featured

ان کو آئینہ دکھایا تو برا مان گئے ۔۔۔!

3:43 PM nehal sagheer 0 Comments


نہال صغیر

گجرات انتخاب میں مودی کی دیگر گوں حالت کے سبب ان کی کمپنی کو کچھ سوجھ نہیں رہا ہے کہ کیا کریں اور کیانہ کریں ۔بائیس سال میں انہوں نے گجرات ماڈل کا گردان کرکے عوام کو گمراہ کیا ۔ گجرات ماڈل کیا ہے یہ لوگوں کو اس وقت معلوم ہوا جب وہاں سے تغذیہ کی کمی سے بچوں کے مرنے اور ان کی نشونما پر پڑنے والے اثرات کی خبریں آنے لگیں تو لوگوں کو گجرات ماڈل کی حقیقت کا پتہ چلا کہ یہاں تو صرف اڈانیوں اور امبانیوں کا ہی وکاس ہوا ہے ۔ان کی ٹیم نے یہ سوچا تھا کہ شاید دہلی کا قلعہ فتح کرنے کے بعد اور اتر پردیش میں اپنے مخالفین کو دھول چٹاکر گجرات تو یونہی پلیٹ میں سج کر مل جائے گا ۔اس کے بعد ووٹنگ مشینوں کا بھی سہارا ہے ۔لیکن انہیں جب گجرات میں دو نوجوان لیڈر جگنیش میوانی اور ہاردک پٹیل سے مقابلہ درپیش ہوا تو دن میں تارے نظر آنے لگے ۔اس صورتحال میں ان کے لئے یہ ایک صورت بچ گئی تھی کہ کسی بھی طرح کوئی ایسا بیان مخالفین کی جانب سے دے دیا جائے جسے کیش کرکے یہ دو ہزار چودہ کے ’چائے والا‘بیان کی طرح گجرات کو بھی جیت لیں ۔یہ موقعہ منی شنکر ایئر نے مودی جی کو نیچ کہہ کر دے دیا ۔حالانکہ ان کے اگلے جملہ میں اس کی وضاحت بھی ہے ۔لیکن پورا میڈیا مسٹر پردھان سیوک کا غلام بنا ہوا ہے ۔اس نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور مودی جی کو مظلوم بنا کر گجراتی عوام کے سامنے پیش کرنا شروع کردیا ۔پردھان سیوک صاحب نے بھی ایک عدد بیان دے ہی ڈلا کہ یہ گجرات کے عوام کی توہین ہے ۔وہ اس معاملہ میں کافی ہوشیار ثابت ہوئے ہیں ۔دو ہزار چودہ کے الیکشن میں بھی اور اس سے قبل گجرات فسادات کے وقت کسی بھی معاملہ کو جس کا تعلق ان کی ذات سے ہوتا تھا لیکن وہ اس کو گجرات کے عوام سے جوڑ دیتے تھے کہ وہ گجرات کے سپوت ہیں اور اس طرح کی باتیں گجرات کے عوام کی توہین ہے ۔ایک طرف گجرات میں مودی جی کی انتخابی مہم ہے جہاں ترقی کا دور دور تک کہیں پتہ نہیں جبکہ بائیس سال سے وہ حکومت میں ہیں ۔اس دوران ترقی کے کوئی کارنامے نہیں جسے وہ عوام کے سامنے پیش کرسکیں ۔دوسری جانب کیجریوال جنہوں نے سیاست کونئے طریقہ سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے صرف اپنے 49 دنوں کے کارناموں کی بنا پر عوام سے ترقی کیلئے ووٹ کی بات کرتے ہیں اور تاریخ ساز فتح حاصل کرتے ہیں ۔ کیا مودی جی میں اتنی ہمت ہے کہ وہ کیجریوال کی طرح گجرات میں ترقی کی بنیاد پر ووٹ مانگ سکیں ؟اس کے برعکس پردھان سیوک اپنے عہدہ کے وقار کے مغائر ہندو مسلم کی باتیں کرکے اور عوام میں خلیج کو گہرا کرکے ارتکاز ووٹ کی کوشش کررہے ہیں ۔
بہار الیکشن مہم کے دوران پردھان سیوک نے نتیش کمار کے ڈی این اے میں خرابی کی بات کی تھی ۔اس وقت انہیں کیوں یاد نہیں رہا کہ وہ کیا بول گئے ؟انہیں کسی بات کی اہمیت یا اس کی شر انگیزی کا خیال اس لئے نہیں ہوتا کہ یہ صرف انتخابی سیاست تک محدود ہیں ۔انہیں ہر حال میں انتخاب جیتنا ہے خواہ سیاست اور جمہوری اقدار کا جنازہ ہی نکل جائے ۔میں منی شنکر ایئر کی اس بات سے متفق نہیں جو انہوں نے پردھان سیوک کے تعلق سے کہی ہے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں کہا ؟اس پر کون غور کرے گا ۔خود کو مہذب بنائے رکھنا اور اپنے ہمنواؤں کو کسی بھی مخالف کے پیچھے لگا دینا کہ وہ اس کی زندگی دوبھر کردے کہاں کی انسانیت اور کون سے ہندوتوا کا حصہ ہے ۔یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ مودی جی کے بھکت کس طرح مخالفین کے ساتھ برتاؤ کرتے ہیں ۔سونیا گاندھی اور راہل گاندھی یا دیگر کانگریسی رہنماؤں کے علاوہ دیگر علاقائی پارٹی کے لیڈروں کو کس طرح نشانہ بناتے ہیں ۔دو سال قبل جب ان کے بھکتوں کی بیہودگی کی شروعات ہوئی تھی تب رویش کمار کو کیسی کیسی گالیاں دی جاتی تھیں جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے ۔اس وقت پردھان سیوک کا ایک ٹوئٹ نظروں کے سامنے گزرا تھا جس میں انہوں نے رویش کمار کے ساتھ کئے جانے والے سلوک پر افسوس کا اظہار تو کیا لیکن انہوں نے ایسا کرنے والوں کو کوئی سخت پیغام نہیں دیا ۔اسی طرح ملک میں جاری ہجومی تشدد کے ذریعہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے پر بھی ان کی زبان نہیں کھلتی لیکن دعویٰ یہ ہے کہ ان کے دور میں ملک کی تکریم میں اضافہ ہوا ہے ۔ملک کی تکریم میں کتنا اضافہ ہوا ہے وہ اوبامہ کی نصیحت کہ ’ہندوستان کو یہاں کی مسلم آبادی کی قدر کرنی چاہئے ‘۔کوئی یونہی نہیں آپ کو نصیحت کرتا جب تک کہ وہ آپ میں کوئی خامی محسوس نہ کرے ۔یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ اب کوئی جرائم کا ارتکاب کرکے اس کا ویڈیو بناتا ہے اور اسے اپنے لئے قابل فخر کارنامہ سمجھ کر وائرل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔یہ معاملہ بین الاقوامی طور پر دیکھا اور پرکھا جارہا ہے ۔یہی سبب ہے کہ امریکی حقوق انسانی کے اداروں کی جانب سے بھی انتباہ جاری کیا جاتا ہے کہ موجودہ حکومت کی آمد کے بعد سے اقلیتوں خصوصا مسلمانوں پر حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے جس میں حکومت کی خاموش حمایت شامل ہے ۔

0 comments: