دنیا کا تبدیل ہوتا ہوا منظر نامہ



اٹھارہویں صدی کے سائنسی انقلاب اور لادینی نظریات کے وجود کے بعد اربوں کھربوں ڈالر اور سرمائے کی طاقت سے اشتراکیت ،آمریت ،کمیونزم،کپیٹلزاور لبرل جمہوریت کو وجود میں لایا گیا تاکہ بیسویں صدی میں خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد ایک بار پھر اسلامی طرز سیاست اور خلافت کو غالب آنے سے روکا جاسکے ۔مگر جس طرح آندھی اور طوفان کی طرح یہ جدید لبرل اور لادینی سیاست اپنے وجود میں آئی اسی رفتار سے فنا کی دہلیز پر قدم رکھ چکی ہے اور اکیسویں صدی میں ایک بار پھر پاکستان سے لیکر افغانستان ایران ترکی مصر اور شام میں تحریکات اسلامی کے عروج سے اسی طرح خوفزدہ ہے جیسے روئے زمین پر جبرئیل کا نزول ہونے والا ہو یا شیطان کرہ ارض پر کسی نبی اور رسول کی آمد سے لرزہ بر اندام ہو جایا کرتا تھا ۔
ہو سکتا ہے یہ کسی دیوانے کی بکواس ہو مگر تاریخ پر نظر دوڑائیے اور دیکھئے کہ اٹھارہویں صدی جدید ٹکنالوجی ،لادینی نظریات اور جدید طرز سیاست کے عروج کا دور ضررور تھا مگر صالحیت اور دین و مذہب کے خاتمہ کا نہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ بیسویں صدی کے خاتمے سے پہلے اور نوے کی دہائی میں ہی اشتراکیت ،کمیونزاور سوشلزم کے ان سارے بتوں کو منہدم کرنے کیلئے کسی حضرت ابراہیم ٗ کو آنے کی ضرورت نہیں پڑی بلکہ وقت کے آزروں نے خود اپنے ہاتھوں سے ان مجسموں کو تہس نہس کردیا ۔اور امریکہ جس کارپوریٹ جمہوری نظام کی کامیابی کے بعد پوری دنیا میں یکساں طور پر نیو ورلڈ آرڈر کو نافذ کرنے کی بات کررہا تھا 2001 یعنی 9/11 کے بعد بیسویں صدی کے خاتمے اور اکیسویں صدی کے آغاز میں خود اس چرچہ کا موضوع بن گیا ہے کہ کیا یہ امپائر خود اپنے پیروں پر کھڑا رہ پائے گا ؟2001 میں جس تیزی کے ساتھ وہ افغانستان میں داخل ہوا تھا القاعدہ اور طالبان کو ختم کرنے کا دعویٰ کیا اور اسی رو میں عراق پر چڑھائی کی صدام حسین کو پھانسی پر چڑھادیا ،ایسا لگ رہا تھا کہ دنیا سے تحریکات اسلامی ،اسلام اور بیباک مسلم قیادت کا خاتمہ ہو جائے گا ،مگر کیا وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکا ؟دنیا دیکھ رہی ہے کہ قطر میں وہ اپنے خرچ سے طالبان کی ایمبیسی قائم کرکے ان سے بات چیت کا منصوبہ بناچکا ہے ۔کیا یہ بات چیت صرف قیدیوں کی رہائی اور یوں ہی رسمی گفتگو کیلئے ہے ؟امریکہ اتنا بیوقوف نہیں ہے کہ صرف رسمی گفتگو کیلئے ایسا کرے ۔سچائی یہ ہے کہ جس طرح ماضی میں اسی افغانستان کے اندر سوویت روس کے بڑھتے ہوئے قدم کو روکنے کیلئے اسے افغان مجاہدین کی ضرورت تھی ،مستقبل میں بھی اس کیلئے صرف طالبان ہی ایسے دوست ہو سکتے ہیں جن پر اعتماد کرکے وہ افغانستان میں دوبارہ چین اور روس کی مداخلت کو روک سکتا ہے ۔ جبکہ یہ سچ ہے کہ افغانستان کو اپنے قابو میں کئے بغیر چین کے اپنے تجارتی مفادات حل نہیں ہو سکتے ۔سوال یہ ہے کہ جہاں شام میں امریکہ اور اس کی اتحادی قوتیں صرف اس لئے شامی عوام کو اپنے ہتھیار اور جنگی حکمت عملی کیلئے خفیہ سپاہی فراہم کررہے ہیں تاکہ یہاں جو بھی حکومت قائم ہو امریکہ نواز ہو ۔اپنے اسی مقصد کیلئے افغانستان میں تو جنگ کے یہ سارے سامان پہلے ہی سے موجود ہیں اور اسے واپس لے جانے میں بھی سینکڑوں کروڑ روپئے کاخرچ ہے ۔جبکہ یہی ہتھیار اور سازوسامان اگر وہ طالبان کو دیکر افغانستان میں ان کی حکومت قائم کروادے یا اپنی حمایت کیلئے راضی کرلے جائے تو یہ اس کے حق میں بہتر ہوگا اور وہ آسانی کے ساتھ وسطی ایشیاء کے ممالک میں بھی اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھ سکتا ہے ۔دیگر صورت میں اگر چین نے آگے بڑھ کر طالبان یا کسی اور اتحادسے بات کرنی شروع کردی جیسا کہ اس کام کیلئے پاکستان بھی اس کی پوری طرح مدد کریگا ۔ایسے میں امریکہ پوری طرح اس خطے پر اپنی بالادستی سے محروم ہو جائے گا ۔یہ نظر بھی آرہا ہے کہ چین 2014 میں امریکی فوجوں کے انخلاء کے بعد یہ کھیل ضرور کھیلے گا اور وہ یہ کھیل امریکہ کے دشمنوں کے ساتھ ملکر کھیل بھی رہا ہے ۔چین اپنے اسی مقصد کیلئے پاکستان میں اپنی بندرگاہ قائم کرچکا ہے اور ایران میں چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر کیلئے ایران کو ساٹھ ملین ڈالر قرض کی پیش کش بھی کر چکا ہے جبکہ اسی بندر گاہ کی تعمیر کیلئے ایران اور ہندوستان میں دس سال پہلے ہی ایک ضمنی معاہدہ ہو چکا ہے جسکے تحت ہندوستان نے تقریباً اتنی ہی رقم کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا تھا ۔ ایسے میں اکثر مبصرین ہندوستان کو بھی مشورہ دے رہے ہیں کہ اگر وہ وسطی ایشیاء کے مسلم ممالک میں اپنی تجارت کو فروغ دینا چاہتا اور ایسا کرنا ہی ہوگا تو طالبان سے گفتگو شروع کردے اور ایران کے چاہ بہار بندرگاہ کے بارے میں بھی جلد سے جلد کوئی فیصلہ کرلے۔ہندوستان کی اپنی حکمت کیا ہوگی یہ تبصرہ کرنا ابھی بہت مشکل ہے مگر چین اور امریکہ نے اپنا فیصلہ کرلیا ہے اور یہ ممکن ہے کہ چین بھی سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے طالبان کی حکومت قائم کروا دے جبکہ ایران کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ روس اور چین کے اس اتحاد میں شامل ہو جائے ۔
شام میں جو کچھ ہو رہا ہے اور مصر میں جو کچھ بھی ہواوہ اسی روس چین اور ایران کے مستقبل کے منصوبے کا ابتدائی کھیل ہے ۔اسی پس منظر میں اسرائیل اور اس کے یہودی سرمایے دار اس اتحاد کی مدد کررہے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور چین یا کسی بھی سوپر پاور کے علاوہ اسرائیل خود بھی پوری دنیا میں اقتصادی میدان کا سوپر پاور ہے اس لئے ان سرمایہ داروں کا اپنا مفاد قومیت وطنیت کے نظریاتی تصادم اور لبرل جمہوریت کی بقا میں ہے نہ کہ کلمہ طیبہ اور توحید کی پکار میں جو ایک پاک صاف معاشرے کی نمائندگی کرتا ہے ۔جبکہ یہودیوں کی ناجائز صنعت وتجارت کا فروغ صرف لبرل جمہوری طرز سیاست میں ہی ممکن ہے کیوں کہ یہاں وہ آسانی کے ساتھ اپنی مرضی کے حکمراں تبدیل کرتے رہتے ہیں اوران لبرل جمہوری حکمرانوں کو آسانی کے ساتھ خریدا بھی جاسکتا ہے ۔ اس کے برعکس ایران ،افغانستان اور سعودی عرب وغیرہ میں پہلے ہی سے ان کی تجارت خسارے میں ہے اور ترکی میں شراب وغیرہ کی فروخت پر پابندی اور عورتوں کے حجاب وغیرہ کے فروغ کی وجہ سے ان کی بہت سی فیشن اور فحاشی کی صنعتیں خسارے کا شکار ہیں ایسے میں عرب انقلابات اور اس انقلاب میں اللہ اکبر کی پکار نے ان کی نیند کو اور بھی حرام کردیا ہے ۔مگر جس طرح امریکہ اور اس کے اتحادی اس انقلاب کی حمایت کررہے ہیں اسرائیلی سیاستدانوں اور سرمایہ داروں کیلئے ان کی یہ حکمت عملی اسرائیل سے دشمنی کے مترادف ہے ہاں الگ بات ہے کہ ابھی مغرب اور اسرائیل کے درمیان سرد جنگ کا ماحول قائم ہے اور اس وقت تک قائم بھی رہے گا جب تک کہ عالمی صورتحال پوری طرح واضح نہ ہوجائے ۔ ایسا محسوس بھی ہورہا ہے اور مغربی عوام بھی محسوس کررہی ہے کہ جس نیو ورلڈ آرڈر کے نفاذ کیلئے انہوں نے مسلم انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف باقاعدہ جنگ کے ذریعے خود کو تباہ کرلیا یہ جنگ ہماری نہیں یہودیوں کی ہے ۔اسی لئے امریکی صدر اوبامہ نے اسرائیل کی طرف سے تمام دباؤ اور اصرار کے باوجود ایران پر حملہ نہیں ہونے دیا مگر وہ کھل کر ایران کی حمایت بھی نہیں کرسکتے اس لئے اس کی معاشی ناکہ بندی کو منظور کرنا پڑا جبکہ بدعنوانی اور رشوت خوری کے اس دور میں ایران کے خلاف معاشی پابندی بھی پوری طرح ناکام ثابت ہو رہی ہے درپردہ روس اور چین اس کی مدد کررہے ہیں اور ممکن ہے کہ ایک دن اسرائیل ایران کے ساتھ ہوجائے کیوں کہ اسرائیل کو تو صرف اپنا مفاد عزیز ہے اور پھر ایک دشمن کو ختم کرنے کیلئے دوسرے دشمن سے ہاتھ ملالینا بھی تو یہودیوں نے ہی دنیا کو سکھایا ہے ۔اسی دوران امریکی صدر نے سعودی عرب کے ساتھ 60 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کا معاہدہ کیا ہے ۔اس معاہدے سے اسرائیل کے کان کھڑے ہوجانے چاہئیے تھے کہ آخر امریکہ نے اس کے ایک دشمن ملک کو ہتھیاروں کا اتنا بڑا ذخیرہ دینے کا معاہدہ کیوں کیا ؟مگر امریکہ کی اپنی مجبوری بھی تھی کہ وہ صرف ہتھیار ہی بیچ سکتا ہے اور اس کی اپنی اقتصادی صورتحال بہت اچھی نہیں ہے ۔اپنے اسی اقتصادی صورتحال کے مد نظر اس نے عراق سے اپنی فوجوں کو واپس بلالیا اور افغانستان سے نکلنے کیلئے اچھے اور برے طالبان کا اس لئے شوشہ چھوڑا کیوں کہ اپنے اس مقصد کیلئے اسے مستقبل میں طالبان کی ضرورت درکار تھی ۔جبکہ اسے یہ بھی پتہ ہے کہ اس کے نکلنے کے بعد چین ضرور افغانستان میں مداخلت کرے گا تاکہ اس راستے سے وہ عربوں کے ساتھ کم خرچ میں اپنے تجارت کو فروغ دے سکے ۔کیا یہ بات سی آئی اے کو نہیں معلوم کہ چین کے اپنے عزائم کیا ہیں ؟سی آئی اے کو یہ بھی پتہ ہے کہ یہودی سرمایہ داروں کے اپنے عزائم کیا ہیں اور پھر یوروپ اور امریکہ کی جدید نسل اسرائیل کے بارے میں کیا نظریہ رکھتی ہے اور پھر اسی بات کو دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو موساد کو بھی علم ہے کہ مغرب میں اس کے خلاف فضا ٹھیک نہیں ہے اور اگر یہودی سیاست دانوں اور سرمایہ داروں کو مغربی عوام اور حکمرانوں کی بدلتی ہوئی ذہنیت کا علم ہے تو وہ خاموش نہیں رہ سکتے اور وہ ان کے اس اتحاد کو توڑنے کی بھی کوشش کریں گے ۔اپنے اسی مقصد کیلئے باراک اوبامہ کی صدارت کے دوران وکی لیکس کے فتنے کو ایجاد کیا گیا اور اس نے سب سے پہلے عراق میں امریکی فوجیوں کی انسانیت سوز تصویروں کو عام کیا جو خود اس کے اپنے اتحادیوں کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کیلئے تو تھی ہی عالم اسلام میں امریکہ کے خلاف جو نفرت پائی جاتی تھی اسے اور بھی مزید گہرا کیا جائے ۔کیا اس کھیل کو ویکی لیکس کے مالک جولین اسانج اکیلے انجام دے سکتے تھے ۔ظاہر سی بات ہے عالمی پیمانے پر حکمرانوں کے بیڈ روم تک کی پوشیدہ خبروں کو حاصل کرنا ہزاروں کروڑ ڈالر اور سرمائے کے بغیر ممکن نہیں ہے جو صرف موساد اور اس کے پس پشت یہودی سرمایہ داروں کی بھی سازش تھی تاکہ امریکی حکمراں اور عوام جو اس کے قابو میں نہیں رہے، انہیں دنیا کے سامنے اور انسانی حقوق کی عدالت میں ننگا کیا جاسکے ۔اب اسنوڈین کا جو فتنہ سامنے آیا ہے یہ بھی اسی عالمی اور یہودی سازش کی ایک کڑی ہے جو اسرائیلی خفیہ تنظیم موساد کا تخلیق کردہ معلوم ہو تا ہے جسے بظاہر مسیحا بناکر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر ایک ملک کے شہری کیلئے اپنے ملک کے راز کو افشاں کرنا بہر حال اس ملک کے ساتھ غداری ہے جو اسنوڈین کوکسی بھی صورت میں نہیں کرنا چاہئیے تھا جبکہ وہ اگر اتنا ہی پارسا تھا تو اسے ملک کی خفیہ ایجنسی میں شمولیت ہی نہیں اختیار کرنی چاہئیے تھی مزے کی بات تو یہ ہے کہ اس نے برطانیہ جرمنی فرانس ترکی اور ہندوستان جیسے ان ممالک کے بارے میں امریکی جاسوسی کا راز فاش کیا ہے جو امریکہ کے دوست اور مستقبل کے اتحاد ی ہیں جبکہ امریکی صدر اوبامہ کا یہ کہنا ہی جائز ہے کہ دنیا کی ہر خفیہ تنظیم اپنے دوستوں اور دشمنوں پر نظر رکھتی ہے ۔ ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ ہندوستان کی خفیہ تنظیم انٹیلیجنس بیورونے تو باقاعدہ مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کیلئے ان کے اغوا اور انکاؤنٹر کی منصوبہ بندی کی ۔ یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ اسنوڈین کو اس ملک نے پناہ دی ہے جو امریکی مخالف اتحاد کا رکن ہے ۔بدلتی ہوئی اسی صورتحال کے مد نظر اسرائیل اور اس کی خفیہ تنظیم پوری طرح عرب انقلابات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی خاموشی کی وجہ سے اس کے لئے سردرد بن چکا ہے اور اسے تنہا یہ کام انجام دینا پڑ رہا ہے ۔ماضی میں یہودی اپنی اسی سازش کی وجہ سے یوروپ اور دیگر ممالک سے نکالے گئے یا قتل کئے گئے مگر انہوں نے اپنے روش نہیں بدلی اور وہ اپنی روش بدلیں گے بھی نہیں کیوں کہ بہر حال انہیں عبرتناک انجام تک تو پہنچنا ہی ہے ۔

عمر فراہی۔موبائل۔
09699353811umarfarrahi@gmail.com    

عرب انقلاب سے خوف زدہ لوگ



اسرائیل کے سابق صدر یہود بارک نے ایک بار امریکی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہمارے سامنے تین چیلنج ہیں جن کا ہمیں مقابلہ کرنا ہے ۔اس میں سے پہلے نمبر پر اسلامی بنیاد پرستی ہے۔دوسرے اور تیسرے نمبر پر بھکمری اور بے روزگاری ہے۔ممکن ہے امریکہ اور اسرائیل جیسے ترقی یافتہ ممالک کیلئے بھکمری اور بے روزگاری بھی کبھی مسئلہ رہا ہو ،جبکہ یہ ممالک اپنی آمدنی ،خوراک اور پیداوار کا دوتہائی حصہ جنگ اور عیاشی کی نظر کر دیتے ہیں ،اور اپنے دسترخوان کا ایک تہائی حصہ کچرے کے ڈھیر میں پھینک دیتے ہیں جسے اگر محفوظ کرلیا جائے تو دنیا میں بھوک سے مرنے والے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں ۔مگر اپنے عنوان کو موضوع بحث بنانے کیلئے اسرائیلی صدر نے بھکمری اور بے روزگاری جیسے جذباتی مسئلے کا ذکر بھی کیا ،جبکہ انکا اصل مقصد اسلامی بنیاد پرستی کے خطرات سے آگاہ کرنا تھا ۔
سوال یہ ہے کہ آخر ایران کے اسلامی انقلاب اور سرد جنگ کے خاتمہ سے پہلے کسی نے امریکی پارلیمنٹ میں اسلامی بنیاد پرستی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیوں نہیں کیا جبکہ یہی وہ دور تھا جب امریکہ کو خاص طور سے عرب نوجوانوں میں سے بن لادن جیسے مجاہدین کی تلاش تھی جو افغانستان میں روس کے خلاف امریکی مفاد کے لئے خون دے سکیں ۔امریکہ نے اسپین کی طرح ان مجاہدین کے خاتمے کا منصوبہ تو بنا رکھا تھا مگر اسے یہ نہیں پتہ تھا کہ اس دنیا کا مکمل آرڈر (حکم) کہیں اور سے ہوتا ہے اور اس طاقت نے ایک دوسرے راستے سے ایران میں اسلامی انقلاب کو بنیادی شکل عطا کردی ۔اس اچانک تبدیلی نے امریکہ اور اسرائیل دونوں کے منصوبے کو خاک میں ملادیا اور صہیونی مقتدرہ کو اسلام بنیاد کی شکل میں نظر آنے لگا ۔حالانکہ ایران میں اسلام پسندوں کے اقتدار سے امریکہ اور اسرائیل کی ذات پر بہت بڑا فرق نہیں پڑتا تھا مگر اس انقلاب کے طریقہ کار نے ان تمام حریت پسندوں کے حوصلوں کو بلند کردیا جو برسہا برس سے اپنے اپنے ملکوں میں شرعی نظام کی بالادستی کیلئے جدوجہد کرتے رہے ہیں ۔اب ایران اور ترکی میں اسلامی بیداری کے بعد
۲۰۱۱ ؁ء میں جبکہ تیونس ،مصر ،لیبیا اور شام وغیرہ میں اخوانی تحریک اصل بنیاد کے قریب پہنچ رہی ہے ۔ایک بار پھر صہیونی مقتدرہ کے کان کھڑے ہوگئے ہیں اور وہ مسلسل اس خطرے کو کم کرنے کیلئے دفاعی حکمت عملی اختیار کرنے کیلئے مجبور ہیں ۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ۱۹؍مئی ۲۰۱۲ ؁ء کو اسرائیلی فوج کے سربراہ بینی گسٹز نے مقبوضہ فلسطین کے ایک فوجی کالج میں نئے بھرتی ہونے والے فوجیوں کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو محفوظ بنانے کے لئے فوج کی تعداد اور دفاعی صلاحیت میں اضافے کی ضرورت ہے ۔اسی خطرے کو بھانپتے ہوئے ۱۰؍جنوری ۲۰۱۱ ؁ ء کو صہیونی فوج کے سربراہ نے اسرائیلی پارلیمانی کمیٹی کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ ’’آج نہیں تو کل شام کے حکمراں بشر الاسد کو عوامی بغاوت کے سامنے ہتھیار ڈال ہی دینا ہوگا اس لئے ہمیں شام کی حکمراں جماعت جو کہ اقلیت میں ہیں اسے گولان کی پہاڑیوں میں پناہ دینے کی تیاری شروع کر دینی چاہئے تاکہ مستقبل میں ملک شام کی زمین پر قائم ہونے والی اسلامی حکومت کے خطرے کا سامنا کرنے کے لئے بشار الاسد کے علوی خاندان کی مدد لی جاسکے ‘‘ ہندوستان ٹائمز ۱۱؍جنوری ۲۰۱۱ ؁ء۔
نیو یارک ٹائمز کے مشہور و معروف کالم نگار تھامس فرائیڈ مین نے اپنے ایک مضمون ’’اسرائیل اور عرب انقلابات‘‘ میں اسرائیل کی اس الجھن پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایران کے بعد ترکی اور ترکی کے بعد مصر اور شام میں اسلام پسندوں کے غلبے نے صہیونی ریاست اسرائیل کی سرحدوں کو غیر محفوظ بنادیا ہے۔اسرائیل کے پرائم منسٹر بنجامن نتن یاہونے اسرائیلی پارلیمانی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے جب اس انقلاب کے شروع میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ہم تاریخ کے نازک موڑ سے گذ ر رہے ہیں اس لئے ہمیں ابھی سے احتیاطی تدبیر اختیار کرنی چاہئے تو پارلیمنٹ کے کچھ ممبروں نے میرا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ میں انہیں خوفزدہ کر رہا ہوں۔جبکہ عرب دنیا میں جمہوریت کو بنیاد حاصل ہورہی ہے ۔مگر اب جبکہ اقتدار پر اسلام پسندوں کے غلبے کے بعد صورت حال مغرب اور اسرائیل مخالف ہو رہی ہے کہاں ہیں وہ لوگ جو مجھے غلط سمجھ رہے ہیں۔یہاں تک کہ میں نے امریکی صدر براک اوبامہ اور دوسرے یوروپی ممالک کے سربراہان کو بھی جب اس انقلاب کی حمایت سے باز رہنے کو کہا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ آپ حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔میں کہتا ہوں کہ حقیقت سے کون واقف نہیں تھا میں یا وہ لوگ جنہوں نے حسنی مبارک کو بے دخل کرنے میں وہاں کی عوام کی مدد کی ‘‘۔تھامس فرائیڈ مین آگے لکھتا ہے کہ نیتن یاہوکی بے چینی بالکل جائز ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ سب جس طرح اچانک ہوا ایسی صورت حال میں اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ بھی تو نہیں تھا اور بغیر کسی سوچی سمجھی حکمت عملی کے کوئی جذباتی قدم مزید خطرناک ہوسکتا تھا ۔نیتن یاہو کا کہنا کہ اوبامہ نے اس بغاوت کی حمایت کی غلط ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اپنے تیس سالہ دور اقتدار میں حسنی مبارک نے جو دھاندلی کی اور جس طرح اپنے اقتدار کیلئے اس نے اسلام پسندوں کے ساتھ ساتھ سیکولر طاقتوں کو بھی کامیاب نہیں ہونے دیا اس کے اس ظلم سے سیکولر طاقتوں کو تو منظم ہونے کا موقع نہیں ملامگر اسلام پسندوں نے مسجد وں اور مدرسوں کے ذریعے اپنی تحریک کو کامیاب بناتے رہے ہیں ۔جبکہ اسرائیل خود ہی عرب ڈکٹیٹروں کی طرح فلسطینیوں پر حکومت کرنا چاہتا ہے اور جو اس کے دوست ہوسکتے ہیں انہیں بھی دشمن بنارہا ہے ۔بنجامن نیتن یاہو اسرائیل امریکہ اور اوبامہ کی اپنی الجھن کو سمجھنا بہت مشکل نہیں ہے ،کیوں کہ اپنے اقتدار اور وجود سے عالم اسلام کا صدیوں سے رشتہ رہا ہے اور انہوں نے براہ راست مسلم ممالک پر قبضہ کرکے یا حملہ کرکے نفرت اور دشمنی کی تاریخ رقم کی ہے اس لئے اسلام پسندوں کے عروج و زوال سے یہ لوگ کبھی خوش اور کبھی بے چین ہو اٹھتے ہیں مگر یہ بات سمجھنا بہت مشکل ہے کہ عالم اسلام میں تحریکات اسلامی کی کسی بھی طرح کی کامیابی سے آزاد ہندوستان کے انگلش اور سیکولر صحافیوں کے چہرے کی رنگت کیوں بدل جاتی ہے ؟
خشونت سنگھ نے اپنے مضمون ’’عرب انقلابات سے ابھی خوش ہونے کی ضرورت نہیں ‘‘لکھا ہے کہ میں نے ایران کے جمہوری انقلاب کو بہت ہی قریب سے دیکھا ہے اور شاہ کا وہ دور بھی دیکھا ہے جب سڑکوں پر کوئی بھی عورت نقاب میں نہیں ہوتی تھی اور شراب پینے کی آزادی تھی ۔مگر اس انقلاب کے بعد تصویر کا رخ بالکل الٹ دیا گیا یہاں تک کہ اس انقلاب کے روح رواں آیت اللہ خمینی نے سلمان رشدی کے خلاف موت کا فتویٰ جاری کردیا اور انکے جانشیں احمدی نزاد نے اسرائیل کو صفحہ ہستی مٹادینے کی بات کہی۔اس طرح مجھے ڈر ہے کہ اگر انقلابی پوری طرح عرب سلطانوں اور امیروں کو بے دخل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو وہ لوگ طالبان جیسی قیادت کا انتخاب کریں گے ۔یعنی خوشونت سنگھ جیسے لوگ جو لبرلزم کا کلمہ پڑھتے پڑھتے بوڑھے ہوچکے ہیں ان کی لغات میں آزادی اور جمہوریت کا مطلب صرف مغربیت ہے اور مسلمانوں کو اپنی پسند اور انتخاب کا اختیار نہیں ہونا چاہئے اور ممکن ہوسکے تو ان کی پسند کو ہٹلریت کی طرح جبراًکچل دیا جائے ۔یہ صرف ہمارے سیکولر دانشوروں کا ہی اپنا خیال نہیں ہے ،ہمارے ملک کی جمہوری سرکار بھی چاہے وہ سیکولر ہی کیوں نہ ہو کم سے کم اس بات پر متفق ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو سیاسی طاقت نہیں حاصل ہونی چاہئے شاید اسی نظرےئے کے تحت پچھلے دو سالوں سے جبکہ دہشت گردانہ کارروائیاں یا دھماکے بھی نہیں ہورہے مسلم نوجوانوں کی گرفتاری پر شدت کے ساتھ عمل ہورہا ہے اور اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کو نفسیاتی طور پر خوفزدہ کردیا جائے تاکہ کسی بھی طرح کا قائدانہ رول ادا کرتے وقت وہ اپنے آپ کو اخلاقی مجرم سمجھتے رہیں ۔غرض کہ اس وقت بنجامن نیتن یاہو سے لیکر مغرب نواز دانشور تک عرب انقلابات کو اپنے لئے خطرہ محسوس کررہے ہیں اور وہ شدت کے ساتھ اس تبدیلی پر روک لگانے کیلئے بے چین ہیں ۔اسی لئے شام میں جو اس وقت خونریزی جاری ہے اسد حکومت کو اسرائیل کی پشت پناہی حاصل ہے ۔چونکہ اسرائیل موجودہ امریکی صدر اور سربراہان یوروپ کو قائل کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے اس لئے اب اس نے شام میں عوامی بغاوت کو ناکام کرنے کیلئے روس اور چین کا استعمال کرنا شروع کردیا ہے مگر ہمیں افسوس ہے کہ ایران اور احمدی نزاد جو کہ اسلامی جمہوری انقلاب کی نمائندگی کا دعویٰ کررہے ہیں شامی عوام کے ساتھ نہ ہوکر شام کے ڈکٹیٹر بشر الاسد کے ساتھ ہیں جسکی فوجوں نے اپنی عوام کا اسی طرح قتل عام کیا ہے جیسے کہ صہیونی فوج معصوم فلسطینیوں کا قتل عام کررہی ہے۔
عمر فراہی۔موبائل۔09699353811

Exhibition – ‘Highlighter’ Truth v/s Falsehood

http://jamaateislamihind.org/eng/exhibition-highlighter-truth-vs-falsehood/
Exhibition – ‘Highlighter’ Truth v/s Falsehood
Posted on 09 September 2013 by admin
Truth-vs-FalsehoodBangalore: An exhibition in support of the toppled President of Egypt, Dr. Mohammed Morsi, was held as part of a protest programme on Saturday 7 Sept 2013 at Qudus Sahab Eidgah ground Bangalore.
The exhibition has several pavilions. Each Pavilion covering different events that lead to toppling of the Egyptian President and Muslim Brotherhood government in Egypt to the present situation. The exhibition pavilion begin with a display of timeline of toppling of Dr. Morsi and aftermath followed by photographs, cartoons, scripts, and views of various scholars. Teachings of the Qur’an related to the crises were displayed in the last pavilion as take home message.
The theme of the exhibition was Highlighter- truth v/s falsehood. Tableau of wrapped dead bodies was laid down on the pavement of the exhibition hall alongside fencing sheets.  Ply cards with slogans such as “Sisi where is my vote?”, “Sisi you wasted my vote” were erected alongside the tableau of cadavers.
R4bia (read as Rabia), the yellow coloured sign with four fingers raised and thumb resting on the palm of the hand was being explained to the visitors. The sign has now become a global rage and displayed as sign of protest and resilience across the Arab World and on the social network. The sign has acquired its present form from the name of Rabaa al-Adawiya mosque, from where the resistance to the military coup started off.
The exhibition also had a video shed where speeches of Dr. Morsi and other documentaries on Egypt were being played for the visitors.

Ameer-e Jamaat strongly condemns killings of Ikhwan by Egyptian army

http://jamaateislamihind.org/eng/ameer-e-jamaat-strongly-condemns-killings-of-ikhwan-by-egyptian-army/
Ameer-e Jamaat strongly condemns killings of Ikhwan by Egyptian army
Posted on 29 July 2013 by Admin_markaz

copy
New Delhi: Maulana Syed Jalaluddin Umari, Ameer (National President) of Jamaat-e-Islami Hind, has strongly condemned the killings of members of Ikhwanul Muslimoon (Muslim Brotherhood) by the Egyptian army and terming the killings as extremely immoral and inhuman he demanded the army to stop it immediately.
According to media reports, around three hundred people were massacred in the early morning on Saturday by the Egyptian army which last month sacked the elected constitutional government of President Dr. Mohammad Morsi. Around 6000 people were also wounded in the brutal acts of the army. According to the reports, Cairo University and Jamia Azhar are being evacuated by the Army which looks hell-bent on unleashing brutalities on the supporters of President Morsi. The wounded people are not being provided medicines also.
In a media statement on Sunday, Ameer-e Jamaat said the Egyptian Army had no legal, constitutional and moral right to stage coup against and sack the elected government of Dr. Moris. Therefore, the present government in Egypt is completely illegal but to justify it the army is opening fire on the peaceful protest of Ikhwan and thus is committing heinous crime.
Maulana Umari reminded the Egyptian army that the ancient and modern history of Egypt stands witness to the fact that oppressors on this piece of land have never got success, rather humiliation and shame became their fate. The present army of the Egypt should take lessons from this reality and stop its crimes and seek pardon from Almighty Allah and undo their illegal act by ending its revolt against and restoring the elected government of Dr. Morsi.
Ameer-e Jamaat also appealed to all governments of the world and peace-loving people to take all possible steps to keep the Egyptian army from killing its own countrymen so that democratic values are restored there and atmosphere of peace and justice established

JIH demands high-level probe into all major terror attacks in the country

http://jamaateislamihind.org/eng/jih-demands-high-level-probe-into-all-major-terror-attacks-in-the-country/
JIH demands high-level probe into all major terror attacks in the country
Posted on 28 July 2013 by Admin_markaz

1-copy
New Delhi, July 28: Jamaat-e-Islami Hind (JIH) has demanded the Congress-led United Progressive Alliance government at the Centre to set up high-level probe into all major terror attacks that happened in last 10 years in different parts of the country. Rejecting the assumption of the government and its agencies about a shadowy terror outfit Indian Mujahideen, JIH leaders while addressing mediapersons at Iftar hosted by the organization said there is no such organization in the country and the central government must bring out a White Paper on all the terror attacks in the country.
Addressing a huge gathering of pressmen, mostly from the Muslim community, at Jamaat’s headquarters here on Saturday evening, Maulana Syed Jalaluddin Umari, National President (Ameer) of Jamaat-e-Islami Hind said the government should order high-level probes into all major terror attacks including the Parliament Attack case of 2001 and the Mumbai attack (26/11) of 2008. He was making the demand in the wake of a former home ministry official’s revelations that the Parliament attack and 26/11 could be the handiwork of the then central government. Mr. RVS Mani, former undersecretary, Ministry of Home Affairs, made the disclosures last week giving reference to Gujarat cadre IPS officer Satish Verma who was member of the Gujarat High Court-appointed Special Investigation Team to look into the Ishrat Jahan fake encounter case of 2004.
“The recent disclosures of Mr. RVS Mani, former undersecretary, Ministry of Home Affairs, about the terror attacks at Parliament House in Delhi and in Mumbai are very disturbing because these terror attacks have been attributed to the government. If the revelations are wrong then why the government is not ordering any enquiry,” said the JIH leader.
JIH chief Maulana Umari was accompanied by top rank leaders of the organization including Mohammad Jafar, vice president, Nusrat Ali, General Secretary, and several national secretaries including Mohammad Salim Engineer, Ejaz Ahmed Aslam and Mohammad Ahmed.
Jamaat leaders also spoke on the recent court order on Batla House encounter case.
Addressing the media, Mohammad Salim Engineer, National Secretary for Public Relations, said the Jamaat and the entire Muslim community are not satisfied with the verdict of a Delhi court wherein it convicted a lone accused and concluded that the encounter was not fake. He said: “We respect the court order, but will explore ways to challenge it in higher court as we are not satisfied. And that’s why we are again demanding the government to set up a high-level enquiry into the Batla House encounter case.”
When asked what is his message to the Muslim community on this serious issue, Ameer-e Jamaat Maulana Umari said: Obviously we are not happy with the court verdict. However, we would call upon of the masses to respect the order and the leaders of the community should think over measures to get justice in this case.
Commenting on an upcoming law about rights of divorcee women, Mohammad Salim Engineer said the union cabinet has reportedly okayed the bill which, according to media reports, would fix rights of divorcee women in the properties of their former husband. “This is not right. We will oppose this bill as it clearly violates the Shariah law about the rights of divorcee women,” said Mohammad Salim Engineer.
On the existence of shadowy terror outfit Indian Mujahideen, Jamaat leaders categorically said there is no such organization by this name in the country. If there is such organization, they said, then why the government and its agencies have not yet informed the people of the country about its offices and officer bearers.
In response to a question about the custodial death of Khalid Mujahid in Uttar Pradesh, Ameer-e Jamaat Maulana Umari said his organization has given full support to the ongoing dharna in Lucknow demanding justice to Khalid Mujahid. He said the Samajwadi Party government of Uttar Pradesh should explain why it is not implementing the recommendations of the RD Nimesh Commission which had declared Mujahid’s arrest as fake and illegal and recommended action against the guilty police officers.
JIH leaders also expressed deep concern on the deteriorating situation in Egypt where the Army has now filed a case against the ousted president Mohammad Morsi. They said his sacking was against the law and constitution of Egypt and the Army must immediately restore his government.

Batla house encounter judgment: An Analysis

http://twocircles.net/2013jul27/batla_house_encounter_judgment_analysis.html

By Rehan Ansari, TwoCircles.net,
The Saket Session Court of Delhi delivered a judgment on a highly politicized encounter court Batla House Encounter case. The Court found Shahzad @ Pappu guilty of killing MC Sharma a police officer in the Batla house encounter case.
The decision is being celebrated by our media ignoring the fact that it’s not the last word in the case. The Judgment is not unexpected. Police is the party or in legal term accused in the Batlahouse encounter case and they were allowed to investigate. As Adv. Ejaz Naqvis puts, “Investigation by the accused or even victim is against the principle of fair investigation and Justice.”
Historical incidents that raised the doubts in the case
1- NHRC Guidelines about the encounter that an FIR should be filed against Police and a Magisterial inquiry must be held flouted.
2- Left. Governor of Delhi stopped the Magisterial Inquiry without any reason in the Batla House encounter case.
3- NHRC took cognizance only after the direction of High Court.
4- RTI queries denied.

Here are some facts on the court case:
1- The decision is not about the encounter of Atif and Sajid. It is about the killing of Ashok Chakra and President Award recipient Mohan Chand Sharma, highly decorated Police Officer.
2- Shahazad @ Pappu convicted on the basis of six Eye Witnesses, all are Police Personals. Judgment also states the circumstantial evidence- A- Recovery of his expired Passport from L-18. B- Railway Ticket from Delhi to Azamgarh. C- Telephonic Call from Atif Mobile to Shahazad’s Father in Azamgarh. U.P. from the same flat or nearby.
3- Judgment is based on Police statements (Prosecution Witnesses- an Interested Party in the Case). Judgment says, “I do not find myself in agreement with Ld. Counsel for accused contending that in the absence of independent public witnesses accused cannot be convicted on the basis of testimony of police officials.”
4- Police did not make Public Witness because they were Muslims and it might cause social unrest. Judgment says, “Ld. Addl. Public Prosecutor explained that the raiding party was in hurry to nab the suspects of serial blast. Moreover, majority of residents of that area are followers of the religion, as was of those suspects. If the police officers tried to involve any such local resident, it would have created social unrest in that area, causing fear to the life of those police persons even.
5- According to the Independent Eyewitness, Shahzad was not in the Flat. Only Independent Eye Witnesses in the case Mohd. Saif was not made a witness by the Police. When Defence made them Witness they deposed against the Police claim and said that Shahzad was not present there.
Judgment says “Md. Saif (one of occupants of flat no. 108) was apprehended by police from that flat. As per Ld. Defence counsel, prosecution did not cite Md. Saif as its witness and did not examine him in the court. All this ensues an adverse inference against the prosecution. I agree with Ld. Defence counsel. Even as per case of prosecution, Md. Saif surrendered before the police after coming out of toilets of said flat. In this way, Md. Saif was an important witness may be an eyewitness of incident and if prosecution did not examine him as a witness, it can be presumed that said witness would not have deposed in favour of prosecution.”
Second person Zeeshan Ahmad was resident of same flat, who left it at 7.007.30 am and as per him, there remained only Atif, Mohd. Saif and Sajid in that flat. Page No-29.
6- Fleeing from L-18. Assistant Sub Inspector, Anil Tyagi, Prosecution Witness no-13, who was posted on the main gate of the building deposed before the court that “he did not see any public person going in or coming out of the building.”
Judgment says, ASI Anil Tyagi (PW13) also deposed in the court that total nakabandi was done of that gali where said flat is situated. He did not see any public person going in or coming out of the building.
Similarly, ACP Sanjeev Yadav, who was examined, deposed that no occupants of flat met him while climbing the steps of L18,Batla House. Insp. Rahul Kumar (PW8) searched the adjoining flat i.e. Flat No. 107 as well as roof of that building but could not get any clue as how said two persons escaped.
7- Seizure of Arms despite many people from public gathered there only Senior Inspector Praveen Vats (PW-35) was made a witness. Judgment said, “A large crowd of people gathered at spot. PW35 witnessed the recovery of arms and ammunition from spot, seized by the IO.”
8- Police could not prove that Shahzad is an IM Operaive.
Judgment says “ It is pointed out by Sh. Satish Tamta, Advocate that as per case of prosecution, the occupants of flat no. 108 including accused Shahzad were active members of Indian Muzahiddin but this fact has not been proved on file.”
9- Killing of MC Sharma: Referring to the Ballistic Report from the side of encounter, Defence Lawyer claimed, “All the bullets matched with the arms belonging to the police party and two arms allegedly attributed to Atif and Sajid. According to the report there was no extra bullet on the spot, which demolishes the entire police theory that Shahzad fired and fled.” Nothing is mentioned in the Judment in this regard.

Death Sentence to Bangladesh Jamaat leader is a brutal act: Gen. Sec. JIH

http://jamaateislamihind.org/eng/death-sentence-to-bangladesh-jamaat-leader-is-a-brutal-act-gen-sec-jih/

1 copy
New Delhi, July 17:  Mr. Nusrat Ali, General Secretary, Jamaat-e-Islami Hind, has termed as brutal and against justice the death sentence awarded to Ali Ahsan Mohammad Mujahid, General Secretary, Jamaat Islami Bangladesh by the war tribunal set up by the Shaikh Hasina government of Bangladesh. He strongly demanded the Bangladesh government to withdraw all judgments of the so called war tribunal against the leaders of Bangladesh Jamaat Islami and release them with honor.
In a media statement today, Mr. Nusrat Ali said the decisions by Hasina government against the leaders of Bangladesh Jamaat Islami in the holy month of Ramadan may invite wrath of the Almighty and will sully the image of the Muslim country Bangladesh in the world and would destroy its reputation. Therefore, for the welfare and largest interests of Bangladesh, Shaikh Hasina government should keep from brutality and unnecessary revenge and adopt the human and moral values. Mr. Nusrat Ali appealed to the United Nations and all justice-loving people of the world to condemn the inhuman acts of Bangladesh government and take immediate steps to stop them.

حید رآباد دھماکہ : شک کی سوئی پھرماضی کی طرح نام نہاد دہشت گردوں کی طرف پھرانے کی کوشش!

                                                                                                                    نہال صغیر۔معرفت ،رحمانی میڈیکل ۔سلفی گلی نمبر 3 ۔کاندیولی(مغرب)ممبئی 400067 موبائل۔9987309013 ۔ای میلsagheernehal@gmail.com

لیجئے صاحب پھر بم دھماکہ ہوگیا ۔دھماکہ کے بعد مرکزی حکومت نے کہا کہ اس کے متعلق پہلے ہی ریاستی سرکاروں کو متنبہ کیا جاچکا تھا ۔لوک سبھا میں بی جے پی کی شعلہ بیان مقرر سشما سوراج بھی حکومت کی خبر لیتے ہوئے وزیر داخلہ سشیل کمار شندے پر برس پڑیں کہ آخر پہلے سے معلوم ہونے پر بھی اس پر کنٹرول کیوں نہیں کیا جا سکا ؟دھماکہ پر سشیل کمار نے ایمرجنسی بیان کے بعد آج 22؍فروری کو لوک سبھا میں روایتی بیان دیا اس میں نئی کوئی بات نہیں تھی اس بیان کو حکومت کی طرف سے معلوماتی بیان بھی کہہ سکتے ہیں ۔اس طرح کے بیان کے پیچھے شندے کی مجبوری بھی ہو سکتی ہے اور دو دن پہلے معافی مانگنے کا اثر بھی ۔اس دھماکہ نے موجودہ اہم خبر کو دبا دیا وہ خبر گجرات سے تھی جہاں مودی کی حکومت ہے اور جو بی جے پی کے 2014 کے متوقع وزیر اعظم کے امید وار ہیں ۔خبر تھی کہ مظلوم اور معصوم عشرت جہاں کے فرضی انکاؤنٹر کے سلسلے میں سی بی آئی نے گجرات کے آئی پی ایس افسر جی ایل سنگھل کو گرفتار کیا ہے ۔عشرت جہاں کے انکاؤنٹر کے سلسلے میں یہ پہلی باضابطہ گرفتاری بتائی جارہی ہے ۔ویسے اس سے پہلے کئی اعلیٰ افسران داخل زندان ہیں جن پر سہراب الدین ،کوثر بی اور پرجاپتی کو فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کرنے کا الزام ہے ۔یہ گرفتاری تو ہوئی ہے پہلے بھی اب بھی اور شاید آگے بھی ہو،لیکن اس پر مقدموں کی کیا صورت ہے وہ واضح نہیں ہے ۔
بہر حال معاملہ فی الحال حیدرآباد کے تازہ دھماکے کا ہے ۔سشما سوراج نے لوک سبھا کے اندر سشیل کمار کے بیان کے بعد سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ دھماکہ کہیں اکبر الدین اور اسدالدین کے مبینہ بھڑکاؤ بھاشن سے تو نہیں جڑا ہوا ہے ؟یا کیا یہ افضل گرو کی پھانسی پر دہشت گردوں کی انتقامی کارروئی تو نہیں ہے ؟اس پر حکومت کی طرف سے کوئی واضح جواب نہیں دیا جاسکا وجہ اس کی یہ تھی کہ سشیل کمار لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا میں بیان دینے چلے گئے ۔یہاں سشما سوراج کے بیان یا سوالات سے پہلے اس کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے کہ کل شام 21 ؍فروری کو سات بجے شام دھماکہ کے بعد بدنام زمانہ الیکٹرونک میڈیا کا کیا رویہ تھا ۔اس کا جائزہ لیتے ہوئے یہی محسوس ہوا کہ سارے ہی نیوز چینل اس دھماکے کو اسی پرانے اور گھسے پٹے انداز سے پیش کرکے عوام ،حکومت اور تفتیشی ایجنسی کو گمراہ کرکے ایک خاص فرقہ یعنی مسلمانوں کے خلاف محاذ بنانے میں مصروف کار تھے ۔اس بات کو بار بار نیوز چینل پر دوہرایا گیا کہ شک کی سوئی انڈین مجاہدین یا حرکت الجہاد اسلامی کی طرف گھوم رہی ہے ۔اس کو افضل گرو کی پھانسی کے خلاف انتقامی کارروئی سے بھی جوڑنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے ۔رہی سہی کسر سشما سوراج کے زہریلے سوالات نے بھی پوری کردی کہ کیا یہ اکبر الدین اور اسدلدین اویسی کے مبینہ نفرت انگیز تقاریر کا تو اثر نہیں ؟جس وقت سشما پارلیمنٹ میں بول رہی تھیں غالباً کوئی مسلمان ممبران پارلیمنٹ موجود نہیں تھا کہ وہ سشما کے اس سوال پر اعتراض کرتا ممکن ہے کہ سشما سوراج نے کئی اور بھی زہریلے سوالات کئے ہوں کیوں کہ جب وہ بیان دے رہی تھیں تو کئی بار محسوس ہوا کہ ان کے بیان کو ایڈٹ کیا جارہا ہے ۔
اگر ہم سشما سوراج کے مذکورہ بیان کو اسی عینک سے دیکھیں جس سے انہوں نے دیکھا اور ایک فرقہ کو ہی اپنی شعلہ بیانی کا نشانہ بنا ڈالا ۔اگر یہ دھماکہ اکبر الدین کی اس تقریر کا اثر ہو سکتا ہے تو کیا یہ توگڑیا کی تقریروں کا نہیں ہو سکتا ہے ؟اگر یہ انڈین مجاہدین کے نام نہاد دہشت گردوں کا ہو سکتا ہے تو کیا یہ بھونسلہ ملٹری ٹریننگ سینٹر سے تربیت یافتی پانچ سو لوگوں کا کیوں نہیں ہو سکتا جو کہ ہیمنت کرکرے کی تفتیش میں سامنے آنے کے بعد سے ہی غائب ہیں اور جس کے بارے میں مہاراشٹر حکومت اور مرکزی حکومت دونوں ہی سے متعد د بار سوالات کئے گئے لیکن خاموشی اور مکمل خاموشی ہے ۔آخر دھماکے کے بعد صرف حرکت الجہاد اسلامی اور نام نہاد انڈین مجاہدین ہی کا نام کیوں اچھا لا جاتا ہے ؟ سناتن سنستھا ،بجرنگ دل اور وشو ہندو جیسی ہندو تنظیموں کا نام کیوں نہیں اچھالا جاتا ؟یاسین بھٹکل اور وقار جیسے نام کو ہی کیوں اچھالا جاتا ہے پروین توگڑیا اور پرمود متالک کا نام کیوں نہیں گھسیٹا جاتا ؟ کیا یہ سشیل کمار کے بیان (جس پر انہوں نے معافی بھی مانگ لی ہے )کہ بی جے پی اور آ ر ایس ایس دہشت گردی کے اڈے ہیں پر بھگوا دہشت گردوں کی طرف سے انتقامی کارروائی بھی مانا جانا چاہیئے ۔ سشماجی کو اکبر الدین اور اسد الدین تو نظر آگئے لیکن انہیں توگڑیا کی زہر افشانی اورپرمود متالک کی بیہودہ بیان بازی کیوں یاد نہیں رہی کہ اس میں بھی وہ بم دھماکے کا سراغ ڈھونڈھنے کی کوشش کرتیں۔توگڑیا کا وہ بیان تو ابھی آن ریکارڈ ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ ’’جب جب پولس ہٹی تو ہم نے آسام اور میرٹھ کے ملیانہ میں لاشوں کے انبار لگادئیے ‘‘ لیکن مہاراشٹر کی حکومت کو اس میں ابھی تک کوئی قابل اعتراض پہلو نہیں نظر آیا اسی لئے صرف ایف آئی آر سے آگے بات نہیں بڑھی ہے ۔ہمارا شک ہی نہیں یقین ہے کہ اس دھماکہ کا تعلق افضل گرو کی پبانسی سے ہو سکتا ہے لیکن وہ اس لئے کہ افضل گرو کی ہمدردی میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے جس پامردی کا ثبوت دیا تھا اس عوام کے ذہنوں سے ہٹانے کیلئے انہیں دوسری طرف الجھانے کیلئے خود آئی بی نے ہی یہ عظیم کارنامہ انجام دیا ہو ا۔یا آئی بی کا دوسرا کور گروپ سناتن سنستھا اور اس جیسی دوسری تنظیموں نے سشیل کمار کو جو کہ ایک دلت ہیں اور وزارت داخلہ جیسے اہم عہدہ پر ہیں اس سے ہٹانے کیلئے یا انکو اس بیان پر سبق سکھانے کیلئے یہ دھماکہ کیا ہو۔جس میں انہوں نے فاشسٹ طاقتوں پر راست حملہ کیا تھاجس پر وہ قائم بھی نہ رہ سکے اور معافی مانگ لی ۔کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔اس طرف بھی غور کیا جانا چاہئے تب ہی انسانیت کے یہ دشمن بے نقاب ہو پائیں گے۔
حالات ہر دن مسلمانوں کیلئے نا قابل برداشت ہوتے جارہے ہیں ۔الیکٹرونک میڈیا کے بعد اگر آپ آج کے پرنٹ میڈیا اور نام نہاد مین اسٹریم میڈیا میں نظر ڈالیں انڈین ایکسپریس ،ٹائمس آف انڈیا اور نو بھارت ٹائمز کے علاوہ سبھی اخبارات نے صرف اس بم دھماکہ کو ہی اپنے پورے صفحہ پر جگہ دی ہے انڈین ایکسپریس اور ٹائمس گروپ کا ٹائمس آف انڈیا اور نو بھارت ٹائمس نے اس خبر کے ساتھ گجرات کے آئی پی ایس افسر کی گرفتاری کو بھی اہمیت دی ہے ۔کم و بیش اردو اخبارات کا بھی یہی تاثر ہے صرف ایک اردو کے اخبار نے گجرات کے آئی پی ایس افسر کی گرفتاری کو اہمیت نہ دیکر اندر کے صفحہ پر دیا ہے باقی کے اردو اخبارات نے اپنی روایت کو برقرار رکھا ہے ۔سامنا نے تو حد ہی کردی کہ اس نے اپنے پورے صفحہ پر اسی خبر کو اس ہیڈنگ کے ساتھ ’’حید ر آباد پر اسلامی دہشت گردوں کا حملہ 30 ہلاک‘‘ جبکہ ابھی تک کی ہلاکت کی تصدیق بیس کی بھی نہیں ہے ۔مسلمانوں کو اس پر سامنا کے خلاف قانونی کارروائی کرنا چاہئے ۔مسلم لیڈر شپ اگر کہیں ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اونچی عدالتوں میں اس کے خلاف سخت کارروائی کرے تاکہ اس طرح کی شر انگیزی پر قابو پایا جاسکے ۔سامنا کی شرانگیزی یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اس نے نیچے ضمنی عنوان کے تحت سرخی لگائی ہے کہ ’’افضل اور اویسی کنکشن‘‘ اور تصویریں بھی افضل گرو اور اویسی کی لگائی ہیں ایسا ہی کچھ سشما سوراج نے بھی پارلیمنٹ میں کہا یعنی کہ اس طرح کے اخبارات ممبران پارلیمنٹ کو بھی گائڈ کرتے ہیں کہ انہیں پارلیمنٹ میں کس طرح کا بیان دینا ہے ۔کیا اب بھی ہمارے نام نہاد ممبئی اور مہاراشٹر کے مسلم قائدین صرف وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ کو میمورنڈم دینا اور کارروائی کا مطالبہ کرنے سے آگے نہیں بڑھیں گے ۔

نہال صغیر۔موبائل۔9987309013

کمل ہاسن کی فلم ’وشوروپم ‘ممبئی کا مسلمان اور جنوبی ہند کی مسلم قیادت

کمل ہاسن کی فلم ’وشوروپم ‘ممبئی کا مسلمان اور جنوبی ہند کی مسلم قیادت
مجھے   فلموں سے یا اس میں پیدا ہونے والے تنازعات سے کبھی بھی زیادہ دلچسپی نہیں رہی لیکن حالیہ ریلیز ہونے والی کمل ہاسن کی فلم ’’وشو روپم ‘‘ کے بارے میں سن کر پھر اس کے کچھ سین کو ٹریلر کی صورت میں دیکھ کر یہ اندازہ ہوا کہ اس سلسلے میں بے اعتنائی اور شتر مرغ کا ریت میں سردیناایک جیسا ہے ۔فلموں کو ہماری مذہبی قیادت خلاف شرع مانتی ہے ماننے کی وجہ بھی ہے لیکن محض اتنا کہہ دینے سے بات نہیں بننے والی ۔آخر ہمارے معاشرے کا آج جوبرا حال ہے اس میں فلم کا کم وبیش اسی فیصد سے زیادہ حصہ ہے ۔مسلمانوں کے خلاف بننے والی منفی رائے عامہ بھی اسی فلم کی وجہ سے ہے ۔موجودہ فلم میں جو کچھ دکھایا گیا ہے اس پر جن لوگوں نے بھی اعتراض کیا ہے وہ با لکل درست ہے ۔لوگوں نے الزام لگایا کہ بغیر دیکھے ہی ہنگامہ مچایا گیا ۔تو کیا فلم کو ریلیز ہونے کے بعد اس پر اعتراض کیا جاتا ۔جب تک اس پر بات ہوتی فلم ہفتوں سنیما ہالوں میں لاکھوں لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کر چکی ہوتی۔آخر سات گھنٹوں کی طویل میٹنگ کے بعد کمل ہاسن کو فلم میں سے قابل اعتراض مکالموں اور سین کو ہٹانے پر سمجھوتہ کرنا ہی پڑا۔
فلم وشو روپم کا تنازعہ بہت حد تک حل ہو چکا ہے اور عنقریب یہ فلم تمل ناڈ میں ریلیز ہو جائے گی ۔اس فلمی تنازعہ میں ایک بات قابل غور ہے کہ اس میں چنئی کے مسلمانوں کو کئی خامیاں نظر آئیں جس کا اظہار انہوں نے مختلف طریقوں سے کیا ۔نتیجہ سامنے ہے کہ حکومت بھی جھکی اور کمل ہاسن جو کہ بلیک میلنگ کرنے پر اتارو تھے اور انہوں نے ملک چھوڑنے تک کی دھمکی دے ڈالی تھی ان کا بھی رویہ ڈھیلا پڑا ۔لیکن اسی فلم کو ممبئی اور مہاراشٹر کے نام نہاد مسلم لیڈروں نے دیکھ کر کلین چٹ دیدی ۔اب عوام اس تذبذب میں ہیں کہ ایک ہی فلم پورے ہندوستان میں مسلمانوں کیلئے قابل اعتراض ہے لیکن وہی فلم ممبئی اور مہاراشٹر کے مسلم لیڈروں کیلئے قابل قبول ۔آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ ممبئی کے چند نام نہاد مسلم لیڈروں نے اسے کلین چٹ دیدی ۔ممبئی کی مسلم لیڈر شپ بے دین ہے یا زیادہ روادار یا جنوبی ہند کی مسلم لیڈر شپ زیادہ مذہبی یا غیر روادار اور دقیانوس۔ممبئی ایک عرصہ ہوا کہ مسلمانوں کے تعلق سے لا تعلق ہو چکی ہے ۔اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب یہاں مخلص ملی قیادت نہیں ہیں ۔جو لوگ مسلم لیڈر شپ کا بذعم خود دعویٰ کرتے ہیں ۔ان کی حقیقت کئی بار اخبارات کی زینت بن چکی ہے ۔آئے دن مسلم لیڈروں کا ڈیلیگشن وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ سے ملتا ہے کچھ رسمی باتیں مسلمانوں کے تعلق سے انتہائی معذرت خواہانہ اور خوشامدانہ انداز میں چند معروضات پیش کرنا اور بس ۔چلتے وقت وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ سے انہیں لیڈروں میں سے اکثر اپنے ذاتی کاموں کی لسٹ سونپ دیتا ہے ۔اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کی اہمیت سیاست دانوں کی نظر میں کیا ہے ۔کھل کے کہا جائے تو اسے ایسا کہہ سکتے ہیں کہ وہ لوگ قوم کا سہارا لیکر کانگریسی لیڈروں اور دیگر سیاست دانوں کے تلوے چاٹنے کو ہی اپنے لئے باعث افتخار سمجھتے ہیں۔یہ تماشہ پچھلے بیس بائیس سالوں سے جاری ہے ۔وجہ اس کی یہ ہے کہ ممبئی اور مہاراشٹر میں جن لوگوں نے بھی اپنی جان و مال کی قیمت پر قوم کی عزت و ناموس کی فکر کی ان شیروں کو خاموش کیا جا چکا ہے ۔اب یہاں کی مسلم سیاست پر مردہ خور گِدھوں کا قبضہ ہے جو ملت کے مردہ ہونے کا انتظام بھی کرتے ہیں اور انتظار بھی ۔اب یہاں وہ لوگ مسلم سیاست پر قابض ہیں جو شیر کی ایک دن کی زندگی نہیں گیدڑ کی سو سالہ زندگی کے خواہش مند ہیں ۔
پورے ملک میں میٹرو شہروں میں مجھے دو ہی شہر مسلمانوں کی عزت و وقار کی علامت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرنے والے نظر آتے ہیں وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی فکر نہیں کرتے ہیں ۔ایک کلکتہ اور دوسرے حید رآباد ۔دہلی اور ممبئی کے مسلمانوں سے غیرت اور حمیت رخصت ہو چکی ہے ۔اسی لئے ان دونوں شہروں میں رشدی آتا ہے اپنی شیطانی شکل اور سوچ کے ساتھ مسلمانوں کا منھ چڑاکر چلاجاتا ہے ۔تسلیمہ جیسی بدکار اور دریدہ دہن آتی ہے پناہ لیتی ہے حکومت اسے پناہ دیتی ہے اور صرف پناہ ہی نہیں دیتی بلکہ مسلمانوں کو ان کی اوقات بتلانے کیلئے ساری سہولت بھی فراہم کرتی ہے۔مسلمان محض لاچار و مجبور دیکھتا اور خاموش رہ کر اپنی ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھتا ہے ۔ایسا کیوں نہ ہو کہ ممبئی میں بیس سال پہلے ایک مسلم لیڈر کو قتل کر دیا گیا ۔مسلمان نہ صرف خاموش رہے بلکہ بعض میر جعفروں اور میر صادقوں نے ان کے قتل میں رول بھی ادا کیا ۔قاتل آیا قتل کرکے چلاگیا ۔بڑے آرام سے اسے کسی نے پکڑنے کی کوشش نہیں کی ۔مسلم علاقوں میں کوئی سنسنی نہیں پھیلی کچھ ملت کے بہی خواہوں نے ضرور دوڑ دھوپ اور کفن دفن میں حصہ لیا انکے خوابوں کی جگہ میں انہیں دفن کر دیا گیا ۔وہی جگہ جو آج بھی ممبئی میں مسلمانوں کی واحد منظور شدہ پاش کالونی ہے جہاں ایک شاندار مسجد بھی ہے ۔ایسی کالونی نہ اس سے پہلے مسلمانوں کی تھی نہ آگے بننے کی امید ہے ۔
دوسال قبل ایسا ایک واقعہ شاہد اعظمی کا ہوا ۔قاتل اندر تک گھس کر اس شخص کو قتل کرکے چلا گیا جس نے بغیر فیس کی پرواہ کئے بے گناہ معصوم نوجوانوں کے مقدمے کو اس کے انجام تک پہنچانے کی کوشش میں رات کی نیند اور دن کا چین گنوایا ۔وہ جس نے پیسے بچانے کیلئے ہوائی جہاز اور ٹرینوں کے فرسٹ کلاس سے سفر کرنے کی بجائے سیکنڈ کلاس میں سفر کرنا مناسب سمجھا تا کہ وہ پیسہ مظلومین کی دیگر ضرورتوں میں صرف ہو۔ایسے محسن کی قوم نے فکر نہیں کی ۔میں نے وہ جگہ دیکھی ہے جہاں شاہد اعظمی کی شہادت ہوئی تھی ۔جہاں کسی کا یوں آنا اور اتنی بڑی واردات کو انجام دینا مسلمانوں کیلئے سوچنے کا مقام ہے۔موت کا ایک وقت مقرر ہے وہ اپنے وقت پر اور انہیں ذرائع سے آئے گی جو اللہ نے مقدر کر رکھا ہے ۔لیکن ان شخصیات کی موت کے بعد سوالات کا اٹھنا لازمی ہے ، جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ قوم کی عزت و ناموس کی بقا کی خاطر وقف کردیا ہو۔دونوں ہی عظیم شخصیات کے قتل کے بعد قاتل جائے واردات سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا اور مسلمانوں کے چہروں پر سیاہی چھوڑ گیا ۔ اب حالت یہ ہے کہ دور دور تک سناٹا ہے کوئی بھی قوم کا ہمدرد اور بیباک نمائندہ نظر نہیں آتا ۔جو ہے وہ قوم کے غم میں حکام کے ساتھ ڈنر کھانے اور رنج لیڈر کو بہت ہے آرام کے ساتھ کا مصداق ہے ۔یہ کمی کیوں ہے ؟یہ اس لئے ہے کہ عوام میں بیداری نہیں ہے ۔اسے چند مسلک اور مناظرے باز مولویوں نے بری طرح تقسیم کر رکھا ہے ۔وہ اپنی توانائی کو فضولیات اور رنگ ریلیوں میں برباد کر رہا ہے اور اس پر طرہ یہ کہ اسے یہ بات ذہن نشین کرادیا گیا ہے کہ وہ بہت ہی نیک کام کررہا ہے جس کا انعام جنت ہے ۔لیکن حال یہ ہے کہ قوم دنیا میں بھی ذلیل ہو رہی ہے اور مرنے کے بعد جو انجام ہونا ہے وہ تو ہونا ہی ہے ۔
میڈیا ہمیشہ کی طرح مسلمانوں کے معاملہ میں سیکولر زم اور رواداری کا جھنڈا بلند کرنا نہیں بھولتا ۔کئی اخباروں نے شہ سرخیوں میں’’ غیر روادار ہندوستان‘‘ کے عنوان سے خبریں شائع کیں ۔یہی میڈیا یہ سوال نہیں اٹھاتا کہ آخر دنیا میں جو مسلمان بھی ہتھیار اٹھائے گھوم رہا ہے یا وہ جابر اور ظالم قوتوں کے خلاف برسر پیکار ہے ۔اسے ان حالات کیلئے مجبور کس نے کیا ؟خودکش حملہ ہو یا فلسطینی مجاہدوں کا انتفاضہ سب میں کیڑے مسلمانوں میں ہی نکالے جاتے ہیں ۔اور یہ سب کچھ مولانا وحید الدین اور طاہر القادری کو ساتھ لیکر کیا جارہا ہے ۔جنہوں نے دجال کذاب کی طرح صرف ایک آنکھ سے ہی دیکنے کی کوشش کی ۔کوئی یہ نہیں پوچھ رہا ہے کہ فلسطینی اپنی مظلومیت کی داستانیں پچھلے پینسٹھ سالوں سے بھی زیادہ سے دنیا کے نام نہاد امن کے ٹھیکیدداروں کے پاس لیکر گئے کسی نے صرف ہمدردی جتائی اور کسی نے انہیں دھتکار دیا ۔کسی نے بھی اسرائیل کی غاصبانہ کارروائیوں کے خلاف کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ۔لیکن جبر مسلسل اور دنیا کی طرف سے نظر انداز کئے جانے کی مسلسل کوششوں کی جب کئی دہائی گزر گئیں تب کہیں جاکر کسی لیلیٰ خالد نے ہوائی جہاز اغوا کیا ۔یا اس کے بعد انہوں نے خود کش حملہ یا پھر اسرائیلی ٹینک اور مشین گنوں کے مقابل اپنے حوصلوں کا غلیل چلاکر انتفاضہ شروع کیا تو وہ دہشت گرد ہو گئے ۔اور ایسے ہی دہشت گردوں پر کمل ہاسن جیسے لوگوں نے فلمیں بنانا شروع کیں اور یوں مسلمانوں کو پوری دنیا میں دہشت گرد کے طور پر متعارف کرانا شرع کرادیا ۔لیکن کمل ہاسن ہوں یا کوئی اور ان میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ دنیا میں پھیل رہے سنگھی دہشت گردی یا صہیونی دہشت گردی پر کوئی فلم بنائیں ۔آخر بھگوا دہشت گردی کے نیٹ ورک کو منظر عام پر آئے بھی تو چھ سات سالوں کا عرصہ گزر چکا ہے ۔لیکن لے دے کہ معصوم و بے گناہ مسلمان ہی بچتے ہیں جنہیں ہر طرح سے تنگ کیا جاسکتا ہے ۔آخر اس بکھری ہوئی ٹکڑوں میں بٹی ہوئی امت کا ریاستی ملکی یا بین الاقوامی سطح پر کوئی ہے بھی نہیں نہ جو کسی کو کوئی خوف ہوگا ۔جو ہیں وہ حکومت اور اسلام مخالف ایجنسی کے دلال ہیں جو ہر لمحہ اس شک کو مزید پختہ ہی کئے دے رہے ہیں کہ ’’اس قوم کی گلہ بانی اب بھیڑیوں کے سپرد ہے ‘‘۔
قابل مبارکباد ہیں جنوبی ہند کے وہ مسلم رہنما جنہوں نے اپنا حق ادا کیا ،جنہوں نے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی فکر کئے بغیر اپنے موقف پر اٹل رہے ۔شمالی ہند کے مسلم رہنماء اگر ہیں تو انہیں ان سے سبق لینا چاہئے اور امت کی سر بلندی کیلئے کام کرنا چاہئے اسی میں امت کے ساتھ ہی ان کی بھی سربلندی ہے ۔ورنہ امت ذلیل ہو گی اور وہ سربلند ہوں ایسا کبھی بھی نہیں ہو سکتا ۔آخر ان میر جعفروں کی نظر تاریخ کے ان صفحات پر کیوں نہیں ہے جس میں میر جعفروں اور میر صادقوں کی فوری کامیابی کے ساتھ انکے ذلت آمیز انجام کے واقعات بھی درج ہیں۔ہر دور کے میر جعفروں اور میر صادقوں کا ایک ہی انجام ہوا ہے ذلت کی موت اور ہر دور کے سراج لدولہ اور ٹیپو سلطان کا ایک ہی انجام ہوا ہے شیر جیسی شاندار موت ۔جس کی موت نے دشمنوں کو بھی انہیں سیلوٹ مارنے پر مجبور کردیا تھا اور قیامت تک کیلئے وہ زندہ جاوید ہو گئے قوم ان کا تذکرہ عزت و احترام سے کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔یعنی ملت فروشوں کیلئے دائمی ذلت اور ملت کی سربلندی کیلئے جان دینے والوں کیلئے دائمی عزت و سرفرازی۔قدرت کا قانون ہے کبھی بدلا نہیں جاسکتا۔

نہال صغیر۔موبائل۔9987309013