دہشت گردی کی سیاست اور فاشزم کا خفیہ چہرہ

10:46 PM nehal sagheer 0 Comments


    عام بول چال اور تحریروں کے ذریعے ہم فسطائیت اور فاشزم جیسے موضوعات پر بحث تو کرتے ہیں ،مگر اس عنوان کی پوری طرح وضاحت کرنا اسی طرح مشکل ہے جیسے کہ ہم ابھی تک دہشت گردی کے اصل معنی اور مفہوم کی تلاش میں ہیں۔انگلش لغات میںفاشزم کی تعبیر ایک ایسی سخت گیر حکومت اور سیاسی نظام سے کی جاتی ہے جس کے کسی بھی فیصلے کو عوامی سطح پر چیلنج کرنا مشکل ہو جائے ۔اسی طرح سیاسی مقاصد کیلئے بے قصوروں کا قتل اور تخریبی عمل کو دہشت گردی کہتے ہیں ۔دیکھنا یہ بھی ضروری ہے کہ ملک کے تعلیمی نصاب میں فاشزم اور دہشت گردی کے معنی اور مفہوم کی تشریح کون کرتا ہے اور کیا یہ لوگ اس قابل ہیں کہ وہ سماج کو آئینہ دکھاسکیں ؟۔
    چونکہ عام آدمی ایک روایت اور قانون کا پابند ہوتا ہے ۔اس لئے وہ معاشرے کی قیادت کرنے والے طبقہ اشرافیہ کے پروپگنڈے اور حکومتی جھوٹ کا بہت جلد شکار ہو جاتا ہے ۔ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ جدید نسل کی تعلیم وتربیت کیلئے سرکاری نصاب کی تیاری میں بھی اب سیاستدانوں کی مرضی شامل ہوتی ہے یا ملک کے چنندہ دانشور اور پروفیسر اپنے مفاد ،لالچ اور خوف کی وجہ سے سیاستدانوں کی مرضی کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔مثال کے طور پر ایک ہی آزادی کے مجاہد محمد علی جناح کو پاکستان میں جو مقام حاصل ہے ،ہندوستان میں ان کے تعلق سے الگ نظریہ پایا جاتا ہے۔تقریباً جواہر لال نہرواور پٹیل کے تعلق سے پاکستان کے لوگ مثبت سوچ نہیں رکھتے ۔تو اس لئے عوام کے منفی اور مثبت نظریے کی تخلیق میں ان ممالک کے سرکاری میڈیا اور نصاب کا اہم کردار شامل ہوتا ہے ۔ہمارے ملک کے قبائلی علاقوں میں ایک مدت سے نکسلائٹ اور مائووادی تحریکیں سرگرم ہیں اور اکثر سرکاری اہلکار ،سرکاری دفاتر اور شخصیات پر حملہ کرکے تباہی اور قتل و خون کا منظر پیش کرتے ہیں۔یہ لوگ ایسا کیوں کررہے ہیں ؟کن حالات سے گزررہے ہیں ؟ ان کے مطالبات کا سنجیدگی سے مطالعہ کرنے کی بجائے ان کے خلاف دہشت گردی کا پروپگنڈہ کرکے صرف طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے۔کشمیر کے مسئلہ کو بھی راجیو گاندھی کی حکومت اور سابق گورنر جگموہن نے اسی طرح الجھا کر رکھ دیا جیسے کہ پاکستان کے فوجی حکمراں پرویز مشرف نے لال مسجد پر حملہ کرکے مدرسوں کے ذریعے چلائی جارہی پر امن تحریک کو پر تشدد تحریک طالبان میں تبدیل کردیا ہے۔اور اب اس نے اپنی عسکری قوت کو اتنا مضبوط کرلیا ہے کہ پاکستان کو انہیں ختم کرنے کیلئے امریکی ڈران میزائلوں کا سہارا لینا پڑرہا ہے ۔اسی طرح عالمی پیمانے پر جب امریکہ طاقت کے ذریعے دنیا پر اپنی مرضی تھوپنے کی کوشش میں انصاف نہیں کرسکا تو عرب اور افغان نوجوانوں پر مشتمل تحریک القاعدہ اور طالبان کا وجود عمل میں آیا ۔چونکہ پوری دنیا مغربی اور امریکی تہذیب کی گرویدہ ہے اس لئے جب انہوں نے اپنے نصاب میں ان تنظیموں کے دہشت گرد ہونے کا باب شامل کیا تو ان کا شمار دہشت گردی کے بین الاقوامی نیٹ ورک میں ہونے لگا ۔ اب ہمیں یہ سمجھنے میں مشکل نہیں ہونی چاہئے کہ فاشزم ،جمہوریت ،جہاد اور دہشت گردی کے معنی ہر دور میں وقت ،حالات اور طاقت کے حصول کے ساتھ بدلتے رہے ہیں ۔جسے نااہل اور بدعنوان حکمرانوں نے اپنے اپنے مقصد کیلئے استعمال کیا ہے ۔مثال کے طور پر پاکستان نے بھگت سنگھ کے گائوں کو یادگار بنانے کیلئے کروڑوں روپئے خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے کیا اس کا مقصد بھگت سنگھ کے کردار کو نمایاں کرنا ہے یا وہ ان کی شہرت اور شخصیت سے فائدہ اٹھا کر اپنے ملک میں سیاحوں کو راغب کرنا چاہتا ہے ؟سچ تو یہ ہے کہ اب دنیا کی کوئی بھی حکومت بھگت سنگھ کے کردار کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔اقبال نے صحیح کہا ہے کہ نام سے کچھ نہیں ہوتا ۔ یعنی 
 جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشہ۔جدا ہوں دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
    سیاست میں دہشت گردی ،جمہوریت ،فاشزم اور آمریت سبھی کو شمار کیا جاتا ہے ۔فرق صرف اس نظریے کا ہے جس میں خلوص ،انصاف،ایمانداری اور للٰہیت کا جذبہ ناپید ہو چکا ہو اور اسے کتنا ہی خوبصورت اور خوشنما نام کیوں نہ دے دیا جائے وہی دہشت گردی چنگیزیت اور فاشزم ہے ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ ہمارے ملک میں آر ایس ایس کے جو عزائم ہیں اور جو کچھ شام ،میانمار ،مصر اور اسرائیل میں مسلمانوں اور فلسطینیوں کے ساتھ ہو رہا ہے اس کی شکل و صورت تو بالکل واضح ہے اور برات کی صورت بھی اختیار کی جاسکتی ہے ۔مگر جمہوریت کے نام پر مختلف ممالک میں جو جبر ،ظلم اور بدترین استحصال کا ننگا ناچ ہو رہا ہے جس کے سحر سے ابھی عوام کی اکثریت باہر آنے کیلئے تیار نہیں ہے تو اس لئے کہ ہم ایک ایسے دجالی فتنے میں مبتلا ہو چکے ہیں جہاں ہر شخص حاکم اور حاکم کو بدلنے کا اختیار رکھتا ہے۔ جو صحرا میں سراب اور ہلاکت سے کم نہیں ہے۔18 ؍فروری کو گواہاٹی کورٹ سے باہر آتے ہوئے تہلکہ کے ایڈیٹر ترون تیج پال نے انڈین ایکسپریس کی نامہ نگار استھا نائر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں اس بات سے خوفزدہ ہوں کہ جوکچھ ملک میں ہم مشاہدہ کررہے ہیں یہ سب دائیں بازو کے فاشزم کی علامت ہے جو اپنے مخالفین کو بہت ہی خطرناک اور خفیہ طریقے سے راستے سے ہٹانے کیلئے حکومت کی ساری مشنری کا استعمال کررہے ہیںاور یہ سب کچھ ایک ایسی جماعت کے ذریعے کیاجارہا ہے جس نے ایک کثیر جہتی تہذیب پر حکومت کرنے کا عزم کیا ہے جس کا میں بھی ایک شکار ہوں ۔ یہ بات تیج پال کے تعلق سے بلاشبہ سچ ہے کہ انہوں نے فرقہ پرستوں یا فاشسٹوں کے خلاف جس طرح اپنی اور اپنے رپورٹر کی زندگی کو خطرے میں ڈال کر ان کے خطرناک عزائم اور بد عنوانی کا انکشاف کیا انہیں اسی کی سزا اب مل رہی ہے۔ ہو سکتا ہے ان کے ذہن میں ملک کے دیگر حالات بھی ہوں جس کا تذکرہ صرف مسلمان ہی کرسکتا ہے اور وہ ملک میں جمہوری اور سیکولر فاشزم کا بھی شکار ہیں۔
    یہ سچ ہے کہ ملک عزیز میں آر ایس ایس اور اس کی ملیٹینٹ تنظیمیں ایک زمانے سے نفرت ،بغض ،دشمنی ،فساد اور فرقہ پرستی پر مبنی نظریات کی بنیاد پر سیاسی انقلاب لانے کی جد وجہد میں مصروف رہی ہیں۔اورساتھ ہی یہ بھی سچ ہے کہ آزادی کے بعد سے ہی ملک میں کمیونسٹ ،مائووادی،نکسل،دلت اور کچھ مختلف مسلم تحریکیں اپنے اثر و رسوخ اور نظریاتی تبلیغ کیلئے آزاد ہیں ۔مگر سوال یہ ہے کہ کانگریس کے پچاس سالہ دور اقتدار میں صرف چند فیصد برہمنی ذہنیت کی حامل ہندو تنظیموں کو ہی بڑھاوا کیوں ملا اور حکومت اپنے ہر ملکی اور غیر ملکی معاہدے اور فیصلے کیلئے ان کی مرضی اور نظریات کی محتاج کیوں رہی ہے ۔کانگریسی حکومتیں اگر چاہتیں تو گاندھی کے قتل کے بعد ہی آر ایس ایس کی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کردیتیں اور ملک میں فسطائیت کا خاتمہ ہوجاتا اور فرقہ وارانہ فسادات سے لیکر بم دھماکوں کی سازش کے درمیان بابری مسجد کی شہادت کا سانحہ پیش نہیں آتا ۔مگربابری مسجد کے تالا کھلوانے سے لے کر شیلا نیاس اور مسلم دشمن ملک اسرائیل سے دوستی کے ساتھ ہی بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاری تک ملک کی جمہوری حکومتوں اور ان کی خفیہ ایجنسیوں نے پوری طرح آر ایس ایس کی مسلم دشمن حکمت عملی پر ہی عمل کیا ہے۔
    ملک کی موجودہ صورتحال میں عام آدمی پارٹی کی شہرت اور کیجریوال کی مقبولیت سے یہ اندازہ کرنا بہت مشکل نہیں رہا کہ ملک کا عام شہری فرقہ پرست نہیں ہے اور وہ آر ایس ایس کی سیاسی پارٹی بی جے پی اور کانگریس دونوں کے فاشزم سے بد ظن اور بیزار ہے ۔وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ ملک میں جتنے بھی دھماکے اور دہشت گردانہ کارروائیاں ہو رہی ہیں وہ آر ایس ایس ،مرکزی حکومت اور اس کی انٹیلی جینس اور سرمایہ داروں کی ملی بھگت اور حکمت عملی کا نتیجہ ہے تاکہ ان طاقتوں نے ایک گٹھ جوڑ بناکر ملک کو توڑنے اور لوٹنے کا جو منصوبہ بنا رکھا ہے ان کی اس بدعنوانی پر سے پردہ نہ ہٹنے پائے ۔اور یہ لوگ عام آدمی کو انڈین مجاہدین کے بھوت سے ڈراتے رہیں۔عام آدمی پارٹی کے روح رواں اروند کیجریوال بھی شاید اس حقیقت کو سمجھ رہے تھے اسی لئے جب انہیں بھی اس خطرے سے آگاہ کیا گیا تو انہوں نے بہت ہی جرات کے ساتھ ایک تاریخی جملہ ادا کیا کہ ’’اب یہ حملہ کوئی بھی کرسکتا ہے اور کہا جائیگا کہ انڈین مجاہدین کے لوگوں نے کیا ہے ‘‘۔سوال یہ ہے کہ کیا حقیقت میں انڈین مجاہدین نام کی کوئی تنظیم بھی ہے؟یا ملک کی حکمراں جماعت اور اس کی مشنری کیجریوال اور مسلمانوں کو ذہنی طور پر یر غمال بنانے کیلئے نقلی نام کا استعمال کررہی ہیں۔غور طلب بات یہ ہے کہ کانگریس نے ہمیشہ مسلمانوں کو آر ایس ایس اور بی جے پی کا خوف دلا یا ہے اور آر ایس ایس نے ہندوئوں پر مسلمانوں کی دہشت طاری کی ہے ۔ دہلی پولس نے جب اروند کیجریوال کو انڈین مجاہدین کی دہشت سے آگاہ کیا تو ہمارے ذہن میں یہ سوال اٹھا کہ دہلی پولس پر کس کا کنٹرول ہے ؟کیا مرکز میں آر ایس ایس اور بی جے پی کی حکومت ہے ؟عام آدمی کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آر ایس ایس تو ہندوئوں پر صرف مسلمانوں کا خوف طاری کررہی ہے ،مگر کانگریس نے پچھلے پچاس سالوں میں دونوں کو ایک دوسرے سے خوف زدہ کرنے کا وہی کام کیا ہے جو آزادی سے پہلے انگریزوں کی حکمت عملی رہی ہے۔اگر یہ فاشزم نہیں ہے تو بھی ان کی یہ سوچ ملک کی سلامتی کیلئے فاشزم اور دہشت گردی سے بھی زیادہ اس لئے خطرناک زہر ہے کیوں کہ ہم ایک ایسی جماعت کو اقتدار سونپتے آرہے ہیں جو اپنے فیصلے سے پولس ،فوج ،عدلیہ ،سماج اور ملک کے مالیاتی اداروں تک کے وقار کو مجروح کرتی رہی ہے۔  

عمر فراہی ۔ موبائل۔09699353811    umarfarrahi@gmail.com

0 comments: