بے گناہ قیدیوں کی افطار پارٹی : جنہیں خطرناک قرار دیا گیا تھا وہ انسانیت کے درد کا مداوا کرنے نوجوان ہیں
ممبئی : ممبئی کے مضافات کا کرلا ایک ایسی افطار پارٹی کا گواہ بنا جس میں بے گناہ قیدیوں کی بڑی تعداد مدعو تھی ۔ اس افطار پارٹی کا مقصد بے گناہ محروسین کے ساتھ اظہار یکجہتی تھا۔ جس کا اثر اظہار خیال کرنے والوں کے الفاظ میں صاف طور سے دیکھا جاسکتا تھا ۔ افطار پارٹی میں ان غیر مسلموں کو بھی مدعو کیا گیا تھا جو عدم مساوات اور ظلم زیادتی کیخلاف ہمیشہ سے برسر پیکار ہیں۔ بے گناہ قیدیوں کی روداد سننے کے بعد یہ محسوس ہوا کہ جن نوجوانوں پر سنگین الزامات عائد کرکے انہیں انسانیت کیلئے خطرناک قرار دیا گیا تھا ، وہ تو ملک و قوم اور انسانیت کے وہ جوہر ہیں جن آج کے اس جنگ و جدل کے دور میں بہت زیادہ ضرورت ہے ۔
بھیما کورے گائوں معاملہ میں بے گناہ ماخوذ کئے گئے افراد میں رونا ولسن بھی مدعو تھے لیکن وہ طبیعت کی ناسازی کی
وجہ سے شریک محفل نہیں ہوسکے لیکن انہوں نے اپنا مختصر پیغام بھیجا جسے سنایا گیا ۔ انہوں نے اپنے پیغام میں لکھاتھا ’’ رمضان کے مقدس مہینے میں کسی اجتماعی افطار اور سیمینار کی دعوت میرے لیے باعثِ اعزاز تھا۔ یہ تقریب اُن بے شمار افراد کے لیے آگاہی پیدا کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی تھی جو بے گناہ ہونے کے باوجود بھارتی جیلوں میں سڑ رہے ہیں،وہ عام شہری جو ناحق قید و بند کا شکار ہیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے نظامِ انصاف خود انصاف سے روزہ رکھے ہوئے ہو، جبکہ بدعنوانی اس میں پل رہی ہے‘‘۔اسٹیج پر موجود مقررین نے اپنی قید کے دوران گزرنے والی ہولناک داستانیں سنائیں۔ولسن نے آگے کہا ’’ یہ پروگرام مسلمانوں کے لیے سماجی بیداری کا پیغام تھا اور اس حقیقت کا ادراک بھی کہ کس طرح اس کمیونٹی کو دہشت گرد، قانون شکن یا ’معاشرے کا ناسور‘قرار دے کر بدنام کیا جاتا ہے‘‘۔
پروگرام کے کنوینر ایڈوکیٹ عبد الواحد شیخ نے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ محض افطار کا اہتمام نہیں
بلکہ انصاف، آئینی حقوق اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے ایک سنجیدہ اور بامقصد کوشش ہے۔ انہوں نے سیاسی قیدیوں کے مسائل، قانونی پیچیدگیوں اور موجودہ حالات پر گفتگو کی اور اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں انصاف کی فراہمی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئینی دائرے میں رہتے ہوئے ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کی جاتی رہے گی۔یہ پروگرام سماجی شعور، انسانی ہمدردی اور باہمی یکجہتی کے فروغ کی ایک مؤثر کاوش ثابت ہوگا۔یہ وقتی پروگرام نہیں بلکہ ایک بیدار تحریک اور مسلسل جاری رہنے والی کوشش ہے۔ اس کا مقصد وقتی جذبات ابھارنا نہیں بلکہ انصاف، انسانی حقوق اور آئینی اقدار کے تحفظ کے لیے مستقل جدوجہد کو آگے بڑھانا ہے۔ یہ سفر رکے گا نہیں، بلکہ مزید مضبوط عزم اور اتحاد کے ساتھ جاری رہے ۔
اسٹیج پر وہ افراد موجود تھے جو خود ناانصافی کا شکار بنے، جن میں ایک ایسا کیس بھی شامل تھا جو تقریباً دو دہائیوں تک
