پہلو غالب تھا اس کے علاوہ انقلاب کی جو کوششیں ہوئیں وہ کا میابی سے ہمکنار نہیں ہو سکیں اور زمین خون سے لالہ زار ہوگئی ۔ اس لئے زیادہ تر علماء سیاست سے کنارہ کش ہوکر علمی اور تربیتی کا موں میں مشغول رہے ۔ لیکن ماضی کے برعکس عصر حاضر میںیہ ہوا کہ اسلامی جمہوریت کا بھی خاتمہ ہوا اور اسلامی قانون کو بھی دیس نکالا دیا گیااسلامی شریعت کوبھی منسوخ کردیا گیا ،اورمسلم ممالک مغرب کے غلام ہوگئے تعلیمی اداروں نے ذہن وفکر کو مغرب کا غلام بنادیا ۔ مصر وشام وعراق میں ہر جگہ تمام حکمراں مغربی تہذیب کے پر وردہ تھے اور مغربی تہذیب کے طوفان میں اسلام مسجدوں میں محصور ہوکر رہ گیا ۔
ان حالات میں دین وشریعت کے ماہرین اور اہل علم اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے کہ حکومت کو صحیح راستہ پر لے چلیں وہ اپنے مطالبات پیش کرتے تھے ،رائے عامہ ہموار کرتے تھے حکومت پر تنقید کرتے تھے اور زبان و قلم کی طاقت سے طاقتوراحتجاج کرتے تھے۔ علماء کی طرف سے پرتشدد ٹکراؤ نہیں تھا، لیکن وہ احتجاج بھی نہ کرتے تو کیا کرتے ،یہ تغییر بالقلم اور تغیر باللسان کی کوشش تھی ، جو مشروع ہے ،لیکن زیادہ تر حکمرانوں کے سامنے آئڈیل حکومت مغربی ملکوں کی حکومت ہوتی تھی، یہ حکمراں زیادہ تر مغربی ملکوں کے تعلیم یافتہ اور وہیں کے ما حول کے پروردہ ہوتے تھے، وہ اسلام کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ وہ نفاذ شریعت کے مطالبات پیش کرنے والی دینی تنظیموں پر سختیاں کرتے تھے ۔ کشمکش اور کشاکش کا یہیں سے آغاز ہوتا ہے ۔اوراس آغاز کا انجام یہ ہوتا ہے کہ یہ دینی تحریکات تاریک خیال تنگ نظر اور پھر دہشت گرد قرار پاتی ہیں اور ان تحریکات کے قائدین کو پابند سلاسل کیا جاتا ہے زیادتی اور ظلم کا سلسلہ حکومت کی طرف سے شروع ہوتا ہے اوریہ دینی تحریکات پھر بھی باز نہیں آتی ہیں تو ان کے قائدین کو تختہ دار پر بھی چڑھا دیاجاتا ہے ۔ یہی ہر جگہ کا قصہ ہے یہی اس دور کی تاریخ ہے کچھ علماء ہمت کر کے سامنے آتے ہیں لیکن زیادہ تر علماء یہ دیکھ کر کے کہ کوئی تبدیلی ممکن نہیں تصنیف وتالیف اور تفسیر شرح حدیث اور تعلیم وتدریس اور تزکیہ نفس اور تربیت کے کا موں میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ لیکن ہر دور میں کچھ علماء اور غیرت مند مسلمان قربانیاں دینے کیلئے بھی تیار ہوجاتے ہیں اسی لئے ماہر القادری کو اپنے مشہور سلام میں اس حقیقت کا ذکر بھی کرنا پڑا
سلام اس پر کہ جس کے نام لیوا ہر زمانے میں
بڑھا دیتے ہیں ٹکڑا سر فروشی کے فسانے میں
اسلام کی بے بسی بے کسی اور بے چارگی کا زمانہ طویل ہوگیا تھا ، جمہوریت کا پرندہ عرب ملکوں میں فوجی بلیوں کے پنجہ میں پھڑپھڑا رہا تھا ۔ دینی کام کرنے والی تنظیموں کے دست وبازو زخمی تھے ،عربوں کوترکی سے رہائی پہلی جنگ عظیم کے بعد مل گئی تھی ۔ عربوں نے رہائی اور ترکی سے آزادی کی تحریک مغرب کے اشارہ پر چلائی تھی ، ترکی سے آزادی کے بعد عربوں میں جو حکومتیں قائم ہوئیں وہ مطلق العنان ڈکٹیٹرشپ کی حکومتیں تھیں یا بادشاہتیں تھیں ،جمہوریت کے عہد میں جمہورکو کچلنا بہت طویل عرصہ تک ممکن نہیں تھا ، یہ مطلق العنانیت جوتیونس میں مصر میں لیبیامیں شام میں عراق میں اور یمن میں تھی مزاج اسلام کے یکسر خلاف تھی ، مزاج اسلام کے خلاف تو بادشاہت بھی تھی لیکن جہاں بادشاہت تھی وہاں عوام آسودہ حال تھے اور مطمئن زندگی گذارتے تھے، اور گھروں میں سیم وزر کی ریل پیل تھی اور راوی چین ہی چین لکھتاتھا اوروہاں علماء بھی مطمئن تھے کہ سیاست اور حکومت کی سطح پر نہ سہی کچھ دوسرے اسلامی قوانین نافذ تو ہیں اور دوسرے خیر کے بہت سے کام ہورہے ہیں۔ اس لئے عرب اسپرنگ کا آغاز ان ملکوں سے ہواجہاں جمہوریت بھی نہیں تھی اور خوش حالی بھی نہیں تھی،عوام عسرت و تنگی کی زندگی گذار تے تھے، وہاں دینی حلقوں کو اقتدار کے حلقوں سے شکایات تھیں اور اہل دین کے خلاف ظلم کی چکی چلتی رہتی تھی ۔حکومت کے خلاف بغاوت میں سب شریک ہوئے لیکن مذہبی تحریکات کے لوگ سب سے آگے اور پیش پیش رہے ۔اس لئے قربانیاں دینے میں بھی یہی حلقہ سب سے آگے تھا،فوجی آمریت کی قوت کو شکست دینے کے بعد اقتدار جس گروہ کے ہاتھ میں آنا طے تھا وہ اسلام پسندوں کا گروہ تھا،کیونکہ یہ اسلام پسند تھے جو فوجی آمریت کے خلاف اپوزیشن کا رول ادا کرتے آئے تھے اور ان سے دست بگریباں رہتے تھے، تیونس میں بہارعرب کی کامیابی کے آثار پیدا ہونا شروع ہوئے تھے کہ مصر میں بھی انقلاب کا شرارہ پھوٹ پڑا اور حسنی مبارک کو اقتدار سے بے دخل ہونا پڑا اور پھر شام کے چمن زاروں میں بھی آگ لگ گئی ۔ اگر مصر کی طرح شام کا انقلاب بھی کامیاب ہوجاتا اورمصر وشام دونوں جگہ اسلام پسند تا دیر حکمراں رہتے تو اسرائیل کے وجود کو خطرہ پیش آجاتا اور نئی تاریخ بنتی ،اور یہ ایک تاریخ ساز واقعہ ہوتا،کیونکہ یہی اخوان تھے جنہوں نے ۱۹۴۸ میں اسرائیل کے خلاف جہاد کیا تھا اور مصری حکومت نے اس وقت اخوانیوں کی پیش قدمی زبردستی روک نہ دی ہوتی تو فلسطین کی سرزمین پر قابض اسرائیلی خون میں آلودہ ہوتے اور خاک بسراور ملک بدر نظر آتے ۔ فلسطین میں حماس کی طاقت کا سرچشمہ بھی اخوان ہی ہیں ۔دنیا کی بڑی طاقتیں اسلام پسندوں کے بڑھتے قدم سے لرزہ براندام ہوگئیں ۔دنیا کی قوموں کا جارحانہ انداز دیکھ کر رد عمل میں داعش اور القاعدہ جیسی کچھ تنظیمیں ضرور سامنے آئیں لیکن مسلمان علماء اور باشعور حلقوں کے طرف سے ان کو حمایت نہیں ملی ۔اخوان جیسی تنظیموں نے پر امن تحریک چلائی انہوں نے ہتھیار نہیں اٹھائے لیکن انہیں ظلم اور تشددکانشانہ بنایا گیا آخر میں مصر میں محمد مرسی کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور تمام بادشاہتوں کو ڈرا دیا گیا اور کہہ دیاگیا کہ تمہارا راج پاٹ خطرہ میں ہے اپنی بقا چاہتے ہو تو اخوانیوں کواور ان کے ساتھ حماس کو کچل دو اور جوملک بھی اخوان کو اور حماس کے قائدین کو پنا ہ دے ان کا مقاطعہ کرو۔اس وقت عرب اسلامی ملکوں میں جو کشمکش جاری ہے اس کے پیچھے در اصل مذہب اور لامذہبیت کی کشمکش ہے ۔اورتاج و تخت والی بادشاہتیں لامذہبیت کی ہم دم و دمساز اوردہریت کی ہم سفر اور ہم صفیر بن چکی ہیں ۔اس وقت چراغ دین وشریعت کی لو کو کترنے کی کوشش جاری ہے۔ کشتگان خنجر دہریت و مغربیت کی تعداد روز افزوں ہے۔ جنہوں نے فراز دار پر سروں کے چراغ روشن کئے ہیں ۔ چراغ کشتہ محفل کا یہی دھواں ہے جو اسلامی ملکوں میں پھیلا ہوا ہے اور اس کی کثافت اور بڑھتی جائے گی اگر اسلامی ملکوں نے ہوش کے ناخن نہیں لئے اور عقل کو رہنما نہیں بنایا اور اپنے آپ کو دین وشریعت سے ہم آہنگ نہیں کیا ۔اسلام کے لئے تو مقسوم ہو چکا ہے کہ وہ کربلا کے بعد زندہ ہوتا ہے جنہوں نے اپنے آپ کودین وشریعت سے اور اسلام سے وابستہ کیا ہے وہ کربلا کے عادی ہوچکے ہیں اور وہ ہر دور میںیزید کو بھی اس کے اندازہ قدسے پہچانتے ہیں ، وہ آئے ہزار اپنا چولا بدل کر ۔ اور وہ ان اصحاب جبہ ودستار کو بھی پہچانتے ہیں جو یزید کے طرفدار بنتے ہیں وہ مفتیان کرام ہوں یا مسجد کے امام ہوں یا شیخ المدرسہ ہوں ۔اس وقت علماء حق کی ذمہ داری بہت بڑی ہے اگر انہوں نے امام ابو حنیفہ اور امام مالک اور امام احمد بن حنبل کی طرح حق گوئی اور بیباکی اختیار نہیں کی تو انہیں علماءء سوء کے نام سے یاد کیا جائے گا اور اقبال کے الفاظ میں لوگ ان سے یوں مخاطب ہوں گے
کچھ قدر اپنی تو نے نہ جانی .. یہ بے سوادی یہ کم نگاہی

خادم حرمین شریفین کی شرافت کا مرثیہ


عمر فراہی ۔  ای میل  :  umarfarrahi@gmail.com 

سعودی شہنشاہ  شاہ سلمان نے جب موجودہ ولی عہد محمد بن نائف کو معزول کرکے اپنے بیٹے محمد کو ولی عہدمقرر کیا تو یہ موضوع بھی زیر بحث رہا کہ کہیں شاہ سلمان کے اس فیصلے سے مملکت سعودیہ میں انتشار کی کیفیت نہ پیدا ہوجائے ۔ جیسا کہ افواہیں بھی ہیں کہ کسی ممکنہ بغاوت کو روکنے کیلئے محمد بن نائف کو ان کے جدہ کے محل میں نظر بند کردیا گیا ہے ۔ حالانکہ سعودی عرب کے سرکاری ذرائع ابلاغ کی طرف سے اس افواہ کی تردید کی گئی ہے ۔ لیکن محمد بن نائف کی طرف سے عوام کے سامنے کوئی آزادانہ بیان نہیں آیا ہے ۔ خیر یہ آل سعود کا اپنا خاندانی معاملہ ہے اس وقت وہ خطہء حجاز کے ڈکٹیٹر ہیں جسے چاہیں سعودی عوام پر حکمراں بنا کر تھوپ دیں ۔ لیکن ان کے کسی بھی فیصلے سے اگر حجاز میں کوئی بحرانی کیفیت پیدا ہوتی ہے توحرم پاک کے تقدس کو خطرہ لاحق ہونے کا اندیشہ ضرور پیدا ہوجاتا ہے ۔ اس لئے مسلمانوں کا تشویش میں مبتلا ہونابھی لازمی ہے ۔ اب کوئی یہ کہے کہ سعودی حکمراں خادم حرمین شریفین بھی ہیں اس لئے وہ خطا سے پاک ہیں تو اس اندھی عقیدت اور آستھا کی مثال وہی ہوئی جو اکثر پیدائشی مسلمانوں کا گمان ہوتا ہے کہ وہ لاکھ گناہ کرے جنتی ہے اور پیدائشی مشرک جنم سے جہنمی ہے ۔ خود کیلئے خادم حرمین شریفین کا لقب اختیار کر لینے کا مطلب یہ بالکل نہیں ہوتا کہ خادم شریفین کوئی بھی فیصلہ کریں وہ درست ہو اور اس فیصلے کے خلاف کوئی آواز بھی نہ اٹھے ۔ یہ سچ ہے کہ اب خلفائے راشدین کا دور نہیں رہا جب ایک عام شخص بھی اپنے حکمراں کے سامنے کلمہء حق بلند کرنےکیلئے آزاد تھا ۔ لیکن کیا اہل ایمان اپنے اس مزاج کو بھی دفن کردیں جس کی تعلیم انہیں صدیوں سے اپنی کتابوں سے ملتی ہے اور وہ یہ تعلیم اپنی نسلوں میں بھی منتقل کرنے کے پابند ہیں ۔ جیسا کہ سعودی اور قطر کے تنازعے کو لیکربحث کا عنوان بھی صرف اتنا تھا کہ سعودی نے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرکے عالم اسلام کے اتحاد میں انتشار پیدا کیا ہے اور یہ فیصلہ ممکن ہے کہ مملکت سعود یہ کیلئے ہی نقصان دہ ہو ۔ آواز اٹھانے والے بھی اپنی جگہ مخلص تھے لیکن ایک طبقے کو عرب حکمرانوں پر انگلی اٹھانا بھی اچھا نہیں لگا اور اس نے نہ صرف چند مخصوص اتحادی عرب ممالک کے اس ناقص فیصلے کو جائز ٹھہرانا شروع کردیا اعتراض اٹھانے والوں کے مسلک عقیدے اور ان کے آباواجداد کی تاریخ بھی کھنگال ڈالی ۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر اخوان سے لیکر جماعت اسلامی حماس اور ان کے گڑے مردوں تک پر لعنت ملامت کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔کسی نے لکھا کہ کیا اخوان ہی اسلام ہے اور اسلام ہی اخوان ہے ۔ تو کسی نے یہ بھی کہا کہ مسئلہ فلسطین، مذہبی مسئلہ ہرگز نہیں جیسا کہ کچھ دہشت نواز عناصر دنیا کو باور کرا کے ماڈرن جہاد کی بھٹی کو گرم رکھنا چاہتے ہیں ۔ یہ محض زمین کا ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا تعلق صرف فلسطینیوں سے ہے اور کچھ نہیں ۔
یہ تو اچھا ہے سوشل میڈیا پریہ بحث اردو میں ہورہی تھی ورنہ غیر مسلموں کا وہ طبقہ جو مظلوم فلسطینیوں کی جدوجہد میں آواز اٹھاتا رہتا ہے وہ بھی توبہ کرتا کہ یہ کس قبیل کے مسلمان ہیں جو ایک خطرناک سوچ ان کے ذہنوں میں پل رہا ہے اور یہ لوگ اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کی تحریک کو ہی دہشت گردی سے تعبیر کر رہے ہیں ۔ باالفرض اگر یہ بات مان بھی لیا جائے کہ فلسطین کا مسئلہ مذہبی نہیں ہے یا اخوانی مسلمان نہیں ہیں تو بھی انسانیت کے درد کو محسوس کرتے ہوئے کیا مسلمانوں کا یہ فرض نہیں بنتا کہ ظلم چاہے کسی غیر مسلم قوم پر ہی کیوں نہ ہو وہ اس کے خلاف آواز بلند کریں ۔اتفاق سے اس وقت ہندوستان سے لیکر افغانستان ، ایران ، عراق ، شام اور مصر و فلسطین تک ظلم کی بھٹی میں جھونکے جانے والے انسانوں کا مذہب اسلام ہی ہےاور ان پر ظلم کرنے والے ظالم حکمراں بھی مسلمان ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کی تابعداری میں اپنی اسلامی غیرت اور حمیت سے بھی محروم ہوچکے ہیں ۔ وہ مذہب جس کی تعلیمات میں ہی مظلوموںکی حمایت و اعانت کو ترجیح دی گئی ہو ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہء حق بلند کرنے کو افضل جہاد کہا گیا ہو اگر اس مذہب کا ہی کوئی طبقہ ظالم حکمرانوں کی حمایت میں کھڑا نظر آئے تو تعجب ہے کہ وہ کس اسلام کے پیروکار ہیں ۔ تعجب کی بات تو یہ بھی ہے کہ اب کسی بھی ظلم کو ہم قرآن کی نظر سے نہ دیکھ کرحکمرانوں کی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں ۔ بدقسمتی سے روس کے خلاف افغانستان کی سرد جنگ میں مغرب نے افغانستان کے جن ملاؤں اور عرب کے سلفیوں کی حمایت کرکے انہیں مجاہد کا لقب دیا تھا جب یہی لوگ فلسطین پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کے خلاف مغرب کی ناانصافی اور عرب حکمرانوں کی نااہلی اور بزدلی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تو یہ کل کے مجاہد دہشت گرد ہوگئے ۔ ظلم اور تشدد کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے معنی اور مفہوم دینا ابلیس کے نمائندوں کا پرانا کھیل رہا ہے ، جسے صہیونی مقتدرہ نے بہت ہی چالاکی سے کھیلا ۔ میڈیا نے پروپگنڈہ کیا اور اب کسی بھی سیاسی عوامی بغاوت کو بھی دہشت گردی کا نام دیکر کچل دینا حکومتوں کیلئے عام بات ہوچکی ہے ۔ عرب بہار کے بعد تیونس مصر لیبیا اور شام وعراق میں یہی ہورہا ہے ۔ عوامی بغاوت کی یہ آگ جب سعودی عرب اور ایرانی حکومتوں کی دہلیز تک پہنچی تو ان کے بھی کان کھڑے ہوگئے ۔ وہی لوگ جو اسرائیل اور امریکہ کو شیطان اور دہشت گرد کہہ رہے تھے وہی لوگ امریکہ اور اسرائیل کی زبان بول رہے ہیں ۔ یہ سچ ہے کہ عوامی بے چینی کبھی کبھی خون خرابے میں بھی تبدیل ہوجاتی ہے لیکن کسی بھی عوامی تحریک کو دہشت گردی کی اصطلاح یا لفظوں کی عیاری اور مکاری سے کبھی بھی دبایا اور کچلا نہیں جاسکتا ۔ 2012 میں ڈاکٹر مرسی کی منتخب حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی حمایت کرکے سعود ی حکومت نے ایک ایسی نظیر قائم کی ہے جسے وہ جبراً کتنا بھی درست قرار دے یہ حکومت عالم اسلام کی اخلاقی حمایت کا جواز کھو چکی ہے۔جو لوگ یہ کہتے ہوئے سعودی حکومت کے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہیں کہ قطر اوراخوان کے لوگ ایران سے مل کر سعودی حکومت کے خلاف سازش کررہے تھے تو انہیں سمجھنا چاہئے کہ دنیا کا وہ کون سا ملک ہے جو اپنی انٹلیجنس کے ذریعے دوسرے ملک پر نظر نہیں رکھے ہوئے ہے اور وہ اپنی انہی خفیہ ایجنسیوں کی اطلاع پر اپنی حفاظتی تدبیر کیلئے پابند ہے - سعودی حکمراں خود پچھلے پچاس سالوں سے یہی کررہے ہیں ۔ فرق اتنا ہے کہ سعودی حکمرانوں نے اب تک اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے اپنی بے پناہ دولت کے ذریعے غیر ملکی حکمراں اور فوج کا استعمال کیا ہے جیسا کہ ایران کے خلاف صدام اور عراقی فوجوں کا استعمال کیاگیا ۔ مگر جب صدام نے کویت پر حملہ کیا تو سعودی حکومت کو امریکہ سے مدد لینی پڑی ۔ امریکہ سے مدد لینا معیوب بات نہیں ہے جبکہ خود ایران بھی شام کے اندر روس کی مدد سے عوامی انقلاب کو ناکام کرنے میں کامیاب ہوا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ سعودی حکمراں اپنی خود کی اتنی فوج کیوں نہیں تشکیل دیتے جو مملکت سعود اور حرمین کی حفاظت کرسکے ؟ اس سوال پر کیا غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ خادم حرمین شریفین کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں اپنی پچیس پچاس ہزار فوج سے حرم پاک کا دفاع کرسکیں گے ؟ سچائی یہ ہے کہ سعودی حکمراں خاندان کو سب سےبڑا خطرہ اپنے عوام کی بغاوت سے ہی ہے ۔ اگر سعودی حکمراں عوام پر مشتمل دس لاکھ کی فوج تشکیل دیتے ہیں جو کہ وہ اتنے اہل ہیں کہ دے سکتے ہیں لیکن انہوں نے اپنی بادشاہت کے خلاف فوجی بغاوت نہ ہو سعودی باشندوں کی کوئی فوج کبھی تشکیل نہیں دی