News

" بہار میں ذاتی تشدد اور سیاست کا المیہ" بہار اسمبلی انتخابات: ووٹوں کو منتشر کرنے کی قدیم سیاست!( آخری قسط)


 

نور محمد خان ۔ممبئی

بہار میں سیاسی سماجی معاشی تعلیمی اعتبار سے دیکھا جائے تو معلوم یہ ہوگا کہ آزادی کے بعد بہار میں جہاں ایک طرف ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت انڈین نیشنل کانگریس تھی وہیں کانگریس کی پالیسیوں کے خلاف مختلف سياسی پارٹیوں کا وجود عمل میں آیا، ملک کی آزادی سے قبل ہو يا بعد میں منافرت کی سیاست نے عوام کو بہت کچھ سکھا اور بتا دیا،  بہار میں ہندو اور مُسلم کی سیاست سے الگ ایک ذات پات، امیری غریبی کی بنیاد پر زمیندرانہ نظام تھا بے زمین اور زمینداروں کے درمیان قتل و غارتگری بھی پیش آیا   ۔  ریاست بہار میں وزیر اعلٰی کی فہرست بھی معنی رکھتی ہے اور ان کا تعلق بھی کسی نہ کسی ذات برادری سے ہے ۔جیسا کہ پہلے قسط کے مضمون میں 1952 سے لیکر 2020 تک کانگریس سے لیکر مختلف سیاسی جماعتوں کے انتخابی نتائج کے بارے میں ذکر کیا گیا تھا تاکہ سمجھنے میں آسانی  ہو سکے اب دوسری قسط میں دلیت ، پچھڑی اونچی اور نیچی  ذات پات کی بنیاد پر تشدد نے ایک تاریخ رقم کی ہے جس میں اونچی اور نیچی ذاتوں کے درمیان زمیندرانہ نظام تنازعہ کا باعث بنا ہوا تھا اعلیٰ ذات کے زمینداروں  کے پاس زمینیں تھیں دوسری طرف نچلی ذاتیں، جو زیادہ تر غریب تھیں زمینداری کے خاتمے کیلئے کوشاں تھی ۔ بہار میں کمیونسٹ بغاوت نے اونچی اور نچلی ذاتوں کے درمیان رسہ کشی شروع کر دی۔ مارکسسٹوں اور زمینداروں کے درمیان تنازعہ ذات پات کی بنیاد پر تقسیم نہیں تھا، کیونکہ کچھ درمیانی کسان ذاتیں بھی زمیندار تھیں۔

1960 کی دہائی میں بہار کے بھوجپور خطے میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ لیننسٹ) لبریشن کے بینر تلے جگدیش مہتو کی قیادت میں کمیونسٹ بغاوت دیکھی گئی، جب کہ 1990 کی دہائی میں ذات پات کی شیطانی جنگیں بھی منظر عام پر آئیں۔

دلت اور درمیانی کسان ذاتوں کے غریب کسان باغی بن گئے تھے، جو جمود کے حامیوں کے خلاف اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے تھے، یعنی اونچی ذاتوں کے ساتھ ساتھ متوسط کسان ذاتوں کے متمول طبقات جیسے یادو، کرمی اور کوئری شامل تھے ۔ پہلا عوامی لیڈر جگدیش مہتو کا تعلق کوئری برادری سے تھا اور پیشے سے ٹیچر تھے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر سے متاثر تھے انہوں نے آرا قصبے سے ہریجانستان دلت بھومی کے نام سے ایک اخبار بھی شروع کیا تھا ۔ مذہبی جذبات بھی تلخ تنازعات کا باعث بنی بھاگلپور کا تشدد اس کی ایک مثال ہے۔

1970 میں بھوجپور بغاوت: بھوجپور بہار کا ایک تاریخی خطہ ہے، جو اُجینیا راجپوتوں کے ساتھ اپنی وابستگی کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ خطہ زمینداری نظام کی بدترین شکل کے لیے بھی جانا جاتا ہے،بھوجپور بغاوت ایک مقبول تحریک تھی جس کی قیادت نئے تعلیم یافتہ پسماندہ ذات کے نوجوانوں نے کی تھی، جن میں جگدیش مہتو، رامیشور آہیر، رام نریش رام، اور مہاراج مہتو شامل تھے۔ کمیونسٹوں کی طرف سے متحرک نوجوانوں نے زمیندار طبقے کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے۔

مصنف سنتوش سنگھ کے مطابق، 1971 سے 1976 کے درمیان بڑی تعداد میں بھومی ہاروں اور دیگر اونچی ذات کے زمینداروں کو مارا گیا۔ مہتو کی موت کے بعد، تحریک ختم ہوگئی، جس سے خطے میں ایک طویل عرصے تک امن قائم ہوا۔

27 مئی 1977 کو ایک واقعہ پیش آیا تھا جب کرمی ذاتی کے زمینداروں نے 11 لوگوں کو باندھ کر گولی مار کر قتل کر دیا تھا جن کا تعلق نچلی اور پچھڑی ذاتوں سے تھا تمام متوفیوں کو ایک ہی چیتا میں جلا دیا گیا معاملہ جب عدالت میں پیش کیا گیا جہاں گواہوں کے بیانات پر دو ملزمین کو موت کی سزا سنائی گئی اور 11 لوگوں کو عمر قید کی سزا دی گئی ۔ ذاتی تشدّد کی وجہ کرمی ذات کے زمیندار اور بے زمین پاسوان برادری کے کسانوں کے درمیان اونچ نیچ اور پچھڑی ذات کی بنیاد پر قتل عام تھا اس لیے ان کے راستے بھی الگ ہوگئے تھے ۔

پارس بیگھہ اور دوہیا، جو پٹنہ سے چند کلومیٹر جنوب میں واقع ہیں، 1950 میں زمینداری نظام کے خاتمے کے بعد سے تناؤ کا شکار تھے۔ سابقہ ٹیکری راج سے زیادہ سے زیادہ زمین چھیننے کی دوڑ نے یادووں اور بھومی ہاروں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر دیا۔

یہاں کے یادووں نے ایک طویل اور تلخ جدوجہد میں دلتوں کی حمایت کی، جس کا اختتام 1979 میں پارس بیگھہ میں بھومی ہاروں کے حملے میں ہوا، جس میں ایک یادو سمیت 11 لوگ مارے گئے۔بھومی ہاروں نے یادووں کی قیادت میں دلت نکسلائٹس کی کارروائی کا بدلہ لینے کے لیے حملہ کیا، جنہوں نے چند دن پہلے ایک بدنام زمانہ بھومی ہار زمیندار کا سر قلم کر دیا تھا۔

پارس بیگھہ کے قتل کے دو دن بعد، یادو بھومی ہار کے مجرموں کی تلاش میں ڈوہیا گاؤں پر اترے جو پارس بیگھہ واقعہ کے فوراً بعد بھومی ہار گاؤں سے منتشر ہو گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق دوہیا واقعہ سے قبل متوسط طبقے کے کل 2000 لوگ جمع ہوئے تھے۔ وہ پارس بیگھہ کے واقعے کا بدلہ لینا چاہتے تھے، جہاں بھومی ہار مجرم تھے۔ اس کے بعد ہجوم ڈوہیا گاؤں میں داخل ہوا جہاں بہت سے بھومی ہار خاندان رہتے تھے۔انہوں نے کئی بھومی ہار خاندانوں میں لوٹ مار کے بعد خواتین کے ساتھ بدسلوکی چھیڑ چھاڑ اور اجتماعی عصمت دری کی ـ

پپرا ضلع جہان آباد کا ایک گاؤں ہے۔ یہاں کے زمیندار کرمی ہیں، جو ایک پسماندہ ذات سے تعلق رکھتے ہیں ماضی میں زمین کے مالک مسلم زمیندار تھے، جنہوں نے تقسیم کے وقت اپنے دلت کرمیوں کی مدد سے گاؤں چھوڑ دیا،بہت سے کرمیوں کی خواہشات کے خلاف، جنہوں نے مسلمانوں کے گھر جلانے کا منصوبہ بنایا۔ بعد میں زمینداروں نے اپنی زمین کرمی خریداروں کو بیچ دی، جو دلت مزدوروں سے پرانے زمینداروں جیسی عزت کی توقع کرنے لگے۔

وقت کے ساتھ ساتھ دلت نکسل تحریک کے ہمدرد بن گئے۔ 1978-79 میں خشک سالی کی وجہ سے حالات مزید خراب ہوئے جس نے ان کی حالت انتہائی خراب کر دی۔ دسمبر 1979 میں نکسلیوں نے ایک کرمی زمیندار کو قتل کر دیا، جوابی کارروائی میں 25 فروری 1980 کو بھاری ہتھیاروں سے لیس افراد نے پپرا گاؤں میں دلتوں کے گھروں پر حملہ کیا۔ بہار کے مونگیر ضلع میں دریائے گنگا کے جنوبی کنارے پر ایک خونریز تصادم میں یادووں نے دھنوک ذات کے چار لوگوں کو ہلاک کر دیا۔ اسی سال جوابی کارروائی میں دھنوکوں نے پپڑیا گاؤں سے یادووں کے چودہ بچوں کو اغوا کیا اور چارہ لینے کے لیے دریا کے پار لے گئے۔ تین کے علاوہ باقی تمام بچوں کو قتل کرکے لاشوں کے ٹکڑے کر دیے گئے تاکہ ان کی شناخت نہ ہو سکے۔

1985 میں، بہار کے مونگیر ضلع میں راجپوتوں اور یادووں کے درمیان حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دوران تین قتل عام ہوئے۔ یادو اور راجپوت زمین کے تنازع میں ملوث تھے۔ راجپوت متنازعہ زمین پر کاشتکاری کے لیے بھنڈ نامی قبائلی برادری کو لائے تھے۔یادو گھوڑے اور پیدل گاؤں میں داخل ہوئے اور نو لوگوں کو مار ڈالا۔ انہوں نے راجپوت کے چار سو گھروں کو بھی لوٹ لیا۔ اس حملے میں ایک نومولود بچی بھی ماری گئی۔

