عالمی سیاست کا مفاد پرستانہ رویہ اور عالم عرب کی تباہی !


عمر فراہی ۔ ای میل
کچھ دو مہینے پہلے جب طیب اردگان نے ہمارے ملک کا دورہ کیا تو سرکاری سطح پر ایک طاقت ور مسلم ملک کے سربراہ کا جو استقبال ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوا۔لیکن اردگان سےایک ہی مہینے پہلے ایک غریب اور کمزور مسلم ملک بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ کا ہمارے وزیراعظم مودی جی خود ان کا استقبال کرنے ایر پورٹ گئے اورمیڈیا نے بھی خوب پذیرائی کی۔ ہماری حکومت نے ایک چھوٹے سے مسلم ملک کی سربراہ کو اتنی اہمیت کیوں دی اور طیب اردگان میڈیا کی توجہ کا سبب بھی نہیں بن سکے تو ،اس کی وجہ ملکوں کےاپنےاپنے نظریاتی مفاد اور ترجیحات کا بھی عمل دخل ہے ۔تبصرہ نگاروں کا اس تعلق سے خیال ہے کہ حسینہ واجد نے شروع سے اپنی شبیہ ایک اسلام دشمن حکمراں جیسی بنا رکھی ہے ،جس نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے کئی معروف رہنماؤں کو پھانسی کی سزا دیکر اپنی اسلام دشمن ذہنیت کو آشکار بھی کردیا تھا۔ اس لئے ہمارے ملک کے میڈیا اور سرکار کی طرف سےجو کہ اسلام فوبیا میں مبتلا ہے شیخ حسینہ واجد کا پرجوش استقبال کرنا فطری بات تھی۔اس کےعلاوہ پاکستان جو کہ اپنے وجود کے بعد سے ہی ہماری سرحدوں پر شر انگیزی کرتا رہا ہےاور اس کی اسی شرارت کی وجہ سےاندراگاندھی نے حسینہ واجد کے والد مجیب کے ساتھ مل کر پاکستان کو جوسزا دی تھی دونوں ملکوں کے ایک دوسرے پر احسانات بھی ہیں۔حالانکہ اب کون کس کے احسانات کو نبھاتا ہے جبکہ اسی جنگ میں اگر روس نے اندراگاندھی کا ساتھ نہ دیا ہوتا تو بھارت کیلئے یہ جنگ مہنگی پڑ سکتی تھی۔ مگر سوویت روس کے زوال کے بعد ہم نے اپنی وفاداری کا رخ امریکا اور اسرائیل کی طرف موڑ دیا۔چونکہ طیب اردگان کی اپنی شہرت اور شبیہ نہ صرف ایک اسلام پسند رہنما کی طرح ہے بلکہ وہ جب سے اقتدار میں آئے ہیں ان کی مقبولیت اور ترکی کی ترقی سے اسرائیل بھی خوفزدہ ہے۔ممکن ہے مودی جی جو حال ہی میں اسرائیل کے دورے سے واپس آئے ہیں طیب اردگان کا پرجوش استقبال کرکے اسرائیل کو ناراض بھی نہ کرنا چاہتے رہے ہوں ۔دوسری بات یہ بھی ہے کہ چین اور پاکستان بھارت کے سب سے بڑے حریف ہیں،سرحدی تنازعے کی وجہ سے ان ممالک سےجنگ کے خطرات بھی منڈلاتے رہتے ہیں۔ایسے میں جنگی حکمت عملی کے حصول کیلئے اسرائیل بھارت کا اہم معاون ہوسکتا ہے۔جیسا کہ اس وقت بھارت کا بیالیس فیصد ہتھیار اسرائیل سے ہی خریدا جارہا رہا ہے۔اسرائیل چونکہ پاکستان کے ایٹمی اسلحے سے بھی خوفزدہ ہے اس لئے یہ بات یقینی ہے کہ وہ بھارت پاکستان کی جنگ میں اپنے مفاد کے تئیں بھارت کی ہر ممکن مدد کریگا ۔جیسا کہ ایک بار اسرائیل اندراگاندھی سے پاکستان کے ایٹمی ری ایکٹروں کو تباہ کرنے کیلئے ہماری زمین کو استعمال کرنے کی اجازت بھی مانگ چکا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اندراگاندھی تیار بھی ہوچکی تھیں لیکن امریکی انٹلیجنس سی آئی اے نے بروقت اس سازش سے پاکستان کو آگاہ کردیا ۔پاکستان نے فوری طور پر دھمکی دے ڈالی کہ اگر بھارت نے اسرائیل کو ایسا کرنے دیا تو یہ سوچ لے کہ اس کا اپنا ایٹمی پلانٹ بھی تباہ کردیا جائے گا۔ ایسے میں ترکی سے ہندوستان کیا فائدہ اٹھا سکتا ہےیہ بات واضح نہیں ہے۔اس کے بعد ٹرمپ کے سعودی عربیہ کے دورے پرسوشل میڈیا میں مسلمانوں کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور شاہ سلمان بھی خوب چرچہ میں رہے اور اس تعلق سے ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک کے اردو اخبارات نے اس دورے کے مثبت اور منفی پہلو پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیاجس کا اثر آج بھی سعودی عربیہ اور قطر کے کشیدہ تعلقات میں دیکھا جاسکتا ہے۔ خاص طور سے پاکستانیوں کو یہ بات بہت ہی ناگوار گذری کہ سعودی حکمراں شاہ سلمان نے نواز شریف کو بہت اہمیت نہیں دی یا انہیں نظرانداز کیا،جبکہ سعودی عربیہ کے دفاعی معاملات میں پاکستانی فوج کا بہت اہم کردار رہاہے اور ابھی سعودی حکومت نے جو کچھ مسلم ممالک کا فوجی اتحاد تشکیل دیا ہے اس کے سربراہ بھی پاکستانی فوج کے سابق چیف راحیل شریف ہیں لیکن ان پاکستانیوں کو یہ بات بھی پتہ ہونی چاہیےکہ پاکستان کے ایٹمی پلانٹ اور سرد جنگ کے دوران سعودی عربیہ نے اربوں روپئے کا سرمایہ بھی بہایا ہے۔کہنا یہ چاہیے کہ جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان کے ساتھ سعودی عربیہ نے سب سے پہلے لبیک کہا تھا۔امریکہ جو کہ روس کی طاقت سے مرعوب تھا اور اپنے ہاتھ جلانے سے خوفزدہ تھا جب اس نے دیکھا کہ افغان مجاہدین پاکستانی فوج کی تربیت اور سعودی عربیہ کی دولت سے روس کو تھکا رہے ہیں اور روس کو آسانی کے ساتھ شکست دی جاسکتی ہے تو وہ خود ہی افغان مجاہدین کی مدد کیلئے کود پڑا ۔پاکستان سعودی عربیہ کے یہ احسانات بھول بھی جاتا ہے تو بھی سعودی عربیہ کے حکمراں کیسے بھول سکتے ہیں کہ جب مشرف نے نواز کے خلاف بغاوت کی تھی تو یہ سعودی حکمراں ہی تھے جنھوں نے نواز شریف کو اسی طرح پناہ دی تھی جیسے کہ کبھی مغل بادشاہ ہمایوں کو ایران نے پناہ دی تھی ۔نواز شریف دوبارہ اقتدار میں ضرور ہیں لیکن سعودی شہزادوں کی نظر میں تو ان کے نمک خوار ہی ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ سیاست کا کوئی مذہب اور مسلک نہیں ہوتا ،خاص طور سے اکیسویں صدی کی سیاست دجال سے پہلے ظہور ہونے والے مکرو فریب جھوٹ اور بے ایمانی کے ماحول میں داخل ہوچکی ہے ۔کچھ تبصرہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکہ سعودی عربیہ کو لوٹ رہا ہے۔مگر یہ بھی تو سچ ہے کہ جب تک امریکی کولمبس عرب کے صحرا میں داخل نہیں ہوئے تھے جاہل عربوں کے پاس لٹنے کیلئے تھا ہی کیا؟دراصل اللہ نے اپنے گھر کی حفاظت کیلئے امریکیوں کو عرب کا راستہ دکھایا۔ شاہ عبدالعزیز بن سعود کے زمانے میں امریکی کمپنی آرامکو نے سعودی امیر سے رابطہ کرکے پٹرول کی دریافت کا منصوبہ بتایا ۔سعودی امیر کو یہ بات سمجھ میں آئی اور پھر کئی بار ناکام ہونے کے بعد بھی اس کمپنی نے گرم پانیوں کا ذخیرہ ڈھونڈھ لیا اور پھر کھجور دودھ اور گوشت پر منحصر عربوں کی معیشت تیل کے کنوؤں سے مالا مال ہونے لگی۔یہ وہ مفاد کا رشتہ ہے جس کی وجہ سے امریکہ کسی بھی مشکل کے وقت میں سعودی حکومت کے ساتھ ہوتا ہے اور پھر یوں کہہ لیجئے کہ سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد ایران کی صفوی حکومت جو ایک زمانے سے اپنی کسرویت اور استعماری عزائم کے نشے میں مکے اور مدینے کی سرزمین پر بری نظر رکھے ہوئے تھی سعودی اور امریکی تعلقات کی وجہ سے خانہء کعبہ بھی ایرانی عزائم سے محفوظ رہا ۔
یہ بات ہضم کرنے جیسی نہیں ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل میں بھی تعلقات بحال ہوسکتے ہیں لیکن جس طرح سعودی عرب مصر اور متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں نے اپنے دشمنوں کی تعداد میں اضافہ کرلیا ہے اورایران کے بعد ترکی اور قطر کی حمایت یافتہ تنظیموں کا نیٹ ورک وسیع ہوا ہے اسرائیل سمیت تمام عرب ممالک کیلئے یہ ایک بری خبر ہے کہ ان ممالک کو ایران سے زیادہ خطرہ ترکی سے ہے جہاں تقریباً تیس لاکھ کے قریب شامی مہاجرین پناہ گزین ہیں ۔بظاہر یہ پناہ گزین ہیں لیکن جس طرح ایران نے افغان پناہ گزینوں کو فوجی تربیت دیکر شام اور یمن میں استعمال کیا ہے ترکی بھی اپنے پناہ گزینوں کو فوجی تربیت دیکر شاہان عرب کی نیند حرام کرسکتا ہے ۔ عرب حکمرانوں کو یہ احساس ہو بھی چکا ہے طیب اردگان جنہوں نے کہ سعودی اور اسرائیلی معاونت سےمصر کی فوجی بغاوت کے دوران اخوان کی اخلاقی حمایت کی تھی بہت ہی خاموشی کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں ایک اسلامی انقلاب کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔شاید اسی لیئے قطر سے کئے گئے مطالبات میں ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ملک میں ترکی کے فوجی اڈے کو بند کردے۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اب امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں بہت گرم جوشی نہیں رہی۔امریکہ اور یوروپی ممالک جو خود بھی معاشی طور پر کمزور ہوکر ماضی کے برطانیہ کی طرح سمٹ جانا چاہتے ہیں صرف اس تاک میں ہیں کہ جنگ کا ماحول گرم رہے اور انہیں اپنے ہتھیاروں کا سودا کرنے کا موقع ملے چاہے اس کے خریدار عرب ممالک ہوں یا اسرائیل یا وہ لوگ جو مشرق وسطیٰ میں اپنے حکمرانوں سے آزادی حاصل کرنے کیلئے مسلح جدو جہد میں مصروف ہیں ۔ اس کا مطلب عرب کی تباہی میں جسے حدیث کی کتابوں میں ویل العرب کہا جاتا ہے ایران اسرائیل ترکی اورمصر جیسے چار بڑے فوجی ممالک کے فوجی اور ان کی حمایت یافتہ ملیٹنٹ تنظیمیں متصادم ہو سکتی ہیں ۔اگر ہم حدیث پر یقین کرتے ہیں تو آنے والا دور عرب ممالک اور امن عالم کی تباہی کا دور ہے۔ایسا لگتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے اس بحران میں ایران سے لیکر اسرائیل سب تباہ ہوجائیں گے اور ایک ایسے نخلستان کی تصویر ابھر کر آئے گی جہاں دور دور تک بستی اور انسانوں کا تصور محال ہوجائےگا۔ایسے میں خراسان سے اٹھنے والی فوج اور مہدی کا جائزہ لیں تو بات آسانی کے ساتھ سمجھ میں آجاتی ہے کہ افغانستان سے فلسطین تک کے سفر کیلئے کسی مہدی اور خراسان کی فوج کو سفر کیلئے پاسپورٹ کی بھی ضرورت نہیں ہوگی - واللہ علم

یہ آل سعود کے حاشیہ بردار مولوی :غضب ہیں یہ مرشدان خود بیں ، خدا تیری قوم کو بچائے


ابو ارسلان ۔ ممبئی

’’شیخ عبدالمعیدمدنی حفظ اللہ‘‘ کبھی ایک سلفی عالم دین ہوا کرتے تھے ۔ مگر انھیں اپنی یہ حیثیت راس نہ آئی ۔ آجکل وہ آل سعود کی داشتہ ۔ غلط نہ سمجھئے ۔ ہماری مراد یہ ہے کہ آجکل آل سعود کی جو کارستانیاں ہیں اس کے دفاع کی خاطر انھوں نے شیخ عبدالمعید کو رکھ چھوڑا ہے ۔ اب چوں کہ شیخ عبدالمعید یہ کام پیسوں کی خاطر کر رہے ہیں اس لئے ممکن نہیں کہ ڈھنگ سے ہو ۔ایسا لگتا ہے کہ روزنامہ راشٹریہ سہارا کا کچھ حصہ بھی خرید لیا گیا ہے ۔ اور شیخ عبدالمعید مدنی حفظ اللہ اس پر خامہ فرسائی کرتے رہتے ہیں ۔ ہمارا انھیں مشورہ ہے کہ وہ آل سعود کے عشق میں جو چاہے کریں مگر اپنے نام کے ساتھ حفظ اللہ نہ لکھیں ۔ ۱۵ جولائی کے روزنامہ راشٹریہ سہارا میں شیخ کا ایک مضمون ’’سعودی درد ،قطری بے حسی ‘‘ نظر سے گزرا جسمیں انھوں نے آل سعود کی محبت میں تحریکیوں کو پانی پی پی کر کوسا ہے ۔کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ کہ وہ اپنے آقا سے کہتے کہ سارے تحریکیوں کو سعودی عرب سے نکال باہر کریں۔آل سعود کو تو نہیں مگر انھیں بہت درد ہے کہ بہت سارے تحریکی سعودی عرب سے متمتع ہورہے ہیں۔اور یہ درد شیخ کے لئے ناقابل برداشت ہے ۔ جناب سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ سعودی عرب آل سعود کے باپ کا نہیں ہے ۔ اور تحریکی جو کچھ لے رہے ہیں اس سے بہت زیادہ سعودی عرب کو دے رہے ہیں اسلئے شیخ مدنی کتنا بھی سر پٹک لیں تحریکی وہاں سے نکالے نہیں جا سکتے ۔دوسری طرف گذشتہ تین دہائیوں سے حرام خور امریکی عربی زمین پر بیٹھے ہوئے ہیں مگر وہ سب شیخ مدنی کے بھائی بند ہیں اسلئے ان کے خلاف شیخ کی زبان نہیں کھلتی۔یہ بھی ممکن ہے کہ شیخ کی زبان ان کے آقا نے بند کر رکھی ہو ۔ شیخ !آزاد رہنا بھی ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔پتھر چبانے پڑتے ہیں ۔تن ڈھانکنے کو کپڑے بھی میسر نہیں آتے ۔ شیخ ۔ ذرا ، اپنے آقا سے پوچھو تو ، سرزمین عرب کی یا آل سعود کی حفاظت کے نام پر یہ حرام خور اتنا کھا چکے ہیں کے سعودی معیشت کا بھٹہ بیٹھ گیا ہے اس کے باوجود کبھی اپنی حفاظت کے لئے پاکستان کو آواز دینی پڑتی ہے کبھی ۴۱ ملکی فوجی اتحاد بنانا پڑتا ہے ۔ امریکہ کو اربوں کھربوں ڈالر اسلحے کی خریداری کے لئے دینا پڑتا ہے ۔ اس کا فائدہ کیا ہے ؟ شیخ جیسے بے شرموں کو اس کا درد نہیں ہو سکتا۔کیونکہ وہ تو آل سعود کے غلام ہیں ۔ ہمیں اس کا درد ہوتا ہے۔کیونکہ ہم ملت اسلامیہ کے فرد ہیں ۔کوئی شاہ ہمارا آقا نہیں ۔ شیخ ! مجاہد مجاہد ہوتا ہے اور بادشاہ بادشاہ ۔ اسامہ بن لادن بھی تو سلفی تھے ۔ مگر آپ کو اس کا درد نہیں ہوگا ۔ آپ تو چونی میں بکنے والے لوگ ہو۔جب صدام حسین نے کویت پر قبضہ کرلیا تھا تو اسامہ نے آپ کے شاہ کو مشورہ دیا تھا کہ آپ امریکہ کو نہ بلائیں ۔ہمارے ساتھی صدام کو کویت سے نکال دیں گے۔مگر موت کے خوف میں مبتلا شاہوں نے اس کی بات ماننا تو دور الٹا اسے جلا وطن کر دیا۔ہمیں یقین ہے کہ شیخ ہماری اس بات کو بڑی ڈھٹائی سے جھٹلادیں گے ۔شیخ!کبھی سعودی عرب مسلم ممالک میں سب سے زیادہ مالدار ہوا کرتا تھا ۔سپر پاور تو دور، وہ آج تک قابل ذکر عسکری طاقت بھی نہ بن سکا ۔کیوں ؟ اور جو ایران ۱۹۸۸ میں فقیر ہو چکا تھا آج سعودی عرب جیسے دو ملکوں کو اکیلا نپٹ سکتاہے۔شیخ!خود بھی چوڑیاں پہن لو اور اپنے آقاؤں کو بھی پہنا دو۔
پاکستان کے مشہور معروف صحافی جناب مسعود انور اپنے ایک حالیہ مضمون سعودی عرب میں بغاوت کے آثار میں لکھتے ہیں کہ محمد بن نائف کو ولیعہدی سے ہٹا کر اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو ولیعہد بنانا سعودی عرب کو انارکی میں مبتلا کردے گا ۔وہ اپنے مضمون میں کہتے ہیں کہ سعودی عرب کا حال بھی وہی ہوگا جو حسنی مبارک کا جمال مبارک کو جانشین بنانے سے ، کرنل قذافی کا سیف الاسلام قذافی کوولیعہد بنانے سے عبداللہ صالح کا احمد علی عبداللہ صالح کو جانشین بنانے سے اور حافظ اسد کا بشارالاسد کو جانشین بنانے سے ہوا ۔ سعودی عرب کے بے روزگار نوجوان آجکل ہیش ٹیگ برن یور ڈگری کمپین کے نام سے حکومت کے خلاف مہم چلا رہے ہیں ۔ حکومت اپنی کمائی کے لئے ہر سال زائرین حج و عمرہ پر بوجھ بڑھا رہی ہے مگر بیکار بیٹھی امریکی فوج کو اپنے یہاں سے نکالنے کو تیار نہیں ۔
قطر ایک ننھا منا سا ملک ہے مگر اپنے یہاں ایسا بین الاقوامی ٹی وی چینل رکھتا ہے جو سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کی پول کھولتا رہتا ہے ۔ برسوں سے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ وہ بند ہو جائے اور اس کے لئے سام دام دنڈ بھید ، ہر حربہ آزما لیا گیا ۔ مگر الجزیرہ اور قطر کے حکمراں بین الاقوامی دادا گیری کے سامنے اب تک ٹکے ہوئے ہیں ۔ اور دونوں کا یہی وہ کارنامہ ہے جس کی بنا پر آل سعود اور دیگر عرب حکمراں جھنجلاہٹ میں مبتلا ہیں ۔دوسری طرف الجزیرہ بھی ان کی دادا گیری سے خوفزدہ ہوکر چپ بیٹھنا تو الگ رہا وہ مزید ان کی پول کھول رہا ہے ۔ الجزیرہ میں بھی اور دیگر میڈیا میں بھی اب یہ بات آرہی ہے کہ آل سعود اور ان کے چمچے اسرائیل سے محبت کی پینگیں بڑھا رہے ہیں ۔ جلد ہی دنیا دیکھے گی کے اسرائیل سے یہ سب لوگ شیر شکر ہوجائیں گے ۔ یہ بھلا دیا جائے گا ان شاہوں پر فلسطین کا بھی کوئی حق ہے ۔ یہ جب اسرائیل کے غلام بن جائیں گے ، ہمیں یقین ہے کہ تب بھی شیخ عبدالمعید مدنی حفط اللہ ننگ دیں ننگ وطن قسم کے حکمرانوں کی حاشیہ برداری میں ہی تسکین روح قلب کے مزے لوٹیں گے ۔ شاید شیخ کو بھی لگ رہا ہے کہ یہ آل سعود کا وقت آخر ہے جتنا کما لیں بال بچوں کے کام آئے گا ۔

بدعنوان اور جرائم پیشہ نمائندوں کا صدر




ڈاکٹر سلیم خان
جمہوریت کا دعویٰ ہے عوام کی حکومت، عوام کے ذریعہ اور عوام کے لیے۔ آئیے اس دعویٰ کی حقیقت  صدارتی انتخاب کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں  ۔ ہندوستان کی کل آبادی ۱۳۴ کروڈ ہے اور  نومبر ؁۲۰۱۶ کو سرکار کے ذریعہ اعداوشمار کے مطابق جن لوگوں کی سالانہ آمدنی ایک کروڈ یا اس سے تجاوز کرتی  ہے ان کی تعداد ۴۵ ہزار سے کچھ زیادہ  ہے  یعنی ۳۰ لاکھ لوگوں میں ایک کروڈ پتی ہے ۔ اس کے برعکس عوام کےان  نمائندوں کی حالت دیکھیں جن لوگوں نے ملک کا نیا صدر منتخب کرنے کیلئے اپنے قیمتی ووٹ کا استعمال کیا۔  ان ۴۸۵۲ ارکان پارلیمان اور اسمبلی میں ۷۱ فیصد کروڈ پتی ہیں ۔ یعنی ہر ۱۵۰ میں سے ایک کروڈ پتی ۔  سوال یہ ہے کہ عوام اور ان کے نمائندوں کی خوشحالی میں  یہ ایک کے مقابلے ۲۰ ہزار کا فرق کیسے واقع ہوگیا ؟ عوام کے نمائندے ان ۲۰ ہزار گنا خوشحال کیسے ہوگئے؟ ایک سوال یہ بھی ہے جمہوری نظام  غریب عوام اپنے جیسے غریبوں کو اپنا نمائندہ بنانے کی اجازت کیوں نہیں دیتا ؟  اور آخری بات یہ ہے کہ  کیا عوام کے نمائندگی کا دم بھرنے والا یہ امیر کبیرطبقہ   ان کا حقیقی نمائندہ بھی ہے  ؟ اگر نہیں تو جس سیاسی نظام  نے  انہیں اس جعلی  سرٹیفکٹ سے نوازہ ہے وہ عوام کے لیے رحمت ہے یا زحمت ہے؟
انتخاب سے قبل کی صورتحال یہ تھی کہ بی جے پی کے پاس ۵۰ فیصد سے کم ووٹ تھے مگر اس کے پاس مرکز کا اقتدار تھا ۔ اس لیے سب سے پہلے اس نے انا ڈی ایم کے کے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں بدعنوانی کا تماشہ کرکے ایک شخص کو گرفتار کرلیا ۔ اس کے بعد انتخاب کو کالعدم  قرار دینے کی دھمکی دے کر دباو بنایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ڈی ایم کے ٹوٹ گئی۔ تلنگانہ کے راج شیکھر اور اڑیسہ کے پٹنائک تو ہمیشہ ہی اپنے کاسۂ گدائی میں چند سکوں کے عوض  اپنے ضمیر کا سودہ کردیتے ہیں۔  اس بار بی جے پی کا بڑا شکار نتیش کمار کی جے ڈی یو تھا ۔ لالو پر بدعنوانی کے الزامات لگا کر نتیش کو دھمکی دی گئی کہ آج لالو کل نتیش اس لیے کہ اس حمام میں ہر کوئی برہنہ ہے۔ نتیش بھی ٹوٹ گئے اور انہوں نے  نہایت بے حیائی کے ساتھ این ڈی اے کے امیدوار کویند کی حمایت اعلان کردیا جبکہ بہار کی رہنے والی میرا کماری   قابلیت اور علاقائیت  کے لحاظ سے زیادہ حقدار تھیں اور تو اور شیوپال یادو نے بھی کووید کو ووٹ دے کر ثابت کردیا کہ وہ اکھلیش کی مخالفت کس کے اشارے پر کررہے تھے۔  اس طرح بی جے پی نے  چابک اور چارہ کی پالیسی سے ڈرااور للچا کر اپنے ۴۸ فیصد ووٹ  کو ۷۰ فیصد میں بدل دیا۔
بہار کے اندر فی الحال لالو پرشاد یادو اور ان کے بیٹے پر شکنجہ کس کےیہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ساری بدعنوانی ان باپ بیٹوں میں سمٹ آئی ہے  جبکہ پچھلے دنوں ممبئی ہائی  کورٹ نے بی جے پی رکن اسمبلی لوڈھا کو ۲۲۰ کروڈ ٹیکس ادا کرنے کا حکم دیا جو وہ دبا کر بیٹھا ہوا تھا ۔ مدھیہ پردیش میں جہاں بی جے پی حکومت ہے سی بی آئی نے صوبائی وزیر سشیل واسوانی کے گھر پر چھاپہ مارا تاکہ کروڈہا کروڈ کی بے نامی جائیداد کا راز فاش کیا جاسکے ۔ سشیل  واسوانی گزشتہ سال اس وقت خبروں میں آئے تھے جب انہوں نے نوٹ بندی کے وقت ۱۵۰ کروڈ روپئے جمع کرائے۔ اس کے بعد ان پر پہلا چھاپہ پڑا اور اب یہ دوسرا ہے۔ یہ صاحب سیاست میں آنے سے قبل بس کنڈکٹر ہوا کرتے تھے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاست کے گندے تالاب میں واسوانی کو وہ کون سا کوہ نور ہیرا مل گیا جس نے اسے ہزاروں کروڈ کا مالک بنا دیا ؟
اس میں  شک نہیں ہے کہ سیاسی حضرات بیشتر دولت بدعنوانی کے ذریعہ جمع کرتے ہیں  لیکن اس سے بھی  خطرناک پہلو جرائم کا ہے۔ ان  ۴۸۵۲ میں سے جنہوں نے صدر جمہوریہ کے انتخاب میں ووٹ ڈالے ہیں  بہت بڑی تعداد ایسےلوگوں کی ہے جن کے خلاف سنگین مقدمات درج ہیں ۔ ایک تہائی  ارکان  دارالعوام( لوک سبھا ) یعنی۳۴ فیصد جرائم میں ملوث ہیں۔ ایوان بالا کے ارکان کی حالت کسی قدر بہتر ہے اس لیے کہ انہیں انتخاب نہیں لڑنا پڑتا بلکہ دولت اور قربت کے چور دروازے سے ایوانِ اقتدار میں داخل ہوجاتے ہیں پھر بھی  ان کی  ۱۶ فیصد تعداد مختلف  جرائم کے الزامات سے جوجھ رہی ہے۔  ارکان اسمبلی کی حالت ارکان پارلیمان سے مماثل  ہے۔  ان میں سے ۳۳ فیصد نے اپنے حلف نامہ میں جرائم  کے مقدمات  کا اعتراف کیا ہوا ہے۔  ان اعدادو شمار کی روشنی میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے گزشتہ ۷۰ سالوں میں اس فاسد نظام نے ہمارے سماج کی کیا حالت بنادی ہے ۔ ان نام نہاد عوامی نمائندوں  سے کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ درندوں کی مانندمعصوم  عوام پر ٹوٹ پڑنے والی بھیڑ پر  قابو پاسکیں گے ؟
جمہوری نظام مساوات کا بلند بانگ دعویٰ کرتا ہے ۔ اس بابت اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقات کی نمائندگی تو درکنار  مساوات مردو زن ہی دیکھ لیں ۔ ہمارے سماج میں خواتین کی تعداد تقریباً ۵۰ فیصد ہے  لیکن صدارتی  رائے دہندگان کے کلب  میں خواتین کی نمائندگی صرف ۹ فیصد ہے جی ہاں صرف ۹ فیصد ۔ ایسے میں میرا کماری کو رام ناتھ کوند کے خلاف جنس کی بنیاد پر تو کامیابی حاصل ہونے سے رہی۔  اس صورتحال میں وزیراعظم کا کویند کو پیشگی مبارکباد دے دینا بجا معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ اس انتخاب کے نتائج معلوم کرنا بقول اروند کیجریوال کے کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ ایسے میں  کیا نظامِ جمہوریت  کے ذریعہ کیا جانے والا متناسب نمائندگی کا دعویٰ کھوکھلا ثابت نہیں ہوتا؟ ان حقائق کے باوجود جو لوگ اس نظام سیاست سے خیر کی امید وابستہ کئے ہوئے ہیں ان کی سادگی پر علامہ اقبال کا یہ شعر صادق آتا ہے کہ  ؎
خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر                      ۔پھر سلادیتی ہے اس کو حکمراں کی سامری

نروپم کی واپسی


ممتاز میر،برہانپور

’’اب کانگریس ایودھیا میں رام مندر بنوائے گی ،سنجے نروپم کے ذریعے کانگریس میں نرم ہندتو کی پالیسی کی شروعات ۔سنت مہنت اکائی مندر بنوانے کے لئے سر گرم‘‘۔ یہ ۱۱؍ جولائی کے ایک اخبار کی خبر ہے ۔اس خبر کو پڑھ کر ہمیں وہ دن یاد آگئے جب سنجے نروپم جی شیو سینا چھوڑ کر آئے تھے ۔چند دنوں تک مسلمانوں کے درمیان کانگریس میں اس شیو سینک کے استقبال پر نا گواری کا اظہار کیا جاتا رہا ۔مگر پھروہ لیڈر اور علماء کرام جو کانگریس کو ان داتا اور نجات دہندہ سمجھتے ہیں دبک کر بیٹھ گئے۔ہمارا برسوں سے خیال ہے کہ اب مسلمان رہنماؤں کی حالت ان کتوں کی طرح ہو گئی ہے جنھیں چھیچھڑے دکھاؤتو بھونکنا بند کرکے لپک پڑتے ہیں۔
یہ ایک انتہائی غلط بات ہے کہ کانگریس نے نرم ہندتو کی پالیسی کی شروعات اب سنجے نروپم جی کے مقدس ہاتھوں سے کی ہے ۔ہمارا مطالعہ تو یہ بتاتا ہے کہ کانگریس ہمیشہ سے ہی نرم ہندتو کی پالیسی پر عمل پیرا رہی ہے اور یہ صرف ہم نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ کانگریس کے نرم ہندتو کے شاکی بلکہ اس کو غلط یا ایک ناکام پالیسی بتانے والے بیسیوں مضامین ہم انہی اخبارات میں پڑھ چکے ہیں ۔سچ یہ ہے کہ بی جے پی اور کانگریس کو الگ الگ فکر کی حامل سیاسی پارٹیاں سمجھنا ایک بڑا مغالطہ ہے ۔ہم برسوں سے دلت وائس کے ایڈیٹر اور دلتوں کے ایک بڑے دانشور وی ٹی راج شیکھر کی اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں کہ دونوں پارٹیاں آر ایس ایس میں ہی اپنی بنیاد رکھتی ہیں(کانگریس کے احمق چاہنے والے کہہ سکتے ہیں کہ کانگریس کی بنیاد ۱۸۸۵ میں اور آر ایس ایس کی بنیاد ۱۹۲۵ میں رکھی گئی۔یہ کیسے؟)کانگریس نے مسلمانوں کوبی جے پی کے مقابلے کہیں زیادہ نقصان پہونچایا ہے اور اسی لئے کانگریس آر ایس ایس کی پہلی پسند ہے ۔ مگر رونے کا مقام یہ ہے کہ یہ بصیرت ایک دلت کو تو حاصل ہے لیکن سیاسی لیڈروں کا ذکر کیا یہ بصیرت مسلمانوں کے علماء کرام کو بھی حاصل نہیں ۔وطن عزیز کی تاریخ میں کانگریس کی سب سے زیادہ چمچہ گیری ہمارے علماء کرام نے ہی کی ہے ۔کاش کے ہمارے علماء کرام صرف خدا اور رسول ﷺ سے ہی اپنی وفاداری استوار رکھتے۔
شریمان سنجے نروپم جی بہار کے رہنے والے ہیں۔۱۹۸۸ میں انڈین ایکسپریس کے ہندی ورژن جن ستہ میں نوکری کی غرض سے بمبئی وارد ہوئے۔۵ سال جن ستہ میں نوکری کے دوران شیوسینا چیف بال ٹھاکرے کی نظروں میں چڑھ گئے ۔ پھر شیوسینا کے ہندی آرگن’’دو پہر کا سامنا ‘‘ کے ایڈیٹر بن گئے۔چھگن بھجبل اور نارائن رانے کی طرح یہ بھی بال ٹھاکرے کی ناک کا بال بنے ۔انھیں بھی شیو سینا نے راجیہ سبھاکی رکنیت سے نوازا۔راجیہ سبھا کی رکنیت کے دوران انھوں نے راجیہ سبھا میں دلیپ کمار جیسے ٹھیٹ سیکولر اور وطن پرست شخص پر فرقہ وارانہ تبصرہ کرنے کا کارنامہ انجام دیا ۔(rediff.com-14 Dec.1998) جس کے نتیجے میں وہ ہنگامہ مچا کہ راجیہ سبھا کے سیشن کو دن بھر کے لئے ملتوی کرنا پڑا ۔اتنے بڑے کارنامے کے باوجود نا معلوم وجوہات کی بنا پر انھیں شیو سینا میں نظر انداز کیا جانے لگا (بقول نروپم جی)اور حضرت ۲۰۰۵ میں شیو سینا چھوڑ کر کانگریس میں آگئے۔ہمارے نزدیک کانگریس روز اول سے ایک فرقہ پرست پارٹی یا زیادہ بہتر الفاظ میں کہنا چاہئے نرم ہندتو کی حامی پارٹی رہی ہے۔مسلمانوں کو مارنا اس کا بھی مقصد رہا ہے مگر بڑی ڈپلومیسی کے ساتھ،بڑے فنکارانہ انداز میں ۔اور ۷۰ سال گزرنے کے بعد بھی ہمارے رہنماؤں کو اس کا اندازہ نہیں ہے۔جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے۔ہمارے نزدیک نرسمہا راؤ،چھگن بھجبل ،نروپم جی کی قبیل کے لوگ ایک ٹارگٹ لے کر سیاسی پارٹیوں میں شریک ہوتے ہیں۔
شریمان سنجے نروپم جی جب کانگریس میں شامل ہوئے تھے تو ان کی حالت بڑی خراب تھی ۔حالت یہ تھی کہ ’’پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں‘‘۔پھر انھوں نے ایک داؤں کھیلا ۔کچھ پیسے خرچ کئے۔اپنے ارد گرد کچھ تھرڈ ریٹ لیڈر اورعلماء حضرات کو جمع کیا ۔ان میں ایک تو ایسے تھے جو دو قدم بھی بمشکل چل پاتے ہیں۔ایسے لوگوں نے نروپم جی کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر دہلی جا کر سونیا گاندھی کی گودمیں بٹھا دیا ۔اور شیو سینا سے آئے ایک فرقہ پرست کو پکا سیکولر ثابت کر دیا۔(اسی لئے تو نروپم جی نے ان کی مدد حاصل کی ہوگی)اور سونیا گاندھی کے پیروں پر گر کر درخواست کی کہ نروپم جی کھوٹے سکے سہی مگر اب کانگریس میں اپنی کارکردگی کا جادو جگائیں گے ۔بس اس کے بعد نروپم جی کانگریس میں ترقی کرنے لگے ۔مسلمانوں کی طرف سے کلیرنس ملنے کے بعد اور کیا ہو سکتا تھا ۔نوبت یہاں تک پہونچی کہ انھیں کانگریس کے ’’دگج‘‘ نیتاؤں پر فوقیت دی جانے لگی۔ہمیں دشمنوں سے ڈر نہیں لگتا ۔ہمیں تو اپنوں سے ڈر لگتا ہے۔ہمیں اپنے علماء سے یہ پوچھتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ یہ نرم ہندتو کی پالیسی کیا ہے؟یہ تو مناظروں کے ماہر ہیں اگر نرم ہندتو کو عین سیکولرزم کا تقاضہ ثابت کر دیا تو۔۔۔تو ہم کیا کرلیں گے۔ہمارا مطالعہ کہتا ہے کہ مسلمانوں کا قافلہ دشمن کی بہادری یا اسلحے کی برتری سے کبھی نہیں لٹا،یہ ہمیشہ اپنوں کی غداری سے افتراق سے انتشار سے لٹا ہے۔ہم دعا کرتے رہتے ہیں کہ اللہ ہمارے رہنماؤں کو پچھتانے کا ،اپنی اصلاح کرنے کا موقع عنایت فرمائے۔آمین
                         ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔7697376137

علماء اور مفکرین کا سکوت مرگ :اللہ رے سنا ٹا آواز نہیں آتی

پروفیسر محسن عثمانی ندوی



عصر حاضر میں جن شخصیتوں نے اپنی علمی دینی اور فکری خدمات کا گہرا نقش عالم اسلام پر قائم کیا ہے ان میں علامہ اقبال مصر کے حسن البنا ، پاکستان کے مولانا مودودی ،ہندوستان کے مولانا ابو الحسن علی ندوی،تیونس کے راشد الغنوشی ایران کے امام خمینی کے نام لئے جاتے ہیں ۔موخر الذکر نے ایران میں جو انقلاب برپا کیا تھا جو اگرچہ ایک بے دین مغرب زدہ استبدادی حکومت کے خلاف بہتراسلامی انقلاب تھا لیکن اس پر شیعیت کی مسلکی چھاپ ناقابل قبول ہونے کی حد تک گہری تھی۔اس حقیقت کے لئے یہ ثبوت کافی ہے کہ جب مصر میں اخوان نے انقلاب برپا کیا تو ایرانیوں نے اسے اسلامی انقلاب قرار دیا اور اس کی پذیرائی کی اور جب یہی اخوانی شام میں انقلاب بردوش بن کر بشار کے مقابلہ میںآئے تو ایران کی ساری حمایت دامے درمے قدمے سخنے فوج اور ہتھیار کے ساتھ بشار الاسد کیساتھ ہوگئی کیونکہ بشار سے شیعیت کا رشتہ تھا اگر چہ کہ دور کا تھا یعنی بشار علوی شیعہ تھا اور علویوں کو ایرانی گمراہ سمجھتے ہیں تاہم وہ شیعہ تھا اس لئے اہل سنت اور اخوان کے مقابلہ میں وہ زیادہ قابل قبول تھا ۔ایران کی اس غلط پالیسی کی وجہ سے عالم اسلام کا ایران پر اعتماد باقی نہیں رہا ۔ ایرانی لابی کے ہندوستانی صحافی بھی افسوسناک حد تک ایران کے ہم سفر اور ہم صفیر رہے۔اور اس چیز نے اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان وہ خلیج پیدا کردی ہے جسے پاٹنا آسان نہیں ہے ۔
بر صغیر میں فکر اسلامی کے آسمان پرمولانا مودودی اورمولانا ابو الحسن علی ندوی دو روشن ستاروں کے نام ہیں ان دونوں کے درمیان فکری مماثلتیں ہیں ، دونوں عالم اسلام کی دینی تحریک الاخوان المسلمون کے مداح اور قدرشناس ہیں،دونوں اسلام کو ایک مکمل نظام حیات سمجھنے والے ہیں۔ اس فرق کے ساتھ کہ مولانا مودودی شریعت کی ظاہری شکل اور نظام پرزیادہ فوکس ڈالتے ہیں اور مولانا علی میاں ایمانی اور داخلی کیفیات پر زیادہ زور دیتے ہیں۔مولانا مودودی کے مقابلہ میں مولانا علی میاں کا قلم محتاط بہت ہے ان کی سیکڑوں اردو عربی تصنیفات میں ایک جملہ بھی کہیں ایسا نہیں ملتا جو علماء کے لئے وجہ اعتراض ہو، خاص طور پر تاریخ میں اختلافات کے خارزار سے ان کا قلم اس طرح گذرتا ہے جیسے کوئی پل صراط پر سے کامیاب گذرے مولانا علی میاں کا یہ کمال دیکھنا ہو تو اسے المرتضی پڑھنی چا ہئے جو مشاجرات صحابہ کا عہد ہے اور جس میں صحابہ کے اختلافات کا بیان ہے یا حیات عبد الحی پڑھنی چاہئے جس میں شبلی اور مولانا عبد الحی کے اختلافات پر پورا باب موجود ہے اور مولانا عبد الحی مولانا علی میاں کے والدہیں یہاں مولانا علی میاں کے قلم کی خصوصیت آشکار ہوتی ہے۔ اس وقت عالم عربی میں عرب بہاریہ کے زیر عنوان جو انقلابات آئے ان کے پس پردہ مولانا مودودی اور مولانا علی میاں کے فکر کے بھی سائے ہیں اور شیخ علامہ یوسف القرضاوی نے تو یہاں کہہ دیا ہے کہ جہاں جہاں الربیع العربی کے تحت جو انقلاب آیااس کے پس پردہ مولانا علی میاں کی مفکرانہ کتاب ماذا خسر العالم بانحطاط ا لمسلمین اور اس طرح کی کچھ اور کتابوں کاہاتھ ہے ۔ہر جگہ اسلامی ذہن وفکر کے لوگ تھے جنہوں نے عرب ملکوں میں اپوزیشن کا رول ادا کیا تھا اور وہ آگے آگے تھے۔یہ بہت بڑی حقیقت ہے جسے لوگ کم جانتے ہیں ۔ مغربی طاقتیں ابتداء میں جمہوریت کی دستک سے خوش بہت ہوئیں اور انہوں نے اسے بہار کی آمد قرار دیاانہیںیقین تھا کہ اب آمرانہ اور استبدادی نظام جس کے عرب عادی ہوگئے تھے ختم ہوگا ، لیکن جب جمہوریت سے اسلام برآمدہو تو ان کی خوشیاں کافور ہوگئیں،وہ غم سے نڈھال ہوگئے انہوں نے محسوس کیا کہ اگر مصر اور شام دونوں جگہ اخوانی برسراقتدار آگئے تو اسرائیل کے وجود کے لئے سنگین خطرہ بن جائیں گے۔اسلامی جمہوریت کے خلاف سازش ہوئی اور اس سازش میں ان تمام مملکتوں کو شریک کرلیا گیا جنہیں اسلام کے جمہوری سیاسی نظام سے زیادہ قیصر وکسری کا شہنشاہی نظام زیادہ عزیزتھا۔
عرب دنیا میںآج سیاسی سطح پر وہی اسلامیت اور غیر اسلامیت کی کشمکش ہے جو خلافت راشدہ کے بعد شروع ہوئی تھی۔خلافت راشدہ کے بعدحکومت کی گاڑی اسلام کی پٹری سے اتر گئی تھی ۔اس کو ٹھیک کرنے کی جو کوششیں ہوئیں وہ کامیاب نہ ہوسکیں اور مسلمانوں کا خون بہت بہ گیا تھا۔خلافت راشدہ کے بعدنظام حکومت میں فرق ضرور آگیا تھا، حکومت کا اسلامی شورائی جمہوری معیار باقی نہیں رہا، لیکن شریعت کے قانون نافذ تھے اور فتوحات کا دائرہ بڑھتا جارہا تھا اس مسلسل پھیلتے ہوئے عالم اسلام کے لئے قانون اور علوم اسلامیہ کی تدوین کی فوری ضرورت تھی علماء حکومت کی اصلاح سے مایوس ہوکر اس ضروری کام میں مشغول ہوگئے اور پھر وہ علمی دینی ترقیاں سامنے آئیں جو آج تک سند کا درجہ رکھتی ہیں۔اگرچہ زیر زمیں حکومت کے نظام کو درست کرنے اور بدلنے کی کوششیں بھی جاری تھیں اور اہل علم اہل دین اور فقہاء کی ہمدردی بھی انہیں حاصل تھی تاہم یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔
صدیاں گذر گئیں آخر میں ان مغربی طاقتوں کا آفتاب اقبال طلوع ہوا جن کے دلوں میں صلیبی جنگوں کا زخم ہرا تھا اور تمام عرب ملکوں میں جو ترکی کی خلافت سے آزاد ہوچکے تھے ان کے زیر نگیں آگئے تھے اس وقت مسلمانوں میں ایسے علماء اور اہل قلم سامنے آئے جنہوں نے اسلامی نظام حیات کا انکار کیا جامع ازہر کے ایک مشہور عالم تھے جن کا نام شیخ عبد الرازق تھا انہوں ایک کتاب لکھی ’’الاسلام ونظام الحکم‘‘ جس میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ اسلام بھی مسیحیت کی طرح عبادات کا دین ہے نہ کہ مکمل نظام حیات۔جامع ازہر نے جس کی حیثیت آج کے ’’ ہز ماسٹر وائس ‘‘ والے ازہرکی نہیں تھی ان کی سند ضبط کرلی۔اور جامع ازہر کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ تھا کہ کسی کی سند اور ڈگری منسوخ کردی گئی ہو ۔اس بربط فکر پر ساز چھیڑنے والے اور بھی اہل قلم مصرا ورشام میں پیدا ہوئے ان ملکوں میں زمام اقتدار جن لوگوں کے ہاتھ میں تھی وہ بھی اسی فکرکے حامل تھے ،مغرب کے پروردہ اور جدید تعلیم یافتہ ۔ اب بہت سے عرب ملکوں میں اسلام دفاعی پوزیشن میں تھا اور مسجدوں میں محصور، بے طاقت اور مجبور ۔ اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے بہت سے اہل قلم سامنے آئے اور بہت سی تنظیمیں وجود میں آئیں ۔جن میں سب سے طاقتور اور وسیع تر تنظیم الاخوان المسلمون کی تھی جس کے بانی حسن البناء تھے ۔اس کے بعد شرار بو لہبی سے چراغ مصطفوی کی کشمکش کی طویل داستا ن شروع ہوتی ہے جو ابھی تک جاری ہے ، فلسطین کو آزاد کرانے کا عزم رکھنے والی واحد تنظیم کو بھی دہشت گرد قرار دے دیا گیا ہے ۔ یہ امریکہ کا اقبال ہے کہ جو وہ چاہتا ہے عرب ملک وہی کرتے ہیں اور جو وہ بولتا ہے وہی زبان بولتے ہیں امریکہ کو اپنی بالا دستی کا زعم ہے۔ صدر ٹرمپ کے دست راست اور ایڈوائزر جنرل فلن اپنی کتاب دی فیلڈ آف رائٹ میں اسلام کے لئے کینسر کا لفظ استعمال کرچکے ہیں۔ افسوس کہ چراغ مصطفوی کی لو کترنے کے لئے اسلام اور حرم کا نام لینے والے ملک بھی سامنے آگئے ہیں ۔ سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ حسن البنا اور دیگر اخوانی قائدین اور مولانا مودودی، مولانا علی میاں ، عائض القرنی اور بہت سے اسلامی مفکرین کی تحریروں پر قدغن لگا دی گئی ہے۔ شہروں کے مکتبوں سے ان کی کتابیں ہٹادی گئی ہیں ،کیونکہ حکمرانوں کی مغرب سے متاثر قوت شامہ ان میں دہشت گردی کی بو محسوس کرتی ہے یا وہ اپنے مستقبل کے بارے میں اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، جل جلالہ خود سرطان میں مبتلا ہیں اور سلطانی خاک کا پیوند ہونے والی ہے ۔لیکن شیطان کے پھندے میں گرفتاراور فریب نفس کا شکار ہیں ۔ شیطان کا جال نہیں ہوتا تو ضرور ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوجاتا ۔اور اس سے بھی زیادہ غمناک اور شرمناک بات یہ ہے کہ مسلم حکمرانوں کی جانب سے اس کھلی ہوئی لامذہبیت کی حمایت اور مدد پر علماء دین کی، جو وارثین انبیاء کہلاتے ہیں، غیرت اور حمیت ذرا بھی نہیں جاگتی ہے ان کا ضمیر بیدار نہیں ہوتا ہے ۔ہندوستان ہی کے اخبارات اٹھا کر دیکھئے تو ختم بخاری اور ختم خواجگان اور میلاد النبی اور وعظ وتذکیر کے جلسے ہر طرف منعقد ہوتے نظر آئیں گے۔ لیکن پورے پورے علاقے اور پورے پورے ملک میں ایساکوئی ایک صاحب عزیمت عالم نظر نہیں آئے گا جو مسلم حکمرانوں کے منافقانہ رویہ اور ان عرب ملکوں کے بعض ضمیر فروش علماء اور مفتیوں کی بے ضمیری اوربے دانشی پر احتجاج کرے،اف یہ سکوت مرگ ۔اللہ رے سنا ٹا آواز نہیں آتی ۔ صحافیوں کے قلم بھی بک چکے ہیں ۔ امیرمعاویہ نے جب اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد بنایا تھا تو حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے سخت احتجاج کیا تھاآج اگر کوئی حکمراں اپنے بیٹے کو ولی عہد بنا تا ہے تو اہل قلم صحافی گلدستہ تہنیت پیش کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں ، لکھا جاتا ہے کہ ولی عہدی مبارک ہو، قلم سے بہاروں کوحکم دیا جاتا ہے کہ پھول برسائیں ، ستاروں کویہ حکم کہ چراغاں کریں ،ایسا نہیں ہے کہ علماء اور اہل قلم اور صحافیوں کا نقطہ نظر دوسرا ہے وہ گھر کی اور دوستوں کی خلوت کی نشستوں میں ان حکمرانوں کو برا کہیں گے اور ان کا مذاق اڑائیں گے ، لیکن سامنے آنے سے اور سچ بات کہنے سے اور کسی پلیٹ فارم سے حق کے اظہار سے گریز کریں گے۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر علماء کی پہلی ذمہ داری ہے ۔ اس دنیا کو قرآن میں متاع غرور کہا گیا ہے یہ متاع غرور ان کی عزیزتر متاع بن گئی ہے ، اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بھی وہ اس کا سودا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ایک نفاق اور بزدلی اور بے ہمتی کا عالم ہے جو چھایا ہوا ہے ، ہر ایک کے ہاتھ میں کشکول گدائی ہے،ہر دست دست سوالی ہے اور الید السفلی ہے ۔ اب نہ کوئی مفکر اسلام ہے نہ کوئی مجدد اسلام ہے ،نہ کوئی معمار حر م ہے نہ کسی کے ہاتھ میں علم ہے ،نہ کہیں داروئے الم ہے ۔زمانہ کو انتظار اس شخصیت کاہے جو معمار قوم ہو جو حق فروش اور حق فراموش مسلم علماء اور قائدین اور اہل قلم کا مزاج بدل دے اور ان میں حق شناسی اور حق نیوشی اور حق گوئی کا کردار پیدا کردے ۔
اے سوار اشہب دوراں بیا اے فروغ دیدہ امکاں بیا

بلیٹ ٹرین کی پٹری پر ہندوتوا کی ریس

نہال صغیر

ہندوستان بدترین معاشی بحران سے گزررہا ہے ۔ اس بحران کی سب سے اہم وجہ مودی حکومت کا کرنسی منسوخی کا غیر دانشمندانہ قدم ہے ۔ اس کے علاوہ بھی حکومتی پالیسی اس کے لئے ذمہ دار ہے ۔ دراصل کسی بھی ملک کو معاشی اور دفاعی طور پر مستحکم ہونے کیلئے ضروری ہے کہ امن و امان اور قانون و انتظام کی صورتحال بہتر ہو۔لوگ بلا خوف خطر اپنی روز مرہ کی ضرورتوں کو پورا کریں ۔انہیں کوئی کاروبار کرنا ہو تو اس کے لئے انہیں آسانیان فراہم ہوں ۔حکومت کے متعلقہ شعبے انہیں تعاون کریں ۔ یہ مسائل ملک میں پہلے سے ہی تھے اس پر موجودہ حکومت کے تین سال قبل ورود کرنے کے ساتھ ہی اس میں اضافہ ہوگیا ۔حزب اقتدار کے غنڈے اور بدمعاش ارکان کھلے سانڈ کی طرح کہیں بھی حملہ آور ہو جاتے ہیں ۔ ملک کی فضا اتنی مکدر ہوگئی ہے کہ اب ٹرینوں ،بسوں اور شاہراہوں پر ایک مخصوص شناخت کے ساتھ چلتے ہوئے جسم میں ٹھنڈی لہر دوڑ جاتی ہے ۔حالات کی یہ سنگینی ہی ملک کی معاشی تباہی کے لئے ہی کیا ناکافی تھی جو بڑے نوٹوں کو منسوخ کرنے کا اچانک فرمان جاری ہو گیا ۔اس سے پیدا شدہ مسائل چھ ماہ بیتنے کے بعد بھی ختم ہوتے نظر نہیں آتے ۔لیکن حکومتی کارندوں کی بے حسی اور جوابدہی کے احساس سے عاری اور بے ضمیری کا حال یہ ہے کہ وہ اب بھی اچھے دنوں کی آمد کے راگ الاپتے نہیں تھکتے۔یہ حکومت جس تنظیم سے تعلق رکھتی ہے اس نے ہر شعبہ کیلئے جھوٹ پھیلانے اور تنقید کرنے والے بیدار افراد کی زبان بند کرانے کیلئے اپنے کارندے ہر چہار جانب چھوڑ رکھے ہیں۔سڑکوں پر ان کے پالے ہوئے غنڈے انارکی پھیلارہے ہیں تو ٹی وی شو اور سوشل میڈیا پر اس سے توجہ ہٹانے کیلئے پہلے تو اس کا رخ موڑا جاتا ہے جب اس میں کامیابی نہیں ملتی تو ترقی کا سنہرا خواب دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
حکومت نے آتے ہیں اپنی مختلف ناکامیوں اور اپنے بے لگام غنڈوں کی حرکتوں سے توجہ ہٹانے کیلئے بلیٹ ٹرین کا شوشہ چھوڑ دیا تھا ۔اسے خوب خوب مشتہر کیا گیا ۔صرف بلیٹ ٹرین ہی کیا ترقی کے تعلق سے کئی اوینٹ اور اعلانات و پروگرام عوام کے سامنے پیش کئے گئے ۔ جو سب کے سب ہنوز عمل کی قطار میں ہیں کہ جانے کب ان کا نمبر آئے گا۔اب تو شاید عوام بھی بھول چکے ہوں کہ مودی جی نے کیا کیا اعلان کیا ، صرف اعلان جی ہاں صرف اعلان !ان کا کام صرف اتنا ہے کہ پچھلی حکومتوں کے شروع کئے گئے کاموں پر اپنا نام کندہ کروارہے ہیں ۔بلیٹ ٹرین کو ہی لے لیں ۔یہ کافی پہلے سے گفتگو کا موضوع ہے ۔ریلوے کی ویب سائٹ اور ویکی پیڈیا پر مودی جی کے عروج سے کافی قبل سے ہی ان کی تفصیلات درج ہیں ۔کئی وجوہات سے اسے شروع نہیں کیا جاسکا ۔ اس میں اول تو فنڈ کی کمی اور دوسرے بیورو کریسی کی تساہلی ۔یہ دونوں ہی مسائل آج بھی حل طلب ہیں ۔بلیٹ ٹرین کے بارے میں اب خبر آرہی ہے کہ 2021 میں شروع ہوگا اور 2031 میں اختتام پذیر ہوگا ۔کرایہ دوری کی بحث کو میں اس لئے نہیں لکھ رہا ہوں کہ یہ بحث فضول ہے کہ اس کا کیا کرایہ ہوگا اور کتنی دوری کتنے گھنٹوں میں طے کرے گی ۔جب چلے تب ہی یہ بحث ٹھیک ہوگا ۔چلنے سے پہلے اس کاکام شروع ہونا ضروری ہے ۔جس کے بارے میں خبر ہے کہ 2021 اس کی شروعات ہوگی ۔یعنی 2019 کا انتخاب اسی ایک اہم پرجیکٹ کے سہارے جیتنے کا منصوبہ ہے کہ کانگریس نے کچھ نہیں کیالیکن دیکھو مودی جی نے آتے ہی ملک کوبلیٹ ٹرین کا تحفہ دینے میں اپنی سرگرمی دکھارہے ہیں۔منصوبے اور بھی بہت سے ہوں گے بلکہ ہیں لیکن اس میں کئی منصوبے جسپال بھٹی کے فلاپ شو کی حیثیت رکھتے ہیں ۔صرف ایک ہی فارمولا ترقی ہے جو کو فی الحال دوام حاصل کرچکا ہے ۔ دیش بھکتی بھی ہے لیکن اس میں زیادہ قوت اس لئے نہیں ہے کہ اس کا راگ الاپنے کے نقصانات یہ ہیں کہ عوام کو بہر حال یہ جانکاری ہو رہی ہے کہ یہ محض ایک جذباتی نعرہ ہے ۔اس کیلئے کافی مشقت کرنے کی ضرورت ہے ۔پاکستان سے جنگ کرنی ہوگی ۔کچھ فوجیوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا ہوگا ۔پھر بھی کہیں سے کسی نے کوئی سوال اٹھادیا تو اس کے کئے کرائے پر پانی پھرنے کا خدشہ برقرار رہتا ہے ۔لیکن ترقی کا فارمولہ اچھا ہے ۔اس پر کسی نے کوئی سوال اٹھایا تو کہہ دیا جائے گا کہ دیکھو یہ ترقی کے دشمن ہیں ۔یہ ملک کو ترقی یافتہ دیکھنا ہی نہیں چاہتے ۔ایسا مودی جی اور ان ہمنوا کرتے بھی رہے ہیں اور اب بھی جب کبھی مذہبی جنونیت سے تھوڑی سی فرصت ملتی تو اس کا راگ ضرور الاپتے ہیں۔اس انتخاب میں ترقی کی بات ۔آئندہ اس پر عمل آوری کی شروعات کی نمائش ۔یعنی آئندہ کا الیکشن نمائش پر ہوگا ۔
ہندوتوا یعنی برہمنیت کے علمبرردار فی الحال اس کوشش میں ہیں کہ وہ ایک بار پھر بلیٹ ٹرین اور ترقی کے دیگر پروجیکٹ کے لئے چہل پہل کو تیز کریں اور عوام کو یہ باور کرائیں کہ مودی کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے جو ملک کو حقیقی ترقی سے ہمکنار کرسکے ۔ اس سے انہیں یہ بھی فائدہ ہوگا کہ اپنی برہمنیت جس کو یہ ہندوتوا کہتے ہیں ، کے لئے بھی زمین ہموار کرنے کا بھرپور موقعہ ملے گا ۔یعنی بلیٹ ٹرین کی پٹری پر اب ہندوتوا کی ریس ہونے والی ہے ۔اس میں کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔لیکن کچھ وقتوں کیلئے وہ اپنے اوپر لگنے والے داغ کو دھونے کی کوشش ضرور کریں گے کہ یہ لوگ ملک کو ترقی کی پٹری پر نہیں لے جاسکتے ۔کیوں کہ یہ لوگ افسانوی اور دیو مالائی کہانیوں کو سائنسی ترقی قرار دے رہے ہیں۔لیکن جیسا کہ کہا گیایہ انتخاب جیتنے کا محض ایک فارمولہ ہے اس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ ملک کی معاشی ترقی کو بغیر کسی فکر ی چشمہ لگائے اپنی ننگی آنکھوں سے دیکھیں اور خود ہی فیصلہ کریں کہ موجودہ صورتحال میں یہ کس طرح ممکن ہوسکے ۔ معاشی حالت مستحکم ہے ۔نہ ہی سرمایہ کاری کے دور دور تک کوئی آثار ہیں ۔ دنیا تیسری جنگ عظیم کے دہانے پر کھڑی ہے اور عین ممکن ہے کہ جو لوگ مشرق وسطیٰ کو اس کا میدان بنانا چاہتے تھے ان کے لئے یہ بات حیرت و استعجاب کا سبب بنے کے مشرق وسطیٰ کے بجائے مشرق بعید اور ہندوستان کے آس پاس ہی جنگ کے خطرے منڈلا رہے ہیں ۔ایسے میں کون آئے گا سرمایہ کاری کرنے ۔ہاں اگر ملک کی حالت ٹھیک ہوتی تو ضرور یہ کام ممکن ہو سکتا تھا ۔اب بھی اسی صورت میں یہ ممکن ہے کہ ملک میں امن و امان کی صوتحال کو بہتر بنایا جائے اور ایسے سارے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جائے جو امن کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں ۔اس کے بغیر تو بلیٹ ٹرین کی پٹری پر صرف ہندوتوا کی ریس ہی ہو سکتی ہے ۔اور جھوٹے ترقی کے اعداد و شمار مشتہر کئے جاتے رہیں گے ۔آخر تین سال میں گیارہ ارب روپئے اشتہاروں پر یوں ہی تھوڑے نا خرچ کئے گئے ہیں۔

انہیں سرحد پر تعینات کردیں ،دیش بھکتی کا سارا خمار اتر جائے گا


نہال صغیر


ملک اس وقت گئو رکشکوں کی دہشت کے سائے میں ہے ۔کوئی دن نہیں جاتا جب اس ناہنجار گروہ کی حرکتیں اخبار کی زینت نہیں بنتی ہوں ۔ان سر پھروں اور موجودہ مودی حکومت سے خاموش حمایت یافتہ بدمعاش قبیلہ نے ملک کی فضا کو زہر آلود کردیا ہے ۔پڑوسیوں کو اپنے پڑوسی سے مشکوک بنا کر رکھ دیا ہے ۔ہر طرف سنسنی خیزی اور خاموش دہشت کا سماں ہے ۔ہمارے وزیر اعظم صرف اتنا کہہ کر رہ جاتے ہیں کہ ہمارے دلت بھائیوں کو مت مارو مارنا ہے تو ہمیں مارو ،یا ان کا گئو رکشکوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔یعنی کارروائی کے نام پر صفر ۔بلکہ  ان دہشت گردوں کو شاباشی دینے کا غالبا یہ خفیہ الفاظ ہے ۔ ان کی ان باتوں  سے متاثرین  یہ سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم کو عام آدمی دلتوں اور مسلم اقلیت کا کتنا خیال ہے ۔لیکن درپردہ ملزمین اسے اپنے لئے حمایت سمجھتے ہیں ۔جب ہی تو ان کے ان بیانات کے بعد بھی گئو رکشکوں کی دہشت گردی جاری ہے ۔ان کی اس حرکت سے یہ گمان ہوتا ہے کہ جیسے ملک میں کوئی جمہوری نظام نہیں ہے جس کے تحت مقننہ،عدلیہ اور انتظامیہ اپنا کام کرتے ہیں ۔یہاں تو یہ خیال گزرتا ہے کہ یہاں جنگل راج ہے ۔ آج ہی ایک مراٹھی روزنامہ کے سیاسی مدیر کہہ رہے تھے کہ ایسا پہلی بار ہورہا ہے کہ جب اس طرح کا فسادی ٹولہ خود کو ہر طرح کے غیر قانونی حرکتوں کیلئے آزاد محسوس کررہا ہے ۔یہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے ۔حکومت کی خاموش حمایت سے اس  انارکی اور لاقانونیت میں اضافہ کا خدشہ ہے ۔جس سے ملک میں ہر طرف افراتفری کا ماحول بن جائے گا اور بالآخر یہ افراتفری خانہ جنگی تک لے جانے والا ثابت ہو سکتا ہے ۔ایسے حالات میں ممکن ہے حکومت  بھی خود کو بے یارو مدد گار تصور کرتی ہو ۔اسے بھی یہ سمجھ نہیں آرہا ہو کہ کس طرح ان اپنے پالوں کو قابو میں کیا جائے ۔تو اس کا بھی ایک آسان اور سیدھا راستہ ہے کہ انہیں راست طور پر دہشت گردوں سے مقابلہ کیلئے اندرون ملک بھِرا دیا جائے اور سرحد پر چین و پاکستان کی افواج سے نبرد آزما ہونے کیلئے اپنی فوج ہٹا کر انہیں تعینات کردیا جائے ۔ یہ کام اس لئے بھی ضروری ہے کہ جو لوگ یہ حرکتیں انجام دے رہے ہیں وہ ہندوتوا کے علمبردار ہی نہیں بلکہ خود کو سب سے بڑا محب وطن قرار دیتے ہیں ۔اب محب وطن ہونے کا ثبوت اس سے بہتر اور کیا ہوسکتا ہے کہ انہیں مسلح ملک دشمن عناصر سے راست لڑکر ان کو شکست سے دو چار کرانا چاہئے ۔اس طرح ان دیش بھکتوں کی آتما کو بھی شانتی ملے گی اورانہیں افسوس بھی نہیں رہے گا کہ ملک کیلئے انہیں کچھ کرنے کا موقعہ نہیں ملا ۔دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ ملک دشمن عناصر سے ملک محفوظ ہو جائے گا ۔لیکن اس طرح نہتھوں پر حملہ سے تو یہ گروہ بدنا م ہی ہو رہا ہے ۔تیسرا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ملک کے دفاع میں آنے والے بجٹ میں کافی کمی ہو جائے گی جس سے کافی قومی سرمایہ بچ کر دوسرے مدوں میں صرف ہو گا ۔غالبا گئو رکشکوں کی ان ہی حرکتوں سے نالاں ادھو ٹھاکرے نے کہا ہے کہ وہ دہشت گردوں سے لڑ کر دکھائیں ۔اب گئو رکشکوں اور فرضی راشٹر وادیوں کیلئے یہ امتحان کی گھڑی ہے کہ ان پر جو طعنہ زنی کی جاتی ہے کہ وہ دیش بھکتی کا ناٹک کرتے ہیں ۔ان الزامات سے انہیں پیچھا چھڑانے کا یہ اچھا موقعہ ہے کہ وہ پاکستانی اور چینی فوجیوں سے مقابلہ کریں اور ملک کو سوپر پاور بنائیں نیز دہشت گردوں سے ملک کو پاک کریں ۔اگر ان دیش بھکتوں اور گئو رکشکوں نے ایسا کارنامہ نجام دیدیا تو ہندوتوا کے علمبرداروں کو ملک کو ہندو راشٹر بنانے میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی ۔لیکن اگر انہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ملک کو ان خطرات سے پاک نہیں کیا تو پھر انہیں دیش بھکتی اور ہندوتوا کے نام پر نہتھوں کو پر حملہ بند کردینا چاہئے ۔لیکن  یہ نام نہاد دیش بھکت ایسا نہیں کرسکتے ہیں ۔انہیں صرف نہتھوں اور معصوم عوام پر حملہ کرنا ہی آتا ہے ۔اگر ان معصوموں میں سے ہی کسی نے کبھی لوہے کا راڈ اٹھاکر انہیں دوڑایا تو وہ بھاگتے نظر آئیں گے ۔ایسا ہو بھی چکا ہے ۔پنجاب میں کسی فرضی دیش بھکت نے سکھوں کیخلاف کوئی احتجاج اور پتلہ جلانے کا پروگرام کیا لیکن سکھ نوجوان خنجر لہراتا ہوا آیا تو وہ سارے دیش بھکت اپنی جان بچا کر بھاگتے نظر آئے ۔جبکہ وہ سکھ اکیلا تھا اور وہ فرضی دیش بھکتوں کی تعداد آٹھ دس کے قریب تھی یا اس سے بھی  زیادہ ۔ان دیش بھکتوں اور گئو رکشکوں سے نجات کے دو ہی علاج ہیں ۔اول تو انہیں سرحدوں پر تعینات کردیا جائے کہ بیٹا آئو دیش بھکتی کا جو کیڑا کاٹ رہا ہے اس سے یہاں آکر نجات پائو اور دوسرا مسلمانوں کا بھی کوئی ایک گروہ ہو جو ان سے نمٹے ۔یہ لوگ بڑے شوق سے ویڈیو بناتے ہیں نا بس چہرہ پہچانئے اور پھر ۔۔۔اس کے بعد آپ کہیں ان کا وجود نہیں پائیں گے ۔اگر کبھی بھول سے بھی آپ نے کسی گئو رکشک کو کہہ دیا کہ تم گئو رکشک ہو تو وہ کان پکڑ کر سو کیا ایک ہزار بار اٹھ بیٹھ کرلے گا لیکن قبول نہیں کرے گا کہ کبھی اس کا اس گروہ سے تعلق تھا یا مستقبل میں وہ کبھی ایسی سوچ پر عمل کرے گا۔

ہمارے معاشرے میں کئی سلیم شیخ ہیں



نہال صغیر

عام طور پر مسلمانوں پر الزامات کی برسات کرنے والے متعصب ذہنیت کے لوگ کسی دہشت گردانہ حملہ کے بعد پِل پڑتے ہیں اور زبانی حملہ شروع کردیتے ہیں ۔حالیہ امر ناتھ زائرین پر حملہ معاملہ میں بھی ایسا ہی ہوا ۔لیکن اس حملہ میں ہلاکت کی تعداد بڑھ سکتی تھی ۔مگرسلیم شیخ نام کے اس بس ڈرائیور کی جرات مندی اور حاضر دماغی کے طفیل کئی قیمتی جانیں محفوظ رہیں ۔ورنہ کئی خاندانوں کے مزید چراغ گل ہو سکتے تھے۔ کچھ اور بچے یتیم اور بے سہارا ہو جاتے ۔کئی اور خواتین بیوگی کے درد اور تنہائی کے صحرا میں بھٹکنے کو مجبور ہو جاتیں۔سلیم شیخ کی جرات مندی کو سلام جس کی حاضر دماغی کی وجہ سے بڑا سانحہ اور انسانیت کو شرمندہ کرنے والا وقعہ زیادہ خطرناکی سے بچ گیا ۔ اب ہر چہار جانب حملہ کے ذمہ داروں سے زیادہ سلیم شیخ کی جرات مندی کے تذکرے ہیں ۔حکومت گجرات نے بھی اس کے اس کارنامہ کو سراہتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ بہادردی ایوارڈ کے لئے سفارش کرے گی ۔مسلمانوں کو گالیاں دینے والے اور اسلام کو دہشت گردوں کا مذہب قرار دینے والے افراد یا تنظیموں کی واویلا مچانے والی عادت کے شور میں کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیم شیخ کے کارنامے کی گونج ماند پڑ جائے ۔ماضی میں ایسا ہو چکا ہے ۔آج صرف مسلمانوں کی دہشت گردی والے مفروضے کو ہی اچھالا جاتا ہے ۔لیکن ہمارے درمیان سلیم شیخ کوئی تنہا شخص نہیں ہے ۔اس سے قبل بھی ایسے نوجوان سامنے آتے رہے ہیں جنہوں نے انسانوں کی جانوں کو محفوظ کرنے میں اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کی ۔یوں تو بہادری کسی قوم یا مذہب ست وابستہ نہیں ہے لیکن ہم جب حالات کو دیکھتے ہیں تو انسانی جانوں کی قدر کرنے والوں میں مسلم نوجوانوں کی اکثریت نظر آتی ہے ۔زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔اسی رمضان میں اسی کشمیر سے یہ خبر آئی تھی کہ ایک مسلم پولس افسر نے سحری کے وقت دہشت گردانہ حملہ کو ناکام بنایا تھا ۔اس کے علاوہ کئی ایسے واقعات مل جائیں گے ۔اس وقت چونکہ ذہن میں زیادہ واقعات نہیں ہیں ۔ کئی سال قبل میرٹھ میں اسکول کے ایک پروگرام میں اچانک آگ لگ جانے کی وجہ سے کئی بچے موت کے منھ میں چلے گئے تھے ۔وہاں بھی بچوں کیلئے ایک مسلم نوجوان ہی مسیحا بن کر آیا اور اس نے کئی مرتبہ آگ میں چھلانگ لگا کر معصوم بچوں کی جانیں بچائیں اور یوں کئی گھروں کے پھول وقت سے قبل مرجھانے سے محفوظ رہے ۔لیکن وہ نوجوان اس کوشش میں خود کوجھلسانے سے نہیں بچا سکا ۔وہ جس نے کئی گھروں کے چراغ کو بجھنے سے بچایا تھا وہ خود اپنے گھر میں اندھیرا کرگیا ۔اس وقت بھی اس کی کافی تعریف ہوئی تھی ۔جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ ایسے کئی مسلم نوجوان ہیں جو ہماری ملت کیلئے فخر کا سبب ہیں ۔دو یا تین سال قبل کا ایک اور واقعہ یاد آیا جب جنوبی ہند  طوفان باد و باران کے سبب آئے بھیانک سیلاب کی زد میں آیا تھا ۔لوگ اپنے اپنے گھروں کے اطراف میں پانی کے بھرجانے قید ہو کر رہ گئے تھے ۔ایسے میں مسلم نوجوانوں کا گروہ در گروہ باہر آیا اور اس نے بلا لحاظ مذہب متاثرین کی خدمت کی اور ان کو پریشانیوں سے نکالا ،محفوظ جگہوں پر پہنچایا ۔جہاں سے کافی جذباتی باتیں سامنے آئی ۔ایک خاتون نے نامہ نگار سے کہا کہ ’’ہم انہیں دہشت گرد سمجھتے تھے لیکن وہ ہمارے لئے فرشتہ رحمت بن کر آئے ۔انہوں نے ہمیں محفوظ مقام پر پہنچایا ۔ہمارے لئے غذائی اشیا کے انتظامات کئے ‘‘۔انہی ہنگامی حالات میں ایک حاملہ خاتون جسے ہسپتال جانے کی ضرورت تھی ۔مسلم نوجوان نے اپنی جانوں کو جوکھم میں ڈال کر اسے ہسپتال پہنچایا ۔وہاں شاید اسی دن یا دوسرے دن زچگی ہو ئی اس خاتون اور اس کے شوہر نے اپنے اس بچہ کا نام اسی مسلم نوجوان کے نام پر رکھا غالبا اس نوجوان کا نام یوسف تھا۔کشمیر سے ایسے اور کئی واقعات بھی ہیں ۔جیسے دوسال قبل سیلاب کے موقعہ پر مسلم نوجوانوں نے جموں میں ہندوئوں کی جان بچائی اور انہیں غذائیں مہیا کرائیں ۔اسی سیلاب کے موقعہ پر کشمیر گھاٹی میں ایک بس حادثہ کا شکار ہوگئی تھی ۔مسافروں کے بیانات کے مطابق انہوں نے اپنی مدد کیلئے فوجیوں کوآواز دی لیکن کوئی انکی مدد کو نہیں آیا ۔نہ ہی کوئی سرکاری امداد پہنچی ۔آس پاس کے مسلم آبادی سے بس مسافروں کو امداد ملی ۔انہوں نے بس کو کاٹ کر مسافروں کی جان بچائی ۔سیلاب کے موقعہ پر فیض آباد کے ایک برہمن کی ویڈیو بھی ان دنوں کافی وائرل ہوئی تھی جب اس نے کہا کہ ڈیڑھ سو زائرین کو ایک مشہور علیحدگی پسند لیڈر نے مدد پہنچائی ۔اس کا بیان تھا کہ ہمارے علاقے کے ہندو کسی مسلمان کے گھر پانی تک نہیں پیتے لیکن کئی دن سے ایک مسلمان ہماری جان بچانے کیلئے ہمیں غذا فراہم کررہا ہے ۔ مسئلہ کشمیر کی جو بھی سیاست ہو لیکن ایک بات طے ہے کہ کشمیری سیاست نہیں جانتے ان کا ایک ہی مسلک ہے انسانیت جسے انہوں نے قائم رکھا ہے ۔کشمیری پنڈت وہاں سے کسی سازش کے تحت نکال دیئے گئے ۔لیکن وہ ان کے گھروں اور ان منادر کی حفاظت کرتے ہیں ۔یہ کوئی ایک دن کی بات نہیں ۔یہ کشمیریوں کی تہذیب ہے جسے سمجھنے اور ان کے جذبات کی قدر کرنے کی ضرورت ہے ۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے درمیان ایک سلیم شیخ نہیں سیکڑوں ہیں اور یہ صرف گجرات یا مہاراشٹر میں نہیں بلکہ دنیا کے ہر خطہ میں ہیں ۔یہ وہاں زیادہ ہیں جہاں مسلمانوں کو زیادہ مشق ستم بنایا جاتا ہے ۔

یہ سیلاب جنوں اور کیا لے جائے گا؟

قاسم سید 
کیا ہم بہت تیزی کے ساتھ ’نوبھارت نرمان‘ کی طرف پیش قدمی کررہے ہیں، کیا ملک کی نظریاتی بنیادوں کے پتھر تبدیل کئے جارہے ہیں، موب لنچنگ یا نام نہاد گئورکشکوں کے ذریعہ بے دریغ بے خوف و خطر قانون ہاتھ میں لے کر محض بیف کے شبہ کے بہانے انفرادی قتل کے واقعات کا تسلسل خدانخواستہ ہمیں کسی ممکنہ خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہا ہے یا خوف و دہشت کی فضا کے دباؤ میں ضرورت سے زیادہ سوچنا شروع کردیا ہے۔ کیا ساری امیدیں چھوڑ دی جائیں اور اب اصلاح احوال کی گنجائش نہیں بچی۔ مزید یہ کہ موجودہ حالات کا مقابلہ کرنے کی بہتر حکمت عملی کیا ہوسکتی ہے کہ بغیر ٹکرائو اور تصادم کے خود کو اس طوفان بلاخیز سے ثابت و سالم بچاکر لے جایا جائے۔ مسلم قیادت کے سواد اعظم کی خاموشی نے نئی نسل کو مضطرب و پریشان سا کردیا جائے، اس خلیج کو دور کیسے کیا جائے؟ وہیں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ انفرادی قتل کے واقعات جن کے متاثرین کا تعلق اقلیتی فرقہ سے ہے، ان کے صبر و برداشت اور ہمت و جرأت کا ٹسٹ تو نہیں ہے؟ کیا یہ آنے والے وقت میں اجتماعی قتل عام کی ریہرسل تو نہیں؟ کیا مارنے والے اور مرنے والوں کو ذہنی تربیت کے مرحلہ سے گزارا جارہا ہے؟ اخلاق سے لے کر جنید تک لامتناہی سیریز اگر ایسے خدمات اور واہمے پیدا کرتی ہے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پانی کہاں تک پہنچ گیا ہے۔ ان حالات میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اب تک صبر و ضبط کا مظاہرہ کرنے والے اقلیتی فرقہ کو اکسانے کی کوشش ہورہی ہے، اس کے ردّعمل کا انتظار کیا جارہا ہے اور کیا کم و بیش 20 کروڑ کی آبادی کو اس طرح دبایا جاسکتا یا ختم کیا جاسکتا ہے۔ امرناتھ یاتریوں پر دہشت گردانہ حملہ کے بعد اس بہانے دیدہ و نادیدہ قوتوں نے ملک کی فضا کو جس سمت میں لے جانے کی کوشش کی ہے، ہریانہ کے حصار کا واقعہ اس کا ایک ٹریلر ہے، جس میں مسجد کے سامنے اشتعال انگیز نعرے بازی، مسجد کے امام یا پھر تاجر کے ساتھ بدسلوکی، اسے تھپڑ مارنا، گلی گلوچ کرنا، بھارت ماتا کی جے بولنے کے لئے پرتشدد طریقہ سے مجبور کرنا، ہریانہ سے مسلمانوں کو نکال دینے اور مشتبہ مسلمانوں کو زندہ جلادینے کی دھمکی دینا اس بدلتی ذہنیت کا چیختا چنگھاڑتا نظارہ ہے، جو راشٹربھکتی کے خوبصورت کور میں لپٹی ہوئی ہے۔ یہ سفاکانہ ذہنیت ہر دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ کشمیر کے بگڑتے حالات اسے سنجیونی بخش رہے ہیں۔ فوج کو مقدس گائے کا اوتار بناکر اس پر انگلی اٹھانے والوں کی تکابوٹی کرنے کا پیغام عام کیا جارہا ہے۔ راجستھان کے وزیر سیاحت کے ایسے نادر مشورے اور ہریانوی وزیر کا حصار واقعہ کو فطری ردّعمل کہہ دینا محض بیان بازی یا سستی شہرت کی ہوس کا اظہار نہیں بلکہ اس کی ذہنیت کو غذا دیا جانا ہے کہ جو ہمارے ساتھ نہیں یا ہمارے موقف کے خلاف ہے وہ دیش دروہی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے توسط سے اس پیغام کو گھر گھر پہنچایا جارہا ہے۔ دیش دروہوں کو پاکستان بھیج دینے، ملک سے نکال دینے کی باتیں دراصل یہ سمجھانے کی کوشش ہے کہ ایسے عناصر ملک کے وفادار نہیں اور ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہئے جس کا پاکستان مستحق ہے۔ جب پاکستانی بولا جاتا ہے تو اس کا وہی مطلب ہوتا ہے جو ہر شخص کو معلوم ہے۔ آنے والے وقت میں یہ آگ اور بھڑکائی جائے گی۔ اس میں کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہئے۔ سیاسی پارٹیاں حواس باختہ ہیں، ان کی چولیں ہلادیں گئی ہیں۔ پے درپے شکستوں نے فکری دیوالیہ پن کی شکار ان پارٹیوں سے سوچنے سمجھنے کی قوت چھین لی ہے۔ لگتا یہی ہے کہ 2019 میں یہ مضبوط چیلنج پیش کرنے کی اہل نہیں ہوسکیں گی۔ صدارتی الیکشن اور جی ایس ٹی پر ان کا سرپھٹول سامنے ہے۔
یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ آزادی کے بعد جو پارٹیاں ملک پر قابض رہیں وہ خالص سیکولر اقدار اور آئین کی پاسداری کرنے والی تھیں، ان کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہیں تھا، انھوں نے ملک کی جڑوں کو مضبوط کرنے، سیکولر جمہوری قدروں کو پروان چڑھانے اور قومی یکجہتی کی روح کو طاقت دینے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائے ہوں گے تو کیا یہ باندھ اتنے کمزور ثابت ہورہے ہیں کہ تین سال کی بارش کا زور برداشت کرنے میں ناکام ہیں؟ کیا مودی کی تین سال کی محنت 67 سالوں پر بھاری پڑرہی ہے؟ آخر کیوں اتنی مختصر مدت میں سیکولرازم، جمہوریت، آئین، اظہار رائے کی آزادی سب کچھ خطرے میں نظر آنے لگا ہے۔ اس کا مطلب یہ کیوں نہ لیا جائے کہ صرف ہاتھ تبدیل ہوئے، مگر فکر اور ذہنیت یکساں تھی۔ طریقہ کار کا فرق تھا ورنہ تمام پارٹیاں بنیادی طور پر ہندوتو کی پرورش کرتی رہیں۔ کسی نے سافٹ ہندوتو کی حکمت عملی اپنائی تو کوئی ہارڈ ہندوتو کے راستے پر چلتا رہا۔ کانگریس ایسی ندی تھی جس میں سارے نظریاتی تالابوں کے لئے قبولیت کا مادہ تھا۔ اگر ان پارٹیوں میں واقعی نظریاتی فرق ہوتا تو بے شرمی کے ساتھ پارٹیاں بدلنے والے نظریاتی خلیج کو کیسے پاٹ لیتے۔ کانگریس کا لیڈر بی جے پی میں اور آر ایس ایس کا تربیت یافتہ کانگریس میں کیسے ایڈجسٹ ہوجاتا۔ شنکر سنگھ واگھیلا اور سنجے نروپم اچانک سیکولر ہوجاتے ہیں اور ریتا بہوگنا اور اترپردیش میں ایک دن کا وزیر اعلیٰ بننے کا شرف حاصل کرنے والے جگدمبیکا پال بی جے پی کا دامن تھام لیتے ہیں۔ جن کی زندگی سیکولرازم کی مالا جپنے میں گزر گئی، ساکشی مہاراج کو سماج وادی پارٹی راجیہ سبھا پہنچاتی ہے اور کلیان سنگھ کے ساتھ انتخابی سمجھوتہ کرلیتی ہے، جو بابری مسجد انہدام کے جرم میں سپریم کورٹ سے سزایافتہ ہیں۔ کسی حد تک لیفٹ کو چھوڑکر سب اس حمام میں ننگے ہیں۔ آج ملک کے جو بھی حالات ہیں، یہ سب ذمہ دار ہیں۔ انھوں نے ہندوتو فورسز کی نگہبانی کی، آر ایس ایس بھلے ہی ایک تنظیم ہے مگر یہ ایک ذہنیت اور فکر کا نام ہے، جس کے ترجمان ہر پارٹی میں موجود ہیں اور ماضی میں بھی رہے ہیں۔ آخر جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی نہرو کابینہ میں اہم وزیر تھے۔ نرسمہا رائو کا پورا کردار سامنے ہے۔ وی پی سنگھ نے بی جے پی کی حمایت سے سرکار چلائی۔ جنتا پارٹی کے تخم میں بی جے پی موجود تھی، اس وقت وہ کسی اور نام سے تھی۔
سیکولر پارٹیاں ہماری سیاسی مجبوری تھیں اور ہیں، کیونکہ ان کے بغیر چل نہیں سکتے۔ ہم ان کی مجبوری تھے، مگر ان کی طرف سے یہ مجبوری کسی حد تک ختم ہوگئی ہے۔ مسلم مسائل کو اٹھانے کے بارے میں وہ بہت حساس اور الرٹ ہوگئی ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ منھ بھرائی کے الزام نے انھیں کمزور کردیا ہے، جبکہ یہ سراسر جھوٹ فریب ہے۔ ایک ہزار سال حکمرانی کے نشہ میں گزارنے والا طبقہ ملک کی تقسیم اور 60 سال کی آزادی میں سب سے نچلی سطح پر پہنچادیا گیا، لیکن اب اس کے وجود، مذہبی تشخص کو چیلنج درپیش ہے۔ اس کی زندگی، جان و مال، عزت و آبرو کے تحفظ کا مسئلہ سنگین تر ہوتا جارہا ہے۔ آنے والے وقت میں سول سوسائٹی ہی واحد امید کا مرکز ہے، جو آج بھی بے خوف و خطر ’’ناٹ از مائی نام‘‘ سے باہر نکلتی ہے اور بڑھتے تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کی جرأت رکھتی ہے۔ جن آوازوں میں جان ہے، خواہ وہ بہار میں ہو یا مغربی بنگال میں ان کا گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ نتیش کمار جیسے لیڈر اپنی سودھا کے حساب سے سفر طے کرتے ہیں۔ وہ 17 سال بی جے پی کے ساتھ رہے، آگے بھی رہ سکتے ہیں۔ ہمارا دل بہت بڑا ہے، ہر کسی کو معاف کرنے اور اس کے گناہوں کو بھلانے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ مولانا آزاد ہمارا ’سیاسی شدھی کرن‘ کرگئے تھے۔ انھوں نے تاکید کی تھی کہ مسلمان الگ سے کوئی سیاسی پارٹی نہ بنائیں، بلکہ کانگریس کو ہی اپنا ملجا و ماویٰ سمجھیں۔ یہ تاکید ایسی پتھر کی لکیر بن گئی کہ مسلمانوں نے کوئی سیاسی پارٹی نہیں بنائی، اگر بنائی بھی تو کسی کی بی ٹیم بن گئی یا بارہویں کھلاڑی کی طرح ’تولیہ‘ اٹھانے کا کام ضرور کرتی رہی اور مسلمانوں نے بھی لائق اعتبار و توجہ نہیں سمجھا اور مولانا آزاد کی وصیت کو حرز جاں بنالیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر موجودہ حالات میں جبکہ گائوں گائوں کشیدگی کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے، ہندو افتخار کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ہماری توقعات کے برعکس مودی کی مقبولیت کم نہیں ہوئی ہے۔ ملک کے ہر اہم عہدہ پر بی جے پی قابض ہورہی ہے، زیادہ تر ریاستوں میں اقتدار ہے۔ فی الحال رخصتی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور مسلمانوں میں خوف و ہراسانی کے ساتھ اضطراب ہے۔
تو کیا اس کا علاج صرف کانفرنسیں اور بیانات ہیں؟ کیا کانفرنس سے کبھی کوئی علاج ہوا ہے؟ کبھی ان کا فالواپ بھی ہوا ہے؟ ہم آج بھی منھ ٹیڑھے کئے بیٹھے ہیں۔ ہر کوئی فرماتا ہے کہ وہ کسی کے ساتھ کہیں بھی بیٹھنے کو تیار ہے، مگر اس کے باوجود جب مل بیٹھنے کی باتیں ہوتی ہیں تو سب کی مصروفیات، شرعی عذرات نکل آتے ہیں۔ یہ آنکھیں ایسا منظر دیکھنے کو ترس گئی ہیں جب ملت کے سربراہان بے کس و بے بس ماحول کو جرأت و عظیمت میں بدلنے کے لئے ایک چھت کے نیچے نظر آئیں۔ کوئی جماعتی حصار سے نکلنے کو تیار نہیں تو کوئی مسلکی بندشیں توڑنے میں بے عزتی سمجھتا ہے۔ کسی کے پاس وسائل نہیں تو کوئی اپنے وسائل میں دوسرے کو شریک کرنا نہیں چاہتا۔ نفسانفسی اور تحفظات نے ملت کا بھرکس نکال دیا ہے۔ اب تو پانی ناک تک آگیا ہے، سیلاب جنوں اور نہ جانے کیا کیا بہا لے جائے گا۔ طوفان نوح نے کسی کو نہیں بخشا۔ جب آفت آتی ہے تو متقی عابد پرہیزگار بھی اس کی زد میں آتے ہیں۔ ہندو افتخار کی متعدی بیماری نے جو جنون، دیوانگی اور دہشت پیدا کی ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک چھت کے نیچے آنا ہوگا، ورنہ قصائی کی چھری دربہ میں موجود کسی مرغی کو نہیں بخشے گی۔ نہ مسلک، نہ جماعتیں، نہ ادارے، نہ ٹرسٹ، کچھ نہیں بچے گا۔ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے اور مشاورت میں ہی عافیت ہے۔ یہ قرآنی راستہ ہے۔ جب بھی اس سے روگردانی کی گئی عذاب مسلط کردیے گئے۔ یہ وقت نفس کی قربانی کا ہے، وسائل کو مجتمع کرنے کا ہے۔ ورنہ کرتے رہیے کانفرنسیں، کون سنتا ہے، دیتے رہیے اردو اخبارات میں بیانات، کون نوٹس لیتا ہے۔

qasimsyed2008@gmail.com