آہ میں نے یہ کیا کیا ....!



عمر فراہی ۔ ای میل :  umarfarrahi@gmail.com

کبھی جب ہم منشی پریم چند اور ابن صفی کی کہانیوں کو پڑھا کرتے تھے تو ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا کہ آخر انہیں اتنا مواد کہاں سے ملتا ہے ۔ لیکن اب میں خود یہ سوچتا ہوں کہ روز ایک کہانی لکھوں - پتہ ہے کیوں ... ؟ یہ بات آپ بھی جانتے ہیں کہ اب زندگی پل پل ایک نیا موڑ لیتی ہےاور ہر انسان اپنی زندگی میں مختلف کہانیوں کا کردار اور عنوان چھپا کر چل رہا ہے - مثال کے طورپر پہلے خبروں کیلئے رات میں ریڈیو بی بی سی لندن کی خبر ہی کافی ہوتی تھی - بعد میں  الیکٹرانک چینل آنے کے بعد دور درشن کی دن میں ایک بار کی نشریات سے بھی لوگ مطمئن ہوجایا کرتے تھے لیکن اب تو چوبیس گھنٹے مختلف چینلوں سے خبروں کے ساتھ ساتھ دیش بدیش میں وقوع پذیر حادثات کسی سنسنی خیز کہانی سے کم نہی ہوتے - لیکن اب میں لکھ نہیں سکتا - اب ہم صرف کسی کہانی کا کردار ہی ہوسکتے ہیں کیونکہ اب ہمارے پاس کہانی اور کہانی کا عنوان تو ہے لیکن کسی کا درد محسوس کرنے اور اپنا درد بیان کرنے کا وقت بھی تو نہیں ہے....! اور پھر اب کون ہے جو کسی مصنف کے درد کو محسوس کر سکے - اب میں یہ سوچتا ہوں کہ کاش ہم نے اتنی ترقی نہ کی ہوتی اور منشی پریم چند زندہ ہوتے - منشی پریم چند زندہ ہوتے تو گئو دان کا ان کا کردار "ہریا " بھی زندہ ہوتا - کتنا درد اور رومانس تھا ہریا کے اس کردار میں ....! میں سوچتا ہوں کہ غریبی اور بدحالی میں بھی اس دور کے لوگ ہم سے زیادہ مطمئن اور خوش تھے - شادی بیاہ کے موسم میں عجیب سی رونق ہوتی ، لوگ شادیوں کیلئے ایک مہینے پہلے ہی سےتیاری شروع کردیتے تھے - دس دن پہلے سے ہی عورتیں گھروں میں جمع ہو کر گیت کی محفلیں سجا دیتیں - لڑکے تین دن پہلے سے بارات کی تیاری میں گھروں سے کھٹیا اور بستر اکٹھا کرتے اور کچھ نوجوان رنگ برنگی جھنڈی وغیرہ کاٹنے میں مصروف ہو جایا کرتے تھے - کسی کو پردیش کے سفر پر جانا ہوتا تو وہ محلے اور عزیز کی شادی کیلئے سفر کا فیصلہ ملتوی کردیتا اس طرح شادی ختم ہونے تک رشتے داروں اور محلے والوں کے درمیان ہنسی مذاق کا جو سلسلہ شروع ہوتا کسی بہار کے موسم سے کم نہ ہوتا - مگر اب کون ہے جو کسی کیلئے رکتا ہے ... ؟ اب کس کے پاس وقت ہے جو کسی کا انتظار کرے ....؟ کون ہے جو روٹھے ہوئے کو منانے کیلئے منت و سماجت کرے ... ؟ اب کہاں کون پردیش جاتے ہوئے پردیشی کو بستی کے باہر چھوڑنے آتا ہے ... ؟ اب کوئی کسی کیلئے آنسو نہی بہاتا .... اور .. اور کیا ... موبائل اور ٹیلی فون نے قریب کرکے بھی لوگوں کو بہت دور کردیا ہے ...اب گھروں کی دہلیز پر ڈاکیہ بھی کہاں آتے ہیں ..؟ اب کسی کو کسی کے خط کا انتظار ہے اور وہاٹس کے دور میں کوئی خط لکھے ہی کیوں ... ؟ شادیاں آج بھی ہوتی ہیں لوگ رشتہ دارآج بھی جمع ہوتے ہیں - کھانے کے پکوان میں پہلے سے زیادہ اضافہ اورخرچ ہورہا ہے لیکن اس کے باوجود چند گھنٹوں کی سمٹی ہوئی اس تقریب اور میز کرسی سے آراستہ ہال اور پنڈال میں کیا وہ خوشی اور رومانس ہوتا ہے جو کھٹیا اور بستر کے زمانے میں تھا - شاید نہیں کیونکہ اب اس کہانی میں رومانس پیدا کرنے کیلئے نہ تو ابن صفی اور منشی پریم چند جیسے سادگی پسند ادیب ہی رہے اور نہ ہی اب ہریا کی طرح بھولا پن پیدا کرنے والے ادبی کردار ہی باقی ہیں - اوہ ، اف میں تو بھول ہی گیا تھا ہم نے ترقی جو کر لی ہے - نہیں اب میں کہانی کبھی نہی لکھ سکتا - میں نے کوشش بھی کی تومجھے اس کہانی کے سارے حسین کردار کہاں ملیں گے - اب وہ پنگھٹ ، وہ گھنگھرو کی آواز ، وہ چوپال ، وہ کھیت وہ کھلیان ، ریہٹ اور بیلوں کی جوڑی سے نکلتا ہوا پانی کا چشمہ ، باغوں میں پرندوں کی چہچہاٹ ، کوئل کی سریلی آواز اور شام کے وقت میں پرندوں کا قافلے کی شکل میں اپنے آشیانے کی طرف لوٹتا ہوا  آسمان دنیا کا خوبصورت اور شاندار منظر ذہن کو  جو سکون پہنچاتا کیا اب میں اپنی کہانی میں قدرت کے ان حسین کرداروں کو سمیٹ سکتاہوں - شاید مشکل ہے ..!کیوں کہ میری کہانی کے یہ حسین کردار جدید ترقی یافتہ شہر کی بھیڑ اور ہنگاموں میں کہیں کھو گئے ہیں - کسی نے صحیح کہا ہے کہ

اب نہ وہ گیت نہ چوپال نہ پنگھٹ نہ الاؤ
کھو گئے شہر کے ہنگاموں میں دیہات مرے 

کسی دوسرے شاعر نے اسی بات کو دوسرے انداز میں یوں پیش کیا ہے کہ 

وہ جو صدیوں سے مرے گاؤں کا رکھوالا تھا 
اڑ گئے سارے پرندے تو شجر ٹوٹ گیا 

اور اب یہ حقیقت بھی ہے کہ نئی نسل جو اپنی زبان اور تہذیب سے بھی محروم ہو کر دیہات سے شہر اور شہر سے بھی لندن امریکہ اور دبئی کی طرف روزی روزگار کیلئے منتقل ہو رہی ہے اسے میں اس کی زبان میں بھی تو نہیں سمجھا سکتا کیونکہ سب کچھ کے ساتھ میں نے ترقی کی دوڑ میں اپنے بچوں کو اپنی مادری زبان سے بھی تو محروم کردیا ہے - آہ میں نے یہ کیا کیا میں خود اپنی تہذیب اور اپنی زبان کا قاتل ہوں - کاش منشی پریم چند زندہ ہوتے - کاش کوئی ہمیں ہمارا پرانا دور واپس لوٹا دیتا .....کاش 

اوقاف بازیابی کی تحریک میں اخلاص اور سنجیدگی کی ضرورت

نہال صغیر


پچھلے کئی ماہ سے تحریک بازیابی اوقاف جاری ہے ۔جن میں ریاست اور ممبئی شہر کی چیدہ چیدہ ہستیاں شامل ہیں ۔آزادی کے بعد سے ہی اوقاف پر قبضہ کرنے اور اسے تباہ کرنے اور اس کی آمدنی کو انتہائی محدود کرنے کی حکومتی پیمانے پر منصوبہ بند کوششیں ہوتی رہی ہیں ۔یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب ملک کے اقتدار میں مسلمانان ہند کے سب سے بڑے قائد مولانا آزاد حیات سے تھے اور وزیر تعلیم تھے ۔وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو تھے جن کی رواداری کی آج بھی مصنفین اور ترقی پسند تحریک کے افراد مثالیں پیش کرتے ہیں ۔ایسے افراد کی موجود گی میں بھی وقف کی جائدادیں محفوظ نہیں رہ سکیں ۔اب آج کے حالات اور ماحول میں اوقاف کے لئے کسی تحریک کا برپا کرنا کافی دل گردے کا کام ہے ۔اس لئے جو لوگ اس تحریک میں شامل ہیں اور سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرتے ہوئے شہروں شہروں عوامی بیداری کے لئے سرگرم عمل ہیں ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے ۔ہم جس قابل ہیں اور ان کی اس تحریک میں جس حد تک بھی مدد کرسکتے ہیں کرنا چاہئے ۔یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ ہم سارے کام کریں لیکن یہ تو ہوہی سکتا ہے کہ ہم اگر کسی قابل نہیں ہیں تو ان کی میزبانی کے فرائض انجام دے سکتے ہیں تو یہ کرلیں ۔اس تحریک کی پائیداری اور استحکام کیلئے جو کچھ بھی اور جس حد تک بھی ہم کرسکتے ہیں کریں۔یہ تو ہوا عوامی طور پر ان کے استقبال اور حوصلہ افزائی کے کام ۔اب دوسری جانب اس بات پر بھی غور کیجئے کہ کسی تحریک کی کامیابی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس میں جو لوگ شامل ہیں ان میں خالص اللہ کی رضا عوام کی خدمت کا جذبہ ہو۔نام نمود جیسے سطحی اور سفلی جذبات کا ذرا سا بھی گذر نہ ہو ۔اگر ایسا ہوا اور ہمارے یہ قائدین واقعی اوقاف کی تحریک میں مخلص ہیں تو انشاء اللہ آزادی کے ستر برسوں بعد اور انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں بھی ہمیں ہماری اوقافی جائدادیں واپس مل جائیں گی یا اس کی آمدنی ہماری ترقی کیلئے خرچ ہونے کی صورت نکل سکتی ہے ۔اس سلسلے میں ہمیں متحد ،بیدار اور با خبر رہنے کی ضرورت ہے ۔

ٰانکی زبانیں کیوں بے لگام ہو رہی ہیں ؟


نہال صغیر


ملک تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے یا اس کو تباہی میں دھکیلنے والوں کا یوم احتساب قریب آچکا ہے ؟یہ دو مختلف سوالات ہیں لیکن دو نوں کا پہلو ایک ہے ۔جس طرح آر ایس ایس اور بی جے پی کے افراد گھٹیا اور اشتعال انگیز بیان بازیاں کررہے ہیں اور اس پر حکومت کی خاموش حمایت انہیں حاصل ہے ۔یہی سبب ہے کہ وہ کچھ بولنے سے پہلے سوچتے نہیں کہ اس کا انجام کیا ہوگا ؟اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انجام سے بے خبر انسان بے تکان تیز رفتار دوڑ لگاتا ہے اور اکثر تباہ ہونے کے بعد یا تو سوچنے کے قابل نہیں رہتا یا قدرت نے اسے زندہ رکھا تو وہ اس قابل نہیں رہتا کہ اپنی غلطیوں کی تلافی کرسکے ۔ایسا ہی معامہ بی جے پی اور سنگھ کے بے لگام افراد کا ہے ۔ انہیں پتہ ہے کہ مرکز میں ان کے سیاں کوتوالی کی کرسی پر بیٹھے ہیں ۔ویسے وہ خود تو اپنے انجام کی طرف سے خوش فہمی کا شکار ہیں لیکن ملک کو تباہی کے گڑھے میں لے جارہے ہیں ۔ جس دن کسی ایک بھی شخص کو ایسے بد زبانوں کو لگام دینے کی بات ذہن میں سما گئی بس وہی دن اس ملک کی تباہی کا نقطہ آغاز ہوگا ۔حد تو یہ ہے کہ یہ لوگ یہ سب کچھ وطن پرستی کی آڑ میں کررہے ہیں ۔وہ سمجھ رہے ہیں کہ اس طرح کی اشتعال انگیزی ہی دراصل وطن سے محبت کی دلیل ہے ۔یہ سوچ آگ سے کھیلنے جیسا ہے کس وقت کہاں آگ بھڑک اٹھے گی اور اس آگ کا شکار ملک تو ہوگا ہی شاید زہریلے بیان دینے والے بھی اس آگ سے نہیں بچ پائیں گے ۔بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ ملک سے پہلے وہ اس کا شکار ہوجائیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ملک کے حقیقی محافظ خاموشی سے کسی دن ان کا احتساب شروع کردیں ۔یہ اس وقت ممکن ہے جب خالق کائنات کی مشیت ملک کو بچانے کی ہو ورنہ تو ملک بڑی تیزی کے ساتھ اس آگ کی جانب بڑھ رہا ہے جس کی ہلکی سے لپٹ سے ہی اس کی سلامتی قصہ پارینہ بن جائے !یعنی اس کا وجود ختم ہو سکتا ہے ۔اب یہ ان لوگوں کے سوچنے کا مقام ہے جو اس ملک سے حقیقی معنوں میں محبت رکھتے اور خاموشی سے اس کی ترقی ،بقا ،سلامتی اور نیک نامی کیلئے تن ،من دھن سے جٹے رہتے ہیں ۔ٹھیک ہی کہا ہے مولانا ارشد مدنی نے کہ ’’ووٹ کیلئے ملک میں آگ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے ‘‘۔ایک خیال یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ یا کسی مقتدر یا کسی بھی نا پسندیدہ شخصیت کا سر کاٹ کر لانے جیسی اشتعال انگیز بیانات سے ایک دن ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ عوام ایسے لوگوں کو سڑکوں پر دوڑا دوڑا کر ماریں اور انہیں کہیں جائے پناہ نصیب نہ ہو ۔ہم اس دن کے انتظار میں ہیں ۔کاش وہ دن جلدہی آجائے تاکہ زبان دراز اور شرانگیزی کرنے والے افراد کا احتساب ہو سکے اور ایسا ہو کہ پھر ایک لمبے عرصے تک کوئی ملک کو تباہ کرنے کے بارے میں خواب وخیال میں بھی نہ سوچ سکے ۔

کچھ سنا آپ نے مسٹر پرائم منسٹر؟

ردعمل۔۔۔۔۔۔۔
ایم ودودساجد
یہ سطور بی جے پی کے وزیر اعظم کے نام ہیں ۔ مجھے مجبوراً موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کو بی جے پی کا وزیر اعظم کہنا پڑرہا ہے۔انہوں نے اپنے عمل اور اپنے کھلے افکار سے یہ بتادیا ہے کہ وہ اس ملک کے 125کروڑعوام کے نہیں بلکہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیڈر ہیں۔پچھلے تقریباً تین سالوں میں ان کے اقدامات اور تقریروں سے ایک باربھی ایسا نہیں لگا کہ وہ 125کروڑ عوام کی فلاح کیلئے کچھ سوچتے ہیں۔ان کے مقابلے میں تو امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تعریف کرنے کو جی چاہتا ہے۔ میں ابھی امریکی کانگریس (یعنی امریکہ کی پارلیمنٹ)میں ٹرمپ کی اولین تقریر سن کر بیٹھا ہوں۔ٹرمپ کی انتخابی مہم سے لے کر ان کے منتخب ہونے تک اور اس کے بعدانتہائی متنازعہ امیگریشن حکمنامہ کے جاری ہونے اور اس پر عدالتی پابندی لگنے تک ٹرمپ کی شخصیت کے تعلق سے کچھ بھی تصور قائم ہوا ہولیکن گزشتہ یکم مارچ کو ٹرمپ نے امریکی کانگریس میں جو خطاب کیا اس نے ان کی مسموم شخصیت کے تصور کو وقتی طورپرہی سہی‘ بدل کر رکھ دیا۔مجھے یہاں ٹرمپ کی یکطرفہ اور غیر مشروط ستائش مقصود نہیں ہے۔لیکن چونکہ ٹرمپ کی انتخابی مہم بھی مودی کی طرز پر ہی چلائی گئی تھی اور انہی کی طرز پر وہ غیر متوقع طورپر کامیاب بھی ہوئے اس لئے دونوں کے افکار‘عمل اور عزائم کا تقابلی تجزیہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
بی جے پی کی خاتون لیڈرشاذیہ علمی ‘جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مسلمانوں کو گالیاں دینے کیلئے منعقد ایک پروگرام میں تقریر کیلئے مدعو نہ کئے جانے پر بر افروختہ ہیں لیکن اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد( اے بی وی پی) کے غنڈوں کے ذریعہ دہلی یونیورسٹی میں لاء فیکلٹی کی سن رسیدہ خاتون ڈین کی شرمناک بے عزتی پربی جے پی کو کوئی افسوس نہیں ہے۔جس پروگرام میں شاذیہ علمی کو تقریر نہ کرنے دینے کی شکایت ہے وہ پروگرام آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والی ایک تنظیم نے منعقد کیا تھا۔اس پروگرام میں بظاہر تو مسلم عورتوں کے حقوق کو عنوان بنایا گیا تھا لیکن فی الواقع طلاق ثلاثہ اور دوسرے امور کے بہانے اسلام اور مسلمانوں کو لعن طعن کرنی تھی۔جامعہ ملیہ اسلامیہ ‘مسلمانوں کی گھنی آبادی سے گھری ہوئی ایک یونیورسٹی ہے۔اس کی بنیاد میں اگر ایک طرف مہاتما گاندھی کا پسینہ شامل ہے تو وہیں مولانا محمود حسن اور مولانا محمد علی جوہرکا خون جگر بھی شامل ہے۔لیکن مرکز میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعدجامعہ کے ذمہ داروں کا رخ ہی بدل گیا ہے۔یہاں مختلف مواقع پر شاتم رسول سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین تک کی کتابیں اسٹالوں اور پروگراموں میں نظر آجاتی ہیں۔سوال یہ ہے کہ جب تم آستھا کے نام پر ہم سے رعایت لے لیتے ہوتو ہمارے عقیدہ کا احترام کیوں نہیں کرتے؟مسلم پرسنل لاء کا مسئلہ خالص مسلمانوں کا اپنااندرونی مذہبی مسئلہ ہے۔اس کا عام سماج اور ملکی سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔مگر اس کے باوجوداس کے بہانے سے اسلام اور مسلمانوں کو مطعون کرنے کا کھیل برابر جاری ہے۔
دہلی یونیورسٹی کا واقعہ تو بہت ہی تکلیف دہ ہے۔کم سے کم مجھ جیسے حساس لوگوں کیلئے‘جن کو علم اور استاذکے احترام کی اہمیت گھول گھول کر پلائی گئی تھی ‘خاتون استاذ کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ انتہائی پریشان کن ہے۔جے این یو اور دہلی یونیورسٹی میں آج کل اظہار رائے کی آزادی کو کچلنے کیلئے طلبہ کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس سے سب واقف ہوں گے۔آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والی اسٹوڈنٹ تنظیم اے بی وی پی کے لٹھ بردار وں نے نجیب کے حق میں آواز اٹھانے والوں کو دہشت گرد اور ملک دشمن قرار دے کرپورا ماحول پراگندہ کردیا ہے۔ایک ویڈیو نمودار ہوئی ہے جس میں اے بی وی پی کا ایک غنڈہ لا فیکلٹی کی ڈین ایک سن رسیدہ خاتون کو تین پولس افسروں کی موجودگی میں ناقابل بیان انداز اور الفاظ میں ڈرا دھمکا رہا ہے۔اس ویڈیو میں خاتون پروفیسرکی بے بسی دیکھ کروہی لوگ مسکرا سکتے ہیں جن کے سینوں میں انسانوں کا نہیں بلکہ آدم خور وحشی جانوروں کا دل ہو۔افسوس اس بات کا ہے کہ اس ویڈیو کودن رات چیخنے والے الیکٹرانک میڈیا نے کوئی اہمیت نہیں دی۔مسلم عورتوں کے حقوق کے بہانے اسلام کو گالیاں دینے والوں کا اصلی چہرہ یہ ہے کہ قانون پڑھانے والی ایک بردباراور معمرخاتون کو سرعام پولس افسروں کے سامنے ذلیل کیا جارہا ہے۔اس کا مستقبل برباد کرنے کی کھلی دھمکی دی جارہی ہے لیکن پولس افسران بھیگی بلی بنے کھڑے ہیں۔مسلم ’’بہنوں‘‘کی طلاق کے معاملہ پر ہمدردی دکھانے والے وزیر اعظم تک ایک ہندوخاتون کی بے حرمتی پر خاموش ہیں۔
یوپی کی انتخابی مہم کے دوران نریندر مودی اور امت شاہ کیسے کیسے شرمناک بیانات دے چکے ہیں اسے دوہرانے کی ضرورت نہیں ہے.....۔قبرستان‘شمشان‘رمضان‘قصاب اوراب پولنگ کے دوران برقعہ پوش خواتین کی چیکنگ جیسے انتہائی اشتعال انگیزاور مسلم دشمن بیانات کی ایک طویل فہرست ہے۔الیکشن کمیشن نے اس تعلق سے جومجرمانہ تساہلی برتی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔لیکن آر ایس ایس کے ایک سینئر لیڈر نے اجین میں کیرالہ کے وزیر اعلی کے خلاف تقریر کرتے ہوئے جس طرح مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا ہے وہ انتہائی اشتعال انگیز ہے۔۔ ایک جلسہ میں اس لیڈر نے کیرالہ کے وزیر اعلی کا سر کاٹ کر لانے والے کو ایک کروڑ روپیہ دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔اس نے جوش میں آکر یہ بھی کہہ دیا کہ 56مارے تھے‘ہم نے 2000کو قبرستان میں پہنچا دیا۔ظاہر ہے کہ یہ اشارہ2002میں سابر متی ٹرین کے سانحہ میں56کارسیوکوں کی موت اور پھر گجرات فسادات میں دوہزار مسلمانوں کے قتل عام کی طرف ہی ہے۔آر ایس ایس کا یہ لیڈرکھلے عام کیرالہ کے وزیر اعلی کا سر کاٹ کر لانے کی ترغیب دے رہا ہے اور یہ بھی بتارہا ہے کہ گجرات میں مسلمانوں کا جو قتل عام ہوا تھا وہ ایک منظم پلاننگ کاحصہ تھا جسے حکومت اور آر ایس ایس نے مل کرانجام دیا تھا۔اگر ایسا نہ ہوتا تو آر ایس ایس نے اس کی وضاحت کر دی ہوتی۔آر ایس ایس کا جو تازہ بیان آیا ہے اس میں صرف کیرالہ کے وزیر اعلی کا سر کاٹ کر لانے کے اعلان کی مذمت کی گئی ہے۔گجرات کے دوہزار مسلمانوں کے قتل عام کے تعلق سے اس لیڈر نے جو کچھ کہا ہے اس سے بیزاری کا اظہار نہیں کیا گیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ گجرات قتل عام کو آر ایس ایس کی رضامندی حاصل تھی۔پھر بھی مسلمانوں کے چند میر جعفراندریش کمار کی سربراہی میں آر ایس ایس کا مسلم ونگ بناکران کے تلوے چاٹ رہے ہیں اور جامعہ جیسی حساس یونیورسٹی میں اسلام کو مطعون کرنے کیلئے پروگرام منعقد کر رہے ہیں؟
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کچھ اور ذکر ضروری ہے۔جو لوگ امریکہ کے صدارتی انتخاب کی مہم اور اس کے بعد کے حالات پر نظر رکھے ہوئے تھے انہیں اندازہ ہوگا کہ ٹرمپ سے کسی خیر کی توقع تو دورکسی کلام خیر کی بھی امید نہیں کی جاسکتی۔لیکن انہوں نے امریکی کانگریس میں جو تقریر کی ہے وہ ہمارے ہندوستانی سیاستدانوں کو شرمندہ کرنے کیلئے کافی ہے۔ٹرمپ کیلئے امریکہ کی اپوزیشن جماعت کی حیثیت اسی طرح ہے جس طرح مودی کیلئے سونیا اور راہل کا وجود ہے۔وزیر اعظم نے ہر موقعہ پر یہ بات ببانگ دہل کہی ہے کہ ہندوستان کو کانگریس سے پاک ملک بناناہے۔انہوں نے تو اپنے غیر ملکی دوروں تک کو اپنی اس خواہش کے اظہار کیلئے استعمال کیا۔لیکن دوسری طرف ٹرمپ نے اپنی ایک گھنٹے کی تقریر میں اپوزیشن جماعت کاجتنی بار بھی نام لیا مل کرکام کرنے اور امریکہ کی تعمیر نو میں مددطلب کرنے کیلئے لیا۔ٹرمپ نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ امریکہ نظریات کی بنیاد پر دوحصوں میں منقسم ہوگیا ہے لیکن میرا عزم ہے کہ اب ہم سب مل کر کام کریں گے۔ٹرمپ نے بتایا کہ جب سے انہوں نے عہدہ صدارت سنبھالا ہے درجنوں بڑی غیر ملکی کمپنیوں نے کئی سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کئے ہیں اور دسیوں ہزار نوکریوں کی گنجائش نکلنے والی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے ہر شہری کے مکمل تحفظ کا حکم جاری کردیا ہے اور نشہ پر مکمل پابندی کا فیصلہ ہوگیا ہے۔انہوں نے داعش جیسی دہشت گرد جماعت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نے خود مسلمانوں کا بھی قتل عام کیا ہے۔انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ ہم مسلم دنیا میں اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے۔ٹرمپ نے کنساس میں ایک ہندوستانی انجینئرکے قتل پر بھی افسوس ظاہر کیا۔اپنی ایک گھنٹے کی تقریر میں ٹرمپ نے حفظان صحت‘عام سیکیورٹی‘ بے روزگاری‘روزگار کی فراہمی‘غربت اورجرائم کے خاتمہ اور ٹیکس نظام میں اصلاح کااعدادوشمارکی روشنی میں تفصیلی ذکر کیا۔یہاں تک کہ مزدوروں کی اجرت اور فوج کی فلاح وبہبود کے بجٹ میں اضافہ تک پر بات کی۔مگر آپ بتائیے کہ کب آپ نے ایوان میں اس طرح کی کوئی بات کی؟یوپی کے الیکشن میں تو آپ کھل کر سامنے آگئے اور جو بھی کہا وہ مسلمانوں کا دل دکھانے کیلئے کہا۔پھر کیوں تو آپ کو اس ملک کا وزیر اعظم کہیں اور کیوں آپ کا موازنہ ٹرمپ سے کریں؟
ٹرمپ نے کہا کہ مجھے پوری دنیا کی قیادت نہیں کرنی بلکہ مجھے امریکہ کیلئے کام کرنا ہے۔آپ نے پوری دنیا کے دورے کرلئے لیکن کیا کسی ایک کمپنی نے بھی ہندوستان میں سرمایہ کاری کی؟آپ نے کب دادری کے محمد اخلاق کے بہیمانہ قتل پر افسوس ظاہر کیا؟آپنے کب یوگی آدتیہ ناتھ‘ساکشی مہاراج‘سنگیت سوم اور کیلاش وجے ورگیہ جیسے کھلے مسلم دشمنوں کوبدزبانی کرنے سے روکا؟آپ نے کب بیس کروڑ سے زائد مسلمانوں کے مسائل حل کرانے کی یقین دہانی کرائی؟آپ نے کب سب کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا؟آپ نے امریکہ کی ہندوکوالیشن کی معرفت ٹرمپ کی انتخابی مہم میں ان کا ساتھ محض ان کی کھلی مسلم دشمنی کی وجہ سے دیا لیکن ٹرمپ نے اب جو کچھ کہا وہ تو آپ نے کبھی نہیں کہا۔ٹرمپ کی تقریر کا آخری جملہ سنا آپ نے؟انہوں نے کہا کہ آخر کار ہم سب ایک ہی خدا کے بنائے ہوئے ہیں لہذا ہم سب کو مل کر کام کرنا چاہئے۔کیا آپ ایسا کہنے کو تیار ہیں مودی صاحب؟

سید شہاب الدین بھی خالق حقیقی سے جاملے


نہال صغیر

جو بادہ کش تھے پرانے سب اٹھتے جاتے ہیں ۔۔کہیں سے آب بقائے دوام لا ساقی
ابھی دو روز قبل کی ہی بات ہے میں اویسی برادران اور کل ہند مجلس اتحاد المسلمین پر الزام تراشیوں سے بہت ملول تھا ۔اس حالت میں کوشش کی کہ دیکھوں کہ ماضی میں کن کن شخصیات کو جنہوں نے کانگریس سے الگ ہٹ کر مسلمانوں کی قیادت سنبھالنے کی کوشش کی اورعملاً سیاسی بے وزنی دور کرنے کی کوشش کی جن کو قوم نے کانگریس کے زر خرید غلاموں کے اشاروں پر بدنام کیا ۔ان میں ایک نام مسلم مجلس کے تاسیسی کارکن اور بیباک قائد ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی کا نام سامنے آگیا ۔جب انہوں نے 1974 میں مسلم مجلس کی بنا ڈالی اور یوپی عام انتخابات میں حصہ لیا اور پندرہ یا سترہ سیٹیں اسمبلی میں حاصل کیں ۔لیکن وہ مخلص اور بیباک قائد اسی سال ہم سے بچھڑ کر خالق حقیقی سے جاملا ۔اس نے اپنے پیشہ معالج کے بہترین کریئر ،اپنی دولت ،اپنی صحت اور آخر کار اپنی زندگی بھی قوم کے لئے قربان کردی ۔ان پر بھی انہی لوگوں کی جانب سے وہی الزمات لگائے گئے جو آجکل کانگریس کے دلال مسلم نما افراد اویسی برادران پر لگا رہے ہیں ۔بہر حال یہ تو بر سبیل تذکرہ یہاں بیان ہو گیا ۔آج 4 ؍مارچ 2017 کی صبح میں نے اپنا میل باکس کھولا تو وہاں گوگل گروپ این آر آئی انڈین پر کل ہند مسلم مجلس مشاورت کے نو منتخب صدر نوید حامد کی طرف سے ایک پیغام تھا کہ آج صبح چھ بجکر بائیس منٹ پر خالق حقیقی سے جا ملے ۔موت ایک زندہ حقیقت ہے۔یہ دنیا فانی ہے اور یہاں جو آیا ہے اسے ایک نہ ایک دن جان ہے ۔اس دنیا میں روز ہزاروں لاکھوں افراد موت کی آغوش میں پہنچ جاتے ہیں ۔ان میں سے بہت سے اپنے ہوتے ہیں جنہیں دل جان سے عزیز رکھتے ہیں ۔کچھ اپنے نہیں ہوتے ہیں لیکن انہی میں سے کچھ ایسے ہوتے ہیں جن سے کوئی رشتہ نہ ہوتے ہوئے بھی اپنا پن کا احسا س ہوتا ہے ۔اس سے خواہ ہم کبھی نہیں ملے ہوں لیکن وہ ہمارے بہت قریب ہوتا ہے ۔یہ قربت یہ لگاؤ اس کے عظمت کی وجہ سے ہوتی ہے اور اس عظمت کا سبب اس کا اخلاق ہوتا ہے ۔ایسے ہی عظیم اور مخلص شخص کا نام سید شہاب الدین تھا جن کو آج مرحوم لکھتے ہوئے کی بورڈ پر انگلیاں کانپ رہی ہیں ۔انہوں نے ساری زندگی قوم کے درد کو محسوس کرتے اور اس کے علاج و تدارک کیلئے بے چین رہتے ہوئے گزاری ۔صبح جب یہ خبر سوشل میڈیا پر گردش کررہی تھی تو کسی نے لکھا ’’مخلص ملی رہنما سید شہاب الدین خالق حقیقی ،انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ہم نے ایک مخلص زمانہ شناس رہنما کھودیا اب ہم ان کی یاد میں تعزیتی جلسہ اور میٹنگ کریں گے ۔ ان کے اوصاف و کمالات پر باتیں ہوں گی ۔لیکن کوئی ان کے اوصاف اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرے گا ۔ہماری وہی چال بے ڈھنگی قائم رہے گی ۔نہ ہم مخلصین کو پہچانیں گے اور نہ ہی ان کی آواز پر لبیک کہیں گے ۔ذرا ذرا سی بات سے ہم اپنے مخلص رہنما سے بدگمان ہوتے رہیں گے ۔بہر حال ہم سینہ کوبی کے علاوہ کر بھی کیا سکتے ہیں ۔اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں داخل کرے اور ہمیں ان کا نعم البدل عطا کرے ۔گرچہ ہم اس قابل تو رہے نہیں کہ اللہ ہمیں کوئی مخلص رہنما عطا کرے کیوں کہ ہم بہت زیادہ بدگمان ہونے والی قوم بن چکے ہیں ‘‘۔
آئی ایف ایس ٹاپر سید شہاب الدین مرحوم کا تعلق رانچی شہر سے تھا انہوں نے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے کر قوم کی حالت اور اس کی سیاسی بے وزنی سے کڑھنے والا یہ شخص سیاست میں آکر مسلمانوں کے مسائل کو بیباکی اور اخلاص کے ساتھ اٹھاتا رہا ۔وہ 1979 سے 1996 تک رکن پارلیمان رہے ۔انہوں نے انصاف پارٹی کی تخلیق بھی ۔مسلم مجلس مشاورت کا قیام بھی کیا ۔بابری مسجد کی تحریک ۔پرسنل لاء کی تحریک سب میں صف اول میں نظر آنے والے سید شہاب الدین مسلمانوں کو قانونی طور پر بیدار کرنے کی بھی کوشش ۔اس کے لئے انہوں نے وکلا کے پینل بنانے کی کوشش بھی کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوپائے ۔انہوں نے قوم کو کبھی تنہائی اور کم مائیگی کا احساس نہیں ہونے دیا لیکن قوم نے انہیں ضرور نام نہاد سیکولر پارٹیوں خصوصی طور پر کانگریس کے پروپگنڈہ سے متاثر ہو کر تنہا کردیا ۔لیکن اس مرد مومن کی جہاں تک قوت نے ساتھ دیا اس نے اپنی بساط بھر کوشش جاری رکھی ۔اسی کی دہائی میں بابری مسجد میں راجیو گاندھی حکومت کے ذریعہ شلا نیاس اور اس کے بعد پھوٹ پڑنے والے مسلم کش فسادات سے متاثر ہو کر انہوں نے ایک تو انصاف پارٹی بنائی اور دوسرا اہم قدم یہ اٹھایا کہ انہوں نے یوم جمہوریہ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ۔لیکن یوم جمہوریہ کے بائیکاٹ کے اعلان سے کانگریسی حکومت کے ایوان میں زلزلہ بپا ہو گیا۔کانگریس سے بھی زیادہ ان کے نمک خواروں نے واویلا مچایا کہ اس سے مسلمانوں کا نقصان ہوگا ۔لیکن یہ ایک موثر ہتھیار تھا جس نے مسلمانوں کے غم و غصہ کو عالمی پیمانے پر لوگوں کے گوش گزار کیا ۔یہی سید شہاب الدین ہے جو تاریخ میں پہلی بار مسلمانوں کی اجمالی صورتحال کی رپورٹ اپنے انگریزی اور اردو میں شائع ہونے والا معلوماتی رسالہ ’’مسلم انڈیا ‘‘ میں شائع کرتا تھا ۔آج سچر کمیٹی نے مسلمانوں کی جو صورتحال بتائی ہے وہ دہائیوں قبل وہ صورتحال ہر ماہ مسلمانوں اور انصاف پسندوں کو اعداد و شمار کی روشنی میں بتایا کرتا تھا ۔ آج بھی یہ شمارہ کئی سماجی کام کرنے والوں کے پاس محفوظ ہوگا ۔ممکن ہے کہ سچر نے بھی انہی دستاویزات کا سہارا لیا ہو یا کچھ حد تک مسلم انڈیا کی مدد لی ہو ۔
سید شہاب الدین دین کی سمجھ رکھنے والے جدید تعلیم یافتہ شخص تھے ۔ قوم کی بدحالی اور سیاسی بے وزنی کا انہیں احساس تھا اسی لئے انہوں نے سیاسی پارٹی بنائی تھی ۔وہ بہت بیدار اور با خبر تھے ،مجھے یاد آتا ہے کہ سیمی پر پابندی کے بعد ایک ٹی وی ٹاک شو میں جب اینکر نے کہا کہ سیمی کے خلاف ملک دشمنی کے ثبوت ہیں ۔تو انہوں نے ہنستے ہوئے اینکر سے کہا تھا کہ ہاں مجھے معلوم ہے کہ یہ ثبوت کیسے بنائے جاتے یا اکٹھا کئے جاتے ہیں ۔ممبئی کے مضافات ممبرا کی ایک سماجی شخصیت عطار عظیمی کو فون کیا غالبا دوس سال کے بعد میں نے انہیں فون کیا میری خیریت پوچھنے لگے ۔میں نے کہا کہ بھائی خیریت سے ہوں لیکن ہم سب کی خیریت چاہنے والا اور اس کیلئے پوری زندگی وقف کردینے والا اللہ کو پیارا ہوگیا ۔انہوں نے کہا کہ حقیقت ہے لیکن قوم کو احساس ہی نہیں ہے کہ کون ہمارے درمیان سے چلا گیا ۔عطار عظیمی نے ایک بار تذکرہ کیاتھا کہ وہ دہلی حج ہاؤس کے تعلق سے مقدمہ کیلئے ان سے ملنے گئے تھے ۔انہیں وکلا کی ضرورت تھی تاکہ اس کے سپرد یہ ذمہ داری کرسکیں ۔سید صاحب نے کہا کہ ہم نے وکیلوں کے پینل بنانے کی کوشش کی تھی لیکن اس میں کامیاب نہیں ہوسکا ۔پھر انہوں نے اپنی بیٹی جو کہ سپریم کورٹ کی وکیل ہیں کے پاس بھیج دیا ۔آج ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ذریعہ جیسے فیصلے سامنے آرہے ہیں اس تعلق سے انہوں نے غالبا پندرہ سال قبل ایک اردو روزنامہ میں اپنے مضمون میں تذکرہ کیا تھا کہ عدالتیں بھی ہندوتو سے متاثر ہیں انہوں نے کئی مقدمات کے حوالے بھی دیئے تھے جو کہ ابھی میرے ذہنوں میں نہیں ہے ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے مخلص ،قابل ،زمانہ شناس اور بیدار رہنما کی ہم نے قدر نہیں کی اور نہ ہی اس کی آواز پر لبیک کہا ۔ مسلم مجلس کے ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی پر الزام لگا کہ وہ فرقہ پرستوں کو فائدہ پہنچائیں گے ۔سید شہاب الدین پر بھی یہی الزام لگا یہ دونوں مخلص قائد اپنے حصہ کا کام کرکے رخصت ہوئے ۔اب دور تک اندھیرا ہے ۔ایک ہلکی سی کرن اویسی برادران سے ہے ان کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے ۔انہیں بھی نہ صرف فرقہ پرستوں کو فائدہ پہنچانے والا بلکہ بی جے پی کا ایجنٹ تک کہا جارہا ہے ۔ایسے حالات میں اللہ سے دعا کرنے اور اپنے حصہ کا کام کرنے کے علاوہ کیا کیا جاسکتا ہے ۔ علامہ اقبال کے ساقی نامہ سے ایک شعر           ؂شراب کہن پھر پلا ساقیا ۔ وہی جام گردش میں لا ساقیا

"امروز فردا" کیااب عشرت جہاں کی سیاسی ضرورت ختم ہوگئی ہے؟


سیدحسین شمسی





کل شب دیر تک جمعیت علماءکے دلّی سے آئے معزز مہمان ’قومی یکجہتی‘ کے عنوان کے تحت سرزمین ممبرا میں آباد مسلمانوں کو غیرت دلاتے رہے۔ ساتھ کچھ آچاریہ اور رِشی بھی تھے۔ان حضرات نے بھی مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی خود مسلمانوں کے سامنے کچھ یوں کی گویا وہ سامعین کی جانب سے داد ودہش کے نعرے بلند ہوتے دیکھنا چاہتے ہوں۔ ہوا بھی یہی کہ صدرجلسہ کی تقریر سے زیادہ سامعین ان کی تقریر پر ہمہ تن گوش نظر آئے۔ بہرحال تصویر کی حدتک سب کچھ پرفیکٹ تھا، بس محسوس یوں ہو رہا تھا کہ انہوں نے قومی یکجہتی کیلئے مسلم اکثریتی علاقے کا انتخاب کر کے غلطی کی۔ آج ملک کی آزادی کی سات سے زائد دہائیاں گزر جانے کے بعد اقوامِ ہندکو اس بات میں ذرہ برابر بھی شبہہ باقی نہیں رہ گیا ہے کہ مسلمان حب الوطنی، پُر امن باہم وجودیت اور قومی یکجہتی کے جذبے سے سرشار بلکہ لبریز ہے۔ صرف اسی لئے، رائے یہ بنتی ہے کہ اب اچاریہ اور رِشی صاحبان کو چاہئے کہ وہ قومی یکجہتی کے رتھ کا پہیہ گجرات، مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور ایسے دیگر ہندو اکثریتی علاقوں کی جانب موڑدیں جہاں مسلمانوں کے حوالے سے بد گمانیاں ہی نہیں بلکہ انتہائی درجہ کی زہر افشانیاں کی جا رہی ہیں۔ سو رائے درست ہو توفوری طور پر ممبرا سے احمدآباد جانے میں کیا قباحت ہے؟ یہ بات اس لئے کہی جارہی ہے کہ ان سیکولر ذہن آچاریہ و رشیوں کو مسلمانوں کے حق وانصاف کی بات کرتے ہوئے ہم مسلم علاقوں اور مسلم اسٹیج پر ہی دیکھتے آئے ہیں، آخر یہ باتیں ببانگ دہل فرقہ پرستوں کے درمیان کیوں نہیں کی جاتی؟ یامسلمانوں کے تئیں غلط فہمی کے شکار برادرانِ وطن کے ذہنوں کو صاف کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ ایسا نہیں ہے کہ ہم آچاریہ جی کی باتوں کو صرف دلجو, مصنوعی یا لاگ لپیٹ والی گردان رہے ہیں بلکہ بتانا یہ مقصودہے کہ قومی یکجہتی پر مبنی ان خطابات کی ضرورت آج مسلم علاقوں سے زیادہ برادرانِ وطن کے علاقوں میں ہے۔

مذکورہ پروگرام میں صرف یہی چیزmisplaced نہیں تھی۔ ایک مولوی صاحب نے ایک ممبراسمبلی کی منہ بھرائی کی رسم بھی بڑی ’دیدہ دلیرانہ بے شرمی‘ کے ساتھ ادا کی۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ممبراسمبلی کی کارکردگی موثر نہیں، لیکن یہ کیاکہ تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے ملادیئے۔ بات یہیں نہیں تھمی، ممبرا کے ایک مشہورہوٹل پر ایک ایسی ایمبولینس سروس کا چند برس بعد مولانا ارشد مدنی کے ہاتھوں دوبارہ افتتاح کرانے کی ’کوشش‘ کی گئی جو 2011سے ’شہید‘ عشرت جہاں کے نام سے چل رہی تھی اور فردنویس حکومت کی آمد کے بعدوزیر اعلیٰ اور چندلوگوں کے اعتراضات واحتجاج پر ’زیر زمین‘ کر دی گئی ۔
عشرت جہاں کو 2004میں گجرات کے ایک فرضی انکاؤنٹر میں قتل کردیا گیا تھا، معاملہ ابھی زیر سماعت ہے۔ عشرت جہاں کے حوالے سے اہالیان ممبرا کے جذبات سب پر واضح ہیں۔ وہ ممبرا کی بیٹی تھی، لیکن اسی بیٹی کی لاش پر سیاسی و نیم سیاسی روٹیاں خوب سینکی گئیں۔ روزِ اوّل ہی سے مقتولہ کا استعمال سیاسی مائلیج لینے کیلئے کیا گیا۔ ایک خاص سیاسی لیڈر کی ایماءپر’کچھ پیدل لوگوں‘ نے اس جذباتی موضوع کو یوں اُچھالا کہ آج ان کے پاس ’سیاسی شہرت و رتبہ سب کچھ ہے ‘۔ جبکہ مقتولہ کا خاندان نہ جانے کس حال میں ہے؟
چونکہ معاملہ زیر سماعت تھا، اسلئے اوّل روز ہی سے اہالیان ممبرا کا ایک بڑا باشعور طبقہ عشرت کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کے حق میں نہیں تھا۔ عشرت کا جنازہ گواہ ہے کہ یہ مسئلہ سارے ممبرا کی ناک کا مسئلہ تھا، لیکن چند ہی مہینوں میں، دیکھتے ہی دیکھتے، بہ زورِ بازو و فلوس، اس موضوع کو ذاتی ملکیت میں تبدیل کر دیا گیا۔ "پیدل لوگ" گاڑیوں میں سفر کرنے لگے, اُن کی آُڑی اُڑی رنگت, گھر اور گاڑی میں ایئرکنڈیشنر ہونےکی وجہ سے نکھرنے لگی مگر چہرے کا نور اور زبان و بیان کا اثر جاتا رہا. گزشتہ سے پیشتر والے اسمبلی انتخابات میں، عین انتخابات سے پہلے، فلاح گارڈن پر ’لاشئہ عشرت‘ کی نمائش کر کے، گھما پھراکر، طرح طرح سے عوام کو یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ ’یہی وہ مردِ آہن تھا کہ جس کے سبب آج عشرت کا موضوع ’زندہ‘ ہے۔ عشرت کی وکیلہ موصوفہ نے تو برملا سیاسی امیدوار کا نام ہی گھوشِت کر دیا۔ سب جانتے تو تھے کہ یہ ’لاشئہ عشرت‘ کیوں سجایا گیا ہے، لیکن ہمارا المیہ ہے کہ ہم جانتے تو ہیں، مانتے کہاں ہیں۔ عشرت کیس کے ’مالک‘ نے بڑی عیاری سے ’عشرت کارڈ‘ کھیل دیا تھا۔ وہ کھیل سیاسی جُوا ثابت ہوا۔ جواری جانتے ہیں کہ پتّے کو بہت پھینٹا جائے تو پتّہ اپنی رنگت کھو دیتا ہے۔ سو جُواری نے گھسے ہوئے پتے کومزید پھینٹنا کسر شان سمجھتے ہوئے "ڈسٹ بِن" میں ڈال دیا۔ 
غرضیکہ عشرت نے مَر کر بہتوں کی زندگیاں سنوار دیں۔ ان صاحبان کی زندگیوں میں سیاسی استحکام کے بعد ’عشرت کی ضرورت‘ کم ہوتے ہوتے ختم سی ہو گئی۔ اب کوئی عشرت کا نام لیوا نہیں۔ وزیراعلیٰ فردنویس کی اس گیدڑ بھپکی کے بعد کہ "ہمیں خبریں موصول ہوئی ہیں کہ عشرت لشکر طیبہ کی آپریٹیو ہے", ’شہید عشرت‘ سے منسوب ایمبولینس کو زیر زمین چھپا کر رکھ دیا گیا۔ اور اب وہی پرانی ایمبولینس، نئے رنگ و روغن، نئے بینر اور نئے ٹیلی فون نمبروں کے ساتھ ’جمعیت علماءایمبولینس سروس‘ کے نام سے نمودار ہوئی ہے۔ کچھ لوگ مولانا ارشدمدنی صاحب سے اس کا دوبارہ افتتاح کروانا چاہتے تھے، وہ جہاں دیدہ آدمی ہیں، بھانپ گئے، دور ہی رہے۔
آخر ایسا کیوں کیا گیا؟ ہم سب جانتے ہیں کہ ملک کی سیاست میں عشرت کا معاملہ انتہائی اعلیٰ سیاسی رنگ اختیار کر چکا ہے، جس شخص نے عشرت کے معاملے میں منطقی انجام تک لڑنے کا اعلان کیا تھا، وہ کہاں ہے؟ کیا فردنویس کے بیان سے ڈر گئے؟ یا پھر اب عشرت سانحے کی سیاسی ضرورت ختم ہو گئی؟
عشرت کے معاملے میں دل ہمیشہ اس کے گھر والوں کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ وہ کس حال میں ہیں؟ ان کا گزارا کیسے ہو رہا ہے؟ کیا وہ عزت کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں؟

بشکریہ روزنامہ راشٹریہ سہارا ممبئ 

رنگ گردو ں کا ذرا دیکھ ۔۔۔



نہال صغیر

ہندوستان میں آزادی کے بعد سے جو قوتیں ملک کو ایک ہندو راشٹر بنانے کی جانب مسلسل اپنے مقاصد کی تکمیل میں لگے رہے اب وہ منزل پر پہنچنے والے ہیں۔یہ غور کرنے کا مقام ہے کہ ان لوگوں کو ان کے مطلوبہ منزل کی جانب بڑھنے اور اس پر کامیابی کے ساتھ پہنچنے میں سب سے زیادہ جس نے مدد کی وہ کانگریس ہے ۔ہم ستر برسوں سے کانگریس اور نام نہاد سیکولر پارٹی کے بغل بچہ بنے رہے ۔ہمیشہ ہم نے فرقہ پرستوں کو پیچھے رکھنے ان کو سیاسی طور پر مفلوج رکھنے کی لڑائی میں مسلمان ہی صف اول میں نظر آئے ۔یعنی کانگریس نے ہمیشہ مسلمانوں کو یہاں کی اکثریتی فرقہ کے روبرو دشمن کے طور پر ہی پیش کیا ۔یہ کام جہاں آر ایس ایس کھلے عام کرتی رہی وہیں کانگریس نے مسلمانوں کو سیکولرزم کے نام پر ہپنا ٹائزڈکرکے یہی کام کروایا لیکن مسلمان بے خبر رہے کہ وہ بہت اچھا کام کررہے ہیں اور آج ستر سال بعد مسلمان خود کو لٹا پیٹا اور بے یارو مددگار محسوس کررہے ہیں ۔اتنے دنوں میں صرف ایک بار انہوں نے اپنی سیاسی قوت مضبوط کرنے یا اس کی تخلیق کی جانب قدم بڑھایا اور بھی ناکام رہا ۔جنوبی ہند میں کیرالا اور تمل ناڈو میں مسلمان تعلیم اور سیاسی شعور کی بیداری کی وجہ سے آج بھی سیاسی طور پر خود کو سمیٹے ہوئے ہے ۔اس کے علاوہ پورے ہندوستان میں ہر جانب اندھیرا ہے ۔اس اندھیرے کو دور کرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ رات ہونے پر روشنی کرنا ۔
وقت بدل گیا ہے ۔آزادی ہند کو ستر سال بیت چکے ہیں ۔اس وقت کے لوگ اب خال خال ہی نظر آتے ہیں ۔نئی نسل اکیسویں صدی میں اطلاعاتی انقلاب کے سایے میں زندگی گزاررہی ہے ۔اسے پرانی روایتوں کا بالجبر مقلد نہیں بنایا جاسکتا ۔وہ سوال کرتا ہے ۔اس کا سوال منطقہ بھی ہوتا ہے ۔وہ اپنے سوال کا جواب بھی چاہتا ہے ۔اسے محض خوف اور گمان کی باتوں سے نہیں بہلایا جاسکتا ۔وہ دیکھ رہا ہے کہ ملک کیلئے بے شمار قربانیوں کے باوجود مسلمانوں کو نہ صرف حاشیہ پر پہنچادیا گیا بلکہ اس کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے ۔اس نے اردو تو نہیں پڑھی ہے لیکن وہ انگریزی اور ہندی میں تاریخ کے اوراق پلٹتا ہے اور خود یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ اس کی قوم کے پچھڑنے کا سبب کیا ہے۔اسے کیوں نظر انداز کیا جاتا رہا ۔اسے کیوں پہلے فسادوں میں تباہ کیا گیا اور اس کے بعد اس کے مجتمع حوصلوں کو توڑنے کیلئے فرضی انکاؤنٹر وں میں ہلاک کی اجانے لگا اور فرضٰ مقدموں میں برسوں قید و بند کی سزا دینے کے بعد کورٹ نے اسے بری کردیا جب اس کی زندگی کے قیمتی سال تباہ ہو گیا ۔یہ سارے سوال اس کے ذہنوں میں ہیں وہ اسے پوچھتا بھی ہے لیکن اسے جواب دینے کی یا تو صلاحیت نہیں ہے یا حقائق کی جانکاری کے بعد کسی میں حوصلہ نہیں ہے ۔
آج کئی جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے ملک کے بگڑتے حالات کے پیش نظر دلت و دیگر پسماندہ طبقات کے ساتھ مسلمانوں کے اتحاد کی بات ہو رہی ہے ۔غالباً آزادی کے بعد سے ہی جماعت اسلامی ہند نے اس جانب قدم بڑھایا تھا ۔لیکن اس جماعت کو اپنوں کے فتووں کے میزائل سے اتنا تنگ کیا گیا کہ وہ زیادہ کچھ کام انجام نہیں دے سکی ۔پر ایسا نہیں ہے کہ جماعت اسلامی ہند کی کوششیں بار آور نہیں ہو سکیں ۔ اس کی محنتوں کا ہی ثمرہ ہے کہ اور مختلف مسلم تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں اس جانب قدم بڑھارہی ہیں ۔اس سلسلے میں جتنی لگن اور جنگی پیمانے پر کام کرنے کی ضرورت تھی وہ اس لئے نہیں کیا جاسکا کہ ہمارے بعض مولویوں نے بھی اسلام کے مساوات کے اصول کے بر عکس برہمنوں کے عدم مساوات سے متاثر ہو کر بعض احادیث کی غلط تشریح کرکے عدم مساوات کو رواج دینے کا کام مسلم معاشرے میں کیا ۔اس کا انجام یہ ہوا کہ یہاں کی پسماندہ اقوام سے ہم مسلمانوں نے بھی وہی رویہ روا رکھا جو برہمن ان کے ساتھ روا رکھتے تھے ۔ہندوستان میں بزرگان دین کی کوششوں نے بہت حد تک عدم مساوات کے خلاف کام کیا لیکن اس کے باوجود حکومتی سطح اور علما و اکابرین کی جانب سے اسلام کے اس زرین اصول مساوات کی وہ ترویج و اشاعت نہیں ہوئی۔ہم نے اپنے بچپن میں یہ دیکھا ہے کہ کس طرح دلت تو دلت خود مسلمانوں کے پسماندہ افراد کے ساتھ ہمارا یہ رویہ ہوتا تھا کہ وہ بیچارہ نیچے زمین پر آکر بیٹھتا تھا اور ہم نواب صاحب بن کر اوپر بیٹھا کرتے تھے ۔جب اسلامی شعور جاگا تو ہم اس روایت کو ختم کیا لیکن صدیوں تک اس ذہنیت کے ساتھ رہنے والے لوگ آج بھی ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔
اب بھی جب ہم اتحاد و یکجہتی اور اسلام کے مساوات کے پیغام اور نبی ﷺ کے حجتہ الوداع کے موقعہ پر دیئے گئے خطبہ کی بات ہوتی ہے تو اس پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی ۔مسلمانوں میں بھی عام رجحان یہ پایا جاتا ہے کہ ارے یہ پسماندہ ہندو بھی وقت پر ہمارے خلاف ہی ہوتے ہیں ۔سوال یہ ہوتا ہے کہ آخر یہ حالات کیونکر پیدا ہوتے ہیں ۔اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے کبھی اس بات کی کوشش کی کہ ان کو ایک انسان کی حیثیت سے ہم وہی عزت دیں جس کا وہ حقدار ہے ۔ہم کبھی نہیں سوچا اور نہ ہی اس پر عمل کیا ۔ہم نے اگر ان کو اپنا بھائی سمجھا ہوتا اور ان سے نفرت نہیں کیا ہوتا ،انہیں نیچ اور گھٹیا نہیں سمجھا ہوتا تو آج وہ برہمنوں کے اشاروں پر ان کے ساتھ نہیں ہوتے ۔ایسا نہیں ہے کہ ہماری جانب سے کوئی کام نہیں ہوا لیکن وہ کام اجتماعی طور پر نہیں ہوا ۔انفرادی طور پر کچھ لوگوں نے یا جماعت اسلامی ہند جیسی ایک آدھ جماعت نے یہ کام کیا لیکن وہ مسلمانوں کی ذہنیت سے عدم مساوات کی برہمنی سوچ کو صاف نہیں کرسکے ۔گجرات فسادات یا ملک کے کسی بھی حصے میں رونما ہونے والے فسادات میں پسماندہ ہندوؤں کا رونا رونے سے پہلے ہم نبی ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں اونچ نیچ کے برہمنی نظام سے باہر نکل کر جو صدیوں سے غلامی کی زندگی جی رہے ہیں ان کی قوت بنیں ۔انہیں آزاد کرائیں ۔یہ ڈھائی یا ساڑھے تین فیصد برہمن جو انہیں استعمال کرتے ہیں ہم ان کے ہاتھ بننے والوں کو اپنا ہمنوا بنا سکتے ہیں ۔لیکن یہ صبر آزما کام ہے جسے شروع کرنے کیلئے حوصلہ ہمت اور مومنانہ بصیرت کی ضرورت ہے ۔یہ جس میں ہے وہ اس کام کو شروع کرسکتا ہے ۔اسے کامیابی بھی ملے گی ۔ماضی میں بھی ایسی کئی شخصیات ہوئی ہیں جنہوں نے ایسے کارنامے انجام دیئے لیکن بعد میں ان کی وراثت کو کوئی سنبھال نہیں پایا ۔ایسے ہی ایک فرد کا نام ڈاکٹرعبد الجلیل فریدی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے قوم کی خدمت کیلئے اسے قعر مذلت سے نکالنے اسے سیاسی قوت بنانے اور ملک میں باعزت مقام دلانے کیلئے اپنا باوقار پیشہ معالج کا ،اپنی دولت اور آخر میں اپنی دولت تک قربان کردی ۔اللہ اس کے قبر کو منور کرے اور اس کے اخلاص کو قبول کرتے ہوئے اس کا بہترین اجر دے ۔ڈاکٹر مرحوم نے جب مسلم مجلس بنا کر یوپی میں الیکشن لڑنے کی تیاری کی تو انہیں بھی فرقہ پرستوں کا ایجنٹ اور سیکولر ووٹوں کو منتشر کرنے والا بتایا گیا تھا ۔جیسا کہ حالیہ دنوں میں کل ہند مجلس اتحاد المسلمین اور ان کے لیڈروں اویسی برادران کے بارے میں کانگریس اور مسلم سیکولرسٹوں کی جانب سے پرپیگنڈہ کا بازار گرم کیا جارہا ہے ۔
کچھ لوگ یا طبقہ ہماری ملت میں نفاق کے بیج بوتا ہے اور پھر اسی جانب سے اتحاد کی بات بھی کی جاتی ہے ۔عجیب مخمصہ کا دور ہے ۔ایسے ہی کچھ لوگوں اور طبقوں کی جانب سے ہمیں برادران وطن سے لڑانے کی ہمہ وقت کوشش کی جاتی ہے ۔ہم اس کو سمجھ بھی نہیں پاتے کہ کس منصوبہ پر عمل ہو رہا ہے ۔یہ منصوبہ ہے ہمیں برادران وطن کے ساتھ ہمیشہ حالات جنگ اور دشمنی و نفاق والے ماحول میں رکھنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے ۔ہمیں ان حالات کو سمجھنا ہوگا اور مسلمانوں کے ان فرقوں یا طبقوں کے ساتھ اتحاد و یکجہتی کی کوشش کے ساتھ ہی دوسرے مذاہب کے افراد اور طبقوں کے ساتھ جنگی پیمانے پر منصوبہ بند کوشش کی جائے۔یاد رکھیں کہ ملک کے حالات جس رخ کو جارہے ہیں اس کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم آپسی اتحاد و یکجہتی کے ساتھ ہی دیگر اقوام کے ساتھ دشمنی والے ماحول کو بدلا جائے ۔اس پر دو سطحوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور تو ایک طبقہ وہ ہو جو یہ باور کرائے کہ ہم تمہارے رعب میں نہیں آئیں گے اور نہ ہی ہم اپنی تہذیب اور مذہبی شناخت سے علیحدہ ہو سکتے ہیں ۔دوئم ایک طبقہ وہ ہو جو ہمیشہ دیگر اقوام خاص طور سے ان سے جو ہماری دشمنی میں سب سے آگے اور جارح ہیں ڈائیلاگ کے لئے مختص رہے وہ اسی میں اپنی ساری توجہ لگائے ۔

کیوں نہیں فرماتے علمائے دین...




قاسم سید 
راستہ میں کنکر ہی کنکر اور روڑے ہوں، سڑک اوبڑ کھابڑ ہو، جگہ جگہ گڈھے نظر آرہے ہوں تو اچھا جوتا پہن کر اس پر چلا جاسکتا ہے۔ دشوار سے دشوارتر راستہ طے کیا جاسکتا ہے اور منزل تک پہنچنے کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے، مگر جب اچھے جوتے کے اندر ایک کنکر یا روڑا چلا جائے تو اچھی صاف ستھری سڑک ہونے کے باوجود اس پر چل نہیں سکتے۔ کوشش کریں گے تو پیر الٹا سیدھا پڑے گا بلکہ زخمی بھی کردے گا، پھر نظر منزل پر بھی نہیں بلکہ پوری توجہ جوتے میں موجود کنکر پر رہے گی۔ دوسرے الفاظ میں بیرونی چیلنجوں اور مخالفین کی وجہ سے انسان نہیں ہارتا بلکہ اندرون کی کمزوریاں اس کی شکست کا سبب بنتی ہیں۔ داخلی استحکام سخت سے سخت خارجی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جڑیں مضبوط ہونے پر تیز و تند آندھی پیڑ کا کچھ نہیں بگاڑتی، شرط یہ ہے کہ اس میں اکڑ نہ ہو، عاجزی و انکساری ہو۔ کوئی شخص ہو یا ملک و قوم اس وقت تک تندرست و توانا، مضبوط و مستحکم رہتے ہیں جب تک وہ داخلی استحکام پر توجہ اور بغلی گھونسوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔ جنگیں ہارنے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ قلعہ کا دروازہ اندر سے کھولنے والے تلاش کرکے خارجی طاقتیں اپنے مقصد کے لئے استعمال کرتی ہیں اور ایسے عناصر ہر دور میں بکثرت دستیاب رہتے ہیں جو معمولی داد و دہش کے لئے ضمیر کو کفن بناکر اوڑھ لیتے ہیں۔ جوتے کی کنکریاں چھوٹی ہوں یا بڑی، بہت تکلیف دیتی ہیں۔ اگر چھوٹی بھی ہو تب بھی چین نہیں لینے دیتی تاآنکہ اسے باہر نکال دیا جائے۔ اس لئے بیرونی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے پہلے اپنی چھوٹی چھوٹی کمزوریوں سے نجات پانا ضروری ہے۔ سارا غصہ سڑک پر نکالنا احمقانہ ردّعمل ہوگا۔
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ اپنے ہر مسئلہ کا قصوروار دوسروں کو قرار دے کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔ خوداحتسابی کا شعور دفن کردیا گیا ہے۔ اشتعال انگیزی اور جذباتیت کے خمیر سے تیار مزاج نے عدم برداشت کو امتیازی شناخت بنادیا ہے۔ ایسے وقت جب ملک میں راشٹردروہ بنام راشٹر بھکتی کی جنگ کا دوسرا دور شروع ہوا ہے، شخصی آزادی پر بحث پھر تیز ہوگئی ہے۔ تکثیری سماج میں پائی جانے والی اکثریت کے دو گروپ آمنے سامنے ہیں اور ایک دوسرے پر عدم رواداری و عدم برداشت کا الزام لگارہے ہیں۔ طاقت کے زور پر منھ بند کرنے یا پھر اس پر راشٹردروہی کا لیبل چسپاں کرنے کی مہم جنون میں تبدیل ہوگئی ہے۔ ہمیں بھی ایمانداری اور غیرجانبداری کے ساتھ اپنے جارحانہ رویے کا احتسابی جائزہ لینا چاہئے کہ آخر اختلاف رائے کو برداشت کرنے کے لئے ہم تیار کیوں نہیں ہیں، خاص طور سے مذہبی امور میں قوت برداشت کیوں ختم ہوتی جارہی ہے۔ اختلاف کو مخالفت اور دشمنی کی حدوں میں پہنچادینے کا آخر کیا جواز ہے۔ اپنی رائے بالجبر تھوپنے کی ذہنیت کو بعض حلقوں کی طرف سے غذا فراہم کی جارہی ہے، خاص طور سے مسلکی اختلافات دشمنی کی تمام حدوں کو پار کرنے کے لئے پر تول لئے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ معزز علمائے کرام جن کو وارثان انبیاء کہا جاتا ہے اس دھینگامشتی کا خاموشی سے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ ہر ماہ ایسی دلخراش خبریں آتی ہیں کہ کلیجہ کانپنے لگتا ہے، مگر ممبر رسول کے وارث نہ جانے کن مصلحتوں کے تحت لبوں کو سیئے رہتے ہیں۔ زبان پر حرف شکایت نہیں۔ مسجدوں اور مدرسوں پر قبضے کے لئے ایک دوسرے کے سر پھوڑے جارہے ہیں۔ خون کے پیاسے بن جاتے ہیں، لاٹھیوں اور ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال کرنے، فرزندان توحید ’خالص حق‘ کے لئے لہو بہانے سے دریغ نہیں کرتے۔ نہ جانے کتنی مسجدوں میں تالے محض اس بنا پر پڑگئے کہ دو مسلکوں کے پیروکار صرف اپنا حق سمجھتے تھے۔ انھوں نے یہ تو گوارا کیا کہ مسجد میں اذان نہ ہو، اللہ کے حضور سجدے نہ ہوں، صفیں ویران ہوجائیں اور مسجد اپنے نمازیوں کے لئے ترس جائے، لیکن ان کی ’ایمانی غیرت‘ نے جس کو صاحبان جبہ و دستار نے بڑی محنت و جدوجہد سے ’کمال عروج‘ کو پہنچایا ہے یہ برداشت نہیں کیا کہ مخالف مسلک والا ان پر بازی لے جائے۔ یہ کام ہماری حرکتوں کے سبب ہو تو یہ دین کا عین تقاضہ، اگر حکومت آثار قدیمہ کی مساجد میں نماز پر پابندی لگادے تو یہ اقلیت دشمن اور جمہوری آزادی کے برخلاف۔ ہم اس دہرے رویے پر مطمئن بھی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے واقعات پر نہ صرف علمائے کرام بلکہ مذہبی جماعتیں بھی پراسرار خاموشی اختیار کئے رہتی ہیں حتیٰ کہ سیاسی رہنمائوں سے ملاقاتیں اور کسی سیاسی پارٹی کے لئے ووٹ کی اپیل یا ہمدردی کے اظہار میں بخالت سے کام نہ لینے والے مسلمانوں کی آپسی سرپھٹول پر غیرجانبدار نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ یہ خاموشی ایسے عناصر کے حوصلے بڑھاتی ہے جو معمولی تنازعات پر سر پھاڑنے کے لئے دوڑ پڑتے ہیں۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اصلاح معاشرہ کی تحریک چلاتا ہے، مگر مسلکی اختلافات پر پانی ڈالنے یا اپنے مسلک پر برقرار رہتے ہوئے ایک دوسرے کے احترام اور تنازعات کو علما کی طرف لوٹانے کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔
حال ہی میں بہار کے سیتامڑھی میں ایک مسجد پر دیوبندی اور اہل حدیث مسلک والے آمنے سامنے آگئے۔ مسجد پر دوسرے فریق نے قبضہ کی کوشش کی۔ پولیس نے حملہ آوروں سے مسجد خالی کرائی۔ مقامی انتظامیہ نے فریقین میں صلح صفائی کی کوشش کی۔ مسجد و اطراف کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔ تنازع کے سبب اذان و نماز نہیں ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ مسجد کے سارے امور ایک مسلک کے زیرنگرانی انجام دیے جارہے ہیں کہ ایک دن دوسرے مسلک کے مقامی و بیرونی افراد مسجد میں داخل ہوئے اور مسجد کا نام اور وقف نمبر کھرچنے لگے، جس پر ہنگامہ ہوا۔ پولیس فورس طلب کی گئی، ایک مقامی لیڈر ان کی پشت پناہی کررہا ہے، کاغذات کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔
اسی طرح مرادآباد کے تھانہ پاکبڑا کے رتن پور کلاں گائوں میں دیوبندی اور بریلوی مسلک کے لوگ مسجد میں بھڑگئے۔ دونوں مسلک کے عاشقان نے ایک دوسرے پر جم کر پتھرائو کیا، جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس نے زخمیوں کو اسپتال پہنچایا۔ دونوں مسلک کے اہلیان مسجد پر اپنا دعویٰ کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مسجد میں سوئم ہورہا تھا تو دوسرے مسلک والوں نے پہنچ کر اسے بند کرایا۔ معاملہ تھانہ پہنچا۔ دونوں نے اپنے دستاویز دکھائے۔ دوسرے روز عصر کے وقت دونوں مسلک والے مسجد پہنچے، جہاں کہاسنی ہوگئی اور دونوں نے ایک دوسرے پر جم کر پتھرائو کیا۔ کئی تھانوں کی پولیس موقع واردات پر پہنچی، پتھرائو میں مسجد کے امام بھی زخمی ہوگئے۔ پندرہ لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ پولیس فورس بڑی تعداد میں تعینات کردی گئی۔ معاملہ کی جانچ جاری ہے کہ مسجد پر کس کا قبضہ جائز ہے۔ یہ حملے شرپسندوں یا فرقہ پرست عناصر نے نہیں کیا بلکہ اللہ و رسول پر ایمان رکھنے والوں اور ایک قبلہ کی طرف منھ کرکے نماز پڑھنے والوں نے ہی یہ کارخیر انجام دیا ہے۔ یہ واقعات ایسے ہیں جو اخبارات میں شائع ہوجاتے ہیں۔ نہ جانے دوردراز کے علاقوں میں کہاں کہاں فرزندان توحید کی ایمانی غیرت جوش مارتی ہوگی اور کتنے مقدمات تھانوں میں دائر ہوئے ہوں گے، پھر ان کی گرفتاریوں اور ضمانتوں کے مسائل سامنے آتے ہیں۔ ظاہر ہے اسلام و حقانیت کے لئے یہ قربانیاں یقیناً ضروری مانی جاتی ہوں گی۔ یہ سماج کا غریب و نادار طبقہ ہوتا ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے اور رسول سے سچی محبت کرتا ہے۔ اس کے پاس حیلے اور تاویلیں نہیں ہوتیں۔ وہ شریعت و دین کے بارے میں جتنا جانتا ہے اس پر مرمٹنے کا جذبہ رگوں میں دوڑتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر ان رگوں میں جہاں محبت و جاں نثاری کا لہو دوڑ رہا ہے، مسلکی زہر کا انجکشن دے کر کون زہریلا بنارہا ہے۔ انھیں تشدد پر کون اکساتا ہے۔ اپنے دینی بھائیوں پر لاٹھیاں مارنے، سر پھوڑنے اور جان لینے کی ترغیب دیتا ہے۔ آخر وہ کون ہے جو انھیں لڑاکر بل میں گھس جاتا ہے۔ ان کی نشان دہی کیوں نہیں کی جاتی ہے؟ کیا تبلیغ مسلک تبلیغ دین پر حاوی ہوگئی ہے۔ کیا سب ترجیحات میں مسلک ہی اول و آخر ہوگیا ہے اور کیا ہندوستان میں بھی پاکستان کی طرح مسلکی جنگوں کے لئے ماحول تیار کیا جارہا ہے۔ کیا ان کو بے نقاب نہیں کیا جانا چاہئے۔ آخر اس مسئلہ کی سنگینی و سفاکی کو محسوس کیوں نہیں کیا جارہا ہے۔ ہماری خاموشی ایسے خوفناک اور سفاک عناصر کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی، جو اپنے اسٹیجوں سے مسلکی زہر بانٹتے ہیں اور اس میں بلاامتیاز سبھی مسالک کے ماننے والے موجود ہیں۔ ہمارے معزز علمائے کرام آخر کب تک خاموش رہیں گے، وہ آگے بڑھ کر اس پر باندھ کیوں نہیں باندھتے۔ انھیں کس بات کا انتظار ہے؟ معزز علمائے کرام ہی تو ہماری پہلی اور آخری امید ہیں۔ اگر یہ طبقہ بھی مصلحتوں، نادیدہ اندیشوں اور مروّتوں کا شکار ہوگیا تو یہ ملت کہاں جاکر اپنے درد کو بیان کرے گی۔ یہی تو ملجا و ماوی ہیں تو ان پر ذمہ داری بھی سب سے زیادہ عائد ہوتی ہے۔ اگر سبرامنیم سوامی جیسے لوگ ببانگ دہل آن ریکارڈ یہ کہنے کی ہمت رکھتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کو آپس میں تقسیم کریں گے، ان کو مسلک کی بنیاد پر بانٹیں گے اور ہندوئوں کو متحد کریں گے اور ہم یہ کررہے ہیں، وہ ہماری کمزور نسوں کو دبانے کی حکمت عملی پر کام کرنے اور اسے بتانے میں جھجک محسوس نہیں کرتے تو کیا ہم شعوری یا غیرشعوری طور پر ان کی مدد کررہے ہیں۔ ان کے مذموم مقاصد کی تکمیل میں لگے ہیں۔ یہ جواب کیوں نہیں جاتا کہ اس معاملے میں کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ہم کیوں آلہ کار بننے کا موقع دے رہے ہیں۔ کیا بغداد اور اسپین کی تاریخ کا مطالعہ نہیں کیا۔ جب آفت آتی ہے تو کسی کا گھر نہیں بچتا۔ مسلکی تشددد کا دائرہ بڑھے گا تو کسی کو نہیں چھوڑے گا۔ ملک کے حالات سنگین خطرات کی طرف اشارہ کررہے ہیں، فضا میں بارود کی بو گھل گئی، جوتے کا کنکر نکالنے کی فکر کیجئے۔

qasimsyed2008@gmail.com

ممبرا کے ’بے گناہ قیدی‘ کی داستان کا اجرا




ممبئی کے مراٹھی پتر کار سنگھ میں عبد الواحد کی کتاب ’بے گناہ قیدی‘ کا اجرا عمل میں آیا (تصویر : جنید شیخ ) 
 

  پولس اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے ہتھکنڈوں کا بھانڈا پھوڑنے والی کتاب منظر عام پر

ممبئی:(نہال صغیر / پریس ریلیز)دہشت گردی کے الزامات سے ایک دہائی سے زائد عرصہ تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید رہنے کے بعد مقدمہ سے باعزت رہا ہونے والے ایک مسلم معلم کے ذریعہ لکھی’’آپ بیتی‘‘ کا اجراء جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کے ہاتھوں ایک پروقار تقریب میں عمل میںآیاجس میں حقوق انسانی اور دہشت گردانہ معاملات میں بے قصور مسلم نوجوانوں کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکلاء اورمیڈیا کے نمائندے موجود تھے۔ ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ تقریب میں 7/11 ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ معاملے سے باعزت بری ہونے والے ملزم عبدالواحد دین محمد شیخ ’’بے گناہ قیدی‘‘ کے عنوان سے جیل کے اندر ان پر اور ان کے دیگر ساتھیوں پر ہونے والے مظالم کے متعلق کتاب لکھی ہے جسے فاروس میڈیا نے شائع کیا ہے ۔ساڑھے چار سو صفحات پر مشتمل کتاب کا اجراء صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا مستقیم احسن اعظمی کی موجودگی میں گلزار اعظمی نے کیا اور اپنے خطاب میں کہا کہ جمعیۃ علماء ہندنے 7/11 ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ معاملے کے ملزمین کو نچلی عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک قانونی امداد فراہم کی گئی جس کے نتیجے میںعبدالواحد کی اس مقدمہ سے باعزت رہائی نصیب ہوئی نیز ہمارا ماننا ہیکہ عبدالواحد کی طرح ہی دیگر ملزمین بھی بے قصور ہیں اور بھلے ہی انہیں نچلی عدالت سے پھانسی اور عمر قید کی سزائیں تجویز کی گئی ہیں لیکن ہائی کورٹ سے انہیں انصاف ضرور ملے گا۔
ایس ایم مشرف نے کتاب کے اجرا سے پہلے تقریر میں میڈیا کے نمائندوں اور سول سوسائٹی کے افراد سے کہا کہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کے مطابق عدلیہ کی خامیوں کی نشاندہی کرنا توہین عدالت کے زمرے میں نہیں آتا اور مذکورہ مقدمہ میں سیشن کورٹ نے ایسا لگتا ہے کہ ملزمین کو مجرم ثابت کرنے کا تہیہ کر رکھا تھا ۔اسی لئے عدالت نے ملزمین کو معصوم ثابت کرنے والے کئی ٹھوس ثبوت نظر انداز کردیئے ۔ایس ایم مشرف کی باتوں سے یہ ثابت ہو رہا تھا کہ وہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ عدالت نے اے ٹی ایس کے اشارے پر اپنا فیصلہ سنا یا ۔مشرف جو کہ مہاراشٹر کے سابق آئی پی ایس ہیں اور پولس ڈائریکٹر جنرل بھی رہ چکے ہیں ۔دہشت گردی اور پاکستان یہ دو ایسے الفاظ ہیں جن سے سب خوفزدہ رہتے ہیں اور عدلیہ بھی اس سے متاثر ہو جاتی ہے ۔ایس ایم مشرف نے کہا کہ ملزمین کا اعتراف نامہ اور پنچ نامہ میں کافی تضاد ہے لیکن جج نے اسے نظر انداز کیا ۔اسی طرح انہوں نے کہا کہ اعتراف جرم کے لئے جو شرائط ہوتی ہیں اس سے بھی عدالت نے صرف نظر کیا مثال کے طور پر گواہ کہتا ہے کہ دھماکہ دائیں جانب ہوا تھا جبکہ پنچنامہ کے مطابق دھماکہ بائیں جانب ہوا تھا ۔اس طرح کے تضادات سے پنچنامہ اور گواہوں کے بیانات بھرے پڑے ہیں۔مشرف نے کہا کہ ٹرین بم دھماکوں میں جن لوگوں کو سزا سنائی گئی ہے وہ بے گناہ ہیں ۔لیکن یہ دھماکہ ہوا تو ہے اور اس میں معصوم جانوں کا اتلاف بھی ہوا ہے ۔تو پھر اصلی مجرم کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ دھماکہ کی نوعیت سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سم کارڈ کےذریعہ دھماکہ ہوا ہے ۔اس کیلئے پولس کو آس پاس کے موبائل ٹاور کی تفصیلات حاصل کرنی چاہئے تھی ۔انہوں نے کہا کہ پولس کیلئے اب بھی موقعہ وہ اصلی مجرمین تک پہنچ سکتی ہے یا اسے بے نقاب کرسکتی ہے۔
ملک میں جاری دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں اور آدی باسیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے مسلمانوں کو دہشت گرد تو آدی باسیوں کے حقوق کیلئے لڑنے والوں کو نکسلائٹ قرار دے کر ان کو نشانہ بناجارہا ہے ۔ایسے ایک شخص ہیں ایڈوکیٹ ارون فریریا جنہیں نکسلائٹ کے الزام میں غیر قانونی طور پر ناگپور جیل میں رکھا گیا ۔وہ بھی پانچ سال بھی بری ہوئے ۔ انہوں نے پولس اور تفتیشی ایجنسی اور حکومتوں کے ناجائز گٹھ جوڑ پر کہا کہ پہلے یہ تنظیم یا آپ جس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اس کو اپنے خطرہ بتا کر اسے غیر قانونی قرار دیتے ہیں پھر آپکے خلاف کارروائی کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا ٹرین بلاسٹ سمیت سبھی بے گناہ اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کیلئے بھی کوششیں ہو نی چاہیئے ۔
یوسف حاتم مچھالا نے کہا کہ پولس اور تفتیشی ایجنسیوں کو میڈیا متاثر کرتا ہے اور وہ کسی بھی سانحہ کے بعد مسلسل خبروں کے من چاہئے زاویہ سے تفتیشی ایجنسیوں کو کے رخ کو موڑنے کی کوشش کرتا ہے ۔اس کیلئے میڈیا کی ذمہ داری طے ہونی چاہئے ۔ایڈووکیٹ مچھالا نے کہا کہ کسی بھی شخص کے غیر قانونی حراست سے سب سے زیادہ حقوق انسانی کی پامالی ہوتی ہے لیکن ہمارے یہاں اس پر گفتگو نہیں ہوتی ۔ہمارے یہاں یہ بھی کمی ہے کہ ہم قانونی لڑائی تو لڑ رہے ہیں اور یقینا ًہمیں اس جنگ کو جاری رکھنا ہے لیکن حقوق انسانی کمیشن کو بھی ہمیں ہر واقعہ سے خبر دار کرتے رہنا چاہئے ۔ہمارے یہاں اس تعلق سے بیداری کی اشد ضرورت ہے ۔اس کیلئے ہمیں مالی اور افرادی دونوں وسائل سے مالا مال ہونے کی ضرورت ہے ۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ سرکاری دہشت گردی کو آشکار کرنے والی اس چشم کشا کتاب میں آپ کو ’’دہشت گردی ‘‘ کے نام پر برسوں سے کھیلے جانے والے گندے کھیل کی تفصیلات ، آتنگ وادکے حوالے سے حکومت اور اس کی ایجنسیوں کا مکروہ چہرہ ، پولس ، اے ٹی ایس اور انٹلیجنس ایجنسیوں کے طریقہ کار، ٹارچر ، قانونی دائو پیچ، عدالتوں کے راز جاننے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے کیسوں سے نبردآزما ہونے کا حوصلہ ملے گا، اس کتاب کے ذریعہ بم دھماکہ کیسوں، پولس اور میڈیا کے دعوئوں کو حقیقت بھی معلوم ہوگی۔
کتاب کے منصف عبدالواحد دین محمد نے مراٹھی پتر کار سنگھ کے کھچا کھچ بھرے ہال سے انتہائی جذباتی انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کتاب کو ان ۱۲؍ بے گناہوں کے نام کرتے ہیںجنہیں نچلی عدالت نے پھانسی اور عمر قید کی سزاء سنائی ہے نیز وہ محسوس کرتا ہے اور اس کا پختہ یقین ہیکہ جس طرح وہ بے گناہ اس مقدمہ سے باعزت بری ہوا ہے دیگر ملزمین بھی بے قصور و بے گناہ ہیں اور انہیں بھی ہائی کورٹ سے انصاف ملے گا اوروہ بھی ایک دن میری طرح آزاد فضائوں میں جی سکیں گے اور عوام کو یہ بتا سکیں گے کہ دوران حراست ان پر اے ٹی ایس نے کیسے کیسے ظلم کے پہاڑے توڑے تھے ۔
عبدالواحد نے کہا کہ میں برسوں پولس اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے ہتھکنڈوں اور ٹارچر کا شکار رہ چکا ہوں اور میں میری اور دیگر مظلوم قیدیوں کی آپ بیتی کے ساتھ پولس ایجنسیوں اور جیل کے عملے کے ہتھکنڈوں کا بھی پردہ فاش کررہا ہوں ۔عبد الواحد نے اردو ٹائمز کو بتایا کہ انہیں فون کرکے بلایا گیا تھا جب وہ ممبرا پولس اسٹیشن پہنچے تو انہیں گرفتار کرلیا گیا لیکن چارج شیٹ میں انہیں گھاٹ کوپر ایسٹ سے گرفتاری دکھائی گئی ہے ۔ عبدالواحد نے 7/11 ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ معاملے کی مختلف مراحل میں پیروی کرنے والے وکلاء ایڈوکیٹ یوگ موہیت چودھری، ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ پرکاش شیٹھی،ایڈوکیٹ افرو ز صدیقی، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ نعیمہ شیخ، ایڈوکیٹ شاہد ندیم ، ایڈوکیٹ چراغ شاہ، ایڈوکیٹ افضل نواز و دیگر کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ ان کی دن رات کی محنتوں کے نتیجے میں وہ اس مقدمہ سے بری ہوئے ۔ایڈوکیٹ یوسف مچھالہ ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ودیگر نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ جس طرح عبدالواحد اس معاملے سے بے گناہ رہا ہوا ہے اسی طرح دیگر ملزمین بھی بہت جلد مقدمہ سے باعزت بری ہونگے۔پروگرام میں ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ارشاد حنیف ، ایڈوکیٹ مجاہد نے دہلی سے خصوصی شرکت کی اس کے علاوہ و دیگر نے شرکت کی۔