1986 میں گاؤں چھوٹکی چھیچانی میں ایک الگ واقعے میں راجپوت حملہ آوروں نے سات یادووں کو ہلاک کر دیا۔ اس واقعے کے بعد گاؤں کے یادووں نے اگلے سال بدلے میں 11 راجپوتوں کو قتل کر دیا۔1987 بہار کے اورنگ آباد ضلع کے بگورا گاؤں میں یادو اور راجپوت برادریوں کے درمیان سینکڑوں ایکڑ اراضی کا تنازعہ ایک قتل عام کا باعث بنا جس میں یادو اکثریتی ماؤسٹ کمیونسٹ سینٹر نے 50 سے زیادہ راجپوتوں کو ہلاک کر دیا۔

اس قتل عام کے نتیجے میں 40 راجپوت خاندانوں کو گاؤں سے بے دخل کر دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ بندیشوری دوبے نے متاثرہ خاندانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں کی شکل میں راحت کا اعلان کیا۔ بعد ازاں کچھ مجرموں کو عدالت نے سزائے موت سنائی۔

بگوارا قتل عام کو لکشمن پور باٹھ کے ساتھ بہار کی تاریخ میں ذات پات پر مبنی سب سے بڑے قتل عام میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔بہار کے اورنگ آباد ضلع کے جڑواں دیہات میں پیش آنے والے اس خاص واقعے میں مصنفین اشوک کمار اور ایس کے گھوش کا ذکر ہے کہ مجرموں کی طرف سے راجپوت خواتین کی عصمت دری کے بعد مردوں اور عورتوں کا قتل عام ہوا۔

1988 میں جہان آباد ضلع سے متصل ایک کیلو میٹر کی دوری پر واقع نونہی گڑھ اور نگواں گاؤں میں نامعلوم افراد نے دلیت سماج کے 19 افراد کا قتل کر دیا تھا دونوں گاؤں کے اطراف میں یادو ذات کے زمیندار رہتے تھے اس واقعہ کے بعد یادوں نے بیان دیا کہ مذکورہ فائرنگ کی آوازیں ہم لوگوں نے نہیں سنی ہے اور اس کی اطلاع بھی گاؤں کے دليت پڑوسیوں نے دی ہے

اس وقت کے وزیر اعلیٰ بھاگوت جھا نے ان لوگوں کو سزا دینے کا فیصلہ کیا جن کو سرکار نے بندوق کا لائنسنس فراہم کیا تھا کیوں کہ وہ ان لوگوں کمزور لوگوں کو بچانے میں ناکام ہوۓ تھے



بہار کے بھوجپور ضلع میں 1989 میں دنوار بیھٹہ کا قتل عام بھی تاریخ میں درج ہے کیوں کہ یہاں بھی اعلیٰ ذات کے راجپوت زمینداروں دلتوں کو اپنے پسندیدہ امیدواروں کو جبراً ووٹ دلوانے کیلئے پولنگ بوتھوں پر قبضہ کر لیتے تھے اس ظلم و زبر کے خلاف دلتوں نے من بنایا کہ اب ہم اپنے امیدواروں کو ووٹ دینگے اسی بات کو لےکر 1989 میں 23 دلتوں کو قتل کر دیا گیا  ۔ بہار کے کوسی علاقے میں 1990،91 کے درمیان آنند موہن سنگھ اور پپو یادو گروہ متحریک تھا جن کا مقصد اپنے برادریوں کی حفاظت کرنا تھا ۔1991 میں یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آنند موہن نے منڈل کمیشن کی سفارشات کے خلاف اور لالو پرساد یادو حکومت پر تنقید کی اور مظاہرہ کیا اس کے بعد یادو گروہ کے لوگ راجپوتوں کی فصلیں لوٹ کر لے گئے جس کی وجہ سے راجپوتوں کو نقل مکانی کرنے پر مجبور ہونا پڑا ۔

بہار میں واقع بارا قتل عام میں 37 افراد ہلاک ہوئے تھے یہ واقعہ1992 میں بھومی ہار برادری کے 37 افراد کو مائووادی سینٹر نے قتل کر دیا تھا اور یہ قتل بھی ذات کی بنیاد پر مبنی تھا اس قتل عام کے ایک کلیدی ملزم رام چندر یادو کو 2023 میں ایک ٹرائل کورٹ میں مورودالزم ٹھہرایا گیا تھا ۔

1993میں بہار میں واقع بھوجپور ضلع کے اچری گاؤں میں انڈین پیپلز فرنٹ کے حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے اور کئی زخمی ہوئے جن کا تعلق راجپوتوں سے تھا مذکورہ معاملے میں پیپلز فرنٹ کے رکن بھگوان سنگھ کشواہا تھے 30 سال بعد 2023 میں کچھ ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی جبکہ ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے کشواہا کو بری کر دیا گیا  ۔جبکہ راجیندر شاہ ، بدھو شاہ ، پولس مهتو ،غوری مهتو، بہادر رام، ستیہ ناراین رام ، دلار چند یادو ،بھدوسا رام ،اور بالیشور رام کو 302 کے تحت عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

1996میں بہار کے بھوجپور ضلع میں واقع ناڑھیی قتل عام کا معاملہ پیش آیا تھا زمینداروں اور پچھڑی ذاتوں کے درمیان ذاتی تشدد کی وجہ سے 9 بھومی ہاروں كا قتل ہوا تھا۔اسی سال بھوجپور بتھانی ٹولہ گاؤں میں بھومی ہار ،راجپوت اور رنویر سینا کے لوگوں نے 21 دلتوں کا قتل کر دیا تھا جس میں مرد عورت اور معصوم بچے بھی شامل تھے آرا کی ایک عدالت نے 3 ملزمان کو سزائے موت کی سزا سنائی تھی لیکن پٹنہ ہائی کورٹ نے  ناکافی ثبوت کی بنیاد پر تینوں ملزم کو بری کر دیا گیا ۔

1997 میں لکشمن پور باتھے قتل عام نے انسانیت کو شرمسار  کردینے والاواقعہ تھا جہاں لکشمن پور میں رنویر سینا نے56 دلتوں کا  قتل کردیا جس میں مرد عورت سبھی شامل تھے ۔قتل عام کے بعد درج مقدمہ سے سیاسی جماعتوں کا مضمر شمولیت کا امکان نظر آیا اور بتایا گیا کہ گاؤں والوں کی حفاظت کے لئے تعینات پولیس اہلکاروں نے سینا کی مدد کی تھی واقعہ کے بعد ہیومن رائٹس واچ کی ٹیم نے دورہ بھی کیا تھا اور متاثرین کا بیان بھی درج کیا تھا جس میں ایک 32 سالہ خاتون سورج منی دیوی نے بیان دیا تھا کہ سبھی متوفی لوگوں کے سینے میں گولی ماری گئی تھی اور ایک پندرہ سالہ بچی جو دو تیں دن بعد اپنے سسرال جانے والی تھی اس کے پستان کو کاٹ دیا اور سینے میں گولی مارکر ہلاک کردیا ایسی کل پانچ لڑکیاں تھیں ۔

1998میں ارول ضلع میں واقع رام پور چورم گاؤں میں ایک شخص کی تدفین کے بعد لوٹ رہے 9 لوگوں کا قتل کر دیا گیا تھا جن کا تعلق بھومی ہار  ذاتی سے تھا اس معاملے میں نچلی عدالت نے متاثرین کے حق میں فیصلہ سنایا تھا جس کو پٹنہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور ہائی کورٹ نے عدم ثبوت کی بنیاد پر 14 ملزمان میں راما دھار یادو ، رام پرویش رام ،امیش شاہ ، بھگوان شاہ ،اور راجکمار موچی  کو بری کر دیا۔

1999میں بہار کے جہان آباد ضلع میں واقع اُسری بازار میں بائیں بازو کے انتہا پسند اور رنویر سینا کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جس میں انتہا پسندوں نے بھومي          ہار ذاتی کے 7 لوگوں کا قتل کر دیا تھا۔وہیں جہان آباد کے بھیم پورا گاوں میں انتہا پسندوں نے بھومی ہار ذاتی کے 4 لوگوں کا قتل کر دیا تھا اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر شوشیل مودی نے راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر لالو پرساد یادو پر اشتعال انگیزی کا الزام لگایا تھا جس کے بعد قتل  عام کو انجام دیا گیا تھا ۔

1999میں سینری گاوں میں نکسلی تنظیم نے 34 بھومی ہار ذاتوں کا قتل کر دیا تھا اس نکسلائی یونٹ میں یادو اور پاسوانوں کا غلبہ تھا ملزمان میں بچّے سنگھ ،بدهن یادو ، بٹائی یادو ، ستیندر داس ،للن پاسی ،دوارکا پاسوان ، کریبن پاسوان ، گودائی پاسوان ،اوما پاسوان ،اور گوپال پاسوان شامل تھے ان پر مقدمہ چلایا گیا تھا ۔1999میں شنکر بيگھا گاوں میں رنویر سینا نے مرد عورت سمیت 23 دلتوں کا قتل کر دیا تھا جہان آباد کی ایک عدالت نے زیادہ تر ملزمان کو بری کر دیا تھا ۔

2000 میں بہار کے نوادہ اور شیخ پورا علاقہ میں زمینداروں اور کرمی کوئری ذاتوں کے درمیان طویل عرصے سے ایک دوسرے کے حریف تھے جن میں اکھلیش سنگھ گروہ دوسرا اشوک مھتو گروہ تھا یہ دونوں گروہ اپنی اپنی ذات برادری کی قیادت کر رہے تھے  ۔ ان دونوں گروہوں کی خانہ جنگی میں قریب دو سو لوگوں کی جان گئی ۔اس واقعہ میں اکھلیش سنگھ کی بیوی  کے  قریب 12 رشتے داروں کا اشوک مہتو گروہ کے لوگوں نے قتل کر دیا تھا ۔ اسی واقعہ کے بعد لکھی سرائے میں 11 مزدوروں کا قتل ہوا ۔لکھی سرائے میں جناردن سنگھ اور ہرے رام یادو جو مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے اور ان کا تعلق ریت مافیا سے تھا یادو برادران نے اکھلیش سنگھ کے 11 مزدوروں کا قتل کر دیا تھا اور اتر پردیش فرار ہو گیا تھا 2014 میں اسپیشل ٹاسک فورس نے گرفتار کیا تھا ۔

بہار کے کھگڑیا ضلع میں اکتوبر 2009 میں چار بچوں سمیت 16 لوگوں کو جھونپڑیوں میں سے باہر نکال کر ہاتھ پیر باندھ کر گولیوں سے بھون دیا گیا ۔مارے گئے 16 لوگوں میں 14 کرمی اور 2 کشواہا ذات سے تعلق رکھتے تھے ۔اس قتل عام میں پولیس نے دعویٰ کیا تھا کوئری،کرمی اور مسہر ذاتی کے درمیان  ندی کی زمین کو لیکر تنازعہ تھا اور یہ بھی بتاتا گیا تھا کہ بچوں کے بیانات کے مطابق قاتلوں کا تعلق دلت برادری اور مسہر برادری سے تھا ۔2013 میں روہتاس ضلع کے بدی گاؤں میں روی داس مندر کے قیام معاملے میں راجپوتوں اور (روی داس) چمار

برادری میں تشدّد برپا ہوا تھا روی داس برادری کے لوگوں نے الزام لگایا تھا کہ راجپوتوں کی بھیڑ نے گاؤں پر حملہ بول دیا تھا جس میں ایک افرادکی موت ہوگئی تھی  اور 54 افراد زخمی ہوئے تھے ۔مدھوبنی قتل عام 2021 میں پیش آیا ہولی کے تیوہار کے موقع پر مدھوبنی کے محمد پور گاؤں میں ذاتی رنجش کے معاملے میں ایک خاندان کے 5 لوگوں کا قتل کر دیا گیا اس قتل میں پروین جھا بھولا سنگھ چندن جھا کملیش سنگھ اور مکیش سافی کو گرفتار کیا گیا تھا ۔

2022میں بہار میں واقع اورنگ آباد ضلع میں سجیت مہتو کا قتل کر دیا گیا متوفی ضلع پریشد کی سابق رکن سمن دیوی کے شوہر تھے اس قتل کی وجہ بھی کشواہا (کوئری) برادری اور راجپوت ذات کے مابین  کشاکش  تھا ۔سمن دیوی نے راجپوت قبیلے سے تعلق رکھنے والے آکاش سنگھ پر قتل کا الزام لگایا اس کے بعد دونوں فریق کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کی گئی ۔

بہار میں واقع چھپرا کے مبارکپور میں فروری 2023 میں ہائی پروفائل ماب لینچنگ کا معاملہ منظر عام پر آیا تھا جو ذاتی واد پر مبنی تھا یہ معاملہ اس وقت پیش آیا جب راجپوت قبیلہ کے تین افراد وجئے یادو کے پولٹری فارم  میں جاکر گولی چلائی جوابی کاروائی میں یادوں نے بے رحمی سے پٹا جس کی وجہ سے امیتیش سنگھ کی موت ہو گئی اور 2 افراد بری طرح زخمی ہو گئے علاج کے دوران ان کی بھی موت ہوگئی تھی ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماضی میں کانگریس کی حکومت سے لےکر تاحال نتیش کمار کی حکومت تک ایسی کون سی خامیاں تھیں جس کی وجہ سے دلت برادری اور اونچی ذاتوں کے درمیان تشدّد جاری رہا اور حکومت ذاتی تشدد کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکی؟

قابل غور ہے کہ بہار کی سیاست ہی نہیں بلکہ قومی سطح پر سیاسی جماعتوں نے جہاں تشدد برپا کرنے والے گروہوں پر کرم عنایت فرمائی ہے تو دوسری طرف متاثرین کے زخموں پر عدل و انصاف کا مرہم لگا کر ووٹ بینک کو محفوظ کرنے میں مشغول رہے در اصل سیاسی جماعتیں  بالخصوص ذاتی تشدد ، فرقہ وارانہ فسادات ، اشتعال انگیزی جیسے جرائم پر قابو پانے میں کبھی فکرمند نہیں تھی جس طرح سے آج بھارتیہ جنتا پارٹی کا نظریہ ہے بی جے پی اور اس کی ذیلی تنظیموں کے ذریعے دلتوں ، پچھڑی ذاتوں اور مسلمانوں کے خلاف منافرت کا رویہ اختیار کیا گیا جس کی وجہ سے ملک و ریاست کی عوام سیاست کی کٹھ پتلی بن کر رہ گئی ، اگر متاثر عوام سیاست کی غلامی سے آزادی حاصل کرنا چاہتی بھی ہے تو کہیں نہ کہیں سیاسی ماہرین وہی فارمولہ استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے مذکورہ تحریر لکھنے کی ضرورت آن پڑی ! بہار کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم یہ ہوگا کہ 1952 سے لیکر 2020 کے درمیان چھوٹی بڑی ذاتوں اور سیاسی جماعتوں کے درجنوں امیدوار  وزیر اعلی کے عہدے پر فائز رہے جس میں صرف ایک مسلم امیدوار جو کانگریس پارٹی کے ایم ایل سی تھے نے 2 جولائی 1973 سے لےکر 11 اپریل 1975 تک یعنی ایک سال 283 دن تک وزیر اعلی کی ذمہ داری سنبھالی لیکن عوام کو عدل و انصاف اور حقوق کی حصولیابی میں ناکام رہے جس کی وجہ سے سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کا وجود عمل میں آیا اور عوام اپنے حقوق کی حصولیابی کے لئے اپنے ووٹوں کو منتشر کرتے رہے تاکہ انہیں انصاف مل سکے!

1 comments:

News

بہار اسمبلی انتخابات: ووٹوں کو منتشر کرنے کی قدیم سیاست!



نور محمد خان ۔

15 اگست 1947 کو ملک آزاد ہوا اور 1950 میں آئین و قوانین نافذ ہونے کے بعد انتخابات کا انعقاد عمل میں آیا تاکہ عوام کی فلاح و بہبودی کے لئے اقدامات کیے جائیں اور اسی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ریاست بہار میں 1952 کے مارچ مہینے میں اسمبلی انتخابات عمل میں آیا تھا، 276 نشستوں کیلئے مختلف نظریات کے 16 سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا تھا جس میں ایک فرقہ پرست جماعت بھی شامل تھیں جس کے نظریات و افکار ملک و عوام کی سلامتی کے لئے مضر تھے لیکن آئیں نے انہیں بھی انتخابی عمل میں شامل ہونے کا حق دیا تھا اسی لحاظ سے نظریات و افکار کی سیاسی جنگوں نے اقتدار کے خلاف ووٹوں کو منتشر کرنے، حصول اقتدار اور مفادات کو ترجیح دی چناچہ حکومت ، سیاسی جماعتیں، عوام اور نظریات کا جائزہ لینے کے لیے ماضی تا حال کے انتخابی نتائج پر  تجزیہ کرتے ہیں تاکہ موجودہ اسمبلی انتخابات میں لائحہ عمل مرتب کرنے میں کامیابی حاصل کی جا سکے ۔

اول ذکر یہ ہے کہ آزادی کے بعد ملک کی سب سے بڑی سیکولر سیاسی جماعت انڈین نیشنل کانگریس تھی جس کا ذکر تحریک آزادی سے لیکر تادم تحریر تک روشن دلیل کی طرح عیاں ہے 1952 کے پہلے بہار اسمبلی انتخابات میں قومی سطح پر 11 ، ریاستی سطح پر 4 اور ایک غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتیں شامل تھیں جن میں قومی پارٹیاں: انڈین نیشنل کانگریس، بھارتیہ جن سنگھ،کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ،فارورڈ بلاک (مارکسسٹ گروپ)، فارورڈ بلاک (روئیکر)،آکھیل بھارتیہ  ہندو مہاسبھا،کسان مزدور پرجا پارٹی،  اکھل بھارتیہ رام راجیہ پریشد ،ریوو لیوشنری سوشلسٹ پارٹی،شیڈول کاسٹ فیڈریشن، سوشلسٹ پارٹی۔

ریاستی سطح کی پارٹیاں:  چھوٹا ناگپور سنتھال پرگنہ جنتا پارٹی، جھارکھنڈ پارٹی ،لوک سیوک سنگھ ، آل انڈیا یونائیٹڈ کسان سبھا۔  غیر تسلیم شدہ پارٹیاں: آل انڈیا گن تنتر پریشد نے بہار اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا تھا۔

 آزادی کے بعد ملک کی تاریخ میں 30 جنوری 1948 کو ایک واقعہ پیش جب ناتھو رام گوڈسے نے مہاتما گاندھی کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا اور یہ قتل سیکولرازم کے لئے چیلنج بن گیا! بلکہ

سیکولر ہندوستان میں راشٹریہ سیوک سنگھ کی کوکھ سے جنم لینے والی جن سنگھ نامی فاسسٹ تنظیم نے سیاست میں قدم رکھا، کٹّر ہندوتوا کو تقویت پہنچانے اور اقلیتوں کے خلاف منافرت پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ دیکھا جائے تو مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد آر ایس ایس پر پابندی عائد کی گئی تھی بلکہ ایمرجنسی اور بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھی پابندی لگائی گئی تھی لیکن حکومت نے پابندی ہٹا دی تھی۔

چنانچہ 1952 میں بہار اسمبلی انتخابات کا دور شروع ہوا اور کانگریس نے 239 سیٹیں حاصل کی وہیں سوسلیشٹ پارٹی نے 23 ، جھار کھنڈ پارٹی 32 سیٹوں پر کامیابی کا پرچم لہرا دیا۔1957 میں کانگریس کو 210 سیٹیں حاصل ہوئی اور 19 سیٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا  جبکہ پرجا سوسلیشٹ پارٹی 31 ، جھارکھنڈ پارٹی 31 ، چھوٹا ناگپور جنتا پارٹی نے 23 اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے 7 سیٹیں حاصل کی۔ اسی طرح 1962 میں کانگریس نے 185 سیٹیں حاصل کی اور 25  سیٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا، وہیں سوتنتر پارٹی نے 50 سیٹیں جیت کر دیگر پارٹیوں کا نقصان کیا پرجا سوسلیشٹ پارٹی کی سیٹ بھی گھٹ کر 29 ہوگئی جبکہ جن سنگھ نے 3 سیٹیں جیت کر ہندوتوا کا پرچم لہرا دیا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کانگریس میں ایسی کون سی خامیاں پیدا ہو گئی تھی کہ کانگریس کو 1952 کے مقابلے میں اب تک کے انتخابات میں نقصان اٹھانا پڑا ؟جبکہ 1967 کے انتخابات میں کانگریس کو 57  سیٹوں کا نقصان اٹھاتے ہوئے 128  سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا اور سمیوکت سوسلیشٹ پارٹی نے 68 سیٹیں حاصل  کی اور بھارتیہ جن سنگھ نے 26 سیٹیں جیتیں۔

1972 میں انڈین نیشنل کانگریس دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی اور انڈین نیشنل کانگریس(او) نے 33 اور انڈین نیشنل کانگریس نے 167 سیٹیں حاصل کی وہیں جن سنگھ نے 25 پر کامیابی حاصل کی ،1977 میں ایک نيا انقلاب آیا اور جنتا پارٹی نے 214 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی اور کانگریس صرف 57 سیٹوں پر سمٹ کر رہ گئی ۔1980 کے انتخابات میں جنتا پارٹی تبدیل ہو کر بھارتیہ جنتا پارٹی بن گئی اور اسے جن سنگھ کے مقابلے میں بی جے پی کے نام پر صرف 21 سیٹیں حاصل ہوئی اور کانگریس دوبارہ 169 پر کامیابی حاصل کی ۔

کانگریس کی بات کریں تو 1985 میں کانگریس کو پچھلے انتخابات کے مقابلے میں 196 سیٹیں حاصل ہوئی ،جنتا دل لالو پرساد یادو کو 46، اور بی جے پی کو 16 سیٹیں حاصل ہوئی۔ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کانگریس کو بہت زیادہ سیٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا کیوں کہ سیاست میں تبدیلی کے امکانات ظاہر ہونے لگے تھے نتیجتاً 1990 میں جنتا دل کو 122 ،کانگریس 71، بی جے پی 39 سیٹوں پر سمٹ کر رہ گئی ۔1995 میں جنتا دل کو 167 ،بی جے پی کو 41 اور کانگریس کو 29 نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا ۔  2000میں راشٹریہ جنتا دل 124، بی جے پی 67، کانگریس 23، سمتا پارٹی 34 اور جنتا دل یونائیٹیڈ 21 سیٹیں حاصل کر سکیں ۔2005 میں راشٹریہ جنتا دل 75، بی جے پی 37 ، جنتا دل یونائیٹیڈ 55 ، لوک جن شکتی پارٹی 29، کانگریس کو صرف 10 سیٹیں میسر ہوئی ۔2010 میں جنتا دل یونائیٹیڈ 115، بی جے پی 91،راشٹریہ جنتا دل 22، کانگریس 4 اور لوک جن شکتی پارٹی کو 3 سیٹیں ملی ۔2015 کے انتخابات میں مہا گٹھ بندھن نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے راشٹریہ جنتا دل 80  کانگریس 27جنتا دل یونائیٹیڈ 71جبکہ این ڈی اے میں بھارتیہ جنتا پارٹی 53 لوک جن شکتی پارٹی 2

راشٹریہ لوک سمتا پارٹی 2ہندوستانی عوامی مورچہ 1 سیٹ پرجیت حاصل کی بائیں بازو کی جماعتوں نے مایوس کیا۔ 2020 کے انتخابات میں راشٹریہ جنتا دل 75 ،کانگریس 19 ،کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ایم ایل)12،کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسیسٹ 4،کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا 6 اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے 5 سیٹیں حاصل کی ۔جبکہ این ڈی اے میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے 74،جنتا دل یونائیٹیڈ 43، ہندوستانی عوامی مورچہ 4 اور   وکاس شیل انسان پارٹی نے 4 سیٹیں حاصل کیں۔

مذکورہ نتائج پر اگر غور کریں تو معلوم یہ ہوگا کہ ملک کی آئین و قوانین نے جہاں تمام لوگوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق دیا ہے وہیں موجودہ حکومت و سیاسی جماعتوں کی عوام مخالف پالیسیاں و نظریات بھی اہم وجہ رہی ہیں جس کی وجہ سے مختلف سیاسی جماعتوں کا وجود عمل میں آیا 

 ساکی ناکہ ۔ممبئی    ۔ موبائل نمبر                             9029516236

0 comments:

Muslim Issues,

وقف املاک کو یو ایم ای ای ڈی پورٹل پر آخری تاریخ سے پہلے رجسٹر کرلیں جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر کے امیر مولانا الیاس خان فلاحی کی مسلمانوں سے اپیل



 ممبئی: جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر کے امیر مولانا الیاس خان فلاحی نے مہاراشٹر کے تمام مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر تمام وقف املاک بشمول
مساجد، مدارس، قبرستانوں، خانقاہوں، درگاہوں اور امام بارگاہوں کو یو ایم ای ای ڈی پورٹل (امید) پر 5 دسمبر 2025 کی آخری تاریخ سے پہلے رجسٹر کرنا اور ان کی تفصیلات اپ لوڈ کرنا شروع کریں۔

یہ کال آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی وقف (ترمیمی) ایکٹ، 2025 کے نفاذ کے بارے میں قومی اپیل کے بعد کی گئی ہے۔ اس ایکٹ کے سیکشن 3 بی کے تحت اب یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ تمام رجسٹرڈ اوقاف (وقف ادارے) اپنی جائیداد کی مکمل معلومات آن لائن اپ لوڈ کریں۔ اے آئی ایم پی ایل بی نے ایکٹ کے کئی دفعات کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں پہلے ہی ایک درخواست دائر کر رکھی ہے۔ اگرچہ عدالت نے جزوی ریلیف فراہم کی ہے، لیکن جائیداد کی معلومات اپ لوڈ کرنے کی ذمہ داری ابھی بھی برقرار ہے۔

مولانا الیاس خان نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ مقررہ وقت کے اندر اپ لوڈ کرنے کا عمل مکمل کرنے میں ناکامی سے وقف املاک کی قانونی حیثیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ ہماری مساجد، مدارس اور قبرستانوں کا تحفظ ہماری فوری اور اجتماعی کارروائی پر منحصر ہے۔ اُمید پورٹل پر درست معلومات اپ لوڈ کرنا ایک قانونی ضرورت اور ایک مذہبی ذمہ داری دونوں ہے‘‘۔

انہوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ضلع، تحصیل اور بلاک سطح پر ہیلپ ڈیسک قائم کرنے کے اقدام کا خیرمقدم کیا اور مہاراشٹر میں بھی اسی طرح کے انتظامات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر نے پہلے ہی اپنے وقف سیل کے ذریعے متولیوں (نگرانوں)، اماموں اور کمیونٹی رہنماؤں کی مدد کے لیے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ ہم ہر مسلم تنظیم، عالم اور رضا کار سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تکنیکی اور لاجسٹک مدد فراہم کریں تاکہ کوئی بھی ادارہ پیچھے نہ رہے۔

مولانا الیاس خان نے تکنیکی طور پر ہنر مند افراد کو ہیلپ ڈیسک پر تعینات کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ ڈیٹا کے اندراج میں غلطیوں سے بچا جا سکے اور تاکید کی کہ تعمیل کے ثبوت کے طور پر تمام اصل دستاویزات کو محفوظ طریقے سے محفوظ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی قسم کے مسائل یا اختلافات کی صورت میں متعلقہ ریاستی وقف بورڈ کو فوری طور پر اطلاع دی جانی چاہیے تاکہ ان کی اصلاح کی جا سکے۔انہوں نے مزید اعلان کیا کہ جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر نے وقف ہیلپ ڈیسک شروع کیا ہے تاکہ متولیوں اور مقامی کمیٹیوں کو رجسٹریشن کے عمل کو مکمل کرنے میں بیک اینڈ سپورٹ اور ریئل ٹائم رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ یہ اقدام جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی کی جانب سے جماعت اسلامی ہند کے ہیڈ کوارٹر نئی دہلی میں شروع کیے گئے مرکزی ہیلپ ڈیسک کے بعد کیا گیا ہے۔

مولانا الیاس خان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وقف (ترمیمی) ایکٹ کے ناجائز دفعات کے خلاف برادری کی قانونی جدوجہد تعمیل کی کوششوں کے ساتھ جاری رہے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اپنی وقف املاک کو رجسٹر کرنا ہمارے حقوق سے دستبردار ہونے کا مطلب نہیں ہے۔ یہ ہمارے آئینی اور قانونی جنگ کو جاری رکھتے ہوئے ان کی حفاظت اور تحفظ کے لیے ایک اسٹریٹجک قدم ہے۔

انہوں نے تمام وقف مینیجرز اور اداروں سے اپیل کی کہ وہ امید ویب پورٹل umeed.minorityaffairs.gov.in  پر جائیں، مطلوبہ دستاویزات کی چیک لسٹ کا جائزہ لیں، اور اپ لوڈ کرنے کا عمل آخری تاریخ سے پہلے مکمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ وقف املاک کی حفاظت ایک اجتماعی فریضہ ہے، ایک امانت ہے جسے فوری طور پر اتحاد اور خلوص کے ساتھ محفوظ کیا جانا چاہیے۔

0 comments:

International,

صہیونیت کا زوال: ایک متشدد نظریے کا تاریخی احتساب : فلسطین: شبِ ظلمت سے طلوعِ سحر تک


 اسماء جبين

لوحِ جہاں پر رقم کی گئی ہر داستانِ عروج و زوال، اوراقِ عبرت کا ایک ایسا مجموعہ ہے جہاں عدل و جور اور حق و باطل کی کشمکش ہر سطر سے عیاں ہے۔ لیکن جب نگاہ بابِ فلسطین پر آ کر ٹھہرتی ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہاں شبِ ظلمت کچھ زیادہ ہی دراز ہے، اور انسانیت کا نوحہ کچھ زیادہ ہی جاں گداز۔ دیارِ فلسطین کا المیہ کوئی ناگہانی حادثہ نہیں، بلکہ یہ اُس منصوبہ بند سیاست کا منطقی انجام ہے جس کی بنیاد بیسویں صدی کے اوائل میں اعلانِ بالفور (1917ء) کی صورت میں رکھی گئی۔ یہ مغربی استعمار کا وہ پیمانِ جور تھا جس نے ایک ایسی قوم کی پیٹھ میں خنجر گھونپا جس کی ملکیت میں نہ وہ زمین تھی، نہ اس کے باشندوں کی تقدیر پر کوئی اختیار۔

پھر برطانوی انتداب (Mandate) کے زیرِ سایہ، طاقت اور قانون کی ایسی شعبدہ بازی عمل میں لائی گئی جس کا واحد مقصود زمین کو بے روح نقشوں میں اور انسان کو بے وقعت اعداد و شمار میں بدل دینا تھا۔ تقسیمِ فلسطین (1947ء) کا فیصلہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا، جس نے بے انصافی کو عالمی جواز کا فریب کار جامہ پہنایا۔ بالآخر 1948ء میں وہ قیامت برپا ہوئی جسے اہلِ فلسطین "النکبہ" یعنی "عظیم تباہی" کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ سات لاکھ پچاس ہزار سے زائد نفوس کو اُن کے آبائی گھروں، لہلہاتے کھیتوں اور زیتون کے باغوں سے جبراً بے خانماں کر دیا گیا، اور پانچ سو سے زائد بستیاں صفحۂ ہستی سے حرفِ غلط کی طرح مٹا دی گئیں۔

ان تمام مراحل کے پسِ پردہ جو نظریہ ایک مرکزی قوت کے طور پر کارفرما رہا، وہ صہیونیت ہے۔ یہ ایک ایسی جدید سیاسی فکر ہے جس نے استعمار کی منطق، نسلی برتری کے پندار اور عسکری طاقت کے زعم کو باہم آمیخت کر کے ایک نیا مرکب تیار کیا۔ اس نظریے نے طاقت کے بل پر حقیقتیں تراشنے کو اپنا بنیادی اصول بنا لیا اور یوں انسان اور زمین کے اس مقدس رشتے کو پامال کرنا ایک معمول ٹھہرا۔ اس تاریخی جبر کی قیمت فلسطینی عوام نے اپنی جان، اپنی زمین اور اپنی تہذیبی شناخت کی صورت میں ادا کی ہے، اور یہ قرض آج تک چکایا جا رہا ہے۔

اسی الم ناک داستان کا سب سے کربناک باب غزہ کی پٹی ہے، جو آج عالم کی سب سے بڑی محبس گاہ (Open-Air Prison) کا منظر پیش کرتی ہے۔ 1967ء سے قابض عسکری نظام نے اس خطے کو ایسی پیچیدہ انتظامی و فوجی بندشوں میں جکڑ رکھا ہے کہ یہاں سانسوں کی ڈور بھی قابض کی مرضی سے بندھی ہے۔ 2007ء سے مسلط کردہ زمینی، فضائی اور بحری محاصرے نے دو ملین سے زائد انسانوں کی زندگی کو قیدِ بے میعاد بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی انسانی قانون "اجتماعی سزا" کو قطعی طور پر ممنوع قرار دیتا ہے، لیکن اس اصول کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے پانی، بجلی، خوراک اور ادویات جیسی بنیادی ضروریات کو بارہا سیاسی دباؤ کے ایک بے رحم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔

2008ء سے لے کر 2025ء کے اوائل تک غزہ پر مسلط کی جانے والی پے در پے جنگوں نے یہ ثابت کر دیا کہ جب جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی کو ایک محصور اور کمزور آبادی کے خلاف بے دردی سے آزمایا جائے تو جنگی اخلاقیات اور انسانیت کے تمام دعوے ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور خود اسرائیلی تنظیم "بتسیلم" کی تازہ ترین رپورٹیں اس امر پر شاہد ہیں کہ مغربی کنارے سے لے کر غزہ تک ایک ایسا ادارہ جاتی امتیازی نظام قائم ہے جس میں غیر قانونی آبادکاری اور جبری الحاق ایک منظم ریاستی پالیسی کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اکتوبر 2023ء سے جنوری 2025ء کے دوران چالیس ہزار سے زائد فلسطینیوں کی شہادت، جن میں سترہ ہزار سے زائد معصوم بچے شامل تھے، اور نوے فیصد آبادی کی بے گھری، اس قیامت کی محض ایک جھلک ہے۔

تاہم، تاریخ کا پہیہ ہمیشہ ایک سمت نہیں گھومتا۔ 2024ء اور 2025ء وہ سال تھے جب قانون کے بے جان حروف نے گویا زبان پائی۔ بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے اپنے مشورتی فیصلے میں اسرائیلی قبضے کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا، اور بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نومبر 2024ء میں اسرائیلی وزیرِ اعظم اور سابق وزیرِ دفاع کے خلاف وارنٹِ گرفتاری جاری کر کے یہ ثابت کر دیا کہ کوئی منصب قانون سے بالاتر نہیں۔ یہ تاریخی پیش رفت اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ اصل مسئلہ حملہ اور جوابی حملہ نہیں، بلکہ وہ منظم نظامِ جبر ہے جس کا احتساب اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

اسی دوران، ضمیرِ عالم کی بیداری نے ایک نئی کروٹ لی۔ 2025ء تک اقوامِ متحدہ کے 157 ممالک فلسطین کو بطورِ ریاست تسلیم کر چکے تھے، جن میں فرانس، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے بڑے یورپی ممالک کی شمولیت نے عالمی سیاسی منظرنامے کو یکسر بدل دیا۔ دنیا بھر کی جامعات سے اٹھنے والی صدائیں اور شہر شہر میں ہونے والے لاکھوں کے عوامی مظاہرے اس بات کا ثبوت تھے کہ فلسطین کا مقدمہ اب محض ایک خطے کا نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے اجتماعی ضمیر کا مقدمہ بن چکا ہے۔

طاقت کے توازن میں فیصلہ کن تبدیلی جون 2025ء کی چودہ روزہ ایران-اسرائیل جنگ سے رونما ہوئی، جس نے صہیونیت کے عسکری تفوق کا طلسم توڑ دیا۔ اس جنگ نے نہ صرف خطے کی فوجی مساوات کو بدلا بلکہ اس سیاسی غرور کو بھی خاک میں ملا دیا جو دہائیوں سے ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے داخلی سیاسی بحران نے خود اسرائیلی ریاست کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آج صہیونیت، جو کبھی ایک غالب استعماری نظریہ تھا، اپنے زوال کی دہلیز پر کھڑی ہے۔ فلسطینیوں کی بے مثال مزاحمت، بین الاقوامی قانون کا بڑھتا ہوا دباؤ، عالمی رائے عامہ کی تبدیلی اور خطے کی بدلتی ہوئی حقیقتوں نے مل کر اس نظریے کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں اہلِ غزہ کی استقامت اور شہداء کی قربانیاں ایک عظیم تاریخی معنویت اختیار کر لیتی ہیں۔ وہ مائیں جن کے ہاتھوں میں بچوں کے لیے دودھ کے خالی ڈبے تھے مگر قدم امید کی تلاش میں آگے بڑھتے رہے؛ وہ صحافی اور طبی عملے کے ارکان جو موت کے سائے میں بھی فرض اور حقیقت کا علم بلند رکھے ہوئے تھے؛ اور وہ شہداء جنہوں نے اپنے لہو سے غفلت کے پردے چاک کر دیے—یہ سب ہمارے عہد کے ماتھے پر ایک انمٹ سوال ہیں۔ طاقت کے بیانیے نے دہائیوں تک "سلامتی" کی آڑ میں ظلم کے ڈھانچے کو چھپائے رکھا، مگر غزہ کے معصوموں کے خون نے اس حقیقت کو آفتاب کی طرح روشن کر دیا ہے کہ جب ظلم ایک ادارہ بن جائے تو اسے روکنے کے لیے محض مذمت کے الفاظ کافی نہیں ہوتے، بلکہ قانون کی حکمرانی اور اخلاق کی شہادت لازم آتی ہے۔

یہاں یہ نکتہ پوری وضاحت سے ذہن نشین رہنا چاہیے کہ ہدفِ تنقید یہودیت بحیثیت دین یا یہودی عوام بحیثیت قوم ہرگز نہیں۔ ہمارا ہدف وہ سیاسی نظریہ ہے جسے "صہیونیت" کہا جاتا ہے، جس نے نوآبادیاتی فکر کے ساتھ نسلی تفاخر کو ملا کر ظلم کو ایک معمول بنا دیا ہے۔

پس، اس عقدے کا حل کیا ہے؟ راہِ نجات تین اصولوں پر مبنی ہے: اول، بیانیے کی تطہیر، تاکہ تنقید کا نشانہ صہیونیت بنے، نہ کہ کوئی مذہب یا قوم۔ دوم، قانون کا بے لاگ نفاذ، تاکہ جنگی جرائم کے مرتکب، خواہ کتنے ہی طاقتور ہوں، انصاف کے کٹہرے میں لائے جائیں۔ سوم، سیاسی حل کا احیاء، جس کی ابتدا غزہ کے محاصرے کے خاتمے سے ہو اور انتہا ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر، جس کی قیادت خود فلسطینیوں کے ہاتھ میں ہو۔

آخر میں یہ امر واضح رہے کہ ہمارے لہجے کی یہ تندی و تیزی، انصاف کی نرمی اور اخلاق کی حرمت کی پاسبانی کے لیے ہے۔ ہمارا اختلاف ہر اُس فکر سے ہے جو نفرت کا بیج بوتی ہے اور نسل و مذہب کی دیواریں کھڑی کر کے وحدتِ انسانی کو پارہ پارہ کرتی ہے۔ اہلِ غزہ نے اپنے خون سے تاریخ کی پیشانی پر یہ ناقابلِ تردید حقیقت رقم کر دی ہے کہ تخت و تاج کا جبر عارضی ہے، لیکن آزادی کی تڑپ اور انصاف کی طلب ابدی ہے۔ ظلم کی رات کا مقدر فنا ہے، چاہے وہ کتنی ہی پھیل کیوں نہ جائے، اور خدا کی اس زمین پر وہ صبح ضرور نمودار ہوگی جب ارضِ زیتون کی فضائیں امن کے نور سے منور ہوں گی۔


(اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اُردو، یشونت رائو چوان آرٹس و سائنس مہا ودیالیہ، منگرول پیر، ضلع واشم، مہاراشٹر) 

0 comments:

Muslim Issues,

اقلیتی کمیشن کے چیئرمین پیارے خان سے جماعت اسلامی ہند کے وفد کی ملاقات ، اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کی روک تھام اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے اقلیتی فلاح کمیٹی کے قیام سے متعلق گفتگو

 


ناگپور : (13 اکتوبر 2025) ریاستِ مہاراشٹر میں اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت کے پیشِ نظر جماعتِ اسلامی ہند، حلقۂ مہاراشٹر اور فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس کا ایک نمائندہ وفد آج مہاراشٹر اسٹیٹ مائنارٹی کمیشن کے چیئرمین پیارے خان سے ناگپور میں ملا ۔

وفد نے پیارے خان کو ریاست بھر میں اقلیتوں کے ساتھ پیش آنے والے حالیہ افسوسناک واقعات، گئو رکشکوں کی غنڈہ گردی، اور مختلف علاقوں میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز فضا سے آگاہ کیا۔

اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ایسے واقعات پر بروقت اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو ریاست میں خوف و ہراس اور عدمِ اعتماد کا ماحول پیدا ہو جائے گا، جو مہاراشٹر کی گنگا جمنی تہذیب کے ساتھ ہی ریاست کی ترقی کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو گا۔

وفد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ:

          1.       گئو رکشک کے نام پر ہونے والی غنڈہ گردی پر فوری طور پر روک لگائی جائے۔

          2.       وزیرِاعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام کو مؤثر طور پر روبہ عمل لانے کے لیے ضلع سطح پر (اقلیتی فلاح کمیٹی) قائم کی جائے۔

          3.       اقلیتوں کے تحفظ، انصاف اور فلاح کے لیے ایک ریاستی مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی جائے جو براہِ راست اقلیتی کمیشن سے رابطہ میں رہے۔

پیارے خان نے وفد کی باتوں کو نہایت سنجیدگی اور غور سے سنا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی سطح پر اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی خصوصی اقدامات کر رہے ہیں، اور ان امور پر تیزی سے عمل درآمد کی کوششیں جاری ہے ۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وفد کی جانب سے پیش کیے گئے تمام نکات پر غور کر کے انہیں حکومتِ مہاراشٹر تک مؤثر انداز میں پہنچایا جائے گا۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ پیغام دیا کہ مسلمان جذباتیت کا شکار نہ ہوں بلکہ امن و بھائی چارہ قائم رکھنے کے لیے مثبت کردار ادا کریں تاکہ ریاست میں امن و امان برقرار رہے۔

وفد میں عبدالحسیب بھاٹکر (معاون امیرِ حلقہ، جماعت اسلامی ہند، مہاراشٹر)، شیخ عبدالمجیب (کنوینر، فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس)، فرید شیخ (صدر، امن کمیٹی ممبئی)، ڈاکٹر انوار (ناظم شہر، جماعت اسلامی ہند، ناگپور)، اور عمر خان (سیکریٹری، جماعت اسلامی ہند، ناگپور) شامل تھے ۔

0 comments:

News

دواؤں میں زہر — انسانیت کا المیہ ، زندگی کے نام پر موت بانٹنے والا نظام

 



عبدالحلیم منصور

 

اب تو وہ زہر بھی پی لیتے ہیں لوگ، جسے دوا کہہ کر بیچا جاتا ہے۔ ”یہ جملہ صرف ایک المیہ نہیں بلکہ آج کے نظامِ صحت کی المناک حقیقت کا آئینہ دار ہے۔

زندگی کے سفر میں انسان نے بیماریوں پر قابو پانے کے لیے علم و سائنس کا سہارا لیا۔ دوا ایجاد ہوئی تو گویا امید جاگ اٹھی کہ انسان اپنی کمزوریوں پر غالب آ جائے گا۔ مگر وہی دوا جو زندگی کا سہارا بنی، آج موت کا وسیلہ بنتی جا رہی ہے۔ علاج کے نام پر زہر فروخت ہو رہا ہے، اور منافع کے نشے میں سرشار دوا ساز مافیا انسانیت کی رگوں میں آہستہ آہستہ زہر گھول رہے ہیں۔

یہ محض کوئی فرضی بات نہیں، بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے حالیہ برسوں میں ملک کی کئی ریاستوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ کبھی مدھیہ پردیش میں معصوم بچوں نے زہریلی کھانسی کا شربت پی کر دم توڑا، کبھی کرناٹک میں سیزیرین کے بعد دی گئی ڈرِپ نے ماؤں کو لقمۂ اجل بنایا، اور کبھی تمل ناڑو میں لیبارٹری کی آڑ میں چلنے والی زہرسازی کی فیکٹریوں نے انسانی جانوں کے ساتھ کھلا مذاق کیا۔ ان تمام سانحات میں ایک قدر مشترک ہے — دوائیں وہی تھیں جو بیماری کا علاج کرنے کے لیے بنائی گئی تھیں، مگر ان میں وہ زہر گھولا گیا جو زندگی ہی چھین لے گیا۔

دواؤں سے علاج نہیں، آج زہر سے شفا مانگنی پڑتی ہے — یہ انسانیت کی سب سے بڑی شکست ہے۔

تمل ناڑو کی ایک دوا ساز کمپنی کے تیار کردہ شربت میں زہریلا کیمیکل پایا گیا، جس کے استعمال سے مدھیہ پردیش کے کئی معصوم بچوں کے گردے فیل ہو گئے۔ ان ننھے جسموں نے علاج کی امید میں جو دوا پی، وہ ان کے لیے موت کا جام بن گئی۔ دوسری طرف کرناٹک کے مختلف اضلاع میں خواتین کی اموات نے ایک اور المیہ جنم دیا۔ سرکاری اسپتالوں میں دی گئی ایک عام ڈرِپ، جسے محفوظ سمجھا جاتا ہے، دراصل زہریلے کیمیکل سے بھری ہوئی تھی۔ ریاستی لیبارٹری نے اس کی خرابی کی رپورٹ چھ ماہ پہلے ہی مرکز کو بھیج دی تھی، مگر کاغذوں پر دب گئی، کسی نے سنجیدگی سے نوٹس نہ لیا، اور انجام وہی ہوا جو ہر غفلت کے بعد ہوتا ہے — موت۔

یہ زہریلا دھندہ سرحدوں سے آزاد ہے۔ افریقہ کے ملک گامبیا میں ایک ہندوستانی کمپنی کی تیار کردہ دوا پینے سے ستر سے زیادہ بچے مر گئے۔ اُزبکستان میں بھی بھارت کی ایک اور کمپنی کی دوا نے اٹھارہ بچوں کی جان لے لی۔ عالمی ادارۂ صحت نے انتباہ جاری کیا، مگر ہندوستان کے اندر اس پر کوئی ہلچل نہ مچی۔ دنیا جس ملک کو "دواؤں کا مرکز" کہہ کر فخر کرتی تھی، آج وہی ملک دواؤں کے زہر سے اپنی ساکھ کھو رہا ہے۔

یہ سب کوئی اتفاق نہیں۔ دراصل برسوں سے دوا سازی کے شعبے میں سرکاری ادارے، لائسنس دینے والے حکام، اور مافیا ایک دوسرے کے سائے بن چکے ہیں۔ ایک طرف ہزاروں کمپنیوں کو بغیر معیاری جانچ کے لائسنس مل جاتے ہیں، دوسری طرف عوام کو وہ دوائیں فراہم کی جاتی ہیں جن میں نہ تاثیر ہے نہ تحفظ۔ تحقیق بتاتی ہے کہ ملک میں تیار ہونے والی ہزاروں دوائیں مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ ان میں سے سینکڑوں جعلی یا غیر مؤثر ہیں، مگر ان کے خلاف کارروائی برائے نام ہے۔

صحت کا نظام اس وقت دوہری اذیت میں مبتلا ہے۔ ایک طرف نجی اسپتالوں کا کاروباری طرزِ عمل عوام کی جیب خالی کر رہا ہے، دوسری طرف دوا ساز کمپنیاں ان کے جسموں سے زندگی چھین رہی ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں غریب انسان اپنی آخری امید کے ساتھ پہنچتا ہے، مگر جس دوا پر بھروسہ کرتا ہے وہی اس کے زخم کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔ یہ صرف ایک طبی بحران نہیں، بلکہ ایک اخلاقی زوال ہے — وہ زوال جس میں دولت کی حرص نے انسانیت کو دفن کر دیا ہے۔

اسی نظام کی ایک بھیانک شکل وہ نرسنگ ہومز اور نجی طبی مراکز ہیں جنہوں نے علاج کو عبادت نہیں، تجارت بنا دیا ہے۔ معمولی بخار کے مریض کو جان بوجھ کر خطرناک بیماری بتا کر مہنگے ٹیسٹوں کی فہرست تھما دی جاتی ہے۔ دوا ساز کمپنیوں سے کمیشن کے عوض ڈاکٹر مخصوص برانڈ کی دوائیں لکھتے ہیں، مریض کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس کی بیماری سے زیادہ اس کی غربت کا علاج ہو رہا ہے۔ چھوٹے شہروں کے نرسنگ ہومز میں بے جا آپریشن، غیر ضروری انجکشن، اور مہنگی دواؤں کے نسخے ایک ایسا جال ہیں جن میں غریب مریض عمر بھر پھنسا رہتا ہے۔ کئی بار تو مریض کی جان بچانے کے بجائے اس کی جیب خالی کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ وہ نظام ہے جو نہ صرف جسموں بلکہ روحوں کا خون چوستا ہے — اور افسوس کہ اس لالچ کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھتی۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ دوا سازی کا عمل جس صفائی، معیاری مشینری اور احتیاط کا متقاضی ہے، وہ سب محض کاغذوں پر موجود ہے۔ تمل ناڑو میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران جو مناظر سامنے آئے، وہ کسی بھی حساس دل کو دہلا دینے کے لیے کافی ہیں۔ زنگ آلود برتنوں میں کیمیکل تیار کیے جا رہے تھے، مزدور بغیر کسی حفاظتی لباس کے ان خطرناک مادوں کو ہاتھوں سے ملاتے تھے، اور لیباریٹری کے باہر نالیوں میں زہریلا فضلہ بہہ رہا تھا۔ یہ دوا سازی نہیں، انسانیت کے خلاف جرم تھا۔

اعداد و شمار بھی اسی تلخ سچائی کی گواہی دیتے ہیں۔ ملک میں تقریباً پانچ ہزار سے زائد دوا ساز ادارے ایسے ہیں جو حکومت کے طے کردہ معیار پر پورا نہیں اترتے۔ ہر سال لاکھوں افراد غیر معیاری دواؤں کے اثرات سے متاثر ہوتے ہیں۔ عالمی رپورٹوں کے مطابق، بھارت سے برآمد کی جانے والی دواؤں میں سے ایک بڑی تعداد یا تو جعلی ہوتی ہے یا ناقص۔ مگر اس کے باوجود لائسنس پر مہر لگتی ہے، دوا بازار میں پہنچتی ہے، اور انسانیت کا قتل نامعلوم خاموشی میں دفن ہو جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر کب تک عوام کی جانوں سے یوں کھیلا جائے گا؟ کب تک دوا ساز مافیا کے سامنے حکومتیں سر جھکائے بیٹھی رہیں گی؟ کب تک ایک بچہ، ایک ماں، ایک مزدور صرف اس لیے مرے گا کہ کسی نے منافع کے لیے زہر کو شفا کا نام دے دیا؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ دوا سازی کے پورے نظام میں شفافیت لائی جائے۔ ہر دوا کی تیاری سے لے کر فروخت تک ایک غیر جانب دار ادارہ نگرانی کرے۔ دواؤں کے معیار کی جانچ کسی ایسے محکمے کے سپرد نہ ہو جو خود انہی کمپنیوں کے رحم و کرم پر ہو۔ جن کمپنیوں نے زہریلی دوا تیار کی، ان پر محض جرمانے نہیں، بلکہ عمر بھر کی پابندی عائد ہونی چاہیے۔ سرکاری اسپتالوں میں استعمال ہونے والی ہر دوا کی الگ سے جانچ لازمی قرار دی جائے۔ اور سب سے بڑھ کر، عوام میں بیداری پیدا کی جائے کہ وہ غیر معیاری دوا کے خلاف آواز اٹھائیں۔

اگر اب بھی خاموشی برقرار رہی، تو وہ دن دور نہیں جب دوا کا مطلب علاج نہیں بلکہ انجام سمجھا جائے گا۔ آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم دوا ساز کمپنیوں کے اعداد و شمار پر فخر کریں، بلکہ یہ دیکھیں کہ ان دواؤں سے کتنی زندگیاں بچ رہی ہیں اور کتنی مٹ رہی ہیں۔ کیونکہ اگر دوا ہی زہر بن جائے تو بیماری نہیں، انسانیت مر جاتی ہے۔

سنا ہے مر گئے ہیں وہ، جنہیں مرنا نہیں تھا

یہ زہر کس نے گھولا ہے، ہوا میں کون ہے قاتل

 

0 comments:

Muslim Issues

دعوت دین اور احتساب عمل محبت رسولؐ کے دو اہم تقاضے



محمد نصیر اصلاحی (ممبرا) 

حضرت محمد مصطفی کی ذات گرامی اہل ایمان کے لئے سرچشمہ ہدایت اور مرکز ِعشق و محبت ہے۔ مسلم معاشرہ کا سارا نظام آپؐ کے اسوہ ٔ مبارکہ پر قائم ہے اور عمل کی دنیا آپؐؐؐ  کی تعلیمات پر استوار ہے۔آپؐ کا لایا ہوا پیغام،پیغامِ حق ہےاورآپؐ کی سنت و شریعت میزان عمل ہے۔ اللہ رب العالمین نے قیامت تک ساری دنیا  کے لئےآپؐکو آخری رسول اور کامل اسوہ حسنہ بنا کر بھیجا ہے۔ 

آپ  ﷺ  سے محبت مومن کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ اس محبت کا اصل لطف تو آپ ﷺ سے شعوری تعلق میں ہے ،لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جس نے بھی ایک بار کلمہ  اَشْهَدُ اَنْ لّآ اِلهَ اِلَّا اللّٰهُ واَشْهَدُاَنَّ مُحَمَّداً رَّسُولُ اللہِ کا زبان سے اظہار اور دل سے اقرار کر لیا، گرچہ اس نے اس کلمہ کے مطالبات اور تقاضے پر بہت غور نہ بھی کیا ہو، تب بھی وہ اپنے قائدو محسن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو زندگی کے آخری لمحہ تک اپنےدل کی ہر دھڑکن میں محسوس کرتا ہے۔وہ خواب و خیال میں بھی نہیںسوچتا کہ آپؐکی ذات و شخصیت کو ایک ذرہ کے برابر بھی تکلیف پہنچے۔

دنیا کی ہر چیز سے زیادہ رسول اللہ ﷺ  سے محبت کرنا صرف ہمارے ایمان کی علامت ہی نہیں بلکہ تکمیلِ ایمان کے لئے لازمی ہے ۔عبد اللہ بن ہشام کہتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔آپؐ عمرؓ بن خطاب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے تھے۔ عمر ؓنے آپ سے کہا:  یا رسول اللہ !آپؐ مجھے اپنی جان کے سوا ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔ آپ نے فرمایا : نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ جب تک تم کو میں اپنی جان سے بھی بڑھ کر عزیز نہ ہو جاؤں تم مومن نہیں ہو سکتے۔ عمر ؓنے کہا: اب تو بخدا آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہو گئے ۔ آپ ؐنے فرمایا : اب اے عمر ! تم مومن ہو۔(صحیح البخاری: 6632) 

رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد سے اس حقیقت کا اظہار ہوتا ہے کہ آدی صحیح معنوں میں سچا اور مکمل مومن اسی وقت ہوسکتا ہے جب رسول اللہ ﷺ کی محبت اس کی تمام محبتوں پر غالب ہو جائے ۔وہ رسول ؐ کی محبت پر ہر چیز کوقربان کردے۔ والدین ، اولاد اور معاشرہ کے لوگ کسی راستہ پر چلانا چاہیں اور اللہ کے رسول کسی اور راہ پر بلائیں تو مومن کا فرض ہے کہ سب کے مطالبات کو ٹھکرادے اور اپنے محبوب پیغمبر کی پکار پر لبیک کہے۔ یہاںتک کہ اگر اپنی جان قربان کرنے کا موقع آئے تو وہ اس سے بھی گریز نہ کرے۔

رسول اللہ ﷺ سے محبت کا صرف زبانی اظہار اور اقرارکافی نہیں ہے ۔ بلکہ ضروری ہے کہ اس محبت کے تقاضے پورے کئے جائیں۔رسول اللہ ﷺ سے محبت کا تقاضا صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ آپؐ کی شان میں نعتیں کہہ دی جائیں اور مضامین و مقالے لکھ دیئے جائیں۔ یا سیرت النبی کے عنوان سے جلسوں ،کانفرنسوں اور سیمیناروں کا انعقاد کر لیا جائے۔یاایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کرکچھ نعرہ لگا لئے جائیں اور کچھ سلوگن تیار کر لئے جائیں۔ یا کچھ بینرس آویزاں کرکےآپؐ سے محبت کا اظہار کر دیا جائے۔

آ پ ؐ سےمحبت کا اصل تقاضا یہ ہے کہ آپؐ  کی اطاعت کی جائے۔ یہ اطاعت بھی چندعبادات اور زندگی کےچند جزوی امور میں نبی کریم ﷺ  کی تعلیمات سے احکام اخذ کرلینے تک محدود نہیں ہےبلکہ یہ اطاعت ایک مومن کی پوری زندگی پر محیط ہے۔ زندگی کے ہر معاملہ میں اطاعت مطلوب ہے ۔ بڑی اور مرکزی اطاعت یہ ہے کہ جس پیغام حق کو آپؐ لے کر آئے ،اس پیغام کی تبلیغ اور اشاعت کی جائے۔ جس دین کی طرف آپ ؐ نے بلایا آج لوگوں کو اس دین کی دعوت دی جائے ۔ آپؐ نےجس طرح کا نظامِ حیات قائم فرمایا،اس طرح کا نظام حیات قائم کرنے کی کوشش کی جائے ۔آپؐ نے انسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے جس طرح کی انقلابی تحریک چلائی ویسی ہی تحریک چلائی جائے۔یہ بھی حضور ﷺ کی سنتیں ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے یہاں چھوٹی سے چھوٹی سنتوں پر تو بہت زور اور تاکیدہے مگراِن بڑی سنتوں سے ہماری اکثریت غافل ہیں ۔

دعوت دین مسلمانوں کا انفرادی اور اجتماعی فریضہ ہے۔ اس فریضہ کی ادائیگی کی اہمیت صرف اس دنیا کی زندگی تک محدود نہیں ہے بلکہ آخرت کی ابدی زندگی کے انجام کے اعتبارسے بھی اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ دنیا میں مسلمانوں کے وجود و بقا کاانحصار،امن و امان کا قیام ،عدل و انصاف کا حصول ، ان کی مادی خوشحالی اور ترقی کا دارومدار اسی فر یضۂ دعوت کی ادائیگی پر ہے ۔مسلمانوں کے لئےاپنی جان و مال کے تحفظ ، اپنی سربلندی ،عزت اور عظمت کے لئے اس فریضہ کی ادائیگی نا گزیر ہے۔ مسلمان جب اس فریضہ کی ادائیگی سے غافل ہو گئے اور انہوں نے دنیا کو اسلام کی نعمت سے محروم رکھا ،تو قدرت نے ان کو عبرتناک سزا دی،ان کی حکومتوں کو ایسا زوال آیا کہ دوبارہ عروج ایک خواب بن گیا۔رسول اکرم ﷺ  کی حیات طیبہ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ؐ نے اپنی 23؍ سالہ پیغمبرانہ جدو جہد میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزارا، جب آپؐ کی توجہ دعوت اسلام کے مشن سے ہٹی ہو۔

اس فریضہ کے متعلق حشر کے میدان میں بھی ہم مسلمانوں کو جواب دینا ہوگا کہ اپنے ہم وطنوں کے سامنے ہم نے اسلام کی دعوت  پیش کی تھی یا نہیں؟ اس کام میںہم سے کوئی کوتاہی اور غفلت تو نہیں ہوئی؟سوچئے ! اس وقت ہمارا کیا جواب ہوگا۔ دعوت سےغفلت کے لئےہم اللہ کے سامنے کیا عذر پیش کریں گے؟ اس زمین پر اللہ کی سب سے بڑی نعمت اسلام ہے۔ اسلام پوری انسانیت کے لئےہے۔ یہ نعمت آج ہمارے پاس ہے اس پرہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیئے۔ اورجو لوگ اس سے محروم ہیں ان تک یہ پہنچا نا چاہئیے۔یہی انسانوں کی سب سے بڑی خدمت اور خیر خواہی ہو گی۔ 

بھارت جیسے تکثیری سماج میں ہماری ذمہ داریاں تو اورکئی گنا بڑھ جاتی ہیں ۔ یہاں ہم طویل مدت سے رہ رہے ہیں ،اس ملک کی اپنی ایک ہزار سالہ تاریخ پر ہمیں فخر بھی ہے، لیکن افسوس ہے کہ ہم اپنے ہم وطنوں کو اسلام کےنظام رحمت سے کما حقہ واقف نہیں کر اسکے ۔ اسلام کی بنیادی باتوں سے واقف ہونا تو دور کی بات ہے ، آج ہمارےبرادران وطن اسلام ، قرآن ، پیغمبراسلام اور مسلمانوں کے متعلق متعدد غلط فہمیوں کا شکار ہیں ۔ اگر ہم نے یہاں دعوت دین کا کام انجام دیا ہوتا توآج اس ملک کا منظرنامہ دوسرا ہوتا ۔ہمارے اور برادران وطن کے درمیان دوریوں کے بجائے قربتیں اور غلط فہمیوں کے بجائے خوش گمانیاں ہوتیں۔ لیکن صورت حال اس کے برعکس ہے۔ دعوت دین کے کام سے مسلمانوں کی عمومی غفلت نے آج اس ملک میں اسلام ،قرآن ،رسول پاکؐ کی شخصیت اور سیرت کو اجنبی بنادیا ہے۔ اسلام دشمن عناصراسلام کو ایک جارح ، دہشت پسند، غیر روادار،انسانی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے والااور مذہب بنا کر پیش کرتے ہیںاور مسلمانوں کو باہر سے آئے ہوئے حملہ آور اور یہاں کے وسائل پرقبضہ کرنے والی قوم قرار دیتے ہیں ۔ میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں بالخصوص سوشل میڈیا پر اسلاموفوبیا اور مسلم مخالف پوری شدت مہم چلائی جا رہی ہے۔اب اس ملک کا عمومی رویہ ا ور مزاج مسلمانوں کے سلسلے میں بتدریج بدلتا جا رہا ہے۔ آج مسلمان برادران وطن کی نظروں میں ایک حریف ، رقیب اور ناپسندیدہ اقلیت بنتے جا رہے ہیں۔ان کے شہری ،جمہوری اور آئینی حقوق پامال کئے جا رہے ہیں ،مسلمانوں کی حمایت میں اٹھنے والے ہاتھ اب دن بہ دن کم اوربلند ہونے والی آوازیں کمزورہو تی جا رہی ہیں ۔ 

یہ صور ت حال یقیناًتشویش ناک ہے ۔ لیکن کیا ہم نے کبھی اس فضا کو تبدیل کرنےپر بھی غور کیا ہے؟ فریضۂ دعوت کی موثر ادائیگی سے ہی حالات میں تبدیلی آئے گی ۔ تاریخ گواہ ہے کہ صحابہ کرام ، تابعین، تبع تابعین اور بزرگان دین نے اپنی دعوتی جد و جہد کے نتیجے میںناسازگار حالات کےرخ کو موڑا ہےاور بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

حالات کی تمام تر شدت، مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود آج بھی ہمارےوطن عزیز میں دعوت دین کے بے شمار امکانات مو جود ہیں ۔ اس ملک میں رہنے والے اکثر لوگ آج بھی مذہب کے قائل ہیں۔ان کی عام زندگی میں مذہب کا خاصا عمل دخل ہے ۔مذہب کی باتوں پر وہ سنجیدگی سے غور کرتے ہیں ۔ رقبہ کے لحاظ سے یہ ایک وسیع و عریض ملک ہے ،یہاں مختلف طبقات اورمختلف زبانیں بولنے والے لوگ ہیں،مختلف علاقوں کے رہنے والوں کے رسم و رواج الگ الگ ہیں ،تمام تراسلام مخالف کوششوں کے باوجود یہاں کا ایک بڑا طبقہ ابھی بھی غیر جانب دار ہے ،اس کا ذہن مسلم مخالف نہیں بن سکا ہے ۔ اگر انفرادی و اجتماعی شکل میں دعوت دین کے لئے موثر منصوبہ بندی کرکے کوششیں کی جائیںتو ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں ہو گا جب حالات ہمارے لئے سازگار ہوںگے۔ 

باشعور اور زندہ قو میں مسائل سے نہیں گھبراتیں، بلکہ مسائل ان کے لئے مواقع ہوتے ہیں ۔ مسلمانوں اور اسلام کے تعلق سے آج جتنے ایشوز کھڑے کئے جا رہے ہیں ،اگر ہم جذباتی رد عمل کے بجائے سنجیدگی سے غور کریںتو معلوم ہوگا کہ ہر ایشو ہمیں ایک وسیع دعوتی موقع فراہم کرتا ہے ۔ مثال 

کے طور پر حال ہی میں جب کچھ مسلمانوں نے’’I Love Mohammad (s)  ‘‘ کے ذریعہ اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کیا تو ملک کے بعض شدت پسند عناصر نے اسے ایک ایشو بنا دیا اور ملکی سطح پر اس سے مسلم مخالف بیانیہ کھڑا کیا گیا۔اگر ہم دعوتی نقطۂ نظر سے غور کریںتو یہ برادران وطن کے سامنے رسول اکرم ﷺ کی شخصیت ، آپؐ کی سیرت اور آپؐ کی تعلیمات پیش کرنے کا بہترین اور سنہری مو قع ہے ۔ ان حالات میں لاکھوںغیر جانبدار اور مثبت سوچ رکھنے والے افراد کے ذہنوں میں آپؐ کی شخصیت اورسیرت کے متعلق تجسس پیدا ہونا فطری ہے ، وہ آپؐ کی تعلیمات اور پیغام کو جاننا چاہتے ہوںگے ۔ ایسے وقت ہماری دعوتی کوشش پیاسے کو پانی فراہم کرنے کی مصداق ہوگی ۔ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہئیےکہ جو شر پسند افراد ہیںان میں بھی بہت کم ایسے ہوں گےجو حضور ﷺ کے متعلق زیادہ معلومات رکھتے ہوں ۔ ہماری دعوتی کوششوں کے نتیجہ میں عین ممکن ہے کہ انہیں بھی حضور ﷺ کے متعلق پڑھنے اور جاننے کا موقع ملے اور ان کا ذہن و فکر بدل جائے ۔ برادران وطن قرآن کے بعد سب سے زیادہ رسول اللہ کی شخصیت اور سیرت سے متاثر ہوتے ہیں ۔ 

محبت رسول کا دعویٰ ہمیں اپنے عمل کے جائزہ اور احتساب کی بھی دعوت دیتا ہے۔ افسوس! کہ آج ہم مسلمان صرف گفتار کے غازی ہیں ،سارا انقلاب الفاظ اور جملوںسے لانا چاہتے ہیں ۔ اسلام کی جن تعلیمات کو ہم دوسروں کے سامنے پیش کرکے ، ان پر ان سے عمل کا مطالبہ اور خواہش کرتے ہیں ، ہم خود ان پر عمل نہیں کرتے۔ رسول اکرم ﷺ  کے جن اخلاق کریمانہ سے دنیا کو واقف کرانا چاہتے ہیں ، خود ہمارے اخلاق میں اخلاقِ نبوی کا وہ عکس نظر نہیں آتا ۔اسلام کی بنیاد پر بننے والے جس مثالی معاشرہ کی تصویر دوسروں کو دکھاتے ہیں ،عملاً وہ مثالی معاشرہ ہماری آبادیوں میں کہیں نظر نہیں آتا ۔ دعوت کے موثر ہونے کے ضروری ہے کہ داعی کا عمل ، سیرت اورکردار اس کی دعوت کے مطابق ہو ۔ حضور ﷺ  نے کسی ایسی بات کی تبلیغ نہیں کی ،جس پر آپ ؐ نے عمل نہ کیا ہو ۔ آپ ؐ نے جن نیکیوں کی تبلیغ کی ان پر سب سے پہلے آپؐ نے عمل کیا، جن برائیوں سے لوگوں کو بچنے کی تلقین کی،آپؐ ان سے کوسوں دور رہے ۔ جس قرآن کی طرف بلا یا  حضرت عائشہ نے کان خلقہ القرآن کہہ کر بتایا کہ آپؐ  خود چلتا پھرتا قرآن بن گئے ۔

قرآن کریم میں علمائے یہود کے بارے میں فرمایا گیاہے کہ کہ تم دوسروں کو تو نیکی کا درس دیتے ہو لیکن خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو۔ اسی طرح اہل سیاست جن کاموں سے خود توکوسوں دور ہوتے ہیں، ان کی دعوت وہ اپنی تحریر اور تقریر میں دیتےپھرتے ہیں، وہ اپنی زبانوں سے جو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں،ان پرعمل کرنا وہ ضروری نہیں سمجھتے ، اپنے قول ہی کو وہ عمل کا قائم مقام سمجھتے ہیں اور محض زبان کے پھاگ سے وہ ثمرات و  نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں جو نتائج عمل اور خون پسینہ ایک کر دینے سے حاصل ہوتے ہیں ۔

مسلمان داعی امت ہیں۔ ہم جن اصولوںکو حق کہتے ہیں،اپنی زندگی میں عملاً اُن کامظاہرہ کریں ۔ دنیا صرف ہماری زبان ہی سے دین اسلام کی صداقت کا ذکر نہ سنے، بلکہ خود اپنی آنکھوں سے، ہماری زندگی میں اُس کی خوبیوں اور برکتوں کا مشاہدہ کر لے ۔ وہ ہمارے برتائو میں اُس شیرینی کا ذائقہ چکھ لے، جو ایمان کی حلاوت سے انسان کے اخلاق و معاملات میں پیدا ہوتی ہے۔ وہ خود دیکھ لے کہ اس دین پر عمل کے نتیجہ میں کیسے اچھے انسان بنتے ہیں، کیسا مثالی خاندان وجود میں آتا اورکیسا مثالی معاشرہ تیار ہوتاہے۔اس دین پر عمل کے نتیجہ میں انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کا ہر پہلو کس طرح سدھر جاتا ہے، سنور جاتا ہے اور بھلائیوں سے مالا مال ہو جاتا ہے۔اِس دعوت کا حق صرف اس طرح ادا ہو سکتا ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی حیثیت سے اپنے دین کا چلتا پھرتا نمونہ بن جائیں۔اگر ایسا ہو جائے تو آپ  یدخلون فی دین اللہ افواجاً کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے ۔ آج مخالفت اسلام کی نہیں ،مسلمانوں کی جا رہی ہے کیوں کہ اسلام اپنی عملی شکل میں برادران وطن کے سامنےآیا ہی کہاں ہے؟


0 comments: