کشمکش اورکشیدگی عرب دنیا میں ۔تاریخی پس منظر

پروفیسر محسن عثمانی ندوی

لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ عالم اسلام میں اور خاص طور پر عرب دنیا میں ہمیشہ خلفشار کیوں رہتا ہے ، لوگ بغاوتیں کیوں کرتے ہیں، خون ریزی کیوں ہوتی ہے ، ہزاروں کو جیل میں کیوں بند کیا جاتا ہے ،احتجاجات کیوں ہوتے ہیں، آتش وآہن کا تماشہ ہر روزکیوں ہوتا ہے ، لوگوں کو تختہ دار پر کیوں چڑھایا جاتا ہے ۔وہاں تانا شاہی حکومت کیوں قائم ہوجاتی ہے۔جب کہ دنیا میں ہر جگہ جمہوریت ہے ، عرب دنیامیں ہر جگہ ڈکٹیٹرشب اور مطلق العنان حکومت نظر آتی ہے ۔دنیا میں عوام کی اکثریت صورت حال کی صحیح توجیہ نہیں کرپاتی ہے ، خواص بھی صحیح نتیجہ تک نہیں پہونچ پاتے ہیں ، بڑے بڑے سیاسی مبصراور عالمی صحافت کے محلل اور دیدہ ورصحیح نتیجہ تک پہونچنے سے قاصر رہتے ہیں ۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے دنیا کے ان دانش وروں کووہ فرق نہیں معلوم ہے جو اسلام اور دوسرے مذاہب میں پایا جاتاہے۔ دنیا کے دوسرے مذاہب میں کبھی کبھی عبادت خانوں میں جانا اور اتوار کے دن یا کسی خاص دن عبادت کرلیناکافی ہوتا ہٍے ۔ دوسرے مذاہب میں جامع نظام زندگی کا تصور ہی نہیں پایا جاتا ہے اور نہ ان مذاہب کے ماننے والوں کو اس کا کوئی دعویٰ ہے۔ان مذاہب کے ماننے والے اسلام کو بھی اپنے مذہب پر قیاس کرتے ہیں ۔ اسلام ایک مکمل نظام ہے ، وہ صرف عبادات کامجموعہ نہیں، اس کا اپناسیاسی نظام بھی ہے اقتصادی نظام بھی ہے ، اس کے اپنے بین الاقوامی قوانین ہیں ۔اب اگر مسلم حکومتوں میں اسلام کے جامع نظام پر عمل نہیں ہوگا شریعت نافذ نہیں ہوگی تو باشعوردینی جماعتوں میں اور اہل علم کے حلقوں میں بے چینی کا پیدا ہونا قابل قیاس ہے۔
اسلام کی تاریخ میں خلافت راشدہ کے بعد اسلامی نظام حکومت وسیاست کی گاڑی پٹری سے اتر گئی تھی ، جمہوریت کا وہ عنصر جس میں حکومت پر تنقید کی آزادی رہتی ہے حکومت سے غائب ہوگیا تھا، ملوکیت نے جمہوریت کی جگہ لے لی تھی ۔ امیر معاویہ کے دربار میں ایک صحابی رسول آتے ہیں اور کہتے ہیں ’’ بادشاہ سلامت کی خدمت میں سلام قبول ہو‘‘ امیر معاویہ نے کہاکہ’’ اچھا ہوتا کہ تم مجھے امیر المؤمنین کہہ کے مخاطب کرتے ۔‘‘اسلامی سیاست میں انحراف پیدا ہو گیا تھا ، اس کا احساس سب کو تھا لیکن زندگی کے دوسرے میدانوں میں اسلامی شریعت نافذ تھی ،اسلامی قانون پر عمل ہوتا تھا اسلامی قانون کی تدوین کا کام بھی بڑے پیمانہ پر جاری تھا اور بڑے بڑے فقہاء اس کام میں مشغول تھے۔ علم وہنر اور سائنس اور صنعت میں بھی مسلمانوں کی پیش رفت جاری تھی ، فتوحات نے دنیاکے کئی براعظم کو اسلام کے اقلیم میں داخل کردیاتھا ، مسلمانوں کے اہل علم اور اہل دین حکومت سے ناراض ضرور تھے کیونکہ سیاست وحکومت کے نظام میں انحراف داخل ہوگیا تھالیکن معاشرہ میں خیر کا پہلو غالب تھا اس کے علاوہ انقلاب کی جو کوششیں ہوئیں وہ کا میابی سے ہمکنار نہیں ہو سکیں اور زمین خون سے لالہ زار ہوگئی ۔ اس لئے زیادہ تر علماء سیاست سے کنارہ کش ہوکر علمی اور تربیتی کا موں میں مشغول رہے ۔ لیکن ماضی کے برعکس عصر حاضر میںیہ ہوا کہ اسلامی جمہوریت کا بھی خاتمہ ہوا اور اسلامی قانون کو بھی دیس نکالا دیا گیااسلامی شریعت کوبھی منسوخ کردیا گیا ،اورمسلم ممالک مغرب کے غلام ہوگئے تعلیمی اداروں نے ذہن وفکر کو مغرب کا غلام بنادیا ۔ مصر وشام وعراق میں ہر جگہ تمام حکمراں مغربی تہذیب کے پر وردہ تھے اور مغربی تہذیب کے طوفان میں اسلام مسجدوں میں محصور ہوکر رہ گیا ۔
ان حالات میں دین وشریعت کے ماہرین اور اہل علم اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے کہ حکومت کو صحیح راستہ پر لے چلیں وہ اپنے مطالبات پیش کرتے تھے ،رائے عامہ ہموار کرتے تھے حکومت پر تنقید کرتے تھے اور زبان و قلم کی طاقت سے طاقتوراحتجاج کرتے تھے۔ علماء کی طرف سے پرتشدد ٹکراؤ نہیں تھا، لیکن وہ احتجاج بھی نہ کرتے تو کیا کرتے ،یہ تغییر بالقلم اور تغیر باللسان کی کوشش تھی ، جو مشروع ہے ،لیکن زیادہ تر حکمرانوں کے سامنے آئڈیل حکومت مغربی ملکوں کی حکومت ہوتی تھی، یہ حکمراں زیادہ تر مغربی ملکوں کے تعلیم یافتہ اور وہیں کے ما حول کے پروردہ ہوتے تھے، وہ اسلام کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ وہ نفاذ شریعت کے مطالبات پیش کرنے والی دینی تنظیموں پر سختیاں کرتے تھے ۔ کشمکش اور کشاکش کا یہیں سے آغاز ہوتا ہے ۔اوراس آغاز کا انجام یہ ہوتا ہے کہ یہ دینی تحریکات تاریک خیال تنگ نظر اور پھر دہشت گرد قرار پاتی ہیں اور ان تحریکات کے قائدین کو پابند سلاسل کیا جاتا ہے زیادتی اور ظلم کا سلسلہ حکومت کی طرف سے شروع ہوتا ہے اوریہ دینی تحریکات پھر بھی باز نہیں آتی ہیں تو ان کے قائدین کو تختہ دار پر بھی چڑھا دیاجاتا ہے ۔ یہی ہر جگہ کا قصہ ہے یہی اس دور کی تاریخ ہے کچھ علماء ہمت کر کے سامنے آتے ہیں لیکن زیادہ تر علماء یہ دیکھ کر کے کہ کوئی تبدیلی ممکن نہیں تصنیف وتالیف اور تفسیر شرح حدیث اور تعلیم وتدریس اور تزکیہ نفس اور تربیت کے کا موں میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ لیکن ہر دور میں کچھ علماء اور غیرت مند مسلمان قربانیاں دینے کیلئے بھی تیار ہوجاتے ہیں اسی لئے ماہر القادری کو اپنے مشہور سلام میں اس حقیقت کا ذکر بھی کرنا پڑا
سلام اس پر کہ جس کے نام لیوا ہر زمانے میں
بڑھا دیتے ہیں ٹکڑا سر فروشی کے فسانے میں
اسلام کی بے بسی بے کسی اور بے چارگی کا زمانہ طویل ہوگیا تھا ، جمہوریت کا پرندہ عرب ملکوں میں فوجی بلیوں کے پنجہ میں پھڑپھڑا رہا تھا ۔ دینی کام کرنے والی تنظیموں کے دست وبازو زخمی تھے ،عربوں کوترکی سے رہائی پہلی جنگ عظیم کے بعد مل گئی تھی ۔ عربوں نے رہائی اور ترکی سے آزادی کی تحریک مغرب کے اشارہ پر چلائی تھی ، ترکی سے آزادی کے بعد عربوں میں جو حکومتیں قائم ہوئیں وہ مطلق العنان ڈکٹیٹرشپ کی حکومتیں تھیں یا بادشاہتیں تھیں ،جمہوریت کے عہد میں جمہورکو کچلنا بہت طویل عرصہ تک ممکن نہیں تھا ، یہ مطلق العنانیت جوتیونس میں مصر میں لیبیامیں شام میں عراق میں اور یمن میں تھی مزاج اسلام کے یکسر خلاف تھی ، مزاج اسلام کے خلاف تو بادشاہت بھی تھی لیکن جہاں بادشاہت تھی وہاں عوام آسودہ حال تھے اور مطمئن زندگی گذارتے تھے، اور گھروں میں سیم وزر کی ریل پیل تھی اور راوی چین ہی چین لکھتاتھا اوروہاں علماء بھی مطمئن تھے کہ سیاست اور حکومت کی سطح پر نہ سہی کچھ دوسرے اسلامی قوانین نافذ تو ہیں اور دوسرے خیر کے بہت سے کام ہورہے ہیں۔ اس لئے عرب اسپرنگ کا آغاز ان ملکوں سے ہواجہاں جمہوریت بھی نہیں تھی اور خوش حالی بھی نہیں تھی،عوام عسرت و تنگی کی زندگی گذار تے تھے، وہاں دینی حلقوں کو اقتدار کے حلقوں سے شکایات تھیں اور اہل دین کے خلاف ظلم کی چکی چلتی رہتی تھی ۔حکومت کے خلاف بغاوت میں سب شریک ہوئے لیکن مذہبی تحریکات کے لوگ سب سے آگے اور پیش پیش رہے ۔اس لئے قربانیاں دینے میں بھی یہی حلقہ سب سے آگے تھا،فوجی آمریت کی قوت کو شکست دینے کے بعد اقتدار جس گروہ کے ہاتھ میں آنا طے تھا وہ اسلام پسندوں کا گروہ تھا،کیونکہ یہ اسلام پسند تھے جو فوجی آمریت کے خلاف اپوزیشن کا رول ادا کرتے آئے تھے اور ان سے دست بگریباں رہتے تھے، تیونس میں بہارعرب کی کامیابی کے آثار پیدا ہونا شروع ہوئے تھے کہ مصر میں بھی انقلاب کا شرارہ پھوٹ پڑا اور حسنی مبارک کو اقتدار سے بے دخل ہونا پڑا اور پھر شام کے چمن زاروں میں بھی آگ لگ گئی ۔ اگر مصر کی طرح شام کا انقلاب بھی کامیاب ہوجاتا اورمصر وشام دونوں جگہ اسلام پسند تا دیر حکمراں رہتے تو اسرائیل کے وجود کو خطرہ پیش آجاتا اور نئی تاریخ بنتی ،اور یہ ایک تاریخ ساز واقعہ ہوتا،کیونکہ یہی اخوان تھے جنہوں نے ۱۹۴۸ میں اسرائیل کے خلاف جہاد کیا تھا اور مصری حکومت نے اس وقت اخوانیوں کی پیش قدمی زبردستی روک نہ دی ہوتی تو فلسطین کی سرزمین پر قابض اسرائیلی خون میں آلودہ ہوتے اور خاک بسراور ملک بدر نظر آتے ۔ فلسطین میں حماس کی طاقت کا سرچشمہ بھی اخوان ہی ہیں ۔دنیا کی بڑی طاقتیں اسلام پسندوں کے بڑھتے قدم سے لرزہ براندام ہوگئیں ۔دنیا کی قوموں کا جارحانہ انداز دیکھ کر رد عمل میں داعش اور القاعدہ جیسی کچھ تنظیمیں ضرور سامنے آئیں لیکن مسلمان علماء اور باشعور حلقوں کے طرف سے ان کو حمایت نہیں ملی ۔اخوان جیسی تنظیموں نے پر امن تحریک چلائی انہوں نے ہتھیار نہیں اٹھائے لیکن انہیں ظلم اور تشددکانشانہ بنایا گیا آخر میں مصر میں محمد مرسی کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور تمام بادشاہتوں کو ڈرا دیا گیا اور کہہ دیاگیا کہ تمہارا راج پاٹ خطرہ میں ہے اپنی بقا چاہتے ہو تو اخوانیوں کواور ان کے ساتھ حماس کو کچل دو اور جوملک بھی اخوان کو اور حماس کے قائدین کو پنا ہ دے ان کا مقاطعہ کرو۔اس وقت عرب اسلامی ملکوں میں جو کشمکش جاری ہے اس کے پیچھے در اصل مذہب اور لامذہبیت کی کشمکش ہے ۔اورتاج و تخت والی بادشاہتیں لامذہبیت کی ہم دم و دمساز اوردہریت کی ہم سفر اور ہم صفیر بن چکی ہیں ۔اس وقت چراغ دین وشریعت کی لو کو کترنے کی کوشش جاری ہے۔ کشتگان خنجر دہریت و مغربیت کی تعداد روز افزوں ہے۔ جنہوں نے فراز دار پر سروں کے چراغ روشن کئے ہیں ۔ چراغ کشتہ محفل کا یہی دھواں ہے جو اسلامی ملکوں میں پھیلا ہوا ہے اور اس کی کثافت اور بڑھتی جائے گی اگر اسلامی ملکوں نے ہوش کے ناخن نہیں لئے اور عقل کو رہنما نہیں بنایا اور اپنے آپ کو دین وشریعت سے ہم آہنگ نہیں کیا ۔اسلام کے لئے تو مقسوم ہو چکا ہے کہ وہ کربلا کے بعد زندہ ہوتا ہے جنہوں نے اپنے آپ کودین وشریعت سے اور اسلام سے وابستہ کیا ہے وہ کربلا کے عادی ہوچکے ہیں اور وہ ہر دور میںیزید کو بھی اس کے اندازہ قدسے پہچانتے ہیں ، وہ آئے ہزار اپنا چولا بدل کر ۔ اور وہ ان اصحاب جبہ ودستار کو بھی پہچانتے ہیں جو یزید کے طرفدار بنتے ہیں وہ مفتیان کرام ہوں یا مسجد کے امام ہوں یا شیخ المدرسہ ہوں ۔اس وقت علماء حق کی ذمہ داری بہت بڑی ہے اگر انہوں نے امام ابو حنیفہ اور امام مالک اور امام احمد بن حنبل کی طرح حق گوئی اور بیباکی اختیار نہیں کی تو انہیں علماءء سوء کے نام سے یاد کیا جائے گا اور اقبال کے الفاظ میں لوگ ان سے یوں مخاطب ہوں گے
کچھ قدر اپنی تو نے نہ جانی .. یہ بے سوادی یہ کم نگاہی

خادم حرمین شریفین کی شرافت کا مرثیہ


عمر فراہی ۔  ای میل  :  umarfarrahi@gmail.com 

سعودی شہنشاہ  شاہ سلمان نے جب موجودہ ولی عہد محمد بن نائف کو معزول کرکے اپنے بیٹے محمد کو ولی عہدمقرر کیا تو یہ موضوع بھی زیر بحث رہا کہ کہیں شاہ سلمان کے اس فیصلے سے مملکت سعودیہ میں انتشار کی کیفیت نہ پیدا ہوجائے ۔ جیسا کہ افواہیں بھی ہیں کہ کسی ممکنہ بغاوت کو روکنے کیلئے محمد بن نائف کو ان کے جدہ کے محل میں نظر بند کردیا گیا ہے ۔ حالانکہ سعودی عرب کے سرکاری ذرائع ابلاغ کی طرف سے اس افواہ کی تردید کی گئی ہے ۔ لیکن محمد بن نائف کی طرف سے عوام کے سامنے کوئی آزادانہ بیان نہیں آیا ہے ۔ خیر یہ آل سعود کا اپنا خاندانی معاملہ ہے اس وقت وہ خطہء حجاز کے ڈکٹیٹر ہیں جسے چاہیں سعودی عوام پر حکمراں بنا کر تھوپ دیں ۔ لیکن ان کے کسی بھی فیصلے سے اگر حجاز میں کوئی بحرانی کیفیت پیدا ہوتی ہے توحرم پاک کے تقدس کو خطرہ لاحق ہونے کا اندیشہ ضرور پیدا ہوجاتا ہے ۔ اس لئے مسلمانوں کا تشویش میں مبتلا ہونابھی لازمی ہے ۔ اب کوئی یہ کہے کہ سعودی حکمراں خادم حرمین شریفین بھی ہیں اس لئے وہ خطا سے پاک ہیں تو اس اندھی عقیدت اور آستھا کی مثال وہی ہوئی جو اکثر پیدائشی مسلمانوں کا گمان ہوتا ہے کہ وہ لاکھ گناہ کرے جنتی ہے اور پیدائشی مشرک جنم سے جہنمی ہے ۔ خود کیلئے خادم حرمین شریفین کا لقب اختیار کر لینے کا مطلب یہ بالکل نہیں ہوتا کہ خادم شریفین کوئی بھی فیصلہ کریں وہ درست ہو اور اس فیصلے کے خلاف کوئی آواز بھی نہ اٹھے ۔ یہ سچ ہے کہ اب خلفائے راشدین کا دور نہیں رہا جب ایک عام شخص بھی اپنے حکمراں کے سامنے کلمہء حق بلند کرنےکیلئے آزاد تھا ۔ لیکن کیا اہل ایمان اپنے اس مزاج کو بھی دفن کردیں جس کی تعلیم انہیں صدیوں سے اپنی کتابوں سے ملتی ہے اور وہ یہ تعلیم اپنی نسلوں میں بھی منتقل کرنے کے پابند ہیں ۔ جیسا کہ سعودی اور قطر کے تنازعے کو لیکربحث کا عنوان بھی صرف اتنا تھا کہ سعودی نے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرکے عالم اسلام کے اتحاد میں انتشار پیدا کیا ہے اور یہ فیصلہ ممکن ہے کہ مملکت سعود یہ کیلئے ہی نقصان دہ ہو ۔ آواز اٹھانے والے بھی اپنی جگہ مخلص تھے لیکن ایک طبقے کو عرب حکمرانوں پر انگلی اٹھانا بھی اچھا نہیں لگا اور اس نے نہ صرف چند مخصوص اتحادی عرب ممالک کے اس ناقص فیصلے کو جائز ٹھہرانا شروع کردیا اعتراض اٹھانے والوں کے مسلک عقیدے اور ان کے آباواجداد کی تاریخ بھی کھنگال ڈالی ۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر اخوان سے لیکر جماعت اسلامی حماس اور ان کے گڑے مردوں تک پر لعنت ملامت کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔کسی نے لکھا کہ کیا اخوان ہی اسلام ہے اور اسلام ہی اخوان ہے ۔ تو کسی نے یہ بھی کہا کہ مسئلہ فلسطین، مذہبی مسئلہ ہرگز نہیں جیسا کہ کچھ دہشت نواز عناصر دنیا کو باور کرا کے ماڈرن جہاد کی بھٹی کو گرم رکھنا چاہتے ہیں ۔ یہ محض زمین کا ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا تعلق صرف فلسطینیوں سے ہے اور کچھ نہیں ۔
یہ تو اچھا ہے سوشل میڈیا پریہ بحث اردو میں ہورہی تھی ورنہ غیر مسلموں کا وہ طبقہ جو مظلوم فلسطینیوں کی جدوجہد میں آواز اٹھاتا رہتا ہے وہ بھی توبہ کرتا کہ یہ کس قبیل کے مسلمان ہیں جو ایک خطرناک سوچ ان کے ذہنوں میں پل رہا ہے اور یہ لوگ اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کی تحریک کو ہی دہشت گردی سے تعبیر کر رہے ہیں ۔ باالفرض اگر یہ بات مان بھی لیا جائے کہ فلسطین کا مسئلہ مذہبی نہیں ہے یا اخوانی مسلمان نہیں ہیں تو بھی انسانیت کے درد کو محسوس کرتے ہوئے کیا مسلمانوں کا یہ فرض نہیں بنتا کہ ظلم چاہے کسی غیر مسلم قوم پر ہی کیوں نہ ہو وہ اس کے خلاف آواز بلند کریں ۔اتفاق سے اس وقت ہندوستان سے لیکر افغانستان ، ایران ، عراق ، شام اور مصر و فلسطین تک ظلم کی بھٹی میں جھونکے جانے والے انسانوں کا مذہب اسلام ہی ہےاور ان پر ظلم کرنے والے ظالم حکمراں بھی مسلمان ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کی تابعداری میں اپنی اسلامی غیرت اور حمیت سے بھی محروم ہوچکے ہیں ۔ وہ مذہب جس کی تعلیمات میں ہی مظلوموںکی حمایت و اعانت کو ترجیح دی گئی ہو ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہء حق بلند کرنے کو افضل جہاد کہا گیا ہو اگر اس مذہب کا ہی کوئی طبقہ ظالم حکمرانوں کی حمایت میں کھڑا نظر آئے تو تعجب ہے کہ وہ کس اسلام کے پیروکار ہیں ۔ تعجب کی بات تو یہ بھی ہے کہ اب کسی بھی ظلم کو ہم قرآن کی نظر سے نہ دیکھ کرحکمرانوں کی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں ۔ بدقسمتی سے روس کے خلاف افغانستان کی سرد جنگ میں مغرب نے افغانستان کے جن ملاؤں اور عرب کے سلفیوں کی حمایت کرکے انہیں مجاہد کا لقب دیا تھا جب یہی لوگ فلسطین پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کے خلاف مغرب کی ناانصافی اور عرب حکمرانوں کی نااہلی اور بزدلی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تو یہ کل کے مجاہد دہشت گرد ہوگئے ۔ ظلم اور تشدد کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے معنی اور مفہوم دینا ابلیس کے نمائندوں کا پرانا کھیل رہا ہے ، جسے صہیونی مقتدرہ نے بہت ہی چالاکی سے کھیلا ۔ میڈیا نے پروپگنڈہ کیا اور اب کسی بھی سیاسی عوامی بغاوت کو بھی دہشت گردی کا نام دیکر کچل دینا حکومتوں کیلئے عام بات ہوچکی ہے ۔ عرب بہار کے بعد تیونس مصر لیبیا اور شام وعراق میں یہی ہورہا ہے ۔ عوامی بغاوت کی یہ آگ جب سعودی عرب اور ایرانی حکومتوں کی دہلیز تک پہنچی تو ان کے بھی کان کھڑے ہوگئے ۔ وہی لوگ جو اسرائیل اور امریکہ کو شیطان اور دہشت گرد کہہ رہے تھے وہی لوگ امریکہ اور اسرائیل کی زبان بول رہے ہیں ۔ یہ سچ ہے کہ عوامی بے چینی کبھی کبھی خون خرابے میں بھی تبدیل ہوجاتی ہے لیکن کسی بھی عوامی تحریک کو دہشت گردی کی اصطلاح یا لفظوں کی عیاری اور مکاری سے کبھی بھی دبایا اور کچلا نہیں جاسکتا ۔ 2012 میں ڈاکٹر مرسی کی منتخب حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی حمایت کرکے سعود ی حکومت نے ایک ایسی نظیر قائم کی ہے جسے وہ جبراً کتنا بھی درست قرار دے یہ حکومت عالم اسلام کی اخلاقی حمایت کا جواز کھو چکی ہے۔جو لوگ یہ کہتے ہوئے سعودی حکومت کے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہیں کہ قطر اوراخوان کے لوگ ایران سے مل کر سعودی حکومت کے خلاف سازش کررہے تھے تو انہیں سمجھنا چاہئے کہ دنیا کا وہ کون سا ملک ہے جو اپنی انٹلیجنس کے ذریعے دوسرے ملک پر نظر نہیں رکھے ہوئے ہے اور وہ اپنی انہی خفیہ ایجنسیوں کی اطلاع پر اپنی حفاظتی تدبیر کیلئے پابند ہے - سعودی حکمراں خود پچھلے پچاس سالوں سے یہی کررہے ہیں ۔ فرق اتنا ہے کہ سعودی حکمرانوں نے اب تک اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے اپنی بے پناہ دولت کے ذریعے غیر ملکی حکمراں اور فوج کا استعمال کیا ہے جیسا کہ ایران کے خلاف صدام اور عراقی فوجوں کا استعمال کیاگیا ۔ مگر جب صدام نے کویت پر حملہ کیا تو سعودی حکومت کو امریکہ سے مدد لینی پڑی ۔ امریکہ سے مدد لینا معیوب بات نہیں ہے جبکہ خود ایران بھی شام کے اندر روس کی مدد سے عوامی انقلاب کو ناکام کرنے میں کامیاب ہوا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ سعودی حکمراں اپنی خود کی اتنی فوج کیوں نہیں تشکیل دیتے جو مملکت سعود اور حرمین کی حفاظت کرسکے ؟ اس سوال پر کیا غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ خادم حرمین شریفین کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں اپنی پچیس پچاس ہزار فوج سے حرم پاک کا دفاع کرسکیں گے ؟ سچائی یہ ہے کہ سعودی حکمراں خاندان کو سب سےبڑا خطرہ اپنے عوام کی بغاوت سے ہی ہے ۔ اگر سعودی حکمراں عوام پر مشتمل دس لاکھ کی فوج تشکیل دیتے ہیں جو کہ وہ اتنے اہل ہیں کہ دے سکتے ہیں لیکن انہوں نے اپنی بادشاہت کے خلاف فوجی بغاوت نہ ہو سعودی باشندوں کی کوئی فوج کبھی تشکیل نہیں دی

اور کتنے جنید


دوٹوک ۔ قاسم سید

اب ان سوالوں سے نظریں چرانے،شور سن کر گھر کا دروازہ بند کرنے کا وقت نہیں رہا کہ اکثر ہمارا مہذب ترقی یافتہ تکثیری سماج کا ایک حصہ جنون ودیوانگی کے ساتھ درندگی اور وحشی پن پر کیوں اترآیا ہے۔ ہمارے آنگن میں رواداری کے کبوتر اترناکیوں بند ہوگئے۔جمہوری مزاج میں بلاکی تندی، تلخی،زہر،نفرت کے جراثیم کیوں اثرانداز ہورہے ہیں۔ بھیڑتنتر کے بھڑیا تنتر میں بدلنے میں کتناوقت اور لگے گا۔ یہ سب اچانک ہونے لگا یا اس کی تیاری کافی عرصہ سے کی جارہی تھی اوراب اسے کھل کر پھلنے پھولنے اور کھادفراہمی کا بے روک ٹوک موقع ملا ہے۔ اسے پھلنے پھولنے کیوں دیاجارہا ہے کیا سب کا ساتھ اور سب کا وکاس اور ہندوتو اکے کاک ٹیل سے سیاسی تخلیق کا عمل جاری تھا وہ حقیقی شکل لے چکا ہے۔ کیا گاندھی کا رام راجیہ اور آر ایس ایس کا ہندو راشٹر اس راستہ سےآئے گا جہاں مخالفین کو سڑکوں پر گھیرکر چند منٹوں میں فیصلہ سنایاجانے لگے گا۔ واقعی ہندو راشٹر کی عملی تصویر بنی ہے یاپھر اقلیتوں، آدیواسیوں اور دلتوں میں ذلت وخواری کا احساس پیدا کرکے انہیں خوف ودہشت کانفسیاتی مریض بنایا جارہاہے تاکہ ان کی مزاحمتی قوت کا مزاج ختم ہوجائے۔ اخلاق سے پہلو خاں اور معصوم روزہ دار جنید کا قتل اس مہم کاناگزیر حصہ ہےکہ گر تم ہمارے مزعومہ ہندوتو کے آگے نتمستک نہیں ہوتےتو تمہاری ہڈیاں توڑدی جائیں گی۔ چاقوئوں سے گود کر سڑکوں پر پھینک دیاجائےگا۔ تم ہاتھ جوڑ کر رحم کی بھیک مانگوگے تو بھی زندگی نہیں بخشی جائے گی۔ تمہارے گھروں میں آگ لگادیں گے۔ دکانوں کوجلاکر راکھ کردیں گے اورتمہیں ذہنی افلاس کا شکار بناکر دوسرے کے لئے عبرت بنادیں گے۔ سیاسی پارٹیاں جنہیں تم سیکولر کہہ کر پکارتے ہو جو تمہارا خون پی کر اقتدار کے مزے لوٹتی ہیں، تمہاری لاشوں کی تجارت کرتی ہیں تمہاری مدد کو نہیں آئیں گی۔ کیونکہ ہم نے منہ بھرائی اور خوشامد کی بات کہہ کر ان کی زبانیں بند کردی ہیں۔اب وہ صرف روایتی بیان جاری کرکے ذمہ داری سے پلہ جھاڑ لیں گی۔ اور پردھان سیوک بھی کچھ نہیں کہے گا۔
یہاں ایک سوال اورپیداہوتا ہے کیا جو کچھ ہو رہا ہے یہ ہماری خاموشی،مصلحت پسندی، خود غرضی اوربزدلی کانتیجہ ہے یاپھر ہم اب اس لائق نہیں کہ ہمیں اخلاق،پہلو خان اور جنید بنادیاجائے۔ ان جیسے مسائل پر مسلم قیادت کا سواداعظم بیان بازی سے آگے کیوں نہیں بڑھتا وہ جنتر منتر پر جمع اس ہجوم کا حصہ کیوں نہیںبنتا جو جنید کے بے رحمانہ قتل اور کھٹر کے انصاف سے بے چین ہواٹھااور سڑکوں پر اتر گیا پورے ملک میں یہ جذبہ دکھائی دیا اوربغیر کسی پارٹی کے بینر اور لیڈر کی تصویر کے ہزار وں لوگ ہندوستانی رواداری اس کی شرافت وانسانیت کا تحفظ کرنے کے لئے جمع ہونے لگے ہیں۔ ان کا لیڈر سوشل میڈیاہے جس نے چھوٹے چھوٹے پیغامات کے ذریعہ سونے والوں کو بیدا رکردیا ان کی روح کو جھنجھوڑدیا مگرہم اپنے محلوں،حجروں اور خانقاہوں سےباہر آنے میں اب بھی جھجک کر رہے ہیں تو کیوں کالی پٹی باندھنے کے جواز اورعدم جواز پر الجھ گئے۔ اگر کسی میں احتجاج کرنے کی حس بھی ختم ہوجائے تو اس کا مرجانا ہی بہتر ہے۔انہیں معلوم نہیں کہ جب عوام کا غصہ سمندری طوفان بنتا ہے تو وہ محلوں اور سبزہ زاروں کو بھی نہیں بخشتا۔ اخلاق احمد کو گھر سے نکال کر سڑک پر مار دیاجاتا ہے اور جیل میں بند اخلاق کے قتل کا ملزم بیماری کی وجہ سے مرجاتا ہے تو اس کی لاش کو ترنگے میں لپیٹ کر درشن کے لئے رکھ دیاجاتا ہے۔ مرکزی وزیر شردھانجلی دینے آتے ہیں اور یوپی سرکار وارثین کو لاکھوں کامعاوضہ دیتی ہے گویا وہ سرحد پر لڑکر شہادت کاربند حاصل کرکے آیا ہو۔ ملک بھر میں گئو ماتا کو بچانے اور’راشٹرنرمان کے لئے کچھ بھی کر گزرجانے کی شہیدی تمنا لئے گئو رکشوں کو اس سے حوصلہ ملتا ہے۔ گئو ماتا بچانے سے زیادہ اسے خریدوفروخت کرنے والوں کو دہشت زدہ کرنا،چوراہوں پر کھلے عام پیٹنا،پولیس اور انتظامیہ کا اس مقدس کام میں دخل اندازی نہ کرنا ان کاقتل پوتر کام ہے۔ کس نےبتایا اور سکھایا کہ ان کا دشمن کون ہے۔ دشمن کی پہچان کیسے ہو اور یہ بھروسہ کہاں سے آیا کہ اگر مقدس فریضہ انجام دینے پر پکڑ ے گئے تو قانون تمہارا کچھ نہیں بگاڑ پائے گا کیونکہ جو کچھ کر رہے ہو وہ راشٹر نرمان اور سماج کی تعمیر کے لئے ضروری ہے۔ اجودھیا میں بجرنگ دل خود حفاظت کیمپ میں ہتھیار چلانے کی ٹریننگ کے دوران دیش دروہیوں کو ٹوپی اور داڑھی والا بناکر دکھایاجاتا ہے اور پانچ جنیہ کے ایک مضمون میں لکھاجاتا ہے۔’’وید کا آدیش ہے کہ گئو ہتیا کرنے والے  پانکی کے پران لے لو،اس کا نظارہ دیکھنے کے لئے پہلو خان کے قتل کا ویڈیو دیکھ لیاجائے۔ سڑک پر بری طرح کھدیڑنے،لاتیں گھونسے مارتے ہائی وے کے فٹ پاتھ پر بے بسی کی تصویر بنا بیٹھا ہے پھر اس کے سفید کرتاپاجامہ اور داڑھی والا یہ شخص شکاری کتوں کےد رمیان ایسے گھرا ہوا ہے جیسے میمنہ ہو،لڑکوں کے سرپر خون سوار ہے وہ جتنامارتے ہیں ان کا جنون بڑھتا ہے کہیں دن کے اجالے میں کہیں رات کی چاندنی میں چلتی سڑک پر بھیڑکسی کو پکڑتی ہے بیف کاالزام لگاکر اس کا خون جائز قرار دیتی ہے اور قتل کی واردات کا ویڈیوبناکر سوشل میڈیا پر وائرل کیاجاتا ہے تاکہ دوسروں کے دلوں پر خوف بیٹھ جائے اور سرکاری سسٹم کو چیلنج کہ یہ ہم نے کیا ہے۔ کچھ بگاڑسکتے ہوتو بگاڑ لواورسادھو سماج سے آوازیں اٹھنے لگیں کہ جو بیف کھائے گا ماراجائے گا۔ ایک لڑکی اٹھائیں ہم سواٹھاکر لائیں گے۔ ’لوجہاد، کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی ترغیب دی جائے تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ سماج کو کہاں لے جایاجارہاہے۔ جنید اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ مبینہ سیٹ کا جھگڑا ان کے مسلمان،پاکستانی ایجنٹ اور غدار ہونے تک جاپہنچا۔ ٹوپی اچھال دی گئی۔ داڑھی کھینچی گئی اور روزہ دارنابالغ جنید پر چاقو کے آٹھ واریہ کہہ کر کئے گئے کہ تم بیف کھاتے ہو۔ اس کے بعد جھارکھنڈ میں بزرگ عثمان انصاری کو محض اس لئے ادھر مرا کردینا اور اس کے گھر کو نذرآتش کردینا کہ اس کے گھر کے باہر مردہ گائے پڑی تھی۔ یعنی اقلیتوں میں احساس ذلت اوراحساس کمتری پیداکرنے کی منظم سازش سیکولر پارٹیوں کی خاموش حصہ داری کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا جو منہ بھرائی کے خوف سے اس ظلم کے خلاف کھل کر سامنے آنے سے ڈر رہی ہیں گرچہ ان سیکولر فرقہ پرستوں کی منافقانہ روش سے ہمیشہ نقصان پہنچا ۔خاص طور سے منڈل نے ہندوتو کو مضبوط کیا۔ سماجی انصاف کی مبینہ سیاست کو ہندوتو اور فاشزم کے لئے کوئی خطرہ نہیں یہ ان کی درد میں شریک نہیں ہے یہ بنیادی طور پر سنگھ کے ایجنٹ اور رنگیلے سیار ہیں جنہوں نے سیکولرازم کا رنگ چڑھا لیا ہے۔ اس لئے مایا،نتیش اور ملائم جیسے سیکولر فرقہ پرستوں کو بی جے پی سے ہاتھ ملانے میں کوئی تکلف نہیں ہوتی۔ کانگریس مسلمانوں کو ڈرانے کے لئے مودی کو بڑھاوادیتی رہی اب خود اس کے جال میں پھنس گئی۔ یہ ان جیسی پارٹیوں نے ہمیں صرف قربانی کا بکرا بنایا ہے ۔ بھارت کا پاکستانی کرن ہونے پر انہیں کوئی تشویش نہیں غیرآئینی طاقت کے نئے مراکز کے نیٹ ورک سے کوئی پریشانی نہیں۔ مسلم قیادت نے بحالت مجبوری ان سانپوں کو دودھ پلایا وہ ڈستے رہے تو ہم دودھ پلاتےرہے۔ ایک طرف کھائی تو دوری طرف کنواں اور آج بھی ان کی مدح سرائی اور فرشی سلام کرنے ،حضور میں سجدہ بجالانے،قدم بوسی کرنے اور دربار میں کورش بجانے سے کوئی گریز نہیں۔
صرف سول سوسائٹی امیدوں کا اکلوتامرکز ہے جس کی روح زندہ ہے۔ہر ناانصافی کے خلاف کھڑی ہوجاتی ہے۔ جنید کے بے رحمانہ قتل نے اس کے اضطراب کی گانوں کو چھیڑ دیا یہ سڑکوں پر نکل آتی ہے۔Not in my nameنے پورے ملک کو ایک لڑی میں پرودیا۔ صفیں پھر آراستہ ہیں ہم گھر میں آرام فرما رہے ہیں تو یہ نہیں چلے گا۔ سوشل میڈیانیا قائد بن کرابھرا ہے یہ بے چہرہ قیادت خطرہ لیتی ہے مگر جب ہم آرام طلبی میں رہیں گے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہیں کریں گے،اپنی لکشمن ریکھا کھینچ کر بیٹھ جائیں گے تحفظات کے ساتھ بات کریںگے تو معاف کیجئے گا تاریخ آپ کا انتظار نہیں کرےگی۔ بھیڑ کا انصاف کیا کیجئے بلامسلک پوچھے صرف مسلمان سمجھ کر جان لیتاہے۔ نوجوان بہت غصہ میں ہے جھنجھلاہٹ کاشکار ہے اس کی رہنمائی کیجئے ورنہ پانی اپناراستہ بنالیتا ہے

کوئی بچانے نہیں آئے گا




قاسم سید 
جمہوری انتخابی سیاست میں صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنے والے ہی کامیاب رہتے ہیں۔ جو حالات کی ضرورت اور نزاکت کے مطابق پالیسی بناتے اور ان پر عمل کرتے ہیں جو ضرورت کے ساتھ مصلحت کومدنظر رکھ کرلچک کے قائل ہوتے ہیں تاکہ جمہوریت کے ثمرات وفواکہات سے بھرپور استفادہ کیاجائے۔ ہندوستانی سیاست و ثقافت، دھوکہ دہی، وعدہ خلافی، عوام دشمنی کی بدترین تجربہ گاہ ہے جہاں دوست کو اجنبی اور اجنبی کو دوست بننے اور بنانے میں دیر نہیں لگتی۔ سیکولرازم اور فرقہ واریت کی دیواریں برف کی طرح پگھل جاتی ہیں۔ کب کون سیکولر اورفرقہ پرست بنادیاجائے کہنا مشکل ہے۔ آئے دن اس کا مشاہدہ ہوتا رہتاہے۔ شایدہی موجودہ دور میں کوئی ایسی پارٹی یا سیاست داں ہو جس نے سیکولرازم یافرقہ واریت سے ضرورت پڑنے پر علیحدگی اختیار نہ کی ہو۔
گذشتہ چند سال سے سیاست جس رخ پر جارہی ہے اس سے پریشان ہونے والوں کی تعداد گھٹتی جارہی ہے۔ سب کاساتھ سب کا وکاس کے ساتھ ہندوتو ،گائے،گیتا اور گنگا کا کاک ٹیل تیار کیا ہے چنانچہ ہر لیڈر کے لب ولہجہ میں غیرمعمولی تبدیلی دیکھی جانے لگی ہے۔ ایک طبقہ میں رعونت،گھمنڈ‘اہنکار،غرور،تکبر،حقارت،نفرت، دشمنی کے مظاہر شدت کے ساتھ پروان چڑھائے جارہے ہیںوہیں اقلیتوں،دلتوں اور سماج کے مظلوم طبقات کی پیٹھ دیوار سے لگادی گئی ہے۔ انہیں احتجاج کرنے اور اختلاف رائے کے حق سے بھی محروم کردیاگیا ہے۔ پہلے وہ میڈیا ٹرائل سے پریشان تھے جس کے تحت اقلیتی طبقہ کو دہشت گرد اور علیحدگی پسندی کی بات کرنے کی مہم چلائی جاتی تھی جس کا آغاز یوپی اے سرکار کے دور میں خاص حکمت عملی کے تحت ہوا پھر اس کا پبلک ٹرائل ہونے لگا ۔اخلاق احمد،اونادلت کانڈ،پہلو خان،ظفر خان وغیرہ پبلک ٹرائل کی علامتیں ہیں، اس پر خاموشی نے ان لوگوں کے حوصلے بڑھا دئیے ہیں جو پتھر کے ذریعہ سڑک پر آناً فاناً فیصلہ کرنے کے لئے اکسائے جاتے ہیں۔شمالی ہندوستان کی بیشتر ریاستیں اس کے زیر اثر ہیں۔ خواہ وہ مہاراشٹر ہو، راجستھان ہو یا اترپردیش یا بہار کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ کھانے پینے کی روایتوں پر قانون کی آڑ میں یاپھر پابندی کے ساتھ آنے والے وقت میں مذہبی آزادی پر مشروط پابندیاں انتظار کر رہی ہیں ۔سول سوسائٹی میں یہ احساس زور پکڑ رہا ہےکہ ہم غیر اعلانیہ ایمرجنسی میں جی رہے ہیں۔ پاکستان کے میچ جیتنے پر نعرے لگانے والے نادانوں کو غداری کے مقدمہ کے تحت جیل میں ڈالنا، گائے لے جانے والوں پر لاتوں،گھونسوں،ہتھیاروں سے بے رحمانہ حملہ کرکے موت کے گھاٹ اتاردینا اور پھر انہی پر مقدمہ قائم کرنا جگہ جگہ پاکستان کو منہ توڑجواب دینے کے نام پر اکثریتی فرقہ کے نوجوانوں کو آتشیں اسلحہ چلانے کی ٹریننگ ،مورل پولسنگ کے ذریعہ بے گناہوں کو پریشان کرنا،گھروں میں گھس کر انہیں مارپیٹ کرنے کی اجازت، ہندو گورو کی دھار تیز کرنے کی حوصلہ افزائی اور سب سے بڑی بات یہ کہ حکومتوں کی طرف سے ایسے عناصر کی خاموش حوصلہ افزائی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہم ایک برے آزمائشی دور میں داخل ہوگئے ہیں، جہاں دستوری آئینی ضمانتیں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ جمہوری اقدار کی کوئی اہمیت نہیں، آر ایس ایس کی قومی سیاست میں کلیدی اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ حکومتوں اور آر ایس ایس کے درمیان رابطہ کمیٹی کی موجودگی اس کا طاقتور مظہر ہیں۔ شاید تاریخ میں پہلی بار صدارتی انتخاب میں آر ایس ایس کی موجودگی دیکھی گئی ہے، جو ہر اہم آئینی عہدے پر اپنے نظریاتی وفاداری کو نبھانا چاہتا ہے اور اس میں کامیاب بھی ہے۔ ہندوتو کی لہر نے سیکولرازم کی دیواروں میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ اچھے اچھوں کا ایمان ڈانواڈول ہوگیا ہے اور یہ سب اچانک نہیں ہوا ہے۔ ہندوستانی سیاست پر گہری نظررکھنے والے جانتے ہیں کہ کم وبیش ہر پارٹی نے ہندوتو کو گالیاں ضرور دیں، لیکن اس کو پروان چڑھایا، غذا پہنچائی، اس کے جینے اور پھلنے پھولنے کے سامان کا انتظام کیا۔ کانگریس تو اس کی جننی ہے جو سیکولرازم کی جڑوں میں ہندوتو کا پانی ڈالتی رہی اور شاخوں پر قومی یک جہتی کی پھواریں۔ اس نے کارپٹ بچھاکر اقتدار بی جے پی کے حوالے کردیا۔ آج اس کے اند ر ہندوتو سے لڑنے کی قوت ارادی صفر ہوگئی ہے۔ یہی حال علاقائی پارٹیوں کا ہے اور جہاں ان کے لیڈروں میں دم خم ہے وہ سی بی آئی اور دیگر تفتیشی ایجنسیوں کے شکنجہ میں ہیں۔ لالو یادو اور ممتا بنرجی کو مثال کے طور پر دیکھاجاسکتاہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مودی اسٹائل کی سیاست نے سب کی بولتی بند کردی ہے۔ کہیں مصلحت سے تو کہیں خوف سے سب کی زبانیں بند ہیں، جوبولنے کی ہمت دکھاتے ہیں ان کو سبق سکھانے کا انتظام کردیا جاتا ہے۔ مودی جو پریوگ کر رہے ہیں وہ گھٹانہیں بڑھا ہے۔ وہ کئی چیزیں جوڑ رہے ہیں، ان کا حلقہ چاہتا ہے کہ ان کی مقبولیت بڑھے، اس لئے وہ نئی بھاشا استعمال کررہے ہیں، وہ کٹر ہیں ہندوتو وادیوں میں اس پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مودی کی بھاشا کا سیاسی پارٹیوں پر اثر پڑا ہے۔ کانگریس سمیت دیگر قومی وسیاسی پارٹیاں لڑکھڑا رہی ہیں۔ انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی مودی کے ایجنڈے کی حمایت کرنی پڑرہی ہے۔ وہ گائے کے تقدس سے انکار نہیں کرسکتیں۔ وہ جاپانی وزیراعظم کو گیتا دینے پر اعتراض نہیں کرسکتیں۔ وہ گنگا کی صفائی پر ہزاروں کروڑ خرچ کرنے پر انگلی نہیں اٹھاسکتیں۔ وہ پاکستان دشمنی کی سیاست کو مسترد نہیں کرسکتیں۔ وہ فوج کے موجودہ رویہ کے خلاف بیان دینے سے گریزکو ترجیح دیتی ہیں، کیونکہ بصورت دیگر ہندو مخالف اور دیش دروہ کا الزام کےلئے تیار رہنا ہوگا۔ اس صورت حال نے انہیں دفاعی پوزیشن پر لاکھڑاکیا ہے۔ مودی ایجنڈا طے کرتے ہیں اور سیاسی پارٹیاں اسے لے کر جھنجھنا بجاتی ہیں اور وہ یہی چاہتے ہیں۔ مودی مخالف سیاست کے جال میں ہرپارٹی پھنس گئی ہے۔ وہ حکومت کی پالیسیوں پر گھیرنے کی بجائے مود ی پر ٹوٹ پڑتی ہیں اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہتے ہیں۔ گذشتہ تین سال میں اپنے وعدوں کو نبھانے میں بری طرح ناکام سرکار بے فکر ہے، کیونکہ مقابلہ پر کوئی نہیں ہے۔ اپوزیشن کے تار پھر بکھیردئیے گئے ہیں۔ ایسے میں اقلیتوں خاص طور سے حیران وپریشان مسلمانوں کی دادرسی کی ہمت کون دکھائے گا۔ حال ہی میں راہل گاندھی نے کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں اپنے لیڈروںکو مشورہ دیا کہ وہ مسلمانوں کے مسائل ضرور اٹھائیں، مگر اس بات کا خیال رکھاجائے کہ پارٹی پر مسلمانوں کی خوشامد اور منہ بھرائی کا الزام نہ آئے۔ یہ ہے وہ فکر جو آر آیس ایس اور بی جے پی نے ہر پارٹی میں پیداکرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ گذشتہ تین سالوں کی سیاست کا یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے ہندوگورو کے نام پر تمام ہندوئوں کو بظاہر اکٹھا کرنے میں بڑی پیش رفت کی ہے۔ انتخابی نتائج تو یہی بتاتے ہیں حالانکہ ہندوتو حکمت عملی کا تضاد اسے چوراہے پر لاکھڑا کرتاہے، اس لئے کہ دلتوں کو ہندو ہونے کے باوجود ان کے حقوق نہیں دئیے جاتے۔ ان کے سامنے ایک طرف امبیڈ کر کا بنایاہوا قانون ہے تودوسری طرف مہرشی منو کی تخلیق اور منواسمرنی پر مبنی سماجی نظام، ان دونوں میں توازن قائم کرنا اور اس کا عملی ثبوت ہندوتو کے لئے ہمیشہ چیلنج رہا ہے۔ اوپر سے روغن اورسفیدی کا مطلب یہ نہیں کہ اندر سے دیوار بھی ایسی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ سماجی نظام میں پایا جانے والاعدم مساوات جب بھی آواز اٹھتی ہے اسے طاقت سے دبایاجاتا ہے خواہ وہ کنہیا کمار ہو یاجگدیش میگوانی یابھیم آرمی کا چندر شیکھر آزاد راون، یہ ظلم وتشدد کے خلاف اٹھنے والی نوجوان آوازیں بزور قوت کچلنے کی کوشش کی گئی، ان کے خلاف غداری اور دیش دروہ کے مقدمات لگے، نکسلیوں اور دہشت گردوں سے رشتے جوڑکر یہ ثابت کیاگیا کہ ایسے عناصر ملک اور سماج دونوں کے لئے خطرہ ہیں، یہی وجہ ہےکہ جیلوں میں قیدیوں کی سب سے زیادہ تعداد دلتوں اور پھر مسلمانوں کی ہے۔ اس طرح پھانسی پانے والوں میں اکثریت دلتوں اور مسلمانوں کی ہے۔ یہ اعدادو شمار آن ریکارڈ ہیں۔ دلتوں کےمندر بنانے پر پابندی ہے، وہ عالیشان مندر نہیں بناسکتے۔ وہ اعلیٰ ذات کےنل سے پانی نہیں بھر سکتے۔ شادی پر ان کا دولہا گھوڑی پر نہیں چڑھ سکتا۔ سماجی روابط تو بہت دور کی بات ہے۔ اس درجہ پر آہستہ آہستہ مسلمانوں کو پہنچانے کی حکمت عملی پر کام ہورہا ہے۔ ان کے خلاف نفرت اورتشدد کا ماحول بڑی تیزی کے ساتھ بنایا جارہا ہے، وہیں پبلک ٹرائل کے ذریعہ خوف و دہشت پیدا کیا جارہا ہے۔ کیا کوئی تصورکرسکتاتھا کہ مسلمان ہاتھ جوڑکر رحم کی بھیک مانگتا ہوا دکھائی دے۔ آج یہ مناظر عام ہوگئے ہیں۔ ہندوتو کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ہماری خاموش اور جامد سیاست نے انہیں ایندھن فراہم کیا ہے۔ ہر واقعہ پر ارباب سیاست کی طرف سے پراسرار خاموشی ان کے حوصلے بڑھا رہی ہے۔ سب اپنے حجروں میں قید ہیں، سب کو اپنی فکر ستارہی ہے۔ سب کو اپنی کمزوریاں یاد آرہی ہیں، اس لئے منہ پر تالے لگے ہوئے ہیں۔ مسلم سماج کے اندر مسلکی اختلافات کے نتیجہ میں جاری اتھل پتھل نے رہی سہی کسر پوری کردی ہے۔ مسلم قیادت پر جب دبائو پڑتا ہے تووہ ملک چھوڑ دیتی ہے اور عمرہ پر چلی جاتی ہے۔ شاید اس سے بہتر گوشۂ عافیت نہیں۔ اگر حسن ظن سے کام لیا جائے تو وہ امت کی پریشانیوں کے حل کے لئے دعا کرنے جاتی ہے۔ انہیں یہ جاننا چاہئے کہ موجودہ صورت حال میں خاموشی سے عافیت اور جائے پناہ نہیں ملنے والی۔ اگر سلسلہ ایسے ہی دراز ہوتا رہا تو خاکم بدہن نہ مدرسے بچیں گے نہ ادارے اور نہ ہی ہماری تنظیمیں۔ لالو یادو اور ممتابنرجی جیسے طاقتور سیاست دانوں کے ساتھ جوکچھ ہورہا ہے ہمارے سامنے ہے۔ اپنے وجود اور مذہبی تشخص کے ساتھ آئینی حقوق کے تحفظ کی لڑائی اپنے کاندھوں پر لڑنی پڑے گی۔ نتیش کمار ہوں یا اکھلیش سنگھ، سب کا شجرہ سامنے ہے۔ نتیش ایک بار پھر بی جے پی کے سامنےنمستک ہوگئے۔ رفیق الملک اور مسیحائے ملت ملائم سنگھ پہلے ہی بیعت کرچکے ہیں اور گاہے بگاہے اس کا اعادہ کرتے رہتے ہیں۔ ہماری بے لچک سیاست اور اس سے ملنے اور اس سے نہ ملنے کی بچکانہ ضد سے کس کا نقصان ہورہا ہے، اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ پارٹ ٹائم سیاست نے ہمیشہ ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ راہل کی طرح پارٹ ٹائم سیاست سے چند لوگوں کا ضرور بھلا ہوجاتا ہے، لیکن مسلمانوں کو اس سے کبھی کچھ نہیں ملنے والا۔ اترپردیش جیسی ریاست سے پارلیمان میں نمائندگی سے محرومی ہمارے سیاسی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ کیا یہ مناسب نہیں کہ ایک دوسرے کو بی جے پی کا ایجنٹ، غدار قوم، منافق، زندیق اور کافر کہنے کی سرگرمیوں سے عارضی طور پر نجات حاصل کرلیں۔ مسلکی منافرتوں پر فی الحال چادر ڈال دیں۔ عراق اور ایران، سعودی عرب، قطر کے جھگڑوں پر اپنی وفاداری کا رخ طے کرنے سے گریز کریں اور سر پر کھڑے طوفان اور کڑکتی بجلیوں کا مقابلہ کرنے کےلئے مل جل کر راہ عمل تلاش کریں۔ سوشل میڈیا پر ذہنی و فکری عیاشی سے اجتناب کرکے اپنی توانائی کو اتحاد کی ٹوٹتی دیوار کو بنانے میں توانائی کھپائیں۔ علامتی سیاست کا وقت گذر چکا ہے۔ اب کوئی ٹھوڑی میں ہاتھ ڈالنے نہیں آئےگا۔ ہمارے ووٹ کی قیمت صفرکردی گئی ہے۔ یہ دامادی کاشوق اور عادت چھوڑنی ہوگی، کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے موجودہ سیاسی اتھل پتھل کا اصل ہدف ہم ہیں، دلتوں نے اس راز کو جان لیا ہے، وہ اپنی صفیں درست کرنے میں لگے ہیں۔ ہمیں کب ہوش آئے گا۔ اگر ایک دوسرے کا گلا دبانے کی روش سے باز نہیں آئے تو ایک ایک کرکے شکار کیاجائے گا۔ پیچھے مڑکر دیکھیں گے تو کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔
qasimsyed2008@gmail.com

قطر کی ناکہ بندی اسلامی اقدار کے خلاف



 عبدالعزیز
    اس وقت مسلم ممالک میں ترکی حکومت ایک ایسی اسلامی حکومت ہے جو امریکہ یا کسی بھی بڑی طاقت کے دباؤ کے بغیر حق و صداقت کی آواز بلند کرتی ہے۔ مصر کے منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت جب امریکہ ، اسرائیل اور سعودی بادشاہ کے اشارے پر یہودی نواز جنرل عبدالفتاح السیسی نے فوجی بغاوت کی اور 26 ہزار اخوانیوں کو تہ تیغ کر دیا اور پچاس ہزار اخوان المسلمون کے لیڈروں اور کارکنوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا تو ترکی حکومت کے صدر طیب اردوگان نے جو اس وقت ملک کے وزیر اعظم تھے منتخب مصری صدر کے خلاف فوجی بغاوت کو غیر اخلاقی، غیر قانونی اور غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا کی کوئی مہذب فوج اپنے منتخب صدر کے خلاف ایسا غیر مہذب اور وحشیانہ رویہ نہیں اپنا سکتی ہے۔ اس کے برعکس سعودی عرب، بحرین، عرب امارات نے السیسی کی کھلم کھلا حمایت کی تھی۔ آج یہی فاسد طاقتیں قطر کی ناکہ بندی کر رہی ہیں۔ اس مہینہ میں کر رہی ہے جسے ماہ رمضان کہا جاتا ہے۔ جس کی رحمت اور فضیلت اللہ کے رسولؐ نے بیان کی ہے۔ مسلمانوں کو اپنے ماتحتین پر نرم رویہ اپنانے کی تاکید کی ہے۔ مگر ارض القرآن کا حکمراں آج کیا کر رہا ہے، اللہ رحم فرمائے۔
    صدر ترکی طیب اردوگان نے سعودی عرب اور ان کے دوست ممالک جو اپنے آپ کو مسلم ممالک کی فہرست میں شامل کرتے ہیں ان کے بارے میں کہا ہے کہ ان ممالک نے اسلامی اقدار کی ذرا بھی پرواہ نہیں کی۔ رمضان جیسے مقدس مہینہ میں قطر کی ہر طرح سے ناکہ بندی کر دی تاکہ قطر کی حکومت اور اس کے شہری پریشان ہوجائیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب قطر کا پڑوسی ملک ہے اور قطر کا ایک ہی بری راستہ ہے جو سعودی سرحد سے ملا ہوا ہے۔ اشیائے خوردنی اسی راستہ سے قطر کو سپلائی ہوتی ہیں۔ سعودی عرب نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حکم پر اس راستہ کو ہی نہیں بلکہ فضائی اور بحری راستہ کو بھی بند کر دیا ہے اور اس کے آس پاس کے ممالک نے بھی سعودی بادشاہ اور ٹرمپ کے اشارے پر قطر کی ہر طرح سے ناکہ بندی کر دی ہے۔
    امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹ میں صاف صاف کہا ہے کہ عرب ممالک قطر سے جو سلوک کر رہے ہیں وہ میرے کہنے پر کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کٹر یہودی نواز ہیں اور اسرائیل کے سب سے بڑے حامی ہیں۔ ٹرمپ سعودی عرب کی راجدھانی ریاض سے اسرائیل کی راجدھانی تل ابیب گئے تھے۔ دونوں ملکوں میں انھوں نے قطر کا نام نہیں لیا۔ ایران کی دشمنی کی بات کی۔ قطر تو اس اجلاس میں شریک تھا جس میں سعودی بادشاہ دنیا کے مسلم ممالک سے اتحاد و اتفاق کی بات کر رہے تھے۔ اجلاس ٹرمپ کے دوسرے یا تیسرے ہی دن سعودی حکومت نے قطر کے خلاف جارحانہ اقدام کا اعلان کیا۔ ٹرمپ یا امریکہ کی پالیسی یہ ہے کہ مسلم دنیا اتحاد کے بجائے انتشار کا شکار رہے تاکہ اسرائیل کی جارحیت کے خلاف کوئی مسلم ملک سوچ بھی نہ سکے۔ سعودی عرب یا ان کے ساتھی ممالک جو اخوان المسلمون اور حماس کا نام لے رہے ہیں۔ یہ دونوں تنظیمیں اسرائیل کے وجود اور جارحیت کے خلاف ہیں۔ اخوان المسلمون تو مصر کی تنظیم ہے۔ ایک بار اسرائیل کے خلاف نبرد آزما ہوچکی ہے۔ حماس تو اسرائیلی جارحیت اور شیطنت کی مزاحمت کیلئے ہی عالم وجود میں آئی ہے۔ سعودی بادشاہت کو ایران، اخوان اور حماس سے خطرہ ہے۔ یہ بات صدر ٹرمپ اپنے بادشاہ کو سمجھانے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔
    سعودی بادشاہ اور ان کے شہزادوں کو خاص طور سے شاہ سلمان کے 32سالہ شہزادہ محمد بن سلمان جس کی حقیقت میں سعودی عرب میں حکمرانی ہے۔ اس  کی سمجھ میں یہ بات آگئی ہے۔ شاہ سلمان اَسی برس کے ہوگئے ہیں۔ ان کا حافظہ بھی کمزور ہے اور وہ جسمانی طور پر بھی کمزور ہیں۔ مشکل سے چل پھر سکتے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کو اپنی بات بھی یاد نہیں رہتی۔ شہزادہ اپنے باپ کے پردے میں اس وقت سعودی عرب کا حکمراں ہے۔ شہزادوں کی جو حالت ہوتی ہے اسی طرح کی ان کی حکومت ہوتی ہے۔سعودی عرب کے بادشاہ سلامت بوڑھے ہوچکے ہیں۔ ان کو ہر بات میں ہاں کہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ عام طور پر مرحوم شاہ فیصل کے سوا سعودی عرب کے سارے بادشاہوں کا یہی حال رہا۔ شاہ فیصل نے امریکہ کی بات سننے سے انکار کردیا تھا جس کی وجہ سے ایک شہزادہ نے امریکہ کی سازش کا شکار ہوکر شاہ فیصل کو شاہی محل میں ہی قتل کردیا۔ قاتل شاہ فیصل کے کسی بھائی کا لڑکا تھا۔ بادشاہت عام طور پر ایسی ہوتی ہے۔ اسے نہ اسلامی اقدار کی پرواہ ہوتی ہے نہ رمضان جیسے مہینہ کی رحمت اور برکت سے کوئی مطلب ہوتاہے۔ اسے اپنے اقتدار یا بادشاہت کو باقی رکھنے سے سروکار ہوتا ہے۔ اس وقت سعودی بادشاہت اسی کام میں لگی ہوئی ہے۔
    دنیا بھر کے مسلمانوں کے پیسے جو حاجی سعودی عرب کو ادا کرتے ہیں وہ پیسے بھی اسرائیل اور امریکہ کے کام آرہے ہیں اور یہ دونوںحکومتیں مسلم اور اسلام دشمنی پر ان پیسوں کو خرچ کر رہی ہیں۔ صدر ٹرمپ کو سعودی بادشاہ نے ہزاروں ڈالر کی قیمت کے ہیرے جواہرات تحفہ کی شکل میں دیا ہے اور لاکھوں ڈالر امریکہ کو ہتھیار خریدنے کیلئے سعودی حکومت نے امریکی صدر کے دورے کے موقع پر دیئے ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ مسلمانوں کے پیسے ہی مسلم اور اسلام دشمنی پر خرچ ہورہے ہیں۔ بھلا ایسی بادشاہت جو اسلام اور مسلم دشمنی کا ذریعہ بنی ہوئی ہو اسے اسلامی اقدار سے کیاسروکار ہوسکتا ہے؟                           
موبائل: 9831439068    azizabdul03@gmail.com     

معرکہ حق و باطل کا تاریخی نظریہ



عمر فراہی ۔ای میل :  umarfarrahi@gmail.com

دنیا میں معرکہ حق و باطل کی یہ تاریخ رہی ہےکہ حق نے جب جب بھی طاقتور ہونے کی کوشس کی ہے باطل کے کان کھڑے ہوگئے ہیں اور پھر اہل باطل نے وہی کیا ہے جو فرعون نمرود نے حضرت موسیٰ و ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ کیا ۔ اصحاب کہف کو پہاڑی غاروں میں پناہ کیوں لینی پڑی اور اصحاب اخدود کو زندہ آگ میں کیوں ڈالا گیا ،ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام میں سے کسی کوزندہ آروں سے چیرا گیا کسی کو سولی پر چڑھایا گیا۔ یہ تاریخ بھی بہت ہی طویل ہے کہ کس کو اللہ نے کس طرح کن آزمائش میں ڈالا اور کس کی وجہ سے کتنی قومیں عذاب کا شکار ہوئیں - شاید مشیت ایزدی بھی یہی ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو آزمائش میں مبتلا کرکے ان کے درجات کو بلند کرے ۔ کفر کرنے والوں کا بھی امتحان لے ۔ آج بھی کم وبیش وہی صورتحال ہے۔استعماری طاقتیں اپنے مخالف ممالک پر طرح طرح سےمعاشی اور عسکری پابندی لگا کر اپنے حریف کو کمزور کرنے کی سازش میں مصروف ہیں ۔خلیج میں عراق ایران جنگ کے بعد ایران پر پابندیاں لگائی گئیں۔اس کے بعد عراق کے گرد گھیرا تنگ کر کے صدام حسین کو پھانسی پر چڑھایا گیا ۔ چین اگر نارتھ کوریا کی پشت پناہی نہ کرتا تو اب تک نارتھ کوریا کے حکمراں کا حشر بھی صدام حسین اور قذافی سے مختلف نہ ہوتا۔ہمارا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ استعماری طاقتوں کا طریقہ کار بدلا ہے نظریہ نہیں ، جو ہر دور میں باطل طاقتوں نے اہل حق یا اپنے حریفوں کے ساتھ کیا ہے ۔جس طرح سعودی عربیہ نے اپنے عرب قبائیلی حکمرانوں کے ساتھ مل کر قطر کے ساتھ تعلقات توڑ کر اسے معاشی طور پر کمزور کرنے کی کوشس کی ہے اور ایک بڑے ملک امریکہ کو تحفے تحائف دیکر قطر کے بائیکاٹ کےتعلق سے اعتماد میں لینے کی کوشس کی ہے مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور کی وہ تمام سازشیں یاد آتی ہیں جو مشرکین مکہ نے اہل حق کی ایک قلیل جماعت کے عروج سے خوفزدہ ہو کر کیا ۔ یہ وہ دور ہے جب آپ ﷺ کے چچا ابو طالب حیات تھے اور آپ کی تحریک کے شانہ بشانہ کھڑے تھے مشرکین مکہ نے آپ کو اور آپ کے تمام حمایتیوں کو جن میں سے کچھ لوگ آپ پرایمان بھی نہیں لائے تھے شعب ابی طالب کی گھاٹیوں میں قید کردیا اور بنی ہاشم پر ہر طرح کی خرید وفروخت پر پابندی لگا دی تاکہ وقت کا رسولﷺ اپنی تحریک سے باز آکر ان کی مرضی کو قبول کرلے اور جو نبی کی حمایت کررہے تھے یہ لوگ بھی مجبور ہوکر نبی کا ساتھ چھوڑ دیں ۔ مشرکین مکہ کی اس سازش کو جب اللہ نے ناکام بنا دیا تو انہوں نے آپ کے ساتھیوں پر جبر وتشدد کرنا شروع کردیا - رسول کو جب اپنے ساتھیوں کی تکلیف دیکھی نہیں گئی تو انہیں حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کی صلاح دی ۔صحابہ کرام کی ایک قلیل تعداد چپکے چھپکے حبشہ کی طرف ہجرت کر گئی ۔ مشرکین کو صحابہ کرام کا حبشہ میں پناہ لینا بھی اچھا نہیں لگا ۔سرداران قریش نے حبشہ کے بادشاہ کو قیمتی تحفے تحائف بھیج کر مسلمانوں کو اس کے ملک میں پناہ نہ دینے کا مطالبہ کیا۔چونکہ اس وقت دہشت گردی کی اصطلاح ایجاد نہیں ہوئی تھی اس لئے انہوں نے عیسائی بادشاہ کو گمراہ کیا کہ یہ لوگ تمہارے مذہب کو برا بھلا کہتے ہیں ۔نجاشی نے مسلمانوں سے سچائی جاننے کیلئے دربار میں بلایا ۔دربار میں نجاشی نےجعفر بن ابی طالب کے قرآنی دلائل سے متاثر ہوکر مشرکین کےتحفے واپس کروادیے اور مکہ کے مشرکین کو اپنے ملک سے نامراد واپس بھیج دیا۔مشرکین جب ہر طرح سے ناکام ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش کی ۔مشرکین کی اس انتہائی سازش کے بعد رسول ﷺ کو مدینہ کی طرف ہجرت کا فیصلہ کرنا پڑا ۔ اکیسویں صدی میں حق و باطل کی معرکہ آرائی کا نظریہ بھی کم وبیش وہی ہے ۔پہلے روس نے وسطی ایشیا کے مسلمانوں کے ساتھ یہی کیا ، افغانستان میں پناہ لینے والے مجاہدین پر چڑھائی کی اور شکست سے دوچار ہوا ۔ بعد میں جدید سپر پاور امریکہ نے بھی وہی کیا ۔ عراق اور افغانستان پر پابندی لگائی اور پھر اپنے حریف صدام حسین قذافی اور بن لادن کو شہید کیا۔ عرب ڈکٹیٹر وں نے قطر کے خلاف جو ناکہ بندی کی ہے تو اس کی وجہ بھی صاف ہے کہ اس نے مظلوم اخوانیوں اور فلسطینی رہنماؤں کو پناہ  دے رکھی ہے یا ان کی مالی مدد کر رہا ہے ۔یہ قدم اٹھانے سے پہلے سعودی عربیہ نے اپنے ملک میں پچاس مسلم ممالک کی کانفرنس بلائی اور پھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو دعوت دی کہ وہ ان ممالک کو دہشت گردی کے خلاف امن کا سبق پڑھائے ۔
ڈونالڈ ٹرمپ وہی شخص ہے جس نے صدارتی الیکشن سے پہلے جہاں اسرائیل کو خوش کرنے کیلئے اسرائیل کی راجدھانی کو یروشلم میں منتقل کرنے کی بات کی تھی۔ سعودی عربیہ کو 9/11 کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے یہ عہد بھی لیا تھا کہ وہ لیبیا کی طرز پر سعودی حکومت پرہرجانے کا دعویٰ کرے گا ۔ صدر منتخب ہونے کے بعد اسے ہوش آیا کہ سعودی عربیہ امریکی معیشت کا ایک اہم ستون ہے اس لئے اسے ابھی ناراض کرنا ٹھیک نہیں ہے ۔ لیکن چونکہ اسے اپنے صہیونی دوستوں کو بھی توخوش کرنا تھااس لئےاس نے جہاں داعش کی دہشت گردی کا تذکرہ کیا پچاس مسلم ممالک کی اس کانفرنس میں اسرائیل کی دو دشمن تنظیم اخوان اور حماس کو بھی اس فہرست میں شامل کر لیا۔ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی نے اپنی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرمپ کے اس خیال کی یہ کہتے ہوئے مذمت کی کہ اخوان اور حماس ریاستی دہشت گردی کے شکار ہیں انہیں دہشت گرد تنظیم کہنا درست نہیں ہے ۔ امیر قطر کی یہ بات اصل میں اسرائیل اور امریکہ کو بری لگنی چاہئے تھی لیکن مصر اور سعودی عربیہ نے امیر قطر کے اس بیان کو اس لئے سنجیدگی سے لیا کیونکہ اقتدار کے لالچی عرب ممالک اصولی سیاست اور اسلامی غیرت وحمیت سے محروم ہوکر صہیونی مفاد میں استعمال ہو رہے ہیں ۔ 2012 میں جمہوری طور پر منتخب اخوانی صدر مرسی کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا اور اس بغاوت میں جہاں ایران اسرائیل نے خفیہ سازش کی ،مصر اور سعودی عربیہ نے علی الاعلان وہی کیا جو فرعون و نمرود اور ابو جہل وابو لہب کا شعار رہا ہے ۔ قطر کے امیر بھی خاموش رہتے ہوئےدیگر عرب حکمرانوںکی طرح منافقانہ کردار ادا کر سکتے تھے اور خاموش رہنے میں ان کا فائدہ ہی تھا نقصان نہیں ۔ لیکن جمال عبد الناصر انور سادات اور حسنی مبارک کے دور میں اخوانیوں پر جب جب بھی زمین تنگ کی گئی انہیں پناہ دینے کے عہد پر قائم رہے ۔ تاریخ ہمیشہ یہ بات یاد رکھے گی کہ نجاشی نے تو جعفر بن ابی طالب کے دلائل سن کر مشرکین مکہ کو جو کہ اس وقت حرم کی پاسبانی کے دعویدار تھے دربار سے باہر نکلوا دیا لیکن قطر اور ترکی کے علاوہ حرم کے جدید پاسبانوں نے حرم کے اصل سپاہیوں کو پناہ نہیں دی ۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کل تک تو آل نہیان اور آل سعود ان مظلوموں کے ساتھ تھے آج ان کے دشمن کیوں ہوگئے ؟کل اخوان آپ کے بھائی آج دہشت گرد کیسے ہوگئے ؟ اخوانیوں کا قصور یہ تھا کہ وہ پرامن سیاسی جدوجہد سے مصر کی حکومت پر غالب آگئے تھے ۔ان کے اس غلبے سے ڈرنا تو امریکہ اور اسرائیل کو چاہئے تھا لیکن جب مصر کی فوج نے ناجائز طریقے سے بغاوت کی تو سعودی حکمراں عبداللہ نے ظالم السیسی کی اس بغاوت کو یہ کہہ کر جائز ٹھہرایا کے فوج نے مصر کو گہری کھائی میں گرنے سے بچا لیا ۔ آج قطر کے ساتھ بائیکاٹ کو یہ کہہ کر جائز ٹھہرایا جارہا ہے کہ وہ سعودی عربیہ کے دشمن ایران سے تعلقات بڑھا رہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ عرب کے شاہوں کو یہ بات اچانک کیسے یاد آئی کہ ایران ان کا دشمن ہے ۔ جبکہ سچائی یہ ہے کہ ایران ایک زمانے سے مشرق وسطیٰ پر بری نظر رکھے ہوئے ہے پھر بھی شاہ عبداللہ نے سعودی عربیہ کی ایک کانفرنس کے دوران تمام سرکاری پروٹوکول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایرانی صدر احمدی نژاد کو اپنی گود میں بٹھایا تھا ۔ تاریخ بہرحال اس کا بھی فیصلہ کردیگی کہ فتح کس کے نصیب میں لکھی جانی ہے وہ جنھوں نے رسول اور ان کے ساتھیوں کو شعب ابی طالب کی گھاٹیوں میں قید کیا یا ان کےجنھوں نے مکہ سے حبشہ اور حبشہ سےمدینہ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے تکلیفیں برداشت کیں ۔

اگر اڈوانی صدر جمہوریہ بن گئے تو۔۔۔؟


نہال صغیر

فی الحال بیف اور اس کے لئے لوگوں کی جان لینے کے ساتھ ملکی سیاست میں صدر جمہوریہ کا انتخاب بھی موضوع بحث ہے ۔یوں تو کئی نام سامنے آئے ہیں لیکن فی الحال حکمران بی جے پی اور اپوزیشن کانگریس میں سے کسی جانب سے بھی واضح اشارے نہیں ملے ہیں ۔شروع میں شیو سینا نے موہن بھاگوت کا نام لے کر اس بحث کو نیا موڑ دیا ۔اس سے قبل اڈوانی کے نام کی قیاس آرائیاں جاری تھیں۔ہو سکتا ہے یہی دونوں نام سامنے آئیں اور یہ بھی ممکن ہے کسی تیسرے کا نام بھی سامنے آئے ۔لیکن ہماری گفتگو کا اہم موضوع صرف یہ ہے کہ موہن بھاگوت اور اڈوانی میں سے کون اس پر وقار اور شہنشاہی عہدہ پر پہنچے گا ۔ویسے پردھان سیوک اور سنگھ کی پہلی پسند تو موہن بھاگوت ہی ہوں گے ۔لیکن اپوزیشن اور بی جے پی کے غیر مطمئن گروپ کی پہلی پسند اڈوانی ہو سکتے ہیں ۔یہ غیر مطمئن گروہ وہی ہے جس نے بی جے پی کوآج اس مقام پر پہنچایا ہے جہاں پہنچنے کا انہوں نے کبھی گمان بھی نہیں کیا ہوگا ۔لیکن جیسے ہی بی جے پی کو غیر معمولی کامیابی ملی تو اس پورے سینئر سٹیزن کو ہی کوڑے دان میں ڈال کر نشان عبرت بنا دیا گیا۔اب ان کا حال یہ ہے کہ پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں ۔اللہ تعالیٰ کی سنت بھی ہے کہ وہ ایک فساد کو دوسرے سے یا ایک ظالم کو دوسرے سے ہٹا تا رہتا ہے ۔اللہ کا فرمان ہے کہ اگر ایسا نہیں کیا جائے تو یہ دنیا فساد سے بھر جائے۔ ماضی قریب میں اڈوانی نے بھی خوب آگ اور خون کی ہولی کھیلی تھی لیکن آج کی ضعیفی میں تنہائی کا عذاب جھیل رہے ہیں ۔کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا وہاں صرف دماغ کام کرتا ہے اور دماغ کسی کی محبت اور وفا داری سے یکسر خالی ہوتا ہے اسے صرف مفاد اور نفع و نقصان کی ضرب تقسیم سے مطلب ہے ۔اب آج کی حقیقت نریندر مودی ہیں اور انہوں نے اڈوانی کے نقش قدم پر چل کر آج یہ مقام حاصل کیا ہے ۔مبصرین کا کہنا ہے کہ آج بی جے پی کی حکومت میں ملک میں افراتفری کا ماحول اس لئے ہے کیوں کہ یہاں کوئی تجربہ کار نہیں اور نا ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ ۔بس سب کے سب صرف برہمنی سیاسی ایجنڈہ کو نافذ کرنے کے جوش میں ہوش سے بیگانہ ہو کر کام کررہے ہیں ۔یہی سبب ہے کہ ہرطرف فساد ہی فساد ہے ۔بہر حال جو ہونا ہے وہ تو ہوگا ہے ۔
غور کیجئے بابری مسجد کا معاملہ دہائیوں سے چل رہا ہے اب اس قدر پیش قدمی ہو ئی ہے کہ ان نامور ہستیوں پر مقدمہ چلے گا جنہوں نے اسی بابری مسجد کے ملبہ سے بی جے پی کی حکومت کی تعمیر کی ہے ۔لیکن اب وہ تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ ہیں اور اپنے احتساب کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ہم یہ مانتے ہیں کہ سنگھ کے ایجنڈے کے مطابق ہی ملک میں بی جے پی کی حکومت چل رہی ہے ۔لیکن انسان میں لالچ کا مادہ اتنا گہرا ہوتا ہے کہ کئی بار اسے سمجھنا اور اس کے بارے میں فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ یہ لالچ اور ہوس پردھان سیوک میں بھی ہو سکتاہے ۔بلکہ یہ ہے ۔اسی کے تحت وہ پارٹی یا برہمنی ایجنڈہ کو صرف نافذ کرنے کیلئے ہی نہیں بلکہ اپنی انا اور خود غرضی کی تسکین کیلئے بھی حکومت کررہے ہیں ۔اس کو ایسے بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ جب اخوان کی مرسی حکومت میں السیسی جیسے منافق نے اخوانیوں کا اعتماد جیت کر انہیں نقصان پہنچایا تو بی جے پی میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟ یہی لالچ اور خود غرضی ہی انسان کو اس کے بدترین انجام تک پہنچاتی ہے ۔حق کے ساتھ منافق ہو سکتے ہیں تو باطل کے ساتھ بھی لالچی اور مفاد پرست ہو سکتے ہیں ۔ہم دیکھ بھی رہے ہیں کہ پردھان سیوک کیسی کیسی اداکاری کرتے رہتے ہیں ۔انہوں نے اپنے جانتے ہوئے تو اپنے دشمنوں کو ٹھکانے لگادیا ۔لیکن یوپی میں یوگی کے عروج سے جہاں ہندوتوا کا ایجنڈا مضبوط ہوا وہیں مودی کی ون مین آرمی والی کیفیت کو بھی چوٹ لگی ۔اس سے عدم تحفظ کا احساس یقیناًان کے اندر پیدا ہو ا ہوگا ۔اسی لئے سرد خانوں میں دبے ہوئے بابری مسجد کے مقدمے میں جان ڈال کر اڈوانی کی راہوں کو مسدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ صدر جمہوریہ کی ریس سے دور رہیں ۔ اگر اڈوانی ان ساری مشکلات کو توڑتے ہوئے صدر جمہوریہ بن جاتے ہیں تو نریندر مودی کے لئے یہ نیک فال نہیں ہے ۔انہوں نے سواتین سال جتنی آسانی سے پرنب دا کی سر پرستی میں نکالا ہے وہ اڈوانی کے زیر سایہ آسانی میسر نہیں ہوگی ۔
لوگ کہہ سکتے ہیں کہ بھلا اڈوانی اپنی ہی حکومت کے خلاف کیوں جائیں گے؟ اس کا جواب تو اوپر والا وہی جملہ ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ہے ۔ وہاں صرف مفاد کی بات کی جاتی ہے ۔ انسان میں شاید اقتدار کی ہوس سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار کیلئے رشتے اور دوستی بھی کوئی معنی نہیں رکھتے۔کانگریس نے بھی اپنے دور میں خود اپنی ہی ریاستی حکومت کو نہیں بخشا محض اس خوف کی وجہ سے کہ کہیں وہ وزیر اعلیٰ وزیر اعظم سے بڑی قوت والا نہ بن جائے یا اس کا سیاسی قد کچھ زیادہ ہی بلند نہ ہو جائے ۔مثال کے طور پر بہار میں کانگریس دور حکومت میں وزیر اعلیٰ کی فہرست دیکھ لیں ۔کانگریس نے خود اپنی ہی حکومت کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کئی بار صدر راج کا نفاذ کیا۔دو سری جانب کانگریس نے عوامی ذہن کو دوسرا رخ دینے کیلئے جموں کشمیر کی منتخب عوامی حکومت کو بھی معمولی وجوہات کی بنا پر برخواست کیا ۔گیانی ذیل سنگھ بھی راجیو گاندھی حکومت کیلئے کئی بار مشکلات پیدا کرنے والے صدر جمہوریہ کے طور پر جانے جاتے ہیں جبکہ وہ بھی کانگریس کے ہی تھے اور راجیو گاندھی کی حکومت کوئی کمزور حکومت نہیں تھی وہ بی جے پی کی موجودہ حکومت سے زیادہ بڑی تعداد میں اراکین پارلیمنٹ رکھنے والے وزیر اعظم تھے 542 سیٹوں کی پارلیمانی سیٹوں پر 411 کانگریس کے ممبران تھے۔اسی سے اندازہ ہو جائے گا کہ موجودہ حکومت بھی اپنے ہی منتخب صدر جمہوریہ اگر اڈوانی ہوتے ہیں تو مطمئن نہیں رہ پائے گی ۔ اس پر ہر آن تلوار لٹکتی رہے گی۔نریندر بھائی نے اڈوانی کو بھی کنارہ لگا کر انہیں وہی سیاست کا اصول سمجھایا ہے۔ اسی لئے بابری کیس کو کھلوایا گیا ۔ ہو سکتا ہے مزید کچھ اور کوششیں بھی ہوں ۔لیکن تقدیر کے قاضی نے اگر سب کچھ بہتر نہیں لکھا ہے تو ساری بندشوں کے باوجود اڈوانی کے صدر جمہوریہ بن جانے پر بہر حال مودی جی اور ان کے رفقاء کے اچھے دن ختم ہو جائیں گے ۔ مودی حکومت کے شروعاتی دنوں میں اڈوانی کئی عوامی فورم پر بول چکے ہیں کہ ملک میں ایمرجنسی کا خدشہ بنا ہوا ہے ۔ وہ مودی کے اپنے گرد ارتکاز اقتدار کی پالیسی پر دبے لفظوں میں شکایتیں بھی کرچکے ہیں ۔اس بات کو شاید لالو پرشاد بھی سمجھ رہے ہیں اسی لئے انہوں نے اڈوانی کے نام پر نرمی کا اظہار کیا ہے ۔ 

غزوۂ بدر سے فتح مکہ تک فکر و عمل کا عظیم انقلاب


 
ڈاکٹر سلیم خان

اللہ رب العزت اہل ایمان کو یاددلاتا ہے ’’یاد کرو وہ وقت جبکہ تم تھوڑے تھے،زمین میں تم کو بے زور سمجھا جاتا تھا،تم ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں مٹا نہ دیں۔ پھر اللہ نے تم کو جائے پناہ مہیا کر دی، اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبُوط کیے اور تمہیں اچھا رزق پہنچایا، تا کہ تم شکر گزار بنو‘‘۔ اب سردار ان مکہ کی پارلیمان دارالندوہ کا قرآنی منظر ملاحظہ فرمائیں ’’ وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جبکہ کافر آپ کے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے کہ آپکو قید کر دیں یا قتل کر ڈالیں یا جلا وطن کر دیں۔وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے‘‘۔ اس وقت کسی کے وہم گمان بھی یہ بات نہیں تھی کہ ہجرت کے بعد دوسال کے اندر کیا ہونے والا ہے؟
آئیے میدان بدر میں چلیں ۔ نبی کریم ؐ اپنے ۳۱۳ جانبازوں کے ساتھ دست بہ دعا  ہیں ’’اے اﷲ! تو نے مجھ سے جو وعدہ فرمایا ہے، وہ پورا فرما، اے اﷲ.... اگر آج یہ مٹھی بھر نفوس ہلاک ہوگئے تو پھر قیامت تک تمام روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا“۔ اس کے مقابلے مشرکین کے لشکر جرار کا سردار ابوجہل دعا کررہا ہے ’’اے اللہ ! ہم میں سے جو فریق قرابت کو زیادہ کاٹنے والا اور غلط حرکتیں زیادہ کرنے والا ہے اسے توآج توڑ دے۔اے اللہ ! ہم میں سے جو فریق تیرے نزدیک زیادہ محبوب اور زیادہ پسندیدہ ہے آج اس کی مدد فرما‘‘۔ اب دعا کا جواب دیکھیں ’’اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو لو، فیصلہ تمہارے سامنے آ گیا۔ اب باز آ جاؤ تو تمہارے ہی لیے بہتر ہے، ورنہ پھر پلٹ کر اسی حماقت کا اعادہ کرو گے تو ہم بھی اسی سزا کا اعادہ کریں گے اورتمہاری جمعیت، خواہ وہ کتنی ہی زیادہ ہو، تمہارے کچھ کام نہ آ سکے گی اللہ مومنوں کے ساتھ ہے‘‘۔
۱۷ رمضان۲ھ کو غزوہ ٔ  بدر میں دو نوعمرجوانوں نے ابوجہل کو قتل کردیا۔ اس کے ساتھ ۷۰ سرداران قریش مارے گئے ۔ ان کی لاشوں کو ایک کنویں میں ڈال دیا گیا۔ واپسی سے قبل آپﷺ کنویں کی باڑ پر کھڑے ہوگئے۔ پھر انہیں ان کا اور ان کے باپ کا نام لے لے کر پکارا۔ اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں بن فلاں ! کاش کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول ﷺاطاعت کی ہوتی؟ کیونکہ ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے ہم نے برحق پایا تو کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے برحق پایا ؟یہ دیکھ کرحضرت عمرؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہؐ! آپ ایسے جسموں سے کیاباتیں کررہے ہیں جن میں رُوح ہی نہیں ؟ نبیﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ؐ کی جان ہے! میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اسے تم لوگ ان سے زیادہ نہیں سن رہے ہو۔ ایک اور روایت میں ہے کہ تم لوگ ان سے زیادہ سننے والے نہیں لیکن یہ لوگ جواب نہیں دے سکتے‘‘۔
کفار مکہ اس انجام بد سے اس لیے دوچار ہوئے کہ انہوں نے رب کائنات کی اس تنبیہ سے روگردانی کی تھی ’’اور یہ لوگ اس بات پر بھی تلے رہے ہیں کہ تمہارے قدم اِس سر زمین سے اکھاڑ دیں اور تمہیں یہاں سے نکال باہر کریں لیکن اگر یہ ایسا کریں گے تو تمہارے بعد یہ خود یہاں کچھ زیادہ دیر نہ ٹھیر سکیں گے۔یہ ہمارا مستقل طریق کار ہے جو اُن سب رسولوں کے معاملے میں ہم نے برتا ہے جنہیں تم سے پہلے ہم نے بھیجا تھا، اور ہمارے طریق کار میں تم کوئی تغیر نہ پاؤ گے‘‘ ۔ آج بھی اہل ایمان اگر اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے اٹھیں تو یہ معجزہ رونما ہوسکتا ہے؎
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو          اتر سکتے ہیں عنبر سے قطار اندر قطار اب بھی
غزوہ ٔ بدر کی شکست کو بھلا دینا مشرکین مکہ کے لیے ناممکن تھا اس لیے اگلے سال انہوں نے بڑے لشکر کے ساتھ انتقام لینے کا فیصلہ کیا ۔ احد کے میدان میں مسلمانوں سے مقابلہ ہوا جس میں ابتداء میں کفارکو شکست ہوئی مگر بعد میں وہ فتح میں بدل گئی۔ اس جنگ سے لوٹتے ہوئے انہوں نے آئندہ سال بدر کے میدان میں ملنے کا چیلنج کیا جسے محمد ؐ نے قبول کیا۔ اگلے سال نبی کریمؐ اپنے لشکر کے ساتھ بدر کے میدان میں تشریف لے گئے لیکن وہ درمیان سے لوٹ گئے اور گویا جنگ کے بغیر شکست تسلیم کرلی ۔ اب ان لوگوں کو یقین ہوگیا تھا کہ وہ تنہا مسلمانوں کوشکست نہیں دے سکتے اس لئے ۵ ھ میں سارے قبائل نے مل کر چڑھائی کرنے کا فیصلہ کیا اس لئے وہ جنگ احزاب کہلائی ۔ نبی کریم  ؐنے منفرد انداز میں خندق کھود کر اپنا دفاع کیا اور اللہ تعالیٰ نے دورانِ محاصرہ ایک ایسی زبردست آندھی بھیجی کے زبردست فوجی تیاری کے باوجوددشمنانِ اسلام کوبے نیل و مرام لوٹنا پڑا۔ 
اس کے بعدوالے سال میں مسلمانوں نے عمرہ کے لیے نکلنے کا اقدام کیا اور بالآخر یہ قصد صلح حدیبیہ پر منتج ہوئی ۔ معاہدہ ٔ صلح لکھوا کر فارغ ہونے کے بعد آپؐ نے فرمایا:  اٹھو ! اور اپنے اپنے جانور قربان کردو ، لیکن کوئی ٹس سے مس نہ ہوا ۔ پھر نبی کریم ؐ نے اپنا جانور ذبح کرکے سرمنڈوا لیا۔ یہ دیکھ کر صحابہ نے بھی اپنے اپنے جانور ذبح کرکےباہم ایک دوسرے کا سر مونڈدیا۔صلح حدیبیہ کی دو شرائط سے ایسا محسوس ہوتا تھا گویا آپؐ نے قریش کے دباؤ میں صلح کی ہے جس کے باعث اہل ایمان  حُزن وغم کا شکار تھے چنانچہ  حضرت عمر بن خطابؓ نے نبی کریم ؐ سےعرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا ہم لوگ حق پر اور وہ لوگ باطل پر نہیں ہیں ؟ آپؐ نے فرمایا : کیوں نہیں ؟ انہوں نے کہا : کیاہمارے مقتولین جنتی اور ان کے مقتولین جہنمی نہیں ہیں ؟ آپؐ نے فرمایا : کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا: تو پھر کیوں ہم اپنے دین کے بارے میں دباؤ قبول کریں ؟ اور ایسی حالت میں پلٹیں کہ ابھی اللہ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا ہے ؟ آپؐ نے فرمایا : خطاب کے بیٹے ! میں اللہ کا رسول ہو ں اور اس کی نافرمانی نہیں کرسکتا۔ وہ میری مدد کرے گا۔ اور مجھے ہرگز ضائع نہ کرے گا ۔
اس موقع پر سورہ فتح کی پہلی آیت نازل ہوئی ’’ بیشک ہم نے آپ کو کھلی ہوئی فتح عطا کی ہے‘‘۔ ان حالات میں اس آیت کے  اسرارو رموز کی رسائی ناممکن تھی مگر بعد میں پیش آنے والے واقعات اس کی حقانیت کے شاہد و مفسربن گئے ۔ بنو بکر اور بنو خزاعہ کے درمیان قدیم عداوت تھی ۔صلح حدیبیہ کے تحت بنو خُزاعہ  نےرسول اللہؐ سے عہد وپیما ن باندھ لیا اور بنو بکر قریش کے ساتھ ہوگئے۔ بنو بکر نے بنو خزاعہ سے پرانا بدلہ چکا نے کی غرض سے رات کی تاریکی میں ان پر حملہ کردیاجس میں کئی لوگ مارے گئے ۔ قریش نےبدعہدی کرکے بنوخزاعہ کی پشت پناہی کی اور انہیں کھدیڑ کر حرم تک  لے آئے۔ حرم کعبہ میں بنو بکر نےفریاد کی کہ : اے نوفل ، اب تو ہم حرم میں داخل ہوگئے۔ تمہارا الٰہ ! ... تمہارا الٰہ ! ... اس کے جواب میں نوفل نے رعونت سے جواب دیا : بنو بکر !آج کوئی الٰہ نہیں۔ اپنا بدلہ چکا لو۔ میری عمر کی قسم ! تم لوگ حرم میں چوری کرتے ہو تو کیا حرم میں اپنا بدلہ نہیں لے سکتے۔اس سانحہ کے بعد عمرو بن سالم خزاعی نے دربار رسالتماب میں حاضر ہو کر اس طرح دہائی دی :’’اے پروردگار ! میں محمدﷺ سے ان کے عہد اور ان کے والد کے قدیم عہدکی دہائی دے رہا ہوں۔ ہم نے تابعداری اختیار کی اور کبھی دست کش نہ ہوئے۔ اللہ آپ کو ہدایت دے۔ آپ پُر زور مدد کیجیے اور اللہ کے بندوں کو پکاریئے ، وہ مدد کو آئیں گے۔ آپ ایک ایسے لشکر ِ جرار کے اندر تشریف لائیں گے جو جھاگ بھرے سمندر کی طرح تلاطم خیز ہوگا۔ یقینا قریش نے آپ کے عہد کی خلاف ورزی کی ہے اور آپ کا پُختہ پیمان توڑدیا ہے۔ انہوں نے رات میں حملہ کیا اور ہمیں رکوع وسجود کی حالت میں قتل کیا‘‘۔ قریش کی اپنی بدعہدی کا خوف لاحق ہوا تو ابوسفیان صلح صفائی کے لیے مدینہ آیا لیکن نامراد لوٹا قریش نے دریافت کیا تو بولا : میں محمد ؐ کے پاس گیا۔ بات کی تو واللہ! انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر ابو قحافہ کے بیٹے کے پاس گیا تواس کے اندر کوئی بھلائی نہیں پائی۔ اس کے بعد عمر بن خطابؓ کے پاس گیا تو اسے سب سے کٹر دشمن پایا۔ پھر علیؓ کے پاس گیا تو اسے سب سے نرم پایا۔ اس نے مجھے ایک رائے دی اور میں نے اس پر عمل بھی کیا۔ لیکن پتہ نہیں وہ کارآمد بھی ہے یا نہیں ؟ لوگوں نے پوچھا : وہ کیا رائے تھی؟ ابو سفیان نے کہا: وہ رائے یہ تھی کہ میں لوگوں کے درمیان امان کا اعلان کردوں۔ اور میں نے ایسا ہی کیا۔قریش نے کہا : تو کیا محمد نے اسے نافذ قرار دیا۔ ابو سفیان نے کہا : نہیں۔ لوگوں نے کہا : تیری تباہی ہو۔ اس شخص (علی) نے تیرے ساتھ محض کھلواڑ کیا۔ ابو سفیان نے کہا : اللہ کی قسم! اس کے علاوہ کوئی صورت نہ بن سکی۔
۱۰ رمضان ۸ ھ کو رسول ؐنے دس ہزار صحابہ کے ساتھ مکے کا رخ کیا۔ مکہ کے قریب مراء الظہران میں آپؐ نےدریافت کیا:اے ا بو سفیان! تم پر افسوس ، کیا اب بھی تمہارے لیے وقت نہیں آیا کہ تم یہ جان سکو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ؟ ابو سفیان نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ، آپ کتنے بردبار ، کتنے کریم اور کتنے خویش پرورہیں۔ میں اچھی طرح سمجھ چکاہوں کہ اگر اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہوتا تو اب تک میرے کچھ کام آیا ہوتا۔
آپؐ نے فرمایا : ابو سفیان تم پر افسوس ! کیا تمہارے لیے اب بھی وقت نہیں آیا کہ تم یہ جان سکو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ابو سفیان نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر فدا۔ آپ کس قدر حلیم ، کس قدر کریم اور کس قدر صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔ اس بات کے متعلق تو اب بھی دل میں کچھ نہ کچھ کھٹک ہے۔ اس پر حضرت عباسؓ نے کہا: ارے ! گردن مارے جانے کی نوبت آنے سے قبل اسلام قبول کرلو !اور اقرار کر لو کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر ابو سفیان نے اسلام قبول کرلیا اور حق کی شہادت دی۔ ابو سفیان جب مکہ کے ایک  ٹیلے کے او پر سے مسلمانوں کے لشکر جرار میں شامل مختلف قبیلوں کا مشاہدہ کرچکا تو کہنے لگا: بھلا ان سے کون لڑ سکتا ہے ؟  اس کے بعد حضرت عباسؓ سے مخاطب ہوکر گویا ہوا ! تمہارے بھتیجے کی بادشاہت تو واللہ بڑی زبردست ہوگئی۔ حضرت عباسؓ نے کہا : ابو سفیان ! یہ نبوت ہے۔ ابو سفیان نے جواب دیا: ہاں ! اب تو یہی کہاجائے گا۔
اس موقع پر انصار میں سے حضرت سعد بن عبادؓنے اعلان کیا '،آج خونریزی کادن ہے۔ آج حرمت حلال کرلی جائے گی اللہ نے آج قریش کی ذلت مقدر کردی ہے ۔ یہ سن کر رسول اکرم ؐ نے فرمایا : نہیں بلکہ آج کعبہ کی تعظیم کا دن ہے۔ آج کے دن اللہ قریش کو عزت بخشے گا۔ اورحضرت سعدؓ سےپرچم لےکران کے صاحبزادے قیسؓ کے حوالے کردیا۔ اس کے بعد ابو سفیان نے مکہ میں اعلان کیا : قریش کے لوگو! یہ محمدؐ ہیں۔ تمہارے پاس اتنا لشکر لے کر آئے ہیں کہ مقابلے کی تا ب نہیں ، لہٰذا جو ابو سفیان کے گھر گھس جائے اسے امان ہے۔ لوگوں نے کہا :اللہ تجھے مارے ، تیرا گھر ہمارے کتنے آدمیوں کے کام آسکتا ہے ؟ ابو سفیان نے کہا : اور جو اپنا دروازہ اندر سے بند کرلے اسے بھی امان ہے۔ اور جو مسجد حرام میں داخل ہوجائے اسے بھی امان ہے۔ یہ سن کر لوگ اپنے اپنے گھروں اور مسجد حرام کی طرف بھاگے۔
انصار ومہاجرین کےساتھ نبی کریم ؐ مسجد حرام کے اندر آئے حجرِ اسود کو چوما اور بیت اللہ کا طواف کیااور ایک کمان سے بیت اللہ کے گرد اور اس کی چھت پرموجود۳۶۰   بُتوں ڈھا کر اعلان کردیا:’’حق آگیا اور باطل چلاگیا، باطل جانے والی چیز ہے‘‘۔ خانہ کعبہ سے رسول اللہؐ نےقریش کومخاطب کرکے فرمایا:اللہ کے سواکوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ سچ کردکھایا۔ اپنے بندے کی مدد کی اور تنہا سارے جتھوں کو شکست دی۔ سنو ! بیت اللہ کی کلیدبرداری اور حاجیوں کو پانی پلانے کے علاوہ سارا اعزاز یاکمال یا خون میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہے۔ اے قریش کے لوگو! اللہ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور باپ دادا پر فخر کا خاتمہ کردیا۔ سارے لوگ آدم سے ہیں اور آدم مٹی سے۔ اس کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی :اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ تم میں اللہ کے نزدیک سب سے باعزت وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ بیشک اللہ جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔
آج کو ئی سرزنش نہیں:اس کے بعد آپؐ نے فرمایا : قریش کے لوگو! تمہارا کیا خیال ہے۔ میں تمہارے ساتھ کیسا سلوک کرنے والا ہوں ؟ انہوں نے کہا : اچھا۔ آپ کریم بھائی ہیں۔ اور کریم بھائی کے صاحبزادے ہیں۔ آپؐنے فرمایا : تو میں تم سے وہی بات کہہ رہا ہوں جو یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں سے کہی تھی کہ آج تم پر کوئی سرزنش نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔یہ حسن اتفاق ہے کہ ۱۷ رمضان ۲ھ کو غزوۂ بدر کے ساتھ شروع ہونے والی مہم ۲۰ رمضان ۸ ھ کو اختتام پر پہنچی اور عالم ِ انسانیت کو ہر قسم کی غلامی سے نجات دلا کر عظیم ترین آزاد ی سے شرفیاب کر گئی ۔ فکر و عمل کا وہ عظیم انقلاب برپا ہوگیا جس کی بابت علامہ  اقبال فرماتے ہیں؎
اس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب        پادشاہوں کی نہیں‘ اللہ کی ہے یہ زمیں!
(اس تحریر کے واقعاتِ سیرت الرحیق المختوم سے مستعار ہے)