عالمی یوم صحافت اور ہندوستانی میڈیا:سیاں جھوٹوں کا بڑا سرتاج نکلا!


نہال صغیر
تین مئی کو اقوام متحدہ کی جانب سے منایا جانے والا عالمی یوم صحافت پر ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں آزادی اظہار رائے اور جمہوری ہونے کا دعویٰ کرنے والے ممالک میں صحافت کی آزادی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ امریکہ برطانیہ وغیرہ آزادی صحافت کی رینکنگ والے 180 ممالک کی فہرست میں اول اور دوم پوزیشن میں ہونگے لیکن ان کا نمبر بھی تینتالیسواں اور چالیسواں ہے ۔خیر ہم اس بات سے بحث کرنے کی کوشش کریں گے کہ آزادی صحافت کے سلسلے میں ہمارا (ہندوستان ) کا رخ کیا ہے ۔اس سے پہلے ایک بار یہ دیکھ لیں کہ بدترین بدحالی اور خلفشار کا شکار پاکستان 2016 کے مقابلے آٹھ پوائنٹ کی بہتری کے ساتھ 2017 میں 139 ویں مقام پر آگیا جبکہ وہ 2016 میں 147 ویں مقام پر تھا۔ہندوستان تین پوائنٹ کی گراوٹ کے ساتھ2017 میں 136 پر آگیاجبکہ 2016 میں ہندوستان پریس کی آزادی میں دنیا بھر کے 180 ممالک کی فہرست میں 133 ویں مقام پر تھا ۔ہر اس ملک میں جہاںجمہوریت کو پختگی ملی ہوئی ہے اور یہ ممالک خود بھی اپنے آپ کو جمہوریت اور آزادی اظہار رائے کا چمپیئن سمجھتے ہیں وہاں اس سال یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پریس کی آزادی کے معاملے میں ان کی قدر کم ہوئی ہے ۔جس میں امریکہ ،برطانیہ اور ہندوستان بھی شامل ہے ۔جبکہ پاکستان جو کہ ایک جمہوری مسلم ملک تو ہے لیکن وہ تشدد اور دہشت گردی کے عنوان سے بہت بدنام ہے وہاں پریس کی آزادی میں بہتری درج کی گئی ۔پاکستان کے بارے میں کئی سال قبل جانے مانے صحافی کلدیپ نیر نے لکھا تھا کہ وہاں میڈیا اور عدلیہ آزاد ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ وطن عزیز میں میڈیا پر کوئی پابندی ہے ۔بظاہر ایسا کچھ نظر نہیں آتا ۔لیکن اندرون خانہ کچھ ایسے اشارے ہوتے ہیں جس سے میڈیا کی آزادی کا گلا گھونٹا جانا محسوس ہوتا ہے ۔زیادہ تر میڈیا ہائوسوں کو یا تو سرکاری اشتہار کے ذریعہ خرید لیا گیا ہے یا پھر ان کو اس سرمایہ دار نے اپنی ملکیت میں شامل کرلیا ہے جو حکومت کی جانب سے مراعات حاصل کرنے کیلئے کافی بدنام رہا ہے ۔حوالہ کیلئے یہ بتانا ہی کافی ہے کہ موجودہ حکومت نے گیارہ ارب سے زیادہ اشتہار پر خرچ کئے ہیں۔
یوں تو میڈیا یعنی ذرائع ابلاغ کا شروع سے مشن رہا ہے عوام کو باخبر کرنے کا لیکن آجکل ملک میں ایسا ماحول پیدا کردیا گیا ہے کہ میڈیا عوام کو بے خبر بنا کر محض چند جذباتی اور غیر حقیقی نعروں میں الجھا کر حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کا کام کررہا ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ یہ کام صرف ہندوستان میں ہورہا ہے ۔ایسا معاملہ پوری دنیا میں ہے ۔لیکن بات یہ ہے کہ بیرون ملک میں ہائوس کم از کم اپنے معیار سے نہیں گرتے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے یہاں کا میڈیا کا کوئی معیار ہی نہیں بچا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ کبھی باوقار مانا جانے والا پیشہ اب سب سے زیادہ بے وقار ہو گیا ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میڈیا بھی ایک کاروبار بن گیا ہے ۔اس پر سرمایہ داروں کا قبضہ ہے اور سرمایہ دار اپنے مفاد میں ہی خبروں کی تشہیر کرتے ہیں یا اسے دبا دیتے ہیں ۔اگر ہم میڈیا کے ابتدائی دنوں میں بات کریں تو انیسویں صدی میں ہٹلر میڈیا کے تعلق سے اپنی سوانح میں لکھتا ہے کہ کس طرح یہودی سرمایہ داروں نے ملک کو جھوٹی خبروں اور پروپگنڈہ سے یرغمال بنا رکھا تھا ۔لیکن اب اس پر گفتگو نہیں ہوتی اگر گفتگو ہوتی ہے تو یہ کہ ہٹلر نے بڑے پیمانے پر یہودیوں کا قتل عام کیا کیوں کہ پوری دنیا کے میڈیا پر اب صرف یہودی ،برہمن اور ایران نواز وںکا قبضہ ہے ۔ اسی طرح اب ہمارے ملک کو میڈیا نے ہائی جیک کرلیا ہے ۔اس شور میں سچائی کہیں چھپ گئی ہے یا چھپا دی جاتی ہے اور عوام فرضی اور من گھڑت مسائل میں الجھ کر رہ گئے ہیں ۔حالیہ حکومت کے کئی احمقانہ فیصلوں، جس سے عوام اور ملک کا دیوالیہ نکل گیا لیکن یہ صرف میڈیا کے جھوٹ کی ہی قوت ہے کہ ان مسائل سے عوام کے ذہنوں کو دوسری جانب موڑ کر بی جے پی اپنا سیاسی مفاد حاصل کررہی ہے ۔رویش کمار نے عالمی یوم صحافت پر ایک طویل مضمون لکھا ہے ۔اس میں انہوں نے میڈیا کے تعلق سے اس پرانے گانے کے ایک بول ’سیاں جھوٹوں کا بڑا سرتاج نکلا‘کاحوالہ دیا ہے جس کو ہم نے مضمون کا عنوان بنایا ہے ۔آج ہمارے ملکی میڈیا کی یہی حالت ہے ۔ سادہ لوح تو میڈیا کے سحر میں گرفتار ہیں ہی لیکن جو باشعور طبقہ ہے وہ بھی مشکوک ہوجاتا ہے کہ شاید یہی سچ ہو ۔بعض باتیں بار بار لکھنا مناسب بھی نہیں لگتا کہ میڈیا کیا چھپا رہا ہے اور کیا لوگوں کے ذہنوں میں بو رہا ہے ۔
اوپر ہم نے ہلکا سا اشارہ تو کیا ہے کہ امریکہ و برطانیہ اور ہمارے یہاں کی صحافت میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔اسی لئے وہ ہم سے سو پوائنٹ سے زیادہ آگے ہیں ۔رویش کمار نے اپنے مضمون میں اس تعلق سے امریکی میڈیا کی ایک تنظیم ’امریکی پریس کور‘ کے ایک خط کا حوالہ دیاہے کہ اس نے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو جو خط لکھا ہے رویش کمار کا کہنا ہے کہ ویسا خط یہاں کوئی لکھنے کی ہمت نہیں کرے گا ۔آپ بھی دیکھ لیں کہ امریکی صحافیوں کی تنظیم نے کس طرح سے ڈونالڈ ٹرمپ کو چیلنج کیا ہے ۔خط کا متن ہے ’’قابل احترام ،نومنتخب صدر صاحب ۔آپ کے دور صدارت کے شروع ہونے کے آخری دنوں میں ہم نے ابھی ہی صاف کردینا صحیح سمجھا کہ ہم آپ کی انتظامیہ اور امریکی پریس کے رشتوں کو کیسے دیکھتے ہیں ۔ہم مانتے ہیں کہ دونوں کے رشتوں میں تنائو ہے ۔رپورٹ بتاتی ہے کہ آپ کے پریس سکریٹری وہائٹ ہائوس سے میڈیا کے دفتروں کو بند کرنے کی سوچ رہے ہیں ۔آپنے خود کی خبر نگاری کیلئے کئی خبریہ تنظیموں کو بین کردیا ہے ۔آپ نے ٹیوٹر پر نام لے کر صحافیوں پر طعنے کسے ہیں ،دھمکایا ہے ۔اپنے مداحوں کو بھی ایسا کرنے کیلئے کہا ہے ۔آپنے ایک رپورٹر کا یہ کہہ کر مذاق اڑایا ہے کہ اسکی باتیں اسلئے اچھی نہیں لگی کہ وہ معذور ہے ۔اپنی انتظامیہ تک رپورٹر کی پہنچ ختم کرنے غلطی کریں گے ۔ہم خبریں حاصل کرنے کے طرح طرح کے راستے کھوجنے کے ماہر ہیں ۔اپنی مہم کے دوران جن خبریہ تنظیموں کو بین کیا تھا ان کی کئی رپورٹ بہترین رہی ہے ۔ہم اس چیلنج کو قبول کرتے ہیں ۔صحافت کے قوانین ہمارے ہیں ،آپکے نہیں ۔ہم چاہیں تو آپکے افسران سے آف ریکارڈ بات کریں یا نہ کریں ۔ہم چاہیں تو آف ریکارڈ بریفنگ میں آئیں نہ آئیں ۔اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ رپورٹر کو چپ کرادینے یا بھگادینے سے اسٹوری نہیں ملے گی ،تو غلط ہے ۔ہم آپ کی رائے لینے کی کوشش کریں گے ۔لیکن ہم سچائی کو توڑنے مروڑنے والوں کو جگہ نہیں دیں گے ۔وہ جب بھی ایسا کریں گے ہم انہیں بھگا دیں گے ۔یہ ہمارا حق ہے ۔ہم آپ کے جھوٹ کو نہیں دہرائیں گے ۔آپ کی بات چھاپیں گے لیکن سچائی کا پتہ کریں گے ۔آپ اور آپ کا اسٹاف وہائٹ ہائوس میں بیٹھا رہے ،لیکن امریکی حکومت کافی پھیلی ہوئی ہے ۔ہم حکومت کے چاروں طرف اپنے رپورٹر تعینات کردیں گے ۔آپکی ایجنسیوں میں گھسادیں گے اور نوکر شاہوں سے خبریں نکال لائیں گے ۔ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے انتظامی عمارت سے آنے والی خبروں کو روک لیں لیکن ہم آپ کی پالیسی کا تجزیہ کرکے دکھا دیں گے ‘‘۔
کسی صحافتی ادارے کی جانب سے ایسے سخت تیوروہ بھی منتخب اور دنیا کے سب سے طاقتور انسان کو دکھانے کی ہمت ہندوستان میں تو واقعی کوئی نہیں کرسکتا ہے ۔ہم آئے دن دیکھتے ہیں کہ کس طرح مودی بھکت اپنے ناقدین کا جینا دشوار کردیتے ہیں ۔حد تو یہ ہے کہ جو لوگ آج حکومت میں ہیں ان کے ہی کارندوں کے ذریعہ میڈیا ہائوسوں پر پتھرائو اور توڑ پھوڑ کرنے کا شاندار ریکارڈ رہا ہے ۔اب ان کی حکومت ہے تو اشتہار کے ذریعہ اور درپردہ مالی امدار اور دھونس و دھاندلی کے ذریعہ خاموش کردیا گیا ۔ایک آدھ ہی میڈیا ہائوس ایسا بچا ہے جو حکومت کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتا ۔وہ سوال کرتا ہے ۔لیکن حکومت کی چمچہ گیری کرنے والے میڈیا ہائوسوں اور صحافیوں کے شور میں ان کی آواز صدا بصحرا ثابت ہو رہی ہے ۔لیکن بہر حال ارنب گوسوامی،دیپک چورسیا جیسے صحافت کے کلنکوں کی بھیڑ میں رویش کمار اور وشو دیپک جیسے صحافی اندھیرے میں جگنو کی طرح اپنی جگمگاہٹ سے اپنی موجودگی کا احساس کراتے رہتے ہیں ۔یہ بتانے کیلئے کہ ہم مکمل اندھیرا نہیں ہونے دیں گے ۔ہر چند کے جھوٹوں کے اس شور میں ان کی آواز کوئی سنے یا نہیں سنے !

مشعل کا فتنہ



عمر فراہی ۔ umarfarrahi@gmail.com

چودہ اپریل 2016 کوپاکستان میں مردان یونیورسٹی کے طالب علم اور سوشل میڈیا جرنلسٹ مشعل خان کو انہی کے ساتھیوں نے بہت ہی بے دردی کے ساتھ قتل کردیا - مشعل پر الزام تھا کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی شان میں گستاخی کیا کرتا تھا - وہ عقیدے سے قادیانی تھا - خیر جو بھی تھا انسان تھا - اس کے فیس بک پوسٹ سے یہ اندازہ ہوتا ہےکہ وہ مذہب بیزار لبرل ذہنیت کا نوجوان تھا - بدقسمتی سے ہمارے دور کاایک المیہ یہ بھی ہے کہ جو مذہب بیزار ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو انسانیت دوست کہتا ہے ، جو اسلام دشمن ہوتے ہیں وہ خود کو لبرل اور مغرب نواز کہتے ہیں - مشعل کے قتل کی خبر بھی ہمیں سب سے پہلے ایک وہاٹس اپ گروپ پر مشعل کے قبیلے کے ہی ایک سوشل لبرل جرنلسٹ کی پوسٹ سےملی - اسلام بیزار اور اسلام پسندوں کے اس گروپ کو ایک ڈیڑھ سال پہلے اردو کےایک معروف صحافی نے تشکیل دیا تھا بعد میں وہ خود تو لیفٹ ہو کر باہر ہو گئےلیکن گروپ پر کچھ سوشل میڈیا ایران اور مغرب نواز لبرل جرنلسٹ مسلسل فتنہ پھیلاتے رہتے ہیں اور ان میں سے اکثر مشعل کی طرز کے سوشل جرنلسٹ اپنے اسلام مخالف نظریات سے دوسرے اسلام پسند صحافیوں کو مشتعل کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتے- اسی گروپ پر مشعل کی طرز کا ایک فتنہ پرور پچھلے کئی دنوں سے مشعل کے سر عام قتل پر پاکستانی طالب علموں کی اس طرح مذمت اور اس طرح کی تحریریں پوسٹ کر رہا تھا جیسے کہ مشعل کے قتل کے ذمہ دار پاکستانی طالب علم نہیں بلکہ اسلام اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات ہیں - یوں کہا جائے کہ شریر اور بدمعاش قسم کے یہ لوگ مسلسل تحریکی شکل میں اسلامی تعلیمات کے خلاف ایسی گمراہ کن تحریریں اور ویڈیو پوسٹ کرتے رہتے ہیں کہ ہم جیسے باشعور کالم نگاروں کے تن بدن میں بھی آگ لگ جاتی ہے - مگر جب یہی معاملہ کالج اور یونیورسٹیوں کے نوجوانوں کے ساتھ پیش آجائے تو بات خون خرابے تک پہنچنا بھی لازمی ہے- مشعل کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا ہے جس کا ذمہ دار خود یہ نوجوان بھی ہے - اسلام بہرحال جاہلوں سے الجھنے کی اجازت نہیں دیتا لیکن کیا کیا جائے کہ ہر کسی کی قوت برداشت یکساں نہیں ہوتی - ہمارے  گروپ کے دو ساتھی جو اردو اخبار سے منسلک بھی ہیں وہ مشعل کے قتل کے ردعمل میں پوسٹ کی گئی نازیبا تحریر پر گروپ کے ایک ایران نواز سوشل جرنلسٹ سے الجھ گئے اور تقریباً ایک گھنٹے تک بات تو تو میں میں تک پہچ گئی - بحث کے دوران وہ یہ تاثر بھی دیتا رہا ہے کہ اگر پاکستان ہوتا تو آپ لوگ قلم کی بجائے میرے اوپر شمشیر لے کر چڑھ آتے - آپ کی جانکاری کیلئے بتادیں کہ اکثر شریر منافق اور دہریے قسم کے سوشل جرنلسٹوں کی یہ خصلت ہوتی ہے کہ وہ خود بدتمیزی گستاخی اور بد تہذیبی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور الزام اپنے مخالف پر تھوپ دیتے ہیں - ایسے میں جو اپنی بحث اور عقیدے میں مخلص ہے اس کا جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہو کرمشتعل ہوجانا بھی لازمی ہے - شاید وقت کے رشدی اور طارق فتح بھی یہی چاہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ مشتعل کرکے تخریب پر آمادہ کریں - ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ آخریہ ان لوگوں کو ایسا کرنے میں مزہ کیوں آتا ہے ؟ اس کا جواب اس کے سوااور کیا ہوسکتا ہے کہ باطل نے ہر دور میں جہاں حق کے خلاف بزور شمشیر محاذ آرائی کی ہے اسی دور میں حق کے علمبرداروں کے خلاف ایسے بدزبان شعراء اور تبرا بازوں کا بھی استعمال کیا ہے جو اہل ایمان کا مذاق اڑا کر اس کی قیمت اصولتے تھے - ایسے بے غیرت مقرر اور مصنف آج بھی فروخت ہورہے ہیں - سلمان رشدی تسلیمہ نسرین اسریٰ نعمانی اور وی ایس نائیپال جیسے بدمعاش اورسطحی سوچ کے مصنفین کے ساتھ ساتھ ایسے الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات  بھی ہیں جو اپنی مطلوبہ قیمت میں فروخت ہو رہے ہیں - خوش قسمتی سے سوشل میڈیا کے دور میں تو فیس بک اور وہاٹس اپ میڈیا پر ایسے سوشل میڈیا جرنلسٹوں کی بھرمار ہو چکی ہے جو پیشہ وارانہ طور پر کسی گروہ کیلئے کام کر رہے ہیں یا فروخت ہونے کیلئے تجربات کے مراحل سے گذر رہے ہیں - مشعل خان بھی ممکنہ طور پر کسی اسلام دشمن تحریک کیلئے ہی استعمال ہورہا تھا - شاید اسی لیئے بہت ہی بے باکی کے ساتھ ادبی انداز میں اسی طرح اسلامی تعلیمات کی تضحیک اور مسلم نوجوانوں کی دل آزاری میں مصروف تھا جیسے کہ پاکستان میں مشعل اور طارق فتح کی ذہنیت کی ایک پوری بھیڑ سرگرم ہے اور بہت ہی منظم طریقے سے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں اور محفوظ بھی ہیں - مشعل کا قتل اچانک ظہور پذیر ہونے والا حادثہ یا ردعمل نہیں ہے بلکہ جس طرح نشے کے عادی افراد اپنی عادتوں سے مجبور ہوتے ہیں ہمارے سماج میں مشعل جیسے بہت سارے لبرل نوجوانوں نے مسلمانوں کی دل آزاری کو اپنی ذہنی عیاشی کا مشغلہ بنایا ہوا ہے - غالباً مشعل کو بہت پہلے سےدھمکیاں مل رہی تھیں لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ حقیقت میں اس کے ساتھ ایسا ہوجائے گا - اس دھمکی کو بھی  اس نے مذاق میں لیتے ہوئے اپنی فیس بک کی چوبیس مارچ کی پوسٹ میں ایک نظم  پوسٹ کی تھی جس میں اس نے اپنے اغوا اور قتل کر دیئے جانے کا خیالی منظر پیش کرتے ہوئے اپنے ہی قاتلوں کے خلاف پولس میں شکایت درج کرنے کی بات کی ہے -

میں لاپتا ہوگیا ہوں
کئی ہفتے ہوئے
پولیس کو رپورٹ لکھوائے
تب سے روز تھانے جاتا ہوں
حوالدار سے پوچھتا ہوں
میرا کچھ پتا چلا؟
ہمدرد پولیس افسر مایوسی سے سر ہلاتا ہے
پھنسی پھنسی آواز میں کہتا ہے
ابھی تک تمھارا کچھ سراغ نہیں ملا
پھر وہ تسلی دیتا ہے
کسی نہ کسی دن
تم مل ہی جاؤ گے
بے ہوش
کسی سڑک کے کنارے
یا بری طرح زخمی
کسی اسپتال میں
یا لاش کی صورت
کسی ندی میں
میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں
میں بازار چلا جاتا ہوں
اپنا استقبال کرنے کے لیے
گل فروش سے پھول خریدتا ہوں
اپنے زخموں کے لیے
کیمسٹ سے
مرہم پٹی کا سامان
تھوڑی روئی
اور درد کشا گولیاں
اپنی آخری رسومات کے لیے
مسجد کی دکان سے ایک کفن
اور اپنی یاد منانے کے لیے
کئی موم بتیاں
کچھ لوگ کہتے ہیں
کسی کے مرنے پر
موم بتی نہیں جلانی چاہیے
لیکن وہ یہ نہیں بتاتے
کہ آنکھ کا تارہ لاپتا ہوجائے
تو روشنی کہاں سے لائیں؟
گھر کا چراغ بجھ جائے
تو پھر کیا جلائیں؟
سوشل میڈیا پر مشعل کے اس قتل پر بہرحال ہر طبقے کی طرف سے مذمت ہورہی ہے اور ہونا بھی چاہیے لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی سلمان تاثیر اور مشعل کسی ممتاز قادری یا مشتعل بھیڑ کی شرارت کا شکار ہوتے ہیں تو ہم مسلمانوں میں سے ہی جو مفتی نہیں ہوتے وہ بھی مفتی ہوکر یہ فتویٰ دینا شروع کردیتے ہیں کہ اسلام قانون کو ہاتھ میں لینےکی اجازت نہیں دیتایا اس طرح کی حرکتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کےمنافی ہےاور اہل حق میں سے بھی کچھ لوگ یہ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ " ممتاز قادری جیسے لوگ خارجیت کا مظہر ہیں، تکفیر اور انتہاء پسندی کا جو رخ ہمارے معاشرہ میں ہے اس میں ایسے افراد کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے"بیشک ایسا نہی ہونا چاہیے لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب اخلاق ، نجیب اور پہلو خان جیسے مسلمان ہندو دہشت گردوں کے ذریعے قتل ہوتے ہیں تو کوئی ہندو پنڈت یا دانشور اپنے ہندو مذہب کی دہائی کیوں نہیں دیتا ؟ شام میں ایرانی پانچ لاکھ لوگوں کو قتل کردیتے ہیں پھر بھی خارجی اور تکفیری کے دائرے سے باہر ہیں - امریکہ افغانستان میں اب تک کے سب سے وزنی بارودی حملے کے باوجود امن کا علمبردار ہے تو اس لیئے کہ ہم نے اس بمباری سے شہید ہونے والوں کو دہشت گرد تسلیم کرلیا ہے - اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ باطل کی آواز میں طاقت ہے اور ہم اپنے اختلاف اور خوف کی وجہ سےان کی آواز میں آواز ملاکر ان کے موقف کی تائید کردیتے ہیں - سچ تو یہ ہے کہ مسلمان یا مسلمانوں کے علماء کبھی کسی مذہب اور ان کے اکابرین کی توہین نہیں کرتے بلکہ رشدی تسلیمہ نسرین ، طارق فتح اور مشعل جیسے لوگ خود بلا جواز آگے بڑھ کر مسلم نوجوانوں کو مشتعل کرتے رہےہیں اور کررہےہیں - یہ بات بھی درست ہے کہ ایسے گستاخوں کی بدتمیزی اور گستاخی پر مسلمانوں کو مشتعل نہ ہوکرقانون کو اپنا کام کرنے دینا چاہیے لیکن جس معاشرے سے انصاف اور قانون کی حکمرانی کا تصور ہی ختم ہو چکا ہو وہاں ممتاز قادری یا پاکستانی یونیورسٹی کے طالب علموں کی ایک قلیل بھیڑ کو مشتعل ہوجانے سے بھی کیسے روکا جاسکتاہے ؟
بیشک اس کا ذمہ دار بھی موجودہ دنیا کا لبرل جمہوری نظام ہی ہے جس نے طارق فتح اورمشعل جیسے اسلام دشمن شرپسندوں کو پناہ دے کراسلام اور مسلمانوں کی شان میں گستاخی کیلئے آزاد چھوڑ رکھاہے- اب آپ اندازہ لگائیں کہ جہاں ابلیسیت اور دجالیت غالب ہواور للہٰیت اورربّانیت پابند سلاسل اور خطرناک بارودی بموں کے حصار میں جکڑ دی گئی ہو ، جہاں ارباب اقتدار نے خود غنڈے بدمعاشوں کو پناہ دے رکھا ہو اور یہ لوگ اپنی بدعنوانی اور خرافات پھیلانے کیلئے آزاد ہوں تو پھر ایسے میں زمین پر کسی بھی طرز کے فساد اور فتنےکو کیسے روکا جاسکتا ہے...؟

انتظار کیجئے


ممتاز میر۔07697376137

اخبار میں سونو نگم کی ہرزہ سرائی نظر سے گذری ۔ اور آج (۱۹ ،اپریل)کو ہمارے ایک لیڈر کا سونو نگم کی حمایت میں بیان پڑھا۔سونو نگم کہتے ہیں۔’’خدا سب پر مہربانی کرے ،میں مسلمان نہیں ہوں اور صبح میری نیند اذان سے کھلی ۔ ملک میں کب تک مذہبی رسم و رواج کو زبردستی ڈھونا پڑے گا ‘‘یہ بیان صرف مسلمانوں پر چوٹ نہیں ہے بلکہ تمام مذاہب کے ماننے والوں پر چوٹ ہے ۔اسلئے سبھی کو ان سے پوچھنا چاہئے کہ پھر وہ بھجن کیوں گاتے ہیں۔اور آئندہ بھجن گوانے والوں کو بھی سونو نگم کی یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے۔ویسے وہ جس پیشے سے تعلق رکھتے ہیں اس میں اس قسم کی باتیں کرنا پیشے کی مجبوریوں میں شمار ہوتی ہیں۔وہ لوگ کپڑے اتارتے ہیں تو اسلئے کہ وہ خبر بن جائے اور اگر کپڑے زائد پہن لیتے ہیں تو بھی اسلئے کہ وہ بھی خبر بن جائے ۔پھر آجکل تو ان کا مارکیٹ بڑا ڈاؤن چل رہا ہے اسلئے وہ جو نہ کریں کم ہے۔ مسئلہ ہمارے لیڈر کا ہے ۔اسے کس کتے نے کاٹ لیا تھا ۔اپنے لیڈروں کے تعلق سے ہمارا احساس یہ رہاہے کہ وہ واقعتا مسلمان ہوتے بھی ہیں یا نہیں ؟یہ معاملہ مشکوک ہے !ہمارے یہ مذکورہ لیڈر جن کا نام احمد پٹیل ہے غلام نبی آزاد کی طرح برسوں سے گاندھی خاندان کی ناک کا بال بنے ہوئے ہیں۔ان کی دیرینہ کارکردگی یہ ہے کہ جب ساری دنیا کانگریس کا ساتھ چھوڑ چکی تھی یہ کانگریس سے چپکے ہوئے تھے۔ یہ اپنی قوم کے کم کیا بالکل وفادار نہیں رہے ہیں ان کی ساری وفاداری گاندھی خاندان یا کانگریس کے ساتھ رہی ہے ۔اور احسان جعفری کا حشر دیکھنے کے بعد بھی اس میں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں آئی ہے۔موصوف اپنی حالیہ حمایت میں کہتے ہیں ’’اذان نماز کا حصہ ضرور ہے لیکن جدید تکنیک کے دور میں لاؤڈاسپیکر کی ضرورت نہیں ہے ‘‘اگر واقعتا ان کے الفاظ یہی ہیں تو ہمیں ان کا مطلب پلے نہیں پڑا۔شاید ان کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ لاؤڈاسپیکر کو مسجد کے میناروں پر لگانے کی بجائے چھوٹے چھوٹے اسپیکر ہر اس گھر میں لگا دیئے جائیں جسے اذان سننی ہو یہ مشورہ ،اگر واقعتا اس کا یہی مطلب ہے تو بہت اچھا ہے ۔ہم صد فی صد اس سے اتفاق کرتے ہیں ۔بس شرط اتنی ہے کہ ہر گھر میں اسپیکر لگانے کا خرچ جناب احمد پٹیل صاحب برداشت کریں ۔قوم ان کا یہ احسان تا عمر نہیں بھولے گی۔
ایک بار پھر سونو نگم کی طرف لوٹتے ہیں۔خبریں یہ کہتی ہیں کہ ان کے گھر کے آس پاس مسجد نہیں ہے تو کیا وہ کسی دوسرے کے گھر سو رہے تھے یہ شو بز والوں کے لئے کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے ۔تو کیا شو بز کی دنیا سے تعلق رکھنے کے باوجود ان کے بیڈروم میں AC نہیں ہے اور AC ہونے کے باوجود ان کے بیڈ روم میں دنیا بھر کی آوازیں گھس سکتی ہیں ۔ہم تو شوبز والوں سے یہ توقع رکھتے ہیں کے وہ ٹی وی اداکاراعجازخان کی طرح فرقہ پرستی اور ملک میں پھیلنے والی بے چینی کے خلاف آواز اٹھائیں گے یہ صرف بہادری کا کام نہیں ہے بلکہ ان کے مفادات کا بھی تقاضہ ہے ۔فنون لطیفہ ملک کے موجودہ حالات میں پھل پھول نہیں سکتے۔نریندر دابھولکر ،گووند پنسارے اور ملیشپا کلبرگی نے آخر کیوں اپنی جانیں قربان کیں۔ اسی لئے ہمیں لگتا ہے کہ سستی شہرت کی خاطر وہ بیان بازی کر بیٹھے ہیں۔دوسری طرف ہمارے لیڈر کی ان کی حمایت میں اٹھنے والی آواز سے وہ خوف جھلک رہا ہے جو بی جے پی کی یو پی میں دو تہائی سے زائد کی اکثریت سے فتح نے مسلمانوں میں پھیلا رکھا ہے۔آج وطن عزیز میں مسلمانوں میں شاید ہی کوئی قابل لحاظ دانشور ایسا ہو جو مسلمانوں اور ملک کی اس حالت کا ذمے دار کانگریس کو نہ مانتا ہو ۔ اس کے باوجود کانگریس کے ایک مسلمان لیڈر کا بیان نوٹ کرنے کے قابل ہے ۔کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ کانگریس نے آج بھی اپنی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے ۔وہ آج بھی اپنی نرم ہندتو کی لٹیا ڈبو دینے والی پالیسی پر ہی عمل پیرا ہے ۔ ہم اپنے مضامین میں پہلے بھی کئی بار لکھ چکے ہیں اور ایک بار پھر لکھ رہے ہیں کہ ہمیں جس قسم کے لیڈر میسر ہیں (چاہے سیاسی ہو یا مذہبی) جس طرح کی حماقتیں وہ کرتے ہیں ، فرقہ پرستی کے سامنے جس طرح وہ پسپائی اختیار کرتے ہیں ایک وقت آئے گا کہ حکومت کہے گی نماز کے لئے مسجد کی ضرورت کیا ہے۔نماز گھر میں بھی پڑھی جا سکتی ہے ۔آپ لوگ نماز کے لئے مسجد میں جمع ہو کر حکومت کے خلاف سازشیں کرتے ہو ،لوگوں کو حکومت کے خلاف بھڑکاتے ہو تو حکومت کے اس موقف کو سب سے پہلے جو حمایتی میسر آئے گا وہ ہمارا ہی کوئی مسلمان نمالیڈر ہوگا ۔اور وہ حکومت کے اس موقف کی حمایت میں جو دلائل فراہم کرے گا اسے سن کر خودحکومت کا حال جو بھی ہو ہم مسلمان بھی عش عش کر اٹھیں گے ۔انتظار کیجئے ۔کچھ ہی دنوں میں یہ نظارہ بھی شاید دیکھنا پڑے۔ ’’شاید‘‘ہمارے اپنے لئے۔ہم عمر کے آخری پڑاؤ میں ہیں۔

زوال یافتہ پارلیمانی اقدار اور ملک پر منڈلاتے خطرات


نہال صغیر


یوں تو پارلیمانی جمہوری نظام میں اکثر ملکوں کی پارلیمنٹ میں حزب اقتدار اور حزب مخالف کے درمیان ایسی تو تو میں میں ہوتی رہی ہیں جس کو غیر پارلیمانی کہا جاتا ہے ۔ایک ویڈیو میں ایسے کئی ممالک کی پارلیمنٹ کی انہی فوٹیج کو اکٹھا کردیا گیا تھاجس میں صرف تو تو میں میں ہی نہیں ایک دوسرے پر خطرناک حد تک حملہ کیاگیا تھا ۔لیکن دیگر ممالک میں یہ شاذ و نادر ہونے والے واقعات ہیں ۔وہ اپنے وقار اور اپنے عوام کی خواہشات کا احترام کرنے والے لوگ ہیں ۔یہی سبب ہے کہ ان سے لاکھ اختلاف کے باوجود ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ان کے اسی نظم وضبط نے انہیں ترقی یافتہ بنایا ہے جہاں لیڈر سے لیکر عام آدمی تک تعلیم یافتہ اور سمجھ بوجھ رکھنے والے ہیں ۔ان ممالک میں گھوم کر آجائیں آپ محسوس کریں گے جیسے یہ ممالک اس دنیا میں نہیں کسی اور سیارے پر آباد ہیں ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اسی سیارے پر آباد ہیں اور ہمارے جیسے ہی شکل و صورت والے انسان ہیں ۔بس ان کی اور ہماری سوچ میں فرق ہے ۔انہیں کوئی کہہ دے کہ ’کو اکان لے جارہا ہے ‘تو کوا کے پیچھے پڑنے کی بجائے اپنے کان دیکھتے ہیں جبکہ ہمارے یہاں کان دیکھنے کا رواج نہیں ہے بس کوا کے پیچھے بھاگ کر خود کو ہلکان کرنے کی روایت عام ہے ۔دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہندوستان کی سنسکرتی (تہذیب)ہزاروں سال پرانی ہے ۔شاید یہ سچ بھی ہو اسی لئے لوگ نئی تہذیب و تمدن اور اس کے تقاضے سے نا آشنا ہیں۔دنیا میں نئے دور کا آغاز ہے نئی نئی کھوج اور تلاش کا کام جاری ہے لیکن یہ برہمنوں کی غلام قوم اب بھی ہزاروں سال کے پرانے افسانوی دور کی باتیں کرتی ہے اسی میں مگن ہے ۔اس شخص کے جھانسے میں آتی جارہی ہے جو انہیں جھوٹ موٹ کی باتوں میں اسے الجھا کر موجودہ دور کے تقاضوں اور بنیادی انسانی ضروریات کی عدم موجودگی و عدم فراہمی کے کرب سے اس کا ذہن دوسری جانب پھیر دینا چاہتی ہے اور یہ جاہل اور گنوار اسی بھول بھلیوں میں مگن رہنا چاہتے ہیں ۔ہمارے یہاں پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں پہلے تو میز کرسیاں اور مائیک پھینک کر ایک دوسرے کو مارنے کا رواج تھا ۔لیکن بعد کے زمانے میں جب انہیں فِکس کردیا گیا تو مجبوراًً ایک دوسرے پر جھپٹ پڑنے اور ضروری کاغذات پھاڑنے تک ہی معاملہ سمٹ گیا ہے ۔لیکن جو لوگ یہ ساری حرکتیں پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں کرکے ملک کا نام روشن کیا کرتے تھے اب وہ اپنے عزائم کی تکمیل عوام مقامات پر سرکاری یا دیگر عملہ کے ساتھ مار پیٹ کرکے کررہے ہیں ۔حال ہی میں شیو سینا کے ایک رکن پارلیمان رویندر گائیکواڑ نے ایئر انڈیا کے ایک عملہ کے ساتھ مار پیٹ کی اور اپنی اس بہادری والے کارنامے کو فخر کے ساتھ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اس ملازم کو 25 بار چپلوں سے مارا۔شیو سینا نے تو خیر کبھی بھی خود کو مہذب اور اخلاقی اقدار والی پارٹی قرار نہیں دیا ۔اس نے کھلی غنڈہ گردی کی اور اس کا کھل کر اظہاربھی کیا ۔لیکن وہ جس کے سایہ میں مرکز میں اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے یعنی بی جے پی نے اقدار پر مبنی سیاست کرنے والی پارٹی کہنے میں کبھی عار محسوس نہیں کیا ۔ہمارے نئے نویلے پردھان سیوک جی یہ کہہ کر بھی آئے تھے کہ وہ سیاست دانوں کے مقدمات کا فاسٹ ٹریک عدالت میں جلد از جلد نپٹا را کریں گے ۔لیکن انہوں نے کسی اور وعدوں کو پورا کیا ہے جو اس کو بھی پورا کریں گے اور پورا بھی کیوں کریں جب یہاں کے احمق لوگ اس کے بغیر ہی چند جذباتی نعروں میں بہل کر مسلم دشمنی کے نشہ میں انہیں تھوک کے حساب سے ووٹ دے رہے ہوں ۔وزیر اعظم مودی کے ساتھ جو ارکنان پارلیمان ہیں ان میں خود تیس فیصد کے قریب ارکان پر مجرمانہ معاملات درج ہیں ۔خود وہ بھی کیا ہیں دنیا اسے جانتی ہے ۔اس پرطرہ یہ کہ جن کو اتر پردیش کی کمان دی گئی ہے وہ شخص بھی ایسے کئی مجرمانہ معاملات میں ملوث ہے ۔
آج کی مہذب دنیا ہو،یا عہد وسطیٰ کی غیر مہذب اور سائنسی تحقیق سے دور دنیا میں کسی ملک کی پہچان ان کے باشندوں کی اجتماعی سوچ سے ہوا کرتی ہے ۔خود سے کچھ بھی کہتے رہیں اس سے دنیا کو کچھ لینا دینا نہیں ۔ دنیا آپ کے عمل کو دیکھے گی آپ کے بلند و بانگ دعووں اور زعم باطل سے کچھ نہیں ۔ایک بات اور جو قابل توجہ ہے کہ اگر کوئی کسی زعم میں ہے ،اس میں کچھ خوبیاں ہیں تو اس کے زعم کو نظر انداز بھی کیا جاسکتا ہے ۔ اس کے برعکس کسی میں کوئی خوبی ،کوئی اچھائی نہیں ہو، صرف اپنی آبادی کی بنیاد پر جھوٹے دعووں پر دنیا کوئی توجہ نہیں دیتی یا کہہ دینے سے کہ آپ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں جبکہ حالت یہ ہو کہ یہاں کوئی آپ کو آئینہ دکھانے کی کوشش کرے تو آپ اسے بدنام کریں اس کی تکذیب کریں اور اس کو ملک دشمن قرار دیں یعنی آپ کی حب الوطنی کا معیار آپ کے خیالات سے ہم آہنگ ہونا طے پایا ہے ۔بھلا ایسی صورت میں ملک کی ترقی کیوں کر ممکن ہے ؟سارے آزاد ماہر معاشیات کا کہنا ہے کہ پردھان سیوک کے احمقانہ فیصلوں سے ملکی معیشت کو جو چوٹ پہنچی ہے اس کی تلافی اگلی کئی دہائیوں تک میں ممکن نہیں ہے ۔ لیکن حکومت اور ان کے بھکت اس بات کو ماننے کو راضی ہی نہیں ۔اس پر مرے پر سو درے کے مصداق یوگی جیسے لوگوں کی حکومت میں مزید بیروزگاری میں اضافہ ملکی معیشت کی کمر توڑنے کیلئے ہی کافی ہے ۔وعدہ تو دو کروڑ روزگار پیدا کرنے کا تھا لیکن اناڑی پن اور وعدوں کے پورا کرنے کی جوابدہی سے بچنے کیلئے ایسی پالیسی اپنائی جارہی ہے جس سے وہ دوکروڑ تو روزگار کیا ملے گا مزید کروڑوں لوگوں کے بے روزگار ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے ۔چھوٹے تاجر وں کا دھندا ختم ہو رہا ہے ۔ جو اس ملک میں روزگار مہیا کرانے اور معیشت کو مہمیز دینے میں سب سے زیادہ حصہ دار ہیں ۔ایم اعداد شمار کے مطابق یہ لوگ ملک میں روزگار مہیا کرانے نوے فیصدی سے زائد کے شراکت دار ہیں۔اسی طرح جی ڈی پی میں وہ سب سے آگے ہیں ۔
مودی حکومت ہی ملک کیلئے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھی کہ اس نے ایک اور خوفناک فیصلہ لے لیا کہ اتر پردیش میں یوگی کو سربراہ بنادیا ۔اس طرح کے فیصلوں اور ان کے کام کرنے کے طریقوں سے ملک میں چھوٹے روزگار ختم ہوتے جائیں گے ۔بے روزگاری میں اضافہ ہوتا جائے گا ۔کسانوں کی خود کشی کے تناسب میں اضافہ ہونا بھی طے ہے ۔اس سے افراتفری اور بے چینی میں اضافہ ہوگا ۔جب لوگوں کے پاس روزگار نہیں ہوں گے اور ان کے پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے انہیں اناج مہیا نہیں ہوگا تو اس کیلئے لوٹ مار میں اضافہ ہوگا ۔ایک اور بات جو قابل غور ہے کہ بی جے پی جس طرح اپنے پیر پسا رہی ہے اور بیشتر ریاستوں میں اس کی حکومت بنتی جارہی ہے اور اس کیلئے اس نے جس طرح کھلے عام منافرت کو فروغ دینا شروع کیا ہے اس سے شروع میں جہاں اقلیتوں کے تئیں منافرت میں اضافہ ہو گا اور یہ خانہ جنگی کی جانب ملک کو دھکیل دے گا وہیں علاقائی اور لسانی دوریوں میں بھی اضافہ ہوگا ۔یہ سب کچھ اسی طرح چلتا رہا تو اس سے آگے ریاستوں کی علیحدگی کی بات بھی آسکتی ہے ۔حالانکہ بی جے پی نے ابھی تک غیر بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں راست مداخلت سے پرہیز کیا ہے ۔یہ کام کانگریس نے اپنے دور حکومت میں خوب کیا ریاستی حکومتوں کو برخواست کرنے کا کام اس کے دور حکومت میں ہوا ۔کشمیر میں بھی کسی حکومت کو کانگریس نے مستحکم نہیں ہونے دیا ۔ لیکن بی جے پی دوسرے راستوں سے ریاستوں میں مداخلت کررہی ہے ۔اس میں ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جن ریاستوں میں اسے عوامی مینڈیٹ نہیں ملا وہاں بھی اس نے سازش کرکے حکومت بنالی یہ بھی اسی کا ایک حصہ ہے ۔ابھی تک تو وطن عزیز کی ریاستی یکجہتی کو پاکستان اور مسلمانوں کو ایک مشترکہ دشمن کے طور پر پیش کرکے قائم رکھا گیا ہے۔یہ کام کانگریس بھی کرتی رہی ہے اور اب بی جے پی بھی انہی راہوں کی مسافر ہے ۔ حالانکہ نہ تو مسلمان اس ملک کے دشمن ہیں اور نا ہی ہندوستان جیسے بڑے ملک کیلئے پاکستان کوئی چیلنج کی صورت رکھتا ہے ۔ جبکہ چین کو نظر انداز کردیا گیا جو کہ ملک کیلئے حقیقی خطرہ ہے۔چین کا خطرہ ثابت شدہ بھی ہے اور آئے دن اس کی در اندازی اس کے عزائم کو سمجھانے کیلئے کافی ہے ۔جبکہ پاکستان کی ہندوستان میں در اندازی یا پراکسی وار محض اسے پریشان کرنے یا الجھانے کے سوا کچھ نہیں لیکن چین کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہے وہ ہندوستان کو الجھانے یا پریشان کرنے کیلئے در اندازی نہیں کرتا بلکہ وہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ جب چاہے اپنی مطلوبہ ریاست ہندوستان سے چھین لے گا ۔اس کے باوجود ہمارے ارباب اقتدار نے مسلم دشمنی میں کبھی اس جانب توجہ نہیں کی ان کے سامنے ہمیشہ پاکستان ہی رہا ۔اگر چین کو سامنے رکھ کر ہندوستان نے دفاعی اور معاشی میدان میں کوشش کی ہوتی تو آج چین کی جرات نہ ہوتی کہ وہ ہمیں آنکھیں دکھائے اور ہماری اوقات بتائے۔دیکھنا یہ ہے کہ اکثریت کو متحد رکھنے کے مقصد سے مسلمانوں اور پاکستان کے ساتھ دشمن نمبر ون کی صورت کب تک برقرار رکھی جاتی ہے ؟

عوامی رائے کا قتل!

جلال الدین اسلم، نئی دہلی
موبائل نمبر: 09868360472

جمہوریت اظہار رائے کی آزادی کا نام ہے۔ پوری دنیا میں جو انتہائی پسندیدہ نظام ہے اسے رائے کی آزادی کے حوالے سے جمہوریت ہی کہا جاتا ہے۔ جمہوریت سے محروم ملک ہر میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارا ملک اس نعمت سے مالا مال ہے۔ 1947 سے اب تک جمہوری حکومتیں قائم ہوتی رہی ہیں، ہمارا آئین او رہماری عدلیہ سیکولر بنیادوں پر قائم ہیں۔ ہر الیکشن کے بعد کامیاب ہونے والے افراد ہوں یا سیاسی جماعتیں، سبھی اپنے سیکولر آئین پر حلف لیتی ہیں۔ ہمارے آئین نے جن بنیادی حقوق کی ضمانت دی ہے ان میں اظہار خیال کی آزادی کے حق میں یا اس کے حق کو بلاخوف تردید غیر معمولی اہمیت کا حامل اور فرد و ریاست کے باہمی تعلقات کی میزان قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کی بھی کچھ حدیں ہیں، کچھ بندشیں ہیں جنہیں کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ جس آئین میں آزادی اظہار رائے اور تحریر و تقریر کی آزادی دی گئی ہے اسی میں ریاست کی سلامتی، امن عامہ و اخلاقیات، توہین عدالت جیسے عنوانات کے تحت اس کے گرد ایک ایسا حصار بھی قائم کردیا گیا ہے جس کے احترام کی صورت میں ہی یہ آزادی عملاً بامعنیٰ بن سکتی ہے اور ریاست کے ساتھ ٹکرائو سے بھی بچا جاسکتا ہے۔ معاملہ اگر مذہبی عقائد کا، مذہبی شخصیتوں اور مذہبی روایات کا ہو تو یہ بات اور بھی ضروری ہوجاتی ہے کہ احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پا ئے۔ صحت مند تنقید اور اشتعال انگیز تنقیص کے فرق کو نظر انداز نہ کیا جائے اور زبان و بیان دونوں ہی کے معاملے میں اس بات کا خاص طور پر خیال رکھا جائے کہ شہریوں کے کسی بھی گروہ، فرقے یا طبقے کے جذبات و احساسات مجروح نہ ہوں۔ یہی ہونا چاہیے مگر افسوس کہ کچھ لوگ جان بوجھ کر زبان و قلم کے ذریعے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی رِدا کو تار تار کردینے اور فضا کو نفرت کے انگاروں سے بھر دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں اس سے کوئی  غرض نہیں کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں، کر رہے ہیں ملک و سماج پر، لوگوں کی سوچ پر اس کے کتنے مضر اور منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
اسی طرح انتخابات کے موقعوں پر جو لوگ اظہار رائے کا احترم نہیں کرتے وہ گھاٹے کا سودا کرتے ہیں کیونکہ حقوق پر ڈاکے کی بدترین شکل بھی ہے کہ لوگوں کی زباں بندی کردی جائے یا ان کی رائے کو پس پشت ڈال دیا جائے۔ مصنوعی طریقوں اور جعل سازی کے بل پر حاصل کیا گیا اقتدار ریت کی بودی دیوار کی مانند ہوتا ہے جو ہوا کا ایک تیز جھونکا بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ جیسا کہ ماضی میں ملک کے عوام نے اندرا گاندھی کے دور حکومت میں دیکھا تھا کہ انتخابی دھاندلی کے نتیجے میں انہیں ایک دن کی جیل یاترا بھی کرنی پڑی تھی۔ ہمارے سیکولر ملک کی اور سیکولر آئین کی یہ زریں مثال ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے سیاست دانوں کو تاریخ سے سبق لینے کی توفیق کم ہی ہوتی ہے۔
پچھلے انتخابات کی طرح ہی اس بار بھی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی ناقابل یقین کامیابی پر تمام سیکولر پارٹیاں شکوک و شبہات کا اظہار بھی کر رہی ہیں او راس کے خلاف عدالتی چارہ جوئی بھی کر رہی ہیں اور عدالت عظمیٰ نے ان کی درخواست پر الیکشن کمیشن کو نوٹس بھی دے دیا ہے۔ کتنی حقیقت کتنا فسانہ ہے یہ آنے والے وقتوں میں ظاہر ہوجائے گا۔ ہاں اگر ہاری ہوئی پارٹیوں کے دعوے میں سچائی ثابت ہوگئی تو یہ ملک کے آئین اور سیکولرزم کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہوگی۔ اس لیے بھی کہ اس وقت جو لوگ ملک کے اقتدار پر قابض ہیں وہ سیکولرزم کے برعکس اپنا مخصوص نظریہ رکھتے ہیں جو کسی بھی حال میں اقتدار سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ایسے حالات میں سیکولر آئین اور عوام کی حق را ئے دہی دونوں کی روح مجروح ہوگی۔
آج ہمارے جو لوگ عوام کی رائے کا جائزہ لینے کے لیے الیکشن کا کھیل کھیلتے ہیں وہ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ایسے انتخابات جن میں جعلی ووٹنگ، دھاندلی اور جبر سے نتائج کی تبدیلی کے ذریعے عوام کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کیا جاتا ہے کیا ان کا یہ عمل کسی سیکولر ملک کے لیے مفید ہے؟
کروڑوں روپوں کا خرچ، قوم کا وقت، صلاحیتیں اور سرمایہ ضائع کرکے اگر اپنی مرضی کے مطابق ہی نتائج حاصل کرنا مقصود ہے تو پھر انتخابی ڈرامہ رچانے کی ایسی کیا مصیبت پڑتی ہے اور قوم کی مایوسیوں میں مزید اضافہ کی ضرورت کیا ہے؟ برسوں سے عوام بھی تماشہ دیکھتے چلے آرہے ہیں۔ ان کے بھاری مینڈیٹ کو پیروں تلے روندا جاتا رہا ہے اور اقتدار پر قبضہ کے لیے نت نئے حربے استعمال ہوتے رہتے ہیں اور ایسے غاصبانہ حکومتوں کے دور میں عوام مصائب و مشکلات کے پہاڑ تلے دبتے رہے ہیں۔ عوام کو طرح طرح کے مسائل اور دال روٹی کے چکر میں تو کبھی مندر/ مسجد کے قضیے میں بری طرح الجھا دیا گیا۔ حالات اتنے سنگین ہوتے گئے کہ عوام کی قوت مدافعت کمزور سے کمزور ہوتی گئی۔
اس طرح ہر الیکشن اب عوام کے لیے راحت کے بجائے عذاب بنتا جارہا ہے۔ اکثر خبریں سننے میں آتی رہی ہیں کہ فلاں حلقے میں دھونس، دھمکی اور اسلحہ کی بنیاد پر عوام سے ووٹ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس طرح عوام کو بے بس کردیا جاتا ہے کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں کو اپنا ووٹ دینے پر مجبو رہوجاتے ہیں۔ ای وی ایم مشینو ںسے چھیڑ چھاڑ کی شکایت بھی اسی زمرے میں آتی ہے۔
الیکشن کے موقع پر ہمارے میڈیا کی بھاری ذمہ داری ہو تی ہے کہ وہ حقائق کو سامنے پیش کرتا رہے لیکن یہ بھی بعض حالات میں اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرپاتا۔ کہیں لالچ تو کہیں دھمکی کے سامنے یہ بھی خود کو بے بس پاتا ہے جس کی وجہ سے سیاست دانوں کے پیدا کردہ اس مصنوعی کھیل کے اصل حقائق کو یہ پیش کرنے سے بھی معذور ہیں۔ یوں تو سوشل میڈیا وغیرہ اب اتنے آگے ہیں کہ کوئی بھی چیز اس دور میں چھپ نہیں سکتی لیکن بہت سی وجوہات ایسی ہیں جن کی وجہ سے ان لوگوں کو دن کو بھی رات ہی کہنا پڑتا ہے۔ اس طرح ہمارا میڈیا بھی سیاست دانوں کی طرح ہر الیکشن کو ’صاف و شفاف‘ کہنے پر مجبور ہے۔
غور کرنے کی بات تو یہ ہے کہ یہ تمام عمل سیکولرزم کے نام پر ہو رہے ہیں، جہاں عوامی رائے کا قتل سرے عام، جہاں پریذائڈنگ افسر رائے دہندگان کی انتخابی پرچی چھین کر خود حق رائے دہی انجام دیتا ہے اور جب کوئی اس طرح کی حرکت کرتے پکڑا جاتا ہے تو ذمہ داران اپنی آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ یوں تو الیکشن کمیشن کا بھرپور عملہ بھی ہوتا ہے لیکن وہ بھی سیاست دانوں کی طرح ہی یہ کہنے پر مجبور ہوتا ہے کہ الیکشن صاف و ستھرا اور شفاش ہوئے ہیں۔ مگر وہ کہاں ہیں الیکشن کمیشن جو دیگ کا ایک دانہ دیکھ کر بتا دیتا ہے کہ دیگ کچی ہے یا پکی؟
موجودہ حالات ملک کے سیکولر کردار کے لیے انتہائی سنگین ہیں۔ اگر اس صور تحال پر قابو نہیں پایا گیا تو عین ممکن ہے لوگوں کا ہمارے الیکشنی عمل سے بھروسہ ہی ختم ہوجائے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ ملک کے لیے قوم کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ خاص طور سے ملک کی اقلیتوں کے لیے جان لیوا مسائل جنم لینے لگیں گے۔ ہندوستان میں ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمان ہیں۔ انہیں شکایت ہے کہ ان کے دکھوں کے مداوا اور حالات کو بہتر بنانے کے لیے معقول و مناسب قدم اٹھانے کے وعدے کو انتہائی فراخ دلی کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔ خاص کر انتخابات کے موسم میں۔ لیکن رات گئی بات گئی کے مصداق چنائو کے بعد سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے۔ وعدوں کی کشت زاویے حسی کی آگ برساتی ہوائوں میں جھلس کر رہ جاتی ہے تو امیدوں، آرزوئوں اور تمنائوں کی نرم رو آب جو وعدہ فراموشی، طوطا چشمی اور بے ضمیری کے ریگ زاروں میں سر پٹک پٹک کر دم توڑ دیتی ہے۔
انتخابات ہی ملک کے غریبوں، مظلوموں اور اقلیتو ںکے دکھوں کا مداوا ہیں بشرطیکہ ان کے حق رائے دہی کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ ناانصافی حق تلفی کے نتیجے میں ہی آج انتخابی نتائج شکوک و شبہات کو جنم دے رہے ہیں اور جو ملک کے سیکولر آئین و قانون کے لیے بھی اور جمہوری قدروں کے مستقبل کے تئیں بھی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جو لوگ یا جو سیاسی پارٹیاں سیکولر ہونے کا دم بھرتی ہیں وہ خود کو اور ملک کے سیکولر کردار کو بچانے کے لیے صدق دل سے کوئی مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت بر نہیں آتی۔

مشاورت ،اجتماعیت،مشارکت



دوٹوک..................................قاسم سید

اترپردیش میں بی جے پی کابرسراقتدار آنا اوریوگی آدتیہ ناتھ کا وزیراعلیٰ بننا سیاسی عمل کا روایتی حصہ ہے اس کے مستقبل کی قومی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے اور پوت کے پائوں پالنے میں نظرآنے لگے ہیں۔ اب بی جے پی کے پاس قانونی وآئینی اختیارات والے دو یوگی ہوگئے۔ ایک کے ہاتھ میں پورے ملک کی قیادت ہے تو دوسرا ملک کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ ممبرپارلیمنٹ دینے والی ریاست کی باگ ڈور سنبھال رہا ہے ۔ دونوں کرم یوگی ہیں اور زمین سے جڑے لیڈر ہیں ۔ سخت تپسیا اور زبردست جدوجہد کے بعد یہاں تک پہنچے ہیں۔ دونوں سخت گیرہندوتو کے علمبردار ہیں ۔ آر ایس ایس کے تربیت یافتہ ہیں جس کا قیام 1925 میں ہوا جب ملک جنگ آزادی کی لڑائی میں مصروف تھا۔ آر ایس ایس نےاپنے نظریات وفلسفہ کو چھپاکر نہیں رکھا ۔ اس پر شرمندگی یا تاسف کااظہار نہیں کیا بلکہ خاموشی کے ساتھ سماجی زندگی کے ہر شعبہ میں سرگرمیاںانجام دیتا رہاہے اور آج لاکھوں رضا کار وں پر مشتمل فوج پوری توانائی کے ساتھ ہندوستانی سیاست کی شہ رگ پر قابض ہے اورکوئی بھی پتہ اس کی اجازت کے بغیر نہیں ہلتا۔وزرائے اعلیٰ اور کابینہ کے انتخاب میں اس کا مکمل عمل دخل ہے حتیٰ کہ سرکار کے ساتھ تال میل کے لیے رابطہ کمیٹی ہے۔ اس نے یہ مقام گھر بیٹھے حاصل نہیںکیابلاشبہ اس کے کارکنوں اور رضاکاروں نے بے پناہ قربانیاں دیں۔ شادیاںنہیں کیں،مجردرہنا گوار کیا اور تن من دھن سے نظریاتی آبیاری میں لگے اور 1925میں لگایاپوداتناور درخت میں تبدیل ہوگیا اور وہ منزل وہ ہدف جو کبھی دیوانے کا خواب لگتا تھا آج حقیقت بنتا نظر آرہا ہے۔ یعنی ہندو راشٹر کا قیام یا کم از کم ہندوتو کے مطابق ملک کی سیاست کو چلانے کی باتیں اب گالیاں نہیں سمجھی جاتیں اور نہ ہی کسی میں گلا پکڑنے کی ہمت ہے بلکہ جو پارٹیاں خود کو سیکولر کہلاتی ہیں وہ بھی’ سجدہ ‘سہو کرنے کے لیے تیارہیںاور اقلیت نوازسیاست کو خیرباد کہنے میں ہی عافیت سمجھ رہی ہیں جیساکہ کانگریس کی صفوں سے رہ رہ کر ایسی آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔ اگرآنے والے وقت میں اقلیتوں کے لیے نشستیں مخصوص کردی جائیں ،ان کے انتخاب میں حصہ لینے اور ووٹنگ پر پابندی لگادی جائے تو کسی کو تعجب نہیں ہوگا کیونکہ آرایس ایس کے نظریہ سازوں کے احکامات وفرامین یہی ہیں ملک کی سیاست جس طرح کروٹیں بدل رہی ہے اور ہم نان وقلیہ کی حدوں سے باہر آنے پرآمادہ نہیں ہیں اس میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔ میٹ کاروبار کے خلاف اچانک جس طرح کے اندیشوں نے جکڑلیا ہے کیا اتنی سختی اور مستعدی کے بارے میں تصور بھی تھا ۔ گئورکشکوں کے ہاتھوں سرعام جس شقاوت قلبی اور درندگی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے کیا ایسے واقعات اب عام نہیں ہوتے جارہے ہیں ۔ وزیراعظم کی سخت تنبیہ اور گئورکشکوں کی اکثریت کو سماج دشمن غنڈوں سے تشبیہ دینے اور ان پرکارروائی کی ہدایت کے باوجود ریاستی حکومتوں نے تحفظ فراہم کیا اور ان کی قانون شکن حرکتوں کا دفاع کیاجارہاہے ۔ کچھ عرصہ قبل ایسا سوچا جاسکتا تھا۔ اخلاق کے بہیمانہ قتل پر سول سوسائٹی ہی نہیں اپوزیشن نے بھی سخت احتجاج کیا اب پہلوخان کے گائے کے نام پر سرعام بے رحمانہ قتل پر اتنی آوازیں اٹھیں شاید نہیں! یہ بے حسی نہیں احتیاط ہے یہ صبروتحمل نہیں مصلحت پسندی ہے۔ یہ بزدلی نہیں حالات سے سمجھوتہ ہے۔ سیکولر کہی جانے والی پارٹیوں نے پہلے ہی ہتھیار ڈال دیے ہیں ان میںکئی پارٹیاں یہ مان چکی ہیں کہ عوام مودی سرکار کو ایک اور موقع دیں گے اس لیے زیادہ ہاتھ پیر چلانے کی ضرورت نہیں۔
2025میں آر ایس ایس اپنے قیام کا سوسالہ جشن منائے گا اس کا ہدف ہندو راشٹر کی تعمیر ہے اگر 2019 میں مرکز اور 2022میں اترپردیش پر اس کاقبضہ برقرار رہتا ہے تو 2025تک یہ اعلان شدہ ہندوتو راشٹر بن جائے گا غیر اعلان شدہ تو کانگریس کے دوراقتدار سے ہی ہے اور اب سب کچھ ہاتھ میں ہے یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے دوردرشن کے دیے گئےحالیہ انٹرویو میں بے باکی سے کہا ہے کہ وہ یہ بات صفائی سے کہناچاہتے ہیں کہ ہندو تو راشٹر کا تصور غلط نہیںہے اور ہندوتو اس کا راستہ ہے جس کی وکالت سپریم کورٹ نے کی ہے ۔  شاید ہی کسی آئینی عہدہ پر بیٹھے شخص نے اتنی جرأت کے ساتھ ہندوراشٹر کے خواب کاتذکرہ کیاہو اور سیکولر ملک نے اس کا کوئی نوٹس نہیںلیا ۔ اس سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ غیر قانونی ذبیحہ خانوں پر تالہ بندی اوراینٹی رومیواسکواڈ کے قیام کو
اولین ترجیحات میں کیوں شامل کیاگیا۔ کیوں میڈیا کا رویہ اورطریقہ بدل گیا۔ کیوں یوگی کو آسمانی مخلوق قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے کیوں ایسے اقدامات جن پر الٰہ آباد ہائی کورٹ میں سوال اٹھتارہا ہے سماجی منظوری کا درجہ حاصل کررہے ہیں کیوں گائے کے تقدس اور سنسکرتی کے تحفظ کو انقلابی اقدامات کہہ کر سندقبولیت عطا کی جارہی ہے اسکولوں میں یوگ کی تعلیم کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ واہ واہی لوٹ رہا ہے ۔ دراصل ہندوگوروکے لبادہ میں ہر وہ قدم دادوتحسین کے ساتھ قبول کیاجائے گا جس کو مہذب سماج عام صور ت میں قبول نہیں کرسکتا ۔ دراصل سیکولر پارٹیوں کا رویہ شروع سے ہی منافقانہ وعیارانہ تھا البتہ سول سوسائٹی دل سے سیکولر اقدار کے لیے قربانیاں دیتی رہی ہے اور یہی سول سوسائٹی ہے جو اکثریتی فاشزم سے لوہا لے رہی ہے اور حکومت کے خاص نشانہ پر ہے۔ یوگی کاہندو راشٹر سے متعلق بیان ان کے عزائم ارادوں اور طریقہ کار کو سمجھنے میں معاون ہے اور ان کے حالیہ اقدامات کی توجیہہ تلاش کرنے میں مدد کرنے والا ہے ۔ ہمیں نہیںپتہ کہ سیکولر پارٹیاں سول سوسائٹی اور مسلم قیادت اسے کس زاویہ سے دیکھناچاہے گی۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی یہ سمجھنے کے لیے تیار ہیں کہ آنے والا وقت خطروں اور چیلنجوں سے بھرا ہے اگر ایسانہیں ہے تو پھر کوئی مسئلہ نہیںہے۔راوی عیش لکھے گا ۔ اگر ہمیں لگتا ہے کہ حالات لگاتار غیر موافق ہوتے جارہے ہیں اور راہیں دشوار تو پھر اس پر غور کرناپڑے گا کہ کرناکیا چاہئے۔
جہاں تک مسلم قیادت کا تعلق ہے اس پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے پہلے جب بھی کوئی آزمائشی لمحہ آتا تو سارے زعماایک ساتھ بیٹھ کر سرجوڑ کر اس کا حل نکال لیتے تھے۔ کوئی کسی کے گھر جانے میں تکلف نہیں برتتاتھا اور نہ ہی ذاتی تحفظات کی دیوار یں اتنی اونچی تھیں کہ آواز بھی سنائی نہ دے ۔ قدم قدم پر مسلمانوں کو حوصلہ دیتے ہمت بندھاتے ضرورت ہوتی تو ملک گیر دورے کرتے اور اتحاد کا احساس کرانے بدقسمتی سے رشتوں میں خیرسگالی اور مواخاۃ کا تصور کمزور ہوتا گیا ہے اور اب حالت یہ ہے کہ سب اپنے خول میں بند ہوگئے۔ اپنی مسجد اپنی اذاں نے اجتماعیت  کے تصور کو زخمی کردیا،حیرت ہوتی ہے کہ قرآن وحدیث کا سوتے جاگتے ورد کرنے والے بھی اسلام کے تصور اجتماعیت کوکتابوں سے باہر نہیں آنے دیتے ۔ بہرحال باہمی مشاورت سے بہتر اورکوئی راستہ نہیں ہے ۔ جماعتی دائروں اور ذاتی تحفظات سے بالاتر ہوکر ایک جگہ مل بیٹھنے میں ہی فلاح ہے۔ اشتراک عمل کی گنجائش نکالی جائیں اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ،مشترکہ لائحہ عمل بنایاجائے ۔ مسلم مجلس مشاورت اور مسلم پرسنل لا بورڈ جیسے اجتماعی اداروں کی ذمہ داری زیادہ ہے ۔ ہمیں ان پر اعتماد کرناہوگا۔ مسلم قیادت اور عام مسلمان میں عدم اعتماد کی خلیج بڑھتی جارہی ہے کیونکہ دونوں میں باہم کوئی رابطہ نہیں ۔ وہیں سرکار وںکے ساتھ اپنے رویہ پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے فائدے اور نقصانات کی وضاحت کی جائے ۔ کیامودی سرکار کی طرح یوگی سرکار سے بھی ڈائیلاگ کا دروازہ بند رہے گا ۔ ان کے دعوت دینے کا انتظار کیا جائے گا کیونکہ یہ موقف کلی طور پر ناقابل فہم ہے کہ آپ اپنے ملک کی سرکاروں سے رابطوں کی تمام زنجیروں کو کاٹ دیں اور اجنبی کی طرح ملک میں رہنے پر مجبور کئے جائیں۔ موجودہ حالات میں اشتراک عمل اور مسائل پر سرکار وں سے ڈائیلاگ کے علاوہ او رکوئی راہ عمل ہو تو براہ کرم اس سے آگاہ کیاجائے ۔ عنداللہ ماجور ہوںگے ۔

ملاکی اذاں اورہے


دوٹوک.......................................................قاسم سید

اترپردیش انتخابات کے نتائج نے بہت کچھ بدل کررکھ دیا ۔ ہمارا یقین یہ ہے کہ جب بھی کوئی بڑی افتاد آتی ہے،قدرتی آفت کاشکار ہوتے ہیں تودراصل یہ ہماری بداعمالیوں کا نتیجہ ہوتا ہے جب مرکز میں مودی سرکار نےاقتدار سنبھالا تو بھی اسے بداعمالیوں کانتیجہ سمجھا گیا ۔اس کے ڈھائی سال بعد یوپی کے الیکشن ہوئے اور بی جے پی غیرمتوقع طورپرفاتح بن کر ابھری اس پر مستزادیوگی آدتیہ ناتھ کو باگ ڈور سونپی گئی تو اس کو بداعمالیوں کا ثمر بتایاگیا۔ اس کا دوسرامطلب یہ نکلتا ہے کہ ڈھائی سال کے وقفہ میں بداعمالیوں کا سنگین سلسلہ جاری رہا اور ان سے دور رہنے اور توبہ واستغفار کی توفیق نہیں ملی اور آئندہ جو بھی بھیانک افتاد آئے گی وہ بھی سوفیصد بداعمالیوں کاہی نتیجہ ہوگا یعنی ہمیں اپنی بداعمالیوں پر اصرار ہے اور رہے گا۔ اپنا عمل بدلنے کی کوشش نہیں کریں گےاور تقدیر کابہانہ بناکر عمل کی زحمت سے فارغ کرتے رہیں گے۔ رویوں میں موجود ضد ،ہٹ دھرمی ،جارحیت ،سفاکیت اور کٹرپن ہرموقع پراپنی بے رحمانہ جبلت کااظہارکرتا رہتا ہے ، حالات کی سنگینی کو سمجھنے اور اس کے مطابق حکمت عملی اختیار کرنے کی تکلیف گواراکرنے کا وقت شاید ابھی نہیں آیا ہے۔ گرمی گفتار کے ساتھ سردی کردار نے کسی لائق نہیں چھوڑا کروٹ بدل کر پھرخراٹے لینے کی عادت چھوڑنے کے لئے قطعی تیارنہیں ۔ صرف قنوت نازلہ پڑھنے اور دافع شردعائوں کاورد کرنے سے مصائب وآلام کے کارواںگزر جاتے تو اس کی سب سے زیادہ مستحق ذات گرامی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی ( ہمارا سب کچھ آپؐ پر قربان ہو)۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ شعب ابی طالب سے لے کر فتح مکہ تک آپ ؐ کی زندگی کا ہر پہلو عمل سے عبارت ہے اور اصولی موقف پر جمے رہنے کا اظہار ہے ۔ پائے مقدس کے جوتے شہدوں کی سنگ باری سے خون سے بھرگئے مگر آپؐکی زبان مبارک سے کلمہ اُف تک نہیں نکلا اورناہی ناپاک کام کرنے والوں کے لئے بددعاکی  دین کاپیغا م پہنچانے میں بے پناہ صعوبتیں برداشت کیں حتیٰ کہ وطن سے نکال دیاگیا۔پہلی لڑائی ہوئی تو تمام وسائل جمع کرکے میدان جنگ میں لے آئے پھر دست دعا درازکئے اور سب کچھ خدا کے حوالے کردیا ہے ۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں جو ہمارے بے حسی پرمبنی رویہ کو شرمسار کرسکتی ہیں لیکن سبق لینے کے لیے تیار نہیں ہیں ہمارا رویہ خود اپنوں کے ساتھ کیسا شفقت بھرا اور مواخاۃ کا ہے،اس پر روشنی ڈالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اپنی ہر غلطی کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دینا اور ہرمعاملہ میں سازش کے پہلوتلاش کرناغلامانہ زندگی کے بنیادی او صاف ہیں۔ اللہ کے درکے علاوہ ہر چوکھٹ پر حاضری اورسجدہ ریزی کا جنون بھرا شوق کہاں لے کر جائےگا کہنامشکل ہے۔
قوموں کی زندگی دھوپ چھائوں کی طرح ہے۔ ہر عروج کو زوال ہے اور زوال کو عروج یہ قانون قدرت ہے مگر اس کی کچھ شرائط ہیں سربلندی غیر مشروط نہیں۔ اس کے لیے زبردست محنت اور قربانی دینی پڑتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے کسی قوم سے مخصوص معاہدہ نہیں کیاہے ،وہ اسی کو اقتدار و طاقت کی کرسی سونپے گاجو ملت اس کے تقاضوں کو پورا کرے گی، اس کی شرائط کو مانے گی ۔جب بغداد میں بداعمالیوں کا گھڑا بھر گیا علما کی خانہ جنگی اور فروعی فقہی مسائل پرایک دوسرے کا سرتوڑنے اور مناظرہ بازی حد سے آگے بڑھ گئی ، عام آبادی ہر طرح کے فسق وفجور میں مبتلا ہوگئی تو اللہ نے بغداد کا دھاراموڑدیا۔ چنگیز خاں کی اولادکے ہاتھوں جو مارے گئے وہ سب کلمہ گو تھے ۔ جن کے سرکاٹ کر میناربنائے گئے فرزندان توحید کے ہی سرتھے جس خلیفہ کو نمدےمیں لپیٹ کر ہاتھی کے پائوں تلے کچلاگیاوہ خلیفہ المسلمین کالقب اختیار کئے ہوئے تھا ۔پھر خداوند قدوس نے چنگیز خان کی اولاد سے ہی اپنے دین کا کام لے لیا جس کو اقبال نے کہاتھا :’’ پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانہ سے‘‘۔سرکاٹنے والے سروں کا تحفظ کرنے والے بن گئے۔ جو اللہ کی طے کردہ شرائط اورضوابط کو مانتاہے صدق دلی سے عہد کرتاہے اللہ تعالیٰ اس کا ہاتھ پکڑتا ہے سماج کے کمزور ترین طبقہ کو دنیاچلانے کے لیے منتخب کرلیتا ہے اور کریمی لیئر کے لوگ ان کے ماتحت بنادیا جاتے ہیں صرف انتم الاعلون یاد رکھنے سے کام نہیں چلتابلکہ ان کنتم مومنین کے تقاضوں اور مطالبوں پرعہد وپیما کرنےکے ساتھ عملی طورپر ثبوت دیناہوتاہے ۔ یہ معاہدہ نہ پہلے غیر مشروط تھا نہ آج ہے۔ جب ہزار سجدوں سے نجات پانے کے لیے گراں سمجھنے جانے والے ایک سجدہ کی عظمت کو نہیں سمجھاجائے گاوہ مدد جس کا وعدہ قرآن میں جگہ جگہ کیاگیا ہےآنے والی نہیں ہے۔ قدرت کا عذاب تو نوح کے بیٹے کوبھی نہیں بخشتا ۔ خدا کے ڈرکودل سے نکال کر مودی اور یوگی جیسےناموںکاڈراورخوف ان کو لرزا تارہے گا۔ نام بدلتے رہیں گے مگر خوف ودہشت کی نفسیات سے نجات نہیں ملنے والی۔
دراصل سیاسی طورپربے شعور بھیڑ کو مہذب بنانے اور اونچ نیچ بتانے والے ہی راستہ کھوبیٹھے ہیں ۔ ہم اپنے امراض کی تشخیص سے ڈرتے ہیں اس لیے کہ جب بھی ایماندارانہ تشخیص وذاتی  احتساب کریںگےتوورغلانے اور غلط کاموںپر اکسانے کاقصوروار صرف شیطان رجیم ہی نہیں ہوگا۔ ہماری خود غرضیاں، وقتی مفاد کے حصول کے لیے سب کچھ کر گزرنے کی ہوس اورخدائی احکامات سے دوری وبیزاری کابھی اعتراف کرنے پرمجبور ہوں گے ۔ وہیں اسے المیہ ہی کہاجائے گاکہ بھیڑوں کے چرواہوں نے شیر سے خفیہ مفاہمت کرلی۔ وہ ریوڑ کو ادھر سے ادھر ہانکتے رہے اور ہمارے اعتماد کا خون کرتے رہے جب چرواہے کی نیت میں فتورآجائے اور اپنی ذمہ داری میں کوتاہی برتنے لگے تو پھر بھیڑوں کی خیرنہیں رہتی ۔ یہ چرواہے قصائی کے ہاتھوں فروخت کرتے رہے اور بھیڑے احتجاج کی ہلکی سی منحنی آواز نکال کر خاموش ہوگئیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی رونے ،ٹسوئے بہانے ،ایک دوسرے کی غلطیاں بتانے ،ہر معاملہ میں سازش کاپہلو تلاشنے اور مشیت الٰہی کہہ کر پرانے ڈھرے پر چلتے رہیں گے یا اسی ملبہ میں سے تعمیر کا عزم لے کراٹھیں گے ۔ایسا پہلی بارنہیں ہواہے کہ اہل اسلام پرفکری ونظریاتی یلغار کے ساتھ ذاتی تشخص اور وجود کو بنانے کی کثیر پہلو حکمت عملی کے حصار میں خود کو گھراہوا محسوس کررہے ہوں۔بغداد سے لے کر اسپین تک اور خود ہندوستان میں انگریزوں کے عہدمیںکیاکچھ نہیں ہوا مگربفضل تعالیٰ ایسی نابغۂ روزگار شخصیات درمیان تھیں جن پراعتماد وبھروسہ تھا وہ جو کہتے تھے اس پر لبیک کہاجاتا ۔
 اس وقت بھی میر جعفر اور میر صادق کی طویل فہرست تھی معاشرہ کبھی یک رنگی نہیں رہااگر کلمہ حق کہنے والے ہیں تو اس کا رد کرنے والے بھی موجود رہے ہیںاگر ٹیپو سلطان اور سراج الدولہ ہیں تو میر صادق اور میر جعفر کے کردار بھی ہیں۔ گاندھی ہیں تو گوڈسے بھی ہیں خیر وشر کا معرکہ ہر دور میں رہا ہے۔ آدم کی تخلیق ہوئی تو شیطان بھی سامنے آگیا۔ کوئی بھی فوج صرف وسائل کی کمی کی وجہ سے نہیں ہارتی ،بارہاایسے مراحل نکلے ہیں جب چھوٹے گروہوںنے بڑے گروہوں پر غلبہ حاصل کیا ہے جس کی طرف قرآن نے بھی اشارہ کیا جنگ حوصلہ ہارنے سے خوف دہشت کے دلوں میں گھونسلا بنانے سے بازی جاتی ہے ۔ واویلا اور ہائے توبہ مچانے والے پہلے تو میدان میں جانے سے گریز کرتے ہیں اورپھر دبائو میں چلے بھی گئے تو عبداللہ ابن ابی کی طرح درمیان میں ہی اپنے حامیوں کے ساتھ واپس آجاتے ہیں۔ یہ عناصر مختلف ناموں سے ہرزمانہ میں موجود رہےہیں اور اس وقت تک چوہے کی طرح سماجی ڈھانچہ کو کترتے ہیں جب تک ان کی شناخت نہیںہوجاتی۔ ہمیںایسے عناصر سے ہمہ وقت الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔
اب تک ہم غلامان سیکولرزم کے طورپر اپنی خدمات پیش کرتے رہے ہیں نہ جانے کیوں سیکولرزم اپنی جاہ وحشمت اور بلاشرکت غیر نے اقتدار کے باوجود لگاتار کمزور ہوتا گیا اور ہندتو نظریہ پھلتا پھولتا رہا حتی کہ اب صدارتی کرسی کے لیے بھی نام سوچاجانے لگا۔ کیاایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم اپنے رویہ پرنظر ثانی کریں اور خدا کی غلامی کی طرف لوٹیں ہمیں تو نیکی پھیلانے اور برائیاں روکنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسانی آبادی سے منتخب کیاتھا تو کیااس فریضہ سے غفلت اور خداسے نافرمانی اس کے رسول ؐکے احکامات کو اپنی زندگی سے بے دخل کرنے کی سزاتو نہیں مل رہی ہے اور اگربداعمالیوں کا یہی مفہوم ہے تو اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف مراجعت کیوں نہیں ہوتی۔ دین کے نام پردنیابنانے اور اپنی سلطنت کو وسیع تر کرنے میں دن ورات مصروف یہ قبیلہ تک ادھر ادھر گلیوں میں گھومتا رہے گا نامرادیوں اور بدبختیوں کا سفرختم نہیں ہوگا ۔


ڈرناتوضروری ہے



 ممتاز میر 



یو پی کا دنگل ختم ہو گیا اور غیر متوقع طور پر بی جے پی تین چوتھائی اکثریت کے ساتھ اتر پردیش کی حکمراں قرار پائی ہے ۔دانشوروں کے تمام ہی اندازے زبردست فلاپ ثابت ہوئے ہیں ۔ہم خود بھی ان میں سے ایک ہیں مگر ہم دانشور نہیں ہمارے نزدیک تین چوتھائی اکثریت حاصل کرنا اتنا اہم نہیں جتنااہم یوگی آدیتیہ ناتھ کو وزیر اعلیٰ بنانا ہے یہ بڑی معنی خیز تقرری ہے۔اب اردو اخبارات میں جو تجزیے تبصرے شائع ہو رہے ہیں وہ قومی دانشوروں کی کھسیاہٹ کے شاہکار ہیں ۔ہر تبصرے تجزیے کا جو مرکزی خیال ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو خوف کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔اس قسم کے حالات امت مسلمہ پر اس سے پہلے بھی آتے رہے ہیں اور وہ ہر بار اس سے بخوبی نبرد آزما ہوئی ہے اور ابھری ہے ۔مگر کتنے عرصے میں ابھری ہے کیسے ابھری اور کہاں ابھری ہے یہ کوئی بتانے کو تیار نہیں؟تقریباً ہر دانشور صحافی مضمون نگار یہی راگ الاپ رہا ہے کہ قوم کو مایوس ہراساں یا خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ۔یہ انسانی نفسیات ہے کہ جب کوئی بڑا خوفزدہ ہوتا ہے تو وہ یہ ظاہر نہیں کرتا کہ وہ خوفزدہ ہو گیا ہے کیونکہ اس کا بڑا پن اس امر میں مانع ہوتا ہے کہ وہ اپنے خوف کا اظہار کرے مگر catharisis کے لئے خوف کا اظہار کرنا بھی ضروری ہوتا ہے اسلئے اپنے خوف کا اظہار چھوٹوں کا کمزوروں کا نام لے کر کیا جاتا ہے ۔حالانکہ یہ کمزوریہ غریب اس قسم کی باتوں کے عادی ہوتے ہیں کیونکہ کانگریس ہو یا بی جے پی یا بھارت کی اور کوئی سیاسی پارٹی ،ہر ایک کے ظلم کا نشانہ یہ عام لوگ ہی بنتے ہیں۔ابھی چند دنوں پہلے ایک اخبار میں ایک محترمہ کا مضمون پڑھا ان کی ابتدا ہی اس قسم کے اعلان پر مبنی تھی کہ میں تو بالکل نہیں ڈری۔پھر جو طویل مضمون تھا اس کے بین السطور میں ان کے لاشعور یا تحت الشعور میں بیٹھا خوف جھلک رہا تھا ۔ دوسرے صاحب ایک دوسرے اخبار میں اپنے مضمون میںیو پی کے انتخابی نتائج کا یوں مرثیہ پڑھتے ہیں۔جذباتی تقریریں،سوشل میڈیا پوسٹ ،قائدین کی بے محل اور بے فیض اپیلیں اور اردو میڈیا کے شور شرابے نے تقطیب معکوسcounter polarisation کا کام کیا اور درمیانی ووٹر بھی پلٹ کر بی جے پی کی جھولی میں چلے گئے۔ایک تیسرے صاحب اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ وزیر اعظم نے خود شمسان و قبرستان اور عید دیوالی کی بات کرکے ترقی کے ایجنڈے کو فرقہ پرستی کا تڑکا لگا دیا۔یہ بڑی سادہ لوحی ہے ۔اب تک وزیر اعظم نے اپنے آفس میں بیٹھ کر فسادی دستوں کی رہنمائی کی تھی ۔کسی نے ان کا کیا بگاڑ لیا ۔ہمیں لگتا ہے کہ اب وہ وقت آگیا ہے جب وہ سنگھ کے فسادی دستوں کی میدان میں نکل کر قیادت کریں گے۔
ایسے ہی اور بھی مضامین مختلف اخبارات میں نظر سے گزرے۔ان مضامین میں مسلمانوں کے ذہنوں میں موجود بہت سارے مفروضے دیکھنے کو ملتے ہیں۔مثلاً یہ مفروضہ کہ ۷۰سال پہلے ہمارے آئین کے معماروں نے جس سیکولرزم کی بات کی تھی وہ آج ۷۰ سال بعد بھی ہمارے ملک کی فضا میں کہیں موجود ہے ۔جبکہ ہم یہ سمجھتے ہیں ہمارے ملک کے آئین میں موجود سیکولرز م کو عملاً پوری سنجیدگی کے ساتھ ایک دن بھی برتا نہ جا سکا ۔خود ملک کے پہلے وزیر اعظم بھارتی سیکولرزم کے چمپیئن پنڈت جواہر لال نہرو نے پہلی آزمائش آتے ہی سیکولرزم کو طاق پر رکھ دیا تھا ورنہ بابری مسجد کا مسئلہ کھڑا نہ ہوتا ۔پھر یہ ایک مفروضہ ہے کہ کانگریس پارٹی سیکولر پارٹی ہے ۔اور ہمارے بھولے بھالے اسلاف کانگریس کو سیکولرزم کاٹھیکہ دے کراپنے فرائض سے آنکھیں موند لی تھیں۔ہمیں نہیں معلوم کانگریس نے اپنے سیکولر ہونے کا ثبوت کب دیا تھا ۔اگر ہٹلر انتخابات جیت کر جرمنی کا چانسلر بننے کے باوجود ڈکٹیٹر ہو سکتا ہے تو پھر کانگریس میں چند مفاد پرست مسلمانوں کے وجود کے باوجود اسے فرقہ پرست کیوں نہیں سمجھا جا سکتا جبکہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ۹۰ فی صدی مسائل کانگریس ہی کی دین ہیں۔
ایک اور مفروضہ ہے اور یہ مفروضہ بڑی گہری جڑیں رکھتا ہے یہ ہے کہ وطن عزیز میں امت مسلمہ نامی کوئی شئے پائی جاتی ہے۔جو کچھ بھی ہے وہ ایک منتشر بھیڑ ہے بلکہ مختلف گروہ کی بھیڑ ہے ۔کوئی اپنے آپ کو سنی کہتا ہے کوئی شیعہ۔ کوئی حنفی کہتا ہے کوئی شافعی۔کوئی اپنے آپ کومقلد کہتا ہے اور کوئی غیر مقلد ۔اس طرح ان کے سینکڑوں گروہ اور اور ہر ایک کے اپنے گروہی مفادات ہیں ۔ہمارے نزدیک اس بھیڑ کو سو سال پہلے امت مسلمہ کے منصب سے معزول کیا جا چکا ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ اب اللہ نے ان کی طرف سے نظریں پھیر لی ہیں۔اب نئی امت مسلمہ کہیں اور تیار ہو رہی ہے ۔جب معتدبہ تعداد ہو جائے گی اور وہ غزوہء بدر سے پہلے کے صحابہ کرام کی تمام آزمائشوں میں پورے اتر جائیں گے تو اللہ ان کی مدد کے لئے ’’گردوں سے فرشتے ‘‘اتارے گا اور وہ اسلام کی نشاۃالثانیہ کا کام کریں گے ۔اب ہم سے کچھ نہیں ہونے والا ۔ہم اپنی ضلالت میں جتنا آگے بڑھ چکے ہیں اس سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
آزادی سے کچھ پہلے مولانا مودودیؒ نے غالباًاپریل ۱۹۴۷میں جماعت اسلامی کے اجتماع میں ان لوگوں کو جوتقسیم وطن میں ہندوستان میں رہ جانے کے خواہشمند تھے ،کچھ ہدایات دی تھیں۔ان میں سے ایک ہدایت جو ارکان جماعت کے توسط سے تمام مسلمانوں کے لئے تھی وہ یہ کہ اب ہندوستان کے مسلمانوں کو اپنے آپ کو سیاسی کشمکش سے الگ کرلینا چاہئے اور من حیث القوم دعوت کا کام انجام دینا چاہئے ۔مگر مولانا کی اس بات پر عام مسلمان تو کیا بڑے بڑے علماو رہنماؤں نے توجہ نہ دی ۔اسلئے کبھی کبھی ہمارے دماغ میں یہ بات آتی ہے کہ علم دین کا ہونا ایک الگ بات ہے اور بصیرت کا ہونا دوسری بات ۔جو بصیرت مولانا مودودیؒ یا علامہ اقبالؒ کو حاصل تھی وہ ہمارے بڑے بڑے علماکرام کے یہاں مفقود تھی۔مولانا مودودیؒ کی مذکورہ بات پر غور و فکر تو کجاالٹا یہ کہہ کر ان کی کھلی اڑا ئی گئی کہ ’’بھارت ‘‘ میں ہمیں دستوری ضمانتیں اور آئینی تحفظات میسر ہونگے ۔اس لالی پاپ پر مولانا نے جواب دیتے ہوئے کہااگر آپ کی قوم طاقتور ہے تو اسے آئینی تحفظات اور دستوری ضمانتوں کی ضرورت نہیں اور اگر آپ کی قوم کمزور ہے تو اس سے اس کا کوئی بھلا ہونے والا نہیں۔یہ قدرت کی بڑی ستم ظریفی ہے کہ آج بھی ان علماء کے بے بصیرت چمچے مولانامودودیؒ کو مطعون کرنے سے نہیں چوکتے۔مگر خود ان علماء کرام کی اولاد کبھی کبھی اپنے مضامین میں خطبات میں مولانا مودودی ؒ کی باتوں کی توثیق کرتی ہیں کہ کرنے کا کام یہی تھا۔
ہم نے ۷۰ سال سیاسی کشمکش میں گزار دیئے اور ہر نیا دن ہمیں زوال کی ایک نئی صبح دکھاتا رہا ۔ہمارے دشمنوں نے ہمیں اپنے زوال کی گہرائی دکھانے کے مختلف مواقع پر مختلف کمیشن بٹھائے ،مگر ہمیں نہیں جاگنا تھا نہیں جاگے ۔پھر آخر میں سچر کمیشن بنا کر اس کی رپورٹ کو خوب خوب شہرت دی گئی اسلئے نہیں کہ ہم جاگ جائیں بلکہ اسلئے کہ ماضی کے حکمرانوں کو ذلیل کرنا تھا اور ہم نے ذلالت کی حد کردی۔ بجائے اس کے کہ ہم خود کوئی حکمت عملی بناتے ۔ہمارا خون گرم ہوتا اپنی بے عملی کی بنا پر جھنجلاتے،کڑھتے ۔ہم نے اپنی تمام امیدیں انھیں سے وابستہ رکھیں جنھوں نے ہمیں اس حال کو پہونچایا تھا ۔
دوسری طرف آر ایس ایس کو دیکھئے۔علامہ اقبال نے کہا تھا ۔مسلم آئین ہوا کافر تو ملے حور و قصور۔خود اللہ تعالیٰ کہتا ہے تم جس چیز کے لئے جد وجہد کروگے وہ تم کو ملے گی۔تم حلال چاہو گے حلال ملے گا حرام چاہوگے حرام ملے گا ۔آر ایس ایس ۱۹۲۵ سے اس بات کے لئے ’’جہاد ‘‘ کر رہی ہے کہ وہ اس ملک پر بلا شرکت غیرے حکمراں ہو جائے ۔نہ صرف مسلمان بلکہ ملک کے تمام غیر ہندوؤں کو غلام بنا کر رکھ دیا جائے اور اس جہاد میں انھوں نے ہر ممکن ذریعہ استعمال کیا اور آج وہ اپنی جدو جہد میں کامیاب ہیں ۔یہ اللہ کی سنت کے مطابق ہے۔اللہ صرف مسلمانوں کا تھوڑی ہے۔وہ تو سب کا خدا ہے ۔ہر شخص کو اس کی جد وجہد کے مطابق پھل عطا کرتا ہے۔مسلمان آیت کریمہ کا ورد کرتے رہتے ہیں ۔ویسا ان کو پھل ملتا ہے ۔آر ایس ایس نے جیسی اور جتنی جدو جہد کی ہے اس کے مطابق پھل مل رہا ہے ۔مسلمان اپنے حالات کے صد فی صد مستحق ہیں ۔اپنی خامیوں کا ،کوتاہیوں کا بدعملیوں کا یہ انجام انھیں ڈرائے گا ہی۔اور یہ بھی ظاہر ہے کہ بڑا ڈر بڑے لوگوں کو لگے گا۔وہ لاکھ انکار کریں حقیقت یہی ہے۔
ہمارے نزدیک کرنے کا کام آج بھی وہی ہے جو ۷۰؍۷۲ سال پہلے مولانا مودودی بتا گئے ہیں اس طرح کبھی نہ کبھی ملت منزل مقصود تک پہونچ ہی جائے گی ورنہ بصورت دیگر ممکن ہے کہ اسپین کی طرح یہاں سے بھی ہمارانام و نشان مٹ جائے۔وہ لوگ جنھیں مولانا مودودیؒ کے نام سے چڑ ہے ان کے لئے عرض ہے کہ یہ مولانا مودودیؒ کا خانہ ساز نظریہ نہیں ہے ۔حضور ﷺ نے فرمایا تھا ۔میری امت کی دوبارہ اصلاح میرے طریقے پر چل کر ہی ہو سکے گی ۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ فکر خود اس جماعت کے ذہن سے نکل چکی ہے جسے خود مولانا نے قائم فرمایاتھا۔دوسری طرف ہمارے تمام علما کرام یہ بات کہتے نہیں تھکتے کہ ہم مکی زندگی میں جی رہے ہیں۔
آخری بات۔قہر درویش بر جان درویش ۔یہ بات ماننا پڑے گی کہ وطن عزیز میں ۳۰؍۴۰ فی صد ایسے لوگ بھی رہتے ہیں(چاہے ہندو کہہ لیں یا غیر مسلم )جنھیں ترقی کے ایجنڈے سے کوئی سروکار نہیں ۔اچھے دنوں کے جھوٹے وعدوں سے انھیں کچھ لینادینا نہیں۔سب کا ساتھ سب کا وکاس اگر ہوائی باتیں ہیں توان کی بلا سے ۔نوٹ بندی کے ڈرامے میں سو سوا سو لوگ مرگئے تو ان کے کانوں پر جوں نہیں رینگی۔مالیہ پیسے لے کر بھاگ گیا یا مدھیہ پردیش بی جے پی کی صفوں میں آئی ایس آئی ایجنٹ گھسے ہوئے تھے ،تو یہ سب دیش بھکتی کے کام تھے۔یہ سوچنا بہرحال انڈین تھنک ٹیکس کا کام ہیکہ ایسے لوگ ملک کے لئے اثاثہ یا بوجھ ہیں جو ملک کے حقیقی مسائل سے آنکھیں موند کر فرقہ پرستی جیسی باتوں کی بنیاد پر اپنے حکمراں منتخب کرتے ہیں ۔
07697376137 


جمہوری تہذیب سے نا آشنا مسلمان !‎

عمر فراہی  ای میل : umarfarrahi@gmail.com

کل رات اچانک خواب میں یوگی آدیتیہ ناتھ سے ملاقات ہوگئی - وہ ایسے خندہ پیشانی سے ملا کہ جیسےلگتا ہی نہیں تھا کہ یوپی کا وزیر اعلیٰ ہے - پہلے تو ہم نے مبارکباد دی اور پھر گفتگو شروع ہوئی - کہہ رہا تھا کہ بھائی مسلمانوں کو میرے وزیر اعلیٰ بننے پر اعتراض کیوں ہے ؟ جب مختار انصاری جیل سے الیکشن لڑ سکتا ہے تو میں کیوں نہیں ! جب میں الیکشن لڑ سکتا ہوں تو وزیر اعلیٰ کیوں نہی بن سکتا ؟ کمال کی بات تو یہ بھی ہے کہ میں نے یوپی اسمبلی  کے الیکشن میں حصہ بھی نہیں لیا پھر بھی آج اس ریاست کا وزیر اعلیٰ ہوں - شاید یہ بھی تہذیب جمہوریت کا خوشنما پہلو ہے جہاں جنگ کے بغیر بھی اقتدار حاصل کرنے کی تمیز آنی چاہئے - آخر مسلمان کب جمہوری تہذیب سے آشنا ہونگے ...؟ آخر وہ کب تک محمد علی جناح کے دو قومی نظریے کو ڈھوتے رہیں گے ؟ آخر وہ مولانا آزاد کےقومی یکجہتی کے نظریے پر عمل کرتے ہوئے قومی دھارے میں کیوں نہیں شامل ہوتے - کیا مولانا نے آپ لوگوں کو لوک تنتر کے اصول نہیں سمجھائے....؟ میں نے کہا تمہارا مطلب کیا ہے - اس نے کہا تم مسلمان کانگریس کو ووٹ دے سکتے ہو تو بی جے پی کو ووٹ کیوں نہیں دیتے - میں نے کہا تم لوگ فرقہ پرست ہو - اس نے کہا فرقہ پرستی کا مطلب کیا ہے ؟ کیا تم فرقہ پرستی کا مطلب سمجھتے ہو...؟ فرقہ پرستی کا مطلب ہوتا ہے اپنے مذہب اور عقیدے سے محبت اور دوسروں کو اس پر عمل کرنے کی ترغیب دینا - کیا تم مسلمان ایسا نہیں کرتے - کیا تم ہمیں کافر نہیں کہتے - کیا ذاکر نائیک نے بہت سارے ہندوؤں کو اپنے مذہب میں داخل ہونے کی ترغیب نہیں دی - میں نے کہا لیکن جب تم لوگ مسلمانوں کو بندے ماترم اور سوریہ نمسکار کیلئے اصرار کرتے ہو تو ہمارے عقیدے کو ٹھیس پہنچتی ہے - اس نے کہا کہ ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم کون تھے - میں نے کہا مولانا ابوالکلام آزاد - اس نے کہا کہ کیا بچوں کےاسکولی نصاب میں یہ تعلیم ان کے دور سے ہی نہیں دی جارہی ہے کہ انسان کی پیدائش آدم و حوا سے نہیں  بندر کی نسل سے ہے - کیا یہ نظریہ اسلام کے نظریہ توحید سے متصادم نہی ہے - کیا انہوں نے تمہیں یہ نہیں بتایا کہ ہمارے اس لوک تنتر میں شراب بنانے بیچنے اور پینے کی آزادی ہوگی - کیا انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ زناکاری ، شراب نوشی اور سودخوری جسے اسلام میں گناہ کبیرہ میں شمار کیا جاتا ہے لوک تنتر میں تجارت کا حصہ قرار دی جاچکی ہیں - میں نے کہا کہ بات تو سچ ہے لیکن لوک تنتر میں یہ آزادی تو ہے کہ ہم چاہیں تو سود نہ کھائیں ہم چاہیں تو شراب نہ پیئیں اور بہت ساری برائیاں اختیاری ہیں - ہنسنے لگا بولا جو حکومت کے اختیار میں ہے اس کا فائدہ تم کیسے حاصل کرسکتے ہو - کیاتم ہماری پولس کو اپنے اوپر ظلم کرنے سے روک سکتے ہو - کیا تم مجھے یوپی کے مذبح خانے کو بند کرنےسے روک سکتے ہو - تمہارے اختیار میں تو وہ لوگ بھی نہیں ہیں جنھیں ساٹھ سالوں تک تم نے اقتدار سونپا - تم ہمیں فرقہ پرست کہتے ہو جبکہ میرٹھ ملیانہ بھیونڈی مالیگاؤں ممبئی اور بھاگل پور کے فساد کس کے دور میں ہوئے ...؟ بابری مسجد کا تالا کھلنے سے لیکر شیلانیاس اور عارضی مندر بننے تک مرکز میں کس کی حکومت تھی ....؟ 2004 سے 2014 تک کس کی حکومت تھی - اس دوران سیکڑوں بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کس نے کروائی - کرکرے کو کس کی حکومت میں قتل کیا گیا - سچ تو یہ ہے کہ تم جنھیں سیکولر سمجھتے تھے وہ لوگ ہم سے زیادہ فرقہ پرست اور بدعنوان تھے - ان کا سیکولرزم تو ایک مکھوٹا تھا تاکہ وہ تمہیں ہم سے ڈرا کر اقتدار کا مزہ لیتے رہیں - میں نے کہا لیکن مولانا ابو الکلام آزاد نے اپنی کتاب انڈیا ونس فریڈم میں کانگریس کے اس مکھوٹے کا ذکرکیوں نہیں کیا - ہنسنے لگا اور بولا یار تم مسلمان بھی کتنے بھولے اور بیوقوف ہو ساری باتیں لکھنے اور کہنے کی نہیں ہوتیں کچھ سمجھنے اور غور کرنے کیلئے بھی ہوتی ہیں - کیا آپ کو نہیں پتہ کہ جو کچھ انکشاف انہوں نے اپنی کتاب میں کیا بھی تو اس میں سے بھی تیس اہم صفحات کو شائع کرنے کیلئے یہ وصیت کردی کہ اسے تیس سال بعد شائع کیا جائے-مولانا ابوالکلام آزاد بہت ہی ذہین ، باشعور اور دور اندیش تھے وہ جانتے تھے کہ کچھ سوالوں اور ایک ایسی جدوجہد جس میں کہ وہ خود ناکام ہوچکے تھے اب اس کا جواب ان کے پاس بھی نہیں ہے  مسلمان خود وقت کے ساتھ تلاش کر لیں گے - میں تھوڑی دیر کیلئے سوچ میں پڑ گیا کہ ایک فرقہ پرست لیڈر وزیر اعلیٰ بنتے ہی فلاسفی کی بات کرنے لگا ہے - شاید مولانا بھی غلط نہیں تھے -چونکہ ہندوستان میں آزادی کے بعد بھی سیکولر قسم کے افراد کا ہی غلبہ تھا اس لیئے انہوں نے اس وقت کے حالات کو دیکھتے ہوئے بغیر کسی شرائط کے مسلمانوں کو سیکولر آئین کے حوالے کردیالیکن اقتدار اعلیٰ کی کرسی پر مودی اور آدیتیہ ناتھ جیسے کٹر ہندتو ذہنیت کےلوگوں کی تاج پوشی نے ان کی اس فکر کو بھی رد کردیا ہے کہ ہندوستان کبھی ہندو راشٹر نہیں بن سکتا - اچانک یوگی نے آواز دی کہ عمر میاں کس گہری سوچ میں گم  ہو - میں نے جلدی سے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے کہا کہ بس یوں ہی ماضی کی یاد میں کھو گیا تھا اور مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت کے بارے میں سوچ رہا ہوں کہ حقیقت میں وہ کیا تھے..؟ اس نے خود ہی جواب دیا کہ آپ لوگوں سے زیادہ ہم آپ کے قائدین کو جانتے ہیں اور ان کا احترام بھی کرتے ہیں کہ انہوں نےکس طرح سیکولر آئین کے ذریعے ہی مودی جی اور میرے اس مقام تک پہنچنے کی راہ ہموار کی - مولانا بیک وقت بہت کچھ تھے - وہ سیاسیات کے ماہر مدبر عالم فلاسفر اور صوفی بھی تھے - شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جناح کی طرح جہاد کی بات نہیں کی - یہ ان کا صوفیانہ مزاج ہی تھا جو انہوں نے مسلمانوں کو عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے  سیکولر پارٹیوں سے وابستہ رہنے کا مشورہ دیا تھا تاکہ ہندو مسلمانوں کو اپنے خلاف چیلنج نہ سمجھیں - انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مسلمان اگر ملک میں مساجد اور مدارس کے فروغ میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں تو یہی ان کیلئے  بہت بڑی جیت ہوگی - آپ لوگ فکر نہ کریں مودی جی یا میں خود بھی مولانا کی عزت کرتے ہیں ہم لوگ کبھی بھی اسپین اور برما کی طرح  آپ کی مساجد اور مدارس پر پابندی لگانے کی بات نہی کریں گے - ہم صرف یہ چاہیں گے کہ آپ کے مدارس اور مساجد سے مودودی ، اقبال اور جناح کی ذہنیت کے لوگ نہ پیدا ہوکر سرسید اور ابوالکلام جیسے ہی نیشنلسٹ لیڈر پیدا ہوں آور آپ لوگ ہر سال دھوم دھام سے ان کی سالگرہ وغیرہ مناکر خوش رہیں - یہی حقیقتا جمہوری تہذیب کی خوبصورت روایت ہے - یوگی کی باتیں سن کر میں پھر اس خیال میں گم ہوگیا کہ ایک مندر کا پجاری اور سادھو کا بھیس اختیار کرنے والا فرقہ پرست لیڈر اتنی عقلمندی کی باتیں کیسے  کر رہا ہے - اس کی وجہ شاید یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مسلمانوں کا امام آج بھی تقدیر کو روتا ہے اور برہمن مندر کے دروازے پر نہ سو کر ایوان سیاست میں داخل ہوچکا ہے اور پھر اچانک میری نیند کھل گئی - میں پھر یہ سوچنے لگا کہ ہم مسلمان کب تک یوں ہی خواب دیکھتے رہیں گے - مجھے تو اب اپنے اس خواب کی تعبیر سے بھی ڈر لگنے لگا ہے! اللہ رحم کرے -