بجلیاں برسےہوئے بادل میں بھی خوابیدہ ہیں


نہال صغیر




آج ایک عجیب فیشن بن گیا ہے ہر کوئی مسلم نوجوانوں کی گمراہی اور ان کی بے کرداری کا رونا روتا ہے ۔جسے دیکھئے وہ نوجوانوں کو مطعون کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔کہیں کوئی ایسی خبر آگئی جس میں مسلم نوجوان کی کسی جرم میں ملوث ہونے کی بات ہو کہا جانے لگتا ہے کہ ہم شرمندہ ہیں ان کی ایسی حرکتوں سے لیکن وہیں جب ایسی خبریں آتی ہیں جس میں مسلم نوجوانوں کے بلند کردار و اخلاق کا تذکرہ ہوتا تو ہم اس کی تشہیر کرتے ہوئے پتہ نہیں کیوں گھبراتے ہیں ؟۔ علامہ اقبال بیسویں صدی عیسوی کا وہ بطل جلیل ہے جس نے امت کو یاس اور نا امیدی سے نکلنے کی سوچ عطا کی ۔ایسے وقت میں جب کہ ہر طرف سے مسلم امہ زوال کے گھیرے میں تھی جو ہنوز جاری ہے علامہ نے مسلمانوں کو ان کے شاندار ماضی کی یاد دلا کر راکھ کے ڈھیر سے چنگاری کو شعلہ بننے کی جانب گامزن کیا ۔چنانچہ انہوں نے طرابلس کی ایک ننھی بچی فاطمہ کی شان میں ایک نظم لکھی جس میں انہوں نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اس گھنگھور اندھیرے میں بھی امید کی کرنیں ہیں جنہیں ہمیں ڈھونڈنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔اس نظم میں ایک شعر جس کے ایک مصرعہ کو اس مضمون کا عنوان بنایا ہے ۔وہ کہتے ہیں ؂ اپنے صحرا میں بہت آہو ابھی پوشیدہ ہیں بجلیاں برسے ہوئے بادل میں بھی خوابیدہ ہیں 
نوجوان کسی قوم ،گروہ یا خاندان کا اصل سرمایہ ہے ۔دنیا کی کوئی تحریک نوجوانوں کے بغیر اثر انداز نہیں ہو سکتی ۔خود اسلام کی تحریک کو بھی ساری دنیا میں لے کر جانے والے نوجوان صحابہ ہی تھے ۔ انہوں نے نے ہی اپنے اخلاق کردار اور شجاعت اور جوانمردی سے اقوام عالم کے دلوں کو مسخر کیا ۔علامہ اقبال نے جس وقت طرابلس کی اس ننھی مجاہدہ فاطمہ کے نام سے نظم لکھی تھی وہ وقت تھا جب پہلی جنگ عظیم برپا تھی اور دنیا سوپر پاور مسلم مملکتوں کو ہڑپنے میں ایک دوسرے سے بازی مارنے میں مصروف تھیں ۔اسپین میں صدیوں پہلے مسلمانوں کے عروج کے سورج کو مسلمانوں کی بے عملی اور کوتاہ اندیشی کے دبیز بادل نے نگل لیا تھا ۔ہندوستان میں بھی مسلم بادشاہوں کی شان کو گہن لگ چکا تھا ۔اسی طرح بہت سی مسلم مملکتیں نوآبادیاتی نظام کی نذر ہو چکی تھیں ۔لیکن علامہ اقبال کو ننھی مجاہدہ کے روپ میں راکھ کی ڈھیر میں ایمان اور غیرت کی چنگاری دبی نظر آگئی تھی۔
اکیسویں صدی شاید بیسویں صدی عیسوی سے بھی زیادہ سنگین صورتحال کے ساتھ ہمارے سامنے ہے ۔ہر طرف افراتفری اور جنگ و جدل کا ماحول ہے جو کہ ان ہی قوتوں کا برپا کیا ہوا ہے جنہوں نے دنیا پر دو جنگ عظیم کو مسلط کیا ۔اس کا لازمی نتیجہ بھوک افلاس اور قحط کی صورت میں نکلنا تھا اور آج ہمارے سامنے ہے ۔اقوام متحدہ کے غذائی پروگرام کمیٹی کے مطابق ملک عزیز میں بیس کروڑ لوگ بھوکے سونے کے لئے مجبور ہیں ۔ اس سنگین صورتحال سے نکلنے کے لئے اور لوگوں کو بھوک اور افلاس سے کے تنگ و تاریک سرنگوں سے باہر لانے کے لئے خود اقوام متحدہ اور دنیا کی بیشتر ملکوں کی حکومتوں کی جانب سے کئی منصوبے چل رہے ہیں۔اقوام متحدہ اور اس کی ذیلی تنظیموں کی تمام تر کوششوں کے حکومتوں کے منصوبوں کے باوجود قابل رحم حالات میں زندگی بسر کرنے والے لوگوں تک اس کا فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے ۔ کیوں کہ یہ سارے کام سخت مشکل پروٹوکول اور سرکاری ملازمین کی افسر شاہی کی نظر ہو جاتے ہیں۔لیکن مسلم نوجوان آج کئی طرح سے لعن طعن کا شکار ہے اس نے کئی جگہوں پر اپنی بساط بھر کو شش کی ہے اور وہ اس میں اپنے اطراف میں مجبور اور بے سہارا لوگوں کی بھوک مٹانے میں کامیاب ہے ۔
نیوز پورٹل کہرام نیوز کی خبر کے مطابق مہوبا بندیل کھنڈ کے حاجی پرویز احمد نے ایک لائق تحسین اور قابل تقلید قدم اٹھاتے ہوئے روٹی بینک کا قیام کیا ہے ۔اس کے تحت وہ گھر گھر سے روٹی اور سالن اکٹھا کرتے ہیں گھروں بس اڈوں ریلوے اسٹیشنوں پر بے سہارہ اور بھوکے لوگوں تک پہنچاتے ہیں ۔روٹی بینک کی خبر اس سے قبل نیوز چینلوں پر بھی آچکی ہے ۔لیکن مسلمانوں کی کردار کشی میں جٹا میڈیا یہ بتانے سے قاصر تھا کہ اسے شروع کس نے کیا ۔کہرام نیوز نے اس کمی کو پورا کیاجس کے لئے یقیناًکہرام نیوز قابل مبارکباد ہے ۔خبر کے مطابق ڈھائی سو سے تین سو لوگوں تک روزانہ کھانا پہنچایاجاتا ہے ۔ اب کوئی اس شہر میں بھوکا نہیں سوتا ۔ یہ کام 15 ؍اپریل 2015 سے شروع کیا گیا ہے ۔شروعات میں پہلے دن بس اسٹینڈ و فٹ پاٹھ پر زندگی گزارنے والے سات لوگوں کوکھانا پہنچایا گیا ۔اس کے بعد حاجی پرویز احمد نے ایک میٹنگ کرکے دس نوجوانوں کو اس روٹی بینک نامی تنظیم سے جوڑا ۔تفصیل کے مطابق پہلے دن ہی نوجوانوں نے شہر کے کچھ محلوں کے گھر گھر جاکر لوگوں سے دو روٹی اور اور سبزی اکٹھی کی جس کی وجہ سے بینک میں پچاس لوگوں کے لئے کھانا جمع ہو گیا ۔پھر غریب ،یتیم اور بے سہارا لوگوں کی تلاش کرکے انہیں گھر گھر کھانا پہنچایا گیا ۔اس وقت اس روٹی بینک سے چالیس نوجوان جڑے ہوئے ہیں اور تقریباً ڈھائی تا تین سو افراد کو روزانہ کھانا دیا جاتا ہے ۔سب سے بہتر بات یہ ہے کہ اس کام میں بلا تفریق سبھی فرقہ کے لوگوں کا تعاون ہے اور تقسیم خوراک میں بھی کسی تفریق کے بغیر ضرورت مندوں کو کھانا پہنچایا جاتا ہے۔
اورنگ آباد کے بھائی جی پورہ میں بھی کم از کم دو سو پچاس لوگوں کے لئے روٹی بینک کی شروعات کی گئی ۔یوسف مکاتی نے یہ نیک پہل کی ہے تاکہ بھوکوں کو کھانا کھلایا جاسکے۔زی نیوز کی خبر کے مطابق روٹی بینک میں صبح سے ہی روٹی اور سالن جمع کرنے والوں کا تانتا لگ جاتا ہے اور اس کے بعد کھانا لینے والے آتے ہیں اور اپنی ضرورت کے مطابق کھانا لے کر جاتے ہیں ۔اس بینک کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں باسی اور ناقابل استعمال کھانا نہیں لیا جاتا ۔کھانا انہی لوگوں سے لیا جاتا ہے جو کہ اس بینک کے ممبر ہیں ۔یوسف مکاتی کے مطابق چار سو مزید لوگوں نے ممبر شپ کی درخواست دی ہے ۔یعنی کچھ ہی دنوں میں دونوں وقت کھانا پانے والوں کی تعداد دوگنی ہو جائے گی کیوں کہ مزید لوگ اس روٹی بینک کے ممبر بن کر اس میں اپنا تعاون دیں گے۔ 
حیدر آباد کے دبیر پورا فلائی اوور کے نیچے ایک نوجوان اظہر مقسوسی پچھلے ساڑھے تین سال سے بغیر چندہ بغیر کسی تنظیم کے لوگوں کو مفت کھانا کھلاتے ہیں ۔فی الحال اس فلائی اوور کے نیچے سو تا ایک سو تیس افراد کے کھانے کا نتظام ہے ۔اظہر عمارتوں میں پی او پی کا کام کرتے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ بھوکوں کو کھانا کھلانے کا یہ خیال ساڑھے تین سال پہلے اس وقت آیا جب انہوں نے فٹ پاتھ پر پڑی ایک معذور خاتون کو بھوک سے تڑپتے دیکھا ۔وہ کہتے ہیں کہ انہون نے خود بچپن میں بھوک کا سامنا کیا ہے اس لئے بھوک کیا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں ۔ان کے اس کار خیر میں ان کی بیوی کا تعاون اور ان کی ماں کی دعاؤں کا اثر ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ بچپن میں اکثر دو دو روز تک بھوکا رہنا پڑا ہے ۔ان کے والد کا انتقال اس وقت ہو گیا تھا جب وہ صرف چار سال کے تھے ۔ان کی ماں نے بڑی مشقتوں سے پالا اور پڑھایا حالات سے مجبور ہو کر ان کی والدہ نے انہیں کسی کام پر نہیں لگایا ۔اظہر کے مطابق ان کی ماں کا کہنا تھا کہ بیٹا پیسہ تو پھر کمالوگے پڑھو اور اگر کچھ کرسکتے ہو تو لوگوں کی خدمت کرو۔وہ بتاتے ہیں کھانا کھلانے کی شروعات میں وہ گھر سے ہی کھانا بنوا کر لوگوں کو دبیر پورا فلائی اوور کے نیچے لا کر کھلاتے تھے اور یہ کھانا ان کی بیوی ہی بڑی خوشدلی اور اللہ سے اجر کی نیت سے کرتی تھی۔اظہر خود بھی کہتے ہیں کہ دل میں اگر نیکی کا خیال آتا ہے تو اسے کر ڈالئے دماغ کسی مصلحت اور خدشے کا ڈر دکھائے تو اس کی مت سنئے دل پر اللہ کی نظر ہو تی ہے ۔جب دل کی سن کر نیکی کے کاموں میں آگے بڑھیں گے تو اللہ کی مدد آپ کو آئے گی۔اس کے لئے انہوں نے اپنی زندگی سے ہی دو مثالیں پیش کیں۔ابھی ہمارا مقصد اس مضمون میں مسلم نوجوانوں کی ایسی ہی چند مثالیں پیش کرکے اقبال کی زبان میںیہ بتا نا مقصود ہے کہ 
؂ نہیں نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
اب کچھ ایسے مسلم نوجوانوں کا تذکرہ جنہوں نے لاکھوں کی رقم کو اسکے مالک تک لوٹا کر ایماندار کی شاندار مثالیں پیش کی ہیں ۔جئے پور کے 26 ؍سالہ محمد عابد قریشی جو کہ سائیکل رکشا چلاتے ہیں۔انہیں سڑک کنارے پلاسٹک کی ایک تھیلی میں ایک لاکھ سترہ ہزار کی رقم لپٹی ہوئی ملی جسے انہوں نے دوسرے دن پولس کمشنر کے سپرد کردیا ۔ہندوستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے انہوں کہا کہ میں رات بھربستر پر کروٹیں بدلتا رہا یہ رقم ملنے سے انہیں یہ خدشہ تھا کہیں وہ انہیں لوٹانے جائیں اور ان پر ایک لاکھ سترہ ہزار روپئے کی چوری کا الزام نہ لگا دیا جائے۔نامہ نگاروں نے اس خدشہ کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بالکل مختصر جواب دیا ’’کیوں کہ وہ مسلمان ہے‘‘۔دوسرے دن یہی ہوا جب وہ پولس اسٹیشن رقم لوٹانے گئے تو انہیں جعلی کرنسی کا کاروباری سمجھ لیا گیا لیکن سارے نوٹ کی اسکیننگ کے بعد پولس افسر مطمئن ہوا۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایمانداری سب سے بڑی نعمت ہے‘‘۔محمد عابد قریشی دوسرے دن سکون سے سوئے کہ لالچ کا شکار بننے سے بچ گئے۔قریشی صرف چوتھی جماعت تک پڑھے ہوئے ہیں سائیکل رکشا چلا کر اپنی روزی روٹی کماتے ہیں ۔وہ شہر جئے پور کی انتہائی پسماندہ بستی میں کرایہ کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہتے ہیں جس کرایہ بھی اکثر وہ غربت کی وجہ سے وقت پر نہیں دے سکتے ۔ وہ اپنی تین ماہ کی بیٹی کو اچھی تعلیم دلانا چاہتے ہیں لیکن ان کے سامنے ایمانداری کی خاندانی وراثت کا ان کی بیٹی میں منتقل ہونا زیادہ ضروری ہے۔
مسلم اکثریتی شہر بھیونڈی کے سلیم شیخ ایک آٹو رکشا ڈرائیور ہیں ۔ان کے رکشا میں ملند امباونے اپنے تجارتی سامان کے ساتھ سوار ہوئے لیکن اپنی منزل پر پہنچ کر انہوں نے تجارتی سامان تو اتار لیا لیکن ایک تھیلی جس میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپئے تھے وہ رکشا میں ہی بھول گئے ۔ کچھ دیر بعد یہ معلوم ہونے کے بعد ان کے ہوش اڑگئے کہ رقم والی تھیلی تو وہ رکشا میں ہی بھول گئے ہیں۔ تین گھنٹے کے بعد ملند کے پاس رکشا ڈرائیور سلیم شیخ کا فون آیا کہ وہ اپنا بیگ جس میں ان کی رقم ہے رکشا میں ہی بھول گئے ہیں۔سلیم شیخ نے بتایا کہ انہیں اس بیگ کی معلومات اس وقت ہوئی جب وہ گھر گئے ۔احمدآباد کے عبد الوہاب شیخ نے اپنے آٹو رکشا میں مسافر کے ذریعے بھول سے چھوڑے گئے لاکھوں کے زیورات اور پانچ لاکھ نقد رقم لوٹا کر ایمانداری کی شاندار مثال قائم کی ۔اسی طرح میری نظر وں سے دو ایسے ہی واقعات گزرے دونوں ہی واقعات میں رکشا ڈرائیور مسلم نوجوان ہی تھا دونوں ہی واقعہ زیورات کے تاجر سے تعلق رکھتا ہے ۔ایک واقعہ میں ہیرے جواہرات اور سونے کے زیورات کاتخمینہ پچیس لاکھ اور دوسرے میں پینتیس لاکھ بتایا گیا تھا ۔یہ محض چند مثالیں ہیں ۔باقی کہانی بکھری پڑی ہے ۔بقول علامہ اقبال چمن میں ہر طرف بکھری ہے داستان میں ۔
ہمارے سامنے مایوسی پھیلانے والے واقعات اور نوجوانوں کی گمراہی و بے راہ روی کے واقعات بہت آتے ہیں ۔لیکن کبھی ہم نے ان راکھ کے ڈھیر میں اس ایمانی چنگاری کو ڈھونڈنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔ کبھی ایسے واقعات سامنے آتے بھی ہیں تو ہم اسے نظر انداز کرکے اسی مجرم ضمیری کے مایوس اندھیری سرنگ میں چلے جاتے ہیں جس میں دشمن کے ساتھ ساتھ ہمارے کوچھ نادان دوست بھی مسلسل مبتلاء کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔مجھے تو معاشرے کے بدترین سے بدترین اور گمراہ نوجوان میں بھی امید کی کئی کرنیں نظر آتی ہیں ۔کاش کہ ہم انہیں مثبت طور پر سمجھ سکیں اور قوم کو اس ذلت اور پستی سے نکالنے میں ان کی مدد لے سکیں ۔آنے والے وقت میں جو کچھ ہوگا وہ نوجوانوں کے ذریعہ ہی ہوگا ۔ بوڑھی ہڈیوں میں صرف مصلحت جیسی منافقانہ روش ہی پلا کرتی ہے۔جس کی مثالیں ہمارے آس پاس بکھری پڑی ہیں ۔ مصلحت سے پرے اگر کوئی ہمیں مل سکتا ہے اورانشاء اللہ ملے گا تو صرف نوجوان ہی ملے گا ۔جس میں قوم کا درد بھی موجودہ صورتحال سے آزردہ بھی ہے اور ان حالات سے قوم کو نکالنے کے لئے فکر مند بھی ۔کاش کہ ہم اپنے نوجوانوں کو اپنی قوم کا بیش بہا خزانہ اور سرمایہ تصور کرتے ہوئے ان سے مایوس ہونے کی بجائے ان کی تربیت اور قوم کی تعمیر و ترقی میں ان کی مدد لے سکنے کی قوت حاصل کرپاتے !

دہشت گردی :افسانہ اور حقیقت !

نہال صغیر

دہشت گردی آج کا ہاٹ ایشو ہے ۔جو اس کے بارے میں جانتا ہے وہ بھی اور اس کے اے بی سی ڈی سے بھی واقف نہیں ہے وہ بھی اس پر رائے زنی کرنا اپنا حق سمجھتا ہے ۔ دہشت گردی کے تعلق سے دنیا بھرمیں اور ملک عزیز میں بھی بڑی چالاکی سے کچھ ایسی قوتوں کے ذریعے جو اسلام اور مسلمانوں سے مخاصمت رکھتی ہیں یہ بات بڑی کامیابی کے ساتھ پھیلائی جاچکی ہیں کہ اسلام دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے اور دہشت گردانہ کارروائیوں ملوث اکثریت مسلمانوں میں سے ہے۔ اس سلسلے میں کچھ حقائق پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ (1 )دہشت گردی کیا ہے ؟(2 )اسکے اسباب کیا ہیں؟(3 )کیا صرف مسلم نام والی تنظیمیں ہی دہشت گردی کے لئے ذمہ دار ہیں ؟(4 )کیا مسلم نام والی ہر اس تنظیم کو دہشت گرد تنظیم مان لینا چاہئے جس کی لسٹ صہیونی میڈیا یا پنجہ یہود میں گرفتار امریکی سامراج کی طرف سے جاری ہو؟(5) اور کیا دہشت گردی کے تعلق سے جن مسلم گروپوں کو ہمارے سامنے پیش کیا جاتا ہے ہمیں ان خبروں کو من و عن سچ مان لینا چاہئے ؟ 

(1 )آج دہشت گردی کے معاملے میں جن تنظیموں کو ماخوذ کیا جاتا ہے اگر وہ کسی قوم یا گروہ کے لئے دہشت گرد ہیں تو کسی گروہ یا قوم اور ملک کے لئے ہیرو کا درجہ رکھتے ہیں ۔مثال کے طور پر تحریک آزادی ہند میں ہم جن لوگوں کو اپنا آئڈیل اور ہیرو مانتے ہیں وہی اشخاص نو آبادیاتی نظام میں ملکہ ایلزبیتھ کی حکومت کے باغی اور دہشت گرد تھے ۔اس لئے سب سے پہلے ہمیں دہشت گردی کی تعریف متعین کرنے کی ضرورت ہے ۔بد قسمتی سے ابھی تک دنیا میں اس کی کوئی مصدقہ اور متفقہ تعریف متعین نہیں ہے۔ہر گروہ اور ملک کی اس کے تئیں جدا گانہ رائے ہے ۔کوئی ملک یا گروہ مسلمانوں کی طرف سے کی جانے والی انتقامی یا جوابی کارروائی کو سیدھے دہشت گردی کی ڈور سے جوڑ دیتا ہے ۔خواہ وہ گروہ ملک کی آزادی کے لئے کوشاں ہو لیکن چونکہ وہ مسلمان ہے اس لئے متفقہ طور پر اس کو دہشت گرد کہہ دیا جاتا ہے۔اور میڈیا کی جانب سے اس کی خوب تشہیر کی جاتی ہے۔جس سے میڈیا عوام میں مسلمانوں کی ایک خاص تصویر بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے ۔بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ چونکہ اسلام اور مسلم دشمن طاقتوں کا ایک ایجنڈا یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کو تقسیم کرکے ان کی قوت کو توڑا جائے اور سیاسی اور معاشی پیمانے پر ان کو بے اثر کیا جائے جیسا کہ پارلیمانی الیکشن سے قبل سبرامنیم سوامی کا راہل کنول کے ساتھ انٹر ویو منظر عام پر آیا تھا ۔مسلمانوں کے مسلکی اختلاف سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مخالف مسلکی گروہ کی تحریک کو بھی دہشت گردی سے جوڑ دیا جاتا ہے اور دوسرے مسلک کے لوگ اپنے مخالفین کو بھی دہشت گرد کہہ کر مخاطب کرتے ہیں جو کہ فی الحال شام و عراق وغیرہ میں دیکھنے کو مل رہا ہے اور اب پیرس حملہ کے بعد دو خاص مسلکی گروہ نے دو مخالف مسلکی گروہ کو مسلسل نشانہ بنائے ہوئے ہیں ۔لیکن کسی نے اگر سوال کردیا کہ بھائیو ہندوستان کا سب سے بڑا موسٹ وانٹیڈ کون ہے ؟جیسا کہ مولانا محمود مدنی نے ایک چینل پر اجیت انجم کے ایسے ہی سوالوں کا جواب دبے لفظوں میں کچھ یوں ہی دینے کی کوشش کی تھی۔یعنی اب دہشت گردی میں ملوث قرار دینے کے لئے مسلمانوں پر باہر سے الزام لگانے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ ہمارے دشمنوں کو ہم میں سے ہی کچھ گروہ یا افراد مل گئے ہیں جو ہم پر دہشت گرد ہونے کا لیبل لگاتے رہتے ہیں ۔ہمارے مسلکی تضاد کو انتشار میں بدلنے میں ہمارا دشمن کامیاب ہو چکا ہے اور اس میں ہم نے خود ہی دانستہ نادانستہ طور پراپنے دشمنوں کی مدد کی ہے ۔اس لئے ہمیں مروجہ رسوم کے بجائے دہشت گردی کی تعریف متعین کرنے کا مطالبہ کرنا چاہئے ۔ میں اس سلسلے میں آپ کو مزید بور نہیں کروں گا کہ اسلام کا کیا نقطہ نظرانسانی جان کی حرمت کے لئے کیا ہے۔ یہ آئے دن آپ کے سامنے بات آتی رہتی ہے ۔ ہمارا صرف اتنا کہنا ہے کہ ہر وہ کارروائی جو کسی بے گناہ اور معصوم انسانی جانوں کی ضیاع کا سبب بنے وہ دہشت گردی ہے ۔خواہ وہ بم دھماکوں میں انسانی جانوں کا نقصان ہو یا فرقہ وارانہ فسادات میں ہندوستان میں مسلمانوں کا قتل عام یا اونچی ذات کے ہندوؤں کے ذریعے دلت اور دیگر پسماندہ طبقات کا قتل اور ان کا سماجی سیاسی اور معاشی مقاطعہ یا امریکہ میں کسی شخص کے ذریعہ اسکولوں میں فائرنگ سے معصوم بچوں کا قتل یہ سب بھی دہشت گردی ہے ۔نصف صدی سے بھی زیادہ عرصہ سے فلسطینی دنیا کے نام نہاد حقوق انسانی حقوق کے چمپیئن کے سائے میں اسرائیل کی دہشت گردی کا شکار ہیں لاکھوں قتل کردئے گئے۔دو سال کے عرصے میں شام کا شیطان بشار الاسد کے فوجی ایران اور حزب اللہ کی مدد سے تین لاکھ سے زیادہ معصوموں کا قتل کر چکے ہیں ۔آپ دیکھیں گے کہ اسی ہندوستان کی سرزمین پر مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف کیسی دہشت ناک وارداتیں انجام دی گئیں لیکن وہ محض ایک فسادات کہہ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرائی جاتی ہے کمیشن مجرمین کی نشاندہی بھی کرتا ہے لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ہے ۔لیکن اسی فسادات اور بابری مسجد کی شہادت کے رد عمل میں جب بم دھماکہ ہوتا ہے تو اسے سیدھے سیدھے دہشت گردی سے جوڑ دیا جاتا ہے اور سزائیں بھی سنائی جاتی ہیں اس پر عمل بھی ہو جاتا ہے۔یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ابھی تک صرف یہ ذہنیت بنائی گئی ہے کہ دہشت گردی صرف مسلمانوں کی جانب سے انجام دی جانے والی کارروائی ہے ۔اس لئے سب سے پہلے تو دہشت گردی کی تعریف متعین کی جائے اور اس کی ایک فہرست ترتیب دی جائے کہ کیا کیا کا رروائی دہشت گردی ہے۔
(2 )دہشت گردی کے اسباب کیا ہیں ؟ہم اور آپ اس مشاہدے سے گزرے ہیں کہ جب بھی کوئی وبائی امراض چھوٹے یا بڑے پیمانے پر پھیلتی ہے تو ہمای حکومت کا شعبہ صحت عامہ اس کے اسباب جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ آخر کیوں یہ بیماری پھیل رہی ہے ؟اکثر وبائی امراض کے پھیلنے کی اہم وجہ صفائی کا فقدان اور گندگی کا ڈھیر ہو تی ہے ۔پھر محکمہ صحت سب سے پہلے شہر یا اس علاقہ کی صفائی کی جانب متوجہ ہوتا ہے تاکہ اس وبائی مرض پر قابو پایا جاسکے ۔اسی طرح کے بنیادی اسباب دہشت گردی کے وبائی شکل اختیار کرلینے میں بھی ہیں ۔میں تو دیکھ رہی ہوں اور یقیناآپ کے بھی مشاہدہ میں ہوگا کہ ہر طرف ظلم اور نا انصافی کی گندگی پھیل ہوئی ہے اور اس پر دہشت گردی کا مچھر پل رہا ہے ۔لیکن پوری دنیا کے لال بجھکڑ صرف مچھر کو ختم کرنے کی طرف دھیان دے رہے ہیں ۔لیکن اس ظلم اور نا انصافی کی گندگی کے ڈھیر کو ختم کرنے کی جانب متوجہ نہیں ہو رہے ہیں ۔دنیا کے بڑے بڑے مفکر اس سلسلے میں اتنے احمقانہ سوالات اٹھاتے ہیں اور ایسی ظالمانہ کارروائی کی حمایت کرتے ہیں کہ ان کی عقل اور ان کی سوجھ بوجھ پر بے ساختہ ہنسی آجاتی ہے ۔کبھی کبھی غصہ بھی آتا ہے کہ اگر پیرس پر کسی گروہ نے فائرنگ میں سو سوا سو لوگوں کو مارڈالا ہے تو اس کا بدلہ اس احمقانہ کارروائی سے لیتے ہیں کہ شام پر ان کے بموجب داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی جاتی ہے جس میں عام شہریوں کی موت ہوتی ہے ۔ بتایا جائے کہ یہ دہشت گردی کو ختم کرنے والی کارروائی ہے یا دہشت گردی کو بڑھاوا دینے والی ۔یہ رپورٹ تو انٹر نیٹ پر موجود ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں ،جس کے بارے میں کہا جاتا رہا تھا کہ وہ دہشت گردوں کے اڈوں پر کئے جارہے ہیں لیکن اس کا شکار عام شہری بنے جس میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی رہی ہے ۔ڈرون کا نشانہ مساجد ،مدارس،شادی کی تقریب اور قبرستان میں کسی کے جنازے میں شامل افراد بھی بنے ۔ابھی تک دہشت گردانہ کارروائیوں کی وجہ انتقامی کارروائی ہی زیادہ رہی ہے۔ ایمانداری اور اپنے ضمیر کی آواز پر یہ بتائیں کہ اگر کسی خاندان کا سب کچھ لٹ گیا ہو ۔اس کے خاندان کے لوگ اس کے عزیز جن سے وہ ازحد محبت کرتا ہے ان کو راحتیں پہنچانے کے لئے وہ بڑی محنت اور مشقت سے بھی بخوشی گز ر جاتا ہے ۔اگر اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے انہی عزیزوں کو بموں اور گولیوں کا نشانہ بنادیا جائے تو کیا اس سے کسیبہتر رد عمل کی توقع کی جانی چاہئے ۔میرا تجزیہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے اسباب میں اہم وجہ ظلم اور نا انصافی ہی ہے ۔بغیر اس کے خاتمہ کے دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔
(3 )دہشت گردانہ کارروائیوں کے معاملہ میں ملوث تنظیموں کے معاملے میں اقوام متحدہ اور امریکہ کی دہشت گردتنظیموں کی فہرست میں دس فیصد بھی مسلم نام والی تنظیمیں نہیں ہیں ۔حد تو یہ ہے کہ خود ہندوستان میں دہشت گرد تنظیموں کی لسٹ میں بہت قلیل تعداد مسلم نام والی تنظیمیں ہیں باقی سب غیر مسلم ہیں ۔لیکن تشہیر صرف مسلم نام والی تنظیموں کا کیا جاتا ہے۔ملک عزیز کی کئی مقتدر ہستیوں کا قتل ہوا کسی میں بھی مسلمان ملوث نہیں ہے ۔سارے ہی قتل میں ہندواکثریت کے لوگ ہی مجرم پائے گئے ۔اس کے علاوہ کئی دہشت گردانہ کارروائیوں میں مسلمانوں کو ملوث کیا گیا لیکن عدالت میں ان کے خلاف جرم ثابت نہیں کیا جا سکا کیوں کہ جن لوگوں کو پھنسایا گیا تھا وہ معصوم تھے ۔گناہ گار کوئی اور ہے جس کو ملک کا پورا سسٹم بچانا چاہتا ہے ۔یہ بتانے کی قطعی ضرورت نہیں کہ ایسے لوگوں کو سابق آئی جی پولس مہاراشٹر نے اپنی کتاب ہو کلڈ کرکرے میں بے نقاب کیا ہے ۔لیکن ارباب اقتدار اس کو سرے سے بحث میں ہی نہیں لاتے ۔کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ دہشت گردی کے نام پر صرف مسلمانوں کو نشان بنایا جاتا ہے اور اصل دہشت گردوں کی پشت پناہی کی جاتی ہے ۔اس لئے جیسا کہ میں نے اس سے قبل پوائنٹ نمبر 2 دہشت گردی کے اسباب کے ضمن میں بات کہی کہ دہشت گردی کے معاملے میں انصاف کے پیمانے کو سختی کے ساتھ نافذ کیا جائے ۔ کسی کو بے جا تنگ کرنا اس کو تعصب کا نشانہ بنانا اور کسی کے جرموں پر اسے پارلیمان کی سیٹ پیش کرنے سے دہشت گردی میں اضافہ ہی ہوگا ۔
(4 )کیا مسلم نام والی ہر اس تنظیم کو دہشت گرد تنظیم مان لینا چاہئے جس کی لسٹ صہیونی میڈیا یا پنجہ یہود میں گرفتار امریکی سامراج کی طرف سے جاری ہو؟دہشت گردی پر بحث کرتے ہوئے یا اس کے اسباب و علاج پر روشنی ڈالتے ہوئے اس پوائنٹ نمبر 4 پر بھی دھیان دینا ہوگا کہ کیا ہم ان سبھی مسلم تنظیموں اور مسلم شخصیت کو دہشت گرد مان لیں جن کی لسٹ ہمیں صہیونی میڈیا یا یہودیوں کے غلام امریکہ کی جانب سے پیش کیا جائے ۔کیااپنے ملک کی آزادی اورظالم و جابر حکمراں کے خلاف لڑنا بھی دہشت گردی کے دائرے میں آتا ہے ؟اور اگر ایسا ہے تو ہمیں سب سے پہلے پوری دنیا کے ایسے لوگوں کی فہرست پھاڑ کر پھینک دینی ہوگی جنہوں نے اپنے اپنے وطن کی آزادی کی جدو جہد میں اپنے خون کے نذرانے پیش کئے ۔انہیں بھی نئے غیر اعلان شدہ قانون کے مطابق دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہئے ۔جو صدیوں سے اپنے ملک کے عوام کے لئے ہیرو کی حیثیت رکھتے ہیں ۔جن کے لئے اس ملک کے عوام ادب و احترام کا جذبہ رکھتے ہیں ۔کیا کوئی ہم سے بھگت سنگھ اور اشفاق خان کے تئیں دلی جذبات، ان کے لئے ادب و احترام کو جدا کرسکتا ہے ؟میں یہاں فلسطین کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھتاہوں کہ آج وہان کے مجاہدین کو صہیونیوں کے ایماء پر خود ملک عزیز کی میڈیا میں بھی دہشت گرد کہا اور لکھا جاتا ہے ۔کیا مجھے کوئی بتائے گا کہ فلسطینیوں کی سرزمین پر اسرائیل کی جبریہ تخلیق دہشت گردی ہے یا اس دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے بم بارود اور توپ و میزائل کا جواب اینٹ پتھروں اور غلیل سے دینے والے دہشت گرد ہیں ؟ایسا ہی کچھ شام و عراق میں بھی ہو رہا ہے کہ ظالم حکومتوں کے خلاف لڑنے والی قوتوں کو دہشت گرد کہا جارہا ہے ۔انہیں بد نام کیا جارہا ہے ۔تاکہ دنیا کی سپر پاوروں کا مفاد محفوظ رکھا جاسکے۔آخر کسی ملک کے عوام کو یہ آزادی کیوں نہیں دی جارہای ہے کہ وہ خود سے ہی یہ انتخاب کریں کہ وہ اپنے ملک کے لئے حکومتوں کا انتخاب خود ہی کریں گے بغیر کسی بیرونی مداخلت کے ۔دنیا کی کسی قوت کو یہ حق کب سے اور کس نے دے دیا کہ کوئی ملک اپنے یہاں کس طرز کی حکومت قائم کرے اور کس طرح کی نہیں ۔وہ کیسا قانون بنائے اور کیسا نہیں ۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کسی ملک میں کون کون سی عوامی تحریکیں ہیں اور وہ کیا چاہتی ہیں نیز ان کی سچائی اور ان کی حقیقی جانکاری کو عوام تک آزادانہ ترسیل کو آسان بنانا نہایت ضروری ہے ۔لیکن ہو یہ رہا ہے کہ جب ایسی کوئی تنظیم کوئی ویب سائٹ بناتی ہے تو اس کو بلاک کیا جاتا ہے اور جب دنیا کی ان قوتوں کو جومسلمان اسلام اور انسانیت کے دشمن ہیں کسی ملک کی تحریک کو بدنام کرنا ہوتا ہے تو ایک عدد ویب سائٹ بھی بن جاتا ہے اور اس پر کسی پیرس حملہ کی ذمہ داری قبول کرنے کی پوسٹ بھی آجاتی ہے ۔کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ اس تنظیم کی پچھلی دس سے زیادہ ویب سائٹ تم لوگوں نے بلاک کردی تو یہ سائٹ کہاں سے آگئی ۔یہاں پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ انٹیلجنس اپنے ملک اور اپنے نظریاتی مفادات کے مد نظر خود ہی تخلیق کرتے ہیں ۔تاریخ میں ایسی بے شمار شواہد موجود ہیں ۔چونکہ یہاں موقع نہیں ہے کہ مضمون کی طوالت کے پیش نظر اسے بیان کرنا ممکن نہیں ہے ۔عراق و شام میں جس مزاحمتی گروپ کو خطرناک دہشت گرد بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔آج کوئی یہ سوال نہیں اٹھا رہا ہے کہ ایسے خطرناک دہشت گردوں نے صرف ایک سال قبل ہمارے ملک کی نرسوں کو عزت و احترام سے کیوں بھیج دیا ؟میں بھی سوچتاہوں اور تمام لوگوں کو اس پر غور کرنا چاہئے کہ دنیا میں ہو کیا رہا ہے اور ہمیں دکھانے کی کیا کوشش کی جارہی ہے ۔اسی ضمن میں میں ایک بات یہ بھی کہنا چاہوں گاکہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ جنگ یا خلفشار سے ملک عزیز کا کچھ لینا دینا نہیں ہے لیکن دنیا کی کچھ قوتیں زبردستی ہندوستان کو بھی اس خلفشار کا حصہ بنانا چاہتی ہیں ،جس سے ملک کو بچانے کی ذمہ داری ہم سب کی ہے کہ آخر وہ کون سی قوت ہے جو ملک عزیز کو بھی جنگ کی بھٹی میں جھونکنا چاہتی ہے ،اس کی نشاندہی ضروری ہے۔ میں پچھلے دو سال سے دیکھ رہاہوں کہ مشرق وسطیٰ کی آگ یہاں بھڑکانے کی کوشش کی جاتی ہے اور کہیں نہ کہیں حکومتی کارندے اس میں کارآمد ثابت ہونے کی کوشش کررہے ہیں ۔
(5 ) خبروں کے ذریعہ دہشت گردی کے تعلق سے جن مسلم گروپوں کو ہمارے سامنے پیش کیا جاتا ہے ہمیں ان خبروں کو من و عن سچ مان لینا چاہئے ؟یہ پوائنٹ نمبر 5 بھی پوائنٹ نمبر 4 کا ہی تسلسل ہی ہے ۔میں اس سے قبل لکھ چکا ہوں کہ ہو کچھ اور رہا ہے اور جو ہو رہا ہے وہ کر کوئی اور رہا ہے لیکن ہمیں کچھ اور پیش کیا جارہا ہے ۔اس کی تحقیق بہت ضروری ہے ۔اب تحقیق کیسے کریں اس کی کئی صورتیں ہیں ۔ ایک صورت تو یہ ہے کہ جیسے ملک عزیز میں کہیں کوئی فساد یا انکاؤنٹر ہو تا ہے تو اس کی تحقیق کے لئے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی جاتی ہے پھر وہ اپنی رپورٹ میڈیا کے سامنے پیش کرتی ہے ۔اسی طرح ایسی بین الاقوامی تنظیم ملک عزیز میں بھی ہو جس میں سبھی مکتبہ فکر کے علماء ،اسکالر اور دانشور ہوں وہ دنیا میں کہیں بھی کچھ ہو تو اس کی تحقیق کے لئے جائیں اور صورت واقعہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آئیں اور یہاں عوام کے سامنے پیش کریں ۔لیکن فی الحال یہ صورتحال ذرا مشکل ہے تو دوسری صورت یہ ہے کہ ہمیں مختلف واقعات کی کڑیوں کو ملاکر یا مختلف رپورٹس یا مختلف رہنماؤں کے بیانات کو ملا کر پڑھیں اس پر غور کریں اور پھر کوئی نتیجہ اخذ کریں ۔اس کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں ہے ۔اگر ایسا کچھ نہیں ہے تو خدارا خاموش رہیں اور دیکھیں کہ مستقبل کے پردے سے کیا ظہور پذیر ہوتا ہے ۔بقول علامہ اقبال دیکھئے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا گنبد نیلو فری رنگ بدلتا ہے کیا ۔چونکہ ہم مسلمان ہیں اور قرآن ہمیں تلقین کرتا ہے کہ ’’اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرلیا کرو کہیں ایسا نہ ہوکہ تم انجانے میں کسی کو کوئی نقصان پہنچا دو اور پھر اپنے کئے پر پچھتاتے رہو‘‘(سورہ الحجرات آیت 6 )۔

خلیج کا بحران اور صدام حسین کے ام الحرب کا نظریہ ..!

عمر فراہی
9/11 کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرنے سے پہلے تقریباً ایک مہینہ تک بات چیت کے ذریعے طالبان سے مصالحت کی کوشس کی تھی کہ وہ  بن لادن کو اس کے حوالے کردیں ورنہ سزا بھگتنے کیلئے تیار رہیں - مگر پیرس میں ہوئی تخریبی کاروائی کے بعد فرانسیسی حکومت نے تیسرے دن سے ہی شام میں اسلامک اسٹیٹ کے علاقوں پریہ جانے بغیربمباری کرنا شروع کر دیا کہ داعش کی جس ویب سائٹ سے اس پرحملے کی ذمہ داری قبول کی گئ ہے وہ اصلی ہے یا نقلی- جبکہ Isis کے نام سے ایسی بےشمار ویب سائٹ کو دنیا کی خفیہ ایجنسیاں ہر روز منسوخ کرتی رہتی ہیں اور ان کی اصلییت کا اندازہ بھی اسی وقت ہو سکتا ہے جبکہ ایک عرصے تک اس کے مواد اور ان سے روابط رکھنے والوں پر نظر رکھی جائے - فرانس کی اسی عجلت میں کی گئ کارروائی سے یہ شک ہوتا کہ یا تو یہ خود فرانس کا طئے شدہ منصوبہ تھا یا  داعش مخالف طاقتوں نے فرانس کو اس جنگ میں پوری طرح گھسیٹنے کی کوشس کی ہے - یہ بات ہم اس لئے کہہ رہے ہیں کیوں کہ جس ویب سائٹ کے ذریعے داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اکثر ایسی ویب سائٹوں کو جانچنے اور پرکھنے میں خفیہ ایجنسیاں بھی غلطی کر بیٹھتی ہیں اور خود القاعدہ طالبان اور داعش جیسی تنظیموں کی روایت بھی نہیں رہی ہے کہ وہ ایسی دہشت گردانہ کاروائی کی مذمت یا تردید میں اپنا وقت ضائع کریں- جیسا کہ انڈین ایکسپریس نے نیویارک ٹائمس کے حوالے سے 19نومبر کے اپنے عالمی صفحے پر یہ خبر شائع کی ہے کہ سان فرانسسکو کی ایجنسی نے ایک لڑکی کا فیس بک اکاونٹ اس لئے منسوخ کر دیا کیوں کہ اس کا نام ISIS ANCHALEE آئسیس انچلی تھا - ڈھائی سے تین مہینہ پہلے یہ خبر بھی سارے اخبارات میں آچکی ہے کہ امریکہ کی ایجنسی نے فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ایک 20 سال کے یہودی نوجوان جوشوارائنے گولڈ برگ  کو گرفتار کیا تھا جو شوسل نیٹ ورکنگ سائٹ پرداعش کے نام سے نقلی ویب سائٹ کے ذریعے امریکہ اور آسٹریلیا کے مسلم نوجوانوں کو جہاد کیلئے راغب کرتا رہا ہےاور نیٹ کے ذریعے ہی وہ بم بنانے کی ترکیب بھی بتایا کرتا تھا-یہ نوجوان کون تھا اور  کسی ملک کیلئے تو ضرور کام کرتا رہا ہوگا،اس کا خلاصہ تو نہیں ہوسکا لیکن اس معاملے میں  دنیا کی سرکاری ایجنسیوں کے مشتبہ تخریبی کردار سے بھی انکارنہیں کیا جاسکتا جو خود بھی اپنے مخالفین کو بدنام کرنے کیلئے پیرس, بیسلان 26/11 اور 9/11 جیسی دہشت گردانہ کارروائی انجام دیتی رہی ہیں  - خاص طور سے روس اور اسرائیل جنھیں اپنے اپنے ملکوں میں چیچن اور فلسطینی مجاہدین سے ہمیشہ خطرہ لاحق رہا ہے ان کی ایجنسیاں اپنے مخالفین کو بدنام کرنے کیلئے ایسی کاروائی کیلئے مشہور رہی ہیں -اس وقت مشرق وسطیٰ میں چونکہ ایران اسرائیل شام اور روس کا مشترکہ مفاد خطرے میں پڑا ہے اور جیسا کہ روس،ایران اور شام کی حمایت میں کھل کر میدان میں آ بھی چکا ہے-اور انہیں یہ جنگ مہنگی بھی پڑ رہی ہے اس لئے یہ ممکن ہے کہ اس دہشت گردانہ کاروائی میں روس اور اسرائیل نے حزب اللہ کا استعمال کیا ہو تاکہ فرانس کو اس جنگ میں اپنے اتحاد میں شامل ہونے کیلئے مجبور کیا جاسکے - یہ بھی دھیان رہے کہ یوروپ میں فرانس ایک ایسا ملک رہا ہے جہاں اسلام مخالف جذبات میں شدت  پائی جاتی رہی ہے اوراسی ملک سے اخبار چارلی ہیبدونے اسلام کے خلاف گستاخانہ کارٹون شائع کرکے مسلمانوں کی دل آذاری کرتا رہا ہے- حقیقت چاہے جو کچھ بھی ہو،خود فرانس پہلے ہی سے شام میں اپنے جنگی ساز وسامان اورہتھیار کے ساتھ موجود تھا اور اسے صرف اپنے حملے میں تیزی لانی تھی - بظاہر فرانس کی طرف سے یہ حملہ پیرس میں ہوئی تخریبی کاروائی کے ردعمل میں کیا جارہا ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں فرانس کی اس کاروائی کا سلسلہ پیرس پر ہونے والی تخریبی کاروائی سے پہلے ہی ایک ایسے وقت سے ہی شروع  ہے جب داعش کا وجود بھی نہیں تھا- فرانس نے مغربی ممالک کے ساتھ مل کر   2011 کی عرب شورش کے بعد لیبیا کو اس کے باوجود بمباری کرکے تباہ کر دیا جبکہ کرنل قذافی نے مغرب کے تعلق سے اپنے سخت رویے میں تبدیلی پیدا کر لی تھی اور 2012 میں لیبیا کی بغاوت سے کچھ عرصہ قبل ہی وہ فرانس کے دورے پر گئے جہاں نہ صرف ان کا پرجوش شاہانہ اور والہانہ  استقبال ہوا بلکہ قذافی کو  فرانس کے صدر نیکولس سرکوزی کے خصوصی مہمان کا شرف بھی حاصل رہا ہے- 
کہا جاتا ہے کہ اسلام دشمن طاقتوں نے عالم اسلام میں کبھی بھی مسلمانوں کی کسی بھی طاقتور حکومت قیادت یا تنظیم کو ابھرنے نہیں دیا ہے اور کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کراسے تباہ کر نے کی کوشس کی ہے - مگر یہ بات کیا مسلمانوں کی ذی ہوش قیادت اور سواداعظم کو بھی سمجھ میں آتی ہے-اس میں کوئی شک نہیں کہ داعش اپنے سخت گیر نظریات کی وجہ سےعالم اسلام کی حمایت سے محروم ہے اورمسلمانوں کے تمام گروہ اپنے مسلکی اختلاف کو مٹاکرغیرمسلم دنیا کے ساتھ داعش کے خلاف متحد ہیں - مگر کیا اسلام دشمن طاقتوں کو بھی مصر برما اور فلسطین میں ہورہے مظالم پر مسلمانوں کے جذبات کا خیال ہے - سچ تو یہ ہے کہ اسلام اورمسلمانوں کی نڈر اور بے باک قیادت کے تعلق سے ان  کا اپنا نظریہ  شروع سے ہی جارہانہ رہا  ہے اور وہ کبھی یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ مسلمان یا مسلمانوں کی کوئی ملیشیا یا حکمراں انہیں آنکھ دکھائے داعش کے ساتھ یہی ہو رہا ہےاورقذافی کو بھی اسی جرات کی سزا دی گئ- شاید ہم یہ بھی بھول گئے کہ 9/11 کے بعد جبکہ ورلڈ ٹریڑ سینٹر پر حملے کی ذمہ داری القاعدہ یا طالبان کسی نے بھی قبول نہیں کی تھی پھر بھی نہ صرف امریکہ اوراس کےاتحادیوں نے افغانستان پر حملہ کیا نیزعراق پر بھی کسی زاویے سے بھی حملے کا جواز نہیں تھا عام تباہی کے ہتھیار کا جواز ڈھونڈھ کرعراق کو جنگ کے میدان میں تبدیل کر دیا گیا - کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر طالبان نے بن لادن کو امریکہ کے حوالے کر دیا ہوتا تو افغانستان اور عراق کی جنگ کو ٹالا جاسکتا تھا- مگر ان لوگوں کو نہیں معلوم  کہ صہیونیت کےعزائم کیا ہیں اوراس کے شکنجے میں قید امریکہ کے لئے 9/11 سے بھی عظیم حادثہ افغانستان میں خلافت کا قیام تھااورممکن تھا کہ یہ چنگاری بڑھتے بڑھتے عرب ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی - افغانستان کی اس اسلامی بیداری سے خود اسرائیل کے ساتھ ساتھ عرب کے حکمراں بھی خوفزدہ رہے ہیں - جیسا کہ 2012 میں عرب کے حکمرانوں نے اسی خوف کی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ مل کر اخوانی حکومت کا خاتمہ کیا جبکہ وجہ کچھ بھی نہیں تھی اور اخوان کہیں پر بھی کسی طرح کی تخریبی کاروائی میں ملوث بھی نہیں تھے مگر افغانستان اور عراق کی طرح مصر میں بھی وجہ تخلیق کر لی گئی - خلیج کی دوسری جنگ کے بعد جب عراق پر معاشی پابندی لگی اور صدام حسین نے خلیج کی  تیسری جنگ میں  یہ محسوس کیا کہ اب ان کی حکومت نہیں رہنے والی اور کچھ انہی کے ایران نواز فوجی جنرل غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں تو انہوں نے اپنے وفادار فوجیوں کو مستقبل کی جنگ کا منصوبہ دے کر القاعدہ کے ساتھ ضم ہونے کے لئے آذاد کردیا اور یہ پیشن گوئی صدام حسین نے ہی کی تھی کہ عراق کی یہ جنگ اب اس خطے کیلئےام الحرب ثابت ہوگی- جو لوگ شروع سے جزیرۃالعرب کے اس بحران پر نظر رکھتے ہیں انہیں بخوبی اندازہ ہوگا کہ صدام حسین کی شہادت کے بعد سےعراق میں کبھی بھی امن قائم نہیں ہوسکا اورعراق کے سنی مسلمانوں کا ایک گروہ عراق کی ایران نواز حکومت کے خلاف مزاحمت کرتا رہا ہے- جس کا اعتراف دو دن پہلے سعودی شہزادے نے بھی کیا ہے کہ داعش کا وجود ایران نواز عراقی حکومت کے ظلم کے ردعمل کا نتیجہ ہے - جبکہ اس بات کا اعتراف مغرب کے مشہور و معروف صحافی تھامس فرائیڈ مین ایک سال پہلے ہی اپنے ایک مضمون میں کر چکے ہیں - بلکہ یوں کہا جائے کہ جس طرح عراق کی شورس عرب بہارمیں تبدیل ہوئی اور اس کی زد میں یک بعددیگرے تیونس،مصر، لیبیا ،شام اور یمن کے ڈکٹیٹروں کے تخت بھی تباہ ہو گئے صدام حسین کے ام الحرب کا نظریہ درست ثابت ہوا -اور اب داعش کا عروج دوبارہ عرب بہارکی اسی ناکامی کا نتیجہ ہے جس کے خلاف اور حمایت میں دنیا کی سپر پاور بھی کود چکی ہیں اور ادھر ترکی نے جس طرح روس کے لڑاکا طیارے کومارگرایا ہے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ داعش کو خفیہ طریقے سے ترکی امریکہ اورعرب کے تاجروں کا تعاون حاصل ہے اورخلیج کا یہ بحران مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے-اگر مشرق وسطیٰ کی یہ شورش واقعی ام الحرب ثابت ہوتی ہے اور جو نظر بھی آرہا ہے تو پھر اس جنگ کی آگ میں عرب اور مغرب کی کئ ریاستیں بحران کا شکار ہوکراپنا وقارکھو سکتی ہیں - خاص طور سے روس اور ایران جو تیل کے بڑے سپلائر ہیں بالکل نہیں چاہیں گے کہ یہ جنگ طول پکڑے کیوں کہ خلیج کے اس بحران اورداعش کے عروج سے روس اورایران کی معیشت پر گہرا اثر پڑا ہے- لیکن ایران اسرائیل اور روس کسی طرح اس جنگ کو 2016 میں امریکہ کے صدارتی انتخابات تک سنبھالنے کی کوشش بھی کریں گے اور چاہیں گے کہ ڈیموکریٹ کی بجائے ریپبلکن کا امیدوارکامیاب ہو تاکہ جیسا کہ ہوتا آیا ہے کہ ریپبلکن اسلام دشمن اور یہود نواز رہے ہیں اس وقت خلیج میں ترکی اور داعش کو امریکہ کی طرف سے جو خفیہ مدد حاصل ہو رہی ہےاس پرروک لگ جائےاور ترکی کے تنہا پڑ جانے کے سبب داعش جو ترکی کے راستے سے پٹرول کی تجارت اورہتھیارحاصل کررہے ہیں ان کیلئے مشکل کھڑی ہو سکے- ویسے اب جس طرح فرانس بھی روس کے ساتھ تعاون کررہا ہے امریکہ اورترکی بھی ممکن ہے کہ تیزی کے ساتھ داعش کو ایسے ہتھیار مہیا کروانا چاہیں گے جس کے ذریعے وہ خود روس اور فرانس کے لڑاکا طیاروں کو گرا سکیں - ویسے جنگ اور محبت میں کامیابی اور ناکامی کے مرحلے سے تو گذرنا لازمی ہے لیکن یہ بات ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ جزیرۃ العرب تیسری عالمی جنگ کا میدان کبھی نہیں بنے گا مگریہ بحران تیسری عالمی جنگ اورام الحرب کا سبب ضرور بن جائے گا -اور یہ میدان ایک بار پھر یورپ ہوگا اور ممکن ہے کہ ابھی اس کھیل کا ایک اورکھلاڑی چین جو خاموش بیٹھا ہے تیسری عالمی جنگ کا سبب بنے- اور وہ ملک جس کی وجہ سے تیسری عالمی جنگ کی شروعات ہو سکتی ہے وہ جاپان پر چین کا حملہ ہوگا-اور امریکہ سمیت یوروپ کے تمام ممالک جاپان کوبالکل تنہا نہیں چھوڑ سکتے- واللہ علم بالثواب ...واللہ خرالماکرین

جزیرۃالعرب کی شورش میں ایران کا کردار....!


عمر فراہی
umarfarrahi@gmail.com
سعودی عربیہ کی حکومت نے علامہ  یوسف القرضاوی , مولانا مودودی , سید قطب شہید اور حسن البنا جیسے تحریکی مزاج مصنفوں کی کتابوں پر پابندی لگا دی ہے -اس کا مطلب کہ تحریکات اسلامی کے تئیں سعودی عربیہ کے موجودہ حکمراں سلمان بن عبدالعزیز کا اپنا رویہ بھی وہی ہے جو مرحوم شاہ عبداللہ کا تھا - پتہ نہیں شاہ عبداللہ کا مشیرکارکون تھا جس نے انہیں گمراہ کیا لیکن اب سلمان بن عبدالعزیز کو تو کوئی سمجھائے کہ محترم خادم حرمیین شریفین اسی طرح ترکی میں بھی مصطفیٰ کمال اتا ترک نے تحریکات اسلامی کی سرگرمیوں کو منجمد کرنے کیلئے عربی رسم الخط کے ساتھ ساتھ مساجد اور مدارس تک میں تالا لگوا دیا تھا مگر کیا وہاں کی سیکولر حکرمتیں طیب اردگان جیسے مجاہد کا راستہ روک سکیں - محترم خادم حرمین شریفین شکر ہے ابھی آپ نے قرآن پر پابندی نہیں لگائی ہے اور اگر لگا سکتے ہیں تو یہ جرات بھی کر ڈالئے مگر یاد رہے آپ  خود بھی حافظ قرآن ہیں اور بخوبی جانتے ہیں کہ آپ نہ تو لوگوں کے  سینوں سے اسلامی انقلاب کو تحریک دینے والی اس اللہ کے کلام  کو نکال سکتے ہیں اور نہ ہی اس انقلاب کو روک سکتے ہیں جومومنین کے قلب میں پیوست ہے اور آپ کویہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ فرعون نے حضرت موسیٰ کا راستہ روکنے کیلئے بنی اسرائیل کے تمام بچوں کا قتل کر ڈالا مگر اللہ کی قدرت اور شان دیکھئے کہ وہ حضرت موسیٰ کی اسی کےمحل میں پرورش کر رہا تھا - ذرا آپ بھی ہوشیار رہیں امام مہدی کا ظہور بھی عنقریب آپ کے اسی خطے سے ہونے والا ہے- یہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی ہے جو کبھی جھوٹی نہیں ہوسکتی- دیکھئے کہیں یہ نوجوان بھی آپ کے محل اور خاندان میں ہی نہ پل رہا ہو ...! بہرحال ہمیں آپ کے اس فیصلے پر کوئی حیرت اور دکھ نہیں ہے کیونکہ اللہ کا دین غالب ہوکررہے گا اوراس دین کا محافظ اللہ خود ہے -آپ کو اسلام سے نہیں اپنی خاندانی حکومت سے محبت ہے اسی لئے آپ کے خاندان کو ہمیشہ اپنے عوام سے بغاوت کا خطرہ رہا ہے اورآپ نے کبھی بھی سعودی باشندوں پر مشتمل اتنی بھی فوج نہیں بنائی کہ وہ لبنان کی  شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا بھی مقابلہ کرسکے جبکہ عالم اسلام کے مسلمانوں کی سادگی دیکھئے کہ وہ  آپ کی حکومت سے بیت المقدس اورفلسطین کی آذادی کی امید بھی لگائے بیٹھا تھا- شاید آپ ایک طاقتورفوج بھی اس لئے نہیں بنانا چاہتے کہ کہیں آپ کی یہ فوج خود آپ کورضا شاہ پہلوی وغیرہ کی طرح یورپ میں پناہ لینے کا راستہ نہ دکھا دے - خیر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی حق تو  بہرحال غالب ہو کر رہے گا -
ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ سعودی حکمرانوں  کو اسلام سے نہیں اپنے اقتدار سے محبت ہے اور یہ لوگ اسلام اور مقدس سرزمین مکہ اور خانہ کعبہ کو اپنے اقتدار کیلئے ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں - انہیں بیک وقت جہاں اپنے عوام اور اسلام پسندوں سے خطرہ ہے ایران کی صفوی حکومت جو خود بھی ایک زمانے سے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو کی تکمیل کیلئے کوشاں ہے سعودی بادشاہوں کیلئے الگ خطرے کا سگنل دیتی رہی ہے- وہ تو بھلا ہو امریکہ اور صدام حسین کا کہ 1979 کے ایرانی انقلاب کے طوفان کوعراق میں ہی دفن کر دیا- ورنہ ایران نے تو رضا شاہ پہلوی کے زمانے سے ہی آل سعود کی حکومت کے اطراف میں اپنی شیعہ ملیشیائوں کاگھیرا تنگ کررکھا ہے اوراس طاق میں ہے کہ موقع ملتے ہی حرمین شریفین کی گردن دبوچ لے- جس طرح اسرائیل یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی سرحدیں نیل اور فرات تک کے علاقوں پر مشتمل ہیں ایران کا بھی دعویٰ ہے کہ مشرق وسطیٰ پر صرف اور صرف صفوی حکمرانوں کو ہی حکومت کرنے کا حق ہے -اپنے اسی  ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے اس نے عراق سے لیکر یمن سیریا اورلبنان میں ہرطرف شیعہ ملیشیائوں کاجال بچھارکھا ہے - اخوان کے ایک بزرگ رہنما اور کئ کتابوں کے مصنف احمد الراشد اپنی کتاب " آذادی سے فرار" میں لکھتے ہیں کہ مصرکی اسلامی بیداری ایک سنی بیداری تھی اوریہ بیداری مستقبل میں اسلامی مملکت کیلئے ایک عمدہ مثال قائم کر سکتی تھی جس کے سامنے گروہی شیعی اور خمینی مملکت کی شکل کا مضمحل ہو جانا یقینی تھا - وہ لکھتے ہیں کہ جب مرسی کی حکومت اپنے تربیتی اورمیڈیائی منہج کے ذریعے صاف اور شفاف اسلامی شعور کو عام کرتی اور تاریخ اسلامی کی درست تفسیروتفہیم سےعامتہ المسلمین باخبرہوتے توایرانی بدعت اور خرافات جسے ایران آج شعوری طور سے ساری دنیا میں رواج دینا چاہ رہا ہے اس کا یہ مکروہ چہرہ ایک سد راہ بن جاتی - مصر کا یہ اسلامی انقلاب اگر کامیاب ہو جاتا تومصری مملکت اورترکی کے مابین عسکری اوردفاعی معاہدہ بھی یقینی تھا - اس طرح یہ معاہدہ ایران کی صفوی حکومت کے مفاد کے بالکل برعکس ثابت ہوتا کیونکہ ایران جواسلامی عربی شعاروامن کو تباہ کرنا چاہتا ہے اس کا عزم ہے کہ وہ پورے علاقہ میں سب سے طاقتور اور مضبوط مملکت کی حیثیت اختیار کر سکے-اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی یہ سازشیں اپنے پہلے مرحلے میں کامیاب اور بار آور ہیں -انہوں نے حزب اللہ کو لبنان میں  نصیریوں کو شام میں اور رافضیوں کو یمن میں متحرک کررکھا ہے اورمصر جہاں کہ ایک زمانے تک فاطمی شیعہ حکمرانوں کا غلبہ تھا اس پر بھی قبضہ کرنے کیلئے وہ پر عزم ہے - اس کے علاوہ انہوں نے عراق کی شیعی جماعتوں کو ہر طرح کا تعاون دیا اور عراق میں شیعی حکومت قائم کردی لیکن جب اس نے دیکھا کہ عنقریب مصر کے اسلامی تجربات اورسرگرمیوں کی کامیابی ایران کے ان سارے منصوبوں پر پانی پھیردیگی اورایران کومجبوراً اپنی دہلیزکی طرف لوٹنا پڑجائےگا۔ مصر کا اسلامی انقلاب ایران کیلئے چیلنج بن گیا -ان سب کے باوجوداخوان کےلوگ ایران کی سازش کو سمجھ نہیں سکے تو اس لیے کہ ان کے دل اخوت اسلامی کے جذبات سے مغلوب تھے -اور انہوں نے گمان کرنا شروع کر دیا کہ ممکن ہے کہ ایران ان کے ساتھ باہمی معاہدہ کرلے- جبکہ ایران نے کمال ھلباوی کو اخوان کے درمیان سے نکالا اور اس کے ذریعے اخوان میں پھوٹ ڈالنے کی سازشیں کی اوراخوان کی مرکزی قیادت میں فساد برپا کرنے کیلئے اس کو مال اورجعلسازی سے لیس کرکے داخل کردیا لیکن الحمد اللہ استاد مرشد اور مکتب الارشاد بہت بیدار تھے - چنانچہ ھلباوی کو نکال دیا گیا اور یہ انقلابی سرگرمی پورے طورپر پردفن ہوگئی اور اللہ کی حفاظت نے جماعت کو سلامت رکھا لیکن اس کے باوجود ھلباوی مسلسل اپنی گمراہی میں پڑا رہا آور بعض ویڈیو سے پتہ چلا کہ وہ انقلاب سیسی میں شریک تھا اوراس نے سازشیں قائدین اور باغی تحریک کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ کی تھی اور وہ اپنی موجودگی کو چھپانا چاہ رہا تھا لیکن کیمرے نے اس کو بلاارادہ ایک لمحے کیلئے ظاہرکردیااوراسے بعض اخوانیوں نے دیکھ لیا تب ہمیں معلوم ہوا کہ وہ کلی طور سے منحرف ہے -
مرسی نے جہاد شام کی مدد و حمایت کیلئے مہم شروع کی اور اس کیلئے ایک اسلامی کانفرنس منعقد کی اور یوسف القرضاوی اور دوسرے علماء نے فتوے صادر کئے کہ مسلمان رضاکارانہ طورپر جہاد شام میں شامل ہوں - مرسی نے کچھ مصری ہتھیارشامی مجاہدین کو دینے کااعلان کیا تو ایران بھڑک اٹھا ایران جس نے کہ حزب اللہ ,جیش المھدی اور تمام ملیشیائی عراقی تنظیموں ,بحرینی یمنی افغانی اورپاکستانی لشکروں کی مدد سے معرکہ شام کا بوجھ اپنے اوپراٹھا رکھا تھا غیض وغضب میں مبتلا ہو گیا-اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ شام پر مسلسل قبضہ ہی اس کی کامیابی کی ضمانت ہے جسکا مقصد عربی اسٹریٹیجی امن کی دیواروں کو منہدم کرنا ہے اور پھرجوکچھ سیسی ،برادعی ,عمر وموسیٰ,حزب النور ,عبدالمنعم ابوالفتوح ,ھلباوی اور مصر کے میڈیا نے کیا وہ صرف موجودہ اسلامی تاریخ کا سب سے بڑا جرم نہیں ہے بلکہ وہ امت کے اسٹریٹیجی امن کے حق میں بھی سب سے بڑا جرم سمجھا جانا چاہیے-افسوس ایران سمیت عرب کے نااہل حکمراں بھی  قبطیوں کے ساتھ شامل ہوکر جہنم کے اس  گڑھے میں گر گئے اور مصر کے اسلام پسند مسلمانوں کو پابند سلاسل کر دیا گیا -


کیا واقعی عدلیہ آزاد ہے اور عوام کو ڈرنے کی ضرورت نہیں



نہال صغیر۔بلاد آدم ۔ ضلع ویشالی ۔ بہار 843105 موبائل:9987309013 

’’ملک میں عدلیہ آزاد ہے اور قانون ابھی اپنا کام کررہا ہے اس لئے کسی بھی شہری کوخواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہوخوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم ان کے حقوق کے نگراں ہیں ۔ انہیں تحفظ فراہم کرانا ہماری ذمہ داری ہے ۔ملک میں عمومی طور پرعدم رواداری نہیں ہے ۔صرف چند لوگ ہیں جو نفرت انگیز بیان بازی کررہے ہیں ۔اس میں کہیں نہ کہیں سیاست بھی کارفرما ہے ،لیکن کسی کو بھی ملک کے آئین کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی‘‘۔یہ چند اقوال ہیں جو نئے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر ایک پروگرام میں ملک میں رواداری کے مسئلے پر ہورہی بحث پر صحافیوں سے فرما رہے تھے ۔ جسٹس ٹھاکر کی باتوں میں ان کی صاف ستھری شبیہ اورانصاف پسندی و سچائی کی جھلک دکھتی ہے ۔اس کے علاوہ ان کے بیان میں اور کوئی خاص بات نہیں ہے ۔اگر ملک میں امن و قانون کی حکومت ہو تو اسے بتانے اور جتانے کی ضرورت ہی نہیں ہے ،وہ خود ہی نظر آتا ہے لوگوں کی باتوں ،عام آدمی کی نجی محفلوں چائے خانوں کی خوش گپیوں کے درمیان بھی اس کی وضاحت ہوتی ہے کہ عوام عدالتی نظام سے کس قدر مطمئن ہے۔ اس طرح کی باتیں وقتی طور پر خوشگواریت کا احساس تو دلاتی ہیں لیکن پائیداری اسی وقت ممکن ہے جب ملک میں انصاف ہو تا ہوا نظر آئے۔سلمان خان کو بامبے ہائی کورٹ کے ذریعہ بری کئے جانے کے بعد عام آدمی کا کیا تاثر ہے وہ ذیل کی کچھ بالکل عام قسم کے لوگوں کی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے۔اسٹیشن کو جاتے ہوئے تین مزدور ٹائپ کے لوگوں کی آپسی گفتگو کاموضوع سلمان خان پر بامبے ہائی کورٹ کا فیصلہ ہی تھا۔ان کا لب لباب یہ تھا کہ سب پیسوں کی مایا ہے غریب کا یہاں کوئی نہیں ہے ۔سلمان کی گاڑی سے جو ہلاک ہوئے یا جن کے زخمی ہونے کی وجہ سے ان کے خاندان کے روزی روٹی کا مسئلہ پیدا ہوا ہے ان کے لئے کورٹ کا فیصلہ کیا ہے یا حکومت کیا کررہی ہے ؟ایک شخص نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بھائی فٹ پاتھوں پر سونے والے انسان تھوڑے ہی ہیں جن کے لئے کوئی کچھ آواز اٹھائے ۔مائکروبلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ کچھ اس طرح تھا جو کافی مقبول بھی ہوا’’بس یہی سمجھ آیا ہے کہ آج سلمان کو سزا ہو جاتی تو میرا پیسے پر سے بھروسہ اٹھ جاتا‘‘ایک اور ٹوئٹ تھا’’قانون اندھا ہوتا ہے اس کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں،اندھے پن کی وجہ سے کئی بار وہ لمبے ہاتھ مجرم کی گردن تک پہنچنے کے بجائے اسکی جیبوں میں چلے جاتے ہیں ‘‘۔ اس طرح کے فیصلے مایوسی پیدا کرتے ہیں اور نظام عدلیہ پر عوام کے اعتماد کے اٹھنے کا سبب بن رہے ہیں ۔لیکن سب کچھ غلط نہیں ہو رہا ہے، کچھ نہ کچھ اچھا بھی ہو رہا ہے جیسا کہ ایک فیصلہ یکساں سول کوڈ کے مریضوں کی مایوسی کے تعلق سے ہے ۔ یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے لئے سپریم کورٹ نے بی جے پی دہلی کے مقامی لیڈر اشونی کمار اپادھیائے کی درخواست رد کردی ساتھ ہی اس کے وکیل سے کہا بھی کہ اگر اس طرح کی حرکت آیندہ ہوئی تو عدالت سختی کے ساتھ پیش آئے گی۔عدالت کا ایک اور ریمارک بھی اچھا تھا ’’جس کے ساتھ (مسلم خواتین)کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے وہ خود کیوں نہیں عدالت سے رجوع ہوتیں‘‘ ۔واضح ہو کہ مسلم خواتین سے انہی حضرات کو ہمدردی ہے جن کی نگرانی میں اورجن حمایت سے فسادات ہوتے ہیں اور اس میں یہ بتانے کی قطعی ضرورت نہیں کہ مسلم خواتین کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے ۔خود بیٹیوں کی سیلفی کی اور گھروں میں بیت الخلاء بنوانے کے تحریک کے علمبردار جب گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو ان کی نگرانی میں اور سرپرستی میں خواتین کو بے حرمت کیا گیا اور انہیں زندہ آگ کے حوالے کردیا گیا ۔وہ واقعہ تو رہتی دنیا تک کے لئے تاریخ میں محفوظ ہو گیا جب ایک حاملہ خاتون کا پیٹ چاک کرکے بچہ نکال کر تلوار پر اچھالا گیا اور پھر آگ کے حوالے کردیا گیا ۔ایسے لوگ محض مسلم خواتین کی ہمدردی کا ڈھونگ کرکے اسلام اور مسلم معاشرہ کی بدنامی کے لئے ہی ایسے معاملات کو لے کر سڑکوں ،پارلیمنٹ یا کورٹ میں جاتے ہیں ۔شکر ہے کہ عدالت نے نہ صرف اس عرضی کو خارج کردیا بلکہ انہیں پھٹکار بھی لگائی جس سے یقیناعدلیہ کی دھندلاتی شبیہ کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔کیوں کہ اب ہماری عدالتیں عقائد اور اجتماعی ضمیر کی بنیاد پر فیصلے سنانے لگی ہیں ۔عدلیہ کے تعلق سے شانتی بھوشن کی بات اب تک یاد ہے جب انہوں نے سپریم کورٹ میں کسی معاملہ کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے اکثر جج بدعنوان ہیں ۔اس پر جج صاحب نے اعتراض کہ آپ ایسا نہ کہیں بلکہ یہ کہیں کہ کچھ جج بدعنوان ہیں لیکن شانتی بھوشن اپنی بات پر قائم رہے۔ابھی حال میں سابق چیف جسٹس کاٹجو نے ایک انٹر ویو میں کہا کہ پچاس فیصد سے زیادہ جج بدعنوان ہیں ۔ اب یہ بات کاٹجو سے زیادہ کون جان سکتا ہے وہ خود اس سسٹم کا حصہ رہے ہیں ۔
پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں ملک میں پنپ رہے عدم برداشت کے ماحول پر گرما گرم بحث ہی چھایا رہا ۔دو تین دن اسی بحث اور الزام جوابی الزام میں بیت گئے ۔یہ بحث اس وقت ختم ہوئی جب وزیر اعظم نریندر مودی نے اس میں مداخلت کی ۔بات ختم ہو گئی لیکن ۔تیسرے دن راجیہ سبھا میں پھر حکمراں محاذ کی جانب سے کماری شیلجا کے اس بیان پر کہ گجرات کے مندر میں داخلہ کے دوران ان سے ان کی ذات پوچھی گئی تھی بی جے پی کے مختار عباس نقوی کے ذریعہ اس رجسٹر کا زیرکس کاپی پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا جس کے مطابق شیلجا نے وزیٹر بک میں مندر کی تعریفوں کے پل باندھے گئے تھے ۔لیکن کماری شیلجا نے کہا کہ جہاں ان سے ان کی ذات پوچھی گئی تھی وہ دوسرا مندر ہے ۔اس واقعہ پر تیسرا دن بھی ہنگاموں کی نظر ہو گیا ۔صحافیوں نے اس بات پرسوال اٹھایا کہ آخر جب ایک معاملہ ختم ہو گیا تھا تب پھر سے اس معاملہ کو اٹھانے کے پیچھے حکمراں جماعت کی کیا منشا تھی؟
عدم برداشت کے اس ماحول میں جب عامر خان جیسے لوگ ملک کے بگڑتے حالات کی وجہ سے بیرون ملک کہیں جانے کی بات کریں تو سمجھا سکتا ہے کہ فرقہ پرستوں اور ہندو دہشت گردوں نے ماحول میں کتنا زہر گھول رکھا ہے ۔عامر خان کی بات پر جس طرح رد عمل کا اظہار کیا گیا اس سے خود ان لوگوں نے جو یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ ملک میں عدم برداشت کا ماحول کہیں نہیں ہے ،یہ ثابت کردیا ہے کہ عامر خان کی بات سچ ہے ۔ملک بہت بری طرح عدم برداشت کے نرغے میں ہے ۔ ایک بات تو ماننے والی ہے کہ یہ عدم برداشت ایک چھوٹے سے طبقہ میں ہے لیکن اس طبقہ کو حکومت کی خاموش حمایت حاصل ہے۔جس کی وجہ سے کافی طاقت ور اور بے لگام ہو گیا ہے ۔مودی بیرون ملک جاکر وہاں کہتے ہیں عدم برداشت نا قابل قبول ہے اور دہشت گردی کو مذہب سے جوڑنا غلط ہے ۔یہی بات ملک میں کہتے ہوئے شاید انہیں شرم آتی ہے کہ ان کی ناک کے نیچے ان کے بھکت لوگوں کا بولنا اور ان کا چلنا پھرنا دشوار کئے ہوئے ہیں اور وہ ہیں کہ خاموشی کا لڈو منھ میں دبائے بیٹھے ہیں۔اس طرح سے شاید وہ بین الاقوامی فورم پر اپنے آپ کو ایک روادار اور بہترین منتظم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔دوسرے لفظوں میں وہ گجرات 2002 کے خون کا دھبہ دھونا چاہتے ہیں ۔ان کے طرز عمل سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا اندھی اور بہری ہے وہ کچھ دیکھتی اور سنتی نہیں ہے ۔دنیا سب کچھ دیکھتی اور سنتی بھی ہے ۔اس کا اندازہ ان کو ان کے بیرون ملک دوروں میں اپنے خلاف ہورہے احتجاج سے تو ہو ہی گیا ہوگا ہاں یہ الگ بات ہے کہ آپ خود ہی اپنا سر ریت میں گھسا کر شتر مرغ کی طرح خود کومحفوظ تصور کریں ۔
ایسا نہیں ہے کہ صرف عامر خان نے ہی اس بات کا اظہار کیا ہے کہ وہ ان کی بیوی کرن راؤ ملک میں بن رہے حالات کی وجہ سے اپنے بچوں کے تحفظ کے تئیں کافی فکر مند ہے ۔بلکہ اس طرح کا اظہار دسیوں لوگوں نے کیا ہے ۔اس کا نقطہ عروج داداری میں محمد اخلاق کا ظالمانہ اور بزدلانہ قتل تھا جس پر وزیر اعظم خاموش رہے ۔پندرہ دن کے بعد جب وزیر اعظم کو دادری واقعہ کو افسوسناک کہنے کی فرصت ملی تب انہوں نے برائے نام افسوس کے اظہار کے ساتھ ہی یہ بھی کہہ ڈالا کہ اس سے مرکز کا کیا تعلق۔ٹھیک ہے امن و قانون کی صورتحال کو بہتر بنانا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔اور وہ یقیناًاس کی ذمہ داریوں سے نہیں بچ سکتی ۔لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ محمد اخلاق کے قتل میں جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ان کا تعلق مرکز میں حکمراں جماعت سے ہے ۔نیز ملک میں حالات بگاڑنے میں مدد گار ہونے والے بیانات دینے والی اور اشتعال انگیزی کرنے افراد بھی حکمراں جماعت سے ہی تعلق رکھتے ہیں ۔جس کے نتیجے میں اخلاق سے پہلے مراٹھی اور کنڑ کے تین ادیبوں اور سماجی خدمات گار کو قتل کردیا گیا اور ان کے قتل کے الزام میں بھی گرفتار کئے گئے افراد کا تعلق حکمراں جماعت کو جن لوگوں کی سرپرستی حاصل ہے انہی تنظیم سے ہے ۔ایسے حالا ت میں محسوس یہ ہونے لگا کہ حالات کچھ زیادہ ہی خراب ہو گئے ہیں ۔اور احتجاج کی آواز یا تو ختم کردی گئی ہے یا کمزور کردی گئی ہے تو ادیبوں فنکاروں سمیت مختلف میدان کے نامور افراد نے اپنے ایوارڈ واپس کرنے شروع کئے کیوں کہ ان کے پاس اور کوئی موثر طریقہ نہیں بچا تھا ۔لیکن موجودہ حکومت کے ذمہ دار وزراء اور ارکان نے سنجیدگی سے غور کرنے کے بجائے اسے بغاوت اور کانگریس کی سازش قرار دیا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ ایوارڈ واپسی کی تحریک تیز سے تیز تر ہوتی گئی اور بیرون ملک حکومت کو کافی خفت کا سامنا کرنا پڑا ۔شاید یہی وجہ ہے کہ پچھلے ڈیڑھ سال سے وزیر اعظم غیر ملکی سرمایہ کاری کی جی توڑ کوشش کررہے ہیں لیکن کوئی نظر التفات کرنے کو راضی ہی نہیں ہے ۔یہ ایک مسلمہ حقیقت بھی ہے کہ ملک میں امن و چین اور مثبت معاشی پالیسی ہی معاشی ترقی کا سبب بنا کرتا ہے ۔ صرف باتوں اور نئے نئے اعلانات اور نعروں سے کچھ نہیں ہوا کرتا ۔اگر وزیر اعظم مودی کو اپنے وعدوں کو پورا کرنا ہے ۔ملک میں معاشی ترقی کی رفتار کو تیزی دینا ہے ۔حسب وعدہ ایک کروڑ سے زیادہ نئے روزگار پیدا کرنے ہیں تو انہیں دو کام پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔اول یہ کہ باتوں ،وعدوں اور نعروں سے الگ ہو کر عملی اقدام کرنے ہوں گے اور دوم ملک میں امن و سکون کی فضا برقرار رکھنے کے لئے اپنی پارٹی کے اراکین کی زبان کو قابو میں کروانا ہوگا ۔اس کے بغیر پانچ سال تیزی کے ساتھ گزر جائیں گے ۔وعدے پورے نہیں ہوں گے ۔نتیجہ کانگریس مکت بھارت کا ان کا نعرہ بی جے پی مکت بھارت میں تبدیل ہونے سے کوئی نہیں روک پائے گا ۔جس کے آثار حالیہ کئی ضمنی ،اور لوکل باڈیز کے انتخابات میں نظر آنے لگے ہیں ۔
زہر پھیلانے والے عوام کے ایک بڑے حصے کو خوف کی نفسیات میں مبتلا کرنے والوں کے خلاف صرف ایک طبقہ کی جانب سے آواز موثر اور پر زور طور پر اٹھی ہے اور وہ ہے ادیبوں ،اسکالروں اور دانشوروں کا طبقہ ۔اس میں عدلیہ کا کوئی رول نظر نہیں آتا ۔جبکہ ایک طوفان بد تمیزی ہر طرف سے اٹھتی رہی ۔لیکن مکمل سکوت کو کسی نے توڑا تو اس طبقہ نے جس کا ذکر ہو چکا ہے ۔حالانکہ کئی معاملہ میں عدالت کا ضمیر بیدار ہو تا رہا ہے اور اس نے خود سے ایکشن لیا ہے لیکن ملک کی موجودہ صورتحال میں عدلیہ نے خاموشی ہی برتی کہیں سے کوئی ردعمل نہیں سامنے آیا ۔ایسی صورت میں چیف جسٹس کا بیان یقیناتپتے صحرا میں کسی نخلستان کی طرح ہے لیکن ان کے بھروسہ دلانے پر عوام کس طرح یقین کریں کہ عدالتی نظام کی موجودگی میں انہیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔جیسا کی مضمون کے پہلے پیراگراف میں بیان کیا گیا کہ صرف باتوں سے کیا ہوتا ہے ۔اس ملک میں سرے عام شراب پی کر تیز رفتار گاڑی چلا کر کوئی بااثر شخص غریبوں کی زندگی کے چراغ گل کردیتا ہے اور عدالت اسے بری کردیتی ہے ۔ایسے فیصلے سے تو مایوسی ہی پھیلے گی نا اور عدالت عوام کی نظر میں تمسخر کا ذریعہ ہی تو بنے گی ۔جس کا نظارہ سوشل میڈیا پر نظر آرہا ہے جس کا اوپر تذکرہ کیا گیا ۔پارلیمنٹ ہو یا سیاسی پارٹیاں ان سب سے تو عوام کا اعتماد جاتا ہی رہا۔ گنتی کے چند سیاست دانوں کے علاوہ بھی کسی پر بھروسہ نہیں رہا ۔ایک عدلیہ ہی عوام کی امیدوں کی آخری پناہ گاہ تھی اس پر بھی تعصب اور امارت کے سیاہ بادل چھاتے جارہے ہیں۔آخر میں بھی ایک ٹوئٹ کا تذکرہ بے محل نہیں ہوگا سلمان خان کے فیصلے پر کسی نے ٹوئٹ کیا ’’یعنی شراب سلمان خان نے نہیں اس کی کار نے پی تھی‘‘۔ 

حق کی تلاش ....!!


عمر فراہی
UmarFarahi <umarfarrahi@gmail.com>

مشرق وسطیٰ کے موجودہ بحران اور شورش کے تعلق سے  مسلمانوں کا وہ طبقہ جو خاص طور سے  طبقہ خاص سے تعلق رکھتا ہے اور جو لوگ صحافت خطبات  لٹریچر اور شوسل میڈیا کے ذریعے عوام کی ذہنیت کو صحیح رخ دے سکتے ہیں ان کی اپنی تحقیقات اور معلومات تو صفر ہے ۔ مگر  باطل میڈیا کے اس پروپگنڈے پر ان کا ایمان پختہ ہے کہ جو لوگ عراق اور شام میں اپنے  ظالم حکمرانوں سے نجات حاصل کرنے کیلئے مسلح جدوجہد میں مصروف ہیں  ان کا یہ عمل سراسر غیر اسلامی اور دہشت گردی کے مترادف ہے- یہ بات بھی عجیب سی لگتی ہے کہ ایک طرف اگر عرب نوجوانوں کی مسلح جدوجہد کوغلط قرار دیا جارہا ہے تو دوسری طرف اس ‘‘دہشت گردی’’ کے خلاف ایران اور شام کے حکمرانوں کی عوامی جدوجہد کو سختی سے کچلنے کی کوشش بھی دہشت گردی کے اسی  زمرے میں شمار کیا جاتا ہے- جہاں تک اس پورے بحران میں  عالمی طاقتوں کا کردار ہے تو بہرحال اس بات پر مسلمانوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ان کی نیت ٹھیک نہیں ہے - سوال یہ ہے کہ پھر حق پر ہے کون-آخر ہندوستان کا مسلمان اس مشکل صورتحال میں جبکہ جدید میڈیا نے مسلمانوں کی مثبت رہنمائی سے منھ پھیر رکھا ہے کس تنظیم اور کس مسلک کے عالم سے درست رہنمائی حاصل کرے - ذہن میں خیال آتا ہے کہ جماعت اسلامی ہند جو کہ ایک زمانے سے اقامت دین کی جدوجہد میں مصروف رہی ہے اسکی طرف رجوع کیا جائے مگر پھر خیال آتا ہے کہ بانی جماعت مولانا مودودی کو بھی ابو بکر البغدادی کی طرح اسلامی طرز سیاست اور خلافت کی جدوجہد کا قصوروار قرار دیکر شیعوں اور یہودیوں کے ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کیا جا چکا ہے- بدقسمتی سے اب اس جماعت کے لوگ خود بھی خلیفہ البغدادی کے لئے وہی خطاب تجویز کر رہے ہیں - یہ الگ بات ہے کہ مولانا مودودی حق پر تھے اور ان کے حق پر ہونے کی وجہ یہ تھی کہ ان پر ڈر اور خوف کا غلبہ نہیں تھا - مگرآج کی جماعت اسلامی ہند مصلحت کا شکار ہو کر حق سے منحرف ہوتی جا رہی ہے- شاید یہی وجہ کہ ماضی میں جس طرح جماعت اسلامی کے لوگ عالم اسلام کی اسلامی تحریکوں کے رابطے میں ہوا کرتے تھے اور انہیں عالم اسلام کی صورت حال کا اندازہ بھی تھا موجودہ حالات میں ان کے قائدین کا کردار صفر ہے -اس طرح جو لوگ خود  روشنی کی تلاش میں ہوں یا روشنی کی جستجو بھی نہ ہو وہ دوسروں کو حق کا راستہ بھی کیسے بتا سکتے ہیں - ملک میں سلفی حضرات کہنے کیلئےغیر مقلد ہیں مگر سعودی حکومت کی تقلید ان کیلئے بھی جائز ہے اس لئے ان کیلئے حق وہی ہے جو سعودی حکومت کی طرف سے جاری ہوتا ہے- سعودی حکومت کا اپنا کردار بھی مصر میں داغدار ہو چکا ہے اس لئے سعودی حکومت اوراہل حدیث حضرات کی معلومات پر یقین کر لینے کا کوئی جواز نہیں بنتا - دیوبندی اور ندوی حضرات کوعالمی سیاست میں اتنی دلچسپی کبھی نہیں رہی لیکن اب ان کے کچھ مخلص علماء مصر میں اخوان کی جدوجہد کو حق مانتے ہیں اوراس کی اہم وجہ مولانا علی میاں ندوی کی شخصیت ہے جنھوں نے اہل دیوبند اور ندوہ کواخوان کی حقیقت سے متعارف کروایا - مگر اب ہندوستان میں ایسی شخصیات بھی ناپید ہیں - پھر بھی مولانا سلمان ندوی کے بروقت جرات مندانہ  بیان نے کسی حد تک مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کو واضح کر دیا ہے- اسی طرح ملک کے علماء اور صحافیوں کے ایک خاص طبقہ کی باگ ڈور بھی ایران کے ہاتھ میں ہے- اور ایران جو خود عراق اور شام میں ایک حریف کا کردار ادا کر رہا ہے اسے تو اپنے دشمن کی اچھائی کو بھی برائی میں بدلنے کا حق ہے- بریلوی حضرات کیلئے تو بہرحال یہ سارے مسلمانوں کے مسلک قابل مذمت ہیں ان کا دنیا کی کسی انقلابی تحریک سے کوئی رابطہ ہو بھی نہیں سکتا اس لئے ان کی تحقیق اورمعلومات جو صرف مغربی میڈیا پر منحصر ہے نظرانداز کر دینا ہی بہتر ہے- غرض کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی یہ تمام مسلکی تنظیمیں ملک کی فاشسٹ حکومت اورغیر مسلموں کے ایک خاص طبقے کو خوش کرنے یاکسی نہ کسی انجانے خوف اور مفاد کی وجہ سے حق بات کہنے سے قاصر ہیں -
ہمارے اس موضوع کی اصل بحث یہ ہے کہ کیا دنیا میں صرف اسلام پسند تحریکیں ہی مسلح جدوجہد کے ذریعے اپنا دفاع کررہی ہیں اوران کے مخالفین اپنے طیاروں اور میزائلوں سے پھول برسا رہے ہیں- اب اگر کوئی یہ کہے کہ مسلمان مسلح جدوجہد کو ترک کرکے پرامن سیاسی تحریک یا دعوت و تبلیغ میں مصروف ہو جائیں تو دنیا میں کبھی کوئی فساد نہیں ہوگا اور مسلمانوں پر کبھی کوئی تکلیف نہیں آئے گی تو وہ غلط ہے- شاید اسے نہیں پتہ کہ  ابھی تک کہ دو عظیم عالمی جنگوں میں مسلمانوں کا کوئی کردار نہیں تھا پھر بھی صرف تیس سال کے اندر عالمی طاقتوں نے ان دونوں جنگوں میں تین کروڑ انسانوں کو ہلاک کر دیا - جہاں تک مسلمانوں کی طرف سے غیر مسلم دنیا کو خوش کرنے کی بات ہے  تویہ لوگ اس وقت تک خوش نہیں ہو سکتے جب تک کہ مسلمان مادیت پر مبنی دجال  کے سرمایہ دارانہ نظام اوران کے باطل دین میں پورے کا پورا داخل نہ ہوجائیں..! موجودہ دور میں مادیت ہی وہ سب سے بڑا فتنہ اور انسانوں کا باطل خدا ہے جس کے سامنے مغرب کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کے حکمراں اور اب مسلماتوں کے نام نہاد علماء اور خود ساختہ دانشور بھی سر بسجود ہو کر تحریکات اسلامی کی مسلح جدوجہد کی مذمت کر رہے ہیں- یوں تو  اللہ کا بھی یہ مطالبہ ہے کہ اے ایمان والو اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ جیسا کہ اس کا حق ہے پھر بھی ڈاکٹراسرارعالم جواپنے نام کی طرح ایک پراسرار شخصیت بھی ہیں لیکن ان کی کئی کتابیں جس میں کہ" عالم اسلام کی اخلاقی صورتحال ,دجال اکبر اور یا ساری الجبل" کافی مقبول رہی ہیں -انہوں نے اپنی ایک کتاب دجال اکبر میں لکھا ہے کہ باطل،مسلمانوں کے ادھورے اسلام سے بھی خوفزدہ ہے اور اسے ہر وقت یہ خدشہ لاحق ہوتا ہے کہ کہیں وہ اپنے اس ادھورے سے پورے کی طرف نہ رجوع ہو جائیں - وہ لکھتے ہیں کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب کوئ  مسلمان کسی کونے میں چھپ کر بھی نماز  پڑھ رہا ہوگا تو وہاں سے گذرنے والے لوگوں میں سے ایک شخص دوسرے شخص سے اشارہ کرتے ہوئے کہے گا کہ دیکھو وہ دہشت گرد ہے...!
اس کا مطلب کہ اس دور میں مسلمان اپنے دفاع اور تحفظ کیلئے مسلح جدوجہد کا تو تصور ہی نہیں کر سکتا بلکہ وہ غیر مسلم دنیا کو خوش کرنے کیلئے اپنی اپنی اجتماعی عبادت کو ترک کرکے انفرادی اور جزوی عبادت کے باوجود بھی باطل کی نگاہ میں مشکوک رہے گا- ترکی میں مصطفیٰ کمال اتا ترک ایسا کر چکا ہے جہاں نہ صرف مسجدوں اور مدرسوں میں تالے لگائے گئے عورتوں کے حجاب تک پر پابندی لگائی گئ- ترکی کی فوج نے اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے ملک کے ایک اسلام پسند وزیر اعظم نجم الدین اربکان کو صرف اسلامی نظم پڑھنے کی وجہ سے معزول کر دیا - سوال یہ ہے کہ مسلمان کہاں اور کس حد تک غیر مسلم دنیا کو خوش کرنے کیلئے مصالحت اور منافقت اختیار کر ے گا - ویسے اسرارعالم صاحب کا یہ ایک ذاتی خیال ہے جس کی تصویر مستقبل قریب میں تو نظر نہیں آرہی ہے کیونکہ جس طرح سے یورپ وغیرہ میں اسلام تیزی کے ساتھ مقبول ہورہا ہے اورمسجدوں کی تعداد میں بھی بے پناہ اضافہ ہواہے یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ 1965 میں عرب اسرائیل جنگ کے بعد سے عرب نوجوانوں نے اسرائیل اور مغرب کے خلاف جو مسلح جدوجہد کی شروعات کی عرب کے اس خطے میں اخوان کے بعد حماس اورپھرالقاعدہ جیسی ملیٹنٹ تنظیمیں مضبوط سے مضبوط ہوتی گئی ہیں اور پھر جیسے جیسے انہیں کامیابی ملی نہ صرف ان کے  حوصلے بھی کافی بلند ہوئے ہیں انیسویں صدی کے بعد جبکہ اسلام تیزی کے ساتھ سیاسی زوال کا شکار تھا ان کی اسی جدوجہد کی وجہ سے اکیسویں صدی میں اسلامی بیداری کے سورج کو دوبارہ  طلوع ہوتے ہوئے بھی دیکھا  جاسکتا ہے- لیکن سچ کہا جائے تو مسجدوں کو آباد کر کے یا صوم و صلوٰۃ کی پابندی کے بعد بھی اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول کے مطلوبہ  مسلمان ہیں بھی یا نہیں اور ہم کہاں تک اسلام کے اس اصل ڈھانچے پر عمل پیرا ہیں جواللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے دور میں نازل ہوا تھا ...! کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت روم کے لوگ عیسائُیت سے پھر گئے تھے یا کلیسا کو منہدم کر دیا گیا تھا اور ان کے اندر سے حضرت عیسیٰ کی عظمت و احترام کا جذبہ ختم ہو چکا تھا ...! ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا- آخری رسول کی بعثت کے بعد بھی نہ صرف حضرت عیسیٰ اور کلیسا کا احترام باقی تھا پادریوں کا دبدبہ بھی برقرار تھا- ان کے اندرایسے اللہ والے کاہن اور راہب موجود تھے جنھوں نے نبوت سے پہلے نوجوانی کی عمرمیں ہی شام کے ایک سفر کے دوران اللہ کے رسول کو پہچان لیا تھا کہ یہی اب اس دنیا میں انسانوں کے آخری نبی ہیں - یہاں تک کہ عیسائی اس صلیب کا بھی احترام کرتے تھے جس پر حضرت عیسیٰ کو مصلوب کیا گیا تھا -اس کے باوجود مکہ میں ایک نبی کی آمد ہوتی ہے روم سے ٹکراؤ ہوتا ہے رومی صلاح الدین ایوبی کے دور تک صلیبوں کی برکت سے جنگ جیتنا چاہتے ہیں مگر صلیب سے انہیں کوئ مدد نہیں ملتی -ہمارا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا نام تو مشرکین مکہ بھی لیتے تھے اور اللہ کی نہایت مقدس سرزمین پر انہیں دنیا کی سب سے  مقدس عمارت مسجد الحرام  کی سر پرستی بھی حاصل تھی  اس کے باوجود تاریخ نے ان کا ساتھ نہیں دیا بلکہ تاریخ کے ایک نئے انقلاب نے ان کو بدل دیا- اب ہمیں اپنا بھی محاسبہ کرنا چاہئے کہ صرف مسجدوں اور درگاہوں کو آباد کر دینا یا وعظ نصیحت اور شوسل میڈیا سے حدیث اور قرآن کی باتیں پہنچا دینا ہی مسلمان ہونے کیلئے کافی ہے- سچائی یہ ہے کہ کچھ بہت زیادہ اعتدال پسند مسلمان جو یا تو سیکولرزم کے علمبردار ہیں یا غیروں کو مطمئن کرنے کیلئے غیروں کی مرضی کا اسلام چاہتے ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ کچھ ممالک میں جو مسلمان یا اسلامی تحریکیں مسلح جدوجہد کے ذریعے سیاسی انقلاب لانا چاہتی ہیں انکے  خون خرابے سے اسلام کی شبیہ خراب ہورہی ہے دوسرے لفظوں میں  تحریکات اسلامی کی جدوجہد سے جب تک غیر اسلامی طاقتیں مطمئن نہیں ہوتی ہیں اسے قابل قبول نہیں کہا جاسکتا - اللہ کا فیصلہ بہرحال واضح ہے کہ اس نے رسول کو اس کتاب کے ساتھ اس لئے بھیجا تاکہ اسلام کو تمام جنس دین پرغالب کردے خواہ مشرکین کو کتنا ہی ناگوار گذرے- سوال یہ ہےکہ اگر کچھ وقت کیلئے اسلامی تحریکیں غیروں  کی پسند پرراضی بھی ہو جائیں تو کیا انہیں کامیابی مل سکتی ہے- الجزائر فلسطین اور مصر وغیرہ اس کی تازہ مثالیں ہیں- ان تحریکوں کے لیڈران کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے اپنے ملک میں  پرامن طریقے سے انسانوں کی بجائے اللہ کی حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا تھا جو اب سلاخوں کے پیچھے ہیں -سچ تو یہ ہے کہ اس زمین پر اصل تصادم کسی مذہب سے مذہب کے درمیان نہیں ہے بلکہ اصل جنگ اور کشمکش مذہب اور مادیت کے درمیان ہے- مگر چونکہ دنیا کے دیگر مذاہب نے اٹھارھویں صدی کے مادی انقلاب کے سامنے گھٹنا ٹیک دیا ہے اور تحریکات اسلامی نے شکست قبول نہیں کی ہے اس لئے اس وقت گلوبل میڈیا جو دجال کا آلہ کار ہے پوری طاقت کے ساتھ تحریکات اسلامی کی جدوجہد اور کامیابی کے خلاف جھوٹا پروپگنڈہ کر رہا ہے اور ہم اس فتنے کا شکار ہیں -
 ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ عرب اسرائیل جنگ میں عربوں کی ذلت آمیز شکست کے بعد سے ہی باطل طاقتوں اوران کے میڈیا نے اکثر و بیشتر مسلمانوں کے اسلامی شعار کو نشانہ بنانا شروع کر دیا تھااورایک ایسے وقت میں جبکہ عالمی دہشت گردی یا کسی اسلامی تنظیم کی طرف سے مسلح جدوجہد کی شروعات بھی نہیں ہوئی تھی صہیونی میڈیا نے سعودی عرب کے اسلامی نظام اور مسلم عورتوں کے حجاب اور طلاق کے مسئلے کو نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا - وہ تو بھلا ہو آیۃ اللہ خمینی کے ایرانی انقلاب اور پھرافغان مجاہدین اورطالبان کی مسلح جدوجہد اور القاعدہ جیسی تنظیموں کےعروج کا جنھوں نے سعودی عرب کے اسلامی نظام سے ان کی توجہ کو ہٹا کر مغربی میڈیا کو دہشت گردی کے پروپگنڈہ کا نیا موضوع دے دیا - بدقسمتی سے اب ان کا یہ خوف اسلامک اسٹیٹ میں تبدیل ہو چکا ہے- اور غالباً ایک صدی سے اسلام کے اصل ڈھانچے میں جو خلاء پیدا ہوچکا تھا اب وہ مکمل ہوتا ہوا نظر آرہا ہے اب یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگ اگر خلافت کی شکل میں اسلامی طرز سیاست کو بھی فتنہ قرار دیں تو اللہ ان کے اپنے خود ساختہ دین سے بھی بے نیاز ہے ممکن ہے کہ دین کی اصل روح سے خالی ان کی نماز ان کا روزہ  زکوٰۃ اور حج انہیں واپس لوٹا دیا جائے ۔ کیونکہ ایمان میں پورے پورے داخل ہونے کا تقاضہ تو جبھی پورا ہو سکتا ہے جب اہل ایمان رسول اور خلفاء راشدین کے اصل دین پر ہوں- اور یہی حق ہے-

عمر فراہی
UmarFarahi <umarfarrahi@gmail.com>

عاشقین رسول ﷺ کے جذبات کوسلام، مگر۔۔۔۔۔ ایک بار پھر اصل مسائل کی طرف سے عوام کی توجہ موڑنے کی سازش۔

مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی
مدیر الفرقان لکھنؤ، چئرمین رحمان فاؤنڈیشن (چیریٹیبل ٹرسٹ)

خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی

مسلمانوں کی تاریخ اور ان کے مزاج سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ رحمت دو عالم محبوب کل جہاں (فداہ ابی وامی اور ان پر اور ان کی آل پر لاکھوں درودوسلام )کی ذات گرامی سے کس قدر شدید محبت انکے ان امتیوں کو بھی ہر دور میں رہی ہے، جو بظاہر انکی تعلیمات کی پوری پابندی بھی کرتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ جب ہمارے جیسے صرف نام کے مسلمانوں کا یہ حال ہے تو اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کا کیا حال ہوگا، جو جان ودل سے ان پر فدا رہتے ہیں، اور انکی ہی تعلیمات کی روشنی میں پوری زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں، نیز شب و روز میں بار بار انکے حضور ہدیۂ درود وسلام بھیج کر اپنے قلب حزیں کی تسکین کا سامان کرتے ہیں۔ 
ابھی چند روز پہلے ہمارے ملک کے صوبے اترپردیش میں ایک دریدہ دہن نے آنحضرت ﷺ کی شان میں ایسے گستاخانہ کلمات کہے کہ جن کو نقل کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ اور پھر مسلمانوں میں، بجا طور پر، غصہ کی لہر دوڑ گئی، ملک میں مختلف مقامات پر لاکھوں کی تعداد میں مسلمان احتجاج کرتے ہوئے اور اس فاتر العقل کی گرفتاری اور سخت سے سخت سزا کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔
ہمارے خیال میں کوئی بے حس شخص ہی ہوگا جو اِن احتجاج کرنے والوں کے اس رد عمل کو غیر ضروری یا بلا وجہ قرار دے گا۔۔۔۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ملک کے طول و عرض میں بے شمار مقامات پر احتجاج ہوئے، لاکھوں کی تعداد میں لوگ گھنٹوں تک سڑکوں پر رہے،بعض مقامات پر لوگوں نے سڑکوں کو جام بھی کر دیا۔مگر انہوں نے نہ کسی راہ گیر پر کوئی پتھر مارا،نہ کسی کار، بس یا موٹر سائیکل میں آگ لگائی۔ وہ صرف انتظامیہ سے ہی مطالبہ کرتے رہے، کسی شہری کی جان یا مال کو انہوں نے نشانہ نہیں بنایا۔
اس حد تک اگر کوئی شخص ان احتجاج کرنے والوں کے جذبات کو اور سخت غم و غصّہ کے باوجود ان کے پر امن اظہار کو اس لائق سمجھتا ہے کہ اس کی تحسین کی جائے، تو اس رائے کو سرسری طور پر غلط قرار دینا کم ازکم حقیقت پسنداور اصلاح کا عملی تجربہ رکھنے والوں کے لئے ممکن نہیں ہوگا۔
تاہم، ایک بات ہے، جو اس موقع پر ان محمد مصطفیٰ ﷺ کے شیدائیوں سے ان کے محبت بھرے جذبات کو سلام کرتے ہوئے کہنا بھی ہم اپنا فرض اور ان کا حق سمجھتے ہیں۔
ہمارا ملک اس وقت ایک دوراہے پر پہنچ چکا ہے، جو لوگ ملک کی آبادی کے بارے میں کچھ تفصیلی اور گہری واقفیت رکھتے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کروروں کی تعداد میں وہ لوگ ہیں جو دراصل ہندو نہیں تھے۔ انہیں بڑی ہوشیاری کے ساتھ ہندو بنالیاگیا ہے، اور مستقل طور پر انہیں ہندو بنائے رکھنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ہر کچھ دن بعد مسلمانوں سے کوئی جھگڑا کھڑا کیا جائے، اور جب بھی ایسا ہوتا ہے، تو کبھی بھی وہ چالاک وعیار طبقہ خود مسلمانوں سے لڑنے کے لئے سامنے نہیں آتا ؛بلکہ انہیں لوگوں کو آگے کردیتاہے جنہیں ہندو بناکر اپنا غلام اور آلۂ کاربنائے رکھنے کے اصل مقصد سے ہی وہ جھگڑا کھڑا کیا جاتا ہے۔ 
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مسلمانوں کو اشتعال دلا کر ’’ہندو۔مسلم‘‘فساد کا ماحول بنانے کی ضرورت اس وقت بہت زیادہ شدید ہوجاتی ہے، جب ملک کی آبادی کی اس حصہ میں اپنے اصل دشمن اور اس کی سازشوں کی پہچان عام ہونے لگتی ہے، ماہ دسمبر ۲۰۱۵ء کے اداریہ میں ، میں نے تفصیل سے لکھا تھا کہ بہار کے الیکشن نے ایک بار پھر یہ موقع فراہم کردیاہے کہ ملک کی آبادی کی اس اکثریت کو اپنی اصل شناخت یاد آجائے، اور اس کی سمجھ میں یہ اہم ترین حقیقت آجائے کہ اس کے اصل دشمن مسلمان نہیں ہیں، بلکہ وہ لوگ ہیں جن کو وہ غلطی سے بہت عرصہ سے’’اپنا سمجھتے رہے ہیں‘‘۔میرے کہنے کا یہ مقصد نہیں ہے کہ بہار کے الیکشن ہی سے یہ آواز اٹھنی شروع ہوئی ہے، یہ آواز تو بہت عرصہ سے اٹھ رہی ہے۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ ادھر کچھ عرصے سے اس آواز کو سننے اور دھیان سے سننے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہاہے، اور بہار کے الیکشن میں یہ آواز بڑے زور سے گونجی ہے اور بہت مؤثر ثابت ہوئی ہے۔
اور یہی وہ بات ہے جس سے اس مخصوص فرقہ پرست اور فسطائی گروہ کو سخت پریشانی لاحق ہے، اور اسی وجہ سے اس گروہ کے لئے مسلسل اس کی کوشش کرنا ضروری ہے کہ ملک کے مختلف مقامات میں، خصوصاً ان ریاستوں میں؛ جہاں بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں یا ریاستی انتخابات ہونے والے ہیں، وہ ہندو۔ مسلم منافرت کا ماحول گرمائے، تاکہ لوگوں کے ذہن ودماغ اصل مسئلے کی طرف سے ایک بار پھر ہٹ جائیں،اور اس کے لئے وہی پرانا نسخہ’’ ہندو ۔ مسلم منافرت‘‘پھیلانا ان نفرت کے سوداگروں کے لئے ناگزیر ضرورت بن جاتا ہے ۔
یہ ہے دشمن کی وہ چال جسے سمجھنے اور اس کو ناکام کرنے کے سلسلے میں تدبیر کرنے کی ضرورت ہے۔ اور دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم مسلمان دشمن کی چالوں کو سمجھ ہی نہیں پاتے اور باربار ان کے پھیلائے ہوئے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ 
اب ذات رسالت مآب ﷺ کی شان میں گستاخانہ بکواس کی تازہ ترین واردات ہی کو ذرا اس نقطۂ نظر سے دیکھئے، آپ خود اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ اس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ لوگوں کے ذہن ودماغ پر ہندو ۔ مسلم نفرت کے جذبات چھاجائیں اور غیر مسلم سماج کی باہمی طبقاتی کشمکش کا موضوع پس پشت چلا جائے۔ اتر پردیش میں آئندہ سال الیکشن ہونے ہیں، اور سیاسی بازیگروں کی یہ سیاسی ضرورت ہے کہ عوام کے حقیقی مسائل کی طرف سے ان کی توجہ ہٹا کر ان مصنوعی مسائل کی طرف موڑ دی جائے ، جن سے ان کی روز مرہ کی زندگی کا تعلق نہیں ، اور یہ کہ ان کو اپنی اصل شناخت سے غافل کرکے انہیں مذہبی طور پر نہیں سیاسی طور پر ہندو بنا لیا جائے، کہ ان بازیگروں کو مذہب سے کوئی تعلق نہیں ، ان کی دل چسپی صرف اور صرف مذہب کے نام پر سیاست سے ہے۔ بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ ہندو مذہب کے نام کی چیز دنیا میں موجود ہی نہیں ہے۔ یہ تو نام ہے مختلف قوموں سے تشکیل شدہ مسلمانوں کے خلاف ایک مصنوعی اکثریتی محاذ کا ، دوسرے الفاظ میں یہ ایک سیاسی لیبل ہے نہ کی مذہبی شناخت۔
ایک پہلو اور ہماری توجہ کا مستحق ہے۔ گزشتہ تین مہینوں کے دوران،اللہ تعالیٰ کی قدرت سے، ملک کے حالات میں نہایت گہری تبدیلیاں آئی ہیں۔ اس فسطائی فرقہ پرست گروہ نے ملک میں نفرت وعدم رواداری اور شدت پسندی کا جو ماحول پیدا کیا ہے، اس پر مختلف طبقات میں شدید ناراضگی وتشویش کی لہر، بلکہ ایسا طوفان اچانک پیدا ہوا کہ اُس نے اِس گروہ کے اوسان خطا کر دیے ہیں۔ پے بہ پے ان کے لیے پریشانیاں اور الجھنیں پیدا ہو رہی ہیں، اور صاف دکھ رہا ہے کہ ہوا اکھڑ رہی ہے۔ ان حالات میں ان کے بس ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ کسی طرح فساد وبد امنی اور نفرت کے حالات پیدا کر کے لوگوں کی توجہ ان مسائل سے ہٹائی جائے۔ 
اگر ہمارا یہ تجزیہ صحیح ہے ، اور ہمیں پورا یقین ہے کہ بالکل صحیح ہے، تو بتائیے کہ ہمارا رد عمل مسلمانوں کو مشتعل کرکے سڑکوں پر اتارنے اور میڈیا کی پوری طاقت استعمال کرکے ملک میں ہندو مسلم منافرت پھیلانے کی اس سازش کے جواب میں ہونا چاہئے؟ یہی ناکہ ہم ایسا طرز عمل اختیار کریں جس سے ان سازشوں کے غبارے کی ہوا ہی نکل جائے، اور فضا میں کوئی گرمی یا اشتعال پیدا ہی نہ ہونے پائے، اور سماج کی اصل شناخت اور حقیقی مسائل کی طرف سے توجہ ہٹنے ہی نہ پائے۔ 
ہم اس مقصد کے حصول کے لئے کئی تدبیریں اختیار کرسکتے ہیں۔
۱۔ برادران وطن کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو چھوٹے چھوٹے جلسوں ، کے ذریعہ مخاطب بناکر رحمت دوعالم ﷺ کی شخصیت اور ان کے لائے ہوئے دین وشریعت کا تعارف کرانا ۔
۲۔ چھوٹے چھوٹے پمفلٹوں میں اور آسان زبان میں لکھے گئے لٹریچر کے ذریعہ اسلام کے پیغامِ امن ومساوات کو عام کرنے کی کوشش۔
۳۔ مضمون نگاری اور تقریروں کے مقابلے کے نام پر اسکولوں اور کالجوں میں پڑھنے والے طلبہ وطالبات کو سیرت نبوی اور تعلیمات نبوی کے براہ راست مطالعہ کا موقع فراہم کرنا۔
۴۔ خدمت خلق کے مختلف کام انجام دینا۔
الغرض اس قسم کے بہت سے مثبت کام ہو سکتے ہیں، جو رسالت مآب ﷺ کی شان میں گستاخی کے جواب میں کئے جاسکتے ہیں، اور شاید ہی کوئی اس بات سے اختلاف کر سکے، کہ احتجاج وغیرہ کے مقابلے میں یہ اور اسی طرح کے دوسرے کام قرآن وحدیث کی تعلیمات اور اسوۂ رسول اکرم ﷺ سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ 
ذرا یاد کیجئے اس واقعہ کو جب ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ اور ان کے سب سے بڑے شیدائی سیدنا صدیق اکبرؓ دونوں ایک ساتھ تھے،کہ کسی دریدہ دہن نے گالیوں کی بوچھار کردی، دونوں خاموش رہے، مگر بالآخر ایک وقت آیا کہ صدیق اکبر کا پیمانۂ صبر لبریز ہوگیا تو جواب میں انہوں نے بھی کچھ کہہ دیا ۔ بس حضور اکرم ﷺ فوراً وہاں سے اٹھ کر چل دئے، یہ دیکھ کر حضرت صدیق اکبر نے آپ کے ایک دم اٹھ کر چل دینے کی وجہ دریافت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تک تم بھی خاموش رہے اللہ کی طرف سے دیا جاتا رہا، جب تم بول پڑے تو اللہ کی طرف سے جواب کا سلسلہ بند ہو گیا۔۔۔۔۔
میری ملت کے غمزدہ بھائیو! اور عزیز نوجوانو! خدارا غور کرو، یہ اللہ کی طرف سے جواب دئے جانے کا کیا مطلب ہے؟ یہ ایسے حالات کے رونما ہونے کی طرف اشارہ محسوس ہوتا ہے کہ جن میں وہ گالیاں دینے والے یا تو ہدایت پاجاتے یا نیست ونابود ہوجاتے۔ 
پس گزارش یہ ہے کہ سازشوں کو سمجھیں اور ان کا جواب غصہ سے نہیں سوچ سمجھ کر اس طور پر دیں کہ جس سے صرف آپ کی بھڑاس ہی نہ نکلے، بلکہ دشمن کی سازش ناکام ہو، اور آپ کو مستقل اور پائدار فتح کی حقیقی خوشی ملے۔
Attachments area

پروپیگنڈے کا شکار مت بنو....پروپیگڈہ دشمن کا مضبوط ترین ہتهیار ہے.

پروپیگنڈہ اس قدر کرو کہ بس پھر دشمن ایسا بدنام ہو کہ اس کے بارے میں کوئی اچھا گمان تک نہ کر پائے ۔ اسے اتنا گندہ بنا کر پیش کرو کہ ضرب المثال بن جائے۔ قوم کے اہل عقل تو اہل عقل پاگل اور بے وقوف بھی، مرد عورت تو کیا بچے بھی اُسے گالیاں دیں برا جانیں۔ اُسکی تصویر اتنی بری بناو کہ پھر اُس کے ساتھ جو بھی ہو جائے، اُس پر جتنا بھی ظلم ہو جائے، وہ اپنی قوم کو جس طریقے سے بھی یہ احساس دلانے کی کوشش کرے کی وہ قوم کا ہمدرد ہے قوم اُس کی ایک نا سنے اور اسے برا ہی جانے۔ جی ہاں یہ ہوتا ہے پروپیگنڈا اور اس کا مقصد ۔
آج یہی کچھ اہل حق کے ساتھ ہورہا ہے، اتنا برا بنا کے پیش کیا جارہا ہے کہ توبہ ! بے دین تو بے دین ، سیکولر تو سیکولر مولوی بھی اُس کی کھال ادھیڑنے میں لگے ہیں ۔ عقل مندو تو عقل مند پاگل اور بے وقوف بھائی گالیاں دینے لگے ہیں۔ ایک ایک عیب کو خوردبین سے تلاش کیا جارہا ہے اور پھر ڈھول پیٹ پیٹ کر دنیا کے سامنے اُسے بیان کیا جارہا ہے، ان کی اچھائیاں بھی برائیاں بنا کر پیش کی جا رہی ہیں، ان کی نیکیاں بدی بنائی جا رہی ہیں، یہاں تک کہ اب حالت یہ ہے کہ ان کا نام آتے ہی ایک عام مسلمان کے دل میں ایک خونی، قاتل، دشمن کا تصور ابھرتا ہے ۔
جبکہ وہ اس امت کے ہمدرد ہیں، اس امت کے لیئے اپنے گھر بار اور جانیں لٹانے والے ہیں، اس امت کو پھر سے خلافت (ہمارا کهوئی ہوئی عزت و اتحاد کا سرچشمہ) کی صورت عزت و بلندی پر فائز کرنا چاہتے ہیں، اس امت کو شرک و کفر، ظلم و استبداد سے بچانا چاہتے ہیں۔
میری یہ باتیں اکثریت کو زہر لگ رہی ہوں گی۔ ناک منہ چڑھا کر کہیں گے ہوں انتہا پسندوں کی تعریف کرتا ہے، کوئی کہے خارجیوں کی تعریفیں کرتا۔ تو جناب ایک مرتبہ سوچیے گا کہ کہیں آپ پروپیگنڈے کا شکار تو نہیں !
سوچیے گا کہ جن کے خلاف امریکہ اور ایران، عربی اور عجمی، سیکولر اور مفاد پرست سارے ہی برسرپیکار ہوں کیا اُن کے خلاف میڈیا جھوٹ نہیں بولے گا؟ کیا ان پر جھوٹے الزام نہیں لگیں گے؟ کیا انہیں بدنام نہیں کیا جائے !!
ہماری کهوئی ہوئی عزت کے قیام سے جس جس کے مفادات پر زد پڑتی ہے وہ سب کے سب اس عزت کے خلاف آج یک زبان ہیں۔ ایسے میں اے میرے مسلمان بھائی لوگوں کی باتوں میں مت آ۔ ان کے تو مفادات کا مسئلہ ہے، ان کی دکانیں بند ہورہی ہیں، ان کی عیاشیاں ختم ہو رہی ہیں اسی لیئے یہ چیخ رہے ہیں !!
فضيل ابن عياض رحمه الله فرماتے ہیں: عليك بطريق الهدى وإن قل السالكون، واجتنب طريق الردى وإن كثر الهالكون
تم راہ ہدایت پر گامزن رہو چاہے اُس پر چلنے والے کتنے ہی تھوڑے کیوں نا ہوں، اور برائی کے راستے سے بچو چاہے اس پر چل کر ہلاک ہونے والے کتنے ہی زیادہ کیوں نا ہوں !

اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ علماء کی قلیل تعداد ہی حق کے ساتھ کھڑیٰ ہوتی رہی ہے، خاص کر کے جہاں معاملہ کلمہ حق کی خاطر جان دینے کا ہوتا تھا۔ چنانچہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے زمانے میں اکثریت یا خاموش تھی یا پھر بادشاہ کے ساتھ ۔
معاصر فی سبیل اللہ بھی اس کی واضح دلیل ہے. ان جیسے طبقے کو کبھی بھی علماء کی اکثریت نے درست نہیں کہا، انہیں ہمیشہ خوارج کہا گیا، تکفیری اور فسادی کہا گیا۔ مگر اس کے باوجود اہل حق کا قافلہ اپنی منزل کی جانب گامزن ہے.

کیا دولت اسلامیہ کا شمار خوارج میں ہوگا؟


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ
عرب کے شیخ الحدیث، مفسر قرآن، مفتی اعظم ڈاکٹر طرھونی کا مناظرہ کا چیلنج دیتے ہوئے دولت اسلامیہ کو خوارج کہنے والوں کی بولتی بند کردی
خاص رپورٹ : انصاراللہ اردو
خلافت اسلامیہ کیخلاف ثقافتی وفکری جنگ لڑنے میں مصروف دنیا بھر کے طواغیت کے علمائے سوء نے اپنے مقاصد کو پانے کے لیے اسلام میں تحریف کرتے ہوئے خوارج کی احادیث کو دولت خلافت اسلامیہ پر فٹ کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔
یہ سلسلہ عام مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور ان کو خلافت اسلامیہ سے دور اور متنفر کرنے کے لیے شروع کیا گیا تاکہ اسلام کا نام لیکر ہی اہل اسلام کو خلافت اور ان کے دین سے دور کیا جاسکے۔
یہ سلسلہ اس قدر بڑھ چکا کہ اسلام کا مذاق اڑایا جانے لگا اور جو بھی کفار ومرتدین کو اچھا نہیں لگتا، اسے خارجی قرار دیکر بدنام کرنے کا سلسلہ ایسے شروع کررکھا ہے جیساکہ اسلام اللہ کا نازل کردہ دین نہیں بلکہ کفار وطواغیت کے درباری علماء کا دین ہے۔
اس کا بنیادی سبب وہ علمائے سوء تھے جنہوں نے اسلام کا نام لیکر کفار ومرتدین کے اہداف پورا کرتے ہوئے مجاہدین کیخلاف فکری وثقافتی جنگ کو برپا کیا۔
علمائے سوء کی وجہ سے اسلام کے اڑائے جانے والے مذاق کی صورتحال سے دلبرداشتہ ہوکر عرب کے شیخ الحدیث، مفسر قرآن، مفتی اعظم ڈاکٹر محمد طرھونی حفظہ اللہ نے پوری دنیا کے علمائے سوء کو چیلنج دیا کہ جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ دولت خلافت اسلامیہ والے خوارج ہیں تو وہ آکر ان سے کہیں بھی اور کسی بھی طریقے سے مناظرہ کرلیں۔
محدث شیخ محمد طرھونی کے اس چیلنج سے خلیج وآل سعود کے گمراہ کن علماء کو شدید دھچکا لگا کیونکہ شیخ محمد طرھونی کوئی عام عالم دین نہیں ہے بلکہ وہ اس وقت کے نامور جید شیوخ الحدیث ومفسرین قرآن اور مفتیان اسلام میں سے ایک ہیں جن کے سینکڑوں علماء شاگرد ہیں۔
شیخ محمد طرھونی کو عرب خطے میں رہنے والا ہر مسلمان جانتا ہے جبکہ وہ یہاں مدینہ منورہ میں قرآن کریم کی دس قراءتوں، تجوید، حدیث، تفسیر ، فقہ اور دیگر اسلامی علوم کئی علماء کو پڑھاکر ان کو سندوں کے ساتھ روایت کرنے کی اجازت دیتے تھے۔
سعودیہ کے سینکڑوں علماء ان کے شاگرد ہیں جبکہ عرب خطے اور پوری دنیا میں ان کے ہزاروں علماء شاگرد ہیں۔
تجوید کے جو دروس وہ اپنی مسجد العامر میں رمضان میں دیتے تھے، ان میں سے کئی دروس میں سعودی حکومتی امیر سلطان بن عبد العزیز بھی شریک ہوتے تھے۔
اسی طرح وہ امیر عبد اللہ بن فیصل بن مساعد بن سعود بن عبد العزیز آل سعود کے استاذ خاص تھے۔
اس کے علاوہ مجمع الملک فہد، کئی تعلیمی اداروں ، یونیورسٹیوں، اسلامی ریسرچ سینٹرز میں پڑھانے، تحقیقی کام کرکے قرآن وتفسیر اور اسلامی علوم سے متعلق بیسیوں کتابیں لکھنے اور علمی پروجیکٹوں پر کام کرنے والے تھے۔
انٹرنیٹ پر حدیث شریف اور اسلامی ریسرچ کا اوپن یونیورسٹی قائم کرنے کا آئیڈیا بھی انہی کا تھا جبکہ وہ تعلیمی اداروں میں نصاب تشکیل دینے اور کئی دیگر علمی وفتاوی سرگرمیوں کو انجام دیتے تھے۔
انہوں نے اپنے ہم عصر کبار علمائے کرام شیخ عبد الرزاق عفیفی رحمہ اللہ ، شیخ مقبل بن ھادی الوادعی رحمہ اللہ، شیخ ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ، شیخ عبد الفتاح القاضی رحمہ اللہ ، شیخ عامر السید عثمان رحمہ اللہ کی صحبت میں رہ کر ان کے علم سے فیض یاب ہوئے۔
شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ کے شاگرد خاص تھے اور انہی کے کہنے پر اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ میں داخلہ لیکر وہاں سے فارغ التحصیل ہوئے۔

آپ 4 رجب1379ھ بمطابق جنوری 1960ء میں القاہرہ میں پیدا ہوئے اور آپ کی نسبت عرب طرھونہ کی طرف ہیں۔ یہ وہ عرب لوگ ہیں جنہوں نے الحجاز سے مصر اور لیبیا کی طرف ہجرت کرکے وہاں سکونت اختیار کرلی۔
آپ کا پورا مکمل نام محمد بن رزق بن عبد الناصر بن طرھونی الكعبی السلمی ابو الارقم المصری المدنی ہے۔
آپ نے عصری تعلیم، قرآن کریم حفظ اور شرعی علوم مکمل طور پر مصر میں حاصل کیا اور پھر مدینہ منورہ چلے گئے جہاں آپ نے تمام اسلامی علوم مکمل طور سیکھتے ہوئے وہی درس وتدریس کا کام کرنا شروع کردیا۔
حرم مدنی کے امام شیخ قاضی ڈاکٹر عبد المحسن بن محمد القاسم جیسے کئی امام وخطباء آپ کے شاگرد ہیں اور قرآن کو روایت کرنے کی سند انہوں نے آپ سے حاصل کی ہے۔
آپ نے مزید تعلیم کے لیے مدینہ منورہ چھوڑنا نہ چاہا لیکن اپنے علماء ساتھیوں کے کہنے پر ازہر یونرسٹی جاکر اسلامی علوم میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی۔
مدینہ منورہ میں اس وقت قائم الخندق مدارس کی بنیاد آپ ہی نے رکھی تھی۔
الغرض آپ ممتاز حافظ ، مفسر ، مفتی اور اسلامی مصنف ہیں۔ آپ نے کئی موضوعات پر تحقیقی کتابیں لکھیں ہیں ۔
2003ء میں انٹرنیٹ پر سعودی جیلوں میں علماء اور مجاہدین پر ہونے والے تشدد سے متعلق ایک مضمون نشر ہوا، اس مضمون کو لکھنے کا الزام آپ پر لگاکر سعودی حکومت نے آپ کو شک کی بنیاد پر گرفتار کرلیا۔آپ نے اس مضمون سے کسی قسم کا تعلق ہونے کی تردید کی ، لیکن آپ کو 10 سال قید رکھنے کے بعد جج نے یہ کہہ کر چھوڑدیا کہ آپ بڑے عالم دین ہے اور شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا۔ ہم سے غلطی ہوئی اس لیے معذرت ۔‘‘
رہا ہونے کے بعد آپ کو مصر بھجوادیا گیا اور سعودی حکومت نے آپ کی سعودی بیوی کو مصر نہ جانے دینے اور طلاق دینے پر مجبور کیا لیکن ان کی یہ کوشش ناکام رہی۔
بہرحال مصر میں آنے کے بعد آپ نے درس وتدریس کا سلسلہ جاری رکھا اور آپ نے عیسائیوں سے مناظرے کرکے ان پر اسلام کی حقانیت کو واضح کرنے کا دعوتی کام کرنے لگ گئے جس سے بیسیوں عیسائی آپ کے ہاتھوں مسلمان ہوئے۔
اس کے علاوہ آپ نے قرآن کریم کی قراءتوں ، حدیث ، فقہ ، تفسیر اور دیگر اسلامی علوم کو پڑھاکر ان کو روایت کرنے کی سند جو آپ کے پاس آپ کے استاڈ سے ہوتے ہوئے ہر دور کے مایہ ناز جید علماء سے گزرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام تک موجود ہیں، اسے دینے کا سلسلہ جاری رکھا۔
اس پر مستزاد انٹرنیٹ پر حدیث اور اسلامی دراسات کے کالج کو چلاتے ہوئے آپ دنیا بھر میں موجود اپنے کئی شاگروں کو پڑھارہے ہیں۔
انٹرنیٹ پر کئی اسلامی دعوتی ویب سائٹوں میں آپ تحقیقی مواد لکھ کر نشر کرتے ہیں جبکہ سوشل ویب سائٹوں پر کئی تبلیغی رومز میں آپ ہر ہفتے دنیا بھر کے عام مسلمانوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ اور بھی آپ کی کافی سرگرمیاں ہیں اور ان سب کا احاطہ یہاں کرنا انتہائی مشکل ہے۔ آپ کی سیرت زندگی اور مکمل تعارف آپ کی اپنی ویب سائٹ اور انسائیکلوپیڈیا پر دستیاب ہیں ...
خلافت اسلامیہ کے قائم ہوجانے کے بعد آل سعود وخلیج حکام کے درباری علماء نے دولت اسلامیہ والوں کو خوارج قرار دینے کی مہم شروع کی ۔
اب اس مہم میں نام تو اسلام کا استعمال کیا جارہا ہے، مگر حقیقت میں اسلام کی جگہ اپنے طواغیت کے دین ارتداد کو فروغ دیا جارہا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ جب آپ نے دیکھا کہ کس بے شرمی کے ساتھ علمائے سوء اپنے طواغیت حکمرانوں کو خوش کرنے کے لیے قرآن وحدیث کے دلائل کی اپنی من مانی تشریح کرتے ہوئے دولت خلافت اسلامیہ والوں کو خوارج قرار دینے میں لگے ہوئے ہیں، تو آپ سے یہ برداشت نہیں ہوا۔
اسی وجہ سے آپ نے ایک بیان جاری کرکے اعلان کیا کہ جو کوئی بھی دولت خلافت اسلامیہ کو خوارج کہتا ہے، تو وہ مجھ سے اس پر مناظرہ کرلیں اور جہاں اور جس طرح وہ چاہے گا، میں مناظرہ کرنے کے لیے تیار ہو۔
آپ نے یہ مناظرہ دولت خلافت اسلامیہ کے ساتھ کسی قسم کے تعلق ہونے کی تردید کرتے ہوئے صرف اس بنا پر کررہے ہیں کہ آپ کو اسلام کے تمام علوم بالمشافہ سند کے ساتھ حاصل کرنے کے بعد یاد ہیں۔
آج اسلام ہی کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہوئے علمائے سوء اس کا حلیہ بگاڑنے میں لگے ہوئے ہیں اور اپنے حکمرانوں کی خوشنودی کو پانے کے لیے غلط فتاوی دیتے ہوئے عوام الناس کو گمراہ کررہے ہیں۔
اس مناظرے سے آپ کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ خوارج اصل میں کون تھے اور دولت خلافت اسلامیہ والے کسی بھی طرح خوارج نہیں ہیں۔
آپ کے مناظرے کا چیلنج دینے سے بہت سے علمائے سوء کی زبانیں بند ہوگئی اور وہ مناظرے پر آنے کی بجائے کترانے لگے۔
آل سعود نے اپنے ایک درباری عالم دین شیخ عصام العوید کو مناظرہ کے لیے تیار کیا اور علماء کا ایک پورا وفد اسے بطور مدد فراہم کیا۔
لیکن شیخ عصام العوید سے المسلم فورم پر تحریری مناظرہ ہوا جہاں وہ نہ خوارج کی تعریف بیان کرسکا اور نہ ہی دولت اسلامیہ کا تعارف کراسکا۔
آپ نے ہی پہلے دولت اسلامیہ کا تعارف کراتے ہوئے ثابت کیا کہ وہ کس طرح تنظیم نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں ایک مملکت وریاست ہے ۔ پھر اس کے بعد آپ نے خوارج کی تعریف اور اس کے اوصاف کو بیان کیا ۔
پھر آل سعود کے درباری عالم دین شیخ عصام العوید سے آپ نے مطالبہ کیا کہ وہ بیان کریں کہ کس طرح دولت اسلامیہ والے خوارج ہیں؟
اس پر آل سعود سے قریب تر مسلم فورم کا ایڈمن رضا احمد جو دونوں فریقین میں مناظرہ کرانے کی ذمے داری نبھارہا تھا، وہ غائب ہوگیا اور واپس نہیں آیا۔
اس کے بعد تحریری مناظرہ رک گیا اور آپ شیخ ڈاکٹر محمد الطرھونی نے آل سعود کے درباری عالم دین شیخ عصام العوید کو پال ٹاک PALTALK پر مناظرہ پورا کرنے کی طرف بلایا لیکن وہ بھی بھاگ کھڑا ہوا اور مناظرہ پورا کرنے سے انکار کردیا۔
اس پر آپ نے تنہا ہی پالٹوک پر ہزاروں مسلمانوں سے مخاطب ہوکر مناظرے کو تنہا مکمل کرتے ہوئے مناظرے کے تمام موضوعات پر تفصیلی گفتگو فرمائی اور دولت خلافت اسلامیہ کے مخالفین کے تمام شبہات واعتراضات کا تفصیلی جواب دیا اور پھر واضح کیا کہ اسلام میں خوارج کون ہیں اور ان کے اوصاف کیا ہیں؟
پھر اس کے بعد آپ نے واضح کیا کہ خوارج کی صفات کا انطباق دولت خلافت اسلامیہ پر کسی طرح نہیں ہوتا ہے بلکہ خوارج کے اوصاف سے قریب تر آل سعود وخلیجی حکام اور ان کی افواج ہیں۔
آپ نے درباری عالم دین کے بھاگ جانے کے بعد کئی گھنٹوں مناظرے سے متعلق تمام موضوعات پر تفصیلی گفتگو فرماتے ہوئے مسلمانوں کو ان موضوعات پر اسلام کی اصل تعلیمات سے روشناس کرایا ہے، جن کی ویڈیوز یوٹیوب پر موجود ہے ..
باقی آپ نے جو درباری عالم دین شیخ عصام العوید سے تحریری مناظرہ کیا، 
یہ سلسلہ اب تک جاری ہے اور آپ شیخ ڈاکٹر محدث محمد الطرھونی حفظہ اللہ اب تک دولت خلافت اسلامیہ کے تمام مخالفین اور درباری علمائے سوء کو کا تعاقب کرتے ہوئے ان کو تکفیر وخارج کے موضوعات پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بے نقاب کررہے ہیں ۔
اس کے علاوہ عام مسلمانوں کے تمام سوالات اور خوابوں کی تعبیر سمیت شیعوں، نصاری اور دیگر دشمنان اسلام سے مناظرہ کرتے ہوئے اسلام کی حقانیت اور صحیح عقیدہ کو مختلف سماجی ویب سائٹوں اور پالٹوک پر ’’ حراس العقیدۃ‘‘ (عقیدۃ کے محافظ) کے نام سے موجود روم میں گفتگو کرکے نشر کررہے ہیں اور عام مسلمانوں کو صحیح اسلام وتوحید سے آگاہ کررہے 
اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر آپ کئی دعوتی پروگرامز لائیو کرتے ہیں، جن کی تفصیلات اور ان کو آپ الہدی چینل پر سے سن سکتے ہیں، 
شیخ ڈاکٹر محدث محمد الطرھونی حفظہ اللہ کا اب بھی دولت خلافت اسلامیہ کو خوارج کہنے والے تمام علمائے سوء کو چیلنج ہے کہ وہ آکر ان سے مناظرہ کرلیں۔
اب تک طواغیت کے درباری علماء میں سے دوبارہ کسی نے ہمت نہیں کی ہے اور نہ ہی القاعدۃ کے نام نہاد السباعی، المقدسی ،ابوقتادۃ وغیرہ علمائے سوء میں سے کسی کو جرأت ہوئی ہے کہ وہ اس موضوع پر ایک اسلام کے حقیقی معنوں میں محدث عالم دین سے مناظرہ کرسکے۔
اللہ تعالی آپ بزرگ شیخ ڈاکٹر محدث محمد الطرھونی حفظہ اللہ کو جزائے خیر دے ۔ آپ نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر دولت خلافت اسلامیہ سے کوئی تعلق نہ ہونے کے باوجود اسلام کی خاطر اس کا دفاع کیا اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرے کہ آپ کو گرفتار کیا جاسکتا ہے اور آپ کو دولت خلافت اسلامیہ کا دفاع کرنے کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑسکتی ہے جیساکہ دیگر علمائے کرام کے ساتھ ہوا ، جنہوں نے دولت خلافت اسلامیہ کی بیعت یا اس کی حمایت کرنے کا اظہار صرف چند جملوں میں کیا تو ان کو گرفتار کرکے جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بھجوادیا گیا۔
لیکن آپ نے جان کی پرواہ کیے بغیر اسلامی غیرت رکھتے ہوئےببانگ دہل حق کو واضح کیا اور اسلام وخلافت اسلامیہ کا دفاع کیا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ آپ کی حفاظت فرمائے اور آپ کو اس کا اجر عظیم نصیب کرے۔ آمین