انقلاب مسلمانوں کا ترجمان ہے یا آر ایس ایس کا ..... ؟
جب ہم اردو اخبارات اور اردو کے صحافیوں کی تاریخ پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تو ہمارے سامنے اس کارواں کے ایسے ایسے سرخیل نظر آتے ہیں جن کو رہتی دنیا تک کیلئے اردو صحافت کا امام ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ان راہوں کے قندیلوں میں مولانا محمد علی جوہر،مولانا آزاد،عبدلماجد دریاآبادی،مولانا مودودی، آغا حشر کاشمیری،محمد مسلم ،مولانا عثمان فارقلیط وغیرہ اردو صحافت کے وہ روشن مینارے ہیں جن سے آج کی اردو صحافت منور و تاباں ہے۔اسی طرح اردو اخبارات پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ہمدر،الہلال و البلاغ،صدق جدید،چٹان،الجمعیتہ ،مسلم،وغیرہ جیسے نام آج بھی ہمارے حوصلے اور استقامت کیلئے راہ نما کی حیثیت رکھتے ہیں ۔یہ چند نام ہیں لیکن اگر تفصیل سے اس پر نظر ڈالیں تو اس کے بعد پورے کا پورا سیل رواں ملے گا ۔لیکن میری بحث کا موضوع ہماری اردو صحافت کی شاندار تاریخ نہیں ہے۔
جب آزادی کی جنگ زوروں پر تھی اور انگریزوں کے خلاف عوامی ابال نقطہ عروج پر تھا اس زمانے میں 1938 میں عبد الحمید انصاری نے ممبئی سے روزنامہ انقلاب کا اجراء کیاجس نے بعد کے دنوں میں ایک تاریخ رقم کی ۔انکی اولاد نے انقلاب سے کمائی ہوئی عزت شہرت اور دولت کو خود انقلاب کو ہی مٹانے کیلئے استعمال کیا اور مڈ ڈے ملٹی میڈیا قائم کر دیا ۔جس کے بارے میں اردو دنیا کم ہی کم واقف تھی کہ یہ انقلاب کی دین ہے اور کوئی ایسا اخبار اردو کا بھی ہے جس نے ایک ادنیٰ غریب مجاہد آزادی کی اولاد کو بہت بڑا سرمایہ دار بنادیا۔انقلاب کی بد قسمتی تو اسی وقت شروع ہو گئی تھی جب اسے مڈڈے ملٹی میڈیا کے تحت کر دیا گیا تھا لیکن اس کی بد قسمتی کا نقطہ عروج تو اس وقت تھا جب دو سال قبل اسے ایک سنگھی اخبار کے گروپ کے ہاتھوں فروخت کر دیا گیا۔
اب انقلاب کی ڈور انسانیت کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اپنا مفاد حاصل کرنے والے گروہ کے ہاتھوں میں ہے ،جنہیں انسانی اقدار سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔نتیجہ یہ ہوا کہ مذکورہ اخبارات کے اسٹاف کی طرف سے بار بار یقین دہانی کرائے جانے کے باوجود کہ انقلاب کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی،باخبر اور باشعور قارئین اس بات کو محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکے کہ بڑی چابکدستی اورغیر محسوس طور پر انقلاب کی پالسی پر برہمنی ذہنیت اور منووادی کی پروردہ آر ایس ایس کا غلبہ ہوتا جارہا ہے ۔آر ایس ایس اور بی جے پی کی خبروں کو اہمیت دی جاتی ہے ۔معمولی سا بی جے پی کے اقلیتی شعبہ کے ذمہ دار کی خبروں کو اہمیت دیا جانا ،اے ٹی ایس کی خبر کے نام پر افواہ کو اہمیت دیا جانا وغیرہ کس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں ۔ابھی دو روز قبل ہی اے ٹی ایس نے اردو اخباروں کے ذمہ داران کی ایک میٹنگ بلا کر انہیں نام نہاد انڈین مجاہدین کے اے ٹی ایس کے فرضی مفرور ملزمین کی لسٹ فوٹو کے ساتھ دی گئی کہ اسے اپنے اخبار میں شائع کریں جسے اکثر اردو اخباروں نے نظر انداز کر دیا اگر کسی نے اس خبر (اے ٹی ایس کی طرف سے پھیلائی گئی ہر خبر افواہ ہی ہوتی ہے) کو جگہ بھی دی تواندر کے صفحہ پر ،لیکن انقلاب نے اس خبر کو نمایاں بلکہ پہلی خبر بناڈالا ،اس سے کیا مطلب نکالا جائے ۔افضل گرو کی متنازعہ پھانسی (بلکہ ظالمانہ زیادہ مناسب ہے)کو انقلاب نے اپنے اداریہ میں صحیح ٹھہرایا ۔جبکہ افضل گرو کی پھانسی پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے ہندوستانی حکومت کو سوالات کے ایسے گھیرے میں لیا ہے جس سے حکومت ہند پیچھا نہیں چھڑا پارہی ہے ۔لیکن انقلاب لکھتا ہے ’’اس سزا سے عدلیہ کا وقار ،حکومت کا اقبال ،اور آئین و قانون پر یقین رکھنے والی ہندوستانی قوم کا سر بلند ہوا ہے ۔یہی نہیں اس سے وطن عزیز کی غیر جانبداری بھی ثابت ہوئی ہے ‘‘۔جبکہ افضل گرو کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے جو کچھ لکھا ہے اس سے ملک عزیز کی غیر جانبداری اور انصاف پسندی کا پوری دنیا میں ایسا چرچا ہے کہ ملک کو دوسری بار شرمندگی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔پہلی بار الہٰ آباد ہائی کورٹ کا بابری مسجد سے متعلق دیا گیا فیصلہ اور اب یہ فیصلہ اور اس پر عمل درآمد ۔ایک سینئر وکیل کی بات میں نے افضل گرو کے تعلق سے سنی جو کہ ویڈیو کی صورت میں ہے ’’اس نے کہا تھا کہ افضل گرو کے خلاف جو ثبوت ہیں وہ اس کا اعترافی بیان جو کہ پولس کے سامنے ویڈیو شوٹنگ میں لیا گیا اور اسے نیوز چینلوں پر ٹیلی کاسٹ کیا گیا جس سے قوم کے ضمیر کی تعمیر ہوئی اور اسی قومی ضمیر کی تسکین کے لئے سپریم کورٹ نے مذکور بالا فیصلہ دیا ۔ اگر ہم سچ نہیں بول سکتے تو کم سے کم خاموش تو رہ ہی سکتے ہیں ،لیکن یہ کیا کہ ہم ظالموں کی حمایت ہی کرنے لگ جائیں ۔یوں تو انقلاب کے11 ؍فروری کاپورا اداریہ ہی قابل اعتراض ہے ۔اس پورے اداریہ کو پڑھ کر صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کسی آر ایس ایس کے اخبار کا ہی اداریہ ہے قارئین اس کے اداریہ کو پڑھ کر خود ہی اندازہ قائم کرسکتے ہیں۔اس مضمون میں اس پورے اداریہ پر بحث ممکن نہیں ہے ۔
انقلاب جب تک مسلم منیجمنٹ میں تھا تب تک کچھ غنیمت تھا لیکن اب تو اس میں شراب اور جوا کے ایڈ بھی آنے لگے ہیں ۔جس کے بارے میں کہنے کی ضرورت نہیں کہ اسلام کے ذریعہ اس پر پابندی لگائے جانے کے بعد مسلم معاشرہ اس سے کتنی نفرت کرتا ہے اور انقلاب کو بہر حال صرف مسلمان ہی پڑھتے ہیں پھر اس طرح کے ایڈ کس لئے اس ایڈ کو دیکھنے کیلئے آپ 30 ؍ دسمبر 2012 کے انقلاب کو دیکھ سکتے ہیں۔دوسری بات رشدی کی مڈ ڈے ملٹی میڈیا کے آفس میں آنا ۔واضح ہو کے انقلاب اسی ملٹی میڈیا کا حصہ ہے اور اس کا دفتر بھی اسی میں ہے ۔بعدمیں ہماری قوم کے چند نام نہاد قائد گئے ،مڈڈے ملٹی میڈیا کے ذمہ داران کی جانب سے ہمارے قائدین کو مطمئن کر دیا گیا کہ وہ ملعون ان کے دفتر میں نہیں آیا تھا اور یہ نام نہاد ہمارے لیڈر مطمئن ہو گئے۔جبکہ انقلاب کے دفتر کے ملازمین نے ہمیں یہ بتایا کہ رشدی یہیں آیا تھا ۔یہ چند باتیں بطور ثبوت پیش کئے گئے ہیں ورنہ انقلاب کا روزانہ بغور مطالعہ کیجئے اور خود ہی اندازہ کیجئے۔ہمارے جاننے والے کئی احباب نے کسی بھی قابل اعتراض مواد یا خبروں پر کٹنگ کے ساتھ انقلاب کے دفتر کو شکایات روانہ کیں لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں کی گئی ۔اس سلسلے میں ہمارے ایک دیرینہ دوست نے انقلاب کے ایک اہم اسٹاف سے اس بابت استفسار کیا تو انہوں نے کہا کہ میجمنٹ کی طرف سے یہ بات صاف کی گئی ہے کہ ہر حال میں اشتہار چھپے گا خواہ وہ کیسا بھی ہو کسی بھی چیز کا ہو،انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہاں انہیں اس بات سے کوئی تعرض نہیں ہوگا کہ آپ مضامین اور اداریہ کس سلسلے میں لکھ رہے ہیں ،لیکن اوپر جو حوالہ جات دئے گئے ہیں وہ اس بات کو صاف کر رہے ہیں کہ ایڈیٹوریل پالیسی اور خبروں کے انتخاب پر بھی ان کی نظر ہے ۔نہ صرف نظر ہے بلکہ اس کو سنگھی پالیسی کے حساب سے ڈھالنے کی بھی کوشش جاری ہے اور اسی پر باشعور اور باخبر قارئین کو اعتراض ،اور مجھے تشویش ہے ۔مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ جو اخبارات غیر مسلم مینیجمنٹ میں جانے سے بچے ہوئے ہیں اس کو جانے سے روکیں ان کی سر پرستی کریں ورنہ ٹوٹی پھوٹی جو بھی آواز ان کی ہے وہ دبادی جائے گی اور پھر کوئی ان کی آواز بلند کرنے والا نہیں بچے گا۔
نہال صغیر۔موبائل۔9987309013
Towards A National Strategy To Counter Israeli Threat To Our Sovereignty & Security (Memorandum To Home Minister RR Patil)
Mumbai Police Confiscate Nakba Day Banners
y Bharat Bachao AndolanCountercurrents.org
The Chief Minister,
Shri Prithviraj Chavan,
Government of Maharashtra,
Mumbai,
India.
Sub: We condemn the Mumbai Police action & confiscation of our "Boycott Israel-Save India, 15th May Nakba-Day" Banners from a private office premise.
Respected Sir,
Namaste!
We are extremely perturbed and angry at the fact that today, on the 18th of May 2012, at 3.00pm, the Agripada police raided the premises of the Jamat-i-Islami-i-Hind at Madanpura & confiscated the "May 15 - Nakba Day" banners. The office staff were called over to the Agripada police station for further questioning. Soon after, on making calls to the police station, which earlier refused to give us any information, but after sustained calls from various important quarters we were informed that it was on the behest & instructions of the Israeli consulate in Mumbai, that the police went into action. This is indeed a matter of great concern, whereby the local police is now acting as an agent of a foreign consulate against Indian citizens.
This is clearly an infringement of our sovereign & democratic rights & we thus lodge our protest & condemn the action of the police as strongly as possible. The banners were not put up in any public space without the due permission of the municipal authorities, as is the norm. The banners were strung outside the balcony on the first floor of the said private premises.
Moreover the banners had the following messages in context of the May 15th protests that are held globally.
i) Boycott Israel - Save India!!
ii) Free Palestine & Right of Return of the Refugees
iii) May 15th - Nakba Protests!!
These banners & protests are in keeping with our historical national tradition of supporting the anti-colonial freedom struggles & the international political consensus in terms of the global day of protests against the creation of the Zionist Apartheid Racist Israel.
Thus we demand that action be taken against:
i) The Israeli consulate, wherein they are clearly told to operate within the limits of a foreign entity as a consulate & not step beyond the boundaries & the laws of our country. They need to be told that they are not the new viceroys of India, where they can directly call up the local police station & have them raid & arrest patriotic citizens.
Though this problem also stems from the fact that due to state policy, a number of low level police officials are also traveling to Israel, for so-called anti-terror training whilst it is a well known fact that Israeli is the fountainhead of terror in the world.
This flawed training of our police by certified Islamophobes, has resulted in an increased wave of anti-Muslim xenophobia amongst our police & intelligence services, as has been evident in the persecution of Muslim youth in the course of the last two decades.
Meanwhile, a significant number of Mossad agents have been identified & expelled from India for indulging in espionage, drug peddling & weapons smuggling. Also the links of racist Israel with the extreme right-wing Manuwadi forces, namely the BJP-RSS-VHP-BD, all stand exposed.
Yet the secular Congress-led UPA turns a blind eye to the Mossad operations in our city & across the country.
Israel poses a grave security threat to the very sovereignty & unity of our country. Today, the dubious & perfidious role of the Zionist-Israeli Lobby in America & the Western world stands exposed & Israel stands at the bottom of public opinion across the world. Yet the ruling political elite in our country, do not seem to understand the obvious. Also the corrupting role of Israeli weapons manufacturers has been exposed by none less that the Defense Ministry itself, whereby 4 Israeli companies have been banned for bribing politicians, military officials & bureaucrats. The links of the Mossad & the Abhinav Bharat & Sanatan Sanstha terror organizations is also being probed due to the charge-sheet filed by Shaheed ATS Chief Hemant Karkare.
Thus it is also due to the flawed policies of the government, where the likes of racist Israelis operate with impunity, even by-passing the official corridors of power & our intel-security apparatus.
ii) The DCP Mr Kishore Jadhav & the Sr Inspector Mr Suryavanshi (Agripada Police Station), all need to be taken to task, for operating at the behest of the Israeli consulate as their agents.
All the police stations in our city of Mumbai, across Maharashtra & India, need to be warned that they cannot be acting at a telephone call from either the Israeli, the American or any other foreign power.
The next time the people of this city will lay siege to the police station, if our sovereign democratic rights as Indian citizens are again infringed upon.
We also demand that the Home Minister Mr R. R. Patil, take the appropriate action against these errant officials, so we do not see a repeat of these abominable acts ever again.
We represent the patriotic tradition of our Freedom Movement against the British colonial occupation of our Motherland & we will not see stand by & see our nation be colonized once again by American & Israeli imperialists. We will not betray the sacrifices & the memories of our founding fathers & the thousands who laid down their lives for a free India.
Today there is a movement across the world, where the masses are challenging the US-Israeli-European Neo-colonial project & the demise of the western imperial powers is destined.
It is time for the Indian political class to understand these new political realities for the future of our nation & the world is at stake.
We walk in the path of Mahatma Gandhi, Maulana Azad, Mahatma Phule, Dr, Baba Saheb Ambedkar, Subash Chandra Bose & Bhagat Singh & it is their teachings that we will strive to carry on.
Jai Hind!! Jai Bharat!!
Feroze Mithiborwala, Kishore Jagtap, Aslam Ghazi, Jyoti Badekar & Arif Kapadia.
cc to:
The President of India, Shrimati Pratibha Patil
The Prime Minister, Mr Manmohan Singh
The Congress President, Shrimati Sonia Gandhi
The Home Minister (Maharashtra State), Mr R R Patil
ISRAEL HATAO - BHARAT BACHAO
2) WE SUPPORT THE
"RIGHT OF RETURN OF THE PALESTINIAN REFUGEES"
3) WE SUPPORT A
PALESTINIAN STATE WITH JERUSALEM AS THE CAPITAL.
------------------
The 15th of May, marks the 64th year of the catastrophe that befell the Palestinian nation & thus it is refereed to as the Nakba, or the catastrophe. It was on this day that the Israeli European colonialists occupied Palestine & they ethnically cleansed more than 800,000, or half of the original inhabitants of the land.
Today after more than 9 decades of a racist & brutal occupation, the Palestinian nations continue to defy the Israeli-US-Nato powers against all odds. And the Palestinian Initifada continues to inspire billions of people across the to resist the imperial-Zionist designs for global hegemony. And thus the people of Palestine continue to stand at the front-lines & are the vanguard of the international resistance.
The brutal & Nazi Israeli occupation carries on with Western complicity. But on the other hand, the international mass support for the cause of Palestine continues to grow across the world & today, Palestine is the most popular cause in this history of the world.
Also the struggle for Palestine symbolises the struggle against imperialism & Zionism. In our country, today the corrupt Manuwadi forces & elite corporates are in alliance with these global powers. As we also know that it is the Zionist-Israeli lobby that controls the USA through various means of subterfuge. Israel is deploying the same strategy to control India. Thus Israel loses a grave threat to the very sovereignty & security of India.
The great Indians like Mahatma Gandhi, Mahatma Phule, Maulana Azad, Dr. Baba Saheb Ambedkar, Bhagat Singh - all of whom had opposed the formation of Israel on principled & moral foundations. We need to protect & defend the traditions & the legacy of our national freedom struggle.
Thus we need to awaken the Indian people to the threat that Israel poses to our own country & at the same time, we need to support & stand in solidarity with the Palestinian nation, as they struggle for their independence from the Zionist apartheid occupiers.
We thus call for the Boycott of Apartheid Racist Israel. We also appeal to the people of India to once again stand in solidarity with the national independence struggle of the Palestinian nation.
Jai Hind!! Jai Bharat!!
Bharat-Palestine Dosti Amar Rahe. (Long Live the People of India & Palestine)
جدوجہد
- روایات میں آیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے کے لیے آتشِ نمرود دہکائی جارہی تھی تو فرشتوں نے دیکھا کہ ایک چڑیا چونچ میں پانی بھرکر لاتی ہے اور آگ کے پاس جہاں تک جاسکتی ہے، جاتی ہے اور پانی انڈیل کر مزید پانی لانے کے لیے لوٹ جاتی ہے۔ فرشتوں نے چڑیا سے کہا: ’’تُو کیا سمجھتی ہے تیرے چونچ بھر پانی سے آتشِ نمرود بجھ جائے گی؟‘‘ چڑیا نے کہا: ’’مجھے معلوم ہے کہ میرے چونچ بھر پانی سے آتشِ نمرود نہیں بجھے گی لیکن میں چاہتی ہوں کہ جب آگ بھڑکانے اور آگ بجھانے والوں کی فہرستیں بنیں تو میرا نام صرف آگ بجھانے والوں کی فہرست میں ہو۔‘‘ اس روایت کی سند کے بارے میں وثوق سے کچھ کہنا دشوار ہے، لیکن اس کے بارے میں سو فی صد یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ جدوجہد کی نوعیت کو واضح کرنے کے لیے یہ ایک بہترین مثال ہے۔ اس مثال سے ثابت ہے کہ جدوجہد صحیح نیت اور کامل اخلاص کے ساتھ تواتر سے کی جانے والی ایسی کوشش کو کہتے ہیں جو صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے نتیجے کی پروا کیے بغیر کی جائے۔ انسانی تاریخ میں جدوجہد کی اعلیٰ ترین مثالیں انبیا و مرسلین نے پیش کی ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال تبلیغ کی۔ لیکن بعض لوگ کم علمی اور کم فہمی کی بنیاد پر سمجھتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کی جدوجہد بے نتیجہ رہی کیونکہ ان کی ساڑھے نو سو سال کی جدوجہد کے باوجود چند ہی لوگ ایمان لائے۔ لیکن یہ خیال درست نہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کی جدوجہد پوری طرح کامیاب رہی، کیونکہ آپؑ کی جدوجہد نے واضح اور ثابت کیا کہ قومِ نوح ایک قوم کی حیثیت سے روئے زمین پر زندہ رہنے کے لائق نہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کی جدوجہد نے قومِ نوح کے تمام امکانات کو کھنگال ڈالا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی جدوجہد نہ ہوتی تو قوم نوح کے امکانات کیسے واضح ہوتے اور عذاب کے لیے حجت کیسے تمام ہوتی؟ یہ صرف قومِ نوح علیہ السلام کا معاملہ نہیں۔ قومِ عاد اور قومِ ثمود کا بھی یہی معاملہ ہے۔ قومِ لوط علیہ السلام کا بھی یہی قصہ ہے۔ ان قوموں کے لیے آنے والے انبیا کی جدوجہد نے واضح کیا کہ ان قوموں کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی فطرتیں مسخ ہوچکی ہیں چنانچہ ان کے ایمان لانے کا کوئی امکان نہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جدوجہد تمام انبیا میں شدید ترین ہے۔ لیکن فرشتے عذاب کے لیے سوال کرتے ہیں تو آپؐ کبھی فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کو علم نہیں کہ یہ کیا کررہے ہیں، کبھی آپؐ فرماتے ہیں کہ ان کی آئندہ نسلیں ضرور ایمان لائیں گی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپؐ کی قوم فطرت کی کجی میں مبتلا نہیں تھی۔ اس کی گمراہی ماحول کے جبر کا نتیجہ تھی۔ ماحول کا جبر ٹوٹا تو اس کی فطرت ِسلیم سامنے آگئی اور ایک گمراہ قوم نے صحابہ کرامؓ کی وہ عظیم الشان جماعت تیار کی جس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ لیکن یہ کام آپؐ کی بے مثال جدوجہد ہی سے ممکن ہوا۔ جدوجہد کا نتیجہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں نہیں تھا تو کسی اور کے ہاتھ میں کیا ہوگا؟ مطلب یہ کہ نتیجہ اللہ تعالیٰ ہی پیدا فرماتے ہیں، مگر وہ نتیجہ پیدا کرنے کے لیے جدوجہد کو دیکھتے ہیں، اس کی پشت پر موجود نیت کو ملاحظہ کرتے ہیں، اس جدوجہد میں کارفرما اخلاص کا جائزہ لیتے ہیں، جدوجہد کے لیے کی جانے والی انتھک محنت کو دیکھتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جدوجہد ان تمام حوالوں سے مثالوں کی مثال ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی جدوجہد کو قیامت تک وسعت عطا کردی اور اللہ تعالیٰ کی عنایت و برکت سے آپؐ کی جدوجہد قیامت تک مؤثر رہے گی، اس کا حسن و جمال کبھی زائل نہ ہوگا۔ انسانی تاریخ میں جدوجہد کی مثالوں کی کمی نہیں۔ ہندوئوں کی تاریخ میں ’’مہا بھارت‘‘ خیر و شر کی معرکہ آرائی کی علامت ہے۔ اس معرکہ آرائی میں ایک جانب پانڈو تھے جو خیر کی علامت تھے اور دوسری طرف کورو تھے جو شر کی علامت تھے۔ کورو کی طاقت زیادہ تھی اور پانڈو کی طاقت کم تھی۔ لیکن اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ تھا کہ یہ ایک ہی خاندان کی جنگ تھی۔ کورو اور پانڈو ایک باپ مگر مختلف مائوں کی اولاد تھے اور کورو کے ساتھ خاندان کے دوسرے لوگ بھی تھے۔ چنانچہ پانڈو کے سپہ سالار ارجن نے میدانِ جنگ میں دونوں فوجوں کی صفوں کا معائنہ کیا تو دیکھا کہ دونوں طرف ایک ہی خاندان کے لوگ کھڑے ہیں۔ چنانچہ اس نے ہتھیار رکھ دیے اور کہاکہ میں ’’اقتدار‘‘ کے لیے اپنوں کا خون نہیں بہا سکتا۔ اس موقع پر کرشن نے ایک طویل تقریر کی اور ارجن سے کہا کہ یہ اقتدار کی جنگ نہیں ہے، یہ خیر و شر کا معرکہ ہے، چنانچہ شر کے خلاف حق کی جدوجہد ناگزیر ہے، یہی ہمارا ’’دھرم‘‘ ہے۔ اس نے ارجن کو سمجھایا کہ حق کے سامنے رشتوں ناتوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ اس نے ارجن کو بتایا کہ روح باقی رہنے والی ہے اور جسم فنا ہوجانے والا ہے، اور تمہاری عزیزوں کی محبت دراصل جسم یا ظاہر کی محبت ہے جو ٹھیک نہیں۔ کرشن کی یہ تقریر ہندوئوں کی تاریخ میں گیتا کہلاتی ہے۔ اس تقریر نے ارجن کی بے عملی کو دور کرکے اسے جدوجہد پر آمادہ کردیا اور ہندوئوں کی تاریخ کا سب سے بڑا معرکہ برپا ہوا۔ انگلینڈ کی تاریخ میں ’’کنگ بروس‘‘ جدوجہد کی ایک عمدہ مثال ہے۔ بروس کو پے درپے معرکہ آرائیوں میں بدترین شکست ہوئی اور وہ سلطنت ہی نہیں حوصلہ بھی ہار بیٹھا۔ وہ جان بچانے کے لیے جنگلوں میں نکل گیا اور اس نے ایک غار میں پناہ لی۔ اس کا سب کچھ لٹ چکا تھا۔ اس کی تنہائی اور مایوسی بیکراں تھی، اور اس سے نکلنے کی کوئی صورت اسے نظر نہ آتی تھی۔ ایک دن اچانک بروس نے دیکھا کہ ایک چیونٹی منہ میں غذا کا ریزہ اٹھائے دیوار پر چڑھ رہی ہے مگر وہ زیادہ دور نہ جاسکی اور نیچے گرگئی۔ لیکن اس نے ہمت نہ ہاری، اس نے اپنی غذا پھر تلاش کی اور پھر آمادۂ سفر ہوئی۔ لیکن اِس بار بھی قسمت نے یاوری نہ کی۔ ایسا کئی بار ہوا لیکن چیونٹی جدوجہد کرتی رہی اور بالآخر وہ اپنی جدوجہد میں کامیاب ہوئی۔ اس مشاہدے نے بروس کی قلب ِماہیت کردی۔ اس نے سوچا: ایک چیونٹی اتنی جدوجہد کرسکتی ہے لیکن میں انسان ہوکر یہاں منہ چھپائے بیٹھا ہوں۔ اسے خود پر شرم آئی اور اس نے عزم کرلیا کہ خواہ کچھ بھی ہو، میں جدوجہد جاری رکھوں گا۔ اس عزم کے ساتھ بروس غار سے نکلا۔ اس نے اپنی شکستہ فوج کو جمع کیا، اسے حوصلہ دیا اور بالآخر اپنے دشمنوں کے سامنے جاکھڑا ہوا اور انہیں شکست دے کر اپنی سلطنت واپس لے لی۔ زندگی کے عمومی دائرے میں کسان جدوجہد کی سب سے جامع اور بڑی مثال ہے۔ روایتی کسان زمین کو فصل کے لیے تیار کرتا ہے، اس میں بیج بوتا ہے، بیج کے نمو پانے کا انتظار کرتا ہے، بیج پودا بن جاتا ہے تو وہ اسے سینچتا ہے، کھاد فراہم کرتا ہے، کھیت کو غیر ضروری پودوں سے پاک کرتا ہے تاکہ وہ حقیقی پودوں کی غذا اور پانی پر ہاتھ صاف نہ کرسکیں۔ فصل تیاری کے مراحل میں ہوتی ہے تو کسان کی زندگی ان معنوں میں مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوتی ہے کہ ذرا سی تیز بارش اس کی فصل تباہ کرسکتی ہے۔ ذرا سی تیز سردی اس کی فصل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ چنانچہ بارش تیز ہونے لگتی ہے تو کسان کانپ کر رہ جاتا ہے، سردی کی شدت بڑھتی ہے تو کسان لرز کر رہ جاتا ہے۔ کام کرنے والے تمام لوگوں کی زندگی میں تعطیل کا دن ہوتا ہے، مگر روایتی کسان کی زندگی میں کوئی دن آرام کا دن نہیں ہوتا۔ اسے کچھ اور نہیں تو اپنے پالتو حیوانات کے کھانے پینے کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح کسان کے لیے جدوجہد طرزِ حیات بن جاتی ہے۔ اسلام میں جدوجہد کی اہمیت یہ ہے کہ وہ معاشی جدوجہد کو بھی عبادت قرار دیتا ہے۔ اسلام میں جدوجہد کا بلند ترین مقام جہادِ اصغر اور جہادِ اکبر ہے۔ جہادِ اصغر خارج کا تزکیہ اور جہادِ اکبر باطن کا تزکیہ ہے۔ جہاد کی ان دونوں صورتوں کے بغیر نہ انسان انسان بنتا ہے، نہ زندگی زندگی کہلانے کی مستحق قرار پاتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جدوجہد کی معنویت کیا ہے؟ انسانی زندگی تقدیر اور تدبیر کی رہین منت ہے، لیکن تقدیر کو جاننا دنیا کا مشکل ترین کام ہے، البتہ انسان کی جدوجہد تقدیر کو آشکار کردیتی ہے۔ جدوجہد سے معلوم ہوجاتا ہے کہ کیا ممکن ہے اور کیا ناممکن ہے؟ جدوجہد کا ایک حاصل یہ ہے کہ جدوجہد سے جب تقدیر آشکار ہوجاتی ہے تو اسے قبول کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ جدوجہد کے بغیر انسان کے لیے تقدیر کو قبول کرنا مشکل ہوتا ہے۔ مثلاً اگر بیمار کے علاج کے لیے ہر ممکن کوشش کرلی جائے اور اس کے بعد بھی مریض صحت یاب نہ ہو بلکہ اس کا انتقال ہوجائے تو اس کی رحلت کو قبول کرنا سہل ہوجاتا ہے۔ جدوجہد انسان کے امکانات کو سامنے لانے کی واحد صورت ہے۔ جدوجہد نہ صرف یہ کہ انسان کے امکانات کو سامنے لاتی ہے بلکہ انہیں مستحکم بنیادوں پر استوار بھی کرتی ہے۔ دنیا کا ہر فن مشق کا طالب ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا شاعر بھی اگر دوچار سال جان بوجھ کر شاعری نہ کرے تو اس کے لیے شاعری دشوار ہوجائے گی۔ دنیا کا سب سے بڑا بلے باز اگر تین ماہ تک کرکٹ نہ کھیلے تو وہ اوسط درجے کے بولر کا مقابلہ کرتے ہوئے بھی دشواری محسوس کرے گا۔ جدوجہد انسانی کردار کی تشکیل کا واحد ذریعہ ہے۔ صرف جدوجہد کے ذریعے ہی شخصیت اور کردار کا فرق عیاں ہوتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ شخصیت اور کردار میں کیا فرق ہے؟ انسان کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ ہم اپنے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ اور دوسرا یہ کہ ہم اصل میں کیسے ہیں؟ ہم اپنے بارے میں جو رائے رکھتے ہیں وہ شخصیت ہے، اور ہم اصل میں جیسے ہیں وہ ہمارا کردار ہے۔ مثلاً ایک فوجی سمجھتا ہے کہ وہ بہت بہادر ہے، لیکن جب وہ جنگ میں شریک ہوتا ہے تو اس پر انکشاف ہوتا ہے کہ وہ کافی بزدل ہے۔ جدوجہد کا کمال یہ ہے کہ وہ شخصیت کے غلبے کو ختم کرکے ہمارے کردار کو سامنے لاتی ہے۔ اس طرح جدوجہد ہماری اپنی ذات کی آگہی کا ایک بہت بڑا وسیلہ ہے۔
" مجھکو یہیں اترنا تھا"
زبیر حسن شیخ
آج کافی دنوں بعد شیفتہ اور بقراط کو چمن میں دیکھا. موسمِ گرما کی آمد کے آثار انکے چہروں پر دکھائی دے رہے تھے. لیکن لہجہ میں موسم بہار کا اثر قایم تھا. شیفتہ نے فرمایا، حضور ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں الکشن تمام ہوئے اور قصہ پاک ہوا. محمود شام صاحب کا مضمون پڑھ کر معلوم ہوا پاکستان میں بھی الیکشن تمام ہوئے. وہاں کا قصہ بھی پاک ہی سمجھیے. افغانستان میں بھی امریکہ قصہ پاک کر بیٹھا ہے. اس سے اب جایا نہیں جاتا، تورا بورا میں پوشیدہ کشش ثقل کا اسے اندازہ نہیں تھا، گردن نکال چکے تو پیر پھنس گئے. اب یہ حال ہے کہ "کھینچتا ہے جسقدر، اتنا ہی کھنچتا جائے ہے". ہائے افسوس اس سیم تن کے پاؤں، آج مرزا ہوتے تو ضرور کچھ کرتے یا کہتے. ایران نے بھی کیا خوب قصہ پاک کیا. بزرگ کہا کرتے تھے، کنویں سے ناراض ہوکر اگر کوئی اپنی حاجتیں پوری نہ کرے تو کنویں کا کچھ نہیں جاتا، بیٹھے رہیے تصورِ جاناں کیے ہوئے، ایرانی تیل کے کنووں کے ساتھ اہل مغرب اب یہی کر رہے ہیں. حال ہی میں کئی ملکوں کے کنویں جلا کر بیٹھے ہیں اور اپنی حاجات کو معطل کر بیٹھے ہیں. اسرائیل سے کانگریس کی دل لگی کا قصہ بھی اب طشت از بام ہورہا ہے. یہ وہی دل لگی ہے جسکی ابتدا تب ہوئی تھی جب بی جے پی اسرائیل کے اعمالِ سیاہ کی اسیر ہوئی تھی، بلکہ دونوں ایکدوسرے کے سیاہ اعمال میں الجھ کر گر پڑے. عشق کی ابتدا بس ہوئی ہی تھی کہ رقیب درمیان میں آگیا. پھر رقیب بھی اسی کافر ادا کا اسیر نکلا. اسکی ادائے کافرانہ پر سارے شیطان قربان. کانگریس نے اسرائیل کے ساتھ تجدید وفا کی رسم ادا کر سب کو متحیر کر دیا. کانگریس کے آبا و اجداد کبھی اس کافر ادا کو اغیار میں شمار کرتے تھے اور "غیر وابستگی" کا کھل کر مظاہرہ کیا کرتے تھے. لیکن اب تو یہ حال ہے کہ کانگریسی رہنما مسلمانوں کی غیر وابستگی دیکھ کر کہتے ہیں، "اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم، اللہ اللہ". ویسے کانگریس اپنے انجام سے بے خبر نہیں ہوگی، اور اگر ہوگی بھی تو یو پی کے الیکشن کے بعد ضرور خبردار ہو گئی ہوگی. بی جے پی کے متعلق تو ویسے بھی یہی کہا جاتا رہا ہے کہ"کرتے ہیں محبت تو گزرتا ہے گماں اور". بی جے پی کو جو اشارے آر ایس ایس سے ملتے ہیں اور جس بلاغت سے ذرائع ابلاغ اسے پیش کرتے ہیں، دیکھکر بی جے پی یہی کہتی ہے کہ "ہے بس کہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور" ...... ان ذرائع ابلاغ میں چند ایسے بھی ہیں جو ابھی تک سن بلوغت کو نہیں پہنچ پائے اور اکثر بازیچہء اطفال سجائے بیٹھتے ہیں. ایسے ہی ایک نام چین ذرائع ابلاغ کی گود میں رشدی مردود کو حال ہی میں بیٹھایا گیا، ایسی نشست کو انگریزی میں 'کونکلیو" کہتےہیں.
بقراط نے کہا، حضور صحافت اور ٹی و ی میڈیا کا یہ حال ہوا ہے کہ... "بک جاتے ہیں ہم آپ، متاع سخن کے ساتھ....لیکن عیار طبع خریدار دیکھ کر".. اس شعر میں لفظ "بک" کو آپ زیر و زبر کر کے پڑھ سکتے ہیں اور دونوں طرح سے یہ ان کے حال کی غمازی کرتا ہے. سنا ہے اس بار شیطان مردود کو علمائے دین سے شکایت نہیں رہی بلکہ حکومت اور خاصکر کانگریس سے رہی. اور اس نے اپنے ہم نفسوں کی جھوٹی افواہوں کی خود ہی پول کھول دی. پچھلی بار اسکی آمد پر لگی روک تھام کا ٹھیکرا مسلمانوں کے سر سے اب ہٹادیا گیا. ہندوستانی صحافت میں اپنی روزی روٹی حاصل کرنے کے لئے صرف اتنی زحمت کرنی ہوتی کہ امن پسند مسلمانوں کو ہدف بنانا ہوتا ہے، اور مختلف حیلے بہانوں سے انھیں چھیڑنے کا موقع ڈھونڈنا ہوتا ہے، بلکہ انھیں احساس دلانا ہوتا ہے کہ جب تک آپ سیکولر نہیں بن جاتے آپ ایک امن پسند اور معزز شہری نہیں ہو سکتے .
بقراط نے کہا، لیکن مسلمان بھی گرمی دکھانے سے کب باز آتا ہے. فرمایا ، کوئی کرگس ہے جو باز آئے. مسلمان کو پتہ ہے کہ چند گروہ ایسے ہیں جو اسکے ایمان کی گرمی کا مسلسل اندازہ لگاتے رہتے ہیں، کب یہ ذرا سرد ہو تو اسکے گلے میں "سیکولر ازم " کی مے ناب کے چند قطرے ڈال دیں.اب اس مشہور و معروف ٹی و ی چینل کو ہی لے لیجیے ، اسے دنیا میں کوئی شریف انسان ملا ہی نہیں. افسوس کہ سترہویں صدی کے زٹلی اور پچھلی صدی کے چرکن زندہ نہیں رہے ورنہ رشدی کے ساتھ ملکر ایسے "کونکلیو" کی شان بڑھاتے. عمران خان نے ٹھیک ہی کیا جو رشدی مردود کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کر دیا. کہتے ہیں مہذب لباس زیب تن کر کسی برہنہ کے ساتھ بیٹھنا بڑا صبر آزما ہوتا ہے. ایسے "کونکلیو" کا مقصد تو یہی ہونا چاہیے کہ عالمی رواداری اور بھائی چارگی کو فروغ دیا جائے، کسی کو خوش کرنا اور کسی کے دل میں نفرت پیدا کرنا چہ معنی . ذرائع ابلاغ اور صحافت میں ایسے کئی ادارے ہیں جن پر مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد ملتفت رہی ہے لیکن کیا کریں اب تو یہی کہتے ہیں کہ. "ہم تم سے چشم رکھتے تھے، دلدار یاں بہت.....سو ، التفات کم ہے، دل آزاریاں بہت" . ذرائع ابلاغ اور صحافت کے چند ادارے اب بھی ایسے ہیں جو مسلمانوں کو اپنی طرف راغب رکھنے میں کوشاں رہتے ہیں اور انکے جائز حقوق کی اور انکی اہمیت کی ترجمانی کرتے رہتے ہیں. "زی سلام" اور "ای ٹی و ی" کا نام قابل ذکر ہے. چھوٹی موٹی ستم ظریفی اور غیر ارادی دل شکنی کہاں نہیں ہوتی اور جو قابل در گزر ہونی چاہیے.
بقراط نے کہا جناب ، چند انگریزی اخباروں میں منافقت سے بھر پور مضامین پڑھیے اور غور فرمائیے کہ سیکولر ازم کی نئی تعریف لکھی جا رہی ہے . لکھنے والے نام سے تو مسلمان ہی لگتے ہیں اور شجرے سے کچھ کچھ مشکوک. چند ہزار روپوں کی نوکری کی خاطر اپنے ہی بھائیوں پر الزام تراشی کرنا اور علمائے دین کا مذاق اڑا کر واہ واہی بٹورنا، عوام کو گمراہ کرنا، ایسا طرز فکر و عمل بزدلی اور منافقت کی غمازی کرتا ہے. شیفتہ نے فرمایا، افسوس تب ہوتا ہے جب مسلمانوں کا تعلیم یافتہ طبقہ ایسے طرز فکر و عمل کی تائید کرتا ہے. زرد صحافت کے ٹکڑوں پر پلنے والوں میں چند مسلمان بھی ہیں اور نہ ہی انکے کوئی اصول ہوتے ہیں اور نہ اخلاقی قدریں. آئے دن دین و مذہب پر کیچڑ اچھال کر یہ جتا تے ہیں کہ دیکھیے ہم نے کیسے اسلام پر یعنی خود اپنے عقیدے پر چوٹ کی ہے، اور اپنے اعلی تعلیم یافتہ، ماڈرن اور وفادار ہونے کا ثبوت دیا ہے. آسمان پر تھوک کر آئینہ دیکھنا بھول جاتے ہیں یہ احمق. اگر سیکولرازم کے معنی میں تمام مذاہب کی تقلید یا توہین کا ڈھونگ رچانا ہے تو مسلمان جانتا ہے کہ اس سے بڑھکر کوئی منافقت نہیں، اور اگر اسکے معنی میں تمام مذاہب کا احترام کرنا ہے تو مسلمان سب سے بڑا سیکولرسٹ ہے . کیونکہ تمام مذاہب کا احترام کرنا اس پر واجب ہے اور اسکے دینی احکامات کا حصہ ہے . ایک امن پسند شہری اور مخلص انسان ہونے کے لئے سیکولر ہونا ضروری نہیں، کروڑوں مسلمان، ہندو، سکھ، عیسائی اور یہودی بھائی اور بہنیں ہیں جو مذہبی ہیں اور ان اوصاف کے حامل بھی ہیں.
شیفتہ کی لن ترانی جاری تھی کہ ایک سائیکل سوار لڑکا کرتب دکھاتے ہوئے ہماری نشست کے قریب آکر اچانک گر پڑا اور فورا دامن جھاڑ کر اٹھا، اور مسکراتے ہوئے کہنے لگا "مجھکو یہیں اترنا تھا". پھر اپنے حواس مجتمع کرنے کی خاطر شیفتہ کے قریب بیٹھ گیا. شیفتہ نے شفقت بھری نظروں سے اس لڑکے کی آنکھوں میں جھانکا اور جیب میں موجود واحد دس روپوں کا نوٹ نکال کر اسکی مٹھی میں بند کر دیا. لڑکاسائیکل اٹھا کر یہ جا اور وہ جا. بقراط نے تعجب سے شیفتہ کی طرف دیکھا. شیفتہ نے فرمایا، جن حالات حاضرہ پر ہم دونوں ابھی ابھی تبصرہ کر رہے تھے اس ذہین و فتین لڑکے نے اپنے ایک جملے میں ان سب کی بہتر ترجمانی کر دی. اردو ادب میں خجالت اور شرمندگی سے بچنے یا اسے چھپانے سے متعلق مختلف الفاظ، محاورے اور ضرب الامثال موجود ہیں، جیسے کھسیانی بلی کھمبا نوچے، انگور کھٹے ہیں.. وغیرہ وغیرہ . اس دور پر فتن میں اب جو بھی گرپڑتا ہے یہی کہتا ہے کہ میں گرا نہیں ہوں بلکہ "مجھکو یہیں اترنا تھا". یہی وہ طرز فکر و عمل ہے جو انسان کو ہر بار ٹھوکر کھانے پر آمادہ کرتا ہے اور پھر وہ کبھی نہیں سنبھلتا. "مجھکو یہیں اترنا تھا" کی عکاسی مذکورہ "کونکلیو" میں بھی دیکھنے ملی. کانگریس اور بی جی پی کے رہنماوں کا بھی یہی حال تھا جب یو پی اسمبلی الیکشن میں شکست کھا کر وہ میڈیا میں اپنے تاثرات پیش کر رہے تھے. "گجرات کے شیطان" کا ابتدا سے یہی حال رہا، بلکہ وہ تو پاتال تک گر کر دیکھ چکا ہے، اور اسکا یہ کہنا کہ "یہیں اترنا تھا" بلکل بجا ہے . یہی موقف امریکہ کا افغانستان کے معاملہ میں رہا ہے، امریکہ اب ایران کے معاملے میں بھی یہی کہتا ہے کہ "مجھکو یہیں اترنا تھا". اسرائیل کی ہٹ دھرمی سے پریشان اہل مغرب کی معیشت منہ کے بل گر پڑی، لیکن وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ "ہمیں یہیں اترنا تھا". یہی طرز فکر و عمل پاکستانی سیاست کا امریکہ کے ساتھ رہا. عرب لیگ اور عرب حکمرانوں کا کیا کہنا، جب جب اتحاد کا سوال اٹھا تو لڑ کر ایکدوسرے کو گرا کر ہی دم لیا، اور یہی تاثر دیا کہ "ہمیں یہیں اترنا تھا".
بقراط نے پوچھا، حضور سماج وادی پارٹی کا وہ نو جوان جو سائیکل پر کرتب دکھانے میں کامیاب رہا، اسکے بارے میں کیا خیال ہے ؟ فرمایا ابتدائے عشق ہے......... یو پی کے مسلمانوں اور مسلم رہنماؤں پر دوہری ذمہ داری آن پڑی ہے اورپتہ نہیں وہ اب ایس پی سے کون کون سے کرتب کروائے. پہلے مرحلہ میں ہی قوم و ملت کے دیرینہ اور غیر حل شدہ مسائل کو حل کروالیں تو غنیمت ہے. اور سب سے اہم یہ کہ صحیح اور مناسب ترجیحات پیش کریں. پسماندگی کے دلدل سے نکلنے کے لئے سب سے پہلے مسلمانوں کے وہ حقوق حاصل کرلیں جو غصب کر لیے گیے ہیں اور جسے حاصل کرنے میں مرکزی یا ریاستی حکومت کا احسان مند ہونے کی ضرورت بھی نہیں. اور ان پر فوری عمل در آمد کی مانگ کریں . باقی تمام مرحلے جب ہونگے تو سب کے لئے ہونگے. غور کریں اور خوب کریں . کہیں یہ نہ سننا پڑے کہ "مجھکو یہیں اترنا تھا"
بقراط نے کہا، حضور، دنیا جہان میں اب سیاست نے تجارت کی شکل اختیار کر لی ہے. عوام ہو یا سیاسی جماعتیں ہوں یا رہنما، اب کوئی بھی اسے معیوب نہیں سمجھتا، اور ایک حد تک قانون بھی نہیں. ورنہ کیا وجہ ہے کہ جمہوری قوانین میں سیاستدانوں کے تجارت میں حصہ لینے پر، یا تاجروں کے سیاست میں حصہ لینے پر کوئی پابندی نہیں، بلکہ دونوں حضرات دھڑلے سے اپنا اپنا حصہ لوٹنے میں مصروف نظر آتے ہیں. نظام جمہوریت میں یہ وہ آزادی ہے جو تجارت اور سیاست کے "لیونگ ریلیشن" کو ثابت کرتی ہے. سیاست کو تمام اخلاقی ضابطوں سے بری کر دیتی ہے. جمہوریت کے علمبردار مغربی مفکر یہی کہتے رہے ہیں کہ جمہوری طرز حکومت و سیاست "نان ایکونومک ایکٹیویٹیز" یعنی غیر تجارتی اور بے لوث سماجی خدمات میں شمار ہوتی ہے، شاید عہد فاروقی کی نظیر کہیں پڑھ لی ہوگی. یہ مسئلہ اب جمہوریت کے گلے کا کانٹا بن گیا ہے اور سیاستدانوں کا تجارت کے ساتھ گہرا تعلق عوام کے حق میں مضر ثابت ہورہا ہے. اب تو سلطانیء جمہور بھی یہی کہتے ہونگے "مجھکو یہیں اترنا تھا".
فرمایا، ایک سیاست داں تب ہی دیانت دار ہوسکتا ہے جب وہ حکومت سے حاصل شدہ بنیادی ضرورتوں کے علاوہ زندگی میں اور کسی بھی مادی چیز کے حصول کا روا دار نہ ہو. جمہوریت کی کامیابی اور سیاست میں دیانت داری ثابت کرنے کے لئے اسکے علاوہ اور کوئی نسخہ کار گر نہیں ہو سکتا ، اور نہ ہی کوئی اور اصول کارگر ہو سکتا ہے. بقراط نے کہا، حضور، ہمارے ملکوں کی جمہوریت اور موجودہ سیاست اتنی سخت آزمائیش سے گزرنے کی متحمل نہیں ہے، خدارا کچھ رحم کیجیے، جمہوریت کی عمرِ شباب کا ہی کچھ خیال کیجیے. اور یہ نہ بھولیے گا کہ بہت بڑی خَلقت ہے جو جمہوریت کی محبت میں گرفتار ہے. فرمایا، پتہ ہے. خلقت بھی یہی کہہ رہی ہے کہ. "مست شباب وہ ہیں، میں سر شار عشق ہوں......میری خبر انھیں ہے، نہ ان کی خبر مجھے ". اگر مذکورہ اصول ناقابل قبول یا ناقابل نفاذ ہے تو پھر جمہوریت میں سیاست کو خالص تجارتی نقطہء نظر سے دیکھا جائے اور بطور تجارت اسے قبول کیا جائے . ہر امید وار اپنے "مینیفیسٹو" میں جدید تجارت کے اصولوں کے تحت پروجیکٹ کا تخمینہ پیش کرے جسکا وہ وعدہ کر رہا ہے، آخر جدید تجارت میں یہی تو ہوتا ہے. ویسے بھی آجکل سیاست سرمایہ داروں اور دولتمندوں کی کنیز بنکر رہ گئی ہے. اپنے سرمایہ دار آقاؤں سے تجارت کے پینترے سیکھ کر کھل کر تجارت کے کھیل کھیلیے . وقت اور ذرائع، فواید و نقصانات، حصہ داری اور ذمہ داری، اجزائے ترکیبی و ترتیبی، الغرض تجارت کے ہر ایک پہلو سے منظم و مرتب لائحہ عمل عوام کے سامنے پیش کیجیے، تاکہ امیدوار کی قابلیت کا اندازہ ہو اور عوام کی بھلائی اور ترقی یقینی ہو . پل بنانا، بجلی فراہم کرنا، آبپاشی کے منصوبے بنانا، نئے شہر بسانا، تعلیم اور صحت عامہ کا انتظام کرنا، صنعت و حرفت کو فروغ دینا اور ایسے ہی دیگر عظیم الشان کام کرنے کا ذمہ اٹھانے والوں اور دعوی کرنے والوں کا ذرا پس منظر تو دیکھیے، خاص کر بر صغیر میں. ایسے کاموں کو گڑیوں کا کھیل یا بچوں کا "بلڈنگ بلاک" سمجھ رکھا ہے اور جمہوریت کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے. اکثر سیاسی امیدوار ایسے کاموں کی بنیادی معلومات تک نہیں رکھتے اور اس پر طرا یہ کہ جمہوریت پر سوار ہو کر کرتب دکھاتے ہیں، اور جب جب ان میں سے کوئی گر پڑتا ہے تو یہی کہتا ہے کہ "مجھکو یہیں اترنا تھا".





