Muslim Issues,

اقلیتی کمیشن کے چیئرمین پیارے خان سے جماعت اسلامی ہند کے وفد کی ملاقات ، اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کی روک تھام اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے اقلیتی فلاح کمیٹی کے قیام سے متعلق گفتگو

4:22 PM nehal sagheer 0 Comments

 


ناگپور : (13 اکتوبر 2025) ریاستِ مہاراشٹر میں اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت کے پیشِ نظر جماعتِ اسلامی ہند، حلقۂ مہاراشٹر اور فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس کا ایک نمائندہ وفد آج مہاراشٹر اسٹیٹ مائنارٹی کمیشن کے چیئرمین پیارے خان سے ناگپور میں ملا ۔

وفد نے پیارے خان کو ریاست بھر میں اقلیتوں کے ساتھ پیش آنے والے حالیہ افسوسناک واقعات، گئو رکشکوں کی غنڈہ گردی، اور مختلف علاقوں میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز فضا سے آگاہ کیا۔

اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ایسے واقعات پر بروقت اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو ریاست میں خوف و ہراس اور عدمِ اعتماد کا ماحول پیدا ہو جائے گا، جو مہاراشٹر کی گنگا جمنی تہذیب کے ساتھ ہی ریاست کی ترقی کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو گا۔

وفد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ:

          1.       گئو رکشک کے نام پر ہونے والی غنڈہ گردی پر فوری طور پر روک لگائی جائے۔

          2.       وزیرِاعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام کو مؤثر طور پر روبہ عمل لانے کے لیے ضلع سطح پر (اقلیتی فلاح کمیٹی) قائم کی جائے۔

          3.       اقلیتوں کے تحفظ، انصاف اور فلاح کے لیے ایک ریاستی مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی جائے جو براہِ راست اقلیتی کمیشن سے رابطہ میں رہے۔

پیارے خان نے وفد کی باتوں کو نہایت سنجیدگی اور غور سے سنا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی سطح پر اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی خصوصی اقدامات کر رہے ہیں، اور ان امور پر تیزی سے عمل درآمد کی کوششیں جاری ہے ۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وفد کی جانب سے پیش کیے گئے تمام نکات پر غور کر کے انہیں حکومتِ مہاراشٹر تک مؤثر انداز میں پہنچایا جائے گا۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ پیغام دیا کہ مسلمان جذباتیت کا شکار نہ ہوں بلکہ امن و بھائی چارہ قائم رکھنے کے لیے مثبت کردار ادا کریں تاکہ ریاست میں امن و امان برقرار رہے۔

وفد میں عبدالحسیب بھاٹکر (معاون امیرِ حلقہ، جماعت اسلامی ہند، مہاراشٹر)، شیخ عبدالمجیب (کنوینر، فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس)، فرید شیخ (صدر، امن کمیٹی ممبئی)، ڈاکٹر انوار (ناظم شہر، جماعت اسلامی ہند، ناگپور)، اور عمر خان (سیکریٹری، جماعت اسلامی ہند، ناگپور) شامل تھے ۔

0 comments: