ملک کے مستقبل سے جڑے ہیں دہلی اسمبلی کے نتائج

2:47 PM nehal sagheer 0 Comments



جلال الدین اسلم، نئی دہلی
موبائل نمبر: 09868360472

گذشتہ دو تین ہفتوں تک راجدھانی دہلی کی گلیاں اور سڑکیں انتخابی ریلیوں اور جلسے جلوسوں سے اس طرح بھری پڑی تھیں کہ لوگوں کا اپنے گھروں سے دفتروں، کارخانوں اور کارگاہوں تک وقت پر پہنچنا محال تھا۔ بعض بعض دنوں میں تو ایسا بھی لگا کہ جیسے دہلی والے دارالسلطنت کے بجائے کسی انسانی سمندر میں جی رہے ہوں۔ سیاسی پارٹیوں کی زرخرید بھیڑ نے اگر لوگوں کا امن و سکون چھین لیا تھا، تو سیاست دانوں نے دہلی کے شہریوں کا جینا دوبھر کردیا تھا۔ مداریوں کی طرح ڈمرو یا ڈگڈگی بجاکر کھیل دکھانے والے سیاست دانوں نے بھی وہی کیا جو مداری کھیل دکھاکر جو کچھ حاصل کرپاتا ہے اسے ہی مقدر مان کر اپنی بساط لپیٹ لیتا ہے۔ اس بار اسمبلی انتخابات میں ہمیں ایسا ہی کچھ لگا، جو کبھی گلی کوچوں میں کرتب دکھایا کرتے تھے اور بہروپیوں کی طرح دروازے دروازے دستک دے کر لوگوں کو ’الّو‘ بناتے اور ہاتھ جوڑ کر رخصت ہوجاتے تھے، شاید اب وہی لوگ سیاست داں بن گئے ہیں۔ ہاں کل اور آج کے بہروپیوں میں جو نمایاں فرق دیکھنے میں آرہا ہے وہ ہے اخلاقیات کا۔ آج کے سیاسی بہروپیوں نے تو جیسے انسانی اور سماجی قدروں کی دھجیاں اڑانے کا ہی ٹھیکہ لے لیا ہو۔ بے شک الیکشن میں ہر پارٹی یا امیدوار اپنے مدمقابل اُمیدوار کی کمزوریوں اور غلطیوں کو عوام کے سامنے لاکر اپنے حق میں رائے ہموار کرتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب کہاں کہ مخالفت میں آپ اخلاقیات اور انسانی قدروں کی پامالی کی تمام حدیں بھی پار کرنے لگیں۔
الیکشن کے دوران اقتدار و منصب کی لالچ میں وفاداریاں بدلنے کا چلن تو کئی دہائی پرانا ہے، امیدوار اور پارٹیاں دونوں ہی اپنے کردار و عمل سے اب تک یہی ثابت کرتی رہی ہیں کہ ان کے الیکشن میں حصہ لینے کی غرض و غایت محض اقتدار حاصل کرنا ہے، ملک و قوم کی خدمت تو ضمنی اور جزوی ہی ہے۔ اس الیکشن میں تو عام آدمی پارٹی کے سربراہ کیجریوال کو اس طرح گھیرنے کی کوشش کی گئی جس طرح جنگل میں شیر کے شکاری اور ہر کارے گھیرتے ہیں۔ ہم کیجریوال کے نہ حامی ہیں نہ مخالف، لیکن ملک کی دو بڑی قومی پارٹیوں نے جو طریقہ اور طرز عمل ان کے تئیں اپنایا عام لوگوں نے محسوس کیا کہ ان قومی پارٹیوں میں بھی شاید یہ خوف پیدا ہوگیا ہے کہ اگر دہلی اسمبلی الیکشن میں کیجریوال کامیاب ہوگئے تو کہیں ہمارے مستقبل کے تعلق سے بھی کوئی سوال نہ کھڑا ہوجائے۔
صرف دہلی اسمبلی انتخابات میں ہی نہیں بلکہ اس سے قبل دوسرے صوبوں میں ہونے والے انتخابات میں بھی اسی طرح کی ہارس ٹریڈنگ اور گھٹیاپن کا مظاہرہ ہوا۔ حالات اگر ایسے ہی رہے تو نہیں کہا جاسکتا کہ ہمارا سیاسی معیار کس سطح پر جائے تو پھر ملک کا کیا حال ہوگا؟ اب جبکہ وہ پارٹیاں بھی گراوٹ کی اس سطح پر پہنچ گئی ہیں جو دن رات خود کو نظریاتی، اصول پسندی اور اخلاقی قدروں اور جمہوریت کی پاسبان کہتی اور کہلاتی رہی ہیں تو اب کس پر اعتماد وبھروسہ کیا جائے؟
بی جے پی ایک اصول پسند جماعت ہے، اس کا ایک نظریہ ہے، اس سے وابستہ افراد اخلاقی قدروں کے پاس و لحاظ میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے، اس کے افراد کی ایک بڑی تعداد کے کردار آر ایس ایس کی کارگاہ میں ڈھالے گئے ہیں۔ یہ پارٹی اقتدار کے لیے اپنے اصولوں سے دست بردار ہو ہی نہیں سکتی، یہ کرسی کے بجائے خدمت کو ہی ترجیح دیتی ہے۔ یہ جوڑ توڑ اور دل بدلی سیاست سے بھی دور ہے، اس طرح کے دعوے بی جے پی کی قیادت کرتی رہی ہے اور لوگوں کو تھوڑا بہت اس کی بات پر یقین بھی ہوچلا تھا کہ یہ اپنے کو قوم پرستی اور بھارتیہ سنسکرتی کی امین کہنے والی پارٹی ہماری تمام سیاسی پارٹیوں سے واقعتاً کچھ مختلف ہے، لیکن گذشتہ دہائیوں کے دوران ہونے والے انتخابات کے نتائج نے عوام کے اعتماد و یقین کو متزلزل کرکے رکھ دیا اور اب رہی سہی قلعی بھی دہلی اسمبلی انتخابات کے دوران اُترگئی۔ کون جیتا اور کون ہارا اس بحث سے قطع نظر یہ بات سچ ثابت ہوگئی کہ بی جے پی بھی دوسری سیاسی پارٹیوں کی طرح ہی ہے اور اقتدار کے لیے یہ تو وہ سب کچھ کرسکتی ہے جو دوسری پارٹیاں سوچ بھی نہیں سکتیں۔
پچھلے ایک ماہ سے دہلی کے انتخابی سمندر میں سیاسی غوطہ خوروں نے اتنی ڈبکیاں لگائیں کہ تہہ آب جمی کیچڑ سطح آب پر آگئی، اتنا مٹ میلا اور گدلاپانی کہ رائے دہندگان کو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا کہ اسے کس کام میں لایا جائے، بالآخر دہلی کے باشعور عوام نے اپنی عزت بھی رکھ لی اور سارا کا سارا پانی بھی انہی کو لوٹادیا جنہوں نے انہیں سخت آزمائش میں ڈال دیا تھا۔ دہلی کے انتخابی دنگل میں ابھی تک شاید ہی کوئی ایسا دنگل عوام نے دیکھا ہو جس میں ایک نومولود پہلوان کو دو پرانے پہلوان بیک وقت پچھاڑنے کے لیے وہ تمام داؤ استعمال کر رہے ہوں جنہیں وہ برسوں سے اپنی ورزشوں کے دوران اپنے اپنے اکھاڑوں میں استعمال کرتے رہے ہیں۔
دہلی کے عوام نے تو اپنے حق رائے دہی کو جو کہ قومی امانت ہے، آپ کے حوالے کردیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس عظیم قومی امانت کو آپ کس حد تک سنبھال پاتے ہیں۔ یہ وہ امانت ہے جس پر ملک کی جمہوریت اور جمہوری قدروں کی ہماری پُرشکوہ عمارت قائم ہے۔ اس میں کسی بھی طرح کی خیانت عمارت میں دراڑ پیدا کرنے کے ہی مترادف ہوگی۔ گذشتہ کل یعنی 7 فروری کو دہلی کے رائے دہندگان کا فیصلہ ان کا صرف نجی فیصلہ ہی نہیں بلکہ ملک کے ان تمام شہریوں کا فیصلہ ہے جو قوم و ملک کے تابناک مستقبل کی تمنار کھتے ہیں اور قومی ترقی اور خوش حالی کے آرزومند ہیں۔
آنے والا کل یعنی 10 فروری نہ صرف سیاسی پارٹیوں اور انتخاب میں حصہ لینے والے اُمیدواروں کے لیے ہی اہم ہے بلکہ ان تمام ملکی و غیر ملکی لوگوں کے لیے بھی اہم ہے جن کے دل و دماغ اور فکر و نظر سبھی کچھ دہلی کے شہریوں کے سیاسی شعور و بصیرت پر ٹکی ہوئی تھیں۔ انتخاب میں حصہ لینے والے امیدواروں کی قسمت بے شک مشین کے ڈبوں میں بند ہے اور 7 فروری سے 10 فروری تک ان امیدواروں کی نیندیں بھی حرام رہیں گی، لیکن کہتے ہیں کہ انتظار کا پھل میٹھا ہوتا ہے اس لیے ان کی تڑپ اور بے چینی میں ہم سب بھی برابر کے شریک ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ 10 فروری کو طلوع ہونے والا سورج اپنی ست رنگی کرنوں کی طرح ہی رنگا رنگ خوشیوں کے ساتھ طلوع ہو، تاکہ ملک میں بسی تمام قومیں اس خوشی میں برابر کی شریک بھی رہیں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں بھی اہم کردار پیش کرسکیں۔
ہمیں یہ مان کر چلنا ہوگا کہ ملک کا ہر شہری چاہے وہ کسی بھی مذہب سے کیوں نہ تعلق رکھتا ہو، ملک کے مقدر سے ہی اس کا مقدر اور اس کے خواب و خیال بھی اسی طرح وابستہ ہیں جس طرح دوسروں کے ہیں۔ وہ بھی دوسروں کی طرح ہی ملک کی سالمیت اور قومی اتحاد کے لیے آرزو مند ہے۔ اس لیے جو لوگ بھید بھاؤ اور نفرت کی سوچ رکھتے ہیں انہیں عام رائے دہندگان کے مشترکہ فیصلے سے بہرحال سبق حاصل کرنا چاہیے اور یہ بھی سوچنا چاہئے کہ ہر الیکشن میں جب بلاتفریق مذہب رائے دہندگان انہیں اپنے ووٹوں سے جتاتے ہیں تو ان کے ساتھ کسی بھی طرح کی تفریق نہ صرف امانت میں خیانت ہے بلکہ قوم و ملک کے حق میں عظیم نقصان بھی ہے۔ مداری کا کھیل تو اس کی ذاتی زندگی سے تعلق رکھتا ہے لیکن سیاسی مداری کا کردار قوم و ملک کی سا لمیت اور اس کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے لہٰذا الیکشن میں کامیاب ہونے والے کرداروں کو ملک کی جمہوری قدروں کا بہرحال خیال رکھنا ہوگا۔
(دی انڈین پریس)      

0 comments: