ایران امل ملیشیا اور حزب اللہ کی حقیقت

عمر فراہی ،جوگیشوری،ممبئی۔موبائل:9699353811
ایران امل ملیشیا اور حزب اللہ کی حقیقت
’’ایران اسرائیل کے نقش قدم پرِ ‘‘اس مضمون کی اشاعت کے بعد ہمیں تقریبا پندرہ سے بیس فون موصول ہوئے ان میں سے تقریبا ہر قاری اس بات پر تو متفق ہی تھا کہ مشرق وسطیٰ کے تعلق سے ایران کے جو وسعت پسندانہ عزائم ہیں شام کے بعد یمن میں اس کا یہ چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ایران آگے بڑھ کر اس مسئلے کا حل ڈھونڈتامگر اس کے لوگ ڈھکے چھپے لفظوں میں دھمکی دے رہے ہیں کہ سعودی عرب کے جارحانہ اقدام سے یہ جنگ اس کی سرحدوں میں بھی داخل ہو سکتی ہے ہمیں یہاں پر یہ بات بھی سمجھ میں نہیں آتی کہ جب ہندوستان سے لیکر پاکستان کے بیشتر اخبارات میں ایران کی بات ہی نہیں ہو رہی اور تمام لکھنے والے صرف عراق اور شام میں خلافت کی شکل میں ظاہر ہونے والے ایک نئے فتنے کا ذکر کر رہے ہیں اس کے باوجود عام قاری عام لکھنے والوں اور دانشوروں کے بالکل برعکس کیوں سوچ رہا ہے؟
قارئین کی اپنی سوچ اور فکر سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا۔اصل میں ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم پچھلے کئی سالوں سے رواداری اور اتحاد کے جنون میں حق اور نا حق کی تمیز کرنا بھی بھول چکے ہیں ۔یہی وہ کمزوری ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں کے وہ اتحادی جو مخلص نہیں ہیں اور مسلمانوں کے دشمنوں کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں اپنا الو سیدھا کر رہے ہیں ۔ہر شخص وہ چاہے کسی بھی مسلک اور فرقہ سے تعلق رکھنے والا مسلمان ہواس کا صرف ایک ہی موضوع ہے عرب انقلابیوں نے اپنی خلافت کا اعلان کر کے فتنے اور عذاب کو دعوت دی ہے حالانکہ ابھی تک ہم نے دنیا کے عظیم فتنوں میں صرف ایک ہی فتنہ کا نام سنا تھااور وہ ہے فتنۂ دجال اور خلافت راشدہ کا منہدم ہو جانا۔مولانا شبلی نے الفاروق میں لکھا ہے کہ اس فتنہ کا آغاز حضرت عمرؓکی شہادت کے بعد ہی شروع ہو چکا تھا۔کہا جاتا ہے کہ اہل فارس حضرت عمرؓ کے ذریعہ اپنی عظیم تر سلطنت کی تباہی کا صدمہ برداشت نہیں کر سکے تھے اسی لئے انہوں نے گھات لگا کر انہیں شہید کروادیا۔بعد کے حالات میں جب مدینے میں غیر مسلوں کی رہائش اور داخلے پر پابندی لگادی گئی تو عبداللہ ابن سبا جیسے منافق ،اسلام اور مسلمانوں کا حلیہ اختیار کر کے مدینہ میں داخل ہونے لگے ۔
جزیرۃ العرب میں ایران اور حزب اللہ اسی کردار کے ایسے درخت اور پھل ہیں جن کے ظاہر اور باطن کے اسی تضاد کی وجہ سے مسلمانوں کو ہر دور میں نقصان اٹھانا پڑاہے۔ایرانی حکمراں اور علماء اسلام کی پندرہ سو سالہ تاریخی کارنامے اورمساوات کی عظمت کے بر عکس فارس کی تین ہزار سالہ تاریخ پر فخر کرتے ہیں عظمت رفتہ کے اسی جنون میں غرق ایران کے مرحوم بادشاہ رضا شاہ پہلوی نے جب یہ دیکھا کہ سلطنت عثمانیہ کا شیرازہ بکھر چکا ہے اور عربوں میں اب کوئی ایسی طاقت ور ریاست نہیں رہی جو ایران کے منصوبہ کو ناکام بنا سکے اس نے امریکہ اور اسرائیل سے تعلق بحال کرتے ہوئے بے شمار اسلحوں کے ذخیرے جمع کرنا شروع کر دیئے تاکہ وہ طاقت کے ذریعہ پورے عرب کو ایران میں شامل کرکے فارس کی عظیم سلطنت کا وقار دوبارہ بحال کرسکے۔دوسری طرف عربوں کو مزیدکمزور کرنے کے لئے اس نے شام کے آخری سپہ سالار ،اور مصر کے صدر جمال عبدالناصر جو عربوں کے لئے میر جعفر اور میر صادق کا کردار نبھا رہے تھے ان کے ذریعے عربوں کو اسرائیل کے خلاف جنگ میں جھونک دیا ۔جمال عبدالناصر نے جان بوجھ کر اپنے تمام چار سو بیس لڑاکا طیارے کو ایک ہی میدان میں کھڑا کر کے اسرائیل کے ذریعے تباہ ہونے کے لئے چھوڑ دیا اورآخری سپہ سالار حافظ الاسد نے بغیر کسی مزاحمت کے گولان کے سر سبز و شاداب پہاڑی علاقہ کو اسرائیل کے حوالہ کر دیا ۔۱۹۶۷ ؁ ء کی اس جنگ میں پریشان حال فلسطینی مسلمانوں نے جب اپنے آپ کو ان مشکل حالات میں بھی اپنے عزم و استقلال کا مظاہرہ کرتے ہوئے پڑوسی ملک لبنان میں اپنے آپ کو منظم کرنا شروع کیا تو فلسطینی مسلمانوں کے اس عزم و حوصلے سے اسرئیل کا خوفزدہ ہونا تو لازم تھا ہی ایران کی رضا شاہ پہلوی حکومت کے بھی کان کھڑے ہو گئے ۔اس دوران حافظ الا سد جو کہ ایرانی حکومت کی خفیہ سازش کی وجہ سے شام کا صدر بن چکا تھا لبنان میں عیسائیوں اور فلسطینیوں کے درمیان پھوٹ پڑنے والے فساد کا بہانہ بنا کر فلسطینیوں کے گڑھ میں اپنی فوج داخل کر دی اور ۵۲ دنوں کے بے رحم حصار کے بعد عیسائی ملیشیا کو کھلی چھوٹ دے دی کہ وہ فلسطینیوں کوکو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کریں ۔دوسری بار ر ۱۹۸۲ ؁ء میں خود اسرائیلی فوج کے سپہ سالار ایریل شیرون شامی فوجوں کی موجودگی میں صابرہ ستیلہ کے کیمپ میں داخل ہو گیا اور درندگی کا وہی طریقہ اختیار کیا جسکی نظیر عیسائی ملیشیا اور حافظ الاسد نے قائم کی تھی ۔ تاریخ میں رابرٹ فشق جیسے مشہور و معروف صحافی جو اس حادثہ کے چشم دید گواہ رہے ہیں ان کی شہادت اور بیان سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اس کے باوجود یہ کہنا ہوگا کہ یہود و نصاریٰ لبنان سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ لبنان میں اس وقت تک کسی حزب اللہ اور شیعہ ملیشیا کا کوئی وجود نہیں تھا ۔ ایرنی حکومت نے پریشان حال فلسطینیوں کے حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کے ایک پیشوا خاندان کے شیعہ عالم موسیٰ الصدر کو لبنان میں شیعوں کو متحد اور مسلح کرنے کا منصوبہ بنالیا ۔موسیٰ الصدر نے اسرائیل کے خلاف نعرہ دے کر فلسطینیوں اور اخوانیوں کو اپنے اعتماد میں لیتے ہوئے ’امل ملیشیا‘ کے نام سے وہاں کے شیعوں کو مضبوط فوجی قوت میں بدل دیا ۔در اصل موسیٰ الصدر کا اصل مقصد ایرانی حکمت عملی کے تحت فلسطینیوں کی تنظیم جو اس وقت لبنان میں ’’رابطہ فلسطینیہ الاسلامیہ ‘‘کے نام سے طاقت ور ملیشیا کے نام سے مشہور تھی اس کا صفایا کرنا تھا تاکہ مستقبل میں ایرانی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے عرب کے اس خطہ میں شیعوں کو کسی طاقت ور ملیشیا سے مزاحمت کا خطرہ نہ رہے۔جب موسیٰ الصدرنے لبنان میں پوری طرح زمین ہموار کرلی تو حافظ الاسد کی فوجی قوت کے سہارے شیعہ’ امل ملیشیا‘ نے تیسری بار عیسایؤں اور یہود یوں کے ہی نقشِ قدم پر فلسطینیوں کے قتل عام کی نئی تاریخ رقم کی بلکہ یوں کہا جائے کہ جو کام یہودی اور عیسائی اپنے بل پر نہیں کر سکے اسے امل ملیشیا نے کلمۂ شہادت کا نام لے کر انجام دیا ۔اٹلی کے ایک مشہور اخبار ریپبلکا (Republica )کے مطابق ایک معذور فلسطینی جو کئی دن سے چل نہیں سکتا تھا شتیلہ کیمپ میں امل ملیشیا کے درندوں کے سامنے ہاتھ اٹھا کر رحم کی بھیک مانگنے لگا ۔جواب میں وہ گولیوں سے بھون دیا گیا۔کویت نیوز ایجنسی کے مطابق صابرہ کیمپ میں پچیس لڑکیوں کی اجتماعی آبرو ریزی کھلے عام پورے کیمپ کے سامنے کی گئی ۔فرانس کا ایک صحافی بیار فردیہ جو قیامت زدہ علاقوں میں اس امید میں چکر لگا رہا تھا کہ اسے کسی طرح صابرہ شتیلہ میں گھسنے کا موقع مل جائے امل ملیشیا کے ایک اسلحہ بردار کے ساتھ اپنی گفتگو کو بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ فلسطینیوں کو ہزیمت سے دوچار کرنے کے لئے ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے چوبیس گھنٹے کے اندر ہم خود ان کا صفایا کر دیں گے ۔سڑک کے دوسری طرف امل ملیشیا کے ٹینک بلا تمیز گھروں کے بیچ تنگ گلیوں میں مسلسل بمباری کر رہے تھے دو دن تک تو ہم فلسطینیوں کے علاقہ میں جو ہم سے صرف سو میٹر کی دوری پر تھے گھسنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔تیسرے دن جب ہم اس علاقہ میں پہونچے تو پورا بیروت لینڈمائن بن جا چکا تھا۔امل ملیشیا نے جگہ جگہ چیک پوسٹ بنا رکھے تھے زخمیوں کو نہ صرف راستے میں روک لیا جاتا بلکہ جو کسی طرح ہاسپٹل پہنچ گئے انہیں ہاسپٹل میں ہی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔اسی دوران ہماری نظر کچھ بوڑھوں ،عورتوں اور بچوں پر پڑی جو اپنی گٹھریاں اٹھائے بھاگ رہے تھے ان میں سے روتی ہانپتی ایک عورت نے کہا کہ گھروں کے ملبہ میں لاشوں کو دبا رہے ہیں اور کچھ لاشیں جلا بھی رہے ہیں ۔پناہ گزیں کیمپ میں غزہ ہاسپٹل کی ایک نرس کا بیا ن تھا کہ ایمرجنسی ہال میں ایک شخص اپنی چودہ سالہ بہن کے ساتھ پڑا تھا امل ملیشیا کے ایک اسلحہ بردار نے بچی سے کہا کہ اسے اٹھا کر لے جاؤ بچی نے کہا کہ وہ کیسے اٹھا سکتی ہے دوسرے لمحے اسلحہ بردار نے دونوں بھائی ،بہن کو اپنی گولیوں سے سرد کر دیا۔ایک دوسری عورت جو ہاسپٹل کے پڑوس کے گھر میں رہتی تھی اپنی دیوار کی شگاف میں سے دیکھا کہ فلسطینی نوجوان ایک کے پیچھے ایک بجلی کے تار سے باندھے ہوئے ہنکائے جا رہے ہیں ۔ دفعتاً اس نے گولیوں کی آواز سنی اور دیکھا کہ سارے نوجوان قتل کئے جا چکے ہیں ۔
تحریک آزادی فلسطین کی تنظیم فتح کے ایک ممبر رائد صلاح نے ۵ اگست ۱۹۵۸ ؁ ء کے اخبار الیوم السابع کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہی موسیٰ الصدر ہے جو لبنان میں شیعوں کی محرومی اور لا چاری کا رونا روتا تھاہم نے اس کا ساتھ دیا ہم نے اس کی امل تحریک کو تربیت دی اور مسلح کیا تاکہ اسرائیل کے خلاف یہ ہمارا ساتھ دیں گے مگر انہوں نے ہمیں جو زخم پہنچایا اسی بات کو رابطہ فلسطینیہ اسلامیہ کے ایک لیڈر نے یوں بیان کیا ہے کہ شیعوں کے ہاتھوں فلسطینیوں قتل کا نہ رکنے والا سلسلہ ثابت کرتا ہے کہ شیعہ ملیشیا امل امت اسلامیہ کے خلاف یہودیوں کے صف میں کھڑی ہے اور اس گمشدہ کڑی کو پورا کردیا جسے پورا کرنے سے یہود و نصاریٰ عاجز تھے۔جی ہاں یہ وہی شیعہ امل ملیشیا ہے جو آیت اللہ خمینی کے نام نہاد اسلامی انقلاب کے بعد نام نہاد اسلامی نام اختیار کرتے ہوئے حزب اللہ میں تبدیل ہوگئی ۔اس طرح بیروت جو فلسطینی جانبازوں کا فوجی ہیڈ کوارٹر بن چکا تھا ان کی لاشوں کے ڈھیر پر امل ملیشیا کے ذریعہ حزب اللہ کا ہیڈ کوارٹر بنادیا گیا ۔اس نئے اسلامی انقلاب سے اگر ایک بار پھر اخوان ،حماس اور جماعت اسلامی کے لوگ دھوکہ کھا گئے تو اس میں افسوس کی کیا بات ہے ماضی میں منافقت کی اسی دو دھاری تلوار سے امیر المومنین حضرت عمرؓ،عثمان غنیؓ ،حضرت علیؓ اور حسین ابن علی کے ساتھ سینکڑوں اللہ کے بندے شہید کردئیے گئے ہیں ۔مگر اس درمیان دھوکہ نہ کھانے والے صلاح الدین ایوبی جیسے مجاہدین بھی پیدا ہوتے رہے ہیں۔عراق و شام اور لبنان میں اب جو بچے موسیٰ الصدر ،حافظ الاسد ،بشارالاسداور نوری المالکی کے ظلم و تشدد کے بعد زندہ بچ گئے ہیں اب وہ اپنے دشمنوں کے عماموں کی لمبائی کو پہچاننے میں کوئی غلطی نہیں کررہے ہیں۔آئیے ہم سب ایک بار پھر متحد ہو کر اس نئی فوج اور نئے انقلاب کی مذمت کریں کیوں کہ ہم نے منافقوں کے ایجنڈوں پر متحد ہونے کی قسم جو کھا رکھی ہے اور پھر ہمیں بار بار دھوکہ کھانے کی روایت کو زندہ بھی رکھنا ہے ! 
عمر فراہی ،جوگیشوری،ممبئی۔موبائل:9699353811

کسانوں کے برے دن تو بی جے پی حکومت کے۔۔۔۔۔۔

کسانوں کے برے دن تو بی جے پی حکومت کے۔۔۔۔۔۔

    وال اسٹریٹ جرنل کے بلاگ نے اپنے ایک مضمون ہندوستان میں خود کشی کرنے والے کسانوں کے مسائل کا حل میں ۲۰۰۰ سے ۲۰۱۳ یعنی تیرہ سال میں کسانوں کی خود کشی کی تعداد ۲۲۵۰۰۰ بتائی ہے ۔جبکہ وزارت ذرعی امور حکومت مہاراشٹر کی جانب سےدئے گئے اعداد شمار کے مطابق ۲۰۱۲ سے ۲۰۱۴ تک کے تین برسوں میں مہاراشٹر میں فصلوں کی بربادی اور قرض میں ڈوب جانے کی وجہ سے ۳۳۱۳ کسانوں نے موت کو گلے لگالیا ۔ایک ٹی وی نیوز چینل پر اس بات کو بار بار دوہرایا جا رہا تھا کہ ۱۹۹۵ سے اب تک تین لاکھ کسان خود کشی کر چکے ہیں۔بہت ساری موتیں تو میں سمجھتا ہوں کہ رجسٹر ڈ ہی نہیں ہوتی ہوں گی ۔ان کسانوں نے آخر زندگی جیسی عزیز شئے کو ختم کرنے اور اپنے اہل خانہ کو بے یارو مدد گار چھوڑ دینے کے لئے اپنے آپ کو اتنا مجبور کیوں پایا ؟آخر ملک کا وہ طبقہ جس نے سبز انقلاب کے ذریعہ ملک کو غذائی اجناس کے معاملے میں خود کفیل بنایا تھا،اتنا مجبور کیوں ہو گیا ؟حد تو یہ کہ بہادری جفا کشی اور بلند حوصلگی میں اپنی مثال آپ رکھنے والا پنجاب کا کسان بھی اب خود کشی کی جانب گامزن ہو رہا ہے ۔ایک بہت بڑا سوال یہ ہے کہ اگر کسانوں کی خود کشی کا یہی حال رہا تو ملک کی معیشت کا کیا ہو گا کیوں کہ ملک کی معیشت آج بھی فصل پر منحصر ہے آج بھی یہاں کا سب بڑ اذریعہ آمدنی کھیتی ہے ۔ لیکن کسانوں کو ہونے والے اس طرح کے نقصانات اور اسے کے سبب قرض کے بوجھ کے خوف سے جب کسان اسی طرح خود کشی کرتا رہے گا تو دیگر لوگوں کا حوصلہ بھی ٹوٹے گا تو غذائی اجناس میں جو ہم خوف کفیل ہوئے ہیںاور یہ جس کی محنت اور جفا کشی کی بد ولت یہ ہوا ہے ،ہم آج سینہ بھلا کر دنیا کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو جب کسان کھیتی کرنا چھوڑ دینگے اس سے گائوں سے شہروں کی جانب ہجرت بڑھ جائے گی گائوں ویران اور شہر آباد ہوں گے تب کئی مسائل اور منھ پھاڑے کھڑے ہوں گے جس سے نپٹنا ہمارے بس کا نہیں رہے گا ۔موجودہ مسئلہ ہی جب ہم حل نہیں کر پاتے ہیں تو مزید مسائل کا سامنا ہم کیسے کر پائیں گے ؟
    اچھے دنوں کے وعدوں پر آنے والی مودی حکومت میں کسانوں کی خود کشی کا سیلاب آگیا ہے اور یہ بیماری مہاراشٹر کی سرحد سے نکل کر پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ۔کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب کسانوں کی خود کشی کی خبر نہیں آتی ہو ۔اس پرمزید یہ کہ مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش سمیت کئی بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں گائے اور اس کی نسل کے ذبیحہ پر عائد کی جانے والی پابندی نے ان سے آخری سہارا بھی چھین لیا ہے ۔دہلی میں عام آدمی پارٹی کی جنتر منتر پر ریلی کے دوران راجستھان دوسہ کے باشندہ گجیندر سنگھ کی خود کشی کے بعد محسوس یہ ہو رہاتھا کہ ملک عزیز کے سیاستدانوں کا ضمیر جاگنے لگا ہے ۔یہ بھی ممکن ہے کہ یہ میری خوش فہمی ہو کیوں کہ ابھی بھی گیارہ ماہ پرانی حکومت کے وزیر اعظم مودی پارلیمنٹ میں صرف یہ بیان دینے پر ہی اکتفا کرتے ہیں کہ یہ معاملہ کافی سنجیدہ ہے اس لئے اس پر آپ لوگ اپنی تجاویز دیں اس پر غور کیا جائیگا۔مطلب صاف ہے کہ سنجیدگی کااحساس محض سراب ہے یا ہم جیسے صحافیوں کی سادہ لوحی ہے کہ ہم لوگ محض پارلیمنٹ میں شور غل دیکھ اور سن کر سمجھ لیتے ہیں کہ یہ سیاستداں مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ ہیں ۔ لیکن ہمارے ارکان پارلیمان اور حکومتی کارندوں کی سنجیدگی اور ان کی نظر میں انسانی جان کی کیا قیمت ہو سکتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جب گجیندر کی خود کشی پر راج ناتھ سنگھ پارلیمنٹ میں کچھ بیان دے رہے تھے اسی وقت ان کے پشت میں بیٹھے ان کی ہی پارٹی کے رکن ہنس رہے ہیں۔یہ اس پارٹی کے رکن کی اخلاقی حالت ہے جو اپنے آپ کو اخلاقیات کا پابند بتاتی ہے۔جبکہ حال یہ ہے کہ ہر تیس منٹ میں ایک کسان خود کشی کر لیتا ہے ۔اس سے قبل اخبارات میں نتن گڈکری کا بیان کہ کسان بھگوان اور سرکار پر بھروسہ نہ کریں ۔اس کے علاوہ ان کے ایک اور وزیر کہتے ہیں کسان مرتا ہے تو مرنے دو اسی طرح کی اور بھی غیر ذمہ دارانہ بیان ان کی کسانوں کے تئیں حساسیت کو ظاہر کرتا ہے ۔
    کسانوں کی خود کشی کا مسئلہ لاینحل نہیں ہے لیکن اس کو حل کرنے کے لئے ضرورت ہے سیاسی عزم اور حوصلے کی جو کسی بھی سیاسی پارٹیوں میں نہیں ہے ۔اسی کا نتیجہ ہے کہ کسانوں کی خود کشی کا معاملہ جو کہ مہاراشٹر تک محدود تھا اب ملک کے طول و ارض میں پھیل گیا ہے ۔اب یہ خبریں اتر پردیش سے بھی آرہی ہیں مدھیہ پردیش اور آندھرا پردیش سے بھی کسانوں کی خود کشی کی مسلسل آرہی خبریں ہمارے ۵۶ انچ کے سینہ کا راز دنیا والوں کے سامنےکھول رہی ہیں ۔افسوسناک مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں انسانی ضمیر اور اخلاق کا جنازہ اٹھ چکا ہے ۔کسی کی موت فساد یا بم دھماکوں میں صرف سیاست کی جاتی ہے اس کے تدارک کی طرف کوئی نہیں جاتا۔اگر کوئی جاتا ہے تو اس کو مسلسل بد نام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ موجودہ گلے سڑے سیاسی نظام میں ایک نیا تجربہ عام آدمی کی صورت میں ہوا ۔عوام نے بھی اس کا والہانہ استقبال کیا ۔ دہلی میں عام آدمی کی حکومت تشکیل پا چکی ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ ایسا برتائو کیا جارہا ہے جس کے بارے میں کہا جائے کہ سر منڈاتے ہی اولے پڑے ۔ملک دو سیاسی پارٹیاں جو اس ملک کو امریکہ اور انگلینڈ کی طرح دو سیاسی پارٹی نظام میں ہی لانا چاہتی ہیںکی کوشش یہ ہے کہ وہ کسی نئی سیاسی پارٹی کو ابھرنے نہ دیں ۔شاید دونوں ہی ایسے معاملے میں اکٹھی ہو جاتی ہیں ۔دہلی میں گجیندر کی خو د کشی میں بھی ایسا ہی ہوا ۔ مرنے والا مر گیا لیکن یہ دو نوںسیاسی پارٹیاں اس کی چتا پر اپنی سیاسی دوکان چمکانا چاہتی ہیں ۔جبکہ دو نوں نے ہی کسانوں کے لئے کچھ نہیں کیا ۔اخبارات اور نیوز چینل میں آنے والے ویڈیو اور تصاویر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عام آدمی پارٹی کی ریلی کے مقام پر بھاری پولس فورس ہوتے ہوئے بھی گجیندر کو اتارنے کی کوشش میں پولس کا ایک بھی سپاہی کہیں نظر نہیں آتا ہے ۔عام آدمی کے کنوینر اروند کیجریوال نے تو بلا تاخیر اپنی تقریر جاری رکھنے کے لئے معافی بھی مانگ لی ہے کچھ بھی ہو نئی سیاسی پارٹی اور ان لوگوں میں اتنی اخلاقی جرات تو ہے کہ وہ معافی مانگنے میں دیر نہیں کرتے۔
    منموہن سنگھ نے مہاراشٹر میں ہو رہے کسانوں کی خود کشی کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے کئی ہزار کروڑ کا پیکیج دیا لیکن اس کے بعد بھی کسانوں کی خود کشی رکی نہیں اس کا مطلب صاف ہے کہ پیکیج کی وہ رقم سیاست داں اور کرپٹ بیورو کریسی کی نظر ہو گئی ۔راجیو گاندھی شاید وہ پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے یہ قبول کیا تھا کہ مرکز سے عوام کی فلاح کے لئے جو رقم جاتی ہے اس کا صرف پندرہ فیصد ہی ان تک پہنچ پاتا ہے باقی سب درمیان میں غائب ہو جاتا ہے ۔اب یہ احساس ہو رہا ہے کہ وہ پندرہ فیصد بھی عوام تک نہیں پہنچ پارہا ہے اسی لئے کاغذات پر تو کسانوں کی مدد نظر آتی ہے لیکن اس کی زمینی حقیقت ان کی خود کشی سے سمجھی جاسکتی ہے ۔ موت بڑی کڑوی حقیقت ہے اور اس سے ہر آدمی بچنا چاہتا ہے ۔زندگی انسان ہی نہیں ہر ذی روح کو پیاری ہوتی ہے ۔لیکن اتنی کڑوی چیز کو گلے لگانے کا مطلب کہ اس کی آغوش میں سو جانے والا پو ری طرح ناامید اور مایوس ہو چکا ہے ۔ مودی حکومت نے تو کسانوں کو ناامیدی اور مایوسی کے گہرے غار میں دفن کردینے کا ہی منصوبہ بنا رکھا ہے ۔تحویل اراضی بل اس کی پہلی کڑی ہے ۔یہی سبب ہے کہ عوام اس کو سمجھ کر اس کی زور دار مخالفت کررہے ہیں ۔میں نے کئی نیوز چینل پر مباحثہ دیکھا اس میں مجھے بی جے پی کی جانب سے ان کے ترجمان کے پاس اول تو سوال کرنے والوں کا کو ئی جواب ہی نہیں ہوا کرتا ہے اور اگر ٹوٹے پھوٹے اور بودے جواب دیتے بھی ہیں تو اس ظاہر سی بات ہے کہ عوام کی تسلی ہونے والی نہیں ہے ۔یہی سبب ہے کہ کانگریس کے یو راج راہل گاندھی لمبی چھٹی کے بعد جب پارلیمنٹ میں گرجے تو بی جے پی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔اصل میں مودی جی سمجھ رہے ہیں کہ صرف لچھے دار بھاشنوں اور اوبامہ کے تھینک یو اور کیم چھو کہ دینے سے یا ان کی تعریف میں پورا ایک مضمون ٹائم میگزین میں لکھ دینے سے ہی وہ دنیا کے قابل ترین اور مشہور ترین لیڈر ہو جائیں گے یہ ان کی یہ سوچ غلط ہی لیکن پھر بھی ممکن ہے کہ وہ مشہور ترین لیڈر بن جائیں لیکن مقبول ترین لیڈر نہیں بن سکتے عام انسان یا کوئی رہنما صرف اپنے کام سے جانا جاتا ہے باتوں سے نہیں ۔باتیں تو آج نہ تو کل بھلادی جائیں گی لیکن کام ہمیشہ یاد رہتا ہے ۔پر مشکل یہ ہے کہ انہوں نے الیکشن جس طرح جیتا ہے اس کے بعد یہ عوام کے لئے کچھ بھی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں انہوں نے جس کی دولت کے سہارے الیکشن جیتا ہے فائدہ تو بہر حال اسی کا کریں گے یہی سبب ہے کہ ٹاٹا بولتے ہیں کہ یہ ایک بہتر لیڈر ثابت ہوسکتے ہیں انہیں موقع دی اجان اچاہئے ظاہر سی بات ہے کہ کون بول رہا ہے اور کس کے لئے بول رہا ہے یہ اہمیت رکھتا ہے ۔ایک صحافی دوست کا خیال ہے خواہ کیچھ بھی ہو جائے مودی حکومت اس کسان مخالف بل کو واپس نہیں لے گی ۔مجھے بھی مودی کے آمرانہ طرز سے یہی اندازہ ہو تا ہے ۔حالانکہ اس بل کو انہیں واپس لینے میں ہی عافیت ہے بصورت دیگر بدترین سیاسی موت ان کی منتظر ہے ۔لیکن کہتے ہیں کہ جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی جانب بھاگتا ہے اور بی جے پی کی سیاسی موت آئی ہے تو وہ کسانوں کے لئے موت کا پیغام لے کر آئی ہے جو دراصل ان کی سیاسی موت ثابت ہو گی کیوں اب کے گئے پھر کبھی نہیں آپائیں گے یہ حالات بتا رہے ہیں۔

نہال صغیر،کاندیولی،ممبئی۔موبائل:9987309013

پروپیگنڈے کا شکار مت بنو....پروپیگڈہ دشمن کا مضبوط ترین ہتهیار ہے.

پروپیگنڈے کا شکار مت بنو....پروپیگڈہ دشمن کا مضبوط ترین ہتهیار ہے. 

پروپیگنڈہ اس قدر کرو کہ بس پھر دشمن ایسا بدنام ہو کہ اس کے بارے میں کوئی اچھا گمان تک نہ کر پائے ۔ اسے اتنا گندہ بنا کر پیش کرو کہ ضرب المثال بن جائے۔ قوم کے اہل عقل تو اہل عقل پاگل اور بے وقوف بھی، مرد عورت تو کیا بچے بھی اُسے گالیاں دیں برا جانیں۔ اُسکی تصویر اتنی بری بناو کہ پھر اُس کے ساتھ جو بھی ہو جائے، اُس پر جتنا بھی ظلم ہو جائے، وہ اپنی قوم کو جس طریقے سے بھی یہ احساس دلانے کی کوشش کرے کی وہ قوم کا ہمدرد ہے قوم اُس کی ایک نا سنے اور اسے برا ہی جانے۔ جی ہاں یہ ہوتا ہے پروپیگنڈا اور اس کا مقصد ۔
آج یہی کچھ اہل حق کے ساتھ ہورہا ہے، اتنا برا بنا کے پیش کیا جارہا ہے کہ توبہ ! بے دین تو بے دین ، سیکولر تو سیکولر مولوی بھی اُس کی کھال ادھیڑنے میں لگے ہیں ۔ عقل مند تو عقل مند پاگل اور بے وقوف بھائی گالیاں دینے لگے ہیں۔ ایک ایک عیب کو خوردبین سے تلاش کیا جارہا ہے اور پھر ڈھول پیٹ پیٹ کر دنیا کے سامنے اُسے بیان کیا جارہا ہے، ان کی اچھائیاں بھی برائیاں بنا کر پیش کی جا رہی ہیں، ان کی نیکیاں بدی بنائی جا رہی ہیں، یہاں تک کہ اب حالت یہ ہے کہ ان کا نام آتے ہی ایک عام مسلمان کے دل میں ایک خونی، قاتل، دشمن کا تصور ابھرتا ہے ۔
جبکہ وہ اس امت کے ہمدرد ہیں، اس امت کے لیئے اپنے گھر بار اور جانیں لٹانے والے ہیں، اس امت کو پھر سے خلافت (ہمارا کهوئی ہوئی عزت و اتحاد کا سرچشمہ) کی صورت عزت و بلندی پر فائز کرنا چاہتے ہیں، اس امت کو شرک و کفر، ظلم و استبداد سے بچانا چاہتے ہیں۔
میری یہ باتیں اکثریت کو زہر لگ رہی ہوں گی۔ ناک منہ چڑھا کر کہیں گے ہوں انتہا پسندوں کی تعریف کرتا ہے، کوئی کہے خارجیوں کی تعریفیں کرتا۔ تو جناب ایک مرتبہ سوچیے گا کہ کہیں آپ پروپیگنڈے کا شکار تو نہیں !
سوچیے گا کہ جن کے خلاف امریکہ اور ایران، عربی اور عجمی، سیکولر اور مفاد پرست سارے ہی برسرپیکار ہوں کیا اُن کے خلاف میڈیا جھوٹ نہیں بولے گا؟ کیا ان پر جھوٹے الزام نہیں لگیں گے؟ کیا انہیں بدنام نہیں کیا جائے !!
ہماری کهوئی ہوئی عزت کے قیام سے جس جس کے مفادات پر زد پڑتی ہے وہ سب کے سب اس عزت کے خلاف آج یک زبان ہیں۔ ایسے میں اے میرے مسلمان بھائی لوگوں کی باتوں میں مت آ۔ ان کے تو مفادات کا مسئلہ ہے، ان کی دکانیں بند ہورہی ہیں، ان کی عیاشیاں ختم ہو رہی ہیں اسی لیئے یہ چیخ رہے ہیں !!
فضيل ابن عياض رحمه الله فرماتے ہیں: عليك بطريق الهدى وإن قل السالكون، واجتنب طريق الردى وإن كثر الهالكون

تم راہ ہدایت پر گامزن رہو چاہے اُس پر چلنے والے کتنے ہی تھوڑے کیوں نا ہوں، اور برائی کے راستے سے بچو چاہے اس پر چل کر ہلاک ہونے والے کتنے ہی زیادہ کیوں نا ہوں !

اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ علماء کی قلیل تعداد ہی حق کے ساتھ کھڑیٰ ہوتی رہی ہے، خاص کر کے جہاں معاملہ کلمہ حق کی خاطر جان دینے کا ہوتا تھا۔ چنانچہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے زمانے میں اکثریت یا خاموش تھی یا پھر بادشاہ کے ساتھ ۔
معاصر فی سبیل اللہ بھی اس کی واضح دلیل ہے. ان جیسے طبقے کو کبھی بھی علماء کی اکثریت نے درست نہیں کہا، انہیں ہمیشہ خوارج کہا گیا، تکفیری اور فسادی کہا گیا۔ مگر اس کے باوجود اہل حق کا قافلہ اپنی منزل کی جانب گامزن ہے.

امامِ کعبہ کا فکر انگیز خطاب

امامِ کعبہ کا فکر انگیز خطاب

پیر 9 رجب 1436هـ - 27 اپریل 2015م

انور غازی
’’اسلام میں تعصب اور منافرت کی کوئی گنجائش نہیں۔ بعض لوگ تشدد کے ذریعے دینِ اسلام کے تشخص کو مسخ کررہے ہیں۔ اسلام دُشمن قوتیں دینِ اسلام کو متشدد مذہب کے طور پر پیش کرتی ہیں، حالانکہ اسلام رحمت اور درگزر کا دین ہے جو کسی کو زبردستی دینِ اسلام میں داخل ہونے پر مجبور نہیں کرتا۔ معیشت سمیت تمام معاملات میں قرآن و سنت سے راہنمائی لی جائے۔ اسلام میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مسلمان اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھیں۔ تفرقے میں نہ پڑیں۔ ایک دوسرے کو معاف کرنا سیکھیں۔‘‘ یہ الفاظ امام کعبہ جناب شیخ خالد الغامدی کے ہیں جو انہوں نے لاہور میں خطبۂ جمعہ میں کہے۔مغرب کی طرف سے اسلام پر جو اعتراضات کئے جاتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسلام اپنے پیروکاروں کو تشدد پر اکساتا ہے۔ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہے اور جہادی نظریہ اس کی واضح علامت ہے۔
جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے، یہ تاریخ مسخ کرنے والے اعتراضات ہیں۔ اگر آپ اسلام کی تاریخ پر سرسری سی نظر بھی ڈالیں تو احساس ہوگا کہ آغاز ہی سے اسلام کی روشنی دنیا کے کونے کونے میں پھیلنا شروع ہوئی۔ پھر موجودہ مشرقِ وسطیٰ سے لے کر یورپ، افریقہ اور سینٹرل ایشیا تک مسلمان سلطنتیں قائم ہوئیں۔ اگر ہر طرف اسلام کا ڈنکا بجنے لگا تو اس عروج میں بنیادی عنصر مسلمان کا اپنا کردار تھا۔ مسلمان جہاں جہاں گئے وہاں اپنے ساتھ سچائی، احترام انسانیت، ایمان داری، انصاف، مساوات،حیا،محبت،فراخدلی اور خداترسی کا پیغام لے کر گئے۔ مسلمانوں کی تاریخ یہ ہے کہ وہ جہاں کہیں گئے چند صدیوں میں اکثریت بن گئے۔ انہوں نے اپنے مثالی قول وعمل اور کردار سے دوسروں کو بھی متاثر کیا۔ آپﷺ نے سو سے زیادہ جنگیں لڑی ہیں، لیکن ان 100 سے زائد جنگوں میں مسلمانوں اور کفار کے صرف ایک ہزار 18 افراد قتل ہوئے۔
1492ء میں اسپین میں اسلامی حکومت ختم ہوئی۔ ساڑھے تین لاکھ مسلمانوں کو مذہبی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ان میں تقریباً 30 ہزار کو سزائے موت ملی اور 12000 کو زندہ جلادیا گیا۔ جنگِ عظیم اول میں دو کروڑ اور جنگِ عظیم دوم میں 5 کروڑ سے زائد انسان تہ تیغ ہوئے۔ 1945ء میں جاپان کے دو شہروں ’’ہیروشیما اور ناگاساکی‘‘ پر امریکہ نے انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایٹم بم گرائے۔ اس بربریت سے چشم زدن میں دو لاکھ افراد پانی کے بلبلے کی طرح پگھل کر رہ گئے۔ کوئی چرند پرند نہیں بچا تھا۔ جو لوگ بچ گئے تھے وہ زندہ درگور تھے۔ 2001ء کے بعد افغانستان میں 6 لاکھ اور 2003ء کے بعد سے عراق میں 12 لاکھ عراقیوں کو بے دردی سے مارا جاچکا ہے، جبکہ اسلامی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ مسلمانوں نے جب بھی علاقے فتح کئے، وہاں کے لوگوں خصوصاً خواتین، بوڑھوں اور بچوں کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کیا۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا اسلام درگزر کا درس دیتا ہے چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا تھا: آج سب کو معاف کردیا گیا ہے۔
اپنی جان کے پیاسوں تک کو معاف کردیا۔ ہندہ، جس نے آپﷺ کے چچا حضرت امیر حمزہؓ کا کلیجہ چبایا تھا، آپ نے اس کو بھی معاف کردیا۔ وحشی جس نے حضرت امیر حمزہ کو بے دردی سے قتل کیا تھا، آپ نے اس کو بھی معاف کرنے کے بعد صرف اتنا کہا: ’’میرے سامنے نہ آنا کیونکہ مجھے میرے چچا یاد آجاتے ہیں۔‘‘ یہ اسلام ہی تو ہے جس نے غیروں کی بھی حفاظت کا نہ صرف حکم دیا بلکہ عمل کرکے بھی دکھایا۔ فارس جب فتح ہوا تو بادشاہ نوشیروان کی بیٹی بھی مالِ غنیمت کے ساتھ گرفتار کرکے لائی گئی۔ اسے جب دربارِ نبوی میں پیش کیا گیا تو ان کے سر پر ڈوپٹہ نہیں تھا۔ آپ نے حکم دیا: ان کے سر پر ڈوپٹہ رکھا جائے۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! یہ تو مسلمان نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’بیٹی تو بیٹی ہوتی ہے خواہ کسی کی بھی ہو۔‘‘ انسان تو انسان حیوانوں کے ساتھ بھی اسلام نے اعلیٰ برتائو کیا۔ وہ واقعہ تو سب کو یاد ہوگا ایک اونٹ نے آپﷺ کے قدموں میں سر رکھ کر اپنے مالک کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا: ’’اس کا مالک اس سے کام زیادہ لیتا ہے اور اسے گھاس کم دیتا ہے۔ اسکے بعد آپ نے جانوروں کے حقوق بھی بیان فرمائے۔ مغرب میں جمہوریت کے بڑے دعوے کئےجاتے ہیں مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ جمہوریت اور شورائیت بھی تو اسلام کی عطا کردہ ہے۔
اس کے ذریعے تو مسلمانوں کے خلیفہ کا انتخاب کیا گیا تھا۔ یہی تو قرآن کا حکم ہے اسلام ہی نے ’’مجلسِ شوریٰ‘‘ (پارلیمنٹ) کا حکم دیا۔ جس کو اندازِ حکمرانی اسلام اور مسلمانوں نے سکھائی آج وہ ہی اسلام اور مسلمانوں کو غیر مہذب، شدت پسند، دہشت گرد کہہ رہے ہیں۔امریکہ اور یورپ نے تو کل ترقی کی ہے۔ اسکی ترقی کے جو اسباب ہیں، وہ ہیںجو اسلام نے عطا کئے۔ تعلیم، انصاف، شورائیت، مساوات، جدید ٹیکنالوجی کا حصول، محنت ومشقت، غریب پروری، عدل۔ یہ سب وہ احکام ہیں جن پر عمل کرکے مغرب نے ترقی کی ہے۔ جدید علوم جن کی وجہ سے مغرب اوجِ ثریا پر پہنچا ہے۔ ان میں سے اکثر کی بنیادوں میں مسلمان ہی ہیں۔ بوعلی سینا، ابوریحان البیرونی، موسیٰ الخوارزمی، الفارابی، یعقوب الکندی، ابن الہیثم، ابن خلدون، ضیاء الدین ابن بیطار اور حکم عمر خیام جیسے بیسیوں مسلمان ہیں جنہوں نے جدید علوم روشناس کرائے۔
طب وصحت ہو یا سائنس، ریاضی ہو یا فلکیات ہر جگہ مسلمان ہی نظرآتے ہیں۔ مغرب کو اندازِ جہاں بانی، صحرانشیں اور سادہ منش مسلمانوں ہی نے تو سکھائے ہیں۔ مسلمانوں کا حکمراں رعایا کی خبر گیری کیلئے راتوں گلیوں میں چکر لگایا کرتا تھا۔ اپنی کمر پر سامان لادکر غریبوں کے گھر پہنچاتا تھا۔ حضرت عمرؓ نے کہا تھا:’’اگر دریائے فرات کے کنارے بھوکا پیاسا بکری کا بچہ بھی مرجاتا ہے تو اس کا ذمہ دار میں ہوں۔‘‘ رسول اکرمﷺ نے اُمت کو ایک جسم قرار دیا ہے اور فرمایا ہے جسم کے کسی بھی حصے میں تکلیف ہو اس کا درد پورا جسم محسوس کرتا ہے۔ اُمت کے اس تصور کو مسلمانوں نے جس طرح جذب کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ اُمت کے اس تصور سے مزاج میں ایک آفاقیت اور ایک بین الاقوامیت پیدا ہوتی ہے۔ مذہبی رواداری کا فروغ اور تمام مذاہب کا احترام ہونا چاہئے اور یہ بات بھی مدِّ نظر رہنی چاہئے کہ اسلام برحق مذہب ہے اور تاقیامت یہی رہیگا۔ اسلام کا مبینہ دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ ہی اسلام صرف تلوار اور طاقت کے زور پر پھیلا ہے۔
ہاں! اس بات پر اسلام اور مغرب سب متفق ہیں جو اعلیٰ انسانی اقدار اور روایات معاشرے کیلئے مفید ہوں اور اسے فلاح ونجات کی طرف لے جاتی ہوں اس کیلئے طاقت کے استعمال کی ضرورت ہے اوراسکے جواز پر کسی کا کوئی اختلاف نہیں، البتہ اعلیٰ انسانی اقدار کے تعین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام ہی دیگر مذاہب میں سے ایک ایسا مذہب ہے جو تمام فطری، معاشرتی اور سماجی تقاضوں کو کماحقہٗ پورا کرتا ہے۔ اسی کے طرف امام کعبہ نے اپنے اس خطبے میں اشارہ کیا ہے۔امام کعبہ نے اپنے اس خطبے میں مسلمانوں کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ وہ تفرقے میں نہ پڑیں۔ کاش! مسلم دنیا امام کعبہ کی آواز سنے اور اس پر لبیک کہے، کیونکہ آج جو مسلمان پستی اور ذلت کا شکار ہیں اس کی ایک بڑی وجہ مسلمانوں کا آپس کے اختلافات ہی ہیں۔ عالم اسلام کے 58ممالک اور اس کے حکمرانوں میں اتحاد نہ ہونے کے برابر ہے۔ کسی بھی ملک کی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی حریف ہیں۔ حزبِ اقتدار اور اختلاف میں ذاتی دشمنیاں اور عناد ہیں۔ دینی اور مذہبی جماعتوں، اداروں اور رہنمائوں میں اتنا اختلاف ہے کہ ایک دوسرے کو منافق، ملحد اور ایجنٹ ہونے کے القاب سے نوازتے ہیں۔
صوبائیت، لسانیت، قومیت اور وطنیت کے جھگڑے ہیں۔ مسلمان مسلمان کا ہی گلا کاٹ رہا ہے۔ مسلمان ملکوں میں اپنے ہی مسلمان بھائیوں پر حملے ہورہے ہیں۔ ایک اللہ، ایک نبی اور ایک قرآن کے ماننے والے ایک دوسرے کے جانی اور ازلی دشمن معلوم ہوتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں سب سے زیادہ زور اتفاق واتحاد پر دیا گیا ہے۔ آپس میں محبت، اخوت، بھائی چارہ، ایمان، اتحاد اور یقین مسلمانوں کا موٹو ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں حکم فرمایا تھا: ’’دیکھو! باہمی اختلافات میں نہ پڑنا۔‘‘ قرآن میں ہے ’’اختلاف ہرگز ہرگز نہ کرو۔‘‘ تاریخ اُٹھاکر دیکھیں اختلاف ہی کی وجہ سے بڑے نقصانات اُٹھانا پڑے ہیں۔ اختلافات ہی کی وجہ سے مسلمان ممالک تنزلی کا شکار ہیں۔

یہ سحر بھی ڈھلتے ڈھلتے۔۔۔۔

یہ سحر بھی ڈھلتے ڈھلتے۔۔۔۔ 
ممتاز میر
امت مسلمہ صدیوں سے مایوسیوں اور محرومیوں کا شکار ہے۔مگر پچھلی صدی میں علامہ اقبالؒ نے کہا تھا ’’مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ‘‘اسلئے ہر ابھرتے ہوئے سورج کو بڑے شوق بڑ ی امید سے دیکھتی ہے اور غروب ہو جانے کے بعد بھی شفق کو دیکھ کر خوش فہمی میں مبتلا رہتی ہے اور کوئی اسے اس حالت سے باہر نکالنے کے لئے اگر یہ کہہ دے کے صاحب یہ سورج بھی غروب ہو گیا تو جھگڑتی ہے ۔اور امت کا یہ رویہ پچھلی صدی سے ہے ۔کبھی مصطفیٰ کمال پاشا کو نجات دہندہ سمجھا جا تا ہے تو کبھی صدام حسین جیسے امریکی ایجنٹ کو مجاہد بنا دیا جاتا ہے۔اور یہ حالت عوام تک محدود رہتی تو غنیمت تھا مسئلہ اس وقت بڑا ہو جاتا ہے جب خواص بھی اس قسم کی خوش فہمیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
یہ ملت اسلامیہ کی بڑی بد قسمتی ہے کہ کبھی اس کے سورج خود اپنی حماقتوں سے غروب ہوتے ہیں اور کبھی غیروں کی سازشوں سے ۔پچھلی صدی میں سب سے پہلی امید کی کرن افغانستان سے طلوع ہوئی تھی مگر ۵ سال کی بہترین انداز حکمرانی دے کر غیروں کی جارحیت اور اپنوں کی بزدلی سے غروب کر دی گئی اور ملت ٹک تک دیدم دم نہ کشیدم کی تصویر بنی رہی۔آج مشرق وسطیٰ میں جو تباہی و بربادی مچی ہے،سعودی عرب کے شاہوں کے زیرجامے گیلے و پیلے ہو رہے ہیں اس کی تمہید طالبان کی تباہی ہی تھی ۔
کبھی بہت سارے کمزور ملکر طاقتور بن جاتے ہیں اور کبھی ہر کمزور کی تباہی پر قطار میں لگے دوسرے کمزور کو یہ خوش فہمی ہوتی ہے کہ اس کا نمبر نہیں آئے گا مگر ایسی خواہشات پوری نہیں ہوتی۔طالبان کے بعد صدام کا نمبر آیا تب شام سے لے کرسعودی عرب تک سب تماشہ بھی دیکھ رہے تھے اور تبصرے بھی کر رہے تھے۔اب صاحب سعودی عرب کا بھی نمبر آ چکا ہے اسمیں حیرت انگیز بات کیا ہے ۔ انھیں خادم الحرمین شریفین ہونے کا زعم ہے اور کچھ برخود غلط حضرات انھیں خادم الحرمین سمجھتے بھی ہیں مگراللہ کے نزدیک ان کا statusیقیناً ایک عام آدمی سے بھی کم ہوگا۔ستم ظریفی یہ ہے کہ جو جدید ترین اور طاقتور ترین امریکی فوج ڈھائی تین دہائیوں سے سعودی عرب کی حفاظت کے نام پر وہاں قیام پذیر ہے اس کے رہتے پاکستان سے کیوں مدد مانگی جا رہی ہے اور اگر وہ ایسے وقت میں کام نہیں آسکتی تو پھر اسے پالنے کی ضرورت کیا ہے۔اس سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ غلام ابن غلام اماراتی وزیر پاکستان کو تو دھمکا رہا ہے مگر اس کی ہمت نہیں ۲۵ سالوں سے سعودی عرب میں پلنے والی امریکی فوج کے خلاف لب کشائی کر سکے۔بہرحال کس کس کا رونا روئیں ۔خدا جانے امت کو کیا ہو گیا ہے۔صدیاں بیت گئیں کوئی مخلص بے لوث دیانتدارقائد میسر نہیں آتا۔شاید آتا بھی ہو اور ہم خود اسے بگاڑ دیتے ہوں۔پچھلی صدی کی آٹھویں دہائی کے آخر میں ایران میں ’’اسلامی انقلاب ‘‘ آیا تھا۔سبھی بڑے خوش ہوئے تھے ۔ حالانکہ کچھ علماء کرام نے اس پر تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا مگر عموماً اس کا استقبال کیا گیا تھا۔یہاں تک کہ انھوں نے اپنے انقلاب کو برآمد کرنے کے لئے خانہء کعبہ کو یرغمال بنا لیا تھاپھر بھی عوام ان سے ناراض نہ تھی۔دراصل انھوں نے اپنے انقلاب کی حفاظت کے لئے غیر معمولی قربانیاں دی تھیں۔ایران میں جگہ جگہ بم دھماکے کروائے گئے تھے۔پوری پارلیمنٹ کو بم سے اڑا دیا گیا تھا۔اور یہ سب چونکہ امریکہ کر رہا تھا اسلئے اسے دہشت گردی کا نام بھی نہیں دیا گیا۔اپنے خلاف ہونے والے ہر ظلم پر صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایرانی قوم نے اپنے انقلاب کو آگے ہی بڑھایااور دنیا کا ہر مسلمان سنی ہونے کے باوجود ان کے ساتھ رہایہاں تک کہ احمدی نژاد مسند اقتدار پر جلوہ افروز ہوئے۔وہ حزب اللہ کے حسن نصر اللہ،حماس کے اسمعیٰل ہانیہ اور ترکی کے رجب طیب اردگا ن کسی وقت عالم اسلام کے گنے چنے لیڈر تھے۔مگر اپنے دور صدارت کے آخری وقت میں جناب احمدی نژاد نے شام کے ظالم ڈکٹیٹر بشار الاسد کا ساتھ دینا شروع کر دیا ۔وہ ایران جو کبھی اپنے ’’اسلامی انقلاب‘‘ کو برآمد کرنے لئے اتاؤلا ہوا کرتا تھا اس کے انقلاب نے شام تک آتے آتے دم توڑ دیا۔کیا اسلئے کہ شام کا حکمراں طبقہ علوی شیعہ ہے؟ہمیں اس میں شک ہے۔کیونکہ خود ایرن کے جید علماء کرام انھیں کافر کہتے ہیں۔
ہمارے کچھ احباب کہتے ہیں کہ یہ ایران کی سیاسی یاstrategic مصلحتیں ہیں۔ہم ایسی ہر مصلحت کو ناقابل اعتناء سمجھتے ہیں جو اسلامی اصولوں کے خلاف ہویا پھر آپ یہ اعلان کردیں کہ ہم مذہبی لوگ نہیں۔اور اب ایران اور حزب اللہ مشرق وسطیٰ میں جو کچھ کر رہے ہیں اس سے ہمیں بار بار یہ خیال آتا ہے کہ اب تک جو کچھ یہ لوگ کر رہے تھے وہ’’تقیہّ ‘‘ تھا۔عالم اسلام کو بے وقوف بنانے کا ایک طریقہ تھا۔اب ہم یہ بھی سمجھتے ہیں ایران ایٹم بم بھی بنا رہا ہے (اسے اس کا صد فی صد حق ہے مگر جھوٹ بولنے کا نہیں)اس طرح ۳۶ سال پہلے جو سورج طلوع ہوا تھا کم سے کم ہمارے لئے تو غروب ہو چکا ہے۔ اس درمیان سوڈان سے بھی کچھ توقعات اس وقت وابستہ ہوئی تھیں جب جنرل عمر البشیر اور حسن ترابی ایک دوسرے کے ساتھ آگئے تھے ۔مگر پھر دسمبر ۹۹ میں دونوں کے درمیان اختلافات شروع ہوئے اور حسن ترابی کو جو کہ سوڈان کی تحریک اسلامی کے سربراہ ہیں حکومت اور پارٹی کے تمام عہدوں سے ہٹا دیا گیا ۔اختلافات اتنے شدید ہوئے کہ ۲۰۰۱ میں انھیں حوالہء زنداں کر دیا گیا۔۲۰۰۵ میں وہ جیل سے رہا ہوئے اب پھر کچھ دنوں سے یہ خبریں آرہی کہ جنرل عمر البشیر اور حسن ترابی ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔ہم جیسے صرف دعا ہی کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں کہ سچ مچ ایسا ہو۔
۱۳ سال پہلے مشرق اور مغرب کی سرحدوں پر واقع اسلامی ملک ترکی میں بھی ایک سورج طلوع ہوا تھا ۔رجب طیب اردگان کی سربراہی میں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی نے ترکی کے عام انتخابات میں تقریباً ۲ تہائی اکثیریت سے فتح حاصل کی تھی ۔جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی اسلام پسندی کا چہرہ رکھتی ہے۔اور ترکی کی اسٹبلشمنٹ سیکولرہونے کی دعویدار ہی نہیں اپنے کو اس کا محافظ بھی کہلاتی تھی۔مگر ان کا سیکولرزم بڑا ہی عجیب و غریب تھا۔انھیں ہر دھرم اور ازم گوارہ تھا سوائے اسلام کے۔انھیں ہر ملک پیارا تھا سوائے مسلم ممالک کے،بلکہ اسرائیل سے تو ان کے خصوصی تعلقات تھے۔سوچئے یہ کتنی بڑی چھلانگ تھی جس کے مین کھلاڑی رجب طیب اردگان تھے۔غالباً یہ فتح بھی اس وقت حاصل ہوئی تھی جب اردگان جیل میں تھے۔اسلئے جب حکومت بنانے کی نوبت آئی تو پہلے چند ماہ عبداللہ گل وزیر اعظم رہے تھے۔اس کے بعد سے آج تک اردگان ۳ عام انتخابات میں اور ۲ بار ریفرنڈم میں فتح حاصل کر چکے ہیں۔جس میں سے ایک تبدیلیء دستور کے متعلق تھا۔رجب طیب اردگان ترکی فوج کوجو کہ مصطفیٰ کمال پاشا کی ذریت تھی بیرکوں میں نہ صرف واپس بھیج چکے ہیں بلکہ سول حکومت کے خلاف ان کی ہر سازش کو ناکام بنا کرانھیں سلاخوں کے پیچھے بھی پہونچا چکے ہیں۔اب ظاہر ہے کہ وہاں جہاں وزیر اعظم کو جیل میں ڈالا گیا ہو کسی کو پھانسی دی گئی ہو اگر کوئی سیاستداں اتنی کامیابی حاصل کر لیتا ہے تو اس کا دماغ ساتویں آسمان پر پہونچ جانا ’’واجب‘‘ ہے۔ہم بھلے ہی اس خوش فہمی میں مبتلا رہیں کہ اسلام پسندوں کے ساتھ ایسا نہیں ہو سکتا۔فی زمانہ دین پسندوں کی بھی یہ ذہنیت بن چکی ہے کہ دین بیزاروں کی طرح ہم فکروں کے سو خون معاف کرنے کو تیار رہتے ہیں۔
اب ۲۰۱۴ میں رجب طیب اردگان وزیر اعظم کی دو ٹرم پوری کرکے ترکی کے صدر بن چکے ہیں ۔انھوں نے پہلے ہی ہلّے میں۵۲ فی صدی ووٹ حاصل کیا ہے ۔اسلئے صدر بنتے ہی انھوں نے ترکی میں صدارتی نظام کی وکالت شروع کر دی ہے گو کہ اب بھی ترکی کی وزارت عظمیٰ پر ان کا اپنا ہی آدمی براجمان ہے۔اب ان کے ہر بیان اور ہر قدم سے ایسا لگتا ہے کہ وہ ڈکٹیٹرشپ یا totaliterianism کی طرف جا رہے ہیں۔ہم نہ صرف اپنا بلکہ ہر دین پسند ادیب صحافی و دانشور کا فرض سمجھتے ہیں کہ وہ رجب طیب اردگان کو روکے بصورت دیگر یہ عالم اسلام کا بہت بڑا نقصان ہوگا۔ذیل میں ہم کچھ اور نکات پیش کر رہے ہیں جس سے ہمارے موقف کو تقویت ملتی ہے[۱]فی الوقت وہ جس محل میں قیام پذیر ہیں وہ دنیا کا سب سے بڑا صدارتی محل ہے جسے انھوں نے خود اپنے دور وزارت عظمیٰ میں بنایا ہے وہ بھی ناجائز زمین پر۔مذکورہ صدارتی محل محفوظ جنگلاتی زمینprotected forest land پر بنایا گیا ہے۔اگر وہ سچے اسلام پسند ہیں تو انھیں ایسے اور اتنے بڑے صدارتی محل میں نہیں رہنا چاہئے۔[۲]دسمبر ۲۰۱۳ میں ان کے اور ان کے وزراء کے خلاف ایک بڑا کرپشن اسکینڈل اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔اب جنھوں نے وہ الزامات لگائے تھے اور گرفتاریاں کی تھیں انھیں جیل بھیجا جا رہا ہے۔ہم آج بھی یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں کہ سچائی کیا تھی ۔ہم نے اس سے پہلے بھی لکھا تھااب پھر لکھ رہے ہیں کہ فتح اللہ گولن کو ترکی آکرمذاکرات کی میز پر اپنے اختلافات طے کرنا چاہئے۔بصورت دیگر یہ ترکی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ انھیں امریکیوں کے قبضہ سے رہا کروائے۔ہمیں نہیں لگتا کہ ان جیسا دانشور جسکی اسلام پر غیر معمولی کتابیں ہوں مسائل کے حل کے لئے غیر اسلامی راستہ اختیار کرے گا۔[۳]کرپشن اسکنڈل کے بعد سے اردگان پر میڈیا کو دبانے کے الزامات لگ رہے ہیں انھوں نے You tube & Twitter پر پابندی عائد کر دی تھی۔اور بہت احتیاط کے باوجود ہم یہ سمجھتے ہیں کہ الزامات میں سچائی ہے [۴]Gezi park میں کسی زمانے میں قدیم عثمانی فوجیوں کی بیرکس تھیں جسے ۱۹۴۰ میں منہدم کرکے عوامی تفریحی مقام بنا دیا گیا تھا شہر میں یہ واحد تفریحی اور ہری بھری جگہ تھی ۔جناب اردگان یہ چاہتے تھے کہ اس تفریحی مقام کو مٹا کر دوبارہ عثمانی فوجیوں کی بیرکس بطور یادگارتعمیر کی جائے۔مگر عوام نے ان کی مخالفت کی اور ۲۸ مئی ۲۰۱۳سے احتجاج شروع کیا جسے Gezi park protest کا نام دیا گیا جناب اردگان نے اس سے ڈکٹیٹرانہ انداز سے نپٹا۔اس میں ۱۱ افراد ہلاک اور ۸۰۰زخمی ہو گئے مگر انھوں نے اردگان کو اپنے مقصد میں ناکام کر دیا ۔فی الوقت عدالت میں یہ کیس جاری ہے ۔متاثرین کی جانب سے یہ کیس ایک وکیل محمد سلیم کراز لڑ رہا تھا۔اس وکیل کو چند ہفتے پہلے دو لوگوں نے اغواء کر لیا ۔پولس کی کمانڈو کاروائی میں اغوا کرنے والو ں کے ساتھ ساتھ مغوی سلیم کراز بھی ہلاک ہو گیا۔اب زبان خلق کہتی ہے کہ یہ اس وکیل سلیم کراز کو ہلاک کرنے کا ڈرامہ تھا۔کیونکہ محترم جناب رجب طیب اردگان نے اس پوری کاروائی کے بعد کہا’’آپریشن کامیاب رہا ‘‘[۵]استنبول یونیورسٹی کے ریکٹر کے انتخاب میں محمود اے کے نامی اردگان کے خاص آدمی پہلے نہیں دوسرے نمبر پر رہے اس کے باوجودریکٹر شپ سے انھیں ہی نوازا گیا۔[۶]ترکی کی سب سے زیادہ طاقتور جاسوسی ایجنسی MIT کے سربراہ حکن فدان نے وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو کے مشورے سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا جو جناب اردگان کوبجا طور پر ناگوار گذرا۔ترکی میں ۷ جون کو عام انتخابات ہیں اور فی الوقت وہاں بیوروکریٹس کے استعفوں کی دوڑ لگی ہوئی ہے سب حکمراں پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنا چاہتے ہیں مگر اردگان فدان کو بطور جاسوسی سربراہ ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔اسلئے حکن فدان کو استعفیٰ واپس لے کر اپنے عہدے پر واپس جانا پڑا۔اب اگر اپوزیشن اسے خلاف قانون قرار دے کر شور مچا رہی ہے تو وہ بھی غلط نہیں ہے۔
یہ بہت معمولی معمولی باتیں ہیں مگر یہ ترکی کے مستقبل کے اشارے ہیں۔ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ ہم صرف دعا کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں کہ ہمارے بدترین خدشات غلط ثابت ہوں ورنہ اس لنگڑی لولی زمانے کی ستائی ہوئی امت مسلمہ کو ایک اور چرکہ نصیب ہوگا۔ابھی وقت ہے اگر ذرائع ابلاغ ان کے پیچھے پڑ گئے تو انھیں روکا جا سکتا ہے۔۷ جون کے انتخابات کے نتائج بھی ان کے مزاج کی سمت طے کرنے میں اہم رول ادا کریں گے ۔ہم دعاگو ہیں کہ اللہ ایک غیر معمولی شخص کو فرعونیت سے بچائے۔آمین 
ممتاز میر

07697376137 

قصہ ’پریسٹی ٹیوٹ‘ میڈیا کا

قصہ ’پریسٹی ٹیوٹ‘ میڈیا کا
    کرنل وی کے سنگھ نے کچھ چند روز قبل میڈیا کے تعلق سے
 اپنے خیال کااظہار کرتے ہوئے اسے ’’پریسٹی ٹیوٹ ‘‘ کہا تھا ۔یعنی کھلے لفظوں میں انہوں نے میڈیا کو ویشیا کہا۔اس بات سے کافی شور غل مچا اور میڈیا نے انکی خوب لے دے کی لیکن وہ پھر اپنی باتوں سے پلٹے اور کہا کہ انہوں نے سب کے لئے نہیں بلکہ صرف جو بد عنوان ہیں ان کے لئے یہ سب کچھ کہا تھا۔ریٹائرڈ جسٹس کاٹجو نے بھی کرنل سنگھ کا ساتھ دیا ۔اس سے قبل دو سال قبل تک کاٹجو بھی میڈیا کو خوب کھری کھری سنا چکے ہیں ۔ آپ غور کریں تو میڈیا کو خود میڈیا کے لوگ بھی ان کی یکطرفہ یا شرارت انگیزیوں کے سبب برا بھلا سنا تے ہیں ۔تقریبا دو سال قبل ہی خشونت سنگھ نے ہندوستان ٹائمز کے اپنے ایک کالم میں بھی میڈیا کی اوچھی اور جانبدارانہ رویہ کے خلاف دکھ کا اظہار کیا تھا ۔ہو ایہ تھا کہ کئی برسوں سے پنجاب میں ویران پڑی مساجد کو وہاں کے سکھوں نے مسلمانوں کے حوالے کرنا اور اس کی آبادکاری کے لئے سرگرمی دکھانا شروع کیاہے۔ایسی ہی ایک مسجد کی آبادکاری کی خبر میڈیا میں اپنی جگہ نہیں بنا پایا ۔جس سے وہ بہت ناراض تھے ۔انہوں نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ ان کا سینہ آج فخر سے چوڑا (مودی کی طرح ۵۶ انچ کا نہیں) ہو گیا ہے کہ ان کی قوم کے لوگوں نے مسلمانوں کو ان کی مسجد لوٹائی ہے ۔لیکن کیا خوشونت سنگھ اس بات سے واقف نہیںہوں گے کہ کتا آدمی کو کاٹے تو خبر نہیں بنتی خبر جب بنتی ہے جب آدمی کتا کو کاٹے ۔یہی اب موجودہ دور میں میڈیا کا کردار رہ گیا ہے۔اس لئے سکھوں کے اس طرح کے رواداری والے کاموں کو میڈیا میں پذیرائی نہیں ملی ۔ہاں اب سے کوئی تین دہائی قبل انہیں بھی دہشت گردی کے نام پر خوب بدنام کیا گیا ۔
    حالانکہ کرنل وی کے سنگھ کے پریسٹی ٹیوٹ والی بات سے میں بھی بہت حد تک متفق ہوں ۔لیکن سنگھ صاحب سے یہ پوچھنا تو میرا حق بنتا ہے کہ اسی پریسٹی ٹیوٹ میڈیا کے سہارےہی تو ان کی حکومت آئی ہے اور تقریباً ایک سال سے مرکز میں حکمراں ہے جس کے وہ ایک وزیر ہیں ۔اس وقت ان کی زبان کیوں گنگ تھی جب یہی میڈیا مودی کی جھوٹی تشہیر میں سرگرم تھااور آج بھی وہ اس میں سرگرم ہے ۔مودی کی جھوٹی اور ہوائی باتوں پر وہ کوئی سوال نہیں اٹھاتا اور سنگھ صاحب خاموشی سے سب کچھ دیکھتے رہتے ہیں۔اب جبکہ سنگھ صاحب کو یوم پاکستان تقریب میں شرکت کے لئے میڈیا نے نشانہ بنایا تو وہ چراغ پا ہو گئے ۔جبکہ یہاں بھی یہی بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ جھوٹی دیش بھکتی اور ملک کے دشمن کو ملک کا نجات دہندہ اور نجات دہندہ کو ملک کا دشمن بنانے والا یہی میڈیا ہے ۔ یہی میڈیا ہے جو پاکستان کے خلاف ملک میں نفرت پھیلانے اور مسلمانوں کوملک کے دیگر باشندوں کی نظر میں مشکوک بنانے کا کام مسلسل کررہاہے ۔یہ میڈیا ہمیں یہ تو بتاتا ہے کہ پاکستان میں ملک عزیز کے خلاف نفرت پھیلائی جاتی ہے سازش کرکے ممبئی حملے جیسی کارروائی کے لئے منصوبہ بندی ہو تی رہتی ہے ۔ہمارے یہاں کے کسی بھی حادثہ یا دھماکہ کے پیچھے پاکستان اور آئی ایس آئی کے ہاتھ تلاشے جاتے ہیں ۔پاکستان میں ہندو اقلیت بہت ہی کسمپرسی کی حالت میں ہیں ۔ان کا زبردستی مذہب تبدیل کرایا جارہا ہے ۔ہندوستان اور پاکستان کے مابین کشمیر تنازعہ ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن اس کو میڈیا نے لاینحل مسئلہ بنادیا ہے ۔اسی ایک مسئلہ کی آڑ لے کر پورے بر صغیر میں ہیجانی کیفیت اور غیر یقینی صورتحال صرف اور صرف میڈیا اور سیاست دانوں کی کارستانیاں ہیں اور ان دونوں کو سامنے رکھ کر خفیہ ایجنسیاں پردے کے پیچھے سے اپنا کھیل کھیلتی ہیں۔
    بر صغیر کے ایک بڑے صحافی کلدیپ نیر نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ہم پاکستان کو خواہ کچھ بھی کہہ لیں لیکن وہاں وہاں میڈیا اور عدلیہ آزاد ہیں ۔۱۷ ؍ اپریل کے اخبارات میں ایک خبر پاکستان کے سپریم کورٹ کے تعلق سے ہے ۔صوبہ خیبر پختونخوا کے ایک ہندو مندر کو دوبارہ تعمیر کرنے اور ہندوئوں کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے جسے ۱۹۹۷ میں تباہ کردیا گیا تھا اور بعد میں اس پر قبضہ کرلیا گیا تھا۔اس مندر کو تباہ کرنےسے صرف پانچ سال قبل ۱۹۹۲ میں ملک عزیز میں بابری مسجد شہید کردی گئی اس کے باوجود کے عدالت عظمیٰ نے اس کی صورتحال جوں کی توں برقرار رکھنے کا آرڈر دیا تھا اور وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ دونوں نے مسجد کی حفاظت کا تیقن دلایا تھا۔اس کی ملکیت کا بھی مقدمہ ۱۹۴۹ سے چل رہا ہے ۔الہٰ آباد عدالت عالیہ نے اس کی ملکیت کا فیصلہ بھی ایسا سنایا کہ غالبا ملک کی تاریخ میں پہلی بار عدالت عالیہ کا مضحکہ اڑایا گیا ۔اب وہ مقدمہ عدالت عظمیٰ میں ہے اور مسلمان انصاف کی آس لگائے بیٹھے ہیں کہ عدالت کب انصاف کرتی ہے ۔لیکن ڈر بھی لگتا ہے کہ انصاف مل پائے گا کہ نہیں کیوں کہ اب ملک عزیز میں انصاف بھی ملک کے اجتماعی ضمیر اور عقیدہ کی بنیاد پر ہوا کرتا ہے ۔پاکستان سے آنے والی خبریں جس کا اوپر ذکر آیا ہے وہ عام طور پر منفی شبیہ اور ہندوستانی عوام کو اشتعال دلانے والی ہوتی ہیں ۔لیکن یہاں کی میڈیا نے اس خبر کو اہمیت نہیں دی کہ پاکستانی عدالت عظمیٰ نے وہاں کی اقلیت کے دلوں میں امید کے چراغ جلائے ۔اگر میڈیائی خبروں کے مطابق وہاں کی اقلیت پارلیمان اور انتظامیہ سے مایوس ہو جائے تو اس کے لئے امید کا ایک در عدلیہ موجود ہے جو بہر حال انہیں انصاف دلائے گی۔
    مذکورہ خبر کی تلاش میں ایک اور خبر پر نظر پڑی جو کہ ۵؍مارچ کے ڈان میں شائع ہوئی تھی ۔یہ کہانی ایک پاکستانی گائوں میٹھی کی ہے جہاں کے بارے میں ڈان کے رپورٹر حسن رضا نے لکھاہے کہ اس گائوں میں ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان کبھی کوئی تنازعہ نہیں ہوا ۔دو دوستوں نے جس میں ایک ہندو(ماما ویشن) اور ایک مسلمان(نظام) ہیں نے ایک فلاحی تنظیم بنا ئی ہے جس کے تحت وہ بلڈ بینک اور ایمبولینس سروس چلاتے ہیں ۔ وہاں ہندو رمضان کے روزے رکھتے ہیں اور مسلمان ان کے احترام میں گائے کا ذبیحہ نہیں کرتے ۔ چونکہ مجھے یہاں صرف میڈیا کی شر انگیزی بتانا مقصود ہے اس لئے اس گائوں کی مزید تفصیلات میں جائے بغیر یہ عرض کردوں کہ اس کی بھی خبر ہمیں میڈیا نے کبھی نہیں دی کہ اس گائوں میں کبھی کوئی ہندو مسلم کشیدگی دیکھنے کو نہیں ملی اور وہاں کا جرائم کا گراف بھی کافی کم ہے جو یقیناً وہاں کے باشندوں کے اعلیٰ ظرفی کا غماز ہے ۔ اس اسٹوری کے آخر میں حسن رضا نے لکھا ہے کہ’’ اگر آپ سوچتے ہیں کہ پاکستان صرف اس کا نام ہے کہ وہاں چرچوں پر بم پھینکے جاتے ہیں ،مندروں کو برباد کیا جاتا ہے ،طالبانی طریقہ کار حاوی ہے ،مذہبی اقلیتوں کا قتل عام ہوتا ہے اور بالجبر تبدیلی مذہب ہوتا ہے تو میں آپ سے اپیل کروں گا کہ آپ کم از کم ایک بار میٹھی تشریف لائیں ‘‘۔
     ایک بار اسمٰعیل ہانیہ نے تقریباً چار سال قبل کسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب جنگیں میڈیا کے ذریعہ لڑی اور جیتی جارہی ہیں۔آپ دیکھ لیں کہ میڈیا کے ذریعہ ہی اسلام اور مسلمانوں کی شبیہ بگاڑی جارہی ہے اور پوری دنیا کو یہ یقین دلا دیا گیا کہ صرف مسلمان ہی دہشت گرد ہیں ۔اس معاملے میں دائیں بائیں بازو والے ہوں یا نام نہاد سیکولرسٹ سب ہی ایک رٹ لگاتے ہیں کہ دہشت گردی اور شر انگیزی صرف مسلمانوں کے ذریعہ ہی پھیلائی جارہی ہے ۔انہی کے ذریعہ دہشت گردی کو فروغ مل رہا ہے ۔بس نام نہاد بائیں بازو اور سیکولرسٹوں کا ذرا انداز جدا گانہ ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو گالیاں بھی دے دیتے ہیں اور مسلمانوں کے ہمدرد بھی کہلاتے ہیں ۔انہیں بھی میڈیا خوب کوریج دیتا ہے اور اس کی واحد وجہ ہے اسلام پسندوں، شعائر اسلام کی سختی کے ساتھ پابندی کرنے والوں کو منفی طور پر پیش کرنا ۔اگر آپ یمن ،شام ،لیبیا ،اخوان اور حالیہ دور میں منظر عام پر آنے والی تنظیم داعش وغیرہ کے تعلق سے ان کے بیانوں کو سمجھنے اور پرکھنے کی کوشش کریں تو آپ پائیں گے کہ کس طرح میڈیا جھوٹی خبریں پھیلاتا ہے اور یہ اس جھوٹ کو بلا تحقیق مان کر اپنا فیصلہ صادر فرما دیتے ہیں جس سے اسلام کے خلاف ان کے دلوں میں چھپا بغض باہر آجاتا ہے ۔کہتے ہیں کہ ہم اسلام کے خلاف نہیں ہیں ہم تو ایسے شدت پسندوں کے خلاف ہیںجو دہشت گردی پھیلا رہے ہیں ۔لیکن یہ اس بات کو حذف کر جاتے ہیں کہ یہ تنظیمیں اگر کچھ کررہی ہیں تو یہ ان انصافیوں کا رد عمل ہے جو نام نہاد سیکولرزم اور جمہوریت کے علمبرداروں نے ان کے ساتھ کئے ہیں یا ان کی سر پرستی میں ہوئے ہیں۔دوسری بات یہ کہ جو خبریں مسلم تنظیموں کے تعلق سے آرہی ہیں اس کی صداقت پر کس قدر یقین کیا جاسکتا ہے ؟لیکن انہیں تو صرف بہانہ چاہئے کہ کس طرح با عمل مسلمانوں کو فرضی جرائم سے منسلک کرکے اسلام کو بد نام کیا جاسکے۔
    میڈیا کی شر انگیزی کا رونا تو ہم روتے ہیں اور رونا بھی چاہئے لیکن کیا ہم خود بھی اس کے لئے تیار ہیں کہ میڈیا کی کہانی کے پس منظر میں کیا کچھ چھپا ہوا ہے اس حقیقت کو جانیں اور اس کی سچائی عوام کے سامنے لائیں کہ بھائی جو کچھ آپ کو بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ،جن لوگوں کو جرائم کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بتایا جارہا ہے اس کے پیچھے کی سچائی کیا ہے ۔آج یہی میڈیا ہمیں مودی کو ملک عزیز کا واحد نجات دہندہ بنا کر پیش کررہا ہے اب یہ تو آنے والا انتخاب ہی بتائے گا کہ میڈیا کے اس جھوٹ اور فریب کو عوام نے کتنا ہضم کیا۔شکر ہے کہ آج سوشل میڈیا کا ایک ہتھیار ہمارے ہاتھ آگیا ہے جہاں کسی کی مرضی نہیں چلے گی یہاں کچھ چلے گا تو آپ کیا سوچتے ہیں وہ ۔اگر آپ کو دل کی بھڑاس نکالنی ہے تو یہ نعم البدل میڈیا موجود ہے ۔کوئی اخبار یا کوئی ٹی وی نیوز چینل آپ کی خبر نہیں لیتا آپ کی بات عوام کے سامنے نہیں رکھتا یا سچائی کو چھپا کر سیاسی مافیائوں اور خفیہ ایجنسیوں کی دلالی کررہا ہے ۔تو آپ اپنی بات یہاں رکھ سکتے ہیں ۔یہ ایک بہتر متبادل ہے ۔ہم اس کا استعمال کربھی رہے ہیں۔لیکن میڈیا کا مافیا اسے بھی برداشت کرنے کو راضی نہیں وہ آپ کی آزادی کو ہضم نہیں کر پارہا ہے ۔کیوں کہ اس سے ان کی مونو پولی یا ان کی من مانی کو زبردست چیلنج ہے ۔اگر سوشل میڈیا مضبوط ہو گیا اور وہ ہر آدمی کی دسترس میں آگیا تو (حالانکہ کچھ حد تک سوشل میڈیا عام آدمی کے ہی ہاتھ میںہے)پھر الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کی چودھراہٹ ان کی مونو پولی ختم ہو جائے گی ۔بہرحال آنے والا وقت سوشل میڈیا کا ہی ہے ۔لیکن ہماری بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کا استعمال افواہ پھیلانے نفرت کی کاشتکاری کرنے کے لئے ہر گز نہ ہونے دیں ۔اگر کوئی ایسا کرے تو اسے بے نقاب کریں اپنے اکائونٹ سے اسے حذف کردیں اور فیس بک ٹوئٹر اور بلا گ کا مثبت استعمال کریں تاکہ وہ باتیں جس کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پردہ اخفا میں رکھتا ہے اور منظر عام پر نہیں آنے دیتا اسے عوام کے سامنے لائیں تاکہ عوام کے مختلف طبقات میں جھوٹ افواہ اور شرانگیزی کی وجہ سے جو دوری پیدا ہو گئی ہے اسے سچائی اور حقیقت پسندی سے دور کیاجاسکے ۔یہ کام صرف نئی نسل ہی کرسکتی ہے اگر اسے صحیح اور مثبت رہنمائی ملے ۔ورنہ میڈیا ایٹم بم سے بھی زیادہ تباہی مچائے گا اور پوری دنیا کو جنگ کی بھٹی میں جھونک دے گا۔آپ دیکھ بھی رہے ہوں گے کہ اشتعال انگیز خبروں کے تسلسل سے کئی ممالک ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں ۔پورا مشرق وسطیٰ اسی شر انگیزی کی آگ میں دہک رہا ہے ۔بہت سی تصاویر ایسی مشتہر کی جاتی ہیں جس سے مسلمانوں کے ہی دو طبقات میں دوریا ں پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں ۔میں یہاں پر کسی تفصیل میں جائے بغیر ہی یہ کہوں گا کہ ماضی قریب میں ایسی حرکت ہو چکی ہے ۔خاس طور سے شام اور عراق میں حریت پسندوں اور داعش کے تعلق سے ۔اس کو ایک خاص ملک کی سر پرستی بھی حاصل رہی اور اس کا میڈیا بھی یہ کار شر انجام دینے میں کسی سے پیچھے نہیں رہا ۔اس لئے ہمیں میڈیا کے ذریعہ مشتہر کی جارہی خبروں کے بیں السطور کو بھی پڑھنا اور نتائج نکالنا سیکھنا ہو گا ۔یہ کام زیادہ مشکل نہیں ۔بس مختلف خبروں کا تجزیہ کرنے سے آپ کو صحیح صورتحال کی معلومات مل جائے گی ۔ہمیں اس کے لئے ذہن و دل کشادہ کرنے اور آنکھیں کھلی رکھنے کے ساتھ مومنانہ بصیرت کی بھی ضرورت ہےکیونکہ ’پریسٹی ٹیو‘ میڈیاکا مقابلہ مومنانہ بصیرت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہےاور یہ پریسٹی ٹیوٹ میڈیا صرف ہندوستان میں ہی نہیں اور بھی ملک میں پایا جاتا ہے اور صہیونی میڈیا اور برہمن میڈیا کے علاوہ ایک اور بھی ہے جس ذکر میں نے اپنے پچھلے کسی مضمون میں کیا ہے اور آگے اس پر پھر کبھی لکھوں گا ۔
نہال صغیر،کاندیولی،ممبئی۔ موبائل :9987309013

انصاف کے علمبردارو سنو

عمر فراہی ،جوگیشوری،ممبئی۔موبائل :9699353811
انصاف کے علمبردارو سنو
ملک عزیز میں ناانصافی ،ظلم،عصبیت اور افراتفری کا جو ماحول ہے ،حکومت ،عدلیہ اور پولس کااپنا کردار تو یہ ہونا چاہئے کہ یہ ادارے سختی کے ساتھ پیش رفت کرتے ہوئے ایمانداری کے ساتھ اپنے فرائض کی ادائیگی کا حق ادا کرتے ۔مگر اس کے برعکس ہو رہا ہے ۔یہ ادارے جو ملک کی ترقی معاشرے کی اصلاح اور فلاح و بہبود کے لئے پر اثر ہو سکتے تھے وہ بد عنوان اور جاہل سیاستدانوں کے محتاج ہیں یا ان پر سیاسی مافیاؤں کا غلبہ ہے ۔اس نا انصافی اور بد عنوانی اور افراتفری کے ماحول سے جب ملک کے عام باشندوں میں بیزاری اور بد ظنی پیدا ہو تی ہے اور وہ بیدار ہونا شروع ہوتے ہیں تو قانون کے انہیں اداروں کے ذریعے کمزور مسلمانوں کا انکاؤنٹر کرنا شروع کر دیا جاتا ہے تاکہ عام ہندؤں کا رخ اصل مسئلہ سے ہٹ جائے ۔یوپی میں ہاشم پورہ کے فیصلے اور تلنگانہ کے انکاؤنٹر اور مہاراشٹر میں گؤ کشی پر پابندی کے ساتھ ساتھ سنجے راؤت اور سبرا منیم سوامی جیسے وقت کے ابو جہلوں اور ابو لہبوں کے زہریلے بیانات سے ہندؤوں کی اکثریت کہاں تک خوش ہوتی ہے یہ الگ موضوع ہے مگر مسلمان اپنی اس تکلیف سے چیخنا چلانا شروع کر دیتے ہیں کوئی کہتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ہونے والی اس نا انصافی اور عصبیت کا حل ان کے اتحاد میں ہے اور ہماری اپنی سیاسی پارٹی ہونی چاہئے ۔کوئی یہ بھی کہتا ہے کہ اب ہمارے احتجاج اور مظاہروں میں وہ شدت اور قوت نہیں رہی کہ سرکار ہماری آواز کہ سننے کے لئے مجبور ہو ۔ملی گزٹ کے ایڈیٹر ظفرالاسلام صاحب نے تو ایک مجلس میں یہاں تک کہا کہ اگر مسلمانوں کے خلاف نا انصافی کا مسئلہ اسی طرح دراز ہوتا رہا تو ہم بین الاقوامی عدالت سے بھی رجوع ہو سکتے ہیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں نے ان میں سے ہر طریقہ کو آزما کر دیکھ لیا ہے اور ناکام ہوئے ہیں جہاں تک بین الاقوامی عدالت میں جانے کا معاملہ ہے برما اور فلسطینیوں کا معاملہ ہمارے سامنے ہے جو دنیا کی کوئی عدالت ابھی تک حل نہیں کر سکی ہے ۔مگر اس طرح ہم انصاف پسند ہندؤوں کی نظر میں مشکوک ہو کر اپنا اعتبار کھو دیں گے ۔سوال یہ ہے کہ پھر کیا کیا جائے؟ّ ۔
مولاناشبلی ؒ نے ایک بار کہا تھاکہ دنیا کی تمام دیگر قومیں اپنی ترقی اور مسئلے کے حل کے لئے آگے کی طرف دیکھتی ہیں ۔ہماری فلاح و بہبود اور کامیابی کا راستہ پیچھے کی طرف دیکھنے میں ہے۔ذرا ہم تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھیں کہ ہندوستان میں محمد بن قاسم سے پہلے عرب مسلمانوں کا جو قافلہ داخل ہوا وہ کتنے تھے ؟کیا یہ متحد ہو کر جنگ کرنے کے لئے آئے تھے یا دیگر قوموں کو توحید اور اتحاد کا پیغام دینے کے لئے ؟انہوں نے یہاں کے باشندوں سے نہ تو روزی روزگار کا مطالبہ کیا نہ ہی نا انصافی اور عصبیت کا رونا رویا اور نہ ہی ان سے رہنے سہنے کا طریقہ سیکھا ۔ان تھوڑے سے مسلمانوں نے وہی کیا جو وقت کے رسول ﷺ کا طریقہ تھا۔انہوں نے زراعت پر مبنی ان کی تجارت اور معیشت کی قیادت اور رہنمائی کرتے ہوئے یہاں کے باشندوں کی معاشرتی اور سماجی زندگی میں جو انقلاب برپا کیا تھا تھوڑے ہی دنوں میں ان کے آپس کے تنازعے اور فیصلے بھی مسلمانوں کے سامنے پیش ہونے لگے اور لوگوں نے خوشی خوشی اسے قبول بھی کیا ۔اسی تعلق سے علی میاں ندوی ؒ نے اپنی کتاب ’انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کے اثرات ‘میں لکھا ہے کہ اسلامی ماحول کے دور آخر تک ۱۸۵۷ کے آگے پیچھے مسلمان شرفاء کی ایسی متعدد نظیریں ملیں گی جنہوں نے اپنا خون دینا تو گوارہ کیا لیکن ضمیر کا خون کرنا پسند نہیں کیا ۔اس لئے وہ قومی معاملات میں بھی جھوٹ بولنا ،جھوٹی شہادت دینا اسی طرح گناہ سمجھتے تھے جس طرح اپنے ذاتی معاملات میں احکام شریعت اور قرآن کی آیات ان کے پیش نظر تھی’’اے ایمان والوانصاف کے علمبردار بنو اور اللہ کیلئے گواہی دینے والے رہو خواہ تمہیں یہ گواہی خوداپنے ،اپنے والدین اور اعزا کے خلاف ہی کیوں نہ دینی پڑے ‘‘النساء آیت ۱۳۵۔’’کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اس کے معاملات میں انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دو‘‘المائدہ،آیت ۸۔مصنف نے انگریزوں کے دور میں ضلع مظفر نگر کے قصبہ کاندھلہ کا ایک واقعہ بیان کیا ہے جہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ایک معبد کے تعلق سے تنازعہ پیدا ہو گیا تھا۔انگریز مجسٹریٹ نے فریقین کے دعوے کو سننے کے بعد مسلمانوں سے تخلیہ میں پوچھا کہ کیا ہندوؤں میں کوئی شخص ایسا ہے جس کی صداقت پر تمہیں اعتماد ہو۔مسلمانوں نے کہا نہیں ۔ہندوؤں سے پوچھا گیا تو انہوں نے سید احمد شہیدؒ کے خاندان کے بزرگ مفتی الہٰی بخش کا نام پیش کیا۔مجسٹریٹ نے انہیں بلوابھیجا تو انہوں نے کہا کہ میں نے فرنگیوں کی شکل نہ دیکھنے کی قسم کھائی ہے ۔مجسٹریٹ نے دوبارہ کہلوایا کہ آپ اپنا منھ پیچھے کرکے گواہی دیجئے مگر تشریف لائیے ،کیوں کہ اب فیصلہ آپ کی عدالت میں ہے ۔بزرگ تشریف لائے اور جب گواہی دینے کیلئے تیار ہوئے تو سارے ہندوؤں اور مسلمانوں کی نگاہیں ان پر مرکوز ہو گئیں کہ پتہ نہیں ان کا جواب کیا ہوگا؟بزرگ نے کہا کہ صحیح بات تو یہ ہے کہ یہ جگہ ہندوؤں کی ہے۔عدالت کا فیصلہ ہو گیا جگہ ہندوؤں کو مل گئی ۔مگر صداقت اور اسلامی اخلاق کے ایک مظاہرے نے چند گز زمین کھوکر بہت سے غیر مسلم انسانوں کے ضمیر اور دل و دماغ کو جیت لیا اور بہت سے ہندو اسی روز ان کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئے۔یہ اور اس طرح کے ایسے بے شمار واقعات ہیں جس کی وجہ سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد قائم ہوا اور انہوں نے اسی قومی یکجہتی کی بنیاد پر انگریزوں کے خلاف آزادی کی لڑائی کو انجام تک پہنچایا ۔یہ سب اس لئے ہو سکا کیوں کہ ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں میں کچھ ایسے اچھے لوگ تھے جنہوں نے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ایثار و قربانی ،صلہ رحمی اور انصاف کا مظاہرہ کیا ۔دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ آپ جس طرح صرف محبت کی دعوت دے کر لوگوں میں انسیت اور بھائی چارگی نہیں پیدا کرسکتے ۔جب تک کہ محبت پیدا ہونے والے کام نہ کئے جائیں ۔صرف اتحاد اتحاد کا نعرہ لگاکر یا بے شمار کانفرنس اور مجلسیں منعقد کرکے بھی اتحاد پیدا نہیں کرسکتے ۔جب تک کہ میدان عمل میں ایثار و قربانی اور انساف کی صفات کا مظاہرہ نہ کیا جائے ۔اس کے برعکس ہم نے خود اعظم گڑھ کے ایک گاؤں میں دیکھا ہے جہاں شیعہ اور سنی ایک عبادت گاہ کی زمین کے لئے بیسوں سال تک مقدمہ لڑتے رہے مگر کسی نے کسی کے لئے قربانی دینے کی فراخدلی نہیں دکھائی ۔ممبئی کے مرغی محلہ مسجد میں ہم نے خود بریلویوں اور تبلیغیوں میں چاقو اور چاپڑ چلتے دیکھا ہے۔وہ نظارہ بھی ہم خود دیکھ چکے ہیں جب ایک مسجد میں تبلیغی جماعت کے لوگوں نے جماعت اسلامی کا اجتماع نہیں ہونے دیا اور انہیں قریب کے ایک پارک میں اپنی مجلس کو منعقد کرنا پڑا ۔
صورتحال کسقدر خراب ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کتنی ہی مساجد میں مسلمانوں کے ایک فرقہ نے دوسرے مسلمان فرقوں کے لئے ممانعت کا بورڈ آویزاں کررکھا ہے ۔اس کا بھی ہمیں علم اور ہم سب ان حالات سے واقف بھی ہیں ۔مگر جو واقعات وقتاً فوقتاً آج بھی ہمارے منھ پر تھپڑ مارتے ہیں ان سے بھی سبق لینے کی ضرورت ہے۔یہ خبر واٹس ایپ پر فوکس نیوز گروپ نیٹ ورک کے حوالہ سے کسی مرزا علیم بیگ کے ذریعے ہم تک پہونچی کہ الہاس نگر کے مہیش اگروال نے جو ایک ریجنسی گروپ کے مینجگ ڈائریکڑ بھی ہیں مسلمانوں کی تکلیف کو دیکھتے ہوئے جنہیں اپنی میت کو دفن کرنے کے لئے کلیان جانا پڑتا ہے قبرستان کے لئے دو ایکڑ زمین وقف کر دی ہے ۔اسی طرح کے کئی واقعات ہماری نظر سے گذرے ہیں جب ہندؤں نے مسلمانوں کی مدد کی ہے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ وبھوتی نارائن تیستا شیتل واد،ہرش مندر اور مہیش بھٹ جیسے بہت سارے انصاف پسند ہندوؤں نے مشکل وقت میں مسلمانوں کے کاندھے سے کاندھا ملانے کی کوشش کی ہے۔ہم آج اندھیری آدرش نگر ممبئی کے جس علاقہ میں رہتے ہیں وہاں نوے فیصد ہندو ہیں ۔مسلمان یہاں ایک کمرے کو مسجد بنا کر اذان اور نماز کی پابندی کرتے ہیں۔اکثر ایسا ہوا ہے کہ مسلمانوں کا رمضان اور ہندوؤں کی گنپتی اور نوراتری کا تہوار اسی دوران واقع ہو گیا ۔ہم نے دیکھا ہے کہ رمضان کی تراویح اور اذان کے وقت قریب میں واقع گنپتی کے پنڈال والوں نے مسلمانوں کی عبادت کا احترام کرتے ہوئے گھنٹوں تک اپنے گانے بجانے کو بند رکھا ۔اسی طرح کا ایک واقعہ جو ہمارے کچھ دوستوں نے ہم سے بتایا کہ ایک بار ساکی ناکہ خیرانی روڈ کے ایک علاقے میں انہیں پتہ چلا کہ ایک پنڈت جی اپنی خالی پڑی ہوئی زمین کو فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ہم ان کے پاس گئے تو معلوم ہوا کہ پنڈت جی نے ایک ہفتہ پہلے کسی سے زمین کا سودا کرکے ٹوکن لے لیا ہے۔پھر بھی انہوں نے ہم سے پوچھا کہ آپ کس مقصد کے تحت زمین خریدنا چاہتے ہیں۔ہم لوگوں نے کہا کہ ہم زمین پر ایک مسجد اور مدرسہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔پنڈت جی نے کہا کہ آپ مجھے تھوڑا سا وقت دیجئے خریدار سے میں خود بات کرتا ہوں ۔اگر وہ ٹوکن واپس لینے کیلئے راضی ہو جاتا ہے تو میں یہ زمین آپ لوگوں کو ہی دے دوں گا۔اتفاق سے سودا کرنے والا بھی راضی ہو گیا اور پنڈت نے یہ زمین نہ صرف ہم لوگوں کے ٹرسٹ کے نام کردیا بلکہ انہوں نے کہا کہ آپ اگر قسطوں میں بھی رقم دیں گے تو بھی مجھے منظور ہے۔اس کے برعکس میں ممبئی کے ایسے دو مسلم سیاستدانوں کو جانتا ہوں جن میں سے ایک نے ایک مسجد کے تنازعے میں خفیہ طریقے سے اپنے مسلک والوں کا ساتھ دیا اور دوسرے نے ایک مسجد سے منسلک اپنی ہزاروں اسکوائر فٹ زمین میں سے مسجد کے راستے کو سیدھا کرنے کے لئے چند گز زمین دینے سے اس لئے ٹال مٹول اور بہانہ بازی کا راستہ اختیار کیا ،کیوں کہ یہ مسجد ان کے مسلک والوں کی نہیں تھی ۔بالآخر مسلمانوں نے تنگ راستے پر ہی اکتفا کیا ۔یہاں پر مسلمانوں کے کسی بھی فرقے کے لوگوں کو خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے ،تقریباً سبھی ایک دوسرے کے لئے تنگ نظری اور فکری تضاد کا شکار ہیں ۔اس کے باوجود ان تمام نام نہاد اور پیدائشی مسلمانوں کے لئے برہمن برا اور مسلمانوں کو برہمنیت سے خطر ہ ہے! مسلمانو اگر اتحاد اور امن و سکون کا ماحول چاہتے ہو تو ایثار و قربانی اور صلہ رحمی کا مظاہرہ کرو ۔انسانیت کی بات کرو اور بغیر کسی مذہبی اور مسلکی عصبیت کے اچھے لوگوں کی تلاش کرو یہ تمہیں ہر مذہب اور فرقوں میں نظر آئیں گے ۔یہی اسلام ہے اور وقت کے رسول ﷺ نے سماج اور معاشرے کے انہیں اچھے لوگوں کو لے کر انقلاب برپا کیا تھا اور یہ انقلاب انصاف اور ایثار و قربانی کے لئے تھا۔انصاف ہوگا تو محبت پیدا ہوگی ۔محبت ہوگی تو اتحاد ہوگا ۔ اتحاد ہوگا تو لوگ خود بخود ایک دوسرے کی ضرورت کے لئے ہاتھ بٹائیں گے ۔جب لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ بن جائیں گے تو امن ضرور قائم ہوگا اور فساد برپا نہیں ہوگا۔یہی اسلام کا مقصد اور مسلمانوں سے اللہ کا تقاضہ بھی ہے ۔ 

عمر فراہی ،جوگیشوری،ممبئی۔موبائل :9699353811

قید وبند کی صعوبتیں اٹھانے والے بچوں کے تاثرات

 قید وبند کی صعوبتیں اٹھانے والے بچوں کے تاثرات
صہیونی زندانوں میں پابند سلاسل فلسطینی نونہالوں پر انسانیت سوز مظالم
رام اللہ ۔۔۔ مرکزاطلاعات فلسطین

اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف منظم ریاستی دہشت گردی کسی سےڈھکی چھپی نہیں۔ جنگی جرائم کے مرتکب صہیونی فوجی، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کے اہلکار نہ صرف بڑی عمر کے فلسطینیوں پر ہولناک مظالم ڈھاتے ہیں بلکہ نام نہاد الزامات کے تحت حراست میں لیے گئے کم عمرفلسطینیوں کو بھی انسانیت سوز مظالم کا سامنا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کی رپورٹ کے مطابق گرفتاری سے قبل کم سن بچوں  پرشکار کی طرح کتے چھوڑے جاتے ہیں جو انہیں بھنبھوڑتے، نوچتے، ان کے کپڑے پھاڑتے اور انہیں بری طرح زخمی کرکے صہیونی فوجیوں کے لیے’سکون کا سامان‘ مہیا کرتے ہیں۔ اگر کتے نہ چھوڑے جائیں تو درندہ صفت فوجی خود کتوں سے بدتر بن جاتے ہیں جو کم عمربچوں کے سر عام کپڑے اتار کرانہیں ہولناک تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ پھر انہیں زنجیروں میں جکڑنے کے بعد گھسیٹ کر گاڑیوں میں ڈالا جاتا ہے۔ ایسا وحشیانہ سلوک کسی سنگین اور نہایت خطرناک دہشت گرد کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا جیسا ان معصوم فلسطینیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے جنہیں مائوں کا دودھ چھوڑے ابھی کوئی زیادہ عرصہ نہیں گذرا ہوتا ہے۔
جیلوں میں ڈالے جانے کے بعد ان پر جسمانی، نفسیاتی، ذینی اور جنسی تشدد کے نہایت مکروہ ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے کم عمرفلسطینیوں کے ساتھ بھی خطرناک جنگی مجرموں کے طورپر سلوک کیا جاتا ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ صہیونی عقوبت خانوں میں انسانیت سوز مظالم کا یہ سلسلہ کسی سے ڈھکا چھپا بھی نہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور عالمی برادری بھی ان سارے مظالم سے اچھی طرح آگاہ ہے، لیکن اس کے باوجود مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صہیونی جنگی مجرموں کے جرائم پر دانسہ خاموشی کی چادر اوڑھے ہوئے ہے۔
حال ہی میں فلسطینی محکمہ اسیران کے دفتر سے جاری ایک رپورٹ میں صہیونی فوج کے ہاتھوں کم عمر فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے سال جولائی اور اگست کے دوران غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے بعد صہیونی فوج کا کم عمر فلسطینیوں پر مظالم کا سلسلہ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں پردوران تفتیش تشدد کے دوسرے اور تیسرے درجے کے نہایت دردناک حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ کم عمربچوں کو ذہنی اور نفسیاتی تشدد کا سامنا ہے۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران زخمی حالت میں گرفتار کیے گئے بچوں کو جیلوں میں تڑپتا دیکھ کر صہیونی جنگی مجرموں کو کیوں کر تسلی نہیں ہوگی، کیونکہ جیلوں میں قید ہزاروں مریض فلسطینیوں کے ساتھ بھی تو یہی کچھ ہو رہا ہے۔ قیدیوں کے لیے کون سا علاج اور کون سی طبی سہولیات؟۔ اگر اس طرح کا کوئی دعویٰ اسرائیل کی جانب سے کیا جاتا ہے تو یہ صرف دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
سرعام بدسلوکی
رپورٹ میں کم عمرفلسطینی بچوں کے ساتھ صہیونی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی سرعام ہونے والی بدسلوکی کی کئی مثالیں بہ طورشواہد پیش کی گئی ہیں۔ اگرچہ بیان کردہ واقعات اصل اعدادو شمار کے اعتبار سے آٹے میں نمک کےبرابر ہیں تاہم ان سے صہیونی فوجیوں کی سفاکیت بے نقاب کرنے میں ضرور مدد ملتی ہے۔
سولہ سالہ حمزہ ابو ھاشم نے بتایا کہ وہ الخلیل شہر کے شمال میں بیت امر کے مقام پر یہودی کالونی’’کرمی ٹزور‘‘ کے قریب کھیل رہا تھا۔ اس دوران اچانک اسرائیلی فوجیوں کا وہاں سے گذر ہوا۔ انہوں نےبغیر کسی وجہ کہ اپنے تفتیشی کتے مجھ پر چھوڑ دیے۔ انہوں نے مجھے خوب بھنبھوڑا۔ یہاں تک کہ میرا جسم لہو لہان ہوگیا۔ کتوں نے میرا جسم بری طرح نوچ ڈالا تھا۔ میرے ہاتھ، پائوں، گردن، چہرہ، کمر غرض جسم کے بیشتر حصوں میں کتوں کے کاٹنے سے گہرے زخمی آئے تھے۔
اس پرمستزاد یہ کہ کتوں سے چھڑانے کے بعد درندہ صفت صہیونی فوجیوں نے بھی اپنے ہاتھوں کی ہوا مجھ پر نکالی۔ انہوں نے مجھے اتنا مارا کہ میں بے ہوش ہو گر پڑا۔ انہوں نے مجھے بے ہوشی کی حالت میں گھسیٹ کر گاڑی میں ڈالا اور ایک اسپتال میں لے گئے۔ مجھے ہوش آیا تو میں ایک اسپتال میں تھا جہاں میرے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پائوں میں زنجیریں تھیں جنہیں بیڈ کے ساتھ باندھا گیا تھا۔ میں نے حرکت کرنے کی کوشش کی لیکن زخموں سے چور جسم اور سخت تکلیف کی وجہ سے ہوش میں آنے کے بعد بھی بے ساکت پڑا رہا۔ تین دین تک مجھے اسپتال میں رکھا گیا۔ میرے پاس دو باوردی مسلح پولیس اہلکار ہمہ وقت موجود رہتے۔ جہاں تک میرے زخموں کی مرہم پٹی کا معاملہ ہے تو وہ کچھ بھی نہیں تھا۔ تیسرے دن جب مجھے اسپتال سے عتصیون نامی ایک سیکیورٹی سینٹر منتقل کیا گیا تو اس وقت بھی میرے زخموں سے خون جاری تھا۔
مجھ سے چلنا مشکل ہو رہا تھا۔ جب زنجیروں میں جکڑ کر تفتیشی مرکز منتقل کیا گیا تو کچھ ہی دیر کے بعد یہودی تفتیش کار میرے پاس آئے۔ انہوں نے نہایت سخت لہجے میں مجھے کہا کہ ’’ہم جو بھی کہیں تم وہ کچھ مان لو اور اعتراف جرم کرلو‘‘۔ میں خاموش رہا کیونکہ میں کوئی جرم نہیں کیا تھا۔ مجھے کہا گیا کہ تم نے یہودی فوجیوں پر سنگ باری کی ہے۔ تم یہ جرم مان لو۔ میں نے انکار کردیا کیونکہ میں نے تو کبھی کسی کو ایک پتھر بھی نہیں مارا تھا۔ صہیونی تفتیش کار بار بار میرے پاس آتے اور مجھے دھمکیاں دیتے اور ساتھ فوجیوں پر سنگ باری کا اعتراف کرنے کا کہتے۔ سخت تکلیف میں ہونے کے باوجود میں نے ایک ناکردہ جرم کا اعتراف کرنے سے کھل کر انکا کردیا۔ اس کے بعد وہ مجھے’عوفر‘ جیل لے گئے۔ وہاں میں تین ماہ تک نہایت سخت حالات میں پابند سلاسل رہا۔ وہاں بھی تفتیش کا سلسلہ جاری رہا اور یہودی تفتیش کار مجھے ڈیڑھ سال تک قید بامشقت کی سزا کے ساتھ ساتھ وحشیانہ تشدد کی بھی دھمکیاں دیتے۔ چونکہ مجھے پہلے بھی تین بار گرفتار کیا جا چکا تھا۔ اس لیے میں ان کے نزدیک ایک عادی مجرم تھا حالانکہ سنگ باری کا الزام پہلے بھی ثابت نہیں ہو سکا تھا۔
ایک دوسرے 16 سالہ سابق اسیر علی عبداللہ صالح سویدان نے بتایا کہ اس کا تعلق مغربی کنارے کے شہر قلقیلیہ کے عزون قصبے سے ہے۔ یہ 12 ستمبر 2013 ء کا واقعہ ہے کہ میں عزون قصبے کے داخلی راستے پر تھا کہ اچانک ایک یہودی آباد کار نے مجھے لاٹھیوں سے اندھا دھند پیٹنا شروع کردیا۔
اس اچانک حملے کی وجہ مجھے معلوم نہیں تھی اور میں مسلسل مسلح یہودی آباد کار سے پوچھنے کی کوشش کررہا تھا کہ میرا قصور کیا ہے اور تم مجھے کیوں مارے جا رہے ہو؟۔ اسی اثناء میں یہودی فوجی بھی وہیں آن پہنچے۔ انہوں نے آئو دیکھا اور نہ تائو، یہودی آباد کار کے ساتھ مل کرمجھے مارنا شروع کردیا۔ اب مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ مل کرمجھے جان سے مارنا چاہتے ہیں۔ میں بے ہوش کر گر پڑا۔ انہوں نے مجھے زنجیرں میں جکڑ کر ایک فوجی جیپ میں ڈالا۔ اور ایک فوجی کیمپ میں لے آئے۔ مجھے ہوش آیا تو میرے جسم پر لباس نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ یہودی فوجیوں نے میرے کپڑے پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیے تھے۔ ہوش میں آنے کے بعد انہوں نے مجھے ایک بینچ پر بیٹھنے کو کہا۔ میں نے ان سے اپنے کپڑے مانگے۔ انہوں نے پھٹے ہوئے اور خود آلود کپڑے مجھے دے دیے۔ میں وہ پہن لیے۔ کچھ دیر بعد یہودی آباد کاروں نے میرے قمیض پھر اتار پھینکی۔
اس کے بعد یہودی تفتیش کار باری باری مجھے مارنے لگے۔ تشدد کا یہ سلسلہ وقفے وقفے سے کئی گھنٹے تک جاری رہا۔ اس دوران مجھے کوڑے مارنے کے ساتھ ساتھ بجلی کے کرنٹ بھی لگائے گئے۔ ایک یہودی دہشت گرد فوجی نے اپنا جلتا ہوا سگریٹ میری پشت پر رکھا یہاں تک کہ وہ بجھ گیا۔
اس وحشیانہ تشدد کے بعد مجھے ’’ارئیل‘‘ کالونی میں منتقل کیا گیا۔ وہاں پربھی مجھے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور مجھے بار بار اقبال جرم کرنے کا کہا جاتا۔ میں مسلسل انکار کرتا رہا۔ بالآخرایک تفیش کار نے اپنی بندوق مجھ پر تان لی دوسرے نے عبرانی میں لکھی ایک تحریر میرے سامنے رکھی اور کہا کہ میں اس پراپنا انگوٹھا لگائوں اور دستخط کروں۔ اس طرح وہ جان سے مارنے کی دھمکی کے ذریعے مجھ سے جعلی اعتراف جرم کرانے کے بعد واپس چلے گئے۔ جعلی اقرار نامے کو ایک فوجی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے مجھے سلوہ ماہ قید کی سزا دلوائی گئی۔
مذکورہ دو واقعات ان ہزاروں واقعات کا حصہ ہیں جو ہرچھوٹے ، بڑے، مرد عورت فلسطینی اسیر کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ ہرفلسطینی پر اسی طرح کی مظالم ڈھائے جاتے ہیں۔ ہرایک کو جعلی اقرار ناموں پرطویل طویل سزائیں دی جاتی ہیں۔
بچوں کو سنگین صورت حال کا سامنا
فلسطینی اسیران کے حقوق کے لیے سرگرم قانون دان ایڈووکیٹ اشرف ابو سنینہ کا کہنا ہے کہ زیرحراست کم سن بچوں پراسرائیلی جیلوں میں ڈھائے جانے والے مظالم ناقابل بیان ہیں۔ بعض اوقات بچوں کو اسرائیلی فوج کے جعلی عرب فوجی گرفتار کرتے ہیں جبکہ بعض اوقات اسپیشل فورس کے کمانڈوز کےہاتھوں کم عمر فلسطینیوں کی گرفتاری عمل میں لائی جاتی ہے۔ دوران حراست ان پر جسمانی اور نفسیاتی تشدد اس حد تک کیا جاتا ہے کہ کئی بچے رہائی کے بعد جسمانی یا نفسیاتی طورپر معذور ہوچکے ہوتے ہیں۔ نفسیاتی دبائو کا شکار ہونے والے بچوں کے علاج کے لیے کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نفسیاتی تشدد میں بچوں کو ان کے والدین سے ملاقات کی اجازت نہ دینا، کئی کئی روز تک نیند سے محروم رکھنا، مریض بچوں کو علاج کی سہولت نہ دینا، پورے خاندان کو گرفتار کرنے کی دھمکیاں دینا۔ بچوں کی مائوں، بہنوں اور دیگر خواتین کی آبر ریزی کی دھمکیاں دینا۔ گالیاں دینا اور قبیل کے کئی دوسرے مکروہ حربے شامل ہیں۔
اشرف ابو سنینہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی تفتیش کاروں سے رحم کی توقع رکھنا عبث ہے کیونکہ انسانی ہمدردی نام کی کوئی چیز ان کے اندر سرے سے ہے ہی نہیں۔ سنگ باری کے جعلی الزامات کے تحت جب کم عمربچوں کو اس طرح کے سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑتا تو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جو فلسطینی صہیونی ریاست کے خلاف بندوق اٹھاتے اور دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں۔ انہیں کس طرح کے وحشیانہ مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا۔
انسانی حقوق کی تنظیم’’ضمیر‘‘ سے وابستہ ماہر قانون مراد جاد اللہ کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے فلسطینی اور اسرائیلی بچوں کے درمیان اسرائیلی جیلوں میں واضح فرق دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیلیوں کے جن جرائم پیشہ کم عمر لڑکوں کو حراست میں لیا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ ان کے ساتھ نہایت ہمدردانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ جیلوں میں ان کی اصلاح کی کوشش کی جاتی ہے اور انہیں طرح طرح کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ یہودیوں کے بچوں کو ایک نہیں کئی کئی وکیل رکھنے کی اجازت ہے جبکہ فلسطینی بچوں کے مقدمات زیادہ تر فوجی عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں۔ انہیں وکیل کا حق نہیں دیا جاتا۔ عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے حق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔

مسجدوں سے عداوت کیوں؟

مسجدوں سے عداوت کیوں؟
سلیم لعل محمد،ممبرا تھانے،موبائل ۔ ۹۲۲۱۲۹۹۸۹۱ 
سبرا منیم سوامی کا انگریزی اخبار ڈی این اے میں مسلمانوں کے خلاف دل آزار مضمون شائع ہوا تھا۔اور اب ۱۵ مارچ ۲۰۱۵ ؁ء کو اخبار میں یہ خبر پڑھ کر بہت تشویش ہوئی کہ آسام کے گوہاٹی میں سوامی نے پھر مسلمانوں کے خلاف بیان دیا۔سوامی کہتے ہیں کہ مسجد مذہبی مقام نہیں ہے صرف ایک عمارت ہے لہٰذا اسے کبھی بھی توڑا جا سکتا ہے۔جبکہ قرآن کریم میں ارشاد باری ہے،اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں پس اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو نہ پکارو۔سورہ جن آیت (۱۸)
اور ارشاد باری ہے ،بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کے لئے مقرر ہواوہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہان کا راہنما۔سورہ آل عمران آیت نمبر (۹۶)۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔اور یاد کرو جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لئے مرجع اور امان بنایااور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤہم نے تاکید فرمائی ابراہیمؑ اور اسماعیل ؑ میرا گھر خوب ستھرا کرو،طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لئے ،اور جب عرض کی ابراہیمؑ نے کہ اے میرے رب اس شہر کو امان والا کر دے اور اس کے رہنے والوں کو طرح طرح کے پھلوں سے روزی دے جو ان میں سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں۔سورۃ بقرۃ آیت (۱۲۵تا ۱۲۶)اس آیت کی تفسیر میں مولوی نعیم مرادآبادی لکھتے ہیں۔پہلی مرتبہ کعبہ معظمہ کی بنیاد حضرت آدمؑ نے رکھی او ر طوفان نوح کے بعد حضرت ابراہیمؑ نے اسی بنیاد پر تعمیر فرمائی یہ تعمیر خاص آپ کے دستِ مبارک سے ہوئی اس لئے پتھر اٹھا کر لانے کی خدمت و سعادت حضرت اسماعیل ؑ کو میسر ہوئی دونوں حضرات نے اس وقت دعا کی کہ یا رب ہماری یہ طاعت و خدمت قبول فرما۔ کنزالایمان۔
علامہ اقبال فرماتے ہیں ؂ دنیا کے بت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا ۔ہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسبان ہمارا۔
قرآن کریم میں ارشاد باری ہے،اللہ کی مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تو قریب ہے یہ لوگ ہدایت پانے والوں میں ہوں۔سورۃ توبہ (۱۸) 
سوامی نے کہا کہ بھگوان کا واس (قیام) مندروں میں ہوتا ہے مساجد ،کلیساؤں (چرچ) میں نہیں ۔جبکہ ہمارے برادران وطن اکثر کہتے ہیں کن کن میں بھگوان۔شمش نوید عثمانی ؒ نقل کرتے ہیں،قرآن و وید سے ملاحظہ ہو۔
ونحن اقرب الیہ من حبل الورید۔اور ہم تو اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔قرآن(ق :۱۶)۔ تو ہم سے نزدیک ترین اور محافظ ہے(رگ وید ۔۵ ۔۲۴ ۔۱)حوالہ ۔اب بھی نہ جاگے تو صفحہ نمبر ۷۷ مطبوعہ دیوبند یو پی ۔مسجد میں کوئی مورتی نہیں ہوتی کیا اور مندروں میں مورتی ہوتی ہے۔اب دیکھئے شمش نوید عثمانی ؒ قرآن اور ہندو دھرم کتا ب وید سے نقل کرتے ہیں،لیس کمثلہ شئی ۔اس کی کسی چیز سے مشابہت نہیں ہے۔قرآن (شوریٰ ۔۱۱)۔اس پرمیشور کی کوئی مورتی نہیں بن سکتی (یجروید ۳۲۔۳)حوالہ ۔(اب بھی نہ جاگے تو )صفحہ نمبر ۷۷ ،جمہور بک ڈپو دیوبند ،مورتی پوجا تو ہندو دھرم میں بھی نہیں ۔
سوامی کہتے ہیں کہ مندر ہی میں بھگوان ہے تو پھر دلتوں کو جانے کی اجازت کیوں نہیں جیسا کہ میرٹھ کے والمیکی برادری کے ساتھ ہو رہا ہے۔ قرآن کریم میں دیکھئے اللہ تعالیٰ کیا فرماتا ہے،’’اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کے گھر میں اللہ کا ذکر کرنے سے روکے اور اس کو ویران کرنے کی کوشش کرے ‘‘ سورۃ بقرۃ آیت (۱۱۴)
حج کے موقع پر ساری دنیا کے مسلمان کندھے سے کندھا ملا کر نماز ادا کرتے ہیں کیا سچ فرمایا مفکر اسلام علامہ اقبال نے
؂ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز 
نہ کوئی بندہ رہا ،نہ کوئی بندہ نواز 
قرآن کریم میں ارشاد باری ہے ، لوگو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا پھر تمہاری قومیں برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو اور حقیقت میں اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہی عزت والا ہے،یقیناًاللہ سب کچھ جاننے والا ہے۔سورۃ حجرات آیت (۱۳)
حجۃ الوداع کے موقع پر ایام تشریق کے وسط میں آپﷺ نے اپنی تقریر میں فرمایا، لوگو۔خبردار ہو جاؤ تم سب کا خدا ایک ہے کسی عرب کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عرب پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے مگر تقوی کے اعتبار سے اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو ،بتاؤ میں نے تمہیں بات پہنچا دی ہے،لوگوں نے کہا ہاں یا رسول اللہ اچھا تو جو موجود ہے وہ ان لوگوں تک یہ بات پہنچا دے جو موجود نہیں۔(بحوالہ ،بیہقی شریف )فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے جو تقریر فرمائی تھی اس میں فرمایا شکر ہے اس خدا کا جس نے تم کو جاہلیت کے عیب اور اس کے تکبر سے دور کر دیا ۔لوگو تمام انسان بس دو ہی حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں ایک نیک اور پرہیز گار جو اللہ کی نگاہ میں عزت والا ہو۔دوسرے فاجر ،شقی جو اللہ کی نگاہ میں ذلیل ہے۔ورنہ سارے انسان آدم ؑ کی اولاد ہیں اور اللہ نے آدم ؑ کو مٹی سے بنایا ہے (پیدا کیا ہے)۔(بحوالہ ترمذی شریف )
یہ تعلیمات صرف الفاظ کی حدتک ہی محدود نہیں رہی ہیں بلکہ اسلام نے ان کے مطابق اہل ایمان کی ایک عالمگیر برادری عملًاقائم کر کے دکھا دی ہے،جس میں رنگ ،نسل،زبان وطن اور قومیت کی کوئی تمیز نہیں جس میں اونچ نیچ اور چھوت چھات اور تفریق و تعصب کا کوئی تصور نہیں ،جس میں شریک ہونے والے تمام انسان خواہ وہ کسی نسل و قوم اور ملک وطن سے تعلق رکھتے ہوں بالکل مساویانہ حقوق کے ساتھ شریک ہو سکتے ہیں اور ہوئے ہیں اسلام کے مخالفین تک کو یہ تسلیم کرنا پڑا ہے کہ انسانی مساوات اور وحدت کے اصول کو جس کامیابی کے ساتھ مسلم معاشرے میں عملی شکل دی ہے،اس کی کوئی نظیر دنیا کے کسی دین اور کسی نظام میں نہیں پائی جاتی نہ کبھی پائی گئی۔ صرف اسلام ہی وہ دین ہے جس نے روئے زمین کے تمام گوشوں میں پھیلی ہوئی بے شمار نسلوں اور قوموں کو ملا کر ایک امت بنا دیا ۔
شادی بیاہ کے معاملے میں اسلامی قانون کفو کو جو اہمیت دیتا ہے اس کو بعض لوگ اس معنیٰ میں لیتے ہیں کہ کچھ برادریاں اور کچھ کمینی ہیں ان کے درمیان مناکحت قابل اعتراض ہے لیکن دراصل یہ خیال غلط ہے اسلامی قانون سے ہر مسلمان مرد کا ہر مسلمان عورت سے نکاح ہو سکتا ہے ۔عدم مساوات چھوت چھات یا اونچ نیچ کسی بھی سماج کیلئے گھن کی حیثیت رکھتے ہیں کوئی ملک جو اس مرض میں مبتلا ہے ایسا ملک باہمی عداوت ،نفرت اور مفاد پرستی اور خود غرضی جیسے مہلک امراض میں مبتلا ہو کر خانہ جنگی کا شکار ہو جاتا ہے۔جسکی مثال عراق ،شام ،یمن ،پاکستان ہمارے سامنے موجود ہیں ۔این ڈی ٹی وی کی برکھا دت کو انٹرویو دیتے ہوئے عآپ پارٹی کے نوجوان لیڈر کمار وشواس نے کہا کہ مجھے مدرسوں اور مسجدوں کی چیز بہت بھاتی ہے جہاں ایک بڑا آدمی آتا ہے اور ایک رکشے والے کے بغل میں کھڑا ہو جاتا ہے اور ہمارے یہاں ہزار روپئے والوں کی لائن الگ اور پچیس ہزار والوں کی لائن الگ ہوتی ہے ایک مرتبہ میں تیرو پتی گیا میں اندر اس لئے نہیں جا پا یا کہ میرے پتا جی نے کہا کہ اندر جانے کے لئے بہت پیسے لگیں گے ۔میں نے کہا کہ پربھو کے باہر ہی سے درشن لے لیتا ہوں ۔سوامی جی کہتے ہیں کہ وی ایچ پی برانچ عیسائی چرچوں کو برابر خریدتی رہتی ہے کیوں کہ چرچوں میں جانے والے لوگوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔
روزنامہ دوست (اردو ) فرانس کے نمائندہ کے مطابق فرانس میں مساجد کی تعداد کلیساؤں سے زیادہ ہو گئی ہے اور اس وقت اس ملک میں ڈیڑھ سو نئی مساجد تعمیر کے مراحل سے گذر رہی ہیں ۔خبر رساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کے مطابق فرانس میں مسلم کونسل کے سر براہ سید محمد موسوی نے کہا :گذشتہ ایک دہائی میں فرانس میں دو ہزار مساجد تعمیر ہوئی ہیں اور اس وقت بھی اس ملک میں ڈیڑھ سو مساجد زیر تعمیر ہیں اور آئندہ دہائی تک اس ملک میں مزید چار ہزار مساجد کی تعمیر کی ضرورت ہے۔روزنامہ لاکر ویکس کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ دس سالوں میں فرانس میں صرف دس کلیساتعمیر ہوئے ہیں اور عدم رجوع کی وجہ سے اس ملک میں چالیس کلیسا بند پڑے ہیں اور بیشتر کلیساؤں کو خرید کر مسلمان وہاں مساجد تعمیر کر رہے ہیں ۔ایک امریکی مرکز نے اپنی ایک ویب سائٹ میں لکھا ہے کہ فرانس میں دین اسلام بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے اور ایک دن فرانس کا رائج دین، دین اسلام ہو جائے گا مسلمانوں کی دینی تبلیغات روز بروز زور پکڑتی جا رہی ہے ان کی مساجد کے دروازے غیر مسلموں کے لئے ہمیشہ کھلے ہیں اس وقت فرانس میں مساجد کی تعداد کلیساؤں سے زیادہ ہے اور فرانس میں پچیس لاکھ مسلمان دین کے پابند ہیں ۔۳؍ مارچ ۲۰۱۲ ؁ء یہ تو چند سال پہلے کی رپورٹ ہے یہی حال یوروپ کے اور ممالک کا بھی ہے ۔
سوامی جی کہتے ہیں برٹش دور میں بھی عوامی کاموں کے لئے مسجد توڑی جا چکی ہے ۔تو انگریز تو ظلم حکمراں تھے ،پانچ ہزار علماء کرام کو درختوں پر پھانسی پر لٹکا دیا۔جلیاں والا باغ میں کیسے مظالم ڈھائے گئے اس وقت ہندو مسلمان سب بے بس تھے سوامی جی کی یہ دلیل بے معنی ہے ،سوامی جی کہتے ہیں کہ مسلمان جس ملک میں گئے اسے سو فیصد مسلمان بنا دیا ۔یہ بات غلط ہے کہ مسلمان جس ملک میں گئے ان کے اخلاق و کردار مسلم بادشاہوں کے انصاف کو دیکھتے اور کہتے ہیں کہ پہلے کے بادشاہ ظالم تھے یہ مسلم بادشاہ مخلص اور انصاف پرست ہے اور مسلمان ہو جاتے ۔ملک کے پہلے مغل شہنشاہ ظہیر الدین بابر نے اپنے فرزند ہمایوں کو چمڑے کے ٹکڑے پر نصیحت کی تھی کہ ہندوستان میں حکومت کرنا ہے تو گائے کا ذبیحہ مت کرنا یہ نصیحت نامہ میوزیم سے غائب کر دیا گیا ۔تاریخ میں ایک مشہور واقعہ بیان ہوا ہے کہ کسی ہندو رانی نے ستی سے بچنے کے لئے بابر کے فرزند بادشاہ ہمایوں سے مدد مانگی تھی اور ہمایوں اس کی مدد کو پہونچا تھا سوامی کو تو مسلم بادشاہوں کا احسان ماننا چاہئے کہ انہوں نے ہندوستان آکر بیوہ خواتین کو زندہ جلا نے کی رسم کا خاتمہ کیا ۔شاہجہاں نے تاج محل ہندوستان میں بنوایا ۔ایران یا عربستان میں نہیں بنایا ،بھگوان گڈوانی کی ناول کی پرسنجے خان نے ٹی وی سیریل بنایا جس میں دکھایا گیا کہ ٹیپو مسجد مندرسب میں عطیہ دیتے اور ہندو مسلمان سب کی مدد کرتے ہیں ۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے ۔دین میں کوئی زور زبردستی نہیں۔سورۃ بقرۃ (۲۵۶)
آل انڈیا مسلم پرنل لا بورڈ نے پہلے ہی اعلان کر دیا کہ اگر سپریم کورٹ میں ثابت ہو جائے کہ بابری مسجد زبردستی مندر کی جگہ بنائی گئی تو مسلمان اس مقدمہ سے دستبردار ہو جائیں گے ۔سوامی جی سعودی عرب کی مثال دیتے ہیں وہاں بھی لگاتار مساجد توڑی جاتی رہی ہیں اگر کوئی مسلمان شراب پیتا ہے ،جوا کھیلتا ہے ،منشیات کا نا جائز دھندا کرتا ہے تو ہم بھی ویسا کریں یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی ۔
آخر میں عرض یہ کہ سوامی جی بہت پڑھے لکھے انسان ہیں یوروپ کی یونیورسٹیوں میں لیکچر دینے کا شرف حاصل ہے اس پر ہم ہندوستانیوں کو فخر ہے ۔سوامی جی ذرا قرآن و احادیث نبوی ﷺ کا بھی مطالعہ کرلیں تب تعصب کے خول سے باہر نکل آئیں گے تب سوامی جی کو معلوم ہوگاکہ اسلامی تعلیمات ظلم و جبر ،دہشت گردی کا کہیں دور دور تک نام ونشان بھی نہیں ہے بلکہ امن و سلامتی کا مذہب ہے۔لیکن قرآن کریم میں ارشاد باری ہے ،نصیحت تو وہی لیتے ہیں جو عقلمند ہوتے ہیں ۔سورۃ زمر آیت (۹
سلیم لعل محمد 
موبائل۔ ۹۲۲۱۲۹۹۸۹۱ 

ممبر ا،تھانے ۔ پن کوڈ ۔ ۴۰۰۶۱۲