مسلمانوں کیلئے سہارنپور کا سبق


نہال صغیر

یوں تو ہندوستان میں آزادی کے بعد سے ہی ہندوتہذیب و تمدن کے محافظ ہونے کا دعویٰ کرنے والے گروہ کے نشانہ پر مسلمان اور پسماندہ طبقات رہے ہیں ۔یہ کام کانگریس کی حکومت میں بھی جاری تھا اور اب ذرا کھل کر سب کچھ ہو رہا ہے ۔کانگریس تو مصلحت پسند اور مہذب پارٹی کا چلا اوڑھ کر یہ کام کرتی تھی لیکن بی جے پی کو یہی کام کھلے عام کرنے میں کوئی آڑ نہیں ہے ۔اس لئے موجودہ حکومت کی آمد کے بعد سے ہی مسلمانوں ،دلتوں اور عیسائیوں پر حملوں میں کچھ زیادہ ہی اضافہ ہوگیا اور سنگھ اور بی جے پی کے افراد ایسی باتیں زبان سے نکالنے لگے جس کو آج کی ترقی یافتہ دنیا میں برا مانا جاتا ہے ۔کیوں کہ آج مہذب دنیا برائی کو بھی تہذیبوں کے خوشنما پیکیٹ میں پیش کرنے پر عمل پیرا ہے ۔بقول مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی کے یہ لوگ ذرا گنوار ہیں تو عجلت میں یہ کام کررہے ہیں لیکن یہی کام شیروانی اور لال رومال میں ستر برسوں سے ہو رہا ہے ۔کئی سال قبل سنگھ کے چیف موہن بھاگوت بھی کہہ چکے ہیں کہ ان کے کیڈر سبھی پارٹیوں میں ہیں ۔آر ایس ایس کا مسئلہ ہندو مذہب نہیں ہے بلکہ وہ نسلی برتری کی قائل ہے اور برہمنیت کو ہر حال میں نافذ دیکھنا چاہتی ہے اور اس برہمنی نظام میں جس کی بنیاد منو سمرتی ہے دیگر اقوام جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ ان کے غلام ہیں اور برہمنوں کی خدمت ہی ان کا فرض ہے ۔اسی نسلی برتری نے انہیں فرعونی غرور میں مبتلا کررکھا ہے اور خود کو ہر قانون سے آزاد مانتے ہیں ۔ان کے ایک شنکر اچاریہ کھلے عام کہہ چکے ہیں کہ ہمارا قانون صرف منو سمرتی ہے ۔وہی منو سمرتی جسے ڈاکٹر امبیڈکر جلا کر اس سے برات کا اظہار کرچکے ہیں اور دلت تنظیمیں ہر سال اس تاریخ کو منو سمرتی جلانے کی رسم کی ادائیگی کرتے ہیں ۔
پانچ مئی سے سہارنپور آگ کے دہانے پر ہے ۔خبروں میں یہ مشہور کیا گیا کہ دلتوں نے ٹھاکروں کے ایک جلوس پر پتھراؤ اور کھلے عام تشدد کا ارتکاب کیا ۔پولس نے یہ کہا کہ انہوں نے فائرنگ بھی کی ۔جس میں ایک شخص کی موت بھی ہوگئی تھی ۔لیکن انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق دلتوں کا بند گھر اور ویران محلہ یہ بتانے کیلئے کافی ہے کہ فی الواقعہ تشد کس کی جانب سے اور کس پیمانے پر ہوا ۔ اس وقت ایسا لگ رہا ہے کہ پورا صوبہ اتر پردیش آتش فشاں کے دہانے پر ہے ۔سہارنپور کے بعد دیوریا میں بھی تشدد پھوٹ پڑا ۔الزام سیدھے دلتوں اور دلتوں کی تنظیموں پر لگائے جارہے ہیں ۔خبروں میں جہاں گروہ یا بھیڑ لکھے جانے کی گنجائش موجود تھی وہاں بھی سیدھے دلتوں کو ملزم قرار دیدیا گیا ۔یہ سب کچھ اس بات کی نشاندہی کررہا ہے کہ موجودہ حکومت کس سوچ کی ہے اور اس کا منشا کیا ہے ۔بہت دنوں بعد یا یوں کہہ لیں ستر سال کے بعد انہیں کھل کر کھیلنے کا موقعہ ملا ہے کہ ملک پر برہمنیت کی اجارہ داری قائم کردیں ۔ہم نے پولس افسران کے تبادلوں میں بھی یہ محسوس کیا ہے کہ دلتوں کو سبق سکھانے کیلئے کس ذہنیت کے افسران کو مقرر کیا گیا ہے ۔جیسے پہلے مسلمانوں کو سبق سکھانے کیلئے کیا جاتا تھا یا اب بھی کیا جاتا ہے ۔بہر حال فی الحال دلتوں کو سبق سکھانے کیلئے انہیں بدنام کیا جارہا ہے اور ہر طرح سے انہیں تشدد کا ذمہ دار قرار دینے کی ہر ممکن کوشش ہو رہی ہے اور اس میں بھیم سینا نام کی تنظیم کا بار بار نام لیا جارہا ہے ۔سہارنپور سے دیوریا تک یہی نام بار بار لئے جارہے ہیں ۔بغیر کسی تفتیش اور تحقیق کے انہیں ظالم اور ٹھاکروں کو مظلوم بنا کر پیش کیا جارہا ہے ۔ موجودہ تشدد سے بھی یہ بات ثابت ہو گئی کہ موجودہ حکومت کا نشانہ صرف مسلمان نہیں ہیں بلکہ ان کے نشانے پر پسماندہ طبقات بھی بڑے پیمانے پر ہیں ۔جیسے مسلمانوں کو دہشت گرد اور فسادی قرار دے کر ان کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جاتا ہے اور ٹھیک اسی طرح دلتوں کے خلاف کیا جارہا ہے ۔چھتیس گڑھ اور ودربھ کے علاقوں میں اسی طرح نکسلیوں کے نام پر غریب آدی باسیوں یا ان کے حقوق کیلئے لڑنے والوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ گیارہ مئی کو سہارنپور کے تعلق سے شائع ہونے والی رپورٹ پوری طرح یکطرفہ ہے ۔اس میں ٹھاکروں کے ذریعے دلتوں کے گھروں کو آگ کی نذر کئے جانے کا کوئی ذکر نہیں لیکن دلت جو نا انصافی اور ظلم کے خلاف گاندھی پارک میں جمع ہوئے تھے انہیں الزام دیا گیا کہ ان کا منصوبہ پورے شہر کو جلادینے کا تھا ۔میں نے مسلم کش فسادات کے دور کی خبریں بھی پڑھی ہیں ان میں اس طرح خطرناک حد تک کسی فرقہ کا نام لے کر اسے تشدد کا ذمہ دار نہیں قرار دیا جاتا تھا ۔لیکن اب تو کمال ہی ہو رہا ہے کہ ٹھاکروں کی شرارت ان کی فسادی ذہنیت اور دلتوں اور پسماندہ طبقات کے تئیں ان کی نفرت کو ڈھانپنے کیلئے سیدھے بھیم سینا کی آڑ میں پوری دلت برادری کو فسادی اور قاتل ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔یہ تو خیر ہے کہ منڈل کمیشن کے نفاذ کے بعد سرکاری ملازمت اور پولس فورس میں دلتوں کی قابل ذکر تعداد ہے ورنہ جس طرح مسلمانوں کے خلاف پولس کا رویہ ہوتا ہے ٹھیک اسی طرح آج دلتوں کی لاشوں کے ڈھیر بھی لگادیئے جاتے ۔یہاں وشو ناتھ پرتاپ سنگھ کو مبارکباد دینے کو جی چاہتا ہے انہوں نے کس حکمت سے منڈل کمیشن کو نافذ کیا جس کی وجہ سے ایک شرارت انگیز طبقہ جس کی آبادی کا تناسب تین ساڑھے تین فیصد سے زیادہ نہیں ہے ۔اس کا دبدبہ ختم نہیں تو کم ضرور ہوا ہے ۔جو رفتہ رفتہ ختم ہو جائے گا اگر کانشی رام کے فارمولے ’’جس کی جتنی آبادی اس کی اتنی بھاگیداری ‘‘ پر عمل پیرا ہوا جائے ۔اس سے یقینی طور پر یہ آئے دن کے فسادات سے بھی چھٹکارا مل جائے گا ۔لیکن مقتدر طبقہ کسی بھی حال میں یہ نہیں ہونے دے گا ۔وہ تو موجودہ تحفظاتی نظام کو بھی ختم کرنے کیلئے طرح طرح کی دلیل دیئے جاتا ہے ۔
یہاں موجودہ سہارنپور اور دیوریا فسادات سے مسلمانوں کیلئے سبق ہے کہ ملک میں مظلوم صرف وہی نہیں ہیں ۔ظالموں کے نشانے پر وہ اکیلے نہیں ہیں ۔یہ الگ بات ہے کہ انہیں سب سے زیادہ خوف میں مبتلا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ بقیہ طبقوں کو اپنے جال میں پھنسانے میں آسانی ہو ۔اب ضروری ہے کہ مسلمان اور ان کے قائدین اور تنظیمیں ’میں ‘ کو بھول کر ’ہم ‘ میں آجائیں ۔ایسا نہیں ہے کہ مسلمان اس کو نہیں سمجھتے لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ عملی اقدام کی جانب اس تیزی کے ساتھ آگے نہیں بڑھاجارہا ہے جیسا کا حالات اور وقت تقاضا کررہا ہے ۔جماعت اسلامی ہند برسوں سے پسماندہ طبقات کے ساتھ مسلمانوں کی تعلقات استواری کے لئے کوشاں ہے ۔اس کے علاوہ ابھی تک عملی طور پر دلتوں کی کسی تنظیم سے صرف ایک مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی ہی کا چہرہ دکھ رہا ہے جو برہمنزم کے خلاف وامن میشرام کی تنظیم کے ساتھ عملی طور پر وابستہ ہیں ۔ایسے چہروں کی تعداد بڑھنی چاہئے ۔رضا اکیڈمی نے بھی اس جانب قدم بڑھایا ہے ان لوگوں نے ڈاکٹر امبیڈکر کے پوتے آنند راج امبیڈکرسے ملاقات کرکے موجودہ صورتحال پر گفتگو کی ۔ معلوم ہوا کہ یہ لوگ مسلمانوں کی جانب سے پیش قدمی کے منتظر ہیں ۔یہ تعداد کم صرف اس لئے ہے کہ ہم نے حالات کا صحیح ادراک آج بھی نہیں کیا ہے ۔بہتر ہو گا کہ ہم اپنے اختلافات پس پشت ڈال کر صرف مسلمان کی حیثیت سے ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے کی کوشش کریں اور حالات پر گہری نظر رکھنے کیلئے اسٹڈی گروپ تشکیل دیں جو ہمیں ہوا کے رخ کی خبر بتاتا رہے ۔اسی کے مطابق ہم اپنا سیاسی فیصلہ کریں بجائے اس کے کہ کوئی کسی پارٹی اور کوئی کسی پارٹی کی نشاندہی کرے ہمیں مشترکہ جد و جہد کی جانب بڑھنا ہی ہوگا ۔اگر آج دلتوں کو نشانہ بنانے کی تیاری کی جارہی ہے تو مسلمانوں کو ان کے ساتھ ہر صورت میں کھڑا ہونا چاہئے ۔گجرات میں تو مسلمانوں نے ایسا کیا ہے لیکن اور دوسری جگہ اس کی مثالیں دستیاب نہیں ہیں ۔اگر ہم اس میں کامیاب ہو گئے تو یقین جانئے کہ ہندوستان میں ہم آج بھی باوقار طریقے سے رہ سکتے ہیں ۔ورنہ تو حالات دیکھ ہی رہے ہیں ۔اس ملک میں خلفشار کا ذمہ دار صرف وہی ڈھائی تین فیصد آبادی ہے جو نسلی برتری میں مبتلا ہے ۔اس کا علاج پسماندہ طبقات اور مسلمانوں کے اتحاد اور مشترکہ لائحہ عمل سے ہی ہو پائے گا ۔کیا ہمارے قائدین اس جانب پیش قدمی کو تیار ہیں ؟

بولنے کی آزادی اور کتوں کے بھونکنے کا فرق .!



عمر فراہی

آزادی انسان کا بنیادی حق ہے اور بھونکنا کتے کی پیدائشی فطرت - جمہوریت میں انسان کو بولنے کی آزادی ہے اس لئے وہ خود کو آزاد سمجھتا ہے لیکن انسان کے بولنے اور کتوں کے بھونکنے میں کوئی فرق نہ ہو تو ایسی آزادی کا کیا مطلب..؟ مگر جو چیز انسان کو ایک حیوان نما جانور پر فوقیت اور فضلیت دیتی ہے وہ کیا ہے ؟
آپ میں سے اکثر کا جواب شاید یہ ہو کہ  انسان کا علم اسے دوسری مخلوق سے افضل اور اشرف بناتا ہے تو ہماری ناقص رائے میں جو جتنا تعلیم یافتہ اور ذہین ہے وہ اتنا ہی اچھا بولتا ہے ۔ لیکن چیخنا ، پکارنا ، آواز اٹھانا یابولنا ہی صرف کسی مسئلے کا حل ہوتا تو ہم میڈیا کو اس لئے اپنا مسیحا سمجھتے کیونکہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر سارے پڑھے لکھے لوگوں کے بولنے چیخنے اور چلانے کی ایک بھیڑ لگی ہوئی ہے - لیکن اگر میڈیا کے اس چیخنے اور چلانے سے اخلاق کے بعد نجیب اور پہلو خان کا قتل نہ ہوا ہوتا تو ہم سمجھتے کہ میڈیا نے کامیابی حاصل کرلی - اس کے برعکس کچھ شریف لوگوں کی یہ ذہنیت بنتی جارہی ہے کہ میڈیا ہی فساد کی اصل جڑ ہے - دوسرے لفظوں میں دیکھا جائے تو موجودہ لبرل میڈیا اور کتے کی فطرت میں ایک زبردست مماثلت پائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ کتے جب کسی شخص کی چال ڈھال اور لباس سے یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ کمزور ہے تو ہی بھونکنا شروع کرتے ہیں اور اس وقت ہی  بھونکتے ہیں جب ان کے ساتھ کتوں کا گروہ موجود ہو - مگر کتوں کی یہ ٹولی گروہ میں ہوکر بھی اس وقت کبھی نہی بھونکتا جب اس کی گلی سے کوئی ہتھیار بند سپاہی یا کوئی مسلح شخص گذر رہا ہو - میں نے دیکھا ہے کہ کتوں کے یہ گروہ اس وقت پتلی گلی سے بھاگنا شروع کردیتے ہیں جب میونسپلٹی کی گاڑی انہیں قید کرنے کیلئے آتی ہے - تازہ مثال عام آدمی پارٹی کے سربراہ کیجریوال پر دو کروڑ رشوت پر میڈیا جس طرح واویلا کر رہا ہے ۔ کیا اسے نہیں پتہ کہ دلی کے دس جن پتھ کے بنگلوں میں بی جے پی اور کانگریس کے جو لیڈران رہائش پذیر ہیں ان کی قیمت دو سو کروڑ ہے اور ان میں رہنے والے اپنے اوپر اور اس مکان کی دیکھ ریکھ میں ہر مہینے لاکھوں روپئے خرچ کرتے ہیں - کیا ملک کے ان لیڈران کو دو سو کروڑ کے مکانات میں رہنے کا حق ہے - کیا ان مکانات پر ماہانہ آنے والا خرچ عوام کے ٹیکس کا پیسہ نہیں ہے - کیا عوام کی اس محنت کی کمائی کو اتنی غیر ذمہ داری سے خرچ کرنا سرکاری بدعنوانی نہیں ہے ؟ لیکن میڈیا  طاقتور حکمراں طبقات کی اس بدعنوانی کو محسوس کرتے ہوئے بھی آنکھ پھیر لیتا ہے تو اس لئے کہ طاقتوروں کے خلاف آواز اٹھانے پر انہیں کتوں جیسی ان کی اوقات بتا دی جائے گی - ہم بولنے والوں کو بھی اپنا احتساب کرنا چاہئے کہ جمہوری طرز سیاست میں کیا ہم واقعی بولنے کیلئے آزاد ہیں اور کیا ہمارے بولنے اور کتوں کے بھونکنے میں کوئی فرق بھی ہے ؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو ماحول میں بہتری کی وہ تبدیلی نظر بھی آنی چاہیے اگر نہیں تو پھر ہمیں غور کرنا چاہئے کہ کہیں ہم کتوں کی طرح خوف اور دہشت کے ماحول کا اندازہ لگا کر تو نہیں بول رہے ہیں ؟ اگر ایسا ہے تو پھر کیسی جمہوریت اور کیسی آزادی لیکن احترام انسانیت اور رحم کےجذبات سے ناپید جدید تعلیمی نصاب بھی جو نئی نسلوں کو اچھا بولنا تو سکھا دیتی ہے لیکن ان کے بولنے اورکتوں کے بولنے میں اگر کوئی فرق محسوس کیا جاسکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ انسان اپنے ذہن و دماغ سے سیاسی پینترابازی بدل کر اپنا دفاع کرلیتا ہے جبکہ کتے بے موت مارے جاتے ہیں -

سچ کہہ دوں اے برہمن۔۔۔




قاسم سید 
مسلم پرسنل لا کے تعلق سے حکومت کے عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور اس وقت سیاسی اعتبار سے سب سے کمزور طبقہ کی نہ کسی کو ضرورت ہے اور نہ ہی ان کے دکھ درد جاننے کی۔ اپوزیشن پارٹیاں اپنے حصے بخرے سمیٹنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ خود کا وجود لب دم ہے، اس لئے وہ کسی اور کے بارے میں کیوں سوچیں گی۔ ویسے بھی ہم نے سیکولر سیاست کی منافقت، دھوکہ بازی اور مکاری کے بداثرات محسوس نہیں کئے اور نہ ہی مسلم نوجوانوں میں پائی جانے والی بے چینی، اضطراب اور مایوسی کا ادراک کرسکے ہیں۔ جب گئوماتا کے نام پر کسی پہلو خاں اور لوجہاد کے بہانے غلام محمد کے بے رحمانہ قتل کی وارداتیں سامنے آتی ہیں تو دل اچھل کر حلق میں آجاتا ہے، کیونکہ ایسے سنگین واقعات کے بعد بھی سناٹا اتنا گہرا ہے کہ روم روم دھڑکنے لگتا ہے۔ ہر ایک اپنے حصار میں قید اور سرمستیوں میں اتنا ڈوبا ہے کہ گرد و پیش میں کیا قیامت برپا ہورہی ہے اسے فکر ہی نہیں۔ اللہ کارساز ہے، سوچ کر خراٹوں کی رفتار بڑھا دیتا ہے، اسے بے حسی کہیں یا بے غیرتی، خوف کہیں یا مصلحت، کوئی نام دیں، غلامی، وفاداری نبھانے کا بھی خراج دینے میں کہیں ناگواری نظر نہیں آتی بلکہ کبھی ایسا لگنے لگتا ہے کہ نگاہیں آقائوں کے چہرے پر رہتی ہیں کہ مبادا کبھی زور سے آواز نکالنے پر ’کبیدہ خاطر‘ نہ ہوگئے ہوں۔
حکومت کے ناپاک عزائم کے ساتھ ہمارا رویہ کیا ہونا چاہئے اس پر اتفاق نہیں ہوسکتا۔ ایک طبقہ ممولہ کو شہباز سے لڑانے پر مصر ہے تو دوسرا عدالتی لڑائی تک معاملہ محدود رکھنے کے حق میں، حالات جوش و خروش کے ساتھ ہوش و عمل اور خوداحتسابی کے متقاضی ہیں، اس پر کسی کی توجہ نہیں ہے۔ جب مسلم خواتین کی ’مظلومیت‘ کا راگ بھیروی گایا جاتا ہے تو ہماری طرف سے ہندوستانی خواتین کی مظلومیت کے قصے سنائے جاتے ہیں۔
مٹھی بھر لوگوں کی نادانی و غیراسلامی حرکتوں سے اسلام اور مسلمانوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تو قصور ہمارا ہے۔ شاہ بانو کیس کے نتائج سودمند ہونے کی جگہ گھاٹے کا سودا ثابت ہوئے ۔ راجیو گاندھی سرکار نے مسلمانوں کی ملک گیر تحریک کے دبائو میں آکر سپریم کورٹ کے فیصلہ کو رد کرکے مسلم خواتین بل پاس کیا تو دوسری طرف فرقہ پرستوں کو خوش کرنے کے لئے بابری مسجد پر لگا تالا کھلوادیا، جس کا انجام بابری مسجد کی شہادت پر ہوا۔ اور اب یہ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ تین طلاق کے معاملہ میں عدالتی لڑائی ہارنے پر جس کا امکان زیادہ ہے، کیونکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ نے مقدمہ کی بنیاد بہت کمزور رکھی ہے، بورڈ کے سامنے تحریک چلانے کے علاوہ بظاہر اور کوئی راستہ نہیں رہے گا تو کیا تاریخ خود کو پھر ایک بار دہرائے گی اور اس کے انجام کے طور پر کہیں ہم بابری مسجد کو تو نہیں کھودیں گے، کیونکہ سرکار کی نیت میں کھوٹ ہے۔ اس مرتبہ لڑائی کی نوعیت مختلف ہے۔ مرکز میں ایسی حکومت برسراقتدار ہے جو اس طبقہ کو سبق سکھانے کے موڈ میں ہے، جس نے اوّل روز سے اس کے خلاف مورچہ کھول رکھا ہے۔ شاہ بانو کیس کے بعد سے عقوبت خانوں کے دروازے کھل گئے تھے۔ مذکورہ بل سے مسلم مردوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا، البتہ خواتین کے لئے عدالتوں کے دروازے مزید کھل گئے۔ پھر نان و نفقہ سے متعلق مقدمات کی باڑھ آگئی۔ مختلف عدالتیں ایک کے بعد ایک خلاف شریعت اور پرسنل لا کے خلاف فیصلے دیتی رہیں۔ بورڈ ہاتھ پر ہاتھ باندھے کھڑا رہا۔ اگر سائرہ بانو، تین طلاق، حلالہ اور تعدد ازدواج کے خلاف سپریم کورٹ نہ آتی تو شاید ہماری آنکھیں بھی نہ کھلتیں۔ غلطیوں کا اعتراف کرنے سے آدمی بڑا بنتا ہے، دوسروں کی طرف فوراً پتھر اچھال کر اور طعن و تشنیع کا سہارا لے کر صرف ذہنی دیوالیہ پن کا ہی اظہار ہوسکتا ہے۔ دلشاد بیگم نامی مطلقہ خاتون نے نان و نفقہ کا مقدمہ کیا۔ سیشن کورٹ نے شوہر کی اس دلیل پر کہ مسلم پرسنل لا کے تحت وہ نان و نفقہ کا مکلف نہیں، مقدمہ خارج کردیا۔ دلشاد بیگم ممبئی ہائی کورٹ پہنچیں جس نے جنوری 2007 میں اس فیصلہ کو الٹ دیا۔ جسٹس پی ایچ رپلے نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ سابق شوہر نے طلاق کے اسباب، مصالحت کے لئے ثالثوں کا تقرر اور مصالحت میں ناکامی جسے قرآنی تقاضوں کو پورا نہیں کیا اس لئے عورت نان و نفقہ کی مستحق ہے۔ اس پر کوئی احتجاج نہیں ہوا، نہ ہی چیلنج کیا گیا۔ بعض عدالتوں کی طرف سے لگاتار پرسنل لا مخالف فیصلے آتے رہے۔ ایسا ہی فیصلہ 2001 میں ممبئی ہائی کورٹ اور 2002 میں سپریم کورٹ نے دیا۔ 2جنوری 2003 کو دہلی کے ٹرائل کورٹ نے کہا کہ قرآن نے مخصوص حالت میں ایک سے زائد شادی کی اجازت دی ہے۔ 10 فروری 2015 کو سپریم کورٹ کی دونوں بینچ نے فیصلہ سنایا تھا کہ تعدد ازدواج اسلام کا لازمی جزو نہیں اور قرآن میں دی گئی اجازت کو قرآن کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔ نومبر 2015 میں گجرات ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں مسلم پرسنل لا میں تبدیلی کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ بیوی کی رضامندی کے بغیر ایک سے زائد شادی اور یکطرفہ طلاق آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔ قرآن ذاتی اغراض، جنسی تسکین کے لئے ایک سے زائد شادی کے خلاف ہے اور مسلمان اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس ناپسندیدہ غلط حرکت کے جواز میں قرآن کی غلط تعبیر و تشریح سے گریز کریں۔ وقفہ وقفہ سے عدالتی فرمودات آتے رہے ہیں، جو بتاتے ہیں کہ شرعی احکامات کے تعلق سے عدالتیں فیصلے دیتی رہی ہیں جو ہمیں غور و فکر اور خوداحتسابی کی بھی دعوت دیتے ہیں۔ عدالتیں آخری امید ہوتی ہیں مگر وہ جذبات پر نہیں، مقدمہ کے دوران پیش ثبوتوں، دلیلوں اور ٹھوس دستاویز کی روشنی میں فیصلہ سناتی ہیں، گرچہ یہ تجربہ مایوس کن رہا ہے، اس میں عدالتوں کا قصور ہے یا پیروکاروں کا، یہ اہم سوال ہے، کیونکہ ہم زیادہ تر جنگیں ہارتے آئے ہیں۔ شریعت میں مداخلت کا معاملہ ہو یا بابری مسجد قضیہ کی طویل ترین لڑائی ہم قانونی و عدالتی جنگوں میں شکست کا طویل ترین ریکارڈ رکھتے ہیں۔ بہت سی باتیں صیغہ راز میں ہی اچھی رہتی ہیں ورنہ پردہ نشینوں کے نام سامنے آنے سے شرمندگی ہوتی ہے۔
دراصل جو لڑائی بورڈ کو اپنے معاشرہ میں چھیڑنی چاہیے تھی وہ اس نے حکومت کے خلاف چھیڑدی اور ماحول لگاتار ٹکرائو والا بنتا جارہا ہے۔ سرکار نے بڑی چالاکی سے طلاق ثلاثہ کو سیاسی مسئلہ بنادیا اور بورڈ اس کھیل میں جانے انجانے میں پھنس گیا۔ شاہ بانو کیس ایک تازیانہ تھا اس سے سبق نہیں لیا گیا۔ اس وقت عائلی قوانین پر توجہ دی گئی ہوتی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن پلان بنایا جاتا تو شاید یہ حالات پیش نہ آتے۔ مسلمانوں نے قرآنی تعلیمات پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے۔ یہ باتیں صرف کتابیں ہوکر رہ گئی ہیں۔ علماء نے اپنی تقاریر میں عائلی قوانین کی تفہیم کی کوئی ضرورت ہی نہیں سمجھی اور اب جبکہ پانی سر سے اوپر ہوکر گزر رہا ہے، تین طلاق دینے والوں کا سوشل بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بورڈ کہیں نہ کہیں محسوس کررہا ہے کہ تین طلاق غیرشرعی اور شیطانی فعل ہے، جیسا کہ مولانا منت اللہ رحمانی نے اپنی ایک کتاب میں صاف طور پر کہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا بورڈ از خود کوئی راستہ نکال سکتا ہے یا نہیں۔ عدالتی فیصلہ اگر خلاف آئے گا تو پھر اگلا عملی قدم کیا ہوگا۔ تحریک چلائی جائے گی، شاہ بانو کیس کی طرز پر عوامی احتجاجات کا اہتمام ہوگا اور سرکار کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ کورٹ کے فیصلہ کو پلٹ کر قانون سازی کرے، کیونکہ بورڈ نے حلف نامہ میں کہا ہے کہ قانون سازی کا اختیار عدالت کو نہیں پارلیمنٹ کو ہے۔ کیا ہم اس بات کے لئے تیار ہیں کہ پارلیمنٹ قانون سازی کرے؟ کیا یہ ضروری ہے کہ حکومت ہمارے جذبات و شریعت کی پابند رہے جبکہ اس کا موڈ اور تیور کچھ اور ہی کہتے ہیں۔ کیا کچھ لو اور دو کا کوئی فارمولہ سامنے آئے گا؟ کیا ہم ذہنی طور پر ٹکرائو کے لئے تیار ہیں؟ اس سے کس کو سیاسی فائدہ پہنچے گا اور مسلمانوں کو کیا فائدہ اور نقصان ہوگا۔ شریعت کے تحفظ کے لئے جان کی قربانی مانگی جائے گی۔ کیا ملک اور خود مسلمان اس کے لئے متحمل ہیں؟ کیا موجودہ سنگین حالات میں یہ امکان ہے کہ پارلیمنٹ اس طرز پر کوئی بل لائے۔ ایک اور پہلو ہے جس پر صاف جواب دینے کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ نے کسی خاص مسلک کو مدنظر رکھ کر فیصلہ سنایا اور ایک ساتھ تین طلاق کو ممنوع قرار دیا تو اس فیصلہ کو خلاف شریعت مانا جائے گا یا خلاف مسلک؟ اس وقت کیسا طرز عمل ہونا چاہئے اور فی نفسہٖ طلاق دینے پر ہی پابندی لگادی گئی تب کیا طریقۂ کار اپنایا جائے گا۔ ظاہر ہے ایسے تمام سوالات مفروضات و قیاسات پر ہیں، خدا کرے ایسی صورت حال پیدا نہ ہو اور فیصلہ ہمارے حق میں آئے، لیکن نہ آنے کی صورت میں کیا ہوگا؟ اس پر پیشگی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ دیگر سماج کی طرح مسلم سماج پر بھی فرد کی آزادی اور اختیارات کے بے جا استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ مسلم سماج صرف وہی نہیں ہے جو مدرسوں میں زیرتعلیم ہیں یا مدرسہ کا تعلیم یافتہ ہے، وہ لوگ جن کو دین کی ہوا چھوکر بھی نہیں گئی لیکن مسلم سماج کا حصہ ہیں۔ بین مذاہب شادیوں کا رجحان اب یہاں بھی اجنبی نہیں رہا۔ شادی بیاہ میں بے جا اسراف و شاہ خرچی اب علمائے کرام کے یہاں بھی فراخ دلی کے ساتھ دیکھی جاسکتی ہے۔ جہیز کے لین دین سے کوئی اچھوتا نہیں، اب تو جہیز میں مدرسہ دیے جانے کی خبریں آنے لگی ہیں۔ آخر ان مسائل کو کب ایڈریس کیا جائے گا، صرف حکم نامہ جاری کرنے سے کام نہیں چلنے والا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کی اخلاقی حیثیت بھی کمزور ہوتی جارہی ہے، کیونکہ ایسے عناصر کا غلبہ ہوگیا ہے جو سیاسی عزائم رکھتے ہیں۔
طوفان آنے سے قبل کوئی میکانزم تیار کرنے خود احتسابی پر توجہ دینے اور وسیع بنیادیوں پر کم از کم مشترکہ پروگرام کی بے حد ضرورت ہے۔ جو بھی مسلمانوں کے نمائندہ پلیٹ فارم ہیں، خواہ کوئی نام ہو، کسی ملک کے ہوں مگر ان کا اعتبار اور وقار ہے، اہم مقتدرہ شخصیات جو کسی تنظیم یا ادارہ سے وابستہ نہیں، لیکن ملک گیر اثرات رکھتی ہیں کیا اتنی گنجائش بھی نہیں کہ ملت مظلوم کی خاطر عارضی طور پر ہی سہی دو تین بنیادی ایشوز پر ایک ساتھ بیٹھ جائیں، ان کے ٹوٹے حوصلوں کو توانائی دیں اور مورال کو بلند کریں، ملک گیر دورے پر نکل کر ڈھارس بندھائیں، حالات بہت سنگین ہیں اور یہ کسی کو نہیں بخشنے والے۔ ایسا  نہ ہو کہ یہ بات سمجھنے میں بہت دیر ہوجائے۔
qasimsyed2008@gmail.com

عالمی یوم صحافت اور ہندوستانی میڈیا:سیاں جھوٹوں کا بڑا سرتاج نکلا!


نہال صغیر
تین مئی کو اقوام متحدہ کی جانب سے منایا جانے والا عالمی یوم صحافت پر ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں آزادی اظہار رائے اور جمہوری ہونے کا دعویٰ کرنے والے ممالک میں صحافت کی آزادی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ امریکہ برطانیہ وغیرہ آزادی صحافت کی رینکنگ والے 180 ممالک کی فہرست میں اول اور دوم پوزیشن میں ہونگے لیکن ان کا نمبر بھی تینتالیسواں اور چالیسواں ہے ۔خیر ہم اس بات سے بحث کرنے کی کوشش کریں گے کہ آزادی صحافت کے سلسلے میں ہمارا (ہندوستان ) کا رخ کیا ہے ۔اس سے پہلے ایک بار یہ دیکھ لیں کہ بدترین بدحالی اور خلفشار کا شکار پاکستان 2016 کے مقابلے آٹھ پوائنٹ کی بہتری کے ساتھ 2017 میں 139 ویں مقام پر آگیا جبکہ وہ 2016 میں 147 ویں مقام پر تھا۔ہندوستان تین پوائنٹ کی گراوٹ کے ساتھ2017 میں 136 پر آگیاجبکہ 2016 میں ہندوستان پریس کی آزادی میں دنیا بھر کے 180 ممالک کی فہرست میں 133 ویں مقام پر تھا ۔ہر اس ملک میں جہاںجمہوریت کو پختگی ملی ہوئی ہے اور یہ ممالک خود بھی اپنے آپ کو جمہوریت اور آزادی اظہار رائے کا چمپیئن سمجھتے ہیں وہاں اس سال یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پریس کی آزادی کے معاملے میں ان کی قدر کم ہوئی ہے ۔جس میں امریکہ ،برطانیہ اور ہندوستان بھی شامل ہے ۔جبکہ پاکستان جو کہ ایک جمہوری مسلم ملک تو ہے لیکن وہ تشدد اور دہشت گردی کے عنوان سے بہت بدنام ہے وہاں پریس کی آزادی میں بہتری درج کی گئی ۔پاکستان کے بارے میں کئی سال قبل جانے مانے صحافی کلدیپ نیر نے لکھا تھا کہ وہاں میڈیا اور عدلیہ آزاد ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ وطن عزیز میں میڈیا پر کوئی پابندی ہے ۔بظاہر ایسا کچھ نظر نہیں آتا ۔لیکن اندرون خانہ کچھ ایسے اشارے ہوتے ہیں جس سے میڈیا کی آزادی کا گلا گھونٹا جانا محسوس ہوتا ہے ۔زیادہ تر میڈیا ہائوسوں کو یا تو سرکاری اشتہار کے ذریعہ خرید لیا گیا ہے یا پھر ان کو اس سرمایہ دار نے اپنی ملکیت میں شامل کرلیا ہے جو حکومت کی جانب سے مراعات حاصل کرنے کیلئے کافی بدنام رہا ہے ۔حوالہ کیلئے یہ بتانا ہی کافی ہے کہ موجودہ حکومت نے گیارہ ارب سے زیادہ اشتہار پر خرچ کئے ہیں۔
یوں تو میڈیا یعنی ذرائع ابلاغ کا شروع سے مشن رہا ہے عوام کو باخبر کرنے کا لیکن آجکل ملک میں ایسا ماحول پیدا کردیا گیا ہے کہ میڈیا عوام کو بے خبر بنا کر محض چند جذباتی اور غیر حقیقی نعروں میں الجھا کر حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کا کام کررہا ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ یہ کام صرف ہندوستان میں ہورہا ہے ۔ایسا معاملہ پوری دنیا میں ہے ۔لیکن بات یہ ہے کہ بیرون ملک میں ہائوس کم از کم اپنے معیار سے نہیں گرتے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے یہاں کا میڈیا کا کوئی معیار ہی نہیں بچا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ کبھی باوقار مانا جانے والا پیشہ اب سب سے زیادہ بے وقار ہو گیا ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میڈیا بھی ایک کاروبار بن گیا ہے ۔اس پر سرمایہ داروں کا قبضہ ہے اور سرمایہ دار اپنے مفاد میں ہی خبروں کی تشہیر کرتے ہیں یا اسے دبا دیتے ہیں ۔اگر ہم میڈیا کے ابتدائی دنوں میں بات کریں تو انیسویں صدی میں ہٹلر میڈیا کے تعلق سے اپنی سوانح میں لکھتا ہے کہ کس طرح یہودی سرمایہ داروں نے ملک کو جھوٹی خبروں اور پروپگنڈہ سے یرغمال بنا رکھا تھا ۔لیکن اب اس پر گفتگو نہیں ہوتی اگر گفتگو ہوتی ہے تو یہ کہ ہٹلر نے بڑے پیمانے پر یہودیوں کا قتل عام کیا کیوں کہ پوری دنیا کے میڈیا پر اب صرف یہودی ،برہمن اور ایران نواز وںکا قبضہ ہے ۔ اسی طرح اب ہمارے ملک کو میڈیا نے ہائی جیک کرلیا ہے ۔اس شور میں سچائی کہیں چھپ گئی ہے یا چھپا دی جاتی ہے اور عوام فرضی اور من گھڑت مسائل میں الجھ کر رہ گئے ہیں ۔حالیہ حکومت کے کئی احمقانہ فیصلوں، جس سے عوام اور ملک کا دیوالیہ نکل گیا لیکن یہ صرف میڈیا کے جھوٹ کی ہی قوت ہے کہ ان مسائل سے عوام کے ذہنوں کو دوسری جانب موڑ کر بی جے پی اپنا سیاسی مفاد حاصل کررہی ہے ۔رویش کمار نے عالمی یوم صحافت پر ایک طویل مضمون لکھا ہے ۔اس میں انہوں نے میڈیا کے تعلق سے اس پرانے گانے کے ایک بول ’سیاں جھوٹوں کا بڑا سرتاج نکلا‘کاحوالہ دیا ہے جس کو ہم نے مضمون کا عنوان بنایا ہے ۔آج ہمارے ملکی میڈیا کی یہی حالت ہے ۔ سادہ لوح تو میڈیا کے سحر میں گرفتار ہیں ہی لیکن جو باشعور طبقہ ہے وہ بھی مشکوک ہوجاتا ہے کہ شاید یہی سچ ہو ۔بعض باتیں بار بار لکھنا مناسب بھی نہیں لگتا کہ میڈیا کیا چھپا رہا ہے اور کیا لوگوں کے ذہنوں میں بو رہا ہے ۔
اوپر ہم نے ہلکا سا اشارہ تو کیا ہے کہ امریکہ و برطانیہ اور ہمارے یہاں کی صحافت میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔اسی لئے وہ ہم سے سو پوائنٹ سے زیادہ آگے ہیں ۔رویش کمار نے اپنے مضمون میں اس تعلق سے امریکی میڈیا کی ایک تنظیم ’امریکی پریس کور‘ کے ایک خط کا حوالہ دیاہے کہ اس نے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو جو خط لکھا ہے رویش کمار کا کہنا ہے کہ ویسا خط یہاں کوئی لکھنے کی ہمت نہیں کرے گا ۔آپ بھی دیکھ لیں کہ امریکی صحافیوں کی تنظیم نے کس طرح سے ڈونالڈ ٹرمپ کو چیلنج کیا ہے ۔خط کا متن ہے ’’قابل احترام ،نومنتخب صدر صاحب ۔آپ کے دور صدارت کے شروع ہونے کے آخری دنوں میں ہم نے ابھی ہی صاف کردینا صحیح سمجھا کہ ہم آپ کی انتظامیہ اور امریکی پریس کے رشتوں کو کیسے دیکھتے ہیں ۔ہم مانتے ہیں کہ دونوں کے رشتوں میں تنائو ہے ۔رپورٹ بتاتی ہے کہ آپ کے پریس سکریٹری وہائٹ ہائوس سے میڈیا کے دفتروں کو بند کرنے کی سوچ رہے ہیں ۔آپنے خود کی خبر نگاری کیلئے کئی خبریہ تنظیموں کو بین کردیا ہے ۔آپ نے ٹیوٹر پر نام لے کر صحافیوں پر طعنے کسے ہیں ،دھمکایا ہے ۔اپنے مداحوں کو بھی ایسا کرنے کیلئے کہا ہے ۔آپنے ایک رپورٹر کا یہ کہہ کر مذاق اڑایا ہے کہ اسکی باتیں اسلئے اچھی نہیں لگی کہ وہ معذور ہے ۔اپنی انتظامیہ تک رپورٹر کی پہنچ ختم کرنے غلطی کریں گے ۔ہم خبریں حاصل کرنے کے طرح طرح کے راستے کھوجنے کے ماہر ہیں ۔اپنی مہم کے دوران جن خبریہ تنظیموں کو بین کیا تھا ان کی کئی رپورٹ بہترین رہی ہے ۔ہم اس چیلنج کو قبول کرتے ہیں ۔صحافت کے قوانین ہمارے ہیں ،آپکے نہیں ۔ہم چاہیں تو آپکے افسران سے آف ریکارڈ بات کریں یا نہ کریں ۔ہم چاہیں تو آف ریکارڈ بریفنگ میں آئیں نہ آئیں ۔اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ رپورٹر کو چپ کرادینے یا بھگادینے سے اسٹوری نہیں ملے گی ،تو غلط ہے ۔ہم آپ کی رائے لینے کی کوشش کریں گے ۔لیکن ہم سچائی کو توڑنے مروڑنے والوں کو جگہ نہیں دیں گے ۔وہ جب بھی ایسا کریں گے ہم انہیں بھگا دیں گے ۔یہ ہمارا حق ہے ۔ہم آپ کے جھوٹ کو نہیں دہرائیں گے ۔آپ کی بات چھاپیں گے لیکن سچائی کا پتہ کریں گے ۔آپ اور آپ کا اسٹاف وہائٹ ہائوس میں بیٹھا رہے ،لیکن امریکی حکومت کافی پھیلی ہوئی ہے ۔ہم حکومت کے چاروں طرف اپنے رپورٹر تعینات کردیں گے ۔آپکی ایجنسیوں میں گھسادیں گے اور نوکر شاہوں سے خبریں نکال لائیں گے ۔ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے انتظامی عمارت سے آنے والی خبروں کو روک لیں لیکن ہم آپ کی پالیسی کا تجزیہ کرکے دکھا دیں گے ‘‘۔
کسی صحافتی ادارے کی جانب سے ایسے سخت تیوروہ بھی منتخب اور دنیا کے سب سے طاقتور انسان کو دکھانے کی ہمت ہندوستان میں تو واقعی کوئی نہیں کرسکتا ہے ۔ہم آئے دن دیکھتے ہیں کہ کس طرح مودی بھکت اپنے ناقدین کا جینا دشوار کردیتے ہیں ۔حد تو یہ ہے کہ جو لوگ آج حکومت میں ہیں ان کے ہی کارندوں کے ذریعہ میڈیا ہائوسوں پر پتھرائو اور توڑ پھوڑ کرنے کا شاندار ریکارڈ رہا ہے ۔اب ان کی حکومت ہے تو اشتہار کے ذریعہ اور درپردہ مالی امدار اور دھونس و دھاندلی کے ذریعہ خاموش کردیا گیا ۔ایک آدھ ہی میڈیا ہائوس ایسا بچا ہے جو حکومت کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتا ۔وہ سوال کرتا ہے ۔لیکن حکومت کی چمچہ گیری کرنے والے میڈیا ہائوسوں اور صحافیوں کے شور میں ان کی آواز صدا بصحرا ثابت ہو رہی ہے ۔لیکن بہر حال ارنب گوسوامی،دیپک چورسیا جیسے صحافت کے کلنکوں کی بھیڑ میں رویش کمار اور وشو دیپک جیسے صحافی اندھیرے میں جگنو کی طرح اپنی جگمگاہٹ سے اپنی موجودگی کا احساس کراتے رہتے ہیں ۔یہ بتانے کیلئے کہ ہم مکمل اندھیرا نہیں ہونے دیں گے ۔ہر چند کے جھوٹوں کے اس شور میں ان کی آواز کوئی سنے یا نہیں سنے !

مشعل کا فتنہ



عمر فراہی ۔ umarfarrahi@gmail.com

چودہ اپریل 2016 کوپاکستان میں مردان یونیورسٹی کے طالب علم اور سوشل میڈیا جرنلسٹ مشعل خان کو انہی کے ساتھیوں نے بہت ہی بے دردی کے ساتھ قتل کردیا - مشعل پر الزام تھا کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی شان میں گستاخی کیا کرتا تھا - وہ عقیدے سے قادیانی تھا - خیر جو بھی تھا انسان تھا - اس کے فیس بک پوسٹ سے یہ اندازہ ہوتا ہےکہ وہ مذہب بیزار لبرل ذہنیت کا نوجوان تھا - بدقسمتی سے ہمارے دور کاایک المیہ یہ بھی ہے کہ جو مذہب بیزار ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو انسانیت دوست کہتا ہے ، جو اسلام دشمن ہوتے ہیں وہ خود کو لبرل اور مغرب نواز کہتے ہیں - مشعل کے قتل کی خبر بھی ہمیں سب سے پہلے ایک وہاٹس اپ گروپ پر مشعل کے قبیلے کے ہی ایک سوشل لبرل جرنلسٹ کی پوسٹ سےملی - اسلام بیزار اور اسلام پسندوں کے اس گروپ کو ایک ڈیڑھ سال پہلے اردو کےایک معروف صحافی نے تشکیل دیا تھا بعد میں وہ خود تو لیفٹ ہو کر باہر ہو گئےلیکن گروپ پر کچھ سوشل میڈیا ایران اور مغرب نواز لبرل جرنلسٹ مسلسل فتنہ پھیلاتے رہتے ہیں اور ان میں سے اکثر مشعل کی طرز کے سوشل جرنلسٹ اپنے اسلام مخالف نظریات سے دوسرے اسلام پسند صحافیوں کو مشتعل کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتے- اسی گروپ پر مشعل کی طرز کا ایک فتنہ پرور پچھلے کئی دنوں سے مشعل کے سر عام قتل پر پاکستانی طالب علموں کی اس طرح مذمت اور اس طرح کی تحریریں پوسٹ کر رہا تھا جیسے کہ مشعل کے قتل کے ذمہ دار پاکستانی طالب علم نہیں بلکہ اسلام اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات ہیں - یوں کہا جائے کہ شریر اور بدمعاش قسم کے یہ لوگ مسلسل تحریکی شکل میں اسلامی تعلیمات کے خلاف ایسی گمراہ کن تحریریں اور ویڈیو پوسٹ کرتے رہتے ہیں کہ ہم جیسے باشعور کالم نگاروں کے تن بدن میں بھی آگ لگ جاتی ہے - مگر جب یہی معاملہ کالج اور یونیورسٹیوں کے نوجوانوں کے ساتھ پیش آجائے تو بات خون خرابے تک پہنچنا بھی لازمی ہے- مشعل کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا ہے جس کا ذمہ دار خود یہ نوجوان بھی ہے - اسلام بہرحال جاہلوں سے الجھنے کی اجازت نہیں دیتا لیکن کیا کیا جائے کہ ہر کسی کی قوت برداشت یکساں نہیں ہوتی - ہمارے  گروپ کے دو ساتھی جو اردو اخبار سے منسلک بھی ہیں وہ مشعل کے قتل کے ردعمل میں پوسٹ کی گئی نازیبا تحریر پر گروپ کے ایک ایران نواز سوشل جرنلسٹ سے الجھ گئے اور تقریباً ایک گھنٹے تک بات تو تو میں میں تک پہچ گئی - بحث کے دوران وہ یہ تاثر بھی دیتا رہا ہے کہ اگر پاکستان ہوتا تو آپ لوگ قلم کی بجائے میرے اوپر شمشیر لے کر چڑھ آتے - آپ کی جانکاری کیلئے بتادیں کہ اکثر شریر منافق اور دہریے قسم کے سوشل جرنلسٹوں کی یہ خصلت ہوتی ہے کہ وہ خود بدتمیزی گستاخی اور بد تہذیبی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور الزام اپنے مخالف پر تھوپ دیتے ہیں - ایسے میں جو اپنی بحث اور عقیدے میں مخلص ہے اس کا جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہو کرمشتعل ہوجانا بھی لازمی ہے - شاید وقت کے رشدی اور طارق فتح بھی یہی چاہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ مشتعل کرکے تخریب پر آمادہ کریں - ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ آخریہ ان لوگوں کو ایسا کرنے میں مزہ کیوں آتا ہے ؟ اس کا جواب اس کے سوااور کیا ہوسکتا ہے کہ باطل نے ہر دور میں جہاں حق کے خلاف بزور شمشیر محاذ آرائی کی ہے اسی دور میں حق کے علمبرداروں کے خلاف ایسے بدزبان شعراء اور تبرا بازوں کا بھی استعمال کیا ہے جو اہل ایمان کا مذاق اڑا کر اس کی قیمت اصولتے تھے - ایسے بے غیرت مقرر اور مصنف آج بھی فروخت ہورہے ہیں - سلمان رشدی تسلیمہ نسرین اسریٰ نعمانی اور وی ایس نائیپال جیسے بدمعاش اورسطحی سوچ کے مصنفین کے ساتھ ساتھ ایسے الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات  بھی ہیں جو اپنی مطلوبہ قیمت میں فروخت ہو رہے ہیں - خوش قسمتی سے سوشل میڈیا کے دور میں تو فیس بک اور وہاٹس اپ میڈیا پر ایسے سوشل میڈیا جرنلسٹوں کی بھرمار ہو چکی ہے جو پیشہ وارانہ طور پر کسی گروہ کیلئے کام کر رہے ہیں یا فروخت ہونے کیلئے تجربات کے مراحل سے گذر رہے ہیں - مشعل خان بھی ممکنہ طور پر کسی اسلام دشمن تحریک کیلئے ہی استعمال ہورہا تھا - شاید اسی لیئے بہت ہی بے باکی کے ساتھ ادبی انداز میں اسی طرح اسلامی تعلیمات کی تضحیک اور مسلم نوجوانوں کی دل آزاری میں مصروف تھا جیسے کہ پاکستان میں مشعل اور طارق فتح کی ذہنیت کی ایک پوری بھیڑ سرگرم ہے اور بہت ہی منظم طریقے سے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں اور محفوظ بھی ہیں - مشعل کا قتل اچانک ظہور پذیر ہونے والا حادثہ یا ردعمل نہیں ہے بلکہ جس طرح نشے کے عادی افراد اپنی عادتوں سے مجبور ہوتے ہیں ہمارے سماج میں مشعل جیسے بہت سارے لبرل نوجوانوں نے مسلمانوں کی دل آزاری کو اپنی ذہنی عیاشی کا مشغلہ بنایا ہوا ہے - غالباً مشعل کو بہت پہلے سےدھمکیاں مل رہی تھیں لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ حقیقت میں اس کے ساتھ ایسا ہوجائے گا - اس دھمکی کو بھی  اس نے مذاق میں لیتے ہوئے اپنی فیس بک کی چوبیس مارچ کی پوسٹ میں ایک نظم  پوسٹ کی تھی جس میں اس نے اپنے اغوا اور قتل کر دیئے جانے کا خیالی منظر پیش کرتے ہوئے اپنے ہی قاتلوں کے خلاف پولس میں شکایت درج کرنے کی بات کی ہے -

میں لاپتا ہوگیا ہوں
کئی ہفتے ہوئے
پولیس کو رپورٹ لکھوائے
تب سے روز تھانے جاتا ہوں
حوالدار سے پوچھتا ہوں
میرا کچھ پتا چلا؟
ہمدرد پولیس افسر مایوسی سے سر ہلاتا ہے
پھنسی پھنسی آواز میں کہتا ہے
ابھی تک تمھارا کچھ سراغ نہیں ملا
پھر وہ تسلی دیتا ہے
کسی نہ کسی دن
تم مل ہی جاؤ گے
بے ہوش
کسی سڑک کے کنارے
یا بری طرح زخمی
کسی اسپتال میں
یا لاش کی صورت
کسی ندی میں
میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں
میں بازار چلا جاتا ہوں
اپنا استقبال کرنے کے لیے
گل فروش سے پھول خریدتا ہوں
اپنے زخموں کے لیے
کیمسٹ سے
مرہم پٹی کا سامان
تھوڑی روئی
اور درد کشا گولیاں
اپنی آخری رسومات کے لیے
مسجد کی دکان سے ایک کفن
اور اپنی یاد منانے کے لیے
کئی موم بتیاں
کچھ لوگ کہتے ہیں
کسی کے مرنے پر
موم بتی نہیں جلانی چاہیے
لیکن وہ یہ نہیں بتاتے
کہ آنکھ کا تارہ لاپتا ہوجائے
تو روشنی کہاں سے لائیں؟
گھر کا چراغ بجھ جائے
تو پھر کیا جلائیں؟
سوشل میڈیا پر مشعل کے اس قتل پر بہرحال ہر طبقے کی طرف سے مذمت ہورہی ہے اور ہونا بھی چاہیے لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی سلمان تاثیر اور مشعل کسی ممتاز قادری یا مشتعل بھیڑ کی شرارت کا شکار ہوتے ہیں تو ہم مسلمانوں میں سے ہی جو مفتی نہیں ہوتے وہ بھی مفتی ہوکر یہ فتویٰ دینا شروع کردیتے ہیں کہ اسلام قانون کو ہاتھ میں لینےکی اجازت نہیں دیتایا اس طرح کی حرکتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کےمنافی ہےاور اہل حق میں سے بھی کچھ لوگ یہ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ " ممتاز قادری جیسے لوگ خارجیت کا مظہر ہیں، تکفیر اور انتہاء پسندی کا جو رخ ہمارے معاشرہ میں ہے اس میں ایسے افراد کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے"بیشک ایسا نہی ہونا چاہیے لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب اخلاق ، نجیب اور پہلو خان جیسے مسلمان ہندو دہشت گردوں کے ذریعے قتل ہوتے ہیں تو کوئی ہندو پنڈت یا دانشور اپنے ہندو مذہب کی دہائی کیوں نہیں دیتا ؟ شام میں ایرانی پانچ لاکھ لوگوں کو قتل کردیتے ہیں پھر بھی خارجی اور تکفیری کے دائرے سے باہر ہیں - امریکہ افغانستان میں اب تک کے سب سے وزنی بارودی حملے کے باوجود امن کا علمبردار ہے تو اس لیئے کہ ہم نے اس بمباری سے شہید ہونے والوں کو دہشت گرد تسلیم کرلیا ہے - اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ باطل کی آواز میں طاقت ہے اور ہم اپنے اختلاف اور خوف کی وجہ سےان کی آواز میں آواز ملاکر ان کے موقف کی تائید کردیتے ہیں - سچ تو یہ ہے کہ مسلمان یا مسلمانوں کے علماء کبھی کسی مذہب اور ان کے اکابرین کی توہین نہیں کرتے بلکہ رشدی تسلیمہ نسرین ، طارق فتح اور مشعل جیسے لوگ خود بلا جواز آگے بڑھ کر مسلم نوجوانوں کو مشتعل کرتے رہےہیں اور کررہےہیں - یہ بات بھی درست ہے کہ ایسے گستاخوں کی بدتمیزی اور گستاخی پر مسلمانوں کو مشتعل نہ ہوکرقانون کو اپنا کام کرنے دینا چاہیے لیکن جس معاشرے سے انصاف اور قانون کی حکمرانی کا تصور ہی ختم ہو چکا ہو وہاں ممتاز قادری یا پاکستانی یونیورسٹی کے طالب علموں کی ایک قلیل بھیڑ کو مشتعل ہوجانے سے بھی کیسے روکا جاسکتاہے ؟
بیشک اس کا ذمہ دار بھی موجودہ دنیا کا لبرل جمہوری نظام ہی ہے جس نے طارق فتح اورمشعل جیسے اسلام دشمن شرپسندوں کو پناہ دے کراسلام اور مسلمانوں کی شان میں گستاخی کیلئے آزاد چھوڑ رکھاہے- اب آپ اندازہ لگائیں کہ جہاں ابلیسیت اور دجالیت غالب ہواور للہٰیت اورربّانیت پابند سلاسل اور خطرناک بارودی بموں کے حصار میں جکڑ دی گئی ہو ، جہاں ارباب اقتدار نے خود غنڈے بدمعاشوں کو پناہ دے رکھا ہو اور یہ لوگ اپنی بدعنوانی اور خرافات پھیلانے کیلئے آزاد ہوں تو پھر ایسے میں زمین پر کسی بھی طرز کے فساد اور فتنےکو کیسے روکا جاسکتا ہے...؟

انتظار کیجئے


ممتاز میر۔07697376137

اخبار میں سونو نگم کی ہرزہ سرائی نظر سے گذری ۔ اور آج (۱۹ ،اپریل)کو ہمارے ایک لیڈر کا سونو نگم کی حمایت میں بیان پڑھا۔سونو نگم کہتے ہیں۔’’خدا سب پر مہربانی کرے ،میں مسلمان نہیں ہوں اور صبح میری نیند اذان سے کھلی ۔ ملک میں کب تک مذہبی رسم و رواج کو زبردستی ڈھونا پڑے گا ‘‘یہ بیان صرف مسلمانوں پر چوٹ نہیں ہے بلکہ تمام مذاہب کے ماننے والوں پر چوٹ ہے ۔اسلئے سبھی کو ان سے پوچھنا چاہئے کہ پھر وہ بھجن کیوں گاتے ہیں۔اور آئندہ بھجن گوانے والوں کو بھی سونو نگم کی یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے۔ویسے وہ جس پیشے سے تعلق رکھتے ہیں اس میں اس قسم کی باتیں کرنا پیشے کی مجبوریوں میں شمار ہوتی ہیں۔وہ لوگ کپڑے اتارتے ہیں تو اسلئے کہ وہ خبر بن جائے اور اگر کپڑے زائد پہن لیتے ہیں تو بھی اسلئے کہ وہ بھی خبر بن جائے ۔پھر آجکل تو ان کا مارکیٹ بڑا ڈاؤن چل رہا ہے اسلئے وہ جو نہ کریں کم ہے۔ مسئلہ ہمارے لیڈر کا ہے ۔اسے کس کتے نے کاٹ لیا تھا ۔اپنے لیڈروں کے تعلق سے ہمارا احساس یہ رہاہے کہ وہ واقعتا مسلمان ہوتے بھی ہیں یا نہیں ؟یہ معاملہ مشکوک ہے !ہمارے یہ مذکورہ لیڈر جن کا نام احمد پٹیل ہے غلام نبی آزاد کی طرح برسوں سے گاندھی خاندان کی ناک کا بال بنے ہوئے ہیں۔ان کی دیرینہ کارکردگی یہ ہے کہ جب ساری دنیا کانگریس کا ساتھ چھوڑ چکی تھی یہ کانگریس سے چپکے ہوئے تھے۔ یہ اپنی قوم کے کم کیا بالکل وفادار نہیں رہے ہیں ان کی ساری وفاداری گاندھی خاندان یا کانگریس کے ساتھ رہی ہے ۔اور احسان جعفری کا حشر دیکھنے کے بعد بھی اس میں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں آئی ہے۔موصوف اپنی حالیہ حمایت میں کہتے ہیں ’’اذان نماز کا حصہ ضرور ہے لیکن جدید تکنیک کے دور میں لاؤڈاسپیکر کی ضرورت نہیں ہے ‘‘اگر واقعتا ان کے الفاظ یہی ہیں تو ہمیں ان کا مطلب پلے نہیں پڑا۔شاید ان کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ لاؤڈاسپیکر کو مسجد کے میناروں پر لگانے کی بجائے چھوٹے چھوٹے اسپیکر ہر اس گھر میں لگا دیئے جائیں جسے اذان سننی ہو یہ مشورہ ،اگر واقعتا اس کا یہی مطلب ہے تو بہت اچھا ہے ۔ہم صد فی صد اس سے اتفاق کرتے ہیں ۔بس شرط اتنی ہے کہ ہر گھر میں اسپیکر لگانے کا خرچ جناب احمد پٹیل صاحب برداشت کریں ۔قوم ان کا یہ احسان تا عمر نہیں بھولے گی۔
ایک بار پھر سونو نگم کی طرف لوٹتے ہیں۔خبریں یہ کہتی ہیں کہ ان کے گھر کے آس پاس مسجد نہیں ہے تو کیا وہ کسی دوسرے کے گھر سو رہے تھے یہ شو بز والوں کے لئے کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے ۔تو کیا شو بز کی دنیا سے تعلق رکھنے کے باوجود ان کے بیڈروم میں AC نہیں ہے اور AC ہونے کے باوجود ان کے بیڈ روم میں دنیا بھر کی آوازیں گھس سکتی ہیں ۔ہم تو شوبز والوں سے یہ توقع رکھتے ہیں کے وہ ٹی وی اداکاراعجازخان کی طرح فرقہ پرستی اور ملک میں پھیلنے والی بے چینی کے خلاف آواز اٹھائیں گے یہ صرف بہادری کا کام نہیں ہے بلکہ ان کے مفادات کا بھی تقاضہ ہے ۔فنون لطیفہ ملک کے موجودہ حالات میں پھل پھول نہیں سکتے۔نریندر دابھولکر ،گووند پنسارے اور ملیشپا کلبرگی نے آخر کیوں اپنی جانیں قربان کیں۔ اسی لئے ہمیں لگتا ہے کہ سستی شہرت کی خاطر وہ بیان بازی کر بیٹھے ہیں۔دوسری طرف ہمارے لیڈر کی ان کی حمایت میں اٹھنے والی آواز سے وہ خوف جھلک رہا ہے جو بی جے پی کی یو پی میں دو تہائی سے زائد کی اکثریت سے فتح نے مسلمانوں میں پھیلا رکھا ہے۔آج وطن عزیز میں مسلمانوں میں شاید ہی کوئی قابل لحاظ دانشور ایسا ہو جو مسلمانوں اور ملک کی اس حالت کا ذمے دار کانگریس کو نہ مانتا ہو ۔ اس کے باوجود کانگریس کے ایک مسلمان لیڈر کا بیان نوٹ کرنے کے قابل ہے ۔کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ کانگریس نے آج بھی اپنی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے ۔وہ آج بھی اپنی نرم ہندتو کی لٹیا ڈبو دینے والی پالیسی پر ہی عمل پیرا ہے ۔ ہم اپنے مضامین میں پہلے بھی کئی بار لکھ چکے ہیں اور ایک بار پھر لکھ رہے ہیں کہ ہمیں جس قسم کے لیڈر میسر ہیں (چاہے سیاسی ہو یا مذہبی) جس طرح کی حماقتیں وہ کرتے ہیں ، فرقہ پرستی کے سامنے جس طرح وہ پسپائی اختیار کرتے ہیں ایک وقت آئے گا کہ حکومت کہے گی نماز کے لئے مسجد کی ضرورت کیا ہے۔نماز گھر میں بھی پڑھی جا سکتی ہے ۔آپ لوگ نماز کے لئے مسجد میں جمع ہو کر حکومت کے خلاف سازشیں کرتے ہو ،لوگوں کو حکومت کے خلاف بھڑکاتے ہو تو حکومت کے اس موقف کو سب سے پہلے جو حمایتی میسر آئے گا وہ ہمارا ہی کوئی مسلمان نمالیڈر ہوگا ۔اور وہ حکومت کے اس موقف کی حمایت میں جو دلائل فراہم کرے گا اسے سن کر خودحکومت کا حال جو بھی ہو ہم مسلمان بھی عش عش کر اٹھیں گے ۔انتظار کیجئے ۔کچھ ہی دنوں میں یہ نظارہ بھی شاید دیکھنا پڑے۔ ’’شاید‘‘ہمارے اپنے لئے۔ہم عمر کے آخری پڑاؤ میں ہیں۔

زوال یافتہ پارلیمانی اقدار اور ملک پر منڈلاتے خطرات


نہال صغیر


یوں تو پارلیمانی جمہوری نظام میں اکثر ملکوں کی پارلیمنٹ میں حزب اقتدار اور حزب مخالف کے درمیان ایسی تو تو میں میں ہوتی رہی ہیں جس کو غیر پارلیمانی کہا جاتا ہے ۔ایک ویڈیو میں ایسے کئی ممالک کی پارلیمنٹ کی انہی فوٹیج کو اکٹھا کردیا گیا تھاجس میں صرف تو تو میں میں ہی نہیں ایک دوسرے پر خطرناک حد تک حملہ کیاگیا تھا ۔لیکن دیگر ممالک میں یہ شاذ و نادر ہونے والے واقعات ہیں ۔وہ اپنے وقار اور اپنے عوام کی خواہشات کا احترام کرنے والے لوگ ہیں ۔یہی سبب ہے کہ ان سے لاکھ اختلاف کے باوجود ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ان کے اسی نظم وضبط نے انہیں ترقی یافتہ بنایا ہے جہاں لیڈر سے لیکر عام آدمی تک تعلیم یافتہ اور سمجھ بوجھ رکھنے والے ہیں ۔ان ممالک میں گھوم کر آجائیں آپ محسوس کریں گے جیسے یہ ممالک اس دنیا میں نہیں کسی اور سیارے پر آباد ہیں ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اسی سیارے پر آباد ہیں اور ہمارے جیسے ہی شکل و صورت والے انسان ہیں ۔بس ان کی اور ہماری سوچ میں فرق ہے ۔انہیں کوئی کہہ دے کہ ’کو اکان لے جارہا ہے ‘تو کوا کے پیچھے پڑنے کی بجائے اپنے کان دیکھتے ہیں جبکہ ہمارے یہاں کان دیکھنے کا رواج نہیں ہے بس کوا کے پیچھے بھاگ کر خود کو ہلکان کرنے کی روایت عام ہے ۔دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہندوستان کی سنسکرتی (تہذیب)ہزاروں سال پرانی ہے ۔شاید یہ سچ بھی ہو اسی لئے لوگ نئی تہذیب و تمدن اور اس کے تقاضے سے نا آشنا ہیں۔دنیا میں نئے دور کا آغاز ہے نئی نئی کھوج اور تلاش کا کام جاری ہے لیکن یہ برہمنوں کی غلام قوم اب بھی ہزاروں سال کے پرانے افسانوی دور کی باتیں کرتی ہے اسی میں مگن ہے ۔اس شخص کے جھانسے میں آتی جارہی ہے جو انہیں جھوٹ موٹ کی باتوں میں اسے الجھا کر موجودہ دور کے تقاضوں اور بنیادی انسانی ضروریات کی عدم موجودگی و عدم فراہمی کے کرب سے اس کا ذہن دوسری جانب پھیر دینا چاہتی ہے اور یہ جاہل اور گنوار اسی بھول بھلیوں میں مگن رہنا چاہتے ہیں ۔ہمارے یہاں پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں پہلے تو میز کرسیاں اور مائیک پھینک کر ایک دوسرے کو مارنے کا رواج تھا ۔لیکن بعد کے زمانے میں جب انہیں فِکس کردیا گیا تو مجبوراًً ایک دوسرے پر جھپٹ پڑنے اور ضروری کاغذات پھاڑنے تک ہی معاملہ سمٹ گیا ہے ۔لیکن جو لوگ یہ ساری حرکتیں پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں کرکے ملک کا نام روشن کیا کرتے تھے اب وہ اپنے عزائم کی تکمیل عوام مقامات پر سرکاری یا دیگر عملہ کے ساتھ مار پیٹ کرکے کررہے ہیں ۔حال ہی میں شیو سینا کے ایک رکن پارلیمان رویندر گائیکواڑ نے ایئر انڈیا کے ایک عملہ کے ساتھ مار پیٹ کی اور اپنی اس بہادری والے کارنامے کو فخر کے ساتھ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اس ملازم کو 25 بار چپلوں سے مارا۔شیو سینا نے تو خیر کبھی بھی خود کو مہذب اور اخلاقی اقدار والی پارٹی قرار نہیں دیا ۔اس نے کھلی غنڈہ گردی کی اور اس کا کھل کر اظہاربھی کیا ۔لیکن وہ جس کے سایہ میں مرکز میں اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے یعنی بی جے پی نے اقدار پر مبنی سیاست کرنے والی پارٹی کہنے میں کبھی عار محسوس نہیں کیا ۔ہمارے نئے نویلے پردھان سیوک جی یہ کہہ کر بھی آئے تھے کہ وہ سیاست دانوں کے مقدمات کا فاسٹ ٹریک عدالت میں جلد از جلد نپٹا را کریں گے ۔لیکن انہوں نے کسی اور وعدوں کو پورا کیا ہے جو اس کو بھی پورا کریں گے اور پورا بھی کیوں کریں جب یہاں کے احمق لوگ اس کے بغیر ہی چند جذباتی نعروں میں بہل کر مسلم دشمنی کے نشہ میں انہیں تھوک کے حساب سے ووٹ دے رہے ہوں ۔وزیر اعظم مودی کے ساتھ جو ارکنان پارلیمان ہیں ان میں خود تیس فیصد کے قریب ارکان پر مجرمانہ معاملات درج ہیں ۔خود وہ بھی کیا ہیں دنیا اسے جانتی ہے ۔اس پرطرہ یہ کہ جن کو اتر پردیش کی کمان دی گئی ہے وہ شخص بھی ایسے کئی مجرمانہ معاملات میں ملوث ہے ۔
آج کی مہذب دنیا ہو،یا عہد وسطیٰ کی غیر مہذب اور سائنسی تحقیق سے دور دنیا میں کسی ملک کی پہچان ان کے باشندوں کی اجتماعی سوچ سے ہوا کرتی ہے ۔خود سے کچھ بھی کہتے رہیں اس سے دنیا کو کچھ لینا دینا نہیں ۔ دنیا آپ کے عمل کو دیکھے گی آپ کے بلند و بانگ دعووں اور زعم باطل سے کچھ نہیں ۔ایک بات اور جو قابل توجہ ہے کہ اگر کوئی کسی زعم میں ہے ،اس میں کچھ خوبیاں ہیں تو اس کے زعم کو نظر انداز بھی کیا جاسکتا ہے ۔ اس کے برعکس کسی میں کوئی خوبی ،کوئی اچھائی نہیں ہو، صرف اپنی آبادی کی بنیاد پر جھوٹے دعووں پر دنیا کوئی توجہ نہیں دیتی یا کہہ دینے سے کہ آپ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں جبکہ حالت یہ ہو کہ یہاں کوئی آپ کو آئینہ دکھانے کی کوشش کرے تو آپ اسے بدنام کریں اس کی تکذیب کریں اور اس کو ملک دشمن قرار دیں یعنی آپ کی حب الوطنی کا معیار آپ کے خیالات سے ہم آہنگ ہونا طے پایا ہے ۔بھلا ایسی صورت میں ملک کی ترقی کیوں کر ممکن ہے ؟سارے آزاد ماہر معاشیات کا کہنا ہے کہ پردھان سیوک کے احمقانہ فیصلوں سے ملکی معیشت کو جو چوٹ پہنچی ہے اس کی تلافی اگلی کئی دہائیوں تک میں ممکن نہیں ہے ۔ لیکن حکومت اور ان کے بھکت اس بات کو ماننے کو راضی ہی نہیں ۔اس پر مرے پر سو درے کے مصداق یوگی جیسے لوگوں کی حکومت میں مزید بیروزگاری میں اضافہ ملکی معیشت کی کمر توڑنے کیلئے ہی کافی ہے ۔وعدہ تو دو کروڑ روزگار پیدا کرنے کا تھا لیکن اناڑی پن اور وعدوں کے پورا کرنے کی جوابدہی سے بچنے کیلئے ایسی پالیسی اپنائی جارہی ہے جس سے وہ دوکروڑ تو روزگار کیا ملے گا مزید کروڑوں لوگوں کے بے روزگار ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے ۔چھوٹے تاجر وں کا دھندا ختم ہو رہا ہے ۔ جو اس ملک میں روزگار مہیا کرانے اور معیشت کو مہمیز دینے میں سب سے زیادہ حصہ دار ہیں ۔ایم اعداد شمار کے مطابق یہ لوگ ملک میں روزگار مہیا کرانے نوے فیصدی سے زائد کے شراکت دار ہیں۔اسی طرح جی ڈی پی میں وہ سب سے آگے ہیں ۔
مودی حکومت ہی ملک کیلئے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھی کہ اس نے ایک اور خوفناک فیصلہ لے لیا کہ اتر پردیش میں یوگی کو سربراہ بنادیا ۔اس طرح کے فیصلوں اور ان کے کام کرنے کے طریقوں سے ملک میں چھوٹے روزگار ختم ہوتے جائیں گے ۔بے روزگاری میں اضافہ ہوتا جائے گا ۔کسانوں کی خود کشی کے تناسب میں اضافہ ہونا بھی طے ہے ۔اس سے افراتفری اور بے چینی میں اضافہ ہوگا ۔جب لوگوں کے پاس روزگار نہیں ہوں گے اور ان کے پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے انہیں اناج مہیا نہیں ہوگا تو اس کیلئے لوٹ مار میں اضافہ ہوگا ۔ایک اور بات جو قابل غور ہے کہ بی جے پی جس طرح اپنے پیر پسا رہی ہے اور بیشتر ریاستوں میں اس کی حکومت بنتی جارہی ہے اور اس کیلئے اس نے جس طرح کھلے عام منافرت کو فروغ دینا شروع کیا ہے اس سے شروع میں جہاں اقلیتوں کے تئیں منافرت میں اضافہ ہو گا اور یہ خانہ جنگی کی جانب ملک کو دھکیل دے گا وہیں علاقائی اور لسانی دوریوں میں بھی اضافہ ہوگا ۔یہ سب کچھ اسی طرح چلتا رہا تو اس سے آگے ریاستوں کی علیحدگی کی بات بھی آسکتی ہے ۔حالانکہ بی جے پی نے ابھی تک غیر بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں راست مداخلت سے پرہیز کیا ہے ۔یہ کام کانگریس نے اپنے دور حکومت میں خوب کیا ریاستی حکومتوں کو برخواست کرنے کا کام اس کے دور حکومت میں ہوا ۔کشمیر میں بھی کسی حکومت کو کانگریس نے مستحکم نہیں ہونے دیا ۔ لیکن بی جے پی دوسرے راستوں سے ریاستوں میں مداخلت کررہی ہے ۔اس میں ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جن ریاستوں میں اسے عوامی مینڈیٹ نہیں ملا وہاں بھی اس نے سازش کرکے حکومت بنالی یہ بھی اسی کا ایک حصہ ہے ۔ابھی تک تو وطن عزیز کی ریاستی یکجہتی کو پاکستان اور مسلمانوں کو ایک مشترکہ دشمن کے طور پر پیش کرکے قائم رکھا گیا ہے۔یہ کام کانگریس بھی کرتی رہی ہے اور اب بی جے پی بھی انہی راہوں کی مسافر ہے ۔ حالانکہ نہ تو مسلمان اس ملک کے دشمن ہیں اور نا ہی ہندوستان جیسے بڑے ملک کیلئے پاکستان کوئی چیلنج کی صورت رکھتا ہے ۔ جبکہ چین کو نظر انداز کردیا گیا جو کہ ملک کیلئے حقیقی خطرہ ہے۔چین کا خطرہ ثابت شدہ بھی ہے اور آئے دن اس کی در اندازی اس کے عزائم کو سمجھانے کیلئے کافی ہے ۔جبکہ پاکستان کی ہندوستان میں در اندازی یا پراکسی وار محض اسے پریشان کرنے یا الجھانے کے سوا کچھ نہیں لیکن چین کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہے وہ ہندوستان کو الجھانے یا پریشان کرنے کیلئے در اندازی نہیں کرتا بلکہ وہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ جب چاہے اپنی مطلوبہ ریاست ہندوستان سے چھین لے گا ۔اس کے باوجود ہمارے ارباب اقتدار نے مسلم دشمنی میں کبھی اس جانب توجہ نہیں کی ان کے سامنے ہمیشہ پاکستان ہی رہا ۔اگر چین کو سامنے رکھ کر ہندوستان نے دفاعی اور معاشی میدان میں کوشش کی ہوتی تو آج چین کی جرات نہ ہوتی کہ وہ ہمیں آنکھیں دکھائے اور ہماری اوقات بتائے۔دیکھنا یہ ہے کہ اکثریت کو متحد رکھنے کے مقصد سے مسلمانوں اور پاکستان کے ساتھ دشمن نمبر ون کی صورت کب تک برقرار رکھی جاتی ہے ؟

عوامی رائے کا قتل!

جلال الدین اسلم، نئی دہلی
موبائل نمبر: 09868360472

جمہوریت اظہار رائے کی آزادی کا نام ہے۔ پوری دنیا میں جو انتہائی پسندیدہ نظام ہے اسے رائے کی آزادی کے حوالے سے جمہوریت ہی کہا جاتا ہے۔ جمہوریت سے محروم ملک ہر میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارا ملک اس نعمت سے مالا مال ہے۔ 1947 سے اب تک جمہوری حکومتیں قائم ہوتی رہی ہیں، ہمارا آئین او رہماری عدلیہ سیکولر بنیادوں پر قائم ہیں۔ ہر الیکشن کے بعد کامیاب ہونے والے افراد ہوں یا سیاسی جماعتیں، سبھی اپنے سیکولر آئین پر حلف لیتی ہیں۔ ہمارے آئین نے جن بنیادی حقوق کی ضمانت دی ہے ان میں اظہار خیال کی آزادی کے حق میں یا اس کے حق کو بلاخوف تردید غیر معمولی اہمیت کا حامل اور فرد و ریاست کے باہمی تعلقات کی میزان قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کی بھی کچھ حدیں ہیں، کچھ بندشیں ہیں جنہیں کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ جس آئین میں آزادی اظہار رائے اور تحریر و تقریر کی آزادی دی گئی ہے اسی میں ریاست کی سلامتی، امن عامہ و اخلاقیات، توہین عدالت جیسے عنوانات کے تحت اس کے گرد ایک ایسا حصار بھی قائم کردیا گیا ہے جس کے احترام کی صورت میں ہی یہ آزادی عملاً بامعنیٰ بن سکتی ہے اور ریاست کے ساتھ ٹکرائو سے بھی بچا جاسکتا ہے۔ معاملہ اگر مذہبی عقائد کا، مذہبی شخصیتوں اور مذہبی روایات کا ہو تو یہ بات اور بھی ضروری ہوجاتی ہے کہ احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پا ئے۔ صحت مند تنقید اور اشتعال انگیز تنقیص کے فرق کو نظر انداز نہ کیا جائے اور زبان و بیان دونوں ہی کے معاملے میں اس بات کا خاص طور پر خیال رکھا جائے کہ شہریوں کے کسی بھی گروہ، فرقے یا طبقے کے جذبات و احساسات مجروح نہ ہوں۔ یہی ہونا چاہیے مگر افسوس کہ کچھ لوگ جان بوجھ کر زبان و قلم کے ذریعے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی رِدا کو تار تار کردینے اور فضا کو نفرت کے انگاروں سے بھر دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں اس سے کوئی  غرض نہیں کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں، کر رہے ہیں ملک و سماج پر، لوگوں کی سوچ پر اس کے کتنے مضر اور منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
اسی طرح انتخابات کے موقعوں پر جو لوگ اظہار رائے کا احترم نہیں کرتے وہ گھاٹے کا سودا کرتے ہیں کیونکہ حقوق پر ڈاکے کی بدترین شکل بھی ہے کہ لوگوں کی زباں بندی کردی جائے یا ان کی رائے کو پس پشت ڈال دیا جائے۔ مصنوعی طریقوں اور جعل سازی کے بل پر حاصل کیا گیا اقتدار ریت کی بودی دیوار کی مانند ہوتا ہے جو ہوا کا ایک تیز جھونکا بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ جیسا کہ ماضی میں ملک کے عوام نے اندرا گاندھی کے دور حکومت میں دیکھا تھا کہ انتخابی دھاندلی کے نتیجے میں انہیں ایک دن کی جیل یاترا بھی کرنی پڑی تھی۔ ہمارے سیکولر ملک کی اور سیکولر آئین کی یہ زریں مثال ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے سیاست دانوں کو تاریخ سے سبق لینے کی توفیق کم ہی ہوتی ہے۔
پچھلے انتخابات کی طرح ہی اس بار بھی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی ناقابل یقین کامیابی پر تمام سیکولر پارٹیاں شکوک و شبہات کا اظہار بھی کر رہی ہیں او راس کے خلاف عدالتی چارہ جوئی بھی کر رہی ہیں اور عدالت عظمیٰ نے ان کی درخواست پر الیکشن کمیشن کو نوٹس بھی دے دیا ہے۔ کتنی حقیقت کتنا فسانہ ہے یہ آنے والے وقتوں میں ظاہر ہوجائے گا۔ ہاں اگر ہاری ہوئی پارٹیوں کے دعوے میں سچائی ثابت ہوگئی تو یہ ملک کے آئین اور سیکولرزم کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہوگی۔ اس لیے بھی کہ اس وقت جو لوگ ملک کے اقتدار پر قابض ہیں وہ سیکولرزم کے برعکس اپنا مخصوص نظریہ رکھتے ہیں جو کسی بھی حال میں اقتدار سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ایسے حالات میں سیکولر آئین اور عوام کی حق را ئے دہی دونوں کی روح مجروح ہوگی۔
آج ہمارے جو لوگ عوام کی رائے کا جائزہ لینے کے لیے الیکشن کا کھیل کھیلتے ہیں وہ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ایسے انتخابات جن میں جعلی ووٹنگ، دھاندلی اور جبر سے نتائج کی تبدیلی کے ذریعے عوام کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کیا جاتا ہے کیا ان کا یہ عمل کسی سیکولر ملک کے لیے مفید ہے؟
کروڑوں روپوں کا خرچ، قوم کا وقت، صلاحیتیں اور سرمایہ ضائع کرکے اگر اپنی مرضی کے مطابق ہی نتائج حاصل کرنا مقصود ہے تو پھر انتخابی ڈرامہ رچانے کی ایسی کیا مصیبت پڑتی ہے اور قوم کی مایوسیوں میں مزید اضافہ کی ضرورت کیا ہے؟ برسوں سے عوام بھی تماشہ دیکھتے چلے آرہے ہیں۔ ان کے بھاری مینڈیٹ کو پیروں تلے روندا جاتا رہا ہے اور اقتدار پر قبضہ کے لیے نت نئے حربے استعمال ہوتے رہتے ہیں اور ایسے غاصبانہ حکومتوں کے دور میں عوام مصائب و مشکلات کے پہاڑ تلے دبتے رہے ہیں۔ عوام کو طرح طرح کے مسائل اور دال روٹی کے چکر میں تو کبھی مندر/ مسجد کے قضیے میں بری طرح الجھا دیا گیا۔ حالات اتنے سنگین ہوتے گئے کہ عوام کی قوت مدافعت کمزور سے کمزور ہوتی گئی۔
اس طرح ہر الیکشن اب عوام کے لیے راحت کے بجائے عذاب بنتا جارہا ہے۔ اکثر خبریں سننے میں آتی رہی ہیں کہ فلاں حلقے میں دھونس، دھمکی اور اسلحہ کی بنیاد پر عوام سے ووٹ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس طرح عوام کو بے بس کردیا جاتا ہے کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں کو اپنا ووٹ دینے پر مجبو رہوجاتے ہیں۔ ای وی ایم مشینو ںسے چھیڑ چھاڑ کی شکایت بھی اسی زمرے میں آتی ہے۔
الیکشن کے موقع پر ہمارے میڈیا کی بھاری ذمہ داری ہو تی ہے کہ وہ حقائق کو سامنے پیش کرتا رہے لیکن یہ بھی بعض حالات میں اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرپاتا۔ کہیں لالچ تو کہیں دھمکی کے سامنے یہ بھی خود کو بے بس پاتا ہے جس کی وجہ سے سیاست دانوں کے پیدا کردہ اس مصنوعی کھیل کے اصل حقائق کو یہ پیش کرنے سے بھی معذور ہیں۔ یوں تو سوشل میڈیا وغیرہ اب اتنے آگے ہیں کہ کوئی بھی چیز اس دور میں چھپ نہیں سکتی لیکن بہت سی وجوہات ایسی ہیں جن کی وجہ سے ان لوگوں کو دن کو بھی رات ہی کہنا پڑتا ہے۔ اس طرح ہمارا میڈیا بھی سیاست دانوں کی طرح ہر الیکشن کو ’صاف و شفاف‘ کہنے پر مجبور ہے۔
غور کرنے کی بات تو یہ ہے کہ یہ تمام عمل سیکولرزم کے نام پر ہو رہے ہیں، جہاں عوامی رائے کا قتل سرے عام، جہاں پریذائڈنگ افسر رائے دہندگان کی انتخابی پرچی چھین کر خود حق رائے دہی انجام دیتا ہے اور جب کوئی اس طرح کی حرکت کرتے پکڑا جاتا ہے تو ذمہ داران اپنی آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ یوں تو الیکشن کمیشن کا بھرپور عملہ بھی ہوتا ہے لیکن وہ بھی سیاست دانوں کی طرح ہی یہ کہنے پر مجبور ہوتا ہے کہ الیکشن صاف و ستھرا اور شفاش ہوئے ہیں۔ مگر وہ کہاں ہیں الیکشن کمیشن جو دیگ کا ایک دانہ دیکھ کر بتا دیتا ہے کہ دیگ کچی ہے یا پکی؟
موجودہ حالات ملک کے سیکولر کردار کے لیے انتہائی سنگین ہیں۔ اگر اس صور تحال پر قابو نہیں پایا گیا تو عین ممکن ہے لوگوں کا ہمارے الیکشنی عمل سے بھروسہ ہی ختم ہوجائے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ ملک کے لیے قوم کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ خاص طور سے ملک کی اقلیتوں کے لیے جان لیوا مسائل جنم لینے لگیں گے۔ ہندوستان میں ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمان ہیں۔ انہیں شکایت ہے کہ ان کے دکھوں کے مداوا اور حالات کو بہتر بنانے کے لیے معقول و مناسب قدم اٹھانے کے وعدے کو انتہائی فراخ دلی کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔ خاص کر انتخابات کے موسم میں۔ لیکن رات گئی بات گئی کے مصداق چنائو کے بعد سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے۔ وعدوں کی کشت زاویے حسی کی آگ برساتی ہوائوں میں جھلس کر رہ جاتی ہے تو امیدوں، آرزوئوں اور تمنائوں کی نرم رو آب جو وعدہ فراموشی، طوطا چشمی اور بے ضمیری کے ریگ زاروں میں سر پٹک پٹک کر دم توڑ دیتی ہے۔
انتخابات ہی ملک کے غریبوں، مظلوموں اور اقلیتو ںکے دکھوں کا مداوا ہیں بشرطیکہ ان کے حق رائے دہی کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ ناانصافی حق تلفی کے نتیجے میں ہی آج انتخابی نتائج شکوک و شبہات کو جنم دے رہے ہیں اور جو ملک کے سیکولر آئین و قانون کے لیے بھی اور جمہوری قدروں کے مستقبل کے تئیں بھی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جو لوگ یا جو سیاسی پارٹیاں سیکولر ہونے کا دم بھرتی ہیں وہ خود کو اور ملک کے سیکولر کردار کو بچانے کے لیے صدق دل سے کوئی مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت بر نہیں آتی۔

مشاورت ،اجتماعیت،مشارکت



دوٹوک..................................قاسم سید

اترپردیش میں بی جے پی کابرسراقتدار آنا اوریوگی آدتیہ ناتھ کا وزیراعلیٰ بننا سیاسی عمل کا روایتی حصہ ہے اس کے مستقبل کی قومی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے اور پوت کے پائوں پالنے میں نظرآنے لگے ہیں۔ اب بی جے پی کے پاس قانونی وآئینی اختیارات والے دو یوگی ہوگئے۔ ایک کے ہاتھ میں پورے ملک کی قیادت ہے تو دوسرا ملک کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ ممبرپارلیمنٹ دینے والی ریاست کی باگ ڈور سنبھال رہا ہے ۔ دونوں کرم یوگی ہیں اور زمین سے جڑے لیڈر ہیں ۔ سخت تپسیا اور زبردست جدوجہد کے بعد یہاں تک پہنچے ہیں۔ دونوں سخت گیرہندوتو کے علمبردار ہیں ۔ آر ایس ایس کے تربیت یافتہ ہیں جس کا قیام 1925 میں ہوا جب ملک جنگ آزادی کی لڑائی میں مصروف تھا۔ آر ایس ایس نےاپنے نظریات وفلسفہ کو چھپاکر نہیں رکھا ۔ اس پر شرمندگی یا تاسف کااظہار نہیں کیا بلکہ خاموشی کے ساتھ سماجی زندگی کے ہر شعبہ میں سرگرمیاںانجام دیتا رہاہے اور آج لاکھوں رضا کار وں پر مشتمل فوج پوری توانائی کے ساتھ ہندوستانی سیاست کی شہ رگ پر قابض ہے اورکوئی بھی پتہ اس کی اجازت کے بغیر نہیں ہلتا۔وزرائے اعلیٰ اور کابینہ کے انتخاب میں اس کا مکمل عمل دخل ہے حتیٰ کہ سرکار کے ساتھ تال میل کے لیے رابطہ کمیٹی ہے۔ اس نے یہ مقام گھر بیٹھے حاصل نہیںکیابلاشبہ اس کے کارکنوں اور رضاکاروں نے بے پناہ قربانیاں دیں۔ شادیاںنہیں کیں،مجردرہنا گوار کیا اور تن من دھن سے نظریاتی آبیاری میں لگے اور 1925میں لگایاپوداتناور درخت میں تبدیل ہوگیا اور وہ منزل وہ ہدف جو کبھی دیوانے کا خواب لگتا تھا آج حقیقت بنتا نظر آرہا ہے۔ یعنی ہندو راشٹر کا قیام یا کم از کم ہندوتو کے مطابق ملک کی سیاست کو چلانے کی باتیں اب گالیاں نہیں سمجھی جاتیں اور نہ ہی کسی میں گلا پکڑنے کی ہمت ہے بلکہ جو پارٹیاں خود کو سیکولر کہلاتی ہیں وہ بھی’ سجدہ ‘سہو کرنے کے لیے تیارہیںاور اقلیت نوازسیاست کو خیرباد کہنے میں ہی عافیت سمجھ رہی ہیں جیساکہ کانگریس کی صفوں سے رہ رہ کر ایسی آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔ اگرآنے والے وقت میں اقلیتوں کے لیے نشستیں مخصوص کردی جائیں ،ان کے انتخاب میں حصہ لینے اور ووٹنگ پر پابندی لگادی جائے تو کسی کو تعجب نہیں ہوگا کیونکہ آرایس ایس کے نظریہ سازوں کے احکامات وفرامین یہی ہیں ملک کی سیاست جس طرح کروٹیں بدل رہی ہے اور ہم نان وقلیہ کی حدوں سے باہر آنے پرآمادہ نہیں ہیں اس میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔ میٹ کاروبار کے خلاف اچانک جس طرح کے اندیشوں نے جکڑلیا ہے کیا اتنی سختی اور مستعدی کے بارے میں تصور بھی تھا ۔ گئورکشکوں کے ہاتھوں سرعام جس شقاوت قلبی اور درندگی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے کیا ایسے واقعات اب عام نہیں ہوتے جارہے ہیں ۔ وزیراعظم کی سخت تنبیہ اور گئورکشکوں کی اکثریت کو سماج دشمن غنڈوں سے تشبیہ دینے اور ان پرکارروائی کی ہدایت کے باوجود ریاستی حکومتوں نے تحفظ فراہم کیا اور ان کی قانون شکن حرکتوں کا دفاع کیاجارہاہے ۔ کچھ عرصہ قبل ایسا سوچا جاسکتا تھا۔ اخلاق کے بہیمانہ قتل پر سول سوسائٹی ہی نہیں اپوزیشن نے بھی سخت احتجاج کیا اب پہلوخان کے گائے کے نام پر سرعام بے رحمانہ قتل پر اتنی آوازیں اٹھیں شاید نہیں! یہ بے حسی نہیں احتیاط ہے یہ صبروتحمل نہیں مصلحت پسندی ہے۔ یہ بزدلی نہیں حالات سے سمجھوتہ ہے۔ سیکولر کہی جانے والی پارٹیوں نے پہلے ہی ہتھیار ڈال دیے ہیں ان میںکئی پارٹیاں یہ مان چکی ہیں کہ عوام مودی سرکار کو ایک اور موقع دیں گے اس لیے زیادہ ہاتھ پیر چلانے کی ضرورت نہیں۔
2025میں آر ایس ایس اپنے قیام کا سوسالہ جشن منائے گا اس کا ہدف ہندو راشٹر کی تعمیر ہے اگر 2019 میں مرکز اور 2022میں اترپردیش پر اس کاقبضہ برقرار رہتا ہے تو 2025تک یہ اعلان شدہ ہندوتو راشٹر بن جائے گا غیر اعلان شدہ تو کانگریس کے دوراقتدار سے ہی ہے اور اب سب کچھ ہاتھ میں ہے یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے دوردرشن کے دیے گئےحالیہ انٹرویو میں بے باکی سے کہا ہے کہ وہ یہ بات صفائی سے کہناچاہتے ہیں کہ ہندو تو راشٹر کا تصور غلط نہیںہے اور ہندوتو اس کا راستہ ہے جس کی وکالت سپریم کورٹ نے کی ہے ۔  شاید ہی کسی آئینی عہدہ پر بیٹھے شخص نے اتنی جرأت کے ساتھ ہندوراشٹر کے خواب کاتذکرہ کیاہو اور سیکولر ملک نے اس کا کوئی نوٹس نہیںلیا ۔ اس سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ غیر قانونی ذبیحہ خانوں پر تالہ بندی اوراینٹی رومیواسکواڈ کے قیام کو
اولین ترجیحات میں کیوں شامل کیاگیا۔ کیوں میڈیا کا رویہ اورطریقہ بدل گیا۔ کیوں یوگی کو آسمانی مخلوق قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے کیوں ایسے اقدامات جن پر الٰہ آباد ہائی کورٹ میں سوال اٹھتارہا ہے سماجی منظوری کا درجہ حاصل کررہے ہیں کیوں گائے کے تقدس اور سنسکرتی کے تحفظ کو انقلابی اقدامات کہہ کر سندقبولیت عطا کی جارہی ہے اسکولوں میں یوگ کی تعلیم کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ واہ واہی لوٹ رہا ہے ۔ دراصل ہندوگوروکے لبادہ میں ہر وہ قدم دادوتحسین کے ساتھ قبول کیاجائے گا جس کو مہذب سماج عام صور ت میں قبول نہیں کرسکتا ۔ دراصل سیکولر پارٹیوں کا رویہ شروع سے ہی منافقانہ وعیارانہ تھا البتہ سول سوسائٹی دل سے سیکولر اقدار کے لیے قربانیاں دیتی رہی ہے اور یہی سول سوسائٹی ہے جو اکثریتی فاشزم سے لوہا لے رہی ہے اور حکومت کے خاص نشانہ پر ہے۔ یوگی کاہندو راشٹر سے متعلق بیان ان کے عزائم ارادوں اور طریقہ کار کو سمجھنے میں معاون ہے اور ان کے حالیہ اقدامات کی توجیہہ تلاش کرنے میں مدد کرنے والا ہے ۔ ہمیں نہیںپتہ کہ سیکولر پارٹیاں سول سوسائٹی اور مسلم قیادت اسے کس زاویہ سے دیکھناچاہے گی۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی یہ سمجھنے کے لیے تیار ہیں کہ آنے والا وقت خطروں اور چیلنجوں سے بھرا ہے اگر ایسانہیں ہے تو پھر کوئی مسئلہ نہیںہے۔راوی عیش لکھے گا ۔ اگر ہمیں لگتا ہے کہ حالات لگاتار غیر موافق ہوتے جارہے ہیں اور راہیں دشوار تو پھر اس پر غور کرناپڑے گا کہ کرناکیا چاہئے۔
جہاں تک مسلم قیادت کا تعلق ہے اس پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے پہلے جب بھی کوئی آزمائشی لمحہ آتا تو سارے زعماایک ساتھ بیٹھ کر سرجوڑ کر اس کا حل نکال لیتے تھے۔ کوئی کسی کے گھر جانے میں تکلف نہیں برتتاتھا اور نہ ہی ذاتی تحفظات کی دیوار یں اتنی اونچی تھیں کہ آواز بھی سنائی نہ دے ۔ قدم قدم پر مسلمانوں کو حوصلہ دیتے ہمت بندھاتے ضرورت ہوتی تو ملک گیر دورے کرتے اور اتحاد کا احساس کرانے بدقسمتی سے رشتوں میں خیرسگالی اور مواخاۃ کا تصور کمزور ہوتا گیا ہے اور اب حالت یہ ہے کہ سب اپنے خول میں بند ہوگئے۔ اپنی مسجد اپنی اذاں نے اجتماعیت  کے تصور کو زخمی کردیا،حیرت ہوتی ہے کہ قرآن وحدیث کا سوتے جاگتے ورد کرنے والے بھی اسلام کے تصور اجتماعیت کوکتابوں سے باہر نہیں آنے دیتے ۔ بہرحال باہمی مشاورت سے بہتر اورکوئی راستہ نہیں ہے ۔ جماعتی دائروں اور ذاتی تحفظات سے بالاتر ہوکر ایک جگہ مل بیٹھنے میں ہی فلاح ہے۔ اشتراک عمل کی گنجائش نکالی جائیں اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ،مشترکہ لائحہ عمل بنایاجائے ۔ مسلم مجلس مشاورت اور مسلم پرسنل لا بورڈ جیسے اجتماعی اداروں کی ذمہ داری زیادہ ہے ۔ ہمیں ان پر اعتماد کرناہوگا۔ مسلم قیادت اور عام مسلمان میں عدم اعتماد کی خلیج بڑھتی جارہی ہے کیونکہ دونوں میں باہم کوئی رابطہ نہیں ۔ وہیں سرکار وںکے ساتھ اپنے رویہ پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے فائدے اور نقصانات کی وضاحت کی جائے ۔ کیامودی سرکار کی طرح یوگی سرکار سے بھی ڈائیلاگ کا دروازہ بند رہے گا ۔ ان کے دعوت دینے کا انتظار کیا جائے گا کیونکہ یہ موقف کلی طور پر ناقابل فہم ہے کہ آپ اپنے ملک کی سرکاروں سے رابطوں کی تمام زنجیروں کو کاٹ دیں اور اجنبی کی طرح ملک میں رہنے پر مجبور کئے جائیں۔ موجودہ حالات میں اشتراک عمل اور مسائل پر سرکار وں سے ڈائیلاگ کے علاوہ او رکوئی راہ عمل ہو تو براہ کرم اس سے آگاہ کیاجائے ۔ عنداللہ ماجور ہوںگے ۔