جاری رہا۔رولنا ولسن نے اپنے پیغام کو اس طرح لکھا جیسے وہ اسی محفل میں ہوں ۔ ان کے الفاظ ہیں’’ اس ظلم و ستم کے دوران بعض افراد نے اپنی اذیت ناک جیل کی زندگی کو تعمیری انداز میں استعمال کیا اور قانون کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے جیل میں گزارے گئے وقت کو ایک تعلیمی سفر میں بدل دیا تاکہ وہ اپنے ساتھی قیدیوں کی مدد کر سکیں۔ رہائی کے بعد انہوں نے معاشرے کی خدمت اور ایک غیر منصفانہ قانونی نظام میں انصاف کے لیے بلا معاوضہ جدوجہد کرنے کا عہد کیا۔ ان میں سے ایک میرے دوست اور بھائی، ایڈووکیٹ وحید شیخ بھی ہیںجو ایک ظالمانہ اور غیر منصفانہ نظام کا شکار رہے‘‘۔سیمینار کا آغاز اسلامی دعاؤں اور افطار سے قبل پڑھی جانے والی مسنون دعاؤں سے ہوا۔ اس موقع پر ذہن میں یہ خیال آیا کہ کتنی دعائیں عدالتوں میں انصاف کی منتظر ہیں۔ اس اجتماع نے مجھے اس کمیونٹی کے اللہ پر ایمان اور قرآن کی تعلیمات پر یقین کا احساس دلایا، جس نے انہیں حوصلہ، امید اور یقین عطا کیا کہ ’’اللہ کے دربار میں دیر ہے، اندھیر نہیں‘‘۔یہ نشست میرے لیے روشنی اور آگہی کا باعث بنی۔ مجھے احساس ہوا کہ اگر میں صاحبِ اختیار اور صاحبِ حیثیت ہوتے ہوئے بھی مظلوموں کی مدد کے لیے آگے نہ بڑھوں تو یہ خود ایک ناانصافی ہے۔میں ایک اندھے قانونی نظام سے انصاف کی کیسے توقع رکھ سکتا ہوں، اگر خود اپنے اردگرد ہونے والی ناانصافی سے آنکھیں بند رکھوں؟
بے گناہوں کی مدد کیلئے بے لوث خدمات انجام دینے والے صادق قریشی نے بتایا کہ ’’زنداں کی زندگی نے ہماورے حوصلوں و
جرات میں اضافہ کیا جس کی وجہ سے ہم آج ہم مظلوموں کی حمایت میں کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا جب آپ مظلوموں کی حمایت میں کھڑے ہوتے ہیں تو ڈرنے کی بالکل ضرورت نہیں ، آپ کو ڈرایا جائے گا لیکن ڈرے بغیر کھڑے رہنا ہی ہماری جد و جہد کاحصہ ہے ۔ ایڈووکیٹ ونود پاٹل نے جیل گئے قیدیوں کی قانونی مدد کیسے کریں پر حاضرین کو خطاب کیا ۔ساجد انصاری بیس سال کی قید کے بعد رہا ہوئے ہیں انہوں نے بتایا ہوش سنبھالنے کے بعد بیس رمضان جیل میں گزارے یہ اکیسواں رمضان ہے جو آپ لوگوں کے ساتھ ہوں ۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں ہم اس لئے اکٹھا ہوئے ہیں کہ قیدیوں کے درد کو سمجھ سکیں ۔ ہمیں چاہئے کہ اگر ہم کچھ زیادہ نہیں کرسکتے تو قیدیوں کے گھر والوں سے ملاقات کرکے ان کو حوصلہ دیں ان کی مدد کریں۔ ناگہانی حالات میں یہ حوصلہ ہی ہے جو نا انصافی سے لڑنے میں مدد کرتا ہے ۔انہوں نے کہا گرچہ قید کی زندگی کا تجربہ کچھ اچھا نہیں ہوتا لیکن ایک بات تو ہے کہ وہاں اتنا فاضل وقت ملتا ہے جس میں سوچنے سمجھنے اور مطالعہ بہتر ڈھنگ سے ہوتا ہے ۔ ہمارے بہت سے قیدی ساتھیوں نے قید میں رہتے ہوئے ایل ایل بی اور کئی کئی ایم بی اے کورس مکمل کیا۔ انہوں نے مزید کہا آزادی ایک نعمت ہے اس کی قدر کریں۔ بے گناہ قیدیوں کی مدد کریں معاشرے کیلئے مثبت پہل کریں ۔
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
0 comments: