مرحوم شاہ عبد اللہ کے سیاسی فیصلے اور مشرق وسطیٰ کا بحران!

2:41 PM nehal sagheer 0 Comments


عالم اسلام کے مسلمانوں کا سعودی عرب کے حکمرانوں سے جذباتی لگاؤ رہا ہے ،اس کی وجہ یہ رہی ہے کہ اس سرزمین کو خانہ کعبہ کی وجہ سے اللہ نے مسلمانوں کے لئے مقدس قرار دیا ہے۔یہی وہ سرزمین ہے جہاں مسلمانوں کے رسول حضرت محمد ﷺ بھی مبعوث ہوئے اور یہیں سے آپ ﷺ نے پہلی بار دعوت اسلامی کا آغاز کیا جو بعد میں ایک عالم گیر تحریک کی شکل اختیار کرتے ہوئے یوروپ اور ہندوستان کے علاقوں تک پھیل گئی اور تقریباً ایک ہزار سال تک پوری دنیا میں اسلامی تہذیب اور اسلامی قانون کا غلبہ رہا۔ تاریخ میں ایک دور ایسا بھی آیا جب سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد اقوام یوروپ نے تمام عرب علاقوں پر قبضہ کرلیا اور پھر اپنے مطلب کے جنرلوں اور نوابوں کو عرب کے مختلف علاقوں کا بادشاہ بناکر اسلامی خلافت کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا ۔حجاز کے بھی ایک بہت بڑے علاقے پر خاندان سعود کا قبضہ ہو گیا اور یہ لوگ اس علاقے کے بادشاہ قرار پائے ۔اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سعود خاندان نے باوجود سیاست کے اسلام کے شرعی نظام کو جاری رکھا اور باقاعدہ آج تک جاری ہے جبکہ عراق ،شام ،مصر اور لبنان وغیرہ کے حکمرانوں نے اشتراکیت اور مغربیت سے متاثر ہو کر لبرل طرز سیاست کو رائج کیا اور خود ترکی جو کہ خلافت اسلامیہ کا مرکز ہوا کرتا تھا ،مصطفیٰ کمال پاشا جو کہ ایک فوجی جنرل تھا جب اسے اقتدار حاصل ہوا تو اس نے خلافت اسلامیہ کے سارے نام و نشان کو مٹا ڈالا اور یہ وہ پہلا مسلم ملک تھا جس نے اسرائیل کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی جرات اور پہل کی۔یا یوں کہہ لیجئے کہ بیسویں صدی کا ایک بہت بڑا حصہ پوری طرح امت مسلمہ کے لئے ذلت اور رسوائی کا رہا ہے اور خود ترکی ،مصر ،شام تیونس اور ایران کے حکمرانوں نے ہر اس تحریک پر جبر و تشدد کے پہاڑ توڑے جنہوں نے اسلامی تہذیب و تمدن اور ثقافت کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی ۔خاص طور سے اس پورے علاقے میں تحریک اخوان المسلمون کے بانیوں اور ان کے کارکنان کو جیلوں میں قید کرکے پھانسی کی سزادی گئی اور اس تحریک کے بیشتر ارکان کو جلاوطنی کی زندگی گزارنی پڑی ۔ایسے میں سعودی عرب کے حکمرانوں نے نہ صرف اخوانیوں کو پناہ دی بلکہ انہیں ہر طرح کی مدد اور تعاون بھی اس ملک کے عوام سے ملتا رہا ہے۔ممکن تھا کہ شاہ فیصل مرحوم دیگر مسلم ممالک کے تعاون سے اس علاقے کا نقشہ بدل دیتے مغرب اور اسرائیل نے ان کی نیت کو بھانپتے ہوئے انہیں راستے سے ہٹادیا اور وہ اپنے بھتیجے کی تلوار سے ہی جام شہادت نوش فرماگئے ۔
یہ سچ ہے کہ قوم یہود جو کہ انقلاب فرانس سے لے کر پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے مصنف اور موجد رہے ہیں اور جن کا نصب العین تھا کہ وہ کسی طرح بیت المقدس جسے وہ ہیکل سلیمانی کہتے ہیں اس پر قابض ہو جائیں ۔وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی رہے ۔وہ یہ کیسے برداشت کرسکتے ہیں کہ جس ریاست کو قائم کرنے کے لئے انہوں نے انقلاب فرانس سے لے کر دوسری جنگ عظیم تک سات کروڑ انسانوں کا خون کیا ہے اسے حاصل کرنے کے لئے کوئی صلاح الدین ایوبی پھر سے زندہ ہو جائے ۔اپنے اسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اسرائیل اور قوم یہود نے پوری مغربی دنیا اور خاص طور سے امریکہ کو یر غمال بنا رکھا ہے اور آج بھی وہ مغرب کو افغانستان سے لیکر عراق وغیرہ میں الجھانے کی کوشش کررہا ہے تاکہ مسلمان اور مسیحی دنیا ایک دوسرے کے خلاف متصادم ہوتے رہیں اور وہ اپنا الو سیدھا کرتا رہے۔شاید اسی لئے سعودی عرب اور اس علاقے کے مسلم حکمرانوں پر ان کی خاص نظر رہی ہے کہ یہ لوگ کن ممالک سے کس طرح رابطے میں ہیں اور ان کے اتحاد سے کہاں تک ریاست اسرائیل کے مفاد کو نقصان سکتا ہے ۔ہم نے دیکھا بھی ہے کہ شاہ فیصل اور ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر ضیاء الحق اور صدام حسین جو ان کے قبضے اور دام میں نہیں آسکے انہیں کس طرح راستے سے ہٹادیا گیا یا پھر مرحوم آیت اللہ خمینی اور ایران ان کی غیر فطری سازش کا شکار نہیں ہو پائے تو بھی عالمی سطح پر انہوں نے ایران کی حیثیت کو بھی بے وقعت بنادیا ہے اور ان وہ خود اپنے مسلکی مفاد کے تئیں مشرق وسطیٰ میں الجھ کر رہ گیا ہے ۔ عالم اسلام کے مسلمانوں کی یہ بد قسمتی رہی ہے کہ جن مسلم ممالک سے انہوں نے خیر کی امیدیں وابستہ کررکھی تھیں یا جہاں سے وہ مسلم قیادت اور خلافت کی خوشبو محسوس کررہے تھے بعد کے دنوں میں یہ ممالک اور ان کے حکمراں اسرائیل اور قوم یہود کے مفاد کا کھلونا بن گئے ۔ایک ایسے وقت میں جبکہ یوروپ اورامریکہ میں اسرائیل کے خلاف بے چینی کی فضا صاف طور پر نظر آرہی تھی اور یہ حکمراں ان حالات کا فائدہ بھی اٹھا سکتے تھے ایسے میں شاہ عبد اللہ کی بے بصیرتی نے سب کچھ ملیامیٹ کردیا اور سعودی حکومت کی تاریخ میں یہ وہ پہلے حکمراں ہوں گے جن کی موت پر عالم اسلام کو کوئی افسوس نہیں ہوا ۔جبکہ شاہ فہد کے زمانے میں ہی ان کی امریکہ مخالف ذہنیت اور تعلیمی لیاقت کی وجہ سے عالم اسلام کو ان سے یہ امید وابستہ تھی کہ وہ اپنی حکمرانی میں کوئی انقلابی قدم ضرور اٹھائیں گے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے بہت سارے اقدامات اور سیاسی فیصلے کئے بھی ،جن میں ایک فیصلہ تو یہ تھا کہ انہوں نے خفیہ طریقے سے امریکہ کو یہ پیغام بھیجا کہ وہ ایران کے جوہری تنصیبات پر حملہ کردے مگر جب امریکہ نے ان کی اس پیشکش کو ٹھکرادیا تو انہوں نے پہلی بار امریکہ کو نظر انداز کرتے ہوئے روس اور چین کی کمپنیوں کے ساتھ سعودی عرب کے تیل کے کنوؤں سے تیل نکالنے کا تجارتی معاہدہ کرنے کی جرات دکھائی اور امریکہ کو اشارہ دیا کہ وہ امریکہ کے بغیر بھی اپنا کاروبار چلاسکتے ہیں ۔ایک ایسے وقت میں جبکہ امریکہ معاشی بدحالی کے دور سے گذر رہا تھا اور یہ وہی ملک ہے جس نے سعودی عرب میں تیل کا خزانہ ڈھونڈ کر اس ملک کی قسمت بدل دی تھی ،اگر اس ملک کا کوئی حکمراں مشکل حالات میں اس کے دشمن ممالک کو فائدہ پہنچائے تو کیا اسے اچھا لگ سکتا ہے۔مگر امریکہ کی اپنی مجبوری بھی یہ تھی کہ وہ سعودی عرب کے اس فیصلے پر احتجاج بھی نہیں کرسکتا تھا ۔مگر کہتے ہیں کہ عقلمند اور دانا دشمن اپنے غصے کا اظہار بھی براہ راست نہیں کرتا ،وہ موقع کی تلاش میں رہتا ہے ۔اسی طرح خود امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ادھر حال میں جو تلخیاں ابھر کر سامنے آئیں اس کی وجہ یہودی سرمایہ داروں کا بھی وہی فیصلہ تھا جو انہوں نے اپنی صنعتوں کو امریکہ کے بجائے روس اور چین میں قائم کرنا شروع کردیا ۔اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ وہ یوروپ اور امریکہ کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال اور یہودیوں کے خلاف عوامی بیداری سے واقف ہو چکے تھے ،جنہوں نے یہودی تنظیموں کی ساری جدو جہداور اشتہاری پروپگنڈے کے باوجود یہود مخالف صدر اوبامہ کو منتخب کیا ۔خود یہودی سرمایہ دار الیکشن سے پہلے اوبامہ کے اس عہد اور وعدے سے بھی خوش نہیں تھے کہ اگر وہ صدر منتخب ہو ئے تو افغانستان اور عراق سے اپنی افواج واپس بلالیں گے۔اسرائیل نے امریکہ کو متنبہ بھی کیا کہ اس طرح اسرائیل غیر محفوظ ہو جائے گا اور خطے میں اسلام پسندوں کو تقویت حاصل ہو سکتی ہے ۔یہاں پر امریکہ نے جس طرح ایران پر حملے کے لئے سعودی حکمراں عبد اللہ کی اپیل کو ٹھکرادیا اسرائیل کو بھی عراق سے امریکی فوجوں کی واپسی سے مایوس ہونا پڑا۔
بالآخر اسرائیل کا خوف یقین میں بدل گیا اور ۲۰۱۱میں عراق سے امریکی فوجوں کی واپسی کے بعد ہی اسرائیل اور سعودی عرب کے کئی مشترکہ دوست بہار عرب کے پت جھڑ کا شکار ہو گئے ۔امریکہ نے جان بوجھ کر خاموشی اختیار کرتے ہوئے خود کو مشرق وسطیٰ کے اس بحران سے الگ کرلیا یا ایسا ہونے دیا ۔بد قسمتی سے مصر میں اسرائیل اور سعودی عرب کو جو خطرہ تھا وہی ہو ایعنی اخوان اقتدار میں آگئے اور اللہ کے دونوں قبلے کی حفاظت کرنے والی سلطنتوں کا اقتدار ڈولنے لگا ۔حالانکہ اگر قطر اور ترکی کی طرح شاہ عبد اللہ نے مصر کے اس انقلاب کی حمایت کی ہوتی تو یہ ان کے حق میں ہی بہتر ہوتا مگر کہتے ہیں کہ جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف بھاگتا ہے یا اس کی عقل ماری جاتی ہے ۔شاہ عبد اللہ نے سعودی عرب کے سابق حکمرانوں کی روایت کو توڑتے ہوئے کھل کر مصری فوج کی بغاوت کی تعریف کی اور مالی امداد بھی فراہم کی ۔یہاں پر یہ کہنا بہتر ہوگا کہ انہوں نے اسلام کی بجائے کفر اور دشمن کے ساتھ تعاون کیا جس کا نتیجہ خود سعودی حکومت کے بھی حق میں اچھا نہیں ہوا اور تقریباً ایک سال بعد اسرائیل اور سعودی حکومت دونوں کی دہلیز پر داعش اخوان سے بھی زیادہ طاقتور خطرے کے طور پر ابھر کر آئے ہیں اور کہا جاسکتا ہے کہ شاہ عبد اللہ کے غیر دانشمندانہ سیاسی فیصلے نے پورے مشرق وسطیٰ کو آگ اور خون کے میدان میں تبدیل کردیا ۔شاہ عبد اللہ کا ایک کارنامہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے جس نفرت کی ریاست کے ساتھ تعاون کیا ان کی وجہ سے اسلامی تاریخ میں پہلی بار کسی مسلم ملک میں باپردہ مسلم خواتین کو ہتھکڑیاں لگا کر جیلوں میں ڈالا گیا اور وہ مرد مجاہد جنہیں مصری حکومت نے موت کی سزا سنائی ہے ان کا قصور یہ ہے کہ وہ انسانوں کو انسانوں کی غلامی اور ظالمانہ قانون سے آزاد کرواکر اللہ کی رحمت میں داخل کرنا چاہتے تھے ۔شاہ عبد اللہ اپنے اس گناہ کی تلافی کے لئے تو اب اس دنیا میں نہیں رہے ۔لیکن اگر انہوں نے مسلمانوں کے حق میں کوئی کام کیا ہے تو اللہ انہیں مصر کے ان معصوم اور مظلوم مسلمانوں کی بد عا سے محفوظ رکھے ! (دی انڈین پریس)
عمر فراہی۔ موبائل۔  09699353811 ای میل umarfarrahi@gmail.com

0 comments: