Muslim Issues

شرجیل کی گرفتاری کے بعد ۔۔۔۔:چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے

12:53 PM nehal sagheer 0 Comments



نہال صغیر 

ملک میں موجودہ حکومت نے افراتفری اور فساد جیسی صورتحال پیدا کررکھی ہے ۔ یہ کہنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے کہ یہ حالات جہالت کے سبب ہیں اس میں  تعصب اور ناکامی کی پردہ پوشی کی ذہنیت کا بھی دخل ہے ،یہ  تینوں وجوہات ذمہ دار ہیںان حالات کے، موجودہ حکومت کے ذمہ داران متعصب بھی ہیں اورجاہل بھینیز  ان دونوں حالتوں سے ملک کو جن حالات سے گزرنا پڑرہا ہے اس کی پردہ پوشی یا عوام کے ذہنوں کو منتشر کرنے کیلئے نفرت انگیز ماحول کا استعمال کیا جارہا ہے ۔ وہ تعصب تنگ نظری اور اپنی جہالت کے سبب ناکامی کی پردہ پوشی کیلئے الٹے سیدھے قوانین اور پالیسیاں نافذ کررہے ہیں ۔ اسی میں ملک میں ہنگاموں کا سبب بننے والے سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی بھی ہے ۔ اس کے خلاف پورا ملک سراپا احتجاج بنا ہوا ہے ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار مسلم خواتین میدان میں ہیں اور کسی کی تسلی اور دلاسہ کو خاطر میں نہیں لارہی ہیں وہ ایک ٹھوس یقین دہانی چاہتی ہیں ۔ یہ یقین دہانی حکومت کے ذمہ داران ہی دے سکتے ہیں ۔ مگر مرکزی حکومت کے دلوں میں چور ہے یہ چورتعصب اور تنگ نظری کا ہے ۔ 
موجودہ حکومت نے پورے ملک کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کردیا ہے جسے ایک معمولی سی چنگاری بھی ایک بھیانک اور تباہ کن دھماکہ کا سبب بن سکتا ہے ۔ یہ حکومت بات تو حب الوطنی اور وطن کے وقار کو بلند کرنے کی کرتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ ان کے دل میں وطن کی محبت ذرہ برابر بھی نہیں ہے اور جب محبت ہی نہیں ہو تو پھر اس کے وقار کو بلند کرنے کی بات ایک افسانہ کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے ۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ کسی ملک کی ترقی امن کی صورتحال کی برقراری اور اس کے سایہ میں تعلیم اور صحت پر دھیان دینے سے ہوتی ہے مگر یہاں تو وطن پرستی کے نام پر نفرت اور تشدد کو ہوا دی جارہی ہے جس سے ترقی کبھی ممکن ہی نہیں ہے اور اس کا زندہ ثبوت ملک کی موجودہ گرتی معیشت اور دانش گاہوں میں انتشار کا ماحول ہے ۔
اس حکومت نے مسلم دشمنی کو اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے ۔حد تو یہ ہے کہ خود وزیر اعظم کی فرقہ پرستی اور تعصب کا عالم یہ ہے کہ وہ جمہوری طرز پر ناراضگی جتانے والوں کو کپڑوں سے پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اسی تعصب کے سلسلے کی اگلی کڑی شرجیل امام کے متنازعہ بیان پر وزیر داخلہ کا بیان ہے ۔ واضح ہو کہ شرجیل امام نام کے ایک نوجوان نے چالیس منٹ کا بیان دیا جس میں سے بی جے پی کے سمبت پاترا نے اپنے مطلب کا دومنٹ کا بیان نکال کر اپنے ٹوئٹر اکائونٹ پر شیئر کیا جس سے میڈیا ٹرائل شروع ہوا اور اسی میڈیا ٹرائل کی بنیاد پر پانچ ریاستوں میں شرجیل امام کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ قائم کردیا گیا اور جے این یو میں حملہ آور اے بی وی پی کے ملزمین اور نجیب کو ڈھونڈنے میں ناکام دہلی پولس نے شرجیل کو بہار سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا اور جج نے بغیر غور کئے اور چالیس منٹ کے ویڈیو دیکھے اسے پولس ریمانڈ میں بھیج دیا ۔ اب اس نوجوان کی زندگی کے پانچ دس سال ججوں کی لیٹ لطیفی اور اپنے وقار کیخلاف کام کرنے کے سبب برباد ہو جائیں گے ۔
شرجیل امام سے قبل بھی بہار کے ایک نوجوان علی سہراب کو دہلی کے نندی نگری علاقہ سے اشتعال انگیز پوسٹ کیخلاف گرفتار کرلیا گیا تھاجو اب ضمانت پر رہا ہے ۔ دو روز قبل ایس آئی او مہاراشٹر سائوتھ کے سربراہ اور نوجوان ایکٹیوسٹ سلمان احمد کو بھی مہاراشٹر پولس نے اشتعال انگیز بیان کے الزام میں گرفتار کرلیا جنہیں فوری طور سے ضمانت مل گئی اور انہیں جیل جانے کی نوبت نہیں آئی ۔مسلم نوجوان کے علاوہ حکومت کی ٹیڑھی نظر یںدلت طبقہ سے تعلق رکھنے والے پرجوش اور قائدانہ صلاحیت رکھنے والے نوجوانوں پر ہے جیسے چندر شیکھر راون اور جگنیش میوانی ۔لیکن چندر شیکھر راون اور جگنیش میوانی کی حمایت میں مسلم اور غیر مسلم کی جانب سے جتنی پرزور حمایت کی آواز بلند ہوتی ہے شرجیل یا سلمان کی حمایت میں وہ نہیں ہے ۔ سلمان احمد کیخلاف تو خیر اشتعال انگیز تقریر کا الزام ہی عائد کیا گیا تھا اس لئے انہیں ضمانت مل گئی ۔ غور کیجئے اگر سلمان کیخلاف بھی ملک سے غداری کے الزامات کے تحت میڈیا ٹرائل ہوتا تو آج جماعت اسلامی ہند اور اس کی طلبہ تنظیم کیخلاف الزامات کا ایک ہمالیہ پہاڑ کھڑا کردیا گیا ہوتا ۔ 
شرجیل نے چکا جام کی تحریک کی اپیل کی تھی جس میں آسام سمیت پوری شمال مشرق کی ریاستوں کو بقیہ ہندوستان سے کاٹنے کی بات تھی ۔اس میں محض ایک جگہ پر زبان کے پھسلنے کی وجہ سے اس نے کاٹ دینے کی بات کی تھی جس کو اس نے اپنی اگلی لائن میں درست بھی کرلیا تھا ۔مگر اسے ایک خطرناک ذہنیت کا حامل علیحدگی پسند اور ملک کا غدار قرار دے کر جیل میں ٹھونس دیا گیا ۔ ہمارا عدالتی نظام اگر درست ہوتا تو اس کیخلاف اتنے لمبے چوڑے میڈیا ٹرائل کے بعدطویل اور صبر آزما عدالتی کارروائی سے گزرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے جج صاحبان بھی ملزم کے تعلق سے شاید یہ خیال پختہ کئے بیٹھے ہیں کہ پولس جسے ان کے سامنے پیش کرتی ہے وہ مجرم ہی ہے ۔ ورنہ کیا وجہ ہے محض پولس کے ذریعہ دفعات کے اطلاق کے ساتھ ہی اسے جیلوں میں ٹھونس دیا جائے اور جن معاملوں کو جج صاحبان محض آدھے گھنٹے یا چالیس منٹ میں سمجھ سکتے ہیں اور اسی بنیاد پر ریمانڈ دینے یا نہیں دینے کی گنجائش نکل سکتی ہے وہ اسے نظر انداز کرکے ملزم کو پولس کے حوالہ کردیتے ہیں کہ وہ اس پر تھرڈ ڈگری کا استعمال کرکے اقبالیہ بیان لے کر سزا ضرور دلائے۔ ہم نہیں کہتے کہ کسی نے شکایت کی ہے تو اس پر مقدمہ نہ چلے مگر اسے فوری طور سے دیکھا جانا چاہئے کہ اس پر یہ شکایت درست بھی ہے یا تعصب اور مالی بدعنوانی کی بنیاد پر  ملزم بنادیا گیا ۔ ہم یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ اگر شرجیل کے معاملہ میں جج نے پورا ویڈیو دیکھا اور سن لیا ہوتا تو اسے جیل بھیجنے کی ضرورت نہیں ہوتی وہ مقدمہ میں خود کو بعد میںبے گناہ ثابت کرتارہتا ۔
شرجیل امام نے جو کچھ کہا وہ آج کا ہر وہ مسلم نوجوان کہے گا جو حالات سے مایوس ہے ۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ اس کی قوم کیخلاف اپنے ہی ملک میں زمین تنگ کی جارہی ہے اور سب تماشائی ہیں ۔ محض چند مذمتی بیانات کافی نہیں ہوتے ، اس مذمتی بیانات سے نہ تو انتظامیہ کا کچھ بگڑتا ہے اور نا ہی حکومت کی پیشانیوں پر شکنیں نمودار ہوتی ہیں ۔مظلوم، مظلوم ہی رہتا ہے اور ظالم اپنے ظلم اور جبر کیلئے آزاد ۔ جب ہمارے قائد یہ دیکھ رہے ہیں کہ ظلم برسر عام کیا جارہا ہے اور جابر کھلے عام دھمکیاں دے رہے ہیں مگر ان پر کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے تو وہ خاموش کیوں ہیں ؟ ان کے پاس کیا ہندوستانی عدلیہ کی لیٹ لطیفی اور حکومت کی چاپلوسی والے رویہ کے برعکس اور کوئی راستہ نہیں ہے ؟ جب محمود مدنی حکومت کی واہ واہی لوٹنے کیلئے جنیوا جاکر حکومت کی قصیدہ خوانی کرسکتے ہیں تو کیا اسی جنیوا میں مسلمانوں یا دلتوں پر ظلم اور زیادتی کیخلاف کسی مسلم قائد کی جانب سے کوئی آواز نہیں اٹھائی جاسکتی ؟ کیا ایسا کرنے سے کوئی قانون انہیں روکتا ہے یا وہ خود کسی خوف میں مبتلا ہیں ؟ اگر وہ کسی خوف کا شکار ہیں تو انہیں قیادت سے دست بردار ہوجانا چاہئے ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ کچھ غیر مسلم تو غیر ملکوں میں ملک کے موجودہ حالات پر انصاف پسندوں کو بتاتے ہیں مگر کسی مسلم قائد کو یہ توفیق نہیں ہوتی ۔ 
شکر ہے کہ موجودہ سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کیخلاف مسلم خواتین میدان میں آگئیں اور انہوں نے حکومت کو قدم پیچھے ہٹانے پر مجبور کردیا ہے ۔ گرچہ کھلے طور سے حکومت نے اس کا اعتراف نہیں کیا ہے مگر اس کے آئے دن کے بیانات سے یہ بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ سخت دبائو میں ہے اور یہ دبائو انہیں بالآخر سیاہ قوانین واپس لینے پر مجبور کردے گا یا این پی آر سے قابل اعتراض نکات حذف کرنے کے سوا اس کے پاس کوئی متبادل نہیں ہوگا ۔ اگر خواتین میدان میں نہیں آتیں تو آج کیسا ماحول ہوتا ۔ اس لئے ہمیں بے خوف ہوکر حکمت کے ساتھ ہندوستان میں مسلمانوں کی موجودگی کے تعلق سے لائحہ عمل بنانے کی سخت ضرورت ہے ۔اس کیلئے ہم جتنی جلدی کوشش شروع کردیں اتنا ہی اچھا ہوگا ۔ شرجیل امام کے تعلق سے مزید باتیں آئندہ کے مضمون میں ۔


0 comments: