یکساں سول کوڈ عدلیہ کے دائرہ سے باہر قسط اول

جلال الدین اسلم، نئی دہلی
موبائل نمبر: 09868360472 
اس وقت ملک عزیز کی اقلیتیں بالخصوص مسلمان جس سنگین اور نہ گفتہ بہ صورتِ حال سے دوچار ہیں وہ اس ملک کے ہر دردمند اور باشعور شہری کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ خصوصاً انصاف پسند، بنیادی اور انسانی حقوق کے علمبرداروں اور مثبت سوچ رکھنے والے جمہوری اقدار کے پاسدار عناصر کے لیے موجودہ صورت حال ایک زبردست چیلنج ہے، جو صرف یہاں کی اقلیتوں ہی کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک اور سماج کے لیے تباہ کن ہے۔ مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو پر جس طرح منظم حملے ہو رہے ہیں اور ان کے عقائد و اقدار پر ضرب لگائی جارہی ہے، کاروباری طور پر جس طرح تباہ کیا جارہا ہے اور جس منصوبہ بند انداز میں ان کا نسلی صفایا کیا جارہا ہے اس سے مسلم زعما، دانشوروں، علما اور مدبروں کا فکرمند اور بے چین ہونا ایک فطری امر ہے۔ حالیہ دنوں گائے کے حوالے سے جو ہوا اور اب بھی کسی نہ کسی مشکل میں ہو ہی رہا ہے وہ نہ صرف ہمارے سیکولر اور جمہوری ملک کے ماتھے پر بدنما داغ ہے بلکہ پوری نوع انسانی کے لیے شرمناک ہے۔ 
یہ سیاست کا انتہائی گھناؤنا کھیل ہے جس کو دھرم اور سنسکرتی کے نام پر کھیلا جارہا ہے اور اس وقت تک کھیلا جاتا رہے گا جب تک ہندو راشٹر کا خواب پورا نہیں ہوجاتا۔ کچھ ہندوتوا عناصر کے خیال میں تو موجودہ مودی حکومت غیر اعلانیہ ہندوراشٹر ہے اور جب تک ہندوراشٹر کا باضابطہ اعلان نہیں ہوجاتا اس وقت تک ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے، اس کے لیے چاہے ہمیں کچھ بھی کرنا پڑے۔ 
ملک کی فرقہ وارانہ فضا کو ایک بار پھر شراروں سے بھر دینے کی پوری پوری کوششیں جاری ہیں۔ 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کو بھاری اکثریت حاصل ہوجانے کے بعد ملک کی فاشسٹ قوتیں پورے ملک کو یرغمال بنالینے میں پیش پیش ہیں۔ ریڈیو، ٹی وی اور اخبارات میں جن حساس موضوعات پر بحث جاری ہے، ان میں مسلمان کا پرسنل لا خصوصاً ہندوتوا کے نشانے پر ہے جسے وہ اپنے عزائم و منصوبوں کو روبہ عمل لانے میں روڑا سمجھ رہے ہیں۔ مباحثے کے دوران بعض تو اسے متوازی قانون قرار دے رہے ہیں، جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارا قومی میڈیا کتنا اور کس حد تک غیر جانبدار ہے۔ مسلم خواتین سے ہمدردی، چار چار شادیاں اور تین طلاق پر واویلا آج نیا نہیں ہے اور نہ ہی یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا مطالبہ ہی کوئی نیا ہے۔ یہ معاملہ تو ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔ عدالت نے مفاد عامہ کی تین عذر داریوں کی یکجا سماعت کے بعد جو فیصلہ یکم مارچ 1997 کو سنایا تھا اسے ہم ہفت روزہ ’’بادبان‘‘ کے شکریہ کے ساتھ ہدیۂ قارئین کر رہے ہیں۔ یہ فیصلہ یکساں سول کوڈ کے نام پر آئے دن شور و ہنگامہ کرنے والوں کے لیے درس عبرت بھی ہے اور درس عمل بھی۔ 
مسلم پرسنل لا کے بارے میں ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ نے یکم مارچ کو ایک ایسا فیصلہ سنایا ہے جو حقیقت پسندی کی میزان پر بھی پورا اترتا ہے اور آئین کی روح سے پوری طرح ہم آہنگ بھی ہے۔ چیف جسٹس مسٹر اے ایم احمدی، محترمہ جسٹس سجاتادی منوہر اور مسٹر جسٹس کے وینکٹ سوامی پر مشتمل ایک تین رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں بہت ہی دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ پرسنل لا کا تعلق ’’ریاست کی پالیسی سے ہے اور عدالت کو عام طور پر اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہونی چاہئے۔‘‘ فاضل بنچ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ ’’کئی دیگر مواقع پر بھی جب پرسنل لا سے متعلق مسائل اس عدالت کے سامنے لائے گئے تو کورٹ کا فیصلہ یہی رہا کہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بجائے ان کا حل کہیں اور تلاش کیا جانا چاہیے۔ 
فاضل بنچ نے یہ تاریخ ساز فیصلہ مفاد عامہ کی تین عذر داریوں کی یکجائی سماعت کے بعد سنایا ہے جن میں مسلم ہندو اور کرسچین خواتین کے ساتھ مختلف قوانین کے ذریعہ برتے جانے والے امتیاز کو ختم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ 
مسلم خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمہ سے متعلق عذرداری احمد آباد ویمن ایکشن گروپ (AWAG) کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔ اس میں عدالت سے درج ذیل ریلیف چاہی گئی تھی: 
* مسلم پرسنل لا کو جو کہ ایک سے زائد شادی کی اجازت دیتا ہے، غیر قانونی قرار دے دیا جائے کیونکہ یہ آئین کی دفعہ 14 اور 15 سے متصادم ہے۔ 
* مسلم پرسنل لا کو جو کہ مسلم شوہر کو اپنی بیوی کی اجازت اور عدالتی کارروائی کے بغیر یکطرفہ طور پر طلاق کی اجازت دیتا ہے، غیر قانونی قرار دیا جائے کیونکہ اس سے آئین کی دفعہ 13، 14 اور 15 پر ضرب پڑتی ہے۔ 
* اعلان کیا جائے کہ کسی مسلم شوہر کے ذریعہ ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کا عمل اپنے آپ میں انفساخ نکاح قانون 1939 کے کلاز 8 (ایف) یا سیکشن 2 میں بیان کردہ ظالمانہ سلوک کے ذیل میں آتا ہے۔ 
* مسلم خواتین (تحفظ حقوق بعد از طلاق) قانون 1986 کو غیر قانونی قرار دیا جائے کیونکہ یہ آئین کی دفعہ 14 اور 15 کو پامال کرتا ہے۔ علاوہ ازیں شیعہ اور سنی قوانین وراثت کو بھی جو کہ یکساں حیثیت والے مردوں اور عورتوں کے درمیان ترکہ کے معاملے میں امتیاز برتتے ہیں، غیر قانونی آئین دیا جائے کیونکہ ان میں عورتوں کے ساتھ محض جنس کی بنیاد امتیاز برتا گیا ہے۔ 
دوسری عذر داری لوک سیوک سنگھ وغیرہ کی طرف سے دائر کی گئی تھی جس میں ہندو سیکشن ایکٹ 1956 کے سیکشن (II) 5 (2) اور 6 III نیز سیکشن 30 کی وضاحت کو غیر قانونی قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا کیونکہ اس سے آئین کی دفعہ 13، 14 اور 15 پر ضرب پڑتی ہے۔ علاوہ ازیں ہندو میرج ایکٹ 1955 کے سیکشن 2 کو بھی اس بنیاد پر غیر قانونی قرار دینے کی درخواست کی گئی تھی کہ یہ آئین کی دفعہ 14 اور 15 کو پامال کرتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس عذر داری میں ہندو مائنارٹی اینڈ گارجین شپ ایکٹ کے سیکشن 6 (2) 3 اور 9 کے تعلق سے بھی عدالت عظمیٰ سے درخواست کی گئی تھی کہ اسے آئین کے مغائر قرار دیا جائے۔ 
تیسری عذرداری ینگ وومن کرسچین ایسوسی ایشن کی طرف سے داخل کی گئی تھی اس میں انڈین ڈرائیورس ایکٹ (قانون طلاق) کی دفعہ 10 اور 34 اور انڈین سیکشن ایکٹ کی دفعہ 43، 44، 45 اور 46 کو آئین کے مغائر قرار دینے کی درخواست کی گئی تھی۔ 
عدالت عظمیٰ کی تین رکنی فاضل بنچ نے ان تینوں عذر داریوں کی یکجائی سماعت کے بعد جو فیصلہ سنایا ہے اس کا سب سے اہم اور بنیادی نکتہ یہی ہے کہ پرسنل لا خواہ اس کا تعلق کسی بھی فرقے سے کیوں نہ ہو، عدالت کے بجائے قانون ساز ادارے یعنی پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ پرسنل لا سے جڑے بنیادی سوالات سے عدلیہ کو کوئی سروکار نہیں رکھنا چاہیے۔ اس بنیادی اصول کو ہی سامنے رکھتے ہوئے فاضل بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ان تینوں عذرداریوں کے حوالے سے جو دلائل پیش کیے گئے انہیں سننے کے بعد ہمیں اس بات پر کلی اطمینان ہوگیا کہ متعلقہ ایشوز سے ہماری اپنی رائے میں مقننہ کو ہی نمٹنا چاہیے۔ 

روس کے لئےایک انتباہ ! شام یوکرین یا کریمیا نہیں ہے

عمر فراہی
کیا شام مشرق وسطی کا افغانستان بنےگا... سرد جنگ کا دوسرا چہرہ .....جزیرۃ العرب کی غیر یقینی صورتحال ..... کیا ملا محمد عمراورابوبکر البغدادی امریکی انٹلیجنس کے رابطے میں ہیں .... کیا السیسی روس اور اسرائیل کا ایجنٹ ہے-
مذکورہ بالا تمام مضامین میں ہم عرب انقلاب کی کامیابی اور ناکامی کے بعد سے ہی مسلسل یہ لکھتے آرہے ہیں کہ دنیا کا عالمی منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے- روس جو افغانستان میں سردجنگ کے ذریعے امریکہ سے شکست کھا چکا تھا حالیہ دنوں میں امریکہ کے کمزور پڑ جانے کے سبب ایک بار پھر اپنے کھوئے ہوئے وقار کو حاصل کرنے کی تیاری میں ہے- اس کے اس حوصلے کو اس وقت اور بھی تقویت حاصل ہوئی جب اس نے  یوکرین کے ایک صوبہ کریمیا  میں بغاوت پیدا کر کے اسے بزور قوت روس میں شامل کر لیا اور امریکہ سمیت یوروپ کے کسی ملک میں جرات نہیں ہوئی کہ وہ روس کو اس کی اس حرکت سے باز رکھ سکے - اسی طرح  شام میں بھی روس ایران اور حزب اللہ کے ساتھ مل کر وحشی بشارالاسد کی فوجی  مدد کرتا رہا ہے - مگر شروع کے دور میں جس طرح  ایران اور حزب اللہ بھی کھل کر سامنے نہیں آرہے تھے رفتہ رفتہ نہ صرف ان کا مکروہ چہرہ بھی سامنے آگیا-اب جس طرح  روس  بھی کھل کر شام کی جنگ میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرنے کیلئے  قدم رکھ چکا ہے یہ کہا جاسکتا ہے کہ روس اگر امریکہ کے خلاف افغانستان میں اپنی شکست خوردگی کے احساس کو بھلا نہیں سکا ہے تو ایران کو خود بھی صدام حسین کے خلاف  خلیج کی ہاری ہوئی جنگ منھ چڑھا رہی ہے اور وہ کسی بھی صورت یہ برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے کہ جزیرۃ العرب کے نوجوان ایک بار پھرسلطنت عثمانیہ کے خطوط پر نکل پڑیں اور یہ خطہ  ایک مضبوط اوروسیع اسلامی ریاست میں تبدیل ہو جاےُ اور ایرانی حکمراں جو خود بھی ایک زمانے سے عظیم تر ایران اور کسرویت کے جنون میں مبتلا ہیں ان کی بالا دستی کے تمام راستے بند ہو جائیں - 
روس اور ایران جتنی بھی تدبیر کر لیں اقبال کی یہ پیشنگوئی بہرحال پوری ہونے جارہی ہے کہ .....
نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا 
کہا ہے مجھ سے یہ قبطیوں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا 
اس بات کو صحرائے عرب کے نوجوان بھی سمجھ رہے ہیں اور انہوں نے خود بھی جنگی حکمت عملی کے تحت دیگر ملکوں اور اتحادیوں سے تعلقات رکھتے ہوئے بھی اپنے تعلقات کو مخفی رکھا ہے اورکون کس کے مفاد میں کس کی مدد کر رہا ہے اور کون کس کے ساتھ ہے اور کچھ ایسے خفیہ چہرے  جو ابھی بھی سامنے نہیں آئے ہیں ان کے بھی اپنے عزائم کیا ہیں-ان خفیہ چہروں میں اسرائیل اور مصر کا کردار ابھی تک مشتبہ اور مخفی ہے اور جیسا کہ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ اگرمصرکے صدر ڈاکٹرمرسی کے خلاف بغاوت اورالسیسی کو اقتدار تک پہنچانے میں اسرائیل کے ساتھ  امریکہ کا بھی کردار تھا تو پھر روایت کے مطابق ایک بار تو السیسی کو اسی طرح اوبامہ کا پیر چھونے کیلئے امریکہ جانا چاہیے تھا جیسے کہ شام میں روس کی بمباری کے فوراً بعد بشارالاسد ماسکو میں جاکر پوتین کو سجدہ کر آئے ہیں - اس کے برعکس مصرمیں بغاوت سے لیکرابھی تک السیسی کا دو بار روس کا دورہ کرنا کیا معنی رکھتا ہے... اور شام کے مسئلے میں جس طرح اس خطے کے تمام سنی ممالک اپنی بے چینی کا اظہار کر چکے ہیں روس ایران اور شام کے اس اتحاد پر السیسی کا خاموشی اختیار کیے رہنا یہ ثابت کرتا ہے کہ مصر کا یہ ڈکٹیٹر ایران روس اور اسرائیل کے اتحاد کا حصہ ہے اور بے چارے عرب کے شیخ جو بہادرشاہ ظفرکی طرح آرام سے تخت پر بیٹھ کر دونوں طرف سے لڈو کھانا چاہتے ہیں ان دونوں اتحادیوں کے درمیان بے موت مارے جائیں گے-انہیں کون سمجھائے کہ 
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید 
کہ آرہی ہے دمادم صداء کن فیکون 
  امریکہ بھی اب وہ پہلے جیسا امریکہ نہیں رہا اسے بھی مستقبل کے سپر پاور چین اور روس کو قابو میں کرنے کیلئے طالبان اور داعش کے مضبوط بازو چاہیے نہ کہ شیخوں کی عیاشی...! اوراسرائیل کوساتھ رکھ کر بھی اسے جو ترقی کرنا تھا وہ کر چکا اس لیے اب اسرائیل  کے ساتھ اس کے تعلقات بھی پہلے جیسے خوشگوارنہیں رہے - جس کی جھلک عرب بہار کے دوران اسی وقت نظر آگئی تھی  جب اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے اوبامہ سے کہا کہ وہ مصر کے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کو بچانے کیلئے کچھ کرے ورنہ اقتدار پراسلام پسند قوتیں غالب آجائیں گی مگر اوبامہ نے نتن یاہو کو یہ کہہ کر خاموش کر دیا کہ عرب کے عوام ایک جمہوری عمل کی طرف بڑھ رہے ہیں اور یہ اسرائیل کے بھی اپنے حق میں ہے- بظاہر ایران اور اسرائیل بھی ایک دوسرے کے شدید دشمن نظر آتے ہیں لیکن ان کا اپنا کردار یہ ہے کہ یہ دونوں ملک  اپنی نسلی عصبیت اور افضلیت کی انتہا کو پہنچنے کیلئے کبھی بھی ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملا سکتے ہیں .... کسی کے ساتھ ہو سکتے ہیں اور کسی کے دوست نہیں ہو سکتے - جہاں تک روس اور اسرائیل کے تعلقات کی بات ہے اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے سی این این کے نامہ نگار  فرید زکریا کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ اعتراف کیا ہے کہ اب اسرائیل اور روس ایک خوشگوار تعلقات کے  دور میں داخل ہو چکے ہیں اور شام میں ان کے فوجی ایک دوسرے سے تعاون بھی کر سکتے ہیں - دنیا کا یہ وہ تبدیل ہوتا ہوا منظر نامہ ہے جس کا صحیح اندازہ عرب کے شیخ اورعام تبصرہ نگار محلوں اور دفتروں  میں بیٹھ کر چند اخبارات کی سرخیوں یا  الیکٹرانک میڈیا  کے جھوٹے پروپگنڈوں  سے کبھی نہیں لگا سکتے مگر جو لوگ جنگ کے میدان میں ہیں اور خطرات کا سامنا کر رہے ہیں ان کی اپنی حکمت عملی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے شطرنج کے چال کی طرح اکثر تبدیل ہوتی رہتی ہے- شاید اسی لیے پچھلے سال جب شامی فوجوں کے ذریعے کیمیاوی گیس کے استعمال کا انکشاف ہوا اور ممکن تھا کہ ناٹو کی فوجیں لیبیا کی طرح شامی حکومت کی بھی اینٹ سے اینٹ  بجا دیتیں امریکہ نے روس کی ممکنہ  مداخلت اور اس علاقے میں روس کے خفیہ اتحادیوں  کے درمیان پک رہی کھچڑی کے  دباؤ میں اپنا قدم واپس ہٹا لیا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ  شام کی اس جنگ سے باہر آگیا - امریکہ نے اس کے بعد فری سیرین آرمی کی مدد کا سلسلہ تیز کر دیا- یا یوں کہہ لیجئے کہ  فری سیرین آرمی صرف ایک دکھانے کے دانت  ہیں تاکہ اس خطے میں جائز طریقے سے امریکی جہازوں سے ہتھیار اتارا جاسکے اور دیگر یورپ اور تمام عرب  مالک کو حریت پسندوں کی مدد کیلئے آمادہ کیا جاےُ -  جیسا کہ رائٹر کے ایک نامہ نگار ڈان ویلیم نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ شام کے میں بشارالاسد کے خلاف سرگرم  وہ تمام گروہ جسے دنیا فری سیرین آرمی... النصرہ فرنٹ...یرموک شہید برگیڈیریا دیگر ناموں سے جانتی ہے سب اسلامک اسٹیٹ سے ہی منسلک ہیں یا ان کے  سپاہی ہیں - انڈین ایکسپریس تاریخ 26/10/015
اسی طرح دیگر اخباری رپورٹوں کے مطابق اسلامک اسٹیٹ کے یہ فوجی تقریباً سات سوکی ٹکڑیوں میں مختلف نام سے الگ الگ  محاذوں سے لڑ رہے ہیں- مشرق وسطیٰ کی اس جنگ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ  جس طرح افغانستان کی جنگ میں پاکستان نے امریکہ اور افغان مجاہدین کے درمیان معاون کا کردار ادا کیا تھا شام میں وہی کردار ترکی نبھا رہا ہے- دوسری مماثلت یہ ہے کہ  جس طرح اس وقت پاکستان میں جنرل ضیاء الحق اپنی اسلامی ذہنیت کی وجہ سے مشہور تھے ترکی کے صدرطیب اردگان کی اسلام پسند ذہنیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا - اتفاق سے جو غلطی ٹونی بلیئراوربش نے کی تھی اور جن کے پاس بعد کا کوئی منصوبہ بھی نہیں تھا عرب نوجوانوں نے اوبامہ اور طیب اردگان کی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے  مشرق وسطی کی تشکیل نو کا آغاذ کر دیا ہے - عرب کے عوام خاص طورسے  نوجوان طبقہ جو ایک زمانے سے عرب ڈکٹیٹروں اور آمروں کی آمریت سے بدظن تھے اس نے اس پوری صورتحال کا فائدہ اٹھایا ہے جس کا اعتراف ٹونی بلیئر نے بھی کیا ہے کہ عراق کی جنگ کی وجہ سے داعش کا وجود عمل میں آیا ہے -بلکہ یوں کہا جائے کہ عرب نوجوانوں نے ہی ٹونی بلیئر اور بش کو غلطی پر آمادہ کیا کہ وہ افغانستان اور عراق پر حملہ آور ہوں اور ان کے اندر یہ بیداری 80 کی دہائی کے بعد اس وقت سے ہی پیدا ہونا شروع ہو چکی تھی جب انہوں نے دیکھا کہ اس خطے میں مسلسل لبرل اور اسلام مخالف اشتراکی ذہنیت کے دین بیزار  فوجی جنرل کسی نہ کسی بہانے اقتدار پر قابض ہو کر صہیونی مفاد کیلئے بکے جارہے ہیں اور  بااثر تنظیم اخوان المسلمون بھی اپنی تمام تر پرامن جمہوری اور عوامی جدوجہد کے باوجود ناکام ہے  نوجوانوں کی ایک قلیل جماعت کے ساتھ  مسلح جدوجہد کی طرف راغب ہو گئے - یہ بات بھی اب کسی سے مخفی نہیں رہی کہ اوسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری نے تنظیم القاعدہ کے پرچم کے نیچے ہزاروں عرب نوجوانوں کو تربیت فراہم کی اور افغانستان میں روس کے خلاف لڑتے ہوئے جو سب سے بڑا تجربہ حاصل کیا وہ جنگی حکمت عملی تھی اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ افغان مجاہدین کے ساتھ لڑتے ہوئے جو علم اور تجربہ انہوں نے حاصل کیایہ چیز انہیں دنیا کے کسی کالج  یونیورسٹی یا سر سید کی سرپرستی میں کبھی حاصل نہیں ہو سکتی تھی- افغانستان کی سردجنگ کے بعد امریکہ اگر تنہا سپر پاور کے طورپر سامنے آیا  تو یہ عرب اور افغان مجاہدین کی بدولت ہی  ہو سکا-اور انہوں نے اس کے بعد تقریباً پانچ سالوں تک اسلامی نظام کا کامیاب تجربہ بھی کیا -سب سے اہم بات یہ ہے کہ سردجنگ سے پہلے  تک جو لوگ کمیونزم کو ایک مذہب اور خدا کے طورپر قبول کرتے ہوےُ یہ تصور کر بیٹھے تھے کہ اب اشتراکیت ناقابل تسخیر ہے اور اسلام کا خاتمہ ہو چکا ہے سوویت یونین کے بکھر جانے کے بعد ان کی اس فکر اور عقیدے کا بت پارہ پارہ ہو گیا اور اکثر ترقی پسند مسلمان بھی جو اشتراکیت کے طوفان میں بہہ چکے تھے دوبارہ اسلام کی طرف رجوع ہو گئے- مگر جو ابھی تک امریکی نیو ورلڈ آرڈر  کے معتقد تھے جیسا کہ فرانسس فوکوہامہ نے اپنی کتاب تاریخ کا خاتمہ میں اس نظریے پر بحث کی ہے کہ آنے والی صدی پر مغربیت پوری طرح غالب آجائے گی مگرخود ایک مغربی مصنف پروفیسرسموئیل ہٹنگٹن نے اپنی کتاب تہذیبوں کا تصادم  میں اس کی نفی اور تردید بھی کر دی اور  9/11 کے بعد ان کا بھی بھرم ٹوٹ  گیا - عربوں کی یہ وہ دوسری اور تیسری نسل ہے  جس نے اپنے سامنے کمیونزم, شوشلزم, امپیریلزم اورسرمایہ دارانہ نظام کے عروج وزوال کے ساتھ ایران کے نقلی اسلامی انقلاب کو بھی فاشسٹ ریاست میں تبدیل ہوتے ہوئے  دیکھ لیا ہے- اب اسے پختہ یقین ہو چکا ہے کہ اسلامی نظام ہی واحد نجات کا راستہ ہے-  عراق, شام اور مصر میں اس وقت جو کچھ بھی ہو رہا ہے یہ کوئی اچانک پیدا ہونے والی تبدیلی نہیں ہے جیسا کہ اکثر ملت کے کچھ جہاندیدہ تبصرہ نگار باطل میڈیا کے پروپگنڈے کا شکارہوکرعرب حریت پسندوں کو اسلام دشمن اور  یہود و نصاریٰ کا ایجنٹ قرار دے رہے  ہیں - ہاں داعش کا منظر عام پر آنا ایک معمہ ضرور ہو سکتا ہے - مگر جو مسلم تبصرہ نگار اسے اچانک ردعمل اورسازش کا حصہ قرار دے رہے ہیں انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عراق سے صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد عراق کی نوری المالکی حکومت  نے القاعدہ کے نام پر عراق کے سنی مسلمانوں کی نسل کشی کرنا شروع کردی اور خاص طور سے صدام حسین کے وہ فوجی جو انڈر گرائونڈ ہو چکے تھے وہ عراقی خفیہ ایجنسیوں کے عتاب کا شکار ہونے لگے - ایسے میں عراق کے اندر سرگرم القاعدہ کا وہ گروہ جس کی قیادت مصعب الزرقاوی کے ہاتھ میں تھی ان کے ساتھ صدام حسین کے فوجی بھی شامل ہو گئے اور انہوں نے پوری طرح منظم ہوکر  عراق اور شام  کو مالکیوں اورنصیریوں سے آذادی کیمسلح جدوجہد شروع کر دی - اب جو لوگ یہ شک کر رہے ہیں کہ امریکہ داعش کو خفیہ طریقے سے مدد کر رہا ہے تو اس کا سبب بھی عراقی حکومت ہے جسے صدام کے شکنجے سے آذاد تو امریکہ نے کروایا مگر نوری المالکی حکومت نے  امریکی بالادستی سے آذاد ہو کر ایران اور روس کے ساتھ خفیہ معاہدے کرنا شروع کردیا اور وہ خود  ابو جان کی بکری کی طرح بھیڑیے کے منھ میں چلے گئے -امریکہ نے اسی لیے داعش کے ذریعے اس پورے خطے کا  نقشہ بدل دیا جس کی وجہ سے ایک طرف اگر ایران شام اور خود روس کی اپنی معیشت پر زبردست گراوٹ آئی ہے توامریکی معیشت جو 2008 میں زوال پزیر ہو چکی تھی اس میں استحکام آیا ہے -اب یہ الگ بات ہے کہ 2016 میں اوبامہ کے جانے کے بعد امریکی قیادت کہاں تک عقل و شعور کا استعمال کرتی ہےاور جس طرح روس نے کھل کر شام میں مداخلت کی ہے اونٹ تو کروٹ ضرور بدلے گا - مگر روس کو شام میں یہ تو ضرور احساس ہو جا ئےگا کہ شام یوکرین اور کریمیا نہیں ہے .......!

ایران امل ملیشیا,حزب اللہ اور داعش تاریخ کے آںُینے میں


عمر کی فراہی

آج سے دو مہینے پہلے   سعودی عربیہ اور کویت کی شیعہ  مسجدوں  میں جو  دھماکے ہوئے اسے کس نے اور کیوں  انجام دیا اس کا خلاصہ کرنا تو بہت مشکل ہے - لیکن سعودی حکومت نے بظاہر اس کی ذمہ داری نوزائیدہ تحریک داعش پر ڈال کر دنیا کو یہ باور کرا دیا کہ داعش ایک ظالم اور سفاک نوجوانوں کی جماعت ہے جو تمام عالم اسلام کیلئے خطرہ ہیں - اس طرح خلافت کی اصل دعویدار ایرانی حکومت اور قابل احترام حرمین شریفین دونوں ہی اس گناہ سے بری ہو گئے - ویسے سچ کہا جائے تو داعش کے لوگوں کو ظالم اور سفاک قرار دینے میں ایران اور سعودی حکومت دونوں کا اپنا مفاد وابستہ ہے اور یہ دونوں ہی حکومتیں  اس کوشش میں ہیں کہ مصر میں اخوانی حکومت کی طرح اگر  اس کانٹے کو بھی بہت جلد راستے سے نہیں ہٹایا گیا تو عرب نوجوانوں کی یہ آذاد ملیشیا عرب کے تمام ڈکٹیٹروں کیلئے خطرہ بن جائیں گے - مگر ان  کی اپنی خلش یہ ہے کہ انہیں داعش پر قابو پانے کیلئے السیسی کی  طرح کوئی غدار نہیں ہاتھ آرہا ہے - شاید اسی لیے عرب کے تمام شیر جو مصر میں اخوان کی پرامن جمہوری تحریک کو بزور قوت ختم کر کے جشن منا رہے تھے داعش کے فتنے کو ختم کرنے کیلئے وہی دجالی اور شیطانی حکمت عملی اپنا رہے ہیں جو پوری دنیا کی فاشسٹ ریاستیں بنام جمہوریت انجام دے رہی ہیں - یعنی روس کے شہر بیسلان میں چیچن مجاہدین کو بدنام کرنے کیلئے معصوم اسکولی بچوں کے اغوا اور قتل سے لیکر پاکستان کی لال مسجد امریکہ میں 9/11, اور ممبیُ کے 26/11 کے سانحے تک ہندوستان میں جتنے بھی دھماکے ہوئے اس میں کہیں نہ کہیں ریاستی حکومتوں کی انٹلیجنس کا ہی اہم کردار رہا ہے جو اکثر حکمرانوں کے سیاسی مفاد کیلئے عوامی مفاد کا خون کرنے میں کوئی شرم نہیں محسوس کرتیں اور اکثر میڈیا اور مادہ پرست صحافی حضرات بھی اپنے عہدے اور حکومت کی طرف سے نوبل انعام و اکرام کی لالچ میں وہی لکھتے اور بولتے ہیں جو وقت کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے اپنے حق میں ہوتا ہے - ممکن ہے کہ سعودی عرب اور کویت کی مسجدوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں ایران اور حزب اللہ کی بھی سازش ہو جیسا کہ یمن میں سعودی عربیہ کی مداخلت کے بعد ایران نے دھمکی دی تھی کہ سعودی عربیہ کے اس جارحانہ اقدام سے یہ جنگ اس کی اپنی سرحدوں میں بھی داخل ہوسکتی ہے -  مگر سعودی حکومت نے بھی نہایت چالاکی سے داعش کو قصوروار ٹھہراکر ایک تیر سے دو شکار کھیلنے کی کوشش کی ہے - یہ بھی ممکن ہے کہ داعش کو بدنام کرنے کیلئے دونوں حکومتوں کی اپنی انٹلیجنس کی بھی سازش رہی ہو - اور ویسے بھی جو لوگ ایک ایسی اسلامی تحریک جس کے حق پر ہونے کی تصدیق اور  حمایت عرب کے حکمراں اورعالم اسلام کے معززعلماء دین بھی کر چکے ہوں انہیں سلاخوں تک پہنچانے اور قتل کرنے کیلئے اسرائیل کی مدد لے سکتے ہیں ان کا  داعش کے  خلاف کسی نکتہ پر متحد اورمتفق ہو جانا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے اور ویسے بھی جب ایک پر امن تحریک اخوان المسلمون ان دونوں ممالک کیلئے خطرہ ہو سکتی ہے تو پھر داعش کے تو مضبوط پر نکل آئے ہیں اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس نوزائیدہ تحریک نے سفارتی آداب بھی سیکھ لیے ہیں اور اپنے اسی ہنر سے انہوں نے کچھ ممالک سے باقاعدہ  فوجی تربیت اور ہتھیار بھی حاصل کرنا شروع کر دیا ہے - جیسا کہ الزام عائد کیا جارہا ہے کہ خود امریکہ ہی ان کی مدد کر رہا ہے جس کا اعتراف بھی امریکہ کے ایک سابق فوجی افسر نے بھی کیا ہے- ویسے یہ تو دنیا کا دستور بھی ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس اور جنگ ایک مکاری کا نام ہے - اگر ایران اور حزب اللہ روس کی مدد لیکر شامی عوام کی پرامن تحریک کو پرتشدد تحریک میں بدل سکتے ہیں- سعودی حکومت اسرائیل کی مدد سے اخوانیوں پر شب خون مار سکتی ہے  تو پھر عرب انقلابیوں کو یہ حق کیوں نہیں پہنچتا ہے کہ وہ اپنے دفاع کیلئےکسی ملک سے ہتھیاروں کی مدد نہ لیں - ویسے ہم میں سے ہر کسی کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ ہم اپنے طورپر تجزیہ اور تبصرہ کریں مگر ہمارا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم ہرمسئلے کا حل بات چیت اتحاد رواداری  دعوت و تبلیغ  اور انتخابی ڈرامے بازی میں ہی تلاش کرتے ہیں جبکہ جو لوگ شاطراور پرمغز ہوتے ہیں عوام کے اسی بھولے پن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے طریقے سے  اقتدار کے مالک بن جاتے ہیں - 
جزیرۃ العرب میں ایران اور حزب اللہ اسی کردار کے ایسے درخت اور پھل ہیں جن کے ظاہر اور باطن کے اسی تضاد کی وجہ سے مسلمانوں کو ہر دور میں نقصان اٹھانا پڑاہے۔ ایرانی حکمراں اور علماء اسلام کی پندرہ سو سالہ تاریخی کارنامے اورمساوات کی عظمت کے بر عکس فارس کی تین ہزار سالہ تاریخ پر فخر کرتے ہیں- عظمت رفتہ کے اسی جنون میں غرق ایران کے مرحوم بادشاہ رضا شاہ پہلوی نے جب یہ دیکھا کہ سلطنت عثمانیہ کا شیرازہ بکھر چکا ہے اورعربوں میں اب کوئی ایسی طاقتور ریاست نہیں رہی جو ایران کے منصوبہ کو ناکام بنا سکے اس نے امریکہ اور اسرائیل سے تعلقات بحال کرتے ہوئے بے شمار اسلحوں کے ذخیرے جمع کرنا شروع کر دیئے تاکہ وہ طاقت کے ذریعے  پورے عرب کو ایران میں شامل کرکے فارس کی عظیم سلطنت کا وقار دوبارہ بحال کرسکے۔ دوسری طرف عربوں کو مزیدکمزور کرنے کے لئے اس نے شام کے علوی  سپہ سالار ،اور مصر کے صدر جمال عبدالناصر جو عربوں کے لئے میر جعفر اور میر صادق کا کردار نبھا رہے تھے ان کے ذریعے عربوں کو اسرائیل کے خلاف جنگ میں جھونک دیا ۔ جمال عبدالناصر نے جان بوجھ کر اپنے تمام چار سو بیس لڑاکا طیاروں کو ایک ہی میدان میں کھڑا کر کے اسرائیل کے ذریعے تباہ ہونے کے لئے چھوڑ دیا اور شامی فوج کے سپہ سالار حافظ الاسد نے بغیر کسی مزاحمت کے گولان کے سر سبز و شاداب پہاڑی علاقہ کو اسرائیل کے حوالے کر دیا ۔ 1968 کی اس جنگ میں پریشان حال فلسطینی مسلمانوں نے جب  ان مشکل حالات میں بھی اپنے عزم و استقلال کا مظاہرہ کرتے ہوئے پڑوسی ملک لبنان میں اپنے آپ کو منظم کرنا شروع کیا تو فلسطینی مسلمانوں کے اس عزم و حوصلے سے اسرئیل کا خوفزدہ ہونا تو لازم تھا ہی ایران کی رضا شاہ پہلوی حکومت کے بھی کان کھڑے ہو گئے ۔ اس دوران حافظ الا سد جو کہ ایرانی حکومت کی خفیہ سازش کی وجہ سے شام کا صدر بن چکا تھا لبنان میں عیسائیوں اور فلسطینیوں کے درمیان پھوٹ پڑنے والے فساد کا بہانہ بنا کر فلسطینیوں کے گڑھ میں اپنی فوج داخل کر دی اور ۵۲ دنوں کے بے رحم حصار کے بعد عیسائی ملیشیا کو کھلی چھوٹ دے دی کہ وہ فلسطینیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کریں ۔ دوسری بار  1982 میں خود اسرائیلی فوج کے سپہ سالار ایریل شیرون نے شامی فوجوں کی موجودگی میں صابرہ شتیلہ کے کیمپ میں داخل ہو کر  درندگی کا وہی طریقہ اختیار کیا جسکی نظیر عیسائی ملیشیا اور حافظ الاسد نے قائم کی تھی ۔ تاریخ میں رابرٹ فسک جیسے مشہور و معروف صحافی جو اس حادثہ کے چشم دید گواہ رہے ہیں ان کی شہادت اور بیان سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اس کے باوجود یہ کہنا ہوگا کہ اسرائیلی فوج اور عیسائی ملیشیا مل کر بھی ٰ لبنان سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں ۔ ایسے میں اسرئیلی حکومت نے رضا شاہ پہلوی حکومت سے مل کر دوسرا حل ڈھونڈھا - یعنی ایرانی حکومت جو فلسطینیوں کی تھوڑی بہت مدد اسی لیے کرتی آرہی ہے کہ روٹی کے چند ٹکڑوں سے ان کا اعتماد جیتا جا سکے اس نے پریشان حال فلسطینیوں کے حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کے ایک پیشوا خاندان کے شیعہ عالم موسیٰ الصدر کو لبنان میں شیعوں کو متحد اور مسلح کرنے کا منصوبہ بنالیا ۔ موسیٰ الصدر نے اسرائیل کے خلاف نعرہ دے کر فلسطینیوں اور اخوانیوں کو اپنے اعتماد میں لیتے ہوئے ’امل ملیشیا‘ کے نام سے وہاں کے شیعوں کو مضبوط فوجی قوت میں بدل دیا ۔ در اصل موسیٰ الصدر کا اصل مقصد ایرانی حکمت عملی کے تحت فلسطینیوں کی تنظیم جو اس وقت لبنان میں ’’رابطہ فلسطینیہ الاسلامیہ ‘‘کے نام سے طاقت ور ملیشیا کے نام سے مشہور تھی اس کا صفایا کرنا تھا تاکہ مستقبل میں ایرانی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے عرب کے اس خطہ میں شیعوں کو کسی طاقت ور ملیشیا سے مزاحمت کا خطرہ نہ رہے۔ جب موسیٰ الصدرنے لبنان میں پوری طرح زمین ہموار کرلی تو حافظ الاسد کی فوجی قوت کے سہارے شیعہ’ امل ملیشیا‘ نے تیسری بار عیسایؤں اور یہود یوں کے ہی نقشِ قدم پر فلسطینیوں کے قتل عام کی نئی تاریخ رقم کی بلکہ یوں کہا جائے کہ جو کام یہودی اور عیسائی اپنے بل پر نہیں کر سکے اسے امل ملیشیا نے کلمۂ شہادت کا نام لے کر انجام دیا ۔اٹلی کے ایک مشہور اخبار ریپبلکا (Republica )کے مطابق ایک معذور فلسطینی جو کئی دن سے چل نہیں سکتا تھا شتیلہ کیمپ میں امل ملیشیا کے درندوں کے سامنے ہاتھ اٹھا کر رحم کی بھیک مانگنے لگا ۔ جواب میں وہ گولیوں سے بھون دیا گیا۔ کویت نیوز ایجنسی کے مطابق صابرہ کیمپ میں پچیس لڑکیوں کی اجتماعی آبرو ریزی کھلے عام پورے کیمپ کے سامنے کی گئی- فرانس کا ایک صحافی بیار فردیہ جو قیامت زدہ علاقوں میں اس امید میں چکر لگا رہا تھا کہ اسے کسی طرح صابرہ شتیلہ میں گھسنے کا موقع مل جائے امل ملیشیا کے ایک اسلحہ بردار کے ساتھ اپنی گفتگو کو بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ فلسطینیوں کو ہزیمت سے دوچار کرنے کے لئے ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے چوبیس گھنٹے کے اندر ہم خود ان کا صفایا کر دیں گے ۔ سڑک کے دوسری طرف امل ملیشیا کے ٹینک بلا تمیز گھروں کے بیچ تنگ گلیوں میں مسلسل بمباری کر رہے تھے دو دن تک تو ہم فلسطینیوں کے علاقہ میں جو ہم سے صرف سو میٹر کی دوری پر تھے گھسنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔ تیسرے دن جب ہم اس علاقہ میں پہونچے تو پورا بیروت لینڈمائن بن جا چکا تھا۔امل ملیشیا نے جگہ جگہ چیک پوسٹ بنا رکھے تھے زخمیوں کو نہ صرف راستے میں روک لیا جاتا بلکہ جو کسی طرح ہاسپٹل پہنچ گئے انہیں ہاسپٹل میں ہی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔اسی دوران ہماری نظر کچھ بوڑھوں ،عورتوں اور بچوں پر پڑی جو اپنی گٹھریاں اٹھائے بھاگ رہے تھے ان میں سے روتی ہانپتی ایک عورت نے کہا کہ امل ملیشیا کے لوگ گھروں کے ملبہ میں لاشوں کو دبا رہے ہیں اور کچھ لاشیں جلا بھی رہے ہیں ۔ پناہ گزیں کیمپ میں غزہ ہاسپٹل کی ایک نرس کا بیا ن تھا کہ ایمرجنسی ہال میں ایک شخص اپنی چودہ سالہ بہن کے ساتھ پڑا تھا امل ملیشیا کے ایک اسلحہ بردار نے بچی سے کہا کہ اسے اٹھا کر لے جاؤ بچی نے کہا کہ وہ کیسے اٹھا سکتی ہے- دوسرے لمحے اسلحہ بردار نے دونوں بھائی ،بہن کو اپنی گولیوں سے سرد کردیا -
تحریک آزادی فلسطین کی تنظیم فتح کے ایک ممبر رائد صلاح نے 15اگست 1985 کے اخبار الیوم السابع کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہی موسیٰ الصدر ہے جو لبنان میں شیعوں کی محرومی اور لاچاری  کا رونا روتا تھاہم نے اس کا ساتھ دیا ہم نے اس کی "امل" تحریک کو تربیت دی اور مسلح کیا تاکہ اسرائیل کے خلاف یہ ہمارا ساتھ دیں گے مگر انہوں نے ہمیں جو زخم پہنچایا اسی بات کو رابطہ فلسطینیہ اسلامیہ کے ایک لیڈر نے یوں بیان کیا ہے کہ شیعوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کا نہ رکنے والا قتل عام کا سلسلہ ثابت کرتا ہے کہ شیعہ ملیشیا "امل" امت اسلامیہ کے خلاف یہودیوں کے صف میں کھڑی ہے اور اس گمشدہ کڑی کو پورا کردیا جسے پورا کرنے سے یہود و نصاریٰ عاجز تھے۔ جی ہاں یہ وہی شیعہ امل ملیشیا ہے جو مرحوم آیت اللہ خمینی کے ایرانی انقلاب کے بعد جسے جماعت اسلامی اور اخوان المسلمون کی حمایت کے بعد اسلامی انقلاب کے نام سے جانا جانے لگا اس نام نہاد اسلامی انقلاب کے بعد امل ملیشیا کو اسلامی لباس میں تبدیل کر کے حزب اللہ کا نام دے دیا گیا - اس طرح بیروت جو فلسطینی جانبازوں کا فوجی ہیڈ کوارٹر ہوا کرتا تھا ان کی لاشوں کے ڈھیر پر امل ملیشیا یعنی  حزب اللہ کا ہیڈکوارٹر قاںُم ہے اب یہ وہی ایران اور وہی حزب اللہ ہیں جو ایک بار پھر ظالم حافظ الوحشی کے بیٹے بشارالاسد کی مدد کرکے شامی مسلمانوں اور ایلان کردی جیسے ہزاروں لاکھوں عورتوں اور بچوں کو دریا برد کر رہے ہیں - ایسے میں تقریباّ چالیس پچاس سالوں سے عرب ڈکٹیٹروں کے جبروتشدد کے ردعمل میں اگر ایک آذاد سنی ملیشیا داعش کا وجود عمل میں آتا ہے تو کیا یہ گناہ ہے ؟

بنجر زمینیں اس ایک انقلاب کی راہ تکتی ہیں

بنجر زمینیں اس ایک انقلاب کی راہ تکتی  ہیں
زبیر حسن شیخ
    انسان کی فطرت میں آفاقیت، یکجہتی اور  یگانگی ودیعت کردہ ہے اور اس کی روح قومیت  اور رنگ و نسل کے جھمیلوں سے چھٹکارا پانے کی متلاشی رہتی ہے،  بھلے ہی  اس کا دل و دماغ دنیا کے جھمیلوں میں لگا رہنا چا ہتا ہو.....ہزاروں اختلافات کے با وجود کبھی کہیں وہ اپنے اندر موجود اس روحانی جذبہ سے چھٹکارا نہیں پاتا اور بین الاقوامیت میں پناہ ڈھونڈتا آیا ہے،  اسکی تخلیق کا یہ خاصہ ہے کہ وہ روحانیت،   وحدت و وحدانیت  سے تعلق رکھتا ہے.... تمام تر تنوع، تغیرات، نااتفاقی، مختلف جغرافیائی اور تا ریخی پس منظر اور عقائد و رسومات میں اختلا فات کے باوجود انسان فطری طور پر اتحاد   و اتفاق کا خواہش مند رہتا ہے اور اس اتفاق و اتحاد میں اسکی روحانیت کلیدی کردار ادا کرتی ہے- خیر کی غیر موجودگی میں اسے شر کے راستے اگر عارضی طور پر یہ اتحاد  اور یکجہتی حاصل ہو جائے تو بھی یہ   اسے قبول کر لیتا ہے.... جسمانی، لسانی، فکری، مادی، جغرافیائی اور تاریخی تفرقات و تضاد اپنی جگہ  جو انسان  کی شناخت  ،  پرکھ  اور تہذیبی ارتقائی سفر کے لئے نا گزیر  ہیں، لیکن اس کی روح  ان سب کے باجود  اسے روحانی یکجائی کے لئے بے چین رکھتی ہے....  پھر وہ یہ بھول جاتا ہے کہ یہ روحانی اتحاد عارضی طور پر تہذیب جدیدہ کے دامن سے حاصل ہو رہا ہے، ، اور یہ بھی بھول جاتا ہے کہ در حقیقت اسکی روح دائمی اتحاد چا ہتی ہے، اور یہ بھی کہ تمام تر پاکیزگی کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور آلودگی سے پاک ہوکر چاہتی ہے - تہذیب جدیدہ اپنے تمام ترنقائص و شرور کے ساتھ چند ایک ایسے عارضی فوائد کی حامل رہی ہے کہ جسکی افادیت سے انکار اہل خیر کے لئے محال ہے-    عالمی سطح پر انسانوں کا رسمی اور عارضی طور ہی سہی،  یکجا   ہونے کی کوششیں کرنا انسانی تہذیبی ارتقا کے لئے فائدہ مند  رہا ہے،  اور اس کے بغیر  ارتقا کا سفرغیرممکن ہے .... لیکن یہ ارتقا روحانیت  سے عاری   وہ  مادی ارتقا ہے جس پر  مہذب  انسان  قانع نظر  آتا ہے ،  وہ خاندانی، سماجی، ملکی، سیاسی، تجارتی  اور    انفرادی و اجتما عی معاہدات بھی لر لیتا  ہے،   جس میں   انسانی  گواہ   بے شک موجود ہوتے ہیں  لیکن    خدا وند ندارد،   ایسے معاہدات عموماً عارضی ہوتے ہیں اور اکثر نیک نیتی پر مشتمل نہیں ہوتے..... وہ مختلف  عالمی ایام کو بطور یاد گار  بنا کر  جشن  کرلیتا ہے اور  مجالس بھی  سجا  لیتا ہے،   ہو ہا اور ہلڑ گلڑ کا اہتمام بھی  کرلیتا ہے ،  فنون لطیفہ کا سہارا لے کر احتجاج و ماتم بھی کر لیتا ہے اور  غیر تعمیری  طرز فکر و عمل سے معاشرے کی عکا سی  بھی کر لیتا ہے ...اخلاقی  اصول و ضوابط سے بغاوت  بھی کرلیتا  ہے ...یہ سب اسی مادی  ترقی  کی دین ہے جس میں اتحاد  و اتفاق  کی تڑپ ضرور ہوتی  ہے لیکن  روحانیت کا نام و نشان ڈھونڈے نہیں ملتا.....اس میں  مصنوعی اور عارضی خوشیاں  و  غم،  وصل و فراق اور معاہدات و  تعلقات  ہوتے ہیں.... اور   اب تو   مصنوعی صدائیں  اور دعائیں، وبائیں  اور  دوائیں ،   غذائیں  اور فضائیں بھی  اس نے ایجاد کر لی  ہیں ، اور اس طرح  مہذب انسان     مصنوعی  زمینوں  پر   روحانی  و جسمانی اتفاق و اتحاد کے  بیج بونے کی اپنی سی  کوششیں  کرتا رہتا ہے ......لیکن جب  زمینیں ہی  بانجھ  ہوں  تو تخم ریزی   سے کیا ہوتا ہے،  یا     تخم ہی ناکارہ  ہو جائیں تو  زرخیز  زمینوں  میں آبیاری  سے کیا ہوتا ہے ...اور کچھ  پودے   تو  بنیاداً   کڑوے  کسیلے  بھی  ہوتے ہیں اور بقول  شیخ  سعدی ...ببول  کے بیج  اگر  جنت میں  بو ئے جائیں  اور کوثر  و تسنیم سے اسکی آبیاری  کریں  تو بھی  ببول کا درخت کانٹے  ہی  اگا ئے گا ......اب بنجر زمینیں    ایک ایسے انقلاب  کی راہ تکتی  ہیں جو نہ صرف یہ کہ   کار آمد تخم  ریزی کی بنا ڈالے بلکہ   زمینوں کو زرخیزی   بھی عطا کرے ....

کہتے ہیں   بہاریں آتی ہیں لائی نہیں جاسکتی... اور یہ بھی کہ بہاریں آکر چلی بھی جاتی ہیں.... یعنی اس پر کسی کا قابو نہیں ہوتا-  تاریخ کے اوراق اس بات کے گواہ ہیں کے سیا سی چمن میں بھی بہا ریں آتی رہی ہیں....لیکن پچھلی چند   صدیوں سے سیاست کے چمن میں بہاروں کے بھیس میں صرف  خزائیں آنے لگی ہیں....اورانسان  اب اتنی بھولا   بھی نہیں رہا  کہ خزاؤں کے بھیس میں آتی جاتی بہاروں کو  سمجھ نہ سکے..کیا  کیا جا  ئے  کہ    جمہوریت میں عوام کے لئے  متبادل  تو بہت ہیں لیکن  کارآمد ایک بھی نہیں  ... ڈیموکریٹک ہے یا ری پبلک ... لیبر ل یا کنزرویٹیو ،  کمیونسٹ یا نیشنلسٹ ،  کانگریس  یا بی جے پی..سماج وادی یا نکسل وادی ..... پی پی  یا مسلم لیگ، عرب لیگ  یا   دیگر لیگ .. عوامی  یا سماجی ، قومی یا ملی..حریت پسند   یا  ذریت پسند  ..... شدت پسند  یا دہشت پسند .....آزاد یا متحد... الغرض شیرینی میں لپٹی یا تو سنکھیا ہے یا سائینایڈ ... کم برا ئی اور زیادہ برائی میں انتخاب کرنا اب ممکن نہیں رہا .... اب مبالغہ کا صیغہ بھی  نا کا فی ہوتا ہے کہ بد ترین اور انتہائی بد ترین کے درمیان کس کا انتخاب کیا جائے.... اب جمہوریت کی آب و ہوا زہریلی ہوچکی ہے اور سیاست کی زمین بنجر... انسان پھر بھی اس پر ہل چلا رہا ہے... اب ایک سیاسی  زمین کا ہی کیا رونا ہر ایک زمین بنجر ہوچکی ہے .. انسان کے دل کی زمین اور اسکے ضمیر کی زمین کا حال بھی کچھ کم برا کہاں ہے....یہ   ساری زمینیں ایک انقلاب چاہتی ہیں....اور  وہ انقلاب ہی کیا جو قلب کو منقلب نہ کرسکے.... انسانی تاریخ میں جتنے بھی معلوم انقلاب رونما ہوئے ہیں ان میں ایک بات مشترک رہی ہے کہ اس کا منبع و   محور انسانی قلب ہی رہا ہے...لغوی اوراوصافی دونوں نقطہ نظر سے ہر ایک انقلاب میں ذہنی قوت سے زیادہ قلبی جذبہ کی کارفرما ئی رہی ہے....یہی وجہ ہے کہ انقلاب لایا نہیں  جاتا بلکہ برپا کیا جاتا ہے.... یہ منفی بھی ہوسکتا ہے اور مثبت بھی، تعمیری بھی ہوسکتا ہے اور تخریبی بھی....یہ ناکام بھی ہوسکتا ہے اور کامیاب بھی... اور ناکا می کی صورت میں بطور ایک تحریک قائم بھی رہ سکتا ہے ... یہ ضروری نہیں کہ ہر ایک تحریک انقلابی صورت کی حامل ہو اور ہر ایک نظریہ انقلاب برپا کرسکتا ہو ....البتہ یہ بات  یقینی ہے کہ ہر ایک انقلاب کسی نہ کسی  نظریہ  کا  حامل ضرور ہوتا ہے  .... اور ہر ایک نظریہ کسی نہ کسی مقصد کی عکاسی کرتا ہے... بغیر نظریہ کے کوئی تحریک وجود میں نہیں آتی اور نہ ہی کوئی انقلاب برپا ہوسکتا ہے....انقلاب یہ نہیں دیکھتا کہ نظریہ اور مقصد میں کیا کجی ہے، اوصاف منفی ہے یا مثبت، حق ہے یا باطل، انجام اچھا ہونا ہے یا برا...بلکہ صرف اور صرف قوت وجذبہ کی شدت دیکھتا ہے اور برپا ہوجاتا ہے...اور جب برپا ہوتا ہے تو پھر یہ سوائے قدرت کے کسی کے قابو میں  نہیں رہتا... اس کا انجام صرف اور صرف قدرت کے ہاتھوں طے پاتا ہے....انقلاب برپا کرنا انسانوں کا کام ہے اور قدرت سے اسکی پشت پناہی  ثابت  ہے... جہاں وہ عذاب و رحمت اور ارضی و سمائی آفات سے کبھی  انقلاب  لانے کا با عث  بنتی ہے تو کبھی  انقلاب  کو کامیاب اور ناکام بناتی ہے...انسان کو محدود اختیارات حاصل ہونے کا احساس دلاتی ہے..... اسے عدل و انصاف پر قائم رہنے کی یاد دہانی کرتی ہے... اسے امتحانات و نتائج، یوم حساب اورسزاجزا کے احساس سے باندھے رکھتی ہے....

دنیا کے عظیم الشان انقلابات کا تجزیہ کیا جائے تو انقلابات کو دو بنیادی زمروں میں رکھا جاسکتا ہے.... اول روحانی اور دوم مادی.. پھر یہ دونوں   مختلف شاخوں میں تقسیم ہوجاتے  ہیں    مثلا  مذہبی ،   دینی، ادبی، تعلیمی، جنگی ،   خونی ،  سائینسی، تحقیقاتی، تہذیبی، سماجی، تجارتی، صنعتی، تقافتی، سیاسی، وغیرہ ... لیکن  ہر ایک انقلاب کا سر چشمہ فکری انقلاب ہوتا ہے جو اول اول ایک مقصد اورنظریہ کے تحت وقوع پذیر ہوتا ہے، اور تدریجا ایک تحریک کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور بلآخر روحانی یا مادی انقلاب برپا کرنے کا باعث بنتا ہے....فکری انقلاب کے بغیر ایک روحانی انقلاب کا ظہور پذیر ہونا  قطعی غیر ممکن ہے جبکہ  ایک   مادی انقلاب کا رونما ہونا  ممکن تو  ہوسکتا ہے لیکن ایسا انقلاب دیرپا نہیں ہوتا.... فکری انقلاب برپا ہونے کے بے شمار اسباب ہیں لیکن ان میں ظلم و نا انصافی اور جہالت سر فہرست ہے... فکری انقلاب  کی علامت کوئی موضوع،  تصنیف، مضمون، کتاب، مقالہ، جملہ، محاورہ، شعر یا قول و اقوال یا   کوئی شہ بھی ہوسکتی ہے..اور یہ  انقلاب دہرایا بھی جاتا ہے.....اکثر انقلابات  گرچہ عارضی ہوتے ہیں لیکن اس کے اثرات دیر پا  ہوتے ہیں.....دنیا کے معلوم انقلابات میں ایک جمہوری انقلاب بھی واقع ہوا ہے... اور جس کے اثرات  موجودہ  بدلتے موسموں کی طرح بہاروں  سے کم اور   خزاوں سے   زیادہ  میل کھاتے ہیں .... ایک صنعتی انقلاب بھی برپا ہوا ہے جس کے مفید و مضر اثرات جگ ظاہر ہیں....اسی طرح علمی، سیاسی ، تہذیبی ، تمدنی،  سائینسی، صنعتی، تجارتی اور اطلاعاتی انقلابات بھی رونما ہوئے ہیں  جسکے اثرات کہیں عارضی ہیں تو کہیں طویل المدتی ،   اور کبھی مفید ثابت ہوئے ہیں تو کبھی مضر بھی....اسی طرح مذہب و عقائد پر مشتمل انقلابات  بھی برپا  کیے  گئے ہیں اور جو سب کے سب مندرجہ بالا کسی نہ کسی انقلاب کا شکار ہوکر رہ گئے... اور  بالآخر  ان  کے برے  اثرات سے  مذاہب کے ساتھ ساتھ  پیروکار  بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے..... بجز دین فطرت کوئی بھی مذہب مذکورہ   انقلاب کا شکار ہونے سے نہ بچ سکا.... اور ان میں سب سے بڑا انقلاب انسان نے جمہوریت کی شکل میں برپا کیا ہے...... جمہوریت جو تہذیب جدیدہ کی کوکھ سے پیدا ہو ئی ہے.....اور  یہ وہی تہذیب ہے جو ظلم، استحصال واستبداد، تنفر،   توہم پرستی ،  جنگ و جدل اور دین بیزاری کے مراحل سے گزر کر وجود میں آئی، اور اس کے بطن سے مختلف  سیاسی  اور  مادی انقلابات رونما ہوئے   اور  مختلف نظام پیدا کیے  گئے -   یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کی کامیابی میں  مادیت پرستی   کلیدی کردار ادا کرتی رہی  ہے،  اور اسکے بغیر جمہوریت  کامیاب ہو بھی  نہیں  سکتی، جس کا مبین ثبوت مغرب میں جمہوریت کی کامیابی اور  مشرق میں جمہوریت کی مسلسل  ناکامی سے اور تہذیب جدیدہ کی نشو نما اور ترویج سے ملتا ہے، جہاں سیاست تمام تر نئے مفہوم کے ساتھ جلوہ گر ہوئی ہے...جہاں سیاست داں سیاست سے  کھیلتے ہیں....جہاں عوام جوئے شیر لاتی ہے اور  سیاست  ہمشیرہ  بن جاتی  ہے اور جہاں  سرمایہ داری  شیر خوار پیدا کرتی ہے،  اور  پھر سب وطن پرستی  میں  شیر و شکر ہوجاتے ہیں.... اور اس طرح جمہوریت کی شیرینی قائم رہتی ہے اور انسانیت کا شیرازہ بکھرتا جاتا ہے.... زمینیں سب بنجر ہوئی جارہی ہیں اور ایک نیا انقلاب چاہتی ہیں، پھرایک روحانی  انقلاب ...ایک دینی انقلاب ... تاکہ روحانیت اور مادیت میں درکار توازن قائم ہو، پچھلی چند صدیوں میں ہر قسم کے  روحانی  اور مادی انقلابات  سے دنیا گزر چکی ہے، انہیں پرکھ  چکی  ہے  اور اب ان  کا خمیازہ  بھگت رہی ہے.....

تاریخ میں چند روحانی، مذ ہبی اور دینی   انقلابات ایسے بھی  درج ہوئے ہیں   جو  روحانیت اور مادیت میں وہ توازن قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں جو کارخانہ حیات کے لئے ضروری  ہواقع  ہوئےہیں .... اوراگر ان میں کسی نے مفید اثرات قائم بھی کیے تو وہ عارضی واقع ہوئے  اور   رد  و بدل کا شکار  ہو گئے... یا تو ان انقلابات نے  دنیا کو شر  کے حوالے  کر دیا تھا  اور  ترک دنیا اختیار کر لیا،  یا پھر   توہم پرستی،   مصلحت پرستی کی راہ اپنا کر  مذہب  کو بھی مادیت  پرستی کے رنگ میں رنگ لیا .....ایسے  انقلابات   تغیر شدہ  مذہبی عقاید و رسومات اور عبادات پر مبنی ہوا کرتے  تھے ..جبکہ کامیاب  روحانی انقلاب صرف دین فطرت نے برپا کیا تھا ،  جسکے    قوانین انسانی فطرت  سے  مطابقت رکھتے  اور   یہ قو انین   خود  پختہ  اصول و ضوابط  کے پابند  ہوا کرتے ... یہ وہ روحانی  انقلاب تھا  جو  کارخانہ  حیات میں  ضروری  روحانی اور مادی  توازن  کو قائم کرنے  میں کامیاب  ہوا تھا  ....اور جس کے مفید اثرات آج بھی دنیا پر قائم ہیں ...گرچہ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دین فطرت کے پیروکارایسا روحانی انقلاب دوبارہ   برپا  نہ کر سکے، لیکن  اس سے ملتے جلتے کچھ انقلابات ضرور برپا ہوئے ہیں .... جن میں کچھ انقلابات  کے اثرات طویل المدتی تھے اور کچھ کے عارضی...حالیہ صدی  میں  کچھ روحانی اور  مذہبی  انقلاب ایسے بھی برپا کیے گئے  جس میں  انتقام ،تنفر ، شدت پسندی، عجلت پسندی ، عسکریت  اور غیر منطقی   سوچ اور جذبے  غالب  رہے،  جہاں مادی انقلابات کی روش اپنا ئی گئی  اور  صرف طاقت و قوت  سے دنیا کو  جنت بنا نے  کا خواب دیکھا گیا ...انقلاب  سے   دنیا کو   جنت بنانے  کا طرز فکر و عمل غیر منطقی     ثابت  ہوا ہے...   دنیا کو   جنگل میں  تبدیل  ہونے سے روکنے  کے مقصد  سے برپا کیا  گیا انقلاب  ہی دراصل   کامیاب ہوتا ہے  ، پھر چاہے وہ کوئی  روحانی  انقلاب ہو یا مادی .....تاریخ کے پس منظر میں اس بات کا تصفیہ بھی ضروری ہے کہ روحانی  انقلاب کے لئے جنگ نا گزیر نہیں ہوتی،   جبکہ مادی انقلاب کے لئے  جنگ  اکثر نا گزیر ثابت ہوئی ہے اور مسلسل  اور  طویل بھی ،  اور کبھی مختلف بھیس بدل  کر   دائمی بھی..... بر عکس  روحانی  انقلاب مادی  انقلاب   کے تحت    بنا ئے  گئے    قوانین خود  اپنے لئے  کوئی    پختہ  اصول و ضوابط  نافذ نہیں کرتے  اور   مسلسل تغیر کا شکار ہوتے رہتے ہیں...گرچہ ہر قسم  کے  انقلاب میں جنگ  کے قوی امکانات ہوتے ہیں لیکن  روحانی   انقلاب مسلسل اور طویل المدتی جنگ کا  حامل نہیں ہوتا ، خاصکر  جب یہ  دینی اصول و ضوابط  کے تحت  برپا کیا  گیا ہو ... یہ     انقلاب  جنگ  سے اس وقت تک  گریز کرتا ہے جب تک  اسکے وجود  کو خطرہ محسوس نہیں ہوتا ... لیکن  جب یہ   جنگ  کو ناگزیر  جان لیتا ہے تو  پھر اسے انقلاب کا ایک مرحلہ  سمجھتا  ہے ناکہ  حل ..ایک پڑاو سمجھتا ہے  نا کہ منزل ..اور  یہ  فیصلہ کن جنگ  کا حامل ہوتا ہے ... دینی انقلاب میں جنگ  کا مقصد  مخالف کو  زیرکرنا  نہیں ہوتا  بلکہ  اپنا بنا  کر دم لینا ہوتا   ہے ....اور اس طرح    یہ اپنی جیت درج کرتا ہے .....تاریخ میں   ایسے ہی ایک  دینی   انقلاب  کی مکمل   جیت  درج ہے ...جسے دوبارہ  برپا کرنا    اب    نا گزیر   ٹہرا  اور  اس کے خلاف  تمام توجیہات  اور دلائل لا یعنی -  

عقل و خرد کی منزلیں سب ہوئیں دھواں دھواں..

عقل و خرد کی  منزلیں  سب ہوئیں دھواں دھواں..
زبیر  حسن شیخ
Zubair H Shaikh <zubair.ezeesoft@gmail.com>
بات وہی پرانی ہے ۔ سب مٹی ہے  سب پانی ہے۔  پانی جو بالآخر سائینس کی تمامتر علت اور معلول کے  نتیجے  میں دھواں ثابت  ہوا  ہے۔ے کے ذہن میں بے شمار سوال ہیں۔ بچہ جو انسان ہے اور انسان  جو  بچہ   واقع  ہوا ہے نظام قدرت کے سامنے، پھر  بھی سوچتا ہے۔یہ جسم ،  یہ  بال و پر و   جلد ،  یہ  سب کہاں اور کیسے بنتے ہیں؟   یہ دانت کہاں سے نکل آتے ہیں؟ یہ ناخن کیوں بڑھ جاتے  ہیں؟انکا مادہ اور مواد جسم میں کیسے پیدا ہوتا ہے؟کہاں سے آتا ہے ؟. جسم کے اعضا کیسے پروان چڑھتے ہیں؟ سب سائینس کی کرشمہ سازی ہے۔ اسے   تویہی  بتایا جاتا ہے ۔لیکن  خود سائینس کس کی  کرشمہ  سازی ہے۔ بچہ جاننا چاہتاہے، اسے جواب نہیں ملتا۔ آخر انسان کا بچہ ہے۔سوچتا ہے ۔علوم و فنون مٹی سے،  تخم  اور شاخیں مٹی سے،  پھول پتے مٹی سے،  شجر وحجر مٹی سے، فولاد و معدنیات  مٹی سےاور پھر سب مٹی ہوجاتے ہیں۔حسن و شباب مٹی ۔جاندار و بے جان  مٹی .. انسان بھی مٹی -  چلئے عقدہ حل ہوا.... علم کا سر اونچا ہوا ....خرد کو سر خروئی ہوئی.......اسناد بانٹ دی گئیں ...تحقیقات  رنگ لائیں  ... دریافتیں  قبولیاب ہوئیں  ... مٹی کو مٹی کر دکھایا گیا.... بے شمار" کوڈ ز "  اور اشارات متعارف کرادئے گئے ....  اور انہیں مختلف مادوں سے منسوب کر دیا گیا...لیکن سوال تو پھر بھی یونہی بچے کا منہ چڑا رہا ہے اور بچہ  مٹی  کا .... مٹی کہاں سے آئی .... پانی کہاں سے آیا...   پھر تحقیق کے جھنڈے گاڑ دئے گئے ... بچے کو بتا دیا گیا کہ مٹی پا نی سب محلول ... سب لائق تحلیل.... اور سب کسی نہ کسی    عمل کے تحت    اپنی ظاہری ہیت سے تبدیل ہوکر دھواں بن سکتے ہیں،  بلکہ بن جاتے ہیں... بنتے آئے ہیں....لیجیے،  سب کچھ دھویں سے تھا  اور سب کچھ دھواں دھواں ہوا...... لا متنا ہی دھواں ...بچے کے احساسات دھواں... بچے کے جذبات دھواں، عقل و خرد دھواں ... بچہ جو انسان ہے ... اور انسان جو نظام فطرت کے سامنے ابھی بچہ ہے...
 بچہ سوچتا ہے..... آفات ناگہانی کیوں اور .کیسے آتی  ہیں؟ ... کیوں نہ سوچے... انسان جو ٹہرا..... جب جب آتی  ہیں  تب تب  سوچتا ہے....جب نہیں آتی تو نہیں سوچتا.....اسکے پاس اچھے خاصے  علوم ہیں سوچنے کے لئے..... زلزلہ میں زمین کے اندر کی سطحوں کا  پھیلنا یا سمٹنا ، سکڑنا یا ٹکرانا ، مختلف تدریجی عمل سے گزرنا..... اور اپنے اثرات مرتب کرنا.....بچہ  مختلف پیمانے  یا "اسکیل" بھی کھوج لیتا ہے ... اور زلزلوں کے  دایرۂ اثر کا تخمینہ بھی بہ آسانی لگا لیتا ہے....زلزلوں  کا  عارضی مرکز  بھی ڈھونڈ لیتا ہے، جبکہ  پتہ نہیں کیوں  دائمی مرکز اسکی سوچ سے بہت دور رہتا ہے! ...... پھر کچھ اور زوردیتا ہے  تو زمین کے اندر پیدا ہونے والے اس انتشار کا محرک بھی  تلاش کرلیتا ہے ، اور  یہ بھی ڈھونڈ لیتا ہے کہ مختلف مائع، گیس اور محلول کا انتشار زلزلوں کا باعث بنتا ہے....  عقل و خرد کے گھوڑے  کچھ  اور دوڑا  دئے تو اسے قوت و طاقت یا "اینرجی" کہہ کر علم و فن کی دھائی دے دی جاتی  ہے.....اور کچھ نہ بن سکا تو سائینسی طاقت سے اسے موسوم کر دیا  جاتا ہے ..انسان جو ٹہرا ....اور اگر خرد نے ذرا آگے جانے کی کوشش کی ...اور کس کی طاقت اور کس کی قوت جیسے سوالات کے جوابات دینے پر آمادگی جتائی تو بچہ  کا سر گھوم جاتا ہے ... اور ونہیں جا پہنچتا ہے جہاں سے  شروع  کیا  تھا ...پھر  سب کچھ دھواں دھواں ...... کچھ اسی  طرح زلزلہ کی علت و معلول کی زلف پیچاں  بھی سنور جاتی ہیں ....اور اس کا اختام اینرجی، طاقت و قوت پر ہوجاتا ہے ..سائینس  کی طاقت !!..لیجیے  زندگی اور موت کا عقدہ حل ہوگیا...اور صرف  تباہی اور بربادی کا تخمینہ لگانا باقی بچا....کچھ اسی طرح دیگر آفات نا گہانی کے عقدے بھی بچے نے حل کر لئے ....طوفان میں ہواؤں کی سازش  اور برق میں گھٹاؤں  سے انتشار  ،  آتش فشاں میں آگ کی سوزش  .....مختلف عناصر و عوامل کا پریشاں ہونا بھی ثابت  کردیا .....اور پھر انکے اجزائے ترکیبی و ترتیبی کے منتشر  ہونے کو انرجی کا نام دے دیا.....الغرض علت و معلول کی طویل بحث کا اختتام بھی انجانی طاقت و قوت پر کردیا گیا...سائینس  اور علم الطبیعات کی کرشمہ سازی کی حد بس یہیں تک تھی....  قصہ  یہ سب سچا  ہے اور     کچھ کچھ  تمام ہوا... اور  اسی طرح   زلزلوں کی قوت  ثابت ہوئی .....بچہ  سمجھدار کیا ہوا  ... زلزلے  بھی اب تواتر  سے آنے لگے   ...زلزلوں کے  گزرجانے  کے بعد انسانی احساسات و جذبات اور روحانیت کا دور دورہ شروع ہوتا ہے .. اسکا مظاہرہ بھی ضروری   ہے .. بھلے وقتیہ ہی سہی.... بچہ آخر انسان ہی تو ہے.....محبت و مروت ،  انسانیت اور  جذبات و احساسات کا،  امداد و ہمدردی کا ،  عالمی انسانی مساوات و بھائی چارگی اور امداد باہمی کا مظاہرہ.....علوم و فنون، افکار و بیانات کی طاقت کا مظاہرہ ..... سیاسی، ملکی  و عسکری قوت  کا مظاہرہ.... اور جب جب ان طاقت و قوت اور علوم فنون کے ساتھ ادب و شاعری کو بھی شامل کر لیا جاتا ہے   تو بات عقل و خرد سے آگے نکل  جاتی ہے ....
کہتے ہیں ادب کی پہنچ خرد سے آگے ہے ،  بشرطیکہ   بچہ   بے ادب واقع نہ ہوا ہو  ..اور شور و غل  نہ کرنے لگے  کہ...ادب پہلا قرینہ ہے  محبت کے قرینوں میں... ادب تو یہی کہتا ہے کہ تم وہاں تک نہ پہنچے ہم جہاں تک آگئے.....ادب کی کوئی حد نہیں....اور انسان ادب کے شانے پر سوار ہوکر خرد سے آگے نکل جاتا ہے..... لیکن اگرایمان کی منزل پر  پہنچ نہیں پاتا  تو پھر سب دھواں دھواں.....افکارات دھواں..احساسات دھواں،  جذبات دھواں ...پھر نظریں دھواں دھواں اور  تمنائیں لڑکھڑاتی ہیں.....کیا کیا جائے   بچہ آخر کو  انسان ہی ہے ...اور انسان ابھی بچہ ہے نظام قدرت کے سامنے  .لیکن .."جب  اس انگارۂ خاکی  میں ہوتا ہے یقیں پیدا .....تو کرلیتا ہے  یہ بال و پرِ روح الامیں پیدا..ادب کی بات مانے تو  آفات ناگہانی میں اور خاصکر زلزلوں میں  اس کی سوئی ہوئی رگ رگ پھڑک اٹھتی ہے...... محبت و رحم دلی کی رگ ......مساوات و بھا ئی چارے کی رگ .... انسانی حقوق و فرایض کی رگ .....خیر و خیرات کی رگ..... انسانیت و روحانیت کی رگ....پھر کچھ اور کرشمہ سازیوں کے  دور  چلتے ہیں... اور خوب چلتے ہیں کہ درد دل کے واسطے  پیدا کیا انسان کو....پھر  محبت فاتح عالم ہوجاتی ہے....ساری کدورتیں بھلا دی جاتی ہیں... سارے سیاسی قضیے نمٹا لئے جاتے ہیں.....درد و الم میں سب یکجا ہوجاتے ہیں ..... اور خوب ہوتے  ہیں... پھر انسان و قتیہ طور پر ہی  سہی  مثل حباب آبجو رہتا ہے .... یہ  سب کچھ نیا نہیں ہے لیکن عارضی ضرور ہوتا ہے... .. پتہ نہیں مہذب انسان کی ان رگوں کو پھڑکنے کے لئے قدرت کو کتنی بار زمین اور آسمان کے دروازے کھٹکھٹانے پڑیں گے .....یہ سب رگیں وقتیہ طور پر ہی کیوں پھڑکتی ہیں.. سب تکلفات بجا سہی لیکن عارضی کیوں  ہیں  .. دائمی کیوں نہیں...اور پھر سب کچھ ویسا ہی ہوجاتا ہے..جیسے  پہلے  تھا ...وہی بے بضاعتی، وہی نفس پرستی، وہی بے نیازی، وہی مادہ پرستی، وہی بد عنوانی، وہی سیاسی و ملکی اور ذاتی خود غرضیاں.وہی مفادات  و سیاست ..ساری خوبیاں پھر دھواں دھواں  ہوجاتی ہیں .....بچہ کیا کرے... انسان جو ٹہرا ... اور وہ بھی اکیسویں صدی کا .....وہ  علت و معلول کی کسوٹی سے سب کچھ  اخذ کرسکتا  ہے،   اور کارخانہ حیات کے تمام جاندار اور بے جان پرزوں کو مٹی مٹی  کردیتا  ہے،   اور پھر علوم و فنون کی  منزلیں طے  کر  انہیں  پانی پانی کردیتا ہے ...اور بالآخر دھواں دھواں .... وہ کیوں  اور کیسے کی کنہ  تک تو بہ آسانی  پہنچ جاتا  ہے.لیکن بھول جاتا ہے کہ یہ لا متنا ہی مادہ کی شکل میں دھواں کہاں سے آیا؟ کس نے بنایا .....اسکا علم و فن اسے پھر مادہ کی بھول بھلیوں میں لے جاتا ہے ... مادیت پرستی  کی بھول بھلیوں میں...جسکے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتا.... بلکه سوچ ہی نہیں پاتا .... مہذب و متمدن جو ٹہرا.... لیکن اندر کہیں اسکا تحیر باقی رہتا ہے... تحیر جو ضمیر سے جڑا ہے....اور ضمیر روح سے... روح کو سب کچھ پتہ ہے ... وہ عقل و خرد سے بے نیاز  ہے...بس بول نہیں پاتی.....بتا نہیں سکتی... یہ اختیار اسے نہیں ہے......ورنہ تو سارے عقدے حل ہو گئے ہوتے...عقل و خرد کے پاس روح کی علت و معلول نہیں ہے،  اور وہ اسکے وجود سے نہ انکار کر سکتی ہے اور نہ  ہی اقرار ....اور نہ ا نکار ثابت  کرسکتی اور  نہ ہی اقرار...روح صرف ایمان کو جانتی ہے....اورایمان علت و معلول کا محتاج نہیں ہوتا .... ایمان صبر و تحمل کا پیکر ہوتا ہے ... دائمی مساوات، بھا ئی چارگی اورانسانیت کا، درد مندی کا، احسان و شکر کا..وحدانیت کا....ایمان لا فانی ہوتا ہے....ایمان جو درد کو سمجھتا ہے اور دعا بن جاتا ہے... ایمان جو علم و فن و ادب کی طرح دھواں نہیں ہوجاتا....  مکر و غرور سے پاک ہوتا ہے...... خود غرضی اور انا و پندار سے پاک ... توہم پرستی اور ایسی تمام برائیوں سے پاک..ایمان جو مختلف انسانی رگوں کو پھڑپھڑاتا رہتاہے.....انسانی خوبیوں کو جگاتے رہتا ہے .... ایمان کو پتہ ہے دھویں کے بعد کیا ہے... حیات و ممات کے بعد کیا ہے..اور ان سے پہلے کیا تھا ....عدم کیا ہے.... طاقت و قوت دراصل کس کی ہے ....عدم نفی ہے تو ثبات کیا ہے...... ثبات کسے ہے...... باقی کون ہے  کون تھا اور  کون رہے گا.....لیکن پھر وہی تک بندی کہ بچہ آخر کو انسان ہے.... اور انسان آخر کار بچہ ہی ہے... قدرت کے سامنے ....اسکی طاقت و قوت کے سامنے ..وہ لا محدود طاقت و قوت  جسے وہ سائینسی   علوم و فنون کے  ترازو پر آسانی سے تول تو لیتا ہے، لیکن اسے   سائینٹفک انرجی سے تعبیر کر کے محدود کردیتا ہے.......

سب کچھ دھواں ہورہا ہے اور یونہی ہوتا رہے گا...جب تک ایمان کا اجتماعی  ہمہ وقت  قیام نہیں ہوتا....جب تک ایمان مجسم دعا نہیں بن جاتا اور  دعا مجسم ایمان نہیں ہو جاتی ... پھر آفات نا گہانی بھلے ہی  مشیت الہی کے تحت وارد ہوتی رہے...اور کارخانۂ حیات میں انسان با اختیار ہو کر بھی یونہی  بے اختیار رہے...... خود کار مشینی پرزوں کی طرح بھلے ہی مجبور و بے بس رہے..... لیکن اسے اینرجی یا طاقت و قوت کا اصل سرچشمہ کہاں ہے  اور کس کا ہے یہ معلوم ہونا چا ہیے....جب تک اسے یہ نہیں معلوم ہوتا عقل و خرد کی انتہا دھواں دھواں ہوتی رہے گی...زلزلے اور دیگر آفات ناگہانی یونہی آتی رہی ہیں اور آتی رہیں گی ....یہ اسوقت بھی آیا کرتی تھیں  جب بچے کو اینرجی کی حجہ  بھی نہیں پتا تھی، تابکاری کا نام و نشان نہیں تھا.....تحقیق و مشاہدات نے،  ترقی و تمدن نے اور  بارود و اسلح کی صنعتوں نے نظام قدرت کو چھیڑا نہیں تھا ..... تعمیراتی  منصوبوں نے  زمین کی چھاتی  میں سوراخ نہیں کیے   تھے  ..پہاڑوں کے  وقار  کو پارہ پارہ نہیں کیا  گیا تھا ،  دریاؤں   کو بربادی پر آمادہ  نہیں کیا گیا تھا اور جنگلوں کو بے لباس نہیں کیا گیا تھا، اور نہ ہی انسان  نے سائینسی   طاقت و قوت اور شان و شوکت  کے نشے میں قدرت  کو للکاراتھا.... قدرت کے پاس  اپنی نشانیوں کو نمایاں کرنے اور  بچے  کو سبق سکھانے  کے  لئے بے شمار ترجیحات   تھیں اور ہمیشہ  رہتی  ہیں ... تب بھی زلزلے آتے تھے.... لیکن  اس وقت بھی آج  ہی کی طرح جرم و گناہ اور بے ایمانی کا بول بالا ہوا کرتا تھا...اس وقت بھی ا نسان  مغرور  ہوا جاتا تھا  اپنے جہل  میں،  جیسے  آج مغرور ہوا جاتا ہے اپنے  علم  میں..... ساینسی علوم غالیہ اور ادب عالیہ چاہے اپنی اپنی توجیہات پیش کرتے رہیں جو بجا  ہیں ،   چاہے سیاست و حکومت اور عوام یونہی عارضی امداد باہمی کا مظاہرہ کرتے رہیں  یہ بھی بجا سہی ......مگر بچہ یونہی پریشان رہے گا...  نظام قدرت کے سامنے ...اسکی لا محدود قوت   کے سامنے.. انسان آخر بچہ  ہی توہے .....پتا  نہیں  یہ کب بڑا ہوگا...با ایمان اور ہونہار ہوگا!!...

گردش ایام میں فکر و ادب کی گرمیاں و شوخیاں

گردش ایام میں فکر و ادب کی گرمیاں و شوخیاں
زبیر حسن شیخ        zubair.ezeesoft@gmail.com  
اہل حق یہی کہتے آئے  ہیں کہ دیکھ ! اے گردش ایام ہم حقیقت ہیں ۔تری مجال کیا کہ تو ہمیں بیگانہ کردے۔ گرمیاں اور شوخیاں فطرت و ادب کا خاصہ رہی ہیںاور جب تک فطرت اور ادب کا ظہور ہوتا رہے گا   یہ گرمیاں اور شوخیاں باقی رہینگی۔فطرت اور ادب کا ساتھ ازلی ہے۔اور فطرت سے اعلی و ارفع ادب کوئی تخلیق نہ کرسکا کہ جہاں ادب اپنے منتہائے کمال پر ہونے سے خود نازاں رہتا ہے......جہاں افکار و خیال کو نور میں ڈھالنے کے نسخے بتائے گئے ہیں۔ جہاں سمندر کو کوزے میں اتارنے کا فن سکھایا گیا ہے اور قطرہ کو صدف میں سمو کر موتی بنانے کا ہنر بھی۔جہاں بلند نگہی اور قلندری کے آداب بھی بتائے گئے ہیں اور شہریاری کے رموز و نقاط بھی۔جہاں دنیا کو مقام جستجوئے حق اور توکل و قناعت کی منزل قرار دیا گیا ہے۔جہاں انسان کو سوچنے اور ماننے پر مجبور کردیا جاتا ہے کہ وہ اگر خود آیا نہیںہے اور لایا گیا ہے، تو کیوں لایا گیا ہے ؟اور بغیر بلائے اب جا بھی نہیں سکتا، تو جب بلایا جائے گا تو کیا ہوگا؟ پھر انکے جوابات بھی دئے جاتے ہیں۔جہاں احسانات کی قدر کرنا سکھایا جاتا ہے۔جہاں انسانی رشتوں کے علاوہ دیگر تمام مخلوقات کے روابط و ضوابط بتا ئے گئے ہیں۔جہاں نظام حیات کے بنیادی اصول و قواعد بھی متعارف کرائے گئے ہیں اور فرد و جمع ، تخصیص و تعمیم، نصوص و مباحات ، رخصت و تحریم ،   اضطرار و  ترجیحات  کے قواعد بھی۔جہاں علوم و فنون کو لا محدود کر انہیں شر و خیر میں تقسیم کردیا گیا  ہے اور انکی بنیاد اخلاقیات اور ایمانیات پر قائم کی گئی ہیں۔ جہاں احکامات کو ماننے نا ماننے کے اختیارات دئے گئے ہیں وہیںپند و نصائح اور تلقین و تبلیغ کے بھی، بلکہ کارخانہ حیات کے لئے انکو واجب قررار دیا گیا ہے ۔جہاں محبت ہو یا جنگ، عشق حقیقی ہو یا مجازی، دوستی ہو یا دشمنی سب کے قرائین رقم کر دئے گئے ہیں۔ جہاں عدل و انصاف کو نظام حیات کے علاوہ عشق کی گرمیوں اور حسن کی شوخیوں کے لئے بھی ضروری بتایا گیا ہے۔جہاں آتش نمرود میں بے خطر کود جانے کو عشق حقیقی مانا گیا۔جہاں متاع حیات کی قربانی کو رب کی دوستی سے موسوم کیا گیا، اور فرزند کے گلو پر خنجر رکھ کر دوستی میں رکھ رکھاؤ کے آداب سکھائے گئے۔جہاں حسن کو بہ مثل لولوالمقنون اورعروبا اترابا لازوال کردیا گیا۔جہاں زلیخا کا عشقِ مجازی حسنِ یوسف کے سامنے مجبور نظر آتا ہے، اور یوسف کا عشق حقیقی حصار خیال یار میں تحفظ پاتا ہے۔جہاں عشق جب دیدار کا تقاضا کرتا ہے تو تجلی سے سرشار کر دیا جاتا ہے۔جہاں محبوب کی دلجوئی کی خاطر مکاں و لا مکاں کے فاصلے ختم کر دئے جاتے ہیں اور پھر وصال یار کے رموز متشابہات میںپنہاں کردئے جاتے ہیں، اور عشق کو معراج عطا کردی جاتی ہے۔الغرض ادب کی ابتدا اور انتہا سب کچھ فطرت سے ہے اور قرآن اس کا مظہرہے۔ نبئ مرسل  مجسم قرآن ہے اور اولین قارئین و سامعین کرام عینی و قلبی شاہد۔جو عشق حقیقی کی مثال قائم کر گئے۔یہی وہ ادب ہے جو لازوال ہے۔اب وہ اہل منتہائےادب نہ رہے اور نہ ہی پھر ان سا کوئی ہوا.... ہاں کچھ ایسے باکمال ضرور گزرے جن میں انکا پرتو نظر آیا اور جنہوں نے اس بحر بیکراں میں غواصی کی اور عشق حقیقی کو گرمایا، اور اس بحر بیکراں سے اٹھتی موجوں کے حسن میں پوشیدہ شوخیوں کو اجاگر کر دکھایا۔ اور اس طرح عشق میں وہ گرمیاں اور حسن میں وہ شوخیاں باقی رہ گئیں جو انسانی تہذیب و تاریخ میں ثبت ہوئیں۔یہ تو عشق حقیقی کی داستانیں ہوئیںجوہمیشہ سے حسن و عشق کی بھول بھلیوں سے دور صراط مستقیم پر قائم و دائم رہیں۔لیکن عشق مجازی جسکے بے شمار رخ ہیں اور جن میں اکثر و بیشتر اب مسخ ہورہے ہیں۔ جو اکثر صراط منحنی پر لے جانے کا با عث بنتے رہے ہیں۔ عشق کے نام پر دنیا کی ہوس ، دولت و شہرت کی اور پھر حسن کی ۔جس میں کیا خاص و عام اور کیا جاہل و فاضل، اکثر کو لٹتے دیکھا گیا ۔اورآئے دن یہ خبر آتی رہتی ہے کہ۔ عجب ایک شور سا اٹھتا ہے کہیں ۔پھر کوئی شخص لٹ گیا ہے کہیں۔اور اکثرسنا گیا کہ۔حسن پہ ہر کوئی مرتا ہے یہاں۔عشق میں کب کوئی مرا ہے کہیں۔الغرض انسان عارضی بلکہ لمحاتی خوشیوں کا مارا ہوا جا  رہا ہے ۔کیا کیا جائے کہ عشق کے جراثیم موروثی ہیں، اور قدرت کے ودیعت کردہ ہیں، اور جو منفی اور مثبت دونوں صورت میں پائے جاتے ہیں۔ یہ تو انسان پر منحصر ہے کہ وہ کسے پروان چڑھاتا ہے اور کس کو کس پر حاوی کرتا ہے۔ بس اسی سے اسکے اندر عشق حقیقی اور مجازی میں جنگ جاری رہتی ہے۔ کبھی ادب کا، کبھی خرد کا اور کبھی جنوں کا، اور کبھی رسم و رواج کا سہارا لے کر عشق مجازی کو حقیقی بتایا جاتا ہے، یا عشق مجازی کو عشق حقیقی کے لئے ضروری سمجھا جاتا ہے ۔اور انسان یہی سمجھتا ہے کہ ۔ "نشّہ عشق میں ہر چیز اڑی جاتی ہے ۔کون ذرہ ہے کہ سر شار محبت میں نہیں"
اہل حق اپنے افکارات اور تحریر میں آج بھی بولتے ہیں کہ نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں۔اہل فکر کی پیشانیاں اور اہل نظر کی آنکھیں آج بھی پوچھتی ہیں کہ یہ سب کیا ہورہا ہے۔ منعم کے پاس رب کے سوا سب کچھ ہے، مفلس کے پاس رب کے سوا کچھ بھی نہیں ۔روزگار کے مسائل روز روز کے مسائل بن گئے۔ کہیں دہقاں کو روٹی تو کہیں روٹی کو دہقاں میسر نہیں۔خوشۂ گندم کو جلانے کی اب  ضرورت بھی نہ رہی کہ وہ سرکاری گوداموں میں لا پرواہی کی آگ میں جل رہا ہے۔اہل دانش خموش ہیں کہ کسان کی خود کشی جرم ہے تو پھر سزا کیا ہے۔زندگی خود کشی کا قرض ہے یا خودکشی زندگی کا۔ سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔آئینہ کرچی کرچی ہورہا ہے کہ شکستہ ہوتا تونگاہ آئینہ ساز میں عزیز بھی رہتاجو شیشہ گر تھے وہ بھی اب نہیں رہے۔اور اب آئینوں کو ٹوٹنے کی عادت سی ہو گئی ہے۔موسم خزاں میں تو خزائیں آتی ہی ہیں اب  موسم بہارمیں بھی آتی ہیں ۔عوام کا ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا، پھر بھی مدعا ادا نہیں ہوتا۔دولت میں جمہوریت کی اور جمہوریت میں دولت کی گنتی جار ی ہےجمہوریت معیشت کے ہتھے چڑھ گئی ہے اورمعیشت سیاست غلیظہ کے۔ جنگ سے امن کو ممکن بنایا جارہا ہے اور امن و امان سے جنگ کو۔ایجاد ضرورت کی ماں ہوئی اور ضرورت دولت کی۔صارفیت سے روزگار اور روزگار سے صارفیت کا سلسلہ نسب قائم ہورہا  ہے ۔غربت بہ حالت مجبوری چیتھڑے زیب تن کرتی ہے تو امارت بہ حالت بدمستی و خرمستی ۔عورت کے لفظی معنی بدل دئے گئے اور اسکی کنہ ہی انسان کو یاد نہ رہی۔اور "عورات النسا" کو عریاں کردیا گیا۔
فرنگی ذہن کی عجب اختراع ہے   ہیں عریاں اور دامن بچانے چلے ہیں
عورت کے لفظی معنی بدل کر       چھپانا ہے جو وہ دکھانے چلے ہیں
تکالیف سارے جہاں کی  اٹھا کر   عورت کے سر یہ منڈانے چلے ہیں
ذرا بوجھ کا تم تناسب نکالو!!   جمع کو ضرب سے بٹانے چلے ہیں
دیا کیا ہے تم نے عورت کو اب تک     مہ خانے چلے کار خانے چلے ہیں
الغرض اب آفتیں بھی ناگہاں نہیں آتیں بلکہ ماہرین انکی آمد کی خبر دے دیتے ہیں۔ اور انسان اپنی  بربادی کا منتظر رہتا ہے۔خوشی سے کوئی خوش نظر نہیں آتا۔ محبت میں بد گمانی اور بد گمانی میں محبت کی جا رہی ہے ۔دل لگی میں عشق اور عشق میں دل لگی ہورہی ہے ۔عشق آج بھی ام الکتاب ہےاور علم آج بھی ابن الکتاب لیکن کیا کیجیے گا کہ دولت اب دخترتیز طرار بن کر بنت علم و فن ثابت ہورہی ہے۔ اب دولت اور علم ایکدوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہوئے۔ قانون اندھا بنا  دیا گیا  ہے، مظلوم انصاف سے محروم ہیں اور رکھوالے معذور و اپاہج۔ قانونی موشگافیوں سے شریف کو مشکوک، معصوم کو خطا کار ،مظلوم کو مجرم بنایا جارہا ہے اور مجرم با عزت بری ہے۔ ظلم عدل کا باپ بن گیا ہے اور بقول شاعر بچے جن رہا ہے۔پیشہ ور شوریدہ سر ہوا چاہتے ہیں اور شوریدہ سر پیشہ ور۔جس کی گائے بھینس ہے اب اسی کی لاٹھی ہے۔انسان سماجی جانور ہوا کرتا تھا مگراب سیاسی ہورہا ہے اور اکثر سیاستدانوں کو دیکھ کر اس کا یقیں پختہ ہوا جاتا ہے۔جمہوریت اپنے تین کھوئے ہوئے ستون تلاش کر رہی ہے جبکہ چوتھا ستون دیمک زدہ ہے اور وہ اس پر ٹیک لگائے رورہی ہے، ابھی گری اور تبھی۔ صحافت مجبور کر دی گئی ہےاور اکثر کی بلاغت کو اشتہارات نگل گئے۔ اب تو عشق سے کھیل کیا جا رہا ہے اور کھیل سے عشق ۔عشق ناتواں اور حْسن پہلوان ہوا جاتاہے۔ لوٹ مار سے عزت اور عزت سے لوٹ مار کی جارہی ہے۔ اب رشتوں کا احترام باقی رہا نہ احترام کا رشتہ۔ تہذیب کے رشتوں سے رشتوں کی تہذیب جا تی رہی۔اب وصل کی شب ہی رشتوں کا وصال ہوا جاتا ہے۔ اب 'من تو شدی، تو من شدی کے قصے عارضی ہوتے ہیں۔چند دنوں کے بعد ہی "من دیگری تو دیگری" کا لمحہ آجاتا ہے۔بلکہ کبھی کبھی تو چند گھنٹوں کے بعد ہی یہ جدید طرز ازدواج تہذیبی زوال کی منہ بولتی تصویر  ہے۔ اور اس سے بھی ایک قدم آگے جا کر اس طرز ازدواج میں ہم جنس پرستی کو شامل کر ایک ہی جست میں اخلاقی زوال کے سارے مراحل طے کر لئے گئے ہیں ۔شادی بیاہ، نکاح، گھر بار، خاندان ، طلاق ، اخراجات ، انحصار ، رفاقت سب سے انسان جان چھڑانا چاہتا ہے ۔سائینس کی مانیں تو پتھروں کے دور میں ایسے رشتے عام ہوا کرتے تھے ۔اب انسانوں کا دور ہے اور پتھروں کی بستی ہے ۔یہ مادی دورعجیب  بھی ہے اور غریب بھی ۔تجارت میں فائدہ نہیں ہورہا لیکن فائدے میں تجارت ہے۔ قرض کی زندگی میں زندگی کا قرض اتارنا مشکل ہواجارہا ہے۔کہیں بندگی میں عیش ہے اور کہیں عیش میں ہے بندگی۔ نہ عشق حقیقی رہا نہ ہی مجازی۔بس کچھ گرمیاں اور کچھ شوخیاں بصورت فطرت و ادب باقی ہیں، اور جو ثقہ اہل علم و نظر اور خبر و نشر کا سہارا ہیں۔

کارٹون شائع کرنے والی براڈ مائنڈیڈ ایڈیٹر کو بڑھاوا دینے کی کوشش

ابو عدنان ۔ ممبئی

اتر پردیش کے ایک ملٹی ایڈیشن اخبار اودھ نامہ کے ممبئی ایڈیشن کی نام نہاد ایڈیٹر جس نے نبی ﷺ کا وہ گستاخانہ کارٹون شائع کیا تھا جسے فرانس کے دریدہ دہن میگزین چارلی ہیبڈو نے شائع کیا تھا اور اس پر پوری دنیا کے مسلمان سراپا احتجاج تھے ۔دوسرے دن حالات کو بگڑ تا دیکھ اس نے اخبار کے اول صفحہ پر معذرت نامہ شائع کیا تھا ۔اس طرح کے معذرت نامے صرف دنیا وی قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لئے ہوتے ہیں ۔اس کی شرعی حیثیت کچھ نہیں ہے ۔شریعت میں شاتم رسول کی کی سزا صرف موت ہے الا یہ کہ وہ اس فعل قبیح سے توبہ کرلے اور اس پر دل سے شرمندہ ہو تو اللہ بڑا توبہ کرنے والا ہے ۔لیکن یہ باتیں اس کے چال ڈھال اس کے بات برتاؤ سے ظاہر ہونی چاہئے ۔جبکہ اس کے چال ڈھال سے یہ ساری باتیں ظاہر نہیں ہوتیں ۔تسلیمہ نسرین کی ’لجا ‘ میں اسے کوئی کمی نظر نہیں آتی ۔نہال صغیر کہتے ہیں کہ جس وقت اس نے مجھ سے کہا تھا کہ اس ناول میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جس سے اس کی اسلام دشمنی ظاہر ہو میں نے اس سے اس وقت کہا تھا اگر آپ لجا پڑھ چکی ہیں اور اس میں کوئی کمی آپ کو نظر نہیں آئی تو ایک بار اور پڑھ لیں ۔لیکن ظاہر سی بات ہے کہ وہ خود اسی ملعونہ ذہنیت کی تھی اور ہے اس لئے اسے اس کتاب میں کوئی خرابی نظر نہیں آئی اصل میں وہ اسی قبیلہ سے تعلق رکھتی ہے تو اسے اپنے قبیلہ والوں میں کوئی کمی کیوں نظر آئے گی۔
مذکورہ معاملہ میں امت کی طرف سے سوائے ایف آئی آر درج کرانے کے اور کوئی احتجاج یا کورٹ میں انٹروین پٹیشن وغیرہ داخل نہیں ہوا جس کے نتیجہ میں اس کی گرفتاری تک نہیں ہوئی ۔ صرف ایک دن جبکہ ممبرا میں تھانہ کے سامنے کچھ تنظیموں نے احتجاجی دھرنا اور بھوک ہڑتال کیا تھا تب پولس نے دباؤ کے تحت چند گھنٹوں کے لئے اسے حراست میں لیا گیا ۔اگر اسی طرح کا دباؤ مسلسل ڈالا جاتا تو وہ آزادانہ طور پر نہیں گھوم رہی ہوتی ۔اگر امت کی جانب سے اس کے مقدمہ میں کورٹ میں انٹروین پٹیشن داخل ہوتا اور مسلمانوں کا وکیل ہوتا تو شاید اس نام نہاد براڈ مائنڈیڈ ایڈیٹر گستا خ رسول ﷺ کچھ سزا ملتی ۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا اور اب تو ہائی کورٹ میں جج نے اسکے مقدمہ کی طویل تاریخیں دینی شروع کردی ہیں اب اس کے مقدمہ کی تاریخ ۱۵ ؍جون ہے ۔کچھ تاریخوں کے بعد اسے ختم کردیا جائے گا اور وہ ایڈیٹر مسلم معاشرے میں گھل مل کر تسلیمہ نسرین کی راہوں کی مسافر بنی رہے گی اور نئی تسلیمہ اور شیریں کو جنم دیتی رہے گی ۔یہ باتیں یونہی ہوا میں نہیں کہی جارہی ہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک ٹھوس حقیقت ہے ۔اس گستاخ ایڈیٹر کی اس معاملے میں سب سے زیادہ مدد ایک اردو کے سب سے پرانے اخبار کے مالک و ایڈیٹر نے کی میڈیا میں اسے جو شہرت ملی اور اسے مظلوم بنا کر پیش کیا گیا وہ سب اسی اخبار کے مالک کا کارنامہ تھا ۔اب اس اخبار کے مالک نے اس پر ایک احسان اور کیا ہے کہ اخبار کے ہفتہ واری ادبی کالم کی مرتبہ اسے بنایا ہے اور اندنوں کے نام سے اس کے کالم کو بھی جگہ دی جارہی ہے ۔لیکن امت میں کہیں کوئی ہل چل نہیں ۔وہ قوم کے ٹھیکیداروں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے اور قوم کے ٹھیک دار اس کے آستانے پر حاضری دیتے ہیں ۔قوم کے ٹھیکیدار سے ایک بات یاد آئی ،جس دن یہ کارٹون شائع ہوا تھا اس دن ایک رپورٹر نے ایک ایسے ہی ٹھیکیدار کو شام کے چار بجے فون کیا تو انہوں نے اس معاملہ سے لا علمی ظاہر کی ۔یہ ہیں قوم کے ٹھیکیدار جن کا ایک زمانہ مداح ہے ان کی بے خبری کا یہ عالم ہے ۔اسی رپورٹر نے شام کے چھ بجے دوبارہ فون کیا تو ان کا فون بند تھا ۔ایک دوسرے بڑے اخبار کے رپورٹر نے رات گئے غالباً گیارہ بارہ بجے تک فون کیا تو انہوں نے کہا کہ ’’ارے بھائی میں نے بہت سنھبالا ورنہ آگ لگ جاتی ‘‘۔لیکن آگ اگر بجھادی گئی تو کم سے کم آگ لگانے اور مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی میں کیا قباحت تھی ۔جبکہ وہی مذکورہ ٹھیکیدار اور ان کے حالی موالیوں نے ایک اخبار والے پر صرف اس لئے کئی ہتک عزت کا مقدمہ کردیا جس نے ان کے خلاف کوئی خبر شائع کردی تھی ۔یعنی نبی ﷺ کی عزت و تکریم صرف زبانی اور اپنی عزت کے لئے نامی گرامی اور مہنگے وکیل کے ذریعہ فوری مقدمہ اور گرفتاری کے لئے دباؤ یہ ہے کتھنی اور کرنی کا فرق ان قوم کے ٹھیکیداروں میں۔
ایک خاتون قلم کار جو کہ خواتین کے مسائل پر لکھا کرتی ہیں اور مذہبی رجحان رکھتی ہیں نے اپنے وہاٹس ایپ گروپ پر کسی کے پوسٹ کے جواب میں اسے ملعون لکھ دیا تو کچھ لوگ ان سے ناراض ہو گئے کہ اسے ملعون مت کہئے کیا پتہ کہ کل وہ توبہ کرلے ۔یہاں میرا کہنا اس سلسلے میں یہ ہے کہ آج وہ ملعون ہے تو ملعون ہے کل اگر وہ توبہ کرلیتی ہے اور اس کے رہن سہن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ واقعی اس نے توبہ کرلیا ہے تو ہمیں بھی اس کو ملعون کہنے سے توبہ کرلینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہوگا۔لیکن ابھی کے حالات تو یہ ہیں کہ اس کے رہن ساہن چال ڈھال سے یہ بالکل بھی نہیں لگتا کہ اس نے توبہ کرلیا ہے ۔بلکہ اس نے کچھ ہفتہ قبل تک تو میڈیا کو انٹر ویو دینا اس میں اپنی مظلومیت کا رونا رونا اور اپنے کارٹون کی اشاعت کے لئے جواز پیش کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ۔ایک بات اور ذہن نشین رہے کہ آر ایس ایس کے ترجمان پانچ جنیہ نے اس کا کئی صفحات پر مشتمل اسٹوری شائع کیا ہے ۔ اس میں بھی اسے مظلوم بنا کر پیش کیا گیا ہے ۔اب لوگ خود ہی فیصلہ کرسکتے ہیں جس کی حمایت آر ایس ایس کرے وہ کیسا ہوگا اس کی خصلت اور ذہنیت کیسی ہو گی ؟اب بھی وقت ہے کہ امت ہائی کورٹ میں ۱۵؍جون کو اس کے مقدمہ میں انٹر وین کرے اور اگر یہ نہ کرسکیں تو اتنا تو ضرور ہو سکتا ہے کہ اس کو تاوقتیکہ وہ توبہ نہ کرے مسلم کمیونٹی کا حصہ بننے سے روکیں ۔لوگوں میں اس کے فعل قبیح کو مشتہر کریں کہ اس نے کتنا گھناؤنا جرم کیا ہے اور کیسی کیسی کالی بھیڑیں امت میں ایسی ہیں جو اس کے ساتھ ہیں کچھ کھل کر اور کچھ خفیہ طور پر ۔اللہ ہم لوگوں کو اپنے اور اپنے رسولﷺ کے دشمنوں کا مقاطع کرنے کی ایمانی قوت عطا کرے۔آمین

کیا ہے تو نے متاعِ غرور کا سودا

کیا ہے تو نے متاعِ غرور کا سودا


اوریا مقبول جان
کس قدر حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ ہم جسے حقائق کی دنیا کہتے ہیں اور جس میں کامیابی و ناکامی پر قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں رقم کرتے ہیں میرا اللہ اسے ’’متاعِ غرور‘‘ یعنی دھوکے کا سامان کہتا ہے۔ یہ دنیا اگر کسی سیاستدان، بادشاہ، سائنسدان، دانشور یا کالم نگار نے تخلیق کی ہوتی تو میں یقیناً اسے حقائق کی دنیا تسلیم کر لیتا اور اپنا تمام ماتم دنیا میں کامیابی اور ناکامی سے منسلک کر دیتا۔ لیکن میں کیا کروں، میرا کامل ایمان ہے کہ یہ دنیا اللہ تبارک و تعالیٰ نے تخلیق کی ہے اور وہ اس دنیا کی اس سے زیادہ تعریف نہیں فرماتا کہ یہ دھوکے کا سامان ہے۔ سید الانبیاء ﷺ نے اس دنیا میں رہنے، زندگی بسر کرنے یا ایک معلوم وقت گزارنے کے لیے اس دنیا کی جو تعریف کی ہے اور جس طرح اس کی بے وقعتی کی طرف اشارہ کیا ہے اس سے خوبصورت اس دنیا کو بیان ہی نہیں کیا جا سکتا۔
آپؐ نے اسے ’’عابر السبیل‘‘ یعنی عارضی پڑاؤ، ٹرانزٹ لاؤنج “Transit Lounge” کہا ہے۔ اس دنیا میں آنے سے پہلے بھی صدیوں پر محیط ہماری زندگی تھی اور اس دنیا سے جانے کے بعد بھی ایک لامتناہی زندگی ہمارا مقدر ہے اور ہم ایک تھوڑے سے وقفے کے لیے اس عارضی پڑاؤ یا ٹرانزٹ لاؤنج میں آئے ہیں۔ اللہ نے ہمارا یہ سفر اور یہ عارضی پڑاؤ ایک خاص مقصد کے لیے تخلیق کیا ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ ’’ہم نے موت اور حیات کو تخلیق کیا ہے تا کہ دیکھیں کہ تم میں سے اچھے اعمال کون کرتا ہے‘‘ (الملک)۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اچھے اعمال کی تعریف میں نہ عبادات آتی ہیں اور نہ ہی دنیا کی مادی کامیابی۔ عبادات تو ایک فرض ہے کہ جسے آپ نے اللہ کے حکم کے مطابق ادا کرنا ہے جب کہ ’’اچھے اعمال‘‘ تو آپ کا وہ تمام طرز عمل ہے جو آپ اس ’’عارضی پڑاؤ‘‘ میں اختیار کرتے ہیں۔
آپ جھوٹ نہیں بولتے، دھوکا نہیں دیتے، وعدہ خلافی نہیں کرتے، غیبت نہیں کرتے، قتل نہیں کرتے، ملاوٹ نہیں کرتے، لوگوں کا مال ہڑپ نہیں کرتے، اپنے کمائے ہوئے مال سے قرابت داروں، یتیموں، بیواؤں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں، آپ والدین کی خدمت کرتے ہیں اور ان کے سامنے اف تک نہیں کرتے، آپ اولاد کی نیک اور صالح اصولوں پر پرورش کرتے ہیں، آپ زنا نہیں کرتے، آپ غیر فطری فعل سے نفرت کرتے ہیں، غرض اعمال صالح کی ایک طویل فہرست ہے جو اللہ اور اس کے رسولﷺ نے بتائی ہے اور اسے ہی دنیا میں کامیابی اور ناکامی کا معیار بتایا ہے۔ آج اس ہنستی بستی دنیا کے ہر معاشرے میں انھی اچھے اعمال کو ہی معاشرے کی کامیابی کا معیار سمجھا جاتا ہے۔
دنیا کا کوئی صاحب عقل شخص کسی معاشرے یا سوسائٹی کی خوبصورتی کی تعریف کرتا ہے تو وہ کبھی یہ نہیں کہتا کہ وہاں بلب کتنے بنتے تھے، کاریں کتنی تھیں، پل کس قدر تھے، بلند و بالا عمارتیں کتنی تھیں، بلکہ وہ معاشرے کی خوبصورتی کا معیار اس ماحول کی انسانی اقدار سے لیتا ہے۔ وہاں چوری، ڈاکہ، زنا بالجبر، دھوکا، فریب، جھوٹ، قتل، اغوا اور دیگر جرائم کسقدر کم ہیں، وہاں انسان نے انسانوں کی فلاح کے ادارے کس قدر قائم کر رکھے ہیں۔ وہ اپنے بوڑھوں، معذوروں، یتیموں اور بیواؤں کا کس طرح خیال رکھتے ہیں۔ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ انسان آج کے اس ترقی یافتہ دور سے کہیں زیادہ بہتر طریقے سے یہ اچھے اعمال ان معاشروں میں کرتا تھا جنہوں نے موجودہ شہری زندگی یعنی ’’اربن لائف‘‘ کی شکل تک نہیں دیکھی تھی اور آج بھی دنیا بھر کے دیہی معاشرے انسانی ہمدردی اور اچھے اعمال میں ترقی یافتہ دنیا سے کہیں آگے ہیں۔
دنیا کی کسی سائنسی اور مادی ترقی کا کوئی تعلق انسان کی اخلاقی اور معاشرتی ترقی سے نہیں ہے بلکہ دنیا میں کارپوریٹ کلچر نے بدترین اخلاقیات کی بنیاد رکھی ہے۔ اپنی کاروباری سلطنت کی وسعت کے لیے انھوں نے جنگیں کیں، ملکوں پر قبضے کیے، دھوکے اور فراڈ سے مال بیچ کر کمپنیوں کے سرمائے میں اضافہ کیا، اسی زمین پر کروڑوں لوگوں کا خون بہایا اور آج بھی بہایا جا رہا ہے۔ پوری انسانی تاریخ میں اس قدر انسان قتل نہیں ہوئے جتنے موجودہ مادی ترقی کی دوڑ میں ہوئے۔ جنگ عظیم اول سے لے کر عراق کی جنگ تک کیا ٹیکنالوجی انسانوں کی فلاح، امن اور سکون کے لیے استعمال ہوئی۔ ہر گز نہیں۔ بلکہ یہ صرف اور صرف انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے استعمال ہوئی۔
کیا ہم کسی عارضی پڑاؤ یا ٹرانزٹ لاؤنج میں مستقل پڑاؤ کا رویہ رکھتے ہیں۔ کیا ہم کسی ایئر پورٹ، ریلوے اسٹیشن، یا بس اڈے پر کچھ دیر کے لیے رکیں اور ہم سب کو علم ہو کہ ہماری بس، ٹرین یا جہاز نے کسی بھی وقت آ جانا ہے اور ہم نے چند لمحے اس ٹرانزٹ لاؤنج میں گزارنے ہیں تو ہمارا رویہ کیا ہو گا۔ ہم زیادہ سے زیادہ ایک دوسرے کو آرام پہنچانے کی کوشش کریں گے، کسی چیز کو اپنی مستقل ملکیت تصور نہیں کریں گے، ہم بس، ٹرین یا جہاز پر سوار ہوتے ہوئے پریشان نہیں ہوں گے، اس لیے کہ ہمیں یقین ہو گا کہ اگلی سواری پر میرے باپ بھائی، بیوی بچوں اور دوستوں نے بھی میرے ساتھ آ کر مل جانا ہے اور جو پہلے چلے گئے ہیں، میں ان سے جا کر ابھی ملاقات کر لوں گا۔
ہمیں ٹرانزٹ لاؤنج میں کونسے لوگ زیادہ اچھے لگتے ہیں، وہی جو ہم پر سب سے زیادہ مہربان ہوں، جو اپنی جگہ ہمارے لیے چھوڑ دیں، اپنا آرام ہمارے لیے قربان کر دیں۔ دنیا میں بڑے سے بڑے مادہ پرست کو بھی جب اور جہاں اس بات کا یقین ہو جائے کہ وہ یہاں صرف چند لمحوں کے لیے آیا ہے اور پہلی فلائٹ پر چلا جائے گا تو اس کا رویہ بدل جاتا ہے۔ وہ مستقل رہائش کے بندوبست اور سامان نہیں کرتا۔ ’’متاع غرور‘‘ اور عابر السبیل‘‘ یہ دو تصورات ہیں جو انسانی دنیا کو خوبصورت بناتے اور انسانی کامیابی کے اصول متعین کرتے ہیں۔ دنیا کے ہر مہذب معاشرے میں ہر جائز و ناجائز طریقے سے دولت کما کر اپنی معاشی سلطنت بڑھانے والا محترم نہیں گردانا گیا بلکہ اپنی معاشی سلطنت مستحق افراد میں بانٹنے کے بعد اس عارضی پڑاؤ سے چلے جانے والا قابل احترام تصور ہوا ہے۔
دنیا کی اس حیثیت کو اگر ہم سمجھ لیں تو پھر ہمارے لیے اللہ کی ذات کا تصور اور کامیابی کا معیار سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ اللہ انسانوں کو اپنی ہر نعمت ایک امتحان کے طور پر عطا کرتا ہے۔ امتحان یہ کہ وہ اس نعمت پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اس سے کس طرح خلق خدا کی خدمت کرتے ہیں اور پھر ایسا کرنے پر اس کا وعدہ ہے کہ وہ نعمتوں میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔ مسلمانوں معاشروں اور حکومتوں میں جب یہ چلن عام رہا ان پر نعمتوں کی بارش ہوتی رہی۔ لیکن یہی چلن جب دوسروں نے اختیار کر لیا تو نعمتوں کا رخ ان کی جانب موڑ دیا گیا۔ اللہ کے ہاں کسی بھی معاشرے پر رحمتوں کی بارش ان کی ٹیکنالوجی میں ترقی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اچھے اعمال کی صورت میں ہوتی ہے جو اس دنیا میں انسان کو بھیجنے کا مقصد ہیں۔ خالصتاً مادہ پرستی کی کوکھ سے ظلم، زیادتی، ناانصافی اور جبر برآمد ہوتا ہے جس کا تجربہ آج پوری دنیا کو ہے۔
انسان کی ساری ترقی کا صرف اور صرف ایک ہی اعلیٰ اور ارفع مقصد ہوتا ہے اور وہ ہے پرسکون زندگی۔ اگر وہی حاصل نہ ہو سکے تو ساری جدوجہد ناکام۔ کیا پوری انسانیت کی جدوجہد ناکام نہیں۔ کیا پوری انسانیت بے چینی، بے اطمینانی، خوف، غربت، افلاس، جنگ، جہالت، ظلم اور قتل و غارت سے عبارت نہیں۔ ہر معاشرے کی اپنی بے چینی اور اضطراب ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں کا اپنا اور ترقی پذیر اور پسماندہ ملکوں کا اپنا۔ اس لیے کہ موجودہ دنیا کے ہر تجزیہ نگار، معیشت دان، سیاسی ماہر نے ترقی کا ایک ہی پیمانہ بنا رکھا ہے۔ یعنی مادی ترقی، معیشت، ٹیکنالوجی اور مادی سہولیات میں ترقی۔ یہ ہے متاع غرور کا سودا۔
دھوکے کے سامان سے محبت، دھوکے کے سامان کو ترقی کی معراج سمجھنا۔ یہ دھوکے کا سامان ہر کسی کو اس کے مزاج، حیثیت اور مقام کے مطابق دھوکا دیتا ہے۔ ٹرانزنٹ لاؤنج میں بیٹھے لوگ اپنی فلائٹ کے لیے زیادہ بے چین ہوتے ہیں، انھیں جلد اپنی منزل پر پہنچنے کی دھن مضطرب کر رہی ہوتی ہے۔ ہمیں یقین ہی نہیں کہ ہماری کوئی منزل ہے، ہم تصور کیے بیٹھے ہیں کہ ہماری فلائٹ کینسل ہو چکی ہے۔ ہم ٹرانزٹ لاؤنج سے اسقدر محبت کرتے ہیں کہ ہمیں اسی کے اجڑنے پر اپنی زندگی اجڑنے کا گمان ہونے لگتا ہے۔ اس سے زیادہ دھوکے کا سامان اور کیا ہو سکتا ہے۔ اقبال نے اس قرانی اصلاح کا کیا خوب شعری اظہار کیا ہے؎
کیا ہے تونے متاعِ غرور کا سودا
فریب سود و زیاں لا الہ الا اللہ
----------------------
بشکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

جمہوری ملک کی انتظامیہ ہی نہیں عدلیہ بھی سلیبریٹی کے لئے ہے

نہال صغیر،کاندیولی،ممبئی ۔موبائل: 9987309013
جمہوری ملک کی انتظامیہ ہی نہیں عدلیہ بھی سلیبریٹی کے لئے ہے
اس پورے ہفتہ میں کیا ملکی اور کیا غیر ملکی ہر میڈیا میں بس ایک ہی خبر چھائی رہی اور وہ ہے سلمان خان کے بدنام زمانہ ہٹ اینڈ رن مقدمہ کی سماعت اور تیرہ سال کے بعد اس میں فیصلہ آنے کا ۔ ادھر سیشن کورٹ میں جج نے اسے پانچ سال قید اور ۲۵ ہزار روپئے جرمانے کی سز ا سنائی ادھر صرف دو گھنٹے بعد دو دن کی عبوری ضمانت مل گئی ۔جسے بعد میں ہائی کورٹ نے ۸ ؍مئی کو سیشن کورٹ کے فیصلہ کو اگلی شنوائی تک معطل کردیا ہے ۔مذکورہ فیصلہ اور اس پر ہائی کورٹ کے فوری دو روزہ عبوری ضمانت منظور کئے جانے پر سوشل میڈیا پر کسی نے کیا خوب طنز کیا ہے ’’سلمان کی ہائی کورٹ نے اتنی سرعت سے ضمانت منظور کی جتنی دیر میں عام آدمی کو بھیل(ممبئی کی ایک مشہور ڈش) دستیاب نہیں ہو پاتا‘‘ ۔یہ ملک عزیز میں عدم مساوات پر برملا اظہار ہے ۔اس طرح کے کمینٹ سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ یہاں جمہوریت کے نام پر عام آدمی کتنا مجبور و مقہور ہے جبکہ سلیبریٹی کے لئے سارے راستے کھلے ہوئے ہیں ۔دولت کی ریل پیل میں انہیں حمایت دینے کے لئے لوگ قطار میں نظر آتے ہیں ۔سیاست داں بیورو کریٹ بھی ان کی خدمت کے لئے حاضر رہتے ہیں ۔لیکن یہ تو ایک عام سی بات ہے اور اس پر زیادہ کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن جب عدلیہ اور عدالتی نظام بھی ان سلیبریٹی اور عام آدمی میں فرق کرنے لگے تو یقینی طور پر عوام میں عدالت کا وقار مجروح ہوتا ہے ۔لوگ سوال کر سکتے ہیں کہ اس معاملے میں عدالتوں نے کیا امتیاز برتا ہے ؟ایک سوال ہے اور بظاہر اس سوال میں قوت نظر آتی ہے لیکن صرف سیشن کورٹ میں ہی تیرہ سال لگ جانا اور سزا سنانے کے صرف دو گھنٹے کے اندر ہی ضمانت مل جانا یہ کیا ہے ؟کیا ایک غریب اور عام آدمی اس کا تصور بھی کر سکتا ہے ؟بالکل نہیں ! پھر اسے ہم امتیاز کیوں نہ مانیں ؟
عدالتی نظام کی خرابی ہی کی وجہ ہے کہ لاکھوں مقدمات عدالتوں میں اپنی تاریخ کے انتظار میں ہیں ۔اگر کوئی نئے مقدمات نہیں آئے تب بھی برسوں اسے نپٹانے میں لگ جائیں گے ۔ہمارے یہاں حال یہ ہے کہ ایک عورت وجئے کماری جھوٹے مقدمہ اور پولس کی رشوت خوری اور آرام طلبی کی وجہ سے قتل کے مقدمہ میں جیل چلی جاتی ہے جج اس کے لئے پانچ ہزار کی ضمانت منظور کرتا ہے ۔لیکن اس کے پاس پانچ ہزار روپئے نہ تھے اور نہ ہی کسی نے اس کی مدد کی ۔جیل جاتے وقت وہ حاملہ تھی جیل میں ہی اس کو ولادت ہوئی ۔وہ بچہ (کنہیا)جیل میں ہی پل بڑھ کر بڑا ہو ا اور کماکر پانچ ہزار ضمانت کی رقم جمع کی جب کہیں جاکر انیس سال کے بعد وہ آزاد فضاؤں میں سانس لے سکی ۔وہ آزاد تو ہو گئی لیکن اس کی زندگی کے اکیس سال وہ بہترین ایام اسے کون لوٹائے گا ؟ایک بدنصیب اور جو ہماری عدالتی نظام کی بھینٹ چڑھ گیا کانپور کا محکمہ ڈاک کا ایک ملازم ڈاکیہ جس پر ستاون روپئے ساٹھ پیسے غبن کا الزام لگا کر اس کے سینئر نے اس پر مقدمہ قائم کیا اس کو اس الزام سے بھی پچیس تیس سال کے بعد کورٹ نے بری کیا ۔ لیکن وہ اس درمیان زندگی کے وہ قیمتی لمحات جو اس پر ان الزام کے کلنک کے ساتھ گزرے اس کا ذمہ دار کس کو مانا جائے ؟ایک بدنصیب کوتو بغیر کسی مقدمہ کے صرف تفتیش کے نام پرپولس کے ذریعہ اٹھائے جانے کے بعد جیل کے اندر زندگی کے پینتیس چالیس سال گزارنے پڑے ۔وہ جوانی کے ابتدائی ایام میں جیل گیا تھا ۔پولس عدالتیں اور انتظامیہ سب اسے جیل میں ڈال کر بھول گئے اور زندگی کے آخری ایام میں اسے کسی غیر سرکاری تنظیم کے سروے کے دوران انکشاف ہونے پر رہائی نصیب ہوئی ۔یہ تین مثالیں ہماری انسانی ہمدردی اور انسانی حقوق کی مالا جپنے کی قلعی کو پوری طرح کھول دینے کے لئے کافی ہیں ۔ لیکن یہ تو صرف چند مثالیں ہیں جو کسی ایماندار صحافی کے تگ و دو کی وجہ سے ہمارے سامنے آگئے ورنہ اس ملک کے عقوبت خانوں میں نہ جانے کتنی معصوم زندگیاں ایڑیاں رگڑ رہی ہیں اور حکومت ،اس کی انتظامیہ اور عدالتوں میں سے کسی کو فرصت ہی نہیں ہے کہ وہ ان معصوم زندگیوں کوبچاکر ملک و قوم کی ترقی میں ان کا تعاون لے ۔
دنیا کے نقشے میں اور بہت سے ملک ہیں وہاں کی حکومتوں اور انتظامیہ میں بھی خرابیاں ہوں گی کیوں کہ وہاں بھی انسان ہی بستے ہیں ۔لیکن جس قدر خرابیاں اور عدم مساوات ملک عزیز کا مقدر ہے وہ کہیں اور نہیں ملے گا ۔یقین نہ آئے تو میڈیا کی خبروں کے برعکس کبھی خود سے بھی ایک ملک کادورہ کر آئیں ۔وہاں کی عدالتوں کے بھی چکر کاٹ آئیں ۔وہاں کی جیلوں کو بھی دیکھ آئیں ۔خرابیوں میں اور کوتاہیوں میں ہمارا نمبر اول ہی ہو گا۔یہاں عام آدمی کی خیر خبر لینے والاکوئی نہیں ۔ابھی تک تو عام طور پر میڈیا کے سامنے لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں یہاں کے عدالتی نظام پر پورا بھروسہ ہے ۔لیکن ذرا تنہائی میں کسی غریب اور بے سہارا سے جو کہ مہنگے وکیل کی خدمات لینا تو دور کی بات ہے ان کے دفتر میں جانے کی ہمت بھی نہیں دکھا سکتا اس سے پوچھ لیجئے وہ بتائے گا کہ اسے یہاں کی انتظامیہ اور عدالتوں پر کتنا بھروسہ ہے ۔ سامنے کی مثال سلمان خان کے مقدمہ کی ہے ۔اگر کسی غریب کو سزا سنائی جاتی تو کیا وہ اس پوزیش میں تھا کہ اس کے لئے وکیلوں کی فوج ہائی کورٹ میں اس کی ضمانت کی عرضی لگانے کے لئے موجود ہو تی یا اگر کوئی عام آدمی کو ہی سزا ہوتی اور اس کے پاس اتنی دولت ہوتی تب بھی کیا ہائی کورٹ کے جج صاحبان سے اس کی توقع کی جا سکتی ہے وہ صرف دو گھنٹے میں اسے ضمانت دے دیتے ۔ہر گز نہیں اسے ہر حال میں جیل تو جا نا ہی ہوتا ۔اوپر کی تین مثالیں تو انتہائی مقہور ،مجبور اور لاچار لوگوں کی ہیں جو اسی ملک کے شہری ہیں اور ایک بات اور بتادیں کہ اوپر کی تین مثالوں میں کوئی بھی مسلمان نہیں ہے ۔اس سے ایک بات یہ بھی سامنے آتی ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کے علاوہ بھی جو کوئی قوت نہیں رکھتا اس کی گنتی شاید انسانوں میں نہیں ہوتی اس لئے اسے کوئی سہولت نہیں ہے ۔شاید اسی کا اظہار سلمان کے ایک مداح ابھجیت نے کیا ہے کہ فٹ پاتھ پر کتے کی طرح سوؤ گے تو کتے کی طرح ہی مارے جاؤگے ۔یہ ہے اس ملک میں غریبوں اور عام آدمی کی اوقات ۔لیکن ان بگڑے مغرور اور متکبر لوگوں کو یہ کوئی بتانے والا نہیں ہے کہ انسانوں کی آبادی میں انسانوں کی ہی طرح رہنا چاہئے کتوں کی طرح نہیں اور فٹ پاتھ اگر سونے کے لئے نہیں ہے تو وہ کتوں کی طرح گاڑی چلانے کے لئے بھی نہیں ہے۔
بہت تلخی ہے میری باتوں میں لیکن جو کچھ دیکھتا ہوں اسے ہی بیان کرتا ہوں ۔ان سرپھرے متکبر اور مغرور لوگوں کی پزیرائی دیکھتا ہوں اور غریب اور بے بس لوگوں کی بے بسی بھی دیکھتا ہوں ۔پھر اس پر نام نہاد دانشوروں کو جمہوریت اور سیکولرزم کی مدح سرائی کرتے دیکھتا ہوں تو میرے سامنے اس کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے ۔سلمان کو سزا تو سنائی جاتی ہے لیکن اس میں تیرہ سال بیت جاتے ہیں اور صرف دو گھنٹے میں عبوری اور پھر دو دن میں مکمل ضمانت مل جاتی ہے ۔اب اگر یہی جمہوریت اور سیکولرزم ہے تو یہ انسانی معاشرے کے لئے خطرناک ہے ۔جو دعویٰ تو مساوات کا کرتا ہے لیکن عمل اس کے برعکس ۔جہاں ایک عورت پانچ ہزار کی ضمانت کی رقم جمع نہ کروا پانے کی وجہ سے اکیس سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہتی ہے ۔لیکن ایک شخص جو مشہور و معروف ہے اس کے پاس دولت کی ریل پیل ہے وہ صرف دو گھنٹے میں ضمانت لے کراپنے لئے آزاد ی خرید سکتا ہے ۔اسی تضادکا نام اگر جمہوریت اور سیکولرزم ہے تو اس سے کس طرح بھلائی کی امید کی جاسکتی ہے؟یا جس جمہوریت اور سیکولرزم کی لوگ دہائی دیتے ہیں اگر اس میں ذرہ برابر بھی صداقت ہے تو اس ملک میں جہاں سلمان ضمانت لے کر آزاد رہتا ہے وہیں اس خاتون وجئے کماری کو بھی آزاد رہنے کا حق حاصل ہونا چاہئے جس نے کوئی جرم ہی نہیں کیا اور شاید کوئی جرم نہیں کرنا ہی اس جمہوری ملک میں اس کی سب سے بڑی خطا بن گئی جس کی وجہ سے اسے زندگی کے بہترین اکیس سال جیل میں گزارنے پڑے۔ 
نہال صغیر،کاندیولی،ممبئی ۔موبائل: 9987309013