آپ کا پولس اسٹیٹ میں استقبال ہے !



نہال صغیر

 جمہوری ملک کے بجائے آپ کا ایک پولس اسٹیٹ میں استقبال ہے ۔چونکئے مت ہم نے صحیح کہا ہے اور آپ نے ٹھیک سنا ہے ۔اس جمہوری ملک میں اب ایک سے ایک قوانین متعارف ہو رہے ہیں جس کے بعد اسے جمہوری ملک کہنا جمہوریت کا مذاق اڑانے جیسا ہے ۔یو اے پی اے جیسے حقوق انسانی کے خلاف قانون کی موجودگی میں ہم مجبور ہیں کہ اپنے مہمانوں کے استقبال کیلئے یہ کہیں کہ آپ کا ایک پولس اسٹیٹ میں استقبال ہے۔اب بھی یقین نہیں آتا تو ہم آپ کو اس سیاہ اور خلاف انسانی قانون سے کچھ تعارف کروادیں ۔غیر قانونی سرگرمیاں امتناعی قانون کی دہشتناکی کو ہم اس کے کچھ نکات کے ذریعے پیش کرتے ہیں ۔اگر آپ اس ملک کے شہری ہیں یا نہیں بھی ہیں اور نا قابل تسخیر ہندوستان کی سیر کرنا چاہتے ہیں تو اس قانون کے مطابق آپ نے جرم کیا ہو یا نہیں بہر حال آپ پر بھی مقدمہ چلایا جاسکتا ہے خواہ کسی جرم میں شامل نہیں ہوں۔جی ہاں ہم آپ کے ایسے ملک میں استقبال کو مجبور ہیں ، جہاںایسی کسی بھی تنظیم پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے جو حکومت کی پالیسیوں پر سوالات کھڑے کرے یا اس کے خلاف آواز اٹھائے۔آپ سماجی سرگرمیوں سے جڑے ہیں اور حکومت پر تنقید کرتے ہیں تو آپ کی سماجی سرگرمیاں دہشت گردی سے جوڑی جاسکتی ہیں۔آپ اکیسویں صدی میں آزاد ہندوستان کا تو خواب ہی نہیں دیکھیں حکومت کی منشاء کے خلاف آ پ کے عمل پر آ پ کوگرفتار کیا جاسکتا ہے خواہ وہ کتنا ہی معمولی نوعیت کا کیوں نہ ہو ۔ کیا آپ نے اکیسویں صدی میں ایسے کسی قانون کے بارے میں سوچا ہے کہ آپ کے کسی دوست یا رشتہ داروں کی غلطی کی سزا کے طور پر آپ کو سلاخوں کے پیچھے جانا پڑسکتا ہےاگر نہیں تو ہندوستان جن نشاں میں یہ ممکن ہے۔اگر آپ انسانوں سے ہمدردی رکھتے ہیں ان کی مدد کرتے ہیں تو آپ کی یہ انسانی ہمدردی کے نام پر کسی کی مالی معاونت بھی دہشت گردی قرار دی جاسکتی ہے ۔جی ہاں آپ ایک ایسے پولس اسٹیٹ میں ہیں جہاںآپ کا یو اے پی اے قانون کے مطابق لوگوں کو گرفتار کرنے ،انہیں زدو کوب کرنے اور انہیں بغیر کسی معقول وجہ کے گرفتار کرنے کے پولس کوزائد اختیارات حاصل ہیں۔اس کے بعد بھی اگر اس ملک کو جمہوری مانتے ہیں تو مانیں میرا کیا ۔ہم تو ایسے سیاہ قانون کے سائے میں اسے جمہوری کے بجائے پولس اسٹیٹ ہی کہیں گے ۔آپ یہاں انسانی حقوق بھول جائیں کہ یہ کس چڑیا کا نام ہے یقین نہ ہو تو دیکھئے اس قانون کے تحت زیر سماعت قیدیوں کو بلا ضمانت اور کسی عدالتی کارروائی کے بغیرلمبے عرصہ تک قید میں رکھنے کی اجازت ہے۔ابھی تو آگے اور بھی معاملات ہیں ایک اور شق ہے ثبوت فراہم کرنے کی ذمہ داری استغاثہ پر نہیں بلکہ ملزم پر ہے ۔یعنی کہ آپ گرفتار ہیں قید تنہائی میں ہیں اور اپنی بے گناہی کا ثبوت بھی آپ کو ہی پیش کرنا ہے پولس اور تفتیشی ایجنسیاں اس معاملے میں آزاد کردی گئی ہیں۔بھول جائیں کہ آپ کو ئی تنظیم بنا کر عوام کو بیدار کریں گے اور ان کے حقوق کی پاسبانی کریں گے ۔مذکورہ قانون تنظیمیں بنانے اور اجتماع کرنے کی آپ کی آزادی کو ختم کرتا ہے ۔لیجئے صاحب آپ کی سوچ پر بھی پہرے ہیں ۔اس قانون کے تحت سوچنا بھی جرم ہے ۔آپ کہیں گے کہ یہ کوئی بات ہوئی یہ صریح واہیات بات ہے ۔ہاں آپ کی نظر میں یہ واہیات ہوگی لیکن ذرا کچھ سال قبل گجرات کا سفر کریں یعنی ماضی میں لوٹیں اپنی یاد داشت کو ذرا پیچھے لے جائیں ۔ ہماری پولس اور تفتیشی ایجنسیاں آپ کے دلوں کی بات بھی سمجھ لیتی ہیں جب ہی تو گجرات میں نریندر مودی کو مارنے کی نیت سے آنے والے افراد کو وہاں کے بہادر سپاہیوں نے دلوں کی بات معلوم کرکے کہ یہ لوگ شری نریندر مودی کو مارنے کے لئے آئے ہیں،انہیں پہلے ہی گولیوں سے بھون ڈالا ۔ یہ اور بات ہے کہ دلوں کی بات جان لینے والی پولس کو پاکستانی فوج اور ان کے تربیت یافتہ کامڈوز کی حرکتوں کا پتہ ان کے مقاصد کی تکمیل کے بعد ہی ہوا کرتا ہے ۔ممبئی حملہ کی خبر بھی انہیں اس وقت ہوئی جب وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو چکے تھے جبکہ سنا ہے کہ تیس فرضی ناموں کے سم کارڈ کی خبر بھی انہیں دی گئی تھی پھر بھی یہ اونگھتے رہے ۔اصل میں انہیں مارنے یا اریسٹ کرنے میں بہت رسک ہے ۔جبکہ بھولے بھالے مسلم نوجوانوں کو پھنسانے اور انہیں مجبور کرکے ٹارچر کرنے میں کوئی رسک نہیں ہے ۔ان کی با عزت رہائی کے بعد اور سپریم کورٹ کی سخت سرزنش کے بعد بھی انہیں کوئی خوف نہیں کہ ان کا احتساب ہوگا ۔کیا اب بھی آپ نہیں مانیں گے کہ ہم جمہوری ملک نہیں ایک پولس اسٹیٹ میں رہ رہے ہیں۔
یو اے پی اے یعنی غیر قانونی سرگرمیاں امتناعی قانون ۔ایک ایسا قانون جسے آج کی مہذب دنیا میں بھی حکومتیں اپنے مفاد اور اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کیلئے استعمال کرتی ہیں ۔ایسے قوانین جس کا شہنشاہی میں بھی تصور نہیں کیا جاسکتا تھا وہ جمہوری دور میں رائج ہے ۔اس قانون کی سنگینی کو اس کے دفعات میں درج نکات سے محسوس کیا جاسکتا ہے ۔اس کے بارے میں پڑھنے اور جاننے پر آپ محسوس کریں گے کہ ہم کسی جمہوری اور انسانی آزادی کے دور میں نہیں بلکہ کسی آمرانہ دور میں جی رہے ہیں ۔ایسے قانون کو منظوری کب ملی اور اس کا شکار کون ہوا ؟یہ بتانے کی ضرورت نہیں ۔جب اس ملک میں ٹاڈانافذ ہوا تھا تو اس پر کسی شاعر نے خوب کہا تھا کہ ’یہ اور بات ہے کہ پھنس جائے کوئی رام لکھن ۔۔ٹاڈا تو بنا ہے تجمل حسین خان کیلئے ‘۔بہرحال کسی سیاہ قانون کی چپیٹ میں کسی مذہب ،ذات،علاقہ یا زبان کے افراد آئیں ،ظلم تو ظلم ہے ۔ ہم چونکہ مسلمان ہیں اسلئے بغیر کسی تخصیص کے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ،اس کے خلاف جد وجہد کرنا ہمارے مذہبی فرائض میں سے ہے۔یہ اور بات ہے کہ فی الحال ہم ہی زیادہ ظلم و ستم کا نشانہ ہیں اور اس کے خلاف جد و جہد کو جہادی کہہ کر دہشت گردی قرار دیدیا جاتا ہے اور دہشت گردی تو آج کی ایسی حقیقت بن چکی ہے کہ اس سے عدلیہ بھی دہشت زدہ ہے ۔ 15 ؍دسمبر 2008کو منموہن حکومت نے پارلیمنٹ میں دو قوانین کے مسودے پیش کئے ۔یہ دونوں ہی نام نہاد دہشت گردی مخالف بل کے زمرے میں آتے ہیں ۔ اس میں سے ایک ’غیر قانونی سرگرمیاں امتناعی1967 ‘میں ترمیم اور دوسرا ’این آئی اے ایکٹ ‘۔دونوں ہی قوانین ایک دن کی ہنگامی بحث کے بعد فوری طور پر منظور کرلئے گئے ۔اس کے بعد 2012 میں اسی حکومت کے زیر سایہ جسے مسلمان سیکولر اور روادار مانتے آئے ہیں اور جن کے بارے میں ہمارے اکابرین نے کہا تھا کہ یہ انصاف پسند لوگ ہیں نے ’غیر قانونی سرگرمیاں امتناعی قانون‘میں ترمیم کرکے مزید سختیاں پیدا کردیں ۔ ان کے دور حکومت اور اس کے بعد کی بی جے پی حکومت نے اس پر خوب عمل کیا ۔لیکن ہمارا معاملہ یہ ہے کہ کانگریس کے سارے گناہ معاف لیکن بی جے پی کے کسی لیڈر کا احمقانہ بیان ہی اسے سخت دشمن بنانے کیلئے کافی ہے ۔جبکہ بی جے پی والے مسلم دشمنی کے بیانات دیتے ہیں اور کانگریس کی حکومت میں اس پر رواداری اور سیکولرزم کی آڑ میں عمل در آمد ہوتا ہے۔
مذکورہ ’غیر قانونی سرگرمیاں امتناعی قانون‘ کی حکومت کو کیوں ضرورت محسوس ہوئی یا اس قانون کیلئے تفتیشی ایجنسیوں نے حکومت کو کیوں مجبور کیا ؟ یہ ایک اہم سوال ہے ۔عشرت جہاں سمیت کئی مشہور ڈاکیومنٹری بنانے والے آنجہانی سبھردیپ چکرورتی نے ایک بار میرے یہ کہنے پر کہ سب کچھ کیلئے صرف سیاست داں ذمہ دار ہیں پر کہا کہ نہیں یہ غلط ہے ۔دراصل یہ تفتیشی ایجنسیاں جن میں آئی بی اور ریاستی دہشت گردی مخالف دستہ شامل ہے کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کی ضرورت ہمیشہ بنی رہے ۔اس کوشش میں وہ یہ فرضی بم دھماکے یا گرفتاریاں کرتے ہیں ۔ایس ایم مشرف بھی اکثر یہ کہا کرتے ہیں کہ ہندوستان کی سب سے بدنام اور متعصب اور خطرناک تنظیم آئی بی یا انٹیلی جنس بیورو ہے ۔ان کے مطابق آر ایس ایس بھی اس کے سامنے بچہ ہے ۔مشرف کہتے ہیں کہ یہ ایک برہمنوادی تنظیم ہے جسے بد قسمتی سے قومی سلامتی سے جوڑ دیا گیا ہے ۔یہ تنظیم اپنے برہمنوادی قوانین نافذ کرنے کیلئے ملک میں افراتفری کا ماحول بنائے رکھنا چاہتی ہے جس کیلئے فرضی گرفتاریاں اور دھماکے شامل ہیں ۔اس کی بنیاد پر مسلمانوں کو دہشت زدہ کرکے بے بس کردیا جائے گا پھر دوسری قومیں خود ہی خود سپردگی کردیں گی ۔اب اس قانون کے تعلق سے جیسا کہ ٹاڈا اور پوٹا کے خلاف انسانی حقوق کیلئے متحرک لوگوں نے تحریک چلائی تھی ’غیر قانونی سرگرمیاں امتناعی قانون‘کیخلاف بھی متحدہ تحریک شروع کررہے ہیں ۔اس کی ہر پہلو سے حمایت کرنے کی ضرورت ہے ۔ممبئی کے برلا ماتو شری میں 11 ؍مارچ کو ایک سمینار منعقد ہو رہا ہے۔یہ سمینار پیوپلس موومنٹ اگینسٹ یو اے پی اے کے بینر تلے ہو رہا ہے ۔جس میں ملک کے مشہور و معروف سماجی کارکن اور انسانی حقوق کے لئے دردمند دل رکھنے والے افراد شامل ہو رہے ہیں ۔وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم اس تحریک کا حصہ بنیں ۔اس تحریک کا حصہ اس لئے بھی بننا ضروری ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہر ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے ۔یہ تحریک ملک کی سلامتی سے بھی تعلق رکھتا ہے ۔اس طرح کے سیاہ اور ظالمانہ قانون سے عوام میں اضطراب اور بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے ۔یہ بے چینی کسی بڑی کشمکش کا سبب بنتا ہے جس سے عوام میں مختلف طبقات میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اور یہ بدگمانیوں کو جنم دیتی ہیں ۔جس سے خانہ جنگی کا خطرہ بھی لاحق رہتا ہے ۔اس طرح کے حالات یقینی طور پر ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں ۔حکومتیں ملک کی سلامتی سے زیادہ اپنی حکومت کے استحکام پر دھیان دیتی ہیں ۔اس حکومت اپنے استحکام پر دھیان لیکن ہم ملک کی سلامتی اور اس کے استحکام کیلئے ہی کام کریں گے ۔

یہ کہاں آگئے ہم



قاسم سید 
عروس البلاد ممبئی سے ایک خوفناک خبر آئی جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شہنشاہوں کے گریبانوں سے کھیلنے والوں کو اب اپنے گریبان تار تار کرنے اور پگڑیاں اچھالنے میں زیادہ مزا آنے لگا ہے ۔ اسٹیج سے اتحاد و اتفاق کی دہائی دینے والے فرزندان توحید کے درمیان سر پھٹول اور ایک دوسرے کا خون بہانے پر خاموش رہتے ہیں اپنے ہر برے عمل کی ذمہ داری یہود و نصاری پر ڈالنے کی ادا خود احتسابی کا موقع ہی نہیں دیتی ۔ مسلکی تنازعات کے نتیجہ میں بڑھتا خلفشار اور سعادت قلبی میں روز بروز شدت کی بارودی سرنگیں پورے سماج میں بچھا دی گئی ہیں جو کبھی کہیں تباہی لاتی ہیں تو کبھی کہیں پھول کی پتی سے ہیرے کا جگر کاٹنے والوں پر کلام نرم ونازک بے اثر ہو گیا ہے ۔
دنیا میں دعوت دین کی بے لوث خدمات انجام دینے اور بندگان خدا تک اس کا پیغام پہنچانے میں سرگرم تبلیغی جماعت میں گروہی اختلاف کا اثر ممبئی میں نظر آیا ۔ ملاڈ علاقہ کی کوکنی پاڑہ کی نورانی مسجد میں 5؍مارچ کو تبلیغی جماعت کے دو گروپوں میں آپسی تکرار اور گرما گرمی لاٹھی ڈنڈوں کے آزادانہ استعمال تک پہنچ گئی ، اللہ کے دین کی دعوت دینے والوں کے کپڑے اور داڑھیاں خون سے بھیگ گئیں ۔ اسپتال میں داخل کئے گئے پولیس نے حراست میں لیا اب پولیس وین کے ساتھ پولیس اہلکاروں کو مسجد کے باہر تعینات کیا گیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ افریقہ سے آئی ایک جماعت کے قیام پر دونوں گروپوں میں جھگڑا ہوگیا تھا ۔ عدالت سے ضمانت ہوئی ، حالات کشیدہ ہیں ۔ انتظامیہ نظر رکھے ہوئے ہے ۔ یہ کونسی ایمانی غیرت ہے ؟ ایک دوسرے کا سر پھاڑنے کی ترغیب کون دیتا ہے ۔ کیا وہ اسلام اور مسلمانوں کے سچے دوست اور ہمدرد ہیں ۔ ایک دوسرے کا خون بہانے پر اکسانے والے قابل معافی ہیں؟ کیا ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی نہیں ہونی چاہئے ۔ کیا ہم ایسے واقعات کے پس پشت بھی یہود و نصاری کی سازش کا ہاتھ تلاش کرنا چاہیں گے ۔ کیا اس جہالت نما حقانیت کی تبلیغ کوئی معنی رکھتی ہے کیا یہ ناسور ہمارے معاشرے کو صحتمند رکھ سکے گا ۔ اس کا جواز آخر کیا ہے کیا اس سے جگ ہنسائی کا سامان فراہم نہیں ہوتا ۔ کیا امن پسند اور مصالحت پسند دین کی شناخت کا ایک ایسا چہرہ پیش نہیں کیا جا رہا ہے جہا ں اختلاف رائے کی کوئی گنجائش نہیں ۔ برداشت و تحمل کا کوئی خانہ نہیں ۔ اختلاف کو طاقت کی نوک پر دبانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ کیا ایسے لوگ واقعی دین پسند اور عاشق رسول ہیں تو یہ کس طرح کے عاشق رسول اور جانثار ان دین محمدی ہیں ۔ کیا ایسے سوالات اٹھانے والے قوم کے سوداگر ہیں ۔ وہ بی جے پی کے ایجنڈے کی تکمیل کر رہے ہیں ۔ کیا آئینہ دکھانا جرم ہے ۔ وہاٹس ایپ اور سوشل میڈیا کے دیگر ذارائع پر سرگرم دانشوران ، مصلحین قوم اور اہل فتوی ایسے واقعات کو دشمنان اسلام کی سازش قرار دیں گے ۔ ان امراض کی نشاندہی کرکے ان کا علاج کرنے میں کیا موانع ہیں ۔ کیا یہ طاقتیں اتنی حاوی ہو گئی ہیں کہ سنجیدہ طبقات ان سے خوف کھانے لگے ہیں ۔ الجھنا نہیں چاہتے ۔ ایسے پریشان کن حالات جب برسر اقتدار لوگوں کی طرف سے شمشان اور قبرستان کے مسائل اٹھائے جا رہے ہوں بجلی کے دھرم کی تفتیش کی جانے لگی ہو زیادہ آبادی کا ہنگامہ پیدا کیا گیا ہو ۔ سب کا ساتھ کچھ کا وکاس کے ذریعہ ملک میں الگ طرح کا پیغام دینے کی کوشش ہو ۔ دیش دروہی اور دیش بھکتوں کی لکیر مٹائی جانے لگی ہو اختلافات کی حدت کو دیش دروہ کا نام دیا جانے لگا ہو ۔ دہشت گردی کا مطلب داڑھی اور ٹوپی بتایا جانے لگا ہو اور اس مہم میں کم و بیش ہر پارٹی اپنا یوگ دان دینے میں مسابقت کا مظاہرہ کر رہی ہو ۔ مسجدوں میں سرپھوڑ نے ایک دوسرے پر فراخدلانہ لاٹھی ڈنڈوں کا استعمال کرکے تھانوں میں مقدمات اور گرفتاریوں جیسے واقعات کی اجازت دی جانی چاہئے ۔ کیا ملت اس طرح کے خرافاتی طرز عمل کی متحمل ہو سکتی ہے جو آئے دن نت نئے چیلنجوں سے نبرد آزما ہے ۔ دل پر ہاتھ رکھ کر یہ سوچا نہیں جا سکتا کہ ہم کہاں آگئے کہاں جا رہے ہیں کس کے مقاصد کو پورا کر رہے ہیں ۔ یہ کس دین پر عمل کر رہے ہیں ۔ جہاں خون مسلم کی حرمت واجب ہے ۔ قاتل اور مقتول دونوں کو جہنمی قرار دیا گیا ہے ۔ مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی بتایا گیا ہے کہ ایک عضو میں تکلیف ہو تو پورا بدن اس کو محسوس کرتا ہے کیا مواخاۃ و مساوات کی تعلیم صرف سنانے اور ان پر اللہ اکبر کہنے کے لئے کیا ان پر عمل درآمد کی ذمہ داری صرف سننے والوں پر ہے منبروں سے کس طرح کا درس نشر ہو رہا ہے کہ دل پھٹنے لگے ہیں ، محبتیں عداوت میں بدل رہی ہیں کیا ظاہری شکل و صورت مسلمانوں جیسی ہونے سے دین کے تمام تقاضے پورے ہو جاتے ہیں ۔ ایسے واقعات سن کر دل کیوں لرزتا ہے ۔ دین کو اپنی نفسیاتی خواہش کے تابع بنانے سے دین کی کو ن سی خدمت انجام دی جا رہی ہے ۔ کیا ہم بدلتے حالات کی کروٹ کو محسوس کرنے میں ناکام ہیں ۔ لکھنؤ میں گھنٹوں انکاؤنٹر میں ایک نوجوان کی ہلاکت ، اجین ٹرین بم بلاسٹ کے چند گھنٹوں کے درمیان قصورواروں کی گرفتاریاں اور تفتیش سے قبل ہی سیف اللہ کا تعلق آئی ایس سے جوڑنے کا مطلب سمجھنے میں ناکام کیوں ہیں ؟ ایک مجبور غریب باپ کے اس جملہ میں پوشیدہ کرب ، درد اور تڑپ کون محسوس کرے گا کہ میں دیش دروہی بچہ کی لاش کو دفنانے کے لئے نہیں لوں گا اس کی دیش بھکتی کی تعریف ہر طرف ہو رہی ہے مگر اس کی خاموش چیخیں سننے والا کوئی نہیں ہے ۔ کیا ہم تکثیری سماج کی دہشت گردانہ سوچ کے دباؤ کا تجزیہ نہیں کر پا رہے ہیں جبکہ سرتاج کا یہ بھی کہناہے کہ محلہ میں اتنا شریف نیک اور کوئی لڑکا نہیں تھا جتنا سیف اللہ تھا ۔ وہ پڑھائی میں ہمیشہ اول آتا اس کا با پ غریب اور بڑے بھائی کی چائے کی دکان جس کو مارنے سے پہلے ہی دہشت گرد اور آئی ایس کا دہشت گرد ساتھی کہا جانے لگا جس پر مرکزی وزارت داخلہ کو بھی اعتراض ہوا تو پولیس نے بیان دیا کہ آئی ایس سے فنڈنگ اور تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ملا مگر اس پر میڈیا میں دن بھر ہنگامہ آرائی ہوتی رہی آئی ایس کی دستک اور نوجوانوں میں دلچسپی کا ڈھنڈورا پیٹا جانے لگا ۔ حالانکہ اسی دن اجمیر بلاسٹ کیس میں کئی ہندو ملزموں کو دہشت گردی کا مرتکب قرار دیا گیا اسے شیر مادر کی طرح پی لیا گیا کیونکہ ہم صرف گھر بیٹھ کر کوسنے والے ہیں ، سینہ کوبی اور عالمی سیاست کے شوقین ہیں ۔ وسائل ہونے کے باوجود ذارئع ابلاغ کی دسترس سے محروم جلسوں اور کانفرنسوں میں کروڑوں خرچ کرنے کے عادی مگر میڈیا کے نام پر کانوں پر ہاتھ لگا نے والے اس دوہرے رویہ کی جھلک زندگی کے ہر پہلو میں نظر آسکتی ہے ۔ اپنی ہر کوتاہی اور غلطی کا الزام دوسروں پر ڈال کر خود کو پاک صاف ثابت کرنے کی عادت اچھی نہیں ۔ آنے والے خطرات کی گھنٹیاں بجتی جا رہی ہیں کانوں میں انگلیاں دے کر انہیں سننا نہیں چاہتے ۔ موسمی انتخابی سیاست کے کرتا دھرتا بھی دور بیٹھے صرف تماشہ دیکھتے ہیں اور بوقت ضرورت ہاتھ سینک لیتے ہیں انہیں کبھی کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔
سوال یہ ہے کہ اس درد کا درماں کیا ہے ۔ کیا ناسو ر کو یونہی چھوڑ دیا جائے کسی کو بھی دہشت گرد قرار دے کر اس کی مشکیں کس دی جائیں اور ہم اس کی حمایت کریں تو دیش بھکتی اور اعتراض و احتجاج کریں تو دیش دروہ ایسا وقت آگیاہے ۔ ان کے دامن میں بجلیاں پوشیدہ ہیں ۔ یہ جھگڑے چلتے پھرتے خود کش بمبار ہیں اس صورت حال کا نوٹس لیجئے ۔ مسجدوں کو اکھاڑہ مت بننے دیجئے ۔ اپوزیشن کو مداخلت کا موقع مت دیجئے ۔ ورنہ حکومت کو مداخلت کا موقع مل جائے گا یہ چھوٹے چھوٹے واقعات ٹائم بم ہیں ان کی ٹک ٹک سنئے اور انہیں ڈیفیوز کیجئے ۔

qasimsyed2008@gmail.com

مجلس اتحادالمسلمین خود ساختہ سیکولر پارٹیوں کا حقیقی متبادل ہے


لاتور کے جلسہ عام میں کل ہند اتحاد المسلمین کے قائد اسد الدین اویسی خطاب فرماتے ہوئے (تصویر: مسلم کبیر )


 لاتور میں تاریخ ساز جلسے میں صدر مجلس نے خطاب کرتے ہوئے دلت ،مسلم اور دھنگر طبقات کو متحد ہو کر ملک کے دستور کو بچا نے کی اپیل کی


لاتور:(محمدمسلم کبیر)ملک کے جمہوریت کی حقیقت یہ ہے کہ یہاں کا مظلوم سماج متحد نہیں ہے اور اس کا فائدہ فرقہ پرست اور مفاد پرست سیاسی پارٹیاں اٹھا کر حکومت کرتی آرہی ہیں۔ محض جذباتی نعرہ بازی سے ہم اپنے مسائل کا حل نہیں کرسکتے تاوقتیکہ ہماری نمائندگی کرنے والے اراکین ملک کے قانون ساز ایوانوں میں نہیں پہنچتے۔لاتور کے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر ٹاؤن ہال کے وسیع و عریض میدان میں مجلس اتحادالمسلمین اور مہاراشٹر وکاس آگھاڑی کے متحدہ پلیٹ فارم سے کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کے صدر وممبر پارلیمنٹ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے ہزاروں سامعین سے مخاطب ہوکر کہا کہ مجلس اتحادالمسلمین کا مقصد ملک عزیز میں دستور کے مطابق کام ہو۔اور دستور میں مذہب، تہذیب اور تمدن کے علاوہ زبان ،آزادی اظہارخیال کی مکمل آزادی ہے۔ان کودستوری تحفظ حاصل ہےاسی طرح تمام عوام اور پسماندہ و مظلوم طبقات کو ایک ساتھ ترقی کے مواقع فراہم کرنااور سماجی مساوات کو یقینی بنانے کے لئے مجلس ہمیشہ کوشاں رہی ہے۔ ہندوستان کی آزادی کو ستر برس گزر جانے کے باوجود مسلمانوں ،دلتوں اور دھنگر طبقے کو سیاسی، سماجی اور سیاسی اور تعلیمی مساوات سے محروم رکھا گیا ہے جو دستوری حقوق کے مغائر ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کرنے والی سیاسی طاقتوں میں سنگھ پریوار، بی جے پی اورشیوسینا کے ساتھ ساتھ کانگریس اور راشٹر وادی کانگریس بھی اس ملک کی ہمہ جہت ترقی تہذیب اور مذہبی رواداری کے مخالف ہیں۔بیرسٹر اسدالدین اویسی نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اگر دستور ساز کمیٹی کے صدر ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نہ ہوتے تو آج ہمارا یہ ملک ہندو راشٹر بن جاتا۔ محض ڈاکٹر امبیڈکر کی  وجہ سے اس ملک میں سیکولر دستور ملا ہے۔آج کی موجودہ سیاسی طاقتیں اس دستور کی بنیادوں کو ہلانے کے لئے سرگرداں ہیں۔کانگریس کوہدف تنقید بناتے ہوئے بیرسٹر اویسی نے کہا کہ خود کو سیکولرزم کا محافظ کہنے والی پارٹی کے دوران حکمرانی میں سیکولرزم کی دھجیاں اڑا ئی گئیں۔ مجلس اتحادالمسلمین پر ووٹ تقسیم کروانے کاالزام لگانے والی کانگریس پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں کانگریس کی شکست وجہ ہی سیکولرزم کے اصولوں سے انحراف ہے۔ مہاراشٹر میں ضلع پریشد اور پنچایت سمیتیوں میں تو مجلس کا کوئی رول نہیں تھا پھر یہاں شکست کھانے کی وجہ کیا ہے؟

مجلس اتحاد المسلمین کی عوامی مقبولیت کو لاتور کے اجلاس عام میں امڈے بھیڑ کی روشنی میں محسوس کیا جاسکتا ہے (تصویر : مسلم کبیر )
انھوں نے کانگریس کے ریاستی صدر کے اس بیان پر کہ ممبئی مہانگر پالیکا میں شیوسینا کی تائید پر غور کیا جاسکتا ہے! کہا کہ اس سے کانگریس کی فرقہ پرستی کی قلعی کھل گئی ہے۔ بیرسٹر اویسی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کل احکامات دیئے ہیں کہ بابری مسجد کے انہدام کیس میں لال کرشن اڈوانی ،اوما بھارتی، کلیان سنگھ کے خلاف سازش کے الزامات کو کالعدم قرار نہیں دیا جاسکتا۔بابری مسجد کی شہادت کے24 برس بعد بھی انصاف نہیں مل رہا ہے اور نہ ہی خاطیوں کو سزا دی جارہی ہے۔ اس 24 سالہ عرصے میں کانگریس کی حکومت ہی زیادہ رہی ہے۔لیکن کانگریس نے اس معاملے میں کوئی کاروائی کرنے سے گریزکیا۔ بلکہ اتر پردیش کے ضلع میرٹھ کے ہاشم پورہ علاقے میں کانگریس کے دور اقتدار میں ہی پولس کی تحویل میں 48 مسلمانوں کو گولی مارکر ہلاک کردیا گیا۔جو ہندوستان میں پولس تحویل میں اموات کا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ مگر اس میں شامل خاطیوں پر کانگریس مہربان ہی رہی مظلوموں کو آج تک انصاف نہیں مل سکا۔صدر مجلس نے کہا کہ نام نہاد سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کا سیاسی استحصال کرتی رہی ہیں۔تعلیم،سیاست ،معاش سے دور رکھ کر غربت کی زندگی گذارنے پر مجبور کیا گیا۔یہی وجہ ہے کہ آج غربت ہمارا مقدر بن چکی ہے۔ہمارے نوجوان جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔انتخابات کے دوران سبز باغات دکھاکر وعدے اور تیقنات دیئے جاتے ہیں اور مابعد انتخابات کوئی پرسان حال بھی نہیں رہتا۔انھوں نے سامعین سے کہا کہ کل تک آپ کے اور ہمارے سامنے کوئی سیاسی متبادل نہیں تھا مگر آج مجلس اتحادالمسلمین کی شکل میں مضبوط اور مظلوموں کی آواز موجود ہے۔ اس لئے اب نام نہاد سیکولر اور مسیحا کہلانے والوں کے فریب میںنہ آئیں اور مجلس کے ہاتھوں کو مضبوط کریں۔بیرسٹر اویسی نے لاتور کی عوام سے کہا کہ جس طرح دیہی عوام نے مقامی خاندانی بالادستی کے خلاف انقلاب لاکر کانگریس کو رخصت کر دیا ،اسی طرح لاتور بلدیہ میں بھی ایڈوکیٹ انا راؤ پاٹل اور مجلس کے متحدہ قیادت کو مضبوط کرکے اپنے کارپوریٹرس سے اپنے مسائل حل کروائیں۔ لاتور شہر کے مسلم دلت اور پسماندہ محلوں اور آبادیوں میں پانی سڑکیں اور نالیوں کے فقدان پر بلدیہ عظمیٰ اور مقامی کانگریسی قائدین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نےپوچھا کہ شاردہ کنسٹرکشن اور دھن چندر کنسٹرکشن کو ہی تعمیری ٹھیکے کیوں دیئے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کے لئے لاتور میں شادی خانہ تعمیر کرنے کے لئے تین تین بار سنگ بنیاد رکھے جارہے ہیں مگر شادی خانہ کی تعمیرنہیں ہو رہی ہے۔مہاراشٹر کے اوقافی املاک کے بارے میں کہا کہ کانگریس اور راشٹروادی کانگریس کے دور اقتدار میں اوقافی املاک کی بندر بانٹ یا لوٹ کھسوٹ ہوتی رہی اور حالیہ سابق سی ای او نسیم بانو پٹیل کی جانب سے اوقافی ملکیت کو غیر اوقافی بتا کر 2 ہزارکروڑ روپئے کا اسکینڈل ہوا جس کا تار انڈر ورلڈسے ملتا ہے۔ آخر یہ کس کے باپ کی ملکیت ہے؟یہ تو اللہ کے لئے وقف ہے۔ اس کی فی الفور تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خاطیوں پر شکنجہ کسیں۔صدر جلسہ ایڈوکیٹ انا راؤ پاٹل نے کہا کہ مجلس اتحادالمسلمین نہ صرف مسلمانوں کی بلکہ مظلوم کور پسماندہ طبقات کی نمائندہ پارٹی ہے اس بات سے مطمئن ہوکر مہاراشٹر وکاس آگھاڑی نے مفاہمت کا فیصلہ لیا۔ اور صدر مجلس بیرسٹر اویس کی دور اندیش قیادت قبول کی۔ان سے قبل لاتور ضلع مجلس کے صدر سید طاہر حسین، بسونت اپا ابالے، راجکمار سستاپورےا ورمجلس کے لاتور شہر صدر افضل قریشی، پربھاکر کالے، سید معین ناندیڑ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔جلسے کی کارروائی برکت قاضی نے چلائی اور اسماعیل لہلاری نے اظہار تشکر کیا۔

ہندوستان میں مسلم جدوجہد کے استعارے کی موت



محمد علم اللہ ٭

اور عدالت کے ایک کونے میں پڑے سید شہاب الدین نے اپنی کھانسی سے دستک دی۔ جو انڈین مسلم نہیں ’’مسلم انڈیا‘‘پرچہ نکالتے تھے اور اپنی ’’انصاف پارٹی‘‘کی لاش سینے سے لگائے ہوئے تھے۔ عدالت نے شہاب الدین سے پوچھا: ’’ تم یہاں کیسے؟ ‘‘۔ ان دنوں میری حالت مردوں سے بدتر ہے، مجھے کچھ کہنا ہے! اتنا کہہ کر سید شہاب الدین پھر کھانسنے لگے۔ عدالت کھانسی کا جواب نہیں دیتی۔ لیکن اس کھانسی میں بیماری کے جراثیم تھے۔ اس لئے یہ کھانسی بھی دستک بن گئی تھی۔ لیکن دستک کی آواز کون سنتا؟ ۔ دستکیں تو در کھلنے کی آس پر دی جاتی ہیں۔ روشن دلوں پر دی جاتی ہیں۔ جہاں سبھی بہرے ہوں۔ وہاں دستک کون سنتا ہے؟ غیر تو غیر ہی ہوتے ہیں ان سے کیا گلہ؟ لیکن جب اپنے بھی نہ سنتے ہوں تو۔ اس نے وہیں دم توڑ دیا!
سید شہاب الدین کے انتقال کے فوراً بعد فیس بک پر تحریر کردہ میری یہ تحریر کیا محض ایک شخص کی کہانی ہے یا صدیوں کی کہانی؟ حقیقت تو ایک بے لاگ تجزیہ نگار یا مورخ ہی بتائے گا، لیکن یہ بھی اپنی جگہ سچ ہی ہے کہ سید شہاب الدین کے انتقال کے بعد ہندوستان میں ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ تقریبا تین دہائیوں تک سید شہاب الدین تعریف وتنقید کے درمیان، مسلم سیاسی شعور کی بیداری، شرکت اور تقویت کے لئے سرگرم رہے۔ ان کی کوششوں کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ تاریخ کرے گی لیکن ان کے اخلاص، بے باکی اور ملک و ملت سے بے پناہ محبت کے لئے انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ کام کرنے والوں سے ہی غلطیاں ہوتی ہیں۔ بلاشبہ ان سے بھی کچھ غلطیاں ہوئیں لیکن آخری دنوں میں قوم نے ان کے ساتھ جو رویہ اختیارکیا، وہ بھی انتہائی افسوس اور ماتم کے لائق تھا۔ ہماری یہ بد قسمتی رہی ہے کہ ہم شخصیتوں کی خدمات کا اعتراف ان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد کرتے ہیں، سید شہاب الدین کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا اور وہ بھی ہماری مردم خور قوم کے ساتھ آخر وقت تک انھیں کے لئے لڑتے لڑتے ہمیشہ ہمیش کی نیند سو گئے۔
جمعرات، 27 نومبر، 2014 کی وہ شام آج بھی مجھے یاد ہے جب میری ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ گلابی سردیوں کی ایک معمول سی شام۔ انتقال کے بعد ان سے متعلق کچھ لکھنے کا سوچا تو بے شمار چیزیں یاد آئیں کیا لکھوں اور کیا چھوڑ دوں۔ میری ان سے بہت زیادہ آشنائی نہیں تھی لیکن مشاورت کے بارے میں تحقیق کے دوران جب ان کی چیزوں کو پڑھنے کا اتفاق ہوا تو احساس ہوا کہ وہ ہندوستان میں اس صدی کے جناح، اقبال اور ابوالکلام آزاد سے کم نہیں ہیں۔ ان کی تحریروں میں سب سے پہلے مسلم مسائل سے متعلق ایک دستاویز کی تیاری کے سلسلے میں معروف انگریزی مجلہ’’مسلم انڈیا‘‘کو پڑھنے کا اتفاق ہوا، جو سید شہاب الدین کی ادارت میں 1983 سے نکلنا شروع ہوا اور 2009میں بند ہو گیا۔ اس رسالے کو دیکھنے اور خصوصاً اس کے اداریوں کو پڑھنے کے بعد ان سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ حالانکہ ان کے بارے میں بہت پہلے سے سنتا رہا تھا لیکن ان کی علمیت اور قابلیت کا قائل میں ان کی تحریروں کو پڑھ کر ہوا۔ چنانچہ جب میں نے ان سے ملنے کا ارادہ بنایا تو پتہ چلا کہ وہ ایمز میں ایڈمٹ ہیں اور ان کی صحت انتہائی نازک ہے۔ اس خبر کو سن کر دل میں ایک دھکا سا لگا تھا کہ شاید امت مسلمہ ایک اور عظیم قائد سے محروم ہو جائے گی۔ مگر پھر جلد ہی یہ مژدۂ جاں فزا بھی ملا کہ وہ اسپتال سے گھرواپس آگئے ہیں اور پھرموصوف مشاورت کے آفس بھی باضابطہ آنے بھی لگے ہیں۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام خان صاحب نے بتا یا کہ ا گرچہ پہلے جیسے حالات نہیں ہیں لیکن کام کا شوق اور خالی نہ بیٹھنا ان کی فطرت ثانیہ ہے۔
اسپتال سے واپسی کے بعد میں نے ان سے ملنے کا پھر ارادہ کیا اور اس غرض سے کئی مرتبہ مشاورت کے دفتر گیا لیکن ان کے انہماک اور کام میں یکسوئی کو دیکھ کر ہمت نہ ہوئی کہ میں ان کے کام میں حارج ہوجاؤں اور وہ بلا وجہ ڈسٹرب ہوں۔ اور پھر ایک بہانہ ہاتھ آگیا۔ ہفت روزہ’’عالمی سہارا‘‘کی جانب سے مجھے ایک اسٹوری لکھنے کوکہا گیا، جس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے راستے کی نشان دہی کرنے والے بورڈوں اور ہورڈنگز سے پی ڈبلیو ڈی نے لفظ’’اسلامیہ‘‘ کو حذف کر دیاتھا۔ سید شہاب الدین نے اس سلسلہ میں دہلی کے وزیر اعلیٰ سمیت دیگر اعلی ذمہ داران کو متوجہ کراتے ہوئے اس میں اصلاح کی خاطر خطوط ارسال کیے تھے۔ اس کا درست اندازہ ’’مسلم انڈیا‘‘ اور’’مشاورت بلیٹن‘‘کے مطالعے سے ہوتا ہے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ جس چیز کو اردو اخبارات نے اب موضوع بحث بنایا تھا، اس بارے میں برسوں پہلے منتظمین کو سید شہاب الدین نے خطوط لکھے تھے۔
ان کا بیان ایک انگریزی اخبار میں بہت پہلے میں نے دیکھا تھا اور جب’عالمی سہارا‘ کی جانب سے اس موضوع پر اسٹوری لکھنے کے لئے کہا گیا تو براہ راست سید شہاب الدین سے ملاقات کرنے اور اس موضوع پر ان کی رائے جاننے کا اشتیاق پیدا ہوا اور ایک صبح مشاورت کے دفترپہنچ گیا۔ دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ ایک نیم تاریک کمرے میں بیٹھے ہیں۔ ٹیبل لیمپ جل رہا ہے اور وہ کچھ لکھنے میں مصروف ہیں۔ اس قدر پیرانہ سالی میں بھی بابوؤں والا ٹھاٹ نہیں گیا ہے۔ مشاورت کے آفس سکریٹری عبد الوحید صاحب نے میرا نام اور ملاقات کا مقصد لکھ کرانہیں دیا۔ ایک نظر دیکھنے کے بعد انھوں نے کہا بھیج دو۔ کمرے میں تاریکی اور خاموشی دونوں مل کر ایک عجیب سی کیفیت پیدا کر رہی تھی۔
ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ بات کی ابتدا کیسے کروں کہ آواز آئی ’’جی! تشریف رکھیے! ‘‘آواز میں ارتعاش اور کڑک تھی۔ میں سامنے پڑے صوفے پر بیٹھ گیا۔ حکم ہوا:۔ ’’فرمائیے کس غرض سے آنا ہوا ہے؟ ‘‘میں نے دیکھا کہ ان کے کانوں میں آلہ سماعت لگا ہوا ہے، میں نے انھیں اپنا تعارف کرایا، مگر ان کے اشاروں سے لگا کہ وہ میری بات یا تو سن نہیں سکے یا سمجھ نہیں سکے، اب میں نے پوری طاقت کا استعمال کرتے ہوئے بلندآواز سے بولنا شروع کر دیا، لیکن پھر بھی وہ نہ سمجھ سکے۔ میں تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہو گیا۔ انہوں نے اپنے آلہ سماعت کا لیول ٹھیک کیا اور کہا’’چیخئے مت دھیرے دھیرے بولئے‘‘۔ میں نے دھیرے دھرے بولنا شروع کیا، لیکن پھر بھی وہ میری بات نہ سمجھ سکے۔ پھر میں نے ایک کاغذ پر اپنا مدعا اوراپنا سوال لکھ کر بڑھا دیا۔ انہوں نے سوال پڑھتے ہی جواب دینا شروع کر دیا اور بات ختم ہوتے ہی یکے بعد دیگرے میں انہیں سوالات لکھ لکھ کر دیتا رہا اور وہ ان سوالوں کے جواب دیتے رہے۔ جواب کے درمیان کبھی کبھی وہ زور زورسے ہنسنے لگتے تو کبھی افسوس کا اظہار کرتے۔ جواب کیا تھے بس علم، تاریخ، زبان، سیاست، قیادت، ثقافت کا مرقع تھے، میرا اشہبِ قلم بہت تیزی سے صفحہ قرطاس پر دوڑ رہا تھا اور وہ اسی تیزی سے گفتگو کرتے جا رہے تھے۔ اندازِتخاطب انتہائی دلچسپ اور شاندار تھا اور ایسے میں میرے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ کون سی بات چھوڑ دوں اور کو ن سی لکھوں، جی چاہ رہا تھا وہ گفتگو کرتے رہیں اور میں سنتا رہوں، لیکن اس کا وقت نہیں تھا۔
آپ کو بھی تجسس ہوگا کہ آخر کیا کیا باتیں ہوئیں، یادداشت کی بنیاد پر سب کچھ لکھنا بہت مشکل ہے۔ اس لئے کہ بات کرتے وقت جس مقصد سے میں اُن کے پاس گیا تھا وہی نکتہ پیش نظر تھا۔ یعنی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے لفظ’’ اسلامیہ‘‘ کے خاتمے کا موضوع۔ اس سے متعلق تحریرعالمی سہارا کے 18 ستمبر2014 کے شمارے میں آچکی ہے جس کا مکرر تذکرہ کرنا یہاں مناسب نہیں۔
اس کے علاوہ میں نے ان سے اور کیا سوالات کیے وہ تو یاد نہیں ہیں لیکن ڈائری میں جو نکات درج کیے تھے ان کی روشنی میں کئی اہم باتوں کا تذکرہ یہاں دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ جب ہماری بات مکمل ہو گئی تو میں نے ایک کاغذ پر کچھ لکھ کر ان کی طرف بڑھا دیا ’’آپ کی خدمات بہت ہیں اور آپ ہماری نئی نسل کے لئے مشعل راہ ہیں، کاش آپ میری بات سن سکتے تو میں آپ سے ڈھیر ساری باتیں کرتا‘‘ اس پر وہ مسکرائے اور کہنے لگے :’’ ارے نہیں بھائی! ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق کرتا ہے۔ میری خواہش تو بہت کچھ کرنے کی تھی، آپ کو کیا کیا بتاؤں، اب صحت ساتھ نہیں دیتی۔ اب تو بس اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ اگر تجھے لگتا ہے کہ میں کچھ کر سکتا ہوں تو کم از کم مجھے اتنی مہلت دے کہ میں اپنے بکھرے ہوئے کام کو سمیٹ سکوں‘‘۔
میں نے سید صاحب سے کہا کہ ڈاکٹر ظفر الاسلام صاحب نے مجھ سے کہا ہے کہ میں آپ کی شخصیت سے متعلق ایک کتاب لکھوں۔ ابھی کچھ مصروفیات ہیں۔ ان سے نمٹ لوں تو بہت جلد آپ کی خدمت میں حاضری دوں گا، یہ سنتے ہی ان کی آنکھوں میں جیسے چمک سی آ گئی۔ ہنستے ہوئے کہنے لگے : ’’ارے بھئی! یہ تو بس ڈاکٹر صاحب کی محبت ہے کہ انھوں نے مجھ ہیچ مداں کے بارے میں یہ سوچا۔ ’’میں نے جلدی سے ایک اورکاغذلکھ کر بڑھایا ’’نہیں! میں نے خودبھی ’’مسلم انڈیا‘‘کی فائلیں پڑھی ہیں۔ آپ نے جو لکھ دیا ہے وہ خود ایک تاریخ ہے۔ ‘‘یہ سنتے ہی کہنے لگے :’’آپ نے کتاب لکھنے کی بات کہی تو کیا بتاؤں بہت سی یادیں ہیں کن کن چیزوں کا تذکرہ کروں۔ کوئی اچھا اسٹینو گرافر مل جائے تو اسے لکھوا دوں‘‘۔ پھر ایک سرد آہ بھرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔
’’آہا! وہ کیا زمانہ تھا اور کیسے کیسے لوگ تھے اس زمانے میں! دیکھئے آپ نے تذکرہ کیا تو یاد آیا، آپ کو بتاتا ہوں: ’’میں نے سول سروسز کے لئے امتحان دیا میرا نام آ گیا لیکن مجھے جوائننگ لیٹر نہیں ملا۔ میرے ماموں نے مجھ سے کہا ارے بھئی شہاب الدین! تمہارے تمام ساتھیوں کا تو لیٹر آ گیا، تمہیں اب تک کیوں نہیں ملا؟ تو میں سیدھے ڈی ایم آفس گیا اور ان سے ڈائرکٹ کہا: آپ نے میرے خلاف کیا لکھا۔ وہ مجھے جانتے تھے، مسکرا کر کہنے لگے جو کچھ میں نے لکھا ہے اس سے تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ میں نے کہا کیا لکھا ہے؟ تو انھوں نے دراز میں سے اس خط کی کاپی نکالی اور دکھاتے ہوئے کہا دیکھو میں نے اس میں لکھا ہے کہ طالب علمی کے زمانے میں یہ کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ تھا۔ اس کے بعد دو سال سے پٹنہ یونیورسٹی میں استاذ ہے اور اس درمیان میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں آئی ہے جو قابل اعتراض ہو ‘‘۔
)ہنستے ہوئے! ) ’’اصل میں مجھے ڈر اس بات کا تھا کہ جب میرے کالج میں پنڈت نہرو پٹنہ آئے تھے تو میں نے ان کے خلاف لڑکوں کو موبلائز کیا تھا اور انھیں کالا جھنڈا دکھایا تھا۔ میرے ذہن میں یہی بات تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ اسی وجہ سے میری جوائننگ روک دی گئی ہے۔ بات یہی تھی۔ اس کا علم مجھے بعد میں ہوا اورانہیں ڈی آئی جی صاحب نے مجھے یہ بات بتائی کہ میری فائل پنڈت نہرو کے پاس گئی۔ اور میری فائل میں انھوں نے جو لکھا وہ قابل قدر بات ہے۔ اس سے بڑے لوگوں کے بڑکپن کا اندازہ ہوتا ہے۔ پنڈت نہرو نے میرے بارے میں جو کچھ لکھا تھاوہ ایسے ہی ہے جیسے لوگ حافظ کے اشعار کو نقل کرتے ہیں‘‘۔ صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے انہوں نے فخریہ انداز میں کہا’’’میں پنڈت جی کی بات آپ کو سناتا ہوں ’’( اپنا گلا صاف کرتے ہوئے پوچھا )‘‘انگریزی سمجھتے ہیں ناں؟ ’’میں نے کہا: جی! ۔ اچھا تو پنڈت جی نے لکھا :
I know I have met Shahabuddin. His participation in the part of disturbances was not for politically motivated; it was an expression of his youthfulness.
یعنی’’ انہوں نے یہ کام جوانی کے جوش میں کیا۔ اس کے پیچھے کوئی سیاست نہیں تھی‘‘۔ اب میں اس آدمی کے بارے میں کیا کہوں؟ میں نے تو اسے کالا جھنڈا دکھایا تھا اور میرے بارے میں وہ یہ تبصرہ کر رہا ہے، ان سے میری زبانی کشتی بھی ہوئی۔ کالج کے زمانے میں نے انہیں بتایا کہ بی این کالج کی دیوار پر 74گولی کے نشانات ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ آپ چل کر دیکھیں۔ تو پنڈت جی کہنے لگے ’’ دیکھئے بھائی! دیکھ کے کیا کریں گے‘‘ارے بڑے افسوس کی بات ہے اسی لئے تو ہم یہاں آئے ہیں پٹنہ‘، پھر کہنے لگے : ’ارے بھئی! گولی چلنا بڑی بری بات ہے وہ جب چلتی ہے تو کسی کو بھی لگ سکتی ہے ‘‘۔ اسی رات کو جب پنڈت نہرو تقریر کے لئے آئے تو خوب ہنگامہ ہوا، ہم نے تو کچھ نہیں کہا لیکن پنڈت جی خود ہی کہنے لگے :’’بچے آئے تھے ملنے کے لئے، ہم نے ان سے کہہ دیا ہے جو کارروائی ہونی ہے کریں گے ‘‘، کچھ لوگوں نے ادھر سے شور مچایا کہ واپس جاؤ! واپس جاؤ! تو تنک مزاج تو تھے ہی بگڑ گئے، کہنے لگے (پنڈت نہرو کے ہی انداز میں اچک کر اور سینہ تان کر)’ابھی میں نے آپ کو سمجھایا۔ جو کچھ کہا آپ نے سن لیا ہے، میں نے بات کر لی ہے، جو ممکن ہے وہ کروں گا، اب میں آپ سے کچھ دیس کی ترقی کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ ہاں تو میں نے یہ بھی کہا بچوں سے کہ اگر پولیس کی غلطی پائی گئی تو اس کو سزا دی جائے گی۔ ‘‘ تو میاں خوب تالیاں بجیں وہاں لان کے میدان میں۔ (پھر اچانک نہرو کے ہی اسٹائل میں چیخ کر)’تالیاں کیوں نہیں بجاتے ہیں، بجائیے تالیاں ‘۔ (ہنستے ہوئے ) کیا آدمی تھا :
سید شہاب الدین نے پھر تھوڑی دیر توقف کیا اور آگے بات کی۔ ’’ایک ڈیڑھ سال کے بعد موقع ملا مجھ کو پنڈت جی کے گھرپراُن کے ساتھ کھانا کھانے کا۔ کھانے کے بعد کافی پینے کے لئے وہ کمرے سے باہر نکلے۔ اور مدعو لوگوں کے ساتھ میں بھی تھا پنڈت جی کے ساتھ، تو میرے کندھے پر انہوں نے ہاتھ رکھا۔ میں نے کہا اے پنڈت جی :تو انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا
‘‘You are that mischievous boy from Bihar’’
’’تم وہ شرارتی لڑکے ہو بہار والے۔ پیار سے کہا انھوں نے۔ عجیب و غریب انسان تھا وہ۔ ‘‘
ابھی ہماری بات جاری ہی تھی کہ ایک شخص دوا لے کر ان کے کمرے میں حاضر ہوا۔ بات اس سے ہونے لگتی ہے۔ ’’اچھا تو یہ دوا ہے ‘‘۔ پھر دوا کو ہاتھ میں لیتے ہوئے میری طرف دیکھ کر کہنے لگے : ’’اب یہی میری زندگی ہے جس کے سہارے ٹکا ہوں۔ بہت کام کر لیا، جو کچھ کرنا تھا سب کر لیا۔ اب تو بس نماز میں اللہ سے یہی دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ! اگر تومیری زندگی اوررکھنا چاہتا ہے تو مجھے طاقت دے کہ میرا جو بکھرا ہوا کام ہے، اس کو پورا کر سکوں۔ (پھر پر امید لہجہ میں)’’: دیکھئے اگر اللہ نے صحت دی تو’ اداریہ ‘ کو جمع کر کے کتابی شکل میں لاؤں گا۔ اس کے لئے کام شروع بھی کر دیا ہے۔ اب دیکھئے کب تک مکمل ہوتا ہے۔ ‘‘
پھر اچانک جیسے انھیں کچھ یاد آ جاتا ہے۔ ’’جائیے اب مجھے کام بھی کرنا ہے، لیکن ہاں اتنی گذارش ہے اب جب کبھی آئیں تو ریکارڈر ضرورساتھ لائیں ‘‘۔ میں نے ایک چھوٹی سی شکریے کی چٹ لکھ کر ان کی جانب بڑھا دی۔ وہ ’’ویلکم‘‘کہتے ہوئے مسکرا دیے اور میں یہ سوچتے ہوئے واپس آگیا کہ اس ضعیف العمری میں بھی کام کا انہیں بے حد احساس ہے۔ کس کے لئے کام؟ اپنے لئے نہیں بلکہ قوم کے لیے، اے کاش اگر ایسا ہی احساس ہمارے سب قائدین کو ہو جاتا تو آج ہندوستانی مسلمانوں کی یہ حالت نہ ہوتی۔ افسوس آج وہ مرد درویش نہ رہا جس کی سوانح لکھنے کی میری تمنا پوری نہ ہوسکی اور خود ان کی خواہش بھی ان کے سینے میں ہی دفن ہوگئی۔


٭ محمد علم اللہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، شعبہ ابلاغ عامہ سے وابستہ ہیں ۔

خود احتسابی سے خود شناسی تک


پروفیسر محسن عثمانی ندوی

قرآن کریم میں با ر بار تفکر اور تدبر کی دعوت دی گئی، اس لیئے تفکر و تدبر کابہت اونچا مقام ہے، فضیلتِ علم کے حا ملین علماء بہت مل جائیں گے، لیکن تفکر اور تدبر کے مقام بلند تک پہو نچنے والے علماء خال خال ہوتے ہیں ،محقق کا میدان عمل مفکر کے کام سے مختلف ہو تاہے۔ محقق کسی زیر بحث مسئلہ کی تحقیق کرتا ہے اصلیت معلوم کر نے کے لئے چھان بین کرتاہے، تاریخ کی کتابوں میں اسکے حوالے ڈھونڈتاہے، روایت کا فرق معلوم کرتا ہے، اختلاف روایت جاننے کی کوشش کرتا ہے، تحقیق عربی زبان کالفظ ہے ،جس کا مطلب ہے کسی چیز کی اصلیت اور حقیقت معلوم کرنے کے لئے چھان بین اور تفتیش کر نااور پھر نتیجہ اخذ کرنا ،محقق کے مقابلہ میں مفکر وہ ہو تاہے جس کی ذہانت اور فطانت زیادہ ہو تی ہے، جوکسی سماجی یادینی مسئلہ پر نیا نظریہ اورتخیل پیش کرتا ،اور اس کے بارے میں اپنانیا نقطہ نظر سامنے لاتاہے، اس نظریہ میں تاریخ کا پس منظر بھی ہوتا ہے، اور عصر حاضر کی آگہی کا اثربھی ہوتاہے اس کی فکرمیں ہزاروں انسانوں کے لئے رہنمائی موجود ہوتی ہے ،اور اس سے ایک پوری نسل فائدہ اٹھاتی ہے ۔ مفکر علمی اور منطقی طور پر مقدمات ترتیب دیتا ہے اور صحیح نتیجہ برآمد کرتاہے۔
مفکرین کی جماعت میں مفکراسلام کاکردار اور بھی زیا دہ بلند ہو تا ہے، اس کی ثقافت اور آگہی کا سرچشمہ قرآن اور سنت نبوی ہوتاہے ،وہ عصر حاضر سے بھی واقف ہو تاہے ۔وہ عصر حا ضر کے مسائل کا حل دریافت کرنے کے لئے قرآن و سنت کے سرچشموں سے اکتساب کرتاہے اس کی فکر میں وسعت ہوتی ہے وہ تحز ب اور تعصب کا شکار نہیں ہوتا، اس کی زبان غیر محتاط نہیں ہوتی وہ اپنے آپ کو نمایاں کرنے اور عہدہ پر قابض ہونیکی کوشش نہیں کرتا اس کے سرچشمہ علم و فکر سے اس کی تصنیفات کے ذریعہ ہزاروں اور لاکھوں لو گ اکتساب فیض کرتے ہیں، مثل خورشید سحر اپنی روشنی وہ دنیا میں پھیلاتا ہے، او راب یہ قرب قیامت کی نشانی ہے کہ جواپنی بہت سی قابل قدر خوبیوں کے باوجود کسی بھی درجہ میں مفکر اسلام نہیں ہیں اور مفکر اسلام کے پیروں کی دھول کے برابر بھی نہیں ہیںوہ اپنے نا م کے ساتھ مفکر اسلام لکھنے لگے ہیں اور لکھوانے لگے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی ہائی ہیل سینڈل پہن کر کے ان کا قد زیادہ اونچا ہوجائے گا۔                                        
ہر بو الہوس نے حسن پرستی شعار کی
اب  آبروئے  شیوہ اہل  نظر گئی
تاریخ میں مسلمانوں کے راہوار فکر نے بار بار ٹھوکر یں کھا ئی ہیں، غلطیوں نے ان کی منزل کھوٹی کی ہے اور اس کے وجہ یہ رہی ہے کہ انہوں نے قرآن و سنت اور سیرت کو چراغ راہ نہیں بنا یا ، ہند ستان کی تاریخ میں مسلمانوں نے کئی سو بر س حکومت کی، اگر انہو ں نے برادران وطن کو خد ا کا پیغام پہونچا  نے میں کو تاہی نہیں کی ہو تی اور انہوں نور الہٰی سے تاریک دلو ں کو منور کیا ہوتا تو آسائش کے بعد آزمائش کے دن نہیں دیکھنے پڑتے، انگریز و ں کی غلا می کے دور کے بعد مسلمانوں نے پھرغلطی کی، ہندوئوں کی تنگ نظری اور اسلام دشمنی کے رد عمل میں انہوں نےگلشن وطن کی تقسیم کامطالبہ کر کیا اور چند کلیوں پر قناعت کرلی، آخر یہ پریشانیوں کا کیسا حل تھا کہ اپنے چار کروڑ بھائیو ں کو درندوں کا لقمہ تر بننے کے لئے چھوڑ دیا گیا اور اس خطہ میں خود کو محصو ر کر لیا گیا جو پہلے ہی سے آبادی کی اکثریت کے لحاظ سے پاکستان تھا، پاکستان بننے کی ذمہ داری تنہا مسلمانوں پر نہیں ہے ، لیکن وہ اس سے بری الذمہ بھی نہیں ہیں ،اس دور کے ایک معروف عالم دین ، ا د یب اور مفسر قر آن نے قرآنی آیت’’ و ارسل معنا بنی اسرائیل‘‘ ( الشعراء ۱۷ ) یعنی’’ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو ‘‘ سے پاکستان کا مطالبہ اور ہجرت کی درستی پر استدلال کیا ہے، کتنا غلط استدلال تھا بنی اسرائیل قبطیوں سے الگ آبادی میں رہتے تھے اور یہ مکمل انخلاء تھا مسلمانوں نے اپنی پوری تاریخ میں پو ری قوم کی دست گیری کی ہے پورے ملک کو مسلمان بنایا ہے اور الگ کسی گوشہ عافیت کا کبھی مطالبہ نہیں کیا علاحدگی کا یہ مطالبہ اسلام کے مزاج کے خلاف تھا، غلطی کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے بعد جراحتو ںکے چمن لہلہا اٹھے ، زخموں کے پھول کھل اٹھے، جوآج تک مندمل ہو نے کا نام نہیں لیتے اس زمانے میں موقف وہی درست تھا جو مولانا آزاد کا تھا، اورشیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی اور دوسرے علماء کرام کا تھا، مولانا آزاد نے ’’انڈیاونس فری ڈم ‘‘ میں بہت ہی پر سو ز الفاظ میں لکھا ہے، کہ ہندستان میں مستقبل میں ایک دن سورج طلوع ہو گا تو مسلمان دیکھیں گے کہ ان کا کوئی پرسان حال موجود نہیں ہے، اکثر دیکھا گیا ہے، کہ مسلمانوں کا رد عمل ایک عاقل اور متحمل مزاج انسان کانہیں ہو تا ہے ،مسلم پرسنل لا بورڈ کے بعض ذمہ داروں کی طرف سے دین بچاؤ دستور بچاؤ کی تحریک شروع ہوئی ،یہ بورڈ غیر سیاسی ادارہ ہے اس لئے دستور بچاؤ کاجز تو اس بورڈ کے دائرہ کار سے باہر تھااور دین کا بھی صر ف وہ حصہ بورڈکے دائرے میں ہے جس کا تعلق پرسنل لا سے ہے اس لیئے ۸۰ فیصد یہ تحریک منطقی طور پر بورڈکے دائرے سے باہر تھی، کاش کہ مسلم پر سنل لا اور طلاق ثلاثہ کے موضوع پر ایسے اجتماعات منعقد کئے جاتے جس میں خالص عقلی اور منطقی انداز میں بورڈ کے موقف کا درست ہو نا ثابت کیا جاتا، دلائل پر مشتمل مقالات کو انگریزی ہندی او ر دیگر زبانو ں شا ئع کیاجاتا اور پھر ترجمہ شدہ مقالات کی طباعت کی جاتی اور پھرہندستان میں ججوں کو وکلاء کو اورمیڈیا کے لوگوں اور اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کو اس طرح کی کتابیں پیش کی جاتیں یہ جدید علم کلام کی ایک صورت ہو تی اور قرآن کے حکم’’وجا دلھم بالتی ھی احسن‘‘ (المجادلہ ۱۲۵ ) یعنی ان سے مجادلہ کر و اس طریقہ سے جو سب سے بہتر ہو، اس پرعمل ہو تا تو یہ کوشش فکر اسلامی کے مطابق ہوتی، لیکن اس طریقہ کو اختیار کرنے کے بجائے سنگھرش کی تیاری شروع کردی گئی یقینا مسلم پرسنل لامیں کسی کو تبدیلی کا کوئی حق نہیں۔ اس آواز کو بلند کرنے کی ضرورت ہے، لیکن اپنے موقف کی معنویت کو ثابت کر نے کی ضرورت شدید تر ہے۔
 ہندستانی مسلمانوں کو جو نقصا نات پہونچے ہیں اس میں غیروں کی ایذ ا پسندی ، اور ایذا رسانی اور دشمنی کو جنتا دخل ہے اتنا ہی دخل مسلمانوں کے اپنے غلط رویہ کا بھی ہے، دوسروں کی نفرت اور ان کا انتقامی رویہ معلوم، لیکن ایک رد عمل جذباتی انسانی کا ہو تا ہے دوسرا رد عمل متحمل مزاج عاقل انسا ن کا ہو تا ہے ماضی میںمسلمان جذ باتی رد عمل کا رویہ اختیار کرتے رہے ہیں اور تنگ آمد بجنگ آمد کی راہ پر گامزن ہوجاتے ہیں، فکر اسلامی اور اور تہذیب اسلامی کا تقاضہ اس سے مختلف ہے ، اللہ تعالیٰ نے ایک بہتر انسان کو یعنی ایک مسلمان کو سماج اور ماحول کی تبدیلی کا ذمہ دار بنایا ہے، غور و فکر کی بات ہے کہ اس ذمہ داری کا تقاضہ کیسے اداہو سکتاہے، کشمکش ،کشاکش ، اور سنگھرش کے ذریعہ یا افہا م و تفیم، تعلیم و تلقین، اور ابلاغ و ارسال کے ذریعہ۔ عقل اور نقل دونوں کا فیصلہ ہے ،کہ کشمکش ایک ادائے مجبوری ہوتی ہے ورنہ اصل یہ ہے کہ عقل اور دل دونوں کو متبو ع اور مفتوح بنا نے کی کو شش کی جائے۔                                                                                              
وہ ادائے دلبر ی ہو یا نوائے عاشقانہ
جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ 
طہٰ جابر علوانی عصر حاضر کے بلند پایہ مفکر اور فلسفی ہیں، انہوں نے عصر حاضر کی اسلامی کوششوں پر تنقیدیں بھی کی ہیں جارحانہ نہیں بلکہ ہمدردانہ ، مخالفانہ نہیں بلکہ خیر خواہانہ، سطور بالا میں ہندستان میں اسلامی کوششو ں کے حوالے سے جو تنقیدیں کی گئی ہیں، وہ کچھ اس انداز کی ہیں جو پرسش جراحت دل سے تعلق رکھتی ہیں،یعنی پرسش جراحت دل کو چلا ہے عشق ، یہ ایک خود احتسابی ہے اور ڈاکٹر طہ جابر علوانی نے خود احتسابی کی دعوت دی ہے اور لکھا ہے کہ انسا ن کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ خو د احتسابی اور خو د شناسی سے بہرہ ور ہو اور خامیوں سے واقف کرانے والوں کا دل کی وسعتو ں سے استقبال کرے اور ان کو اپنا مخالف اور حریف نہ سمجھے ۔ ہمارے زوال کے اسباب میں سے ایک بڑا اور اہم سبب یہ ہے کہ ہم خود احتسابی سے محروم ہو گئے ہیں اور ہم ہر تنقید کو مخالفت اور عناد سمجھنے لگے ہیں، حالانکہ تنقید محبت او ر خیر خو اہی کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے، خو د احتسابی اور تنقید کے بغیر کو ئی قوم اقبال مند نہیں ہو سکتی ہے
 صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
٭٭٭

وادی جن کی سیر


سہیل انجم
حج اور عمرہ کی تمنا کس مسلمان کے دل میں نہیں ہوگی۔ بہت سے صاحب استطاعت کم از کم ایک بار حج ضرور کرتے ہیں۔ جبکہ بہت سے لوگ کئی بار اور کئی ایسے بھی ملیں گے جو سال بہ سال حج کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح عمرہ کا فریضہ انجام دینے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے جن لوگوں کو استطاعت اور اس کے ساتھ ساتھ جذبہ بھی دیا ہے وہ عمرہ کی ادائیگی بھی کرتے ہیں۔ جو ایک بار اس مقدس سرزمین کی زیارت کر لیتا ہے اس کا دل وہاں بار بار جانے کو چاہتا ہے۔ اس سرزمین میں ایسی کشش ہے کہ جس مسلمان کے دل میں ایمان کی ذرا بھی رمق ہوگی وہ موقعے سے چوکے گا نہیں، فائدہ ضرور اٹھائے گا۔ خاکسار نے دس سال قبل حج کیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی اس کے دل میں یہ تمنا رہی کہ اس مقدس سرزمین کی پھر زیارت کی جائے۔ اس نے حج کا سفرنامہ بھی تحریر کیا اور اس کا نام رکھا ”پھر سوئے حرم لے چل“۔ یہ ایک دعائیہ نام ہے۔ خدا کی قدرت دیکھیے کہ یہ دعا قبول ہوئی اور میں گزشتہ دنوں ایک بار پھر اس سرزمین کی زیارت سے فیضیاب ہوا۔ میں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کے لیے حرمین کا سفر کیا اور انتہائی ایمانی لذتوں سے سرافراز ہوا۔ 
حج اور عمرہ کے لیے جانے والے حضرات وہاں کے دیگر تاریخی اور مقدس مقامات کی بھی زیارت کرتے ہیں۔ بلکہ عمرہ پر لے جانے والے ٹور آپریٹرس پیکج میں زیارت کو بھی شامل کرتے ہیں۔ وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے اہم مقامات پر زائرین کو لے جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ انھی کی زبان میں تفصیلات بتانے والا ایک گائڈ بھی ہوتا ہے جو بس کے چلنے کے ساتھ ہی بولنا شروع کرتا ہے اور سفر کے اختتام پر چپ ہوتا ہے۔ وہ تاریخی مقامات کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے جن میں کچھ حقائق ہوتے ہیں اور کچھ سنی سنائی باتیں ہوتی ہیں۔ مجھے بھی دونوں مقدس شہروں کے تاریخی مقامات کو دیکھنے کا شوق تھا جسے اللہ تعالی نے پورا کرایا۔ لیکن میں یہاں تمام مقامات کے بارے میں کچھ بتانے کے بجائے صرف ایک مقام پر ہونے والے تجربے میں قارئین کو شامل کرنا چاہتا ہوں۔ وہ حیرت انگیز مقام ’وادی ¿ جن‘ کہلاتا ہے۔ وہ مدینہ منورہ سے ۵۳ کلومیٹر شمال مغرب میں ہے۔ اس وادی تک جانے کے لیے جبل احد سے گزرنا پڑتا ہے۔ جبل احد غالباً مدینہ کا سب سے بڑا پہاڑ ہے۔ گاڑی سے کم از کم دس پندرہ منٹ تک اس کے دامن میں چلنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد پرانی اشیاءکا ایک بہت بڑا مارکیٹ آتا ہے۔ اسے کباڑی بازار کہہ سکتے ہیں۔ یہاں نئے اور پرانے ہر قسم کے سامان انتہائی سستی قیمت پر دستیاب ہوتے ہیں۔ اس بازار سے گزرنے کے بعد کھجوروں کے باغات پڑتے ہیں۔ انھیں میں ایک باغ حضرت زبیر بن عوّام کا بھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا کی تھی جس کے بعد صرف انھی کے باغ پر بارش ہوئی تھی۔ اس واقعہ کی یادگار کو قائم رکھنے کے لیے باغ کے کنارے لب سڑک ایک مسجد تعمیر کر دی گئی ہے۔ یہاں سے کچھ دور آگے بڑھیے تو ایک چھوٹا سا تالاب پڑتا ہے۔ اس کے آگے ایک اور تالاب ہے جو قدرے بڑا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ اس سنگلاخ سرزمین پر دو دو تالاب کیسے بن گئے۔ ہم نے بڑے تالاب کے پاس گاڑی رکوائی اور اس کے ساحل پر جاکر بغور اسے دیکھا۔ ایسا لگا کہ وہ گہرا نہیں ہے۔ چھچھلا سا ہے۔ البتہ اس کے کناروں پر اور کچھ اس کے اندر بھی جھاڑ جھنکھاڑ سے اُگ آئے ہیں۔ ان دونوں تالابوں کے بعد وہ پراسرار ’وادی ¿ جن‘ شروع ہو جاتی ہے جس کے بارے میں متعدد کہانیاں مشہور ہیں۔ یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ اب ٹور آپریٹرس معتمرین کو اس وادی تک نہیں لے جاتے۔ کہا جاتا ہے کہ حکومت نے اس پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں پہنچ کر بہت سے لوگ بدعات و خرافات میں مصروف ہو جاتے تھے۔ البتہ لوگ پرائیوٹ گاڑیوں سے جاتے ہیں۔ ہم اپنے ایک عزیز مولانا محمد شعیب کے یہاں جو کہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں زیر تعلیم ہیں اور اپنی فیملی کے ساتھ وہاں رہتے ہیں، قیام پذیر تھے۔ انھوں نے ہی وادی جن کی زیارت کا پلان بنایا اور ایک گاڑی کرائے پر حاصل کی جسے ہمارے ایک دوسرے ہم وطن شاہ فیصل ڈرائیو کر رہے تھے۔ وہ بھی مدینہ میں رہتے ہیں۔ بہر حال ہم مذکورہ دونوں تالابوں سے گزرتے ہوئے اس وادی میں داخل ہو گئے۔ تالابوں کے پاس سے ہی ہلکی سی ڈھلان شروع ہو جاتی ہے جو وادی کے عین وسط میں جاکر ختم ہوتی ہے۔ سڑک آگے تک گئی ہے اور وسطی حصے کے بعد ہلکی سی چڑھائی شروع ہو جاتی ہے۔ بس یہی علاقہ زائرین کی دلچسپی کا مرکز ہے۔ مقامی اور غیر مقامی افراد یہاں آتے ہیں اور شام کے وقت پکنک کا سماں ہوتا ہے۔ کوئی خاندان کہیں چادر بچھائے بیٹھا ہے تو کوئی کہیں چٹائی بچھائے اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ ہم چونکہ دوپہر کے وقت پہنچے تھے اس لیے بس چند گاڑیاں ہی تھیں۔ البتہ سڑک کی دونوں طرف آئس کریم کی گاڑیاں کھڑی تھیں۔ اس وادی کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں جن آباد ہیں۔ یہاں گاڑی کے انجن کو بند کرکے چھوڑ دیجیے تو گاڑی الٹی جانب جو کہ چڑھائی پر ہے اپنے آپ چلنے لگتی ہے اور اگر آپ گاڑی کا رخ موڑ کر جدھر سے آئے ہیں ادھر کر لیجیے تو گاڑی ازخود سو سوا سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے لگتی ہے۔ ہم نے بھی یہ تجربہ کیا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو ایک شخص جو کہ فیملی سے آیا ہوا تھا وسطی حصے پر پانی گرا رہا تھا۔ یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ پانی نشیب کی طرف جانے کے بجائے چڑھائی کی طرف جا رہا ہے۔ ہمارے ڈرائیور شاہ فیصل نے کہا کہ میں آپ کو دکھاتا ہوں کہ ہماری گاڑی کس طرح پیچھے کی جانب چڑھائی پر اپنے آپ چڑھتی ہے۔ ہم گاڑی میں بیٹھے رہے۔ انھوں نے انجن بند کر کے اسے نیوٹرل میں ڈال دیا۔ پھر کیا دیکھتے ہیں کہ واقعی گاڑی پیچھے کی طرف رینگنے لگی ہے۔ بہر حال کچھ دیر کے بعد ہم لوگوں نے واپسی کا قصد کیا۔ جب ہماری گاڑی یو ٹرن لے کر واپس جانے کو تیار ہوئی تو اس کے انجن کو بند کر دیا گیا۔ ڈرائیور نے دونوں پیر اپنی طرف سمیٹ لیے اور صرف اسٹیئرنگ کو سنبھالے رکھا۔ ہم نے دیکھا کہ گاڑی نے رینگنا شروع کیا اور رفتہ رفتہ اس کی اسپیڈ بڑھنے لگی جو بڑھ کر ایک سو بیس کلو میٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی۔ یہ سلسلہ چودہ پندرہ کلومیٹر تک جاری رہتا ہے۔ اس بارے میں جیسا کہ بتایا گیا بہت سی کہانیاں مشہور ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جن حضرات نہیں چاہتے کہ یہاں انسان آئیں اور ٹھہریں۔ اسی لیے وہ گاڑیوں کو دھکہ دے کر مدینہ کی طرف پہنچا دیتے ہیں۔ یہ وادی ایک پیالے کی طرح ہے اور جہاں پراسرار واقعہ انجام پاتا ہے وہ اس کی مرکزی جگہ ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ وادی انڈے کی شکل میں ہے۔ اسی لیے اس کا اصل نام وادی بیضہ ہے۔ لیکن ہندوستانیوں اور پاکستانیوں نے اس کا نام وادی جن رکھ دیا ہے اور اب یہ وادی اسی نام سے مشہور ہے۔ 
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر گاڑیاں از خود کیسے چلنے لگتی ہیں۔ کیا واقعی جن انھیں دھکیلتے ہیں۔ اس سلسلے میں ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ اس کا جنوں سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ یہاں کشش ثقل اس انداز کی ہے کہ گاڑی چڑھائی کی طرف اپنے آپ بڑھنے لگتی ہے۔ در اصل یہاں مقناطیسی پہاڑ (Magnetic Hills) ہیں۔ ان پہاڑوں کو گریویٹی ہلز Gravity Hills بھی کہا جاتا ہے۔ یہی وہ سیاہی مائل پہاڑ ہیں جو نظروں کو دھوکے میں ڈالتے ہیں۔ اسی کی وجہہ سے ’التباس بصارت‘پیدا ہوتی ہے۔ اس کو انگریزی میں Optical illusion کہا جاتا ہے۔ فارسی میں اسے خطائے دید کہتے ہیں۔ یعنی ان پہاڑوں کی مقناطیسیت کے باعث اشیاءاپنی حقیقی صورت میں نظر نہیں آتیں اور وہ علاقہ انسانوں میں فریبِ نظر پیدا کر دیتا ہے۔ نظروں کو فریب دینے والے یہ پہاڑ صرف وادی جن ہی میں نہیں ہیں بلکہ دنیا کے بہت سارے مقامات پر موجود ہیں۔ خود ہندوستان کے دو علاقوں میں ایسے پہاڑ ہیں۔ ایک لیہہ سے تقریباً ۰۵ کلو میٹر دور سمندر سے گیارہ ہزار فٹ کی اونچائی پر موجود لیہہ کارگل سری نگر ہائی وے پر ہے اور دوسرا گجرات کے علاقہ تلسی شیام ضلع امریلی میں ہے۔یہ پہاڑ نظروں کو فریب میں مبتلا کردیتے ہیں اور سڑک کی ڈھلان کو اونچائی ظاہر کرتے ہیں۔ وادی ¿ جن کا بھی یہی معاملہ ہے۔ لیکن کمزور عقائد کے لوگوں نے اسے جنوں سے وابستہ کرکے بہت سی کہانیاں مشہور کر دی ہیں۔

اندھوں میں کاناراجامت بنیے !


صادق رضا مصباحی

ہمارے سماج کے ’’بڑے‘‘ اور’’ہمدرد‘‘لوگ اکثر یہ شکوہ کرتے ہیں کہ ’’اب بڑے لوگ پیدانہیں ہوتے‘‘ ،’’بڑے لوگوں کازمانہ لد چکا ہے ‘‘۔اس سلسلے میں وہ ماضی کے رجالِِ کارکاحوالہ دیتے ہوئے بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ دیکھو!یہ تھے بڑے لوگ جنہوںنے انقلاب برپا کردیااورجنہوںنے عظیم الشان کام انجام دیے۔میری سمجھ میں آج تک نہیں آیاکہ کیابڑے لوگ آسمان سے ٹپکتے ہیں یازمین انہیں اُگل دیتی ہے یاوہ یوں ہی آموجودہوتےہیں۔؟’’بڑے‘‘ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ بڑے اورعظیم لوگ ایک دم سے توبڑے نہیںہوجاتے ،وہ پہلے چھوٹے ہی ہوتےہیں بعدمیں بڑے بنتے ہیں اس لیے بڑے بنتے ہیںکیوںکہ ان کے سینئراوران کے زمانے کے بڑے ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور ان کی تربیت کرکےانہیںمستقبل کے لیے تیارکرتے تھے کیوںکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے بعدمحاذسنبھالنے والے یہی چھوٹے ہیں جوہماری جگہ سنبھالیں گے اوراپنی آنے والی نسلوں کی قیادت کافریضہ انجام دیں گے۔دیکھاجائے توصحیح معنوں میں ہمدرداوربڑے حضرات وہی تھے جنہیں بس فکرتھی توبس یہی کہ ملت کے لیے کچھ ایسے افرادتیارہوجائیں جو ان کے بعدان کی نیابت کرسکیں ۔افسوس!آج معاملہ بالکل برعکس ہے ۔دعویٰ توہم سب کاہے کہ ہم اپنی ملت کے لیے ہمدرد اورمخلص ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ قحط الرجال نے ہمیںبڑابنادیاہے،ہم واقعی میں بڑے نہیںہیں۔اس کودوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجیے کہ ہم اندھوں میں کاناراجاہیں ۔
مفکرین کہتے آئے ہیں کہ بڑاوہ ہے کہ جس کے پاس اگرچھوٹابیٹھے تواس کی باتوں سے اسے اپنی ذات کاعرفان حاصل ہو۔عرفان حاصل ہونےکامطلب یہ ہے کہ اسے اپناتشخص نکھارنے کاموقع ملے،اپنی صلاحیت کااندازہ ہو اور اسے احساس ہو کہ معاشرے میں اس کی اہمیت کیاہے۔یہ تمام چیزیں چھوٹے کےذہن میں اس وقت ابھرتی ہیں جب بڑے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اسے اس کی ذمے داریوں کااحساس دلاتے ہیں ۔ ہمارے یہا ں چوںکہ چھوٹوں کی حوصلہ شکنی کرنے والے اور ان کی ترقی میں رکاوٹ پیداکرنے والے لوگ بہت ہیں اس لیے صلاحیت مندافرادپیدانہیں ہوپارہےہیں ۔ہماری بیمارسوچ یہ ہے کہ ہم اپنے سے آگے کسی کو بڑھنے ہی نہیں دیتے تاکہ ہماری عزت میں کمی نہ آنے پائے ۔اس تناظرمیں یہ کہنابجاہے کہ مسئلہ یہ نہیں کہ رجالِ کار پیدا نہیں ہورہے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ رجال کارکی شناخت نہیں ہورہی ہےکیوں کہ لمبی لمبی ہانکنے والے ’’بڑے‘‘ توبہت ہیںلیکن جوہری خال خال ہی ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ہیرے کی قیمت جوہری ہی جانتاہے اورجوجوہری ہے ہی نہیں اسے ہیرےکی قدروقیمت کااندازہ کیوں کر ہو سکتاہے ۔اِس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہیرے توبہت ہیں مگرکوئی شناخت کرنے والاجوہری کوئی نہیں ،یانہ کے برابر۔
ہم اکثراپنے احباب سے سنتے آئے ہیں کہ اردواخبارات کے لیے کام کے افرادکی قلت ہوگئی ہے لیکن اس کے اسباب پربہت کم لوگوں کوغورکرنے کی توفیق ہوتی ہے ۔مسئلہ وہی ہے کہ ہم چھوٹوں کی تربیت نہیں کررہے ہیں اوراپنے ’’بڑے پن‘‘میں مست ہیں ۔یہ الگ بات ہے کہ ہم بڑے ہیں بھی یانہیں کیوںکہ وقت بہت بڑامنصف ہے وہ ایک نہ ایک دن ثابت کرہی دیتاہے کہ جوخودکوبڑاسمجھ رہے تھے حقیقت میں وہ کتنے چھوٹے تھے۔ہمارامزاج یہ ہے کہ ہمیں اگر کرسی مل جاتی ہے توہم سمجھ لیتے ہیں کہ مجھ سے بڑاکوئی نہیں ،کسی کافائدہ ہو یا نہ ہو ہماری بلاسے ،مگرہماراکوئی نقصان نہیں ہوناچاہیے ۔یہ ہے وہ ذہنیت جوہمارے سروں پرمسلط ہے اورجس نے ہمیں بے حس بنا دیا ہےاورتقریباًہرشعبے میں ہمیں ایسے ننگ ملت اورننگ وطن لوگوں سے ایڈجسٹ مینٹ کرناپڑتاہے۔
اگرہم یہ عہدکرلیں کہ اگراللہ تعالیٰ ہمیں کسی بڑے منصب پرپہنچادے توہم اپنی استطاعت کے مطابق اپنے ماتحت،اپنے جونیئر اوراپنے بچوں میں سے کسی ایک کوضروراس عہدے کے لائق بنائیں گے تویقین کیجیے قلتِ افراد کامسئلہ کبھی پیداہی نہیں ہوگااورہرشعبے کے لیے آسانی سے ہمیں افراددستیاب ہوجایاکریں گے ۔قلت افرادکابس ایک یہی علاج ہے ۔ ذرا تصورکیجیے کہ اس کافائدہ کتناعظیم ہے،ہمیں دنیامیں بھی اس کابھرپورفائدہ ہوتاہے اورآخرت میں بھی ۔آخرت میں اس کے عوض ہمارے لیے جواجرمقدرہے اس کاتوہم کوئی تصورہی نہیں کرسکتے ۔دنیاوی طورپردیکھیں توہم محسوس کریں گے کہ اگر ہم کسی کی تربیت کرکے اسے کسی لائق بنادیتے ہیں تووہ زندگی بھرکے لیے ہمارا اسیر ہو جاتا ہے ۔ہاں! چندایک بے ظرف بھی نکل آتے ہیں جوشایدہماری قدراوراحسان مندی کوفراموش کردیں لیکن اگروہ ہماراکیس اپنے ضمیرمیں عدالت میں پیش کریں گے تویقیناًان کاضمیرہمارے ہی حق میں فیصلہ سنائے گا،اوراگرمان لیجیے کہ وہ ہماری قدرنہیںکرتاتوہمیں دل براشتہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم اسے اپناکام کرنے دیں گے لیکن ہم اپنے بھی کام سے منہ نہیں موڑیں گے ورنہ ہم میں اوراس میں فرق ہی کیارہ جائے گا ؟کم ازکم ہم مطمئن تو ہیں کہ اللہ کی جانب سے سماج کے تئیں ہمیں جوذمے داری سونپی گئی ہے وہ ہم نے پوری کردی ہے ۔ انسان اپنے ویژن اوراپنے نظریات سے بڑابنتاہے ،منصب اورپیسے سے نہیں۔اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہمیں واقعی بڑابنناہے یااندھوں میں کاناراجابن کرخوش ہوجاناہے۔

مسلمانوں کی تقدیر بدل جائے گی آپ اسد الدین جیسا 10ایم پی پارلیمنٹ میں بھیج دیجئے

زین شمسی

شہاب الدین صاحب چلے گئے ، وہ کچھ تھے یا نہیں تھے ، کچھ کیا یا نہیں کیا ، یا جو کیا وہ اچھا تھا یا برا تھا، کہاں کمی رہ
 گئی تھی اور کہاں غلطی ہوئی، اس پر قائدین اوردا نشوران ملت نے جو کچھ بھی لکھا،  وہ ان کی زندگی کا احاطہ نہیں کر پایا۔ انہیں کوئی سیاسی نظریہ سے دیکھتا رہا تو کوئی بابری مسجد کو بچانے اور اور نہ بچانے سے تولتا رہا۔ وہ کچھ بھی تھے ، مگر قوم دوست تھے ، اگر یہ بات کوئی نہیں مانتا تو وہ خود کو قوم دوست منوانے کی بیجا کوشش کر رہا ہے۔
سہارا کے لیے ایک انٹرویو لیا تھاان سے۔
جب میں مشاورت کے دفتر میں پہنچا تو وہ پرسکون حالت میں بیٹھے تھے۔مجھ سے کہا گیا تھا کہ وہ انچا سنتے ہیں ،لیکن میں اس لیے مطمئن تھا کہ انہیں مجھے نہیں سننا تھا،مجھے انہیں سننا تھا اور میں اونچا نہیں سنتا۔
سلام کیا، انہوں نے جواب دینے کے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ دیا۔
نہ ہی میں نے ان سے حال چال پوچھا اور نہ ہی انہوں نے میری خیریت دریافت کرنے کی کوشش کی،
کیوں کہ دونوں معاملے رسمی ہوتے ہیں ، شہاب الدین صاحب اس رسم کو نبھاتے نبھاتے بوڑھے ہو چلے تھے اور میں نے رسموں کوزخموں میں بدلتا دیکھا ہے ، اس لیے زیادہ رسمی گفتگو سے پرہیز کرتا ہوں،
تو آج کے ہندوستان کا قائد کیسا ہو؟
میراپہلاسوال تھا، جس کے لیے وہ فوراً تیار نہیں ہو سکے ،کیونکہ ان سے عموماً پہلا سوال کیا جاتا ہے کہ بابری مسجد کاکیا ہوگا، جب منہدم ہو گئی تو پوچھا جاتا رہاکہ  اب عدالت میں کیا ہوگا، جب عدالتی پیچ پھنس گیا تو پوچھا جاتا رہا کہ جب معاملہ عدالت میں ہی طے ہونا تھا تو تحریک کی کیا ضرورت تھی، وغیرہ وغیرہ۔
اسد الدین اویسی جیسا ہونا چاہیے، 
یعنی اسد الدین اویسی ،میں نے دہرایا،
انہوں نے کہا’ جیسا‘۔
گویا اسد الدین اویسی اور اسد الدین اویسی’ جیسا‘میں فرق ہے۔
انہوں نے کہا شاید یا پھر یقیناً۔
وضاحت کریں گے ، میں اپنا دوکان ان کے منہ کے قریب لے گیا۔ 
بولنے والا، اپنی بات رکھنے والا، اپنے کاز کے لیے لڑنے والا، جب بولے تو سب سنے ، وہ بھی سنے جو نہیں سننا چاہتے، وہ بھی سنے جو انہیں جیسا بولنا چاہتا ہو۔آپ اسد الدین جیسا 10ایم پی پارلیمنٹ میں بھیج دیئے ، دیکھئے گا ، ہنگامہ ہو جائے گا، مسلمانوں کی تقدیر بدل جائے گی۔کوئی نہیں بولتا بیٹا، آج کے دور میں کوئی نہیں بولتا ۔ سب اپنی پارٹی کی بولتے ہیں ، اپنی پارٹی کے لیے بولتے ہیں۔ بولنا ہوگا۔
وہ بولتے ہوئے چپ ہو گئے۔
لیکن ایسا لیڈر کہاں سے لایئے گا جو قوم کے لیے بولے ، الٹی میٹلی ،اسے کسی نہ کسی پارٹی کا نمائندہ ہی ہونا ہوگا، اس جمہوریت میں  معاملہ یہی ہے کہ ہم ایک ایسے لیڈر کو منتخب کرتے ہیں جو پارٹی کی طرف سے نامزدکیا جاتا ہے اور ہمیں انہیں میں سے کسی کو منتخب کرنا ہوتا ہے۔ گویاتھوپے ہوئے نمائندے  ہمارے ذریعے منتخب کرا دیا جاتا ہے۔ رہی بات آزاد امیدوار کی تو جب ہندوستان ہی قائدین کے تئیں  بیدار نہیں ہے ، تومسلمان کہاں سے ہوں گے؟دوسرا سوال تھا۔
آسان ہے ، مگر ہو سکتا ہے۔ محنت کرنی ہوگی ، اگر قوم کی بھلائی چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں۔کیسے میں بتاتا ہوں۔کر کے دیکھئے گا اگر کبھی موقع ملے۔ وہ مسکرائے ، مسکراتے ہوئے ، نہیں لگا کہ وہ آئی ایف ایس ، ممبر پارلیمنٹ ، بابری تحریک کے روح رواں یا مشاورت کے صدر رہے ہیں ، یہی لگا کہ وہ ایک سائنسداں ہیں جنہوں نے ابھی ابھی ایک فارمولہ ایجاد کیاہے۔
وہ بولتے گئے ،گائوں سے ،محلوں سے ، قصبوں سے ، گلیوں سے ، آپ انہیں نکال سکتے ہیں۔کیسے نکالیں گے ، بتاتا ہوں۔ دیکھئے ہر محلے میں ، قصبے میں شہر میں کوئی نہ کوئی ایسا ہوتا ہے ، جس کی عزت سب لوگ کرتے ہیں۔ خواہ وہ کوئی ڈاکٹر ہو ، وکیل ہو ، پروفیسر ہو، سماجی خدمتگار ہو۔ کوئی نہ کوئی ایسا ضرور ہوتا ہے ، جو کچھ کہتا ہے تو لوگ اس کی مانتے ہیں۔ اسی طرح عالم دین میں سے کئی ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی عزت ہوتی ہے۔ پھر کوئی دکاندار یا تاجر ہوتا ہے جو کسی کی مدد کرتا ہے اور فلاحی کاموں میں ڈونیٹ کرتا ہے۔ ان سب کی ایک ٹیم بن جائے تو نمائندہ منتخب کرتے ہوئے نااتفاقی نہیں ہوگی۔
میں انہیں سنتا رہا، لیکن خاموش نہیں رہ سکا۔یعنی آپ جو کہہ رہے ہیں وہ آزاد امیدوار کے سلسلے میں کہہ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا ہاں ، پارٹی کے ذریعہ منتخب امیدوار کو تو آپ جتا سکتے ہیں ،لیکن وہ آپ کو نہیں جتائے گا، میں نے پہلے ہی کہا ہے۔
ڈھیر ساری باتیں ہوئیں ، ظاہر ہے کہ بابری کی بھی ہوئی اور اس دوران کچھ لوگوں کی غداری اور بے وفائی کی بھی ہوئی۔
آج جب میں انہیں لاکھوں من مٹی کے تلے داب کر آرہا ہوں تو صرف یہی سوچ رہا ہوں کہ ان جیسے لوگوں کے مرنے سے پہلے کوئی قائد پیدا ہوجانا چاہیے۔
تدفین کے وقت بدرالدین اجمل صاحب تھے، اور کچھ اخبارات کے نام نہاد صحافی جو ظاہر ہے ان کے لئے نہیں آئے تھے،بلکہ اپنی ٹولیوں کے ساتھ اپنی حاضری دینے آئے تھے۔ سابق مشاورت کے صدر کی قابلیت کے بارے میں سوچتا ہوا آگے بڑھا تو موجودہ صدر اپنی ٹولیوں کے ساتھ نظر آئے۔ سات بار سلام کیا تو گردن ہلا کر رہ گئے۔ ایک بڑے صحافی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو انہوں نے یوں نظر انداز کیا جیسے مین قبر کی مٹی ہوں۔
لوٹتے ہوئے یہی احساس ہوا کہ جب تک تعصب اور مفاد پرستی کو قوم اپنا شعائر بناتی رہے گی ، قائد تو خیر پیدا ہی نہیں ہوگا، جو کچھ بچے کچھے لوگ ہیں انہیں بھی ہم لوگ دفناتے رہیں گے،ایسے ہی


سید شہاب الدین


میری زندگی کے چند اصول ہیں. ان میں سے ایک یہ ہے کہ اگر پارلیمنٹ کے ممبر کی حیثیت سے مجھے کچھ مراعات حاصل ہیں تو میں ان کا جائز استعمال کروں. جب میں نے (کان کے ) دونوں آلات (سماعت) کی قیمت معلوم کی (تو ) خارجی آلہ پانچ ہزار (روپے) کا تھا اور داخلی پچھتر ہزار (روپے) کا.میں نے سوچا اگر میں اپنی جیب سے خرچ کرتا تو میرا فیصلہ اپنے مالی حالات کے پیش نظر پانچ ہزار روپیہ کے آلے کا ہوتا. میں پچھتر ہزار روپیہ خرچ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا. اس لئے میں نے حکومت کے اخراجات کے سلسلہ میں وہ فیصلہ کیا جو میں اپنے لئے کرتا. میں نے ذاتی خرچ اور حکومت کی عطا کردہ سہولتوں کے استعمال میں کبھی فرق نہیں کیا. پھر جو کام پانچ ہزار میں ہوگیا اس کے لئے میں پچھتر ہزار حکومت سے کیوں خرچ کرواؤں.

 سید   شہاب  الدین
ڈاکٹر عابد اللہ غازی، انسانیت
دہلی،   2010 ،  ص  167

محمد طارق غازی
آٹوا، کینڈا
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک پیارے بیٹے کی کہانی خود اس کی اپنی زبانی ہے.یہ بیت المال کے  اثاثہ  کی حرمت کے معاملہ میں  امیر المومنین عمر الفاروق رضی اللہ عنہ کی  ایک سنت کا بیان ہے: 1400 سال بعد.
            یہ ایک سیکولر، دنیا دار، غیر اسلامی ملک   --    ہندستان   --    کے ایک مسلمان سیاسی رہنما کا کردار ہے جس کی کوئی دوسری مثال ہندستان کی موجودہ پارلیمنٹ میں بھی شائد ہی ملے.
            یہ ایک ایسے سیاسی رہنما کا قول ہے جسے دنیا کے لئے مثال بن جانے کا گر آتاہے، مگر اس گر سے فائدہ اٹھانے کا گر نہیں آتا.
            مجھے یقین ہے دنیا میں ایسی بہت مثالیں اور بھی جگہ جگہ موجود ہوں گی،کہ ایسی مثالیں نہ ہوتیں تو یہ دنیا  کبھی کی اپنے وجود کا جواز کھو چکی ہوتی. دنیا باقی ہے تو ایسے ہی خود آگاہ اور خدا آگاہ مردان  درویش کی وجہ سے جو اپنی داستانیں کبھی کبھی باتوں باتوں میں عابداللہ غازی جیسے دوستوں کو بتادیتے ہیں اور وہ سچے دوست پھر ان عجوبہ کہانیوں کو دنیا تک پہنچا دیتے ہیں.
            ہمارے زمانہ میں یہ قصہ  حیرت ناک ہے:الف لیلہ کی داستانوں کا ایک ٹکڑا،قصہ حاتم طائی کا ایک اقتباس، ایک ایسی انہونی جس پر اس زمانہ میں اخباری خبر بنتی ہے. مگر سید شہاب الدین کی  زندگی کے 76 سال اور ان کی سیاست کے 34 سال  کی تاریخ میں یہ بات خبر نہ بنی اور کبھی  ذکر میں بھی نہ آتی اگر ایک کتاب کے ایک مختصر مضمون میں  یہ تذکرہ نہ ہوتا. یہ ثبوت  ہے اس کاکہ اس گئی گزری حالت میں بھی  ہمارا معاشرہ ایک مسلمان سے اسی  رویئے کی توقع رکھتاہے.یہ سچ ہے، اور اگر یہ سچ ہے تو ہمارا کردار کیا ہونا چاہیئے؟
            ایک بار کسی نے مجھ سے پوچھا تھا کہ  یہ ساری دنیا آخر مسلمانوں کی پیچھے ہاتھ دھو کر کیوں پڑ گئی. وہ بھی  توعام آدمیوں ہی کی طرح رہتے ہیں.اپنے بال بچوں کے ساتھ امن  چین کی زندگی جینا چاہتے ہیں. ان میں اور دوسرے لوگوں میں بھلا کیا فرق ہے جو  سب کے سب ان کے درپے  آزار ہوگئے؟
            میں نے  کہاتھا   کہ قرآن حکیم میں مسلمانوں کو اطلاع دی گئی ہے کہ اللہ نے تمہیں انسانوں میں ایک بھلی امت بنایا ہے کہ تم لوگوں کو اچھے کاموں کا راستہ دکھاؤ اور بری باتوں سے معاشرہ کو بچائے رکھو (آل عمران 3 : 110 )  دوسری جگہ سورہ البقرہ (آیت 143) میں اس قسم کی ذمہ داری کو پورا کرنے والوں کو  میانہ روی اختیار کرنے والا گروہ کہا گیا ہے. اب آپ کے بارے میں جب یہ فیصلہ کیا گیا تو لازم   ہےکہ دنیا  میں قیامت تک آنے والے باقی انسانوں کو بھی اس فیصلہ کی خبر کی گئی ہوگی.اللہ کا سرکاری گزٹ  ہر انسان کے ذہن اور فطرت پر چھاپ دیا جاتا ہے. یعنی خلقی طور پر یہ بات دنیا کے ہر انسان کے ذہن پر انمٹ روشنائی سے  لکھی ہوئی ہے کہ  ان کے اطراف اعتدال کی راہ چلنے والی ایک امت ایسی ہے  اور ہمیشہ رہے گی  جو دنیا میں اچھے برےکاموں کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتی رہے گی. تو جب دنیا کے باقی انسان دیکھتے ہیں کہ اللہ کا انسپکٹر خود بے اعتدالی اور غلط روی کا شکار ہوگیا تو وہ درد و تکلیف  اور غم  و صدمہ سے چیخ اٹھتے ہیں اور انسپکٹر کو سزا دینے پر تل جاتے ہیں. بس مسلمانوں کے ساتھ دنیا یہی کر رہی ہے.
            اس  دکھیاری دنیا کو یہ بتانا ضروری ہے کہ دیکھو ابھی دنیا میں سید شہاب الدین جیسے لوگ موجود ہیں جو اللہ کے خزانوں سے خود اپنے حق سے کم لیتے ہیں اور آپ کو آپ کے حق سےزیادہ دلوانے کی سعی کرتے ہیں.
            اللہ ہمارے اس شہاب الدین کو سلامت رکھے، ایسے بہت سے شہاب الدین ہمارے درمیان پیدا کردے، ان سے  اورزیادہ مفید کام لے اور ہمیں اپنے ایسے خدمت گزاروں کی پہچان اور ان کے اکرام کا سلیقہ دے.