یہی ایک راستہ ہے



قاسم سید

سیکولرپارٹیوں کی پے درپے شکستوں اور مودی کی لگاتار فتوحات نے بظاہر ان لوگوں کا حوصلہ پست کردیا ہے جو ملک کو فرقہ واریت اور خانہ جنگی سے ہر حال میں بچاناچاہتے ہیں۔اب لڑائی یکطرفہ ہوگئی ہے جو ہمارے ساتھ نہیں وہ ہمارادشمن ہے کی طرز پر پہلے ترغیب پھر ترہیب کے ذریعہ بی جے پی کی قلمرومیں شامل کرنے کے لئے ہر وہ قدم اٹھایا جارہا ہے جہاں کسی بھی طرح کی لکشمن ریکھا کوئی قدروقیمت نہیں رکھتی۔ منافقوں کی فوج میں بھگدڑ مچی ہوئی ہے۔ ان کے چہروں سے نقاب تو پہلے ہی اٹھ چکا تھا۔ اب انہوں نے شرم وحیا کے تمام کپڑے بھی اتار دئیے ہیں اور ہر طرح کا ناچ دکھانے کے لئے تیار ہیں۔ عیارانہ مزاحمت کے تکلفات بھی بالائے طاق رکھ دئیے ہیں اس سے وہ طبقہ شدید جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہے جس نے اپنا سب کچھ بلکہ تقدیر بھی ایسے منافقوں سے وابستہ کر رکھی تھی جو ان کا ملجا ماویٰ تھے۔ یہ ڈھونگی سیکولر ایسے لوگوں کی وفاداریوں کا صلہ قانون ساز اداروں کی رکنیت‘ کسی بڑے پروجیکٹ کی منظوری یاان کے چہیتوں کو کسی کا رپوریشن کا چیئرمین نامزد کرکے دیا کرتے تھے۔ اگران کا ڈوسیئر تیار کیا جائے تو اپنے مریدوں کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہیں گے۔ فہرست بہت طویل ہے۔ بہتر ہے کہ ان کی نام نہاد شرافتوں اور قربانیوں پر پردہ پڑا رہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک خطرناک ترین نظریاتی لڑائی کے مرحلہ میں ہے ۔ لگاتار فتوحات سے سرشار ہندوتووادیوں کے مقابلہ میں شکستہ دل،مرعوب نام نہاد سیکولر سٹوں کی منتشر فوج ہے جس نے ہر آزماش میں مایوس کیا۔ بابری مسجد کی مسماری ایسے منافقوں کی ریاکاری ومکاری کا سب سے بڑا ثبوت ہے جس کا سرخیل آخری گنبدگرنے تک پوجاپاٹھ میں مصروف رہا جس نے پوری قوم سے وعدہ کیا کہ اس مقام پر جلد مسجد کی تعمیر ہوگی مگر ان پر آنکھ بند کرکے ایمان لانے والوں کا بھروسہ پھر بھی نہیں ڈگمگایا اور وہ ان کے قبیلہ کا حصہ بنے رہے۔ شاید مجبوری بھی تھی کہ دوسری طرف جا نہیں سکتے تھے۔ آج بھی بابری مسجد کے ملبہ پر قائم رام مندر سیکولر عناصر کی عیارانہ سیاست کا شرمناک اظہار ہے‘ انہوں نے قدم قدم پر اقلیتوں کو دھوکہ دیا۔ سیکولرازم کے نام پر خون کشید کرتے رہے۔ وہ لٹتے رہے۔ گھروں پر قبضے کرلئے گئے۔ بستیاں خالی کرالی گئیں۔ اپنے ہی ملک میں مہاجر بنادیا۔ گجرات سے مظفر نگر تک ایک ہی داستان ہے صرف کردار الگ ہیں اس لئے جو لوگ گجرات کے زخموں کو ہرا رکھنے اور ہاشم پورہ ومظفرنگر کو بھولنے کی تلقین کرتے ہیں وہ بیمار ذہنیت کے مارے ہیں اور اس مشورے میںان کی ہزاروں مجبوریاں چھپی ہیں۔
بہار میں جو کچھ ہوا‘جس نام پر ہوا اس تماشہ پر صرف ایسے لوگ حیران زدہ مایوس ہیں جو ان سے کسی خیر کی توقع کرتےتھے اور انہیں سیکولرازم کے تئیں مخلص سمجھتے تھے مگر جو سیاست کی نیرنگیوں اور نام نہاد سیکولرسٹوں کی منافقانہ روش کی تاریخ سے آگاہ تھے انہیں اس پر تعجب تھا کہ آخر دو سال تک رفاقت کا رشتہ کیسے باقی رہا۔ 6سال میں چھ مرتبہ وزارت اعلی کا حلف لینے والے نتیش کمار ہیں۔ سادہ لوح کنبہ مستقبل کا وزیراعظم دیکھ رہاتھا جو مودی کے طوفان کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتا تھا۔ان کی بار بار توبہ کو قبول کرلیاگیا تھا۔ کون نہیں جانتا تھا کہ گودھرا سانحہ کے وقت وہی ریلوے کے وزیر تھے آخر اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ انکوائری کاذمہ وزارت ریلوے کا تھا۔ واجپئی کے دور حکومت میں این ڈی اے کا حصہ رہے 17سال تک بی جے پی سے سیاسی رشتہ ازدواج قائم رہا۔آر جے ڈی کے ساتھ سیاسی حلالہ کرکے پھر این ڈی اے سے سیاسی شادی کرلی۔ ہرجائی پن ہر سیکولر عناصر کی رگ رگ میں موجود ہے صرف نتیش کمار ہی کیوں ہندوستانی سیاست کا کوئی بھی بڑانام لے لیجئےجو سیکولرفورسیز کا حصہ رہے مگر جب بھی قومی مفاد نے پکارا ساری زنجیریں توڑ کر فرقہ پرست کہی جانے والی طاقتوں کے گلے کا ہار بن گئے ۔ جنتاپارٹی میں جن سنگھ کو کس نے شریک کیا۔ جنتادل کی وی پی سرکار نے لیفٹ کے ساتھ بی جے پی کی حمایت نہیں لی‘جنتادل نے بی جے سے انتخابی مفاہمت کرکے اسے سیاسی طاقت نہیں دی۔ ان باتوں کو بار بار دہراکر خود کو شرمندہ کرناپڑتا ہے ہم نے ہمیشہ ایسے لوگوں پر دائو لگایا جو آزمائشوں کے وقت ساتھ کھڑے نظرنہیں آئے۔ 20کروڑ کی آبادی میں مشکل سے دو تین سوافراد ہی سیکولرازم کے فواکہات سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ سیاسی پارٹیوں کی غیر مشروط غلامی اور وفاداری کے عہد نے اس حال تک پہنچادیا کہ صرف ووٹ ہی بے وقعت نہیں ہوا وہ ساری قیادت ہی غیر موثر ،بے قیمت ہوئی جس نے ہر قدم پر عہدوفاداری نبھایا اور اس کی خاطر رسوائیاں وبدنامیاں بھی مول لیں۔ اب حالت یہ ہے کہ سیکولرفورسیز ایک ایک کرکے ہتھیار ڈالتی جارہی ہیں یا بزور طاقت انہیں گھیر کر لایاجارہا ہے۔ اس وقت انیس ریاستیں بی جے پی کی سلطنت میں شامل ہوگئی ہیں۔نتیش کمار نے اقلیتوں کو بہت مایوس کیا ہے کیونکہ مہاگٹھ بندھن کو اقتدار میں لانے کے لئے بہت محنت کی گئی تھی ۔حالانکہ اس وقت بھی لالو یادو نے امارت شرعیہ میں اپنے سفیر کو بھیج کر یہ ہدایت دی تھی کہ براہ کرم ہماری حمایت کا کھل کر اعلان نہ کریں۔ خاموشی کے ساتھ مہم چلائیں ورنہ اکثریتی ووٹ بدک جائے گایعنی بندوق کی نالی پر ووٹ لیااور چپ رہنے کا فرمان بھی۔ اترپردیش میں بھی یہی صورت حال تھی کہ مسلم ووٹ کے بھائو گر گئے تھے۔ بی جے پی کی سیاسی حکمت عملی کی کامیابی کہی جائے گی کہ اس نے مسلم ووٹ کو بے وقعت وبے اثر کردیا۔یہ ثابت کردیا کہ ان کی حمایت لئے بغیر بھی سرکار بنائی جاسکتی ہے اور چلائی بھی جاسکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ سیکولر کہی جانے والی پارٹیاں بھی اب صرف دور سے سلام کرنا ہی بہتر سمجھتی ہیں۔ حال ہی میں راہل گاندھی نے پارٹی میٹنگ کے دوران تاکید کی تھی کہ ہم مسلم ایشوز احتیاط کے ساتھ اٹھائیںتاکہ منہ بھرائی کا الزام نہ لگ سکے۔ ظاہر ہے جب مسلم ووٹ بینک دیوالیہ ہوجائے تو اس کے کرتادھرتائوں کی بولی کیسے لگ سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ مسلم ووٹ کے خریداروں کی کمی نے اس کے کسٹوڈین کا مارکیٹ بھی گرادیا ہے اس لئے وہ خاموش ہیں کچھ بولنے کے لئے ہے نہیں ۔ نتیش کمار کے تجربہ نے ان کی سیاسی بصیرت پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جب منافقوں کی فوج میں بھگدڑ مچی ہوئی ہے ہندوتوادی ان کا ’شدھی کرن‘ کرا رہے ہیں۔نظریاتی جنگ یکطرفہ ہوگئی ہے صرف سول سوسائٹی اب تک محاذ پر ڈٹی ہے جس کو دیش بھکتی بنام دیش دروہ کے نام گھیرا جارہا ہے۔ اس لئے اسے نئی کمک نہیں مل رہی ہے۔ سیکولرپارٹیاں سپر ڈال چکی ہیں جو باقی ہیں ان کی نیت بھی ڈانواڈول ہے۔ اقلیتوں کو رام مندر‘ گائے‘ گیتا‘ گنگا‘ وندے ماترم جیسے تنازعات میں الجھاکر ان کی توانائی کو ضائع کیاجارہا ہے تو پھر راستہ کیا ہے۔ اقلیتیں جن میں مسلمانوں کے ساتھ عیسائی بھی ہیں‘مسلسل نشانے پر ہیں۔ گئو رکشکوں کی غنڈہ گردی کے مناظروائرل کرکے مسلمانوں کے دلوں میں خوف وہراس پیداکرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ان کی نظریاتی بنیادوں کو کھوکھلا کیا جارہا ہے۔ اسلام کو صوفی اور ریڈیکل اسلام میں بانٹ کر انقلابی مسلمانوں کو سبق سکھانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ کشمیر کے بگڑتے حالات کا اثر لازمی طور پر ملک میںبسے مسلمانوں پر ہوتا نظرآرہا ہے۔ نوجوانوں کو مسلمان ہونے کی بنا پرنوکری دینے سے منع کرنے کے واقعات بھی میڈیا کے ذریعہ سامنےآرہے ہیں۔ میڈیا میں صفر نمائندگی کے ساتھ اپنا موقف رکھنے میں ناکام ہیں جو تصویر بنائی جارہی ہے وہ بہت خوفناک ہے۔ بظاہر تمام راستے بند ہیں۔ حوصلے دینے والے بھی زبان پر تالے لگائے ہوئے ہیں۔ ان کی پراسرار خاموشی نے سراسیمگی اور بے چینی میں اضافہ کردیا ہے۔ انہیںکہیں سے رہنمائی حاصل نہیں ہو رہی ہے۔ نوجوانوں میں بڑھتی بے چینی کاکوئی علاج بتانےو الا نہیں ہے۔ مسلم قیادت نے موجودہ سرکار سے ڈائیلاگ کے بھی تمام راستے بند کررہے ہیں ان کی ضد ہے کہ سرکار بلائے گی تبھی جائیں گے مگر ان کے پاس اس سوال کاکوئی جواب نہیں کہ سرکار کیوں بلائے گی۔ ان کی اکثریت اس خوش فہمی میں مبتلا ہےکہ صرف دو سال اور باقی ہیں اس کے بعدتواپنی پسند کی سرکار آجائے گی۔ جس کے ہاں جانے کے بہانے تلاش کئےجاتے ہیں اور بن بلائے خودوقت لے کر پہنچنے کے لئے ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش کی جاتی ہے ان کا یہ تجزیہ کس بنیاد پر ہے اس کو وہی بہتر بتاسکتے ہیں۔ بہرحال ملک کا مسلمان شدید اضطراب میں مبتلا ہے تو پھر راستہ کیا ہے یہ سوال ہر شخص کے ذہن میں گونج رہاہے۔
اس کا جواب بہت آسان ہے مگر عمل مشکل ہے کیونکہ اس راستہ پر جانا نہیں چاہتے۔ نہ جانے کس کی کیا مجبوریاں ہیں۔ یہ حالات پہلی بار پیدا نہیں ہوئے ہیں ماضی میں بھی شدید آزمائشیں آئی ہیں جب کانگریس کے دور میں فسادات پھوٹ پڑے تھے اور لوگوںمیں مایوسی پیدا ہوگئی تھی۔ ایسے وقت میں مسلم قیادت نے اجتماعیت کے ساتھ پارٹی مفادات سے بالاتر ہوکر ملک گیر دورہ کیا تھا۔ انہیں حوصلہ دیا تھا۔ شاید ہی کوئی مسلم رہنما ہوگا جو اس ودفد کا حصہ نہیں تھا۔ موجودہ وقت پھر اس کا تقاضہ کررہاہے کہ پارٹی ومسلکی مفادات سے بلند ہوکر ہماری معزز مخلص قیادت ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ملک گیر دورہ کرے۔ عوام سے رابطہ کرے۔ان کے ٹوٹے حوصلوں کو نئی زندگی دے۔ نوجوانوں کی بے چینی کو راستہ دےورنہ یہ لاوا پھوٹ کر پورے سماج کو متاثر کردے گا۔ہمارےبیشتر رہنمائوں کا عوام سے رابطہ ٹوٹ چکا ہے۔ وہ ہوا میں معلق ہیں۔نظریاتی جنگ کے نازک موڑ پر ہندوستان جیسے ملک کو عوام سے دورجاکر ڈرائنگ روم اور ایرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر نہیں چلایا جاسکتا‘عوام نےبہت قربانیاں دی ہیں‘مذہبی تشخص کے ساتھ سیاسی تحفظات کی جمہوری لڑائی کے لئے باہر نکلنا پڑے گا۔دوسری طرف آسان راستہ توکھلا ہوا ہے کانفرنسیں کرئیے‘قراردادیں منظور کریئے اپنے مریدوں کو بلائیے طاقت کا مظاہرہ کرئیے اور پھر گھر بیٹھ جائیے۔ رہے نام اللہ کا۔

تاریخ کے نازک موڑ پر قومی سیاست اور مسلمان !


عمر فراہی  ۔  ای میل  :  umarfarrahi@gmail.com
 
ہندوستانی سیاست میں بی جے پی کے مضبوط ہوتے ہوئے قدم اور سیکولرپارٹیوں کی کمزور ہوتی ہوئی گرفت سے ملک کے مسلمانوں کا تشویش میں مبتلا ہونا لازمی ہے ۔یہ بھی ایک سچائی ہے کہ ملک کی سیکولر پارٹیوں کا کرداربھی مسلمانوں کے تئیں مشکوک ہی رہا ہے انہوں نے مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے اورمطمئن کرنے کی بجائےمایوس ہی کیا ہے ۔خاص طور سے کانگریس کے ساٹھ سالہ دور حکومت میں کانگریس کی کسی مرکزی قیادت نے کسی بھی مسئلے میں مسلمانوں کو یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ ان کے ساتھ ہے بلکہ بابری مسجد میں تالا لگانے سے لیکر فسادات میں مسلمانوں کے قتل عام اور 2004 سے 2014 تک من موہن کی حکومت میں مختلف بم دھماکوں میں بے قصورمسلم نوجوانوں کی گرفتاری کا لامتناہی سلسلہ بھی کانگریس کی حکومتوں میں بلاروک ٹوک جاری رہا۔کانگریس کے اسی آخری دور میں ملک کے اندر جو لوٹ کھسوٹ ہوئی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عام آدمی بھی کانگریس سے بدظن ہوتا چلا گیا۔انا ہزارے کو بدعنوانی کے خلاف گاندھی کے طرز پر ستیہ گرہ جیسی تحریک شروع کرنی پڑی ۔مسلمانوں میں کچھ لوگوں نے شک کیا کہ اناہزارے کی تحریک بھی کانگریس کو بدنام کرنے کیلئے بی جے پی کی طرف سے اٹھائی گئی ایک تحریک تھی تاکہ آنے والے الیکشن میں بی جے پی کو اس کا فائدہ ملے ۔انا ہزارے نے بغیر کسی سیاسی متبادل کے جس طرح کانگریس مکت بھارت کا نعرہ دیا تھا اس کا فائدہ تو بی جے پی کو ہی ملنا تھا جو ملا بھی لیکن اناہزارے کی تحریک کانگریس کے دور میں ہی ناکام ہوچکی تھی ۔ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ انا ہزارے یہ بھول گئے کہ بدلتے ہوئے دور اور بدلتی ہوئی نسلوں کی ذہنیت کے ساتھ ساتھ تحریکوں کا طریقہ کار بھی بدلتا رہتا ہے۔ہر دور میں وقت کے گاندھی بھوک ہڑتال سے آزادی حاصل نہیںکرسکتے ۔ہر دور میں ہندی چینی بھائی بھائی کا نعرہ دیکر سرحدوں کی حفاظت نہیں کی جاسکتی چونکہ گاندھی اورگاندھی کی تحریک آزادی کے مد مقابل ایک بیرونی غاصب دشمن تھا اور اس دشمن سے ہم اپنی آبادی کے اندر جنگ لڑ رہے تھے اور وہ ہماری تہذیب و ثقافت اور زبان و مذہب سے بھی مختلف تھا جس کا جذباتی فائدہ بھی تحریک آزادی کے لیڈران کو ملا ۔اس کے علاوہ انگریز مستقبل کی ہندوستانی ریاست کے تناظر میں ایک پرامن سیکولر سیاسی تحریک سے فائدہ اٹھانے کا بھی متمنی تھا یا آزادی کے بعد بھی ہندوستان سے جو اس کے سیاسی اور جغرافیائی مفاد وابستہ تھے وہ خطرے میں پڑ سکتا تھا۔شاید یہی وجہ ہے کہ انگریزوں نے سبھاش چندر بوس کے مقابلے میں گاندھی اور نہرو کی تحریک کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ لوگ کہتے ہیں کہ سبھاش چندر بوس کے جلاوطن ہونے یا غائب ہونے میں ہمارے ہی لیڈران کی سازش تھی۔خیر حکومت اور اقتدار کیلئے ایسی چال بازیاں ہر دور میں ہوتی رہی ہیں۔یعنی کچھ لوگ اور کچھ تحریکیں کسی کو استعمال کرتی رہی ہیں اور کچھ لوگ دوسروں کیلئے استعمال بھی ہوتے رہے ہیں ۔اگر آرایس ایس نے اناہزارے کا استعمال کیا اور اناہزارے بھی استعمال ہوئے تو یہ آرایس ایس کے لوگوں کی قابلیت اور صلاحیت تھی کہ وہ ایسا کرسکے۔ مگر جو مسلم تنظیمیں اور تحریکیں ایسا نہیں کرسکیں وہ صرف واویلا مچا کر یا اپنے مخالفین پر الزامات لگا کر کوئی معرکہ سر نہیں کر سکتیں ۔میں سمجھتا ہوں کہ انا ہزارے کی تحریک سے اروند کیجریوال نے شاید یہی سیکھا تھا کہ ہندوستانی سیاست میں بدعنوانی کا مقابلہ کرنے کیلئے بدعنوان اور بداخلاق لیڈران کے خلاف سیاسی محاذ ہی ایک متبادل حل ہے ۔عام آدمی پارٹی کے وجود میں آنے کے بعد اس پارٹی کو بھی کچھ مسلم دانشوروں نے آرایس ایس کی بی پارٹی قرار دیا لیکن اروند کیجریوال کے ساتھ یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن جیسے غیر فرقہ پرست صاف ستھری ذہنیت کے مالک افراد کی شمولیت اور کانگریس کی منافقت سے بدظن مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے عام آدمی پارٹی کو کانگریس کا متبادل قرار دیا اور دلی کے الیکشن میں مسلمانوں نے کھل کر عام آدمی پارٹی کی حمایت بھی کی ۔خود اروند کیجریوال نے لوک سبھا کے الیکشن میں بنارس سے نریندر مودی کے خلاف کھڑے ہو کر ملک کی سیکولر عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ وہ فرقہ پرست نہیں ہیں ۔اگر دیکھا جائے تو ملک کی سیکولر ذہنیت عوام کیلئے عام آدمی پارٹی اور کیجریو ال واحد ایک امید ہیں جو اس وقت بی جے پی کے فاشسٹ عزائم کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ لیکن جس طرح عام آدمی پارٹی کے صدر اروند کیجریوال نے ڈیڑھ سال پہلے یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن سے اختلاف کرتے ہوئے انہیں پارٹی سے باہر کا راستہ دکھایا ایک نوزائیدہ پارٹی کے صدر کا یہ فیصلہ دانشمندانہ نہیں کہا جاسکتا ۔بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن کا یہ موقف بالکل صحیح تھا کہ عام آدمی پارٹی صرف دلی میں ہی نہ سمٹ کر اپنی قومی سیاسی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے دیگر ریاستوں کے الیکشن میں بھی سرگرم حصہ لیتی۔ممکن ہے کہ پارٹی کو بہت زیادہ سیٹیں نہ ملتیں لیکن دیگر ریاستوں میں سیاسی سرگرمیوں سے پارٹی کا ایک مضبوط کیڈر تیار ہوتا اور ملکی سطح پر لیڈرشپ پروان چڑھتی اور ایک مضبوط اپوزیشن تیار ہوتا ۔ ماضی میں کانگریس اور بعد میں بی جے پی نے اس کے باوجود کہ 1984 تک پارلیمنٹ میں اس کے صرف دو ہی ممبران تھے پورے ملک میں مسلسل اپنی تحریک کو جاری رکھا اور بالآخر اسے یہ کامیابی مل بھی چکی ہے ۔ خاص طور سے میڈیا کے اس اشتہاری پروپگنڈہ کے دور میں جہاں زیادہ سے زیادہ شو بازی اورشور مچانے والی بھیڑ کی اہمیت اور ضرورت ہے عام آدمی پارٹی کے لیڈران اگر تنہا نہیں بھی ہیں تو بھی کسی بھی پارٹی کی نمائندگی دلی میں بیٹھے ہوئےصرف چار یا پانچ لوگوں سے نہیں کی جاسکتی ۔ادھر چھ مہینے پہلے ایک بار پھر پارٹی نے دلی کے ایک ایم ایل اے امانت اللہ خان کو جس طرح پارٹی سے معطل کر کے مسلمانوں میں بحث کا عنوان دے دیا کہ عام آدمی پارٹی کسی بیباک مسلم لیڈر کو برداشت کیوں نہیں کر پارہی ہے ؟اس معاملے میں ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ امانت اللہ خان نے کسی بیباکی کا کوئی مظاہرہ نہیں کیا تھا بلکہ کہا جائے تو یہ ایک ایسی غیر سنجیدہ اور غیر اصولی حرکت ہے جو اگر کسی تنظیم اور تحریک کی روایت بن گئی تو ایسی تحریکوں کو انتشار سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔انہیں اگر کمار وشواس کے بارے میں یہ شک تھا کہ وہ آرایس ایس کے ایجنٹ ہیں تو اس کی اطلاع پورے ثبوت کے ساتھ پارٹی کی میٹنگ میں رکھنا چاہیے تھا ۔خیر اب جس طرح سے بی جے پی نے ملک کے حالات کو نازک موڑ پر لا کر کھڑا کر دیا ہے سیکولر پارٹیوں کے مسلم سیاستدانوں کی یہ ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اس نازک موقعہ پر اپنی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کریں اور دانشمندی کا ثبوت دیں ورنہ جس طرح بنگلہ دیش میں حسینہ واجد نے وہاں کی تمام مخالف سیاسی پارٹیوں کو ڈرا دھمکا کر انتخابی سیاست سے دور کر دیا ہے اور کسی بھی مضبوط سیاسی پارٹی کے مد مقابل نہ ہونے کی وجہ سے خود ساختہ جمہوری ڈکٹیٹر بن چکی ہیں مودی اور بی جے پی کے تیور بھی کچھ ٹھیک نظر نہیں آرہے ہیں ۔بہار میں نتیش کمار نے جس طرح بی جے پی کے سامنے سر خم کر دیا ہے ابھی ایسے اور بھی سر فاشسٹ سیاست کی زد میں آنا باقی ہیں بس انتظار کیجئے !

ہجوم کے حملے (گورکشکو ں کی بھیڑکی طرف سے مسلمانوں پر ہورہے حملوں سے متاثر ہوکر)

                                       ساغر ؔسلوڑی

                           9421428042


                          امتحاں صبر کاسرکار نہ اب ہردم لے
                         ہم نہ برداشت کریں گے ہجوم کے حملے
     وہ پہلو خان،حنیفہ ،جواں ریاض الدین          نفرت کے جرائم نے لئے آج ہم سے چھین
      سالک،غلام محمد اوروہ ظفر حسین                اب ان کی شہادت بھی اسی بھیڑ کی ہے دین
                           مجروح دل پہ تم ہی کہو کیسے یہ غم لے
        انجینئر محسن کی بتائو تھی کیا خطا               مسلم وہ تھا اسی لئے دے دی اُسے سزا
        نظرالحق اور سمیرالدین وناصر                 گائے چوری کے الزام میں مارے گئے آخر
                        نفرت کی آندھیوں سے کہو وقت ہے، تھم لے
       مُردہ تھی گائے اُس کی عثماں کو سزا دی          خاندان کو بند کرکے وہیں آگ لگا دی
        اس ملک میں ناپید رواداری دیکھ کر            ہیں قتل ہوگئے وہ علیم اور اصغر
                        قانون کو ہاتھوں میں نہ اب کھاکے قسم لے
      تم نے ہے نامِ بیف پہ اخلاق کو مارا             رمضاں میں لیا چھین جنید ہم سے ہمارا
      منہاج کو کیا قتل سلیم شاہ کوپیٹا                 گورکشکوں نے گاڑی سے مسلم کو گھسیٹا
                          کس طرح  ظالموںکایہ احساس بھی ہم لے
        یہ کیسی بہادری کے دکھاتے ہو نظارے        کہ بھیڑگھیر کر کسی انسان کو مارے
         نفرت کے نام پر ہی نہ اب آگے بڑھوتم         اتنے ہو بہادر تو سرحد پہ لڑو تم
                           سرحدپہ کرو جاکے ذرا زور سے حملے
         یہ دیکھ کے دنیا اب حیران ہوگئی          انساں سے بڑھ کہ گائے کی ا ب جان ہوگئی
            ایسا ہے تو حکومت کیا کام کررہی        گئو شالہ میں ہے گائے یہاں بھوکی مررہی
                       اُس کو کھلائو چارا کہ کچھ روز وہ دم لے
         دہشت گروں نے گولیاں جب تم پہ چلائیں     ڈرائیور سلیم نے جانیں تمھاری ہیں بچائیں
          تم فرقہ پرستوں کا کہنا مان لیتے ہو           جو جاں بچاتے ہیں اُن کی ہی تم جان لیتے ہو
                        نفرت کے زمانے میں محبت کا بھرم لے
              جو اس عمل کا ردِ عمل دل سے لگا لے     ایسا نہ ہوکے پھر کوئی ہتھیار اُٹھالے
               کیا ہوگااگر وقت کا تیوربدل گیا    کیا ہوگا یہ بارود میں گر صبر ڈھل گیا
                           ایسا نہ ہو ساغر ؔ کہ کوئی ہاتھ میں بم لے

    

وزارت عظمیٰ کی کرسی سے نواز شریف کی وداعی : پاکستانی عدلیہ نے تاریخ رقم کردی


نہال صغیر

پاکستانی عدلیہ نے تاریخ رقم کردی ۔ اس معاملہ پر گفتگو شروع کرنے سے قبل ہی اگر پاکستانی عوام کو اس بات کیلئے مبارکباد پیش کی جائے تو کوئی برائی نہیں کہ وہ ایک ایسے خطے میں ہیں جہاں عدلیہ کافی حوصلہ مندی کے ساتھ ملک کے سب باوقار اور طاقتور عہدہ پر بیٹھے شخص کے خلاف فیصلہ سناتی ہے کہ وہ بدعنوان ہے اور اس عہدہ کے قابل نہیں ہے یعنی وہ نا اہل ہے ۔ یقیناًیہ پاکستانیوں کیلئے ایک خوشگواریت کے کئی پہلو رکھتا ہے ۔ یہ تو عدلیہ کی آزادی اور اس کی جرات مندی کی ایک تازہ مثال ہے ۔ ہمارے سامنے پاکستان پریس بھی بہت حد تک آزاد ہے اور اس نے کسی دباؤ کو کبھی خاطر میں لانے کے بارے میں نہیں سوچابقول سدارتھ ورداراجن پاکستانی صحافی کافی حوصلے والے ہیں ۔ ’پاکستان پریس فاؤنڈیشن ‘ذرائع ابلاغ اور اس کے کام کاج کے ساتھ ہی اس سے تعلق رکھنے والے افراد کی سلامتی کو درپیش مسائل و مشکلات پر نظر رکھنے والا ایک غیر سرکاری ادارہ ہے ۔ اس نے اپنی تازہ رپورٹ کے شروع میں ہی لکھا ہے ’گزشتہ دہائی میں پاکستان کے ذرائع ابلاغ کے کردار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور خاصی تبدیلی بھی رونما ہوئی ہے ۔گوکہ پچھلے چند سالوں میں کافی مخالفت ہوئی ہے لیکن پاکستان ایک زندہ دل ، آزاد اور بڑی حد تک شفاف ذرائع ابلاغ کا لطف اٹھا رہا ہے ‘۔ یعنی پاکستان میں میڈیا آزاد ہی نہیں بلکہ شفافیت کا مظہر بھی ہے ۔ کم و بیش یہی حالت یا اس سے بہتر پوزیشن میں وہاں کی عدلیہ ہے ۔ جہاں کی عدالت عظمیٰ نے ابھی پناما لیکس معاملہ میں نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا اور انہیں اپنی وزارت عظمیٰ کی کرسی چھوڑنی پڑی ۔
پناما لیکس وکی لیکس کے بعد دنیا کے کئی ممالک کے بدعنوان سیاست دانوں اور بیوروکریٹ کا کچا چٹھا ہے ۔ پناما پیپر میں صرف پاکستانی سیاست دانوں کے ہی نہیں کئی ہندوستانیوں کے نام بھی ہیں لیکن اس تعلق سے اب تک یہاں کسی سراغ کسی ہلچل کی کوئی خبر نہیں ۔ سدھارتھ ورداراجن کہتے ہیں اس معاملے میں تو کم از کم پاکستان سے ہمیں سبق لینے کی ضرورت ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں کے لوگ حالانکہ پاکستان میں کچھ بہتر ہے یہ سننا پسند نہیں کرتے لیکن یہ کہنا پڑے گا کہ انہوں نے ایک مثال قائم کی ہے ۔ وہ ایک درجہ ہم سے اوپر چڑھ گئے ہیں ۔ حالانکہ بدعنوانی کے معاملات میں یہاں کافی شور غل مچا ہوا ہے ۔ ہنگامہ اتنا تیز ہے کہ وہ محاورہ بولنا پڑتا ہے کہ کانوں پڑی آواز سننے کو نہیں ملتی ۔ لیکن یہ سب محض دکھاوا ہے ۔ شاید عوام بھی اس کے لئے زیادہ بیدار نہیں ہے ۔ پاکستانی عوام نے سپریم کورٹ تک جاکر اپنی بیداری کا ثبوت فراہم کیا ۔ لیکن ہمارے یہاں تو سپریم کورٹ نے ہی پناما پیپر معاملہ میں انکوائری کی بھی اجازت نہیں دی ۔ عوام کو بھی شاید اس کی ضرورت نہیں یا انہیں اس کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کیلئے فرصت ہی نہیں ہے کیوں کہ وہ فی الحال گائے اور بیف یا پھر مندر مسجد کے جھگڑوں اور لو جہاد جیسے اہم معاملات میں الجھے ہوئے ہیں ۔ ان کے سامنے نریندر مودی ایک کرشماتی شخصیت ہیں جو ہندوستان کو ثریا کی بلندی پر لیجانے کی قوت رکھتے ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ ساڑھے تین سال میں سوائے اعلانات اور سلوگن کے کوئی اور کام ہوتا نظر نہیں آیا ۔ اگر کچھ ہوا ہے تو عوام کا بھرکس نکالنے والے کرنسی منسوخی اور جی ایس ٹی جیسے فیصلے ۔ جس کی قیمت ملک ادا کررہا ہے اور نا جانے کب تک ادا کرتا رہے گا ۔
بدعنوانی کیخلاف مرن برت کا ڈرامہ رچنے والے انا ہزارے بھی نہ جانے کہاں کھوئے ہوئے ہیں ۔ وہ تو بدعنوانی کے خلاف جنگ کے وہ سپاہی مانے جاتے تھے جو کہ ساری دنیا میں اکیلا ہے ۔ لیکن وہ بولے اور بہت بولے لیکن پناما پیپر جیسے معاملات میں ان کی کوئی آواز نہیں آئی ۔ پتہ نہیں انہیں اس بلا کے بارے میں جانکاری بھی ہے کہ نہیں یا ان کی بدعنوانی کیخلاف اسی حد تک پہنچ ہے کہ ایک ایک قانون بن جائے جس پر کبھی عمل نہ ہو اور ایک عدد اس کا ذمہ دار چن لیا جائے جو کبھی کام نہ کرے ۔ ایسالگتا ہے مرکز میں یو پی اے کی حکومت ختم کرواکر اور این ڈی اے کی حکومت بنوا نے تک ہی ان کی دلچسپی تھی ۔ گویا وہ ایک خاص گروہ کی جانب سے بدعنوانی کے خلاف جنگ کے نام پر پلانٹ کئے گئے تھے اور اب ان کا کام ختم یاشاید وہ یہ سوچ رہے ہوں کہ اب بدعنوانی کا یہاں گزر ممکن نہیں جیسا کہ ان دنوں مودی صاحب پیش کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ بہار میں نتیش کمار کا عظیم اتحاد سے ناطہ توڑ کر وزیر اعلیٰ کی کرسی سے استعفیٰ دینے پر مودی جی نے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’’بدعنوانی کی جنگ میں شامل ہونے پر مبارکباد ‘‘۔ ہمیں کسی ایک شخصیت یا کسی ایک پارٹی کو نشانہ بنانے کا شوق نہیں اور نہ ہی ہم اس کے قائل ہیں کہ کسی کی بیجا حمایت یا مخالفت کی جائے لیکن جب خامی ہی خامی نظر آئے بہتری کی کوئی سبیل نہ نکلے تو تنقید کرنا ہی پڑتی ہے ۔ موجودہ حکومت بدعنوانی کے خلاف جنگ کا ڈھول تو پیٹتی ہے لیکن اس میں یا تو وہ سنجیدہ نہیں ہے یا عوام کو گمراہ کرنے میں زیادہ سنجیدہ ہے ۔ موجودہ حکومت اور اس کی پارٹی کی ریاستی حکومتوں میں کئی بدعنوانی کے معاملات ہوئے ہیں ۔ جس میں مدھیہ پردیش کی تعلیمی بدعنوانی سب سے اوپر ہے ۔ کوئی ریاست ایسی نہیں ہے جہاں ان کی حکومت پر بدعنوانی کے داغ نہیں لگے ہوں لیکن جب یہ کوئی انکوائری اور کوئی کارروائی ہی نہ کریں تو گرفتاری کس کی ہوگی ۔
ہمیں عددی ، قوت ، دفاعی اور مالی برتری کے احساس تفاخر سے باہر نکل کر قدرے کمزور ، ناکام اور دہشت گرد ریاست پاکستان سے آنے والی خبر جو کہ پہلی ہے اور نہ ہی آخری ، پر دھیان دینا ہی ہوگا کہ ایک کمزور ، ناکام اور دہشت گرد ریاست کی عدلیہ اسقدر جرات مندانہ قدم اٹھا سکتی ہے تو ہماری عدلیہ کیوں نہیں ۔ ہم اپنی عدلیہ کو اتنا آزاد کیوں نہیں بنا سکتے کہ اسے کسی معاملہ کو اس لئے التوا میں ڈالنے کی ضرورت نہ پڑے کہ اس کا یہ فیصلہ ان لوگوں کے خلاف جائے گا جو کہ بہت طاقتور اور اقتدار میں ہیں ۔ ہاں ہم بدعنوانی کے معاملہ میں صرف اس وقت قدم اٹھائیں گے جب اس سے ہمیں حزب اختلاف کو نشانہ بنانا ہو یا اپنا مفاد عزیز ہو ۔ ملک کا مفاد تو شاید ہم نے کہیں دور رکھ چھوڑا ہے ۔ اس سے ہمیں کیا مطلب ۔ حالیہ بہار کا معاملہ ہی لے لیا جائے تو اس میں سیاسی انتقام کے علاوہ اور کیا ہے ۔ ورنہ مبارکباد دینے والے کا وزیر اعلیٰ کئی فسادات اور اقدام قتل کے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے اور اس کے خلاف کئی تھانوں میں ایف آئی آر درج ہیں ۔ لالو پرشاد کے خاندان پر جو الزامات ہیں اس سے سنگین الزمات نتیش اور ان کے نئے دوست سشیل مودی پر ہیں لیکن نتیش کی نوٹنکی دیکھئے کہ انہوں برسوں قبل درج ایف آئی آر کو دیکھ کر انجان بننے کا ڈرامہ اور دو دن قبل کے ایف آئی آر پر ہنگامہ آرائی اور اپنی ایمانداری کا پرشور اعلان ۔ پچھلی یو پی اے حکومت میں تو اتنی اخلاقی جرات تھی کہ اس نے اپنے ہی ساتھیوں کے خلاف انکوائری کروائی اور انہیں جیل جانا پڑا لیکن موجودہ حکومت تو باتوں اور میڈیا منیجمنٹ کی اتنی ماہر ہے کہ چوری بھی اور سینہ زوری بھی اس کا وطیرہ بنتا جارہا ہے ۔ کاش ہم بھی پاکستانی عدلیہ کی طرح کوئی مثال پیش کرسکتے ! ایسے بہترین مثال کیلئے بابری مسجد کا مقدمہ ہی بہت ہے ۔

جے شری ۔۔۔۔ اور اللہ اکبر


نہال صغیر
جدید سیکولر جمہوری طرز حکومت کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس میں حکومت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔ وہ کسی مذہب کو سپورٹ نہیں کرسکتا ۔ہاں اپنی ذاتی زندگی میں وہ مذہبی رسومات کی ادائیگی کیلئے آزاد ہے ۔ ہندوستانی سیکولر جموہری حکومت میں بھی یہی سب کچھ کہا گیا ہے ۔لیکن یہ صرف دستور کی حد تک ٹھیک ہے ۔ عملا ً آزادی کے بعد سے ہی یہاں ہندوازم کا نفاذ ہوتا رہا ہے ۔ اس کے لئے سب سے پہلے آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کو ان کی اوقات بتانے کیلئے بابری مسجد میں مورتیاں رکھ کر اس کے دروازے مسلمانوں پر ہمیشہ  کیلئے بند کردیئے گئے ۔ اس وقت ہمارے ہمالہ جیسے بلند قامت قائد اور سیاست داں موجود تھے لیکن وہ یا تو خاموش رہے یا محض چند الفاظ کی ادائیگی کے فرائض سے سبکدوش ہو کر گوشہ نشیں ہوگئے ۔دو قومی نظریہ کے مقابلے ایک قومی نظریہ کے علمبردار بھی کافی تعداد میں موجود تھے ۔ گویا آزاد ہندوستان میں ان کے’ ایک قومی نظریہ‘ کی دھجیاں ان کی آنکھوں کے سامنے بکھیر دی گئیں اور وہ دیکھتے ہی رہے۔بہر حال بات ہندوراشٹر کی سمت بڑھتے قدم کی چل رہی ہے ۔ کانگریس نے بھی وہی سب کچھ کیا جو آج آر ایس ایس کی حمایت سے بی جے پی کررہی ہے ۔بس فرق ذرا یہ ہے کہ یہ لوگ کچھ زیادہ ہی پرجوش ہیں اور جوش میں انسان احتیاط کا دامن چھوڑ دیتا ہے ۔ کانگریس کے لیڈر اور اس کے کیڈر بڑے منجھے ہوئے گھاگ لوگ تھے انہیں پتہ تھا کہ ملک میں ہندوتوا یا برہمنیت کو کس طرح نافذ کرنا ہے ۔
۱۴ ؍مئی ۲۰۱۴ کو پارلیمنٹ میں جب مودی جی پردھان سیوک کی حیثیت سے داخل ہوئے تو وہاں جے شری ۔۔۔۔کا نعرہ بلند کیا گیا ۔اب صدر جمہوریت منتخب ہونے پر رام ناتھ کووند کی تقریب حلف برداری پر بھاجپائی ممبران پارلیمان نے جئے شری ۔۔۔کا نعرہ بلند کیا ۔اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے گجرات کے آئی پی ایس سنجیو بھٹ نے سوال کیا ہے کہ جب پارلیمنٹ میں اللہ اکبر کا نعرہ بلند ہوگا تب آپ کا ردعمل کیا ہوگا ۔ سنجیو بھٹ نے بالکل صحیح سوال اٹھایا ہے ۔یہ لوگ محض تھوڑی سی قوت پانے کے بعد اپنی سطحی سوچ کا ثبوت دیتے ہوئے وہ حرکتیں کررہے ہیں جس کا ردعمل بھی آج یا کل آنا ہی ہے ۔ ویسے اللہ اکبر کا نعرہ تو بہت بڑی چیز ہے ، انہیں تو صرف اردو میں کسی مسلم ممبر پارلیمنٹ کا حلف لینا تک گوارا نہیں ہے ۔ اگر کبھی ایسا کوئی غیرت مند مسلمان منتخب ہو کر پارلیمنٹ میں پہنچ گیا تو ضرور وہ اس ردعمل کا اظہار کرے گا اور تب ان کا چرغ پا ہونا قابل دید ہوگا ۔ حالیہ برہمنیت کے علمبرداروں کا جوش و خروش کچھ ایسا سطحی انداز کا ہوتا جارہا ہے کہ وہ کہیں بھی کچھ بھی بولنے لگے ہیں ۔ اسی طرح یوپی کے موجودہ  برہمنی وزیر اعلیٰ  یوگی آدتیہ ناتھ نے ایودھیا میں کہا کہ انڈونیشیا سب سے بڑی مسلم آبادی والا ملک ہے  لیکن وہاں کا قومی تہوار رام لیلا ہے ۔ اس پر ڈاکٹرمنموہن سنگھ کے نام سے ٹوئٹر اکائونٹر ہولڈر نے جواب دیا آپ کیا بتانا چاہ رہے ہیں ۔ ہندوستان سب بڑی ہندو آبادی والا ملک ہے تو ہم رمضان کو قومی تہوار قرار دے دیں ۔ یہ بالکل صحیح جواب ہے ۔ اس طرح سے یہ لوگ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جب مسلم ملکوں میں منادر اور ہندو تہواروں کو یہ اہمیت دی جاتی ہے تو ہندوستان میں مسلمان اتنی سختی سے پابندی کیوں کرتے ہیں کہ ’’ہمیں رام مندر نہیں بنانے دے رہے ہیں ‘‘۔ حالانکہ انہیں منادر بنانے اور ان کے پوجا پاٹھ سے کس نے روکا ہے ۔ بابری مسجد مسلمانوں کی ہے اور خالص مسلمانوں کی ہے وہ کسی کی زمین پر غاصبانہ قبضہ کرکے نہیں بنائی گئی ہے ۔ اس معاملہ اب عدالت عظمیٰ میں ہے ۔لیکن چار سال سے وہاں بھی اس کی سماعت نہیں ہوئی ہے ۔اگر ہمارے ملک میں عدالتیں آزاد اور خود مختار ہوتیں تو الہٰ آباد ہائی کورٹ کا بابری مسجد کی ملکیت والے مقدمہ میں بندر بانٹ والا فیصلہ نہیں ہوتا اور چار سال سے سپریم کورٹ میں بابری مسجد کا مقدمہ زیر التو انہیں ہوتا ۔ عدالت کی لاچاری دیکھئے کہ اس نے فریقوں کو آپس میں معاملہ حل کرنے کا مشورہ دیا ۔اگر آپس میں معاملہ حل ہو سکتا تھا تو پھر اس کے پاس ہی مقدمہ کیوں جاتا ۔دوسری بات یہ کہ یہ دو لوگوں کا جھگڑا نہیں ہے ۔یہ دو قوموں کا معاملہ ہے جسے ہندو شدت پسندوں نے پیچیدہ بنادیا ہے ۔مسلمان تو کہہ رہے ہیں کہ عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی وہ قبول ہوگا ۔لیکن عدالت خوب سمجھ رہی ہے کہ حق کس کے ساتھ ہے انصاف کے معاملہ میں پلڑا کس کا بھاری ہے لیکن فیصلہ کو کون فریق نہیں مانے گا اور ملک کو انارکی میں دھکیل دے گا ۔
بہتر ہوتا کہ ملک کو جے شری ۔۔۔ اور اللہ اکبر کے نعروں میں الجھانے کی بجائے اس کی ترقی کو فوقیت دی جاتی ۔ ملک ترقی کی دوڑ میں آگے کی بجائے پیچھے کو جارہا ہے ۔ ہر طرف افراتفری کا ماحول ہے ۔ زبردستی ملک پر برہمنیت تھوپنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اگر بالجبر جے شری ۔۔۔ کے نعروں کو تھوپا گیا ۔ ملک میں ایک خاص نظریہ چلانے کی کوشش کی گئی تودوسرے فرقہ اور عقیدوں کے لوگ بھی ردعمل میں اپنے نعروں اور عقیدوں کے نفاذ کیلئے جد و جہد کی کوشش کریں گے ۔ نتیجہ کے طور پر ملک لا متناہی انتشار کا شکار ہو جائے گا اور اس کی ذمہ داری موجودہ حکومت کر سر ہوگی ۔

نہ تم جیتے نہ ہم ہارے


قاسم سید

سیاست کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ اس سینہ میں دل نہیں ہوتا وہ بے رحم ’سنگدل‘ مفاد پرست خودغرض ہوتی ہے ۔ اپنے قول وفعل میں تضاد پر شرماتی نہیں اگر انسانی اقدار اور روایات اس کی روح سے نکل جائیں تو حیوانیت ودرندگی کا جامہ پہن لیتی ہے ۔ بے شرم وحیا بن جاتی ہے یہ اس صور ت میں ہوتا ہے جب اس کا واحد مقصد اقتدار ہو‘خدمت نہیں۔بے وفائی وہرجائی پن اس کی سرشت میں داخل ہے ۔ جذبہ وفاداری خال خال ہی ملتا ہے جس طرح بھیڑئیے کے بارے میں مشہور ہے کہ اسے بھوک لگتی ہے تو وہ اپنا پرایا نہیں دیکھتا‘ اگر سامنے اس کی نسل موجود ہوتو اسے بھی چیرپھاڑ کر کھاجاتا ہے کیونکہ اس کی پہلی اور آخری ترجیح پیٹ بھرنا ہے اسی طرح جب سیاست داں کی پہلی اور آخری ترجیح اقتداربن جائے تو شرافت ، انسانیت ، روایات ، اقدار، وعدے ، دعوت بقدرپیمانہ تخیل بھی نہیں رہتےانہیں روند کر جاتی ہوئی لیلائے اقتدار کا پلوتھام کر بے حیائی کی سارے حدیں پار کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا ، جہاں تک ہندوستانی سیاست کا تعلق ہے وہ فرقہ واریت اور سیکولرازم کے کھلونوں سے کھیلنے کی عادی ہے ۔ جب جی چاہا من پسند کھلونااٹھالیا جی بھر گیا تو دوسرے کی طرف ہاتھ بڑھادیا اس کے جواز کے لئے اس کے پاس ہزاروں دلائل ہوتے ہیں اور دلائل بیان کرتے وقت آنکھوں میں شرم کاپانی نظر نہیں آتا ۔ خاص طور سے سیکولر ازم ایک میمنہ ہے جو کبھی گود میں تو کبھی دانتوں کے درمیان ہوتا ہے کب کوئی سیکولرازم کا جاپ کرتے چین کی طرح فرقہ واریت کے ڈوکلام میں داخل ہوجاتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا اور کب کوئی فرقہ واریت کے شہر میں زندگی گزارتے سیکولرازم کی سرائے میں پناہ لینے آجاتا ہے اس کا احساس بھی نہیں ہوپاتا ۔ یہ دو قبیلے آزادی کے بعد سے ہی نہ صرف ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے آرہے ہیں بلکہ عوام کے ساتھ بھی سنگین مذاق کر رہے ہیں ۔ خاص طور سے سیکولر قبیلہ اقلیتوں اور دلتوں کو بکری کی طرح استعمال کرتا آیا ہے جو شیر کا شکار کرنے کے لئے مچان کے نیچے باندھی جاتی ہے اس کی تازہ ترین مثال ہم سب کے محبوب اپوزیشن اتحاد کے علمبردار، سنگھ مکت بھارت بنانے کا عزم دکھانے والے نتیش کمار جی ہیں جو نہ جانے کب سے آشیانہ بدلنے کے لئے پرتول رہے تھے اوران کی بے قراری رہ رہ کر سامنے آتی تھی ایک کمزور بہانے کی آڑ لے کر راتوں رات شب خون مارااور پھر وہیں چلے گئے تھے جہاں کے لئے ان کی روح تڑپ رہی تھی ۔ انہیں وزیراعظم اور بی جے پی نے اس طرح سینہ لگایا جیسے کسی ماں کو اس کا میلہ میں کھویا ہوا بیٹا مل گیا ہو۔ جے بھیم کرتے کرتے وہ جے شری رام کہنے لگے ۔ سنگھ مکت بھارت کی تعبیر کو سنگھ یکت بھارت میں ڈھونڈیں گے ۔ انہیں اس بات سے کوئی مطلب نہیں کہ دو سال قبل بہار کے عوام سے جن طاقتوں کا ڈر دکھاکرووٹ مانگا تھا ان کے اعتماد کا خون ہوسکتا ہے ۔ یہ سراسر وعدہ شکنی ہی نہیں فریب اور اعتماد شکنی ہے۔ ان کے جذبات سے کھلواڑ ہے ۔ ظاہر ہے ایک ایماندار سیاستداں کسی بدعنوان سے سمجھوتہ کیسے کرسکتا ہے ۔ حالانکہ یہ کہتے وقت بھول جاتے ہیں نیا گٹھ بندھن میں وہ شخص شامل تھا جو سزا یافتہ ہے اور اس پر بدعنوانی کے سنگین مقدمات چل رہے تھے یہ گڑ کھاکر گلگلوں سے پرہیز کرنے والی بات بھی کہی جاسکتی ہے ۔
نتیش کمار ایک اچھے شریف انسان ہوسکتے ہیں وہ عملا بے داغ شبیہ کے ایماندار سیاست داں بھی کہے جاسکتے ہیں مگرنظریاتی طور پر وہ کرپٹ اور دیوالیہ ہیں وہ نہ بی جے پی کے لئے مخلص رہے اور نہ ہی اب لالو پرساد یا مہا گٹھ بندھن کے لئے وہ جن بنیادوں پر بی جے پی سے الگ ہوئے تھے جن خدشات نے انہیں سترہ سال کی رفاقت توڑنے پر مجبور کیا تھا اور جس الارم نے راستہ بدلنے پر مجبور کیاتھا اگر وہ سب حقیقی نہیں تھے تو وہ خطرات اور خدشات پہلے سے زیادہ سنگین اور تباہ کن انجام کے ساتھ شراروں سے شعلوں میں بدل چکے ہیں ۔ انہوں نے مودی کو پی ایم امیدوار بنانے کے ساتھ ہی این ڈی اے سے رشتہ منقطع کیاتھا مودی کے ہیئت قلب میں بظاہر تو کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی تو سوال یہ ہے کہ انہوں نے جن خدشات وخطرات کو ڈھال بنا کر جن توقعات کی بنیاد پر این ڈی اے سے نجات حاصل کی تھی کیا وہ پوری نہیں ہو رہی تھیں یا انہوں نے اپنا گول بدل دیا ۔ کیا وہ وزیراعظم بننے سے متعلق مایوس ہوگئے اور ان کی ترجیحات تبدیل ہونے کے ساتھ ہی قبلہ وکعبہ بدلنے کا فیصلہ کرلیا۔ کیا سیکولر مورچہ کے ساتھ رہنے سے ان کی آرزوئوں کو آسودگی حاصل نہیں ہو رہی تھی کہ وہ جائیں ادھر کو ہوا تھی جدھر کی کے لئے مجبور ہوگئے ۔
دراصل جس طرح سے حالات نے کروٹ لی اور آنا فانا سب کچھ ہوتاچلا گیا اس سے یہ اندازہ لگانا قطعاً غلط نہیں ہے کہ پورا اسکرپٹ پہلے سے تیار تھا ، ساری منصوبہ بندی کے ایک ایک نکتہ پر ریہرسل کرلی گئی تھی اور بابری مسجد انہدام کی طرح نتیش کا فیصلہ بھی اچانک نہیں تھا ۔ اس کا تیجسوی معاملہ سے کوئی تعلق بھی نہیں ہے ۔ یہ کمزور سابہانہ ہے جو کسی معقول انسان کے گلے نہیں اترسکتا۔کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ استعفیٰ کے محض کچھ لمحہ کے بعد بی جے پی ہائی کمان آگے کے حالات پر غور کرنے کے لئے سہ رکنی کمیٹی بناتی ہے تھوڑی دیر بعدخبر آتی ہے کہ پٹنہ میں بی جے پی ممبران اسمبلی کی میٹنگ میں نتیش کمار کی حمایت کا فیصلہ کرلیاگیا ۔ یہ ممبران پھر نتیش کے گھر پر پہنچ جاتے ہیں اور انہیں این ڈی اے کا لیڈر چن لیتے ہیں پھر رات کو ہی گورنر سے مل کر حکومت سازی کا دعویٰ کردیاجاتا ہے ۔ ڈیڑھ گھنٹہ تک گورنر سے صلاح ومشورہ ہوتا ہے ۔ رات کے ڈیڑھ بجے وہاں سے واپسی ہوتی ہے اور سشیل کمار مودی ڈپٹی سی ایم بنادئیے جاتے ہیں ۔ حلف برداری کا وقت جو شام پانچ بجے تھا وہ اچانک ہی صبح 10بجے کا ہوجاتا ہے اور آر جے ڈی کو گورنر گیارہ بجے ملنے کا وقت دیتے ہیں ۔ آخر نتیش کمار کو جلدی کیاتھی انہیں کس بات کا اندیشہ تھا اور ہے جو انہوں نے بغیر تاخیر بی جے پی سے سیاسی شادی کا اعلان کردیا ۔ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی وزیراعظم نے کسی سی ایم کو مستعفی ہونے پر مبارکباد دی ہے ۔ یہ جو ش ومحبت یہ بے قراری بے تابی اور محبت کی لہریں اندرون دریا کب سے ساحل اظہار پر سرپٹکنے کے لئے بے تاب تھیں بس مناسب موقع کا انتظار تھا ۔ آگ تو دونوں طرف لگی تھی اور وہ تیر جو رقابت میں بی جے پی کی آئیڈیا لوجی پر چلائےجاتے ہیں ان کار خ دوسری طرف موڑدیا گیاہے ۔ اب دیش کو تباہی کی طرف لےجانے والی پارٹی یقینی طور پرراشٹر بھکت اور دیش پریمی بتائی جائے گی ۔ مہاگٹھ بندھن میں سوکیڑے نکالے جائیں گےاور ایک دوسرے کے خلاف دل کی بھڑاس باہر نکلے گی ۔ کل تک جو بی جے پی کو چمٹے سے چھونے کو بھی پاپ سمجھتے تھے اب اسے آغوش میں دبائے دلار دکھاتے نظرآئیں گے ۔ یہ ہے ہندوستانی سیاست کا مکروہ چہرہ ۔ ڈھونگی فرقہ پرست اور ڈھونگی سیکولر کا اصلی چہرہ جو ہم دیکھنا نہیں چاہتے اور شترمرغ کی طرح آنکھیں بند کرکے آنے والے طوفان کے گذرجانے کا خواب دیکھتے ہیں ۔
ایسا نہیں ہے کہ لالو دودھ کے دھلے ہیں ۔ انہوں نے سیاسی پاپ نہیں کئے ہیں‘ ان کا پورا خاندان بظاہر بدعنوانی کےحمام میں ننگا لگ رہا ہے۔سب پر بے نامی جائیداد رکھنے کا الزام ہے اور تفتیش کے دائرے میں ہیں ۔ اگر لالو نے سنگین غلطیاں نہ کی ہوتیں توعوام انہیں سیاسی بنواس پر نہ بھیجتے ۔ انہوں نے بہار کے عوام کے لئے کچھ نہیں کیا اور پنا گھر بھرتے رہے ۔ اس کی سزا بھی ملی مگر لالو کی تمام تر بدعنوانیوں ، بدنامیوں اور اقربا پروری کے باجود ایک بات جو لالو کے حق میں جاتی ہے اور انہیں ہندوستان کے دیگر سیاست دانوں سےممتاز کرتی ہے وہ سیکولر اقدار کے ساتھ ان کا عہد وفاداری ہے جس پر ہلکا سا بھی داغ نہیں ہے وہ ملک کے اکلوتے ایسے سیاست داں ہیں جنہوں نے کبھی فرقہ پرست کہی جانے والی قوتوںسے سمجھوتہ نہیں کیا ۔ ان کے ساتھ رفاقت کی راست یا بالواسطہ کوشش نہیں کی شاید ان کی یہی غلطی موجودہ آزمائشوں کا ایک سبب ہوسکتی ہے ۔ دوسری طرف نتیش کمار نے بھلے ہی بی جے پی کے ساتھ مل کر سرکاربنالی ان کی ایماندارانہ شبیہ کو اور جلا مل گئی اور داغ اب ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گامگر اپنا اعتبار کھونے کی سمت میں ایک قدم اور آگے بڑھ گئے ہیں ۔
یہ خسارہ بہت بڑا ہے جو لوگ ان پر اعتبار کر نے لگے تھے وہ خود کویقینا ٹھگا سا محسوس کرنے لگے ہوں گے ۔ حالانکہ غیر جانبداری سے تجزیہ کیا جائے تو اس میں کچھ غلط بھی نہیں جب سیاست صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کا نام ہے اور ساراکھیل اقتدار کا ہے تواس میں اصول ونظریہ کی جگہ کہاں رہ جاتی ہے ۔ دراصل ہم نے سیکولرازم کو ایمان کا جزولاینفک بنالیا ہے اور جو اس کی صدا لگاتا ہے اس کی طرف لپک پڑتے ہیں یہ سادہ لوحی یا حماقت ہمیں لگاتار محرومیوں کی طرف دھکیل رہی ہے جس سے دل لگاتے ہیں وہ تھوڑی دور چل کر دغا دے جاتا ہے اور ہم پھر کس راہرو کو ڈھونڈنے نکل پڑتے ہیں۔ سیکولرازم ان کے لئے ضرورت ہے اور ہمارے لئے عقیدت ، ان کے لئے کھلونا ہے ہمارے لئے وہ واحد راہ نجات ، یہ حکمت عملی کی غلطی ہے ملک کی 14فیصد آبادی گھڑی کے پنڈولم کی طرح ادھر سے ادھر بھاگ رہی ہے ۔ اسے قرار نہیں۔ کوئی جائے پناہ نہیں ۔ سوال کسی کے دھوکہ دینے کا نہیں دھوکہ کھانے کا ہے۔ نتیش کمار تو ایک علامت ہیں یہاں تو قدم قدم پر ایسے نتیش کمار ہیں ۔ ان پر ایمان لانے والوں کے لئے یہ واقعہ یا ایسے واقعات دل شکنی کاباعث بن سکتے ہیں لیکن جو سیکولرازم اور فرقہ واریت کے ڈھکوسلوں سے واقف ہیں ان کے لئے یہ تفریح طبع کاسامان ہیں۔2019سامنے کھڑاہے اور بظاہر مودی کے سامنے کوئی بھی نہیں ہے ۔ بہار جو مضبوط چٹان کی طرح تھانتمستک ہوگیا ۔ دیکھنا ہے کہ عام انتخابات تک اور کون کون سجدہ سہو کرتاہے ۔ سیکولرازم جارح ہندوتو کے آگے عصائے سلیمانی لگ رہاہے کیا پتہ قدرت نے کچھ اور سوچ رکھا ہو کیونکہ ہم نے اپنے حصہ کا کام بھی قدرت کو سونپ رکھا ہے ۔
qasimsyed2008@gmail.com


انسانی تاریخ کے عروج و زوال میں بنت حوا کاکردار اور عرب کے موجودہ فرعون ..!



عمر فراہی ۔ ای میل  :  umarfarrahi@gmail.com

مصر میں جمہوری طریقے سے منتخب صدر ڈاکٹر مرسی کے خلاف فوجی بغاوت اور ان کی حمایت میں سڑکوں پر اتری بھیڑ پر جس طرح رمضان کے مہینے میں گولیاں برسائی گئیں یہ حادثہ خود اپنے آپ میں کسی ظلم عظیم سے کم نہیں تھا ۔لیکن اس کے بعد نہ صرف ڈاکٹر مرسی کے ساتھ نہتے مظاہرین کو بھی پابند سلاسل کیا گیابلکہ مجھے یاد نہیں ہے کہ مغلیہ سلطنت اور سلطنت عثمانیہ کے آخری دور تک اسلام کی تیرہ سو سالہ سیاسی تاریخ میں کسی مسلم حکومت میں کبھی بنت حوا کو بھی وہ چاہے کسی بھی مذہب اور قوم سے تعلق رکھتی ہوں ہتکڑیاں لگا کر پابند سلاسل کیا گیا ہو۔لیکن اکیسویں صدی میں یہ کارنامہ مصر کے یہود نواز فوجی ڈکٹیٹر السیسی نے انجام دیا اور اس ظلم کی حمایت عرب کے دیگر موجودہ فرعونوں نے بھی کیا اور ابھی تک مسلسل کیا جارہا ہے۔اکیسویں صدی کی اس فرعونیت سے پہلے یہ کارنامہ اسی مصر میں جمال ناصر اور شام میں حافظ الوحشی کے ذریعےانجام دیا گیا ۔مشہورو معروف سماجی خدمت گار زینب الغزالی کو نو سال اور شام کے ایک کالج میں زیر تعلیم ایک مسلم دوشیزہ مریم دباغ کو پانچ سال تک سلاخوں کے پیچھے جس خوفناک اذیت اور تشدد سے گذارا گیا یہ پوری داستان انہیں کی زبانی ان کی تصنیف "زنداں کے شب وروز" اور "صرف پانچ منٹ" میں پڑھا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ امریکی اور ایرانی حکومتوں میں عافیہ صدیقی اور ریحانہ جبار کے ساتھ جو ہورہا ہے اور جو ہوچکا ہے موجودہ مہذب جمہوری تاریخ سے پہلے قرآن میں فرعون کا تذکرہ آتا ہے جس نے ایک پوری قوم کی عورتوں کو قیدی بنا کر ان کی اولادوں کو اس لئےقتل کرنا شروع کردیاتھا کیونکہ اس کے نجومیوں کی پیشن گوئی تھی کہ بنی اسرائیل کا ایک نوجوان اس کی سلطنت کو تباہ کرنے کیلئے پیدا ہونے والا ہے۔اس کے برعکس خلفائے راشدین کے بعد سلسلہ ملوکیت میں بھی مسلم حکمرانوں کی اتنی غیرت زندہ تھی کہ انہوں نے بنت حوا کی عفت و عصمت پر کبھی کوئی آنچ نہیں آنے دی۔حجاز بن یوسف کو مسلم دور حکومت میں ایک ظالم اور جابر حکمراں کے طور پر جانا جاتا ہے لیکن پھر بھی اس نےہندوستان کی سرحد میں ایک عرب قافلے کو قیدی بنا لیےجانے پر اپنی فوج کو کوچ کرنے کا حکم دے دیا اور پھر محمد بن قاسم کی قیادت میں راجہ داہر سے جو معرکہ آرائی ہوئی اس واقعے کوتاریخ کےسنہرے باب میں شمار کیا جاتا ہے ۔تاریخ میں معتصم با اللہ کے اُس واقعے کو تمام مورخین نے نقل کیا ہے کہ اس نے اپنی سرحد کے باہر ایک عرب لڑکی کے اغوا کر لیے جانے اور اس کی اس چیخ وپکار پر کہ یا معتصم باللہ مجھے بچاؤ اپنی فوج کو اسی وقت کوچ کرنے کاحکم دیااور اس وقت تک بھوکا اور پیاسا اپنی فوج کو لیکر سفر کرتا رہا جب تک کہ اس نے لڑکی کو آزاد نہیں کروا لیا ۔ایک واقعہ اسی صدی میں طالبان کے دور کا ہے جب برطانیہ کی ایک خاتون جرنلسٹ ایون ریڈلی چوری چھُپے طالبان کی جاسوسی کرنے کیلئے ان کی سرحد میں داخل ہوگئی اور گرفتار ہوگئیں۔ طالبان نے نہ صرف ان کی عزت وعصمت کی حفاظت کی بلکہ انہیں بعد میں رہا بھی کردیا اور ایون ریڈلی نے رہائی کے بعد برطانیہ پہنچ کر اپنے اسلام میں داخل ہونے کا اعلان بھی کردیا ۔داعش جسے ایک خونخوار دہشت گرد تنظیم کہا جاتا ہے اور اس کی دہشت گردی کے تعلق سے تحریکی، سلفی ،دیوبندی اور شیعہ سبھی متفق ہیں جب انہوں نے 2013 میں موصل پر قبضہ کیا تو ان کے قبضے میں تقریباً چالیس ہندوستان کی نرسیں بھی آئیں اور انہیں یہ خوف لاحق ہوگیا کہ شاید اب ان کی عزت آبرو محفوظ نہ رہ پائے، اسپتال کے تہ خانوں میں چھپ گئیں ۔ کسی ذرائع سے داعش کے لوگوں سے رابطہ کرکے ہمارے ملک نے جب ان کی واپسی کا نظم کیا اور داعش کے لوگوں نے تہ خانوں میں چھپی نرسوں کو باہر آنے کیلئے کہا تو وہ ساری نرسیں خوف سے لرز رہی تھیں اور بیشتر تہ خانے سے آنے کو بھی آمادہ نہیں تھیں ، مگر جب انہوں نے دھمکی دی کہ اگر وہ باہر نہیں آتی ہیں تو پوری عمارت کو بارود سے اڑا دیا جائے گا ،نرسوں کو مجبوراً باہر آنا پڑا ۔داعش کے فوجیوں نے اپنی حفاظت میں ان تمام نرسوں کوایرپورٹ پر کھڑے ہندوستانی جہاز تک پہنچایا اور اس دوران راستے میں یقین بھی دلایا کہ آپ فکر نہ کریں آپ لوگ ہماری بہن جیسی ہیں آپ کو کچھ نہیں ہوگا ۔ نرسوں کو اس بات پرمکمل یقین اس وقت ہوا جب وہ جہاز میں سوار ہوگئیں اور جہاز نے ان کے ملک کیلئے پرواز شروع کردی ۔یہ باتیں نرسوں نے خود ہندوستان پہنچ کر میڈیا کے سامنے بیان کیں۔
بہادر قوموں کی تاریخ بھی رہی ہے کہ نہ تو انہوں نے کسی قوم کی عورتوں کی عزت و آبرو پر حملہ کیا ہے اور نہ ہی اپنی عورتوں کی غیرت پر آنچ آنے دیا ہے۔ مگر جب وہ اپنی اس غیرت اور حمیت سے محروم ہوئیں توایسی قومیں صفحہءِ ہستی سے مٹا دی گئی ہیں ۔اسپین میں طارق بن زیاد کو اگر غلبہ حاصل ہوا اور مقامی عیسائی حکمراں اقتدار سے محروم ہوئے تو اس لئے کہ انہوں نے اپنے ہی ملک کی خوبصورت لڑکیوں کو جبراً اپنے حرم کی زینت بنانا شروع کردیا تھا ۔ہندوستان میں محمد بن قاسم اور محمود غزنوی کی آمد سے پہلے تک غریب اور پسماندہ قسم کے ہندو خاندان کی عورتوں کیلئے لازم تھا کہ وہ مندروں میں داسی کا کردار ادا کرتے ہوئے رقص وسرود کی محفلیں سجائیں ۔ بہت سے غریب خاندان اپنی بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ ہورہے اس ظلم کو دیکھنے کے بعد بھی مہنتوں اور پجاریوں کے سامنے زبان نہیں کھول سکتے تھے کیونکہ یہی لوگ حکمراں طبقات کے ناظم اور امور مالیات کے اصل نگراں تھے یہی وجہ تھی کہ جب مسلم فوجیں ہندوستان کے علاقوں میں داخل ہوئیں تو یہاں کی آبادی نے کوئی مزاحمت نہیں کی -بعد میں مغلیہ سلطنت کے زوال کی وجہ بھی یہی تھی کہ بادشاہ شریف ماؤں کی بجائے لونڈیوں سے جنے جانے لگے ۔
یہ واقعہ میری نظر سے تو نہیں گذرا لیکن پڑھائی کےدوران اپنے استاد سے سنا تھا کہ جب نادر شاہ درانی نے دلی پر حملہ کیا تو دلی کے شہزادے اپنی بیگمات کو محل میں تنہا چھوڑ کر بھاگ گئے ۔ نادر شاہ جب دلی کے محل میں داخل ہوا تو اس نے محل میں موجود شہزادیوں کو اپنے اہل کاروں سےگنگھرو بھیجوائے اور حکم دیا کہ ان سے کہوکہ وہ فلاں کمرے میں آئیں اور رقص کریں ۔ نادر شاہ درانی یہ حکم دیکر خود کمرے میں نیم برہنہ ہوکرگہری نیند میں ہونے کا بہانہ کرکے سو گیا اور ایک تلوار کمرے کے دروازے پر میز پر رکھ دی ۔ڈری سہمی شہزادیاں گھنگھرو پہن کر کمرے میں داخل ہوئیں اور رقص کرنے لگیں۔کچھ وقفے کے بعد نادر شاہ درانی اٹھ کر بیٹھ گیا اور شہزادیوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ کیا تم وقت کے شاہوں کی بیویاں اور شہزادیاں ہو۔اگر تمہارے اندر ذرہ برابر بھی غیرت اور شرم ہوتی تو تم رقص کرنے سے انکار کردیتیں اور پھر جب تم نے یہ دیکھا کہ وہ شخص جس نے تمہیں رقص کرنے کا حکم دیا ہے گہری نیند سو رہا ہے اور ممکن ہے کہ اس کے بعد تمہاری عزت و آبرو سے بھی کھلواڑ کرتا کیا تم میں سے کسی میں اتنی غیرت نہیں تھی کہ وہ سامنے رکھی ہوئی تلوار اٹھاتی اور مجھے قتل کردیتی۔میرا مقصد تم سے رقص کروانا نہیں تھا بلکہ یہی دیکھنا تھا کہ آخر دلی کے شہنشاہوں کی شکست کی وجہ کیا تھی ۔ اس نے ایک تاریخی جملہ ادا کیا کہ جب کسی قوم کی مائیں اور بیٹیاں بے غیرت ہوجائیں تو اس قوم سےبہادر نہیں بزدل پیدا ہوتے ہیں ۔وہ شہزادے جو اپنی جان بچا کر محل سے بھاگے ہیں اگر وہ بہادر ماؤں کی اولادیں ہوتیں تو سب سے پہلے تو وہ شکست ہی نہ کھاتے اور اگر ایسا ممکن بھی ہوتا تو یہ لوگ فرار ہوتے وقت اپنی بیویوں بہنوں اور بیٹیوں کو بھی ساتھ لے جاتے یا پھر تمہاری حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان دے دیتے ۔
یہ بات بھی سچ ہے کہ جو قوم اپنی ماؤں بہنوں بیویوں اور بیٹیوں کی حفاظت نہ کر سکے یا ان پر ظلم کی مرتکب ہو تو وہ کسی ریاست پر حکومت کرنے کا بھی حق کھو دیتی ہے۔یقیناً قدرت نے ایسی قوموں سے اقتدار بھی چھین لیا ہے۔لیکن تاریخ میں جب حضرت سمیہ حضرت عائشہ صدیقہ اور زینب جیسی ماؤں نے اپنی غیرت اور بہادری کا مظاہرہ کیا ہے تو اس قوم سے صرف اور صرف بادشاہ پیدا ہوئے ہیں اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح وہی مشرکین جو اپنی بیٹیوں کا قتل کردیتے تھے جب اسلام میں داخل ہوئےتو عرب سے افریقہ یوروپ اور روس تک دوسری قوموں پر غالب آتے چلے گئے- اسلامی تاریخ کے عروج میں حضرت ہاجرہ ، مریم ،آسیہ اور حضرت خدیجتہ الکبریٰ اور فاطمہ کے کردار کو کون بھول سکتا ہے، جنھوں نے ایک ماں بیٹی اور بیوی کے کردار میں اسمٰعیل عیسیٰ، موسٰی کلیم اور وقت کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد علی اور حسین جیسے کردار کی پرورش اور خدمت کی ۔آج امریکہ ،مصر شام اور عراق کی جیلوں میں نو عمر مسلم دوشیزائوں کی چیخیں کسی بھی عرب مسلم حکمراں کو سنائی نہیں دیتیں ۔ تاریخ کہتی ہے کہ سیتا کو اغوا کرنے والے اورراون اوردروپدی کی بے عزتی کرنے والے یدھشٹر کی عظیم سلطنت کا نام ونشان مٹ گیا تو پھرایک ایسے وقت میں جب کہ مصر کی عائشہ زینب سمیہ اور ہاجراؤں  نےاپنے ہاتھوں سےمہندی چھڑا کر ہتکڑیاں پہن ہی لی ہیں تو کیا عرب کے فرعون ان کی اولادوں کے عتاب سے بچ سکیں گے۔شاید عرب کے حکمراں قذافی زین العابدین اور حسنی مبارک اور عبداللہ صالح سے کوئی سبق لینے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔تاریخ کے اسی بھولے ہوئے سبق کو یاد دلاتے ہوئے اقبال نے کہا تھا
                 ؎  کھول کرآنکھیں مری آئینہ ءِ گفتار میں۔۔آنے والے دور کی دھندھلی سی اک تصویر دیکھ

نتیش کمار: بے وفا باوفا نہیں ہوتا




ڈاکٹر   سلیم خان
بہار کے صوبائی  الیکشن میں دو غلطیاں وزیراعظم نریندر مودی کو بھاری پڑگئیں حالانکہ  دونوں مرتبہ وہ ان کی  بات درست تھی۔  پہلی بات تو یہ تھی کہ نتیش کمار کے ڈی این اے میں دغابازی ہے۔ نتیش کمار کے بارے میں یہ دعویٰ  مودی جی نے ان کی  ۱۷ سالہ رفاقت  کی بنیاد کیا تھا اس لیے کہ وہ ان کی رگ رگ سے واقف تھے لیکن نتیش نے بڑی  مہارت  اس کو بہاریوں کے وقار کا مسئلہ بنادیا   ۔ بی جے پی والے یہ کہتے کہتے تھک گئے کہ تبصرہ بہاریوں پر نہیں  ہے مگر نتیش کمار  پرہے مگر بڑی مکاری کے ساتھ اس کو صوبے کے سارے بہاریوں کی توہین قرار دے دیا گیا اور اس کو گجرات کے مقابلے بہار تنازع بنا کر پیش کیا گیا۔  ایک زمانے تک  گجرات میں وزیراعلیٰ کے طور پر نریندر مودی بھی یہی گورکھ دھندہ کرتے رہے۔ ان کی مجرمانہ حرکتوں پر جب مرکز کا شکنجہ کستا تھا تو وہ اسے اپنی ذات سے پھیلا کر پورے صوبے کی عوام پر دہلی کا حملہ قرار دے دیتے اور عوام ان کے جھانسے میں بہ آسانی آجایا کرتے تھے ۔ مودی جی  نےگجرات کے تین انتخابات میں اسی حکمت عملی سے کامیابی حاصل کی  تھی ۔نتیش کمارنے بھی اسی  حربے کا  کامیابی کے ساتھ استعمال کرلیا ۔
اندرا گاندھی  سے لے کر نریندر مودی اور نتیش کمار تک میں یہ قدر مشترک ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفاد کو قومی یا صوبائی مفاد سے منسلک کردیتے ہیں ۔  یہی  سوچ ہے  کہ جس نے کبھی اندرا گاندھی کے بارے   میں کہلوایا تھا ’اندرا ہی انڈیا‘ ہے۔ آج کل یہی نقطۂ نظر مودی کے دشمنوں کو  ملک کا دشمن   قرار دے دیتا ہے اور مودی کے مخالفین کو ان کے رادھا موہن سنگھ جیسے لگ نہ صرف  پاکستان  جانے مشورہ بلکہ جبراً پاکستان بھیجنے کی دھمکی بھی دیتے ہیں۔ بہار کی عوام سےکہا گیا کہ وہ اپنے ناخن کے نمونے جمع کروائیں تاکہ انہیں دہلی روانہ کیا جاسکے اور ساری دنیا کو پتہ چل جائے کہ  بہاریوں کے ڈی این اے میں کیا ہے؟  اس وقت خوش قسمتی سے نتیش کے ساتھ لالو پرشاد یادو کھڑے تھے  جنہوں نے بڑی خوبی کے ساتھ اسے عوامی مسئلہ بنادیا ۔
نتیش کمار کے اندر عیاری و مکاری تو کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی  ہے لیکن عوامی لہر پیدا کرنے صلاحیت نہیں ہے اس لیے انہیں ہمیشہ کسی نہ کسی بیساکھی ضرورت پیش آتی ہے ۔ ۱۷ سالوں تک  بی جے پی سے یہ کام لے کر وہ وزیراعلیٰ بنے رہے  مگر پچھلے صوبائی انتخاب سے قبل وہ پھر ایک بار اپنے پرانے دوست لالو پرشاد یادو کی گود میں جابیٹھے ۔ یہ وہی لالو پرشاد یادو ہیں جن کے ساتھ نتیش کمار نے اپنی سیاسی زندگی شروع کی تھی اور جن کے کندھے پر بیٹھ کر وہ سیاست کی دنیا میں آئے تھے مگر آگے چل کرانہیں  کی پیٹھ میں بی جے پی کا ترشول  گھونپ کر وہ  پہلے مرکزی وزیر اور پھر وزیراعلیٰ بن گئے۔ نتیش نے پھر  ایک  بار پھر اپنی پرانی موقع پرستی کی  روایت کو دوہرا کر بشیر بدر کی مشہور غزل کا مطلع یاد دلا دیا ؎
بےوفا باوفا نہیں ہوتا                       ختم یہ فاصلہ نہیں ہوتا
نتیش کمار کی ابن الوقتی نے ان کے اور لالو یادو کے درمیان فاصلے پیدا کردیئے مگر اسی کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ان کی دوریوں کو مٹا دیا ۔  نتیش کے  فاصلوں کا بننا اور بگڑنا خالصتاً  سیاسی مفاد کے پیش نظر ہوتا ہے۔ یہی چیز جب بی جے پی کے قریب لے جاتی ہے تو ان کی زبان پر بدعنوانی کا نعرہ ہوتا ہے اور جب بی جے پی سے دور لے آتی ہے تو سنگھ پریوار کی فسطائیت کا حیلہ ہوتا ہے۔  پچھلے قومی انتخاب میں انہوں نے مونگیری لال  کی مانند خواب دیکھتے ہوئے وزیراعظم بننے کے چکر میں نریندر مودی کی فرقہ پرستی کا بہانہ بناکر بی جے پی سے دامن چھڑا لیا تھا۔ مسئلہ نریندر مودی سے نہیں تھا اس لیے کہ گجرات فساد کے بعد بھی انہوں نے  نہ بی جے پی کو چھوڑا تھا اور نہ مودی کی مخالفت کی تھی ۔ ہوا یوں  کہ   جب سب  کو یقین ہوگیا کانگریس کے دن لد چکے ہیں اور بی جے پی نے مودی کو اپنا امیدوار بنا دیا تو نتیش کو لگا مودی تواکثریت  نہیں لاسکتے اس  لیے اگر پھر سے تیسرےمحاذ کی قسمت کھلتی ہے تو دیوے گوڑا کی طرح ان کی بھی لاٹری لگ سکتی ہے۔  اصل بات تو یہ تھی لیکن اس   کےاظہار کی جرأت نہیں تھی جیسا کہ غزل کا اگلا شعر ہے؎
جی بہت چاہتا ہے سچ بولیں                       کیا کریں حوصلہ نہیں ہوتا
قومی انتخاب  کے نتائج نے نتیش  کے سارے خواب چکنا چور کردیئے اور وہ  بی جے پی کے مقابلےچاروں شانے چت ہوگئے ۔ اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے انہوں نے وہی حربہ استعمال کیا جو اس بار کیا ہے یعنی استعفیٰ پیش کردیا اورجتن رام  مانجھی کو وزیراعلیٰ کی کرسی سونپ دی ۔ مانجھی نے اپنی وفاداریاں بدل کر بی جے پی کے ساتھ پینگیں بڑھانی شروع  کیں تو ان کو برخواست کرکے  خود وزیراعلیٰ بن گئے اور یہی موقعہ تھا کہ جب بغض معاویہ میں لالو یادو نے نتیش کمار کی حمایت کردی۔ لالو کا یہ داوں کامیاب رہا انہوں نے نتیش اور کانگریس کو ساتھ لے کر بی جے پی کو دھوبی پچھاڑ دیا جس کی توقع کسی کو نہیں تھی۔ لالو جی نہایت مقبول ریلوے وزیر رہے ہیں اس لیے وہ بھی وزیراعظم بننے کا خواب دیکھتے ہیں ایسے میں سب سے بڑی پارٹی بن جانے کے باوجود انہوں نے دوبارہ وزیراعلیٰ بننے کے بارے میں نہیں سوچا بلکہ اپنے بیٹوں کو وزارتیں  تھما کر خود سنگھ مکت بھارت کا نعرہ بلند کردیا۔   
قومی انتخاب نے جس طرح نتیش کمار کی غلط فہمی دور کردی اسی طرح صوبائی انتخابات کے نتائج نے مودی جی کی خوش فہمیوں کا خاتمہ کردیا اور دونوں اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ بہار کی حد تک ان کا ایک دوسرے کے بغیر گزارہ نہیں ہوسکتا۔ اسی کے ساتھ ایک نئی سازش کا آغاز ہوگیا جس میں ایک طرف نتیش کمار کی بدعنوانیوں  کی پردہ پوشی کی جاتی تھی بلکہ وقتاً فوقتاً ان کی تعریف و توصیف بھی ہوجاتی تھی  اور لالو یادو پر یکے بعد دیگرے چھاپے پڑتے تھے۔  نتیش کمار  اور ان کے سابق  نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی کے خلاف ۱۱ہزار  کروڈ سے  زیادہ کی بدعنوانی کا ایک مقدمہ ۱۳ جولائی ۲۰۱۲؁ کو قائم ہوا تھا جو ہنوز التواء میں ہے۔   اس میں شک نہیں کہ لالو یادو بدعنوان ہے لیکن ہندوستانی سیاست کے گندے تالاب میں پاک صاف کون ہے؟ مودی جی اپنے ساتھ اڈانی اور امبانی کو لے کر کیوں گھومتے ہیں اور نتیش کے پاس انتخابی مہم چلانے کیلئے روپیہ کہاں سے آتا ہے؟ لیکن لالوجی  پر کارروائی کرکے مودی جی نے نتیش   کمار کو یہ پیغام دے دیا کہ یہی سب تمہارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے ۔ اس سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ پھر سے ہمارے شرن میں آجاو  اور اقتدار کے مزے لوٹو ۔ یہی وہ مجبوری  ہےکہ جس  نےنتیش کمار سے استعفیٰ دلوایا ہے بقول بشیر بدر؎
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی                    یوں کوئی بےوفا نہیں ہوتا
نتیش کمار کے تیور اس وقت سے بدلنے لگے تھے جب سارا ملک نوٹ بندی کے عتاب میں گرفتار تھا ۔ ساری قوم اےٹی ایم کی قطار میں کھڑی کردی گئی تھی ۔ ایک موقع پر خود مودی جی کو  بھی اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا اور رونے دھونے لگے تھے نیز انہوں نے ۵۰ دن کا وقت مانگ کر  بصورتِ ناکامی کسی بھی چوراہے پر پھانسی  چڑھ جانے پر رضامندی کا اظہار کردیا تھا ۔ جب ۵۰ دن بعد بھی  حالات نہیں سنبھلے تو لالو یادو نے اپنے خاص انداز میں سوال کیا کہ مودی جی اب بتائیے کہ کس چوراہے پر پھانسی دی جائے لیکن نتیش کمار نے حزب اختلاف کے خلاف نوٹ بندی کی تعریف میں کہہ دیا کہ  اس سے غریبوں کا فائدہ ہواہے اور بدعنوانی کو لگام لگی ہے۔ خیر اس بات کو ٹال دیا گیا لیکن صدارتی انتخاب سے قبل بلی پوری طرح تھیلے سے باہر آگئی۔  نتیش کو گھیرنے کے لیے حزب اختلاف نے اپنا امیدوار بدل دیا اور بہار کی رہنے والی دلت خاتون  میرا کماری کو نامزد کردیا لیکن نتیش ٹس سے مس نہیں ہوئے  اس لیے کہ اب انتظار ناممکن ہوگیا تھا اور وہ دن دہاڑے  بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کھل کر بی جے پی کی حمایت میں نکل آئے  بقول شاعر ؎
رات کا انتظار کون کرے                           آج کل دن میں کیا نہیں ہوتا
بہار صوبائی انتخاب کی مہم کے دوران مودی جی  نے نتیش کمار کے ساتھ  قومی سطح کے کئی پروجیکٹس کی سنگ    بنیاد رکھنے کے بعد ایک عوامی جلسے میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا اٹل جی نے بہار کو ۱۲۰۰۰کروڈ دیئے تھے کانگریس نے صرف ۱۰۰۰ کروڈ دیئے۔ اس کے بعد انہوں نے نیلامی کے انداز میں عوام سے پوچھنا شروع کیا میں کتنے دوں ؟ ۴۰ ہزار کروڈ ، ۵۰ ہزار کروڈ یہاں تک کہ اس رقم کو سوالاکھ کروڈ تک لے گئے۔ مودی جی کے اس رویہ کو لالوجی نے خوب آڑے ہاتھوں لیا اورسوال کیا کہ کیا وہ اپنی جیب سے بہاریوں کو بھیک دے رہے ہیں۔ نتیش کمار نے اس کو رشوت کے مترادف قرار دیا ۔ بہار کی عوام نے مودی کے اس تماشے کو دھتکار دیا ۔ مودی کی رشوت ان کی  منھ پر دے ماری لیکن افسوس کے  اسی عوام کے رہنما  نے بدعنوانی  کی مخالفت کا بہانہ بناکر  دونوں ہاتھوں سے رشوت سمیٹ  لی اور  اپنے ضمیر کا سودہ  کردیا۔ نتیش کی نیلامی پر  پروین شاکر کا یہ شعر صادق آتا ہے  ؎
پوچھا موسم بدلتے ہیں کیسے                      تم نے اپنی مثال دی ہوتی

نتیش بی جے پی کی آغوش میں :پہنچی وہیں پر خاک جہاں کا خمیر تھا!

نہال صغیر


بہار کے مسٹر کلین نے ڈرامائی انداز میں استعفیٰ دے دیا ۔ ان کے استعفیٰ سے یہ محسوس ہورہا تھا کہ بہار میں سیاسی غیر یقینی کی فضا چھا جائے گی ۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ۔نتیش کے استعفیٰ کے محض دو منٹ بعد ہی پردھان سیوک کی جانب سے مبارکباد کا ٹوئٹ پھر دہلی اور بہار میں بی جے پی کی میٹنگ کے بعد نتیش کی حمایت کا اعلان اور صرف بارہ گھنٹے کے بعد ہی بی جے پی کی حمایت سے حکومت بنانے کا دعویٰ اور وزیر اعلیٰ کا حلف لینا گویا سب کچھ پہلے سے طے تھا ۔ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد بھی فوری طور پر نریندر مودی نے نتیش کو وزیر اعلیٰ اور سشیل مودی کو نائب وزیر اعلیٰ بننے کی مبارکباد دی اور بہار کی ترقی کیلئے مل کر کام کرنے کی نصیحت بھی ۔ملک میں بھیڑ کے ذریعہ قتل عام یا دلتوں کو اونچی ذات کے ہندوؤں کے ذریعہ نشانہ بنائے جانے پر پندرہ پندرہ دن مون برت رکھنے والے مودی نے جتنی سرعت سے ٹوئٹ کرکے مبارکباد دی اس سے بات صاف ہے کہ یہ اسکرپٹ پہلے سے تیار تھی بس اسے روبہ عمل لانے کیلئے مناسب وقت کا انتظار تھا ۔ تیجسوی سمیت لالو یادو کے خاندان کے ساتھ سی بی آئی کی سریع الحرکت انداز سے کارروائی سے بھی یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ اس کو استعمال کرکے لالوپرشاد کو سیاسی طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے ۔سی بی آئی کی تیز رفتاری اور بی جے پی کی گرم گفتاری پر وہی بات کہی جاسکتی ہے جسے سپریم کورٹ نے کبھی یو پی اے حکومت میں کہا تھا کہ ’’یہ حکومت کا طوطا ہے ‘‘۔سی بی آئی کا اپنے سیاسی مفاد کیلئے استعمال کانگریس نے بھی خوب کیا اور اب بی جے پی بھی انہی راہوں کی مسافر ہے ۔
جس شام پٹنہ میں سیاسی ڈرامہ جاری تھا اسی دن مدھیہ پردیش میں بدنام زمانہ ’’ویاپم ‘‘سے جڑے ایک اور شخص نے خود کشی کرلی ۔قارئین کو یاد ہوگا کہ ویاپم اب تک کا سب سے بڑا تعلیمی بدعنوانی کا معاملہ ہے ۔ لیکن چونکہ اس کا تعلق مدھیہ پردیش سے ہے اور وہاں بی جے پی کی حکومت ہے نیز ویاپم بدعنوانی معاملہ میں سنگھ اور بی جے پی کے بڑے بڑے نام ہیں اس لئے نہ تو اس پر کوئی کارروائی ہوئی اور نا ہی اسے میڈیا میں وہ جگہ ملی جو حزب مخالف سے جڑے معاملہ کو دی جاتی ہے ۔ ویاپم کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس معاملہ سے جڑے افراد کی موت کی گنتی پچاس کے قریب پہنچ چکی ہے ۔ جی ہاں صرف دو سال قبل اس سے جڑے لوگوں کو کہیں کہیں مرے ہوئے پائے گئے اور یہ ایک سریز کی طور پر ہوا ۔کوئی کسی ندی یا سمندر کے کنارے مرا ہوا پایا گیا تو کوئی اپنے ہوٹل کے کمرے میں مرا ہوا ملا ۔کسی کو اپنے بیڈ روم میں موت نے آدبوچا ۔گویا یہ انسان نہیں چوہے رہے ہوں جوزہرلی دوا کے اثرات سے جگہ بجگہ مردہ ملے۔ ہندوستان میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا وحشت ناک معاملہ ہے جس میں اتنے سارے لوگوں کو ماردیا گیا یا مرنے کیلئے مجبور کیا گیا ۔ جانوروں کے چارہ بدعنوانی معاملہ میں بھی کچھ لوگ مرے ہیں لیکن ان کی تعداد شاید دس کے بھی اندر ہے ۔ لیکن چونکہ اس سے جڑے معاملے میں لالو یادو ماخوذ ہیں اس لئے اسے میڈیا میں خوب اچھا لا گیا ۔ حالانکہ بہار کا چارہ بدعنوانی معاملہ کوئی لالو پرشاد یادو کے دور میں نہیں ہوا ۔ یہ بدعنوانی بہار کے مشہور وزیر اعلیٰ اور بہار کانگریس کے لیڈر جگناتھ مشرا کی وزارت اعلیٰ کے دور سے چلا آرہا تھا ۔ اس میں لالو یادو کا اتنا قصور تو ہے کہ انہوں نے اپنے دور میں اس پر نکیل نہیں کسا ۔ لیکن آپ میڈیا میں جگناتھ مشرا کا کہیں نام نہیں سنیں گے ۔ ایسا کیوں ؟جانتے ہیں ، اس لئے کہ جگناتھ مشرا سورن ہندوؤں کی جماعت سے آتے ہیں اور لالو پرشاد پسماندہ یادو برادری سے ۔ اس لئے انہیں ایسا پیش کیا جاتا ہے جیسے ان کے علاوہ اس ملک میں سبھی ایماندار ہیں ۔ بس یہی وہ شخص ہے جس نے ہندوستانی سیاست کو بد عنوانی کی دلدل میں پھنسا دیا ہے ۔ اس لئے اس سے نجات ضروری ہے ۔
لالو پرشاد کا ایک گناہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے بی جے پی جیسی پارٹی کے ساتھ کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور برہمنوں سمیت سورن ہندوؤں کی برتری کو چیلنج کیا ۔ ان کے اس رویہ نے بھی انہیں کافی نقصان پہنچایا ۔ وہ بھی اگر نتیش کی طرح کرنسی منسوخی کے احمقانہ فیصلہ کو بدعنوانی کے خلاف ایک اہم قدم کے طور پر پیش کرتے اور مودی جی کی تعریف کے پل باندھتے تو انہیں پھر کوئی پریشانی نہیں ہوتی ۔ لیکن ہندوستانی سیاست کا ایک ہی شیر مرد ہے جو پرزور اور پر شور آواز میں حکومتی ایوانوں میں بیٹھے بدعنوان برہمنیت کے علمبرداروں کو کھلے عام چیلنج کرتا ہے اور اس پر ڈٹا رہتا ہے ۔ یہی اس کا جرم بلکہجرم عظیم ہے ۔ اس کے اس جرم نے برہمنیت کی جڑوں کو کھوکھلا کیا ۔ بہار میں ترقی کا سہرا عام طور پر لوگ نتیش کمار کے سر باندھتے ہیں لیکن انہیں یہ نہیں معلوم کہ اس کی شروعات لالو پرشاد یادو نے کی تھی ۔ اگر لالو نے حکومتی ایوانوں اور دفاتر میں بیٹھے برہمنی بابوؤں کو ان کی اوقات نہیں بتائی ہوتی تو نتیش کے لئے کبھی ممکن نہیں تھا کہ وہ بہار کی ترقی کیلئے کام کرسکتے ۔ نتیش کیلئے ترقی کی راہوں کو آسان بنانے والے کا نام ہی لالو پرشاد ہے ۔ ہمیں یاد ہے کہ آج سے پچیس سال قبل تک اندرون بہار کی کیا حالت تھی ۔ جبکہ اس وقت تک کانگریس کی ہی حکومت تھی ۔ کانگریس تو بھاگلپور فساد کے بعد ناپید ہوئی ۔ مرکز اور ریاست دو نوں ہی جگہ کانگریس ایک مضبوط حکومتی پارٹی تھی لیکن وہ بھی تو برہمن اور بنیا پارٹی ہے نا اس لئے اس نے بہار کی ترقی کیلئے کچھ نہیں کیا ۔ اسے پسماندہ ہی رہنے دیا ۔ پسماندہ رہنے دینے کے پس پشت شاید یہ منشا رہی ہو کہ اگر بہار ترقی کر جائے گا تو پنجاب ،ہریانہ اور دیگر ریاستوں کو مزدور کہاں سے ملیں گے ؟ ان ریاستوں کی ترقی میں تو بہار کے مزدوروں کا خون و پسینہ شامل ہے ۔
بہر حال بہار میں نتیش کمار بی جے پی کی حمایت سے وزارت اعلیٰ کا حلف لے چکے ہیں ۔ انہوں نے آر جے ڈی کی فراخدلی کا بدلہ اپنی تنگ نظری اور تنگ دلی سے دیا ہے ۔ انہوں نے سی بی آئی کی ریڈ اور تیجسوی کے خلاف ایف آئی آر کو بہانہ بنایا ہے ۔ جواب میں لالو پرشاد نے نتیش کمار کے خلاف بہار کے کسی تھانے میں درج قتل کے مقدمہ کا حوالہ دیا ۔ لیکن یہ سب فضول ہے ۔ مودی کا مقصد محض اپوزیشن کو کمزور اور انہیں بلیک میل کرکے اپنے مفاد میں استعمال کرنا ہے ۔ یہ صاف ستھری شیبہ والوں کی جماعت نہیں ہے ۔ جن کے مدھیہ پردیش میں ویاپم جیسا تعلیمی بدعنوانی کا معاملہ ہوا ہو جس میں پچاس لوگ مارے گئے یا مر جانے کیلئے مجبور کردیئے گئے ان سے اخلاقیات کی امید فضول ہے ۔ ہاں بے شرم اور بے غیرت لوگوں کی جماعت ضرورہے جسے بہار کی زبان میں تھُوتھُر بھی کہتے ہیں جسے عام زبان میں ڈھیٹ کہا جاتا ہے ۔ اس لئے ان کے سامنے انہیں آئینہ دکھانے سے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ آئینہ انہیں دکھایا جاتا ہے جن کا ضمیر زندہ ہوتا ہے یہ بے ضمیروں کی پارٹی ہے ۔ اچھی بات یہ ہے کہ بہار اسمبلی میں لالو کی جماعت اور کانگریس مل کر ایک بہتر اور مضبوط اپوزیش کا کردار ادا کرسکتے ہیں اور جذبات کی رو میں بہنے کی بجائے لالو پرشاد اور ان کے سیاسی وارثوں کو اس بات پر نظر رکھنی ہوگی کہ نتیش اور بی جے پی کی مخلوط حکومت بہار کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو کوئی نقصان نہ پہنچا پائے ۔ وہاں پہلے سے ہی بی جے پی کا ایک سخت متعصب ایم پی مرکزی وزارت میں موجود ہے جو زہر اگلا کرتا ہے جس نے مودی مخالفین کو پاکستان چلے جانے کو کہا تھا ۔ بس بہار کی فضا میں فرقہ پرست زہر نہ گھول سکیں اس پرنظر رکھنا ، فرقہ وارانہ راکشش کو قابو میں رکھناہی لالو پرشاد کی اپنی قوت کے ساتھ واپسی کا سبب بن سکتا ہے ۔ جس طرح نومبر 2015 میں بہار نے پورے ملک کے لئے ایک اچھی مثال پیش کی تھی اب بھی اس میں وہ قوت ہے کہ وہ نتیش کمار کی گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والی سیاست کو بہتر جواب دے سکے ۔