دین وسیاست کا رشتہ

پروفیسر محسن عثمانی ندوی

اسلام ایک جامع دین ہے اور اس کے جامع ہونے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ وہ عبادت وریاست کا مجموعہ ہے مرکزی حیثیت یقیناًخدا کے ساتھ لگاؤ اور تعلق کو حاصل ہے اور وہ اصلاً مطلوب ہے، لیکن خدا کے ساتھ تعلق کی استواری اور پھر اس کے بعد خدا کے عادلانہ قوانین کے نفاذ کے لئے اختیار اور طاقت کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔ اس کے لئے بھی سعی وکاوش ایک دینی ضرورت ہے، نہ حکومت کے بغیر زمین میں فتنہ وفساد کودفع کیا جاسکتاہے اور نہ اللہ کے بندوں کے درمیان عدل وانصاف اور امن وامان کا قیام ممکن ہے، کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حکومت اللہ کی طرف سے صرف انعام ہے۔ اور قرآن میں اعمالِ صالحہ پر عزت وحکومت کی خوشخبری دی جاچکی ہے،چونکہ حکومت اہل ایمان کے لئے ایک بشارت اور وعدہ الہٰی ہے اس لئے جو چیز وعدۂ الہٰی کی حیثیت رکھتی ہو اس کے لئے سعی وجانفشانی کی ضرورت نہیں،یہ تصور بہت سے مذہبی لوگوں میں عام ہے ۔ لیکن یہ تصور ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔ یہ دنیا عالم اسباب ہے، اللہ تعالی کے وعدوں کا ظہور بھی عام طور پر اسباب کی سطح پر ہوتاہے، جب اللہ تعالیٰ کسی انعام کا وعدہ فرماتا ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہوتاہے کہ وہ اسباب وتدابیر کے بغیر اس کو پورا کردے گا۔ اگرچہ وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے لیکن یہ اس کی سنت عادیہ کے خلاف ہے، اس عالم اسباب وتدبیر میں اس نے اپنے موعودات کے لئے اسباب وعلل کا واسطہ رکھا ہے مثال کے طور پر ، اللہ تعالیٰ نے ا پنی مخلوق کے لئے روزی ورزق کا وعدہ فرمایا(وما من دابۃ فی الارض الا علی اللہ رزقہا) ترجمہ’’نہیں ہے کوئی چلنے والا زمین پر مگر یہ کہ اس کا رزق اللہ کے ذمہ ہے۔‘‘لیکن اس کے باوجود اس نے حصول رزق کو طلب اور کوشش پر موقوف رکھا ہے، اور رزق حلال کے حصول کے لئے تدبیر اختیار کرنے کا حکم دیا ہے (وابتغو من فضل اللہ)ترجمہ’’ اور تلاش کرو اللہ کا فضل رزق میں سے‘‘۔ اسلام کی تاریخ جدید میں فقہاء محدثین مفسرین اور شارحین حدیث کی کمی نہیں لیکن اسلامی علوم کی جامعیت اور سیرت نبوی اور تاریخ اسلام میں رسوخ وکمال کے اعتبار سے حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے بعد جن شخصیتوں کا ہندوستان میں نام لیا جاسکتا ہے ان میں ایک اہم نام علامہ سید سلیمان ندوی کا ہے۔ علامہ ندوی اس موضوع پر رقم طراز ہیں: ’’اسلام دین ودنیا اور جنت ارضی وجنت سماوی اور آسمانی بادشاہت اور زمین کی خلافت دونوں کی دعوت کو لے کر اول ہی روزسے پیدا ہوا ہے۔ اس کے نزدیک عیسائیوں کی طرح خدا اور قیصر دونہیں، ایک ہی شہنشاہ علی الاطلاق ہے جس کے حدود حکومت میں نہ کوئی قیصر ہے نہ کوئی کسریٰ ، اس کا حکم عرش سے فرش تک اورآ سمان سے زمین تک جاری ہے۔ وہی آسمان پر حکمراں ہے وہی زمین پر فرماں روا ہے (ہو الذی فی السماء الہ وفی الارض الہ)‘‘ (سیرت النبی جلد ۷ صفحہ ۷)
اسلام کے تصور دین کی وضاحت میں تو ازن اکثر کھویا گیاہے۔ کبھی ایسا ہوا کہ اسلام کے سیاسی پہلو کو اس طرح اور اتنی زیادہ اہمیت دی گئی ہے کہ اعتقادات وعبادات کو بھی اس کا تابع کردیا گیا اور کبھی ایسا ہوا کہ اسلام کی سیاسی تشریح سے کشتی لڑکرکچھ لوگ رد عمل کی نفسیات کا شکار ہوگئے اور دوسری انتہاء تک پہونچ گئے۔ انھوں نے اس قسم کا دین پیش کیا ہے جس میں نہ جہاد ہے نہ احتساب نہ اسلامی ریاست کے قیام کی کوشش اورنہ کوشش کرنے والوں کی حوصلہ افزائی اور تائیداور نہ دل کے اندر اس کی آرزو اور تمنا۔ اس موضوع پر مکمل اعتدال اورمکمل توازن جن علماء میں پایا جاتا ہے ان میں میرے محدود مطالعہ میں علامہ سید سلیمان ندوی کا نام سر فہرست ہے ۔ان کے فکر ی توازن کا اندازہ اس ا قتباس سے ہوسکتا ہے:
اسلام کے سارے دفتر میں ایک حرف بھی ایسا موجود نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ قیام سلطنت اس دعوت کا اصل مقصد تھا اور عقائد وایمان، شرائع واحکام اس کے لئے بمنزلہ تمہید تھے بلکہ جو کچھ ثابت ہوتاہے وہ یہ ہے کہ شرائع اور حقوق وفرائض ہی اصل مطلوب تھے اور ایک حکومت صالحہ کا قیام ان کے لئے وجہ اطمینان اور سکون خاطر کا باعث ہے تاکہ وہ احکام الٰہی کی تعمیل بآسانی کرسکیں۔ اس لئے وہ( حکومت اور اقتدار ) بھی عرضاً مطلوب ہے (سیرت النبی جلد ۷، صفحہ ۶)
سید صاحب اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں:’’اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت حکومت وسلطنت اور دنیا کی سیاست ہے۔ ‘‘
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام کی تاریخ سلطنت ومذہب کے اشتراک کی تاریخ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں مکی ومدنی دونوں زندگی جمع کردی گئی تھی آپ کی ذات مبارک میں امامت ونبوت دونوں کو اس طرح بہم کردیا گیا تھا کہ بقول علامہ سید سلیمان ندوی ’’ایک کو دوسرے سے جدا کرنا ناخن کو گوشت سے علیحدہ کرنا ہے‘‘، یہ بھی امر واقعہ ہے کہ اسلام میں قتال وجہاد کی دعوت بر ملادی ہے قرآن میں سلطنت کے ملنے کو عزت اور سلطنت کے چھن جانے کو ذلت قرار دیا گیا ہے۔
(اللہم مالک الملک تؤتی الملک من تشاء وتنزع الملک ممن تشاء وتعز من تشاء وتعز من تشاء بیدک الخیر)ترجمہ ’’ اے اللہ حکومتوں کے مالک تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے حکومت چھین لے۔ توجسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے اور تیرے ہی قبضے میں ہر قسم کا خیر ہے‘‘۔
اس آیت میں عزت سے مراد سلطنت کا ملنا او اور ذلت سے سلطنت کا چھن جاناہے، بلاغت کی اصطلاح میں اس ترتیب کو’’ لف ونشر مرتب ‘‘کہتے ہیں۔یعنی ’’تؤتی الملک من تشاء‘‘کا تعلق ’’ تعز من تشاء‘‘ کے ٹکڑے سے ہے اور ’’ تنزع الملک ممن تشاء‘‘ کا تعلق ’’ تذل من تشاء‘‘سے ہے یعنی عزت کا تعلق اقتدار اور حکومت سے ہے اور حکومت کی طاقت سے محروم ہونا عزت سے محروم ہونا ہے
اس دور میں بہت سی اسلامی تحریکیں ہیں جو وہی دینی فکر رکھتی ہیں جس کی وضاحت علامہ سید سلیما ن ندوی نے کی ہے ۔ اس طرز فکر سے مسلم حکومتیں ہمیشہ خائف ہوتی ہیں اورایسے طر ز فکر رکھنے والوں کے خلاف فتوے جاری کرتی ہیں اور ان کو دہشت گرد قرار دیتی ہیں ۔اس مضمون کی روشنی میں لوگوں کو یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ بہت سی حکومتیں اور سلطنتیں مسلم تحریکات اور بہت سے علماء کے خلاف کیوں ہو جاتی ہیں ۔ یہ حکومتیں علماء کو دہشت گرد کیوں کہتی ہیں یہ حکومتیں ان علماء سے کیوں خوش رہتی ہیں جو خاک کے آغوش یں تسبیح ومناجات کو دین سمجھتے ہیں او ر سیاست اور حکومت کو بے دینی سمجھتے ہیں اس مضمون کی روشنی میں لوگوں کوبے حد اہم سوال کا جواب مل جاسکتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جن تحریکوں پر اور جن شخصیات پر دہشت گردی کا الزام ہے ان کو دور دور تک دہشت گردی سے کوئی واسطہ نہیں رہا اور خود حکومتیں بھی یہ بات اچھی طرح جانتی ہیں ۔لیکن دین کے مذکورہ بالا تصور کے حامل ہونے سے اورنگ نشین اصحاب کر وفر سلاطین کی نیند اڑ جاتی ہے اور وہ علماء کی تحریروں کے خدوخال اور آرائش خیال سے اندیشہ ہائے دور دراز میں گرفتار ہوجاتے ہیں اور ان کو ڈراؤنے خواب نظر آنے لگتے ہیں ۔ یہی ڈراؤنے خواب تھے جو فرعون کو نظر آنے لگے تھے اور اس نے بنی اسرائیل کے نوزائیدہ بچوں کو قتل کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ان ملوک وسلاطین کو چاہئے کہ ایسے کالج اور ایسے تعلیمی ادارے قائم کریں جن میں پڑھ کر نوجوان علماء کے نقطہ نظر کے خلاف ہوجائیں ۔ اکبر الہ بادی نے حکمرانوں کو یہی راستہ سمجھایا تھا
یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کے فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

مشرق وسطیٰ کو سکون نہیں!



نہال صغیر

مشرق وسطیٰ ایک بار پھر بارود کے ڈھیر پر ہے ۔ویسے پچھلی دو دہائی سے وہاں بارود ہی بارود ہے ۔لیکن بیچ بیچ میں ایسا محسوس ہونے لگتا ہے جیسے ابھی بس سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اور امن ہی امن ہوگا ۔لیکن دو وجوہات سے وہاں امن کی فی الحال کوئی گنجائش نہیں ہے اول امریکہ اور صہیونی ناپاک سازشیں اور دوم ہمارے عربوں کی احمقانہ حرکتیں ۔ایک بار پھر انہوں نے وہی حرکتیں کی ہیں جو کبھی نوے کی دہائی میں کی تھی جس کا خمیازہ پوری امت مسلمہ اب تک بھگت رہی ہے ۔قطر کو چھ عرب اور دیگر مسلم ملکوں نے علیحدہ کردیا ہے ۔اس پر الزام ہے کہ وہ شدت پسندوں کی مدد کررہا ہے ۔تین نام آئے ہیں ان میں آئسس یعنی داعش کا نام تو صرف دباؤ بنانے کیلئے اور امریکہ بہادر یا عالم انسانیت میں امن کے دیگر ٹھیکیداروں کو متحرک اور ان کو مدعو کرنے کیلئے لیا گیا ہے ۔ہاں حماس اور اخوان المسلمون کی مدد اور انہیں دہشت گرد ماننے سے انکار ہی اصل جرم ہے جو نام نہاد عرب ملکوں کو پسند نہیں ہے ۔ایک صدی سے عالم عرب اور عالم اسلام مغربی استعماری قوتوں کی چیرہ دستیوں کامرکز ہے ۔اسی دور میں مسلمانوں کی قوت کو مجتمع کرنے اور انہیں عالمی پیمانے پر موثر رول ادا کرنے کے قابل بنانے کیلئے اخوان المسلمون وجود میں آئی تھی۔داعش کو تو آج تک کسی بھی مسلم ملک نے شرف قبولیت نہیں بخشا۔اسے قبولیت مل بھی کیسے سکتی ہے جبکہ اس کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے سیدھے اپنی خلافت کا اعلان کردیا ۔یہ بات اب مسلمانوں کو صرف تقریروں اور تحریروں میں اچھی لگتی ہے لیکن عمل کے میدان چونکہ سخت اور صبر آزماء ہوتے ہیں اس لئے اسے رد کردیاجاتا ہے ۔دوسری بات یہ کہ خلافت یا ایسی کسی بھی تحریک جس سے مسلمانوں کے عالمی پیمانے پر متحد ہونے کا دشمنوں کو خدشہ ہو وہ سیدھے دہشت گردی کے زمرے میں آجاتی ہے ۔دشمن توخیر دشمن ہی ٹھہرے وہ تو اسی کام کیلئے ہی بنے ہیں پر مسلمانوں کے شاہان بھی ایسی کسی تحریک کے حق میں اس لئے نہیں ہیں کہ اس سے ما بدولت کی پر تعیش زندگی میں رخنہ پڑ جائے گا۔انہیں شاہی محلوں سے نکل کر میدان عمل کا رخ کرنا ہوگا ۔داعش کو اتنے خطرناک دہشت گرد کے روپ میں دکھایا گیا کہ شاید ہی کوئی ہو جو ان کی حمایت کرے گا ورنہ ان کا نام آتے ہی مسلمان کان کو ہاتھ لگاتا ہے ۔ اخوان المسلمون اور حماس چونکہ تحریکی جماعتیں ہیں۔اس کی جڑیں زمین میں کافی گہرائی تک پیوست ہیں اس لئے عالم عرب کے یہ چند بے وقعت حکمراں اگر اس کے ساتھ کوئی تعاون نہ بھی کریں تو عوام کا دل تو ان کے ساتھ ہی ہے اور انہوں نے مالی اخلاقی اور افرادی مدد بھی کی ہے ۔یہ شاید پہلی بار ہے جب کھل کر ایک عرب ملک نے ان کی حمایت کی ہے اور اتنی سختیوں کے باوجود بھی وہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے ۔شاہان عرب کے غیر دانشمندانہ ، دوسرے کی ایماء اور عجلت میں کئے گئے یہ فیصلے تیسری خلیجی جنگ کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں ۔اگر ایسا ہوا تو معاشی مندی کی شکار دنیا کو ایک نئے کرب سے گزرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے ۔
قطر پر پابندی اور اسے تنہا کرنے کی کوشش پر ترکی صدر طیب ارودگان نے کہا کہ یہ ایک بڑی غلطی ہے اور خطے میں عدم استحکام کا سبب بنے گا ۔یہاں ترکی وہ واحد ملک ہے جو قطر کے ساتھ کھڑا ہے ۔بلکہ سوشل میڈیا پر تو ایک تصویر وائرل ہورہی ہے اس کے مطابق قطر نے ترکی سے اشیائے خوردونوش منگوانا شروع کردیا تھا ۔کیوں کہ عرب ملکوں نے اچانک اس پر پابندی عائد کرکے سارے تعاون سے ہاتھ اٹھا لیا ۔بہر حال ہم یہ دیکھتے ہیں کہ قطر پر پابندی کیوں لگائی گئی اور اب اس سے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے ۔قطر پر پابندی کی اصل وجہ جو سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ مسلم ملکوں میں ترکی کے بعد ایک ابھرتی ہوئی معاشی قوت بن رہا تھا ۔بلکہ جو کچھ تفصیلات آرہی ہیں اگر وہ سچ ہیں تو وہ ترکی کے بعد دوسرے مسلم ملک ہے جو دینے کے قابل بن گیا ہے ۔قطر کے ساتھ ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے مسلم امہ کے خلاف صہیونی میڈیا کا جواب دینے کیلئے ایک ایسا نیوز چینل کھڑا کردیاجس کے بارے میں ملک کے سربراہ سے لے کر قومی لیڈر اور علاقائی قائد تک صرف باتیں کرتے ہیں اور بس لیکن اس نے بین الاقوامی معیار کا چینل کھڑا کرکے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ کام ایسے کیا جاتا ہے ۔ قطر صحت تعلیم معیشت سب میں ایک مثال قائم کرتا جارہا تھا ۔یہ باتیں ان قوتوں کو ہضم کیسے ہوں گی جنہوں نے منصوبہ ہی بنا رکھا ہے کہ مسلمانوں کو کبھی آگے نہیں آنے دینا ہے ۔ان کے سامنے ترکی کی مثال ہے جب وہ خود کفیل ہو گیا اور عالمی بینک سے قرض لینے کی بجائے اسے دینے کے قابل ہو گیا تو اب اپنے فیصلے خود ہی کرتا ہے ۔اس پر کسی دباؤ کا اثر نہیں ہوتا ۔اسی طرح قطر بھی کرنے لگا اور پھر دیگر اور بھی مسلم ملک سامنے آتے گئے تو کیا ہوگا ۔
شاید ٹرمپ نے اپنے حالیہ دورہ میں عرب سربراہان کو جہاں دہشت گردی سے لڑنے کے اسباق پڑھائے وہیں انہوں نے ان کے احساس عدم تحفظ کو اور گہرا کردیا ۔حماس اور اخوان کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوشش اور شہنشاہوں کی ان کے تئیں نفرت اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ظاہر کرتا کہ اگر یہ عوامی تحریکیں زور پکڑ گئیں اور انہیں عوام میں تو مقبولیت حاصل ہی ہیں اگر انہیں اس میں مزید کامیابی مل گئی تو ان کی خاندانی بادشاہت کیا ہوگا ۔حالانکہ یہ محض ایک واہمہ ہے ۔یہ وہم بزدلوں اور ظالموں کو ہر آن ڈراتا رہتا ہے ۔مسلم امہ کی جو صورتحال ہے اور ہر میدان میں ہماری پسماندگی پر جو تقریریں کی جاتی ہیں اور کانفرنسیں منعقد کی جاتی ہیں اس کا تقاضہ یہ ہے کہ اسے عملی شکل میں لایا جائے اور ایسی عوامی تحریک کو ابھارا جائے جس سے مسلمانوں کی طاقت مضبوط ہو اور وہ عالمی پیمانے پر قائدانہ رول اداکرسکیں ۔لیکن برا ہو عدم تحفظ کے احساس کا جس نے سب پر پانی پھیر دیا ہے ۔سعودی عرب اور عرب امارات ہمیشہ ایران سے خدشہ کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ علاقہ میں عدم استحکام پیدا کررہا ہے ۔یہ سچ بھی ہے ۔لیکن سعودی عربیہ کی سربراہی میں موجودہ قطر مقاطعہ سے پیدا ہونے والی بے چینی سے تو خطہ میں کسی کو فائدہ ہوگا تو وہ صر ف ایران ہے ۔یہ بھلا کہاں کی دانشمندی ہے کہ محض اپنی خاندانی حکومت کو بچانے اور اس کی طرف سے کسی خدشہ میں پڑ کر ایسی کارروائی کی جائے جس سے علاقے میں دوسروں کو کھیل کھیلنے کا موقعہ ملے ۔آج تک عرب ممالک اپنی کوئی مضبوط و مستحکم فوج نہیں بنا سکے ۔اگر انہوں نے حماس اور اخوان جیسی تنظیموں کی سرپرستی کی ہوتی تو خطہ ایک فوجی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آچکا ہوتا ۔لیکن انہوں نے بجائے یہ کہ اخوان کی قوت میں اضافہ کا سبب بنتے ان کی فکر اور اس کی قوت کو کچلنے میں اپنا سرمایہ لگایا ۔مصر میں سیسی کی بغاوت اور مرسی کی گرفتاری اور اس کے بعد ہزاروں اخوانیوں کے قتل عام سے آخر کیا ظاہر ہوتا ہے ۔ آج وہی دہشت گرداور باغی سیسی قطر کے خلاف کھڑا دنیا کے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وکالت کررہا ہے ۔بہتر ہوگا کہ سعودی عرب اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرے اور امت کے وسیع تر مفاد میں قطر کے خلاف مقاطعہ کو ختم کرے ۔اگر وہ ایران کی مداخلت اور بحرین اور یمن میں نہیں چاہتا تو اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ خطے کے ممالک کو یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھنا پڑے گا ۔ورنہ اس طرح کی غیر دانشمندانہ کارروائی سے وہ فوجی اتحاد جو سعودی عرب کی سربراہی میں ہوا ہے جس سے مسلمانوں کو کافی امیدیں تھیں دم توڑ دیں گی۔قطر پر یہ الزام کہ وہ عرب عوام کو خبروں کے ذریعہ گمراہ کررہاہے بچکانہ پن ہے ۔ساری دنیا جانتی ہے کہ آج کل ہیکر کتنے سرگرم ہو گئے ہیں ۔وہ ہیک کرکے کچھ بھی اور کبھی بھی کرسکتے ہیں ۔جیسا کہ الزام لگایا جارہا ہے کہ روسی ہیکروں نے قطر کی سرکاری نیوز ایجنسی میں ہیکنگ کے ذریعے ایران کی حمایت اور سعودی عرب کے خلاف نیوز پوسٹ کئے ۔یہ ممکن بھی ہے ۔روس فی الحال مشرق وسطیٰ میں پھر سے متحرک ہونے کی کوشش میں ہے ۔اس لئے ترکی اور کویت کی گزراشات پر غور کیاجائے اور خطہ میں عدم استحکام کو روکا جائے ۔بہت دنوں کے بعد سعودی عرب کی عوامی حمایت میں جو اضافہ ہوا تھا وہ موجودہ بحران سے متاثر ہوگا ۔سعودی عرب کو اس کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔

بہار عرب:اک عمر گذری حسرت فصل بہار میں



پروفیسر محسن عثمانی ندوی

مختلف سیاسی نظریات کے تجربے کئے جاتے رہے ہیں اسلام کا سیاسی نظریہ جو قرآن وسنت پر مبنی ہے وہ بھی تاریخ میں تجربہ سے گذر چکا ہے پہلا تجربہ قرون اولی میں کیا گیا تھا ۔ اسلامی سیاست کے طالب علم کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے دور کے مسلم ملکوں کے نظام کا جائزہ لیتا رہے کہ وہ نظام اسلام کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔اس طرح سے اسلام کا سیاسی نظام کیا ہے اس کی تشریح کے بعد اس کی بھی ضرورت ہے کہ بتایا جائے کہ موجودہ عالم اسلام کا سیاسی نظام اسلا م کے معیار مطلوب سے کس قدرنزدیک ہے یا کس قدردور ہے اور اس سے اسلام کی کیا نیک نامی یا بدنامی ہورہی ہے۔ ایک مدت سے علماء یہ محسوس کرتے تھے کہ مسلم ملکوں کا نظام اسلام کے جمہوری نظام سے یا شورائی نظام سے ہٹ چکا ہے اس میں بہت سی خرابیاں در آئی ہیں ۔ایسے میں جب کئی ملکوں میں انقلاب نے دستک دی تو امید کی کرن سینوں میں جاگی تھی۔ تمام مخلوقات میں انسان کو اللہ نے یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ حالات کو تبدیل کرسکتا ہے اور غلطیوں کو درست کرسکتا ہے یہ صلاحیت اللہ نے دوسری مخلوقات کو نہیں عطا کی ہے ۔ انسان کو یہ حوصلہ دیا گیا ہے کہ وہ ماحول کے رحم وکرم پر نہ رہے اور جو نظام غلط ہے اس کو بدلنے کی کوشش کرے ۔ اس لئے عرب دنیا میں تبدیلی کی لہر چلی تو اہل عقل وشعور نے اس کا خیر مقدم کیا تھا ۔عرب دنیا میں جمہوریت کی بہار اور نسیم جاں فزا آنے کو تھی، Arab spring یعنی بہار عرب کے آنے کے بڑے چرچے تھے، آمد بہار کی خبر پورے گلستاں میں عام تھی، اسلامی ذہن کے لوگوں کو خوشی تھی کہ شاید اب صحیح اسلامی حکومت قدیم جابرانہ مسلم حکومتوں کی جگہ پر قائم ہوجائے ا ور جسے اسلامی جمہوریہ کہا جاسکے ، خیر مقدم کے لئے لوگوں نے راہ وفا میں دل سا ایک چراغ جلا رکھا تھا، لیکن پھر کیا ہوا ؟ یہ ہوا کہ کوئے وفا میں روشنی نہ ہوسکی اور وہی ہوا جو ایک شاعردلنواز کلیم عاجز نے کہا تھا :
کچھ دور ہی بہارِ چمن آکے رہ گئی
ابھری نہ تھی کہ آرزو مرجھا کے رہ گئی
پھیلائے ہاتھ شاخ نے پھیلاکے رہ گئی
خوشبوئے گل نہ جانے کہاں جا کے رہ گئی
اک عمرگزری حسرت فصلِ بہار میں
اب تک تڑپ رہے ہیں اسی انتظار میں
فصل بہار کے انتظار میں واقعی اک عمر گذری تھی،صحیح اسلامی ریاست صرف خلافت راشدہ کے دور تک رہی ،اس کے بعد تھوڑے تھوڑے وقفے ملتے ہیں جس میں اسلام کا نظام حکمرانی جلوہ افروز نظر آتا ہے ورنہ بحیثیت مجموعی اسلام صرف عبادات میں باقی رہا، اسلام نے جمہوریت اور آزادی رائے کا چراغ اس وقت روشن کیا تھا جب ساری دنیا میں استبدادی نظام اور موروثی بادشاہت کا اندھیرا چھایا ہوا تھا ،اسلام نے انسان کو بنیادی سیاسی اور سماجی حقوق اس وقت دیئے تھے جب دنیا کے ملکوں میں ان کا وجود نہیں تھا آج اس دور میں جب ساری دنیا میں جمہوریت کا دلفریب نغمہ گونج رہا ہے انسانی حقوق کا چارٹر موجود ہے خود ہندوستان کے اندرلوگ اپنی مرضی سے جسے چاہتے ہیں اقتدار کی کرسی پر بٹھاتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں بے راج اور بے تاج کردیتے ہیں ، لیکن عرب ملکوں میں قیصر وکسری کا استبداد ی نظام اور ملوکیت کا دلدوز دلفگار اور دلخراش ماحول چھایا ہوا ہے ۔مزید یہ کہ اسلامی اسٹیٹ کے مقاصد بھی ان سے پورے نہیں ہورہے ہیں ۔غیر اسلامی اور غیر جمہوری اور غیر عادلانہ حکومت کا زمانہ ان ملکوں میں اتنا طویل ہوگیا کہ بہت سے لوگ اسے اب ضروری نہیں سمجھتے ہیں کہ تبدیل لائی جائے، اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور استبدادی نظام کے خلاف کہیں صدائے احتجاج بلند ہوتی ہے تو مفتیان حرم اس کے خلاف فتویٰ کی بندوق کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ حضرات صرف ذکر وفکر صبح گاہی اور مزاج خانقاہی کواوربے دین اور ظالم حکمراں کی بے چوں چرا اطاعت کو مکمل اسلام سمجھتے ہیں۔عرب ملکوں میں اور بالخصوص خلیجی ریاستوں میں درہم ودینار کے معاشی مفادات میں مشغول رہنے والے کچھ ظاہری طور پر دیندار لوگ خود کو ربانیت کا علم بردار کہتے ہیں ،ان کی ربانیت نماز وروزہ سے مکمل ہوجاتی ہے باقی اسلامی نظام اور قوانین شریعت کے نفاذ کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے،اور قوانین شریعت کے نفاذ کی تحریک کے علم برداروں پرمصر اور شام اور خلیجی ریاستیں ،سعودی عرب ، امارات اور بحرین ظلم کریں اور اپنے مفاد کے لئے ان کو دہشت گرد قرار دیں انسانی حقوق کو روند ڈالیں آزادی تحریر وتقریر کو کچل دیں اور عبد الفتاح سیسی جیسے غاصب اور غدار کی اربوں ڈالر سے مدد کریں اور اگر کوئی ملک جیسے قطر دینی جماعت کے لوگوں کو پناہ دے تو وہاں کی حکومت کو دھمکیاں دے اور اس کے ساتھ تعلقات منقطع کرلے توان مسلم ملکوں کے نام نہاد دین داروں کے سروں پربھی جوں نہیں رینگتی ہے ، ان میں بہت سے لوگ حکومت کی ہاں میں ہاں ملانے لگتے ہیں۔دنیاکے موجودہ جمہوری نظام کی طرح اسلام میں بھی ظلم کے خلاف احتجاج کا اور اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کا پورا حق دیا ہے اور دنیا اس حق کو تسلیم کرتی ہے۔ اخوان اور دوسری دینی تحریکات نے کئی عرب ملکوں میں حکومتوں کے خلاف احتجاج کی پر امن تحریکیں چلائی تھی لیکن یہ عرب حکومتیں پر امن احتجاج کو برداشت نہیں کرسکیں دنیا میں ہرجگہ احتجاج کا حق تسلیم کیا گیا ہے ۔ گاندھی جی نے اسی نظریہ کے تحت برطانوی حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلائی تھی اور دنیا میں آج بھی اظہار خیال کی آزادی کو کوئی نہیں روکتا ہے، لیکن ان مسلم حکومتوں میں کوئی آزادی نہیں ۔ حرمین شریفین کی سرزمین کے والی بھی جب خلاف اسلام حرکت کرنے لگیں اور دینی تحریکات پر دہشت گردی کا الزام لگا نے لگیں اور قطر سے اپنے تعلقات اس لئے منقطع کرلیں کہ وہاں اخوان کو پناہ دی جاتی ہے اور اس مقدس سرزمیں یعنی حجازکے علماء بھی اپنی حکومت کا ساتھ دینے لگیں تو مایوسی پیداہوتی ہے ۔ قیامت قریب ہے وہاں یہ فیصلہ ہوگا کہ کس کا نقطہ نظر درست تھا،ان علماء کا جواپنی حکومت کی غلط پالیسی کی تائید میں بیانات دیتے رہے اور ظلم کا ساتھ دیتے رہے یا وہ علماء جو اللہ کی شریعت کے نفاذ کی تحریک چلاتے رہے اور حکومت کے مظالم برداشت کرتے رہے، یہ بات ہمیشہ یاد رکھنے کی ہے کہ وفاداری اسٹیٹ کے ساتھ ہوتی ہے نہ کہ حکومت کے ساتھ ، اسلام میں اور جمہوریت میں حکومت پر ہر طرح کی تنقید کی اجازت ہے ۔یہ اجازت عہد حاضرکی بیشتر مسلم حکومتیں دینے کے لئے تیارنہیں ہیں،اس اعتبار سے یہ سب صرف مسلم حکومتیں ہیں نہ کہ اسلامی حکومتیں۔ان حکومتوں میں بہت سی حکومتیں ہیں حہاں اسلامی قوانیں پر بھی عمل نہیں ہوتا ہے ۔ اسلامی قوانین یا خدائی قوانین ان ضابطوں کو کہتے ہیں جنہیں خدا نے اپنے برگزیدہ بندوں یعنی نبیوں اور پیغمبروں کے ذریعہ عام انسانوں کی ہدایت کے لئے بنایا ہے ۔ چنانچہ بہت سے عرب اور مسلم ملک ہیں جہاں شراب خانہ خراب پر کوئی پابندی نہیں ہے جہاں فحاشی کے اڈے موجود ہیں ، سودی کاروبار کی پوری اجازت ہے ۔ان برائیوں کے خلاف جب دینی تحریکیں مورچہ سنبھالتی ہیں تو ان کو پولیس اور فوج کی طاقت کے ذریعہ کچل دیا جاتاہے ۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ مغرب میں جمہوریت کے دعوے دارٍ مشرق میں اور عرب ملکوں میں جمہوریت کے مددگا نہ بن سکے ، کیونکہ عرب دنیا میں جمہوریت کے پردہ سے اور انتخابات کے ذریعہ جولوگوں کا پسندیدہ نظام نکل کر سامنے آیا وہ اسلامی نظام تھا اور جو لوگ منظر عام پر آئے وہ اسلام پسند اور دین وشریعت کے وفادار لوگ تھے۔ مغرب نے سوچا کہ دنیا میں ہر جگہ جمہوریت رہے لیکن عرب ملکوں میں جمہوریت نہ آئے تو بہتر ہے۔ چنانچہ پانسا پلٹ دیا گیا، اسلامی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا،استبدادی نظام پھر سے قائم ہوگیا اور اسلام پسند دار ورسن کے حوالے یا پس دیوار زنداں ڈال دیئے گئے۔ موج خوں سروں پر سے گذر گئی ۔ کرب وبلا کی خوں چکاں داستان پھر سے تازہ کی گئی اور جمہوریت کے چاہنے والے اہل اسلام جو اسلام کے سیاسی نظام کو دیکھنے کے لئے چشم براہ تھے سر راہ وفا د ل برباد کو ہاتھوں سے تھامے جمہوریت کا چہرہ زیبا دیکھنے کے لئے بس انتظار ہی کرتے رہ گئے ۔ شام میں اسلام کی شام غریباں زلف جاناں کی طرح دراز ہوتی چلی گئی ۔ کوئی پوچھے ٹوٹے ہوئے ارمانوں کا اور زخمی دلوں کا حال شیخ یوسف القرضاوی سے اور راشد الغنوشی سے اورہندوستان اور دنیا کی اسلامی جماعتوں سے وابستہ ہزاروں اہل فکر اور اہل قلم سے جنہوں نے اسلام کے سیاسی نظام کے روئے زیبا کے دیدار کی خاطر بہار عرب کا خیر مقدم کیاتھا ۔ یادوں کے زخم اتنے ہیں کہ مندمل ہونے کا نام نہیں لیتے اورسب کا ذکربھی مشکل ہے ۔ وا دریغا کہ ظلم کی چکی میں پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں بھی اہل ایمان پیسے جارہے ہیں دیندار اور تہجد گزار لوگوں کو تختہ دار پر لٹکایا جارہا ہے ۔شام ومصر میں انقلاب بدوش اہل دین آزمائش کی بھٹی میں ڈالے جارہے ہیں۔ ایسے وقت میں ترکی ایسا مسلم ملک ہے جس نے بنگلہ دیش سے بھی احتجاج کیا اوراس نے مصر کی بھی مذمت کی جس کے صدر نے ایک سازش کے تحت محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور تر کی نے شام کے ظالم بشار الاسد کیخلاف سخت موقف اختیار کیااور اپنی سرزمین پر لاکھوں لاکھ شامیوں کو پناہ دی۔
یادش بخیر ، ۱۹۹۰ میں جب الجزائر میں بلدیہ کا الیکشن ہوا تو اسلامی جماعت اسلامک سالویشن فرنٹ نے ۲۳۱ نشستوں میں سے ۱۸۸ نشستوں پر قبضہ کرلیا ، یہ الیکشن کا پہلا مرحلہ تھا، حکمراں پارٹی نیشنل لبریشن فرنٹ نے صرف ۱۶ سیٹیں حاصل کی تھیں ، قوی امید تھی کہ دوسرے مرحلہ انتخاب میں جو بعد میں ہوتے یہی اسلامی جماعت کامیابی کاجھنڈا گاڑدیتی اور حکومت کی تشکیل کرتی، فرانسیسی استعمار سے رہائی کے بعد قربانیوں کا صلہ ملتا ، لیکن دوسرے مرحلہ کے آنے سے پہلے مغرب نواز فوج نے مغربی ملکوں کے اشارے پر حکومت کا تختہ پلٹ دیا اور اس طرح اسلامک فرنٹ کو اقتدار میں آنے سے روک دیا ۔اس طرح سے مغربی ملکوں کی جمہوریت نوازی کا پرفریب چہرہ بے نقاب ہوگیا ۔
حماس فلسطین کی اسلام دوست دین پسند تنظیم ہے۔ ۲۰۰۶ میں جب اس نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو اس کڑوے گھونٹ کو مغربی طاقتوں کے لئے برداشت کرنا مشکل ہوگیا، چنانچہ اس کا راستہ روک دیا گیا ۔ مغربی حکومتیں جمہوریت کو پسند ضرور کرتی ہیں لیکن جب جمہوریت کے ذریعہ اسلام پسند اقتدار پر فائز ہوتے ہیں تو وہ جمہوریت کے خلاف سازش کرکے حکومت کا تختہ الٹ دیتی ہیں اور جمہوریت کی بہار پھر سے خزاں میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔ اسی طرح ۳ جولائی ۲۰۱۳ مصر کی تاریخ کاوہ روز سیاہ ہے جب جمہوری اعتبارسے منتخب صدر محمد مرسی کی جائز اور جمہوری اور دستوری حکومت کا تختہ الٹ کر فوج برسر اقتدار آگئی ، وہ فوج جس کا کام سرحدوں کی حفاظت تھا اس نے ناجائز طریقہ سے زمام اقتدار پر قبضہ کرلیا ، الاخوان المسلمون کے سرکردہ لیڈروں کو جیل میں ڈال دیا گیا، مظاہرہ کرنے والوں پر گولیاں چلائی گئیں ، مرنے والے ہزاروں کی تعداد میں تھے اور زخمی ہونے والے ا س سے کئی گنا زیادہ ۔ اخوان کے لیڈروں کو سزائے موت سنائی گئی ۔ ظلم ودرندگی کی کوئی انتہا نہ تھی جو مصر میں جمہوریت کا راستہ روکنے کے لئے اختیار نہ کی گئی ہو ۔ افسوس صد افسوس کہ خلیجی ملکوں نے اسلام کے خلاف سازش کا پوراساتھ دیا۔ اور ر ہے ہمارے محترم پیر حرم ، تو علامہ اقبال ان کے بارے میں کہہ گئے ہیں ،’’ پیر حرم کو دیکھا ہے میں نے ، کردار بے سوز گفتار واہی‘‘ ۔ آج کل پیر حرم مصر اور اپنے محرم ملک یعنی خلجی ملکوں کے حکمرانوں کے ساتھ مل کر قطر کے خلاف محاذ بنارہے ہیں اور ہر طرف سے اس کا محاصرہ کر ہے ہیں تعلقات منقطع کررہے ہیں۔ کیونکہ قطروہ واحد عرب ملک ہے جو اخوان سے اور حماس سے ہمدردی رکھتا ہے اور انکو پناہ دیتا ہے۔لوگوں کے ذہن میں یہ بات تازہ ہے کہ سعودی عرب وہ بد قسمت ملک ہے جس نے حرمین کے تقدس کا بھی لحاظ نہیں کیا اور اپنی دینی ذمہ داری کو بھی نہیں سمجھا اور مصر میں اسلامی جمہوریت کے داخلہ کا راستہ روک دیامحمد مرسی کی جائز حکومت کا تختہ الٹا، اور بہار عرب کو خزاں آلودہ کردیااور اسلام پسندوں کوعبدالفتاح سیسی کے ذریعہ آتش وآہن کے سپرد کردیا،کیونکہ سعودی عرب کو اپنا مستقبل خطرہ میں نظر آنے لگا تھا کیونکہ اس کے یہاں ملوکیت اور موروثیت کا جوغیر اسلامی نظام رائج ہے اس کے خلاف ملک کے اندرمستقبل میں آواز اٹھ سکتی تھی۔سعودی عرب میں زبان وقلم پر پابندیاں عائد ہیں وہاں کے عوام بے زبان جانوروں کی طرح رہتے ہیں جس سے لوگ گھٹن محسوس کرتے ہیں اور یہ اسلام کی دی ہوئی آزادی کے خلاف ہے ، اس لئے سعودی عرب نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ یہ اسلامی ذہن پروان چڑھے اس پر دہشت گردی کا الزام لگا کر اسے پابند سلاسل کردو ۔ اس طرح سے سعودی سازش کے ذریعہ اسلامی جمہوریت کا درخت اور اسلامی نظام سیاست کا پودا مرجھا گیا ۔ مغربی طاقتیں بھی اس سازش میں شریک تھیں، مغربی طاقتیں جمہوریت کی قائل ضرورہیں لیکن اس جمہوریت کی قائل نہیں ہیں جس کے ذریعہ اسلام ایوان سیاست میں داخل ہوسکے اورغم وافسوس کی بات ہے کہ تمام خلیجی ملک ان مغربی طاقتوں کے حاشیہ بردار، خوشہ چیں، مقلد اور زلہ ربا اوردست نگرہیں اور پیر حرم کا کیا کہنا وہ تو ڈونالڈ ٹرمپ کے ہاتھ پر حال ہی میں بیعت کرچکے ہیں اور چار ارب ملین ڈالر کا نذرانہ عقیدت بھی پیش کرچکے ہیں تاکہ اسلحہ کے نام پر کھلونے ہاتھ میں پکڑا دیے جائیں ۔سعودی عقل پر ماتم کرنے کا جی چاہتا ہے۔اب سعودی عرب اور اس کے حلیف ملکوں نے علامہ یوسف القرضاوی سمیت ۵۹ علماء کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے ۔ڈاکٹر یوسف القرضاوی تو ایسے دہشت گرد ہیں جن کو دبئی کی حکومت اپنا سب سے بڑا ایوارڈ اسلامی علوم کی خدمت کا دے چکی ہے اور سعودی حکومت انہیں فیصل ایوارڈ سے نواز چکی ہے۔سعودی حماقتوں پر لوگوں کے صبر کا پیمانہ اب لبریزہونے کو ہے لوگ سوچنے لگے ہیں کہ سعودی حکومت تولیت حرمین کا استحقاق کھونے لگی ہے ۔ اب با شعور اور شعر و ادب والوں کی زبان پر پروفیسر ملک زادہ منظور احمد کا شعر آنے لگا ہے
تشنہ لبی نے جب بھی ذوق عمل دیا ہے
رندوں نے میکدہ کا ساقی بدل دیا ہے
اس دنیا کی تاریخ میں ایک سے ایک باجبروت طاقتور سلطنتیں رہ چکی ہیں وہ اب سب زمین کا پیوند ہوگئی ہیں ۔ سعودی سلطنت کا زوال بھی یقینی ہے ۔مستقبل کا مؤرخ جب سعودی حکومت کے زوال کے اسباب لکھے گا تو وہ لکھے گا کہ اس حکومت کے کار پرداز اس وقت کی بڑی طاقتوں کی سازش کا شکار ہوگئے تھے بڑی طاقتوں نے اپنے خاص مقاصد کے تحت الزام لگایاتھاکہ عرب ملکوں میں دہشت گردی پیدا ہورہی ہے۔ عرب ملکوں نے فوراً اس الزام پر یقین کرلیا اور اپنے یہاں ان تنظیموں کو جو مغربی تہذیب کا مقابلہ کررہی تھیں دہشت گرد قرار دے دیا اور علماء اور اعیان فکر اسلامی کو گرفتار کیااور جوکام مغربی طاقتوں سے نہیں ہوسکتا تھا وہ ان عرب ملکوں نے کردکھایا ۔ اگر سلمان بن عبد العزیز سچ مچ اپنے الزام میں مخلص ہیں کہ اخوان المسلمون دہشت گردوں کی جماعت ہے اور گردن زدنی ہے اور شیخ یوسف القرضاوی دشمن امن وامان ہیں تو حرم شریف میں رمضان میں ختم قرآن کے موقعہ پر جو طویل دعا ہوتی ہے اس میں امام حرم سے یہ دعا بھی کروائیں کہ اے اللہ خادم الحرمین کو روز حشرحسن البناء اور یوسف القرضاوی اور محمد مرسی اور اخوان کے ساتھ محشور مت کر بلکہ جمال عبد الناصر، حسنی مبارک اور عبد الفتاح سیسی کے ساتھ ان کا حشر کر ۔’’ویرحم اللہ عبدا قال آمینا ‘‘( اللہ اس بندے پر رحم کرے جو آمین کہے )

شاہان عرب کے جدید لٹھ مار !‎


ہندوستان میں جن بھائیوں نے قطر اور سعودی عربیہ کی حمایت میں فیس بک پر اپنے خون جلائے ہیں ان کے لیئے سعودی عربیہ اور قطر کے امور سیاست میں وزارت عظمیٰ کے عہدے کا یقیناً حق بنتا ہے ۔ پتہ نہیں عرب شہنشاہوں کو اس کا احساس بھی ہے یا نہیں کہ ہندوستانی مسلمان ان کیلئے سوشل میڈیا کی جنگ میں آپس میں لاٹھی اور ڈنڈا بھی اٹھانے کی سوچ رہے ہیں ۔مجھے تو امید بالکل نہیں ہے کہ ان کی آپس کی لڑائی کے فائدے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہوگا سوائے اس کے کہ ہم ان کیلئے لٹھ مار کا کردار نبھاتے ہوئے زمیندار بابو کے چند ٹکڑوں پر قناعت کرلیں ۔ جنھوں نے انگریزوں کے دور میں زمینداری کا دور دیکھا ہے یا زمینداری کے دور کی کہانیاں پڑھی ہیں اورفلمیں دیکھی ہیں انہیں یاد ہونا چاہئے کہ زمیندار اپنی لگان وصولنے کیلئے لٹھ مار رکھتے تھے جو کاشتکاروں سے دھونس اور دھمکی سے لگان وصول کر زمیندار کو خوش کرتے اور بدلے میں زمیندار ان کے راشن وغیرہ کا انتظام کروا دیتا یا کاشتکاری کیلئے کچھ زمین کے ٹکڑے وغیرہ بھی دے دیتے تھے ۔اس وقت کی بھوجپوری زبان میں انہیں ڈھیل پھورا بھی کہا جاتا تھا -ڈھیل پھورے اکثر اوقات زمیندار بابو کیلئے لڑائی جھگڑے کے وقت میں اپنا سر بھی پھڑواتے تھے لیکن زمیندار کسی لڑائی میں کبھی سامنے نہیں آتے۔لٹھ ماروں کے علاوہ زمینداروں نے بھانٹوں کی ایک برادری بھی بسا رکھی تھی جو ان کی خوشی کے موقع پر خوش ہونے کا ڈرامہ اور دکھ کے موقع پر گریہ و زاری کرتے لیکن لٹھ ماروں اور بھانٹوں کی اوقات صرف محل کے باہر تک ہی محدود ہوتی تھی ۔باقی ان کے سیاسی ،معاشرتی اور ثقافتی معاملے میں انہیں نیچ اور کمتر کے درجے میں شمار کرکے نظر انداز کردیا جاتا تھا ۔ہم ہندوستانی مسلمانوں کے تئیں عربوں کی سوچ بھی تقریباً وہی ہے۔ عام طور پر عرب ہم ہندوستانیوں کو عجمی کہہ کر ذلیل کرتے ہیں ۔اگر عجمی کہیں تو بھی کوئی کراہیت کی بات نہیں، آخر بے غیرتوں کو بے غیرت نہیں تو کیا غیرت مند کہا جائے گا ۔ میں نے تو لوگوں سے سنا ہے کہ اکثر جاہل عرب ہندوستان کے مسلمانوں کو کافر بھی کہتے ہیں۔تحقیق کیا تو معلوم ہوا کہ پاکستانیوں نے عربوں کے ذہن میں بدگمانی پیدا کردی تھی، اب عرب ہوشیار ہوچکے ہیں۔ پاکستانیوں نے عربوں کو ورغلایا ہوگا اس کا ثبوت پاکستان کے ایک معروف سابق بیوروکریٹ اور صحافی اوریا مقبول جان کے ایک حالیہ بیان سے بھی ہوتا ہےجس میں انہوں نے بٹوارے کے موقع پر غیر مسلموں کا ساتھ دینے کی وجہ سے ہندوستانی مسلمانوں پر کفر کا الزام لگایا ہے ۔کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ جس پاکستانی ٹیم کے جیتنے پر ہم نے پٹاخے چھوڑنے، جن عربوں کیلئے ہم اپنا سر پھوڑنے کیلئے تیار ہیں یہ لوگ اپنی پارلیمنٹ میں وزارت کا عہدہ تو دور کی بات فوج میں مرنے کیلئے بھی شاید نہ بھرتی کریں ۔صدام حسین کا حشر ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جو خود عرب تھاجسے عرب کے شیخوں نے ایران سے جنگ پر آمادہ کیا ان کی بھر پور مدد کی تاکہ خمینی کے انقلاب کی یہ تحریک عرب میں نہ داخل ہونے پائے ۔ مگر جب صدام حسین معاشی بدحالی کا شکار ہوئے اور شیخوں سے مدد مانگی تو سب نے ہاتھ اٹھا دیا ۔ مرتا کیا نہ کرتا جس نے عربوں کو بچانے کیلئے اپنے ایک لاکھ عراقی جانبازوں کو شہید کروا دیا تھا جذبات میں آکر کویت پر حملہ کردیا ۔کویت میں عراقی فوج کے داخلے کا مطلب سعودی عربیہ جس نے کہ کبھی اپنے خالص سعودی باشندوں پر مشتمل پچاس ہزار فوج بھی اس لیئے نہی بنائی کہ کہیں دیگر عرب ممالک کی طرح ان کی حکومت کے خلاف بھی فوجی بغاوت نہ ہو اس کیلئے بھی خطرہ پیدا ہوگیا کہ کہیں عراقی فوجیں ریاض میں نہ داخل ہوجائیں فوری طور پر امریکہ سے فوجی امداد کا طلبگار ہوگیا۔ اس کے بعد سب نے مل کر صدام حسین کو پھانسی پر چڑھوا کر ہی دم لیا ۔ کہتے ہیں کہ محبت اور جنگ میں عاشق اور حکمراں اپنے اصول بھی توڑ دیتے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ جب صدام حسین کی شہادت کے بعد شاہان عرب نے عراق کے سنی عوام کوجو خود بھی عرب ہیں انہیں ایرانی اور عراقی شیعوں کے رحم وکرم پر قتل ہونے کیلئےچھوڑ دیا ہے تو ہم عجمی مسلمان کس درجے میں آتے ہیں ۔ہمیں یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہم مسلمان اپنے ملک میں بڑے کا گوشت کھانے کی وجہ سے دوڑا دوڑا کر مارے جارہے ہیں لیکن شاہان عرب میں سے کسی حکمراں نے بھی کوئی آواز اٹھانے کی جرات نہیں کی ۔اب ہم اپنی اوقات کے بارے میں خود فیصلہ کریں کہ جو ہم ان کے بارے میں آپس میں ایک دوسرے پر طنز و تشنیع کر رہے ہیں کیاان کیلئے ہماری شبیہ لٹھ ماروں اور بھانٹوں کے علاوہ بھی کچھ  ہے؟اس کے برعکس یوم جمہوریہ کے موقع پر امریکی صدر باراک اوبامہ نے ہندوستان میں اقلیتوں کی حق تلفی پر مودی سرکار کو گاندھی کے اصولوں پر عمل کرنے کی تلقین کی تھی۔امریکہ جانے کے بعد خواجہ معین الدین چشتی کے مزار کیلئے چادر بھیجی ۔امسال یوم جمہوریہ کے موقع پر متحدہ عرب امارات کے امیر کا بھی دورہ ہوا لیکن وہ اس طرح سے خاموشی کے ساتھ واپس چلے گئے جیسے کہ انہیں ہندوستان کے مسلمانوں سے کوئی سروکار نہیں۔ہمیں کوئی شکایت نہیں کہ متحدہ عرب کے اس حکمراں نے ہندوستان کے مسلمانوں کے تئیں یہاں کے حکمرانوں سے شکایت کیوں نہیں کی ۔مگر ہندوستان میں مسلمانوں کی مسلکی جماعتوں سے شکایت ہے کہ کیا ملک میں بحث کرنے اور سلجھانے کیلئے ہم مسلمانوں کے اپنے مسائل کم ہیں کہ ہم شاہان عرب کیلئے لٹھ مار اور بھانٹ کا کردار ادا کریں۔
عمر فراہی ۔ ای میل  :  umarfarrahi@gmail.com

غیروں پہ کرم اپنوں پہ ستم



ممتاز میر

بالآخر۳۴ رکنی ’’اسلامی ‘‘فوج بنانے والے احمقوں نے قطر کو نکال باہر کر دیا ۔ قطر بہت دنوں سے سعودی عرب اور اس کے چمچوں کی نظروں میں کھٹک رہا تھا ۔بڑا ننھا سا ملک ہے (ننھا سا ملک تو سرائیل بھی ہے )۔مگرعلاقائی اور عالمی مسائل پر اس کے مواقف بڑے اور نپے تلے ہواکرتے ہیں۔ایسے جو امریکی چمچوں کے منہ پر طمانچوں کی طرح لگتے ہیں۔بار بار لگنے والے ان طمانچوں کا علاج یہی تھا کہ اسے غیر بنا دیا جائے۔اور اسے حتی الامکان ستا کر اپنی طرح بزدلانہ موقف اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے۔اسلئے سات اسلامی نہیں مسلم ممالک نے (فی الوقت دنیا کوئی اسلامی ملک نہیں ہے) قطر سے ہر قسم کے روابط ختم کر نے کا اعلان کردیا ہے ۔اب ان سات ممالک اور قطر کے درمیان بری بحری اور فضائی سفر ممکن نہیں ۔یہاں تک کہ سفراء کو بھی واپس بلا لیا گیا ہے۔یہ انتہا پسندانہ اقدام کرتے ہوئے یہ بھی نہیں سوچا گیا گیا کہ اس سے عام لوگوں کو سیاحوں کو کس قدر تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔خبروں کے مطابق سب سے زیادہ مصیبت میں عمرے کو جانے والے لوگ ہی پڑے ہیں اور ان سات ممالک کا سرغنہ سعودی عرب ہی ہے۔سعودی عرب کے علاوہ ان ۷ ممالک میں مصر،یمن لیبیا ،بحرین،یو اے ای اور حیرت انگیز طور پر مالدیپ شامل ہے۔ہمیں پہلی بار یہ پتہ چلا ہے کہ مالدیپ سعودی عرب کا تنا بڑا چمچہ ہے ۔اب سعودی عرب کی دنیا وہ حیثیت نہیں رہی ہے جو کبھی تھی اب ان کی اگر کوئی حیثیت ہے تو بس اتنی کہ مسلمانوں کے حرمین شریفین سعودی عرب میں واقع ہیں۔اور یہ ان کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ہے ۔ہم برسوں سے دیکھ رہے ہیں کہ ان میں self respect نام کی کوئی چیز باقی نہیں بچی ہے ۔ابھی سال دو سال پہلے یمن مین سعودی سرحد کے قریب ایرانی یلغار سے گھبرا کرانھوں نے پاکستان کے سامنے مدد کے لئے ہاتھ پھیلائے تھے مگر نواز شریف نے جو برسوں جلا وطنی میں سعودی شاہی میزبانی سے لطف اندوزہو چکے ہیں انھیں’’معاف کرو بابا‘‘ کہہ دیا تھا۔اور کیوں نہ کہتے ۔امریکی اسلحے کا دنیا کا سب سے بڑا خریدار سعودی عرب ہے ۔پھر دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت کیا ہے ۔ یہ اسلحے بھی اس شرط پر ملتے ہیں کہ وہ اسرائیل کے خلاف استعمال نہیں ہونگے۔۱۹۸۹ میں ایران عراق سے۸ سالہ جنگ کے بعد فقیر ہو چکا تھا ۔جبکہ سعودی عرب مسلم ممالک کے درمیان مالدار ترین ملک تھا ۔یہ ۸ سالہ جنگ بھی ایران پر اسی غرض سے تھوپی گئی تھی جس غرض سے مرسی کے تخت کو تختہ بنا دیا گیا ہے ۔اس کے باوجود ایران آج اس قابل ہے کہ تمام عرب ممالک کو اکیلے نپٹ سکتا ہے ۔اس کے باوجود کہ امریکہ سے اربوں کھربوں ڈالر سالانہ کے اسلحے نہیں لیتا۔کبھی کبھی ہمیں شک ہوتا ہے کہ یہ حضور ﷺاور صحابہ کرامؓ کی اولاد نہیں ہیں ۔یہ اسلام کے دشمنوں کی ذریت ہیں۔
یہ زمانہ تلبیس حق وباطل کا ہے ۔کسی بھی معاملے کی حقیقت تک پہونچنا بڑا مشکل بنا دیا گیا ہے۔اس کے باوجود جس طرح یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ شام میں ایران کی بشارالاسد کی حمایت نہ قوم کے لئے ہے نہ دین کے لئے بلکہ اپنے مسلکی مفادات کے لئے ہے(حالانکہ ایرانی علما نصیریوں کو کافر کہتے ہیں)اور ۲۰۱۱ تک ایران تقیہ کئے ہوئے تھا ۔ بالکل اسی طرح مصر میں سعودی عرب کی جنرل عبدالفتاح السیسی کی حمایت اور مرسی کی مخالفت میں ڈالروں کے دریا بہانا نہ قوم کی خاطر ہے نہ دین بلکہ خاندانی اقتدار کی حفاظت کے لئے ہے۔اور اب تو وہ اتنے گر چکے ہیں کہ امریکی غنڈوں کو پالنے کے ہر سال حاجیوں پر نت نئے بوجھ بڑھا رہے ہیں ۔کاش کہ قوم کو عقل آئے اور ترکوں کی طرح وہ بھی فیصلہ کر لے کہ جب تک شاہوں کی حکومت ہے وہ نفلی حج و عمرہ سے دور رہیں گے۔ ہم قطر کے حکمراں کے حامی ہیں ۔وہ پہلے مسلم حکمراں ہیں جنھوں نے میڈیا کی اہمیت کو سمجھااور نومبر ۹۶ میں الجزیرہ کے نام سے ایک بین الاقوامی ٹی وی چینل شروع کیاجس کے اب دنیا بھر میں ۸۰ بیوریوز کام کر رہے ہیں اور کئی زبانوں میں کر رہے ہیں ۔امریکہ کے جتنے بڑے دشمن اخوان اور حماس ہیں اتنا ہی بڑا دشمن امریکہ الجزیرہ چینل کو بھی سمجھتا ہے۔یہ شاید دنیا کا وہ واحد چینل ہے جس پر امریکہ دشمن کی طرح حملے بھی کرتا ہے ۔امریکہ کا ایک فوجی اڈہ قطر میں بھی ہے اسلئے امریکہ نے ہر طرح کا دباؤ ڈال کریہ کوشش کی کہ اس کے دانت نکال دیئے جائیں مگر حیرت انگیز بات ہے کہ سعودی عرب جیسے مہارتھیوں کے ،جن کے پیسوں کے بل پر امریکہ کی لنگڑی لولی معیشت ٹکی ہوئی ہے ،امریکہ کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے بعد بھی قطر کے حکمران کم سے کم الجزیرہ کے معاملے میں تو جھکے نہیں۔پھر،پھر یہ کہ امریکہ کو جب بھی جہاں بھی موقع ملتا ہے الجزیرہ کے انفر اسٹرکچر حملہ کر دیتا ہے ۔صحافیوں کو مار؍مروا دیتا ہے ۔یا پھر متعلقہ ممالک امریکہ کے حکم پر انھیں قید کر لیتے ہیں۔ان کی نشریات بند کر دی جاتی ہیں ۔اب تک دنیا میں مرنے والے سب سے زیادہ صحافی الجزیرہ کے ہی ہیں۔
خیر جا رہا ہے کہ مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ نے الیکشن جیتنے کے بعد پہلے غیر ملکی دورے کے لئے سعودی عرب کا انتخاب ہی اسلئے کیا تھا کہ غلاموں8 کی وفاداری کی حد جانچ سکیں۔مبصرین کہہ رہے ہیں کہ قطر کے تعلق سے مسلم ممالک کا یہ فیصلہ ٹرمپ کے دورے کا نتیجہ ہے ۔اس دورے سے ایک بات اور واضح ہوئی ہے کہ سعودی عرب کی موجودہ حکومت بہت کمزور ہاتھوں میں ہے ۔امریکہ آج تو بہت کمزور ہو چکا ہے بلکہ اب دنیا یونی پولر نہیں رہ گئی ہے ۔مگر جب دنیا یونی پولر تھی تب بھی کسی امریکی حکمراں کو یہ ہمت نہیں ہوئی کہ اس کی خواتین سر پر اسکارف رکھے بغیر سعودی عرب کی سرزمین پر قدم رکھے ۔اور یہ نتیجہ ہے اسلام پسندوں کی دشمنی کا۔حضرت عمرؓ نے کہا تھا ہماری عزت دنیا میں کپڑوں کی وجہ سے نہیں اسلام کی وجہ سے ہے ۔کیا موجودہ حکمراں ان کی اولاد ہو سکتے ہیں؟قطر کا حکمراں بھی ڈپلومیسی کا مظاہرہ تو کرتاہے غلامی کا نہیں کرتا۔اور سچ پوچھو تو یہی بات ان عرب مہارتھیوں کو کھٹکتی ہے۔اسی لئے قطر کی یہ بات سچ لگتی ہے کہ ’’وہ ہمیں Dictate کرنا چاہتے ہیں‘‘۔
جو الزامات ان ۷ ممالک نے قطر کے خلاف لگائے ہیں وہ تمام الزامات تو پاکستان،ترکی ،سوڈان اور بہت سارے دیگر اسلامی ممالک کے خلاف بھی لگائے جاسکتے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ پھر ان کے خلاف بھی وہی کاروائی کیوں نہیں کی گئی؟جبکہ ترکی تو کھلم کھلا قطر کی حمایت کر رہا ہے ۔اور السیسی کا سب سے بڑا دشمن بنا ہوا ہے۔ترکی اعلان کر رہا ہے کہ وہ اس معاملے میں ثالث کا رول ادا کرے گا ۔دراصل ظالم بزدل ہوتا ہے اور وہ کمزوروں کو نشانہ بناتا ہے اور شہزوروں سے دب کر رہتا ہے۔قطر پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ ایران کی حمایت کرتا ہے ۔مگر دوسری طرف الجزیرہ Anti Shia رپورٹنگ کے لئے مشہور ہے ۔اور یہ اسلئے ہے کہ الجزیرہ ایک آزاد چینل ہے ۔یہ ضروری نہیں کہ وہ ہر معاملے میں اپنے مالکین سے اتفاق کرے ۔دوسری طرف قطر کا ایران کے تعلق سے موقف یہ ہے کہ وہ ایران کے تعلق سے سخت موقف اپنا کر شیعہ سنی خلیج کو بڑھانا نہیں چاہتے بلکہ ان کا مقصد تو خلیج کو ختم کرکے ہم آواز ہونا ہے ۔مگر قطر ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ ایران کی توسیع پسندی ہی ایران کے خلاف مسلم ممالک میں بے چینی پیدا کر رہی ہے ۔ہم خود ۲۰۱۱ کے بعد سے یہ لکھ رہے ہیں کہ کل تک جو احمدی نژاداور حسن نصراللہ مسلم دنیا کے عوام کے ہیرو تھے وہ ایران کے مسلکی اقدامات کی بنا پر آج زیرو بن گئے ہیں ۔یہ سوچ کر بڑا دکھ بڑا افسوس ہوتا ہے کہ عالم اسلام میں سب سے زیادہ دانشور شیعہ برادری کے پاس ہیں۔ایران میں بھی اور ایران کے باہر بھی ۔آج ایران جو کچھ کر رہا ہے وہ اس پر خوش بھی ہیں۔کسی کو عوام میں ایران کی اخلاقی ساکھ کھو جانے کا دکھ نہیں ۔وہ اس کے باوجود اپنے آپ کو اسلام پسند سمجھتے ہیں۔قطر کو اس سانحے کا احساس ہے ۔وہ چاہتا ہے کہ مسلکی رنجش سے عالم اسلام کو جو نقصان ہو رہا ہے اس تعلق سے ایران کو سمجھایا جائے۔بس یہ بات چھوٹے دل والے بڑے حکمرانوں کو ناگوار گزر رہی ہے ۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر آپ کو ایران سے اتنی ہی نفرت ہے تو اس کا اظہار اس وقت بھی ہونا چاہئے تھا جب فائیو پلس ون نے ایران سے نیو کلئرمعاہدہ کیا تھا ۔ان سے قطر کی طرح تعلقات کیوں منقطع نہیں کئے گئے؟
سچ یہ ہے کہ ۱۵ بلین کیوبک میٹر تیل اور نیچرل گیس کے بڑے ذخیروں میں سے ایک رکھنے والے قطر کو سعودی حکمراں صرف اور صرف خادم الحرمین شریفین ہونے کی بنا پر اپنا بغل بچہ سمجھتے ہیں ۔بچہ کوئی ایسا کام کر جائے جو خود اسکے بزرگوں کی اوقات سے بڑھ کر ہو تو دو باتیں ہوتی ہیں (۱)بزرگ اس کے کارنامے پر فخر کرتے ہیں ،اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔اس کے کارنامے کو اس طرح بیان کرتے ہیں جیسے یہ خود ان کا کارنامہ ہو (۲)وہ اس سے جل جاتے ہیں اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں،اس کے نتائج و عواقب سے ڈراتے ہیں۔زندگی کے ہر معاملے میں اپنے موقف سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس سب کے باوجود کوئی نتیجہ نہیں نکلتا تو اسے سزا دے ڈالتے ہیں۔ ہم قطر سے یہی کہیں گے کہ ان گیدڑوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔بہادر روز روز نہیں مرتے ۔انھیں بس ایک ہی بار موت آتی ہے۔ 
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔07697376137

کشتہء قانون


ممتاز میر

  جون ؍جولائی۱۹۹۴ میں ہندوستانی جیلوں کے تعلق سے ایک سروے رپورٹ ٹائمس آف انڈیا میں شائع ہوئی تھی جس میں ہندوستانی جیلوں کی حالت اور اس میں بند قیدیوں کے حالات کی تفصیلات بیان کی گئی تھی۔اب ہمیں اور تو کچھ یاد نہیںبس اتنا یاد ہے کہ مغربی بنگال کی کسی جیل میں اس وقت ایک قیدی ایسا بھی تھا جسے جیل میں ۳۱ سال ہو چکے تھے اورکورٹ میں اس کے کیس کی ابتدا بھی نہیں ہوئی تھی اس وقت ہندوستان پر تاریخ کے بدنام ترین حکمراں نرسمہا راؤ کی حکومت تھی ۔ہم حکمراں ہوتے تو خود جیل جا کر اس قیدی کو جیل سے باہر لاتے  حتی الامکان دلجوئی کرتے۔قانون کے ظلم کا معاوضہ دیتے ۔مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔یہ ہمارے عدالتی سسٹم کی کرامات ہے کہ اس میں ہزار گنہگارچھوٹ سکتے ہیں مگر ایک بے گناہ نہیں چھوٹ سکتا۔مذکورہ قیدی کی سزا کتنی بھی ہو سکتی ہے مگر ۳۱ سال تو ہرگز نہیں ہو سکتی۔یہ کیسا عدالتی نظام ہے جودستور ہند میں تحریر سزاؤں سے زائد تو بلا تکلف بھگتوا سکتا ہے مگرسزا بھگتے شخص کو جیل سے نہیں نکال سکتا۔ کم و بیش ایسا ہی ایک کیس پھر ہمارے علم میں آیا ہے بس فرق اتنا ہے کہ اس کیس میں ملزمین جسمانی اعتبار سے جیل کے باہر ہیں ۔ ضمانت پر ہیں مگر ذہنی اعتبار سے گذشتہ ۲۳ سالوں سے خوف و دہشت کی صلیب پر لٹکے ہوئے ہیں ۔مگر کون ہے جو ہمارے عدالتی نظام کو ’’آتنک وادی‘‘ کہہ دے ۔
  بابری مسجد کی شہادت اور مارچ۹۳ کے ممبئی سیریل بم بلاسٹ کے بعد پورے ملک میں مسلمانوں کی ٹاڈا جیسے بدنام زمانہ قانون کے تحت گرفتاری کی ریوڑیاں بنٹ رہی تھی۔اس بہتی گنگا میں ہاتھ سب سے زیادہ مہاراشٹر پولس نے دھوئے۔ہر ایرے غیرے نے ایک آدھ ’’آتنک وادی ‘‘ کو گرفتارکیا ہی،اور حکومت سے پرموشن بھی پایا ۔بلکہ زیادہ تر گرفتاریاں پرموشن پانے کے لئے ہی ہوئیں۔اور عقل اندھی ہماری حکومتوںنے مسلمانوں کو بے قصورہی گرفتار کرنے پر  دل کھول کرایوارڈ اور پرموشن دیئے۔حالانکہ مسلمانوں میں قصورواروں کی کمی نہیں مگر دل میں ٹھنڈک تو مسلمان بے قصوروں کو گرفتار کرکے ہی پڑ سکتی ہے۔ایسا ہی ایک کیس بھوساول ضلع جلگاؤں کا بھی ہے ۔
بھوساول پولس نے ۲۸ مئی ۹۴ کو ٹاڈا کے تحت ایک کیس رجسٹر کیا اور چند دنوں میںبھوساول اور ممبئی سے ۱۱۔افراد کو گرفتار کیا ۔الزامات یہ لگائے گئے کہ یہ لوگ ملک سے بغاوت کرتے ہوئے بھوساول میں دہشت گردانہ کاروایئیاں انجام دینے کی (صرف)پلاننگ کر رہے تھے تا دم گرفتاری یا تحریر کہہ لو انھوں نے با قائدہ کوئی کاروائی انجام نہ دی ۔وہ پولس جو نجیب کو اب تک نہ ڈھونڈ سکی ،جسے ۲۶؍۱۱ جیسے بڑے اور پیچیدہ آپریشن کچھ علم نہ تھا مگر اس معاملے میں بھوساول جیسی چھوٹی جگہ کی پولس کی ناک کتنی تیز تھی ۔خیر قریب ایک ماہ کی روایتی تفتیش کے بعد جس میں خود ساختہ confessional statement پر دستخط کروالینا آسان ہوتا ہے ان ۱۱ ۔افراد کو حوالہء زنداں کر دیا گیا ۔
اگست ۹۴ مین ناسک ٹاڈا کورٹ میں ان کی ضمانت کی درخواست دائیر کی گئی جس کی سنوائی ستمبر کے آخر میں ہوئی اور ٹاڈا کے اسپیشل جج نے تمام کے تمام ۱۱ افراد کو بلا دریغ ضمانت دیدی ۔تب سے اب تک یہ تمام افراد جیل کے باہر تو ہیںمگر ذہنی اعتبار سے مصلوب ہی ہیں۔ ستمبر ۹۴ سے چند ماہ تک انھیں ہر ہفتے بھوساول پولس اسٹیشن میں حاضری بھی دینی پڑتی تھی اور ہر تاریخ پر ناسک کورٹ میں حاضر بھی ہونا پڑتا تھا ۔ممبئی سے گرفتار افراد کے لئے یہ دوہری مصیبت تھی ۔بہرحال چند ماہ بعد انھوں نے بذریعہء کورٹ بھوساول میں حاضری کی مصیبت ختم کر والی مگر ہر تاریخ پر ناسک کورٹ میں حاضر ہونے کی مصیبت برقرار رہی جہاں عملاً کچھ بھی نہیں ہو رہا تھا ۔بس سب کی Attendance لگتی اور تاریخ مل جاتی ۔آخر تنگ آ کر ان ملزمین نے دسمبر ۹۸ میں  ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ میں یہ رٹ پیٹیشن داخل کی کہ یا تو ہمیں بری کر دیا جائے یا فوراً چارج شیٹ داخل کر کے کیس چلایا جائے۔ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ نے اس پٹیشن کو قبول کرتے ہوئے آرڈر دیا کہ یا تو ملزمین کو بری کیا جائے یا فوراً چارج شیٹ داخل کی جائے ۔اس آرڈر کے بعد پولس نے ایک چارج شیٹ 120(B) کے تحت بھوساول کورٹ میں اور ایک چارج شیٹ ٹاڈا کی دفعات کے تحت ناسک کورٹ میں داخل کیا۔
بھوساول میں 120(B) کے تحت داخل ہونے والے کیس کو جج نے فوراً خارج کر دیا کیونکہ اس دفعہ کے تحت کیس چلانے کے لئے ریاستی حکومت کی ضروری اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی۔  ۱۹۹۹ سے ۲۰۰۳ تک یہ معاملہ حسب روایت لٹکتا رہا۔ملزمین ہر تاریخ پر کورٹ کے چکر لگاتے رہے ۔حکومت اور عدالت سوتی رہی ۔پھر۲۰۰۳ میں حکومت مہاراشٹر نے ٹاڈا جو کہ ۱۹۹۵ میں دفن کیا جا چکا تھا کہ کیسیس کے لئے ایک ریویو کمیٹی تشکیل دی جس نے ان ۱۱ ملزمین کے کیس کے لئے سفارش کی کہ ان پر سے ٹاڈا کی دفعات ہٹا دی جائے۔مگر اس وقت کے ٹاڈا جج نے ریویو کمیٹی کی اس سفارش کو ماننے سے انکار کر دیا ۔ہمارے نزدیک محترم جج نے بڑی جرا ء ت کا کام کیا ۔ہم مزید خوش ہوتے اگر وہ اسی جراء ت سے کام لے کر حکومت کو مجبور کرتے کہ وہ اس کیس کے لئے جلد سے جلد سرکاری وکیل کو نامزد کرے کیس چلائے اور اسے ختم کرے۔مگر افسوس کے اس سے آگے ان
 کی بھی کچھ کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔پھر سبھی سوگئے۔مگر آخر کب تک سوتے ۔کیونکہ پریشانی تو ملزمین کو ہو رہی تھی۔تنگ آکر ۲۰۱۲میںہمت کرکے جمع جوڑ کرکے ملزمین سپریم کورٹ پہونچ گئے اس امید پر کہ یہ ملک عزیز کی سب سے بڑی کورٹ ہے ۔اس کا بڑا نام ہے آر یا پار کچھ نہ کچھ تو ہو جائیگا ۔اس ہر ماہ کے مرنے سے تو نجات ملے گی ۔بڑی امیدیں لے کر انصاف کے یہ بھکاری سپریم کورٹ پہونچے۔پہلی امید تو یہی تھی کہ بس چند ماہ میں کچھ نہ کچھ رزلٹ سامنے آ جائے گا ۔ایسی خوش فہمیاں ہر اس شخص کے دل میں ہوتی ہیں جو پہلی بار ہندوستانی عدالتی نظام کے چکر میںپڑتا ہے ۔مگر،اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔دیکھتے دیکھتے ساڑھے چار سال کا عرصہ گزر گیا ۔ملزمین کی وکیل محترمہ کامنی جیسوال تو ہر تاریخ پر حاضر عدالت ہوتی رہیں مگر حکومت مہاراشٹر نے ۴ سالوں تک اس کیس کے لئے کوئی وکیل نامزد نہ کیا ۔بہرحال کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے ۔نومبر ۲۰۱۶ مین حکومت مہاراشٹر کے وکیل آئے اور کیس کی شنوائی ہوئی۔سپریم کورٹ نے شنوائی کے بعد یہ آرڈرپاس کیا کہ ناسک اسپیشل کورٹ میں اس کیس کو چلا کر ایک سال کی مدت میں ختم کرے ۔اس آرڈر کو دیکھنے کے بعد ملزمین کا تو جانے دیجئے خود ہمارے فرسٹریشن کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا ۔ہم اب تک مختلف عدالتوں کے اس طرح کے پچاسوں آرڈر دیکھ چکے ہیں مگر عمل ہوتے ایسا کوئی آرڈر نہیں دیکھا ۔عدالتی نظام سے منسلک ہر شخص کے پاس تاخیر کے ہزاروں بہانے ہیں ۔اور کیوں نہ ہوں ؟
متاثرہ عوام بے زبان ہے ۔اس کیس میں بھی نومبر ۲۰۱۶ سے آج تک کچھ نہیں ہوا۔کیونکہ حکومت مہاراشٹرٹاڈا(جسے مرے ہوئے ۲۲ سال کا عرصہ گزر چکا ہے)کے اس اسپیشل کیس کے لئے اب تک کوئی سرکاری وکیل نامزد نہیں کیا ہے ۔ملزمین ہر۰ ۲؍۲۵ دن بعدتاریخ پر ناسک کے چکر کاٹ رہے ہیں۔اب ۲۳ سال بعد کچھ ملزمین تو رہنے کے لئے کافی دور جا چکے ہیں۔۵؍۱۰ منٹ کی ایک تاریخ کے لئے کسی کا پورا دن توکسی کے ۲؍۳ دن ضائع ہو جاتے ہیں۔
  ہم جب بھی اپنے ملک کے عدالتی نظام کے بارے میں سوچتے ہیں تو سوچتے سوچتے ہمارا سر پھٹنے لگتا ہے ۔ہمارا نظام گنہگاروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے کیونکہ وہ مالدار ہوتے ہیں اور بے گناہوں کو تڑپا تڑپا کر غیر اعلان شدہ سزا دیتا ہے۔اس گناہ کی جو انھوں نے کئے ہی نہیں ہوتے ہیں۔چلئے قانون تو اندھا ہوتا ہے مگر ہمارے Learned Judges ؟کیا نہیں جانتے کہ یہاں غریب کورٹ کچہری کے چکر سے حتی الامکان دور بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں ،کیوں؟ان حالات میں ان ۱۱ ملزمین کو ۲۳ سالوں سے ہر ماہ عدالت کے چکر لگوانابیرحمی یا کہنا چاہئے دہشت گردی نہیں ہے ؟ساری دنیا اسلامی سزاؤں کی مخالفت کرتی ہے برا بھلا کہتی ہے مگر اسلامی عدالتی نظام پر آج تک کسی نے انگلی نہیں اٹھائی ہے ۔ہم اسلامی سزائیں نہ سہی اسلامی عدالتی نظام تو اپنا سکتے ہیں۔آپ ۲۳ سال گزرنے پربھی اگر اپنے شہریوں کو انصاف فراہم نہیں کر سکتے تو انھیں سزا تو دے سکتے ہیں ۔کم سے کم وہ ایسی معلق زندگی سے تو نجات پا جائیں گے ۔  دوسری بات۔ٹاڈا ۱۹۹۵ میں وفات پا چکا ہے ۔بلکہ صحیح یہ ہے کہ اسے مار دیا گیا  ۔کیوں؟اسلئے کہ بین الاقوامی ماہرین قانون اسے
سیاہ قانون قرار دے رہے تھے۔کوئی اسےDraconian Law  کہہ رہا تھا ۔کیوں؟ اسلئے نا کہ اس سے ہول سیل پیمانے پر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی تھی ۔ماہرین قانون ان آراء تک اس قانون کی گہری اسٹڈی کرنے کے بعد ،اس قانون کے متاثرین کے حالات کا مشاہدہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہونچے تھے ۔ہمارے ماہرین کیسے انسان ہیں ،جن کو دیکھکر وہ اس نتیجے تک پہونچے تھے ،انہی کو اس سیاہ قانون سے کوئی ریلیف نہ دے سکے ۔یہ سادہ لوحی ہے یا نیت کی خرابی۔
   تیسری اور آخری بات جو اس کیس ہی پر نہیں ہر کیس پر فٹ بیٹھتی ہے اور وہ یہ ہے کہ فرض کیجئے ایک کیس دس سال چلتا ہے ۔ہر ماہ تاریخ پڑتی ہے جس میں کم سے کم ۵ منٹ یا اس سے زائد ضائع ہوتے ہیں ۔اس طرح ایک سال میں ۶۰ منٹ اور ۱۰ سال میں ۶۰۰ منٹ یعنی ۱۰ گھنٹے ضائع ہوتے ہیں ۔ہمارا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اگر کوئی جج نیک نیتی سے سنجیدگی سے ۱۰ گھنٹے کیس کی سنوائی کرلے تو وہ ایک نہیں ۲ کیس کی سماعت مکمل کرکے فیصلہ سنا سکتا ہے ۔قابل صد احترام منصفین کرام !اب اس ملک میں حکمرانوں سے کوئی توقع نہیں ۔بس آخری امید آپ ہو ۔خدارا اپنا اعتبار نہ کھوئیے۔پاکستان ہمارا کیسا ہی دشمن سہی ،مگر وہاں سے کبھی یہ خبر بھی آجاتی ہے کہ عدلیہ کبھی کبھی حکمرانوں کو نکیل ڈالنے کا کام بھی کرتی ہے ۔ہمارے حالات بھی شدت سے اس بات کے متقاضی ہیں۔     
    

ہمیں تو شرم آتی ہے




قاسم سید 
بے بسی کا کوئی چہرہ نہیں علامات ہوتی ہیں، جب حد سے گزرجائے تو قہردرویش برجان درویش بن کر سر کے بال نوچنے لگتی ہے۔ دانتوں سے انگلیاں چبانے لگتی ہے۔ زندگی سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تدابیر بتاتی ہے ۔ بندہ مومن آنکھوں میں لہو بھرکر اپنا مقدمہ رب کے حضور رکھ دیتا ہے۔ عمل سے جی چرانے ولے اسے تقدیر کا حصہ بتاکر خود سے مطمئن اور اپنی ذمہ داریوں سے آزاد ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بے بسی تنہا ذات میں سمٹی ہوتی ہے۔ کبھی اداروںوجماعتوں پر محیط ہوتی ہے۔ کہیںضرورت ہے کہیں مصلحت۔ کہیں حکمت عملی کہیں مفاد کی ترجمان۔ کہیں سیاست کہیں منافقت کہیں اداکاری تو کہیں ریاکاری ،بے بسی حد سے بڑھتی ہے تو ذہنی غلامی کے ساتھ نظریاتی غلامی میں قید کردیتی ہے۔
کوئی سوچ بھی نہیں سکتاتھا کہ 70سال کی سیاست تین سال کی سیاست کے مقابلہ میں گھٹنے ٹیک دے گی ۔مظلوم طبقات کی حمایت اس خوف سے نہیںکی جائے گی کہ منہ بھرائی کا الزام لگ جائے۔ سیکولرازم ایک گالی بن جائے گا اور جمہوریت کے مقابلہ میں جمہوری فاشزم کی باتیں کی جانے لگیں گی۔ نان ایشوز قومی سیاست کا محوربن جائیں گے اور ایشوز کوڑے دان میں ڈال دئیے جائیں گے۔ آئینی اداروں کی بنیادیں کھوکھلی کردی جائیں گی اور 70سال کی توانا جمہوریت وسیکولرازم کے شیر میمنہ بن جائیں گے ۔ اختلاف رائے کی آزادی کو ملک سے بغاوت اور غداری سے جوڑ دیاجائے گا۔ جارج بش کی پالیسی جو ہمارے ساتھ نہیںہمارادشمن ہے۔ کو قومی پالیسی کے طور پر متعارف کرایاجائے گا۔ فوج کا سربراہ شہریوں کو آگاہ کرے گا کہ ان کا فوج سے ڈرنا ضروری ہے اور یہ ڈر پیدا کیاجاناچاہئے فوج کو گائے کی طرح مقدس بنادیاجائے گا۔ اس کے طرز عمل پر تنقید کو دیش سے غداری سمجھاجائے گا ۔سول سوسائٹی کو دیوار سے لگانے کی سفاکانہ حکمت عملی کوسرکاروں کی ہمدردی حاصل ہوگی ۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والے سنگسار ہوں گے۔ مبینہ پتھرباز کو جیپ میں باندھ کر انسانی ڈھال بنانے کی نئی روایت کو فوج اور سرکار کی حمایت حاصل ہوگی۔ انسانی بنیادی حقوق پر سوال اٹھنے لگیں گے۔ گئو ماتا کی عصمت وعزت کو انسانی جان پر ترجیح دی جانے لگے گی۔ اس کی اسمگلنگ پر قومی سلامتی ایکٹ اور گینگیسٹر ایکٹ لگایاجائے گا۔ گائے کے نام پر اخلاق، نوشاد،پہلو خان سڑکوں پر مارے جائیں گے اور ان کو ہی ملزم بنایاجائے گا۔ پورے ملک میں خوف ودہشت کا ایسا ماحول بن جائے گا کہ لوگ ایک دوسرے پر شبہ کرنے لگیں اور اپنے سایہ سے بھی دہشت محسوس کریں۔ گائے ،کشمیرفوج،طلاق ثلاثہ اور پاکستان میں الجھی سیاست ہماری بے بسی کی داستان ہے۔ آپ گائے کے ساتھ ہیں یا نہیں ۔ فوج کو مقدس مانتے ہیں یا نہیں۔ کشمیری پتھر بازوں پر گولیاں چلانے کے حق میں ہیں یا نہیں۔ پاکستان کو نیست ونابود کردیناچاہئے یا نہیں جیسے سوالات ہر وقت پیچھا کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں کوئی دلیل نہیں۔ صرف سرکا اشارہ درکارہے اگر جواب ہاں ہے تو آپ حب الوطنی سے سرشار اور دیش بھکت ہیں بصورت دیگر غدار اور دیش دروہی،پھر آپ کا فیصلہ بھیڑتنتر کرے گا کسی بھی چوراہے پر یامصروف سڑک پر گھیر کر پٹائی کی جاسکتی ہے ،کلبرگی کی طرح جان سے ہاتھ دھونا پڑسکتے ہیں۔ مارنے والے قاتل نہیں بھگت سنگھ کہلائیں گے وہ گوڈسے نہیں مہاتماگاندھی کے اوتار ہوں گے۔ کیونکہ دیش دروہیوں کو جینے کا کوئی حق نہیں۔ سماجی درندگی پر سکوت ہماری بے بسی کو ظاہر کرتا ہے ورنہ افضل گینگ اور برہانی گینگ کا حصہ بنادیاجائے گا۔ مودی بھکتی کو راشٹر بھکتی سے جوڑنے کی خاموش کوشش،گائے کے بہانے ہندوستانی معاشرہ پر جبری ثقافت تھوپنے پرخاموشی، گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ ہماری بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مذہب کے نام پر غنڈہ گردی کا دفاع بے حد خطرناک اورلا قانونیت اور سماجی انتشار کی طرف لے جارہا ہے جو آگے چل کر خانہ جنگی میں بدل سکتا ہے۔ ظالم کے عمل پر سکوت اور مظلوم کی حمایت میں تذبذب خوف وبے بسی کا ہی عکاس ہے ۔ بھیڑ کا خوف اعصاب پر مسلط ہوگیا ہے اور بھیڑ تنتر کا دائرہ لگاتار بڑھتا جارہا ہے۔ اس سے ملک کا کوئی حصہ محفوظ نہیں۔ پاگل بھیڑجسے دیش بھکتی کا انجکشن دیاگیا ہے ہر جگہ موجود ہے سڑکوں پر، تھانے کے باہر،عدالت کے باہر جو لوگ اس کی پشت پر ہیں وہ خوف ودہشت کو پال پوس رہے ہیں۔ تین سال میں ایسا وقت آگیا کہ آدمی سے زیادہ مقدس جانور سے ڈرلگنے لگا۔کیا ہم انہیں کریڈٹ نہیں دیناچاہیں گے۔ صرف تین سال کی مختصر مدت اقتدار کی ہے لیکن اس کے پیچھے دہائیوں کی محنت،ذہن سازی کی مشقت ہدف کے لئے سب کچھ قربان کردینے کا جذبہ ہے اور انہی قربانیوں کے فواکہات وثمرات ہیں، اسے نظرانداز نہیں کرناچاہئے۔ انہوںنے اپنے ارادوں کو کبھی چھپایانہیں۔ ان کے یہاں مزاحمت اور مخالفت توکجا اختلاف تک کی گنجائش نہیں ہے۔ چنانچہ مزاحمتی آوازیں جو کنہیا اور ہاردک کی شکل میں ابھریں غداری کے مقدمات سے گذر گئے چندر شیکھر آزاد جودلت نوجوانوں کی نئی آواز ہے اسے بھی نکسلی تحریک سے جوڑدیاگیا۔ اس سے قبل ذاکر نائک کو دہشت گردی کی علامت بناکر بدنام ذلیل ورسوا کردیاگیا اور جرم ثابت ہونے سے قبل ہی مجرم سمجھ لیاگیا۔ یہ ان کی کامیابی اور ہمارے مہذب سماج رسوائی وشکست ہے۔ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ان دعوئوں اور الزامات پر بھروسہ کریں اور حب الوطنی کی صف میں کھڑے ہوکر اپنی جاں بخشی کرالیں۔
ملی سطح پر بھی اس مجبوری وبےبسی کے دور سے گذررہے ہیں۔ اپنی ذات اپنی تنظیم کو محفوظ رکھنے کی بے بسی،اپنے اداروں کو بچاکر رکھنے کی مجبوری اسے کوئی نام دیں مگرڈر ہمارے عمل سے ظاہر ہوتا ہے جب خادم حرمین شریفین وزیراعظم ہند کو اپنے ملک کا اعلی ترین سول اعزاز دیتے ہیں تو مودی جی کو منہ بھرکوسنے والے اس پر خاموش رہتے ہیں۔ ان کی بے بسی قابل فہم ہوتی ہے اسی طرح جب شاہ سلمان اسلام اور مسلمانوںکے خلاف دشمنی کی مہم چلاکر اقتدار میں آنے والے ڈونالڈٹرمپ کو یہی اعزاز بخشتے ہیںتو ٹرمپ کی پالیسیوں کے کٹر مخالف ان کے اسلام دشمنی پر مبنی اقدامات پر سخت نکتہ چینی کرنے والوں کے پاس قوت گویائی ختم ہوجاتی ہے۔ جب اسلامی وعرب ممالک کی کانفرنس میں ٹرمپ کی شاہانہ پذیرائی اورانعام واکرام کی بارش کی جاتی ہے توزبانیں کچھ بولتی نہیں۔ اس کی وجوہات پر روشنی ڈالنے کی ضرورت نہیں۔ بے بسی کے تالے صاف نظرآجاتے ہیں۔ حال ہی میں ایک چھوٹے سے کمزور ملک قطر کے خلاف بعض عرب حکمرانوں نے ناکہ بندی کا اعلان کیا اس پر حیرت انگیز طور پر دہشت گردی کا الزام لگایا محض اس لئے کہ وہ حماس اوراخوان کا دفاع کرتا ہے۔ میڈیاپر جبری پابندیاں نہیں لگاتا۔ اس سے سارے رشتے منقطع کرلیتے ہیں۔ آمدورفت کے تمام ذرائع بند کردیئے جاتے ہیں ۔ ٹرمپ اس کاکریڈیٹ لیتے ہیں۔ اور یہ کام رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں کیاجاتا ہے۔ قطر کا گناہ اتنا بڑا تھا کہ عالم اسلام کے ’نئے قائد ‘کے حکم پر فوری تعمیل ضروری تھی۔ اس کے منظر پس منظر کو سمجھنے کے باوجود اگر ہمارے ادارے تنظیمیں اور قائدین باتمکین خاموش ہیںاورکوئی ردعمل ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہیں تو اس کے پیچھے ان کی بے بسی کے اسباب طشت ازبام ہیں۔
کوئی عالم دین مودی کے ساتھ یوگا کی خواہش ظاہر کرتا ہے اور دعوت کا منتظر ہے تو اس کے پیچھے مجبوری وبے بسی کا عنصر سمجھ میں آسکتاہے۔ اگر کوئی مسلم رہنما یوگی کی طرف سے افطار پارٹی نہ کرنے کے فیصلے کو سیکولرازم کمزور ہونے سے جوڑتا ہے تواس کی جھنجھلاہٹ اور بے قراری میں پوشیدہ بےبسی ومجبوری کو سمجھاجاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کی کوئی حدطے کرلی گئی ہے۔ اس ملک میں کوئی طوفان آنے والا ہے جس کے آثارہیں تو کیا ہم خود کو بچا پائیں گے جبکہ طوفان کی زد میں ہمارا ہی ٹھکانہ ہے۔ بے بسی کی اس چادر کو اتارپھینکنے کا وقت اور حد طے کرناضروری ہے۔ ہم خیرامت ہیں۔ ہم پر سماج اور ملک بچانے کی مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ ورنہ بے بسی کے مظاہرے خوارکرنےکے ساتھ تاریخ کا حصہ بھی بنادیں گے۔ کیا ہمیں اپنی بے بسی پر شرم آتی ہے ہمیں توآتی ہے۔
qasimsyed2008@gmail.com

ہندوراشٹر کی بھٹی میں جلتا اتر پردیش



نہال صغیر

عام طور پر ہندو راشٹر کا جب معاملہ اٹھایا جاتا ہے تو اس کے مد مقابل مسلمانوں کو پیش کیا جاتا ہے کہ ہندوراشٹر میں مسلمانوں کی حالت دوسرے درجہ کے شہریوں کی ہوگی ۔لیکن سہارنپور سمیت ملک کے طول و ارض میں ہورہے دلتوں کے خلاف حملوں سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہندو راشٹر کا اصل نشانہ دلت ہی بنیں گے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ برہمنوں نے دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کو جو یہاں کے اصل باشندے ہیں، کو تقریبا تین ہزار سال سے اپنا غلام بنا رکھا ہے ۔لیکن انگریزوں کے آنے کے بعد کئی قوانین ایسے بنے جس سے انہیں زندگی کے کئی شعبوں میں آگے بڑھنے کے مواقع ملے ۔اس سے قبل مسلمانوں کی آمد سے دلتوں کو یہ بھی معلوم ہوا کہ دنیا میں ایک ایسے مذہب کا ظہور بھی ہوا ہے جس کے نزدیک دنیا کے سارے انسان ایک جیسے ہیں ۔وہاں کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہے ۔مسجد میں ایک ہی صف میں محمود و ایاز کھڑے ہوجاتے ہیں آقا و غلام کا فرق معدوم ہو جاتا ہے۔اس سے وہ مسلمانوں کی طرف جھکےآج ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی انہی دلتوں رہین منت ۔لیکن مسلمانوں نے بھی کوئی خاص کارنامہ انجام نہیں دیا ۔اگر مسلمان پوری تندہی کے ساتھ اسلام کے مساوات کے سبق کو اپنی زندگی میں اپناتے تو یقینا آج مادر وطن میں ساڑھے تین فیصد سے زیادہ ہندوئوں کی آبادی نہیں ہوتی ۔یہاں جتنے اہل توحید پائے جاتے ہیں وہ سب ازخود اسلام کے مساوات سے واقف ہو کر مسلمان ہوئے ۔یہ کارنامہ تھا شروعاتی دور میں عرب مسلمان تاجروں کے عملی مسلمان ہونے کا اس کے بعد کچھ حد تک بزرگان دین کی کاوشیں ہیں ۔لیکن اس کے باجود مسلمان پوری طرح مسلمان نظر آنے کے بجائے یہاں کی تہذیب میں پوری طرح رنگ گئے ۔انہوں نے بھی یہاں کے پسماندہ طبقات کیساتھ وہی سلوک کیا جو برہمن کرتے تھے ۔آج بھی بعض مسلمان اس غرور سے نہیں نکل پائے ہیں ۔انہیں آج بھی اسلام سمجھ میں نہیں آیا کہ اب بھی اس بری حالت میں اسلام کے مساوات کی تعلیم پر عمل پیرا ہوتے اور یہاں کی آبادی کو اپنے کردار و عمل سے متاثر کرتے تاکہ ان کے خلاف اٹھنے والی آواز ختم ہو جاتی یا کمزور ہو جاتی ۔
بہر حال سہارنپور سمیت پورے ملک کے حالات میں گرچہ گرمی مسلمانوں کے خلاف محسوس کی جارہی ہے اور ایک قلیل سا طبقہ ہے جو اسے ہوا دینے میں مصروف ہے ۔لیکن اس کا اصل ہدف دلت و پسماندہ طبقہ ہی ہے ۔آج بھی اگر آپ غور سے دلتوں کے خلاف جرائم پر غور کریں گے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ مسلمانوں سے زیادہ دلتوں پر سورن ہندوئوں کی جانب سے مظالم ڈھائے جاتے ہیں۔ دلتوں کو آج بھی وہ تذلیل سہنا پڑتی ہے جو مسلمانوں کے ساتھ رویہ اپنانے پر کسی کے بھی پسینے چھوٹ جائیں ۔ آج بھی یہ خبریں آتی ہیں کہ دلت دولہے کو گھوڑی سے اتار کر مارا پیٹا گیا ۔اس قسم کے واقعات راجستھان اور مدھیہ پردیش میں عام طور پر ہوتے ہیں ۔سہارنپور میں بھی دلتوں کی بستیوں کے ساتھ ٹھاکروں نے وہی کیا جو وہ برسوں سے کرتے آئے ہیں ۔معمولی سے ہنگامے کے بعد ان کی بستیاں جلادی گئی اور ان کے بچوں اور خواتین کو مارا پیٹا گیا ۔اس مظالم کے خلاف ان کی تنظیم بھیم آرمی نے احتجاجاًایک میٹنگ بلائی تو اسے بالجبر روکا گیا ۔پوری انتظامیہ اس کوشش میں رہی کہ کسی بھی طرح دلتوں کو اکٹھا نہیں ہونے دیا جائے اور ان کو اسقدر ہراساں کیا جائے کہ وہ اپنے خلاف ہونے والے مظالم کے خلاف احتجاج بھی نہ کرسکیں ۔بھیم آرمی جس کا وجود ہی اس وجہ سے ہوا کہ وہ دلتوں اور پسماندہ طبقات پر ہورہے مظالم کے خلاف آواز بلند کرے اور اونچے طبقہ کے ہندوئوں کو ان کی ہی زبان میں جواب دے ۔ویسے بھی ہمارے ملک میں آج کل اسی کی زبان میں جواب دینے کا سلوگن زبان زد خاص و عام ہو چکا ہے ۔یہ ہے سلوگن مودی جی کی مہربانی سے ہے ۔سہارنپور کے اس گائوں میں جہاں فساد پھیلا اور جس نے دلتوں کے درجنوں گھروں کو آگ کی نظر کردیا ۔اب سنگھی اور یوگی کی حکومت بھیم آرمی کے نام پر دلت بچوں کو ہراساں کررہی ہے ۔ٹھیک اسی طرح جس طرح مسلمانوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے ۔فسادات میں نقصان بھی مسلمانوں کو اور جیلوں میں ٹھونسا بھی انہی کو جاتا ہے ۔یہ ہے مودی اور یوگی کی رام راجیہ کی اصل حقیقت جو اب اہل یوپی جاگتی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔اگر یہ مان لیا جائے کہ مرکز میں مودی اور یوپی میں یوگی کی کامیابی ای وی ایم مشین کی نہیں بلکہ عوامی ووٹ کا کمال ہے تو بھگتنا بھی انہی کو ہوگا جنہوں نے تبدیلی کی چاہ میں انہیں اعلیٰ عہدہ تک پہنچایا ۔جنکے شخصی خاکوں میں سوائے مجرمانہ سرگرمیوں کے اور کچھ بھی نہیں ہے ۔جنہیں محض اس لئے نوازا گیا کیوں انہوں نے مسلمانوں کو سبق سکھایا تھا۔
آر ایس ایس اور بی جے پی کے لئے سہارنپور گلے کی ہڈی بن گیا ہے ۔انہیں نہ نگلتے بنتا ہے نہ ہی اگلتے ۔جائیں تو بیچارے کہاں جائیں ۔ان کی بہت کوشش ہے کہ کسی بھی طرح سہارنپور فساد کا ٹھیکرا مسلمانوں کے سر پھوڑ دیا جائے ۔پر ان کی کامیابی کے آثار کم ہی دکھائی دے رہے ہیں ۔ہائی وے پر مسلم خواتین کی آبرو ریزی بھی اسی کا ایک حصہ تھا ۔اب وہ کہیں سے ایک نام لیکر آئے ہیں کہ بھیم آرمی کو فنڈنگ کسی حاجی اقبال نے کی ہے جو کان کنی کے مافیا سے تعلق رکھتے ہیں ۔یہ انکشاف بھی صرف سدرشن ٹی وی ہی کررہاہے۔کچھ آر ایس ایس والے اور مودی بھکت اس کوشش میں بھی ہیں کہ کسی طرح دلتوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا دیں اس کیلئے وہ سہارنپور میں کسی چوراہے پر امبیڈکر کی مورتی کے خلاف مسلمانوں کے احتجاج کی خبر زور شور سے اٹھارہے ہیں ۔یہ ساری کوششیں ان کی ناکام ہو گئیں ۔کیوں کہ بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد کے دست راست ونئے رتن نے اس کو خارج کیا کہ یہ سب کچھ صرف آر ایس ایس کو ہی نظر آتا ہے ۔یہ سب کچھ صرف اس لئے پھیلایا جارہا ہے تاکہ مسلمانوں اور دلتوں کو آپس میں لڑایا جائے ۔یعنی آر ایس ایس اور بی جے پی کا مسلمانوں کو دلتوں سے لڑانے کا منصوبہ ناکام ہوتا نظر آرہا ہے ۔ان کی یہی کوشش رہتی ہے کہ یہ مسلمانوں کے خلاف ماحول بنا کر ملک میں فرقہ وارانہ حالات کشیدہ کئے رہیں اور اس کی آڑ میں اپنے برہمنی ایجنڈے کو نافذ کرتے جائیں جس میں ساڑھے تین فیصد کی آبادی ساڑھے چھیانوے فیصد آبادی کو غلام بنا کر رکھے ۔ جیسا کہ مسلمانوں کی آمد سے قبل تھا اور جس کا خاتمہ انگریزوں کی آ مد کے بعد ہو گیا ۔یہی سبب ہے کہ دلتوں کے حقوق کیلئے لڑنے والے شاہو مہاراج نے جنگ آزادی ہند میں حصہ نہیں لیا۔بال گنگا دھرتلک کی تنقید پر انہوں نے کئی بار اس بات کا اعادہ کیا کہ ہمارے سامنے سماج کے اس طبقہ کیلئے سب سے پہلے سماجی آزادی اور عزت و احترام حاصل کرنا ترجیحی ہے جس کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا ، اس کے بعد ہم انگریزوں سے ملک کی آزادی کی بات کریں گے ۔ہمارے لئے سبق یہ ہے کہ ہم سہارنپور میں جو نئی دلت سیاست کا میدان بننے جارہا ہے اس کیلئے کیا کرسکتے ہیں ۔ان کی مدد کس طرح کرسکتے ہیں ۔اسلام نے جو مساوات کا درس دیا ہے اس کو ہم یہاں کس طرح نافذ کرسکتے ہیں اور نبی ﷺ نے مدینہ آنے کے بعد جو مختلف اقوام سے سمجھوتے کئے اس کی روشنی میں موجودہ حالات میں ہمارے سامنے کیا راستہ نکلتا ہے ۔

کچھ درد سوا ہوتا ہے


قاسم سید
  
رمضان المبارک کی خوبصورت ساعتوں میں یہ سوال چپکے سے سراٹھاتاہے کہ ہماری دعائوں میں کیا اثر نہیں رہا  سجدے کرنے والے بڑھ گئے اوارادوظائف کرتے نہیں تھکتے ، صدقہ وخیرات کرنے والے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ صاحب استطاعت زکوٰۃ بھی نکالتے ہیں ،قطب الاقطاب بھی کہیں نہ کہیں موجود ہیں،چلہ کشی ہورہی ہے ۔ اللہ کی راہ میں تبلیغ کے لیے وقت دیتے ہیں ۔ ماہ رمضان میں روزے رکھنے والوں میں اضافہ ہورہا ہے مسجد یں نمازیوں سے بھری رہتی ہیں ،حج بھی کرتے ہیں عمرہ کاشمار کیا،وعظوں ،خطبوں میںسوزوگداز کی کیفیات بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں اللہ ہو کی ضربیں آسمان تک جاتی ہوں گی۔ اللہ سے اپنے گناہوں کی گڑگڑاکرآنسو ئوں سے بھیگے چہرے لیے معافی مانگتے ہیں۔ شب قدر میں اپنی نجات تلاش کرتے ہیں ،مسائل کے حل کے لیے جھولی پھیلاتے ہیںبھیگی سسکیوں کانذرانہ پیش کرتے ہیں روروکر حال دل سناتے ہیں ۔ ہم تو اللہ اور اس کے رسول کے سچے دل سے ماننے والے ہیںپھر بھی آزمائشوں کی دلدل میں کیوں دھنستے جارہے ہیں ،کیادعائیں بھی روح سے خالی ہیں کیا ہم بدترین قسم کی منافقت میں تو مبتلانہیں ہیں کیا صرف دعائوں کے چپوسے طوفان میں پھنسی کشتی پار لگاناچاہتے ہیں دعائیں خودغرضی ومفاد پرستی کی کیچڑمیں لتھڑی ہوئی تونہیں ،کیا یہ بات سچ ہے کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں لیکن اللہ کی نہیں مانتے ۔ رسولؐکو مانتے ہیں رسول ؐ کی نہیں مانتے ہیں،قرآن کو مانتے ہیں قرآن کی نہیں مانتے ہیں ،صحابہ کرامؓکو مانتے ہیںصحابہ کرام ؓکی نہیں مانتے،استاد کو مانتے ہیں استاد کی نہیں مانتے، والدین کو مانتےوالدین کی نہیں مانتے،دعائیں کرتے ہیں مگر دعا کی قبولیت کے وسائل ساتھ نہیں ہوتے ہیں ۔ اللہ کے حضور مناجات کرتےہیں مناجات سے قبل کئے جانے والے کام نہیں کرتے،  صرف دعائوں کے سہارے زندگی کو کامیاب دیکھناچاہتے ہیں ،اللہ ورسولﷺ کے احکامات کامذاق اڑانے سے گریز نہیں ،قدم قدم پر نافرمانیاں ،حکم عدولیاں ،سرتابیاں ،سرکشیاں بداعمالیاں بے ادبیاں اورپھر جملہ حقوق اپنے نام رکھنے کی خواہش ۔تاریخ نے انہیں لوگوں کو ماتھے کا جھومر بنایاہے جو اس کو زیر کرنے کے لیے پہلے بھرپور وسائل مہیا کرتے ہیں اور اس کے بعد معاملہ رب کے حوالہ کرتے ہیں۔فرانسیسی کمانڈر ژواین ویل نے 13ویں صدی میں ہلال وصلیب کے ایک معرکہ کی سرگزشت بیان کی ہے جو آنکھیں کھولنے والی ہے یہ وہ وقت تھا جب مسیحی دعائوں سے اور مسلمان جدید وسائل سےلیس ہواکرتے تھے ایک لڑائی کے دوران جب مصری فوج نے منجنیقوںسےآگ برسانی شروع کی توفرانسیسی حیران وپریشان تھے کہ کیا کریں اور بچنے کا کونسا طریقہ اپنائیںژاوین کے مطابق لارڈوالٹرایک اچھانائٹ تھا اس نے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں زندگی کا سب سے بڑا خطرہ درپیش ہے اگران بر جیوں کو نہ چھوڑا اور مسلمانوں نے ان میں آگ لگادی تو ہم جل کر مرجائیں گے ان برجیوں کو چھوڑتے ہیں تو اس سے ہماری بڑی بے عزتی ہوگی ایسی حالت سے صرف خداہی بچا سکتا ہے۔ میرامشورہ ہے کہ جیسے ہی مسلمان فوجی آگ کے گولہ پھینکیں آپ سب گھٹنوں کے بل جھک جائیں اپنے نجات دہندہ خداوندسے دعامانگیں کہ وہ اس مصیبت میں ہماری مدد کرے۔اس نے فرانسیسی بادشا ہ لوئس کے بارے میں بھی لکھا ہے کہ جب منجنیق سے آگ کے گولے پھینکے جانے کے بعد سپاہیوں کی چیخ وپکار سنائی دیتی تو ہماراولی صفت بادشاہ روتے ہوئے دست دعا بلند کرتا کہ خدائے مہربان میرے آدمیوں کی حفاظت فرما،اس جنگ کا نتیجہ کیاہوا،خدانے کس کی مدد کی کون جیتا یہ کھلارازہے۔اس کے بعدزمانہ نے کروٹ لی،یوروپ نے سبق سیکھا جہالت سے باہرآیا ۔ ضعیف الاعتقادی ترک کرکے معقولیت وحقیقت پسندی کا راستہ پکڑا جبکہ طائوس ورہاب کی مستیوں میں ڈوبے مسلمان ایام زوال میں دواکی بجائے صرف دعا پربھروسہ کرنے لگے۔ ظاہر ہے کہ ڈاکٹر کتنا بھی اچھا ہوا اگروہ مریض کی سنگین کیفیت دیکھ کر دعا کرنے کا مشورہ دے اور دوا دینے کی ضرورت نہ سمجھے تو مریض کا کیا حشر ہوگا ۔ اٹھارہویں صدی میں جب نپولین  نے مصر پر یلغار کی تو مسلمانوں کے فرمانروا مراد بک نے تمام علمائے کرام کو جامع ازہر میںجمع کیا اور ان سے مشورہ کیا کہ دشمن کے حملہ سے بچنے کے لیے کیادفاعی حکمت عملی اختیار کی جائے ۔ تمام جیدعلمائے کرام نے متفقہ رائے دی کہ صحیح بخاری کاختم کراناچاہئے چنانچہ خوش الحان صحیح بخاری کا ورد کررہے تھے۔ ختم پاک کی تقریب مسعود ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ نپولین کی فوجیں شہرمیںداخل ہوگئیں۔ شیخ عبدالرحمٰن الجبرتی کے مطابق اہرا م کی لڑائی کے بعد انیسویں صدی کے اوائل میں جب روسیوں نے بخارا کا محاصرہ کررکھا تھا توامیر بخارا نے رعایا کو دشمن کامقابلہ کرنے کے لیے باہر نکلنے کی بجائے شاہی فرمان جاری کیا کہ مدارس ومساجد میں ختم خواجگان کااہتمام کیاجائے تاکہ ملک پر حملہ آور بلائیں دفع ہوجائیں جیسے جیسے روسیوں کی قلعہ شکن توپوں کی گھن گرج میںاضافہ ہوا ختم خواجگان کے لیے جمع ہونے والوں کی آوازیں بلند ہوتی گئیں لیکن مشینوں کی اس جنگ میں کون ہارا اور فتح کس کا مقدر بنی بتانے کی ضرورت نہیں۔بغداد میں بھی یہی ہوا جب چنگیزخان کی افواج بغداد کے دروازے پر دستک دے رہی تھیں علمائے کرام لایعنی فقہی موشگافیوں سے ایک دوسرے کا سرپھوڑ ے رہتے تھے۔ خلیفہ کوخان کے حضور ہتھکڑیوں میں پیش کیاگیاتو اس نے سونے واشرفی کی تھالوں کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ اگر تو نے یہ دنیا جمع نہ کی ہوتی تو ہم آج یہاں نہیں ہوتے پھر اسے ہاتھیوں سے کچلنے کاحکم دیا۔ ایسے بہت سارے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے جنگیں صرف دعائوں کے سہارے نہیں جیتی جاتیں اور نہ ہی بدعائوں اور کوسنوں سے توپوں میں کیڑے پڑتے ہیں۔ دعائیں ڈھال بنتی ہیں پہلے مریض کو مطلوبہ دوادی جاتی ہے اسے بیماری سے نجات دلانے کی تراکیب آزمائی جاتی ہیں اورپھر دعائوں کا سہارالیاجاتا ہے ۔ حضور اکرم ؐ نے میدان بدرمیں ساری حربی وافرادی قوت جمع کرکے اللہ تعالیٰ کے حضوردعافرمائی ۔اللہ تعالیٰ نے غیب سے مدد فرمائی اور فتح مسلمانوں کو ملی۔ موجودہ حالات سے ہر شخص تشویش میں مبتلا ہے صرف ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا میں اسلام اور مسلمان نشانے پر ہیں اور دفاعی پوزیشن میں ہیں ایسا لگتا ہے کہ دسترخوان بچھاہے اور بھوکوں کی یلغارہے سب بری طرح ٹوٹ پڑے ہیں ۔ مال غنیمت ہے کہ لوٹ مار مچی ہے جو جتنا چاہے ماردیتا ہے اور بعد میں اظہارمعذرت بھی کردیتا ہے کہیں القاعدہ کے نام سے تو کہیں آئی ایس کے حوالہ سے مارنےاورمرنے والے دونوں کلمہ گوکہے جاتے ہیں ایک بحث ختم نہیں ہوتی کہ دوسری شروع ہوجاتی ہے ۔ مظلومین کی فہرست طویل ہوتی جارہی ہے ۔ مذہبی ومسلکی تعصب کسی بہتر سوچ کے لائق نہیں چھوڑتا ،بے یقینی ،بے ثباتی ،تشکیک ابہاما ت ،تضاوات ہرمعاملہ میں وہم وظن ،التباس اور اختلاف کی صورتیں تلاش کرلی جاتی ہیں ۔ مثلاً ایک نشست میں تین طلاق کی بحث سے نجات ملی تو تراویح 8ہوتی ہیں یا بیس پرمعرکہ آرائی شروع ہوگئی دونوں حق پر ہیں اور دونوں کے پاس بھاری بھرکم دلائل ، دونوں کا قرآن وحدیث سے استدلال یعنی دین فروعات میں الجھ گیا اور اصل دین پس پشت چلاگیا جنگ وجدال نہ ہوتو اس کے بہانے تلاش کرلیے جاتے ہیں جب کسی کے پاس مثبت مشعلہ نہ ہو تو ایسے مشاغل ڈھونڈلیتا ہے ،اقتدار کاخمار، مقبولیت کی انتہا،ناموری کا جنون اور چاہے جانے کی خواہش نے ذاتی پرخاش کینہ وبغض مفاد ات اورجماعتی تعصبات جیسے اوصاف نے امت کونیم جاں کردیا ہے۔ قرآن نے کامیابی کا واضح تصور پیش کردیا ہے اس میں کوئی قیل قال نہیں ۔ انتم الاعلون ان کنتم مومنین ’’تم ہی سر بلند رہوگے اگر تم مومن ہو یعنی سربلندی اور اقتدار کے لیے مومن ہونا ضروری ہے ۔کبوتر کو بازکے گھونسلہ میں رکھ کر اس میں با ز کی صفات پیدا نہیں ہوسکتیں اس لیے جب بھی اللہ کے حکم سے بغاوت کریں گے ذلیل ورسوا ہوں گے ۔ ناکامی ونامردای مقدر ہوگی ۔ صرف اس کا نام لینا اس کی وفاداری کادم بھرناکافی نہیں ۔ اللہ اور اس کے رسول ؐ کو ماننے کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی ماننی ہوگی اور صرف زبان سے ورد کرنا اور دعویٰ کرناہی کافی نہیں ہے عملی زندگی سے ثابت کرناہوگا ورنہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا ہے وہ اپنے دین کے غلبہ کے لیے دوسری قوم وگروہ تلاش کرلے گا ۔ کاش ماہ رمضان بھولے سبق کو یاد کرادے۔

qasimsyed2008@gmail.com