دورِ حاضر کی چند اصلاحی تحریکیں

6:39 PM nehal sagheer 0 Comments

پروفیسر محسن عثمانی ندوی
دورِ حاضر کی چند اصلاحی تحریکیں
ظلمت میں کچھ چراغ فروزاں ہوئے تو ہیں

وہ مثالی عہد جسے خیر القرون کہا گیاہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ہے، اس کے بعد خلفائے راشدین کا عہد ہے۔ اس پورے عہد میں اسلام کا سورج درخشاں تھا، عبادت اور روحانیت اور اخلاقی قدروں سے لے کر حکومت اور اقتدار اور غلبہ واستیلا، یعنی اسلام کا پورا نظام کار آفریں اور کارگر تھا۔ اسلام کا پورا نظام حیات کامل شکل میں بعد کی صدیوں میں باقی نہیں رہا، اسلام کے چمن میں پھول کھل رہے تھے لیکن بہت سے غنچے ناشگفتہ رہ جاتے ہیں۔ پھولوں کے ساتھ کہیں خارزار بھی نمودار ہوجاتے تھے۔ اسلام کے نظام حیات میں جہاں جہاں کمی تھی اسے درست کرنے کی کوشش بھی ہر عہد میں جاری رہی۔ عباد وزہاد اپنی عبادتوں میں اور تزکیہ نفس کی کوششوں میں مشغول رہے تھے اور روحانیت کی شمع روشن کررہے تھے لیکن انہیں بھی اس بات کا علم تھاکہ اسلام کے کامل اجتماعی نظام کا مطلب کیا ہے۔ ان کے بس میں جو تھا اس سے انھوں نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ اسلام کی پوری تاریخ میں دعوت واصلاح اور جہاد اور انقلاب اور تدوین علوم کی مختلف اقدار کی کوششیں جاری رہیں اور کسی عہد میں بھی ایسا خلا نہیں پایا گیا جس میں کسی نے چراغ جلا نے اور اور اندھیرے کو مٹانے کی کوشش نہ کی ہو۔ مجاہدین او رمجددین اور مصلحین سے کوئی زمانہ خالی نہ رہا۔
دور حاضر یعنی بیسویں صدی کا جائزہ لیا جائے اور اِس دور کی اصلاحی تحریکات کا ذکر کیا جائے تو پس منظر کے طور پر عرب دنیا کے محمد بن عبد الوہاب کی تحریک اور ہندستان میں سید احمد شہید کا ذکر مناسب ہوگا۔ محمد بن عبدالوہاب (۱۱۱۵۔۱۲۰۶) کی تحریک خلافت عثمانیہ کے دور کی پہلی اسلامی تحریک ہے یہ تحریک مرکز سوات یعنی الجزیرۃ العرب میں پروان چڑھی۔ یہ تحریک انیسویں صدی کے اواخر کی تحریک ہے۔ انھوں نے اپنے والد شیخ عبد الوہاب سے فقہ حنبلی پڑھی مدینہ مکہ بغداد بصرہ اور اصفہان کے علماء سے استفادہ کیا۔ شیخ محمد بن عبد الوہاب کی اصلاحی تحریک کا مرکزی نکتہ اور محور توحید ہے۔ انھوں نے بدعات کے خلاف پورے شدومد سے تحریک چلائی اور توحید خالص کو پیش کیا مشرکانہ عقائد کی نفی کی۔ انھوں نے معاشرہ میں پھیلی ہوئی بدعتوں اور قبر پرستی پر نکیر کی اور لوگوں کو اس سے روکا۔ ان کی اصل دعوت تصحیح عقائد کی دعوت ہے۔ انھوں نے صحیح عقائد کی اشاعت کے لیے اہل بدعات سے جنگیں بھی کیں۔ اور جب شیخ محمد بن عبدالوہاب کی دعوت پھیلی تو امیر محمد بن سعود کے دل کو اللہ نے اس کی طرف متوجہ کیا اور انھوں نے شیخ محمد بن عبدالوہاب کے ہاتھ پر بیعت کرلی اور اس طرح اس دعوت کو سیاسی اقتدار بھی حاصل ہوگیا لیکن شیخ نے نظام خلافت قائم کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ طرز ملوکیت پر راضی ہوگئے۔ انھوں نے اسی حد تک حکمت کے ساتھ اصلاحی کام کیا جس حد تک حالات اجازت دیتے تھے۔ اگر وہ امیروں سے برسر پیکار ہوجاتے اور ملوکیت کے خاتمہ کا مطالبہ کرتے تو ان کی اتنی بھی کامیابی نہیں ہوتی جتنی کہ انہیں حاصل ہوئی ، اسلام کا سیاسی نظام پورے طور پر برسر عمل نہ آسکا ،شیخ محمد بن عبد الوہاب کی تصانیف بے شما رہیں۔ ان کا کار تجدید ایک دائرہ کی اندر محدود ہے ۔
جس طرح بیسویں صدی کی تحریک کے پس منظر میں شیخ محمد بن عبد الوہاب کا ذکر کیا گیا اسی طرح سے ہندستان میں اس سے ملتی جلتی ایک تحریک اٹھی یہ سید احمد شہید کی تحریک تھی جو اس ملک میں اسلام کی بقاء کے لیے، بدعات اور خرافات کا قلع قمع کرنے کے لیے، غیر ملکی اقتدار کو ختم کرنے کے لیے، سکھوں کے ظلم اور استبداد سے مسلمانوں کو نجات دلانے کے لیے اور امارت اور خلافت کے احیاء کے لیے اٹھی تھی۔ سید احمد شہید کے مرید ین معتقدین اور خلفاء پورے ملک میں پھیل گئے تھے اور انھوں نے اسلامی تعلیمات وعقائد کی اشاعت کی۔ جس وقت یہ تحریک اٹھی تھی مسلمانوں کی سیاسی طاقت فنا ہورہی تھی۔ پنجاب میں سکھوں کا قبضہ تھا اور باقی ہندستان میں انگریزوں کا ۔ معاشرہ خرافات اور بدعات کا گہوارہ تھا۔ سید احمد شہید نے ہر محاذ پر کام کیا اور تجدید و اصلاح کا عظیم کام انجام دیا۔ لاکھوں لوگوں کو توبہ کی توفیق ہوئی اور ہزاروں اسلام میں داخل بھی ہوئے۔ ان سب کے ساتھ انھوں نے امارت اور خلافت کا احیاء بھی کیا۔ لوگ ان کو سید بادشاہ اور امیر المؤمنین اور خلیفہ المسلمین کے نام سے یاد کرتے تھے۔ لیکن تجدید کا یہ پیامبر سکھوں سے جہاد کرتے ہوئے بالاکوٹ کے میدان میں شہید ہوگیا۔ سید احمد شہید اور محمد بن عبد الوہاب دونوں کی تحریکیں انیسویں صدی کی تحریکیں تھیں اور دونوں تحریکوں نے مسلمانوں پر بہت گہرا اثر ڈالا۔
بیسویں صدی کا سورج طلوع ہوتا ہے تو اسلامی دنیا کے افق پر سنوسی تحریک اصلاح وانقلاب بر دوش نظر آتی ہے یہ وقت تھا جب خلافت عثمانیہ زوال سے دوچار تھی اور ترکی کا مرد بیمار نزع کے عالم میں گرفتار تھا، مغربی استعمار نے اپنے خونی پنجے عالم اسلام کے بدن میں گاڑنے شروع کردے تھے۔ اس تحریک نے اطالوی استعمار کا مقابلہ کیا اور اسلامی معاشرہ میں صحیح روح پیدا کرنے کی جدوجہد کی۔ مذہب اور سیاست دونوں کو بہم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس تحریک کے بانی محمد بن علی ابن سنوسی تھے۔ انھوں نے مغربی نظام اقدار کے مقابلہ میں اسلام کے دینی اور اخلاقی اقدار کو معاشرہ میں مؤثر طریقہ سے اجاگر کیا۔ اس تحریک نے مسلمانوں کو ایک طرف روحانیت اور پاکیزگی کی غذا عطا کی اور دوسری طرف انہیں جہاد کے جذبہ سے لبریز کیا اور پرجوش کیا۔ سنوسی تحریک کے پاس اسلام کا یک انقلابی تصو رتھا۔ وہ تصور تھا جس میں جہاد بھی تھا اور عبادت اور روحانیت بھی۔ جہاد اس لیے ضروری تھا کہفرانس نے الجزائر اور تیونس پر قبضہ کی کوشش کی تھی۔ بعد میں مصر پر پہلے فرانس کا اور برطانیہ کا تسلط ہوگیاتھا۔ اٹلی طرابلس (لیبیا) پر حملہ آور ہوچکا تھا۔ محمد بن علی سنوسی نے حجاز سے افریقہ تک اصلاحی مراکز کا جال بچھادیا۔ ان میں سے ہر مرکز خانقاہ بھی، تربیت گاہ بھی، تعلیم گاہ بھی تھا اور یہاں جہاد کی تیاری بھی ہوتی تھی، ان میں سے ہر مرکز کو زاویہ کہتے تھے، عربی میں زاویہ خانقاہ کو کہتے ہیں۔ اس سنوسی تحریک کی طرف سے الجزائر کو مالی امداد بھی بھیجی گئی اور مجاہدین بھی بھیجے گئے تاکہ فرانسیسی فوجوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ مرکزی حیثیت زاویہ بیضاء کو اور پھر زاویہ جعفوب کو حاصل ہوئی جہاں ازہر کے طرز پر تعلیم دی جاتی تھی۔ ہر زاویہ میں ایک مہمان خانہ ہو تا تھا، معلمین کے رہنے کی جگہ ہوتی تھی، تعلیم و ارشاد کے لیے ہال ہوتے تھے، مسجد ہوتی تھی اور مدرسہ قرآنیہ ہوتا تھا۔ اس تحریک کو اطالوی فوجوں کا مقابلہ کرنے میں قوت کا بڑا حصہ صرف کرنا پڑا۔ اس تحریک نے ایک اجتماعی کیفیت پید اکردی تھی ان مراکز کی تعداد ۱۰۲ تھی جو طرابلس سے لے کر سوڈان اورالجزائز تک پھیلے ہوتے تھے، یہ تحریک اقامت دین کے مقصد کے لیے تھی۔
سنوسی تحریک کی بڑی طاقت اٹلی کی فوجوں سے جہاد میں صرف ہوئی۔ اس نے جہاد کی اسپرٹ پید اکی اور مسلم معاشرہ بھی قائم کیا لیکن یہ تحریک کوئی فکر انگیز لٹریچر نہیں تیار کرسکی۔ استعمار کی غلامی سے نجات پانے کے بعد یہ تحریک باقی نہیں رہی اور اس تحریک سے کوئی بڑا فکری انقلاب پیدا نہیں ہوسکا یعنی وہ انقلاب جو مغربی تہذیب اور فوج کا مقابلہ کرسکے اور اسلامی اصولوں پر حکومت قائم کرسکے۔
معیار اور نمونہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد ہے اور اس کے بعد خلفائے راشدین کا عہد۔ جو اصلاحی اور تجدیدی کام نتیجہ کے اعتبار سے انفرادی زندگی میں اور اجتماعی زندگی میں وہ انقلاب پیدا کردے گا جو اس معیار سے قریب تر ہو اس کے کام کو اسی درجہ میں کامیاب اور فتح یاب قرار دیا جائے گا۔ ایسی جامع المجددین قسم کے شخصیت شاذو نادر پیدا ہوتی ہے لیکن دوچار پہلو کے اعتبار سے جو اسلامی زندگی کو دوبارہ واپس لے آتا ہے وہ بھی مجدد ہوتا ہے۔ سنوسی تحریک نے معاشرہ میں برائیوں کو ختم کیا لوگوں کو عبادت کے کاموں اور نیکی کی طرف راغب کیا، بیرونی استعمار کا مقابلہ کیا اس لیے وہ بڑا اصلاحی اور تجدیدی کام ہے لیکن استعمار سے رہائی دلانے کے بعد لیبیا میں جو حکومت قائم ہوئی وہ ملوکیت تھی خلافت کے طرز کی حکومت نہ تھی۔ اسی طرح سے محمدبن عبد الوہاب کی اصلاحی تحریک سے خلافت قائم نہ ہوسکی۔ انھوں نے ملوکیت کے نظام سے سمجھوتہ کرلیا۔
عرب دنیا کی ایک اور تحریک جس نے فکری انقلاب برپا کیا وہ جمال الدین افغانی کی تحریک تھی وہ افغانستان میں پید اہوئے لیکن وہ جہاں گئے وہاں لوگ ان کے انقلاب آفریں خیالات سے متاثر ہوئے۔ ان کی آواز صور اسرافیل تھی، ا ن کا قلم تیغ اصل تھا، ان کی صدا استعمار کے لیے بانگ رحیل تھی، وہ خود ایک شہاب ثاقب تھے، وہ ایک شعلہ جوالہ تھے، ان کی زندگی اسلامی روح کا مظہرتھی، وہ جہاں گئے انھوں نے اپنا ایک حلقہ بنالیا اور لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کیا۔ ان کا مقصد ایسی اسلامی حکومت کا قیام تھا جس کی برکات دور دور پہونچیں۔ شیخ محمد عبدہ، شیخ عبدالقادر الجزائری، امیر شکیب ار سلان، شیخ رشید رضا اور بے شمار مصلحین نے اپنے چراغ کو ان کے چراغ سے روشن کیا۔ صرف عوام نہیں حکومتیں ان سے متاثر ہوئیں، بہت سی حکومتیں ان کے خیالات سے خائف بھی رہتی تھیں۔ شیخ جمال الدین افغانی پہلے عوام کی اصلاح کرنا چاہتے تھے۔ جمال الدین افغانی کے خیالات وافکار کئی نسلوں تک منتقل ہوتے رہے، یہاں تک کہ حسن البنا کی شخصیت اور ان کی تحریک الاخوان المسلمون کو بھی جمال الدین افغانی کی تحریک کا تسلسل قرار دیا جاسکتا ہے۔ جمال الدین افغانی نے پیرس سے العروۃ الوثقی کے نام سے رسالہ بھی نکالا اور اس کے ذریعہ سے مسلم ملکوں میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی۔ وہ مسلم حکومتوں کو متحد کرنا چاہتے تھے اور مغربی استعمار کا مقابلہ کرناچاہتے تھے۔ شاہ ایران نے ان کو دعوت دی اور اس نے ان کو وزیر اعظم بنانا چاہا لیکن ان کے سیاسی خیالات سے اور جمہوریت اور شورائیت کے ذریعہ حکومت چلانے کی دعوت سے شاہ ایران ڈر گیا۔ وہ جب مصرمیں تھے وہاں بھی انھوں نے شورائی نظام کی دعوت دی۔ انگریز ان سے خائف ہوئے اور خدید توفیق پر دباؤ ڈال کر ان کو مصر سے نکلوادیا۔
جمال الدین افغانی کے تلامذہ میں سب سے ممتاز مفتی محمد عبدہ ہیں۔ لیکن انھوں نے اپنی فکری شاہ راہ جمال الدین افغانی سے الگ کرلی۔ سیاسی انقلاب جمال الدین افغانی کا مطمح نظر تھا۔لیکن استعمار کی گرفت اتنی سخت تھی کہ شیخ محمد عبدہ کو صرف دینی تربیتی اور تعلیمی انقلاب تک خود کو محدود کرنا پڑا اور انھوں نے تفسیر قرآن اصلاحی عقائد دینی تعلیم پر ارتکاز کرلی۔ انھوں نے انگریزوں سے مصالحت کرلی۔ ان کے لیے جمال الدین افغانی کی پالیسی پر گامزن ہونا مشکل ہوگیا، شیخ عبدہ کی شخصیت کی تشکیل میں جمال الدین افغانی کی مردم ساز اور انقلاب آفریں شخصیت کا بڑا حصہ ہے۔ لیکن بعد میں شیخ محمد عبدہ نے اپنی راہ الگ نکالی اور اپنی انفرادیت کا سکہ جمایا۔ انھوں نے ایک طرف تقلید جامد اور روایتی ذہن کا مقابلہ کیا دوسری طرف تجدد پسندی کے ذہن کی مزاحمت کی۔ ان کا خیال تھا کہ دین سے ناواقفیت نے مسلمانوں کے اخلاق کو بگاڑ دیا ہے اور اس کا علاج صحیح دینی تعلیم ہے۔ شیخ محمد عبدہ اسلامی عقائد کی تعلیم کے ساتھ فقہ کو اقتضاء زمانہ کے مطابق بنانا چاہتے تھے،اجتہاد کا دروازہ کھولنا چاہتے تھے اور ازہر کی اصلاح چاہتے تھے۔ لیکن ازہر کے نصاب کی اصلاح آسان نہ تھی جس طرح ہندستان میں درس نظامیہ کے مدر سے کسی تبدیلی کے روادار نہیں ہیں ازہر میں بھی جمود پسند علماء تبدیلی کے روادار نہ تھے۔ شیخ دینی اور دنیوی علوم میں توافق پیدا کرنا چاہتے تھے لیکن علماء اس کے حامی نہ تھے۔ شیخ محمد عبدہ کی بہت سے کوششیں جمال الدین افغانی کی کوششوں کا نتیجہ اور تکملہ ہیں، ان میں سے ایک کوشش زبان وبیان اور اسلوب کی اصلاح ہے، عربی زبان وادب میں مسجّع اور مقفی عبارتوں کا رواج تھا شیخ عبدہ سادہ اور سلیس اسلوب پسند کرتے تھے۔
اعرابی پاکی کی بغاوت اور اس میں ناکامی کے بعد شیخ عبدہ سیاست سے کنارہ کش ہوگئے۔ یہ وہی راستہ ہے جسے ہندستان میں سر سید کو اختیار کرنا پڑا۔ شیخ جمال الدین افغانی کا نقطہ نظر اور تھا لیکن ان کے شاگرد شیخ محمد عبدہ کواپنا راستہ الگ اختیار کرنا پڑا۔ شیخ فرانسیسی زبان سے واقف تھے اہل مغرب کے علمی تصورات سے بھی واقف تھے۔
جمال الدین افغانی اور محمد عبدہ کے افکار کی کہکشاں کا ایک جگمگاتا ہواستارہ شیخ رشید رضا تھے۔ رسالہ المنار اور تفسیرکے ذریعہ اس حلقہ کے خیالات کی عام اشاعت ہوتی تھی اور اس نے دانشوروں کا ایک حلقہ پیدا کردیا تھا۔ اس تحریک کے مقاصد میں مسلمانوں کو توہم پرستی اور بدعات وخرافات سے نجات دلانا اور اسلام کی روشنی میں عصر جدید کے تقاضوں کو سمجھناتھا اور اسلامی نظام قائم کرنا تھا اور جدید عصری مسائل پر غور کرنا تھا اور مستشرقین کے الزامات کا جواب دینا تھا۔ شیخ رشید رضا امام غزالی کی احیاء العلوم سے اور پھر العروۃ الوثقی سے جزوی طور پر متاثر ہوئے، العروۃ الوثقی کے بند ہونے کے بعد انہوں نے ’’المنار‘‘ نکالا اور جمال الدین افغانی اور محمد عبدہ کے پیغام کو عام کیا۔ رشید رضا کی ایک خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے ترکی کی خلافت کو کی حمایت کی اور عرب قوم پرستی کی شدید مخالفت کی جس کا بیج انگریزوں نے بویا تھا اور ترکوں کے مظالم کاہوا کھڑا کیا تھا۔انھوں نے سلف کے افکار پر عمل کرنے پر بھی زور دیا اس لیے ان کی تحریک کو سلفیت کی تحریک بھی کہاجاتا ہے۔ رشید رضا شروع میں امام غزالی سے متاثر ہوئے اور بعد میں ابن تیمیہ سے۔
سرزمین عرب کی سب سے زیادہ بڑی ہمہ گیر اسلامی تحریک جو بیسویں صدی میں اٹھی اور ہر طرف چھا گئی وہ الاخوان المسلمون کی تحریک ہے۔ عقیدہ عبادات سے سے لے کر اقتصاد وسیاست جسمانی اور روحانی تربیت یعنی مکمل اسلام کی نمائندگی کرنے والی یہ تنظیم ہے۔ اس سے زیادہ جامع اس سے زیادہ وسیع اور اس سے زیادہ ہمہ گیر کوئی تحریک عالم اسلام میں نہیں اٹھی۔ جغرافیائی لحاظ سے اس کی وسعت کا حال یہ تھا کہ ۷۲ ملکوں میں اس کی شاخیں اور دس کروڑ اس کے ممبران کی تعداد ہے۔ اس تحریک کے لوگوں نے ۸۰ سال سے دین کے لیے قربانیاں دی ہیں اور قربانیوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ لوگوں کو پھانسی بھی دی گئی اور جیلوں میں ڈالاگیا اور جیلوں میں ان کو سخت ایذائیں پہونچائی گئی اورظلم اور ناانصافی کا ہر حربہ ان پرآزمایا گیا اور وہ ثابت قدم رہے مولانا علی میاں نے ان کے بارے میں یہ جملہ لکھا ہے ’’لایحبہم الامؤمن ولایبغضم الامنافق‘‘ یعنی ان سے صرف مؤمن ہی محبت کرے گا اور صرف منافق ہی ان سے بغض رکھے گا۔ آج دیکھنے والی آنکھیں اہل ایمان کو بھی پہچھانتی ہیں اور منافقین کو بھی ۔ مولانا علی میاں نے اخوانیوں کو بہت قریب سے دیکھاتھا اور تحریک کے بانی حسن البناء شہید کے والد سے ملاقات کی تھی، اب تک جن لوگوں نے اخوان کی تحریک کا مطالعہ کیا اور قریب سے ان کے قائدین اور اراکین کو دیکھا ہے ان سب کا خیال ہے کہ بیسویں صدی میں اس سے بڑی ہمہ گیر اور ہمہ جہت تحریک دنیا ئے اسلام میں نہیں اٹھی، یہ تحریک ایک سیل رواں کی طرح ہے جو بنجر زمینوں کو سیراب کرتی ہوی، نخلستانوں کو شاداب کرتی ہوی ، مختلف عرب ملکوں کے شہروں اور صحراوں سے گذری۔ مصر، شام، عراق، سوڈان، یمن، الجزائر، اردن ہر جگہ اس کی شاخیں قائم ہوئیں۔ اخوانیوں کے قلم سے عظیم الشان لٹریچر وجود میں آیا۔ مصروشام وعراق کے بے دین اور اباحیت پسند ادیبوں کا اگر کسی نے مقابلہ کیا تو اخوان کے ادیبوں نے کیا۔ ایک طویل عرصہ کی جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجہ میں عرب دنیا میں انقلابات کی جو لہر اٹھی اس نے کئی ملکوں میں اخوان کو اقتدار کے قریب پہونچادیا لیکن دنیا کی بڑی طاقتوں کے لیے اور اسرائیل کے لیے یہ ایک خطرناک طوفان تھا۔ چنانچہ سازش کے ذریعہ اس حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا جو جمہوری اور دستوری طور پر برسراقتدار آئی تھی۔ اور اس کھیل میں کچھ خلیجی ممالک بھی شریک تھے جنہیں حرمین کی وجہ سے تقدس کا مقام حاصل ہے، اب مسلمانوں کی نئی نسل نے آئینہ ایام میں ان چہروں کو پہچان لیا ہے جس پر تقدس کا غازہ لگاہوا ہے۔ اب وہ دن دور نہیں جب ان کے خلاف بھی بغاوت شروع ہوجائے گی۔ہم ان لوگوں میں ہیں جو ان کے خلاف بغاوت نہیں چاہتے لیکن ان کی اصلاح ضرور چاہتے ہیں اور ان کی غلطیوں پر ان کو متنبہ کرنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں ۔
اخوان کی تحریک کے بانی شیخ حسن البناء تھے جنہوں نے ۱۹۲۸ سے ۱۹۴۸ تک کے بیس سال کے عرصہ میں مسلمانوں کو اسلامی جوش سے سرشار کردیا اور ایسی مضبوط اور متحدہ جماعت تیار کی جس نے امت مسلمہ کو بیدار کرنے، متحد کرنے اور ان کے اندر دین اور وحانیت کی روح پھوکنے کی زبردست کوشش کی اور مغربی تہذیب کا مقابلہ بھی کیا۔
شیخ حسن البناء جو تحریک اخوان المسلمین کے بانی تھے، خداداد صلاحیتوں سے مالا مال تھے، انھیں اپنی دعوت اور تحریک سے غیر معمولی شغف تھا۔ اس تحریک میں ان کی فنائیت تھی مقصد سے عشق کامیابی کی شاہ کلید ہوتی ہے، ان کو مقصد سے ایساعشق تھا جیسا کسی کو کسی پیکر جمال سے ہوسکتا ہے۔ مزید یہ کہ تربیت اور مردم سازی کے کام میں ان کو غیر معمولی قابلیت حاصل تھی۔ تصوف میں طریق شاذلیہ سے ان کا تعلق تھا۔ وہ ایک پوری قوم کے مربی تھے۔ انھوں نے پوری ایک نسل تیار کی جو مغربی تہذیب اور حیاسوز کلچر کا مقابلہ کرسکے انھوں نے لکھنے والے اصحاب قلم ادیبوں کی ایک پوری ٹیم تیارکردی۔ انھوں نے ۱۹۵۱ میں جام شہادت نوش کیا جب کہ اس وقت ان کی عمر صرف بیالیس سال کی تھی۔ اس عمر میں اسلام کے لیے فدا کاروں کی ایک جماعت پیدا کی جو دار ورسن کی آزمائش میں بھی ثابت قدم رہے۔ اور جب یہ جماعت اپنی ملک گیر مقبولیت کی وجہ سے اقتدار پر فائز ہوئی تو دنیا کے سپر پاور کو خطرہ ہوا کہ مستقبل میں اسرائیل کا وجود خطرہ میں ہے،چنانچہ سازش کے ذریعہ حکومت کا تختہ پلٹ دیا گیا۔ اس طرح کی کارروائیوں سے تحریکیں ختم نہیں ہوتی ہیں اور نہ نقوش مٹائے جاسکتے ہیں۔ احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ قربانیاں رنگ لائیں گی۔ یہ اس لالہ کی حنا بندی ہے جسے ایک دن کھلنا ہے حسن البناء نے اپنے ماننے والوں میں جذبہ جہاد بھی پیداکردیا تھا۔ معرکہ فلسطین اور سوئز کی جنگ آزادی میں اخوان کے لوگوں نے شجاعت اور یامروی کار کارڈ قائم کیا تھا، پھر حضرت حسین کو جس قسم کے لوگوں سے سابقہ پڑا تھا۔ اس طرح کے لوگوں سے ان کو سابقہ پیش کیا پھر حضرت حسین کی طرح اس فقیر بے نوا نے بھی جام شہادت نوش کیا۔ انہیں موت اس وقت آئی جب ان کا لگایا ہوا پودا پروان چڑھ چکا تھا اور اس کی جڑیں مضبوط ہوچکی تھیں۔ شیخ حسن البناء سے پوچھنے والے نے ایک بار یہ سوال کیا کہ کیا دین وسیاست کا اجتماع ممکن ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ سیاست کے بغیر اسلام صرف نماز اور چند الفاظ کے مجموعہ کا نام رہ جائے گا جس کا زندگی کے مسائل سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ ان کے اس جواب سے ان کے ذہن کو اور ان کی تحریک کو پورے طور پر سمجھاجاسکتا ہے۔
بیسویں صدی کی ایک اور اہم تحریک جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے وہ ترکی کی تحریک جماعۃ النور ہے۔ کمال اتاترک نے دین کا قلع قمع کرنے کی کوشش کی۔ کمال اتاترک نے ملک سے اسلامی شعار کو مٹانے کی کوشش کی، عربی رسم الخط کو ممنوع قراردیا۔ اذان عربی کے بجائے ترکی میں ہونے لگی۔ حجاب پر پابندی لگ گئی، سروں پر ہیٹ رکھ دیاگیا، اس مغرب پرستی کا علاج ’’جماعت النور‘‘ کے شروع کیا۔ جماعت نور کے بانی بدیع الزماں سعید نورسی تھے۔ کمال اتاترک کے خلاف دینی تحریک چلانے کی وجہ سے ان کو قید میں ڈال دیا گیا اور اس قید سے ان کو رہائی اس وقت ملی جب قید زندگی سے ان کو آزاد کردیا گیا۔ اس وقت ترکی میں جدید اسلامی بیداری نظر آتی ہے اس میں سعید نورسی کی کوششوں کا بڑا حصہ ہے۔ سعید نورسی کو جب جیل میں ڈال دیا گیا تو انھوں نے خطوط کے ذریعہ اسلامی اور روحانی بیداری پید اکرنے کی کوشش کی اور ان رسائل النور کے اثرات سے سب نے استفادہ کیا۔ ان کی شخصیت میں کشش تھی او تحریرمیں دلآویزی، مصطفی کمال اتاترک کے اثرات کو مٹانے اور دین کی بقاء اور استحکام میں حصہ لینے میں جماعۃ النور کی کوششوں کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا ہے۔ اس لیے ان کو قید میں ڈالا گیا تھا۔ آج ترکی میں جو اسلامی بیداری نظر آتی ہے اس کا سہرا بڑی حد تک سعید نور سی کے سر پر ہے۔
بیسویں صدی میں بر صغیرمیں جو ایک بہت اہم اصلاحی اور اسلامی تحریک اٹھی وہ جماعت اسلامی کی تحریک ہے جس کے بانی مولانا ابوالاعلیٰ مودودی تھے۔ جس طرح سے عالم اسلام کے دگرگوں حالات اورمغربی سامراج کے ظلم اورمغربی تہذیب کے غلبہ کے رد عمل میں پورے عالم اسلام میں بہت سی تحریکیں اٹھیں اسی طرح سے ہندستان سے بھی کئی تحریکیں اٹھیں۔ ان میں ایک اہم تحریک جماعت اسلامی ہے۔ مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کا یہ امتیاز ہے کہ اس نے ایک عظیم الشان اسلامی لٹریچر پیش کیا۔ اس پہلو سے اس تحریک سے قریب کوئی تحریک ہے تو وہ الاخوا ن المسلمون کی تحریک ہے ورنہ باقی دوسری اسلامی تحریکوں کے پاس وسیع اورمؤثر لٹریچر کی کمی ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے صرف قرآن وحدیث کا مطالعہ نہیں کیا بلکہ دنیا کے نظریات اور خیالات اور جدید فلسفوں کا بھی مطالعہ کیا اور ان جدید فاسد نظریات کے مقابلہ کے لیے ایک نیا علم الکلام پیش کردیا۔ اس تحریک نے وسیع اور ہمہ گیر ذہنی اور فکری انقلاب کی کوشش کی، اور ہزارون تعلیم یافتہ لوگوں کو اپنی تحریروں سے متاثر کیا۔ ان تحریروں کے عربی ترجمے ہوئے تو عرب دنیا کے مفکرین بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ مولانا مودودی نے دین اسلام کو ایک نظام کی حیثیت سے پیش کیا۔ یعنی یہ دین صرف انفرادی اصلاح کا دین نہیں ہے بلکہ اجتماعی اقتصادی اور سیاسی نظام بھی رکھتا ہے۔ جماعت اسلامی کے غیر معمولی اثرات بر صغیر کے ملکوں میں موجود ہیں اور عالمی سطح پر بھی اس کے نظریاتی اثرات پائے جاتے ہیں۔ مولانا مودودی نے مغرب کے اعتراضات کا جواب دیا اور اردو زبان میں ایک نیا علم الکلام پیش کیا الجہاد فی الاسلام، سود، پردہ، ضبط و ولادت مجیت حدیث جماعت کا خاض کلامی لیٹریچر ہے۔
بیسویں صدی کا آفتاب طلوع ہوا تو یہ مسلمانوں کی نکبت اور ناسازگاری کا دور تھا۔ معیشت پر زوال آچکا تھا، مغربی تہذیب اور عیسائیت کی فاتحانہ یلغار شروع ہوچکی تھی، زبان اور تہذیب ہر چیز خطرہ میں تھی۔ اس عہد میں اسلام اور مسلمانوں کے تشخص کے دفاع کے لیے اور دین کی حفاظت کے لیے جو لوگ میدان عمل آئے ان میں ایک نام مولانا محمد الیاس کا ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کو مذہب سے وابستہ کرنے کے لیے ایک تحریک شروع کی جو عرف عام میں تبلیغی جماعت کے نام سے معروف ہے۔ یہ تحریک میوات سے شروع ہوئی اور پھر پورے ملک میں پھیلی اور اب دنیا کے تمام ملکوں میں پھیل چکی ہے۔ راقم سطور کی نظر میں یہ ایک چلتی پھرتی خانقاہ ہے جہاں عبادت ،نماز وذکر پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ پہلے لوگ روحانیت کی تلاش میں خانقاہوں میں جاتے تھے جب مولانا الیاس نے دیکھا کہ روحانیت کی پیاس کم ہوچکی ہے اور پیاساکنویں کے پاس نہیں آتا ہے تو انھوں نے خود کنویں کو پیاسوں کے پاس بھیجنا شروع کردیا یعنی جماعتیں تبلیغ کے نام پر شہر شہر اور گاؤں گاؤں جانے لگیں اور دروازوں پر دستک دینے لگیں۔ اس کام کی برکت سے لاکھوں لوگ نمازی بن گئے اور جو نمازی تھے وہ تہجد گزار بن گئے۔ ہر شہر میں تبلیغی جماعتیں گشت کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ دیکھ کر یہ اشعار زبان پر آتے ہیں:
یہ تیری گلیوں میں پھر رہے ہیں جو چاک داماں سے لوگ ساقی
کریں گے تاریخ مئے مرتب یہی پریشاں سے لوگ ساقی
لبوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ جلو میں صد انقلاب رمضاں
نہ جانے آتے ہیں کس جہاں سے یہ حشر داماں سے لوگ ساقی
پروفیسر محسن عثمانی ندوی

0 comments: