International,

صہیونیت کا زوال: ایک متشدد نظریے کا تاریخی احتساب : فلسطین: شبِ ظلمت سے طلوعِ سحر تک

4:14 PM nehal sagheer 0 Comments


 اسماء جبين

لوحِ جہاں پر رقم کی گئی ہر داستانِ عروج و زوال، اوراقِ عبرت کا ایک ایسا مجموعہ ہے جہاں عدل و جور اور حق و باطل کی کشمکش ہر سطر سے عیاں ہے۔ لیکن جب نگاہ بابِ فلسطین پر آ کر ٹھہرتی ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہاں شبِ ظلمت کچھ زیادہ ہی دراز ہے، اور انسانیت کا نوحہ کچھ زیادہ ہی جاں گداز۔ دیارِ فلسطین کا المیہ کوئی ناگہانی حادثہ نہیں، بلکہ یہ اُس منصوبہ بند سیاست کا منطقی انجام ہے جس کی بنیاد بیسویں صدی کے اوائل میں اعلانِ بالفور (1917ء) کی صورت میں رکھی گئی۔ یہ مغربی استعمار کا وہ پیمانِ جور تھا جس نے ایک ایسی قوم کی پیٹھ میں خنجر گھونپا جس کی ملکیت میں نہ وہ زمین تھی، نہ اس کے باشندوں کی تقدیر پر کوئی اختیار۔

پھر برطانوی انتداب (Mandate) کے زیرِ سایہ، طاقت اور قانون کی ایسی شعبدہ بازی عمل میں لائی گئی جس کا واحد مقصود زمین کو بے روح نقشوں میں اور انسان کو بے وقعت اعداد و شمار میں بدل دینا تھا۔ تقسیمِ فلسطین (1947ء) کا فیصلہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا، جس نے بے انصافی کو عالمی جواز کا فریب کار جامہ پہنایا۔ بالآخر 1948ء میں وہ قیامت برپا ہوئی جسے اہلِ فلسطین "النکبہ" یعنی "عظیم تباہی" کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ سات لاکھ پچاس ہزار سے زائد نفوس کو اُن کے آبائی گھروں، لہلہاتے کھیتوں اور زیتون کے باغوں سے جبراً بے خانماں کر دیا گیا، اور پانچ سو سے زائد بستیاں صفحۂ ہستی سے حرفِ غلط کی طرح مٹا دی گئیں۔

ان تمام مراحل کے پسِ پردہ جو نظریہ ایک مرکزی قوت کے طور پر کارفرما رہا، وہ صہیونیت ہے۔ یہ ایک ایسی جدید سیاسی فکر ہے جس نے استعمار کی منطق، نسلی برتری کے پندار اور عسکری طاقت کے زعم کو باہم آمیخت کر کے ایک نیا مرکب تیار کیا۔ اس نظریے نے طاقت کے بل پر حقیقتیں تراشنے کو اپنا بنیادی اصول بنا لیا اور یوں انسان اور زمین کے اس مقدس رشتے کو پامال کرنا ایک معمول ٹھہرا۔ اس تاریخی جبر کی قیمت فلسطینی عوام نے اپنی جان، اپنی زمین اور اپنی تہذیبی شناخت کی صورت میں ادا کی ہے، اور یہ قرض آج تک چکایا جا رہا ہے۔

اسی الم ناک داستان کا سب سے کربناک باب غزہ کی پٹی ہے، جو آج عالم کی سب سے بڑی محبس گاہ (Open-Air Prison) کا منظر پیش کرتی ہے۔ 1967ء سے قابض عسکری نظام نے اس خطے کو ایسی پیچیدہ انتظامی و فوجی بندشوں میں جکڑ رکھا ہے کہ یہاں سانسوں کی ڈور بھی قابض کی مرضی سے بندھی ہے۔ 2007ء سے مسلط کردہ زمینی، فضائی اور بحری محاصرے نے دو ملین سے زائد انسانوں کی زندگی کو قیدِ بے میعاد بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی انسانی قانون "اجتماعی سزا" کو قطعی طور پر ممنوع قرار دیتا ہے، لیکن اس اصول کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے پانی، بجلی، خوراک اور ادویات جیسی بنیادی ضروریات کو بارہا سیاسی دباؤ کے ایک بے رحم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔

2008ء سے لے کر 2025ء کے اوائل تک غزہ پر مسلط کی جانے والی پے در پے جنگوں نے یہ ثابت کر دیا کہ جب جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی کو ایک محصور اور کمزور آبادی کے خلاف بے دردی سے آزمایا جائے تو جنگی اخلاقیات اور انسانیت کے تمام دعوے ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور خود اسرائیلی تنظیم "بتسیلم" کی تازہ ترین رپورٹیں اس امر پر شاہد ہیں کہ مغربی کنارے سے لے کر غزہ تک ایک ایسا ادارہ جاتی امتیازی نظام قائم ہے جس میں غیر قانونی آبادکاری اور جبری الحاق ایک منظم ریاستی پالیسی کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اکتوبر 2023ء سے جنوری 2025ء کے دوران چالیس ہزار سے زائد فلسطینیوں کی شہادت، جن میں سترہ ہزار سے زائد معصوم بچے شامل تھے، اور نوے فیصد آبادی کی بے گھری، اس قیامت کی محض ایک جھلک ہے۔

تاہم، تاریخ کا پہیہ ہمیشہ ایک سمت نہیں گھومتا۔ 2024ء اور 2025ء وہ سال تھے جب قانون کے بے جان حروف نے گویا زبان پائی۔ بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے اپنے مشورتی فیصلے میں اسرائیلی قبضے کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا، اور بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نومبر 2024ء میں اسرائیلی وزیرِ اعظم اور سابق وزیرِ دفاع کے خلاف وارنٹِ گرفتاری جاری کر کے یہ ثابت کر دیا کہ کوئی منصب قانون سے بالاتر نہیں۔ یہ تاریخی پیش رفت اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ اصل مسئلہ حملہ اور جوابی حملہ نہیں، بلکہ وہ منظم نظامِ جبر ہے جس کا احتساب اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

اسی دوران، ضمیرِ عالم کی بیداری نے ایک نئی کروٹ لی۔ 2025ء تک اقوامِ متحدہ کے 157 ممالک فلسطین کو بطورِ ریاست تسلیم کر چکے تھے، جن میں فرانس، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے بڑے یورپی ممالک کی شمولیت نے عالمی سیاسی منظرنامے کو یکسر بدل دیا۔ دنیا بھر کی جامعات سے اٹھنے والی صدائیں اور شہر شہر میں ہونے والے لاکھوں کے عوامی مظاہرے اس بات کا ثبوت تھے کہ فلسطین کا مقدمہ اب محض ایک خطے کا نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے اجتماعی ضمیر کا مقدمہ بن چکا ہے۔

طاقت کے توازن میں فیصلہ کن تبدیلی جون 2025ء کی چودہ روزہ ایران-اسرائیل جنگ سے رونما ہوئی، جس نے صہیونیت کے عسکری تفوق کا طلسم توڑ دیا۔ اس جنگ نے نہ صرف خطے کی فوجی مساوات کو بدلا بلکہ اس سیاسی غرور کو بھی خاک میں ملا دیا جو دہائیوں سے ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے داخلی سیاسی بحران نے خود اسرائیلی ریاست کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آج صہیونیت، جو کبھی ایک غالب استعماری نظریہ تھا، اپنے زوال کی دہلیز پر کھڑی ہے۔ فلسطینیوں کی بے مثال مزاحمت، بین الاقوامی قانون کا بڑھتا ہوا دباؤ، عالمی رائے عامہ کی تبدیلی اور خطے کی بدلتی ہوئی حقیقتوں نے مل کر اس نظریے کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں اہلِ غزہ کی استقامت اور شہداء کی قربانیاں ایک عظیم تاریخی معنویت اختیار کر لیتی ہیں۔ وہ مائیں جن کے ہاتھوں میں بچوں کے لیے دودھ کے خالی ڈبے تھے مگر قدم امید کی تلاش میں آگے بڑھتے رہے؛ وہ صحافی اور طبی عملے کے ارکان جو موت کے سائے میں بھی فرض اور حقیقت کا علم بلند رکھے ہوئے تھے؛ اور وہ شہداء جنہوں نے اپنے لہو سے غفلت کے پردے چاک کر دیے—یہ سب ہمارے عہد کے ماتھے پر ایک انمٹ سوال ہیں۔ طاقت کے بیانیے نے دہائیوں تک "سلامتی" کی آڑ میں ظلم کے ڈھانچے کو چھپائے رکھا، مگر غزہ کے معصوموں کے خون نے اس حقیقت کو آفتاب کی طرح روشن کر دیا ہے کہ جب ظلم ایک ادارہ بن جائے تو اسے روکنے کے لیے محض مذمت کے الفاظ کافی نہیں ہوتے، بلکہ قانون کی حکمرانی اور اخلاق کی شہادت لازم آتی ہے۔

یہاں یہ نکتہ پوری وضاحت سے ذہن نشین رہنا چاہیے کہ ہدفِ تنقید یہودیت بحیثیت دین یا یہودی عوام بحیثیت قوم ہرگز نہیں۔ ہمارا ہدف وہ سیاسی نظریہ ہے جسے "صہیونیت" کہا جاتا ہے، جس نے نوآبادیاتی فکر کے ساتھ نسلی تفاخر کو ملا کر ظلم کو ایک معمول بنا دیا ہے۔

پس، اس عقدے کا حل کیا ہے؟ راہِ نجات تین اصولوں پر مبنی ہے: اول، بیانیے کی تطہیر، تاکہ تنقید کا نشانہ صہیونیت بنے، نہ کہ کوئی مذہب یا قوم۔ دوم، قانون کا بے لاگ نفاذ، تاکہ جنگی جرائم کے مرتکب، خواہ کتنے ہی طاقتور ہوں، انصاف کے کٹہرے میں لائے جائیں۔ سوم، سیاسی حل کا احیاء، جس کی ابتدا غزہ کے محاصرے کے خاتمے سے ہو اور انتہا ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر، جس کی قیادت خود فلسطینیوں کے ہاتھ میں ہو۔

آخر میں یہ امر واضح رہے کہ ہمارے لہجے کی یہ تندی و تیزی، انصاف کی نرمی اور اخلاق کی حرمت کی پاسبانی کے لیے ہے۔ ہمارا اختلاف ہر اُس فکر سے ہے جو نفرت کا بیج بوتی ہے اور نسل و مذہب کی دیواریں کھڑی کر کے وحدتِ انسانی کو پارہ پارہ کرتی ہے۔ اہلِ غزہ نے اپنے خون سے تاریخ کی پیشانی پر یہ ناقابلِ تردید حقیقت رقم کر دی ہے کہ تخت و تاج کا جبر عارضی ہے، لیکن آزادی کی تڑپ اور انصاف کی طلب ابدی ہے۔ ظلم کی رات کا مقدر فنا ہے، چاہے وہ کتنی ہی پھیل کیوں نہ جائے، اور خدا کی اس زمین پر وہ صبح ضرور نمودار ہوگی جب ارضِ زیتون کی فضائیں امن کے نور سے منور ہوں گی۔


(اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اُردو، یشونت رائو چوان آرٹس و سائنس مہا ودیالیہ، منگرول پیر، ضلع واشم، مہاراشٹر) 

0 comments: