ذہنیت میں تبدیلی کے بغیر ذات پات کا خاتمہ ممکن نہیں : ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی
نئی
دہلی، 4 نومبر: انسٹی ٹیوٹ آف اسٹڈی اینڈ ریسرچ دہلی (ISRD) نے
ابوالفضل انکلیو، اوکھلا کے اسکالر اسکول ہال میں لیکچر سیریز کے تحت ”ہندوستان
میں ذات پات کے نظام کی تاریخی، ثقافتی اور موجودہ صورتحال: دلت کمیونٹی کے حوالے
سے“ ایک پروگرام منعقد کیا، جس میں ماہرینِ سماجیات نے ہندوستانی سماج میں ذات پات
کے نظام پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ قانون سازی
اور تعلیم نے اس کے اثرات کسی حد تک کم کیے ہیں، تاہم ذات پات کی جڑیں آج بھی
سماجی ذہنیت میں گہرائی سے پیوست ہیں۔
جماعت
اسلامی ہند کے سکریٹری ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے صدارتی خطاب میں زور دیا کہ
جب تک ذہنیت (mindset) تبدیل نہیں
ہوگی، ذات پات کا نظام ختم نہیں ہوگا۔ انھوں نے واضح کیا کہ ہندوستانی مسلمانوں
میں جو ذات پات کا تصور پایا جاتا ہے، وہ اسلامی تعلیمات کا حصہ نہیں بلکہ
ہندوستانی سماج کے اثرات کا نتیجہ ہے۔" انھوں نے کہا کہ ہندومت میں ذات پات
مذہبی بنیاد رکھتا ہے، لیکن اسلام میں اس کا کوئی تعلق مذہب سے نہیں۔ مسلمانوں میں
یہ تصور صرف سماجی اثرات کے ذریعے آیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام میں تمام انسان
برابر ہیں، اور رسول اللہ نے اعلان فرمادیا کہ کسی عربی کو عجمی پر، کسی گورے کو
کالے پر کوئی فضیلت نہیں۔ برتری صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔ انہوں نے حضرت بلال? کے
واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب مکہ فتح ہوا تو ایک حبشی غلام کو خانہ کعبہ کی
چھت پر اذان دینے کا حکم دیا گیا۔ یہ اسلام کی حقیقی مساوات کا عملی مظہر تھا۔
انھوں
نے کہا کہ صرف قوانین بنانے یا بدلنے سے سماجی رویے نہیں بدلتے۔ جیسے کینسر کے
مریض کو صرف درد کم کرنے کی دوا دی جائے، تو مرض ختم نہیں ہوتا۔ اسی طرح ذات پات
کے مسئلے کا بھی سطحی علاج کافی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی بھی کافی نہیں
جب تک دلوں سے تعصب نہ مٹے۔ بہت سے دلت لوگ اعلیٰ عہدوں پر پہنچنے کے باوجود سماجی
قبولیت اور عزت نہیں مل پاتی ، کیونکہ لوگوں کی ذہنیت وہی رہتی ہے۔
مولانا
ندوی نے قرآن کی آیات اور نبی کریم کے ارشادات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا اللہ نے
انسانوں کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا۔ جب سب کا خالق ایک ہے تو کسی کو
اشرف اور کسی کو ارزل نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام جہاں پہنچا، اس نے
برابری اور عدل کا کرشمہ دکھایا۔ لاکھوں لوگ اسی تعلیم سے متاثر ہو کر اسلام میں
داخل ہوئے۔ مگر افسوس کہ آج خود مسلمان اپنی اصل تعلیمات سے دور ہو گئے ہیں۔
انھوں
نے ختلاف کیا کہ کاسٹ سسٹم انگریزوں کی پیداوار ہے۔انہوں نے وضاحت کی سچ بات یہ ہے
کہ انگریزوں نے اس نظام کو قائم نہیں کیا بلکہ باقی رکھا۔ یہ ہزاروں سال پرانا
ہندوستانی سماجی ڈھانچہ ہے جسے ختم کرنا آسان نہیں۔ انہوں نے مقرر پروفیسر ششی
شیکھر کے اس قول سے اتفاق کیا کہ ذات پات ہندوستانی سماج ایک حقیقت ہے۔ ڈاکٹر رضی
الاسلام نے مزید کہا شہری زندگی اور تعلیم کے باوجود ذات پات کا اثر کم نہیں ہوا۔
آج بھی تعلیم یافتہ اور شہری طبقے میں یہ تقسیم کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔
ڈاکٹر ندوی نے اس خیال کی تردید کی کہ مختلف مذاہب کے درمیان شادیوں سے ذات پات کا
نظام ختم ہو جائے گا۔ اسلام تو واضح طور پر دوسرے مذاہب میں شادی کو حرام قرار
دیتا ہے۔
تقریب
کے افتتاحی کلمات میں جماعت اسلامی ہند، دہلی کے امیر سلیم اللہ خان نے کہا قرآن
پڑھنے والا سب سے پہلے یہ مانتا ہے کہ انسان کا احترام اس لیے ہے کہ وہ انسان ہے.۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے میں باہمی احترام کے لیے دوطرفہ ذمہ داری ضروری
ہے۔"اگر ہم اپنا احترام چاہتے ہیں تو دوسروں کا احترام کرنا بھی ہماری ذمہ
داری ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم ایک دوسرے کو جانیں، کیونکہ لا علمی سب سے بڑی
رکاوٹ ہے۔"
ISRD کے سیکریٹری آصف اقبال نے افتتاحی کلمات میں کہا
کہ اس سیریز کا مقصد محض علمی بحث نہیں بلکہ "سماج کو سمجھنا اور سماج کے
ساتھ جڑنا" ہے۔انہوں نے کہا "ہم چاہتے ہیں کہ دہلی جیسے متنوع شہر کے
سماجی تانے بانے کو علمی بنیادوں پر سمجھا جائے تاکہ ہم ایک مثبت اور بامقصد کردار
ادا کر سکیں۔"
جواہر
لعل نہرو یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر پردیپ کمار شندے نے اپنے کلیدی خطاب
میں کہا کہ"کاسٹ اس ملک سے ختم ہونا بہت مشکل ہے۔ میں یہ پوری ذمہ داری کے
ساتھ کہہ رہا ہوں کہ ذات پات انگریزوں سے پہلے بھی ہمارے ملک میں موجود تھی۔ ہاں،
انگریزوں کی مردم شماری نے اسے مستقل حیثیت ضرور دے دی۔"انہوں نے وضاحت کی کہ
برطانوی دور میں مردم شماری کے ذریعے ہر شخص کی ذات کی درجہ بندی نے اس تصور کو
ادارہ جاتی شکل دی، جس کے بعد یہ نظام مستقل صورت اختیار کر گیاا۔ ان کے
مطابق:"انگریزوں سے پہلے ذات پات کا اثر مقامی سطح پر تھا، لیکن مردم شماری
نے اس کو باقاعدہ شناخت دے دی۔ سماج میں کسی کی ذات پیدائش سے طے ہوتی ہے، اس کے
بعد یہ طے ہوتا ہے کہ وہ کیا کھائے گا، کس سے شادی کرے گا، اور کس کے ساتھ میل جول
رکھے گا۔"
ڈاکٹر شنڈے نے تاریخی حوالوں سے بتایا کہ ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر
نے 1930 کی دہائی میں اپنے لیکچر "Relations of Caste" میں یہ
واضح کیا تھا کہ:"ذات پات کا نظام ہندو مذہبی صحیفوں سے آیا ہے۔ یہ مسئلہ
اسلام یا عیسائیت میں نہیں پایا جاتا۔"
انہوں
نے مزید کہا کہ اگرچہ کچھ سماجی علوم کے ماہرین کا خیال ہے کہ چھوت چھات اور
امتیاز میں کمی آئی ہے، لیکن زمینی سطح پر حقیقت اس کے برعکس ہے۔
"آج بھی ہم سنتے ہیں کہ کسی دلت کو
مندر میں داخل ہونے نہیں دیا گیا، یا شادی میں گھوڑے پر بیٹھنے پر تشدد کیا گیا۔
یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ذات پات کا اثر کم نہیں ہوا، بلکہ یہ نئے روپ میں
ابھرا ہے۔"
انہوں
نے راجستھان، دہلی اور اتر پردیش کے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس
اور عدلیہ جیسے ادارے، جو بظاہر ذات سے ماورا ہیں، اکثر امتیازی رویہ اختیار کرتے
ہیں۔"ہاتھرس (Hathras) کیس میں دلت
طبقے کو صرف ایف آئی آر درج کرانے کے لیے طویل جدوجہد کرنی پڑی۔ یہ ثابت کرتا ہے
کہ بیوروکریسی اور عدلیہ پر بھی ذات پات کا اثر قائم ہے۔"
ڈاکٹر شندے نے زور دیا کہ:"ڈاکٹر امبیڈکر نے کہا تھا کہ ذات پات
کے خاتمے کے لیے سیاسی طاقت ضروری ہے۔ مگر آج سیاست خود ذات پات کی بنیاد پر تقسیم
ہے۔ ذات پات اب ہر ادارے اور طبقے میں سرایت کر چکی ہے۔"
انہوں نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ ذات پات کا مسئلہ صرف ہندوستان
تک محدود نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے"برطانیہ میں دلتوں نے
’اینٹی کاسٹ بل‘ پیش کیا، اگرچہ وہ مسترد ہوگیا، لیکن اس سے واضح ہوا کہ ہندوستانی
ذات پات کا مسئلہ اب عالمی سطح پر بحث کا موضوع ہے۔ امریکہ میں بھی ایک دلت
انجینئر خاتون نے کاسٹ ڈسکریمنیشن کی شکایت درج کرائی۔"
انہوں نے مزید کہاکہ یہ کہنا کہ سب ہندو ہیں، اس لیے ذات پات کا مسئلہ
ختم ہو جائے گا — ایک سیاسی فریب ہے۔ یہ سوچ اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لیے
استعمال کی جا رہی ہے۔
پروفیسر
ششی شیکھر، دہلی یونیورسٹی ، نے اپنے خطاب میں زور دیتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے یہ
سمجھنا ضروری ہے کہ ذات پات ہندوستانی معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہے۔ دوسری اہم بات
یہ ہے کہ ہندوستان میں آپ اپنا مذہب بدل سکتے ہیں، لیکن ذات نہیں بدل سکتے، کیونکہ
ذات پیدائش سے وابستہ ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی اعلیٰ ذات کا مرد نچلی ذات
کی عورت سے شادی کر لیتا ہے، تو عورت کو اپنی ذات کے مطابق سرکاری کوٹا ملتا، مگر
ان کے بچے کو یہ حق نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ قوانین اور اصلاحی اقدامات کے
باوجود ذات پات پر مبنی امتیاز آج بھی ایک زندہ حقیقت ہے۔
پروفیسر
شیکھر نے مزید کہا کہ ذات کے اندر بھی ذاتیں موجود ہیں۔ برہمنوں میں بھی اونچی اور
نیچی ذاتیں دیکھی جا سکتی ہیں، جیسے آر ایس ایس کے سربراہ ایک چت پون برہمن ہیں،
جنہیں سب سے اعلیٰ برہمن مانا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ذات کا نظام اس لیے مضبوط ہے
کیونکہ یہ انسان کے سوچنے اور سمجھنے کے طریقے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جب تک ذہنیت
نہیں بدلے گی، ذات پات کا خاتمہ ممکن نہیں۔
انہوں
نے وضاحت کی کہ تعلیم اور شہری زندگی (Urbanisation) نے ذات
پات کے نظام کو کمزور ضرور کیا ہے، مگر یہ آج بھی دیہاتوں میں بہت مضبوطی سے قائم
ہے۔ شہروں میں اگرچہ اس کی شکل مختلف ہے، لیکن وہاں بھی ذات کی بنیاد پر شناخت اور
سیاسی وابستگی برقرار ہے۔ پروفیسر
نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پڑھاتے وقت یہ
دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کون کس ذات سے ہے — حالانکہ تدریس میں اس کی کوئی
اہمیت نہیں ہونی چاہیے۔ مگر جب الیکشن کا وقت آتا ہے، تو وہی ذات پات کی سیاست
دوبارہ زندہ ہو جاتی ہے۔“

0 comments: